uk
Feedback

Не попадись на ботовода! Telemetrio знаходить і позначає такі канали мітками 👉 Хочеш бачити мітку, оформляй підписку

ISLAM WITH EMAN

ISLAM WITH EMAN

Відкрити в Telegram

اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات... ایڈمن سے رابطہ کیلئے: @syedsajjadhamdani

Показати більше
1 286
Підписники
Немає даних24 години
-57 днів
-730 днів
Архів дописів
جو شخص تمھارا محتاج ہے اس پر شفقت کرنا تم پر واجب ہے۔
جو شخص تمھارا محتاج ہے اس پر شفقت کرنا تم پر واجب ہے۔

ان تمام سبز رنگ والے ممالک کو اس پیلے رنگ والے ملک سے خطرہ ہے
ان تمام سبز رنگ والے ممالک کو اس پیلے رنگ والے ملک سے خطرہ ہے

یہ بجلی گھر پاکستان کی کل ضرورت کا 125 فیصد پیدا کرنے کی صلاحیت بتا کر لگائے گئے ہیں لیکن دیتے صرف 48 فیصد ہیں۔ لیکن قیمت 125 فیصدی کی وصول کرتے آ رہے ہیں، لہذا پچھلے 5 سال میں 6 ہزار ارب دینے کے باوجود یہ ملک ان کا 2900 ارب کا مقروض ہے۔ List of IPP (Independent Power Producers) 1. ACT Wind (Pvt) Limited 2. AJ Power (Private) Ltd. 3. Almoiz Industries Limited 4. Altern Energy Ltd. 5. Appolo Solar Development Pakistan Limited 6. Artistic Energy (Pvt.) Limited 7. Atlas Power Limited 8. Attock Gen Limited 9. Azad Jammu & Kashmir Power Development Organzation 10. Best Green Energy Pakistan Limited 11. Central Power Generation Company Limited-(Genco-2) 12. Chanar Energy Limited 13. China Power Hub Generation company (Pvt.) Ltd 14. Chiniot Power Limited 15. Crest Energy Pakistan Limited 16. Davis Energen (Pvt) Limited 17. Engro Powergen Qadirpur Limited 18. Engro Powergen Thar (Pvt) Limited 19. F.D QESCO (Collector of Customs Quetta) 20. Fatima Energy Limited 21. Fauji Kabirwala Power Company Ltd. 22. FFC Energy Limited 23. Foundation Power Company Daharki Ltd. 24. Foundation Wind Energy-I Limited 25. Foundation Wind Energy-II (Pvt.) Limited 26. Gul Ahmed Wind Power Ltd 27. Gulf Powergen (Pvt) Ltd 28. Habibullah Coastal Power Co. (Pvt.) Ltd. 29. Halmore Power Generation Company Limited 30. Hamza Sugar Mills Limited 31. Harapa Solar (Pvt) Limited 32. Hawa Energy (Private) Limited 33. Huaneng Shandong Ruyi Energy (Pvt) Ltd 34. Hydrochina Dawood Power (Private) Limited 35. Jamshoro Power Company Limited-(Genco-1) 36. Japan Power Generation Ltd. 37. JDW Sugar Mills Ltd. 38. Jhimpir Power (Private) Limited 39. Karachi Nucelar Power Plants 40. Kohinoor Energy Ltd. 41. Kot Addu Power Company Ltd. 42. Lakhra Power Generation Company Limited-(Genco-4) 43. Lalpir Power (Private) Limited 44. Laraib Energy Limited 45. Liberty Power Tech Limited 46. Master Wind Energy Limited 47. Metro Power Company Ltd 48. Mira Power Limited 49. Narowal Energy Limited 50. National Power Parks Management Company Private Limited 51. Neelum Jhelum Hydropower Company (Pvt.) Ltd. 52. Nishat Chunian Power Limited 53. Nishat Power Limited 54. Northern Power Generation Company Limited-(Genco-3) 55. Orient Power Company (Private) Limited 56. PAEC Chashma Nuclear Power Plant. 57. Pak Gen Power Limited 58. Pakhtunkhwa Energy Development Organization (Malakand-III) 59. Pakhtunkhwa Energy Development Organzation (PEDO) 60. Pakistan State Oil 61Port Qasim Electric Power Company (Pvt.) Limited یہ تحریر لاکھوں تولہ سونا اور کروڑوں ہیروں سے بھی قیمتی ہے۔۔۔ اس کو سمجھیں اور سیریس ہوجائیں 78 سالوں کے بعد بھی اگر عوام کو شعور عقل نہ آسکی تو پھر اللہ ہی حافظ ہے اس قوم کا۔۔چند لوگ پوری قوم کو فل ذلیل کر رہےہیں _

زخمی اور لہو لہان پاکستان ۔۔ ڈالر کی کہانی پاکستانی تاریخ کی زبانی: _1947 تا 2024_ In 1947 1 USD was 3.31 PKR In 1948 1 USD was 3.31 PKR In 1949 1 USD was 3.31 PKR In 1950 1 USD was 3.31 PKR In 1951 1 USD was 3.31 PKR In 1952 1 USD was 3.31 PKR In 1953 1 USD was 3.31 PKR In 1954 1 USD was 3.31 PKR In 1955 1 USD was 3.91 PKR In 1956 1 USD was 4.76 PKR In 1957 1 USD was 4.76 PKR In 1958 1 USD was 4.76 PKR In 1959 1 USD was 4.76 PKR In 1960 1 USD was 4.76 PKR In 1961 1 USD was 4.76 PKR In 1962 1 USD was 4.76 PKR In 1961 1 USD was 4.76 PKR In 1962 1 USD was 4.76 PKR In 1963 1 USD was 4.76 PKR In 1964 1 USD was 4.76 PKR In 1965 1 USD was 4.76 PKR In 1966 1 USD was 4.76 PKR In 1967 1 USD was 4.76 PKR In 1968 1 USD was 4.76 PKR In 1969 1 USD was 4.76 PKR In 1970 1 USD was 4.76 PKR In 1971 1 USD was 4.76 PKR *پھر اُدھر تم اِدھر ھم شروع ہوا:* In 1972 1 USD was 11.01 PKR In 1973 1 USD was 09.99 PKR In 1974 1 USD was 09.99 PKR In 1975 1 USD was 09.99 PKR In 1976 1 USD was 09.99 PKR In 1977 1 USD was 09.99 PKR In 1978 1 USD was. 09.99 PKR In 1979 1 USD was 09.99 PKR In 1980 1 USD = 09.99 PKR In 1981 1 USD = 09.99 PKR *پھر کلاشنکوف اور ھیروئن کے خلاف جہاد شروع ہوا:* In 1982 1 USD = 11.85 PKR In 1983 1 USD = 13.12 PKR In 1984 1 USD = 14.05 PKR In 1985 1 USD = 15.93 PKR In 1986 1 USD = 16.65 PKR In 1987 1 USD = 17.4 PKR In 1988 1 USD = 18 PKR *پھر سیاسی شعور بڑھا اور روٹی کپڑا اور مکان دینے شروع ہوئے:* In 1989 1 USD = 20.54PKR In 1990 1 USD = 21.71 PKR In 1991 1 USD = 23.80PKR In 1992 1 USD = 25.08 PKR *پھر ھم موٹر ویز بنانے لگے تاکہ پاکستان دن دگنی اور رات چوگنی ترقی کرنے لگا:* In 1993 1 USD = 28.11 PKR In 1994 1 USD = 30.57 PKR In 1995 1 USD = 31.64 PKR In 1996 1 USD = 36.08 PKR In 1997 1 USD = 41.11 PKR *پھر کرپشن بڑھنے لگی اور ملک کو مضبوط ہاتھوں نے اپنے ہاتھوں میں لیا:* In 1998 1 USD = 45.05 PKR In 1999 1 USD = 51.90 PKR In 2000 1 USD = 51.90 PKR In 2001 1 USD = 63.50 PKR In 2002 1 USD = 60.58 PKR In 2003 1 USD = 57.75 PKR In 2004 1 USD = 57.80 PKR In 2005 1 USD = 59.79 PKR In 2006 1 USD = 60.43 PKR In 2007 1 USD = 60.83 PKR *پھر پاکستان کھپنے لگا:* In 2008 1 USD = 81.18 PKR In 2009 1 USD = 84.10 PKR In 2010 1 USD = 85.75 PKR In 2011 1 USD = 88.60PKR In 2012 1 USD = 96.50 PKR *پھر پاکستان کو بچانے والے جدوجھد کرنے کے لیئے آگے آئے:* In 2013 1 USD = 107.29 PKR In 2014 1 USD = 103.13 PKR In 2015 1 USD = 105.20 PKR In 2016 1 USD = 104.60 PKR In 2017 1 USD = 110.01 PKR *اس کے بعد نیا پاکستان بنانے والے آگئے:* In 2018 1 USD = 139.21 PKR In 2019 1 USD = 163.75 PKR In 2020 1 USD = 168.88 PKR In 2021 1 USD = 179.16 PKR *اور پھر 13 پارٹیوں کا اتحاد شروع ہوا:* In 2022 1 USD = 240.00 PKR In 2023 1 USD = 286.00 PKR ln 2024. . . 1 USD = 277.00 PKR اور ہم ہر بار تالیاں بجاتے رہے. صرف ایک ایسا شعبہ جس نے 32 سال میں پاکستان کو موت کے دہانے پر پہنچا دیا۔ وہ ہے IPPs۔ یعنی بجلی پیدا کرنے والے 90 پرائیویٹ ادارے۔ ان معاہدوں کی قاتلانہ شرائط سے آپ پہلے سے واقف ہیں لیکن آپ شاید یہ نہیں جانتے کہ ان کے مالک کون ہے؟ تو دل تھام لیجیے 28 فیصد شریف خاندان 16 فیصد ن لیگی رہنما 16 فیصد زرداری 8 فیصد پیپلز پارٹی رہنما 10 فیصد اسٹبلشمنٹ 8 فیصد چین کے سرمایہ کا 7 فیصد عرب کے سرمایہ کار ( قطری) 7 فیصد پاکستانی سرمایہ دار یعنی 78 فیصد صرف تین گروپس ( شریف ، زرداری، اسٹبلشمنٹ) کی ملکیت ہیں۔ اس سے آگے کا المیہ بھی سن لیجیے۔ یہی وہ 90 لوگ یا گروپ ہیں جس کے پاس پاکستان کی تمام شوگر ملز، سٹیل ملز، سیمنٹ، کھاد، کپڑے، بنک، LPG اور گاڑیاں بنانے کے لائسنس ہیں۔

تحریر پڑھنے کے لیے لنک پر کلک کریں۔۔۔۔ https://whatsapp.com/channel/0029Vb1PxYPEwEjoQpZsBA1F/1938
تحریر پڑھنے کے لیے لنک پر کلک کریں۔۔۔۔ https://whatsapp.com/channel/0029Vb1PxYPEwEjoQpZsBA1F/1938

وہ مہینے میں تیس دن روزے رکھتے اور صبح صادق سے اگلی صبح کاذب تک رکوع و سجود کرتے، وہ برسوں اللہ کے دربار میں کھڑے رہے، اس عرصے میں اللہ انہیں رزق بھی دیتا رہا اور ان کی دعاؤں کو قبولیت بھی- یہاں تک کہ وہ صوفی بابا کے نام سے مشہور ہو گئے اور لوگ ان کے پاؤں کی خاک کا تعویز بنا کر گلے میں ڈالنے لگے لیکن پھر ایک دوسرا واقعہ پیش آیا اور صوفی بابا دوبارہ حاجی صاحب ہو گئے.... یہ سردیوں کی ایک نیم گرم دوپہر تھی، صوفی بابا کی بیٹھک میں درجنوں عقیدت مند بیٹھے تھے- صوفی بابا ان کے ساتھ روحانیت کے رموز پر بات چیت کر رہے تھے- باتوں ہی باتوں میں صوفی بابا نے کتے کا قصہ چھیڑ دیا اور اس قصے کے آخر میں حاضرین کو بتایا.... "رزق ہمیشہ انسان کا پیچھا کرتا ہے لیکن ہم بیوقوف انسانوں نے رزق کا پیچھا شروع کر دیا ہے- اگر انسان کی توکل زندہ ہو تو رزق انسان تک ضرور پہنچتا ہے بلکل اس کتے کی طرح جو زخمی ہوا تو دوسرا کتا اس کے حصے کا رزق لے کر اس کے پاس آ گیا- میں نے اس زخمی کتے سے توکل سیکھی- میں نے دنیاداری ترک کی اور اللہ کی راہ میں نکل آیا- آج اس راہ کا انعام ہے میں آپ کے درمیان بیٹھا ہوں- ان تیس برسوں میں کوئی ایسا دن نہیں گزرا جب اللہ تعالی نے کسی نہ کسی وسیلے سے مجھے رزق نہ دیا ہو یا میں کسی رات بھوکا سویا ہوں- میں ہمیشہ اس زخمی کتے کو تھینک یو کہتا رہتا ہوں جس نے مجھے توکل کا سبق سکھایا تھا صوفی بابا کی محفل میں ایک نوجوان پروفیسر بھی بیٹھا تھا، پروفیسر نے جینز پہن رکھی تھی اور اس کے کان میں ایم پی تھری کا ائر فون لگا تھا- نوجوان پروفیسر نے ائر فون اتارا اور قہقہہ لگا کر بولا "صوفی بابا ان دونوں کتوں میں افضل زخمی کتا نہیں تھا بلکہ وہ کتا تھا جو روز شام کو زخمی کتے کو بوٹی چبا کر کھلاتا تھا اور اپنی گیلی دم سے اس کی پیاس بجھاتا تھا- کاش آپ نے زخمی کتے کے توکل کی بجائے صحت مند کتے کی خدمت، قربانی اور ایثار پر توجہ دی ہوتی تو آج آپ کی فیکٹری پانچ، چھ سو لوگوں کا چولہا جلا رہی ہوتی-" صوفی بابا کو پسینہ آ گیا- نوجوان پروفیسر بولا "صوفی بابا! اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے افضل ہوتا ہے، وہ صحت مند کتا اوپر والا ہاتھ تھا جبکہ زخمی کتا نیچے والا- افسوس آپ نے نیچے والا ہاتھ تو دیکھ لیا لیکن آپ کو اوپر والا ہاتھ نظر نہ آیا- میرا خیال ہے آپ کا یہ سارا تصوف اور سارا توکل خود غرضی پر مبنی ہے کیونکہ ایک سخی بزنس مین دس ہزار نکمے اور بے ہنر درویشوں سے بہتر ہوتا ہے" نوجوان اٹھا' اس نے سلام کیا اور بیٹھک سے نکل گیا.. حاجی صاحب نے دو نفل پڑھے، بیٹھک کو تالا لگایا اور فیکٹری کھول لی، اب وہ عبادت بھی کرتے ہیں اور کاروبار بھی۔ منقول۔۔۔ 🌹🌹🌹🌹🌹

*اوپر والا ہاتھ بنو* حاجی صاحب نے آخری عمر میں فیکٹری لگالی اور چوبیس گھنٹے فیکڑی میں رہنے لگے- وہ سولہ سے اٹھارہ گھنٹے دفتر میں کام کرتے تھے اور جب تھک جاتے تھے تو فیکٹری کے گیسٹ ہاؤس میں سو جاتے تھے- حاجی صاحب کے مزاج کی یہ تبدیلی سب کیلیۓ حیران کن تھی... وہ تیس برس تک دنیاداری کاروبار اور روپے پیسے سے الگ تھلگ رہے تھے انہوں نے یہ عرصہ عبادت اور ریاضت میں گزاراتھا اور اللہ تعالی نے انہیں اس ریاضت کا بڑا خوبصورت صلہ دیا تھا وہ اندرسے روشن ہوگۓ تھے وہ صبح آٹھ بجے اپنی بیٹھک کھولتے تھے اور رات گۓ تک ان کے گرد لوگوں کا مجمع رہتا تھا،لوگ اپنی اپنی حاجت لے کر ان کے پاس آتے تھے- وہ ان کے لیۓ دعا کا ہاتھ بلند کر دیتے تھے اور اللہ تعالی سائل کے مسائل حل فرمادیتا تھا- اللہ تعالی نے ان کی دعاؤں کو قبولیت سے سرفراز کر رکھا تھا لیکن پھر اچانک حاجی صاحب کی زندگی نے پلٹا کھایا.... وہ ایک دن اپنی گدی سے اٹھے، بیٹھک بند کی، اپنے بیٹوں سے سرمایہ لیا اور گارمنٹس کی ایک درمیانے درجے کی فیکٹری لگا لی- انہوں نے اس فیکٹری میں پانچ سو خواتین رکھیں- خود اپنے ہاتھوں سے یورپی خواتین کے لیۓ کپڑوں کے نۓ ڈیزائن بناۓ- یہ ڈیزائن یورپ بھجواۓ- باہر سے آرڈر آۓ اور حاجی صاحب نے مال بنوانا شروع کردیا- یوں ان کی فیکٹری چل نکلی اور حاجی صاحب دونوں ہاتھوں سے ڈالر سمیٹنے لگے- دنیا میں اس وقت گارمنٹس کی کم و بیش دو،تین لاکھ فیکٹریاں ہوں گی اور ان فیکٹریوں کے اتنے ہی مالکان ہوں گے لیکن ان دو تین لاکھ مالکان میں حاجی صاحب جیسا کوئی دوسرا کردار نہیں ہو گا ... پوری دنیا میں لوگ بڑھاپے تک کاروبار کرتے ہیں اور بعدازاں روپے پیسے اور اکاؤنٹس سے تائب ہو کر اللہ اللہ شروع کر دیتے ہیں لیکن حاجی صاحب ان سے بالکل الٹ ہیں- انہوں نے پینتیس سال کی عمر میں کاروبار چھوڑا اللہ سے لو لگائی لیکن جب وہ اللہ کے قریب ہو گۓ توانہوں نے اچانک اپنی آباد خانقاہ چھوڑی اورمکروہات کے گڑھے میں چھلانگ لگا دی- وہ دنیا کے واحد بزنس مین ہیں جو فیکٹری سے درگاہ تک گۓ تھے اور پھر درگاہ سے واپس فیکٹری پر آگۓـ حاجی صاحب کی کہانی ایک کتے سے شروع ہوئی تھی اور کتے پر ہی ختم ہوئی... حاجی صاحب کی گارمنٹس فیکٹری تھی، حاجی صاحب صبح صبح فیکٹری چلے جاتے اور رات بھیگنے تک کام کرتے تھے- ایک دن وہ فیکٹری پہنچے تو انہوں نے دیکھا ایک درمیانے قد کاٹھ کا کتا گھسٹ گھسٹ کر ان کے گودام میں داخل ہو رہا ہے، حاجی صاحب نے غور کیا تو پتہ چلا کتا شدید زخمی ہے، شاید وہ کسی گاڑی کے نیچے آ گیا تھا جس کے باعث اس کی تین ٹانگیں ٹوٹ گئی تھیں اور وہ صرف ایک ٹانگ کے ذریعے اپنے جسم کو گھسیٹ کر ان کے گودام تک پہنچا تھا- حاجی صاحب کو کتے پر بڑا رحم آیا، انہوں نے سوچا وہ کتے کو جانوروں کے کسی ڈاکٹر کے پاس لے جاتے ہیں، اس کا علاج کراتے ہیں اور جب کتا ٹھیک ہو جائے گا تو وہ اسے گلی میں چھوڑ دیں گے- حاجی صاحب نے ڈاکٹر سے رابطے کے لیۓ فون اٹھایا لیکن نمبر ملانے سے قبل ان کے دل میں ایک انوکھا خیال آیا اور حاجی صاحب نے فون واپس رکھ دیا..... حاجی صاحب نے سوچا کتا شدید زخمی ہے، اس کی تین ٹانگیں ٹوٹ چکی ہیں، اس کا جبڑا زخمی ہے اور پیٹ پر بھی چوٹ کا نشان ہے چنانچہ کتا روزی روٹی کا بندوبست نہیں کر سکتا- حاجی صاحب نے سوچا' اب دیکھنا یہ ہے قدرت اس کتے کی خوراک کا بندوبست کیسے کرتی ہے، حاجی صاحب نے مشاہدے کا فیصلہ کیا اور چپ چاپ بیٹھ بیٹھ گئے... وہ کتا سارا دن گودام میں بیہوش پڑا رہا، شام کو جب اندھیرا پھیلنے لگا تو حاجی صاحب نے دیکھا ان کی فیکٹری کے گیٹ کے نیچے سے ایک دوسرا کتا اندر داخل ہوا، کتے کے منہ میں ایک لمبی سی بوٹی تھی- کتا چھپتا چھپاتا گودام تک پہنچا، زخمی کتے کے قریب آیا، اس نے پاؤں سے زخمی کتے کو جگایا اور بوٹی اس کے منہ میں دے دی- زخمی کتے کا جبڑا حرکت نہیں کر پا رہا تھا چنانچہ اس نے بوٹی واپس اگل دی- صحت مند کتے نے بوٹی اٹھا کر اپنے منہ میں ڈالی، بوٹی چبائی، جب وہ اچھی طرح نرم ہو گئی تو اس نے بوٹی کا لقمہ سا بنا کر زخمی کتے کے منہ میں دے دیا- زخمی کتا بوٹی نگل گیا.... اسکے بعد وہ کتا گودام سے باہر آیا، اس نے پانی کے حوض میں اپنی دم گیلی کی، واپس گیا اور دم زخمی کتے کے منہ میں دے دی- زخمی کتے نے صحت مند کتے کی دم چوس لی- صحت مند کتا اس کروائی کے بعد اطمینان سی واپس چلا گیا- حاجی صاحب مسکرا پڑے- اس کے بعد یہ کھیل روزانہ ہونے لگا- روز کتا آتا اور زخمی کتے کو بوٹی کھلاتا، پانی پلاتا اور چلا جاتا،حاجی صاحب کئی دنوں تک یہ کھیل دیکھتے رہے... ایک دن حاجی صاحب نے اپنے آپ سے پوچھا "وہ قدرت جو اس زخمی کتے کو رزق فراہم کر رہی ہے کیا وہ مجھے دو وقت کی روٹی نہیں دے گی؟" سوال بہت دلچسپ تھا، حاجی صاحب رات تک اس سوال کا جواب تلاش کرتے رہے یہاں تک کہ وہ توکل کی حقیقت بھانپ گئے، انہوں نے فیکٹری اپنے بھائی کے حوالے کی اور تارک الدنیا ہو گئے...

چند دن پہلے ایک عزیز یہ واقعہ سنا رہے تھے کہ ہمارے محلے میں ایک نیا مکان مکمل ہوا مالک مکان نے گھر میں دوست احباب کی دعوت کی۔ بہت لوگ اکھٹے کیے۔ لیکن محلے داروں میں کسی کو بھی نہیں بلایا۔ مجھے یہ باتیں سن کر بہت افسوس ہوا۔ مجھے ایک واقعہ یاد آگیا۔ میرے ایک عزیز نے ریٹاٸرمنٹ کے بعد نیا گھر بنایا۔ میں انکو مبارکباد دینے گیا۔ جب میں وہاں پہنچا تو دیکھا انکے گھر کے باغیچہ میں ایک ساٸبان لگا ہوا ہے۔ جس کے نیچے کرسیاں اور ٹیبل لگے ہوۓ ہیں۔ جس پر تقریباً پچیس افراد بیٹھے ہوۓ ہیں۔ جب کہ ایک طرف چھوٹے بڑے بچوں کے تین ٹیل لگے ہوۓ تھے۔ میں عزیز سے ملا۔ سلام و دعا کے بعد انہوں نے مجھے بھی اپنے ٹیبل کی ایک کرسی پر بٹھایا۔ پھر انہوں نے کھڑے ہوکر ایک مختصر سا خطاب کیا۔ جس میں انہوں نے کہا ” میں اپنے تمام محلے داروں کو اپنے گھر میں خوش آمدید کہتاہوں۔ آپ کو شاید یہ جان کر خوشی ہو یا عجب لگے کہ گھر بننے کے بعد سب سے پہلے میں نے آپکو اپنے گھر مدعو کیا ہے۔ ابھی رشتہ داروں کو اطلاع نہیں دی انہیں مدعو نہیں کیا، دراصل میں سمجھتا ہوں میری اس خوشی میں سب سے پہلے حصہ دار آپ ہیں۔ آپ سے مجھے یہ خوشی بانٹی چاہیے کیونکہ آپ لوگ ہی ہیں جنہوں نے غاٸبانہ تعاون سے میں یہ تعمیر مکمل کر پایا ہوں۔ اور پھر ساری زندگی تو میں نے آپ کیساتھ گزارنی ہے۔ جبکہ رشتہ دار تو گھڑی دو گھڑی کیلیے ٹھہرتے ہیں۔ اس تعمیر کے دوران آپ کا ہی احسان ہے کہ آپ نے تکلیف برداشت کی۔ آپ نے مجھے اپنے گھر کے سامنے اینٹ روڑا پتھر، ریت بجری پھینکنے دی۔ آپ نے مجھے گلی بند ہونے پر برا بھلا نہیں کہا۔ بلکہ آپ تکلیف برداشت کرتے رہے متبادل راستہ اختیار کرتے رہے۔ چھت ڈالنے والے دنوں میں چودھری صاحب اور خان صاحب کو گاڑی گلی سے باہر کھڑی کرنی پڑی، میں ہر دوست محلے دار بھاٸی کا شکریہ ادا کرتاہوں۔ میں تمام اپنے محلے کے بچوں کا شکر گزار ہوں جنہوں نے ریت بجری وغیرہ ضاٸع نہیں کی۔ کسی چیز کو توڑا نہیں ہے۔ پانی کا پاٸپ ٹوٹنے سے آپکے گراٶنڈ پانی جمع ہوگیا تھا آپکا ٹورنمنٹ خراب ہوگیا۔ لیکن آپ نے ہمیں کچھ نہیں کہا۔ اس طرح انہوں نے فرداً فرداً تمام احباب کا شکریہ ادا کیا۔ یہ منظر دیکھ کر میں بڑا حیران ہوا۔ اسی دوران چکن قورمہ، نان، بیف پلاٶ اور کھیر میزوں پر لگادی گٸی۔ تمام محلے دار بہت خوش ہوۓ۔ ڈھیر دعاٸیں دیتے ہوۓ رخصت ہوۓ۔ ہر گھر انکے لیے اپنی حیثیت مطابق تحفہ بھی لے کر آیا تھا۔ محلے میں جہاں ایک طرف لاکھوں پتی لوگ رہتے تھے وہیں دیہاڑی دار اور خوانچہ فروش بھی رہتے تھے۔ میرے عزیز نے سب کو برابر عزت و تکریم دی تھی۔ میری حیرانگی میں اضافہ یہ جان کر ہوا کہ میرے عزیز نے مکان شروع کرنے سے پہلے بھی تمام محلے داروں کو چاۓ پر اکٹھا کیا تھا۔ انہیں مکان کی تعمیر متعلق بتایا تھا۔ باقاعدہ ان سے اجازت مانگی تھی۔ ان سے شادی وغیرہ کے بارے پوچھا تاکہ محلے میں بارات وغیرہ کے آنے جانے میں رکاوٹ پیدا نہ ہو۔ اسی طرح ممکنہ تعمیر کے دوران ہونے والی تکلیف بارے پیشگی معزرت کی تھی۔ میں یہ سب جان کر ایک عجیب سی کیفیت میں مبتلا ہوگیا۔ آج کے اس مارا ماری اور نفسانفسی کے دور میں، جہاں خود پسندی اور خود غرضی عام ہے، وہاں ایسے اچھے انسانوں کو دیکھ کر دل کو سکون ملا جو دوسروں، خصوصاً اپنے محلے داروں کا اتنا زیادہ خیال رکھتے ہیں۔ یہی وہ اعلیٰ صفات ہیں جو عین آقاکریم ﷺ کی تعلیمات کا حصہ ہین۔ ایسا روح پرور منظر دیکھ کر میرا ایمان تازہ ہوگیا۔ میری زندگی کا وہ دن ہمیشہ یادگار رہے گا۔ اس عمل سے مجھے گہری نصیحت ملی اور میں نے پختہ ارادہ کیا ہے کہ ان شاء اللہ اپنی زندگی میں بھی ایسی صفات جس میں رواداری، حسن سلوک، احترام، بردباری، ایثار، عفو و درگزر اور خدمت گزاری جیسے اوصاف شامل ہیں، اختیار کرنے کی بھرپور کوشش کروں گا۔ بالخصوص محلے داروں کیساتھ ہرممکن اچھا سلوک برتنے کی کوشش کرونگا۔ 🌹🌹🌹🌹🌹

*بادشاہ بننے کا نسخہ* ایک فقیر نے ایک بزرگ کے سامنے دست سوال دراز کیا اور ساتھ ہی دعا دی اللہ تعالیٰ تمہیں بادشاہ بنائے‘ بزرگ نے اس سے پوچھا ’’ کیا تم بادشاہ بننا چاہتے ہو‘‘ فقیر نے حیران ہو کر جواب دیا ’’ جناب میں نسلوں کا فقیر‘ میں کیسے بادشاہ بن سکتا ہوں‘‘ بزرگ نے کہا ’’ چلو ہم ایک تجربہ کرتے ہیں‘ میں تمہیں بادشاہ بنانے میں کامیاب ہو گیا تو تم مجھے حج کرواؤ گئے اور میں اگر ناکام ہو گیا تو میں پوری زندگی تمہاری کفالت کروں گا‘‘ فقیر مان گیا‘ بزرگ نے اس سے کہا ’’ تمہاری جیب میں کتنے پیسے ہیں‘‘ فقیر نے پیسے گنے‘ وہ تیس روپے تھے‘ بزرگ نے اسے مٹھائی کی دکان پر بھیجا‘ تیس روپے کی جلیبیاں منگوائیں‘ سامنے بے روزگار مزدور بیٹھے تھے‘ بزرگ نے اسے حکم دیا ’’ تم یہ جلیبیاں ان مزدوروں میں تقسیم کر دو‘‘ فقیر گیا اور جلیبیاں مزدوروں میں بانٹ آیا‘ بزرگ نے اسے ساتھ بٹھا کر کھانا کھلایا اور حکم دیا ’’ تم گھر چلے جاؤ‘ تیس دن انتظار کرو اور دیکھو اللہ تعالیٰ کی طرف سے کیا پیغام آتا ہے‘‘فقیر چلا گیا‘ وہ تیسرے دن دوڑتا ہوا بزرگ کے پاس آیا‘ وہ خوشی سے چھلانگیں لگا رہا تھا‘ بزرگ نے وجہ پوچھی‘فقیر نے بتایا ’’ مجھے پچھلے مہینے ایک کلرک نے بھیک میں پرائز بانڈ دیا تھا‘ میں نے وہ بانڈ سنبھال لیا‘ آج وہ بانڈ نکل آیا‘ میں بیٹھے بٹھائے تین لاکھ روپے کا مالک بن گیا‘‘ بزرگ مسکرائے اور اس سے کہا ’’یہ بانڈ تمہارا نہیں‘ اس کا مالک وہ ہے جس نے تمہیں یہ بانڈ دیا تھا‘ تم بانڈ کے مالک کو تلاش کرو‘ یہ رقم اسے واپس کر دو اورانتظار کرو اللہ تعالیٰ کی طرف سے کیا پیغام آتا ہے‘‘ فقیر کو یہ آئیڈیا بہت برا لگا لیکن اس کے باوجود اس نے کلرک کو تلاش کیا اور بانڈ لے کر اس کے پاس پہنچ گیا‘ کلرک فقیر کی ایمانداری پر حیران رہ گیا‘ وہ فقیر کے ساتھ دفتر سے نکلا‘ ڈی سی آفس گیا‘ وہاں کنسٹرکشن کمپنی رجسٹر کرائی‘ فقیر کو پچاس فیصد کا حصہ دار بنایا اور سرکاری ٹھیکے لینا شروع کر دیئے‘ وہ دونوں مل کر کام کرتے تھے‘ کلرک ٹھیکہ لیتا تھا اور فقیر کام کرواتا تھا‘ یہ کمپنی مزدوروں کو تین وقت کا کھانا دیتی تھی‘ کمپنی چل پڑی‘ کلرک اور فقیر دونوں امیر ہو گئے‘ یہ دونوں بزرگ کو ہر سال حج پر بھجواتے تھے اور شام کے وقت فقیروں کو روک کر انہیں بادشاہ بننے کا نسخہ بتاتے تھے‘ یہ کمپنی آج بھی قائم ہے‘ اس میں اب کلرک اور فقیر کے بچے کام کرتے ہیں‘یہ کمپنی تیس روپے کے صدقے سے شروع ہوئی‘ یہ اب تک درجنوں لوگوں کو بادشاہوں جیسی زندگی دے چکی ہے‘ میں ذاتی طورپر ایسے بیسیوں لوگوں سے واقف ہوں جو جاہل بھی ہیں‘ نالائق بھی اور غیر محتاط بھی لیکن ان پر اللہ تعالیٰ کا کرم برستا رہتا ہے‘ میں نے جب بھی تحقیق کی‘ مجھے اس کرم کے پیچھے ہمیشہ صدقہ اور خیرات ملی‘ یہ دل کے سخی اور ہاتھ کے کھلے ہیں‘ میں نے ایک اور چیز بھی مشاہدہ کی‘ انسان اگر صدقہ کرے اور ساتھ ہی عاجزی اختیار کر لے تو دولت بھی ملتی ہے اور عزت بھی کیونکہ جس طرح خوش حالی کا تعلق صدقے سے ہے بالکل اسی طرح عزت عاجزی سے وابستہ ہے‘ آپ جتنا جھکتے جاتے ہیں آپ کی عزت میں اتنا ہی اضافہ ہوتا جاتا ہے‘ آپ اس معاملے میں اولیاء کرام کی مثال لے لیجئے‘ اولیاء کرام میں عاجزی ہوتی ہے چنانچہ ان کے مزارات ہزار ہزار سال تک آباد رہتے ہیں‘ یہ کھلے دل اور فراخ ہاتھ بھی ہوتے ہیں چنانچہ ان کے درباروں پر ان کے انتقال کے بعد بھی لنگر چلتے ہیں اور بادشاہ مال و متاع لے کر ان کی درگاہ پر حاضر ہوتے رہتے ہیں۔ منقول۔۔۔۔ 🔷🔷🔷🔷🔷🔷

*تار سروس سے موبائل فون تک* 1990میں جب پاکستان میں پیجر سروس کا آغاز ہوا تو ٹیلی گرام کی چھٹی ہوگئی۔ ٹیلی گرام کو تار سروس بھی کہا جاتا تھا۔۔ڈاکیا تار لاتا تو دل دھڑک جاتے۔۔کیونکہ یہ ارجنٹ پیغام رسانی کیلئے استعمال ہوتا تھا۔۔ تار بھیجنے کا طریقہ یہ تھا کہ پوسٹ آفس جاکر آپ نے مختصر پیغام لکھوانا ہوتاتھا۔جسے بجلی کے سگنل کے زریعے دوسرے شہر ٹرانسفر کردیا جاتا تھا۔ یہ ٹرانسفر ڈاٹ اور ڈیش کوڈ میں ہوتا۔ جسے ڈی کوڈ کرلیا جاتا اور ڈاکیا تار لیکر روانہ ہوجاتا۔خطوط کی ڈاک کے دور میں تار سروس ایک جدید سہولت مانی جاتی تھی۔۔ "تار" کی ایجاد کا سہرا امریکی سائنسدان سیموئل مورس اور ان کے ساتھی الفریڈ ویل کو جاتا ہے۔انہوں نے 1837 میں برقی ٹیلیگراف بنایا اور مورس کوڈ ایجاد کیا، جس کے ذریعے پیغامات ڈاٹ اور ڈیش میں بھیجے جاتے تھے۔ پہلا کامیاب عوامی ٹیلیگرام 1844 میں واشنگٹن سے بالٹی مور بھیجا گیا۔ 1855میں برصغیر میں پہلی بار ٹیلیگراف لائن ڈالی گئی۔ کلکتہ سے آگرا پہلا تار بھیجا گیا۔۔ ٹیلیگرام سروس چلانے کے لیے شہروں کے درمیان کاپر کے تار بچھائے جاتے تھے، جو ٹیلیگراف پولز یعنی لکڑی یا لوہے کے کھمبے پر نصب ہوتے تھے۔ پاکستان بننے کے بعد پاکستان پوسٹ اینڈ ٹیلیگراف نے یہ سروس سنبھالی۔۔۔ ٹیلیگرام سروس نےسوا صدی تک لوگوں کو ارجنٹ پیغام رسانی کی سہولت فراہم کی۔ساٹھ اور ستر کی دہائی میں لینڈ لائن فون عام ہونےلگا۔ جس نےدنیا میں ٹیلی گرام کی افادیت کو چیلنج کیا۔لیکن دنیا کی ایک بڑی آبادی ابھی ٹیلی گرام پر ہی انحصار کرتی تھی۔ 1980میں ڈیجیٹل دور کی شروعات ہوئیں۔۔لینڈلائن فون بھی دیہات اورچھوٹے شہروں تک پہنچا۔۔فیکس مشین کا کمرشل استعمال شروع ہوا۔۔یہ وہ دور تھا جب ٹیلی گرام سروس کو ماضی کا حصہ قرار دیا جانےلگا۔۔ اسّی اور نوے کی دہائی میں وائرلیس مواصلاتی نظام سے دنیا میں انقلاب نظر آنےلگا۔۔اور ایس ایم سروس ، جو پیجر سروس کے نام سے مشہور ہوئی،اس نے ٹیلیگرام کو باقاعدہ رخصت ہونے کا اشارہ دےدیا۔۔۔ پیجر سروس یوں تو ایس ایم ایس ٹیکنالوجی تھی، لیکن آج کل کے دور کے لحاظ سے اس کا طریقہ بھی فرسودہ ہی تھا۔۔ یعنی پہلے کال سینٹر فون کرنا۔۔پھر ان کو میسیج لکھوانا۔۔اور پیجر نمبر بتانا جس پر میسیج بھیجنا مقصود ہوتا تھا۔۔ یوں ان صاحبِ پیجر کو آپ کا میسیج بیپ کے ساتھ موصول ہوجاتا تھا۔۔ پاکستان میں سن دو ہزار میں ٹیلی گرام سروس باقاعدہ ختم کردی گئی۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے۔۔ کہ اس وقت پیجر سروس اور اس کے کال سینٹرز بھی ختم ہوچکے تھے۔۔ کیوں کہ سیلولر ٹیکنالوجی کی بدولت موبائل فونز میں ایس ایم سروس فراہم ہوچکی تھی۔۔اور بات اس سے بھی کہیں دور جاتی نظر آرہی تھی۔۔۔۔۔ بات نکلی تو دور تلک جانی تھی۔۔آج کا موبائل فون وہ نہیں رہا، جو آپ کو صرف کال اور ایس ایم ایس کی سہولت فراہم کرتا تھا۔۔۔۔ مزید کچھ بتانے کی شاید ضرورت نہیں۔۔آج موبائل فون ہر فرد کے ہاتھ میں ہے۔۔بات واقعی بہت دور جاچکی ہے۔ 🔷🔷🔷🔷🔷

تحریر پڑھنے کے لیے لنک پر کلک کریں۔۔۔ https://whatsapp.com/channel/0029Vb1PxYPEwEjoQpZsBA1F/1923
تحریر پڑھنے کے لیے لنک پر کلک کریں۔۔۔ https://whatsapp.com/channel/0029Vb1PxYPEwEjoQpZsBA1F/1923

تحریر پڑھنے کے لیے لنک پر کلک کریں۔۔۔ https://whatsapp.com/channel/0029Vb1PxYPEwEjoQpZsBA1F/1922
تحریر پڑھنے کے لیے لنک پر کلک کریں۔۔۔ https://whatsapp.com/channel/0029Vb1PxYPEwEjoQpZsBA1F/1922

طول عمر کے لئے ایک خاص دعا
طول عمر کے لئے ایک خاص دعا

شہ رگ کو کاٹ رہا ہے! اور یوں نبی پاک نے بطور شہادت وفات پائی😪 🌹 پوسٹ دوسروں کی معلومات کے لئے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

بَعْدَهُمْ» شعبی بیان کرتے ہیں: اللہ کی قسم! نبی پاک کو زہر دیا گیا ہے اور ابوبکر کو زہر دیا گیا ہے اور عمر کو قتل کیا گیا کہ وہ صبر کی حالت میں تھا اور عثمان کو بھی صبر کی حالت میں قتل کیا گیا اور علی بن ابی طالب کو بھی صبر کی حالت میں قتل کیا گیا اور امام حسن بن علی کو زہر دیا گیا اور حسین بن علی کو صبر کی حالت میں قتل کیا گیا (رضی اللہ عنھم)اس کے بعد ہم (دنیا سے) کیا امید رکھیں؟! 3ـ علماء اہل سنت کی تصریح: علماء اہل سنت نے واضح طور پہ لکھا ہے کہ نبی پاک کی شہادت ہوئی ہے۔ الفـ علی بن عبد الکافی السبکی شفاء السقام في زيارة خير الأنام صلى الله عليه وآله وسلم جلد 2 صفحه 14 الثالث: أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم شهيد، فإنه صلى الله عليه وآله وسلم لما سم بخيبر، وأكل من الشاة المسمومة، وكان ذلك سما قاتلا من ساعته، مات منه بشر بن البراء رضي الله عنه، وبقي النبي صلى الله عليه وآله وسلم وذلك معجزة في حقه، صار ألم السم يتعاهده إلى أن مات به صلى الله عليه وآله وسلم [وقال] في مرضه الذي مات فيه: (ما زالت أكلة خيبر تعاودني حتى كان الآن أوان قطعت أبهري). قال العلماء: فجمع الله له بذلك بين النبوة والشهادة. وتكون الحياة الثابتة للشهداء لا تختص بمن قتل في المعركة، فإنا إنما اشترطنا ذلك في الأحكام الدنيوية، كالغسل، والصلاة، أما الآخرة فلا، وهذا لا شك فيه بالنسبة إلى النبي صلى الله عليه وآله وسلم. علامہ سبکی لکھتے ہیں: بے شک نبی پاک ص شہید ہیں کیونکہ نبی پاک کو خیبر کے موقع پہ ذہر دیا گیا تھا اور زہر آلود بکری کا گوشت کھایا یہ وہ زہر تھا جو ایک لحظہ میں مار دیتا ہے جس سے بشر بن براء رضی اللہ عنہ کی موت ہوئی اور نبی پاک بچ گئے کہ یہ در حقیقت نبی پاک کے حق میں ایک معجزہ ہے، موت کے وقت تک یہ زہر کا درد نبی پاک کو ہوتا رہتا تھا کہ نبی پاک نے اپنے مرض الموت میں فرمایا: (خیبر کے موقع پر جو میں نے لقمہ کھایا تھا اس کا درد مجھے ہوتا رہا ہے یہاں تک کہ ابھی میری شہ رگ کٹ رہی ہے)۔ علماء نے کہا ہے: نبی پاک کے لیے اللہ تعالی نے نبوت اور شھادت دونوں کو جمع کردیا۔ شہداء کی جو زندگی اور حیاتی ہے وہ ایسے شہیدوں کے ساتھ مخصوص نہیں ہے جو جنگ کے میدان میں شہید ہوتے ہیں البتہ اتنا ہے کہ ہمارے ہاں میدان شہید ہونے والوں کے دنیاوی احکام الگ ہیں جیساکہ غسل اور نماز لیکن آخرت میں الگ نہیں ہیں اور اس بات میں کوئی شک نہیں کہ نبی پاک بھی شہید ہیں (چہ جائیکہ ان کے لیے جنگی شہید والے احکام نہیں ہیں)۔ ب ـ ابن بطال: شرح صحيح البخارى لابن بطال (جلد 5/صفحه 347) كتاب الجزية 7 - باب: إِذَا غَدَرَ المشْرِكُون بِالْمُسْلِمِينَ هَلْ يُعْفَى عَنْهُم؟ قال لعائشة: (ما زالت أكلة خيبر تعادنى فهذا أوان قطع أبهري) لكنه عفا عنهم حين لم يعلم أنه يقضى عليه؛ لأن الله تعالى دفع عنه ضر السم بعد أن أطلعه على المكيدة فيه بآية معجزة أظهرها له من كلام الذراع، ثم عصمه الله من ضره مدة حياته، حتى إذا دنا أجله بغى عليه السم، فوجد ألمه وأراد الله له الشهادة بتلك الأكلة؛ فلذلك لم يعاقبهم ابن بطال لکھتے ہیں: نبی پاک نے ام المومنین عائشہ کو بتایا: (خیبر کے موقع پر جو میں نے لقمہ کھایا تھا اس کا درد مجھے ہوتا رہا ہے یہاں تک کہ ابھی میری شہ رگ کٹ رہی ہے) لیکن نبی پاک نے انہیں (یہودیوں کو) معاف کردیا اور معلوم نہ ہونے تک ان کے خلاف کوئی فیصلہ نہیں کیا کیونکہ اللہ تعالی نے زہر کے نقصان کو دور کردیا پھر نبی پاک کو اللہ تعلای نے معجزانہ طور پر اس کید و فریب سے آگاہ فرمایا کہ بکری کی بھونی ہوئی ٹانگ سے آواز ائی کہ وہ زہر الود ہے پھر اللہ تعالی نے زہر کے نقصان سے تا حیات نبی پاک کو بچایا یہاں تک کہ موت کا وقت آن پہنچا تو زہر نے شدت اختیار کرلی اور اس کا درد محسوس کرنے لگے اور اللہ تعالی نے نبی پاک کے لیے اسی کھانے کے بدلے شہادت نصیب فرمائی جس کی وجہ سے ان یہودیوں کو سزا اور عقاب نہیں کیا۔ ج_ عبدالعزیز بن باز فتح الباري، المؤلف : أبو الفضل أحمد بن علي بن محمد بن أحمد بن حجر العسقلاني (المتوفى : 852هـ)، المحقق : عبد العزيز بن عبد الله بن باز ومحب الدين الخطيب جلد 8 صفحہ 131 وروى ابن سعد عن شيخه الواقدي بأسانيد متعددة في قصة الشاة التي سمت له بخيبر، فقال في آخر ذلك: "وعاش بعد ذلك ثلاث سنين حتى كان وجعه الذي قبض فيه. وجعل يقول: ما زلت أحد ألم الأكلة التي أكلتها بخيبر عدادا حتى كان هذا أوان انقطاع أبهري" عرق في الظهر وتوفي شهيدا انتهى بن باز فتح الباری کے تحقیقی نسخہ میں لکھتے ہیں: محمد بن سعد نے اپنے استاد واقدی سے زہر آلود بکری کے قصہ میں کئی اسناد سے نقل کیا ہے اور اس کے آخر میں کہا ہے: نبی پاک اس کے بعد تین سال زندہ رہے یہاں تک کہ زہر کا درد ہوا جس سے ان کی روح قبض ہوئی اور فرماتے رہے: میں نے خیبر کے موقع پہ جو زہر آلود لقمہ کھایا تھا اس کا درد کئی بار ہوا مگر اس بار جو درد ہورہا ہے وہ

نبی پاک کی شہادت ہوئی یا وفات؟ تحقیق: ابومہدی فرمان علی معصومی اہل سنت حضرات کا نظریہ ہے کہ نبی پاک کی شہادت نہیں ہوئی بلکہ وفات ہوئی تھی جبکہ اہل تشیع اس نظریہ پر ہیں کہ نبی پاک کی وفات نہیں بلکہ شہادت ہوئی تھی۔ ہم آ پ کے سامنے چند شواہد پیش کرتے ہیں کہ نبی پاک کی وفات نہیں بلکہ شہادت ہوئی تھی۔ 1ـ نبی پاک کو زہر دے کر شہید کیا گیا: الف:خیبر کے موقع پر زینب بنت الحارث کے ہاتھوں زہر دیا گیا: اہل سنت کے معتبر عالم بدر الدین عینی نے اپنی کتاب عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری میں لکھتے ہیں: عمده القاري شرح صحيح البخاري كتاب الطب 55 - (بابُ مَا يُذْكَرُ فِي سَمِّ النبيِّ صلى الله عَلَيْهِ وَسلم) وأوضح ذَلِك مَا تقدم فِي الْهِبَة من حَدِيث أنس أَن يَهُودِيَّة أَتَت النَّبِي صلى الله عَلَيْهِ وَسلم، بِشَاة مَسْمُومَة فَأكل مِنْهَا الحَدِيث، فَعلم من ذَلِك أَن الَّتِي أَهْدَت هِيَ امْرَأَة يَهُودِيَّة وَلَكِن لَيْسَ فِيهِ بَيَان اسْمهَا، وَقد تقدم فِي الْمَغَازِي أَنَّهَا زَيْنَب بنت الْحَارِث امْرَأَة سَلام بن مشْكم، فَعلم مِنْهُ أَن اسْمهَا زَيْنَب. سب سے واضح بات وہ ہے جو انس بن مالک کی حدیث میں گذر چکا کہ ایک یہودی عورت نبی پاک کے پاس بکری کا زہر آلود لے آئی اور نبی پاک نے اس سے کچھ کھالیا تو یہاں سے پتہ چلتا ہے کہ جس عورت نے ھدیہ دیا تھا وہ ایک یہودی عورت تھی لیکن اس میں اس کا نام نہیں بتایا گیا ہے جبکہ کتاب المغازی میں گذر چکا کہ وہ سلام بن مشکم کی بیوی زینب بنت حارث تھی، یہاں سے پتہ چلتا ہے کہ اس کا نام زینب ہے۔ ب ـ نبی پاک نے خود زہر کا ذکر فرمایا: نبی پاک نے مرض الموت کے وقت واضح طور پہ فرمایا کہ میری تکلیف اسی زہر کی وجہ سے بڑھ رہی ہے جو خیبر کے موقع پر دیا گیا! ام المومنین عائشہ فرماتی ہیں: صحيح البخاري (جلد6/صفحه 9) 64 - كِتَابُ المَغَازِي بَابُ مَرَضِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَوَفَاتِهِ 4428 - وَقَالَ يُونُسُ عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ عُرْوَةُ: قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ: «يَا عَائِشَةُ مَا أَزَالُ أَجِدُ أَلَمَ الطَّعَامِ الَّذِي أَكَلْتُ بِخَيْبَرَ، فَهَذَا أَوَانُ وَجَدْتُ انْقِطَاعَ أَبْهَرِي مِنْ ذَلِكَ السُّمِّ» نبی پاک اپنے مرض الموت میں فرماتے رہے : اے عائشہ! جو کھانا میں نے خیبر کے موقع پر کھایا تھا اس کا درد مجھے ہوتا رہا ہے پھر یہ وہ وقت آن پہنچا ہے کہ اسی زہر کی وجہ سے میری شہ رگ کٹ رہی ہے۔ یعنی مرض الموت کے وقت موت کا سبب یہی زہر تھا جو خیبر کے وقت زینب بن الحارث نے دیا تھا۔ 2ـ بزرگان اہل سنت کی اس بات پر تاکید کہ نبی پاک کی وفات نہیں بلکہ شہادت ہوئی ہے: الف: عبداللہ بن مسعود: المستدرك على الصحيحين للحاكم (جلد3/صفحه 60) 4394 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: «لِأَنْ أَحْلِفُ تِسْعًا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُتِلَ قَتْلًا أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَحْلِفَ وَاحِدَةً إِنَّهُ لَمْ يُقْتَلْ، وَذَلِكَ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ اتَّخَذَهُ نَبِيًّا وَاتَّخَذَهُ شَهِيدًا» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4394 - على شرط البخاري ومسلم عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں: میں نو مرتبہ قسم کھاؤں گا کہ نبی پاک کو شہید کیا گیا ہے لیکن ایک بار بھی یہ قسم نہیں کھاؤں گا کہ نبی پاک کو شہید نہیں کیا گیا ہے اور یہی سبب ہے کہ اللہ پاک نے محمد مصطفی ص کو نبی بھی منتخب کیا اور شہید بھی منتخب کیا۔ یہ حدیث بخاری اور مسلم دونوں کی شرطوں کے مطابق صحیح ہے ۔ علامہ ذہبی حاشیہ میں لکھتے ہیں یہ روایت بخاری اور مسلم دونوں کی شرطوں کے مطابق صحیح ہے۔ بـ عامر الشعبی: المستدرك على الصحيحين للحاكم (جلد3/صفحه 61) 4395 - فَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ غَيْرَ مَرَّةٍ، ثنا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ الْفَضْلِ الْبَلْخِيُّ، ثنا مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا دَاوُدُ بْنُ يَزِيدَ الْأَوْدِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ يَقُولُ: «وَاللَّهِ لَقَدْ سُمَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَسُمَّ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ، وَقُتِلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ صَبْرًا، وَقُتِلَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ صَبْرًا، وَقُتِلَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ صَبْرًا، وَسُمَّ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، وَقُتِلَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ صَبْرًا، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ فَمَا نَرْجُو

نماز ہر برائی اور بدکاری سے روکنے والی ہے اور اللہ کا ذکر بہت بڑی شے ہے۔
نماز ہر برائی اور بدکاری سے روکنے والی ہے اور اللہ کا ذکر بہت بڑی شے ہے۔

🌹 ظاہر اور باطن 🌹 ایک شوہر اپنی بیوی کے ساتھ چڑیا گھر گیا۔ بیوی نے دیکھا کہ بندر اپنی بیوی کے ساتھ کھیل رہا ہے اور کہا: "کیا شاندار محبت کی داستان ہے، ہر طرف خوشی ہی خوشی!" جب وہ شیروں کے پنجرے کے پاس گئے، تو بیوی نے دیکھا کہ شیر اپنی بیوی سے دور، خاموشی سے بیٹھا ہے اور کہا: "یہ کتنی افسردہ محبت کی کہانی ہے، سب کچھ دکھ بھرا ہے!" شوہر نے کہا: "یہ خالی بوتل اٹھا کر شیرنی کی طرف پھینکو اور دیکھو کیا ہوتا ہے۔" جب بیوی نے بوتل پھینکی، تو شیر غصے میں دھاڑتے ہوئے اپنی بیوی کی حفاظت کے لیے اٹھا اور اس کے دفاع کے لیے آگے بڑھا! پھر شوہر نے کہا: "اب یہ بوتل بندر کی بیوی کی طرف پھینکو۔" جب بیوی نے ایسا کیا، تو بندر اپنی بیوی کو چھوڑ کر بھاگ گیا تاکہ بوتل اس کو نہ لگے! شوہر نے کہا: "ظاہر پر مت جاؤ، لوگوں کے سامنے جو نظر آتا ہے وہ ہمیشہ سچ نہیں ہوتا۔ کچھ لوگ اپنی جعلی محبت سے دوسروں کو دھوکہ دیتے ہیں، جب کہ کچھ اپنی محبت کو دل کے اندر چھپا کر رکھتے ہیں۔ یاد رکھو: - جو تنہا رہتا ہے، وہ خواہشات سے خالی نہیں ہوتا! - جو عورت پردہ کرتی ہے، وہ فیشن سے بے خبر نہیں ہوتی! - جو سخی ہے، وہ مال سے نفرت نہیں کرتا! بلکہ یہ لوگ اپنی خواہشات پر قابو پا کر مضبوط ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کے بارے میں فرماتے ہیں: "اور جو اپنے رب کے مقام سے ڈرتا رہا اور نفس کو خواہشات سے روکتا رہا، تو یقیناً جنت ہی اس کا ٹھکانہ ہے۔" (سورۃ النازعات: 40-41) آپ کا لوگوں کے ساتھ حسنِ سلوک یہ نہیں بتاتا کہ آپ کو ان کی ضرورت ہے، بلکہ یہ آپ کے دین اور تربیت کی عکاسی کرتا ہے۔ اس لیے: - اپنی اخلاقیات میں مالدار بنو، - اپنی قناعت میں امیر بنو، - اور اپنے تواضع میں بڑے بنو۔ اور ان لوگوں کی پرواہ نہ کرو جو پیٹھ پیچھے بات کرتے ہیں، کیونکہ وہ واقعی تمہارے پیچھے ہیں۔ 🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

اونٹنی کے دودھ کا دہی کیوں نہیں جمتا؟ دودھ کو ہمیشہ سے ایک مکمل غذا قرار دیا گیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ گائے اور بھینس کے دودھ کو دہی کی شکل میں استعمال کرنے کا رواج عام ہے۔ لیکن جب اونٹنی کے دودھ کو دہی بنانے کی کوشش کی جاتی ہے تو یہ عمل کامیاب نہیں ہوتا۔ لوگ اکثر حیران ہوتے ہیں کہ آخر اونٹنی کے دودھ کا دہی کیوں نہیں جمتا، حالانکہ یہ بھی ایک دودھ ہی ہے۔ اس سوال کا جواب ہمیں اس دودھ کی ساخت اور اس میں موجود اجزاء کے فرق میں ملتا ہے۔ اونٹنی کے دودھ میں موجود پروٹین گائے یا بھینس کے دودھ سے مختلف نوعیت رکھتے ہیں۔ دہی جمنے میں سب سے اہم کردار "کیسین" پروٹین کا ہوتا ہے، لیکن اونٹنی کے دودھ میں یہ نہ صرف کم مقدار میں پایا جاتا ہے بلکہ اس کی ساخت بھی ایسی ہے کہ یہ دہی کی طرح گاڑھا ہونے کے بجائے زیادہ پتلا اور ڈھیلا سا رہتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس دودھ کی چکنائی کے ذرات نہایت باریک اور نازک ہوتے ہیں، جبکہ دہی بننے کے لیے ضروری ہے کہ چکنائی اور پروٹین آپس میں جڑ کر گاڑھا پن پیدا کریں۔ چونکہ یہ عمل اونٹنی کے دودھ میں مکمل نہیں ہو پاتا، اس لیے دہی کی وہ شکل سامنے نہیں آتی جو ہم دیگر دودھ میں دیکھتے ہیں۔ مزید یہ کہ اونٹنی کے دودھ میں قدرتی طور پر ایسے اجزاء پائے جاتے ہیں جو بیکٹیریا کے خلاف مزاحمت رکھتے ہیں۔ ان میں لیکٹوفرین اور لیزوزائم جیسے جراثیم کش مادے شامل ہیں جو دودھ کو خراب ہونے سے تو بچاتے ہیں لیکن انہی کی وجہ سے وہ بیکٹیریا بھی نشوونما نہیں پاتے جو دہی جمانے کے عمل میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ یوں دہی جمنے کے امکانات اور بھی کم ہو جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ اونٹنی کے دودھ میں کیلشیم، فاسفورس اور نمکیات کا تناسب گائے کے دودھ سے مختلف ہے۔ یہ کیمیائی فرق بھی دہی بننے کے عمل کو متاثر کرتا ہے اور دودھ کو مطلوبہ ٹھوس شکل اختیار کرنے نہیں دیتا۔ ان تمام عوامل کی بنا پر اونٹنی کے دودھ کا دہی عام طور پر نہیں جم پاتا۔ اگرچہ سائنسی تحقیق کے ذریعے خصوصی بیکٹیریا کلچر اور انزائمز استعمال کر کے اسے دہی میں تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی ہے، لیکن اس طرح حاصل ہونے والا دہی نہ تو گاڑھا ہوتا ہے اور نہ ہی ذائقے میں عام دہی سے مشابہت رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اونٹنی کے دودھ کو دہی بنانے کے بجائے زیادہ تر بطور دوا، توانائی بخش مشروب اور غذائیت سے بھرپور غذا کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ یوں یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ اونٹنی کا دودھ اپنی ساخت اور خصوصیات کے اعتبار سے دیگر دودھوں سے بالکل مختلف ہے۔ دہی جمنے میں اس کی ناکامی کوئی کمی نہیں بلکہ اس کی ایک انوکھی خوبی ہے جو اسے دوسروں سے منفرد بناتی ہے۔ اس دودھ کو دہی میں ڈھالنے کی کوشش کرنا شاید اس کی اصل افادیت کو کم کرنا ہے، کیونکہ قدرت نے اسے جس مقصد کے لیے بنایا ہے، وہ زیادہ قیمتی اور منفرد ہے۔ 🔷🔷🔷🔷🔷

ایمبریولوجسٹ : مسلمان عورت زمین کی سب سے صاف ستھری عورت ہے۔ جس عورت کو اس کے شوہر نے طلاق دی ہے اسے (کم از کم) 3 ماہانہ حیض کا انتظار کرنا ہوگا اور جس عورت کا شوہر فوت ہوگیا ہے اسے دوبارہ شادی کرنے سے پہلے (کم از کم) 4 ماہ اور 10 دن انتظار کرنا ہوگا۔ اگر وہ حاملہ ہو جائے تو اس کی عدت بچے کی پیدائش تک رہتی ہے۔ اس نے (امپرنٹ مین واٹر) کی دریافت کے بعد جدید سائنس کو حیران کر دیا ہے۔ ایک آدمی کے مائع نقوش میں 62 پروٹین ہوتے ہیں، اور یہ ایک آدمی سے دوسرے انسان میں مختلف ہوتا ہے، بالکل ہماری انگلیوں کے نشانات کی طرح۔ یہ ہر مرد کے لیے ایک ذاتی کوڈ کی طرح ہے اور عورت کا جسم کمپیوٹر لے جاتا ہے جہاں کوڈ ڈالا جا سکتا ہے۔ اگر کوئی عورت طلاق کے فوراً بعد کسی دوسرے مرد سے شادی کر لیتی ہے، یا دوسرے کوڈز اسے داخل کرنے کی اجازت دیتی ہے، تو یہ کمپیوٹر میں وائرس کے داخل ہونے کی طرح ہے۔ یہ عدم توازن کا سبب بنے گا، اور یہ خطرناک متعدی بیماریاں لائے گا۔ یہ سائنسی طور پر ثابت ہو چکا ہے کہ طلاق کے بعد پہلی ماہواری کے دوران عورت 32% سے 35% تک نکال دیتی ہے۔ دوسری مدت 67% سے 72%، اور تیسری مدت 99.9% آدمی کی امپرنٹ. 3 ماہواری کے بعد رحم کو پچھلے نشان سے صاف کیا جاتا ہے، اور یہ بغیر کسی چوٹ یا نقصان کے نئے نقوش حاصل کرنے کے لیے تیار ہو جائے گا۔ اس لیے جسم فروشی کا رواج، یا ایک سے زیادہ مردوں کے ساتھ سونا رحم میں نطفہ کے سیال کے اختلاط کے نتیجے میں خطرناک بیماریوں کا سبب بنتا ہے۔ بیوہ کی عدت کو اس کوڈ کو ہٹانے کے لیے مزید وقت درکار ہے۔ کیونکہ غم بہت مضبوط طریقے سے رحم کے اندر نقش کو جما دیتا ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا (چار مہینے دس دن)۔ یہ مدت بیوہ کے رحم میں آدمی کے پانی کے نشان کے مکمل طور پر ختم ہونے کے لیے ہے۔ اس حقیقت نے ایک ایمبریولوجسٹ کو امریکہ میں افریقی مسلمانوں کے پڑوس میں تحقیقات کرنے پر مجبور کیا۔ اسے پتہ چلا کہ تمام عورتیں اپنے شوہروں کا نشان ہی رکھتی ہیں۔ غیر مسلم خواتین کے ایک اور محلے میں کی گئی تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ ان میں دو سے تین تک مردوں کے متعدد نقوش ہیں۔ اس سے انہوں نے دریافت کیا کہ اسلام ہی واحد مذہب ہے جو خواتین کے استثنیٰ اور معاشرے کے انعقاد کی ضمانت دیتا ہے۔ اس لیے مسلمان عورتیں دنیا کی سب سے پاکیزہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان تمام مسلم خواتین کو جزائے خیر عطا فرمائے جو اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے ہوئے ہیں۔ آمین 🔷🔷🔷🔷🔷