🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
Kanalga Telegram’da o‘tish
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں طالب دعا 🤲 محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ 🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Ko'proq ko'rsatish2 753
Obunachilar
+124 soatlar
-27 kun
-1530 kun
Postlar arxiv
- تاج العروس شرح قاموس میں ہے:
جُمَادَى ،كحُبَارى: مِنْ أَسْمَاءِ الشُّهُور العرَبيَّة. وهما جُمَادَيَانِ. فُعَالى من الجَمْد،
*مَعْرفَةٌ؛ لكَونهَا علَماً على الشَّهْر.* مُؤنَّثَة۔
سُمِّيَتْ بذالك لجمُودِ الماءِ فِيهَا عِنْد تسمِيةِ الشُّهُورِ.
قَالَ الفرَّاءُ: الشُّهُور كلّها مُذَكّرة إِلاّ جُمادَيَينِ فإِنّهما مُؤنّثان.
- لسان العرب میں ہے:
جُمَادَى الأُولى وَجُمَادَى الْآخِرَةِ، *بِفَتْحِ الدَّالِ فِيهِمَا*، مِنْ أَسماء الشُّهُورِ، وَهُوَ فُعَالَى منَ الجمد۔ ابْنُ سِيدَهْ: وَجُمَادَى مِنْ أَسماء الشُّهُورِ مَعْرِفَةٌ سُمِّيَتْ بِذَلِكَ لِجُمُودِ الْمَاءِ فِيهَا عِنْدَ تَسْمِيَةِ الشُّهُورِ؛ وَقَال الْفَرَّاءُ: *الشُّهُورُ كُلُّهَا مُذَكَّرَةٌ إِلا جُمَادَيَيْنِ فإِنهما مؤَنثان*۔
- امام فرّاء (متوفی ٢٠٧ھ) کی طرف منسوب کتاب *"الأیام و اللیالی والشہور"* میں ہے :
"الشهور كلها مذكرة، تقول: هذا شهر كذا، إلا جماديين، فإنهما مؤنثان. لأن جُمادَى جاءت على بنية فُعَالَى، و فُعَالَى لا تكون إلا للمؤنث. تقول: هذه جُمادَى الأُولى وَ هذه جُمَادَى الآخِرَة."
مذکورہ عبارات سے جہاں یہ واضح ہوا کہ صحیح و درست جُمادَی( جیم کے ضمہ اور دال کے فتحہ کے ساتھ )ہے ،وہیں یہ باتیں بھی معلوم ہوئیں:
◼️ جمادی الأولی اور جمادی الآخرۃ یہ دونوں عربی مہینوں کے عَلَم(نام) ہیں۔
◼️ دونوں ناموں میں "جمادی" کی دال پر فتحہ ہے۔ کوئی اور حرکت نہیں۔
◼️ "جمادی الأولی اور جمادی الآخرۃ" مونث ہیں۔ اور ان دونوں کے علاوہ سارے عربی مہینوں کے نام مذکر ہیں۔
◼️ جب ان مہینوں کے نام رکھے جا رہے تھے اس وقت عربوں کے یہاں سال کے پانچویں اور چھٹے مہینے میں سخت سردی کی وجہ سے پانی جم جاتا تھا اس لیے وہ ان دونوں مہینوں کو "جمادی" کہنے لگے۔ (ان دو مہینوں کی ایک اور وجہِ تسمیہ بھی بیان کی گئی ہے، جو بعض متعلقه کتابوں میں دیکھی جا سکتی ہے۔)
⚪️ واضح رہے کہ مہینوں کے نام اہلِ عرب سے جس طرح منقول ہیں اسی طرح لازم ہیں۔ ان کی صورت مسخ نہیں کی جا سکتی، اور نہ ہی قیاس کی بنیاد پر انھیں بدلا جا سکتا ہے۔ اگر قیاس کی بنیاد پر تبدیلی درست ہوتی تو امام فراء کے بقول: اگر جیم کے کسرہ کے ساتھ "جِماد"(بر وزنِ: عِطاش و کِسال) بھی وارد ہوتا تو بھی درست ہوتا۔ مگر اہلِ عرب سے یہ صرف "فُعَالَیٰ" کے وزن پر منقول ہے۔ اس لیے یہی لازم ہے۔
*"الأیام و اللیالی والشہور"* میں ہے :
*"قال الفراء : هكذا جاء عن العرب بضم الجيم، لا غير. و لو جاء جِماد بالكسر كان صوابا"*
(الأیام و اللیالی والشہور، ص ۴۲)
⚪️ ان چاروں مہینوں (ربیع الأول، ربیع الآخِر، جمادی الأولی، جمادی الآخِرۃ) کے نام دو-دو لفظوں سے مرکب ہیں، اور یہ سبھی مرکب توصیفی یعنی موصوف-صفت ہیں۔ موصوف و صفت کے بارے میں یہ ضابطہ سب کو معلوم ہے کہ اگر وہ وصف اسی موصوف کا ہو، اس کے کسی متعلق کا نہ ہو، تو تذکیر و تانیث میں موصوف و صفت دونوں کے درمیان مطابقت ضروری ہے۔ اور یہاں اول و آخر ہونا "ربیع" و "جمادی" ہی کا وصف ہے۔ اسی وجہ سے "ربیع" مذکر کے ساتھ "الأول" اور "الآخِر" مذکر صفتیں ہیں اور "جمادی" مونث ہے تو اس کے ساتھ "الاُولیٰ" اور "الآخِرۃ" مونث صفتیں ہیں۔ ("الأول" کی مونث "الاُولیٰ" ہے، اور "الآخِر" کی مونث "الآخِرۃ" ہے۔)
اسی سے ظاہر ہو گیا کہ جمادی کے ساتھ "الثانی" یا "الآخِر" لگا کر "جمادی الثانی" اور "جمادی الآخِر" کہنا، یا "جُمَادَیٰ الاُولیٰ" کو "جمادی الأول" کہنا درست نہیں۔ کیوں کہ یہاں موصوف و صفت کے درمیان تذکیر و تانیث میں مطابقت نہیں ہے۔
- تاج العروس میں ہے:
والآخِرُ: خلافُ الأَوَّلِ
وَهِي، أَي الأُنْثَى : الآخِرَۃ، بهاءٍ۔
- مختار الصحاح میں ہے:
وَالْآخِرُ: بِكَسْرِ الْخَاءِ بَعْدَ الْأَوَّلِ وَهُوَ صِفَةٌ تَقُولُ:جَاءَ آخِرًا، أَيْ أَخِيرًا۔
وَالْأُنْثَى : آخِرَةٌ۔
- ابن بَرّي المقدسي المصري (متوفی ۵۸۲ھ) اپنی کتاب *"غلط الضعفاء من الفقهاء"*(غلط الفقہاء-صفحہ ۲۸) میں ایک غلطی بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
"يقولون: (جُمَادى الأَوَّلِ) و (جُمادَى الآخِرِ) . والمشهورُ: جُمادَى الأُولى وجُمادَى الآخِرةُ، *لأَنَّ النعْتَ لجُمادَى، وهي مؤنثةٌ.*"
- امام ابن مکی الصقلی(ابو حفص عمر بن خلف النحوی) متوفی ۵۰۱ھ اپنی کتاب "تثقيف اللسان" میں لکھتے ہیں:
"يقولون : في جمادِي الأوّل۔
*والصواب : جُمادَى الأُولى بفتح الدال، على وزن حُبارى*. إلا أنها تكتب بالياء، و ألفها للتأنيث. و ليس في الشهور مؤنث سوى جمادى. ولذلك كان نعتها مؤنثا، فقيل: جُمادى الأولى وجُمادَى الآخِرة. *و لا يجوز "الأوَّل" و لا "الآخِر"*.
ربیع الآخر، جمادی الاولٰی و جمادی الآخِرہ
تحریر از : نثار مصباحی / شاہد مصباحی
Yeh Taḥreer FaceBook Par ↷
https://www.facebook.com/share/p/18zkmeiXNu/
*"ربیع الآخِر، "جمادی الأُولیٰ" اور "جُمادَی الآخِرۃ"*
تحریر :
- نثار مصباحی (خلیل آباد)
- شاہد مصباحی (جمشید پور)
﴿( نوٹ : یہ تحریر تقریبا 20 دن پہلے کی ہے۔ اس تحریر کی بنیاد اسی عنوان پر برادرِ گرامی مفتی شاہد رضا مصباحی (مرکزی دار القراءت، جمشید پور) کی ایک مختصر تحریر ہے، جس کا مسودہ انھوں نے میرے پاس از راہِ دوستی ایک نظر دیکھنے کے لیے بھیجا تھا۔ خاکسار نے ان کی تحریر میں حذف و ترمیم کی، اسے آراستہ کیا، اور اصل تحریر سے بھی زیادہ مقدار میں اضافے درج کیے۔ اس طرح یہ مکمل تحریر سامنے آئی۔ اس تحریر میں فقیر کا حصہ ۷۵ فیصد بلکہ شاید اس سے بھی زیادہ ہے۔ اس لیے انھوں نے ایثار کرتے ہوئے فرمایا کہ اب یہ آپ ہی کے نام سے شائع ہوگی۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ سبقت اور تقدم انہی کے لیے ہے۔ خاکسار نے علمی امانت و انصاف اور برادر گرامی کے تقدم کی وجہ سے ان کا نام بھی لکھنا ضروری سمجھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نثار مصباحی۔)﴾
اسلامی قمری کیلنڈر کے ۶ مہینوں کے نام مفرد ہیں(محرم، صفر، رجب، شعبان، رمضان، شوال) اور باقی ۶ مہینوں کے نام مرکب ہیں۔(ربیع الأوّل، ربیع الآخِر، جُمادَیٰ الأُولى، جُمَادَیٰ الآخِرَۃ، ذی القعدۃ، ذی الحجۃ)۔
مرکب اسما میں"ربیع" اور "جُمَادَی" کے الفاظ دو-دو مہینوں کے درمیان مشترک ہیں۔ اسی لیے ان کے نام رکھنے میں "ربیع" کے ساتھ "الأول" اور "الآخر" (صفت) لگا کر دونوں مہینوں کو الگ نام دے دیا گیا، ("ربیع الأول" اور "ربیع الآخر"۔) اسی طرح "جمادی" کے ساتھ "الأولیٰ" اور "الآخرۃ" (صفت) لگا کر دونوں مہینوں کو الگ نام دیا گیا۔ یعنی "جمادی الأولیٰ" اور "جمادی الآخرۃ"۔ اسی خاص ہیئت و ترکیب کے ساتھ یہ ان مہینوں کے "عَلَم"(نام) ہیں۔
یہ چاروں مہینے اپنے ناموں کی ساخت کے معاملے میں باقی آٹھ مہینوں سے الگ ہیں۔
ان چاروں مہینوں میں "ربیع الاول" کا نام لکھنے اور بولنے میں لوگ کسی قسم کی غلطی نہیں کرتے۔ لیکن باقی تینوں میں کرتے ہیں۔
((نوٹ : بعض ائمہ نے ربیع الأول اور ربیع الآخِر کے لفظ "ربیع" پر تنوین کو درست اور اضافت یعنی بلاتنوین کو نادرست کہا ہے۔ مگر یہ اسی طرح عوام و خواص میں رائج ہونے کی وجہ سے اب نادرست نہیں کہا جا سکتا۔ بلکہ اب تنوین والی صورت بالکل نامانوس ہو چکی ہے۔))
⚪️ کچھ لوگ "ربیع الآخِر" کو "ربیع الثانی" کہہ کر ایک غلطی کرتے ہیں، جب کہ "جمادی الأولی" اور "جمادی الآخرہ" میں متعدد غلطیاں ہوتی ہیں۔
بےتوجہی کے سبب ان ناموں کو غلط لکھنے اور بولنے کی خامی بعض اہلِ علم میں بھی در آئی ہے۔
"جمادی" والے دونوں ناموں میں زیادہ غلطی "جمادی الآخرۃ" میں ہوتی ہے۔ بعض لوگ اس مہینے کو *جمادی الثانی*، یا *جمادی الثانیۃ*، تو کچھ افراد *جمادی الآخِر*، تو بہت سے لوگ *جمادی الأُخْرَیٰ* بولتے اور لکھتے ہیں۔ بلکہ بعض لوگ صحت کے قریب مگر غلط *جمادی الآخَرۃ* بولتے ہیں۔ یوں ہی کچھ لوگ *"جمادی الأُولیٰ"* کو *"جمادی الأوّل"* کہہ دیا کرتے ہیں۔ بعض ناواقف لوگ ان دونوں ناموں میں *"جُمادَی"* کو *"جَمَادِی"* یا *"جُمادِی"* بولنے کی غلطی بھی کرتے ہیں۔
یہ سارے طریقے غلط ہیں۔
تفصیل یہ ہے:
⚪️ ربیع الاول کے بعد والے مہینے کا نام "ربیع الآخِر" ہے، ربیع الثانی نہیں۔ اور اس کے بعد والے مہینے کا نام "جُمادَی الاُولیٰ" ہے، جمادی الأوّل نہیں۔ یوں ہی "جُمَادی" والے دوسرے مہینے کا صحیح نام "جُمادَی الآخِرَۃ" ہے۔(جمادی لفظ کی جیم پر ضمہ اور دال پر فتحہ، اور آخر میں الف مقصورہ ہے۔ اور "الآخِرۃ" میں خا پر کسرہ ہے۔)، کچھ اور نہیں۔
*ربیع الآخِر، جُمادَی الأُولیٰ، جُمَادَی الآخِرۃ۔ یہی ان تینوں مہینوں کے ناموں کی درست صورت ہے۔ ان مہینوں کے یہی نام رکھے گئے۔ اور اصولوں کے مطابق یہی درست ہیں۔ اس لیے ان کے سوا اوپر مذکور سبھی صورتیں نادرست ہیں۔*
ان صورتوں کے صحیح نہ ہونے کی پہلی اور بنیادی وجہ یہ ہے کہ یہ عَلَم یعنی نام میں تبدیلی ہے، اور اعلام(ناموں) میں تصرف اور تبدیلی درست نہیں۔
امامِ اہلِ سنت اعلی حضرت فتاوی رضویہ میں اسی خطا کی اصلاح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
"مہینے کا عَلَم "جُمَادَی الآخِرۃ" ہے۔ اَعلام میں تصرف کیسا؟"
⚪️ عربی زبان کی مشہور و مستند لغات: الصحاح، تاج العروس، اور لسان العرب، وغیرہ میں ہے:
جُمادَی فُعالَی کے وزن پر ہے۔جیسے حُبارَی۔ یہ جمد سے مشتق ہے، جس کا معنی جمنا،خشک ہونا، منجمد ہونا ہے۔ کہا جاتا ہے:ظلت العین جُمادی: آنكھ منجمد ہوگئی، خشک ہو گئی۔
اس کی جمع : جُمادیات ہے۔
- الصحاح للجوہری میں ہے:
*جُمادَى الأولى وجُمادَى الآخِرة، بفتح الدال من أسماء الشهور، وهو فُعَالَى من الجَمْدِ.*
جمادی الاولی اور جمادی الآخرہ کا تلفظ
📝محمد جمال الدین خان قادِری غفرلہ
اِسلامی سال کے پانچویں اور چھٹے مہینے کے درست نام اور صحیح تلفظ ”جُمَادَی الۡاُوۡلٰی اور جُمَادَی الۡاُخۡرٰی یا جُمَادَی الۡاٰخِرَہۡ“ ہیں ـ لغوی طور پر ”جمادی“ مؤنث ہے، اِس لئے اس کی صِفت بھی مؤنث ہونی چاہئے؛ لہٰذا ”جمادی الاول“ اور ”جمادی الاٰخِر“ کہنا غلط ہے ـ اِسی طرح ”ربیع الثانی“ اور ”جمادی الثانی“ کہنا بھی درست نہیں، کیونکہ عربی میں جب تیسرا (ثالِث) نہ ہو تو دوسرا (ثانِی) نہیں بولا جاتا ـ چنانچہ ”رَبِیۡعُ الۡاَوَّلۡ“ کے بعد والا مہینہ ”رَبِیۡعُ الۡآخِرۡ“ اور اس کے بعد ”جُمَادَی الۡاُوۡلٰی اور جُمَادَی الۡاُخۡرٰی یا جُمَادَی الۡاٰخِرَۃ“ ہی صحیح اور عربی اصول کے مطابق نام ہیں ـ
https://whatsapp.com/channel/0029Va4xNTcBlHpj2ZXcdA3J
جمادی الاولٰی اور جمادی الآخرہ:
لغت کے اعتبار سے ان دونوں مہینوں کے درست نام اور صحیح تلفظ یہ ہیں: جُمَادَی الۡاٗوۡلٰی اور جُمَادَی الۡاُخۡرٰی یا جُمَادَی الۡاٰخِرَہۡ ـ
مشہور نحوی امام فَراء کہتے ہیں:
کُلُّ الشُّہُوۡرِ مُذَکَّرَۃٌ اِلَّا جُمَادَیَیۡنۡ یعنی تمام مہینوں کے نام مذکر ہیں سوائے دو جمادی مہینوں (یعنی جُمَادَی الۡاُوۡلٰی اور جُمَادَی الۡاُخۡرٰی یا جُمَادَی الۡاٰخِرَہۡ) کے ان دونوں کے نام مؤنث ہیں ـ [ الشماریخ فی علم التاریخ، ص:۱۳]
جب لفظِ ”جمادی“ مؤنث ہے تو اس کی صفت بھی مؤنث ہی ذِکر کی جائےگی ـ اسی لئے ”جمادی الاول“ اور ”جمادی الآخِر“ نہ کہا جائے کیونکہ ”الاول“ اور ”الاٰخر“ مذکر ہیں بلکہ ”جُمَادَی الۡاُوۡلٰی“ اور ”جُمَادَی الۡاُخۡرٰی“ (یا ”جُمَادَی الۡاٰخِرَہۡ“) کہنا چاہیے ـ
ایسے ہی چھٹے مہینے کو ”جمادی الثانی“ بھی نہ کہا جائے، کیونکہ ثانی وہاں آتا ہے جہاں اس کے بعد ثالث (یعنی تیسرا) بھی ہو جبکہ یہاں تیسرا نہیں ـ [ غیاث اللغات، باب الجیم، ص: ¹⁹⁴ و ¹⁹⁵]
[فیضان جمادی الاولٰی و جمادی الاخرٰی،
صفحہ²، المدینۃ العلمیہ، دعوتِ اسلامی]
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
𝐘𝐞𝐡 तह़रीर हिंदी 𝐇𝐢𝐧𝐝ī ہِنۡدِیۡ में ↷
https://t.me/islaamic_Knowledge/97277
𝐘𝐞𝐡 Taḥreer ᴿᵒᵐᵃⁿ ᵁʳᵈᵘ Meṅ ↷
https://t.me/islaamic_Knowledge/97276
𝐘𝐞𝐡 تحریر ᵂʰᵃᵗˢᴬᵖᵖ چَیۡنَلۡ ᴹᵉⁿ ↷
https://whatsapp.com/channel/0029Va4xNTcBlHpj2ZXcdA3J/2451
तलफ़्फ़ुज़ जुमादल ऊला, जुमादल आख़िरह
📝 मुह़म्मद जमालुद्दीन ख़ान क़ादिरी غفرلہ
इस्लामी साल के पाँचवीं और छठे महीने के दुरुस्त नाम और स़ह़ीह़ तलफ़्फ़ुज़ “जुमादल ऊला” और “जुमादल उख़रा या जुमादल आख़िरह” हैं - लुग़वी त़ौर पर “जुमादा” मुअन्नस (स्त्रीलिंग / Feminine) है, इस लिए इसकी स़िफ़त भी मुअन्नस होनी चाहिए; लिहाज़ा “जुमादल अव्वल” और “जुमादल आख़िर” कहना ग़लत़ है - इसी त़रह़ “रबीउ़स् सानी” और “जुमादस् सानी” कहना भी दुरुस्त नहीं, क्योंकि अ़रबी में जब तीसरा (सालिस) न हो तो दूसरा (सानी) नहीं बोला जाता - चुनांचे “रबीउ़ल अव्वल” के बअ़्द वाला महीना “रबीउ़ल आख़िर” और उसके बअ़्द “जुमादल ऊला” और “जुमादल उख़रा या जुमादल आख़िरह” ही स़ह़ीह़ और अ़रबी उस़ूल के मुत़ाबिक़ नाम हैं।
https://whatsapp.com/channel/0029Va4xNTcBlHpj2ZXcdA3J
जुमादल ऊला और जुमादल आख़िरह:लुग़त के एअ़्तिबार से इन दोनों महीनों के दुरुस्त नाम और स़ह़ीह़ तलफ़्फ़ुज़ येह हैं: जुमादल ऊला और जुमादल उख़रा।
मशहूर नह़वी इमाम फ़रा कहते हैं:کُلُّ الشُّہُوۡرِ مُذَکَّرَۃٌ اِلَّا جُمَادَیَیۡنۡ यअ़्नी तमाम महीनों के नाम मुज़क्कर (पुल्लिंग / Masculine) हैं सिवाए दो जुमादी महीनों (या'नी जुमादल ऊला और जुमादल उख़रा या जुमादल आख़िरह) के, इन दोनों के नाम मुअन्नस (स्त्रीलिंग / Feminine) हैं। [ الشماریخ فی علم التاریخ، ص:¹³] जब लफ़्ज़े “जुमादा” मुअन्नस है तो इसकी स़िफ़त भी मुअन्नस ही ज़िक्र की जाएगी - इसी लिए इसे “जुमादल अव्वल” और “जुमादल आख़िर” न कहा जाए। क्योंकि “अल अव्वल” और “अल आख़िर” मुज़क्कर हैं, बल्कि “जुमादल ऊला” और “जुमादल उख़रा” या “जुमादल आख़िरह” कहना चाहिए। ऐसे ही छठे महीने को “जुमादस्सानी” भी न कहा जाए, क्योंकि सानी वहाँ आता है जहां उसके बअ़्द सालिस (यानी तीसरा) भी हो, जबकि यहाँ तीसरा नहीं। [ غیاث اللغات، باب الجیم، ص:¹⁹⁴-¹⁹⁵] [ फ़ैज़ाने जुमादल ऊला व जुमादल उख़रा पेज², अल् मदीनतुल् इ़ल्मिय्यह, दअ़्वते इस्लामी ] ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬ 𝐘𝐞𝐡 تحریر 𝐔𝐫𝐝ū اُرۡدُوۡ उर्दू مِیں ↷ https://t.me/islaamic_Knowledge/97278 𝐘𝐞𝐡 Taḥreer ᴿᵒᵐᵃⁿ ᵁʳᵈᵘ Meṅ ↷ https://t.me/islaamic_Knowledge/97276 𝐘𝐞𝐡 تحریر ᵂʰᵃᵗˢᴬᵖᵖ چَیۡنَلۡ ᴹᵉⁿ ↷ https://whatsapp.com/channel/0029Va4xNTcBlHpj2ZXcdA3J/2450
ᵀᵃˡᵃᶠᶠᵘᶻ ᴶᵘᵐᵃᵈᵃˡ ᵂᵒᵒˡᵃ, ᴶᵘᵐᵃᵈᵃˡ ᴬᵃᵏʰⁱʳᵃʰ
📝 Muḥammad Jamāluddīn Ḳhān
islaamī Saal Ke Pāṅchvīṅ Aur Chhathe Maheene Ke Durust Naam Aur Ṣaḥeeḥ Talaffuz “𝐉𝐮𝐦ā𝐝𝐚𝐥 𝐖𝐨𝐨𝐥ā” Aur “𝐉𝐮𝐦ā𝐝𝐚𝐥 𝐔ḳ𝐡𝐫ā 𝗬ā 𝐉𝐮𝐦ā𝐝𝐚𝐥 𝐀𝐚ḳ𝐡𝐢𝐫𝐚𝐡” Haiṅ – Luġavī Ṭaur Par “Jumādā” Mu-annaṡ (Strīling / Feminine) Hai, is Liye is Kī Ṣifat Bhī Mu-annaṡ Honī Chāhiye; Lihāzā “Jumādal Awwal” Aur “Jumādal Aaḳhir” Kahnā Ġalaṭ Hai – isī Ṭaraḥ “Rabeeụṡ Ṡaanī” Aur “Jumādaṡ Ṡaanī” Kahnā Bhī Durust Nahīṅ, Kyoṅki Ạrabī Meṅ Jab Teesrā (Ṡaaliṡ) Na Ho To Doosrā (Ṡaanī) Nahīṅ Bolā Jaatā – Chunāṅche “Rabeeụl Awwal” Ke Baʿạd Waalā Maheenah “Rabeeụl Aaḳhir” Aur Us Ke Baʿạd “Jumādal Woolā” Aur “Jumādal Uḳhrā 𝐘ā Jumādal Aaḳhirah” Hī Ṣaḥeeḥ Aur Ạrabī Uṣool Ke Muṭābiq Naam Haiṅ.
https://whatsapp.com/channel/0029Va4xNTcBlHpj2ZXcdA3J
ᴶᵘᵐᵃᵃᵈᵃˡ ᵂᵒᵒˡᵃ ᴬᵘʳ ᴶᵘᵐᵃᵈᵃˡ ᴬᵃᵏʰⁱʳᵃʰLuġat Ke Eʿạtibār Se in Donoṅ Maheenoṅ Ke Durust Naam Aur Ṣaḥeeḥ Talaffuz Yeh Haiṅ: Jumādal Woolā Aur Jumādal Uḳhrā. 𝐌𝐚𝐬𝐡ʾ𝐡𝐨𝐨𝐫 𝐍𝐚ḥ𝐯ī 𝐢𝐦ā𝐦 𝐅𝐚𝐫ā 𝐊𝐚𝐡𝐭𝐞 𝐇𝐚𝐢ṅ : کُلُّ الشُّہُوۡرِ مُذَکَّرَۃٌ اِلَّا جُمَادَیَیۡنۡ Yaʿạnī Tamām Maheenoṅ Ke Naam Muzakkar (Pulliṅg / Masculine) Haiṅ Siwāye Do Jumādā Maheenoṅ (Yaʿạnī Jumādal Woolā Aur Jumādal Uḳhrā Yā Jumādal Aaḳhirah) Ke, in Donoṅ Ke Naam Mu-annaṡ (Strīliṅg / Feminine) Haiṅ. [ الشماریخ فی علم التاریخ، ص:¹³] Jab Lafze Jumādā Mu-annṡ Hai To is Kī Ṣifat Bhī Mu-annaṡ Hī Zikr Kī Jāyegī - isee Liye ise Jumādal Awwal Aur Jumādal Aaḳhir Na Kahā Jāye, Kyoṅki Al-Awwal Aur Al-Aaḳhir Muzakkar Haiṅ, Balki Jumādal Woolā Aur Jumādal Uḳhrā Yā Jumādal Aaḳhirah Kahnā Chāhiye. Ayse Hī Chhathe Maheene Ko Jumādaṡ Ṡānī Bhī Na Kahā Jāye, Kyoṅki Ṡānī Wahāṅ Aatā Hai Jahāṅ Us Ke Baʿạd Ṡaaliṡ (Yaʿạnī Teesrā) Bhī Ho, Jabki Yahāṅ Teesra Nahīṅ. [ غیاث اللغات، باب الجیم، ص:¹⁹⁴-¹⁹⁵] [ Faizāne Jumādal Woolā Wa Jumādal Uḳhrā, Page 2, Al-Madīnatul ịlmiyyah, Daʿạwate islāmī ] ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬ 𝐘𝐞𝐡 تحریر 𝐔𝐫𝐝ū اُرۡدُوۡ उर्दू مِیں ↷ https://t.me/islaamic_Knowledge/97278 𝐘𝐞𝐡 तह़रीर हिंदी 𝐇𝐢𝐧𝐝ī ہِنۡدِیۡ में ↷ https://t.me/islaamic_Knowledge/97277 𝐘𝐞𝐡 تحریر ᵂʰᵃᵗˢᴬᵖᵖ چَیۡنَلۡ ᴹᵉⁿ ↷ https://whatsapp.com/channel/0029Va4xNTcBlHpj2ZXcdA3J/2449
Ġauṡe Pāk ᴷᵃ ᴺᵃᵃᵐ Be Wuzū Lenā
✍ 𝗠𝘂𝗳𝘁ī 𝗘ḥ𝘀𝗮𝗮𝗻 𝗔ḥ𝗺𝗮𝗱 Ạṭṭ𝗮𝗮𝗿ī
📝 Muḥammad Jamāluddīn Ḳhān
𝗦𝘂𝘄𝗮𝗮𝗹: Kyā Koyī Ġauṡe Paak Kā Naam Be Wuẓoo Lene Se Mar Jaatā Thā? To Ḥuzoor ﷺ Ne Farmāyā Ki Ạbdul Qaadir! Merī Ummat Par Raḥm Karo, Phir Yeh Mu-ạamalah Ḳhatm Ho Gayā.
https://whatsapp.com/channel/0029Va4xNTcBlHpj2ZXcdA3J
𝗝𝗮𝘄𝗮𝗮𝗯: Aysā Nahīṅ Hai, Aaj Kal Bebākī Bahut Baṛh Gayī Hai, Ma-ạazallāh! Log Ḥadeeṡ Ke Mu-ạamalah Meṅ Lā Parwāhī Karte Haiṅ, Ḥālāṅki Ḥadeeṡe Paak Ke Mu-ạamalah Meṅ Bahut Eḥtiyāṭ Kī Ḥaajat Hotī Hai.
Ḥaẓaraate Tābiỵeen Aur Tabỵe Taabiỵīn, Balki Tamām Moʿạtamad Muḥaddiṡīn Kā Yahī Ṭareeqah Thā Ki Ḥadīṡoṅ Ke Bayān Karne Meṅ Be-Ḥad Eḥtiyāṭ Se Kām Lete The. Ek Lafẓ Ke Adal Badal Ko Bhī Gawārā Nahīṅ Kar Sakte The, Kyoṅki Ḥadeeṡ Gaṛh Lene Kā Bahut Baṛā Gunāh Aur Ạzaab Hai.
Buḳhārī Shareef Kī Ḥadeeṡe Mubārakah Hai, Ḥuzoore Akram ﷺ Ne irshād Farmāyā: Jo Mujh Par Jhoot Bole, Woh Jahannam Meṅ Apnā Thikānā Banā Le. [Ṣaḥīḥul Buḳhārī, Kitābul ịlm]
✍ Eḥsān Aḥmad Ạṭṭārī 𝐁𝐢𝐧 Ḥuzoor Baḳhsh Saleemī علیہ الرحمہ, 𝐓ā𝐫𝐞𝐞ḳ𝐡: 3 Shaʿạbān 1444 Hijrī / 24 February 2023 Ẹīsvī, 📇 Al Razā Qur-aan Wa Fiqh Academy, Muftī Anas Razā Qādirī Ṣaaḥab Qiblah مد ظله العالی
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
𝐘𝐞𝐡 تحریر 𝐔𝐫𝐝ū اُرۡدُوۡ उर्दू مِیں ↷
https://t.me/islaamic_Knowledge/97269
𝐘𝐞𝐡 तह़रीर हिंदी 𝐇𝐢𝐧𝐝ī ہِنۡدِیۡ में ↷
https://t.me/islaamic_Knowledge/97268
𝐘𝐞𝐡 تحریر ᵂʰᵃᵗˢᴬᵖᵖ چَیۡنَلۡ ᴹᵉⁿ ↷
https://whatsapp.com/channel/0029Va4xNTcBlHpj2ZXcdA3J/2442
ग़ौसे पाक का बे-वुज़ू नाम लेने से मौत?
✍ मुफ़्ती एह़सान अह़मद अ़त़्त़ारी
📝 मुह़म्मद जमालुद्दीन ख़ान क़ादिरी
सुवाल: क्या कोई ग़ौसे पाक का नाम बे-वुज़ू लेने से मर जाता था? तो ह़ुज़ूर ﷺ ने फ़रमाया कि अ़ब्दुल क़ादिर! मेरी उम्मत पर रह़म करो, फिर येह मुआ़मलह ख़त्म हो गया।
https://whatsapp.com/channel/0029Va4xNTcBlHpj2ZXcdA3J
जवाब: ऐसा नहीं है, आज कल बेबाकी बहुत बढ़ गई है। मआ़ज़ल्लाह! लोग ह़दीस के मुआ़मले में लापरवाही करते हैं, ह़ालांकि ह़दीसे पाक के मुआ़मले में बहुत एह़तियात़ की ह़ाजत होती है।
ह़ज़राते ताबिई़न और तब्ए़-ताबिई़न, बल्कि तमाम मोअ़्तमद मुह़द्दिसीन का यही त़रीक़ह था कि ह़दीसों के बयान करने में बेह़द एह़तियात़ से काम लेते थे। एक लफ़्ज़ के अदल बदल को भी गवारा नहीं कर सकते थे, क्योंकि ह़दीस गढ़ लेने का बहुत बड़ा गुनाह और अ़ज़ाब है।
बुख़ारी शरीफ़ की ह़दीसे मुबारकह है, ह़ुज़ूरे अकरम ﷺ ने इरशाद फ़रमाया: जो मुझ पर झूठ बोले, वोह जहन्नम में अपना ठिकाना बना ले। [स़ह़ीह़ुल बुख़ारी, किताबुल इ़ल्म]
✍ एह़सान अह़मद अ़त़्त़ारी बिन मौलाना ह़ुज़ूर बख़्श सलीमी علیہ الرحمہ, तारीख़: 3 शअ़्बान 1444 हिज्री / 24 फ़रवरी 2023 ई़स्वी, 📇 अल रज़ा क़ुरआन व फ़िक़्ह अकेडमी, मुफ़्ती अनस रज़ा क़ादिरी स़ाह़ब क़िब्लह مد ظله العالی
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
𝐘𝐞𝐡 تحریر 𝐔𝐫𝐝ū اُرۡدُوۡ उर्दू مِیں ↷
https://t.me/islaamic_Knowledge/97269
𝐘𝐞𝐡 Taḥreer ᴿᵒᵐᵃⁿ ᵁʳᵈᵘ Meṅ ↷
https://t.me/islaamic_Knowledge/97267
𝐘𝐞𝐡 تحریر ᵂʰᵃᵗˢᴬᵖᵖ چَیۡنَلۡ ᴹᵉⁿ ↷
https://whatsapp.com/channel/0029Va4xNTcBlHpj2ZXcdA3J/2443
Ġauṡe Pāk ᴷᵃ ᴺᵃᵃᵐ Be Wuzū Lenā
✍ 𝗠𝘂𝗳𝘁ī 𝗘ḥ𝘀𝗮𝗮𝗻 𝗔ḥ𝗺𝗮𝗱 Ạṭṭ𝗮𝗮𝗿ī
📝 Muḥammad Jamāluddīn Ḳhān
𝗦𝘂𝘄𝗮𝗮𝗹: Kyā Koyī Ġauṡe Paak Kā Naam Be Wuẓoo Lene Se Mar Jaatā Thā? To Ḥuzoor ﷺ Ne Farmāyā Ki Ạbdul Qaadir! Merī Ummat Par Raḥm Karo, Phir Yeh Mu-ạamalah Ḳhatm Ho Gayā.
https://whatsapp.com/channel/0029Va4xNTcBlHpj2ZXcdA3J
𝗝𝗮𝘄𝗮𝗮𝗯: Aysā Nahīṅ Hai, Aaj Kal Bebākī Bahut Baṛh Gayī Hai, Ma-ạazallāh! Log Ḥadeeṡ Ke Mu-ạamalah Meṅ Lā Parwāhī Karte Haiṅ, Ḥālāṅki Ḥadeeṡe Paak Ke Mu-ạamalah Meṅ Bahut Eḥtiyāṭ Kī Ḥaajat Hotī Hai.
Ḥaẓaraate Tābiỵeen Aur Tabỵe Taabiỵīn, Balki Tamām Moʿạtamad Muḥaddiṡīn Kā Yahī Ṭareeqah Thā Ki Ḥadīṡoṅ Ke Bayān Karne Meṅ Be-Ḥad Eḥtiyāṭ Se Kām Lete The. Ek Lafẓ Ke Adal Badal Ko Bhī Gawārā Nahīṅ Kar Sakte The, Kyoṅki Ḥadeeṡ Gaṛh Lene Kā Bahut Baṛā Gunāh Aur Ạzaab Hai.
Buḳhārī Shareef Kī Ḥadeeṡe Mubārakah Hai, Ḥuzoore Akram ﷺ Ne irshād Farmāyā: Jo Mujh Par Jhoot Bole, Woh Jahannam Meṅ Apnā Thikānā Banā Le. [Ṣaḥīḥul Buḳhārī, Kitābul ịlm]
✍ Eḥsān Aḥmad Ạṭṭārī 𝐁𝐢𝐧 Ḥuzoor Baḳhsh Saleemī علیہ الرحمہ, 𝐓ā𝐫𝐞𝐞ḳ𝐡: 3 Shaʿạbān 1444 Hijrī / 24 February 2023 Ẹīsvī
📇 Al Razā Qur-aan Wa Fiqh Academy, Muftī Anas Razā Qādirī Ṣaaḥab
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
𝐘𝐞𝐡 تحریر 𝐔𝐫𝐝ū اُرۡدُوۡ उर्दू مِیں ↷
https://t.me/islaamic_Knowledge/97269
𝐘𝐞𝐡 तह़रीर हिंदी 𝐇𝐢𝐧𝐝ī ہِنۡدِیۡ में ↷
https://t.me/islaamic_Knowledge/97268
𝐘𝐞𝐡 تحریر ᵂʰᵃᵗˢᴬᵖᵖ چَیۡنَلۡ ᴹᵉⁿ ↷
https://whatsapp.com/channel/0029Va4xNTcBlHpj2ZXcdA3J/2442
فرمان غوث پاک پہلے فرض پھر نفل
📝 محمد جمال الدین خان قادِری
حضور پُر نور سیّدنا غوث اعظم مولائے اکرم حضرت شیخ محی الملّۃ والدّین ابو محمد عبد القادر جیلانی رضی الله عنہ نے اپنی کتاب مستطاب فتوح الغیب شریف میں کیا کیا جگر شگاف مثالیں ایسے شخص کے لئے ارشاد فرمائی ہیں جو فرض چھوڑ کر نفل بجا لائے ۔
فرماتے ہیں: اس کی کہاوت ایسی ہے جیسے کسی شخص کو بادشاہ اپنی خدمت کے لیے بلائے، یہ وہاں تو حاضر نہ ہُوا اور اس کے غلام کی خدمت گاری میں موجود رہے ۔
پھر حضرت امیر المومنین مولی المسلمین سیدنا مولٰی علی مرتضٰی کرم ﷲ تعالٰی وجہہ سے اس کی مثال نقل فرمائی کہ جناب ارشاد فرماتے ہیں: ایسے شخص کا حال اس عورت کی طرح ہے جسے حمل رہا جب بچّہ ہونے کے دن قریب آئے اسقاط ہو گیا (اسقاط حمل یعنی حاملہ کے پیٹ سے بچے کا وقت سے پہلے خارج ہو جانا، گِر جانا) اب وہ نہ حاملہ ہے نہ بچّہ والی ۔
یعنی جب پُورے دنوں پر اگر اسقاط ہو تو محنت تو پُوری اٹھائی اور نتیجہ خاک نہیں کہ اگر بچہ ہوتا تو ثمرہ (نفع، فائدہ) خود موجود تھا حمل باقی رہتا تو آگے امید لگی تھی، اب نہ حمل نہ بچّہ، نہ اُمید نہ ثمرہ اور تکلیف وہی جھیلی جو بچّہ والی کو ہوتی ۔
ایسے ہی اس نفل خیرات دینے والے کے پاس روپیہ تو اٹھا مگر جبکہ فرض چھوڑا یہ نفل بھی قبول نہ ہُوا تو خرچ کا خرچ ہوا اور حاصل کچھ نہی ـ
اسی کتاب مبارک میں حضور مولٰی رضی الله عنہ نے فرمایا ہے کہ: فرض چھوڑ کر سنت و نفل میں مشغول ہوگا یہ قبول نہ ہونگے اور خود کیا جائےگا ۔
یُوں ہی شیخِ محقق مولانا عبد الحق محدّث دہلوی قدس سرہ نے اس کی شرح میں فرمایا کہ: لازم اور ضروری چیز کا ترک اور جو ضروری نہیں اس کا اہتمام عقل و خرد میں فائدہ سے دُور ہے کیونکہ عاقل کے ہاں حصولِ نفع سے دفعِ ضرر اہم ہے بلکہ اس صورت میں نفع منتفی ہے ۔
[فتاوٰی رضویہ، جِلد¹⁰، صفحہ 183 و 184 ـ بحوالہ: فتوح الغیب مع شرح عبد الحق الدہلوی، المقالۃ الثامنۃ والاربعون، منشی نولکشور لکھنؤ، صفحہ 273]
جس کے ذمہ فرض باقی ہوں اس کے نفل قبول ہونگے یا نہیں؟ اور نفل ادا کرنے پر ثواب پائےگا یا نہیں؟ [تفصیل پڑھئے فتاوٰی رضویہ شریف، جِلد¹⁰، صفحہ¹⁸³ تا ¹⁸⁶]
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
𝐘𝐞𝐡 तह़रीर हिंदी 𝐇𝐢𝐧𝐝ī ہِنۡدِیۡ में ↷
https://t.me/islaamic_Knowledge/97259
𝐘𝐞𝐡 Taḥreer ᴿᵒᵐᵃⁿ ᵁʳᵈᵘ Meṅ ↷
https://t.me/islaamic_Knowledge/97258
𝐘𝐞𝐡 تحریر ᵂʰᵃᵗˢᴬᵖᵖ چَیۡنَلۡ ᴹᵉⁿ ↷
https://whatsapp.com/channel/0029Va4xNTcBlHpj2ZXcdA3J/2437
फ़रमाने ग़ौसे पाक पहले फ़र्ज़ फिर नफ़्ल
📝 मुह़म्मद जमालुद्दीन ख़ान क़ादिरी
ह़ुज़ूर पुर नूर सय्यिदुना ग़ौसे अअ़्ज़म رضی الله عنہ ने अपनी किताबे मुस्तत़ाब फ़ुतूह़ुल ग़ैब शरीफ़ में क्या क्या जिगर शिगाफ़ मिसालें ऐसे शख़्स़ के लिए इरशाद फ़रमाई हैं जो फ़र्ज़ छोड़ कर नफ़्ल बजा लाए।
फ़रमाते हैं: उसकी कहावत ऐसी है जैसे किसी शख़्स़ को बादशाह अपनी ख़िदमत के लिए बुलाए, येह वहाँ तो ह़ाज़िर न हुवा और उसके ग़ुलाम की ख़िदमत गारी में मौजूद रहे।
फिर ह़ज़रते सय्यिदुना अ़लिय्ये मुर्तज़ा رضی الله عنہ से इसकी मिसाल नक़ल फ़रमाई कि जनाब इरशाद फ़रमाते हैं: ऐसे शख़्स़ का ह़ाल उस औ़रत की त़रह़ है जिसे ह़मल रहा, जब बच्चह होने के दिन क़रीब आए (तो) इस्क़ात़ हो गया (इस्क़ात़े ह़मल यअ़्नी ह़ामिलह के पेट से बच्चे का वक़्त से पहले ख़ारिज हो जाना, गिर जाना) अब वोह न ह़ामिलह है न बच्चह वाली।
यअ़्नी जब पूरे दिनों पर अगर इस्क़ात़ हो तो मेह़नत तो पूरी उठाई और नतीजह ख़ाक नहीं कि अगर बच्चह होता तो समरह (नफ़अ़्, फ़ाइदह) ख़ुद मौजूद था ह़मल बाक़ी रहता तो आगे उम्मीद लगी थी, अब न ह़मल न बच्चह, न उम्मीद न समरह और तकलीफ़ वही झेली जो बच्चह वाली को होती।
ऐसे ही उस नफ़्ल ख़ैरात देने वाले के पास रुपये तो उठा मगर जबकि फ़र्ज़ छोड़ा येह नफ़्ल भी क़ुबूल न हुवा तो ख़र्च का ख़र्च हुवा और ह़ास़िल कुछ नहीं।
उसी किताब मुबारक में ह़ुज़ूर मौला رضی الله عنہ ने फ़रमाया है कि: फ़र्ज़ छोड़ कर सुन्नत व नफ़्ल में मश्ग़ूल होगा येह क़ुबूल न होंगे और ख़ुद किया जाएगा।
यूँ ही शैख़े मुह़क़्क़िक़ मौलाना अ़ब्दुल ह़क़ मुह़द्दिस देहलवी قدس سرہ ने इस की शरह़ में फ़रमाया कि: लाज़िम और ज़रूरी चीज़ का तर्क और जो ज़रूरी नहीं उसका एहतिमाम अ़क़्ल व ख़िरद में फ़ाइदह से दूर है क्योंकि आ़क़िल के हाँ ह़ुस़ूले नफ़अ़् से दफ़ए़ ज़रर अहम है बल्कि इस स़ूरत में नफ़अ़् मुन्तफ़ी है।
[फ़तावा रज़विय्यह शरीफ़, जिल्द¹⁰, स़फ़्ह़ह् 183 व 184, ब-ह़वालह: फ़ुतूह़ुल ग़ैब, मअ़् शरह़ अ़ब्दुल ह़क़ मुह़द्दिस देहलवी, स़फ़्ह़ह् 273]
जिस के ज़िम्मह फ़र्ज़ बाक़ी हों उसके नफ़्ल क़ुबूल होंगे या नहीं? और नफ़्ल अदा करने पर सवाब पाएगा या नहीं? [तफ़स़ील पढ़िए फ़तावा रज़विय्यह शरीफ़, जिल्द¹⁰, स़फ़्ह़ह् ¹⁸³ ता ¹⁸⁶]
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
𝐘𝐞𝐡 تحریر 𝐔𝐫𝐝ū اُرۡدُوۡ उर्दू مِیں ↷
https://t.me/islaamic_Knowledge/97260
𝐘𝐞𝐡 Taḥreer ᴿᵒᵐᵃⁿ ᵁʳᵈᵘ Meṅ ↷
https://t.me/islaamic_Knowledge/97258
𝐘𝐞𝐡 تحریر ᵂʰᵃᵗˢᴬᵖᵖ چَیۡنَلۡ ᴹᵉⁿ ↷
https://whatsapp.com/channel/0029Va4xNTcBlHpj2ZXcdA3J/2436
Pahle Farż, Phir Nafl | Ġauṡe Paak
✍️ Muḥammad Jamāluddīn Ḳhān
Ḥuẓoor Pur Noor Sayyidunā Ġauṡe Aʿẓam رضی الله عنہ Ne Apnī Kitābe Mustaṭāb Futooḥul Ġaib Shareef Meṅ Kyā Kyā Jigar-Shigāf Miṡāleṅ Ayse Shaḳhṣ Ke Liye irshād Farmāyī Haiṅ Jo Farż Chhoṛ Kar Nafl Bajā Lāye.
𝐅𝐚𝐫𝐦ā𝐭𝐞 𝐇𝐚𝐢ṅ: Us Kī Kahāwat Aysī Hai Jaise Kisī Shaḳhṣ Ko Bādshāh Apnī Ḳhidmat Ke Liye Bulāye, Yeh Wahāṅ To Ḥāżir Na Huwā Aur Us Ke Ġulām Kī Ḳhidmat Gaarī Meṅ Maujood Rahe.
Phir Ḥażrate Sayyidunā Ạliyye Murtażā رضی الله عنہ Se is Kī Miṡāl Naql Farmāyī Ki Janāb 𝐢𝐫𝐬𝐡ā𝐝 𝐅𝐚𝐫𝐦ā𝐭𝐞 𝐇𝐚𝐢ṅ: Ayse Shaḳhṣ Kā Ḥaal Us Ạurāt Kī Ṭaraḥ Hai Jise Ḥamal Rahā, Jab Bachʾchah Hone Ke Din Qareeb Aaye (To) isqaaṭ Ho Gayā (isqāṭe Ḥamal Yaʿạnī Ḥāmilah Ke Pet Se Bachʾche Kā Waqt Se Pahle Ḳhārij Ho Jānā, Gir Jānā) Ab Woh Na Ḥāmilah Hai Na Bachʾchah Wālī.
Yaʿạnī Jab Poore Dinoṅ Par Agar isqāṭ Ho To Meḥnat To Poorī Uthāyī Aur Nateejah Ḳhāk Nahīṅ Ki Agar Bachʾchah Hotā To Ṡamarah (Nafaʿạ, Fāyidah) Ḳhud Maujood Thā, Ḥamal Bāqī Rahtā To Aage Ummīd Lagī Thī, Ab Na Ḥamal Na Bachʾchah, Na Ummīd Na Ṡamarah Aur Takleef Wahī Jhelī Jo Bachʾchah Wālī Ko Hotī.
Ayse Hī Us Nafl Ḳhairāt Dene Wāle Ke Pās Rupaye To Uthe, Magar Jabki Farż Chhoṛā, Yeh Nafl Bhī Qubool Na Huwā To Ḳharch Kā Ḳharch Huwā Aur Ḥāṣil Kuchh Nahīṅ.
Usī Kitābe Mubārak Meṅ Ḥuẓoor Maulā رضی الله عنہ Ne 𝐅𝐚𝐫𝐦ā𝐲ā Hai Ki: Farż Chhoṛ Kar Sunnat Wa Nafl Meṅ Mashġool Hogā, Yeh Qubool Na Hoṅge Aur Ḳhud Kiyā Jāyegā.
Yūṅ Hī Shaiḳhe Muḥaqqiq Maulānā Ạbdul Ḥaq Muḥaddiṡ Dehlavī قدس سرہ Ne is Kī Sharaḥ Meṅ 𝐅𝐚𝐫𝐦ā𝐲ā Ki: Lāzim Aur Żaroorī Cheez Kā Tark Aur Jo Żaroorī Nahīṅ Us Kā Ehtimām Ạql Wa Ḳhirad Meṅ Fāyide Se Door Hai, Kyoṅ Ki Ạaqil Ke Hāṅ Ḥuṣoole Nafaʿạ Se Dafʾỵe Żarar Aham Hai, Balki is Ṣoorat Meṅ Nafaʿạ Muntafī Hai.
[𝗙𝗮𝘁ā𝘄ā 𝗥𝗮𝘇𝘃𝗶𝘆𝘆𝗮𝗵, Jild 10, Ṣafḥah 183 Wa 184, Ba-Ḥawālah: 𝗙𝘂𝘁𝗼𝗼ḥ𝘂𝗹 Ġ𝗮𝗶𝗯, Maʿạ Sharaḥ Ạbdul Ḥaq Muḥaddiṡ Dehlavī, Ṣafḥah 273]
Jis Ke Żimme Farż Bāqī Hoṅ, Us Ke Nafl Qubool Hoṅge Yā Nahīṅ? Aur Nafl Adā Karne Par Ṡawāb Pāyegā Yā Nahīṅ? [Mazeed Tafṣīl Paṛhiye: 𝐅𝐚𝐭ā𝐰ā 𝐑𝐚𝐳𝐯𝐢𝐲𝐲𝐚𝐡 Shareef, Jild 10, Ṣafḥah 183 Tā 186]
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
𝐘𝐞𝐡 تحریر 𝐔𝐫𝐝ū اُرۡدُوۡ उर्दू مِیں ↷
https://t.me/islaamic_Knowledge/97260
𝐘𝐞𝐡 तह़रीर हिंदी 𝐇𝐢𝐧𝐝ī ہِنۡدِیۡ में ↷
https://t.me/islaamic_Knowledge/97259
𝐘𝐞𝐡 تحریر ᵂʰᵃᵗˢᴬᵖᵖ چَیۡنَلۡ ᴹᵉⁿ ↷
https://whatsapp.com/channel/0029Va4xNTcBlHpj2ZXcdA3J/2435
