uk
Feedback

Не попадись на ботовода! Telemetrio знаходить і позначає такі канали мітками 👉 Хочеш бачити мітку, оформляй підписку

ISLAM WITH EMAN

ISLAM WITH EMAN

Відкрити в Telegram

اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات... ایڈمن سے رابطہ کیلئے: @syedsajjadhamdani

Показати більше
1 288
Підписники
Немає даних24 години
-47 днів
-430 днів
Архів дописів
🌹 عالین کون ہیں؟ 🌹 ابو سعید خدری کا کہنا ہے: ہم رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے ایک آدمی سامنے سے آیا اور عرض کی: یا رسول خدا ، اللہ کے اس فرمان " أَسْتَكْبَرْتَ أَمْ كُنْتَ مِنَ الْعالِينَ تو نے تکبر کیا ، یا بڑے لوگوںمیں سے ہو گیا" کے بارے میں مجھے بتلائیے کہ یہ عالین کون لوگ ہیں کہ جن کا مقام فرشتوں سے بھی بلند و بالا ہے؟ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: آدم کی خلقت سے دس ہزارسال پہلے میں ، علی۴، فاطمہ۴ ، حسن۴ اور حسین۴ عرش الہی کے سامنے اللہ کی تسبیح اور تقدیس کرتے تھے اور فرشتے ہماری تسبیح پر تسبیح پڑھتے تھے ۔ پھر جب اللہ نے آدم کو خلق کیا تو فرشتوں کو اس کے سامنے سجدہ کو حکم دیا لیکن ہمیں سجدہ کرنے کا حکم نہ دیا تمام فرشتوں نے آدم کو سجدہ کیا سوائے ابلیس کے، اس نے سجدہ نہیں کیا۔ اس کے بعد خداوند متعال نے فرمایا: " أَسْتَكْبَرْتَ أَمْ كُنْتَ مِنَ الْعالِينَ [2]"تو نے تکبر کیا یا عالین میں سے ہو گیا"۔ عالین سے مراد پنجتن پاک تھے جن کے نام عرش اعظم پر لکھے ہوئے تھے ۔ لہذا ہم اللہ کا وہ دروازہ ہیں جس سے وارد ہو کر لوگ اللہ کے قریب ہو سکتے ہیں ہمارے ذریعے ہدایت پانے والے ہدایت حاصل کرتے ہیں اور جو ہمیں دوست رکھے خدا اسے دوست رکھتا ہے اور اسے جت میں مقام عطاکرتا ہے اور جو ہمارے ساتھ دشمنی رکھے خدا اس کے ساتھ دشمنی رکھتا ہے اور اسے جہنم کی آگ میں ڈھکیل دیتا ہے اور یہ جان لو حلال زادہ کے علاوہ کوئی ہمیں دوست نہیں رکھے گا۔ 🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔ 📚 حوالہ جات [1] عنہ البحار ۱۴۲/۱۱ ح ۹ و ج ۲۱/۱۵ ح ۳۴ و ج ۲/۲۵ ح ۲ و ج ۳۰۶/۳۹ ح ۱۲۱۔ تاویل الایات: ۱۸۲ ج۱، عنہ البحار: ۳۴۶/۲۶ ح۱۹۔ [2] ص،۷۵۔ http://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

⭕ حضرت موسٰیؑ اور گڈریا ⭕ حضرت موسٰیؑ ایک دن جنگل میں جا رہے تھے آپ نے دیکھا کہ ایک بھیڑ بکریاں چرانے والا (گڈریا) دست بستہ کھڑا ہے اور بڑے شوق سے کہہ رہا ہے کہ۔۔ "اے خدا! میرے پاس آ کر بیٹھ تاکہ میں تیری جوتی سیوں، تیرے سر میں کنگھی کروں، تیری جوئیں ماروں، میں تیرے ہاتھ پاؤں دھوؤں، تجھے نہلاؤں، صاف ستھرے کپڑے پہناؤں اور تجھ پر قربان ہو جاؤں، اگر تو میرے پاس آئے تو میں اپنا کمبل بچھا کر تجھے اس پر بٹھاؤں اور بکریوں کا تازہ تازہ گرم گرم دودھ تجھے پلاؤں۔ اگر تو بیمار ہو جائے تو میں اپنوں کی طرح تیری خدمت کروں، تیرے ہاتھ چوموں، تیرے پاؤں دبا کر تجھے میٹھی نیند سلاؤں. جب صبح خواب استراحت سے بیدار ہو تو تیرا منہ دھلاؤں۔ تیرے کھانے کیلئے قورمہ، قلیا، پلاؤ، پنیر کوفتے، مکھن ملائی اور کھیر تیار کراؤں، تجھے اپنے ہاتھ سے کھلاؤں. اگر تو مجھے اپنا گھر دکھا دے تو میں تازندگی صبح و شام تیرے ہاں دودھ اور مکھن پہنچا دیا کروں۔ میری تمام بکریاں اور بھیڑیں تجھ پر قربان ہوں۔" حضرت موسٰیؑ نے اس کی یہ مستانہ باتیں سنیں اور قریب جا کر پوچھا کہ تو کس سے یہ باتیں کر رہا ہے، تو کس کا میزبان بننا چاہتا ہے، تجھے کس کو اپنے ہاں دعوت پر بلانے کی اس قدر آرزو ہے؟ گڈریا بولا: "میں اس سے ہمکلام ہو رہا ہوں جو میرا پیدا کرنے والا ہے، جس نے مجھے بولنے کے لیے زبان دی ہے، مجھے یہ بھیڑ بکریاں عطا کیں، جن کے دودھ کو میں اپنی غذا اور جن کی پشم سے میں اپنا لباس بناتا ہوں اور جس نے مجھے یہ چیزیں دی ہیں میں اسی کے دیئے ہوئے سے اس کی دعوت کرنا چاہتا ہوں۔ اگر وہ مجھ غریب کے گھر تشریف لے آئے تو میں خوشی سے پھولے نہ سماؤں، میری آبرو بڑھ جائے گی اور اس کی شان میں کچھ فرق نہ آئے گا۔" حضرت موسٰیؑ نے کہا: گڈریے! تیرا کلام بڑا گستاخانہ ہے، تو خدا سے ایسی باتیں کر رہا ہے۔ وہ تو سب کا رازق ہے اسے کسی کھانے کی محتاجی نہیں ہے۔ نہ وہ تھکتا ہے اور نہ اسے نیند آتی ہے۔ تو اس کے پاؤں کیا دبائے گا تو کیا سمجھا کہ اس کا تیرے جیسا جسم ہے؟ جان لے اور یقین کر لے کہ اس کا کوئی جسم نہیں ہے۔ اس کے تیرے جیسے ہاتھ پاؤں نہیں ہیں وہ سب چیزوں سے بے نیاز ہے وہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ وہی سب کا حاجت روا ہے۔ وہ تیرے پاس کمبل پر بیٹھ کر تیری بکریوں کا دودھ نہیں پی سکتا۔ بس ایسے بے ادبانہ کلام سے توبہ کر. حضرت موسٰیؑ نے اس غریب گڈریے کو اس قدر دبایا کہ وہ بالکل سہم گیا اور کہنے لگا: "اے موسٰیؑ! تو نے تو میری زبان بند کر دی ہے۔ میرا منہ سی دیا ہے اور پشیمانی پیدا کر کے میرا دل جلا دیا۔ پس وہ چیخ مار کر اوراپنے کپڑے پھاڑ کر ایک طرف جنگل کو نکل گیا اور نبئ وقت کا حکم سن کر اس نے اللہ سے اپنی شوق بھری ہمکلامی چھوڑ دی اور اپنا ارمان دل ہی دل میں دبا کر بیٹھ گیا۔ وہ گڈریا پڑھا لکھا آدمی تو نہ تھا کہ سوچ سمجھ کر شائستہ بات کرتا ہاں اس کے دل میں خدا کی محبت ضرور تھی اور وہ کمال شوق سے اسی کا اظہار کر رہا تھا خدا کو اس کی یہ ذوق و شوق کی باتیں پیاری لگتی تھیں۔ جب وہ ان سے رک گیا تو اللہ تعالی کو ناگوار معلوم ہوا۔ فوراً اللہ تعالیٰ نے اپنے کلیم (حضرت موسٰیؑ) کی طرف وحی بھیجی کہ تو نے میرے ایک محب کو مجھ سے جدا کر دیا ہے۔ "اے موسٰیؑ ہم نے تجھے اس لیے نبی بنایا تھا کہ تو بندوں کو ہم سے ملائے مگر تو نے تو اپنے فرض منصبی کو چھوڑ کر اور راہ اختیار کر لی۔ اے موسٰیؑ ہم نیتوں کو دیکھتے ہیں عملوں کو نہیں دیکھتے۔ ہماری نظر حال پر ہے قال پر نہیں۔ ہمیں دلی سوز کی قدر ہے لفظوں کا خیال نہیں۔ جا اور ہم سے جدا کردہ بندے کو پھر اپنے شغل میں لگا کہ ہم کو وہی محبوب ہے۔ حضرت موسٰیؑ یہ حکم الہیٰ سن کر فوراً واپس جنگل میں آئے اور بعد از تلاش بسیار کے بعد اس گڈریے کو ڈھونڈا اور کہا بھائی اپنی مناجات میں لگے رہو اور جو میں نے تمہیں روکا تھا اس کا کچھ خیال نہ کرو۔ تمہاری محبت اور سوز میں ڈوبی ہوئی باتیں اللہ تعالیٰ کو پیاری لگتی ہیں۔ اپنے شغل میں مصروف رہو اور مجھے معاف کر دو۔ میں تمہارے وظیفہ میں خلل انداز ہوا۔ اللہ تعالٰی نیتوں کو دیکھتا ہے، ظاہری اعمال پر اس کی نظر نہیں۔ (اقتباس) http://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

💗 ازدواج ( حصہ دوم) 💗 ہمارے معاشرے کا المیہ کم علمی نہیں بلکہ کم عملی ہے, اگر ہم سنجیدگی سے ان باتوں پر غور کریں تو ایک صالح اور خدا ترس معاشرہ وجود میں لانے میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں اسی طرح عقد کے معاملات کو آسان بنائیں اور شوہر اور بیوی آپس میں حقوق وفرائض کی رعایت کریں تاکہ پاکیزہ نسل پروان چڑھا سکیں۔ 💓تقریب نکاح کے آداب: ♦نمود و نمائش سے پرہیز کریں. ♦سادگی اپنائیں. ♦مخلوط محفل نہ ہو. ♦تصاویر, عکسبندی اور فلم بندی سے بچا جائے. ♦عزیز و اقارب اور اہم شخصیات کو مدعو کریں . ♦وقت رخصتی دلہن اور دولہا کو نصیحتیں کریں اور دعائیں دیں۔ ❗بیوی کے فرائض یا شوہر کے حقوق: معصومؑ: عورت اپنے پروردگار کا حق ادا نہیں کر سکتی جب تک کہ وہ اپنے شوہر کے حقوق ادا نہ کرے. ♦اسکی بغیر اجازت گھر سے نہ نکلے. ♦اسکے عیوب کی پردہ پوشی کرے اور اسکی غیبت نہ کرے. ♦اسکی اختیارسےباہر فرمائش نہ کرے. ♦اپنے آپکو نامحرموں سے بچائے. ♦اسکو اچھائی سے یاد کرے اور اسکے لیے دعائیں کرے. ♦شوہر محتاج ہو تو اسے حقارت سے نہ دیکھے. ♦خود کو فقط اسی کیلیے آراستہ کرے اور اسکی خواہش کا احترام  کرے. ❗شوہر کے فرائض یا بیوی کے حقوق: امام صادقؑ۔۔ "خدا اس شخص پر رحمت نازل کرتا ہے جو اپنے اور اپنی بیوی کے درمیان اچھا رابطہ قائم کرتا ہےکیونکہ خدا نے مرد کو اختیار دیا ہے اور اسکو سرپرست بنایا ہے." ♦بیوی کو ضروریات زندگی کا سامان مہیا کرے. ♦اسے احکام شریعہ سکھائے. ♦ترش روئی اور سختی سے پیش نہ آئے. ♦خرچ کرکے احسان نہ جتائے. ♦سفر سے واپسی میں بیوی کیلیے تحفہ لائے. ♦بلا وجہ ناراض نہ ہو اور محبت سے پیش آئے. اگر ہم ان ہی مندرجہ بالا الہی آیات و احادیث اور اصول و قوانین کی رعایت کریں گے تو اپنے مقصد خلقت یعنی اخلاقی کمال کو حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کرسکیں گے. اور اسی طرح اپنے خانوادہ کو بھی معاشرےکیلیے بہترین ,کارمند اور مفید ثابت کرسکیں گے. ہمیں چاہیے کہ معاشرے کی بےجا اور فرسودہ روایات و رسوم و رواج کا خاتمہ کریں اور اس پرفتن و پر آشوب دور میں ازدواج کے وسائل میں آسانی پیدا کریں تاکہ نیکی اور اسلامی اقدار کو فروغ ملے اور برائی و فحاشیت کا معاشرے سے خاتمہ ہو.  اور امام زمانہؑ کے ظہور میں تعجیل کیلیے بہترین زمینہ سازی فراہم کی جاسکے. "آپ سب کی نیک تمنائیں اور پرخلوص دعائیں ہماری نئی شروع ہونے والی زندگی میں مزید محبت وبرکت کا باعث بنیں گی." تحریر بشکریہ: ر۔ ملکوتی 📚 کتب کے حوالہ جات: ♦القرآن الکریم ♦تہذیب زندگی (مولانا شہنشاہ نقوی) ♦دولہا اور دلہن(محسن ماجرا جو) ♦تنظیم خانوادہ(فارسی تحقیق) 🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

💓 ازدواج (حصہ اول) 💗 خدا نے انسان کو باقی مخلوقات سے تفکر وتعقل و تہذیب کی بنیاد پر ممتاز قرار دیکر اشرف المخلوقات اور بلند مرتبہ خلق کیا اور اخلاق و تہذیب کے اوج و کمال تک پہنچنے کو اسکا ھدف خلقت معین کیا. اگر ہم ایک اور زاویہ نگاہ سے دیکھیں تو انسان کو معاشرتی حیوان سے تعبیر کیا گیا ہے یعنی وہ معاشرتی اور گروھی زندگی گزارنا چاہتا ہے اور اگر اسی معاشرتی زندگی میں انسان اخلاقیات کا دامن ہاتھ سے چھوڑ دے  اور آسمانی قوانین کی پابندی نہ کرے  تو ہوسکتا ہے کہ بہت ہی متمدن ہوجائے اور بہترین وسائل حیات کو بروئے کار لائے مگر وہ ایک ایسا منہ چھوٹ حیوان ہوگا جو معاشرے میں فتنہ وفساد ہی پھیلائے گا. طبیعی اور فطری لحاظ سے انسان اکیلا نہیں رہ سکتا, اسکے اندر بہترین اور پرسکون زندگی گزارنے کیلیے خدا نے کسی کی ہمراہی کی خواہش ودیعت کی ہے تاکہ وہ اپنے انفرادی اور اجتماعی معاملات کو احسن طریقے سے انجام دے سکے. چونکہ انسانوں اور حیوانوں میں بہت سے غرائز مماثلت رکھتے ہیں جیسے کھانا, پینا, سونا, اپنی خواہشات کو پورا کرنا اور اپنی نسل کو بڑھانا. خدا نے ان ضروریات کو پورا کرنے کیلیے الہی قوانین و ضوابط بھی وضع کیے ہیں جن میں سے ایک "ازدواج" ہے.دیکھا گیا ہے کہ وہ لوگ جو فطری غریزہ کو غیر فطری انداز سے پورا کرنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں خصوصا جیسے مغربی ممالک اور ادیان غیر الہیہ سے تعلق رکھنے والے,  اسی وجہ سے ان معاشروں میں مختلف مسائل مثلا خطرناک امراض اور اخلاقی گراوٹ تیزی سے رشد پا رہے ہیں. دین اسلام نے اسلامی خانوادے کو بہت اہمیت دی ہے کیونکہ مندرجہ بالا اس فطری خواھش کو پورا کرنے کا طبیعی, شرعی اور فطری طریقہ تشکیل خاندان ہے. اور ایک ایسا گھرانہ جسکا آغاز اسلامی رو سے کیا جائے تو بہت با برکت قرار پاتا ہے. چونکہ ایک اچھی فیملی ایک اچھے معاشرے کیلیے اینٹ اور بنیاد کی مانند ہے, اور اگر ہم بنیاد صحیح نہیں رکھیں گے تو عمارت کس طرح صحیح تعمیر کی جا سکے گی؟ ازدواج گھرانے کی بنیاد کا پہلا قدم ہے.بحث کو طوالت سے بچانے کیلیے ہم نکات کی جانب متوجہ ہوتے ہیں کہ اچھی فیملی کے لیے کیا اھم و مھم ہے.. ■ازدواج کیوں کریں؟ ♦معاشرہ سازی: کیونکہ ایک اسلامی گھر ہی اسلامی معاشرے کی بنیاد ہے. ♦سکون قلب اور ذہنی آسودگی: وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِنْ أَنْفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَوَدَّةً وَرَحْمَةً ۚ (سورہ روم آیۃ 21) "اور اس کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ تمہارے لیے تمہیں میں سے بیویاں پیدا کیں تاکہ ان کے پاس چین سے رہو اور تمہارے درمیان محبت اور مہربانی پیدا کر دی" رسولخدا(ص): زوجہ سے عشق و عاشقی مومن کی سرگرمی ہے. ♦شادی سے ناداری کا خاتمہ: وَأَنكِحُوا الْأَيَامَىٰ مِنكُمْ وَالصَّالِحِينَ مِنْ عِبَادِكُمْ وَإِمَائِكُمْ ۚ إِن يَكُونُوا فُقَرَاءَ يُغْنِهِمُ اللَّهُ مِن فَضْلِهِ ۗ (سورہ نور آیۃ  32) "اور جو تم میں مجرّد ہوں اور جو تمہارے غلام اور لونڈیاں نیک ہوں سب کے نکاح کرا دو، اگر وہ مفلس ہوں گے تو اللہ اپنے فضل سے انہیں غنی کر دے گا" رسولخدا(ص): جس شخص نے اہل و عیال کے اخراجات کے خوف سے ازدواج کو ترک کیا, اس نے خدا سے بدظنی کی. ♦بقائے نسل انسانیت: رسولخدا(ص) :ازدواج کرو اور نسل انسانی کو آگے بڑھاؤ, روز محشر میں تمہاری کثرت پر تمام امتوں کے درمیان فخر کرونگا حتی سقط شدہ بچہ پر بھی. ♦فطری ضرورت کی تکمیل: هُنَّ لِبَاسٌ لَكُمْ وَأَنْتُمْ لِبَاسٌ لَهُنَّ ۗ (سورہ بقرہ آیۃ 187) "وہ (عورتیں ) تمہارا لباس ہیں اور تم(مرد)  انکا لباس ہو" ❗کنوارے کے رزائل ❗ رسولخدا(ص): ⬅پست ترین شخص وہ ہے جو شادی کیے بغیر مرجائے. ⬅اہل جہنم میں اکثر تعداد غیر شادی شدہ افراد کی ہوگی. ⬅بد ترین افراد غیر شادی شدہ ہیں کیونکہ یہ شیطان کے بھائی ہیں. ❗ازدواج کے فضائل ❗ رسولخدا(ص): ⬅اللہ کے نزدیک محبوب ترین گھر وہ ہے جو اسلام کیساتھ ازدواج سے آباد ہو. ⬅اسلام کے بعد اس سے زیادہ کوئی فائدہ مند چیز نہیں ہے کہ کسی شخص کی ایسی بیوی ہو کہ جب وہ اسکی طرف دیکھے تو اسے سرور ملے. امام صادق علیہ السلام۔۔ ⬅شادی شدہ کی دو رکعت غیر شادی شدہ کی 70 رکعات سے بہتر ہے. ⬅صرف شادی شدہ ہی اپنا دامن پاک رکھ سکتے ہیں. ہمارے معاشرے کا المیہ کم علمی نہیں بلکہ کم عملی ہے, اگر ہم سنجیدگی سے ان باتوں پر غور کریں تو ایک صالح اور خدا ترس معاشرہ وجود میں لانے میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں اسی طرح عقد کے معاملات کو آسان بنائیں اور شوہر اور بیوی آپس میں حقوق وفرائض کی رعایت کریں تاکہ پاکیزہ نسل پروان چڑھا سکیں۔ 🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

⭕ خدا پر ان دیکھا یقین(حصہ دوم)⭕ طالب علم: آپ پھر غلطی پر ہیں سر ۔۔۔ اندھیرا بذاتِ خود کوئی چیز نہیں بلکہ یہ اصل میں کسی چیز کی غیر موجودگی کی دلیل ہے ۔۔۔ آپ روشنی کم ۔۔ معتدل ۔۔ زیادہ یا پھر انتہائی مقدار میں حاصل کر سکتے ہیں جو آنکھوں کو جھپکا دے ۔۔۔ لیکن اگر روشنی مستقل طور پر غائب ہو جائے تو پھر آپ کے پاس اس کا کوئی وجود نہیں ہو گا اور ایسی کیفیت کو ہم اندھیرا کہیں گے ۔۔۔ کیا میں نے ٹھیک کہا ۔۔۔؟ حقیقت میں اندھیرے کا اپنا کوئی وجود نہیں ۔۔۔ اگر اس کا اپنا کوئی وجود ہوتا تو آپ اس میں بھی کم زیادہ کی تمیز کر سکتے جیسے کم اندھیرا ۔۔۔ گہرا اندھیرا یا گھپ اندھیرا وغیرہ وغیرہ جیسا کہ عام بول چال میں کہا جاتا ہے ۔۔۔ درست ۔۔۔؟ پروفیسر: ٹھیک ۔۔۔ تو پھر تم اس سے کیا ثابت کرنا چاہتے ہو ۔۔۔؟ طالب علم: سر ۔۔۔ میں صرف یہ کہنا چاہتا ہوں کہ آپ کے فلسفے کی اساس ہی خامیوں پر مبنی ہے ۔۔۔ آپ ہر چیز کی دوہری حیثیت پر یقین رکھتے ہیں ۔۔۔ آپ کے مطابق اگر ایک چیز زندگی ہے تو وہیں دوسری موت ۔۔۔ ایک اچھا خدا اور ایک بُرا ۔۔۔ اور خدا کی ذات پر آپ کا نظریہ ایسے ہے جیسے یہ کوئی ایسی چیز ہو جس کی حد ہو یا جس کی پیمائش کی جا سکتی ہو ۔۔۔  سر ۔۔۔ سائنس کسی انسان کی ذہنی سوچ کے بارے کوئی واضح توجیح پیش نہیں کر سکتی ۔۔۔ سائنس میں بجلی اور مقناطیسیت کا استعمال عام ہے ۔۔۔ پر کیا کبھی کسی نے انہیں دیکھا ہے ۔۔۔؟ اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ان دونوں میں سے کسی ایک کے بارے میں بھی اب تک کلّی یا مکمل جانکاری حاصل نہیں کی جا سکی ۔۔۔ موت کو زندگی کا الٹ قرار دینا  دراصل اس حقیقت سے رو گردانی ہے جیسا کہ موت کے وجود سے انکار ۔۔۔  موت زندگی کا الٹ نہیں ۔۔۔ بلکہ دراصل یہ زندگی کی غیر موجودگی کی علامت ہے ۔۔۔  پروفیسر صاحب ۔۔۔ آپ مجھے یہ بتائیں کہ کیا آپ اپنے طالب علموں کو یہ پڑھاتے ہیں کہ انسان کی نمو بندر سے ہوئی ہے ۔۔۔؟ پروفیسر: اگر تمہارا اشارہ انسانی نمو کے تطویری عمل کی طرف ہے تو بالکل میں یہ درس دیتا ہوں ۔۔۔ طالب علم: سر ۔۔۔ کیا آپ نے اس تطویری عمل کو ہوتے ہوئے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے ۔۔۔؟ (اس بات کا ادراک کرتے ہوئے کہ یہ بحث کیا رخ اختیار کر رہی ہے ۔۔ پروفیسر نے ایک مسکراہٹ کے ساتھ انکار میں اپنا سر ہلا دیا) طالب علم اپنی بات جاری رکھتے ہوئے بولا: اور جب کسی نے انسانی افزائش میں تغیرات کےعمل کو رو پذیر ہوتے اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا اور نہ ہی کوئی یہ بتا سکتا ہے کہ اس جاری عمل کا اختتام کیا ہو گا ۔۔۔ تو سر کیا آپ ایک ایسا فلسفہ نہیں پڑھا رہے جو کہ آپ کی اپنی ایک ذاتی رائے ہے ۔۔۔؟ اور پھر کیا آپ ایک سائنسدان کے بجائے ایک مبلغ نہیں ہیں جو اپنے ذاتی عقائد کی تبلیغ کر رہے ہیں ۔۔۔؟ (پروفیسر خاموش ۔۔ کلاس میں ہر کوئی اپنے تمام تر حواس مرکوز کیئے ہوئے ہمہ تن گوش) طالب علم: کیا حاضرین میں سے کسی نے کبھی پروفیسر صاحب کا دماغ دیکھا ہے ۔۔۔؟ (تمام حاضرین کی ہنسی ہال میں گونج گئی) طالب علم: کیا آپ حاضرین میں کوئی ایسا ہے جس نے پروفیسر صاحب کے دماغ کو بولتے سنا ہے ۔۔؟ اسے محسوس کیا ہے ۔۔؟ چھوا ۔۔ سونگھا یا چکھا ہے ۔۔۔؟  مجھے نہیں لگتا کہ ایسا کوئی ایک شخص بھی ہو گا ۔۔۔ لہذا کیا پھر سائنس کے تجربات اور مشاہدات کے اصولوں کی روشنی میں سائنس یہ کہے گی کہ آپ میں دماغ ہی نہیں ہے ۔۔۔؟  (پروفیسر سمیت تمام حاضرین کی ہنسی گونجی) سر تمام تر احترام کے ساتھ ۔۔۔ میرا یہ سوال ہے کہ پھر ہم آپ کے لیکچرز پر کیونکر بھروسہ کریں ۔۔۔؟ پروفیسر: میرا خیال ہے کہ تمہارے پاس میرے لیکچرز پر یقین کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں ۔۔۔ طالب علم: بالکل سر ۔۔۔ اسی طرح ہمیں خدا اوراس پر ایمان کے درمیان جو ایک ربط ہے اس پر یقین کرنا پڑے گا ۔۔۔ اور یہی ایک ایسی چیز ہے جس نے  کائنات کے تمام تر نظام کو زندہ بھی رکھا ہوا ہے اور اسے چلا بھی رہی ہے ۔۔۔۔! (اقتباس) اس اقتباس میں جس شاگرد کا ذکر ہے وہ غالبا البیرونی تھے۔ توحيد كا اقرار: بسم الله الرحمان الرحيم¤ قل هو الله احد¤ الله الصمد¤ لم يلد و لم يولد¤ و لم يكن له كفوا احد¤ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

⭕خدا پر ان دیکھا یقین(حصہ اول)⭕ Who believe in the unseen. Quran 02:03 پروفیسر: بیٹا  تم ایک مسلمان ہو ۔۔۔ کیا میں نے ٹھیک کہا۔۔۔؟ طالب علم: جی سر ۔۔۔ پروفیسر: تو پھر تم خدا پر یقین رکھتے ہو ۔۔۔؟ طالب علم: بالکل جناب ۔۔۔ پروفیسر: کیا خدا ایک اچھی ہستی ہے ۔۔۔؟ طالب علم: یقیناً ۔۔۔ پروفیسر: کیا خدا تمام چیزوں پر قُدرت رکھتا ہے ۔۔۔؟ طالب علم: جی سر بالکل ۔۔۔ پروفیسر: میرا بھائی  کینسر کا مریض تھا ۔۔۔ مرنے سے پہلے اس نے خدا کے آگے صحت یاب ہونے کی خاطر بہت دعا کی لیکن اس قدر التجا کے باوجود بالآخر وہ مر گیا ۔۔۔ ہم میں سے اگر کوئی بیمار پڑ جائے تو  لوگوں میں اکثریت اس کی مدد کرنے کی کوشش کرے گی ۔۔۔ لیکن خدا نے اس کی کوئی مدد نہ کی ۔۔۔ تو پھر مجھے بتاؤ خدا ایک اچھی ہستی کیسے ہوا ۔۔۔؟ (طالب علم خاموش) پروفیسر: تمہارے پاس اسکا کوئی جواب نہیں ۔۔۔  چلو میں اپنا سوال پھر سے دہراتا ہوں ۔۔۔ کیا خدا ایک اچھی ہستی ہے ۔۔۔؟ طالب علم: جی سر ۔۔۔ پروفیسر: کیا شیطان ایک اچھی ہستی ہے ۔۔۔؟ طالب علم: نہیں ۔۔۔ پروفیسر: شیطان کہاں سے آیا ۔۔۔؟ طالب علم:  خُدا۔۔۔۔ سے ۔۔۔۔ پروفیسر: ٹھیک ۔۔۔ تو پھر اب مجھے یہ بتاؤ کہ کیا دنیا میں بُرائی کا کوئی وجود ہے ۔۔۔؟ طالب علم: جی سر بالکل ہے ۔۔۔ پروفیسر: بُرائی ہر جگہ ہے ۔۔ ہے نا ۔۔۔؟ اور ہر چیز خدا نے ہی بنائی ہے ۔۔۔ ٹھیک ۔۔۔؟ طالب علم: جی ۔۔۔ پروفیسر: تو پھر بُرائی کو کس نے بنایا ۔۔۔؟ (طالب علم نے کوئی جواب نہ دیا) پروفیسر: دنیا میں بیماریوں ۔۔ نفرتوں ۔۔ عداوتوں اور ان جیسی اور کئی گھناؤنی اشیاء کا وجود ہے ۔۔ ہے نا ۔۔۔؟ طالب علم: جی سر ۔۔۔ پروفیسر: پھر ان سب کو کس نے پیدا کیا ۔۔۔؟ (طالب علم خاموش ۔۔ اس نے اس سوال کا بھی کوئی جواب نہ دیا) پروفیسر: سائنس کہتی ہے کہ انسانی جسم حواس خمسہ پر مشتمل ہے جنہیں ہم اپنے ارگرد کے ماحول کے مشاہدے اور پہچان کی غرض سے استعمال میں لاتے ہیں ۔۔۔ تو اب مجھے یہ بتاؤ کہ کیا تم نے خدا کو دیکھا ہے ۔۔۔؟ طالب علم: نہیں جناب ۔۔۔ پروفیسر: کیا تم نے کبھی اپنے خدا کو بولتے سنا ہے ۔۔۔؟ طالب علم: نہیں سر ۔۔۔ پروفیسر: کیا تم نے اپنے خدا کو کبھی محسوس کیا ہے ۔۔؟ اسکو چکھا ہے ۔۔؟ سونگھا ہے ۔۔؟ یا تمہاری کوئی بھی حس جس نے خدا کی موجودگی کا کبھی تمہیں احساس دلایا ہو ۔۔۔؟ طالب علم: نہیں جناب ۔۔۔ میرا خیال ہے کہ ایسا کبھی نہیں ہوا ۔۔۔ پروفیسر: لیکن اس کے باوجود تم خدا کو مانتے ہو ۔۔۔؟ طالب علم: جی سر ۔۔۔ پروفیسر: تجربات اور مشاہدات کی رو سے سائنس کہتی ہے کہ تمہارے خدا کا کوئی وجود نہیں ہے ۔۔۔ تو تم اس بارے کیا کہتے ہو ۔۔۔؟ طالب علم: کچھ نہیں سر ۔۔۔ میں بس اپنے ایمان پر یقین رکھتا ہوں ۔۔۔ پروفیسر: ہاں ۔۔۔ ایمان ۔۔۔ سائنس کو یہی تو ایک مسئلہ درپیش ہے ۔۔۔۔! طالب علم: پروفیسر صاحب ۔۔۔ کیا کوئی ایسی چیز ہے جس کا نام حرارت ہے ۔۔۔؟  پروفیسر: ہاں ۔۔۔ بالکل ہے ۔۔۔ طالب علم: اور سر ۔۔۔ کیا کوئی ایسی چیز بھی ہے جسے ٹھنڈ کہتے ہیں ۔۔۔؟   پروفیسر: بالکل ۔۔۔ طالب علم: نہیں جناب ۔۔۔ ٹھنڈ نام کی کسی چیز کا کوئی وجود نہیں ہے ۔۔۔ (مناقشے نے یک لخت جو اس طرح پلٹا کھایا تو ہال میں مکمل خاموشی چھا گئی) طالب علم: سر ۔۔۔ آپ مختلف مقداروں میں حرارت حاصل کر سکتے ہیں جیسا کہ زیادہ ۔۔ بہت زیادہ ۔۔ سُپر ۔۔ میگا ۔۔ کم ۔۔ بہت کم یا پھر بالکل نہیں ۔۔۔ لیکن ایسی کسی چیز کا کوئی وجود نہیں جسے "ٹھنڈ" کہتے ہیں ۔۔۔ ہم منفی 458 ڈگری تک درجہ حرارت گرا سکتے ہیں جہاں پہچنے کے بعد حرارت کا بالکل کوئی وجود نہیں رہتا ۔۔۔ اس کے بعد ہم اس سے اور آگے نہیں جا سکتے ۔۔۔ لیکن ٹھنڈ نام کی کسی چیز کا کوئی وجود نہیں ۔۔ بلکہ "ٹھنڈ" کا لفظ ہم صرف حرارت کی غیر موجودگی کے اظہار کیلئے استعمال کرتے ہیں ۔۔۔ ٹھنڈ کی پیمائش کرنے کا بھی کوئی پیمانہ نہیں اور حرارت کیا ہے ۔۔؟ ایک توانائی ۔۔۔ اور ٹھنڈ حرارت کا عکس نہیں بلکہ یہ صرف ایک علامت ہے ۔۔۔ حرارت کی غیر موجودگی کی ۔۔۔ (ہال میں ایسی خاموشی کہ جیسے سامعین کو سانپ سونگھ گیا ہو) طالب علم: اندھیرے کے متعلق آپ کیا کہتے سر ۔۔۔؟  کیا کوئی ایسی چیز ہے جو اندھیرا کہلاتی ہے ۔۔۔؟  پروفیسر: ہاں ۔۔ بالکل ہے ۔۔۔ اگر نہيں تو پھر یہ رات کیسے ڈھلتی ہے ۔۔۔؟ طالب علم: آپ پھر غلطی پر ہیں سر ۔۔۔ اندھیرا بذاتِ خود کوئی چیز نہیں بلکہ یہ اصل میں۔۔۔ (جاری ہے) بقیہ حصہ دوم میں ملاحظہ فرمائیں۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

ﺍٓﭖ ﻟﻮﮒ ﻗﺎﺋﺪ ﺍﻋﻈﻢ ﺟﯿﺴﯽ ﺷﺨﺼﯿﺎﺕ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺯ ﻋﻤﻞ ﮐﺎ ﺷﮑﺎﺭ ﮨﯿﮟ، ﺍٓﭖ ﻧﮯ ﻗﺎﺋﺪﺍﻋﻈﻢ ﮐﻮ ﻧﻮﭦ ﭘﺮ ﭼﮭﺎﭖ ﺩﯾﺎ، ﺍٓﭖ ﮨﺮ ﻓﻮﺭﻡ ﭘﺮ ﺍﻥ ﮐﯽ ﻋﺰﺕ ﺑﮭﯽ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺍﻭﺭ ﺍٓﭖ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻟﮍﻧﮯ ﻣﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺑﮭﯽ ﺗﯿﺎﺭ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ، ﻟﯿﮑﻦ ﺟﺐ ﺍﻥ ﺟﯿﺴﺎ ﺑﻨﻨﮯ ﮐﯽ ﺑﺎﺭﯼ ﺍٓﺗﯽ ﮨﮯ، ﺗﻮ ﺍٓﭖ ﺩﺍﺋﯿﮟ ﺑﺎﺋﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﻟﮕﺘﮯ ﮨﯿﮟ، ﭼﻨﺎنچہ ﻣﯿﺮﺍ ﻣﺸﻮﺭﮦ ﮨﮯ؟ ﺍٓﭖ ﺍﮔﺮ ﺍﺳﻼﻡ ﭘﮭﯿﻼﻧﺎ ﭼﺎﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ، ﺗﻮ ﺍٓﭖ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ؐ ﺟﯿﺴﯽ ﻋﺎﺩﺗﯿﮟ ﺍﭘﻨﺎ ﻟﯿﮟ، ﺍﻭﺭ ﺍٓﭖ ﺍﮔﺮ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﮐﻮ ﺗﺮﻗﯽ ﯾﺎﻓﺘﮧ ﺩﯾﮑﮭﻨﺎ ﭼﺎﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ، ﺗﻮ ﻗﺎﺋﺪﺍﻋﻈﻢ ﮐﮯ ﺍﺻﻮﻟﻮﮞ ﭘﺮ ﻋﻤﻞ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮ ﺩﯾﮟ، ﺍٓﭖ ﮐﺎ ﻣﻠﮏ ﯾﻮﺭﭖ ﺳﮯ ﺍٓﮔﮯ ﻧﮑﻞ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ۔ ﻭﮦ ﺭﮐﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻧﺮﻡ ﺍٓﻭﺍﺯ ﻣﯿﮟ ﺑﻮﻟﯿﮟ؟ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ ﮨﺮ ﭘﮩﻠﯽ ﮐﻼﺱ ﻣﯿﮟ ﻃﺎﻟﺐ ﻋﻠﻤﻮﮞ ﺳﮯ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺍٓﺋﯿﮉﯾﻠﺰ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﭘﻮﭼﮭﺘﯽ ﮨﻮﮞ، ﯾﮧ ﺟﺐ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺍٓﺋﯿﮉﯾﻠﺰ ﺑﺘﺎ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ، ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺍﻥ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺘﯽ ﮨﻮﮞ ﺍٓﭖ ﻭﮦ ﺧﻮﺑﯿﺎﮞ ﮔﻨﻮﺍﺋﯿﮟ، ﺟﻮ ﺍٓﭖ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺍٓﺋﯿﮉﯾﻠﺰ ﺳﮯ ﻣﺘﺎﺛﺮ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺍﭘﻨﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﺷﺎﻣﻞ ﮐﯿﮟ، ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺗﺮ ﻃﺎﻟﺐ ﻋﻠﻤﻮﮞ ﮐﺎ ﺭﺩ ﻋﻤﻞ ﺍٓﭖ ﺟﯿﺴﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ، ﻣﯿﮟ ﭘﮭﺮ ﺍﻥ ﮐﻮ ﺑﺘﺎﺗﯽ ﮨﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺗﮏ ﺍٓﭖ ﮐﮯ ﺍٓﺋﯿﮉﯾﻞ ﮐﻮ ﺍٓﺋﯿﮉﯾﻞ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﺎﻧﻮﮞ ﮔﯽ، ﺟﺐ ﺗﮏ ﺍٓﭖ ﮐﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﺍﻥ ﮐﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﺟﮭﻠﮏ ﻧﻈﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺍٓﺗﯽ، ﺍٓﭖ ﺍﮔﺮ ﺩﻝ ﺳﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺍٓﺋﯿﮉﯾﻠﺰ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﺎ ﺍٓﺋﯿﮉﯾﻞ ﺳﻤﺠﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ، ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﺍٓﭖ ﻣﯿﮟ ﺍﻥ ﮐﯽ ﻋﺎﺩﺗﯿﮟ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﻮﻧﯽ ﭼﺎﮨﺌﯿﮟ، ﻭﺭﻧﮧ ﺍٓﭖ (ﻣﻨﺎﻓﻖ) ﮨﯿﮟ۔ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﮐﺴﯽ ﻣﻨﺎﻓﻖ ﮐﻮ ﮐﺒﮭﯽ ﻣﻄﻤﺌﻦ ﺍﻭﺭ ﺍﭼﮭﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮔﺰﺍﺭﺗﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﺎ۔۔۔ ’’میں اپنا کام کرچکا ہوں، قوم کو جس چیز کی ضرورت تھی وہ اسے مل گئی ہے، اب یہ قوم کا کام ہے کہ وہ اسے تعمیر کرے‘‘۔ (قائد اعظم محمد علی جناح) منقول۔۔۔۔ 🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🔹️ آئیڈیل 🔹️ ایک امریکی ائیرلائن میں ﺧﺎﺗﻮﻥ ﻧﮯ ﻓﻼﺋﯿﭧ میں سوﺍﺭ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯽ ﺍﭘﻨﺎ ﮨﺎﺗﮫ ﻣﯿﺮﯼ ﻃﺮﻑ ﺑﮍﮬﺎ ﺩﯾﺎ، ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﺘﺎﺏ ﺑﻨﺪ ﮐﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮔﺮﻡ ﺟﻮﺷﯽ ﺳﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﻣﻼﯾﺎ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﺑﺰﺭﮒ ﺗﮭﯿﮟ، جبکہ ﻋﻤﺮ ﺳﺎﭨﮫ ﺍﻭﺭ ﺳﺘﺮ ﮐﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﮨﻮﮔﯽ ﻭﮦ ﺷﮑﻞ ﺳﮯ ﭘﮍﮬﯽ ﻟﮑﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﺳﻤﺠﮫ ﺩﺍﺭ ﺑﮭﯽ ﺩﮐﮭﺎﺋﯽ ﺩﯾﺘﯽ ﺗﮭﯿﮟ، ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﮐﺘﺎﺏ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺍﺷﺎﺭﮦ ﮐﺮ ﮐﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ؟ ”ﮐﯿﺎ ﯾﮧ ﻋﺮﺑﯽ ﮐﯽ ﮐﺘﺎﺏ ﮨﮯ؟“ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻣﺴﮑﺮﺍ ﮐﺮ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﯾﮧ ﺍُﺭﺩﻭ ﺯﺑﺎﻥ ﮐﯽ ﮐﺘﺎﺏ ﮨﮯ، ﻭﮦ ﻣﺴﮑﺮﺍﺋﯿﮟ ﺍﭘﻨﺎ ﮨﺎﺗﮫ ﺩﻭﺑﺎﺭﮦ ﻣﯿﺮﯼ ﻃﺮﻑ ﺑﮍﮬﺎﯾﺎ، ﻣﻼﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺩﯾﺮ ﺗﮏ ﺟﮭﻼ ﮐﺮ ﺑﻮﻟﯽ۔ ”ﺗﻢ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻧﯽ ﮨﻮ؟“ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮔﺮﻡ ﺟﻮﺷﯽ ﺳﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ ”ﺟﯽ جی ﺑﺎﻟﮑﻞ“ ﻭﮦ ﺣﻘﯿﻘﺘﺎً ﺧﻮﺵ ﮨﻮ ﮔﺌﯿﮟ۔ ﻓﻼﺋﯿﭧ ﻟﻤﺒﯽ ﺗﮭﯽ، ﭼﻨﺎنچہ ﮨﻢ ﺩﯾﺮ ﺗﮏ ﮔﻔﺘﮕﻮﮐﺮﺗﮯ ﺭﮨﮯ، ﭘﺘﮧﭼﻼ کہ ﺟﯿﻨﺎ ﺍﻣﺮﯾﮑﯽ ﮨﯿﮟ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﮐﯽ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﮨﯿﮟ، ﻭﮦ ﻃﺎﻟﺐ ﻋﻠﻤﻮﮞ ﮐﻮ ”ﻋﺎﻟﻤﯽ ﺗﻨﺎﺯﻋﮯ“ ﭘﮍﮬﺎﺗﯽ ﮨﯿﮟ، ﭼﻨﺎنچہ ﻭﮦ ﻣﺴﺌﻠﮧ ﮐﺸﻤﯿﺮ ﺳﮯ بھی ﺍﭼﮭﯽ ﻃﺮﺡ ﻭﺍﻗﻒ ﮨﯿﮟ، ﻭﮦ ﻗﺎﺋﺪﺍﻋﻈﻢ ﻣﺤﻤﺪ ﻋﻠﯽ ﺟﻨﺎﺡ ﺍﻭﺭ ﻣﮩﺎﺗﻤﺎ ﮔﺎﻧﺪﮬﯽ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﮩﺖ ﻣﺘﺎﺛﺮ ﺗﮭﯿﮟ، ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ؟ ”ﮐﯿﺎ ﺗﻢ ﻧﮯ ﮔﺎﻧﺪﮬﯽ ﮐﻮ ﭘﮍﮬﺎ ﮨﮯ؟“ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ۔ ”ﺟﯽ ﮨﺎﮞ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮔﺎﻧﺪﮬﯽ ﮐﯽ ﺍٓﭨﻮﺑﺎﺋﯿﻮ ﮔﺮﺍﻓﯽ (سوانعمری) ﺑﮭﯽ ﭘﮍﮬﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺳﺎﺕ ﺳﻤﺎﺟﯽ ﮔﻨﺎﮨﻮﮞ ﮐﺎ ﻣﻄﺎﻟﻌﮧ ﺑﮭﯽ ﮐﯿﺎ“ ﺟﯿﻨﺎ ﻧﮯ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﮔﺎﻧﺪﮬﯽ ﮐﮯ ﺳﺎﺕ ﺳﻤﺎﺟﯽ ﮔﻨﺎﮨﻮﮞ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﭘﻮﭼﮭﺎ؟ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻋﺮﺽ ﮐﯿﺎ، ﭘﻮﭖ ﮔﺮﯾﮕﻮﺭﯼ ﺍﻭﻝ ﻧﮯ، 950ﺀ ﻣﯿﮟ ﺳﺎﺕ ﺧﻮﻓﻨﺎﮎ ﮔﻨﺎﮨﻮﮞ ﮐﯽ ﻓﮩﺮﺳﺖ ﺟﺎﺭﯼ ﮐﯽ ﺗﮭﯽ، ﺍﻥ ﮐﺎ ﮐﮩﻨﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﻮ ﺳﺎﺕ ﮔﻨﺎﮦ؟ ﮨﻮﺱ، ﺑﺴﯿﺎﺭ ﺧﻮﺭﯼ، ﻻﻟﭻ، ﮐﺎﮨﻠﯽ، ﺷﺪﯾﺪ ﻏﺼﮧ، ﺣﺴﺪ ﺍﻭﺭ ﺗﮑﺒﺮ ﮨﻼﮎ ﮐﺮ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ، ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺍﮔﺮ ﺍﻥ ﺳﺎﺕ ﮔﻨﺎﮨﻮﮞ ﭘﺮ ﻗﺎﺑﻮ ﭘﺎ ﻟﮯ، ﺗﻮ ﯾﮧ ﺷﺎندﺍﺭ ﺑﮭﺮﭘﻮﺭ ﺍﻭﺭ ﻣﻄﻤﺌﻦ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮔﺰﺍﺭﺗﺎ ﮨﮯ، ﮔﺎﻧﺪﮬﯽ ﺟﯽ ﻧﮯ ﭘﻮﭖ ﮔﺮﯾﮕﻮﺭﯼ ﮐﮯ ﺳﺎﺕ ﮔﻨﺎﮨﻮﮞ ﮐﯽ ﻓﮩﺮﺳﺖ ﺳﮯ ﻣﺘﺎﺛﺮ ﮨﻮ ﮐﺮ 1925ﺀ ﻣﯿﮟ ﺳﺎﺕ ﺳﻤﺎﺟﯽ ﮔﻨﺎﮨﻮﮞ ﮐﯽ ﻓﮩﺮﺳﺖ ﺟﺎﺭﯼ ﮐﯽ، ﺍﻥ ﮐﺎ ﮐﮩﻨﺎ ﺗﮭﺎ، ﺟﺐ ﺗﮏ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﻌﺎﺷﺮﮦ ﺍﻥ ﺳﺎﺕ ﮔﻨﺎﮨﻮﮞ ﭘﺮ ﻗﺎﺑﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﺎﺗﺎ، ﻭﮦ ﻣﻌﺎﺷﺮﮦ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺗﮏ ﻣﻌﺎﺷﺮﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻨﺘﺎ، ﮔﺎﻧﺪﮬﯽ ﺟﯽ ﮐﮯ ﺑﻘﻮﻝ۔۔۔ ﺍﺻﻮﻟﻮﮞ ﮐﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﺳﯿﺎﺳﺖ ﮔﻨﺎﮦ ﮨﮯ، ﮐﺎﻡ ﮐﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﺩﻭﻟﺖ ﮔﻨﺎﮦ ﮨﮯ، ﺿﻤﯿﺮ ﮐﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﺧﻮﺷﯽ ﮔﻨﺎﮦ ﮨﮯ، ﮐﺮﺩﺍﺭ ﮐﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﻋﻠﻢ ﮔﻨﺎﮦ ﮨﮯ، ﺍﺧﻼﻗﯿﺎﺕ ﮐﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﺗﺠﺎﺭﺕ ﮔﻨﺎﮦ ﮨﮯ، ﺍﻧﺴﺎﻧﯿﺖ ﮐﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﺳﺎﺋﻨﺲ ﮔﻨﺎﮦ ﮨﮯ، ﺍﻭﺭ ﻗﺮﺑﺎﻧﯽ ﮐﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﻋﺒﺎﺩﺕ ﮔﻨﺎﮦ ﮨﮯ، ﯾﮧ ﺳﺎﺕ ﺍﺻﻮﻝ ﺑﮭﺎﺭﺕ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮔﺎﻧﺪﮬﯽ ﮐﺎ ﺳﻤﺎﺟﯽ ﺍﯾﺠﻨﮉﺍ ﺗﮭﺎ۔ ﻭﮦ ﻣﺴﮑﺮﺍﺋﯿﮟ ﻣﺠﮭﮯ ﺗﮭﭙﮑﯽ ﺩﯼ۔ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﭘﻮﭼﮭﺎ؟ ”ﮐﯿﺎ ﺗﻢ ﻗﺎﺋﺪﺍﻋﻈﻢ ﻣﺤﻤﺪ ﻋﻠﯽ ﺟﻨﺎﺡ ﮐﮯ ﺳﺎﺕ ﺍﺻﻮﻝ ﺑﮭﯽ ﺑﯿﺎﻥ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﻮ؟“ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻣﺴﮑﺮﺍ ﮐﺮ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ۔ ”ﻗﺎﺋﺪﺍﻋﻈﻢ ﭘﺮﯾﮑﭩﯿﮑل ﺑﺎﺍﺻﻮﻝ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺗﮭﮯ۔" ﻭﮦ ﻓﺮﻣﻮﺩﺍﺕ ﭘﺮ ﯾﻘﯿﻦ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮐﮭﺘﮯ ﺗﮭﮯ، ﭼﻨﺎنچہ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﻗﻮﻡ ﮐﻮ ﮐﻮﺋﯽ ﺗﺤﺮﯾﺮﯼ ﺍﯾﺠﻨﮉﺍ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﻭﮦ ﻣﯿﺮﯼ ﻃﺮﻑ ﺩﯾﮑﮭﺘﯽ ﺭﮨﯿﮟ، ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻋﺮﺽ ﮐﯿﺎ؟ ﮔﺎﻧﺪﮬﯽ ﺍﻭﺭ ﻗﺎﺋﺪﺍﻋﻈﻢ ﻣﯿﮟ ﻓﺮﻕ ﺗﮭﺎ، ﮔﺎﻧﺪﮬﯽ ﻓﻼﺳﻔﺮﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﻗﺎﺋﺪﺍﻋﻈﻢ ﭘﺮﯾﮑﭩﯿﮑﻞ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺗﮭﮯ، ﻭﮦ ﮐﮩﻨﮯ ﮐﮯ بجاۓ ﮐﺮﻧﮯ ﭘﺮ ﯾﻘﯿﻦ ﺭﮐﮭﺘﮯ ﺗﮭﮯ، ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﭘﺎﺱ ﺍﻗﻮﺍﻝ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻗﺎﺋﺪﺍﻋﻈﻢ ﮐﯽ ﻣﺜﺎﻟﯿﮟ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﯿﮟ۔ ﻣﯿﮟ ﺧﺎﻣﻮﺵ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ۔ ﻭﮦ ﺑﻮﻟﯿﮟ ﻣﯿﮟ ﻭﮦ ﻣﺜﺎﻟﯿﮟ ﺳﻨﻨﺎ ﭼﺎﮨﺘﯽ ﮨﻮﮞ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻋﺮﺽ ﮐﯿﺎ؟ ﻣﺜﻼً ﻗﺎﺋﺪﺍﻋﻈﻢ ﻧﮯ ﭘﻮﺭﯼ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻭﻗﺖ ﮐﯽ ﭘﺎﺑﻨﺪﯼ ﮐﯽ، ﭘﻮﺭﯼ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻗﺎﻧﻮﻥ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﻮﮌﺍ، ﭘﻮﺭﯼ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺍﻗﺮﺑﺎﺀ ﭘﺮﻭﺭﯼ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯽ، ﭘﻮﺭﯼ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺭﺷﻮﺕ ﺩﯼ ﺍﻭﺭ ﻧﮧ ﻟﯽ، ﭘﻮﺭﯼ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﺬﮨﺒﯽ ﺭﺟﺤﺎﻧﺎﺕ ﮐﯽ ﻧﻤﺎﺋﺶ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯽ، ﭘﻮﺭﯼ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻭﻋﺪﮮ ﮐﯽ ﭘﺎﺑﻨﺪﯼ ﮐﯽ، ﭘﻮﺭﯼ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﺳﻤﺠﮭﻮﺗﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﻮﮌﺍ، ﭘﺮﻭﭨﻮﮐﻮﻝ ﻧﮩﯿﮟ ﻟﯿﺎ، ﺳﺮﮐﺎﺭﯼ ﺭﻗﻢ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮭﺎﺋﯽ، ﭨﯿﮑﺲ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﭽﺎﯾﺎ، ﺍٓﻣﺪﻧﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﭼﮭﭙﺎﺋﯽ، ﺍﺻﻮﻟﻮﮞ ﭘﺮ ﺳﻤﺠﮭﻮﺗﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯿﺎ، ﮐﺴﯽ ﮐﺎ ﺣﻖ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﺎﺭﺍ، ﺍﻭﺭ ﭘﻮﺭﯼ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﺴﯽ ﺷﺨﺺ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺑﺪﺗﻤﯿﺰﯼ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯽ۔ ﻭﮦ ﻣﺴﮑﺮﺍ ﮐﺮ ﺑﻮﻟﯿﮟ ﻭﯾﻞ ﮈﻥ ﺍٓﭖ ﭨﮭﯿﮏ ﮐﮩﮧ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ، ﻭﮦ ﻭﺍﻗﻌﯽ ﺑﮩﺖ ﺷﺎندﺍﺭ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺗﮭﮯ، ﻣﯿﮟ ﺍﻥ ﺳﮯ ﺑﮩﺖ ﺍﻧﺴﭙﺎﺋﺮ ﮨﻮﮞ۔ ﻭﮦ ﺭﮐﯽ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﺍٓﮨﺴﺘﮧ ﺳﮯ ﺑﻮﻟﯿﮟ؟ ”ﻣﯿﮟ ﺍﮔﺮ ﺍٓﭖ ﺳﮯ ﻣﺰﯾﺪ ﺳﻮﺍﻝ ﭘﻮﭼﮫ ﻟﻮﮞ ﺗﻮ ﺍٓﭖ ﻣﺎﺋﯿﻨﮉ ﺗﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﮯ۔“ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻣﺴﮑﺮﺍ ﮐﺮ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ۔ ”ﻧﮩﯿﮟ ﺿﺮﻭﺭ ﭘﻮﭼﮭﯿﮟ ﻣﯿﮟ ﺣﺎﺿﺮ ﮨﻮﮞ“ ﻭﮦ ﺑﻮﻟﯿﮟ؟ ”ﮐﯿﺎ ﺍٓﭖ ﻗﺎﺋﺪﺍﻋﻈﻢ ﺳﮯ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ“ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻓﻮﺭﺍً ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ؟ ” ﺩﻝ ﻭ ﺟﺎﻥ ﺳﮯ“ وﮦ ﺑﻮﻟﯿﮟ؟ ”ﺍٓﭖ ﭘﮭﺮ ﺑﺘﺎﺋﯿﮯ ﺍٓﭖ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﻗﺎﺋﺪﺍﻋﻈﻢ ﮐﯽ ﮐﻮﻥ ﮐﻮﻥ ﺳﯽ ﺧﻮﺑﯽ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﮯ؟“ ﻣﯿﺮﮮ ﻟﯿﮯ ﯾﮧ ﺳﻮﺍﻝ ﻏﯿﺮ ﻣﺘﻮﻗﻊ ﺗﮭﺎ، ﻣﯿﮟ ﭘﺮﯾﺸﺎﻥ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ۔ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﭘﺮﯾﺸﺎﻧﯽ ﻣﯿﮟ ﺩﺍﺋﯿﮟ ﺑﺎﺋﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﻟﮕﺎ، ﻭﮦ بھانپ ﮔﺌﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍٓﮨﺴﺘﮧ ﺍٓﻭﺍﺯ ﻣﯿﮟ ﺑﻮﻟﯿﮟ۔ ”ﺍٓﭖ ﯾﮧ ﭼﮭﻮﮌ ﺩﯾﮟ ﺍٓﭖ ﺻﺮﻑ ﯾﮧ ﺑﺘﺎﺋﯿﮟ۔ ﺍٓﭖ ﮐﯽ ﻗﻮﻡ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﻗﺎﺋﺪ ﮐﯽ ﮐﻮﻥ ﮐﻮﻥ ﺳﯽ ﺧﻮﺑﯽ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﺫﺍﺕ ﮐﺎ ﺣﺼﮧ ﺑﻨﺎﯾﺎ؟“ ﻣﯿﮟ ﻣﺰﯾﺪ ﺷﺮﻣﻨﺪﮦ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ، ﻣﯿﺮﮮ ﻣﺎﺗﮭﮯ ﭘﺮ ﭘﺴﯿﻨﮧ ﺍٓ ﮔﯿﺎ۔ ﻭﮦ ﻣﺴﮑﺮﺍ ﮐﺮ ﺑﻮﻟﯿﮟ؟ ﻣﯿﮟ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﮐﯽ ﻃﺎﻟﺐ ﻋﻠﻢ ﮨﻮﮞ، ﻣﯿﮟ ﺍﺳﻼﻡ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﺍﻧﺴﭙﺎﺋﺮ ﮨﻮﮞ، ﻣﯿﮟ ﺍٓﺩﮬﯽ ﺍﺳﻼﻣﯽ ﺩﻧﯿﺎ ﺩﯾﮑﮫ ﭼﮑﯽ ﮨﻮﮞ، ﺍٓﭖ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﺩﻭ ﻋﻤﻠﯽ ‏(ﻣﻨﺎﻓﻘﺖ) ﮐﺎ ﺷﮑﺎﺭ ﮨﯿﮟ، ﺍٓﭖ ﻟﻮﮒ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﻧﺒﯽ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﺎ ﮨﯿﺮﻭ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ، ﺍٓﭖ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺧﻠﻔﺎﺀ ﺍﻭﺭ ﺻﺤﺎﺑﮧؓ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﺍٓﺋﯿﮉﯾﻞ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ، ﻟﯿﮑﻦ ﺟﺐ ﻋﻤﻞ ﮐﯽ ﺑﺎﺭﯼ ﺍٓﺗﯽ ﮨﮯ، ﺗﻮ ﺍٓﭖ ﺍﻥ ﮐﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﯾﮏ ﺧﻮﺑﯽ ﺑﮭﯽ ”ﺍﮈﺍﭘﭧ“ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ، ﺍٓﭖ ﻣﯿﮟ ﺍٓﭖ ﮐﮯ ﺍٓﺋﯿﮉﯾﻠﺰ ﮐﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﺧﻮﺑﯽ ﻧﻈﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺍٓﺗﯽ۔

💠 حضرت علی علیہ السلام اور بے ادب دوکاندار یہ ان دنوں کی بات ہے جب علی علیہ السلام مملکت اسلامی کے تاجدار تھے۔ آپ بازاروں کی کڑی نگرانی کرتے اسی لئے آپ بازاروں میں جاتے تھے۔ اور لوگوں کو نصیحت کرتے تھے۔ ایک دن آپ خرمہ فروشوں کے بازار میں گئے آپ نے وہاں ایک بچی کو روتے دیکھا، بچی سے رونے کا سبب دریافت کیا بچی نے عرض کیا کہ میرے مالک نے مجھے ایک درہم دیا کہ جاؤ بازار سے خرمہ لے آؤ۔ میں نے اس دوکاندار سے کھجوریں خریدیں اور گھر لے گئی۔ جو میرے مالک کو پسند نہیں آئیں میں وہ واپس اس دوکاندار کے پاس آئی کہ کھجوریں واپس لے لے اور میری رقم میرے حوالے کردے۔ امام علیہ السلام نے دوکاندار سے فرمایا کہ یہ چھوٹی بچی ہے یہ کسی کی کنیز ہے یہ خودمختار نہیں ہے تم یہ کھجوریں لے لو اور اس کی رقم واپس دے دو۔ دوکاندار اپنی جگہ سے اٹھا اس نے اپنا ہاتھ علی علیہ السلام کے سینے پر رکھا آپ کو دوکان سے نیچے اتارنا چاہتا تھا۔ جو لوگ یہ منظر دیکھ رہے تو انہوں نے دوکاندار سے کہا کیا کر رہے ہو؟ یہ علی ابن ابی طالب علیہما السلام ہیں دوکاندار کا رنگ زرد ہوگیا۔ اس نے فوراً اس بچی سے کھجوریں لے لیں اور پیسے بھی واپس کر دیئے پھر اس نے حضرت علی علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا کہ اے امیرالمومنینؑ آپ مجھ سے راضی ہوجائیں اور میری غلطی سے درگزر کردیں۔ آپ نے فرمایا کہ جو چیز مجھے راضی کر سکتی ہے وہ یہ ہے کہ اپنی روش کی اصلاح کرو اس کے ساتھ اخلاق اور ادب کو اپناؤ۔ 📚داستانہا وپندھا ج١ ص٤٧۔ 📚بحارالانوار ج٩ ص ٥١٩۔ 🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

⭕ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﺍﻭﺭ ﯾﻘﯿﻦ ⭕ ﻣﻮﺳﯽٰ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﭘﺮﻭﺭﺩﮔﺎﺭ ﺳﮯ ﺳﺮﮔﻮﺷﯽ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ: " ﺍﮮ ﭘﺮﻭﺭﺩﮔﺎﺭ ! ﺗﯿﺮﺍ ﭼﮩﺮﺍ ﮐﺪﮬﺮ ﮨﮯ؟ ﺷﻤﺎﻝ ﯾﺎ ﺟﻨﻮﺏ ﮐﯽ ﺟﺎﻧﺐ؟ ﺗﺎﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﻣﻨﮧ ﮐﺮﮐﮯ ﺗﯿﺮﯼ ﻋﺒﺎﺩﺕ ﮐﺮ ﺳﮑﻮﮞ۔" ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻧﮯ ﻣﻮﺳﯽٰ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﻭﺣﯽ ﺑﮭﯿﺠﯽ: "ﺍﮮ ﻣﻮﺳﯽٰ! ﺁﭖ ﺁ ﮒ ﺟﻼﺋﯿﮟ، ﭘﮭﺮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺍﺭﺩﮔﺮﺩ ﭼﮑﺮ ﻟﮕﺎ ﮐﺮ ﺩﯾﮑﮭﯿﮟ ﮐﮧ ﺁﮒ ﮐﺎ ﺭﺥ ﮐﺲ ﺟﺎﻧﺐ ﮨﮯ۔؟" ﻣﻮﺳﯽٰ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﻧﮯ ﺁ ﮒ ﺭﻭﺷﻦ ﮐﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺍﺭﺩﮔﺮﺩ ﭼﮑﺮ ﻟﮕﺎﯾﺎ، ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﻮ ﺁﮒ ﮐﯽ ﺭﻭﺷﻨﯽ ﮨﺮ ﭼﺎﺭ ﺳﻮ ﯾﮑﺴﺎﮞ ﮨﮯ۔" ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ﺩﺭﺑﺎﺭِ ﺍﻟٰﮩﯽ ﻣﯿﮟ ﻋﺮﺽ ﮐﯿﺎ : ﭘﺮﻭﺭﺩﮔﺎ ! ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺁﮒ ﮐﺎ ﺭﺥ ﮨﺮ ﺟﺎﻧﺐ ﯾﮑﺴﺎﮞ ﮨﯽ ﺩﯾﮑﮭﺎ۔ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ: "ﺍﮮ ﻣﻮﺳﯽٰ ﻣﯿﺮﯼ ﻣﺜﺎﻝ ﺑﮭﯽ ﻭﯾﺴﯽ ﮨﯽ ﮨﮯ۔" ﻣﻮﺳﯽٰ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ: ﺍﮮ ﭘﺮﻭﺩﮔﺎﺭ! ﺗﻮ ﺳﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﯾﺎ ﻧﮩﯿﮟ؟ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻧﮯ ﺍﻥ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﻭﺣﯽ ﻧﺎﺯﻝ ﻓﺮﻣﺎﺋﯽ: ﺍﮮ ﻣﻮﺳﯽٰ! ﭘﺎﻧﯽ ﺳﮯ ﺑﮭﺮﺍ ﮨﻮﺍ ﺍﯾﮏ ﭘﯿﺎﻟﮧ ﺍﭘﻨﮯ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﭘﺮ ﺭﮐﮫ ﻟﻮ، ﭘﮭﺮ ﻣﯿﺮﮮ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﮐﮭﮍﮮ ﺭﮨﻮ ﺍﻭﺭ ﻧﯿﻨﺪ ﮐﯽ ﺁﻏﻮﺵ ﻣﯿﮟ ﻣﺖ ﺟﺎﺅ۔" ﻣﻮﺳﯽٰ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﻧﮯ ﺍﯾﺴﺎ ﮨﯽ ﮐﯿﺎ۔ ﭘﮭﺮ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟٰﯽ ﻧﮯ ﺍﻥ ﭘﺮ ﮨﻠﮑﯽ ﺳﯽ ﺍﻭﻧﮕﮫ ﮈﺍﻟﯽ، ﭘﯿﺎﻟﮧ ﺍﻥ ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﺳﮯ ﮔﺮ ﮐﺮ ﭨﻮﭦ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﭘﺎﻧﯽ ﺑﮩﮧ ﮔﯿﺎ۔ ﻣﻮﺳﯽٰ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮐﯽ ﭼﯿﺦ ﻧﮑﻞ ﮔﺌﯽ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﮔﮭﺒﺮﺍ ﮔﺌﮯ... ﭘﮭﺮ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ : " ﺍﮮ ﻣﻮﺳﯽ ! ﻣﯿﮟ ﺁﻧﮑﮫ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﺟﮭﭙﮏ ﺑﮭﯽ ﺳﻮ ﺟﺎﺅﮞ ﺗﻮ ﯾﮧ ﺁﺳﻤﺎﻥ ﺯﻣﯿﻦ ﭘﺮ ﺩﮬﮍﺍﻡ ﺳﮯ ﮔﺮ ﭘﮍﮮ ﮔﺎ ﺟﯿﺴﮯ ﺗﯿﺮﺍ ﭘﯿﺎﻟﮧ ﺯﻣﯿﻦ ﭘﺮ ﮔﺮ ﭘﮍﺍ۔" ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﮐﮯ ﺍﺱ ﻗﻮﻝ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺍِﺷﺎﺭﮦ ﮨﮯ۔۔ "ﯾﻘﯿﻨﯽ ﺑﺎﺕ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﺁﺳﻤﺎﻧﻮﻥ ﺍﻭﺭ ﺯﻣﯿﻦ ﮐﻮ ﺗﮭﺎﻣﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻭﮦ ﭨﻞ ﻧﮧ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﺳﻮﺍ ﺍﻭﺭ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﻥ ﮐﻮ ﺗﮭﺎﻡ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﮑﺘﺎ، ﻭﮦ ﺣﻠﯿﻢ ﻭ ﻏﻔﻮﺭ ﮨﮯ۔ (ﻓﺎﻃﺮ: 41) ﻣﻮﺳﯽٰ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ: " ﺍﮮ ﻣﯿﺮﮮ ﭘﺮﻭﺭﺩﮔﺎﺭ ! ﺗﻮ ﻧﮯ ﻣﺨﻠﻮﻕ ﮐﯽ ﺗﺨﻠﯿﻖ ﮐﯿﻮﮞ ﮐﯽ ﺟﺒﮑﮧ ﺍﻥ ﺳﮯ ﺗﺠﮭﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﮍﺗﯽ؟ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ: ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺗﺨﻠﯿﻖ ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﻓﺮﻣﺎﺋﯽ ﮨﮯ ﺗﺎﮐﮧ ﯾﮧ ﻣﺠﮭﮯ ﭘﮩﭽﺎﻧﯿﮟ، ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﺮﺍﺩﯾﮟ ﻣﺎﻧﮕﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﺍﻥ ﮐﯽ ﻣﺮﺍﺩﯾﮟ ﭘﻮﺭﯼ ﮐﺮﻭﮞ، ﺍﻭﺭ ﻣﯿﺮﯼ ﻧﺎﻓﺮﻣﺎﻧﯽ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻣﻐﻔﺮﺕ ﻭﺑﺨﺸﺶ ﮐﯽ ﺩﺭﺧﻮﺍﺳﺖ ﻟﮯ ﮐﺮ ﻣﯿﺮﯼ ﺧﺪﻣﺖ ﻣﯿﮟ ﺣﺎﺿﺮﮨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻣﻐﻔﺮﺕ ﻭ ﺑﺨﺸﺶ ﮐﺎ ﭘﺮﻭﺍﻧﮧ ﺟﺎﺭﯼ ﮐﺮﻭﮞ۔" ﻣﻮﺳﯽٰ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ: ﻣﯿﺮﮮ ﺭﺏ ! ﮐﯿﺎ ﺗﻮ ﻧﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﯾﺴﯽ ﭼﯿﺰ ﺑﮭﯽ ﭘﯿﺪﺍ ﮐﯽ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺗﯿﺮﯼ ﮨﯽ ﺟﺴﺘﺠﻮ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﺘﯽ ﮨﮯ؟ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ: "ﮨﺎﮞ ﻣﻮﻣﻦ ﺑﻨﺪﮮ ﮐﺎ ﺩﻝ ﺟﻮ ﻣﯿﺮﮮ ﻟﯿﮯ ﺧﺎﻟﺺ ﮨﮯ۔" ﻣﻮﺳﯽٰ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ: ﯾﮧ ﮐﯿﺴﮯ ﺍﮮ ﭘﺮﻭﺭﺩﮔﺎﺭ؟ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻧﮯ ﻣﻮﺳﯽ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﺳﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ: ﺟﺐ ﻣﻮﻣﻦ ﺑﻨﺪﮦ ﻣﺠﮭﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﮭﻮﻟﺘﺎ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺩﻝ ﻣﯿﺮﯼ ﯾﺎﺩ ﺳﮯﻟﺒﺮﯾﺰ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﺮﯼ ﻋﻈﻤﺖ ﺍﺱ ﭘﺮ ﻣﺤﯿﻂ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﺠﮭﮯ ﺟﻮ ﯾﺎﺩ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺳﺎﺗﮭﯽ ﺑﻦﺟﺎتا ہوں. توحيد كا اقرار: بسم الله الرحمن الرحيم¤ قل هو الله احد¤ الله الصمد¤ لم يلد و لم يولد¤ و لم يكن له كفوا احد¤ http://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

⭕ حجام اور گاہگ ⭕ ایک شخص نائی کی دوکان پر بال اور داڑھی بنوانے کے لئے گیا۔ جیسا کہ عموماً ھوتا ھے نائی اور گاھک کے درمیان گفتگو شروع ھو گئی۔ بات جب اللہ کے موضوع پر آئی تو نائی نے کہا: ’’مجھے (نعوذباللہ) اللہ کے وجود پر یقین نہیں ھے.‘‘ گاھک نے پوچھا کہ وہ کیوں؟ نائی نے کہا: ’’اِس کے لئے باھر سڑک پر ایک نظر ڈالنا ھی کافی ھے۔ اگر خدا ھوتا تو کیا اِتنے لوگ بیمار ھوتے؟ اِتنی اولادیں یتیم ھوتیں؟ دنیا میں اِتنا رنج و غم ھوتا؟ مجھے یقین ھے کہ اگر رحیم و کریم اللہ کا وجود ھوتا تو وہ ھرگز اِس کی اجازت نہیں دیتا کہ دنیا اتنے مسائل سے بھری ھو۔‘‘ گاھک نے کچھ دیر سوچا لیکن اُس سے کوئی جواب نہ بن پڑا، ویسے بھی وہ بحث کرنے کے موڈ میں نہیں تھا۔ نائی نے اُس کے بال اور داڑھی بنائے اور وہ پیسے دے کر دوکان سے باھر نکل آیا۔ اُسی وقت اُس کے سامنے سے ایک شخص گزرا جس کے بال اور داڑھی لمبے اور بے ترتیب تھے اور لگ رھا تھا کہ بہت عرصہ وہ نہایا بھی نہیں ھے۔ گاھک واپس دوکان میں داخل ھُوا اور نائی سے کہنے لگا: ’’جانتے ھو کیا؟ میرے خیال میں دنیا میں نائیوں کا بھی کوئی وجود نہیں ھے۔‘‘ نائی نے کہا کہ کیسی بات کر رھے ھو۔ میں نائی ھوں اور تمہارے سامنے موجود ھوں، ابھی ابھی تمہاری داڑھی اور بالوں کی حجامت کی ھے۔ گاہگ بولا: ’’میں نے کہا نا کہ کوئی وجود نہیں ھے نائیوں کا، اگر ھوتا تو ایسے لوگ ھرگز نظر نہ آتے جیسا میں نے ابھی ابھی تمہاری دوکان کے سامنے سے گزرتے دیکھا ھے، لمبے اور الجھے بالوں اور داڑھی کے ساتھ۔‘‘ ’’نہیں جناب نائی تو موجود ھیں اب اگر ایسے لوگ ھمارے پاس نہ آئیں تو ھم کیا کر سکتے ھیں؟‘‘ گاہگ بولا: ’’بالکل یہی بات ھے۔ اللہ بھی ھر جگہ اور ھر زمانے میں موجود ھے، اب اگر لوگ اُسے نہ ڈھونڈیں، اُس سے رابطہ نہ کریں اور سچّے دل سے اُس کی پیروی اور اطاعت کر کے اُس سے نہ مانگیں تو یہ اللہ کا تو نعوذباللہ قصور نہیں ھے۔‘‘ 📚اخذ از: حکایاتِ فارسی توحيد كا اقرار: بسم الله الرحمان الرحيم¤ قل هو الله احد¤ الله الصمد¤ لم يلد و لم يولد¤ و لم يكن له كفوا احد¤ http://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

⭕ عالم اور بڑھیا ⭕ ایک عالِم نے ایک بُڑھیا کو چرخہ کاتتے دیکھ کر فرمایا: "اے بُڑھیا.! ساری عُمر چرخہ ہی کاتا ھے یا کچھ اپنے خدا کی بھی پہچان کی ۔۔۔۔۔۔۔۔؟" بُڑھیا نے جواب دیا: "بیٹا مَیں نے تمہاری طرح موٹی موٹی کتابیں تو نہیں پڑھیں مگر۔۔۔۔ سب کچھ اِسی چرخہ میں دیکھ لیا." عالم نے فرمایا: "بڑی بی! یہ تو بتاؤ کہ خدا موجود ھے یا نہیں.؟" بُڑھیا نے جواب دیا: "ہاں۔۔۔۔ ہر گھڑی اور رات دن۔۔۔۔۔ ہر وقت ایک زبردست خدا موجود ھے." عالِم نے فرمایا: "مگر اس کی کوئی دلیل بھی ھے تمہارے پاس.؟" بُڑھیا بولی: "دلیل ھے۔۔۔ یہ میرا چرخہ." عالِم نے پوچھا: "یہ معمولی سا چرغہ کیسے.؟" وہ بولی: "وہ ایسے کہ جب تک مَیں اس چرخہ کو چلاتی رہتی ہُوں۔۔۔۔۔ یہ برابر چلتا رہتا ھے۔۔۔ اور جب مَیں اسے چھوڑ دیتی ہُوں۔۔۔۔۔ تب یہ ٹھہر جاتا ھے۔۔۔۔۔ تو جب اس چھوٹے سے چرخہ کو ہر وقت چلانے والے کی لازماً ضرورت ھے۔۔۔۔۔۔ تو اِتنی بڑی کائنات یعنی زمین و آسمان، چاند، سورج کے اتنے بڑے چرخوں کو کس طرح چلانے والے کی ضرورت نہ ہو گی۔؟ پس جس طرح میرے کاٹھ کے چرخہ کو ایک چلانے والا چاہیے۔۔۔۔ اسی طرح زمین و آسمان کے چرخہ کو ایک چلانے والا چاہیے۔۔۔۔۔ جب تک وہ چلاتا رہے گا۔۔۔ یہ سب چرخے چلتے رہیں گے۔۔۔۔ اور جب وہ چھوڑ دے گا۔۔۔۔۔ تو یہ ٹھہر جائیں گے۔۔۔۔ مگر ہم نے کبھی زمین و آسمان، چاند، سورج کو ٹھہرے ہوئے نہیں دیکھا۔۔۔۔۔ تو جان لیا کہ ان کا چلانے والا ہر گھڑی موجود ھے." عالم نے سوال کیا: "اچھا یہ بتاؤ کہ آسمان و زمین کا چرخہ چلانے والا ایک ھے یا دو۔؟" بُڑھیا نے جواب دیا: "ایک ھے اور اس دعویٰ کی دلیل بھی یہی میرا چرخہ ھے۔۔۔۔ کیونکہ جب اس چرخہ کو مَیں اپنی مرضی سے ایک طرف کو چلاتی ہُوں۔۔۔۔ تو یہ چرخہ میری مرضی سے ایک ہی طرف کو چلتا ھے۔۔۔۔۔۔۔ اگر کوئی دوسرا چلانے والا ہوتا۔۔۔۔۔ تب تو چرخہ کی رفتار تیز یا آہستہ ہو جاتی۔۔۔۔۔ اور اس چرخہ کی رفتار میں فرق آنے سے مطلوبہ نتیجہ حاصل نہ ہوتا۔۔۔۔۔ یعنی اگر کوئی دوسرا صریحاً میری مرضی کے خلاف اور میرے چلانے کی مخالف جہت پر چلاتا۔۔۔۔۔ تو یہ چرخہ چلتے چلتے ٹھہر جاتا۔۔۔۔۔ مگر ایسا کبھی نہیں ہُوا.. اس وجہ سے کہ کوئی دُوسرا چلانے والا ھے ہی نہیں۔۔۔۔۔ اسی طرح آسمان و زمین کا چلانے والا اگر کوئی دُوسرا خدا ہوتا۔۔۔۔ تو ضرور آسمانی چرخہ کی رفتار تیز ہو کر دن رات کے نظام میں فرق آ جاتا۔۔۔ یا چلنے سے ٹھہر جاتا۔۔۔۔۔ یا ٹوٹ جاتا۔۔۔۔ جب ایسا نہیں ھے تو پھر ضرور آسمان و زمین کے چرخہ کو چلانے والا ایک ہی خدا ھے..!!" 📚ماخوذ از: "سیرت الصالحین، صفحہ:3" http://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

📓 توضیح المسائل اک آسانی 📓 کچھ حضرات سوال کرتے ہیں کہ توضیح المسائل پرانے دور میں نہیں تھی تو اب کیوں، پھر کہتے ہیں کہ فلاں فقیہ نے توضیح نہ لکھی فلاں نے نہیں تو آج کل کے مراجع کیوں لکھتے ہیں؟ شروعاتی صدیوں میں توضیح المسائل اس شکل و صورت میں بیشک نہیں تھی جس طرح آج ہے کیونکہ ضرورت ہی محسوس نہیں ہوتی تھی، عوام میں اکا دکا بندہ ہی پڑھا لکھا نظر آتا تھا. سو عوام چونکہ لکھنا پڑھنا نہیں جانتی تھی تو زیادہ تر گفتگو کے ذریعے ہی سوال جواب کا سلسلہ ہوتا. خط و کتابت بس علماء کے ہی بس کی بات تھی. لیکن فقہی رسالے مخلتف روایات کے نسخوں کی صورت میں دستہ بند موجود تھے، ھر دستے کو "اصل" کہا جاتا تھا. علماء ان سے استفادہ کرتے تھے. اس کے بعد شیخ مفید علیہ رحمہ ''متوفی ۴۱۳'' نے *"المقنعہ"* لکھی اور پہلی بار شیعوں کو ایک ایسی فقہی کتاب ملی جس میں آئمہ "ع" روایات نہیں تھی اور مسائل کا جواب فتووں کی صورت میں تھا. جیسے کے قبلے رخ کا تعین، مجبوری میں نجس پانی پینا وغیرہ. یہ کتاب باعث بنی کے عوام کے مسائل کا آسان حل پیش کیا جا سکے. اس کے بعد شیخ طوسی علیہ رحمہ نے بھی اسی طرز پر اپنی کتاب *"النھایہ"* لکھی جو فقہی مسائل کے جوابات پر مبنی تھی. اس کے بعد اسی بزرگوار نے *"المبسوط"* بھی لکھی. شیخ طوسی "رض" کے انتقال اور حوزہ علمیہ بغداد کے سقوط کے دو صدیاں بعد حلہ کے حوزہ میں فقہ تشیع نے زور پکڑا اور اس کے بعد فقہ امامی ترقی کرتی کرتی نجف و اصفہاں کے حوزہ ھائے علمیہ سے ہوتی قم کے حوزہ علمیہ تک پہنچی. یہاں شیخ بہائی کی *"جامع عباسی"* کو پہلی توضیح المسائل کہا جا سکتا ہے. اس کے بعد آیت اللہ بروجردی "رض" کے دور میں علامہ کرباسچیان نے باقائدہ طور پر *توضیح المسائل* مرتب کی اور آیت اللہ بروجردی "رض" کی اجازت سے چھپوائی. فقہ وہ واحد علم کی شاخ ہے جس نے اتنا مسلسل اور کٹھن سفر طے کیا ہے. اتنی کتب کسی موضوع پر نہیں جتنی فقہ پر ہیں اور مسلسل علماء و فقہاء نے عوام کے مسائل کا حل بتا کر ان کی زندگیوں میں آسانی پیدا کی. آج جب ہمارا بچہ بچہ پڑھا لکھا ہے تو فقہی مسائل کے حل کیلئے ایک جامع کتاب بنام *توضیح المسائل* یا استفتات کے جوابات مختلف زبانوں میں چھپوا کر عوام کی دہلیز تک پہنچانا ممکن ہے تو اس کی مخالفت صرف و صرف ایک کوڑ مغز انسان ہی کر سکتا ہے اور پاک و ہند میں یہ کوڑ مغز موجود ہیں اس لیئے سوال کرتے ہیں شیخ مفید کے دور میں تو ضیح المسائل کیوں نہیں تھی، شیخ کلینی کے دور میں توضیح کیوں نہیں تھی. *نکتہ* اگر تمہارا معیار یہ ہی ہے کہ ہر وہ چیز لینی ہے جو آئمہ علیہم السلام کے دور میں تھی یا کسی عالم کے دور میں تو کنگن، کلاوے، شہنشاہ فضائل، بحرالمصائب، نیاز کی دیگیں، اسٹیل کے علم، سبیلیں، عماریاں، تابوت، جلوس، انگوری تابوت، چپ تابوت، بولتا تابوت، آگ کا ماتم ... سب تو آئمہ علیھم السلام کے دور میں نہیں تھا تو کیا یہ بھی چھوڑ دیں گے؟ 🤔 *توضیح المسائل* حلال و حرام کا گھر بیٹھے پتہ لگانے کیلئے اللہ تعالٰی کی ایک عظیم نعمت ہے. جب لوگ پڑھنا لکھنا نہیں جانتے تھے اور چھپائی اتنی وافر مقدار میں ممکن نہیں تھی تو یہ اس شکل میں نہ تھی اب جب پرنٹنگ پریس نے ترقی کر لی عوام بھی پڑھی لکھی ہے تو کیوں نہ ایسی کتاب ہو جو عوام کیلئے آسانی پیدا کرے. ملتمس دعا: ضیغم عبّاس 🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔ 👆ایک مراسلہ👆 https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

⭕ صفات باری تعالٰی ⭕ گذشتہ چند سالوں میں مختلف طریقوں سے نوجوانوں کے اذھان میں زھر داخل کیا جارہا ہے. ھم سبکی ذمہ داری ہے کہ اسکے سدباب کیلئے اپنااپنا کردار ادا کریں. یہ ایک ایسا کلیہ ہے کہ اگر نوجوان اسے ایک بار سمجھ لیں تو ان شاءاللہ جب بھی کسی کی تقریر سنیں گے فوراً فیصلہ کرلیں گے کہ یہ آئمہ اطہار علیہم السلام کی تعریف وتوصیف کر رہاہے یا انکے نام پر شرک کا زھر ھمارے افکار میں گھول رہاہے۔ یاد رکھیں! اس دنیا میں تمام انبیاء ورسل و آئمہ اطہار علیہم السلام کی زندگیوں کا صرف ایک ھدف تھا اور وہ ہے "توحیدشناسی" یعنی اگر ھم اصول دین کو قیامت سے سمیٹنا شروع کریں تو امامت نبوت سے ہوتی ہوئی عدل خداوندی سے توحید پر ختم ہوگی اسیطرح جہاد سے لیکر نماز تک ھرعمل کا ماحصل توحید باری تعالٰی ہے. توحیدِ کو سمجھنے کیلئے ضروری ہے کہ اللہ رب العزت کی صفات کو سمجھا جائے ذیل میں صفات ثبوتیہ اور صفات سلبیہ کو بیان کررہا ہوں انہیں سمجھیں اور دیکھیں کہ کسطرح یہ نام نہاد کم فہم و کم علم نوجوانوں کو شرک میں مبتلا کرتے ہیں۔۔ 🔷صفات ثبوتیہ قدیم= یعنی اللہ ھمیشہ سے ہے اور ھمیشہ رھے گا، اب اگرکوئی اللہ کے علاوہ کسی اور کو قدیم کہے تو اس نے دو ذوات کو قدیم کہکر اللہ کی وحدانیت کا انکار کردیا، اور جزو کا اور دوئی کا قائل ہوگیا جوکہ صریحاً شرک ہے لہذا جوکچھ ہے وہ اس کیبعد اس سے پہلے کچھ نہیں. انبیاء ورسل وآئمہ بھی قدیم نہیں کیونکہ وہ مخلوق ہیں۔ قادر= یعنی وہ ھر شے پر قادر ہے اور اس پر کسی کو کوئی قدرت نہیں، یعنی آئمہ علیہم السلام پر بھی اس کی قدرت ہے اور آئمہ علیہم السلام کی اس پر کوئی قدرت نہیں۔۔ عالم= وہ عالم ہے ایسا کہ ھر شے کو جانتاہے اور کبھی ایسا نہیں ہوا کہ وہ ایک لمحے کیلئے بھی جاھل رہاہو جبکہ مخلوق عدم سے وجود میں آنے کیبعد عالم بنی اور اسکو علم پروردگار سے ملا کیونکہ وہ اس وقت بھی تھا جب مخلوق نہ تھی۔ حی= وہ ایسا زندہ ہے جسے موت نہیں، اب جسے بھی موت ہے وہ اللہ نہیں یاد رکھیں۔۔ مدرک= وہ دیکھتا بھی ہے، سنتا بھی ہے لیکن نہ اسکے کان ہیں اور نہ آنکھیں، اسکے علاوہ جوبھی ہیں وہ دیکھنے اور سننے کے لئے اعضاء کے محتاج ہیں۔ مرید= وہ صاحب ارادہ ہے جب وہ کسی شے کا ارادہ کرتا ہے تو وہ ہو جاتی ہے، یعنی وہ اپنے ارادے میں کسی کا پابند نہیں ہے، اس کے ارادے سے سب خلق ہوئے ہیں وہ کسی کے ارادے سے خلق نہیں ہوا۔ متکلم= وہ کلام کرتا ہے لیکن اس زبان سے نہیں اور جتنی بھی مخلوقات ہیں وہ کلام کیلئے کسی نہ کسی وسیلہ کی محتاج ہیں. صادق= وہ سچا ہے اور اسے کسی کا خوف ولالچ نہیں کہ جھوٹ کہے۔ 🔷صفات سلبیہ وہ صفات جن سے اللہ رب العزت منزہ ہے۔ شرکت= یعنی اسکا کوئی شریک نہیں وہ واحد و احد ہے کسی کی شرکت سے کوئی کام انجام نہیں دیتا جو یہ سمجھتا ہے کہ کوئی اس کا مددگار ہے اور وہ کسی کو شریک کرنے کا محتاج ہے وہ مشرک ہے۔ ترکیب= یعنی وہ مرکب نہیں ہے کہ کسی شے سے بنا ہو، یعنی جو بھی جسم و اعضاء کا مرکب ہے وہ مخلوق ہے خالق نہیں۔ حلول= نہ وہ کسی شے میں حلول کرتا ہے اور نہ کوئی شے اس میں حلول کرتی ہے جو یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ اللہ نعوذ باللہ کسی امام میں حلول کرتا ہے وہ مشرک ہے کیونکہ اللہ جسم نہیں کہ جس میں کوئی حلول کر جائے اور وہ کسی میں حلول کر جائے ایسا سوچنا اسے محدود کرنا ہے اور جو محدود ہو وہ اللہ نہیں۔ مکان= اس کا کوئی ایک مکان نہیں کہ کہا جاسکے کہ وہ اسطرف ہے جیساکہ امام علی علیہ السلام نے فرمایا کہ جس نے اسے ایک جہت میں مانا اس نے اسے قابل اشارہ سمجھا جس نے قابل اشارہ سمجھا اس نے اسے محدود کردیا۔۔ جس نے ایک سمت میں محدود کیا اس نے اور جگہوں کو اس سے خالی سمجھا۔۔ احتیاج= اسے کسی چیز کی ضرورت نہیں اور سبکو اسکی ضرورت ہے، یعنی کوئی یہ نہ کہے کہ اللہ کو ضرورت تھی کہ امامؑ ہوں تو اس کا وجود ہوگا ورنہ نہیں، اسے کسی بھی شے کی احتیاج نہیں۔ صفات زائد بر ذات= یعنی اسکی صفات اسکی ذات کے علاوہ کوئی الگ شے نہیں بلکہ اس کی تمام صفات عین ذات ہیں، یہ عقیدہ اسلئے ضروری ہے کہ صرف اسکی ذات قدیم ہے اگر اسکی صفات کو اسکی ذات سے علیحدہ سمجھاگیا تو صفات کو بھی قدیم ماننا پڑے گا جوکہ محال ہے۔ محل حوادث= یعنی اس میں تغیر و تبدیلی نہیں نہ اسے اونگھ آتی ہے نہ ہی نیند کیونکہ یہ کیفیات تبدیلی پیدا کرتی ہیں پہلی حالت سے دوسری حالت کی جانب، اور تمام آئمہ اطہارؑ سوتے بھی تھے جاگتے بھی تھے بچے بھی تھے اور پھر جوان اور پھر بوڑھے بھی ہوئے۔ مرئی= وہ قابل روئیت نہیں وہ نہ دنیا میں دکھائی دے سکتاہے نہ آخرت میں، کیونکہ دکھائی دینے کیلئے جسم ومکان کی شرط ہے اور اللہ رب العزت اس سے پاک و منزہ ہے لہذا جوبھی مرئی ہے وہ خدا نہیں ہوسکتا۔ اگر اسطرح کوئی توحید کو سمجھ لے تو ان شاءاللہ زندگی میں پھر کبھی کسی کے بہکاوے میں نہیں آئیگا. https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🔶 رحلت حضرت ابوطالبؑ 🔶 🔷 حضرت ابوطالبؑ نے ہجرت سے تین سال قبل بعثتِ رسولؐ کے دسویں سال رحلت فرمائی۔ ایک قول کی بناء پر وقت وفات آپ کا سنِ مبارک 81 برس تھا۔ آپ کی رحلت کے متعلق اور بھی تاریخیں بیان کی گئی ہیں جو یہ ہیں.. 27 جمادی الاوّل، 29 رجب، 7 اور 18 ماہِ رمضان، 15 اور 17 شوال، 1 اور 10 ذوالعقد، 25، 26 ربیع الاول اور پہلی ذوالحجہ۔ 🔷 نسب مبارک: آپؑ کا اسمِ گرامی عمران ہے، آپؑ کے والد جناب عبدالمطلب اور والدہ جنابِ فاطمہ بنت عمرو ابن عائذ ہیں۔ جناب ابوطالبؑ، عبداللہ اور زبیر کے ‘‘اَبَوَینی" بھائی تھے، (یعنی آپ تینوں کے ماں اور باپ ایک ہی تھے) جبکہ دوسری اولادوں کی مائیں مختلف تھیں۔ 🔷 جناب ابوطالبؑ کا ایمان: علامہ مجلسیؒ فرماتے ہیں: تمام شیعوں کا جناب ابوطالبؑ کے اسلام اور ایمان پر اتفاق ہے۔ آپ نے کبھی بتوں کی پوجا نہیں کی۔ بلکہ جناب ابوطالبؑ حضرت ابراہیمؑ کے اوصیاء میں سے ایک ہیں، اور ان کا اسلام اور ایمان شیعوں میں مشہور ہے۔ 🌹 شیخ صدوقؒ فرماتے ہیں؛ حدیث میں آیا ہے کہ جناب عبدالمطلب حجتِ خدا اور ابوطالبؑ ان کے وصی تھے۔ روایت کے بقول انبیاءؑ کی میراث ان کی یادگار جیسے حضرتِ موسٰیؑ کا عصا اور حضرت سلیمانؑ کی انگوٹھی اور اسیطرح کی دوسری چیزیں جناب عبدالمطلب اور پھر ابوطالبؑ کے سپرد کی گئیں۔ پھر آپؑ نے انہیں خاتم الانبیاءؑ کے سپرد کیا۔ 🌹 ابن اثیر جزری شافعی کہتے ہیں: ایمانِ ابوطالب پر اہلبیتؑ کا اجماع ہے اور اہلبیتؑ کا اجماع حجّت ہے۔ 🌹 ایمانِ ابوطالبؑ پر بہت سی کتابیں تحریر کی گئی ہیں جن میں سب سے پہلی کتاب 620ھ کو تحریر کی گئی۔ اس وقت سے لے کر آج تک بہت سی کتابیں بہت سی زبانوں میں ایمانِ ابوطالبؑ اور عظمت و بزرگی پر چھاپی جا چکی ہیں، یہ بات اہلِ تحقیق سے پوشیدہ نہیں ہے۔ 🌹 حضرت امام رضاؑ فرماتے ہیں "جو اس بات پر اعتقاد رکھتا ہو کہ ابوطالبؑ حالت کفر میں اس دنیا سے گئے تو وہ کافر ہے۔" 🌹 پیغمبر اکرمؐ کی حمایت میں جنابِ ابوطالبؑ کے اشعار، ان کی رحلت کے وقت جنابِ امیرالمؤمنینؑ کے اشعار ان کی شان میں، مسجد الحرام میں پیغمبرؐ کی حمایت میں قریش سے مکالمہ، وقت رحلت آپ کے کلمات، طلب باران کے لئے آپؑ کا اندازِ دعا۔ یہ سب باتیں آپ کے صاحبِ ایمان ہونے پر ایسے ہی دلالت کرتی ہیں جیسے اصحاب کہف کے لئے۔ 🌹 امیرالمؤمنینؑ نے آپ کی شان میں جو اشعار کہے وہ آپ کی جناب حمزہؑ پر افضلیت کے لئے کافی ہیں۔ 🌹 اصبغ بن بناتہ کہتے ہیں: امیرالمؤمنینؑ نے فرمایا: "خدا کی قسم! میرے والد اور دادا عبدالمطلب اور ہاشم اور عبدمناف نے کبھی بتوں کی پرستش نہیں کی۔" سوال کیا گیا کہ پھر کس کی عبادت کرتے تھے؟ آپؑ نے فرمایا: کعبہ کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے تھے، دینِ ابراہیم پر تھے اور ان سے متمسک تھے۔ 🌹 ابن ابی الحدید ان کی شان میں اس طرح اشعار کہتا نظر آتا ہے: "اگر ابوطالب اور اس کا فرزند نہ ہوتا تو اسلام کے آثار نہ رہتے جیسے کہ اس وقت ہیں۔ ابوطالب نے مکہ میں پیغمبر اکرمؐ کی حمایت کی اور ان کے بیٹے نے مدینہ میں بے دریغ پیغمبر اکرمؐ کی حمایت اور دفاع کیا۔ 🔷 پیغمبرؐ سوگ ابوطالبؑ میں: جس وقت امیرالمومنینؑ نے پیغمبر اکرمؐ کو جناب ابوطالبؑ کی وفات کی خبر سنائی، آپؐ بہت زیادہ رنجیدہ ہو گئے، اور فرمایا: "اے علیؑ! جاؤ ان کا غسل و کفن کرو، انہیں حنوط کرو اور جب چٹائی پر لٹا دو تو مجھے خبر دو" جب علیؑ نے رسولؐ کے احکامات پر عمل کرلیا اور اپنے والدِ ماجد کے جسد مبارک کو چٹائی پر لٹا دیا اس کے بعد پیغمبرؐ کو اطلاع دی۔ پیغمبرؐ چچا کے جنازے پر تشریف لائے اور جیسے ہی ان کی نظر جناب ابوطالبؑ کی لاشِ مطہر پر پڑی آپؐ نے اپنے آپ کو لاش پر گرا دیا اور روتے ہوئے فرمایا: "اے چچا آپ نے صلۂ رحم کیا، مہربانی کی اور جزاءِ خیر کو پایا۔ اے چچا آپ نے بچپن میں میری کفالت کی اور بڑے ہونے پر میری نصرت و حمایت فرمائی۔" اس کے بعد لوگوں کی طرف رُخ کر کے فرمایا: "خدا کی قسم! میں اپنے چچا کو اذنِ شفاعت دیتا ہوں کہ جسے دیکھ کر بروزِ قیامت جن و انس تعجب کریں گے۔" 🌹 جنابِ ابوطالبؑ کی وفات کے بعد جبرائیلؑ نازل ہوئے اور پیغمبرؐ سے عرض کی "آپ کا یار و مونس اس دنیا سے چلا گیا اب آپ ہجرت کیجئے۔ 🔷 جناب امیرالمومنینؑ نے اپنی حیاتِ طیبہ میں ہمیشہ جناب عبداللہ، جناب آمنہ اور جناب ابوطالبؑ کی نیابت میں حج کروائے۔ وقت شہادت اپنی اولاد کو بھی اس بات کی وصیت فرمائی کہ ان حضرات کی طرح سے نیابت میں حج کروائیں۔ #وفات_پرملال_حضرت_ابوطالب_علیہ_السلام 😭 #السلام_علیک_یا_عمران_ابوطالب 🌹 👈 مزید تفصیل کے لیے لنک پر کلک کریں۔۔۔ https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=121105826639893&id=100062214292056 ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

⭕ خدا کیسا ہے؟ ⭕ خدا کیسا ہے؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جو اکثر لوگوں، مسلمانوں، غیر مسلموں، چھوٹوں اور بزرگوں کو ضرور پیش آیا ہوگاـ سوال؟ خدا اسوقت کہاں ہے؟ وہ کس چیز سے بنا ہے؟ خدا سے پہلے کیا تھا؟ اگر آپ بھی اس سوال کا جواب حاصل کرنا چاھتے ہو تو جان لیں کہ ہماری عقل و فھم اتنی قدرت نہیں رکھتی ھے کہ اس حد تک پہنچ جائے، لیکن ھمارے مولا امیرالمؤمنین علی بن ابی طالب اسداللہ الغالب علیہ السلام نے اللہ کے وجود کے بارے میں کفار کو بڑی خوبصورت انداز میں وضاحت کے ساتھ جواب دیا اور ھماری ضعیف عقل و فھم کی طرف بھی توجہ دلائی. کفار کی طرف سے امام علی علیہ السلام سے سوال؟ آپ کا خدا کس سال اور کس تاریخ کو وجود میں آیا؟ امام علی علیہ السلام نے فرمایا: اللہ تعالی کا وجود تاریخ اور زمان سے پھلے تھا. کفار نے پوچھا: یہ کیوں کر ھو سکتا؟ کیوں کہ ھر چیز کسی دوسری شئ سے وجود میں آتی ھے یا تبدیل ھوتی. ھمارے امام علی مرتضٰیؑ نے فرمایا: 3 سے پہلے کون سا عدد ہے؟ کفار نے جواب دیا: 2 امام علیہ السلام نے فرمایا: 2 سے پہلے کون سا عدد؟ انھوں نےجواب دیا: 1 امام علیہ السلام نے پوچھا: 1 سے پہلے؟ انھوں نے جواب دیا: کوئی عدد نہیں. امام علیہ السلام نے فرمایا: یہ کیسے ممکن ھے کہ ایک عدد کے بعد بے شمار اعداد موجود ہوں اور اس سے پہلے کوئی عدد نہ ہو لیکن اللہ تعالٰی جو احد اور واحد حقیقی ہے سے پہلے کوئی چیز موجود ہو؟ کفار نے عرض کیا: آپ کا خدا کہاں ہے؟ اور کس طرف واقع ہے؟ امام علیہ السلام نے فرمایا: وہ ھر جگہ حاضر اور ھر چیز پر مشرف ہے. انھوں نے کہا: یہ کیسے ممکن ہے کہ ھر جگہ حاضر ہو اور ھر چیز پر مشرف ھو؟ امام علی علیہ السلام نے فرمایا: اگر آپ لوگ ایک تاریک اور اندھیر جگہ سوئے ہوے ھوں، جب صبح بیدار ھوجائیں تو دن کی روشنی کہاں اور کس طرف سے دیکھتے ھو؟ کفار نے کہا ھر جگہ اور ھر طرف سے. امام علیہ السلام نے فرمایا: پس وہ خدا جو خود زمین اور آسمانوں کا نور ہے ھر جگہ اور ہر طرف کیوں نہیں ھوسکتا؟ کفار نے کہا: پس خدا نور سے ہے لیکن نور سورج سے ہے پھر آپ کا خدا کس نور سے ہے؟ یہ کس طرح ممکن ہے کہ کسی چیز سے نہ ہو لیکن ہر جگہ موجود ہو اور قدرت بھی رکھتا ہو؟ امام علی علیہ السلام نے فرمایا: خدا خود روشنی کا خالق ہےـ کیا تم نے طوفان اور ھوا کی قدرت کو نہیں دیکھا ہے؟ ھوا کس چیز سے ہے جو نہ دیکھی جاتی ھے نہ وہ کسی چیز سے ہے، درحالیکہ طاقتور ہے، خدا تو خود ھوا کا خالق ہےـ انھوں نے عرض کیا: ھمارے لئے اپنے خدا کے وصف بیان فرمائیے کہ وہ کس چیز سے بنا ھوا ھے؟ کیا لوہا جیسا سخت ہے؟ یا جاری پانی جیسا؟ یا گیس سے؟ یا دھواں اور بھاپ جیسا ہے؟ حضرت امام علی علیہ السلام نے فرمایا: کیا آج تک آپ کسی مرتے ہوئے بیمار کے پاس بیٹھے تھے؟ اور اس کے ساتھ باتیں کیں؟ انھوں نے جواب دیا: جی ھاں، ھم ایسے بیمار کے پاس تھے اور باتیں بھی کیں. امام علیہ السلام نے فرمایا: کیا اس کے مرنے کے بعد بھی اس کے ساتھ باتیں کی؟ انھوں نے جواب دیا: نہیں، ایسا ممکن نہیں ـ کیوں کہ وہ مر چکا ہےـ امام علیہ السلام نے فرمایا: مردہ اور زندہ ہونے میں کیا فرق تھا کہ جس کے بعد کلام اور حرکت کرنے پر قدرت نہیں رکھتا تھا. انھوں نے کہا: روح، روح اس کے بدن سے خارج ہوئی. امام علی علیہ السلام نے فرمایا: آپ وہاں پر موجود تھے اور کہتے ہو کہ روح اس کے بدن سے خارج ہوئی اور مرگیاـ اب اس روح کو جو آپ نے اپنی آنکھوں کے سامنے نکلتے ہوے دیکھا، میرے لیے اس کے وصف بیان کریں کہ وہ کس جنس سے تھا؟ اور کیسا تھا؟ یہ سن کر سب خاموش ھو گئے. امام علی مرتضٰیؑ نے فرمایا: آپ اس روح کی توصیف کرنے کی قدرت نہیں رکھتے جس کو تم نے اپنی آنکھوں سے بیمار انسان کے بدن سے نکلتے ہوے دیکھاـ تو آپ کیسے اس ذات اقدس احدیت اور روح کے خالق کو درک کرنے اور سمجھنے کی قدرت رکھ سکتے ہو. 📚اقتباس از کتاب توحید نظری (حجةالاسلام شایان) http://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🌳 شفقتِ پِدری 🌳 ﮐﻞ ﺷﺎﻡ ﮐﺎﻡ ﺳﮯ ﺍﻧﺘﮩﺎﺋﯽ ﺗﮭﮑﺎ ﮬﻮﺍ ﮔﮭﺮ ﺁﯾﺎ ﺗﮭﮑﺎﻭﭦ ﺳﮯ ﺟﺴﻢ ﮐﺎ ﺍﻧﮓﺍﻧﮓ ﭨﻮﭦ ﺭﮬﺎ ﺗﮭﺎ ﺁﺗﮯ ﮨﯽ ﺑﺴﺘﺮ ﭘﺮ ﮔﺮ ﮔﯿﺎ ﺍﺑﻮ ﻓﻮﺭﺍً ﮐﻤﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺁﺋﮯ ﺍﻧﺘﮩﺎﺋﯽ ﺷﻔﻘﺖ ﺳﮯ ﺣﺎﻝ ﺍﺣﻮﺍﻝ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺗﮭﮑﺎﻭﭦ ﮐﮧ ﺑﺎﻋﺚ ﺑﮯﺩﻟﯽ ﺳﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ ﻭﮦ ﺯﯾﺮِ ﻟﺐ ﺩﻋﺎ ﺩﯾﺘﮯ ﮬﻮﺋﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﮐﻤﺮﮮ ﮐﯽ ﺟﺎﻧﺐ ﭼﻠﮯ ﮔﺌﮯ ﺗﮭﻮﮌﯼ ﺩﯾﺮ ﺑﻌﺪ ﺑﯿﮕﻢ ﮐﻤﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺁﺋﯽ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﺑﭽﮯ ﮐﮩﺎﮞ ﮨﯿﮟ ﺑﮩﺖ ﺗﮭﮑﺎ ﮬﻮﺍ ﮬﻮﮞ ﺍﭘﻨﮯ ﺟﮕﺮ کے ﭨﮑﮍﻭﮞ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﻮﮞ ﮔﺎ ﺗﻮ ﺗﮭﮑﺎﻭﭦ ﺍﺗﺮ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ۔ ﺑﯿﮕﻢ ﻓﻮﺭﺍً ﺻﺤﻦ ﻣﯿﮟ ﮐﮭﯿﻠﺘﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﻧﻨﮭﮯ ﻣﻨﮯ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﻮ ﻟﮯ ﺁئی ﺟﻮ ﺁﺗﮯ ﮨﯽ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﻟﭙﭧ ﮔﺌﮯ۔ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺍﻥ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﺳﺎﺭﯼ ﺗﮭﮑﺎﻭﭦ ﺑﮭﻮﻝ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﭘﺮ ﺷﻔﻘﺖِ ﭘِﺪﺭﯼ ﻧﭽﮭﺎﻭﺭ ﮐﺮﻧﮯ ﻟﮕﺎ۔ ﻟﯿﮑﻦ ﭼﻨﺪ ﻟﻤﺤﻮﮞ ﺑﻌﺪ ﮨﯽ ﻭﺍﻟﺪ ﻣﺤﺘﺮﻡ ﮐﺎ ﺟﮭﺮﯾﻮﮞ ﺑﮭﺮﺍ ﭼﮩﺮﮦ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ کے ﺳﺎﻣﻨﮯ ﮔﮭﻮﻡ ﮔﯿﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺑﮭﯽ ﺷﻔﻘﺖِ ﭘِﺪﺭﯼ ﺳﮯ ﻣﺠﺒﻮﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﯿﭩﮯ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﺁﺋﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺍﻭﻻﺩ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ۔ ﺍﭘﻨﯽ ﺷﻔﻘﺖِ ﭘِﺪﺭﯼ ﻧﭽﮭﺎﻭﺭ ﮐﺮﻧﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﻣﯿﺮﯼ ﺑﮯﺭﺧﯽ کے ﺑﺎﻋﺚ ﻭﮦ ﺑﯿﭩﮫ نہ ﺳﮑﮯ۔۔ ﺍﺗﻨﺎ ﺳﻮﭼﺘﮯ ﮨﯽ ﻣﯿﺮﯼ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﮐﮧ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺍﻧﺪﮬﯿﺮﺍ ﭼﮭﺎﻧﮯ ﻟﮕﺎ، ﺩﻡ ﺳﯿﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﮔﮭﭩﺘﺎ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮬﻮﻧﮯ ﻟﮕﺎ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﻮ ﭼﮭﻮﮌﺍ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﮌﺗﺎ ﮬﻮﺍ ﻭﺍﻟﺪِﻣﺤﺘﺮﻡ کے ﮐﻤﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺟﺎ ﭘﮩﻨﭽﺎ۔۔ ﺟﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﭼﺎﺭﭘﺎﺋﯽ ﭘﺮ ﻟﯿﭩﮯ نہ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﻦ ﺳﻮﭼﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮔﻢ ﭼﮭﺖ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﮯ ﺟﺎ ﺭﮬﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﻣﯿﮟ ﺍﻥ ﮐﯽ ﭼﺎﺭﭘﺎﺋﯽ ﭘﺮ ﺍﻥ کے ﻗﺪﻣﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺟﺎ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﯽ ﭨﺎﻧﮕﯿﮟ ﺩﺑﺎﻧﮯ ﻟﮕﺎ۔ ﺍﺑﻮ ﻓﻮﺭﺍً ﺍﭨﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﺠﮭﮯ ﺳﯿﻨﮯ ﺳﮯ ﻟﮕﺎ ﻟﯿﺎ۔ ﻧﺠﺎﻧﮯ ﮐﯿﻮﮞ ﮨﻢ ﺑﺎﭖ ﺑﯿﭩﺎ ﭘﮭﻮﭦ ﭘﮭﻮﭦ ﮐﺮ ﺭﻭﻧﮯ ﻟﮕﮯ۔ ﻣﯿﮟ ﺗﺴﻠﯿﻢ ﮐﺮﺗﺎ ﮬﻮﮞ ﮐﮧ ﺍﯾﺴﯽ ﺭﺍﺣﺖ ﻣﺠﮭﮯ ﮐﺒﮭﯽ نہ ﻣﻠﯽ ﺟﻮ ﺑﺎﭖ ﮐﮧ ﺳﯿﻨﮯ ﺳﮯ ﭼﻤﭧ ﮐﺮ ﻣﻠﯽ۔ ■ﺩﻭﺳﺘﻮ! آپ ﺍﭘﻨﮯ ﭘﯿﺴﻮﮞ ﺳﮯ ﻣﺎﮞ ﺑﺎﭖ ﮐﯽ ﺧﻮﺷﯿﺎﮞ ﻧﮩﯿﮟ ﺧﺮﯾﺪ ﺳﮑﺘﮯ۔ ﭘﯿﺴﮧ ﺗﻮ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﺳﺎﺭﯼ ﺫﻧﺪﮔﯽ ﮐﻤﺎﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﮨﻨﺴﺘﮯ ﮨﻨﺴﺘﮯ ﺳﺐ آپ ﭘﺮ ﻟﭩﺎ ﺩﯾﺎ ﯾﮧ ﺟﺎﻧﺘﮯ ﮬﻮﺋﮯ ﺑﮭﯽ ﮐﮧ ﮐﻞ ﮐﻮ ﻭﮦ ﺑﻮﮌﮬﮯ ﮬﻮﮞ ﮔﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﮍﮬﺎﭘﮯ ﮐﮧ ﻟﺌﮯ ﮐﭽﮫ نہ ﺑﭽﺎﯾﺎ۔ ﺍﮔﺮ ﮐﭽﮫ ﺑﭽﺎﯾﺎ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺑﮭﯽ آپ کے ﻟﺌﮯ۔ آپ ﺻﺮﻑ ﭼﻨﺪ ﻟﻤﺤﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﺎﮞ ﺑﺎﭖ کے ﺳﺎﺗﮫ ﺑﯿﭩﮫ ﺟﺎﯾﺎ ﮐﺮﻭ، ﺍﻥ ﺳﮯ ﺩﮐﮫ ﺳﮑﮫ ﮐﯽ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﺷﻔﻘﺖ کے ﺳﺎﺗﮫ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﻭ، ﯾﻘﯿﻦ ﮐﺮﻭ ﺩﻧﯿﺎ ﻭ ﺁﺧﺮﺕ ﻣﯿﮟ ﻓﻼﺡ ﭘﺎﺟﺎؤ ﮔﮯ. ●رسول خدا (ص) فرماتے ہیں؛ "رِضَآءُ الرَّبِّ فِی رِضَآءِ الْوَالِدَيْنِ" والدین کی رضامندی خدا کی رضامندی ہے۔ (کنزالعمال: 45520) 🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

💎 ہیرا اور شیشہ 💎 ایک بادشاہ کا دربار لگا ہوا تھا، چونکہ سردی کا دن تھا اس لئے بادشاہ کا دربار کھلے میدان میں ہی لگا ہوا تھا. سب خواص و عوام صبح کی دھوپ میں بیٹھے تھے۔ بادشاہ کے تخت کے سامنےایک میز تھی اور اس پر کچھ قیمتی اشیا رکھی تھیں۔ وزیر، مشیر اور امراء وغیرہ سب دربار میں بیٹھے تھے، بادشاہ کے خاندان کے دیگر افراد بھی موجود تھے۔ اسی وقت ایک شخص آیا اوردربار میں داخلے کی اجازت چاہی۔ اجازت مل گئی تو اس نے کہا۔۔ "میرے پاس دو اشیاء ہیں، میں ہر ملک کے بادشاہ کے پاس گیا ہوں اور اپنی اشیاء کو بادشاہ کے سامنے رکھتا ہوں پر کوئی فرق جان نہیں پاتا، تمام ہار چکے ہیں اور میں ہمیشہ کامران و کامیاب ہو کر لوٹتا ہوں" اب آپ کےملک میں آیا ہوں۔ بادشاہ نے کہا؛ "کیا اشیاء ہیں؟" تو اس نے دونوں اشیاء بادشاہ کے سامنے میز پر رکھ دیں۔ وہ دونوں اشیاء دکھنے میں بالکل ایک جیسی جسامت، یکساں رنگ، یکساں چمک گویا کہ یہ دونوں اشیاء ایک دوسرے کی نقل محسوس ہوتی تھیں۔ بادشاہ نے کہا یہ دونوں اشیاء تو بالکل ایک جیسی ہیں. تو اس شخص نے کہا جی ہاں دکھائی تو ایک سی ہی دیتی ہیں لیکن ہیں مختلف۔ ان میں سے ایک ہے بہت قیمتی ہیرا اور ایک ہے شیشہ۔ بظاہر یہ دونوں ایک سے ہیں، کوئی آج تک یہ نہیں پہچان سکا کہ کون سا ہیرا ہے اور کون سا شیشہ۔ کوئی جانچ کر بتائے کہ ان میں سے ہیرا کونسا ہے اور کونسا شیشہ؟ اگر کوئی صحیح پہچان گیا اور میں ہار گیا تو یہ قیمتی ہیرا آپ کا ہو جائے گا لیکن شرط یہ ہے کہ اگر کوئی پہچان نہیں پایا تو اس ہیرے کی جو قیمت ہے اتنی رقم آپ کو مجھے بطور انعام دینا ہوگی۔ اسی طرح میں کئی ممالک سے جیت کرآیا ہوں۔ بادشاہ نے کہا میں تو نہیں پہچان سکتا، وزیر و مشیر بولے ہم بھی جانچ نہیں سکتے کیونکہ دونوں بالکل ایک جیسے ہیں۔ سب کو گمان تھا کہ اب تو شکست ہی مقدر ہے لیکن شکست پر انعام کا مسئلہ بھی نہیں تھا، کیونکہ بادشاہ کے پاس بہت دولت تھی، بادشاہ کی عزت کا مسئلہ تھا کیونکہ تمام عالم میں یہ مشہور تھا کہ بادشاہ اور اس کی رعایا بہت ذہین ہے اور اس طرح اُن کی سُبکی ہوتی۔ کوئی شخص بھی پہچان نہیں پا رہا تھا۔ آخر کار تھوڑی سی ہلچل ہوئی، ایک نابینا شخص ہاتھ میں لاٹھی لے کر اٹھا، اس نے کہا مجھے بادشاہ کے پاس لے چلو میں نے تمام باتیں سنی ہیں اور یہ بھی سنا ہے کہ کوئی پہچان نہیں پا رہا ہے ایک موقع مجھے بھی دیں۔ ایک آدمی کے سہارے وہ بادشاہ کے پاس پہنچا اس نے بادشاہ سے درخواست کی کہ ویسے تو میں پیدائشی نابینا ہوں لیکن پھر بھی مجھے ایک موقع دیا جائے۔ میں بھی ایک بار اپنی ذہانت کوجانچ سکوں اور ہو سکتا ہے کہ کامیاب بھی ہو جاؤں اور اگر کامیاب نہ بھی ہوا تو ویسے بھی آپ تو ہارے ہوئے ہی ہیں۔ بادشاہ کو محسوس ہوا کہ اسے موقع دینے میں کیا حرج ہے۔ بادشاہ نے کہا کہ ٹھیک ہے۔ اس نابینا شخص کو دونوں چیزیں چھونے کے لیے دے دی گئیں اور پوچھا گیا۔۔ اس میں کون سا ہیرا ہے؟ اور کون سا شیشہ؟ یہی آپکو معلوم کرنا ہے۔ اس آدمی نے ایک لمحے میں کہہ دیا کہ یہ ہیرا ہے اور یہ شیشہ۔ . جو آدمی اتنے جگہوں سے جیت کر آیا تھا وہ بہت حیران ہو گیا اورکہا "ٹھیک ہے آپ نے صحیح پہچانا .. آپکو مبارک ہو۔ اپنے وعدہ کے مطابق اب یہ ہیرا بادشاہ کا ہوا " تمام لوگ بہت حیران ہوئے کہ ایک نابینا شخص نے کیسے جان لیا کہ اصل ہیرا کونسا ہے اور سب نے یہی سوال اس نابینا شخص سے کیا۔ اس نابینا شخص نے کہا کہ سیدھی سی بات ہے دھوپ میں ہم سب بیٹھے ہیں، میں نے دونوں کو چھو کر محسوس کیا، جو ٹھنڈا رہا وہ ہیرا جو گرم ہو گیا وہ شیشہ ■اسی طرح زندگی میں بھی جو شخص سخت اور مشکل حالات میں گرم ہو جائے اور حالات کا سامنا نہ کر سکے وہ شیشہ کی مانند ہے اور جو تمام حالات میں ٹھنڈا رہے وہ ہیرے کی مانند ہے۔ 🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🔷 مومن کیسے مومن بنتا ہے؟ 🔷 امام رضاؑ: "مومن تب تک مومن نہیں بنتا جب تک تین خصلتیں اس میں نہ ہوں، ایک خصلت اپنے رب کی، دوسری اپنے نبی کی اور تیسرے اپنے ولی (امام) کی۔ جو رب کی خصلت ہے وہ یہ ہے کہ (لوگوں کے) اسرار اور عیوب کی پردہ پوشی کرے، نبی کی خصلت یہ ہے کہ لوگوں کے ساتھ حسن سلوک کرے، اور ولی کی خصلت یہ ہے کہ مصیبتوں اور سختیوں میں صبر کرے۔" حدیث کا ماخذ اور اسناد: یہ حدیث کتاب التمحیص میں ہے، یہ کتاب غیبت صغری کی ان چند کتب میں سے ہے جو ہمارے پاس صحیح سلامت پہنچی ہیں۔۔۔ اس کا مؤلف محمد بن ھمام الاسکافی امام زمانہ عج وکلا کے اصحاب میں سے تھے۔ اس حدیث کو شیخ کلینی نے بھی کم و بیش زیادہ الفاظ کے ساتھ کافی میں اس سند کے ساتھ نقل کیا ہے؛ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بُنْدَارَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْحَاقَ عَنْ سَهْلِ بْنِ الْحَارِثِ عَنِ الدِّلْهَاثِ مَوْلَى الرِّضَا ع قَالَ سَمِعْتُ الرِّضَا ع شیخ صدوق نے معانی الاخبار اور امالی میں اس سند کے ساتھ اس روایت کو نقل کیا؛ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى رَحِمَهُ اللَّهُ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْكُوفِيُّ عَنْ سَهْلِ بْنِ زِيَادٍ الْآدَمِيِّ عَنْ مُبَارَكٍ مَوْلَى الرِّضَا عَلِيِّ بْنِ مُوسَى جبکہ شیخ صدوق نے ہی خصال میں اپنے والد کے ذریعے احمد بن ادریس سے نقل کیا؛ حَدَّثَنَا أَبِي رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِدْرِيسَ قَالَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ قَالَ حَدَّثَنِي سَهْلُ بْنُ زِيَادٍ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ الدِّلْهَاثِ مَوْلَى الرِّضَا ع جبکہ عیون اخبار الرضا اور صفات الشیعہ میں اپنے والد کے ذریعے محمد بن یحیی العطار سے نقل کیا؛ أَبِي رَحِمَهُ اللَّهُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى الْعَطَّارِ عَنْ سَهْلِ بْنِ زِيَادٍ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ الدِّلْهَاثِ مَوْلَى الرِّضَا ع قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الْحَسَنِ ع اللہ تعالی ہم سب کو صحیح معنوں میں مومن بننے کی توفیق عنایت فرمائے۔ 🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🔷 واقعۂ حضرت خضرؑ 🔷 حضرت خضرؑ اور حضرت موسٰیؑ کا واقعہ قران پاک میں اس طرح بیان ہوا ہے۔۔۔ ترجمہ: اور جب موسیٰ نے اپنے شاگرد سے کہا کہ جب تک دو دریاؤں کے ملنے کی جگہ نہ پہنچ جاؤں ہٹنے کا نہیں خواہ برسوں چلتا رہوں۔ جب ان کے ملنے کے مقام پر پہنچے تو اپنی مچھلی بھول گئے تو اس نے دریا میں سرنگ کی طرح اپنا رستہ بنا لیاجب آگے چلے تو موسیٰ نے اپنے شاگرد سے کہا کہ ہمارے لئے کھانا لاؤ۔ اس سفر سے ہم کو بہت تکان ہوگئی ہے ۔۔ اس نے کہا کہ بھلا آپ نے دیکھا کہ جب ہم نے پتھر کے ساتھ آرام کیا تھا تو میں مچھلی وہیں بھول گیا۔ اور مجھے آپ سے اس کا ذکر کرنا شیطان نے بھلا دیا۔ اور اس نے عجب طرح سے دریا میں اپنا رستہ لیا۔۔ موسیٰ نے کہا یہی تو وہ مقام ہے جسے ہم تلاش کرتے تھے تو وہ اپنے پاؤں کے نشان دیکھتے دیکھتے لوٹ گئے ۔۔ وہاں انہوں نے ہمارے بندوں میں سے ایک بندہ دیکھا جس کو ہم نے اپنے ہاں سے رحمت یعنی نبوت یا نعمت ولایت دی تھی۔۔ اور اپنے پاس سے علم بخشا تھا موسیٰ نے ان سے جن کا نام خضر تھا کہا کہ جو علم خدا کی طرف سے آپ کو سکھایا گیا ہے اگر آپ اس میں سے مجھے کچھ بھلائی کی باتیں سکھائیں تو میں آپ کے ساتھ رہوں ۔۔ خضر نے کہا کہ تم میرے ساتھ رہ کر صبر نہیں کر سکو گے ۔۔ اور جس بات کی تمہیں خبر ہی نہیں اس پر صبر کر بھی کیوں کرسکتے ہو۔۔ موسیٰ نے کہا خدا نے چاہا تو آپ مجھے صابر پایئے گا۔۔ اور میں آپ کے ارشاد کے خلاف نہیں کروں گا۔۔ خضر نے کہا کہ اگر تم میرے ساتھ رہنا چاہو تو شرط یہ ہے مجھ سے کوئی بات نہ پوچھنا جب تک میں خود اس کا ذکر تم سے نہ کروں۔۔ تو دونوں چل پڑے۔ یہاں تک کہ جب کشتی میں سوار ہوئے تو خضر نے کشتی کو پھاڑ ڈالا۔۔ موسیٰ نے کہا کیا آپ نے اس لئے پھاڑا ہے کہ سواروں کو غرق کر دیں یہ تو آپ نے بڑی عجیب بات کی خضر نے کہا۔ کیا میں نے نہیں کہا تھا کہ تم میرے ساتھ صبر نہ کرسکو گے۔۔ موسیٰ نے کہا کہ جو بھول مجھ سے ہوئی اس پر مواخذہ نہ کیجیئے اور میرے معاملے میں مجھ پر مشکل نہ ڈالئے پھر دونوں چلے۔ یہاں تک کہ رستے میں ایک لڑکا ملا تو خضر نے اُسے مار ڈالا۔۔ موسیٰ نے کہا کہ آپ نے ایک بےگناہ شخص کو ناحق بغیر قصاص کے مار ڈالا۔۔ یہ تو آپ نے بری بات کی خضر نے کہا کیا میں نے نہیں کہا تھا کہ تم سے میرے ساتھ صبر نہیں کر سکو گے انہوں نے کہا کہ اگر میں اس کے بعد پھر کوئی بات پوچھوں یعنی اعتراض کروں تو مجھے اپنے ساتھ نہ رکھیئے گا کہ آپ میری طرف سے عذر کے قبول کرنے میں غایت کو پہنچ گئے ۔۔ پھر دونوں چلے۔ یہاں تک کہ ایک گاؤں والوں کے پاس پہنچے اور ان سے کھانا طلب کیا۔ انہوں نے ان کی ضیافت کرنے سے انکار کر دیا۔ پھر انہوں نے وہاں ایک دیوار دیکھی جو جھک کر گرا چاہتی تھی۔ خضر نے اس کو سیدھا کر دیا۔ موسیٰ نے کہا اگر آپ چاہتے تو ان سے اس کا معاوضہ لیتے تاکہ کھانے کا کام چلتا خضر نے کہا اب مجھ میں اور تجھ میں علیحدگی۔۔!! مگر جن باتوں پر تم صبر نہ کر سکے میں ان کا تمہیں بھید بتائے دیتا ہوں۔۔!! وہ جو کشتی تھی ، غریب لوگوں کی تھی جو دریا میں محنت کر کے یعنی کشتیاں چلا کر گذارہ کرتے تھے۔۔!! اور ان کے سامنے کی طرف ایک بادشاہ تھا جو ہر ایک کشتی کو زبردستی چھین لیتا تھا۔۔ تو میں نے چاہا کہ اسے عیب دار کر دوں ۔۔ تاکہ وہ اسے غصب نہ کر سکے۔۔ اور وہ جو لڑکا تھا اس کے ماں باپ دنوں مومن تھے ہمیں اندیشہ ہوا کہ وہ بڑا ہو کر بدکردار ہوتا کہیں ان کو سرکشی اور کفر میں نہ پھنسا دے تو ہم نے چاہا کہ ان کا پروردگار اس کی جگہ ان کو اور بچّہ عطا فرمائے جو پاک طبیعت میں اور محبت میں اس سے بہتر ہو۔۔!! اور وہ جو دیوار تھی سو وہ دو یتیم لڑکوں کی تھی جو شہر میں رہتے تھے اور اس کے نیچے ان کا خزانہ مدفون تھا۔۔ اور ان کا باپ ایک نیک بخت آدمی تھا۔ تو تمہارے پروردگار نے چاہا کہ وہ اپنی جوانی کو پہنچ جائیں اور پھر اپنا خزانہ نکالیں۔۔ یہ تمہارے پروردگار کی مہربانی ہے۔ اور یہ کام میں نے اپنی طرف سے نہیں کئے۔ یہ ان باتوں کا راز ہے جن پر تم صبر نہ کرسکے۔۔!! 🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕