ISLAM WITH EMAN
Відкрити в Telegram
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات... ایڈمن سے رابطہ کیلئے: @syedsajjadhamdani
Показати більше1 285
Підписники
Немає даних24 години
-57 днів
-730 днів
Архів дописів
1 285
آخر میں عرض ہے کہ انسان کبھی مکمل اچھا نہیں اور کبھی مکمل برا نہیں۔ اصل حکمت یہ ہے کہ ہم ہر شخص کو compartments میں پرکھیں اور اس کی نیکی کو اس کی برائی پر ترجیح دیں۔ جب آپ یہ زاویہ اپنائیں گے تو آپ دیکھیں گے کہ دنیا میں تقریباً ہر شخص اچھا ہے۔
شہزاد احمد مرزا
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman/6900
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 285
*کسی کو دیکھنے کا زاویہ*
شہنشاہ جہانگیر نے خفیہ دستہ بھیجا اور نورجہاں کے شوہر شیر افگن کو قتل کروا دیا۔ یہ وہی جہانگیر تھا جس کے محل کے باہر سونے کی زنجیرِ عدل لٹکی رہتی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ اگر کوئی مظلوم وہ زنجیر ہلاتا تو بادشاہ خود دربار سے نکل کر انصاف کرتا۔ ایک طرف عدل و انصاف کی یہ عظیم نشانی اور دوسری طرف اپنی محبوبہ کی خاطر ایک بے گناہ شوہر کا خون—آپ فیصلہ کیجیے، جہانگیر فرشتہ تھا یا قاتل؟
تاریخ کے اوراق ایسے ہی تضادات سے بھرے ہیں۔ شاہجہان کو دیکھ لیں۔ محبت کا تاج محل بنایا، وہ سنگ مرمر کا خواب جو دنیا آج تک حیرت سے دیکھتی ہے۔ لیکن یہی شاہجہان تخت پر بیٹھتے ہی اپنے بھائیوں اور تمام ممکنہ وارثوں کو قتل کرا گیا تاکہ اقتدار پر کوئی سایہ نہ رہے۔ ایک طرف محبت کی یادگار، دوسری طرف خون سے رنگی ہوئی سیاست۔ تو سوال یہ ہے کہ ہم شاہجہان کو کس خانہ میں رکھیں؟ عشق کے خانے میں یا سنگدلی کے؟
اورنگزیب کی کہانی اور بھی ہولناک ہے۔ وہ اپنی روزی ٹوپیاں سینے اور چٹائیاں بُننے سے کمانے والا زاہد بادشاہ تھا۔ وصیت میں لکھا کہ میرا کفن میری سی ہوئی ٹوپیوں کے پیسوں سے خریدا جائے۔یہاں تک کے بادشاہی مسجد لاہور کی بنیاد رکھتے وقت اورنگزیب نے کہا کے بنیاد کوئی ایسا شخص رکھے، جس نے ہوش سمبھالنے کے بعد فرض نماز تو درکنار، تہجد بھی نہ چھوڑی ہو۔ جب کوئی سامنے نہ آیا تو اورنگ زیب عالمگیر نے کہا الحمد للہ میں نے تہجد کبھی نہیں چھوڑی۔
میری دلی دعا ہے کہ رب کریم اورنگ زیب عالمگیر کو ان نیکیوں کا اجر دے۔
لیکن یہی اورنگزیب اپنے بھائی دارا شکوہ کو گرفتار کرتا ہے، اُس کے جلوس کو ہاتھی پر ذلت آمیز انداز میں نکالتا ہے اور پھر اُس کی آنکھوں میں دہکتے ہوئے سرخ لوہے کی سلاخیں گھسوا دیتا ہے۔ آخر کار اُسے قتل کرا کے سر دہلی بھیجتا ہے۔
یہی نہیں، اورنگزیب نے اپنے والد شاہجہان کو بھی قید کر دیا۔ وہ باپ جس نے تاج محل بنایا، اپنی زندگی کے آخری آٹھ سال قلعہ آگرہ کے ایک کمرے میں قیدی بن کر گزارے۔ کبھی بیٹے کے رحم کی جھلک نہ ملی، اور وہ بادشاہ اپنی ہی بنائی ہوئی عمارت تاج محل کو دریچے سے دیکھتے دیکھتے دنیا سے رخصت ہوا۔ کیا یہ بادشاہ صوفی تھا یا جابر؟ درویش تھا یا سنگ دل؟
انسان دراصل ایک الماری ہے۔ ایک خانے میں روشنی، دوسرے میں اندھیرا۔ ایک دروازے میں سخاوت، دوسرے میں ظلم۔ لیکن ہماری عادت ہے کہ ہم صرف ایک دروازہ کھولتے ہیں اور پورے انسان کو اسی میں قید کر دیتے ہیں۔ نتیجہ؟ کبھی ہم ہیرو کی اندھی عقیدت میں پڑ جاتے ہیں اور کبھی دشمن کی اندھی نفرت میں۔
سوچ کر دیکھیے۔ وہ نمازی جو ہر وقت پہلی صف میں کھڑا رہتا ہے، کاروبار میں لوگوں کو لوٹ بھی سکتا ہے۔ اور وہ آدمی جو زبان سے سخت اور تلخ ہے، شاید وہی ہے جو یتیم کے بچوں کی فیس چپکے سے ادا کرتا ہے۔ تو اب اصل اچھا کون اور برا کون؟
یہی اصول بڑے بڑے ناموں پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ ہٹلر لاکھوں یہودیوں کا قاتل تھا، مگر جرمنی کی معیشت کھڑی کر دی، سڑکیں بنائیں اور فیکٹریاں چلائیں۔ چرچل دوسری جنگِ عظیم کا ہیرو بنا، لیکن اسی کے فیصلے سے بنگال میں قحط پڑا اور تین ملین انسان بھوک سے مر گئے۔ گاندھی جی آزادی کے استعارہ ہیں، مگر ان کی ذاتی زندگی میں برہمچریہ کے تجربات ہمیشہ متنازعہ رہے۔ قائداعظمؒ مغربی عادات کے قائل تھے، لیکن وہی ہمیں پاکستان دے گئے۔ اب بتائیے، یہ سب لوگ مکمل اچھے تھے یا مکمل برے؟
انسان کو سمجھنا شطرنج کھیلنے جیسا ہے۔ کچھ خانے سفید ہیں، کچھ کالے۔ کھیل انہی دونوں سے بنتا ہے۔ اگر صرف سفید ہوں تو کھیل ختم، اگر صرف کالے ہوں تو بھی کھیل ختم۔ انسان کی زندگی بھی ایسے ہی ہے—روشنی اور سائے، دونوں ساتھ ساتھ۔
اصل حکمت یہ ہے کہ انسان کو compartments میں پرکھا جائے۔ سیاست دان کو سیاست میں دیکھیں، مگر گھر کی زندگی کو الگ خانہ مانیں۔ استاد کو علم میں پرکھیں، مگر اخلاق میں بھی جانچیں۔ گلوکار کے فن کو سراہیں، لیکن اس کی نجی زندگی کے سائے بھی نوٹ کریں۔ یہی انصاف ہے اور یہی بصیرت۔
یاد رکھیے، جو لوگ آج بھی کسی کو مکمل اچھا یا مکمل برا سمجھتے ہیں وہ حقیقت میں عقل کی پہلی سیڑھی پر ہیں۔ اصل عقل یہ ہے کہ ہم الماری کے تمام دروازے کھولیں اور ہر خانے کو الگ الگ دیکھیں۔ تبھی پورا انسان سامنے آتا ہے۔
اور ایک راز اور سن لیجیے۔ اگر آپ کسی انسان کی نیکی کو اس کی برائی پر ترجیح دینا سیکھ لیں تو یہ دنیا اچانک حسین ہو جائے گی۔ جیسے باغ میں کانٹے بھی ہوتے ہیں، مگر اگر آپ پھول پر توجہ دیں تو خوشبو ہی یاد رہتی ہے۔ اسی طرح جب آپ خوبی پر نظر رکھیں گے تو محسوس ہوگا کہ دنیا میں زیادہ تر لوگ برے نہیں بلکہ اپنی اچھائی میں پچاس فیصد سے اوپر ہی ہیں۔
1 285
سوال نمبر ۱۰۔
چاند خود بھی اپنے مدار پر گردش کر رہا ہے بقول ناسا کے اس کی اسپیڈ ۳۶۸۳ کلو میٹر فی گھنٹی ہے اور چاند اسی دوران ۱۲۹۰۰۰۰ کلومیٹر کا فاصلہ طے کرتا ہے ۔
ایک راکٹ کس طرح انتہائی تیز گھومتے ہوئے چاند کے اوربٹ(مدار)میں داخل ہوسکتا ہے؟؟
اس راکٹ نے فضا سے چاند کے اوربٹ میں داخل ہونے کا جھٹکا کیسے برداشت کیا ؟
سوال نمبر ۱۱۔
چاند گاڑی دوبارہ واپس کیسے اڑی ؟؟
جبکہ دیکھلائی گئی چاند گاڑی کچھ عجیب طرح کی تھی چار ٹانگوں والی ۔۔ اتنی چھوٹی سی گاڑی اڑ کیسے گئی بغیر انجیکٹر بغیر انجن اور بغیر فیول کے ؟؟
سوال نمبر ۱۲۔
اتنی چھوٹی سی چاند گاڑی میں سے بڑی سی چار پیوں والی ایک اور گاڑی نکلی اور بغیر آکسیجن کے اسٹارٹ کیسے ہوئی ؟؟
اور ناسا کے حساب سے چاند پر دنیا کی نسبت چھ گنا کم کشش ہونے کے باوجود جیسے دنیا میں گاڑیاں چلتی ہیں ویسے ہی کیسے چلتی ہوئی دکھلائی ؟ یعنی بغیر اچھلتے کودتے تیرتے نارمل انداز میں کیسے دوڑی ؟؟
سوال نمبر ۱۳۔
نیل آرم سٹرونگ صاحب چاند کے مدار سے واپس کیسے نکلے ۱۲۹۰۰۰۰ کلومیڑ گھومتے مدار سے نکلنا کیا مذاق ہے ؟
سوال نمبر ۱۴۔
چاند پر رات کے وقت فلم بنائی گئی اس میں کئی دفعہ آسامان دیکھلایا گیا کسی بھی دفعہ آسامان پر ستارے نہیں دیکھلائے گئے ۔۔۔ کیا فضا میں ستارے ختم ہوگئے یا ایک سٹوڈیو میں فلم بنائی گئی ؟
سوال نمبر ۱۵۔
چاند گاڑی جو دیکھلائی گئی اس میں سلور اور گولڈن رنگ کے پیپر / کاغذ لیپٹے ہوئے تھے ۔۔۔
چاند گاڑی پلاسٹک کے ٹائیروں والے پیر کے ساتھ جو چمکیلے سے ہوتے ہیں اکثر بچوں کی سائیکلوں کی پیکنگ میں بھی استعمال ہوتے ہیں اور گفٹ پیپر میں بھی استعمال ہوتے ہیں ۔۔۔
یہ کاغذ یعنی چمکیلے شاپر لینڈنگ میں الگ نہیں ہوئے ؟؟
سوال نمبر ۱۶۔
جب نیل آرمسٹرونگ صاحب چاند پر چل رہے تھے تو ساتھ ساتھ بے تحاشہ گرد بھی اڑا رہے تھے کیونکہ ریگستانی علاقے میں فلم بن رہی تھی ۔۔ سوال یہ ہے کہ یہ گرد ان چمکیلے پنی نما شاپر پر زرا سی بھی نہیں پڑی۔۔ حلانکہ لینڈنگ کے وقت بے تحاشہ گرد اڑنی چاہیئے تھی ۔
سوال نمبر ۱۷۔
نیل آرم سٹرونگ صاحب نے جو ہیلمٹ پہنا ہوا تھا ان کے ہیلمیٹ کے گلاس کور کے کونے میں ایک سرچ لائٹ کی روشنی نظر آرہی تھی ۔۔۔
یہ چاند پر کیا اسٹریٹ لائٹیں لگائیں گئیں تھی یا اسٹوڈیو کی لائٹ تھی ؟؟
سوال نمبر ۱۸ ۔
جب چاند پر سے دنیا دکھلائی گئی تو وہ رنگین دکھلائی ۔۔ کیا کبھی رات کو چاند رنگین سات رنگ کا دکھلائی دیتا ہے ؟ کہتے ہیں چاند پر سے دنیا بھی ریفلیکٹ ہوتی نظر آتی ہے جیسے چاند نظر آتا ہے ۔ کیا کبھی ریفلیکشن بھی رنگ برنگی ہوتی ہے ؟
سوال نمبر ۱۹ ۔
کہتے ہیں زمین چاند سے کئی گنا بڑی ہے ۔۔ اگر واقعی سچ کہتے ہیں تو وہ زمین جو ناسا نے دکھلائی تھی وہ تو چاند کے برابر ہی نظر آ رہی تھی ۔۔ کیسے چاند پر سے دنیا کا سائز بھی اتنا ہی بڑا نظر آیا جتنا ہمیں چاند نظر آتا ہے ؟؟ کیوں دنیا کئی گنا بڑی نظر نہ آئی چاند پر سے ؟؟
🔷🔷🔷🔷🔷
1 285
کیا واقعی چاند پر کوئی گیا تھا ؟؟
چاند پر اب تک کوئی نہیں گیا ... اگر گیا ہوتا تو آج کے دور میں دوبارہ ضرور جاتا۔
چاند پر جھوٹی فلم بنانے کی وجہ سے ناسا نے مزید سیکڑوں جھوٹ بولے۔
دنیا اس وقت ناسا کو سجدے کر رہی ہے کیونکہ کوئی اس قابل نہیں کہ وہ من گھڑت راز پا لیں جو ناسا نے بتائیں ہیں
آج لاکھوں امریکی عوام کو یقین ہے کہ وہ چاند پر نہیں گئے لیکن ہم ایسا سوچ بھی نہیں سکتے۔
نیچے چند سوالات کیئےگئے ہیں ۔ اگر کوئی بھی سائنسی اور عقلی دلائل سے جواب دے سکتا ہے تو وہ ضرور دے بڑی خوشی ہوگی ۔
سوال نمبر ۱۔
۲۰ جولائی ۱۹۶۹ یعنی 56سال قبل انسان چاند پر گیا تھا ۔۔ اب اتنی زیادہ ٹیکنولوجی بڑھ گئی ہے امریکہ خود یا کوئی دوسرے دوبارہ جدید کیمروں اور جدید آلات کے ساتھ آج کے دور میں دوبارہ کیوں نہیں گئے ۔ یعنی اس وقت امریکہ کے ڈرامے کے بعد جب رشیا اور چائینا نے بھی مخالفت میں باری باری ڈرامے کیئے تو یہ تینوں اپنے ڈراموں کے بعد آج کے دور میں دوسرا ڈرامہ کیوں نہ بنا سکے ؟
سوال نمبر ۲۔
کیوں چاند پر صرف امریکہ اور اس کے مخالفین ہی آپس کی دشمنی کی وجہ سے ڈٖراموں کا مقابلے کرتے رہے تھے؟ کیوں امریکہ حمایتی ملکوں میں سے کسی ایک کی بھی ہمت نہ ہوسکی چاند پر قدم رکھ کر امریکہ کے شانہ بشانہ کھڑا ہونے کی ؟
سوال نمبر ۳۔
جب چاند گاڑی چاند پر پہنچی تو چاند پر پہچنے کے بعد ایک عجیب قسم کی کار میں چاند کی زمین پر گھومے پھرے ۔۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اتنی بڑی چاند کار چاند گاڑی سے برآمد کیسے ہوئی ؟ یعنی چھوٹی سی چاند گاڑی کے پیٹ میں اتنی گنچائش کہاں سے آئی اس کو اپنے اندر گھسانے کی ؟ دوسرا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس چاند کار کو چاند گاڑی سے برآمد ہونے کی ویڈو کیوں نہیں بنائی گئی ؟ کیونکہ یہ بھی ایک بھی ایک بہت بڑا کمال اور معجزہ تھا ۔ ایک چھوٹی سی چاند گاڑی سے بڑی سی چاند کار کی برآمدگی بھی دنیا کو حیران کرنے کے لیے کافی تھی کیوں یہ والا ڈرامہ دکھلا کر مزید داد وصول کرنے کی کوشش کیوں نہیں کی گئی ؟ اور پھر اس کے بعد ایک اور سوال اٹھتا ہے کہ یہ چاند گاڑی کس لفٹ کی مدد سے اتاری گئی اور دوبارہ کس لفٹ کی مدد سے چڑھائی گئی ؟ اور آخر میں ایک اور سوال کیا چاند گاڑی چاند پر ہی چھوڑ آئے یا ساتھ واپس بھی لائے ؟؟ اور اگر ساتھ واپس بھی لائے تو اس واپسی کا لفٹ کے ذریعے اوپر چڑھنے کا ڈرامہ ہمیں کیوں نہیں دکھلایا گیا ؟
سوال نمبر ۴۔
کہا جاتا ہے کہ نیل آرم سٹرونگ نے چاند پر سب سے پہلے قدم رکھا ۔۔ تو جناب وہ کون کون سے فوٹوگرافر پہلے ہی چاند پر اتر چکے تھے جو چاند گاڑی کو اترتے ہوئے اور خود نیل آرمسٹروم صاحب کو اترتے ہوئے ان کی مووی بنا رہے تھے؟؟
اور ایک نہایت چھوٹی سی چاند گاڑی بغیر اندھن کے صرف اسپرنگ کی مدد سے دوربارہ کیسے چاند پر سے اُڑ کر دنیا تک آ گئی ؟؟
اور چاند پر سے واپسی پر دوبارہ جب وہ اڑکر واپس آرہی تھی تب چاند پر بیٹھ کر کون کون سے فوٹوگرافر کیمرے کو گھوماتے ہوئے چاند گاڑی کی تصویر بنا رہے تھے ؟؟
اور پھر وہ فوٹو گرفر کون سی چاند گاڑی سے واپس آئے ؟؟
واپس آئے بھی یا وہیں رہ گئے ؟؟
سوال نمبر ۵۔
نیل آرم سٹرونگ صاحب کا ابھی حال ہی میں انتقال ہوا ہے ۲۵ اگست ۲۰۱۲ کو ۔ امریکہ نے نیل آرم سٹرونگ صاحب کو ساری دنیا سے اور اپنے ملک کے میڈیا سے بھی کیوں چھپا کر رکھا؟؟
سوال نمبر۶۔
چاند پر کئی تصاویر ایسی لی گئیں جن کے دو دو سائے تھے ۔
کیا چاند پر دو سورج نکلتے ہیں؟؟ یا دو طرف سے سٹوڈیو لائیٹیں ڈلیں گئیں تھیں ؟
سوال نمبر ۷۔
چاند پر امریکہ نے جھنڈا گاڑا ۔۔
جو جھنڈو گاڑا گیا وہ لہرا رہا تھا ۔۔
چاند پر ہوا کہاں سے آئ ؟؟ جبکہ خلا میں ہوا نہیں چلتی ؟
سوال نمبر ۸۔
چونکہ ناسا دنیا کے سوتھ پول کے بارے میں بہت سارے سوالات کے جواب نہیں دے پا رہا تھا اور خاص طور پر موسم کے بدلنے کے نظام کو تو اس نے سب کو بتایا کہ زمیں گول نہیں بلکی بیضوی ہے انڈے کی ماندد ۔۔۔لیکن حیرت ہے تمام فرضی تصاویر گول ہی پیش کرنا شروع کر دی گئی ہیں ۔۔
بقول ناسا کے کشش زمین صرف ۶۲میل یعنی ۱۰۰ کلو میڑ کے بعد سے ختم ہو جاتی ہے اور خلا شروع ہوجاتی ہے ۔۔
اگر زمین ایک طرف سے سورج کے گرد گھوم رہی ہے اور وہ بھی ایک طرف سے ۱۰۰۰ میل اور ساتھ ساتھ دوسری طرف سے ۶۷۰۰۰ میل فی گھنٹے کی رفتار سے تو ایک سیدھا چلتا ہوا راکٹ کیسے اتنا بڑا جھٹکا کیسے سہہ سکتا ہے ؟؟
یعنی ۶۷۰۰۰میل گھنٹے پر گھومتی ہوئی زمین کے مدار سے باہر نکلنا .
بلکل ایسے جیسے کسی کو انتہائی تیز چلتی ہوئی کار سے باہر پھینکا جائے تو کیا وہ بڑے ہی آرام سے آگے چلتا رہے گا ؟
سوال نمبر ۹۔
۲۰ جولائی ۱۹۶۹ کو چاند پر جانے کی کہانی کی وجہ سے امریکہ سپر پاور بنا ۔
امریکہ یا پوری دنیا کیوں ہر سال بیس ۲۰ جوالائ کو چاند ڈے کیوں نہیں مناتی ؟
1 285
قانُونِ فطرت تو یہی ہے کہ
گدھی
گدھے کو ہی جنم دیتی ہے
ہمارے ہی اجداد،
جو انگریز کا ایک من وزن صرف ایک روپے میں راولپنڈی سے مری تک لے کر جاتے،
ان کے پاؤں میں جوتی تک نہیں ہوتی،
پنڈی سے مری ستر کلومیٹر کا سفر ایک من وزن اٹھا کر دو دن میں مکمل ہوتا.
یہ لوگ انگریز کی خدمت کرتے،
اپنی پیٹھ پر سوار کر کے سیر کراتے اور
انگریز خوش ہو کر اپنا بچا ہوا کھانا انہیں دے دیتا..
ہمارے اجداد نے ہی انگریزوں کی نوکریاں کیں.
تنخواہ لے کر اپنے ہی لوگوں سے لڑتے رہے.
انگریز نے ہندوستان پر سو سال حکومت کی،
اس دوران کبھی بھی انگریزوں کی مجموعی تعداد پچیس ہزار سے زیادہ نہیں رہی.
انگلینڈ میں ایک مائیگریشن رجسٹر ہے۔
جس میں برطانیہ سے ہندوستان جانے والے 15،447 فوجیوں کے نام لکھے ہوئے ہیں.
تین لاکھ ہندوستانی تھے جو انگریزی فوج میں بھرتی ہوئے.
بنگال رجمنٹ،
پنجاب رجمنٹ،
بلوچ رجمنٹ انگریزوں نے بنائی۔
برصغیر کے بُھوکے ننگے،
دو چار روپے ماہانہ وظیفے پر لڑنے مرنے کو تیار تھے.
پلاسی کی جنگ میں سراج الدولہ کے خلاف انگریزی فوج میں نوے فیصد ہندوستانی ہی تھے،
غداری کرنے والا بھی میر جعفر ہی تھا.
سلطان حیدر علی اور اس کے بیٹے ٹیپو سلطان کے خلاف چار جنگیں لڑنے والے کون تھے؟
کوئی اور نہیں۔
میرے اور آپ کے اجداد تھے۔۔۔
انگریزوں کے خلاف سندھ حر پگاڑو کے لڑے اور
انگریزوں کا ساتھ مری بلوچ، بگٹی بلوچ نے دیا
بدلے میں سانگھڑ میں ان کو جاگیریں ملیں
سرنگاپٹم سے میسور تک میر جعفر نے کس طرح سلطان سے غداری کی،
انگریز کو کس طرح وفاداری بیچی..
سب کچھ لکھا ہؤا ہے۔
بس آنکھیں کھول کر پڑھنے والا چاہیے ۔
علامہ اقبال نے کہا تھا:-
*جعفر از بنگال و صادق از دکن*
*ننگِ دیں، ننگِ قوم، ننگِ وطن*
پنجاب میں رنجیت سنگھ جو انگریزوں کو مشکل وقت دکھا رہا تھا،
مُسلمانوں کو اس کے خلاف جہاد پر لگا دیا. ا.
انگریز دار العلوم دیوبند کے سالانہ دورے کرتا تھا،
اکابرین دیوبند کو وظائف دیتا تھا.
اکابرین بریلوی اور اہلِ حدیث بھی حکومتی وظیفے لیتے رہے ہیں۔۔۔۔
اسلام کی آمد سے اب تک 1500 سالوں میں پوری دنیا میں اتنے
پِیر ، دَستگیر ،
وَلی ،
محدث ، مجدد ،
قطب ،
مُفسر ، مناظر ،
مقرر پیدا نہیں ہوۓ،
جتنے انگریز کے 100 سالہ دور میں برصغیر میں پیدا ہوئے تھے۔۔۔
کوئی لمحےکرواتا رہا،
کسی نے نبیﷺ کے نور یا بشر پر مسلمانوں میں پھوٹ ڈالی ،
کسی نے حیات و ممات پر مسلمانوں کو دست و گریباں کروایا
یہ سب انگریز وظائف دے کر اپنی سلطنت کو دوام بخشنے اور مسلمانوں کے اتحاد کو پارہ پارہ کرنے کیلئے کرواتے رہے ہیں۔۔۔۔
آپ کا کیا خیال ہے، پاکستان آزاد ہو گیا ہے؟
انگریز کی بنائی رجمنٹ آج بھی حکمران ہے. عوام آج بھی محکوم ہے۔
آج بھی راشن کی قطاروں میں مر رہے ہیں۔
اور اشرافیہ آج بھی انگریزی وفاداری نبھا رہی ہے.
جب کئی سال بعد دنیا کی تاریخ لکھی جائے گی تو ایک قوم
"*المجرمین پاکستان*"
کے بارے میں بھی تاریخ لکھی جائے گی ۔۔۔
مؤرخ لکھے گا۔۔۔
قومِ عاد۔۔۔
قوم ثمود۔۔۔
اور قومِ لُوط کے سارے مجموعی گناہ اس قوم میں پائے جاتے تھے۔۔۔
یہ ایک ایسی قوم تھی جو نام تو اللہ کا لیتی تھی،
مگر مانتی اپنے اپنے اپنے آلہ کاروں کو تھی۔۔۔
ایک ایسی قوم تھی جس کو تعلیم صرف جاہل بنانے کے لئے دی جاتی تھی۔۔
ایک ایسی قوم تھی جس کے مذہبی پیشوأ،
خود تو دنیا کی ہر آسائش سے لطف اندوز ہوتے تھے،
مگر ان کو غربت افلاس کے فائدے بتا کر جنت کے ٹکٹ دیتے تھے۔
ان کے حکمران بادشاہوں کی طرح زندگی گزارتے تھے۔
مگر اس قوم کے نچلے طبقے کے پاس کھانے کو روٹی نہیں تھی۔۔۔
مؤرخ لکھے گا:-
اس قوم کا انصاف بکتا تھا۔
طاقتور کے لئے علیحدہ قانون،
اور غربأ کے لئے الگ قانون تھا۔
اس قوم کے قاضی اُنہی کی طرح کرپٹ اور انصاف سے عاری تھے۔۔۔
لکھا جائے گا:-
اس قوم کے سیاستدان خود غرض،
نا اہل اور بےحس تھے۔
مگر یہ قوم ایسے سیاستدانوں کو اپنا مسیحا سمجھتی تھی اور
اُن کے لئے ایک دوسرے کی گردن کاٹنے کو بھی تیار رہتی تھی۔
ایک ایسی قوم تھی جو لمبی لمبی دعائیں اور بددعائیں کرتی تھی۔
مگر اس کا عملی کردار انتہائی ناگفتہ بہہ اور بیہودہ تھا۔۔۔
ایک ایسی قوم تھی جس میں حرام خور عزت دار کہلاتے تھے
اور
محنت کر کے کھانے والے کمی کمین۔۔۔
منقول۔۔۔
1 285
*ازدواجی بدہضمی*
عورتوں کی ازدواجی بدہضمی اور اسکا علاج۔۔۔۔ بات بات پر طلاق کی رٹ لگانے والوں کیلئے سبق
عورت کو جب بد ہضمی ھو جائے اور وہ اپنے گھر اور شوہر کے ساتھ بدسلوکی شروع کر دے ،روز طلاق مانگے اور ایسا شوھر مجھ سے مشورہ کرے تو میں اس کو کہتا ھوں کہ طلاق تمہارے ھاتھ میں ھے ، کونسا ایکسپائری ڈیٹ لکھی ھے طلاق پر ، جب دل چاھا دے لیں گے ، اتنی جلدی کیا ھے ، بندہ بھی بغیر علاج مر جائے تو دل کو افسوس رھتا ھے کہ علاج نہیں کرایا شاید بچ جاتا ، تم اس کو تین ماہ کے لئے اس کے والدین کے گھر بیجھ دو ، یہ ابھی تک اپنے شئیرز کی قیمت شادی سے پہلے والی سمجھ رھی ھے ،،، اس کے بعد اگر ٹھیک نہ ھوئی تو پھر طلاق وھیں بھیج دینا ،،،،،،،،،،،
عورت جب والدین کے گھر جاتی ھے تو وہ گھر اب اس کا نہیں رھتا ،، وہ ایک ناپسندیدہ مہمان ھوتی ھے ، دو چار دن کے بعد اس کی بھاوجیں بولنا چھوڑ دیتی ھیں اور کوشش کرتی ھیں کہ گھر کا سارا کام وہ سنبھال لے تا کہ ماسی کو چھٹی کرائی جائے ،، اگر اس کے ساتھ بچہ ھو تو گھر کے بچے اسے صبح دوپہر شام دو دو جوتے ضرور مارتے ھیں اور ساتھ یہ طنز بھی کہ جب سے یہ آیا ھے ھمارے بچے پڑھ نہیں سکتے ،، باھر نکلتی ھے تو ھر عورت پوچھتی ھے ، بیٹا واپس کب جا رھی ھو ؟ دو چار دن ٹرخاتی ھے ،، مگر ایک ماہ کے بعد سوال کی نوعیت تبدیل ھو جاتی ھے ،، کیوں پتر کہیں تو پکی پکی تو نہیں آ گئ ؟ اور وہ تردیدیں کرتی پھرتی ھے کہ قسم سے ایسا نہیں ھے ،آج بھی اُن کا فون آیا تھا کہ جلد واپس آؤ ،،مگر میں سوچتی ھوں بچوں کے ساتھ روز روز تو نہیں آیا جاتا ناں ،،خیر دو ماہ میں لوگ اس خاتون کو دھو بھی دیتے ھیں اور استری کر کے اس کی ساری سلوٹیں نکال کر پہلے دن کی طرح کر دیتے ھیں ،، اب وہ بہانے بہانے سے فون کرنا شروع کرتی ھے ،منا آپ کو بہت یاد کرتا ھے ،کب سے بیمار ھے ، ابا ابا کرتا رھتا ھے آپ اس کو آ کر لے جائیں ،،، ابا منا لینے آتا ھے تو ساتھ منی بھی چلی آتی ھے ،،یوں لوگ گھر بسا دیتے ھیں۔
ازدواجیات سے ماخوذ
🔷🔷🔷🔷🔷
1 285
*ول پاور مضبوط کریں*
امریکہ کے ایک پچپن سالہ آدمی کو ایک کالا جادو کرنے والے نے بد دعا دی کہ تم جلد مر جاؤ گے اور تمہیں کوئی بچا نہیں سکے گا. "*
" دن بدن آدمی کی حالت بگڑتی گئی یہاں تک کہ اس کا تیس کلو وزن کم ہو گیا. "
"اسے ہسپتال لے کر گئے, تمام رپورٹس کلئیر تھیں. جس ڈاکٹر کو اس کا کیس دیا گیا اس نے اس مریض کی بیوی سے علیحدگی میں پوچھا کہ کیا کچھ ایسا ہے جو اس سب کی وجہ ہے؟
اس نے بتایا کہ ایک کالے علم والے نے اسے موت کی بد دعا دی تھی۔ ڈاکٹر نے اگلے دن نرس سے ایک انجیکشن لانے کو کہا. اور مریض کو بتایا کہ میں اس کالا جادو کرنے والے سے ملا ہوں اسے پولیس کی دھمکی دی تو اس نے بتایا کہ اس نے تم پر چھپکلی کے انڈے پھینکے تھے ان میں سے ایک چھپکلی تمہارے جسم میں ہے اور اندر سے تمہیں ختم کر رہی ہے. اس انجیکشن سے تمہیں الٹی آئے گی. اور وہ چھپکلی باہر آجائے گی."
" آدمی کو الٹی آئی اور ڈاکٹر نے آنکھ بچا کر اس میں چھپکلی ڈال دی. اس کے بعد حیرت انگیز طور پر وہ آدمی ٹھیک ہوتا چلا گیا اور لمبی زندگی جیا. "
قصہ مختصر.......
" ہم بیماریوں سے نہیں مرتے ہم اپنے دماغ کے ہاتھوں مرتے ہیں, یہ ہمیں یقین دلا دیتا ہے کہ اب ہم نہیں بچیں گے. اسی لیے ایک آدمی جب لیور کینسر سے مرا تو اس کے پوسٹمارٹم میں پتا چلا وہ ٹیومر تو بہت چھوٹا تھا, اور پھیل بھی نہیں رہا تھا. وہ آدمی اس لیے مرا کیونکہ اس نے سمجھ لیا تھا کہ وہ اس کینسر سے جلد مر جائے گا. "
بات کرتے ہیں عادات کی....
فرض کریں...
مجھ سے صبح اٹھا نہیں جاتا. یعنی دیر تک سونے کی عادت....
" تو بتاؤ میں کیسے اپنی یہ عادت بدلوں. "
کچھ کہیں گے کہ " کچھ دن جلدی اٹھنے کی کوشش کریں, عادت بن جائے گی. "
" کتنے دن؟ "
" کچھ لوگ کہتے ہیں اکیس دن اور کچھ کے مطابق ساٹھ دن لگتے ہیں عادت بدلنے میں. "
" اور مجھے لگتا ہے ہم ایک لمحے میں اپنی عادت بدل سکتے ہیں. "
" اگر ول پاور اسٹرانگ ہو تو ہم آج ہی اپنی عادت بدل سکتے ہیں."
" ہم اپنی ول پاور اسٹرانگ کرتے ہیں. کرنا ہے تو بس کرنا ہے.
🔷🔷🔷🔷🔷
1 285
*"بابِ فاطمتہُ الزہراء سلام اللّٰه علیہا کا جلایا جانا"*
*"عٙلّامہ باقر مجلسی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:-* کہ *(مٙیں نے کتابِ سلیم ابنِ قیس میں یہ واقعہ اِس طرح دیکھا ہے)* کہ *سُلمان اور عبداللّٰه ابنِ عباسؓ کا بیان ہے:-* کہ *(جِس دن جنابِ رسول اللّٰه صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَاٙلہِ وٙسَلَّم نے رحلت فرمائی)*،اُسی دن *(ابھی آپؐ کو دفن بھی نہ کیا تھا سوائے چند کے سب لوگوں نے بیعت توڑ دی اور مُرتد ہوگئے)*،اور *(مخالفت پر کمربستہ نظر آنے لگے)*۔اُس وقت *{حضرتِ امامِ علی ابنِ ابی طالب علیہ السّلام تجہیز و تکفین رسولؐ میں مشغول تھے}* پِھر وہ *(اُس کے بعد حسبِ وصیت رسولؐ قُرآنِ مجید کی جمع و ترتیب میں مصروف ہو گئے)*۔اُن لوگوں سے *(اُنہیں کوئی سروکار نہ)* تھا۔ *ایک مُشیر نے ابوبکر سے کہا:-* کہ اب *(تمام لوگ تمہاری بیعت کر چکے ہیں سوائے اُس شخص یعنی حضرتِ علی علیہ السّلام کے)*۔ اور *(اُس کے گھر والوں)* کے،لہٰذا اُس کے پاس *(کسی کو بھیجو اور اُسے بھی بلاؤ)*۔تو *(ابوبکر نے اُن کے پاس قنفذ نامی ملعون ایک شخص کو بھیجا)* اور *کہا:- اے قنفذ لعین!* تم *{حضرتِ علی علیہ السّلام کے پاس جاؤ اور کہو کہ چلو تمہیں خلیفہ رسولؐ طلب کرتے}* ہیں۔ *(قنفذ لعین آپؑ کو بُلانے کے لیے کئی بار آیا۔مگر حضرتِ علی علیہ السّلام جانے سے اِنکار کرتے رہے)*۔ اُنؑ کے *اِنکار پر ابوبکر کے اُس مُشیر کو غصّہ آیا اور اُس نے خالد ابنِ ولید ملعون اور قنفذ لعین کو حُکم دیا:-* کہ تُم *(لوگ لکڑیاں اور آگ لیکر میرے ساتھ چلو)*۔چنانچہ یہ سب *(لوگ آگ اور لکڑیاں لیے ہوئے حضرتِ علی علی علیہ السّلام اور حضرتِ فاطمتہُ الزہراء سلام اللّٰه علیہا پر پُہنچے)*۔اُس وقت *{حضرتِ فاطمتہُ الزہراء سلام اللّٰه علیہا اپنے دروازے کے پیچھے بیٹھی ہوئی تھیں}*۔آپؑ کے *(سر پر پٹی بندھی ہوئی تھی)* اور *{رسول اللّٰه صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَاٙلہِ وٙسَلَّم کی وفات کے غٙم میں بالکل لاغر و کمزور ہو رہی تھیں}*۔وہ *مُشیر یعنی عمر ابنِ الخطاب،آگے بڑھا اور اُس نے دروازہ کھٹکھٹایا اور آواز دی:- اے علیؑ!* دروازہ کھولو۔تو *حضرتِ فاطمتہُ الزہراء سلام اللّٰه نے کہا:- اے عمر!* ہمیں *(اِسی حال میں چھوڑ دے اِس لیے کہ ہمیں تو رسول اللّٰه صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَاٙلہِ وٙسَلَّم کا غٙم ہی بہت کافی)* ہے۔تو *عمر نے کہا:-* کہ *(دروازہ کُھول دو ورنہ میں تمہارے گھر میں آگ لگائے دیتا ہوں)*۔تو *حضرتِ فاطمتہُ الزہرا سلام اللّٰه علیہا نے فرمایا:- اے عمر!* کیا *(تم خُدا سے نہیں ڈرتے اور میرے گھر میں زبردستی داخل ہونا چاہتے ہو)؟*۔اِس پر *(عمر نے آگ اور لکڑیاں لیکر دروازے کو جِلا دیا اور دھکّا دے کر کُھول لیا)*۔تو *جنابِ فاطمتہُ الزہراء سلام اللّٰه علیہا سامنے تھیں اِنہوں نے فریاد کی:- اے باباؐ،یا رسول اللّٰهؐ!* یہ سُن کر *(عمر نے اپنی تلوار مع نیام کے جنابِ سیّدہ فاطمتہُ الزپراء سلام اللّٰه علیہا کے پہلو پر ماری)*۔اِنہوںؑ نے *(ایک چیخ ماری)*۔ پِھر *(اُس نے اُن کے ہاتھ پر ضرب لگائی)*۔تو *جنابِ سیّدہ فاطمتہُ الزپراء سلام اللّٰه علیہا پِھر چیخنے لگیں:- اے باباؐ!* تو *(چیخوں کی آواز سُن کر حضرتِ علی ابن ابی طالب علیہ السّلام فوراً دُوڑے اور عمر کا گربیان پکڑ کر زور سے جھٹکا دیا،جس کی تاب نہ لا کر وہ زمین پر گِر گیا۔ آپؑ نے اُس کی ناک اور گردن پر ضربیں لگائیں اور اُس کے قتل کا اِرادہ کیا)*،معاً *{حضرتِ رسول اللّٰه صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَاٙلہِ وٙسَلَّم کی وصیت یاد ائی کی آنحضرتؐ نے اِس موقع پر صبر کرنے کی تاکید فرمائی تھی}*۔تو *حضرتِ علی علیہ السّلام نے فرمایا:- اے عمر ابنِ خطاب!* مٙیں *(اُس کی قسم کھا کر کہتا ہوں جِس نے حضرتِ محمدِ مصطفیٰ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَاٙلہِ وٙسَلَّم کو نبی بنا کر عزت بخشی)* اگر اللّٰه نے *(مجھؑ سے پہلے ہی سے عہد نہ لے لیا ہوتا تو تُم لوگ میرے گھر میں داخل ہی نہیں ہو سکتے تھے)*۔تو *(اتنے میں عمر نے اپنے دُوسرے ساتھیوں کی مدد سے حضرتِ علی علیہ السّلام کے گلے میں رسی ڈال دی)* اور *(اُنہیں کھینچ کر باہر لے گئے)*۔ یہ دیکھ کہ *{حضرتِ فاطمتہُ الزہراء سلام اللّٰه نے مداخلت کی لیکن قنفذ ملعون نے آپؑ کو ایسا تازمانہ مارا جس کا نشان مرتے دم تک باقی رہا}*۔جب *(آپؑ نے دروازہ کے پیچھے پناہ لی تو اُس نے دروازہ زور سے آپؑ کے اُوپر دبا دیا جس سے آپؑ کی پسلی ٹوٹ گئی اور جُو بچہ آپؑ کے شِکم میں تھا وہ ساقط ہو گیا)*۔اُس کے بعد *(آپؑ مسلسل بیمار رہیں یہاں تک کہ آپؑ نے اُسی عالم میں وفات پائی)*۔اللّٰه اُس *(شہیدہ پر ہمیشہ ہمیشہ اپنی رحمتیں نازل فرمائے اور ظالموں پر لعنت ہو آمین
*اٙللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَّ آلِ مُحَمَّدٍ وَ عَجِّلْ فَرَجَهُمْ۔*
*📚حوالہ کُتب:- بِحٙارالانوار(بارہ جلدیں)،جِلد3،صفحہ206 تا 207،مؤلف رئیس المحدّثین عٙلّامہ محمد باقر مجلسی رحمتہُ اللّٰه علیہ۔*
🔷🔷🔷🔷🔷
1 285
*ازدواجی بدہضمی*
عورتوں کی ازدواجی بدہضمی اور اسکا علاج۔۔۔۔ بات بات پر طلاق کی رٹ لگانے والوں کیلئے سبق
عورت کو جب بد ہضمی ھو جائے اور وہ اپنے گھر اور شوہر کے ساتھ بدسلوکی شروع کر دے ،روز طلاق مانگے اور ایسا شوھر مجھ سے مشورہ کرے تو میں اس کو کہتا ھوں کہ طلاق تمہارے ھاتھ میں ھے ، کونسا ایکسپائری ڈیٹ لکھی ھے طلاق پر ، جب دل چاھا دے لیں گے ، اتنی جلدی کیا ھے ، بندہ بھی بغیر علاج مر جائے تو دل کو افسوس رھتا ھے کہ علاج نہیں کرایا شاید بچ جاتا ، تم اس کو تین ماہ کے لئے اس کے والدین کے گھر بیجھ دو ، یہ ابھی تک اپنے شئیرز کی قیمت شادی سے پہلے والی سمجھ رھی ھے ،،، اس کے بعد اگر ٹھیک نہ ھوئی تو پھر طلاق وھیں بھیج دینا ،،،،،،،،،،،
عورت جب والدین کے گھر جاتی ھے تو وہ گھر اب اس کا نہیں رھتا ،، وہ ایک ناپسندیدہ مہمان ھوتی ھے ، دو چار دن کے بعد اس کی بھاوجیں بولنا چھوڑ دیتی ھیں اور کوشش کرتی ھیں کہ گھر کا سارا کام وہ سنبھال لے تا کہ ماسی کو چھٹی کرائی جائے ،، اگر اس کے ساتھ بچہ ھو تو گھر کے بچے اسے صبح دوپہر شام دو دو جوتے ضرور مارتے ھیں اور ساتھ یہ طنز بھی کہ جب سے یہ آیا ھے ھمارے بچے پڑھ نہیں سکتے ،، باھر نکلتی ھے تو ھر عورت پوچھتی ھے ، بیٹا واپس کب جا رھی ھو ؟ دو چار دن ٹرخاتی ھے ،، مگر ایک ماہ کے بعد سوال کی نوعیت تبدیل ھو جاتی ھے ،، کیوں پتر کہیں تو پکی پکی تو نہیں آ گئ ؟ اور وہ تردیدیں کرتی پھرتی ھے کہ قسم سے ایسا نہیں ھے ،آج بھی اُن کا فون آیا تھا کہ جلد واپس آؤ ،،مگر میں سوچتی ھوں بچوں کے ساتھ روز روز تو نہیں آیا جاتا ناں ،،خیر دو ماہ میں لوگ اس خاتون کو دھو بھی دیتے ھیں اور استری کر کے اس کی ساری سلوٹیں نکال کر پہلے دن کی طرح کر دیتے ھیں ،، اب وہ بہانے بہانے سے فون کرنا شروع کرتی ھے ،منا آپ کو بہت یاد کرتا ھے ،کب سے بیمار ھے ، ابا ابا کرتا رھتا ھے آپ اس کو آ کر لے جائیں ،،، ابا منا لینے آتا ھے تو ساتھ منی بھی چلی آتی ھے ،،یوں لوگ گھر بسا دیتے ھیں۔
ازدواجیات سے ماخوذ
🔷🔷🔷🔷🔷
1 285
*ول پاور مضبوط کریں*
امریکہ کے ایک پچپن سالہ آدمی کو ایک کالا جادو کرنے والے نے بد دعا دی کہ تم جلد مر جاؤ گے اور تمہیں کوئی بچا نہیں سکے گا. "*
" دن بدن آدمی کی حالت بگڑتی گئی یہاں تک کہ اس کا تیس کلو وزن کم ہو گیا. "
"اسے ہسپتال لے کر گئے, تمام رپورٹس کلئیر تھیں. جس ڈاکٹر کو اس کا کیس دیا گیا اس نے اس مریض کی بیوی سے علیحدگی میں پوچھا کہ کیا کچھ ایسا ہے جو اس سب کی وجہ ہے؟
اس نے بتایا کہ ایک کالے علم والے نے اسے موت کی بد دعا دی تھی۔ ڈاکٹر نے اگلے دن نرس سے ایک انجیکشن لانے کو کہا. اور مریض کو بتایا کہ میں اس کالا جادو کرنے والے سے ملا ہوں اسے پولیس کی دھمکی دی تو اس نے بتایا کہ اس نے تم پر چھپکلی کے انڈے پھینکے تھے ان میں سے ایک چھپکلی تمہارے جسم میں ہے اور اندر سے تمہیں ختم کر رہی ہے. اس انجیکشن سے تمہیں الٹی آئے گی. اور وہ چھپکلی باہر آجائے گی."
" آدمی کو الٹی آئی اور ڈاکٹر نے آنکھ بچا کر اس میں چھپکلی ڈال دی. اس کے بعد حیرت انگیز طور پر وہ آدمی ٹھیک ہوتا چلا گیا اور لمبی زندگی جیا. "
قصہ مختصر.......
" ہم بیماریوں سے نہیں مرتے ہم اپنے دماغ کے ہاتھوں مرتے ہیں, یہ ہمیں یقین دلا دیتا ہے کہ اب ہم نہیں بچیں گے. اسی لیے ایک آدمی جب لیور کینسر سے مرا تو اس کے پوسٹمارٹم میں پتا چلا وہ ٹیومر تو بہت چھوٹا تھا, اور پھیل بھی نہیں رہا تھا. وہ آدمی اس لیے مرا کیونکہ اس نے سمجھ لیا تھا کہ وہ اس کینسر سے جلد مر جائے گا. "
بات کرتے ہیں عادات کی....
فرض کریں...
مجھ سے صبح اٹھا نہیں جاتا. یعنی دیر تک سونے کی عادت....
" تو بتاؤ میں کیسے اپنی یہ عادت بدلوں. "
کچھ کہیں گے کہ " کچھ دن جلدی اٹھنے کی کوشش کریں, عادت بن جائے گی. "
" کتنے دن؟ "
" کچھ لوگ کہتے ہیں اکیس دن اور کچھ کے مطابق ساٹھ دن لگتے ہیں عادت بدلنے میں. "
" اور مجھے لگتا ہے ہم ایک لمحے میں اپنی عادت بدل سکتے ہیں. "
" اگر ول پاور اسٹرانگ ہو تو ہم آج ہی اپنی عادت بدل سکتے ہیں."
" ہم اپنی ول پاور اسٹرانگ کرتے ہیں. کرنا ہے تو بس کرنا ہے.
🔷🔷🔷🔷🔷
1 285
مجلسِ عزا پڑھنے کے عوض لاکھوں روپے لینے والوں کی مذمت – قرآن و حدیث و روایات کی روشنی میں
اہل بیتِ اطہار علیہم السلام کی مجالسِ عزا ایک عظیم عبادت، تبلیغِ دین اور ذکرِ مظلومیتِ امام حسین علیہ السلام ہے۔ یہ وہ مقدس پلیٹ فارم ہے جہاں مومنین کے دلوں کو بیدار کیا جاتا ہے، گناہوں سے توبہ کی دعوت دی جاتی ہے اور دینِ اسلام کی اصل روح زندہ رکھی جاتی ہے۔ لیکن افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ آج بعض لوگ اس مقدس خدمت کو دنیاوی مال و دولت کمانے کا ذریعہ بنا بیٹھے ہیں، اور مجلسِ عزا پڑھنے کے عوض لاکھوں روپے طلب کرتے ہیں۔ یہ عمل قرآن و سنت کی روشنی میں سخت مذموم اور خطرناک ہے۔
---
قرآن کی روشنی میں
1. دین کو دنیا کے بدلے بیچنا
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
> “وَلَا تَشْتَرُوا بِآيَاتِي ثَمَنًا قَلِيلًا” (البقرہ: 41)
“میری آیات کو معمولی قیمت پر نہ بیچو۔”
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ دین کی تعلیمات یا مقدس امور کو دنیاوی مال و زر کے بدلے فروخت کرنا اللہ کے غضب کو دعوت دینا ہے۔ مجلسِ عزا بھی اللہ کی آیات اور دین کی تبلیغ کا حصہ ہے، جسے دنیاوی منافع کے لیے بیچنا ناجائز ہے۔
2. عبادت کا مقصد صرف اللہ کی رضا
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
> “وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ” (البینہ: 5)
“انہیں حکم نہیں دیا گیا مگر یہ کہ خالص اللہ کے لیے دین کو انجام دیں۔”
جب مجلس پڑھنے کا مقصد شہرت، مال یا دنیاوی مقام بن جائے تو اخلاص ختم ہو جاتا ہے، اور ایسا عمل عند اللہ مقبول نہیں۔
---
احادیث کی روشنی میں
1. رسولِ خدا ﷺ نے فرمایا:
> “من تعلم علماً مما يبتغى به وجه الله لا يتعلمه إلا ليصيب به عرضاً من الدنيا لم يجد عرف الجنة يوم القيامة”
(سنن ابی داؤد، حدیث 3664)
“جو شخص ایسا علم سیکھے جس سے اللہ کی رضا مطلوب ہے لیکن وہ دنیاوی فائدہ حاصل کرنے کے لیے اسے سیکھے، وہ قیامت کے دن جنت کی خوشبو بھی نہ پائے گا۔”
یہ حدیث براہِ راست ان لوگوں پر صادق آتی ہے جو دین کو دنیا کمانے کا ذریعہ بناتے ہیں۔
2. امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:
> “من طلب العلم ليباهي به العلماء، أو ليماري به السفهاء، أو ليصرف وجوه الناس إليه، فليتبوأ مقعده من النار”
(الکافی، ج۱، ص ۴۷)
“جو علم اس لیے حاصل کرے کہ علما پر فخر کرے، یا جاہلوں سے جھگڑا کرے، یا لوگوں کو اپنی طرف مائل کرے، تو اس کا ٹھکانا جہنم ہے۔”
یہ روایت بتاتی ہے کہ دین کی تبلیغ شہرت یا مال کمانے کے لیے ہو تو وہ عمل باعثِ جہنم ہے۔
---
اہل بیت علیہم السلام کی تعلیمات
امام حسین علیہ السلام نے فرمایا:
> “إنما خرجت لطلب الإصلاح في أمة جدي”
“میں صرف اصلاحِ امت کے لیے نکلا ہوں۔”
مجالسِ حسینؑ اصلاحِ امت کے لیے ہیں، نہ کہ کاروبار یا دنیاوی تجارت کے لیے۔ جو اسے تجارت بنائے وہ امام حسینؑ کے مقصد کو پامال کرتا ہے۔
امام علی علیہ السلام نے نہج البلاغہ میں وعاظ کے بارے میں فرمایا:
> “وَإِنَّ مِنْ أَبْغَضِ الرِّجَالِ إِلَى اللَّهِ لَعَبْداً وَكَلَهُ اللَّهُ إِلَى نَفْسِهِ جَائِراً عَنْ قَصْدِ السَّبِيلِ”
“اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ مبغوض وہ شخص ہے جسے اللہ نے اس کے نفس پر چھوڑ دیا اور وہ دین کے راستے سے ہٹ گیا۔” (نہج البلاغہ، خطبہ 17)
وہ خطباء اور واعظین جو دین کو اپنی خواہشات اور دنیاوی کمائی کا ذریعہ بنا لیتے ہیں، اس وعید کے مصداق ہیں۔
---
نتیجہ
مجالسِ عزا پڑھنے والے اگر اخلاص کے ساتھ، صرف ثواب اور دین کی تبلیغ کی نیت سے خدمت کریں تو یہ سب سے بڑی عبادت ہے۔ لیکن اگر کوئی لاکھوں روپے طلب کرے، دنیاوی مقام بنائے اور دین کو تجارت کا ذریعہ بنائے تو وہ اللہ، رسول ﷺ اور اہل بیت علیہم السلام کی نظر میں شدید مذمت کے قابل ہے۔
لہٰذا مومنین کو چاہیے کہ وہ ایسے افراد کو پہچانیں جو دین کو کاروبار بنا بیٹھے ہیں، اور صرف ان علما و ذاکرین کی حمایت کریں جو اخلاص کے ساتھ ذکرِ حسین علیہ السلام کو جاری رکھتے ہیں۔
---
1 285
■ ماہ ربیع الاول کی مناسبت سے پوسٹس لنکس۔ پوسٹ دیکھنے کیلئے مطلوبہ پوسٹ کے لنک پر کلک کریں۔۔۔
🔷 ماہ ربیع الاول
https://t.me/islamwitheman/4984
🌸 اعمال پہلی ربیع الاول
https://t.me/islamwitheman/2769
🔥 شہادت محسن ابن علی (یکم ربیع الاول)
https://t.me/islamwitheman/1992
🔥 محسن ابن علی کی شہادت
https://t.me/islamwitheman/2793
🌷 رحلت بیبی ام رباب (6 ربیع الاول)
https://t.me/islamwitheman/2784
🌷 ام رباب زوجہ امام حسین
https://t.me/islamwitheman/2783
🌹 تعارف امام حسن عسکری
https://t.me/islamwitheman/2000
🔶 شھادت امام حسن عسکری (8 ربیع الاول)
https://t.me/islamwitheman/2002
🔶 زیارت امام حسن عسکری
https://t.me/islamwitheman/2003
🌹 فرامین امام حسن عسکری
https://t.me/islamwitheman/2004
🌹 حیاتنامہ امام حسن عسکری
https://t.me/islamwitheman/2786
🌹 عید شجاع، عید زھراء (9 ربیع الاول)
https://t.me/islamwitheman/2790
🌹 عید شجاع، عید زھراء
https://t.me/islamwitheman/2013
🌹 شادی مبارک کے اخلاقی نکات (10 ربیع الاول)
https://t.me/islamwitheman/2015
🌺 ہفتہ وحدت 12 تا 17 ربیع الاول
https://t.me/islamwitheman/2030
🤝 12 سے 17 ربیع الاول ہفتۂ وحدت
https://t.me/islamwitheman/2796
⏮ یزید ابن معاویہ کا واصل جہنم ہونا (14 ربیع الاول)
https://t.me/islamwitheman/2029
🌹 شجرہ نسب حضرت محمد
https://t.me/islamwitheman/2019
🌹 مختصر سوانح حیات (17 ربیع الاول)
https://t.me/islamwitheman/2020
🔷 بوقت ولادت آثار نبوت
https://t.me/islamwitheman/2021
🔷 تجارت اور بحیرا سے ملاقات
https://t.me/islamwitheman/2022
🔷 کردار کی بلندی اور شادی
https://t.me/islamwitheman/2023
🌹 رسولخدا قرآن کی روشنی
https://t.me/islamwitheman/2762
🌹 پیغمبر اکرم کی منفرد خصوصیات
https://t.me/islamwitheman/5024
🔷 رسول اکرم کی جائیداد
https://t.me/islamwitheman/4948
🌹 معجزات جسمِ اقدس رسولؐ
https://t.me/islamwitheman/5358
🔷 اولوالعزم انبیاء
https://t.me/islamwitheman/119
🔷 انسان وجود انبیاء کا محتاج ہے
https://t.me/islamwitheman/1081
🔷 انبیاء کرام صرف مشرق وسطی میں آئے؟
http://t.me/islamwitheman/1091
🍀 انسان کی تدریجا فکری تربیت
http://t.me/islamwitheman/1148
🍃 کیا دنیا و آخرت میں تضاد ہے؟
http://t.me/islamwitheman/1152
🌿 دیگر مناطق میں انبیاء
http://t.me/islamwitheman/1151
🔷 امام صادق کا مختصر تعارف (17 ربیع الاول)
https://t.me/islamwitheman/2031
🔵 امام صادق اور ہندی طبیب 1
https://t.me/islamwitheman/2032
🌹 امام جعفر صادق کا جاہ و جلال
http://t.me/islamwitheman/2381
🔷 زیارتنامہ امام جعفر صادق
http://t.me/islamwitheman/2382
🔷 امام صادق کی ضمانت
http://t.me/islamwitheman/2386
🌹 ام کلثوم بنت امام علی (18 ربیع الاول)
https://t.me/islamwitheman/2801
🌹 فدک، شہزادیؑ کیلئے تحفہ (22 ربیع الاول)
https://t.me/islamwitheman/2804
🌹 مختصر واقعہ فدک
https://t.me/islamwitheman/2805
🌹 جاگیر فدک کا مختصر احوال
https://t.me/islamwitheman/2806
🌹 فدک پر حضرت فاطمہؑ کا دعوائے ملکیت
https://t.me/islamwitheman/2810
🌹 مقدمہ فدک
https://t.me/islamwitheman/2811
🌹 خطبہ فدکیہ اور ناراضگی
https://t.me/islamwitheman/2814
🌹 فدک سے متعلق موقفات
https://t.me/islamwitheman/2815
🌹 خطبہ فدک
https://t.me/islamwitheman/2816
🌹 حضرت زہراءؑ کے بارے گریۂ پیغمبرؐ
https://t.me/islamwitheman/2820
🌹 تاریخ حضرت ابوطالب (26 ربیع الاول)
https://t.me/islamwitheman/3105
🌹 حیاتنامہ حضرت ابوطالب
https://t.me/islamwitheman/3626
🌹 تاریخ حضرت ابوطالب
https://t.me/islamwitheman/3629
🌹 جناب ابوطالب علیہ السلام
https://t.me/islamwitheman/3630
🌹 زیارتنامہ حضرت ابوطالب
http://t.me/islamwitheman/2402
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 285
*نوجوان لڑکیوں کے نام!!!*
ایک عورت ایک دکان میں آئی، اس کے کپڑے اس کے جسم کو بہت نمایاں کر رہے تھے۔ دکان کا مالک، جو ایک عقلمند بوڑھا شخص تھا، اس نے اس عورت کو دیکھا، اسے بیٹھنے کو کہا، سیدھا اس کی آنکھوں میں دیکھا اور ایک ایسی بات کہی جو وہ ساری زندگی نہیں بھولے گی۔
"بیٹی! دنیا میں جو کچھ بھی اللہ نے قیمتی بنایا ہے، اسے چھپا کر رکھا ہے اور اسے پانا آسان نہیں۔"
👈 مثال کے طور پر:
1. ہیرے کہاں ملتے ہیں؟
زمین کے اندر، مٹی میں چھپے ہوئے اور حفاظت کے ساتھ۔
2. موتی کہاں ہوتے ہیں؟
گہرے سمندر کے اندر، خوبصورت صدف میں چھپے اور محفوظ۔
3. سونا کہاں پایا جاتا ہے؟
زمین کے نیچے، پتھروں کی تہوں میں ڈھکا ہوا، اور وہاں تک پہنچنے کے لیے سخت محنت اور گہری کھدائی کرنا پڑتی ہے۔
پھر اس نے لڑکی کی طرف دیکھا اور کہا: "تمہارا جسم اللہ کے نزدیک مقدس اور انمول ہے۔" تم سونے، ہیروں اور موتیوں سے کہیں زیادہ قیمتی ہو، اس لیے تمہیں بھی ڈھکا ہونا چاہیے۔
پھر اس نے مزید کہا: "اگر تم اپنے قیمتی خزانے — جیسے سونا، ہیرے اور موتی — زمین کے اندر محفوظ رکھو گی، تو ایک باوقار 'مائننگ کمپنی' (شوہر) جو مناسب مشینری رکھتی ہے (اخلاق و کردار)، وہ سالوں محنت کرے گی تاکہ تمہاری قدر سمجھے اور تمہیں حاصل کرے۔
🌷سب سے پہلے، وہ تمہاری حکومت (خاندان) سے اجازت لے گا۔
🌷پھر باقاعدہ معاہدہ کرے گا (نکاح),
🌷اور پھر تمہیں نرمی سے سنوارے گا اور تمہاری قدر کرے گا (ازدواجی زندگی)۔
لیکن اگر تم اپنے خزانے (جسم) کو زمین کی سطح پر چھوڑ دو گی (سب کے لیے ظاہر)، تو ہر طرح کے غیر قانونی کان کن (بدنیت لوگ) آئیں گے، تمہیں استعمال کریں گے، تمہارے قیمتی خزانے لوٹ کر چلے جائیں گے اور تمہیں خالی چھوڑ دیں گے۔
🔘 خواتین! آپ بہت قیمتی ہو!! یاد رکھو — وقار ہمیشہ فضول نمائش سے بہتر ہوتا ہے۔
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 285
*بھکاری*
ٹرین میں نوجوان بھکاری بھیک مانگتے مانگتے ایک سیٹھ صاحب کے سامنے پہنچ گیا. بھکاری نے سیٹھ کا ٹپ ٹاپ دیکھا تو اُمید ہوئی اچھی بھیک ملے گی اس لئے بہت دردمندی سے بھیک مانگی. سیٹھ نے لیکن کہا میں تمہیں بھیک تو دے دوں گا تم مجھے کیا دو گے.؟ بھکاری نے کہا میرے پاس ہے ہی کیا.؟ میں آپ کو کیا دے سکتا ہوں؟ سیٹھ نے کہا یہ میرا مسئلہ نہیں تم نے سوچنا ہے بھیک کے بدلے مجھے کیا دو گے.؟
سیٹھ کا سٹیشن آگیا. وہ تو اتر گیا لیکن بھکاری سوچ میں پڑ گیا. بھیک بہت کم ملتی ہے گزارا مشکل ہے. میں آخر بھیک کے بدلے کیا دے سکتا ہوں. آخری سٹیشن کے پاس بہت جوہڑ تھے. وہاں جنگلی پھول لگے تھے. اچانک اسے آئیڈیا آیا میں بھیک کے بدلے پھول دوں گا. اگلے دن سے اس کی آمدنی بڑھ گئی. لیکن آہستہ آہستہ جنگلی پھول ختم ہونے لگے.
ایک دن دوبارہ وہی سیٹھ بھکاری کو ٹرین میں نظر آیا. بھکاری سیدھا سیٹھ کے پاس گیا اور اسے پھول پیش کر کے بھیک مانگی. سیٹھ نے ہنس کر پیسے دئے اور کہا اب تم بزنس سیکھ گئے ہو. کائنات میں سارا نظام لین دین پر کھڑا ہے. تم نے کچھ لینا ہے تو کچھ دینا سیکھ لو. آخری سٹیشن پر اُس دن جب یہ بھکاری اترا اور بچے کھچے چند جنگلی پھول دیکھے تو سیٹھ کی بات یاد آگئی " تم بزنس مین ہو."
اس نے سوچا ضروری تو نہیں کہ جنگلی پھول ہی بیچے جائیں. میں بزنس مین ہوں کچھ ایسا کیوں نہ فروخت کروں جس کیلئے مجھے مانگنا نہ پڑے.
اکثریت نوجوان کائنات کے اس نظام کو سمجھنے میں دیر کر دیتے ہیں. وہ شروعات میں بھکاری کی طرح مانگنا تو سیکھ لیتے ہیں کچھ دینا نہیں سیکھ پاتے. لیکن اس کا دوسرا درجہ سیکھنے میں زیادہ دیر لگ جاتی ہے. کیونکہ وہ ایک عرصے تک خود کو کچھ سمجھتے ہی نہیں. جب تک ان کو سمجھ آتی ہے کہ وہ کوئی بھکاری نہیں ایک کامیاب انسان ہیں تب تک کافی عمر وہ ضائع کر چکے ہوتے ہیں.
🔷🔷🔷🔷🔷
1 285
یہ بجلی گھر پاکستان کی کل ضرورت کا 125 فیصد پیدا کرنے کی صلاحیت بتا کر لگائے گئے ہیں لیکن دیتے صرف 48 فیصد ہیں۔
لیکن قیمت 125 فیصدی کی وصول کرتے آ رہے ہیں، لہذا پچھلے 5 سال میں 6 ہزار ارب دینے کے باوجود یہ ملک ان کا 2900 ارب کا مقروض ہے۔
List of IPP (Independent Power Producers)
1. ACT Wind (Pvt) Limited
2. AJ Power (Private) Ltd.
3. Almoiz Industries Limited
4. Altern Energy Ltd.
5. Appolo Solar Development Pakistan Limited
6. Artistic Energy (Pvt.) Limited
7. Atlas Power Limited
8. Attock Gen Limited
9. Azad Jammu & Kashmir Power Development Organzation
10. Best Green Energy Pakistan Limited
11. Central Power Generation Company Limited-(Genco-2)
12. Chanar Energy Limited
13. China Power Hub Generation company (Pvt.) Ltd
14. Chiniot Power Limited
15. Crest Energy Pakistan Limited
16. Davis Energen (Pvt) Limited
17. Engro Powergen Qadirpur Limited
18. Engro Powergen Thar (Pvt) Limited
19. F.D QESCO (Collector of Customs Quetta)
20. Fatima Energy Limited
21. Fauji Kabirwala Power Company Ltd.
22. FFC Energy Limited
23. Foundation Power Company Daharki Ltd.
24. Foundation Wind Energy-I Limited
25. Foundation Wind Energy-II (Pvt.) Limited
26. Gul Ahmed Wind Power Ltd
27. Gulf Powergen (Pvt) Ltd
28. Habibullah Coastal Power Co. (Pvt.) Ltd.
29. Halmore Power Generation Company Limited
30. Hamza Sugar Mills Limited
31. Harapa Solar (Pvt) Limited
32. Hawa Energy (Private) Limited
33. Huaneng Shandong Ruyi Energy (Pvt) Ltd
34. Hydrochina Dawood Power (Private) Limited
35. Jamshoro Power Company Limited-(Genco-1)
36. Japan Power Generation Ltd.
37. JDW Sugar Mills Ltd.
38. Jhimpir Power (Private) Limited
39. Karachi Nucelar Power Plants
40. Kohinoor Energy Ltd.
41. Kot Addu Power Company Ltd.
42. Lakhra Power Generation Company Limited-(Genco-4)
43. Lalpir Power (Private) Limited
44. Laraib Energy Limited
45. Liberty Power Tech Limited
46. Master Wind Energy Limited
47. Metro Power Company Ltd
48. Mira Power Limited
49. Narowal Energy Limited
50. National Power Parks Management Company Private Limited
51. Neelum Jhelum Hydropower Company (Pvt.) Ltd.
52. Nishat Chunian Power Limited
53. Nishat Power Limited
54. Northern Power Generation Company Limited-(Genco-3)
55. Orient Power Company (Private) Limited
56. PAEC Chashma Nuclear Power Plant.
57. Pak Gen Power Limited
58. Pakhtunkhwa Energy Development Organization (Malakand-III)
59. Pakhtunkhwa Energy Development Organzation (PEDO)
60. Pakistan State Oil
61Port Qasim Electric Power Company (Pvt.) Limited
یہ تحریر لاکھوں تولہ سونا اور کروڑوں ہیروں سے بھی قیمتی ہے۔۔۔ اس کو سمجھیں اور سیریس ہوجائیں 78 سالوں کے بعد بھی اگر عوام کو شعور عقل نہ آسکی تو پھر اللہ ہی حافظ ہے اس قوم کا۔۔چند لوگ پوری قوم کو فل ذلیل کر رہےہیں _
1 285
زخمی اور لہو لہان پاکستان ۔۔ ڈالر کی کہانی پاکستانی تاریخ کی زبانی:
_1947 تا 2024_
In 1947 1 USD was 3.31 PKR
In 1948 1 USD was 3.31 PKR
In 1949 1 USD was 3.31 PKR
In 1950 1 USD was 3.31 PKR
In 1951 1 USD was 3.31 PKR
In 1952 1 USD was 3.31 PKR
In 1953 1 USD was 3.31 PKR
In 1954 1 USD was 3.31 PKR
In 1955 1 USD was 3.91 PKR
In 1956 1 USD was 4.76 PKR
In 1957 1 USD was 4.76 PKR
In 1958 1 USD was 4.76 PKR
In 1959 1 USD was 4.76 PKR
In 1960 1 USD was 4.76 PKR
In 1961 1 USD was 4.76 PKR
In 1962 1 USD was 4.76 PKR
In 1961 1 USD was 4.76 PKR
In 1962 1 USD was 4.76 PKR
In 1963 1 USD was 4.76 PKR
In 1964 1 USD was 4.76 PKR
In 1965 1 USD was 4.76 PKR
In 1966 1 USD was 4.76 PKR
In 1967 1 USD was 4.76 PKR
In 1968 1 USD was 4.76 PKR
In 1969 1 USD was 4.76 PKR
In 1970 1 USD was 4.76 PKR
In 1971 1 USD was 4.76 PKR
*پھر اُدھر تم اِدھر ھم شروع ہوا:*
In 1972 1 USD was 11.01 PKR
In 1973 1 USD was 09.99 PKR
In 1974 1 USD was 09.99 PKR
In 1975 1 USD was 09.99 PKR
In 1976 1 USD was 09.99 PKR
In 1977 1 USD was 09.99 PKR
In 1978 1 USD was. 09.99 PKR
In 1979 1 USD was 09.99 PKR
In 1980 1 USD = 09.99 PKR
In 1981 1 USD = 09.99 PKR
*پھر کلاشنکوف اور ھیروئن کے خلاف جہاد شروع ہوا:*
In 1982 1 USD = 11.85 PKR
In 1983 1 USD = 13.12 PKR
In 1984 1 USD = 14.05 PKR
In 1985 1 USD = 15.93 PKR
In 1986 1 USD = 16.65 PKR
In 1987 1 USD = 17.4 PKR
In 1988 1 USD = 18 PKR
*پھر سیاسی شعور بڑھا اور روٹی کپڑا اور مکان دینے شروع ہوئے:*
In 1989 1 USD = 20.54PKR
In 1990 1 USD = 21.71 PKR
In 1991 1 USD = 23.80PKR
In 1992 1 USD = 25.08 PKR
*پھر ھم موٹر ویز بنانے لگے تاکہ پاکستان دن دگنی اور رات چوگنی ترقی کرنے لگا:*
In 1993 1 USD = 28.11 PKR
In 1994 1 USD = 30.57 PKR
In 1995 1 USD = 31.64 PKR
In 1996 1 USD = 36.08 PKR
In 1997 1 USD = 41.11 PKR
*پھر کرپشن بڑھنے لگی اور ملک کو مضبوط ہاتھوں نے اپنے ہاتھوں میں لیا:*
In 1998 1 USD = 45.05 PKR
In 1999 1 USD = 51.90 PKR
In 2000 1 USD = 51.90 PKR
In 2001 1 USD = 63.50 PKR
In 2002 1 USD = 60.58 PKR
In 2003 1 USD = 57.75 PKR
In 2004 1 USD = 57.80 PKR
In 2005 1 USD = 59.79 PKR
In 2006 1 USD = 60.43 PKR
In 2007 1 USD = 60.83 PKR
*پھر پاکستان کھپنے لگا:*
In 2008 1 USD = 81.18 PKR
In 2009 1 USD = 84.10 PKR
In 2010 1 USD = 85.75 PKR
In 2011 1 USD = 88.60PKR
In 2012 1 USD = 96.50 PKR
*پھر پاکستان کو بچانے والے جدوجھد کرنے کے لیئے آگے آئے:*
In 2013 1 USD = 107.29 PKR
In 2014 1 USD = 103.13 PKR
In 2015 1 USD = 105.20 PKR
In 2016 1 USD = 104.60 PKR
In 2017 1 USD = 110.01 PKR
*اس کے بعد نیا پاکستان بنانے والے آگئے:*
In 2018 1 USD = 139.21 PKR
In 2019 1 USD = 163.75 PKR
In 2020 1 USD = 168.88 PKR
In 2021 1 USD = 179.16 PKR
*اور پھر 13 پارٹیوں کا اتحاد شروع ہوا:*
In 2022 1 USD = 240.00 PKR
In 2023 1 USD = 286.00 PKR
ln 2024. . . 1 USD = 277.00 PKR
اور ہم ہر بار تالیاں بجاتے رہے. صرف ایک ایسا شعبہ جس نے 32 سال میں پاکستان کو موت کے دہانے پر پہنچا دیا۔ وہ ہے IPPs۔ یعنی بجلی پیدا کرنے والے 90 پرائیویٹ ادارے۔
ان معاہدوں کی قاتلانہ شرائط سے آپ پہلے سے واقف ہیں لیکن آپ شاید یہ نہیں جانتے کہ ان کے مالک کون ہے؟
تو دل تھام لیجیے
28 فیصد شریف خاندان
16 فیصد ن لیگی رہنما
16 فیصد زرداری
8 فیصد پیپلز پارٹی رہنما
10 فیصد اسٹبلشمنٹ
8 فیصد چین کے سرمایہ کا
7 فیصد عرب کے سرمایہ کار ( قطری)
7 فیصد پاکستانی سرمایہ دار
یعنی 78 فیصد صرف تین گروپس ( شریف ، زرداری، اسٹبلشمنٹ) کی ملکیت ہیں۔
اس سے آگے کا المیہ بھی سن لیجیے۔
یہی وہ 90 لوگ یا گروپ ہیں جس کے پاس پاکستان کی تمام شوگر ملز، سٹیل ملز، سیمنٹ، کھاد، کپڑے، بنک، LPG اور گاڑیاں بنانے کے لائسنس ہیں۔
