ar
Feedback
Politics Plus

Politics Plus

الذهاب إلى القناة على Telegram

‏ملکی و بین الاقوامی سیاست، معیشت اور تنازعات کے متعلق تبصرے و تجزئیے ۔ https://x.com/Polplusorg واٹس ایپ چینل https://whatsapp.com/channel/0029Vb7Bqt3LCoWyJ9OYVB1Y

إظهار المزيد
1 909
المشتركون
+124 ساعات
-57 أيام
-4730 أيام
أرشيف المشاركات
ساس بھی کبھی بہو تھی ۔۔۔۔ اپوزیشن میں کیا موقف ہوتا ہے اور حکومت میں ہوتے ہیں تو کیا کرتے ہیں

‏تحریک انصاف کےصدام خان ترین جو حقیقت بیان کررہے ہیں وہ درست ہے لیکن یہ صرف بلوچستان تک محدود نہیں ہےبلکہ پورے پاکستان کے ساتھ یہی کھلواڑ جاری یے پاکستان کی ہر برائی کی جڑ آپ کو جی ایچ کیو اور جرنیلوں کے پیٹ کو جاتی نظر آئے گی ۔ ‎#Politicsplus ‎#Balochistan ‎#Pakistan #اسکے_پیچھے_وردی_ہے https://x.com/i/status/2076538570282611067 https://whatsapp.com/channel/0029Vb7Bqt3LCoWyJ9OYVB1Y https://t.me/spluspk

یہ پولیس والے جب مارے جائیں گے تو لوگ انہیں شہید قرار دیں گے ، سانحہ قرار دیں گے اور مظلوم بھی بنائیں گے

جنگل کا قانون۔ وکٹوریہ اہسپتال میں تعینات ڈاکٹر سلمان رضوی نے اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے پلوانے سے انکار کر دیا جس پر پولیو ورکرز نے پولیس بلالی اور پھر پنجاب پولیس ڈاکٹر سلمان رضوی کو زبردستی گھسیٹے اور دھکے مارتے ہوئے تھانے لے گئی۔ 🔗 Nauman.Ali.Shah (@Shah15446472) 📲 @twittervid_bot

فرانس میں بڑے پیمانے پر بچوں سے زیادتی کا سکینڈل فرانس کے مقامی اور غیر ملکی اخبار بچوں سے ‘بڑے پیمانے پر’ زیادتی کے سکینڈل کی خبریں نشر کر رہے ہیں۔ درجنوں سرکاری نرسری اور پرائمری سکولوں کے ’مانیٹرز‘ (نگران) پر تشدد، جنسی حملے اور ریپ کے الزامات میں تفتیش ہو رہی ہے۔ پیرس کی پولیس 100 سے زائد الزامات کی تحقیقات کر رہی ہے جن میں تین سال کی عمر کے بچوں کے ساتھ لنچ بریک، نیپ ٹائم (سونے کا وقت) اور آفٹر سکول ایکٹیویٹیز کے دوران بدسلوکی، جسمانی تشدد اور ریپ شامل ہیں۔ پیرس کی ٹاپ پراسیکیوٹر Laure Beccuau نے کہا: ’’ہم 84 پری اسکولز، تقریباً 20 پرائمری سکولز اور تقریباً 10 ڈے کیئر سنٹرز میں تفتیش کر رہے ہیں‘‘۔ وکلاء نے بتایا کہ تفتیش میں تین اور چار سال کی عمر کے بچوں کے مبینہ ریپ کے کیسز بھی شامل ہیں۔ والدین کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ وہ سالوں سے ان الزامات کو سنجیدگی سے لینے کی جدوجہد کر رہی ہیں۔ ان کے مطابق مانیٹرز کی بھرتی کے عمل اور چیکنگ میں ناکامیوں کی وجہ سے زیادتی جاری رہی۔ سکول مانیٹرز وہ بالغ افراد ہوتے ہیں جو لنچ، بریک ٹائم، نیپ اور آفٹر سکول ایکٹیویٹیز کے دوران بچوں کی نگرانی کرتے ہیں۔ بعض اوقات وہ ٹیچرز سے زیادہ وقت بچوں کے ساتھ گزارتے ہیں۔ یہ سکولوں یا تعلیم کے وزارت کے براہ راست ملازم نہیں ہوتے بلکہ سٹی ہال یا مقامی اتھارٹیز کی طرف سے بھرتی کیے جاتے ہیں، اکثر بغیر تربیت، پروفیشنل ڈپلوما کے اور زیادہ تر عارضی بنیادوں پر کام کر رہے ہوتے ہیں۔ فرانس میں تین سال کی عمر سے نرسری سکول لازمی ہے اور مانیٹرز تین سے گیارہ سال کے بچوں کے لیے روزانہ موجود ہوتے ہیں۔ وکیل Louis Cailliez، جو پیرس کی دو فیملیز کی نمائندگی کرتے ہیں، نے فرانس میں سکول مانیٹر سیکٹر کو ’’تباہی‘‘ اور ’’قومی آفت‘‘ قرار دیا۔ پیرس کے نئے سوشلسٹ میئر Emmanuel Grégoire نے بیس ملین یورو کا پلان شروع کیا ہے تاکہ شہر کے سکول مانیٹر سسٹم میں ’’بڑی خرابیاں‘‘ دور کی جا سکیں۔ انتخاب سے پہلے، گریگوائر نے خود انکشاف کیا تھا کہ اسے بچپن میں (9 سے 10 سال کی عمر میں) پرائمری اسکول میں سکول مانیٹر نے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا تھا۔ والدین کی تنظیم kolektive SOS Périscolaire پانچ سال سے گواہی جمع کرنے اور انصاف کی مہم چلا رہی ہے۔ اس کی ایک بانی Anne نے کہا کہ یہ سکینڈل پورے فرانس میں ہے۔ صرف شہری سطح پر ہی نہیں بلکہ ریاست کی طرف سے بھی خرابیاں ہیں۔ ایک اور گروپ کی ترجمان نے کہا: ’’فرانسیسی معاشرہ آنکھیں کھول رہا ہے کہ سکول وہ پناہ گاہ نہیں جو ہم سمجھتے تھے۔ جب آپ صبح بچے کو سکول چھوڑتے ہیں تو وہ بچہ انتظامی خرابیوں اور Paedophile رویے سے بالکل محفوظ نہیں۔ یاد دلاتے چلیں کہ اس قبل 2021ء میں فرانس میں چرچ کے پادریوں کی جانب سے بچوں سے بڑے پیمانے پر زیادتی کے سکینڈل نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق سنہ 1950ء سے 2021ء تک تقریباً دو لاکھ سولہ ہزار بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کی گئی تھی۔ زیادتی کا شکار ہونے والوں میں زیادہ تر لڑکے ہیں۔ اس تحقیق کے سربراہ کا کہنا تھا کہ جنسی زیادتی کرنے والے پادریوں کی تعداد دو ہزار نو سو سے تین ہزار دو سو تک ہے چرچ کی انتظامیہ متاثرہ بچوں کے معاملے کو ظالمانہ طریقے سے نظر انداز کرتی رہی۔ فرانس سمیت تقریباً تمام ہی مغربی ممالک کو ان حالات کا سامنا ہے، حکومتیں ان جرائم کو روکنے کے لیے نظام کو بہتر بنانے اور قانون سازی کی بات تو کرتے ہیں مگر وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ جس شرم و حیا سے عاری تہذیب کے وہ داعی ہیں وہ تہذیب ان جنسی درندوں کی افزائش کے لیے نرسری کا کام کر رہی ہے ایسے میں آپ اپنی ناقص عقلیں لڑا کر لاکھ قوانین بنائیں اور پیسہ خرچ کریں یہ جرائم رکنے والے نہیں ہیں۔ مغرب کی اسی بیماری کو علامہ اقبال نے پہچانا اور اپنے اشعار میں بیان کیا : فسادِ قلب و نظر ہے فرنگ کی تہذیب کہ روح اس مدنیت کی رہ سکی نہ عفيف رہے نہ روح میں پاکیزگی تو ہے ناپید ضمیرِ پاک و خیالِ بلند و ذوقِ لطیف

رہائشی پلاٹوں کے نام پر ریاستی اداروں کی سرپرستی میں ’فائلوں‘ کا غیرقانونی کاروبار اویس چوہدری اسلام آباد میں دس سال سے پراپرٹی کے کاروبار سے منسلک ہیں۔ انہوں نے غیر ملکی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ ہاؤسنگ سوسائیٹوں میں ایک طریقہ بہت عام ہو چکا ہے اور وہ یہ ہے سوسائٹیاں اپنے پاس موجود رقبہ سے زیادہ فائلیں فروخت کر دیتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اس میں ہوتا یہ ہے کہ ایک سوسائٹی کے پاس زمین کا خریدا گیا یا حاصل کردہ رقبہ صرف 50 یا 100 کنال ہوتا ہے، وہ اس رقبے کی تزئین و آرائش اور ڈویلپمنٹ کرتے ہیں، وہاں پر مشینری پہنچاتے ہیں، مارکیٹنگ فرم اور پراپرٹی ڈیلرز کو اکھٹا کیا جاتا ہے اور پھر سینکڑوں کنال کی فائلیں فروخت کر دی جاتی ہیں۔ اس میں ایسے لوگ جو یک مشت ادائیاں نہیں کر سکتے اور اقساط والے آپشن اختیار کرتے ہیں، وہ آسان شکار ہوتے ہیں۔ کیونکہ انہیں بتایا جاتا ہے کہ اگلے کچھ عرصے میں اسی پراجیکٹ کے ساتھ مزید اراضی خرید کر اسے بھی ڈویلپ کر دیا جائے گا، اور اسی خواب کی بنیاد پر لوگ اپنی جمع پونجی سے محروم کر دیے جاتے ہیں۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’ایسا بھی ہوا ہے کہ ایک ڈویلپر نے سو کنال زمین کراِئے پر حاصل کی اور وہاں پر انہوں نے تین ہزار لوگوں کو فائلیں فروخت کر دیں۔ اب نیب اس کے پیچھے ہے۔ لیکن سوال یہاں یہ پیدا ہوتا ہے کہ سرکاری اداروں کا اس ساری صورتحال میں کیا کردار ہے؟ اسلام آباد کی ایک معروف سوسائٹی کے مالک پر رقبے سے زیادہ فائلیں بیچنے پر سینکڑوں ایف آئی آر درج ہوتی ہیں اور وہ سوسائٹی فیلڈ مارشل عاصم منیر کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے فل پیج کے کلر اشتہار اخبار میں شائع کروا رہی ہوتی ہے۔ ایسے بہت سے کیسز ہیں جہاں سوسائیٹیز کے بیچے گئے پلاٹس پر تعمیرات کے سالوں بعد انہیں غیر قانونی قرار دے کر مسمار کر دیا جاتا ہے۔ حال ہی میں صرف اسلام آباد میں 98 سوسائیٹیز کو غیر قانونی قرار دیا گیا ہے۔ اس کا بڑا نقصان سوسائٹی مالکان اٹھائیں گے یا وہ غریب لوگ جو اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی ایک گھر حاصل کرنے کے لیے لگا دیتے ہیں۔ جو اپنا پیٹ کاٹ کر ماہانہ قسطیں بھرتے ہیں۔ ایک اہم پیٹرن جو ان ہاؤسنگ سوسائیٹیز کے بڑے سرمایہ کاروں کے حوالے سے نظر آتا ہے وہ یہ کہ ان شخصیات کو قانونی چھوٹ دے کر پھر ان سے میڈیا مالکان اور من پسند سیاسی شخصیات کو سپورٹ بھی دلوائی جاتی ہے۔ جب تک یہ مافیا فرمانبرداری سے ریاستی اداروں کے ہاتھوں استعمال ہوتا رہے تب تک انہیں چھوٹ ملتی ہے لیکن جہاں یہ ریاستی اداروں کی نافرمانی کریں یا ان کے مطالبات نہ مانیں تب انکی فائلیں کھل جاتی ہیں۔ ملک ریاض اس پریکٹس کی ایک واضح مثال ہے۔

Shahabnama (telegram@PtiOrg).pdf17.45 MB

کتابیں شئیر کرنے کا سلسلہ ٹیلی گرام پر شروع کررہے ہیں۔ سب فالوورز سے درخواست ہے اسے زیادہ سے زیادہ شئیر کریں ۔ ویسے قدرت اللہ
کتابیں شئیر کرنے کا سلسلہ ٹیلی گرام پر شروع کررہے ہیں۔ سب فالوورز سے درخواست ہے اسے زیادہ سے زیادہ شئیر کریں ۔ ویسے قدرت اللہ مرحوم صاحب کی یہ کتاب کس کس نے پڑھ رکھی ہے ؟ Telegram https://t.me/PTIOrg/805 WhatsApp https://whatsapp.com/channel/0029VbC13XQG8l5BZq0yZ60W https://www.facebook.com/share/p/19LTN5iE4w/

جب 55 روہے سستا کرنا تھا تو پٹرول پونے دو روپے کم کر کے منحوس شکلیں لیکر باہر بھاگ گئے۔ اور ابھی پرانا سٹاک پاس پڑا ہے تو 13 روپے فی لیٹر بڑھا دیا ۔ یہ نیتا کوئی بہت ہی خبیث الفطرت خون آشام ویمپائر ہیں جو صرف عام بندے کے خون پر پلتے ہیں شفقت چوہدری https://x.com/i/status/2075658721603318069

کل تک کا مسلمان صرف پاکستانی، ہندوستانی، مصری و سعودی تھا...... لیکن آج کا نوجوان اسلامی ہے...... یہ اُمت، اُمت بن کر جیے گی!
کل تک کا مسلمان صرف پاکستانی، ہندوستانی، مصری و سعودی تھا...... لیکن آج کا نوجوان اسلامی ہے...... یہ اُمت، اُمت بن کر جیے گی! اس کا جینا اور اس کا مرنا اسی کلمے کی خاطر ہوگا! ‎#السلام https://x.com/i/status/2074708905469317243

نسلہ ٹاورز مسمار کرنے کے فیصلے پہ سابق چیف جسٹس گلزار احمد کو گرفتار کرکے مراعات و پینشن کا بڑا حصہ متاثرین میں تقسیم کرنا چاھئیے، نالے پہ بلڈنگ کی اجازت دینے والے سندھ سرکار کے افسران کیساتھ بھی یہی ہونا چاھئیے مگر یہ ہوگا اس لئیے نہیں کیونکہ نظام ان سب کا محافظ ہے فیض اللہ خان https://x.com/i/status/2075509978388119815

عربي | أردو | English | বাংলা *شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین أحمد مدنی رحمہ اللّٰہ:* "آج خوف اور بزدلی کا جو عالم ہے، اس کے تص
عربي | أردو | English | বাংলা *شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین أحمد مدنی رحمہ اللّٰہ:* "آج خوف اور بزدلی کا جو عالم ہے، اس کے تصور سے بھی شرم آتی ہے، گھروں میں بیٹھے ڈرتے ہو، راستے چلتے ہوئے ڈرتے ہو، کیا تم اپنے بزرگوں کے جانشین ہو؟ جو اس ملک میں گنی چنی تعداد میں آئے تھے تب یہ ملک دشمنوں سے بھرا ہوا تھا۔ آج تم اس ملک میں کروڑوں کی تعداد میں موجود ہو، پھر تمہارے خوف کا یہ عالم ہے کہ سر پر پاؤں رکھ کر بھاگ رہے ہو، آخر کہاں جا رہے ہو؟ کیا تم نے کوئی ایسی جگہ ڈھونڈ لی ہے، جہاں خدائی گرفت سے بچ سکو گے، جہاں تم کو موت نہیں پہنچے گی۔ موت سے بھاگ کر کہاں جاؤ گے؟" الجمعیة جمعیت علماء نمبر صـ 118 تحریک آزادی ہند میں مسلم علماء و عوام کا کردار صـ 128

🚨*راولاکوٹ اپڈیٹ* *تحریک کے قائد سردار عمر کشمیری، یہ ہمیں انسانیت اور مسلمان ہونے کا درس دیتے ہیں،* *جس دھرنے پر کریک ڈاؤن ہوا اسکا قصہ سناتے ہوۓ کہتے ہیں، ایک معذور آدمی جو دھرنے کا حصہ تھا مسجد میں قرآن کی تلاوت کر رہا تھا، پاکستانی فوج نے مسجد کے دروازے توڑے بوٹوں سے مسجد کی بے ہرمتی کی گئی اور اس شخص کو گھسٹ کر گرفتار کیا گیا۔۔۔*

‏پاکستانی ریاست کےخلاف ہتھیار اٹھانے والوں (چاہےوہ اسلام پسند ہوں یانیشنلسٹ ) کو لوگ کس منہ سےکہتےہیں کہ ہتھیار چھوڑ کر جمہوری نظام میں شامل ہوکر اپنے مطالبات منواؤ ، جبکہ جو سیاست کررہےہیں انکے ساتھ فوج کایہ سلوک ہےکہ باپ کےسامنے اسکے بیٹے کو شہید کیا جاتا ہے #Balochistan #Politicsplus ‎https://x.com/i/status/2075428313334521958 https://whatsapp.com/channel/0029Vb7Bqt3LCoWyJ9OYVB1Y https://t.me/spluspk

Follow the Politics Plus channel on WhatsApp: https://whatsapp.com/channel/0029Vb7Bqt3LCoWyJ9OYVB1Y

ایسا لگتا ہے بلوچ آزادی پسند مزاحمت کار سنبھلنے اور سانس لینے کا بھی موقع نہیں دے رہے ہیں فورسز کو ، ایک کے بعد ایک ضلع ہدف بن رہا ہے ۔ اب چاغی سے جو اطلاعات آرہی ہیں ڈی جی آئی ایس پی آر اور سرفراز بگٹی نئی بھڑک مارتے ہوئے بھی سوچیں گے کہ کیا کہیں ‎#Chaghi ‎#Balochistan

بلوچ لبریشن آرمی( بی ایل اے) کے ترجمان جیئند بلوچ نے میڈیا کو جاری بیان میں خضدار میں ڈیتھ اسکواڈ کے سرغنہ شفیق مینگل کے ٹھکانے پر مجید بریگیڈ کے حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ اب تک 20 سے زائد کارندے ہلاک ہوگئے ہیں۔

سول ہسپتال میں ایف سی کی بھاری نفری پہنچتے ہی زیارت حملے میں مارے جانے والے اہلکاروں کے لواحقین نے شدید نعرے بازی کی۔ حکام لاشوں کوپولیس لائن منتقل کرنا چاہتے تھے، مظاہرین نے بھگا دیا۔ کبھی لگتا ہے لوگ سب سمجھ گئے ہیں۔ لیکن پھر چند ہی دن میں بھول جاتےہیں 🔗 Politics plus (@Polplusorg) 📲 @twittervid_bot

‏جس فوج کی نظر میں تمام اضلاع کے ڈی ایس پیز کی جانیں فوج کے سپاہی سےکم تر ہیں۔ جو فوج دشمن میں اپنے جاسوس کا اعتماد بنوانے، ا
‏جس فوج کی نظر میں تمام اضلاع کے ڈی ایس پیز کی جانیں فوج کے سپاہی سےکم تر ہیں۔ جو فوج دشمن میں اپنے جاسوس کا اعتماد بنوانے، اوپر لانےکےلیے انکے ہاتھوں پولیس مروائے۔ اسی فتنہ فوج کے احکامات پر تم اپنے لوگوں کو نوچتے ہو ظلم ڈھاتے ہو رونا بند کرو پولیس کی نوکریاں چھوڑو ‎#ziaratAttack

سلام یے انکو ۔ جو بات خیبرپختونخواہ میں سالہاسال سے ایندھن بننے والے پشتون پولیس اہلکاروں کو سمجھ نہیں آرہی وہ ایک زیارت واقع
سلام یے انکو ۔ جو بات خیبرپختونخواہ میں سالہاسال سے ایندھن بننے والے پشتون پولیس اہلکاروں کو سمجھ نہیں آرہی وہ ایک زیارت واقعے سے ان لوگوں کو سمجھ آگئی ۔ کے پی کے پولیس والو! ہوش کے ناخن لے لو کچھ عقل استعمال کرلو چھوڑ دو پولیس ایف سی فوج کی نوکریاں