ISLAM WITH EMAN
رفتن به کانال در Telegram
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات... ایڈمن سے رابطہ کیلئے: @syedsajjadhamdani
نمایش بیشتر1 288
مشترکین
اطلاعاتی وجود ندارد24 ساعت
-47 روز
-430 روز
آرشیو پست ها
1 288
🌺 حق مہر میں حِفظ سورۂ قرآن 🌺
جس وقت میرے بابا جان کی انگیجمینٹ ہوئی -- بابا نے مہر کی جگہ سورہ آل عمران حفظ کرکے میری والدہ کو ھدیہ کیا---- اور جس دم میری انگیمینٹ ہوئی بابا نے میرے منگیتر سے کہا-- تمہیں قرآن مجید کا ایک مکمل سورہ حفظ کرنا ھوگا ورنہ میں اپنی بیٹی کا ہاتھ تمہارے ہاتھ میں نھیں دونگا--- مجھ سے کسی ایک سورہ کو منتخب کرنے کے لئے کہا گیا-- چونکہ میری نظر میں سورہ نور کثیرالمطالب اور آسانی سے یاد ہونیوالا سورہ نہیں تھا لہذا میں نے سورہ نور کا انتخاب کیا-
شادی سے چند روز قبل باوجودیکہ نکاح و بیاہ کی ڈھیر ساری مصروفیات سر پہ منڈلا رہی تھیں مگر میرے منگیتر کے ہاتھوں میں مسلسل قرآن مجید نظر آرھا تھا۔
محفل عروسی سے چند روز قبل میرا منگیتر بابا جان کے سامنے حاضر ہوا,
بابا نے کہا: اگر درمیان قرآئت کوئی اشتباہ یا غلطی سرزد ھوئی تو پھر شروع سے سورہ دہرانا ھوگا-
یہ سنکر انہوں نے نرم و نازک اور لطیف آواز میں سورہ نور کی تلاوت شروع کی۔۔
یہ وہ حسِین وخوشگوار لمحات تھے جنہیں میں کبھی دستِ فراموشی کے سپرد نہیں کرسکتی-- میرے کاندھے سے لگی ہوئی ماں بار بار میری طرف دیکھتی اور ہلکی سی مسکان ان کے ہونٹوں پہ بکھر جاتی-- ہم اُس لمحہ کا بہت بیتابی سے انتظار کررہے تھے کہ جب وہ کوئی غلطی کریں اور پھر شروع سے سورہ کی تلاوت کرنا پڑے۔
مگر میرے شوھر نے (خدا انکا نصیب اچھا کرے) دورانِ قرائت ایک بار بھی اشتباہ نہیں کیا۔
جب سورہ ختم ہوا، بابا جان نے انہیں لپک کے اپنی آغوش میں بھرلیا اور کہا: لو یہ رہا تمہارا بہترین تحفہ، میں اپنی بیٹی کا ہاتھ تمہارے سپرد کرتا ھوں کیونکہ تم نے اپنا وعدہ بخوبی نبھایا ھے۔
میں نے اپنے شوھر سے نہ زر لیا نہ زیور، انہوں نے مجھے کلامِ خداوندعالم سے قانع کردیا، یہی میرا زر بھی تھا یہی میرا زیور بھی.
https://t.me/islamwitheman
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
1 288
🔷 زیدی شیعہ مسلک کی کتابیں 🔷
1۔ مجموع الإمام زيد بن علي للإمام زيد بن علي عليه السلام
اس کتاب کی نسبت امام زیدؑ کی طرف کی جاتی ہے، جو آپ کی وفات کے بعد آپ کے شاگرد اور مخلص دوست ابوخالد عمرو الواسطی کے توسط سے ہم تک پہنچی۔ امام زیدؑ 122 ہجری میں وفات پا گئے۔ آپ کی اس کتاب کے دو حصے ہیں: ایک احادیث اور دوسرا فقہی احکامات۔ چنانچہ یہ کتاب مسند امام زیدؑ کے نام سے شائع کی گئی ہے۔ آپؑ کی وفات 122 ہجری میں ہوئی تھی۔
2۔ مسند الإمام علي بن موسى الرضا عليه السلام
اس کتاب کو اہلِ بیتؑ کے ایک فرد امام علی بن موسیٰ الرضا یا مسند امام رضاؑ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس کتاب میں بھی دو سو یا اس سے زیادہ احادیث جمع کی گئی ہیں۔ البتہ اس میں اختلاف ہے کہ کچھ احادیث کا وجود اصل نسخے میں تھا یا نہیں۔ بہرحال، اس کتاب کے جامع، یعنی امام علی الرضاؑ، 203 ہجری میں وفات پا گئے۔
3۔ أحمد بن محمد بن سعيد الكوفي المعروف بابن عقدة کی کتابیں
امام ابن عقدہ، جو اہلِ بیتؑ کے افراد میں سے تھے اور جن کی وفات 232 ہجری میں ہوئی، انہوں نے بہت ساری کتابیں لکھی تھیں۔ ان کی کتابیں یہ ہیں:
حدیث الغدیر، حدیث الرایہ، حدیث الطائر، حدیث الشوریٰ، حدیث الکوفہ، فضائل امام علیؑ، کتاب السنن۔
4۔ امالی امام احمد بن عیسیٰؑ
امام احمد بن عیسیٰؑ زیدی شیعہ کے مشہور امام ہیں۔ ان کی کتاب امالی امام احمد زیدیوں میں بہت زیادہ مقبول ہے۔ آپ کی وفات 247 ہجری میں ہوئی۔ آپ امام زیدؑ کے پوتے تھے۔
5۔ امام قاسم بن ابراہیم کی کتابیں
امام قاسم نے بھی بہت ساری کتب لکھی ہیں، جن میں الفرائض والسنن، وكتاب المناسك، وكتاب صلاة اليوم والليلة، وكتاب مسائل جهشيار، وكتاب مسائل الكلاري، وكتاب مسائل النيروسي مشہور ہیں۔ آپ 246 ہجری میں وفات پا گئے۔
6۔ محدث الحبری کی کتابیں
محدث الحبری، جن کی وفات 286 ہجری میں ہوئی، ان کی تفسیر آج بھی زیدی شیعوں میں مقبول ہے۔ اس کے علاوہ ان کی کتاب امالی بھی ہے۔
7۔ کتاب الذکر
حافظ محمد بن منصور المرادی کی کتاب الذکر بھی ایک اہم کتاب ہے، جن کی وفات 290 ہجری میں ہوئی۔
8۔ امام ہادی علیہ السلام کی کتب
امام ہادیؑ، جو 298 ہجری میں فوت ہوئے اور جن کی وجہ سے زیدیہ میں ایک نیا فقہی مسلک ہادویہ کے نام سے پیدا ہوا، امام ہادیؑ نے کتاب الاحکام لکھی اور عقائد و فروع پر دیگر کافی کتب لکھیں۔
9۔ امام ناصر الاطروش کی کتب
امام ناصر الاطروش بھی مشہور امام زیدیہ تھے، جن کے نام سے ایک فقہی مسلک ناصریہ کے نام سے بنا۔ کتاب امالی اور کتاب البسط آپ کی شاہکار کتب ہیں۔ آپ کی وفات 304 ہجری میں ہوئی۔
10۔ کتاب مناقب امیر المؤمنین
یہ کتاب محدث محمد بن سلیمان کوفی نے لکھی، جن کی وفات 322 ہجری میں ہوئی۔
11۔ شرح الاحکام
امام ابوالعباس احمد بن ابراہیم الحسنی، جو 353 ہجری میں فوت ہوئے، ان کی کتاب شرح الاحکام بھی زیدیہ کے ہاں مقبول ہے۔
12۔ امالی امام المؤید باللہ امام احمد بن الحسین الہارونی
امام ہارونی، جن کے نام سے ایک فقہی مسلک بھی بنا، آپ کی وفات 411 ہجری میں ہوئی۔ آپ نے امالی کے علاوہ دیگر کتب بھی لکھیں۔
13۔ کتاب الشرح التجرید
امام مؤید باللہ کی کتاب الشرح التجرید بھی کافی مقبول اور معتبر زیدی کتاب ہے۔
14۔ امام حسین بن اسماعیل الجرجانی کی کتب
آپ کی وفات 420 ہجری میں ہوئی۔ آپ کی کتاب الإعتبار وسلوة العارفين کافی مشہور کتاب ہے۔
15۔ امام ابوطالب یحییٰ الحسین الہارونی
امام ابوطالب یحییٰ الحسین الہارونی، جن کی وفات 424 ہجری میں ہوئی، ان کی کتاب امالی ابوطالب بہت معتبر زیدی شیعہ کتاب ہے۔ اس کے علاوہ ان کی کتاب التحریر بھی قابلِ ذکر ہے۔
16۔ کتاب امالی السمان
یہ حافظ اسماعیل بن علی، جو السمان کے نام سے معروف تھے، کی کتاب ہے۔ آپ 440 ہجری میں فوت ہوگئے۔
17۔ کتاب الاذان بحی علی خیر العمل
حافظ ابوعبداللہ محمد بن علی العلوی، جن کی وفات 445 ہجری میں ہوئی، انہوں نے یہ کتاب لکھی۔
18۔ الجامع الکافی
یہ اہم زیدی کتاب ہے، جسے حافظ ابوعبداللہ علوی نے ہی لکھا۔ اس میں زیدی تمام ائمہؑ کے ارشادات اور احادیث کو جمع کیا گیا ہے، اور اکثر زیدی حضرات کے ہاں یہ کتاب دیکھنے کو ملتی ہے۔
19۔ امالی امام مرشد باللہ
امام یحییٰ بن حسین جرجانی، جو 479 ہجری میں فوت ہوگئے، ان کی یہ کتاب ہے، جسے زیدیہ میں بہت پذیرائی حاصل ہے۔
20۔ ۔ شرح الاحکام
یہ بھی زیدیہ میں معروف کتاب ہے، جسے محدث علی بن بلال نے تالیف کیا ہے، جن کی وفات پانچویں صدی ہجری کے وسط میں ہوئی۔
پس یہ دوسری صدی ہجری سے لے کر پانچویں صدی ہجری تک کے ائمۂ زیدیہ و علمائے زیدیہ کی کتب تھیں، جن میں مذہبِ اہلِ بیتؑ اور عترت کے فقہ پر کافی کام کیا گیا۔
سلسلہ تقابلِ مسالک و فقہ
🔷🔷🔷🔷🔷🔷🔷🔷🔷
1 288
30۔ خلفائے ثلاثہ کے متعلق موقف
زیدی شیعہ:
خلفائے ثلاثہ، حضرت ابوبکر، حضرت عمر اور حضرت عثمان کے متعلق اکثر زیدی شیعہ وقوف کے قائل ہیں؛ یعنی نہ سبّ و شتم، لعن و تبرا کرتے ہیں اور نہ ہی رضی اللہ عنہ کہنے کے قائل ہیں۔ تاہم شروع سے اب تک ایک کم تعداد میں زیدی شیعہ ترضیہ، یعنی ان خلفائے ثلاثہ سے رضامندی اور ان کے لیے رضی اللہ عنہ کہنے کے قائل بھی رہے ہیں۔
اثناعشری شیعہ:
اثناعشری شیعوں کے ہاں ان دونوں موقف، یعنی ترضیہ اور وقوف، کے بجائے تبرا، لعن اور سبّ و شتم کا کلچر پایا جاتا ہے۔
31۔ وسیلہ اور «یا علی مدد»
زیدی شیعہ:
زیدی شیعوں کے نزدیک ائمہ اور رسول اللہ ﷺ کو وسیلہ بنانا جائز ہے۔ اسی طرح انہیں صرف یا رسول یا یا علی پکارنا شرک نہیں۔ لیکن ان سے کچھ مانگنے کی نیت یا ان سے مخاطب ہو کر حاجت مانگنا، مثلاً یا علی مدد کہنا یا نادِ علی پڑھنا اور براہِ راست ان سے مانگنا، ان کے نزدیک شرک باللہ ہے۔
اثناعشری شیعہ:
اثناعشری شیعوں کے ہاں یا علی مدد، نادِ علی وغیرہ رائج ہیں۔
32۔ انبیاء اور ائمہ کی فضیلت
زیدی شیعہ:
زیدی شیعوں کے نزدیک انبیاء علیہم السلام، ائمہ علیہم السلام اور حضرت فاطمہ علیہا السلام سے افضل ہیں۔
اثناعشری شیعہ:
اثناعشری شیعوں میں آج کے دور میں ائمہ علیہم السلام کو انبیاء علیہم السلام سے افضل سمجھنے والا طبقہ بھی موجود ہے، اگرچہ قدیم دور میں ایک قلیل تعداد اثناعشری علماء کی ایسی تھی جو انبیاء علیہم السلام کو ائمہ علیہم السلام سے افضل سمجھتی تھی۔
33۔ بنیادی کتب
زیدی شیعہ:
زیدی شیعوں کی بنیادی کتاب مسند امام زید علیہ السلام ہے۔ اس کے علاوہ امالی امام احمد بن عیسیٰ، امالی ابوطالب، امالی مرشد باللہ بھی زیدی شیعہ کی بنیادی کتب میں شمار ہوتی ہیں۔
اثناعشری شیعہ:
الکافی، الاستبصار، من لا یحضره الفقیه، تہذیب اور بحارالأنوار وغیرہ اثناعشری شیعہ کی معروف کتب ہیں۔
34۔ امام ابو حنیفہ اور امام مالک
زیدی شیعہ:
زیدی شیعوں کے نزدیک اہلِ سنت کے ائمۂ اربعہ، بالخصوص امام مالک اور امام ابوحنیفہ، جو امام زید علیہ السلام کے شاگرد تھے، محبِ اہلِ بیت تھے۔ زیدی روایات کے مطابق امام ابوحنیفہ نے امام زید علیہ السلام کی جہاد و معاونت کے لیے 900 درہم بھیجے۔
اثناعشری شیعہ:
اثناعشری شیعوں کے ہاں ابوحنیفہ کو دشمنِ اہلِ بیت قرار دینے والی روایات موجود ہیں، جن میں امام جعفر صادق علیہ السلام کی طرف سے ان پر لعنت منسوب کی گئی ہے۔
35۔ غروبِ آفتاب اور افطار
زیدی شیعہ:
زیدی شیعہ غروبِ آفتاب کے بعد فاصلۂ احتیاطی کے قائل نہیں، بلکہ غروب کے ساتھ ہی اذان اور افطار کرتے ہیں۔
اثناعشری شیعہ:
اثناعشری شیعوں کی اکثریت فاصلۂ احتیاطی کی قائل ہے، اگرچہ چند مجتہدین اس کے قائل نہیں ہیں۔
36۔ تبرا کا مفہوم
زیدی شیعہ:
زیدی شیعوں کے نزدیک تبرا کا مطلب زبان سے کسی کو سبّ و شتم کرنا نہیں، بلکہ عمل کے ذریعے براءت اور لاتعلقی ظاہر کرنا ہے۔
اثناعشری شیعہ:
اثناعشری شیعوں میں زبانی تبرا اور سبّ و شتم بھی پایا جاتا ہے۔
37۔ امام مہدی کا نسب
زیدی شیعہ:
زیدی شیعوں کے مطابق امام مہدی امام حسن علیہ السلام یا امام حسین علیہ السلام کی اولاد سے ہوں گے۔ یہ امر اللہ تعالیٰ کی مشیت پر موقوف ہے۔ ان کے مطابق امام حسن عسکری علیہ السلام لاولد فوت ہوئے۔
اثناعشری شیعہ:
اثناعشری شیعوں کے مطابق امام مہدی امام حسین علیہ السلام کی اولاد میں پیدا ہوچکے ہیں اور وہ امام حسن عسکری علیہ السلام کے فرزند ہیں۔
38۔ اصحابِ رسول ﷺ کے متعلق موقف
زیدی شیعہ:
زیدی شیعوں کے مطابق اصحابِ رسول ﷺ سے بڑی بڑی غلطیاں ہوئیں، لیکن انہیں مرتد اور خارج از اسلام قرار نہیں دیا جاسکتا۔ اس لیے چند اشخاص کے علاوہ باقی اصحاب کے متعلق ترضیہ اور توقف، دونوں موقف موجود ہیں۔ انصار و مہاجرین کی ابتدائی دورِ اسلام کی قربانیاں مسلم ہیں، اگرچہ ان سے بعض بڑی غلطیاں بھی ہوئیں۔ تاہم مولا علی علیہ السلام نے ان کے متعلق جو رویہ اختیار کیا، اس کی پیروی لازمی ہے۔
اثناعشری شیعہ:
اثناعشری شیعوں کے مطابق اصحاب میں سے اکثر، چند اشخاص کے سوا، منافق تھے اور رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد مرتد ہوگئے تھے، نیز شروع ہی سے مخلص نہیں تھے۔
39۔ جغرافیائی اور علمی مراکز
زیدی شیعہ:
زیدی شیعوں کی اکثریت یمن میں، پھر سعودی عرب اور اس کے بعد عمان و افریقہ میں پائی جاتی ہے۔ ان کا اہم علمی مرکز یمن ہے۔
اثناعشری شیعہ:
اثناعشری شیعوں کی اکثریت ایران میں، پھر عراق، لبنان وغیرہ میں پائی جاتی ہے، جبکہ ان کے اہم علمی مراکز نجف اور قم ہیں۔
یہ کچھ فرق بیان کئے گئے ہیں اگرچہ دونوں کے درمیان اس سے بھی زیادہ اختلافات موجود ہیں، لیکن بیان کیے گئے یہ نکات کسی حد تک دونوں مکاتبِ فکر کے فرق کو سمجھنے کے لیے کافی ہیں۔
والسلام
🔷🔷🔷🔷🔷🔷🔷🔷🔷
1 288
15۔ حضرت عثمانؓ کا رسول اللہ ﷺ سے دامادی کا تعلق
زیدی شیعہ:
زیدی شیعوں کے مطابق حضرت عثمان رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے حقیقی داماد تھے، جن کے ساتھ رسول اللہ ﷺ نے اپنی دو بیٹیوں کی شادی کی۔
اثناعشری شیعہ:
اثناعشری شیعوں کے مطابق حضرت عثمان رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے حقیقی داماد نہیں تھے۔
16۔ حاضر و ناظر
زیدی شیعہ:
زیدی شیعوں کے مطابق ائمہ اور رسول اللہ ﷺ حاضر و ناظر نہیں ہیں؛ یہ صرف اللہ تعالیٰ کی صفات ہیں۔
اثناعشری شیعہ:
اثناعشری شیعوں میں، معدودے چند کو چھوڑ کر، ائمہ اور رسول اللہ ﷺ کے حاضر و ناظر ہونے کا عقیدہ پایا جاتا ہے۔
17۔ علمِ غیب
زیدی شیعہ:
زیدی شیعوں کے نزدیک علمِ غیب صرف اللہ تعالیٰ کے ساتھ مخصوص ہے۔ ائمہ علیہم السلام اور رسول اللہ ﷺ کے لیے علمِ غیب ماننا ان کے نزدیک مشبہ کا عقیدہ ہے، اور ایسا کہنے والا فاسق ہے۔
اثناعشری شیعہ:
اثناعشری شیعوں میں، چند ایک کو چھوڑ کر، اکثر ائمہ کے لیے ما کان وما یکون یعنی ماضی و مستقبل کے امور کے علومِ غیب کے قائل ہیں۔
18۔ نکاحِ متعہ
زیدی شیعہ:
زیدی شیعوں کے نزدیک نکاحِ متعہ اور نکاحِ سری حرام اور زنا کے حکم میں ہے۔
اثناعشری شیعہ:
اثناعشری شیعوں کے ہاں نکاحِ متعہ جائز ہے۔
19۔ ولایتِ تکوینی
زیدی شیعہ:
زیدی شیعہ ائمہ کے لیے ولایتِ تکوینی کے قائل نہیں ہیں۔
اثناعشری شیعہ:
اثناعشری شیعوں میں اکثر ولایتِ تکوینی کے عقیدے کے قائل ہیں۔
20۔ رسول اللہ ﷺ کا سایہ
زیدی شیعہ:
زیدی شیعوں کے ہاں رسول اللہ ﷺ کے سایہ نہ ہونے کے متعلق کوئی روایت نہیں؛ اس لیے رسول اللہ ﷺ کے متعلق سایہ نہ ہونے کا کوئی عقیدہ یا تصور زیدی شیعہ مذہب میں نہیں ہے۔
اثناعشری شیعہ:
اثناعشری شیعوں میں، معدودے چند کو چھوڑ کر، رسول اللہ ﷺ کو نور ماننے اور آپ کا سایہ نہ ہونے کا عقیدہ پایا جاتا ہے۔
21۔ خمس
زیدی شیعہ:
زیدی شیعوں کے ہاں خمس مکاسب سے متعلق نہیں بلکہ مالِ غنیمت سے متعلق ہے۔
اثناعشری شیعہ:
اثناعشری شیعہ عوام خمس ادا کرتے ہیں۔
22۔ سجدہ گاہ یا تربت
زیدی شیعہ:
زیدی شیعہ نماز کے لیے سجدہ گاہ یا تربت نہیں رکھتے۔
اثناعشری شیعہ:
اثناعشری شیعہ سجدہ گاہ یا تربتِ حسینی رکھتے ہیں۔
23۔ ماتم
زیدی شیعہ:
زیدی شیعہ ماتم، زنجیر زنی نہیں کرتے۔
اثناعشری شیعہ:
اثناعشری شیعوں میں یہ اعمال بعض حلقوں میں رائج ہیں۔
24۔ سیرتِ حسینی اور عزاداری
زیدی شیعہ:
زیدی شیعہ سیرتِ حسینی علیہ السلام کو بیان کرتے ہوئے اپنے وقت کے ہر یزید کے خلاف عملی جدوجہد اور خروج کرتے ہیں۔ مراسمِ عزاداری، علم، تابوت اور ذوالجناح کا تصور ان کے ہاں نہیں ہے۔
اثناعشری شیعہ:
اثناعشری شیعوں کے ہاں شعائرِ حسینی اور اعمالِ شبیہ کے نام سے یہ سب امور رائج ہیں۔
25۔ اہلِ سنت کے پیچھے نماز
زیدی شیعہ:
زیدی شیعہ دوسرے مسلمان فرقوں کے پیچھے بغیر کسی تقیہ کے نماز ادا کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یمن کی اکثر مساجد کے متعلق یہ معلوم کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ وہ کس فرقے کے زیرِ اثر ہیں۔
اثناعشری شیعہ:
اثناعشری شیعوں کے ہاں تقیہ کرتے ہوئے فرادیٰ کی نیت سے اہلِ سنت وغیرہ کے پیچھے نماز پڑھنے کی اجازت ہے۔
26۔ ایک دوسرے کے متعلق موقف
زیدی شیعہ:
زیدی شیعوں کے نزدیک اثناعشری شیعہ بہت سے گمراہ اور باطل عقائد و افکار رکھتے ہیں، جن کے رد میں اکثر زیدی علماء و ائمہ نے «الرد علی الروافض» یعنی ’’رافضیوں کا رد‘‘ کے نام سے کتب لکھی ہیں۔
اثناعشری شیعہ:
اثناعشری شیعوں کے نزدیک زیدی شیعہ بھی ناصبی اور دشمنانِ اہلِ بیت ہیں، کیونکہ ان کے بعض علماء کے مطابق جو شخص اثناعشری ائمہ میں سے کسی ایک امام کا انکار کرے، وہ ناصبی اور کافر ہے۔ دنیا میں اس پر اسلام کے احکام ظاہراً نافذ ہوں گے، لیکن آخرت میں جہنمی اور کافروں کے ساتھ محشور ہوگا۔ شیخ مفید نے بھی زیدیوں کے متعلق اسی طرح کی رائے بیان کی ہے۔
27۔ عاشورا کا روزہ
زیدی شیعہ:
زیدی شیعوں کے نزدیک عاشورا کا روزہ سنتِ اہلِ بیت علیہم السلام اور سنتِ رسول اللہ ﷺ ہے۔
اثناعشری شیعہ:
اثناعشری شیعوں کے نزدیک عاشورا کا روزہ سنتِ بنی امیہ ہے۔
28۔ حضرت فاطمہؓ کے گھر کا واقعہ اور سقطِ محسن
زیدی شیعہ:
زیدی شیعوں کے نزدیک حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر کو جلانے اور سقطِ محسن کا واقعہ درست نہیں ہے۔
اثناعشری شیعہ:
اثناعشری شیعوں کی اکثریت، چند ایک کے سوا، واقعۂ ہجوم، گھر جلانے اور سقطِ محسن کو درست مانتی ہے۔
29۔ سبّ و شتم اور لعن
زیدی شیعہ:
زیدی شیعوں کے نزدیک سبّ و شتم اور لعن اہلِ بیت علیہم السلام کی سیرت اور تعلیمات کے خلاف ہیں۔
اثناعشری شیعہ:
اثناعشری شیعوں کے ہاں سبّ و شتم اور لعن کو جائز سمجھا جاتا ہے، اور لعنت پر مشتمل زیارتِ عاشورا اور دعائے صنمی قریش اکثر مجالس و محافل کا حصہ ہیں۔ چند علماء جو ان زیارات اور لعن کا انکار کرتے ہیں، انہیں مقصر، بتری، ضال اور مضل جیسے القابات سے نوازا جاتا ہے۔
1 288
🔷 زیدی شیعہ اور اثناعشری شیعہ میں فرق 🔷
جب سے یمن کی صورتِ حال پیشِ نظر ہے، پاکستان میں یہ بحث جاری ہے کہ یمن کے شیعوں کی اکثریت (35 فیصد)، جو زیدی شیعہ کہلاتے ہیں، اور حوثی تحریک کے لوگ بھی اسی مذہب کے پیروکار ہیں، تو ان کا اثناعشری، یعنی جعفری فرقے سے کن امور میں اختلاف ہے؟ ان کے عقائد اور فروعی مسائل میں کیا فرق ہے؟
چند اہلِ علم برادران نے اس موضوع کو واضح کرنے کی مجھ سے درخواست کی ہے۔ ان شاء اللہ، اس فرق کو ہم ایک آرٹیکل کی صورت میں پیش کر رہے ہیں۔
ہم دونوں فرقوں کے اکثریتی یا اجماعی موقف کو پیش کر رہے ہیں۔ علماء کے شاذ اقوال اور انفرادی آراء کو ان نکات میں شامل نہیں کیا گیا، بلکہ دونوں فرقوں کے متفق علیہ یا معروف موقف کو پیش کیا گیا ہے۔ ان شاء اللہ، اس سے آپ کی معلومات میں اضافہ ہوگا۔
زیدی شیعہ اور اثناعشری شیعہ میں کیا فرق ہے؟
1۔ کلمہ
زیدی شیعہ:
زیدی شیعوں کا کلمہ لا إله إلا الله محمد رسول الله ہے۔
اثناعشری شیعہ:
اثناعشری شیعوں کا کلمہ لا إله إلا الله محمد رسول الله علي ولي الله خليفة بلا فصل ہے۔
2۔ امام کی عصمت
زیدی شیعہ:
زیدی شیعوں کے مطابق اہل کساء کے علاوہ امام معصوم نہیں ہوتا۔
اثناعشری شیعہ:
اثناعشری شیعوں کے مطابق امام معصوم عن الخطأ ہوتا ہے۔
3۔ امامت کا سلسلہ
زیدی شیعہ:
زیدی شیعوں کے مطابق امامت کا سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا، اور ان کے پچھلے امام کا انتقال 2007ء میں ہوا۔
اثناعشری شیعہ:
اثناعشری شیعوں کے مطابق امامت بارہ ائمہ تک محدود ہے اور امام مہدی آخری امام ہیں۔
4۔ امام کا تقرر
زیدی شیعہ:
زیدی شیعوں کے ہاں امام منصوص من اللہ نہیں ہوتا، بلکہ صاحبِ اختیار، حسنی یا حسینی فاطمی، اپنے زمانے میں سب سے زیادہ دینی علم رکھنے والا اور امامت کی شرائط پوری کرنے والا شخص، بیعت کے بعد امام بن جاتا ہے۔
اثناعشری شیعہ:
اثناعشری شیعوں کے ہاں بارہ امام منصوص و منصوب من اللہ ہیں۔
5۔ نابالغ کی امامت
زیدی شیعہ:
زیدی شیعوں کے ہاں نابالغ بچہ امام نہیں بن سکتا؛ بلوغت شرط ہے۔
اثناعشری شیعہ:
اثناعشری شیعوں کے تین امام بلوغت کی عمر سے قبل ہی امام بنے تھے۔
6۔ اذان میں «أشهد أن علياً ولي الله»
زیدی شیعہ:
زیدی شیعہ اذان میں أشهد أن علياً ولي الله نہیں پڑھتے۔ ان کے نزدیک ایسا کرنا بدعت ہے۔
اثناعشری شیعہ:
اثناعشری شیعہ اذان میں أشهد أن علياً ولي الله پڑھتے ہیں۔
7۔ اذان کے آخر میں «لا إله إلا الله»
زیدی شیعہ:
زیدی شیعہ اذان کے آخر میں صرف ایک مرتبہ لا إله إلا الله پڑھتے ہیں۔
اثناعشری شیعہ:
اثناعشری شیعہ دو مرتبہ لا إله إلا الله پڑھتے ہیں۔
8۔ وضو میں پاؤں
زیدی شیعہ:
زیدی شیعہ وضو میں اہلِ سنت کی طرح دونوں پاؤں دھوتے ہیں۔
اثناعشری شیعہ:
اثناعشری شیعہ دونوں پاؤں پر مسح کرتے ہیں۔
9۔ پانچ وقت کی نماز
زیدی شیعہ:
زیدی شیعہ پانچوں نمازیں الگ الگ اوقات میں پڑھتے ہیں۔
اثناعشری شیعہ:
اثناعشری شیعہ جمع بین الصلاتین کی وجہ سے ظہر و عصر اور مغرب و عشاء کو جمع کرکے پڑھتے ہیں۔
10۔ نماز کے آخر میں سلام
زیدی شیعہ:
زیدی شیعہ کی کتاب التجرید کے مطابق نماز کے آخر میں دونوں طرف سلام پھیرنا ضروری ہے، جس کے بغیر نماز مکمل نہیں ہوتی بلکہ ناقص رہتی ہے۔
اثناعشری شیعہ:
اثناعشری شیعہ کے ہاں نماز کے تسلیم کا طریقہ زیدیہ سے مختلف ہے۔
11۔ امام مہدی کی پیدائش
زیدی شیعہ:
زیدی شیعوں کے نزدیک امام مہدی ابھی پیدا نہیں ہوئے؛ وہ قیامت کے قریب پیدا ہوں گے اور ممکنہ طور پر امام حسن بن علی ع کی نسل سے ہوں گے۔ ان کے مطابق امام حسن عسکری علیہ السلام کا کوئی بیٹا نہیں تھا اور وہ لاولد فوت ہوئے۔
اثناعشری شیعہ:
اثناعشری شیعوں کے مطابق امام حسن عسکری علیہ السلام کے فرزند پیدا ہوچکے ہیں اور وہی امام مہدی ہیں۔
12۔ غیبت و رجعتِ امام مہدی
زیدی شیعہ:
زیدی شیعوں کے مطابق امام مہدی، فرزندِ امام حسن عسکری، غائب نہیں ہیں؛ اس لیے ان کی غیبت، رجعت اور ظہور کا یہ تصور درست نہیں۔
اثناعشری شیعہ:
اثناعشری شیعہ امام مہدی کی غیبت اور رجعت کے عقیدے کے قائل ہیں۔
13۔ مرتکبِ کبیرہ
زیدی شیعہ:
زیدی شیعوں کے مطابق جو شخص گناہِ کبیرہ کا ارتکاب کرے اور توبہ کیے بغیر مر جائے، وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے دوزخ میں رہے گا اور وہاں سے چھٹکارا حاصل نہیں کرے گا۔
اثناعشری شیعہ:
اثناعشری شیعہ کا موقف اس سے مختلف ہے۔
14۔ رسول اللہ ﷺ کی بیٹیاں
زیدی شیعہ:
زیدی شیعوں کے نزدیک رسول اللہ ﷺ کی چار حقیقی بیٹیاں تھیں، البتہ حضرت فاطمہ علیہا السلام ان چاروں میں سب سے افضل تھیں۔
اثناعشری شیعہ:
اکثر اثناعشری شیعہ صرف حضرت فاطمہ علیہا السلام کو رسول اللہ ﷺ کی حقیقی اور اکلوتی بیٹی مانتے ہیں۔ تاہم اس مسئلے میں اثناعشری علماء کے درمیان اختلاف بھی پایا جاتا ہے۔
1 288
پڑھتے، جبکہ "لا إله إلا الله" اذان کے آخر میں ایک ہی مرتبہ کہتے ہیں، دو مرتبہ نہیں۔
زیدی شیعہ کے ہاں جمع بین الصلاتین اگرچہ جائز ہے، جیسا کہ بعض اہلِ سنت کے ہاں بھی اس کی گنجائش ہے، لیکن وہ نمازوں کو الگ الگ اوقات میں ادا کرنا افضل سمجھتے ہیں۔ چنانچہ پانچوں نمازیں اپنے اپنے اوقات میں ادا کرنے کو ترجیح دیتے ہیں، جیسا کہ اثنا عشری، سنی اور زیدی کتب میں بھی نمازوں کو ان کے الگ الگ اوقات میں ادا کرنے کی فضیلت بیان ہوئی ہے۔
زیدی شیعہ کی نماز بہت حد تک شافعی اہلِ سنت کی نماز سے مشابہ ہے۔ فرق یہ ہے کہ مالکی اور اثنا عشری شیعوں کی طرح زیدی شیعہ بھی ہاتھ چھوڑ کر نماز پڑھتے ہیں مگر زیدیوں کی ایک قلیل تعداد ہاتھ باندھ کر بھی نماز پڑھتے ہیں۔ تاہم زیدی شیعہ اثنا عشری شیعوں کی طرح سجدہ گاہ وغیرہ مخصوص طور پر نہیں رکھتے۔
زیدی شیعہ دیگر مسلمانوں کے پیچھے بغیر تقیہ کے نماز پڑھتے ہیں۔ یمن میں اکثر اوقات زیدی شیعہ شافعی اہلِ سنت کی مساجد میں باجماعت نماز ادا کرتے رہے ہیں، اور اہلِ سنت شافعی بھی زیدیوں کے پیچھے نماز پڑھتے ہیں۔ بعض علاقوں میں صورتِ حال یہاں تک ہے کہ یہ معلوم کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ مسجد زیدی شیعوں کی ہے یا شافعی اہلِ سنت کی۔
زیدی نماز میں دونوں طرف سلام پھیرنے کو ضروری نہیں سمجھتے بلکہ اسے تخیری خیال کرتے ہیں۔ زیدی شیعہ نکاحِ متعہ اور نکاحِ سری کو حرام سمجھتے ہیں اور اسے زنا کے حکم میں قرار دیتے ہیں۔
زیدی شیعہ تقیہ کے اس طرح قائل نہیں ہیں جیسے اثنا عشری شیعہ ہیں، بلکہ ان کے نزدیک زیدی کتب میں موجود آئمہ اہلِ بیت علیہم السلام کی روایات تقیہ پر مبنی نہیں ہیں۔ حتیٰ کہ امام جعفر صادق علیہ السلام، امام رضا علیہ السلام، امام ہادی علیہ السلام اور امام حسن عسکری علیہ السلام جیسے ائمۂ علم کی روایات بھی زیدی کتب میں تقیہ پر مبنی نہیں سمجھی جاتیں۔
زیدی شیعہ نہج البلاغہ، صحیفۂ سجادیہ وغیرہ کو بھی مانتے ہیں، اور امام رضا علیہ السلام کی کتاب صحیفۃ الرضا ان کے ہاں معتبر کتب میں شمار ہوتی ہے۔ زیدی شیعہ دعائے کمیل بھی اپنی محافل و مجالس میں پڑھتے ہیں۔
زیدی شیعہ اہلِ بیت علیہم السلام سے بہت زیادہ محبت رکھتے ہیں اور اس محبت کو محض زبانی دعوے کے بجائے کردار اور عمل کے ذریعے ظاہر کرنے پر یقین رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ محرم میں امام حسین علیہ السلام کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں، تاہم اثنا عشری شیعوں میں رائج مراسمِ عزاداری اس شکل میں ان کے ہاں نہیں پائے جاتے۔
زیدی شیعہ اہلِ بیت علیہم السلام کے فضائل پر مشتمل متعدد احادیث، مثلاً حدیثِ ثقلین، حدیثِ اہلِ بیتی کالنجوم، حدیثِ سفینہ، حدیثِ کساء، حدیثِ غدیر اور حدیثِ منزلت کو مانتے ہیں اور ان احادیث کو اپنے علمی و مذہبی مباحث میں کثرت سے بیان کرتے ہیں۔
زیدی شیعہ کی اہم کتابوں میں سے مسند امام زید علیہ السلام کا اردو ترجمہ بھی ہو چکا ہے۔
زیدی فقہ، بعض فقہی مسائل فقہِ شافعی سے زیادہ قریب نظر آتی ہے۔ تاہم یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ زیدی حضرات نہ فقہِ شافعی کی پیروی کرتے ہیں اور نہ فقہِ حنفی کی۔ یہ ایک عام غلط فہمی ہے کہ زیدی شیعہ انہی سنی فقہی مذاہب میں سے فقہ حنفی یا فقہ شافعی میں سے کسی ایک کے پیروکار ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ زیدیوں کی اپنی مستقل فقہی روایت اور اپنا الگ فقہی مذہب ہے، جسے فقہِ زیدی کہا جاتا ہے۔ زیدی فقہ صدیوں کے دوران ان کے ائمہ اور فقہاء کی اجتہادی کاوشوں کے ذریعے مرتب اور مدوّن ہوئی ہے۔ اس فقہی روایت کی معروف کتابوں میں کتاب الأحکام، کتاب الانتصار اور کتاب الأزهار (الأزهار) وغیرہ شامل ہیں۔
یقیناً مختلف اسلامی مسالک اور مکاتبِ فکر کا مطالعہ انسان کو تعصب سے نجات دلانے اور مختلف نقطۂ ہائے نظر کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔ زیدی شیعہ مکتبِ فکر کا مطالعہ خصوصاً اثنا عشری شیعہ اور اہلِ سنت کے درمیان پائے جانے والے بعض تاریخی و فقہی اختلافات کو سمجھنے کے لیے اہم ہے۔
🔷🔷🔷🔷🔷🔷🔷🔷🔷
1 288
🔷 زیدی شیعہ مذہب 🔷
زیدی شیعہ امتِ مسلمہ کا ایک قدیم ترین فرقہ ہے، جس کا شمار شیعہ مذہب کے تین اہم فرقوں [اثناعشری جعفری، اسماعیلی، زیدی] میں سے ہوتا ہے۔ زیدی شیعہ خود کو اہلِ بیت علیہم السلام کی فقہ کے اصل پیروکار (پیروان حقیقی مکتب اہل بیت ع) سمجھتے ہیں۔
زیدی شیعہ امام زین العابدین علیہ السلام کے بعد ان کے فرزند امام زید علیہ السلام کو امام باقر علیہ السلام کے بجائے امام مانتے ہیں۔ چنانچہ اثنا عشری شیعوں کے ساتھ زیدی شیعوں کا سلسلۂ امامت امام زین العابدین علیہ السلام کے بعد مختلف ہو جاتا ہے۔ زیدیوں کے ہاں سلسلۂ امامت تاحال جاری ہے، کیونکہ ان کے ہاں آئمہ اہلِ بیت علیہم السلام سے ایک حدیث مروی ہے کہ ہر سو سال کے بعد میرے اہلِ بیت میں سے ایک امام لوگوں کی اصلاح و ہدایت کے لیے دعوت دے گا اور ان کی اصلاح کرے گا۔ 2007ء میں زیدیوں کے پچھلے امام، امام مجددالدین المؤیدی، وفات پا گئے۔ کوئی نیا امام بظاہر موجود نہ ہو تو قرآن ہی اس وقت یا زمانہ کا امام ہوگا۔
زیدی شیعہ ایک دلچسپ مذہبی مکتبِ فکر ہے، جس کا علمی ذخیرہ دیگر فرقِ اسلامی کے مقابلے میں اس لحاظ سے وسیع ہے کہ ان کے نزدیک امام اپنے وقت کا سب سے زیادہ علم رکھنے والا شخص ہوتا ہے۔ ان کے ہر امام نے کوئی نہ کوئی کتاب لکھی یا املا کرائی ہے۔ خصوصاً امام زید علیہ السلام کے فقہی احکام پر مشتمل مسند امام زید علیہ السلام اور قرآنِ مجید کی قدیم ترین تفاسیر میں شمار ہونے والی تفسیر غریب القرآن، جو امام زید علیہ السلام کی طرف منسوب ہے، ایک اہم علمی ذخیرہ ہے۔ مصر کے جامعہ ازہر میں ایک پی ایچ ڈی مقالے میں بھی اس کتاب کے معتبر طرق سے امام زید علیہ السلام کی طرف وارد ہونے کو ثابت کیا گیا ہے۔ اس کا اردو ترجمہ ہو چکا ہے۔
زیدی شیعہ چونکہ امام زین العابدین علیہ السلام کے بعد حسنی اور حسینی آئمہ اہلِبیت علیہم السلام میں امامت کو تسلیم کرتے ہیں، اس لیے امام زید علیہ السلام کے بعد ان کے فرزندوں کے علاوہ امام حسن علیہ السلام کے فرزند حسن المثنیٰ علیہ السلام کو بھی اپنا امام مانتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ زیدی شیعوں کے پاس حسنی آئمہ اہلِ بیت علیہم السلام کا بھی حدیث و علم کا ایک قابلِ ذکر ذخیرہ محفوظ ہے۔
زیدی شیعوں کے سلسلۂ امامت میں اثناعشری شیعوں کے امام محمد باقر علیہ السلام، امام جعفر صادق علیہ السلام سے لے کر امام حسن عسکری علیہ السلام تک کے ائمہ ان کے ائمہ کی فہرست میں شامل نہیں ہیں، تاہم زیدی شیعہ ان حضرات کو علم کے ائمہ سمجھتے اور ان کا احترام کرتے ہیں۔ البتہ زیدی شیعہ امام حسن عسکری علیہ السلام کو بے اولاد مانتے ہیں اور امام مہدی علیہ السلام کی ولادت کے قائل نہیں ہیں۔ زیدی شیعہ اہلِ سنت کے موقف کی طرح آخری زمانے میں اہلِ بیت علیہم السلام میں سے ایک عادل حکمران یا امام کے ظہور کے قائل ہیں، جو یا تو امام حسین علیہ السلام کی نسل سے ہوں گے یا امام حسن علیہ السلام کی نسل سے، اور اسے امام مہدی مانتے ہیں۔ تاہم وہ اثنا عشری عقیدے کے مطابق امام مہدی، یعنی امام حسن عسکری علیہ السلام کے فرزند، کے قائل نہیں ہیں۔
زیدی شیعہ اگرچہ توحید، نبوت، امامت، عدل اور معاد کے قائل ہیں، لیکن امامت کے سلسلے میں اثنا عشری شیعوں سے اختلاف رکھتے ہیں۔ ان کے ہاں امام معصوم عن الخطا نہیں ہوتا اور نہ ہی ائمہ کی تعداد محدود ہے، بلکہ ان کے نزدیک سلسلۂ امامت قیامت تک جاری رہ سکتا ہے۔ اس کے علاوہ ان کے ہاں نابالغ شخص امام نہیں بن سکتا۔ پنجتن یا اصحابِ کساء کو نصِ قرآنی اور روایات کی بنیاد پر زیدی شیعہ معصوم مانتے ہیں، لیکن دیگر ائمہ کو معصوم نہیں سمجھتے۔
زیدی شیعہ کے کلمے کے الفاظ "لا إله إلا الله محمد رسول الله" ہیں، اور زیدی شیعہ کسی کلمہ گو مسلمان کی تکفیر نہیں کرتے۔ زیدی شیعہ اصحابِ رسول ﷺ کے بارے میں نسبتاً معتدل نظریہ رکھتے ہیں۔ ان کے ہاں ترضیہ اور توقف، دونوں نظریات اصحابِ رسول ﷺ کے حوالے سے پائے جاتے ہیں، تاہم امام ابن مرتضیٰ کا موقف بہت معتدل کہا جاتا ہے۔ زیدیہ کے موجودہ دور کے معروف علماء، مثلاً استاد سالم عزان کی کتاب "الصحابہ عند الزیدیہ" اور استاد مرتضیٰ اور استاد زید محطوری کی کتب میں بھی اصحاب کے بارے میں اسی معتدل رویے کو بیان کیا گیا ہے۔
زیدی شیعہ وضو میں اہلِ سنت کی طرح پاؤں دھوتے ہیں، کیونکہ امام زید علیہ السلام کی فقہی تعلیم یہی ہے۔ ان کے نزدیک اس کی تائید دیگر آئمہ اہلِ بیت علیہم السلام سے مروی ان روایات سے بھی ہوتی ہے جو بسندِ معتبر امام علی علیہ السلام سے منقول ہیں۔
زیدی شیعہ نمازیں الگ الگ اوقات میں ادا کرتے ہیں اور ان کے ہاں پانچ الگ اوقات میں اذان دی جاتی ہے۔ ان کی اذان کے الفاظ عمومی طور پر اہلِ سنت کی اذان کی طرح ہیں، البتہ "حی علی خیر العمل" دو مرتبہ پڑھتے ہیں، جیسا کہ زیدی کتب میں آئمہ اہلِ بیت علیہم السلام سے اذان کے یہی کلمات مروی ہیں۔ زیدی شیعہ اذان میں "أشهد أن علياً ولي الله" نہیں
1 288
🌛 سونے سے پہلے کے اعمال 🌜
1- تین بار تسبیحات اربعہ.
2- تین بار سوره توحید.
3- چہاردہ معصومینؑ کی نیابت میں 14 بار صلوات.
4- تمام مومنان و مردوں کے لئے طلب مغفرت.
5- تسبیح حضرت زهراءؑ
6- آیت الكرسی، فلق، ناس و كافرون .
7- خواندن این دعا كه به منزله ی هزار نماز است: یَفْعَلُ اللهُ ما یشاءُ بِقُدْرَتِهِ وَ یَحْكُمُ ما یُریدُ بِعِزَّتِهِ
🔰 صحيح و معتبر حديث میں حضرت امام محمد باقر عليه السلام سے منقول ہے سر کے نیچے ہاتھ رکھ کر یہ دعا پڑھیں۔۔
✨بسْمِ اللّهِ اَلّلهُمَّ اِنّى اَسْلَمْتُ نَفْسى اِليْكَ وَ وَجَّهْتُ وَجْهى اِلَيْك وَفَوَّضْتُ اَمْرى اِلَيْكَ وَاَلْجَاْتُ ظَهْرى اِلَيْكَ وَ تَوَكَّلْتُ عَلَيْكَ رَهْبَةً مِنْكَ وَرَغْبَةً اَِليْكَ لامَلْجَاءَ وَلا مَنْجا مِنْكَ اِلَيْكَ امَنْتُ بِكِتابِكَ الَّذى اَنْرَلْتَ وَبِرَ سُولكَ الَّذى اَرْسَلْتَ✨
🌸 اس کے بعد تسبيح حضرت فاطمه سلام الله عليها۔
📘من لا يحضره الفقيه، ج1، ص: 470
🔰 دوسری صحيح حديث میں فرمایا ہے سونے سے پہلے یہ دعا ترك نہ كریں۔۔
✨اعيذُ نَفْسى وَ دُرّيَتى وَ اَهْل بَيْتى وَمالى بِكَلِماتِ اللّهِ التّاماتِ مِنْ كُلِّ شَيْطانٍ وَهامَةٍ وَمِنْ كُلِّ عَيْنِ لامَةٍ✨
صبح تک اس کے سانپ، بچھو وغیرہ کے گزند سے محفوظ رہنے کی ضمانت کرتا ہوں.
📘 الكافي (ط - الإسلامية)، ج2، ص: 570۔
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 288
🚫 الفاظ اور کمان کے تیر 🚫
ایک بادشاہ ہر وقت اپنے سر کو ڈھانپ کے رکھتا۔ اُسے کبھی کسی نے ننگے سر نہیں دیکھا تھا۔ بہت سے لوگوں نے اِس راز کو جاننے کی کوشش کی لیکن بادشاہ ہر مرتبہ کمال مہارت سے بات کا رُخ موڑ کر جواب دینے سے بچ جاتا۔
ایک روز اُسکے وزیرِ خاص نے بادشاہ سے اِس راز کو جاننے کی ٹھان لی، حسب سابق بادشاہ نے بڑی کوشش کی کہ کسی طرح وزیر کا دھیان اِدھر اُدھر ہو جائے، لیکن اُس نے بھی جاننے کا مصمم ارادہ کر رکھا تھا، آخر بادشاہ نے وزیر کے سامنے ہتھیار ڈال دئیے۔ لیکن اُسے ایک شرط پر بتانے کی حامی بھری کہ وہ آگے کسی کو نہیں بتائے گا۔ اور ساتھ ہی کہا کہ اگر اُس نے شرط کی خلاف ورزی کی تو اُسے سخت سزا بھگتنا ہو گی۔
بادشاہ نے بتایا کہ، "اُس کے سر پر ایک سینگ ہے، اِسی لیے وہ اپنے سر کو ہمیشہ ڈھانپ کے رکھتا ہے۔۔۔!" اِس بات کو کچھ دِن ہی ہوئے تھے کہ پورے شہر میں یہ خبر پھیل گئی کہ بادشاہ کے سر پر سینگ ہے۔ بادشاہ کو بڑا غصہ آیا۔ اُس نے اپنے اُس وزیرِ خاص کو طلب کیا اور شرط کی خلاف ورزی کی پاداش میں شاہی حکم صادر کیا کہ اُسے سخت سے سخت سزا دی جائے۔۔۔۔
وزیر بہت سمجھدار تھا، وہ جھٹ سے بولا، "بادشاہ سلامت! جب آپ بادشاہ ہو کر خود اپنے ہی راز کو نہیں چھپا سکے تو پھر آپ مجھ سے یا کسی اور سے کیسے یہ اُمید کر سکتے ہیں کہ وہ آپکے راز کو چھپا کر رکھے۔ لہٰذا جتنی سزا کا حقدار میں ہوں اُتنی آپکو بھی ملنی چاہیے۔۔۔!"
میرے عزیز دوستو ! زبان سے نکلے ہوئے الفاظ اور کمان سے نکلا ہوا تیر جب نکلتے ہیں تو دو کام ہوتے ہیں۔
◘ پہلا یہ کہ وہ پھر کبھی لوٹ کر واپس نہیں آ سکتے۔ چاہے لاکھ پچھتاوے کے ہاتھ ملو۔
◘ اور دوسرا یہ کہ وہ پھر جہاں جہاں سے گزرتے ہیں اپنی شدت اور قوت کے مطابق زخم لگاتے جاتے ہیں۔ جس کا دوش ہم اپنے علاوہ کسی اور کو نہیں دے سکتے۔
اِس لیے کہتے ہیں کہ جب تک الفاظ آپکے اندر رہتے ہیں، وہ آپکے غلام ہوتے ہیں۔ اور جیسے ہی وہ ادا ہو جاتے ہیں، پھر آپ اُنکے غلام بن جاتے ہو۔ اگلی پوری زندگی آپکو اپنے عمل اور کردار سے اپنے کہے ہوئے الفاظ کی پاسداری کرنی پڑتی ہے۔ الله تعالیٰ ہم سب کا حامی و مددگار ہو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ آمین !!
https://t.me/islamwitheman
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
1 288
❄ازدواجی زندگی اور 10نصیحتیں❄
اہلسنت کے امام احمد ابن حنبلؒ نے اپنے صاحب زادے کو شادی کی رات ۱۰ نصیحتیں فرمائیں۔ ہر شادی شدہ مرد کو چاہیئے کہ انکو غور سے پڑھے اور اپنی زندگی میں عملی طور پر اختیار کرے۔
میرے بیٹے! تم گھر کا سکون حاصل نہیں کرسکتے جب تک کہ اپنی بیوی کے معاملے میں ان ۱۰ عادتوں کو نہ اپناؤ لہذا ان کو غور سے سنو اور عمل کا ارادہ کرو۔۔
*پہلی دو* تو یہ کہ عورتیں تمھاری توجہ چاہتی ہیں اور چاہتی ہیں کہ تم ان سے واضح الفاظ میں محبت کا اظہار کرتے رہو۔
لہذا وقتاً فوقتاً اپنی بیوی کو اپنی محبت کا احساس دلاتے رہو اور واضح الفاظ میں اسکو بتاؤ کہ وہ تمہارے لئے کس قدر اہم اور محبوب ہے۔
(اس گمان میں نہ رہو کہ وہ خود سمجھ جائے گی، رشتوں کو اظہار کی ضرورت ہمیشہ رہتی ہے)
یاد رکھو! اگر تم نے اس اظہار میں کنجوسی سے کام لیا تو تم دونوں کے درمیان ایک تلخ دراڑ آجائے گی جو وقت کے ساتھ بڑھتی رہے گی اور محبت کو ختم کردے گی۔
۳- عورتوں کو سخت مزاج اور ضرورت سے زیادہ محتاط مردوں سے کوفت ہوتی ہے۔ لیکن وہ نرم مزاج مرد کی نرمی کا بےجا فائدہ اٹھانا بھی جانتی ہیں۔ لہذا ان دونوں صفات میں اعتدال سے کام لینا تاکہ گھر میں توازن قائم رہے اور تم دونوں کو ذہنی سکون حاصل ہو۔
۴- عورتیں اپنے شوہر سے وہی توقع رکھتی ہیں جو شوہر اپنی بیوی سے رکھتا ہے۔۔
یعنی عزت، محبت بھری باتیں، ظاہری جمال، صاف ستھرا لباس اور خوشبودار جسم لہذا ہمیشہ اسکا خیال رکھنا۔
۵- یاد رکھو گھر کی چار دیواری عورت کی سلطنت ہے، جب وہ وہاں ہوتی ہے تو گویا اپنی مملکت کے تخت پر بیٹھی ہوتی ہے۔ اسکی اس سلطنت میں بےجا مداخلت ہرگز نہ کرنا اور اسکا تخت چھیننے کی کوشش نہ کرنا۔ جس حد تک ممکن ہو گھر کے معاملات اسکے سپرد کرنا اور اس میں تصرف کی اسکو آزادی دینا۔
۵- ہر بیوی اپنے شوہر سے محبت کرنا چاہتی ہے لیکن یاد رکھو اسکے اپنے ماں باپ، بہن، بھائی اور دیگر گھر والے بھی ہیں جن سے وہ لاتعلق نہیں ہو سکتی اور نہ ہی اس سے ایسی توقع جائز ہے۔ لہذا کبھی بھی اپنے اور اسکے گھر والوں کے درمیان مقابلے کی صورت پیدا نہ ہونے دینا کیونکہ اگر اسنے مجبوراً تمہاری خاطر اپنے گھر والوں کو چھوڑ بھی دیا تب بھی وہ بےچین رہے گی اور یہ بےچینی بالآخر تم سے اسے دور کردے گی۔
۷- بلاشبہ عورت ٹیڑھی پسلی سے پیدا کی گئی ہے اور اسی میں اسکا حسن بھی ہے یہ ہرگز کوئی نقص نہیں، وہ ایسے ہی اچھی لگتی ہے جسطرح بھنویں گولائی میں خوبصورت معلوم ہوتی ہیں۔ لہذا اسکے ٹیڑھپن سے فائدہ اٹھاؤ اور اسکے اس حسن سے لطف اندوز ہو۔
اگر کبھی اسکی کوئی بات ناگوار بھی لگے تو اسکے ساتھ سختی اور تلخی سے اسکو سیدھا کرنے کی کوشش نہ کرو ورنہ وہ ٹوٹ جائے گی، اور اسکا ٹوٹنا بالآخر طلاق تک نوبت لے جائے گا۔
مگر اسکے ساتھ ساتھ ایسا بھی نہ کرنا کہ اسکی ہر غلط اور بےجا بات مانتے ہی چلے جاؤ ورنہ وہ مغرور ہو جائے گی جو اسکے اپنے ہی لئے نقصان دہ ہے۔ لہذا معتدل مزاج رہنا اور حکمت سے معاملات کو چلانا۔
۸- شوہر کی ناقدری اور ناشکری اکثر عورتوں کی فطرت میں ہوتی ہے، اگر ساری عمر بھی اس پر نوازشیں کرتے رہو لیکن کبھی کوئی کمی رہ گئی تو وہ یہی کہے گی تم نے میری کونسی بات سنی ہے آج تک۔ لہذا اسکی اس فطرت سے زیادہ پریشان مت ہونا اور نہ ہی اسکی وجہ سے اس سے محبت میں کمی کرنا۔
یہ ایک چھوٹا سا عیب ہے اس کے اندر
لیکن اسکے مقابلے میں اسکے اندر بےشمار خوبیاں بھی ہیں بس تم ان پر نظر رکھنا اور اللہ کی بندی سمجھ کر اس سے محبت کرتے رہنا اور حقوق ادا کرتے رہنا۔
۹- ہر عورت پر جسمانی کمزوری کے کچھ ایام آتے ہیں۔ ان ایام میں اللہ تعالٰی نے بھی اسکو عبادات میں چھوٹ دی ہے، اسکی نمازیں معاف کردی ہیں اور اسکو روزوں میں اس وقت تک تاخیر کی اجازت دی ہے جب تک وہ دوبارہ صحتیاب نہ ہو جائے بس ان ایام میں تم اسکے ساتھ ویسے ہی مہربان رہنا جیسے اللہ تعالٰی نے اس پر مہربانی کی ہے۔
جس طرح اللہ نے اس پر سے عبادات ہٹالیں ویسے ہی تم بھی ان ایام میں اسکی کمزوری کا لحاظ رکھتے ہوئے اسکی ذمہ داریوں میں کمی کردو، اسکے کام کاج میں مدد کرادو اور اس کے لئے سہولت پیدا کرو۔
۱۰- آخر میں بس یہ یاد رکھو کہ تمہاری بیوی تمہارے پاس ایک قیدی ہے جسکے بارے میں اللہ تعالٰی تم سے سوال کرے گا۔ بس اسکے ساتھ انتہائی رحم و کرم کا معاملہ کرنا۔
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
📚 حوالہ: ویب سائٹ جمیعت العلماء ساؤتھ افریقہ
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 288
📧 میسجز فارورڈنگ 📧
سوشل میڈیا پر رواں دواں جھوٹ اور سادہ لوح احباب۔۔۔۔
عربی زبان کا مقولہ ہے کہ انسان کے جھوٹے ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ ہر سُنی سُنائی بات کو نقل کردیا کرے۔ پنجابی میں بھی ایک مقولہ ہے جس کا مفہوم یوں ہے کہ پاگل ایسے ہی بات کردیتا جبکہ عقل مند سوچتا ہے، پھر بات کرتا ہے۔ اردو میں ہی پہلے تولو، پھر بولو کا مقولہ بھی زبان زد عام ہے۔ سادہ ہونا انسان کی بہت بڑی خامی ہے۔ سادہ احباب جیسے حقیقی زندگی میں، مختلف معاملات میں ٹرک کی بتی کے پیچھے لگے ہوتے ہیں، ایسے ہی سوشل میڈیا پر بھی وہ یہی کردار ادا کرتے ہیں۔ بلا تصدیق، بلا سوچے سمجھے، غور و فکر کیے، وہ کسی بھی بے بنیاد اور جھوٹی خبر کو، تجزیہ کو، پوسٹ کو ثواب جان کر پھیلانا شروع کردیتے ہیں۔ اس ضمن میں بہت سی مثالیں دی جا سکتی ہیں۔
ایک بار کسی نے واٹس ایپ میں میسج بھیجا، جس پر موبائل فون کی بیٹریوں کا آئکن بنا ہوا تھا، میسج میں لکھا تھا کہ اس میسج کو مختلف واٹس ایپ گروپوں میں شیئر کرو، آپ کے موبائل کی بیٹری ری چارج ہو جائے گی۔ کئی دوستوں نے وہ میسج بڑے اشتیاق سے پھیلایا۔
وقفے وقفے سے ایک میسج واٹس ایپ گروپوں میں گردش کرتا نظر آتا ہے کہ میں ایک کشمیری مریض لڑکی ہوں، میرا یہ موبائل نمبر ہے۔ مجھے امداد چاہیے، واٹس ایپ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اگر آپ کا یہ میسج جتنی بار واٹس ایپ پر شیئر ہوگا، پچاس پیسہ فی میسج آپ کو ملے گا۔ براہ کرم اسے بہت پھیلاؤ۔
کئی سادہ لوح حضرات اُسے پھیلاتے نظر آتے ہیں۔ اللہ کے بندو پچاس پیسے فی میسج کیا بنے گا؟ وہ شاید کسی نے کسی کا نمبر پھیلانے کے لیے حرکت کی ہے۔
حالیہ دنوں ایک نمبر دیا ہوا تھا کہ اس سے کال مت اٹینڈ کرنا، یہ کسی ہیکر کا نمبر ہے۔ اپنے سبھی پیاروں کو بھیجو۔ مجھے بھی درجنوں سمجھداروں نے یہ میسج بھیجا۔ اللہ کے بندو یہ سب بکواس ہے۔ ایسا کچھ نہیں ہوتا۔
مجھے کئی بار میسج موصول ہوا جس میں لکھا ہوتا کہ میں ووٹ فُلاں سیاسی جماعت کو دوں گا، یہ میسج بیس بندوں کو بھیج کے اپنا بیلنس چیک کرنا، آپ کو دو سو کا بیلنس ملے گا۔ ہمارے احباب ایسے میسج بھیج کر بیلنس چیک کرتے پائے گئے ہیں۔
مذہبی میسج بھی گردش کرتے ملتے ہیں کہ یہ میسج دس بندوں کو بھیجو، تمہارا رُکا ہوا کام ہوجائے گا ورنہ بہت بڑا نقصان ہوگا، اُس کے اندر کلمہ وغیرہ لکھا ہوتا ہے۔
اکثر میسج موصول ہوتا ہے کہ واٹس ایپ کو بند کیا جارہا ہے، یہ میسج آگے بھیجیں تو آپ کا اکاؤنٹ محفوظ رہے گا۔ ہمارے دوست اسے بھی خلوص سے آگے ہنکا دیتے ہیں۔
جھوٹے مذہبی حوالے، قصے، جھوٹی سیاسی خبریں اور مختلف قسم کی غلط ملط باتیں دوست احباب شوق و ذوق سے آگے شیئر فرمارہے ہوتے ہیں۔
دوستو! کسی بھی بات کو آگے شیئر کرنے سے پہلے ایک بار ضرور دیکھا کرو کہ اس کا سورس کیا ہے؟ آیا یہ درست بھی ہے یا غلط؟ باوثوق ذرائع پر ہی اعتماد کیا کریں ورنہ ہر پوسٹ، خبر، بات کو بلا سوچے سمجھے شیئر کرنے سے آپ کی شخصیت مجروح ہوگی۔ سوشل میڈیا پر مختلف مقاصد کے تحت پھیلائے جانے والے جھوٹے پروپیگنڈوں کو پھیلا کا اپنے جھوٹے یا غیر معتبر ہونے کا ثبوت نہ دیجیے۔
👆 ایک مراسلہ 👆
http://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 288
❄ دعویٰ اور اس کی تشریح ❄
ایک آدمی خلیفہ اول کے دربار میں آیا اور اس نے دعوی کیا کہ۔۔
وہ اللہ سے نہیں ڈرتا اور نہ ہی جنت کی لالچ کرتا ہے اور نہ دوزخ کا خدشہ ہے اور نہ ہی وہ رکوع کرتا ہے اور نہ ہی سجود اور مردار کھاتا ہے اور خون پیتا ہے اور جو نہیں دیکھا اس کی گواہی دیتا ہے اور فتنے سے محبت کرتا ہے اور حق سے کراہت کرتا ہے اور یہود و نصاری کو سچا سمجھتا ہے اور اس کے پاس ایک ایسی چیز ہے جو اللہ کے پاس نہیں ہے اور ایک چیز ہے جو اللہ کے لیے نہیں ہے اور بولا کہ میں احمد النبی ہوں اور میں علی ع ہوں اور میں ہی تمہارا رب ہوں۔
یہ سب باتیں سن کر خلیفہ ثانی کھڑا ہو گیا اور بولا تو کفر میں بڑا ترقی یافتہ ہو گیا ہے۔
ثانی کا قول سن کر امیرالمؤمنین علیہ السلام نے فرمایا ٹھنڈا رہ، گرمی نہ دکھا۔
"یہ شخص اللہ کے اولیاء میں سے ایک ہے یہ جنت کی تمنا نہیں کرتا بلکہ خود اللہ کی تمنا کرتا ہے اور جہنم کی آگ سے خوف نہیں کھاتا مگر اپنے رب سے خوف کھاتا ہے، اللہ کے ظلم سے نہیں ڈرتا کیوں کہ وہ ظلم کرتا ہی نہیں بلکہ اللہ کے عدل سے ڈرتا ہے جس کے آگے کوئی نہیں ٹھہر سکتا اور جو اس نے کہا ہے کہ رکوع و سجود نہیں کرتا مطلب یہ ہے کہ نماز جنازہ میں رکوع و سجود نہیں ہوتا، ٹڈی اور مچھلی کھاتا ہے جوکہ مردہ بھی حلال ہیں اور انکا خون نجس نہیں ہے اور یہ اپنے بیوی بچوں سے محبت کرتا ہے جن کو قرآن میں اللہ نے فتنہ کہا ہے جنت اور جہنم کی گواہی دیتا ہے جس کو اس نے نہیں دیکھا اور حق سے کراہت یہاں حق سے مراد موت ہے جسے اللہ نے حق کہا ہے، یہود و نصاری کو سچا سمجھتا ہے اسلیے کہ وہ اک دوسرے کو جھوٹا کہتے ہیں اور دونوں کا قول سچا ہے اور اس کے پاس بیٹا ہے جوکہ اللہ کے پاس نہیں ہے اور وہ اپنے نفس پر ظلم کرتا ہے جبکہ اللہ کے پاس کسی قسم کا ظلم موجود نہیں ہے۔ اسکا یہ کہنا کہ
انا احمد النبی کا مطلب ہے میں نبی محمد (ص) کی تعریف کرتا ہوں کہ انہوں نے اللہ کی طرف سے تبلیغ رسالت کی اور یہ قول انا علی کا مطلب ہے کہ میں اپنے قول میں علی (ع) ہوں اور یہ قول انا ربکم اسکا مطلب ہے میری آستین ہے جس کو میں کبھی اوپر اور کبھی نیچے کر لیتا ہوں۔
اس شخص کی باتوں کی مولا علیہ السلام سے تشریح سن کر بے ساختہ ثانی اٹھا مولا علیہ السلام کا سر چوم کر بولا اے ابوالحسن (ع) آپ کے بعد میں دنیا میں نہ رہوں۔
📚 حوالہ کتاب
انوار مشارق القین فی اسرار امیرالمومنینؑ، صفحہ٨٨۔
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
http://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 288
🔷 یہ میرا مسئلہ نہیں 🔷
ایک چوہا کسان کے گھر میں بل بنا کر رہتا تھا، ایک دن چوہے نے دیکھا کہ کسان اور اس کی بیوی ایک تھیلے سے کچھ نکال رہے ہیں، چوہے نے سوچا کہ شاید کچھ کھانے کا سامان ہے-
خوب غور سے دیکھنے پر اس نے پایا کہ وہ ایک چوهےدانی تھی- خطرہ بھانپنے پر اس نے گھر کے پچھواڑے میں جا کر کبوتر کو یہ بات بتائی کہ گھر میں چوهےدانی آ گئی ہے-
کبوتر نے مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ مجھے کیا؟ مجھے کون سا اس میں پھنسنا ہے؟
مایوس چوہا یہ بات مرغ کو بتانے گیا-
مرغ نے مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ ... جا بھائی يہ میرا مسئلہ نہیں ہے-
مایوس چوہے نے دیوار میں جا کر بکرے کو یہ بات بتائی ... اور بکرا ہنستے ہنستے لوٹ پوٹ ہونے لگا-
اسی رات چوهےدانی میں كھٹاک کی آواز ہوئی جس میں ایک زہریلا سانپ پھنس گیا تھا-
اندھیرے میں اس کی دم کو چوہا سمجھ کر کسان کی بیوی نے اس کو نکالا اور سانپ نے اسے ڈس لیا-
طبیعت بگڑنے پر کسان نے حکیم کو بلوایا، حکیم نے اسے کبوتر کا سوپ پلانے کا مشورہ دیا،
*کبوتر ابھی برتن میں ابل رہا تھا*
خبر سن کر کسان کے کئی رشتہ دار ملنے آ پہنچے جن کے کھانے کے انتظام کیلئے اگلے دن مرغ کو ذبح کیا گیا۔۔
کچھ دنوں کے بعد کسان کی بیوی مر گئی ... جنازہ اور موت ضیافت میں بکرا پروسنے کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا ......
چوہا دور جا چکا تھا ... بہت دور ............
اگلی بار کوئی آپ کو اپنے مسئلے بتائے اور آپ کو لگے کہ یہ میرا مسئلہ نہیں ہے تو انتظار کیجیے اور دوبارہ سوچیں .... ہم سب خطرے میں ہیں ....
سماج کا ایک عضو، ایک طبقہ، ایک شہری خطرے میں ہے تو پورا ملک خطرے میں ہے ....
ذات، مذہب اور طبقے کے دائرے سے باہر نكليے-
خود تک محدود مت رہیے- دوسروں کا احساس کیجیے۔ پڑوس میں لگی آگ آپکے گھر تک بھی پہنچ سکتی ہے.
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 288
🔷 ایمان کی حفاظت 🔷
ایک جہاز مغربی ملک کی طرف محو پرواز تھا۔ اس میں ایک پڑھا لکھا مسلمان بھی سفر کر رھا تھا۔ جب ائیر ھوسٹس نے دوسرے مسافروں کے ساتھ اس کو بھی شراب پیش کی تو اس نے شراب پینے سے انکار کر دیا جس پر ائیر ھوسٹس نے اپنے سپروائیزر کو مطلع کیا۔
سپروائیزر نے پوچھا کہ۔۔
کیا ھماری خدمتگاری میں کوئی کسر رہ گئی ھے ؟ یہ شراب مہمانداری کے طور پر پیش کی جا رھی ھے۔
مسافر نے اسے بڑی تمیز سے سمجھایا کہ وہ مسلمان ھے اور شراب نہیں پیتا۔
سپروائیزر اصرار کرتا رھا کہ وہ شراب ضرور نوش کر لے۔
اس کے مسلسل اصرار پر مسافر نے کہا کہ ایسا کرو کہ یہ جام پہلے پائلٹ کو دو۔
سپروائیزر کہنے لگا کہ ایسا کیسے ھو سکتا ھے کہ وہ شراب پی کر جہاز اڑائے، وہ ڈیوٹی پر ھے اور اگر وہ ڈیوٹی کے دوران شراب پیئے گا تو اس بات کا سو فیصد امکان ھے کہ جہاز حادثے کا شکار ھو کر تباہ ھو جائے گا۔
مسافر نے سپروائیزر کو کہا۔۔
"میں مسلمان ھوں، میں اپنے ایمان کو بچانے کے لئے ھر وقت ڈیوٹی پر ھوتا ھوں اور اگر میں شراب پیؤں گا تو اس بات کا سو فیصد امکان ھے کہ میں حادثے کا شکار ھو جاؤں گا اور اپنے ایمان کو تباہ کر بیٹھوں گا"ـ
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
"منقول"
http://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 288
🌼 قرآن کریم کے واجب سجدے 🌼
قرآن کریم کے واجب سجدے والی آیات درج ذیل سوروں میں ہیں۔۔
1️⃣. سجدہ
2️⃣. فصلت
3️⃣. نجم
4️⃣. علق (اقرأ)
🔹اگر انسان سجدہ کی آیتوں کو خود پڑهے یا کسی سے سنے تو آیت کے پورا ہونے کے بعد سجدہ کرے اور اگر سجدہ کرنا بهول تو جب بهی یاد آئے سجدہ کرے
🔹سجدہ کرتے وقت باطهارت اور روبہ قبلہ ہونا ضروری نہیں ہے۔
سجدہ کا طریقہ:
سجدہ کی نیت سے پیشانی کو زمین پر رکهے اگرچہ کوئی ذکر نہ پڑهے کافی ہے البتہ ذکر مستحب ہے اور بہتر ہے یہ ذکر پڑهے:
🔹"لٰا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ حَقّا حَقّا لَا إِلٰهَ الّا اللّٰهُ ایماناً وَ تَصْدِیقاً لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ عُبُودِیةً وَ رِقًّا سَجَدْتُ لَک یٰا رَبِّ تَعَبُّداً وَ رِقًّا لَا مُسْتَنْکفاً وَ لَا مُسْتَکبِراً بَلْ أَنَا عَبْدٌ ذَلِیلٌ ضَعِیفٌ خَائِفٌ مُسْتَجِیرٌ".🔹
اَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍ وَّآلِ مُحَمَّدٍ وَّعَجِّلْ فَرَجَهُمْ وَالْعَنْ أَعْدَائَهُمْ اَجْمَعِيْنٌ۔
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 288
🌸میں قرآن میں کہاں ہوں؟(حصہ دوم)🌸
کچھ اور لوگوں کے پاس سے گزر ہوا جن سے جب پوچھا گيا،
مَا سَلَكَكُمْ فِي سَقَرَ o قَالُوا لَمْ نَكُ مِنَ الْمُصَلِّينَ o وَلَمْ نَكُ نُطْعِمُ الْمِسْكِينَ o وَكُنَّا نَخُوضُ مَعَ الْخَائِضِينَ oوَكُنَّا نُكَذِّبُ بِيَوْمِ الدِّينِ o حَتَّى أَتَانَا الْيَقِينُ (المدثر۔ 47-42)
(ترجمہ) ”کہ تم دوزخ ميں کيوں پڑے؟ وہ جواب ديں گے کہ ہم نماز نہيں پڑھتے تھے اور نہ فقيروں کو کھانا کھلاتے تھے اور ہم جھوٹ سچ باتيں بنانے والوں کے ساتھ باتيں بنايا کرتے اور روز جزا کو جھوٹ قرار ديتے تھے، يہاں تک کہ ہميں اس يقيني چيز سے سابقہ پيش آگيا“۔
يہاں بھی پہنچ کر وہ تھوڑی دير کے لئے دم بخود کھڑے رہے۔ پھر کانوں پر ہاتھ رکھ کر کہا: اے اللہ! ان لوگوں سے تيری پناہ! ميں ان لوگوں سےبری ہوں۔
اب وہ قرآن مجيد کے اوراق کو ا لٹ رہے تھے، اور اپنا تذکرہ تلاش کر رہے تھے، يہاں تک کہ اس آيت پر جا کر ٹھہرے:
وَآخَرُونَ اعْتَرَفُواْ بِذُنُوبِهِمْ خَلَطُواْ عَمَلاً صَالِحًا وَآخَرَ سَيِّئًا عَسَى اللّهُ أَن يَتُوبَ عَلَيْهِمْ إِنَّ اللّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ (التوبہ۔ 102)
(ترجمہ) ”اور کچھ اور لوگ ہيں جن کو اپنے گناہوں کا (صاف) اقرار ہے، انہوں نے اچھے اور برے عملوں کو ملا جلا ديا تھا قريب ہے کہ خدا ان پرمہربانی سے توجہ فرمائے، بے شک خدا بخشنے والا مہربان ہے“۔
اس موقع پر اُن کی زبان سے بے ساختہ نکلا، ہاں ہاں! يہ بے شک ميرا حال ہے !!
تو ہم کن لوگوں میں سے ہیں..؟؟؟
سوچئے گا !!
👆ایک مراسلہ👆
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 288
🌸ميں قرآن ميں کہاں ہوں؟(حصہ اول)🌸
خود کو قرآن مجید میں ڈھونڈیں. انتہائی دلچسپ اور سبق آموز۔۔۔
ایک جليل القدر تابعی اور عرب سردار احنف بن قيس ايک دن بيٹھے ہوئے تھے کہ کسی نے يہ آيت پڑھی
لَقَدْ أَنزَلْنَا إِلَيْكُمْ كِتَابًا فِيهِ ذِكْرُكُمْ أَفَلَا تَعْقِلُونَ (سورۃ انبياء 10)
(ترجمہ) ”ہم نے تمہاری طرف ايسی کتاب نازل کی جس ميں تمہارا تذکرہ ہے، کيا تم نہيں سمجھتے ہو“۔
وہ چونک پڑے اور کہا کہ ذرا قرآن مجيد تو لاؤ۔ اس ميں، ميں اپنا تذکرہ تلاش کروں، اور ديکھوں کہ ميں کن لوگوں کے ساتھ ہوں، اور کن سے مجھے مشابہت ہے؟
انہوں نے قرآن مجيد کھولا، کچھ لوگوں کے پاس سے ان کا گزر ہوا، جن کی تعريف يہ کی گئی تھی
كَانُوا قَلِيلًا مِّنَ اللَّيْلِ مَا يَهْجَعُونَ o وَبِالْأَسْحَارِ هُمْ يَسْتَغْفِرُونَ o وَفِي أَمْوَالِهِمْ حَقٌّ لِّلسَّائِلِ وَالْمَحْرُومِ ِ (الذريٰت-17،18،19)
(ترجمہ) ”رات کے تھوڑے حصے ميں سوتے تھے، اور اوقات سحر ميں بخشش مانگا کرتے تھے، اور ان کے مال ميں مانگنے والے اور نہ مانگنے والے (دونوں) کا حق ہوتا تھا“۔
کچھ اور لوگ نظر آئے جن کا حال يہ تھا،
تَتَجَافَى جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَطَمَعًا وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ (السجدہ۔ 16)
(ترجمہ) ”ان کے پہلو بچھونوں سے الگ رہتے ہيں (اور) وہ اپنے پروردگار کو خوف اور اُميد سے پکارتے ہيں۔ اور جو (مال) ہم نے ان کو ديا ہے، اس ميں سے خرچ کرتے ہيں“۔
کچھ اور لوگ نظر آئے جن کا حال يہ تھا،
وَالَّذِينَ يَبِيتُونَ لِرَبِّهِمْ سُجَّدًا وَقِيَامًا (الفرقان۔ 64)
(ترجمہ) ”اور جو اپنے پروردگار کے آگے سجدہ کرکے اور (عجز وادب سے) کھڑے رہ کر راتيں بسر کرتے ہيں“۔
اور کچھ لوگ نظر آئے جن کا تذکرہ اِن الفاظ ميں ہے،
الَّذِينَ يُنفِقُونَ فِي السَّرَّاء وَالضَّرَّاء وَالْكَاظِمِينَ الْغَيْظَ وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ وَاللّهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ (اٰل عمران۔ 134)
(ترجمہ) ”جو آسودگی اور تنگی ميں (اپنا مال خدا کي راہ ميں) خرچ کرتے ہيں، اور غصہ کو روکتے اور لوگوں کے قصور معاف کرتے ہيں، اور خدا نيکو کاروں کو دوست رکھتا ہے“۔
اور کچھ لوگ ملے جن کی حالت يہ تھی،
وَيُؤْثِرُونَ عَلَى أَنفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ وَمَن يُوقَ شُحَّ نَفْسِهِ فَأُوْلَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ (الحشر۔ 9)
(ترجمہ) ”(اور) دوسروں کو اپنی جانوں سے مقدم رکھتے ہيں خواہ ان کو خود احتياج ہی ہو، اور جو شخص حرص نفس سے بچا ليا گيا تو ايسے ہی لوگ مُراد پانے والے ہوتے ہيں“۔
اور کچھ لوگوں کی زيارت ہوئی جن کے اخلاق يہ تھے،
وَالَّذِينَ يَجْتَنِبُونَ كَبَائِرَ الْإِثْمِ وَالْفَوَاحِشَ وَإِذَا مَا غَضِبُوا هُمْ يَغْفِرُونَ (الشوريٰ۔ 37)
(ترجمہ) ”اور جو بڑے بڑے گناہوں اور بے حيائی کی باتوں سے پرہيز کرتے ہيں، اور جب غصہ آتا ہے تو معاف کر ديتے ہيں“۔
اور کچھ کا ذکر یوں تھا،
وَالَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِرَبِّهِمْ وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَأَمْرُهُمْ شُورَى بَيْنَهُمْ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ (الشوريٰ۔ 38)
(ترجمہ) ”اور جو اپنے پروردگار کا فرمان قبول کرتے ہيں اور نماز پڑھتے ہيں، اور اپنے کام آپس کے مشورہ سے کرتے ہيں اور جو مال ہم نے ان کو عطا فرمايا ہے اس ميں سے خرچ کرتے ہيں“۔
وہ يہاں پہنچ کر ٹھٹک کر رہ گئے، اور کہا : اے اللہ ميں اپنے حال سے واقف ہوں، ميں تو ان لوگوں ميں کہیں نظر نہيں آتا!
پھر انہوں نے ايک دوسرا راستہ ليا، اب ان کو کچھ لوگ نظر آئے، جن کا حال يہ تھا،
إِنَّهُمْ كَانُوا إِذَا قِيلَ لَهُمْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ يَسْتَكْبِرُونَ o وَيَقُولُونَ أَئِنَّا لَتَارِكُوا آلِهَتِنَا لِشَاعِرٍ مَّجْنُونٍ (سورہ صافات۔ 35،36)
(ترجمہ) ”ان کا يہ حال تھا کہ جب ان سے کہا جاتا تھا کہ خدا کے سوا کوئي معبود نہيں تو غرور کرتے تھے، اور کہتے تھے، کہ بھلا ہم ايک ديوانہ شاعر کے کہنے سے کہيں اپنے معبودوں کو چھوڑ دينے والے ہيں؟
پھر اُن لوگوں کا سامنا ہوا جن کی حالت يہ تھی،
وَإِذَا ذُكِرَ اللَّهُ وَحْدَهُ اشْمَأَزَّتْ قُلُوبُ الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ وَإِذَا ذُكِرَ الَّذِينَ مِن دُونِهِ إِذَا هُمْ يَسْتَبْشِرُونَ (الزمر۔45)
(ترجمہ) ”اور جب تنہا خدا کا ذکر کيا جاتا ہے تو جو لوگ آخرت پر ايمان نہيں رکھتے انکے دل منقبض ہو جاتے ہيں، اور جب اس کے سوا اوروں کا ذکر کيا جاتا ہے تو اُن کے چہرے کھل اُٹھتے ہيں“۔
کچھ اور لوگوں کے پاس سے گزر ہوا جن سے جب۔۔۔ (جاری ہے)
بقیہ حصہ دوم میں ملاحظہ فرمائیے۔۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 288
💐 لفظوں کا زہر 💐
اس سلسلے میں تین اصلاحی کہانیاں پیش کی جا رہی ہیں امید ہے آپ کو پسند آئیں گی۔ اور موجب اصلاح ہونگی۔
■پہلی کہانی
زید نے حامد سے پوچھا؛ تم کہاں کام کرتے ہو؟؟
حامد؛ فلاں دکان میں
ماہانہ کتنی تنخواہ دیتا ہے؟
حامد: 18000 روپے۔
زید؛ 18000 روپے بس۔
تمہاری زندگی کیسے کٹتی ہے اتنے پیسوں میں؟؟
حامد گہری سانس کھینچتے ہوئے بس یار کیا بتاؤں
میٹنگ ختم ہوئی
کچھ دنوں کے بعد
حامد اب اپنے کام سے بیزار ہوگیا، اور تنخواہ بڑھانے کی ڈیمانڈ کردی جسے منٹ سے پیشتر مالک نے رد کردیا، نوجوان نے جاب چھوڑ دی اور بے روزگار ہوگیا،، پہلے اس کے پاس کام تھا اب کام نہیں رہا
مورال۔
سیانے سچ کہتے ہیں
"قلیل دائم خیر من کثیر منقطع"
تھوڑا تھوڑا لیکن ہمیشہ ملنے والا مال اس مال سے بہتر ہوتا ہے جو چھپڑ پھاڑ کر ملے اور جتنی تیزی سے آئے اتنی تیزی سے ختم ہوجائے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
■دوسری کہانی
ایک سہیلی نے دوسری سہیلی سے پوچھا
بچہ پیدا ہونے کی خوشی میں تمہارے شوہر نے تمہیں کیا تحفہ دیا؟؟؟
دوسری سہیلی نے کہا؛
کچھ بھی نہیں۔
پہلی سہیلی نے سوال کرتے ہوئے پوچھا کہ کیا یہ اچھی بات ہے؟؟
کیا اس کی نظر میں تمہاری کوئی قیمت نہیں؟؟؟
لفظوں کا یہ زہریلا بم گرا کر وہ سہیلی دوسری سہیلی کو اپنی فکر میں غلطاں و پیچاں چھوڑ کر چلتی بنی۔
تھوڑی دیر بعد ظہر کے وقت اس کاشوہر گھر آیا اور بیوی کا منہ لٹکا ہوا پایا۔۔
پھر دونوں کا جھگڑا ہوا ایک دوسرے کو لعنت بھیجی مارپیٹ ہوئی شوہر نے اسے طلاق دے دی،.
جانتے ہیں پرابلم کی شروعات کہاں سے ہوئی؟؟
اس فضول جملے سےجو اس کی زیارت کرنے آئی سہیلی نے کہا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
■تیسری کہانی
روایت ہے کہ ایک فکر و قلق سے آزاد باپ تھا کہ ایک کہنے والے نے اس کے کان میں نفرت کا منتر پھونکا کہ
تمہارا بیٹا تمہاری بہت زیادہ زیارت کیوں نہیں کرتا کیا اسے تم سے دل کی گہرائیوں سے محبت نہیں؟؟؟
باپ نے بیٹے کے لئے عذر تراشا اور کہا کہ
اس کے کام کا بیک گراونڈ اور شیڈول بہت سخت ہے اسے بہت کم وقت ملتا ہے۔
دوسرے آدمی نے کہا کہ تم کیسے مان سکتے ہو کہ اس کو کام کی وجہ سے آپ سے ملنے کا وقت نہیں ملتا؟؟
یہ تو نہ ملنے کا ماڈرن بہانا ہے۔
اس گفتگو کے کچھ دنوں بعد باپ کے دل میں بیٹے کے تعلق سے پہلی جیسی صفائی نہ رہی اور رضامندی کی جگہ نفرت و حقارت نے لے لی۔
بے شک اے قاری۔۔
کچھ لوگوں کی زبانوں سے شیطان بول جاتا ہے،
ہماری روزمرہ کی زندگی میں کچھ سوالات ہمیں بہت معصوم لگتے ہیں..۔
تم نے یہ کیوں نہیں خریدا؟؟
تمہارے پاس یہ کیوں نہیں ہے؟؟
تم اس شخص کے ساتھ پوری زندگی کیسے چل سکتی ہو؟؟
تم اسے کیسے مان سکتے ہو؟؟
اسطرح کے بیشتر سوالات نادانی میں یا بلامقصد ہم پوچھ بیٹھتے ہیں جبکہ یہ بھول جاتے ہیں کہ ہمارے یہ سوالات سننے والے کے دل میں نفرت یا محبت کا کون سا بیج بورہے ہیں۔
فساد پھیلانے والے نہ بنو،
لوگوں کے گھروں میں اندھے بن کر جاؤ اور وہاں سے گونگا بن کر نکلو۔۔
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 288
🌸 وضو کا طریقہ 🌸
امیرالمؤمنین حضرت علی علیه السلام کے وضو کا طریقہ اهل سنت کی کتب سے ملاحظہ ہو۔۔۔
🌟 وضو کرنے کا طریقه شیعیان اور اھل سنت کے درمیان ہمیشہ سے اختلاف رہا ہے اور اکثر مناظرات علمی اس موضوع پر کیے گئے ہیں۔
اس پوسٹ میں ہم نے یہ کوشش کی ہے کہ اھلسنت کی معتبر کتب سے امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کے وضو کو ثابت کریں گے.
📒 ابوداؤد طیالسی (جو اھلسنت کے بزرگ اور مشھور عالم دین ہیں) اپنی کتاب مسند میں تحریر کرتے ہیں:
حدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: أَخْبَرَنِی عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ مَیْسَرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّزَّالَ بْنَ سَبْرَةَ، یَقُولُ: صَلَّى عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّهُ عَنْهُ الظُّهْرَ فِی الرَّحَبَةِ ثُمَّ جَلَسَ فِی حَوَائِجِ النَّاسِ حَتَّى حَضَرَتِ الْعَصْرُ ثُمَّ أُتِیَ بِکُوزٍ مِنْ مَاءٍ فَصَبَّ مِنْهُ کَفًّا فَغَسَلَ وَجْهَهُ وَیَدَیْه ومَسَحَ عَلَى رَأْسِهِ وَرِجْلَیْه ثمَّ قَامَ فَشَرِبَ فَضْلَ الْمَاءِ وَهُوَ قَائِمٌ ثُمَّ قَالَ: إِنَّ نَاسًا یَکْرَهُونَ أَنْ یَشْرَبُوا وَهُمْ قِیَامٌ وَرَأَیْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ مِثْلَ الَّذِی فَعَلْتُ وَقَالَ: «هَذَا وُضُوءُ مَنْ لَمْ یُحْدِثْ۔
💥 نزال بن سبره کہتا ہے: امیرالمؤمنین علی علیه السلام نے کوفہ کے میدان میں نماز ظھر ادا کی پھر تشرف فرما ہوئے اور لوگوں کی مشکلات کو سنا تاکہ بعد میں نماز عصر کا وقت بھی ہو جائے. پھر آپ (ع) نے پانی کا بھرا ہوا کوزہ لیا، آپ نے اپنے ہاتھوں کو دھویا اور پھر اپنے چہرے اقدس اور بازوؤں کو دھویا بعد میں سر اور پاؤں کا مسح کیا۔
حضرت امیرالمؤمنین علی علیہ السلام نے فرمایا: میں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس طرح وضو کرتے ہوئے دیکھا (یعنی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سر اور پاؤں کا مسح کرتے ہوئے دیکھا)
📚 مسند ابی داؤد الطیالسی، ج1، ص125.ط دار هجر
✨ محقق کتاب دکتر محمد بن عبدالمحسن الترکی اس روایت کی سند کو مکمل طور پر صحیح جانتے ہیں.
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 288
🌵 شجرة الزقوم 🌵
عربی زبان کا لفظ "زقوم" قرآن کے مطابق، جہنم میں ایک پیڑ کا نام۔ اس کا مقصد دوزخ میں بسنے والوں کے لیے غذا کے طور پر پیش کیا جانا ہے۔ یہ پیڑ جہنم کے تہہ میں شعلوں کے درمیان ہوگا۔
زقوم کے معنی
ايک قسم کا خار دار پودا،ایک درخت جس کا پھل دوزخیوں کو کھانے کو ملے گا،تھوہڑ کا پودا جو خاردار اور کڑوا اور زہریلا ہوتا ہے،دوزخ کا ایک درخت جس سے دوزخی اپنی خوراک حاصل کریں گے،زہریلی اور مہلک غذاناگ پھنی ،ناگ پھَنی ،ہر کڑوی ،ہیج دھارا،یہ پودا ڈنٹھل دار بے برگ اور خاردار ہے۔
الزقوم۔ ایک درخت جسے حنظل یا تھوہر کہتے ہیں۔ ذائقہ میں تلخ، دیکھنے میں بدنما۔ اثر میں زہریلا ہوتا ہے۔ اس سے استعارہ کے طور پر کہتے ہیں زقم فلان وتزقم۔ اس نے کوئی کریہہ چیز نگل لی۔ دوزخ میں جو یہ درخت آگ سے پیدا ہوگا اس کے ذائقہ ، صورت، اثر کو خیال کیا جا سکتا ہے۔ یہاں ذکر دوزخ میں پیدا ہونے والے اس درخت کا ہے ۔
زقوم کے مترادفات
تھوہَرتھوہڑکیکٹس
زقوم کے انگریزی معنی
a prickly plant،cactus،foul language
زقوم کی حقیقت
اس کے بارے میں(قرآن: سورۃ الاسرا:60)میں مذکور ہے (کہ یہ ایک لعنتی درخت ہے)
(قرآن: سورۃ الصافات:62)
(قرآن: سورۃ الدخان:43)
(قرآن: سورۃ الواقعہ:52)
زقوم دراصل ایک درخت کا نام ہے جو جزیرۂ عرب کے علاقہ تہامہ میں پایا جاتا ہے۔ علامہ آلوسی نے لکھا ہے کہ یہ تمام بنجر صحراؤں میں ہوتا ہے۔ بعض حضرات کا خیال ہے یہ وہی درخت ہے جسے اردو میں تھوہر کہتے ہیں۔ اسی سے ملتا جلتا ہندوستان میں ایک درخت ہے جو ناگ پھن کے نام سے معروف ہے۔ بعض لوگوں نے اسے زقوم قرار دیا ہے۔ اس درخت کا مزہ نہایت کڑوا اور بو نہایت ناگوار ہوتی ہے۔ اور توڑنے پر اس سے دودھ کا رس نکلتا ہے جو اگر جسم کو لگ جائے تو ورم ہوجاتا ہے۔ ناگ پھن اس بھی زیادہ مکروہ درخت ہے اور وہ اپنی شکل و صورت میں بھی زیادہ خوفناک معلوم ہوتا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ تھوہر یا ناگ پھن نام کے اعتبار سے ہوسکتا ہے زقوم کے قریب ہو۔ لیکن جہاں تک حقیقت کا تعلق ہے زقوم بالکل اس سے الگ چیز ہے۔ یہ دونوں درخت اپنی بدنمائی اور کراہت کے باوجود زمین ہی میں پیدا ہوتے ہیں لیکن زقوم جہنم کی جڑ سے نکلتا ہے۔ اور دوسرے درختوں کی طرح اس کی تربیت پانی، ہوا اور دھوپ میں نہیں ہوتی بلکہ آگ میں ہوتی ہے۔ اور یہ آگ کے بعض دیگر جانوروں کی طرح آگ ہی میں پھلتا پھولتا ہے۔
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
http://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
