کلام نور
Відкрити в Telegram
✅علوم آل محمد علیہم السلام، احادیث، مواعظ، دینی معلومات پر مشتمل۔ 💻دینی معلومات کے لئے وبلاگ اور پیج کے ایڈرس: https://www.facebook.com/klmnoor http://klmnoor.blogspot.com https://t.me/klmnoor 📱آپ کے مفید مشوروں کے لئے: @Klmnoor_admin
Показати більше721
Підписники
Немає даних24 години
Немає даних7 днів
Немає даних30 днів
Архів дописів
721
۵ / جمادی الأولیٰ
#ولادت_با_سعادت_حضرت_زینب_علیہا_السلام
▫️ حضرت زینب علیہا السلام کی ولادت با سعادت پانچویں یا چھٹی ہجری کے اسی روز مدینہ منوّرہ میں واقع ہوئی ہے۔
[عقیلۃ بنی ھاشم، ص۵؛ زینب الکبریٰ، ص۱۷؛ مستدرک سفینۃ البحار، ج۴، ص۳۱۶، ج۵، ص۲۰۸؛ تقویم الائمہ، ص۷۱؛ وفیات الائمہ، ص۴۳۱؛ منتخب التواریخ، ص۹۵۔۹۴؛ العقیلۃ و الفواطم علیہن السلام، ص۱۰]
▫️آپ علیہا السلام کی ولادت با سعادت کے سلسلہ میں دیگر اقوال حسب ذیل ہیں: آغاز شعبان سنہ ۶ ھ [ریاحین الشریعہ، ج۳، ص۳۳] اوّل شعبان، [مستدرک سفینۃ البحار، ج۵، ص۴۱۳؛ معالی السبطین، ج۲، ص۲۲۱؛ وفیات الائمہ، ص۴۳۱] ۳۰ شعبان، [تقویم الائمہ، ص۷۹] ماه رمضان سنہ ۶ ھ، ۵ یا ۶ یا ۷ میں ماہ ربیع الثانی کے آخری عشرے میں۔ [ریاحین الشریعہ، ج۳، ص۳۳]
▫️آپ علیہا السلام کے والد ماجد حضرت امیر المؤمنین علی علیہ السلام، اور والدہ گرامی حضرت صدیقہ طاہرہ علیہا السلام ہیں۔
▫️شوہر نامدار جناب عبداللہ بن جعفر بن ابی طالب علیہم السلام، اور آپ علیہا السلام کی اولاد کے اسماء علی، عُون، عبّاس، محمّد و امّ کلثوم ہیں جس میں سے جناب عُون و محمّد کربلا میں شہید ہوئے۔
▫️کنّیت امّ کلثوم، امّ عبداللہ و امّ حسن ہے، لیکن آپ علیہا السلام کی خاص کنیت امّ المصائب، امّ الرزایا و امّ النوائب ہے۔
▫️حضرت ثانی زہرا علیہا السلام کے القاب بہت زیادہ ہیں ان میں بعض حسب مذکور ہیں:
عقیلہ بنی ہاشم، عقیلۃ الطالبیین، صدیقہ صغری (جو والدہ کے لقب صدیقہ کبری اور والد کے لقب صدّیق اکبر سے ماخوذ ہے)، عصمت صغری، ولیۃ الله، الراضیۃ بالقدر و القضاء، صابرة البلوی من غیر جزعٍ و لا شکوی، امینۃ الله، عالمۃ غیر معلّمۃ، فهمۃ غیر مفهَّمۃ، محبوبۃُ المصطفی صلّی اللہ علیہ و آلہ، ثانیۃ الزهراء علیہا السلام، الشریفۃ۔
▫️حضرت زینب علیہا السلام کے فرزند علی سے کثیر اولاد دنیا میں آئی جو زینبی کے نام سے معروف ہیں، سیوطی نے انکے سلسلہ میں رسالہ زینبیہ تالیف کیا ہے۔
[ریاحین الشریعہ، ج۳، ص۴۶، ۲۰۷؛ السیدہ زینب الکبری من المھد الی اللحد، ص۳۰۔۴۶؛ عقیلۃ بنی ھاشم، ص۵۔۳۶؛ منتخب التواریخ، ص۹۴؛ تذکرۃ الخواص، ص۱۷۵]
← ولادت با سعادت
▫️جس وقت جناب زینب سلام اللہ علیہا دنیا میں تشریف لائیں نبی اکرم صلّی اللہ علیہ و آلہ و سلّم سفر میں تھے، امام علی علیہ السلام نے مولودہ کے اسم شریف کے سلسلہ میں فرمایا:
"ما كنت لأسبق رسول اللّه صلى اللّه عليه و آله و سلم'' میں پیغمبر صلّی اللہ علیہ و آلہ پر سبقت اختیار نہیں کر سکتا".
یہاں تک کہ آنحضرت صلّی اللہ علیہ و آلہ تشریف لاتے ہیں، وحی کا انتظار کرتے ہیں، جبرئیل امین پیغام وحی لے کر حاضر ہوتے ہیں، عرض کرتے ہیں: خدا بعد اس سلام فرماتا ہے:
اس کا نام زینب رکھیں، کیونکہ ہم نے لوح محفوظ پر اسی نام کو لکھا ہے۔
پیغمبر اکرم صلّی اللہ علیہ و آلہ نے حضرت زینب علیہا السلام را طلب کیا بوسہ لیا اور فرمایا:
«میں حاضرین و غائبین سے وصیبت کرتا ہوں کہ میرے واسطے اس کی حرمت کا خیال رکھیں ، کیونکہ یہ خدیجہ کبری علیہا السلام کی طرح ہے».
حضرت زینب علیہا السلام عزّ و وقار میں خدیجۃ الکبری علیہا السلام، عصمت و حیا میں فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیہا، فصاحت و بلاغت میں علی مرتضی علیہ السلام، حلم اور بردباری میں حسن مجتبی علیہ السلام اور شجاعت اور قوّت قلب میں حضرت سید الشہداء علیہ السلام کے مماثل تھیں۔
[ریاحین الشریعة، ج۳، ص۳۳]
▫️ابن حَجَر نے اصابۃ میں اور ابن اثیر نے اسد الغابۃ آپ علیہا السلام کے بارے میں تحریر کیا ہے:
وہ عاقلہ، فہیمہ، اور شجاع خاتون تھیں، حضرت زینب علیہا السلام نے یزید کے دربار میں ایسے کلمات ارشاد فرمائے جو آپ علیہا السلام کی قوّت قلب پر دلالت کرتے ہیں۔ [اسد الغابۃ، ج۵، ص۴۶۹؛ الاصابۃ، ج۸، ص۶۶]
▫️آپ علیہا السلام کَرَم، بصیرت اور حِلم میں عرب اور خاندان بنی ہاشم کی نامور شخصیت تھیں، اور صفات جمال و جلال، سیرت و صورت و اخلاق و فضیلت آپ علیہا السلام میں جمع تھیں۔
راتوں میں عبادت کیا کرتی تھیں اور دنوں میں روزہ سے رہتی تھیں اور اہل تقوی کے عنوان سے معروف تھیں۔
[وفیات الائمہ،ص۴۴۱۔۴۴۰؛ العقیلۃ و الفواطم علیہن السلام، ص۵۱۔۵۰]
📚تقویم شیعہ، عبد الحسین نیشابوری، انتشارات دلیل ما، ۵/ جمادی الاولی، ص۱۴۷.
https://t.me/klmnoor
https://www.facebook.com/klmnoor
721
#بداخلاقی
🌹🌹حضرت رسول اکرم صلّی اللہ علیہ و آلہ:
🟤
لِكُلِ ذَنْبٍ تَوْبَةٌ إِلَّا سُوءَ الْخُلُقِ فَإِنَّ صَاحِبَهُ كُلَّمَا خَرَجَ مِنْ ذَنْبٍ دَخَلَ فِي ذَنْبٍ
🔵 ہر گناہ کے لئے توبہ ہے سوائے بدخُلقی کے، کیونکہ جب بھی بد اخلاق انسان ایک گناہ سے باہر آتا ہے تو دوسرے گناہ میں مبتلا ہوجاتا ہے۔
📚 مكارم الأخلاق، ص۴۳۴، الفصل الثالث في وصية النبي ص لعلي ع
▫️▫️▫️▫️▫️
✍🏼 تمام گناہوں سے توبہ کی جاسکتی ہے لیکن بد اخلاقی اور کج خلقی سے توبہ نہیں کی جاسکتی۔
کیونکہ یہ خصلت انسان سے دست بردار نہیں ہوتی بلکہ اس میں اضافہ ہوتا رہتا ہے،
اور لوگوں کی نگاہ میں منفور ہونے کے ساتھ ساتھ، اس سے اصلاح کی مہلت بھی سلب یوجاتی ہے، کیونکہ وہ بد اخلاقی کی بنا پر ایک خطا سے رکتا نہیں کہ دوسری خطا کا شکار ہوجاتا ہے۔
https://t.me/klmnoor
https://www.facebook.com/klmnoor721
#اصلاح_نفس
#ہدایت
#اعمال
🌹 قال الله تعالیٰ:
🟤
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ ۖ لَا يَضُرُّكُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ ۚ إِلَى اللَّهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِيعًا فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ۔
🔵 ایمان والو! اپنے نفس کی فکر کرو، اگر تم ہدایت یافتہ رہے تو گمراہوں کی گمراہی تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتی۔ تم سب کی بازگشت خدا کی طرف ہے پھر وہ تمہیں تمہارے اعمال سے باخبر کرے گا۔
📚 سورہ المائدہ، آیت: ۱۰۵
https://t.me/klmnoor
https://www.facebook.com/klmnoor721
#حسد
#حاسد
🌹🌹 حضرت امام علی علیہ السلام:
🟤
مَا رَأَيْتُ ظَالِماً أَشْبَهَ بِمَظْلُومٍ مِنَ الْحَاسِدِ نَفَسٌ دَائِمٌ وَ قَلْبٌ هَائِمٌ وَ حُزْنٌ لَازِمٌ.
🔵 میں نے حسد کرنے والے سے بڑھ کر کسی ظالم کو مظلوم جیسا نہیں دیکھا؛ جس کی سانسیں مسلسل بے قرار رہتی ہیں، قلب سرگرداں رہتا ہے، اور غم اس سے کبھی جدا نہیں ہوتا۔
📚 كنز الفوائد، ج۱، ص۱۳۶، كلمات لأمير المؤمنين ع و غيره في ذم الحسد
https://t.me/klmnoor
https://www.facebook.com/klmnoor721
#اعتماد
#دو_نعمتوں_پر
#صحت_و_دولت
🌹🌹 حضرت امام علی علیہ السلام:
🟤
لَا يَنْبَغِي لِلْعَبْدِ أَنْ يَثِقَ بِخَصْلَتَيْنِ الْعَافِيَةِ وَ الْغِنَى بَيْنَا تَرَاهُ مُعَافًى إِذْ سَقِمَ وَ بَيْنَا تَرَاهُ غَنِيّاً إِذِ افْتَقَرَ۔
🔵 کسی بندے کے لئے مناسب نہیں کہ وہ دو چیزوں پر بھروسہ کرے: ایک صحت اور دوسرے دولت؛ کیونکہ ابھی تم کسی کو تندرست دیکھ رہے تھے کہ وہ دیکھتے ہی دیکھتے بیمار پڑجاتا ہے اور ابھی تم اسے دولتمند دیکھ رہے تھے کہ فقیر و نادار ہوجاتا ہے۔
📚 نهج البلاغة (للصبحي صالح)، ص۵۵۱، ح [۴۳۵] ۴۲۶۔
▫️▫️▫️▫️▫️
✍🏼 حضرت امیر المومنین علیہ السلام نے اس حکیمانہ ارشاد میں دنیا کی نعمتوں کے ناپائیدار ہونے کی طرف اشارہ فرمایا ہے، اور خاص طور پر دو بڑی نعمتوں یعنی صحت اور بے نیازی کی طرف توجہ دلائی ہے۔
اکثر ہم لوگوں نے اپنی زندگی میں اس کی متعدد مثالیں دیکھی ہیں: تندرست اور طاقتور لوگ اچانک بیمار ہو کر بستر پر پڑ گئے اور حرکت کے قابل نہ رہے۔ جی ہاں! انسان کتنا نازک ہے۔ ایک نہایت چھوٹا سا جرثومہ، یا اس سے بھی چھوٹا وائرس جو خردبین سے بھی مشکل سے نظر آتا ہے، انسان کو گرا سکتا ہے، سرطان جیسی خطرناک بیماری ایک خلیے کی سرکشی سے شروع ہوتی ہے اور بڑھتے بڑھتے ایک طاقتور انسان کو ہلاک کر دیتی ہے، دل کی ایک چھوٹی سی رگ خون کے معمولی جمے ہوئے ذرّے سے بند ہو کر دل کے دورے کا سبب بن سکتی ہے، اور دماغ کی باریک رگیں اگر کسی سبب سے پھٹ جائیں تو جسم کا کوئی اہم حصہ مفلوج ہو سکتا ہے۔
اس کے باوجود انسان کیسے مغرور ہوجاتا ہے اور یہ گمان کرلیتا ہے کہ اس کی صحت ہمیشہ باقی رہے گی، اور جو کچھ اس کے بس میں ہے وہ کر گزرے، اور جس پر چاہے ظلم و ستم کرے؟!
انسان کی بڑی سے بڑی دولت اور مال کا حال بھی کوئی اس سے بہتر نہیں؛ ایک ہولناک آگ، زلزلہ، قحط، عالمی معیشت کا ایک اتار چڑھاؤ، ایک مقامی یا عالمی جنگ، ان سب کو برباد کرسکتی ہے۔ آدمی رات کو اس حال میں سوتا ہے کہ اپنے معاشرے کا امیر ترین شخص ہوتا ہے، اور صبح غریب ترین لوگوں میں شمار ہوتا ہے۔ کسی شاعر کے بقول:
بر مال و جمال خويشتن غره مشو *** كان را به شبى برند و اين را به تبى
اپنے مال اور جمال پر مغرور مت ہو، کیونکہ ایک کو رات میں اٹھا لیا جاتا ہے تو دوسرے کو بخار میں۔
کیا اس صورتِحال میں انسان کو زیب دیتا ہے کہ اپنے مال پر مغرور ہو؟
یہی مفہوم حضرت امیرالمومنین علیہ السلام کے ایک ارشاد میں اس طرح آیا ہے:
▫️ مَا الْمُبْتَلَى الَّذِي قَدِ اشْتَدَّ بِهِ الْبَلَاءُ بِأَحْوَجَ إِلَى الدُّعَاءِ- [مِنَ الْمُعَافَى] الَّذِي لَا يَأْمَنُ الْبَلَاءَ.
▫️ جو شخص سخت مصیبت میں مبتلا ہے، وہ اس شخص سے زیادہ محتاجِ دعا نہیں جو فی الحال عافیت میں ہے لیکن نہیں معلوم کہ کب مبتلا ہوجائے۔
[نهج البلاغة (للصبحي صالح)، ص۵۲۸، ح [۳۰۸] ۳۰۲]
📚 پیام امام امیر المومنین علیہ السلام، آیۃ اللہ مکارم شیرازی دام ظلہ، ج۱۵، ص۴۲۳ سے مأخوذ
https://t.me/klmnoor
https://www.facebook.com/klmnoor721
#اعتماد
#دو_نعمتوں_پر
#صحت_و_دولت
🌹🌹 حضرت امام علی علیہ السلام:
🟤
لَا يَنْبَغِي لِلْعَبْدِ أَنْ يَثِقَ بِخَصْلَتَيْنِ الْعَافِيَةِ وَ الْغِنَى بَيْنَا تَرَاهُ مُعَافًى إِذْ سَقِمَ وَ بَيْنَا تَرَاهُ غَنِيّاً إِذِ افْتَقَرَ۔
🔵 کسی بندے کے لئے مناسب نہیں کہ وہ دو چیزوں پر بھروسہ کرے: ایک صحت اور دوسرے دولت؛ کیونکہ ابھی تم کسی کو تندرست دیکھ رہے تھے کہ وہ دیکھتے ہی دیکھتے بیمار پڑجاتا ہے اور ابھی تم اسے دولتمند دیکھ رہے تھے کہ فقیر و نادار ہوجاتا ہے۔
📚 نهج البلاغة (للصبحي صالح)، ص۵۵۱، ح [۴۳۵] ۴۲۶۔
https://t.me/klmnoor
https://www.facebook.com/klmnoor721
#مداومت
#محبوب_ترین_عمل
🌹🌹 حضرت امام باقر علیہ السلام:
🟤
أَحَبُّ الْأَعْمَالِ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مَا دَاوَمَ عَلَيْهِ الْعَبْدُ، وَ إِنْ قَلَّ.
🔵 اللہ عزّ و جلّ کے نزدیک سب سے پسندیدہ عمل وہ ہے جس پر بندہ پابندی کے ساتھ قائم رہے، خواہ اس کی مقدار کم ہی کیوں نہ ہو۔
📚 الكافي (ط - الإسلامية)، ج۲، ص۸۲، ح۲، باب استواء العمل و المداومة عليه
▫️▫️▫️▫️▫️
✍🏼 اکثر ہم سمجھ بیٹھتے ہیں کہ بڑے کام اور سخت عبادتیں ہی بہترین اعمال ہیں اور اسی میں اللہ کی خوشنودی اور قربت ہے۔ جبکہ مذکورہ ارشاد کے مطابق عمل کی مقدار سے کہیں زیادہ اہم اس کا تسلسل ہے۔
بسا اوقات ہم جوش و جذبے کے ساتھ کوئی نیک کام بڑے پیمانے پر شروع کرتے ہیں مگر جلد ہی اکتا کر اسے چھوڑ دیتے ہیں، جبکہ اگر عمل تھوڑا ہوتا تو ممکن تھا کہ نہ ایسی تھکاوٹ آتی جو انسان کو ملول کردے اور نہ اس کا سلسلہ رکتا۔
تھوڑا مگر پابندی سے کیا جانے والا عمل اس لیے زیادہ محبوب ہے کہ تھوڑے عمل پر مداومت سے اطاعت اور بندگی کا سلسلہ قائم رہتا ہے، اور وہ عمل ہماری طرزِ زندگی کا حصہ بن جاتا ہے۔
انہی چھوٹے مگر مسلسل اعمال سے روح و جان کو تازگی ملتی رہتی ہے اور بار بار انجام دینے سے اللہ کے ساتھ دائمی تعلق قائم رہتا ہے۔ یہ اس سے کہیں بہتر ہے کہ انسان کچھ عرصہ عبادت کرے اور پھر اسے بالکل ہی ترک کر دے۔
جیسا کہ حضرت امیرالمومنین علیہ السلام فرماتے ہیں:
▫️قَلِيلٌ تَدُومُ عَلَيْهِ، أَرْجَى مِنْ كَثِيرٍ مَمْلُولٍ مِنْهُ۔
▫️وہ عمل جو پابندی سے بجا لایا جائے زیادہ فائدہ مند ہے اس کثیر عمل سے جس سے دل اکتا جائے۔
📚 نهج البلاغة (للصبحي صالح)، ص۵۲۵، ح[۲۸۴] ۲۸۷۔
https://t.me/klmnoor
https://www.facebook.com/klmnoor721
#مداومت
#محبوب_ترین_عمل
🌹🌹 حضرت امام باقر علیہ السلام:
🟤
أَحَبُّ الْأَعْمَالِ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مَا دَاوَمَ عَلَيْهِ الْعَبْدُ، وَ إِنْ قَلَّ.
🔵 اللہ عزّ و جلّ کے نزدیک سب سے پسندیدہ عمل وہ ہے جس پر بندہ پابندی کے ساتھ قائم رہے، خواہ اس کی مقدار کم ہی کیوں نہ ہو۔
📚 الكافي (ط - الإسلامية)، ج۲، ص۸۲، ح۲، باب استواء العمل و المداومة عليه
https://t.me/klmnoor
https://www.facebook.com/klmnoor721
#نماز
🌹🌹حضرت امام علی علیہ السلام:
🟤
لَيْسَ عَمَلٌ أَحَبَّ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ مِنَ الصَّلَاةِ فَلَا يَشْغَلَنَّكُمْ عَنْ أَوْقَاتِهَا شَيْءٌ مِنْ أُمُورِ الدُّنْيَا فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَ جَلَّ ذَمَّ أَقْوَاماً فَقَالَ الَّذِينَ هُمْ عَنْ صَلاتِهِمْ ساهُونَ يَعْنِي أَنَّهُمْ غَافِلُونَ اسْتَهَانُوا بِأَوْقَاتِهَا۔
🔵 خدائے عزّ و جلّ کے نزدیک نماز سے زیادہ کوئی عمل محبوب نہیں، لہذا کوئی دنیاوی کام آپ کو اوقاتِ نماز سے غافل نہ کرنے پائے؛ کیونکہ خدا نے ایسے لوگوں کی مذمّت کی ہے اور فرمایا ہے: الَّذِينَ هُمْ عَنْ صَلاتِهِمْ ساهُونَ یعنی وہ لوگ جو اپنی نماز سے غافل رہتے ہیں اور اس کے وقت کی کوئی پروا نہیں کرتے۔
📚 الخصال، ج۲، ص۶۲۱، علم أمير المؤمنين ع أصحابه في مجلس واحد أربعمائة باب مما يصلح للمسلم في دينه و دنياه
▫️▫️▫️▫️▫️
✍🏼 جب ہمیں یہ معلوم ہے کہ نماز اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے محبوب عمل ہے، تو یہ بات بالکل واضح ہے کہ کوئی دوسرا کام نماز کی جگہ نہیں لے سکتا اور نہ ہی اسے نماز پر ترجیح دی جا سکتی ہے۔
حضرت امیر المؤمنین علیہ السلام کا نماز کے اوقات پر خصوصی زور دینا اس نکتے کی جانب اشارہ کررہا ہے کہ صرف نماز کا کسی طرح پڑھ لینا مقصود نہیں ہے؛ بلکہ اصل کمال یہ ہے کہ ہم اپنی روزمرّہ کی مصروفیات کے درمیان، جیسے ہی نماز کا وقت آئے، اسے دوسرے کاموں پر ترجیح دے سکیں۔
آپ علیہ السلام کے ارشاد کا واضح پیغام یہ ہے کہ دنیا کی کوئی بھی مصروفیت اس قدر اہم نہیں کہ وہ اس بہترین عمل کی جگہ لے سکے اور ہمیں اس کی برکات اور ثمرات سے محروم کردے۔
لہٰذا نماز کو جان بوجھ کر آخری وقت تک ٹالتے رہنا محض ایک معمولی کوتاہی نہیں؛ بلکہ نماز کے وقت کی اہمیت کو نظرانداز کرنا ہے۔
https://t.me/klmnoor
https://www.facebook.com/klmnoor721
#نماز
🌹🌹حضرت امام علی علیہ السلام:
🟤
لَيْسَ عَمَلٌ أَحَبَّ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ مِنَ الصَّلَاةِ فَلَا يَشْغَلَنَّكُمْ عَنْ أَوْقَاتِهَا شَيْءٌ مِنْ أُمُورِ الدُّنْيَا فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَ جَلَّ ذَمَّ أَقْوَاماً فَقَالَ الَّذِينَ هُمْ عَنْ صَلاتِهِمْ ساهُونَ يَعْنِي أَنَّهُمْ غَافِلُونَ اسْتَهَانُوا بِأَوْقَاتِهَا۔
🔵 خدائے عزّ و جلّ کے نزدیک نماز سے زیادہ کوئی عمل محبوب نہیں، لہذا کوئی دنیاوی کام آپ کو اوقاتِ نماز سے غافل نہ کرنے پائے؛ کیونکہ خدا نے ایسے لوگوں کی مذمّت کی ہے اور فرمایا ہے: الَّذِينَ هُمْ عَنْ صَلاتِهِمْ ساهُونَ یعنی وہ لوگ جو اپنی نماز سے غافل رہتے ہیں اور اس کے وقت کی کوئی پروا نہیں کرتے۔
📚 الخصال، ج۲، ص۶۲۱، علم أمير المؤمنين ع أصحابه في مجلس واحد أربعمائة باب مما يصلح للمسلم في دينه و دنياه
https://t.me/klmnoor
https://www.facebook.com/klmnoor721
۱۴/ ربیع الثانی
#قیام_جناب_مختار_رحمه_الله
🌷🌷حضرت امام زین العابدین علیہ السلام:
🔴
الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَدْرَكَ لِي ثَارِي مِنْ أَعْدَائِي، وَ جَزَى اللَّهُ الْمُخْتَارَ خَيْرا
🔵 تمام تعریف ہے اس خدا کی جس نے ہمارے دشمنوں سے ہمارا انتقام لیا اور خدا مختار کو جزائے خیر عطا کرے۔
📚 رجال الكشي - إختيار معرفة الرجال، ص۱۲۷
https://t.me/klmnoor
https://www.facebook.com/klmnoor721
۱۴/ ربیع الثانی
#قیام_جناب_مختار_رحمه_الله
[قلائد النحور، ج ربیع الثانی، ص۲۲۵ ۲۲۹، فرسان الہیجاء، ج۲، ص۲۱۷، بحار الانوار، ج۴۵، ص۳۶۷]
▫️اس روز اہل بیت علیہم السلام کے شکستہ قلوب کو شاد کرنے والے جناب مختار نے «یا لثارات الحسین» کے نعرہ کے ساتھ کوفہ میں قیام کیا۔
جناب مختار نے پہلی ہجری میں طائف میں ولادت پائی اور سنہ ۶۷ ھ میں کوفہ میں مصعب بن زبیر کے ہاتھوں جام شہادت نوش کیا۔ آپ کی کنیت ابو اسحاق تھی۔
آپ کے والد ابو عُبَیده، بزرگ صحابہ میں سے تھے جو فارس کی جنگ میں شہید ہوئے۔ اور والد کی شہادت کے بعد آپ کے دو بھائی حکم اور جبیر بھی شہید ہوئے۔
▫️جناب مختار نے اپنی اٹھارہ ماہ کی حکومت میں حضرت سید الشہداء کے قاتلوں میں سے اٹھارہ ہزار لوگوں کو واصل نار کیا۔ یہ تعداد ان لوگوں کے علاوہ ہے جنہیں آپ کے اصحاب و انصار اور ابراہیم بن مالک اشتر نے کوفہ کے باہر اور خازر نہر کے کنارے مارا ہے۔
جناب مختار کے چچا سعد حضرت امیر المؤمنین اور امام حسن علیہما السلام کی جانب سے مدائن کے والی تھے۔ اور جب بھی کہیں جایا کرتے تو جناب مختار کو اپنی جگہ منصوب کرکے جاتے تھے۔
امیر المؤمنین علیہ السلام نے آپ کو فتح و ظفر کی خبر دی تھی اور جناب میثم تمّار نے کوفہ کے زندان میں بشارت دی تھی۔
▪️عید الاضحٰی کے دن جناب مختار کے فرزند حکم، حضرت امام باقر علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے، اور اپنا تعارف کرایا، امام باقر علیہ السلام نے ان کو اپنے پاس بلایا تو انہوں نے امام سے عرض کیا:
میرے مولا، لوگ میرے بابا کے بارے میں بہت برا بھلا کہتے ہیں۔ خدا کی قسم صحیح بات آپ ہی کی ہوگی۔
امام علیہ السلام فرمایا: لوگ کیا کہتے ہیں؟
جناب مختار کے فرزند نے کہا: کہتے ہیں میرے بابا جھوٹے تھے، اب آپ جو کہیں گے وہ مانوں گا۔
امام علیہ السلام نے فرمایا:
سبحان الله، میرے والد بزرگوار نے مجھے خبر دی ہے کہ میری والدہ کا مہر اس رقم سے تھا جو مختار نے میرے والد کو بھیجی تھی۔
مختار نے ہمارے برباد گھروں کو آباد کیا، اور ہمارے دشمنوں کو قتل کیا، جو بھی ہمارا خوں بہایا گیا اس کا مطالبہ کیا۔ اس کے بعد تین بار کہتے ہیں: «رَحِمَ اللهُ أباکَ»، یہاں تک کہ کوئی بھی ہم سے نہیں بچا جس کا بدلہ نہ لیا ہو۔
[بحار الأنوار (ط - بيروت)، ج۴۵، ص۳۴۳]
▫️بچپن کے زمانے میں حضرت امیر المؤمنین علیہ السلام آپ کو اپنے زانو پر بٹھاتے اور آپ پر لطف و کرم فرماتے اور سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے آپ سے فرماتے تھے:
یا کیّس یا کیّس ! اے ہوشیار، اے ہوشیار!
حضرت امام باقر علیہ السلام فرماتے ہیں:
واللہ میرے بابا نے مجھے خبر دی ہے کہ جناب مختار فاطمہ بنت امیر المؤمنین علیہ السلام کے یہاں آیا کرتے تھے اور وہ ان کے لئے فرش بچھایا کرتیں اور تکیہ درست کیا کرتی تھیں اور فرماتی تھی:
جو بھی حق ہم کسی پر رکھتے تھے اس نے اسکا مطالبہ کیا، ہمارے قاتلوں کو مارا اور ہمارے لئے بدلہ لیا۔
[بحار الانوار، ج۴۵، ص۳۴۳، ۴۵۱؛ اختیار معرفۃ الرجال، ج۱، ص۲۴۰]
▫️دوسری روایت میں ہے کہ فرماتے ہیں:
جس وقت مختار نے عبید اللہ کا سر نحس امام زین العابدین علیہ السلام کی خدمت میں ارسال کیا، اس وقت امام علیہ السلام دسترخوان پر تھے، وہ خوش ہوئے اور مختار کے لئے دعا کی۔
[اختیار معرفۃ الرجال، ج۱، ص۳۱۴، فرسان الہیجاء، ج۲، ص۱۹۸، ۱۹۹، ۲۴۴، ۲۴۵]
دیگر قول کے مطابق قیام جناب مختار کی تاریخ ۱۴ ربیع الاوّل کی رات سن ۶۶ ھ
[مقتل الحسین علیہ السلام (ابی مخنف) ص۳۲۶؛ بحارالانوار، ج۴۵، ۳۸۶]
اور ایک قول کے مطابق ۱۶ربیع الثانی تھی۔
[امالی طوسی، ص۲۴۰؛ بحار الانوار، ۴۵، ص۳۳۳، قلائد النحور، ج ربیع الثانی، ص۲۳۲]
📚تقویم شیعہ، عبد الحسین نیشابوری، انتشارات دلیل ما، ۱۴/ربیع الثانی، ص۱۳۵
https://t.me/klmnoor
https://www.facebook.com/klmnoor
721
#پرہیزگاری
#امتحان_الہی
#جہاد_بالنفس
🌹🌹حضرت امام علی علیہ السلام:
🟤
عِنْدَ حُضُورِ الشَّهَوَاتِ وَ اللَّذَّاتِ يَتَبَيَّنُ وَرَعُ الْأَتْقِيَاءِ.
🔵 خواہشوں اور لذّتوں کے سامنے آجانے کے وقت ہی پرہیزگاروں کی پارسائی ظاہر ہوتی ہے۔
📚 تصنيف غرر الحكم و درر الكلم، ص۲۷۳، ح۵۹۹۲، علائم المتقي و الورع
▫️▫️▫️▫️▫️
✍🏼 کسی شخص کی پرہیزگاری اس وقت معلوم ہوتی ہے جب اس کی وہ پسندیدہ چیز، جس کی اسے خواہش ہو اور جس سے اسے لذّت حاصل ہوتی ہو، اس کے سامنے آجائے اور اس کی دسترس میں بھی ہو، لیکن وہ محض اللہ عزّ و جلّ کے خوف کی وجہ سے اس سے دامن کھینچ لے۔
نہ یہ کہ جب وہ چیز سامنے موجود ہی نہ ہو اور اسے حاصل کرنا ممکن نہ ہو، انسان اس سے کنارہ کش ہونے کا عزم کرے۔
کیونکہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ انسان پہلے سے ایسا عزم تو کیے ہوئے ہوتا ہے، لیکن جب وہ چیز واقعی سامنے آجاتی ہے اور اسے حاصل کرنا ممکن ہوجاتا ہے تو وہ اپنے نفس پر قابو نہیں رکھ پاتا۔
📚 شرح آقا جمال خوانسارى بر غرر الحكم و درر الكلم، ج۴، ص۳۲۶۔
https://t.me/klmnoor
https://www.facebook.com/klmnoor721
۱۰/ ربیع الثانی
#وفات_حضرت_معصومہ_علیہا_السلام
▪️مشہور تاریخ کے مطابق سنہ ۲۰۱ھ میں اس دن حضرت وليۃ اللہ، خاتون خلق جہاں، عابدہ، زاہدہ، مستورہ حضرت فاطمہ معصومہ بنت امام موسی کاظم علیہ السلام کی رحلت ہوئی۔
[منتخب دریای سخن، ص ۳۴؛ مراقد المعارف، ج۲، ص۱۶۳؛ زندگانی کریمہ اہل بیت علیہم السلام، ص۸۳]
▪️حضرت معصومہ علیہا السلام قم میں ورود کے ۱۷ دن بعد، داغ پدر و فراق برادر سے شکستہ قلب کے ساتھ رحلت فرما جاتی ہیں۔ اور آپ علیہا السلام کی عزا میں تمام کا تمام شہر قم غم و الم میں ڈوب جاتا ہے۔
آپ علیہا السلام کے جسد اطہر کو تجہیز و تکفین کے بعد موسی بن خزرج کے باغ -موجودہ حرم مطہر- کی جانب لایا گیا۔ تبھی بیرون شہر سے دو نقابدار سوار نمودار ہوئے، انہوں نے آپ علیہا السلام پر نماز پڑھی، اسکے بعد سرداب میں داخل ہوئے اور بدن مطہر کو دفن کیا اور واپس چلے گئے، اور کوئی انہیں پہچان نہیں سکا۔
▫️موسی بن خزرج نے اس باغ کو حضرت معصومہ علیہا السلام کے لئے وقف کردیا، اور بوریا اور چٹائی کے ذریعہ مرقد مطہر پر سائبان بنایا۔ بعد میں زینب بنت امام جواد علیہ السلام نے قبر شریف پر ایک قبہ تعمیر کرایا۔ اس کے بعد ائمہ علیہم السلام کی دیگر بیٹیاں بھی وہاں پر دفن ہوئیں۔ جس وقت ام ّمحمّد بنت موسی بن محمّد بن علی الرضا علیہ السلام کی وفات ہوئی، تو انہیں آپ علیہا السلام کے قریں دفن کیا گیا۔ اس کے بعد ام محمد کی بہن میمونہ دنیا سے گئیں تو انہیں ام محمد کے پاس دفن کیا گیا۔ اور ان دونوں قبروں پر ایک دوسرا گنبد تعمیر کیا گیا، اس طرح کہ دو آپس میں جڑے ہوئے گنبد حضرت فاطمہ معصومہ علیہا السلام اور ام محمد و میمونہ کی قبر پر تھے۔
▫️معصومین علیہم السلام کی بیٹیوں کے علاوہ دو کنیزیں بھی یہاں دفن ہوئیں۔ ناصر الدین شاہ کے زمانے میں حرم مطہر کے فرش کی مرمّت کا کام ہو رہا تھا تبھی سرداب کا ایک راستہ دکھائی پڑتا ہے اور کچھ نیک و صالح خواتین اس میں داخل ہوتی ہیں، اور ہزار برس کے بعد بھی میمونہ اور دونوں کنیزوں کے تر و تازہ جنازوں کا مشاہدہ کرتی ہیں؛ یہ سرداب حضرت معصومہ علیہا السلام کے سرداب کے کنارے واقع ہے۔
[بحار الانوار، ج۶۰، ص۲۱۹۔۲۲۰، اجساد جاویدان، ص ۱۰۵۔]
مرحوم نمازی نے حضرت معصومہ علیہا السلام کے یوم وفات کو ۱۲/ ربیع الثانی سن ۲۰۱ هـ میں ذکر کیا ہے [مستدرک سفینة البحار، ج ۸، ص ۲۶۲] اور شیخ حرّ عاملی رحمۃ اللہ علیہ سے منسوب قول کے مطابق یوم وفات ۸/شعبان سن ۲۰۱ ھ ہے۔
[حیات السّت علیهم السلام : ص ۱۱ ]
▫️حضرت امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:
إِنَّ لِلَّهِ حَرَماً وَ هُوَ مَكَّةُ أَلَا إِنَّ لِرَسُولِ اللَّهِ حَرَماً وَ هُوَ الْمَدِينَةُ أَلَا وَ إِنَّ لِأَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ حَرَماً وَ هُوَ الْكُوفَةُ أَلَا وَ إِنَّ قُمَّ الْكُوفَةُ الصَّغِيرَةُ أَلَا إِنَّ لِلْجَنَّةِ ثَمَانِيَةَ أَبْوَابٍ ثَلَاثَةٌ مِنْهَا إِلَى قُمَّ تُقْبَضُ فِيهَا امْرَأَةٌ مِنْ وُلْدِي اسْمُهَا فَاطِمَةُ بِنْتُ مُوسَى وَ تُدْخَلُ بِشَفَاعَتِهَا شِيعَتِي الْجَنَّةَ بِأَجْمَعِهِم
خدا کے لئے ایک حرم ہے اور وہ مکّہ ہے، اور رسول خدا ص کے لئے ایک حرم ہے اور وہ مدینہ ہے اور امیر المؤمنین ع کے لئے ایک حرم ہے اور وہ کوفہ ہے اور قم کوفۂ صغیر ہے۔ اور معلوم ہو کہ جنت کے آٹھ دروازے ہیں جس کے تین دروازے قم کی جانب ہیں۔
اس شہر میں میری اولاد میں سے ایک خاتون رحلت کرے گی جس کا نام فاطمہ بنت موسی ہے اور اس کی شفاعت سے ہمارے تمام کے تمام شیعہ وارد بہشت ہونگے۔
[مجالس المؤمنین، ج ۱، ص ۸۳؛ بحار الأنوار، ج ۵۷، ص ۲۲۸ ]
📚 تقویم شیعہ، عبد الحسین نیشابوری، انتشارات دلیل ما، ۱۰/ ربیع الثانی، ص۱۳۲
https://t.me/klmnoor
https://www.facebook.com/klmnoor
721
#حضرت_آیۃ_اللہ_شبیری_زنجانی
إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَیْهِ رَاجِعُونَ
﴿اَلَّذِينَ تَتَوَفّٰاهُمُ اَلْمَلاٰئِكَةُ طَيِّبِينَ يَقُولُونَ سَلاٰمٌ عَلَيْكُمْ اُدْخُلُوا اَلْجَنَّةَ بِمٰا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ﴾
نہایت افسوس کے ساتھ یہ جانکاہ خبر موصول ہوئی کہ فقیہِ مکتب اہلِ بیت عصمت و طہارت علیہم السلام، مرجعِ عالی قدر، حضرت آیۃ اللہ العظمیٰ سید موسیٰ شبیری زنجانی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔
آپ نے ۸/ رمضان ۱۳۴۶ق میں ولادت پائی؛ آپ کی پوری حیاتِ بابرکت علم و فقاہت، تقویٰ و بصیرت، مسلسل علمی مجاہدت اور اخلاص و خدمت میں صرف ہوئی، اور فقاہت کی پاسبانی، معارفِ اہلِ بیت علیہم السلام کی ترویج اور مخلصانہ کاوشوں کے ساتھ کئی دہائیوں پر محیط طویل مجاہدت کے بعد، آخرالامر دارِ فانی سے رحلت فرما گئے۔
حضرت آیۃ اللہ العظمیٰ شبیری زنجانی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کی رحلت عالمِ تشیع، حوزات علمیہ اور اہلِ ایمان کے لیے ایک عظیم علمی و روحانی فقدان ہے۔
رب کریم انہیں جوار رحمت میں اعلیٰ درجات عطا فرمائے، ان کی علمی و دینی خدمات کو شرف قبولیت بخشے اور تمام سوگواران کو صبر جمیل و اجر جزیل عنایت فرمائے۔
ہم اس عظیم سانحے پر حضرت بقیۃ اللہ الاعظم عجل اللہ تعالیٰ فرجہ، مراجعِ عظام، علمائے کرام، مقلدین و متعلقین اور تمام عقیدت مندوں کی خدمت میں تعزیت پیش کرتے ہیں۔
https://t.me/klmnoor
https://www.facebook.com/klmnoor
721
#دو_بہترین_خصلتیں
🌹🌹 حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام:
🟤
خَصْلَتَانِ لَيْسَ فَوْقَهُمَا شَيْءٌ الْإِيمَانُ بِاللَّهِ وَ نَفْعُ الْإِخْوَانِ.
🔵 دو خصلتیں ایسی ہیں جن سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں: اللہ پر ایمان اور بھائیوں کو فائدہ پہنچانا۔
📚 تحف العقول، ص۴۸۹، و روي عنه ع في قصار هذه المعاني.....
https://t.me/klmnoor
https://www.facebook.com/klmnoor