ch
Feedback

不要被骗子欺骗!Telemetrio 会找到并标记这些频道 👉 如果想查看标记,请订阅

کلام نور

کلام نور

前往频道在 Telegram

✅علوم آل محمد علیہم السلام، احادیث، مواعظ، دینی معلومات پر مشتمل۔ 💻دینی معلومات کے لئے وبلاگ اور پیج کے ایڈرس: https://www.facebook.com/klmnoor http://klmnoor.blogspot.com https://t.me/klmnoor 📱آپ کے مفید مشوروں کے لئے: @Klmnoor_admin

显示更多
721
订阅者
-124 小时
+17 天
-130 天
帖子存档
#دروس_فاطمی 6⃣ #تین_محبوب_چیزیں 🌹🌹 حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا: 🟤 حُبِّبَ اِلَیَّ مِن دُنیاکم ثَلاثُ: تِلاوَةُ کِتابِ اللهِ، وَ النَّظَرُ فی وَجهِ رَسُولِ اللهِ، وَالإنفاقُ فی سَبیلِ الله۔ 🔵 مجھے تمہاری دنیا میں سے تین چیزیں محبوب ہیں: کتاب خدا کی تلاوت، رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ کے چہرے کی زیارت، اور راہِ خدا میں انفاق۔ 📚 وقائع الایام، حدیث ۲۹۵ ◽️◽️◽️◽️◽️◽️ صاحبِ بصیرت عرفاء کی نظر میں دنیا ہمیشہ رہنے والی آخرت تک پہنچنے کا ایک راستہ ہے۔ لہٰذا اس سے دل بستگی نہیں رکھنا چاہیے اور نہ دنیا کو محبوب رکھنا چاہیے۔ لیکن یہی قابلِ مذمت، فریبی اور بے وفا دنیا، آخرت کو سنوارنے اور سعادت حاصل کرنے کا ذریعہ بن سکتی ہے، بشرطیکہ انسان اس کے فریب میں نہ آئے، اس سے دل نہ لگائے اور اسے جنت تک پہنچنے کا وسیلہ اور پل بنا لے۔ یہ تین چیزیں جو دختر پیغمبر علیہما السلام کو محبوب اور پسندیدہ ہیں، انسان کو عاقبت بخیر اور جنتی بنا سکتی ہیں۔ کتاب خدا کی تلاوت دیدہ و دل کو روشن کرتی ہے۔ قرآں ہی ہے حیات روشن دل قرآں ہی ہے فروغ و شمع محفل درس اخلاص و وفا اس سے ہے جو بھی ہے صدق و صفا اس سے ہے اس مقدس کتاب سے انس و محبت اور آیاتِ وحی کی تلاوت دنیا سے دل بستگی کی ڈوریوں کو کاٹ دیتی ہے اور مسلمانوں کو آخرت کی طرف متوجہ کر دیتی ہے۔ حضرت رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے نورانی اور الٰہی چہرے کو دیکھنا بھی مادی وابستگیوں کو کم کرتا ہے اور دل میں آخرت کا عشق پیدا کرتا ہے۔ راہِ خدا میں خرچ کرنا بھی اس بات کی نشانی ہے کہ انسان مادّی چیزوں کی قید سے آزاد ہے، اور خالص اور بے ریا انفاق کے ذریعے جنت کو خریدا جا سکتا اور اللہ کی رضا تک پہنچا جا سکتا ہے۔ اگر اس حقیر دنیا کی یہ تین چیزیں حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کو محبوب ہیں، تو ان کے پیروکاروں کے لیے بھی نمونہ اور مثال بن سکتی ہیں۔ مبارک ہیں وہ لوگ جو "دنیا" کو "آخرت" کی سعادت کا ذریعہ بناتے ہیں۔ 📚 حکمت ہای فاطمی(ترجمہ و توضیح چہل حدیث از حضرت فاطمہ علیہا السّلام)، جواد محدثی https://t.me/klmnoor https://www.facebook.com/klmnoor

#دروس_فاطمی 6️⃣ #تین_محبوب_چیزیں 🌹🌹 حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا: 🟤 حُبِّبَ اِلَیَّ مِن دُنیاکم ثَلاثُ: تِلاوَةُ کِتابِ
#دروس_فاطمی 6️⃣ #تین_محبوب_چیزیں 🌹🌹 حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا: 🟤 حُبِّبَ اِلَیَّ مِن دُنیاکم ثَلاثُ: تِلاوَةُ کِتابِ اللهِ، وَ النَّظَرُ فی وَجهِ رَسُولِ اللهِ، وَالإنفاقُ فی سَبیلِ الله۔ 🔵 مجھے تمہاری دنیا میں سے تین چیزیں محبوب ہیں: کتاب خدا کی تلاوت، رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ کے چہرے کی زیارت، اور راہِ خدا میں انفاق۔ 📚 وقائع الایام، حدیث 295

#دروس_فاطمی 5⃣ #دعائے_حضرت_زہرا_سلام_اللہ_علیہا حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی جمعرات کے دن کی دعاؤں میں سے: 🟤 اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْهُدَى وَ التُّقَى وَ الْعَفَافَ وَ الْغِنَى وَ الْعَمَلَ بِمَا تُحِبُّ وَ تَرْضَى۔ 🔵 خدایا! میں تجھ سے ہدایت اور تقویٰ، پاکدامنی اور بے نیازی کا سوال کرتی ہوں، اور ایسے عمل کی توفیق جو تجھے پسند ہو اور جس سے تو راضی ہو۔ 📚 بحارالانوار، ج 87، ص 339 ◽️◽️◽️◽️◽️ ✍🏼 سب اللہ کی "ہدایت" کے محتاج ہیں۔ ہم روزانہ نماز میں کئی بار اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمیں "سیدھے راستے" کی ہدایت فرمائے، اور یہی اس ضرورت کی دلیل ہے۔ ہمیں ہدایت کی بھی ضرورت ہے اور تقویٰ کی بھی، جو دنیا سے آخرت کے لیے جمع کی ہوئی پونجی ہے اور ہمیشہ کے سفر کا زادِ راہ۔ عفّت و پاکدامنی اور بے نیازی حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی دوسری دعائیں ہیں۔ ایک مسلمان کے عمل کا جو اصل معیار ہے وہ اللہ کی بارگاہ میں شرف "قبولیت" ہے۔ کام کی قدر و منزلت تبھی ہے جب اللہ اسے پسند کرے اور اس سے راضی ہو۔ اللہ پرہیزگار، فرماں بردار، شکر گزار اور نیک بندوں کو دوست رکھتا ہے۔ وہ مخلص نیکوکاروں، انفاق کرنے والوں اور بے ریا عبادت گزاروں سے راضی ہوتا ہے۔ یہ جاننا کہ کون سا کام اللہ کو پسند ہے اور کون سا ناپسند، ایک قدم ہے اور اس کی رضا کے مطابق عمل کرنا اور جو چیز اسے ناپسند ہو اس سے بچنا، دوسرا قدم۔ خدایا ہو ایسا سرانجام کار تو راضی رہے اور ہم رستگار ایسے طرزِ عمل کی توفیق بھی اللہ ہی سے مانگنی چاہیے، اور ان چیزوں کی ہدایت بھی جو اس کی رضا کا سبب قرار پائیں۔ 📚 حکمت ہای فاطمی(ترجمہ و توضیح چہل حدیث از حضرت فاطمہ علیہا السّلام)، جواد محدثی https://t.me/klmnoor https://www.facebook.com/klmnoor

#دروس_فاطمی 5⃣ #دعائے_حضرت_زہرا_سلام_اللہ_علیہا حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی جمعرات کے دن کی دعاؤں میں سے: 🟤 اللَّهُمّ
#دروس_فاطمی 5⃣ #دعائے_حضرت_زہرا_سلام_اللہ_علیہا حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی جمعرات کے دن کی دعاؤں میں سے: 🟤 اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْهُدَى وَ التُّقَى وَ الْعَفَافَ وَ الْغِنَى وَ الْعَمَلَ بِمَا تُحِبُّ وَ تَرْضَى۔ 🔵 خدایا! میں تجھ سے ہدایت اور تقویٰ، پاکدامنی اور بے نیازی کا سوال کرتی ہوں، اور ایسے عمل کی توفیق جو تجھے پسند ہو اور جس سے تو راضی ہو۔ 📚 بحارالانوار، ج ۸۷، ص ۳۳۹

#دروس_فاطمی 4️⃣#امور_خانہ_داری ▫️جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ نے گھر کے اندرونی امور جناب فاطمہ سلام اللہ علیہا کے سپرد کیے اور گھر سے باہر کے کام حضرت علی علیہ السلام ذمّے کیے،▫️ تو حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا نے فرمایا: 🟤 فَلَا يَعْلَمُ مَا دَخَلَنِي مِنَ السُّرُورِ إِلَّا اللَّهُ بِإِكْفَائِي رَسُولُ اللَّهِ ص تَحَمُّلَ‏ أَرْقَابِ‏ الرِّجَالِ‏. ا🔵 للہ کے سوا کوئی نہیں جانتا کہ اس بات سے مجھے کتنی خوشی ہوئی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے مجھے مردوں کے شانہ بشانہ ہونے (اور گھر سے باہر کے کاموں) سے سبکدوش کر دیا۔ 📚وسائل الشیعه، ج ۱۴، ص ۱۲۳۔ ▫️▫️▫️▫️▫️ ✍🏼 جب عورت کا سب سے قیمتی زیور "حجاب اور پاکدامنی" ہے، تو اس کی حفاظت بھی ضروری ہے۔ عورتوں اور مردوں کے تعلقات میں شرعی حدود کا خیال رکھنا، مشکلات پیدا کرنے والی بے تکلفی، وسوسہ انداز گفتگو اور اخلاقی اصولوں سے ہٹ کر برتاؤ سے پرہیز کرنا ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے، اور جتنا زیادہ ان شرعی حدود کا خیال رکھا جائے، اتنا ہی معاشرے، خواتین اور نوجوانوں کے حق میں بہتر ہوگا۔ اگرچہ گھر سے باہر کے امور اور سماجی، ثقافتی اور تعلیمی سرگرمیوں میں حصّہ لینا عورتوں اور لڑکیوں کے لیے حرام نہیں ہے، لیکن خواتین کا اصل کمال ماں کا کردار نبھانا، بچوں کی تربیت کرنا اور گھر کے معاملات کو سنبھالنا ہے۔ باہر کی سرگرمیوں میں شرکت سے، لامحالہ نامحرم مرد و عورت کا آمنا سامنا اور نظروں کا ٹکراؤ ہو ہی جاتا ہے، اور اگر اسے کم کیا جا سکے تو بہتر ہے۔ نامحرموں سے میل جول سے پرہیز اس لیے پسندیدہ ہے کہ اس سے پاکدامنی کی حفاظت کے لیے بہتر ماحول فراہم ہوتا ہے۔ حضرت زہرا سلام اللہ علیہا اس بات سے خوش ہوئیں کہ گھر سے باہر کے کام حضرت امام علی علیہ السلام کے کندھوں پر آئے اور گھر کے اندر کے کام ان کے اپنے ذمے، تاکہ انہیں باہر جانے کی ضرورت نہ پڑے۔ یہ بنیادی طریقہ ہی فاطمی راہ ہے اور اسی سے ان کی خوشنودی حاصل ہوتی ہے۔ 📚 حکمت ہای فاطمی(ترجمہ و توضیح چہل حدیث از حضرت فاطمہ علیہا السّلام)، جواد محدثی https://t.me/klmnoor https://www.facebook.com/klmnoor

#دروس_فاطمی 4️⃣#حقیقی_شیعہ؟! ▫️جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ نے گھر کے اندرونی امور جناب فاطمہ سلام اللہ علیہا کے سپرد کیے
#دروس_فاطمی 4️⃣#حقیقی_شیعہ؟! ▫️جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ نے گھر کے اندرونی امور جناب فاطمہ سلام اللہ علیہا کے سپرد کیے اور گھر سے باہر کے کام حضرت علی علیہ السلام ذمّے کیے،▫️ تو حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا نے فرمایا: 🟤 فَلَا يَعْلَمُ مَا دَخَلَنِي مِنَ السُّرُورِ إِلَّا اللَّهُ بِإِكْفَائِي رَسُولُ اللَّهِ ص تَحَمُّلَ‏ أَرْقَابِ‏ الرِّجَالِ‏. ا🔵 للہ کے سوا کوئی نہیں جانتا کہ اس بات سے مجھے کتنی خوشی ہوئی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے مجھے مردوں کے شانہ بشانہ ہونے (اور گھر سے باہر کے کاموں) سے سبکدوش کر دیا۔ 📚وسائل الشیعه، ج ۱۴، ص ۱۲۳۔

#دروس_فاطمی 3️⃣#حقیقی_شیعہ؟! 🌹🌹 حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا: ▫️إنْ كُنْتَ تَعْمَلُ بِمَا أَمَرْنَاكَ، وَ تَنْتَهِي عَمَّا زَجَرْنَاكَ عَنْهُ فَأَنْتَ مِنْ شِيعَتِنَا، وَ إِلَّا فَلَا.▫️ 🟤 قالَ رَجُلٌ لِامْرَأَتِهِ: اذْهَبِي إِلَى فَاطِمَةَ ع بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ ص فَسَلِيهَا عَنِّي، أَنَا مِنْ شِيعَتِكُمْ، أَوَ لَسْتُ مِنْ شِيعَتِكُمْ فَسَأَلَتْهَا، فَقَالَتْ ع: قُولِي لَهُ: إِنْ كُنْتَ تَعْمَلُ بِمَا أَمَرْنَاكَ، وَ تَنْتَهِي عَمَّا زَجَرْنَاكَ عَنْهُ فَأَنْتَ مِنْ شِيعَتِنَا، وَ إِلَّا فَلَا. 🔵 ایک شخص نے اپنی زوجہ سے کہا: حضرت فاطمہ بنت رسول اللہ علیہما السلام کی خدمت میں جاؤ اور میرے بارے میں سوال کرو کہ آیا میں آپ کے شیعوں میں سے ہوں یا نہیں؟ اس نے سوال کیا۔ حضرت فاطمہ علیہا السلام نے فرمایا: ان سے کہہ دو؛ جس چیز کا ہم نے تمہیں حکم دیا ہے اگر اس پر عمل کرتے ہو، اور جس سے ہم نے منع کیا ہے اس سے رکتے ہو تو ہمارے شیعوں میں سے ہو۔ ورنہ نہیں۔ 📚 التفسير المنسوب إلى الإمام الحسن العسكري عليه السلام، ص308، [بيان معنى الشيعة:] ▫️▫️▫️▫️▫️ ✍🏻 شیعہ یعنی پیروی کرنے والا۔ تشیع ایک نورانی راستہ ہے جو حضرت امیر المومنین علیہ السلام کی امامت اور اہل بیت پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ کی عصمت پر اعتقاد سے شروع ہوتا ہے اور ان کے ارشادات کی پیروی اور اخلاق و کردار کی اتباع پر ختم ہوتا ہے۔ حضرت امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: ہمارے لئے باعث زینت بنیں، باعث ذلّت نہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ لوگ پیروکاروں کے کردار کو ان کے رہبروں سے منسوب کرتے ہیں، ہم اپنے اعمال سے ائمہ طاہرین کے لئے زینت کا سبب بھی ہوسکتے ہیں اور اگر ہمارے اعمال برے ہوں تو ان کی شرمندگی کا باعث بھی ہوں گے۔ شیعہ ہونے کا مطلب صرف محبّت نہیں ہے۔ محبّت بھی اگر سچی اور واقعی ہو، تو انسان کو ہمراہی اور اتّباع کی طرف لے جاتی ہے۔ اہل بیت پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ ہمارے واسطہ اسوہ اور نمونۂ عمل ہیں۔ ہم جس قدر عمل میں ان کے مشابہ ہوں گے اور ان کے اقوال پر عمل کریں گے اور ان کی منع کردہ چیزوں سے اجتناب کریں گے اتنے ہی شیعہ ہوں گے۔ بعض لوگ فقط نام کے شیعہ ہوتے ہیں اور عمل میں عترت اطہار علیہم السلام سے کسی طرح کی شباہت نہیں رکھتے۔ اگر ایسا ہو، تو خود کو شیعہ کیسے کہہ سکتے ہیں؟ 📚 حکمت ہای فاطمی(ترجمہ و توضیح چہل حدیث از حضرت فاطمہ علیہا السّلام)، جواد محدثی https://t.me/klmnoor https://www.facebook.com/klmnoor

#دروس_فاطمی 3️⃣#حقیقی_شیعہ؟! 🌹🌹 حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا: ▫️إنْ كُنْتَ تَعْمَلُ بِمَا أَمَرْنَاكَ، وَ تَنْتَهِي عَمّ
#دروس_فاطمی 3️⃣#حقیقی_شیعہ؟! 🌹🌹 حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا: ▫️إنْ كُنْتَ تَعْمَلُ بِمَا أَمَرْنَاكَ، وَ تَنْتَهِي عَمَّا زَجَرْنَاكَ عَنْهُ فَأَنْتَ مِنْ شِيعَتِنَا، وَ إِلَّا فَلَا.▫️ 🟤 قالَ رَجُلٌ لِامْرَأَتِهِ: اذْهَبِي إِلَى فَاطِمَةَ ع بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ ص فَسَلِيهَا عَنِّي، أَنَا مِنْ شِيعَتِكُمْ، أَوَ لَسْتُ مِنْ شِيعَتِكُمْ فَسَأَلَتْهَا، فَقَالَتْ ع: قُولِي لَهُ: إِنْ كُنْتَ تَعْمَلُ بِمَا أَمَرْنَاكَ، وَ تَنْتَهِي عَمَّا زَجَرْنَاكَ عَنْهُ فَأَنْتَ مِنْ شِيعَتِنَا، وَ إِلَّا فَلَا. 🔵 ایک شخص نے اپنی زوجہ سے کہا: حضرت فاطمہ بنت رسول اللہ علیہما السلام کی خدمت میں جاؤ اور میرے بارے میں سوال کرو کہ آیا میں آپ کے شیعوں میں سے ہوں یا نہیں؟ اس نے سوال کیا۔ حضرت فاطمہ علیہا السلام نے فرمایا: ان سے کہہ دو؛ جس چیز کا ہم نے تمہیں حکم دیا ہے اگر اس پر عمل کرتے ہو، اور جس سے ہم نے منع کیا ہے اس سے رکتے ہو تو ہمارے شیعوں میں سے ہو۔ ورنہ نہیں۔ 📚 التفسير المنسوب إلى الإمام الحسن العسكري عليه السلام، ص308، [بيان معنى الشيعة:]

#دروس_فاطمی 2️⃣#خالص_عبادت 🌹🌹حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا: 🟤 مَنْ أَصْعَدَ إِلَى اللَّهِ خَالِصَ عِبَادَتِهِ أَهْبَطَ اللَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ إِلَيْهِ أَفْضَلَ مَصْلَحَتِهِ۔ 🔵 جو شخص اپنی خالصانہ عبادت کو خدا کی بارگاہ میں پیش کرتا ہے خدائے عزّ و جلّ اس پر اپنی بہترین مصلحت نازل فرماتا ہے۔ 📚 تنبيه الخواطر و نزهة النواظر المعروف بمجموعة ورّام‏، ج‏۲، ص۱۰۸۔ ▫️▫️▫️▫️▫️ ✍🏻 کہتے ہیں "حرکت میں برکت ہے" دینی اور روحانی کاموں میں بھی ایسا ہی ہے۔ خدائے متعال ریاکارانہ اور منافقانہ عبادتوں کو قبول نہیں فرماتا، حقیقت میں ایسی عبادت میں "عروج" کی صلاحیت نہیں ہوتی اور وہ زمین، مادّیات اور خواہشات کی حدود میں ہی باقی رہ جاتی ہے۔ خدا اخلاص کو اپنی بارگاہ میں قبول کرتا ہے اور اس پر اجر دیتا ہے۔ اخلاص اعمال کو اوج عطا کرتا ہے اور اسے عرش تک لے جاتا ہے، جو شخص چاہتا ہے کہ اس کی عبادت خالق کی بارگاہ میں شرف قبولیت پائے، اسے "اخلاص" سے آراستہ کرے تاکہ وہ عروج کے قابل بن سکے۔ خدا کریم ہے اور وہ اپنے کرم سے ہر وہ چیز اپنے مخلص بندے کو عطا فرماتا ہے جسے اس کے حق میں بہتر جانتا ہے، اور غیب کے نہاں خانے اور اپنے جود و سخا کے خزانے سے اس کو نوازتا ہے۔ البتہ خالص عمل اور بے ریا عبادت ایک مشکل کام ہے۔ نیک کام کرنے والے کبھی کبھی ریا کاری کے دلدل میں پھنس جاتے ہیں اور اعمال ریاکاری، دکھاوے، فریب، اور دنیا پرستی سے آلودہ ہوجاتے ہیں۔ احادیث کے مطابق، مخلصین بھی "بڑے خطرے" میں ہیں اور ابلیس جیسا فتنہ پرور مسلسل نیّتوں کو خراب کرنے اور عبادتوں کو ریاکاری سے آلودہ کرنے کی کوشش میں لگا رہتا ہے۔ اگر کوئی بندہ خالص عبادت کو خدا کی بارگاہ میں بھیجے تو وہ بھی اسے بہترین خیر و مصلحت سے نوازتا ہے۔ 📚 حکمت ہای فاطمی (ترجمہ و توضیح چہل حدیث از حضرت فاطمہ علیہا السّلام)، جواد محدثی۔ https://t.me/klmnoor https://www.facebook.com/klmnoor

#دروس_فاطمی 2️⃣#خالص_عبادت 🌹🌹حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا: 🟤 مَنْ أَصْعَدَ إِلَى اللَّهِ خَالِصَ عِبَادَتِهِ أَهْبَطَ ا
#دروس_فاطمی 2️⃣#خالص_عبادت 🌹🌹حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا: 🟤 مَنْ أَصْعَدَ إِلَى اللَّهِ خَالِصَ عِبَادَتِهِ أَهْبَطَ اللَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ إِلَيْهِ أَفْضَلَ مَصْلَحَتِهِ۔ 🔵 جو شخص اپنی خالصانہ عبادت کو خدا کی بارگاہ میں پیش کرتا ہے خدائے عزّ و جلّ اس پر اپنی بہترین مصلحت نازل فرماتا ہے۔ 📚 تنبيه الخواطر و نزهة النواظر المعروف بمجموعة ورّام‏، ج‏۲، ص۱۰۸۔

#دروس_فاطمی 1️⃣ #صلہ_رحمی 🌹🌹 حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا: 🟤 جَعَلَ اللهُ... صِلَةَ الأرحامِ مَنسَأةً فیِ العُمرِ و مَنماةً لِلعَدَد۔ 🔵 خداوند نے صلہ رحمی اور رشتہ داروں کے ساتھ نیکی کو، طولِ عمر اور ان کی تعداد میں اضافے کا سبب قرار دیا ہے۔ 📚 العوالم، ج ۱۱، ص ۴۷۰ ▫️▫️▫️▫️▫️ ✍🏼 حضرت فاطمہ (علیہا السلام) کے ایک بلند پایہ کلام میں، جہاں بعض الٰہی احکام اور دینی آداب و سنن کی حکمت بیان کی گئی ہے، صلہ رحمی کے واجب ہونے کی حکمت عمر میں اضافہ اور رشتہ داروں کی کثرت کو قرار دیا گیا ہے۔ صلہ رحمی قرآن کی تاکید اور پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی نصیحت ہے۔ رشتہ داری کا تعلق مضبوط ترین تعلقات میں سے ہے۔ اس رشتے کی حفاظت اور اسے مضبوط رکھنے سے خاندان کے افراد ایک دوسرے کے حال سے باخبر رہتے ہیں، ایک دوسرے کے غم اور خوشی میں شریک ہوتے ہیں اور ایک دوسرے کی مدد اور تعاون کرتے ہیں۔ صلہ رحمی عمر کو طویل اور رزق میں اضافہ کرتی ہے اور اللہ کی رضا کا سبب ہے۔ صلہ رحمی صرف رشتہ داروں کے گھر آنے جانے کا نام نہیں، بلکہ ان کی مدد اور اعانت، مشکلات میں ہمدردی اور ایک دوسرے کے کاموں میں شریک رہنے کا نام ہے۔ قرآنی تعلیمات اس اچھی سنت کی دعوت دے کر افراد کے درمیان تعلق کی ڈوریوں کو مضبوط کرتی ہیں۔ اس کے بغیر خاندان کے افراد ایک دوسرے سے اجنبی اور بے خبر ہو جاتے ہیں اور محبتیں بھی رفتہ رفتہ کم ہوتی جاتی ہیں اور ہمدلی اور یکجہتی کی روح ختم ہو جاتی ہے۔ اس بہترین سنّت اور سماجی پروگرام کی قدر کریں، رشتہ داروں کی خبر گیری کریں اور ان کے حال سے بے خبر نہ رہیں۔ 📚 حکمت ہای فاطمی (ترجمہ و توضیح چہل حدیث از حضرت فاطمہ علیہا السّلام)، جواد محدثی https://t.me/klmnoor https://www.facebook.com/klmnoor

#دروس_فاطمی 1️⃣ #صلہ_رحمی 🌹🌹 حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا: 🟤 جَعَلَ اللهُ... صِلَةَ الأرحامِ مَنسَأةً فیِ العُمرِ و مَن
#دروس_فاطمی 1️⃣ #صلہ_رحمی 🌹🌹 حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا: 🟤 جَعَلَ اللهُ... صِلَةَ الأرحامِ مَنسَأةً فیِ العُمرِ و مَنماةً لِلعَدَد۔ 🔵 خداوند نے صلہ رحمی اور رشتہ داروں کے ساتھ نیکی کو، طولِ عمر اور ان کی تعداد میں اضافے کا سبب قرار دیا ہے۔ 📚 العوالم، ج ۱۱، ص ۴۷۰

#سماعت #ہم_کیا_سن_رہے_ہیں؟ 🌹🌹 حضرت امام زین العابدین علیہ السلام: 🟤 لَيْسَ لَكَ أَنْ تَسْمَعَ مَا شِئْتَ لِأَنَّ اَللَّهَ تَعَالَى يَقُولُ إِنَّ اَلسَّمْعَ وَ اَلْبَصَرَ وَ اَلْفُؤٰادَ كُلُّ أُولٰئِكَ كٰانَ عَنْهُ مَسْؤُلاً۔ 🔵 تمہیں یہ حق نہیں کہ جو چاہو سنتے رہو؛ کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: بیشک کان، آنکھ اور دل ان سب سے باز پرس ہوگی۔ 📚 علل الشرائع، ج۲، ص۶۰۶، ح۸۰ باب نوادر العلل ▫️▫️▫️▫️▫️ ✍🏼 انسان اپنے اردگرد کی دنیا کو صرف آنکھوں سے نہیں دیکھتا، بلکہ کانوں سے سنتا اور دل سے اسے قبول کرتا ہے یا رد کر دیتا ہے۔ جب ہم دوسروں کی باتیں سنتے ہیں تو ان سے کچھ سیکھتے ہیں اور نئی چیزوں سے آگاہ ہوتے ہیں۔ ہماری سنی ہوئی بات صرف آواز بن کر ہمارے کانوں سے نہیں گزرتی بلکہ ہمارے دل و دماغ، مزاج اور کردار پر اثر چھوڑ جاتی ہے۔ چنانچہ حضرت امام سجاد علیہ السلام ایک روایت میں کان کے حق کو واضح کرتے ہوئے اسے باتوں کو دل میں اتارنے کا دروازہ قرار دیتے ہیں: ▫️ أَمَّا حَقُّ السَّمْعِ فَتَنْزِيهُهُ عَنْ أَنْ تَجْعَلَهُ طَرِيقاً إِلَى‏ قَلْبِكَ‏ إِلَّا لِفُوَّهَةٍ كَرِيمَةٍ تُحْدِثُ فِي قَلْبِكَ خَيْراً أَوْ تَكْسِبُ خُلُقاً كَرِيماً فَإِنَّهُ بَابُ الْكَلَامِ إِلَى الْقَلْبِ يُؤَدِّي إِلَيْهِ ضُرُوبُ الْمَعَانِي عَلَى مَا فِيهَا مِنْ خَيْرٍ أَوْ شَرٍّ۔ ▫️ اور کان کا حق یہ ہے کہ اسے ایسی نیک بات کے سوا، جو تمہارے دل میں نیکی پیدا کرے یا تمہیں اچھا اخلاق عطا کرے، دوسری باتوں کے لیے دل تک پہنچنے کا راستہ بنانے سے محفوظ رکھو۔ کیونکہ کان دل تک پہنچنے والی باتوں کا دروازہ ہے، جس کے ذریعے مختلف معانی اس تک پہنچتے ہیں، خواہ اچھے ہوں یا برے۔ 📚 تحف العقول، ص۲۵۷۔ رسالته ع المعروفة برسالة الحقوق حضرت امام سجاد علیہ السلام اپنی نصیحت میں نشست و برخاست اور گفتگو کے حدود بیان کرتے ہوئے سماعت کے بارے میں بھی تاکید فرماتے ہیں کہ تمہیں یہ حق نہیں کہ جو چاہو سنتے رہو۔ یعنی اس بات کا خیال رہے کہ جو ہم سن رہے ہیں اور اپنے دل میں اتار رہے ہیں، کیا وہ شریعت کے مطابق بھی ہے؟ اس سے ہمیں کیا فائدہ ہوگا؟ اگر کہیں غیبت ہو رہی ہو یا جھوٹے الزامات لگائے جا رہے ہوں تو کیا ہم اسے سن کر اپنی شخصیت میں کچھ اضافہ کریں گے؟ کیونکہ انسان نشست و برخاست اور گفتگو کی طرح اپنی سماعت کا بھی ذمہ دار ہے۔ لہٰذا کسی چیز کو سننے سے پہلے غور کریں: میں روزانہ کیسی باتیں اپنے ذہن میں داخل کرتا ہوں؟ کیا اس سے میرے علم اور اخلاق میں کچھ اضافہ ہوتا ہے؟ کہیں ایسی چیزیں نفرت، بدگمانی اور بے حیائی تو پیدا نہیں کر رہیں؟ اسی لیے جہاں حضرت امیرالمومنین علیہ السلام اچھی باتیں سننے کی تاکید فرماتے ہیں: ▫️ إذا لَم تَكُن عالِما ناطِقا فَكُن مُستَمِعا واعِيَا۔ ▫️ اگر بولنے والے عالم نہیں ہو تو توجه سے سننے اور یاد رکھنے والے بنو۔ 📚 تصنيف غرر الحكم و درر الكلم، ۴۳، طلب العلم وہیں بیہودہ باتوں پر کان لگانے سے منع فرماتے ہوئے اس کے نتائج سے آگاہ کرتے ہیں: ▫️ عَوِّدْ أُذُنَكَ حُسْنَ الِاسْتِمَاعِ وَ لَا تَصْغِ إِلَى مَا لَا يَزِيدُ فِي صَلَاحِكَ اسْتِمَاعُهُ فَإِنَّ ذَلِكَ يُصْدِي الْقُلُوبَ وَ يُوجِبُ الْمَذَامَّ ▫️ اپنے کان کو اچھے سے سننے کا عادی بناؤ اور ان چیزوں پر کان نہ لگاؤ جو تمہاری بھلائی میں اضافہ نہ کریں، کیونکہ ایسی باتیں دلوں کو زنگ آلود کرتی ہیں اور ملامت کا باعث بنتی ہیں۔ 📚 تصنيف غرر الحكم و درر الكلم، ص۲۱۵، ح۴۲۱۱، متفرقات سماعت کی پاکیزگی اس میں ہے کہ انسان اپنے کانوں کو علم، حکمت، خیر اور اصلاح کے لیے استعمال کرے اور ایسی چیزوں سے بچے جو اس کے ایمان، اخلاق اور قلب کو خراب کرتی ہیں۔۔ https://t.me/klmnoor https://www.facebook.com/klmnoor

#سماعت #ہم_کیا_سن_رہے_ہیں؟ 🌹🌹 حضرت امام زین العابدین علیہ السلام: 🟤 لَيْسَ لَكَ أَنْ تَسْمَعَ مَا شِئْتَ لِأَنَّ اَللَّهَ
#سماعت #ہم_کیا_سن_رہے_ہیں؟ 🌹🌹 حضرت امام زین العابدین علیہ السلام: 🟤 لَيْسَ لَكَ أَنْ تَسْمَعَ مَا شِئْتَ لِأَنَّ اَللَّهَ تَعَالَى يَقُولُ إِنَّ اَلسَّمْعَ وَ اَلْبَصَرَ وَ اَلْفُؤٰادَ كُلُّ أُولٰئِكَ كٰانَ عَنْهُ مَسْؤُلاً۔ 🔵 تمہیں یہ حق نہیں کہ جو چاہو سنتے رہو؛ کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: بیشک کان، آنکھ اور دل ان سب سے باز پرس ہوگی۔ 📚 علل الشرائع، ج۲، ص۶۰۶، ح۸۰ باب نوادر العلل

🌷۱۵/ جمادی الاولیٰ؛ (بروایتے) یوم ولادت با سعادت 🌷زين العابدين 🌷سيّد العابدين 🌷زين الصّالحين 🌷وارث علم النّبيّين 🌷وصيّ
🌷۱۵/ جمادی الاولیٰ؛ (بروایتے) یوم ولادت با سعادت 🌷زين العابدين 🌷سيّد العابدين 🌷زين الصّالحين 🌷وارث علم النّبيّين 🌷وصيّ الوصيّين 🌷خازن وصايا المرسلين 🌷 إمام المؤمنين 🌷منار القانتين 🌷ابن الخِيَرَتَيْن‏. 🌷حضرت امام #علی بن الحسین علیہما السلام مبارک✨🌹✨ https://t.me/klmnoor https://www.facebook.com/klmnoor

🔅حضرت امام #سجاد_علیہ_السلام 🔅 🔹حضرت امام سجاد(ع) کا نام کیا ہے؟ 🔸علی(ع) 🔹حضرت امام سجاد(ع) کے دو مشہور القاب کون سے ہیں؟ 🔸سجاد، زین العابدین 🔹حضرت امام سجاد(ع)کی کنیت کیا ہے؟ 🔸ابومحمد 🔹حضرت امام سجاد(ع) کون سے امام ہیں؟ 🔸چوتھے امام 🔹حضرت امام سجاد(ع) کے والد کا نام؟ 🔸حضرت امام حسین(ع) 🔹حضرت امام سجاد(ع) کی والدہ کانام؟ 🔸جناب شهربانو 🔹حضرت امام سجاد(ع) کی تاریخ ولادت؟ 🔸۵ شعبان یا ۱۵ جمادی الاولیٰ 🔹حضرت امام سجاد(ع) کی کس سنہ میں ولادت ہوئی؟ 🔸۳۸ هجری میں 🔹حضرت امام سجاد(ع) کی جائے پیدائش؟ 🔸مدینہ منورہ 🔹حضرت امام سجاد(ع) نے کتنے برس امامت کے فرائض انجام دیئے؟ 🔸۳۵ سال 🔹حضرت امام سجاد(ع) کا سن مبارک کیا ہے؟ 🔸۵۷ سال 🔹حضرت امام سجاد(ع) کی تاریخ شهادت کیا ہے؟ 🔸۱۲ یا ۲۵ محرم الحرام 🔹حضرت امام سجاد(ع) نے کس سال شہادت پائی؟ 🔸۹۵ قمری 🔹حضرت امام سجاد(ع)کی جائے شهادت کیا ہے؟ 🔸مدینہ منوره 🔹حضرت امام سجاد(ع)کی شهادت کیسے ہوئی ؟ 🔸ہشام بن عبد الملک کے ذریعہ مسموم ہوئے 🔹حضرت امام سجاد(ع)کہاں دفن ہیں؟ 🔸قبرستان بقیع میں 🔹حضرت امام سجاد(ع) کس عمر میں درجہ امامت پر فائز ہوئے ؟ 🔸۲۳ برس کی عمر میں 🔹حضرت امام سجاد(ع) کی دعاؤں کے مجموعہ کا کیا نام ہے؟ 🔸صحیفۂ سجّادیہ 🔹صحیفۂ سجادیہ میں کتنی دعائیں ہیں ؟ 🔸۵۴ دعائیں 🔹کون سی کتاب اخت القرآن،انجیل اہل بیت و زبور آل محمد کے نام سے معروف ہے؟ 🔸صحیفۂ سجادیہ 🔹حضرت امام سجاد(ع) کی کتاب کا نام کیا ہے؟ 🔸رسالۃ الحقوق 🔹حضرت امام سجاد(ع)نے کتنی مرتبہ حج کے فرائض انجام دیئے؟ 🔸۲۰ مرتبہ۔ 🔹کس نے سب سے پہلے امام حسین (ع) کی تربت کی سجدہ گاہ اور تسبیح کے ساتھ نماز پڑھی؟ 🔸حضرت امام سجاد(ع) نے۔ 🔹دعائے ابو حمزهٔ ثمالی کس امام معصوم سے ہے؟ 🔸حضرت امام سجاد(ع) سے۔ 🔹حضرت امام سجاد(ع) کس امام کے داماد تھے؟ 🔸حضرت امام حسن مجتبی(ع) کے۔ 🔹حضرت امام سجاد(ع) کی کتنی اولادیں تھیں؟ 🔸۱۱ بیٹے اور ۴ بیٹیاں 🔹حضرت امام سجاد(ع) کی ولادت کے وقت کون امام تھا؟ 🔸امام علی(ع) 🔹حضرت امام سجاد(ع) کی شہادت کے وقت کون خلیفہ تھا؟ 🔸ولید بن عبدالملک. https://t.me/klmnoor https://www.facebook.com/klmnoor

۱۳/ جمادی الاولیٰ #شہادت_حضرت_زہرا_علیہا_السلام.
۱۳/ جمادی الاولیٰ #شہادت_حضرت_زہرا_علیہا_السلام.

۱۳/ جمادی الاولیٰ #شہادت_حضرت_زہرا_علیہا_السلام ▪️حضرت امّ الائمۃ النجباء صدیقہ کبریٰ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی مدینہ میں مظلومانہ اور المناک شهادت حضرت رسول خدا صلّی اللہ علیہ و آلہ و سلّم کی رحلت کے ۷۵ روز بعد واقع ہوئی ہے۔ [کافی، ج۱، ص۲۴۱، ۴۵۸؛ ج۳، ص۲۲۸، ج۴، ص۵۶۱؛ بصائر الدرجات، ص۱۷۴؛ تاریخ الائمہ، ص۶؛ تاریخ قم، ص۱۹۴؛ بحارالانوار، ج۲۲، ص۵۴۵؛ ج۲۹، ص۱۹۲، ج۴۳، ص۷، ۷۹، ۱۹۵؛ زاد المعاد، ص۳۷۴؛ فیض العلام، ص۲۴۶؛ الھدایۃ الکبریٰ، ص۱۷۸؛ جنات الخلود، ص۱۸] شہادت کے سلسلہ میں مزید اقوال ۳/ جمادی الثانی میں ذکر ہونگے۔ ▪️۱۴/ جمادی الاولیٰ کی رات میں حضرت امیر المومنین علیہ السلام نے اپنے کچھ اصحاب کے ہمراہ حضرت صدیقہ کبریٰ سلام اللہ علیہا کو سپرد لحد فرمایا۔ ▪️حضرت امام صادق علیہ السلام سے صحیح السند کے ساتھ روایت کی گئی ہے کہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا حضرت نبی اکرم صلّی اللہ علیہ و آلہ کی رحلت کے بعد ۷۵ دن تک اس دنیا میں رہیں۔ بنا بر مشہور آنحضرت صلّی اللہ علیہ و آلہ کی رحلت ۲۸/ صفر کو ہوئی ہے، اور حضرت صدیقہ سلام اللہ علیہا کی شہادت ۱۳ یا ۱۴ یا ۱۵/ جمادی الاولیٰ میں واقع ہوئی ہے، لہذا ان تینوں دنوں میں آپ سلام اللہ علیہا کی زیارت مناسب ہے۔ [فیض العلام، ص۲۴۸؛ مفاتیح الجنان، اعمال ماہ جمادی الاولیٰ]. 📚 تقویم شیعه، عبد الحسین نیشابوری، انتشارات دلیل ما، ۱۳/جمادی الاولیٰ، ص۱۵۳ https://t.me/klmnoor https://www.facebook.com/klmnoor

#گفتگو #ہم_کیا_کہہ_رہے_ہیں؟ 🌹🌹 حضرت امام زین العابدین علیہ السلام: 🟤 لَيْسَ‏ لَكَ‏ أَنْ‏ تَتَكَلَّمَ‏ بِمَا شِئْتَ‏ لِأَنَّ اللَّهَ تَعَالَى قَالَ‏ وَ لا تَقْفُ ما لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ‏ وَ لِأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ص قَالَ رَحِمَ اللَّهُ عَبْداً قَالَ خَيْراً فَغَنِمَ أَوْ صَمَتَ فَسَلِمَ۔ 🔵 تمہیں یہ حق نہیں کہ جو چاہو زبان سے کہہ دو؛ کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اور جس چیز کا تمہیں علم نہیں ہے اس کے پیچھے مت جانا۔ اور جیسا کہ حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ نے فرمایا ہے: اللہ اس بندے پر رحمت فرمائے جو اچھی بات کہے اور فائدہ حاصل کرے، یا خاموش رہے اور سلامتی پائے۔ 📚 علل الشرائع، ج۲، ص۶۰۶، باب نوادر العلل ▫️▫️▫️▫️▫️ ✍🏼 انسان کے پاس خدا کی بہت سی نعمتیں ہیں، ان میں سے ایک عظیم نعمت زبان ہے: أَ لَمْ نَجْعَلْ لَهُ عَينَينِ، وَ لِسانًا وَ شَفَتَينِ۔ کیا ہم نے اس کے لیے دو آنکھیں نہیں قرار دی ہیں اور زبان اور دو ہونٹ بھی۔ [البلد: ۸-۹] زبان بیک وقت نعمت بھی ہے اور ذریعۂ امتحان بھی؛ اسی سے انسان کی پہچان ہوتی ہے، اسی کے ذریعہ خدا کا اعتراف کیا جاتا ہے؛ اس سے نکلا ہوا ایک جملہ کسی کو خوش کر سکتا ہے تو کسی کو رنجیدہ، کسی کی عزت بچا سکتا ہے، تو کسی کو نقصان بھی پہنچا سکتا ہے۔ جیسا کہ حضرت امام باقر علیہ السلام فرماتے ہیں: ▫️ إِنَّ هَذَا اللِّسَانَ مِفْتَاحُ كُلِّ خَيْرٍ وَ شَرٍّ فَيَنْبَغِي لِلْمُؤْمِنِ أَنْ يَخْتِمَ عَلَى لِسَانِهِ كَمَا يَخْتِمُ عَلَى ذَهَبِهِ وَ فِضَّتِه. ▫️ زبان تمام اچھائیوں اور برائیوں کی کنجی ہے، لہٰذا مومن کو چاہیے کہ اپنی زبان پر اسی طرح مہر لگا کر رکھے جیسے اپنے سونے چاندی پر لگاتا ہے۔ 📚 تحف العقول، ص۲۹۸، و روي عنه ع في قصار هذه المعاني حضرت امام سجاد علیہ السلام بھی اپنی نصیحت میں زبان پر قابو رکھنے کی تاکید فرماتے ہیں اور واضح کرتے ہیں کہ زبان رکھنے کا مطلب یہ نہیں کہ ہم بغیر تحقیق اور اطمینان کے ہر بات کہنے کے مجاز ہیں۔ بغیر سوچے سمجھے بولنا صرف ایک شخص کی اپنی غلطی نہیں، بلکہ بہت سی افواہوں، لوگوں کی آبروریزی اور سماج میں اختلاف اور نفرت کا سبب بھی بن سکتا ہے۔ بہت سے مواقع پر خاموشی اچھی چیز ہوتی ہے اور اس کا پہلا فائدہ یہ کہ انسان جھوٹ، غیبت، بہتان، تمسخر، تہمت، اور دل آزاری جیسے بہت سے گناہوں اور خدا کے غضب سے محفوظ رہتا ہے۔ لہٰذا بولنے سے پہلے ایک لمحہ رکیں۔ کیا یہ بات سچ ہے؟ کیا اس کا کہنا ضروری بھی ہے؟ اگر ضروری ہے تو کیا میرا انداز درست ہے؟ اور اگر مجھے علم ہی نہیں تو کیا خاموش رہنا زیادہ محفوظ نہیں؟ کیونکہ ہم جو بھی کہتے ہیں اس کے لیے خدا کی بارگاہ میں ذمہ دار ہیں۔ حضرت امیرالمومنین علیہ السلام بھی اس کی جانب متوجہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ▫️ لَا تَقُلْ مَا لَا تَعْلَمُ بَلْ لَا تَقُلْ كُلَّ مَا تَعْلَمُ فَإِنَّ اللَّهَ قَدْ فَرَضَ عَلَى جَوَارِحِكَ كُلِّهَا فَرَائِضَ يَحْتَجُّ بِهَا عَلَيْكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَ يَسْأَلُكَ عَنْهَا۔ ▫️ جو بات تم نہیں جانتے اسے نہ کہو، بلکہ ہر وہ بات جو جانتے ہو وہ سب بھی نہ کہو؛ کیونکہ خدا نے تمہارے تمام اعضاء کے فرائض مقرر فرمائے ہیں جن کے ذریعہ وہ روز قیامت تم پر حجت قائم کرے گا اور اس کے بارے میں تم سے سوال کرے گا۔ 📚 من لا يحضره الفقيه، ج۲، ص۶۲۶، باب الفروض على الجوارح https://t.me/klmnoor https://www.facebook.com/klmnoor

#گفتگو #ہم_کیا_کہہ_رہے_ہیں؟ 🌹🌹 حضرت امام زین العابدین علیہ السلام: 🟤 لَيْسَ‏ لَكَ‏ أَنْ‏ تَتَكَلَّمَ‏ بِمَا شِئْتَ‏ لِأَنّ
#گفتگو #ہم_کیا_کہہ_رہے_ہیں؟ 🌹🌹 حضرت امام زین العابدین علیہ السلام: 🟤 لَيْسَ‏ لَكَ‏ أَنْ‏ تَتَكَلَّمَ‏ بِمَا شِئْتَ‏ لِأَنَّ اللَّهَ تَعَالَى قَالَ‏ وَ لا تَقْفُ ما لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ‏ وَ لِأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ص قَالَ رَحِمَ اللَّهُ عَبْداً قَالَ خَيْراً فَغَنِمَ أَوْ صَمَتَ فَسَلِمَ۔ 🔵 تمہیں یہ حق نہیں کہ جو چاہو زبان سے کہہ دو؛ کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اور جس چیز کا تمہیں علم نہیں ہے اس کے پیچھے مت جانا۔ اور جیسا کہ حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ نے فرمایا ہے: اللہ اس بندے پر رحمت فرمائے جو اچھی بات کہے اور فائدہ حاصل کرے، یا خاموش رہے اور سلامتی پائے۔ 📚 علل الشرائع، ج۲، ص۶۰۶، باب نوادر العلل

کلام نور - Telegram 频道 @klmnoor 的统计与分析