fa
Feedback
|-|ard Talk جلی کٹی

|-|ard Talk جلی کٹی

رفتن به کانال در Telegram

Cartoonist, Journalist, Researcher Journalism Is Not A Crime ہمارا فیسبک پیج بھی ضرور لائک کریں https://www.facebook.com/profile.php?id=61564417160250&mibextid=ZbWKwL

نمایش بیشتر
1 748
مشترکین
اطلاعاتی وجود ندارد24 ساعت
+207 روز
+4330 روز
آرشیو پست ها
خلیفہ صاحب سراج الدین حقانی حفظہ اللہ
خلیفہ صاحب سراج الدین حقانی حفظہ اللہ

مظالم پر خاموشی شیخ عبد العزیز الطریفی فک اللہ اسرہ @iquotesurdu
مظالم پر خاموشی شیخ عبد العزیز الطریفی فک اللہ اسرہ @iquotesurdu

Repost from Politics Plus
بھکر اسلامی جمہوریہ پاکستان کی قابل ترین پنجاب پولیس گھڑی چوری کے الزام پر خاتون کو برہنہ کرکے الٹا کر کے تشدد کرتے ریے۔ اس پولیس اور فوج کی کہی گئی باتوں پر کچھ لوگ آنکھیں بند کرکے بغیر تحقیق کیے ایمان لاتے ہیں ‎#WomenRightsInPakistan https://whatsapp.com/channel/0029Vaz6Q56GZNChAjuFNy2U

Repost from Politics Plus
‏This is called media deception ... ہم پاکستانی تو وہ قوم ہیں جو ٹی وی پر دکھایا جانے والا فریب جھوٹ تو قبول کریں گے ہی جو سچ
‏This is called media deception ... ہم پاکستانی تو وہ قوم ہیں جو ٹی وی پر دکھایا جانے والا فریب جھوٹ تو قبول کریں گے ہی جو سچ نظر آتا ہے اسے بھی اپنے ذہن سے سمجھنے کی بجائے انکی تشریح قبول کریں گے جنکی تاریخ ہی جھوٹ پر مبنی ہے ‎#bannuattack ‎#MediaDeception https://whatsapp.com/channel/0029Vaz6Q56GZNChAjuFNy2U

طالبان انٹیلیجنس ایجنسی (ٹی آئی اے) کی طرف سے پیش خدمت ہے ولایت جنوبی پنجاب اور ولایت ڈی آئی خان سے گرفتار آئی ایس آئی اہلکار اور جواسیس کے اقراری بیان آن لائن دیکھنے کیلئے لنک: https://ok.ru/video/8846628293155 https://rumble.com/v6q57ug-00370-isi-fauj-south-punjab-d.-i-khan-jasoos.html آرکائیو لنک: https://archive.org/details/00370-isi-fauj-south-punjab-d.-i-khan-jasoos اوریجنل فائل ( 1 جی بی) https://www.mediafire.com/file/o3k12xwxs9rzpgy/00370-ISI_Fauj_South_Punjab_D.I_Khan_Jasoos_Original_File.mp4/file ایچ ڈی ڈاؤنلوڈ لنک: (127 ایم بی) https://archive.org/download/00370-isi-fauj-south-punjab-d.-i-khan-jasoos/00370-ISI_Fauj_South_Punjab_D.I_Khan_Jasoos_HD.mp4 https://www.mediafire.com/file/et5439ptze3zhbu/00370-ISI_Fauj_South_Punjab_D.I_Khan_Jasoos_HD.mp4/file کمزور کوالٹی ڈاؤنلوڈ لنک: (42 ایم بی) https://archive.org/download/00370-isi-fauj-south-punjab-d.-i-khan-jasoos/00370-ISI_Fauj_South_Punjab_D.I_Khan_Jasoos_LQ.mp4 https://www.mediafire.com/file/pflqk5pfa2t13hj/00370-ISI_Fauj_South_Punjab_D.I_Khan_Jasoos_LQ.mp4/file

photo content

تحریک طالبان پاکستان کا ہفتہ وار اخبار "منزل" شمارہ نمبر (61) منگل، 4 مارچ 2025 بمطابق 4 رمضان المبارک 1446ھ

manzil 61-2 copy.jpg10.47 MB

Manzil 61-1.jpg11.33 MB

photo content

روحانیت و مذاہب کے سکھائے ہوئے اعلیٰ اخلاق کسی ایسے ملک میں قائم ہی نہیں رہ سکتے جہاں جمہوریت کاسیلاب موجیں مار رہا ہو‘ جمہور
روحانیت و مذاہب کے سکھائے ہوئے اعلیٰ اخلاق کسی ایسے ملک میں قائم ہی نہیں رہ سکتے جہاں جمہوریت کاسیلاب موجیں مار رہا ہو‘ جمہوریت کا نظام سلطنت انسان کو ایسی آزاد روش پر ڈالنا اور اس قدر خلیع الرسن بنانا چاہتا ہے کہ انسان اللہ شناسی اور اللہ پرستی کے خیالات کو تادیر قائم نہیں رکھ سکتا تاریخ اسلام جلد اول مؤلف: نجیب اکبر آبادی

Repost from اذانِ سحر
ہم شہادتوں سے نہیں ڈرتے۔ ہمیں علم ہے کہ آپ لوگوں کی نیت خراب ہے۔ اگر حامد الحق حقانی یا ان کے بچوں کا قتل یا شہادت ہوئی تو ہ
ہم شہادتوں سے نہیں ڈرتے۔ ہمیں علم ہے کہ آپ لوگوں کی نیت خراب ہے۔ اگر حامد الحق حقانی یا ان کے بچوں کا قتل یا شہادت ہوئی تو ہم اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے راستے میں فخر، عزت اور جنتوں کے مالک ہوں گے۔ لیکن ہمارے بچے، اہالیانِ پاکستان اس فوج اور انٹیلی جنس اداروں کو ہرگز معاف نہیں کریں گے۔ جس طرح ہم نے مولانا سمیع الحق شہید کا خون معاف نہیں کیا اور آج تک ہم تمہارے تعاقب میں ہیں۔ پاکستانی قوم ملک بھر میں تمہارے اداروں کو نیست و نابود کردے گی۔ شہیدِ منبر و محراب مولانا حامد الحق حقانی رحمۃ اللہ علیہ #سانحہ_اکوڑہ_خٹک #مولانا_حامد_الحق_حقانی_شہید #اذان_سحر #AzaaneSahar

حاصل جمہوریت کا انسان کی ترقی ارواح کا تنزل ابدان کی ترقی ہم چاہ تو سکتے تھے لیکن نہ ہم نے چاہی ہم اخرت کے راہی ۔۔۔۔

‏ہم پر روئیں ہماری مائیں ، اگر ہم رسول اللہ ﷺّ کی نصرت نہ کریں شیـــخ اســـامــــــہ بـــن لادن رحـــمہ اللـــہ
‏ہم پر روئیں ہماری مائیں ، اگر ہم رسول اللہ ﷺّ کی نصرت نہ کریں شیـــخ اســـامــــــہ بـــن لادن رحـــمہ اللـــہ

یہ بات ماننے والی نہیں کہ اسلام کفر کے رجسٹرڈ اور طواغیت عالم کے منظور نظر راستوں سے کبھی غالب ہوا ہے اور خود ہی ظالم کے کھین
یہ بات ماننے والی نہیں کہ اسلام کفر کے رجسٹرڈ اور طواغیت عالم کے منظور نظر راستوں سے کبھی غالب ہوا ہے اور خود ہی ظالم کے کھینچے گئے خطوط پر چل کر ظلم سے کبھی نجات ملی ہے

قسط نمبر :- (18) تیسری جنگِ عظیم اور دجال :-        عراق پر قبضے کی پیشن گوئی: عـن عبـدالله بـن عـمـرو قـال يوشك بنو قنطورا أن يخرجوكم من أرض الـعـراق قـلـت ثم نعود قال أنت تشتهى ذاك قلت أجل قال نعم ويكون لهم سلوة من عيش. ( الفتن نعیم بن حماد: ج ۲ ص ۲۷۹) ترجمہ: حضرت عبد اللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ وقت قریب ہے جب بنو قنطوراء (اہلِ مغرب) تمہیں عراق سے نکال دیں۔ (راوی کہتے ہیں) میں نے پوچھا (کیا عراق سے نکلنے کے بعد) پھر ہم دوبارہ (عراق) واپس آسکیں گے؟ حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا آپ ایسا چاہتے ہیں؟ میں نے کہا ضرور (میں ایسا چاہتا ہوں) انھوں نے فرمایا ہاں (وہ واپس عراق لوٹ کر آئیں گے)۔ اور انکے لئے (عراق میں) خوشحالی اور آسودگی کی زندگی ہوگی۔    *شام اور یمن کے بارے میں دیگر روایات:* عـن عبـد السـلام بـن مسـلـمـة سمع أبا قبيل يقول إن صاحب المغرب وبنى مروان وقضاعة تجتمع على الزيات السود في بطن الشام. ( الفتن نعیم بن حماد: ج۱ ص ۲۶۷) ترجمہ: حضرت عبد السلام ابن مسلمہ سے روایت ہے انھوں نے ابوقبیل کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ مغرب والا، بنی مردان اور قضاعہ اندرونِ شام میں کالے جھنڈوں کے نیچے جمع ہونگے۔ عن كعب قال إن الله تعالى يمد أهل الشام إذا قاتلهم الروم في الملاحم بقطعتين دفعة سبعين ألفاً ودفعة ثمانين ألفاً من أهل اليمن حمائل سيوفهم الـمسـد يـقولون نحن عباد الله حقا حقا نقاتل أعداء الله رفع الله عنهم الطاعون والأوجاع والأوصاب حتى لا يكون بلد أبرأ من الشام ويكون ما كان في الشام من تلك الأوجاع والطاعون في غيرها. ❶ ( الفتن نعیم بن حماد: ج ۲ ص ۴۶۹) ترجمہ: حضرت کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انھوں نے فرمایا جب رومی جنگِ عظیم (ملاحم) میں اہلِ شام سے جنگ کریں گے تو اللہ تعالی دو لشکروں کے ذریعے ان (اہلِ شام) کی مدد فرمائے گا، ایک مرتبہ ستر ہزار سے اور دوسری مرتبہ اسی ہزار اہلِ یمن کے ذریعے، جو اپنی بند تلواریں (یعنی بالکل پیک اسلحہ اس سے مراد نیا اسلحہ ہے) لٹکائے ہوۓ آئیں گے۔ وہ کہتے ہونگے کہ ہم پکے سچے اللہ کے بندے ہیں۔ ہم اللہ کے دشمنوں سے قتال کرتے ہیں اللہ تعالی ان لوگوں سے طاعون اور ہر قسم کی تکلیف (بیماری وغیرہ) اور تھکاوٹ کو اٹھالیں گے۔ حتیٰ کہ شام سے زیادہ کوئی ملک (ان بیماریوں) سے محفوظ نہیں ہوگا، اور شام میں جو تکالیف اور طاعون ہوگا وہ شام کے علاوہ (ملکوں) میں بھی ہوگا۔ (یعنی طاعون اور دیگر بیماریاں تمام جگہوں پر ہوگی لیکن شام میں سب سے کم ہوگی، اور مجاہدین کو تو اللہ بالکل ہی ان تمام آفتوں سے محفوظ فرمائے گا)۔ اسی روایت میں ہے حضرت کعب رضی اللہ عنہ نے فرمایا مغرب میں بھیڑ کی مدتِ حمل کے برابر ایک بادشاہ ہوگا جو اہلِ شام کے مقابلے کے لئے جہاز تیار کرے گا، چنانچہ جب بھی وہ جہاز تیار کریگا تو اللہ تعالی (ان کو تباہ کرنے کے لئے) تیز ہوا کو بھیج دیگا یہاں تک کہ اللہ ان (جہازوں) کو نکلنے کی اجازت دیدے گا تو وہ "عکا اور نہر" کے درمیان لنگر انداز ہونگے پھر ہر لشکر دوسرے کی مدد کریگا۔ (راوی کہتے ہیں کہ) میں نے حضرت کعب رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ وہ نہر کون سی ہے؟ (جہاں اہلِ مغرب آکر لنگر انداز ہونگے) انھوں نے فرمایا دریاۓ ارنط (یعنی) نہر حمص۔ اور مہراقہ ’’اقرع اور مصیصہ کے درمیان کا علاقہ ہے"۔ ( الفتن نعیم بن حماد: ج ۲ ص  ۴۶۹) ---------------------------------------------- ❶ اس میں بقیہ ابن ولید راوی مدلس ہیں اور یہاں عن سے روایت کی ہے چنانچہ روایت ضعیف ہے۔        <===== *جاری ہے* =====> ''ماخوذ از: تیسری جنگِ عظیم اور دجال" "تصنیف: حضرت مولانا عاصم عمر رحمہ اللہ"

حضرت ابوعثمان النہدی کہتے ہیں کہ میں جریر ابن عبداللہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ "قطر بل" میں تھا تو انھوں نے پوچھا اس بستی کا کیا نام ہے؟ میں نے کہا "قطر بل" ۔ ابوعثمان کہتے ہیں پھر جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے "دجیل" کی جانب اشارہ کیا (پوچھا اسکا کیا نام ہے) ابو عثمان کہتے ہیں میں نے کہا "دجیل" ۔ کہتے ہیں پھر انھوں نے "دجلہ" کی جانب اشارہ کیا۔ میں نے کہا وہ "دجلہ" ہے۔ وہ کہتے ہیں پھر انھوں نے "الصراۃ" کی طرف اشارہ کیا میں نے کہا اس کو "الصراۃ" کہتے ہیں۔ وہ (جریر ابن عبداللہ رضی اللہ عنہ) فرماتے ہیں میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ "دجلہ اور دجیل اور قطر بل اور الصراۃ" کے درمیان ایک شہر بنایا جائے گا، جس میں دنیا کی دولت، خزانے اور دنیا کے جابر لوگ جمع کئے جائیں گے۔ اہلِ شہر دھنس جائیں گے۔ تو یہ شہر لوہے کی کیل سے بھی زیادہ تیزی کے ساتھ زمین میں دھنس جانے والا ہے۔ ( تاریخ بغداد: ج ۱ ص ۳۰) فائدہ: دجیل بغداد اور تکریت کے درمیان سمارا شہر کے قریب ہے۔ عـن اسحاق بن أبي يحي الكعبي عن الأوزاعي قال إذا دخل أصحاب الرايات الصفر مصر فليحفر أهل الشام أسراباً تحت الأرض. ❹ ( السنن الواردة في الفتن) ترجمہ: حضرت اسحٰق ابن ابی یحیٰ الکعبی حضرت اوزاعی سے روایت کرتے ہیں، انھوں نے فرمایا کہ جب پیلے جھنڈوں والے مصر میں داخل ہوجائیں تو اہلِ شام کو زمین دوز سرنگیں کھود لینی چاہئیں۔ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انھوں نے مصر والوں سے فرمایا جب تمہارے پاس مغرب سے عبداللہ ابن عبدالرحمن آۓ گا تو تم اور وہ قنطرہ سے قتال کرو گے، جسکے نتیجے میں تمہارے درمیان ستر ہزار مقتول ہونگے اور وہ تمہیں سرزمینِ مصر اور شام کی ایک ایک بستی سے ضرور نکال دینگے، اور عربی عورت دمشق کے راستے پر پچیس درہم میں بیچی جاۓ گی، پھر وہ حمص میں داخل ہونگے وہاں وہ اٹھارہ مہینے ٹھہرینگے، اور وہاں مال و دولت تقسیم کریں گے، نیز وہاں مردوں اور عورتوں کو قتل کرینگے۔ پھر انکے خلاف ایک شری شخص نکلے گا، تو وہ ان سے جنگ کریگا اور ان کو شکست دیدیگا، یہاں تک کہ ان کو مصر میں داخل کر دیگا۔ ( الفتن نعیم بن حماد: ج ۱ ص ۲۶۷) عن سعيد بن سنان عن الأشياخ قال تكون بحمص صيحة فليلبث أحدكم في بيته فلا يخرج ثلاث ساعات ، فيه شيوخ سعيد وهم مجهولون. ❺  ( الفتن نعیم بن حماد: ج ۱ ص ۴۱۴) ترجمہ: سعید بن سنان نے شیوخ سے روایت کی ہے فرمایا (شام کے شہر حمص میں ایک چیخ ہوگی، سو(اس وقت) ہر ایک اپنے گھر میں رکا رہے، تین گھنٹے تک نہ نکلے۔ فائدہ: ان تمام روایات میں واضح طور پر یہ کہا گیا ہے کہ مسلمان دشمن کو دیکھ کر خوابِ غفلت میں نہ پڑے رہیں، اور ایک مسلم ملک کو پٹتا ہوا دیکھ کر دوسرے مسلمان یہ نہ کہیں کہ ہماری باری نہیں آئیگی، بلکہ پہلے سے ہی دشمن کے مقابلے کے لئے تیاری شروع کر دیں۔ عن كعب قال إذا رأيت الرايات الصفر نزلت الاسكندرية ثم نزلوا سُرة الشام فعند ذلك يخسف بقرية من قرى دمشق يقال لها حرستا. ( الفتن نعیم بن حماد: ج ۱ ص ۲۷۲) ترجمہ: حضرت کعب سے روایت ہے انھوں نے فرمایا جب تم دیکھو کہ پیلے جھنڈے اسکندریہ میں آچکے ہیں اور پھر وہ وسط شام میں اتر آئیں تو اس وقت دمشق کی بستیوں میں سے ایک بستی، جس کا نام حرستا ہے، دھنس جاۓ گی۔ فائدہ: حرستا دمشق سے قریب حمص کے راستے میں ہے۔ ---------------------------------------------- ❶ ابوداؤد کی روایت کو علامہ البانی رحمہ اللہ نے حسن کہا ہے۔ ❷ فيه عبد المنعم بن ادریس تركه غير واحد و ادريس بن سنان ابو عبد المنعم ترکه دار قطنی وضعفه ابن عدی. ❸  مقطع واه (تعليق الذهبي في التلخيص) ❹ ضعیف ہے۔ ❺  اس میں سعید کے شیوخ مجہول ہیں-        <===== *جاری ہے* =====> ''ماخوذ از: تیسری جنگِ عظیم اور دجال" "تصنیف: حضرت مولانا عاصم عمر رحمہ اللہ"

قسط نمبر :- (17) تیسری جنگِ عظیم اور دجال :-      مختلف علاقوں کی خرابی کا بیان: عن معاذ بن جبل قال قال رسول الله و عـمـران بيت المقدس خراب يثرب وخراب يثرب خروج الملحمة وخروج الملحمة فتح القسطنطنية وفتـح الـقـسـطـنـطنية خروج الدجال قال ثم ضرب بيده على فخذ الذي حدثه أو منكبه ثم قال إن هذالحق كما انك قاعد ها هنا أو كما أنت قاعد. ❶ ( ابوداؤد: ج ۴ ص ۱۱۰، مسند احمد: ج ۵ ص ۲۴۵، مصنف ابن ابی شیبہ) ترجمہ: حضرت معاذ ابن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بیت المقدس کا آباد ہونا مدینہ کی خرابی کا باعث ہوگا، اور مدینہ کی خرابی جنگ عظیم کا باعث بنے گی اور جنگ عظیم فتحِ قسطنطنیہ کا سبب ہوگی۔ اور فتح قسطنطنیہ دجال کے نکلنے کا سبب بنے گی۔ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ پھر نبی ﷺ نے حدیث بیان کرنے والے (یعنی حضرت معاذ رضی اللہ عنہ) کی ران یا کندھے پر ہاتھ مار کر فرمایا کہ یہ سب اسی طرح حقیقت ہے جس طرح تم یہاں ہو، یا بیٹھے ہو، یا (یہ فرمایا) جیسے تم بیٹھے ہو۔ فائدہ: شہروں کی خرابی کے حوالے سے جو احادیث آئی ہیں ان میں لفظ ”خراب" استعمال ہوا ہے، جو ہر قسم کا نقصان، مکمل ہو یا جزوی سب کے لئے استعمال ہوتا ہے اسلئے ہم نے اس کا ترجمہ خراب سے ہی کیا ہے، کیونکہ حدیث میں بیان کردہ ہر ملک کا نقصان ایک دوسرے سے مختلف ہے۔ بیت المقدس کی آبادی سے مراد یہودیوں کا وہاں قوت پکڑنا ہے۔ بیت المقدس پر اسرائیلی قبضہ کے بعد یہودیوں کی ناپاک نظریں مدینہ منورہ پر لگی ہوئی ہیں۔ جنگ خلیج کے وقت امریکی فوجوں کا جزیرۃ العرب میں آنا درحقیقت اسی منصوبہ کا حصہ ہے جسکی نشاندہی آپ ﷺ نے فرمائی ہے۔ یہی وجہ تھی کہ اہلِ ایمان، یہودیوں کی اس سازش کو سمجھ گئے اور اللہ والوں نے امریکہ کے خلاف جہاد کا اعلان کر دیا، اس طرح اس وقت سے شروع ہونے والی کفر واسلام کی جنگ اب تیزی کے ساتھ فیصلہ کن مرحلہ کی جانب بڑھ رہی ہے۔ عـن وهـب بـن مـنـه قـال الجزيرة امنة من الحراب حتى يخرب مصر ولا تكون الملحمة الكبرى حتى تخرب الكوفة فإذا كانت الملحمة الكبرى فتحت القسطنطنية على يد رجل من بني هاشم وخراب الاندلس وخراب الجزيرة من سنابك الخيل واختلاف الجيوش فيها وخراب العراق من قبل الجوع والسيف وخراب ارمينية مـن قبـل الـرجـف والـصـواعـق وخـراب الكوفة من قبل العدو وخراب البصرة من قبل الغرق وخراب أبلة من قبل العدو وخراب الري من قبل الديلم وخراب خراسان من قبل يبت وخراب تبت من قبل السند وخراب السند مـن قبـل الـهـنـد وخراب اليمن من قبل الجراد والسلطان وخراب مكة من قبل الحبشة وخراب المدينة من قبل الجوع. ❷ ( السنن الواردة في الفتن: ج ۴ ص ۸۸۵) ترجمہ: حضرت وہب ابن منبہ فرماتے ہیں کہ جزیرۃ العرب اس وقت تک خراب نہ ہوگا جب تک مصر خراب نہ ہو جائے، اور جنگِ عظیم اس وقت تک نہ ہوگی جب تک کوفہ خراب نہ ہو جائے، اور جب جنگِ عظیم ہوگی تو قسطنطنیہ بنی ہاشم کے ایک شخص کے ہاتھوں فتح ہوگا۔ اور اندلس اور جزیرۃ العرب کی خرابی گھوڑوں کی ٹاپوں اور لشکروں کے اختلاف کی وجہ سے ہوگی اور عراق کی خرابی بھوک اور تلوار کی وجہ سے ہوگی، اور آرمینیا کی خرابی زلزلے اور کڑک سے ہوگی، اور کوفہ کی خرابی دشمن کی وجہ سے ہوگی اور بصرہ کی خرابی ڈوبنے کی وجہ سے ہوگی، اور ابلہ کی خرابی دشمن کی وجہ سے ہوگی، اور ری کی خرابی دیلم کی وجہ سے ہوگی، اور خراسان کی خرابی تبت کی وجہ سے ہوگی اور تبت کی خرابی سندھ کی وجہ سے ہوگی، اور سندھ کی خرابی ہند کی وجہ سے ہوگی، اور یمن کی خرابی ٹڈیوں اور بادشاہ کی وجہ سے ہوگی، اور مکہ کی خرابی حبشہ کی وجہ سے ہوگی، اور مدینہ کی خرابی بھوک کی وجہ سے ہوگی۔ حضرت کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جزیرۃ العرب خرابی سے محفوظ رہے گا جب تک کہ آرمینیا خراب نہ ہو جاۓ۔ اور مصر خرابی سے محفوظ رہے گا جب تک جزیرۃ العرب نہ خراب ہو جاۓ۔ اور کوفہ خرابی سے محفوظ رہے گا جب تک کہ مصر خراب نہ ہو جاۓ، اور جنگِ عظیم اس وقت تک نہیں چھٹرے گی جب تک کوفہ خراب نہ ہو جاۓ۔ اور دجال اس وقت تک نہیں آۓ گا جب تک کفر کا شہر فتح نہ ہو جاۓ۔ ❸ ( مستدرک: ج ۴ ص ۵۰۹) حضرت مثجور بن غیلان رحمہ اللہ حضرت عبد اللہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت فرماتے ہیں کہ میں اور میرے والد عبداللہ کے ساتھ مسجد سے باہر آۓ تو عبداللہ نے فرمایا خطوں میں زیادہ جلد خراب ہونے والے خطے، بصرہ اور مصر ہیں۔ میں نے پوچھا کہ ان کو کیا چیز خراب کرسکتی ہے حالانکہ وہاں تو بڑے معزز اور مالدار لوگ موجود ہیں تو انھوں نے جواب دیا خونریزی قتلِ عام اور انتہائی بھوک۔ (یہ بات میں ایسے کہ رہا ہوں) گویا میں بصرہ میں ہوں اور بصرہ گویا بیٹھا ہوا شتر مرغ ہو۔ رہا مصر تو دریاۓ نیل خشک ہو جائیگا اور یہی مصر کی خرابی کا سبب ہوگا۔ ( السنن الواردة في الفتن: ج ۴ ص ۹۰۷)

قسط نمبر :- (16) تیسری جنگِ عظیم اور دجال :-           مدینہ منورہ کا محاصرہ: حضرت عبد اللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں عنقریب مدینہ میں مسلمانوں کا محاصرہ کیا جائیگا یہاں تک کہ آخری مورچہ سلاح میں ہوگا۔ اور سلاح ایک مقام ہے خیبر کے قریب۔ ( مشکوۃ، باب الملاحم رواوہ ابوداوُد صحیح بن حبان: ۶۷۷۱) ❶ فائدہ: خیبر مدینہ منورہ سے ساٹھ میل دور ہے۔ اس وقت امریکی فوجیں مدینہ سے چند کلو میٹر کے فاصلہ پر موجود ہیں۔ حضرت محجن ابن ادرع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، رسول اللہ ﷺ نے (ایک دن) لوگوں سے خطاب کیا چنانچہ تین مرتبہ (یہ) فرمايا " يـوم الـخـلاص وما يوم الخلاص يوم الخلاص وما يوم الخلاص" کسی نے پوچھا یہ یوم الخلاص کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: دجال آئے گا اور احد کے پہاڑ پر چڑھے گا پھر اپنے دوستوں سے کہے گا کیا اس قصرِ ابیض (سفید محل) کو دیکھ رہے ہو؟ یہ احمد کی مسجد ہے۔ پھر مدینہ منورہ کی جانب آئے گا تو اس کے ہر راستے پر ہاتھ میں ننگی تلوار لئے ایک فرشتے کو مقرر پاۓ گا چنانچہ " سبخة الجرف" کی جانب آۓ گا اور اپنے خیمے پر ضرب لگاۓ گا پھر مدینہ منورہ کو تین جھٹکے لگیں گے جسکے نتیجے میں ہر منافق مرد وعورت اور فاسق مرد وعورت مدینہ سے نکل کر اسکے ساتھ چلے جائیں گے اس طرح مدینہ (گناہ گاروں سے) پاک ہو جاۓ گا اور یہی یوم الخلاص (چھٹکارے یا نجات کا دن) ہے۔ یہ حدیث مسلم کی شرط پر صحیح ہے۔ امام ذہبی نے اس کی توثیق کی ہے اور علامہ ناصر الدین البانی نے بھی اس کو صحیح کہا ہے۔ ( مستدرک علی الصحيحين: ج ۴ ص ۵۸۲) فائدہ: دجال جب مسجد نبوی کو دیکھے گا تو اس کو قصر ابیض یعنی سفید محل کہے گا۔ جس وقت نبی کریم ﷺ  یہ بات بیان فرما رہے ہیں اس وقت مسجد نبوی بالکل سادہ مٹی اور گارے کی بنی ہوئی تھی۔ اور اب مسجد نبوی کو اگر دور سے یا کسی اونچی جگہ سے دیکھا جائے تو یہ دیگر عمارتوں کے درمیان بالکل کسی محل کے مانند لگتی ہے۔ مسجد نبوی کی ایک تصویر سیٹیلائٹ سے لی گئی ہے جس میں مسجد نبوی بالکل سفید نظر آرہی ہے۔ نیز ایک دوسری روایت جس میں دجال کے وقت میں مدینہ منورہ کے سات دروازوں کا ذکر ہے تو سات دروازوں سے مراد شہر میں داخلے کے سات راستے بھی ہوسکتے ہیں۔ اور اس وقت مدینہ منورہ میں داخل ہونے کے سات بڑے راستے ہیں۔ 1۔ جدہ سے آنے والا۔  2۔ مکہ مکرمہ سے آنے والا۔  3۔ ربیغ سے آنے والا۔  4۔ ائر پورٹ سے شہر میں آنے والا۔  5۔ تبوک سے آنے والا اور باقی دو راستے ہیں جو مضافاتی ( Outskirts) علاقوں سے آتے ہیں، اہل ایمان کے لئے انتہائی غور وفکر کا مقام ہے۔ ( اعوذ بالله من فتنة الدجال)          اہلِ یمن اور اہلِ شام کے لئے دعا: عن عبد الله بن عمر قال قال رسول اللہ ﷺ اللهم بارك لنا في شامنا اللهم بارك لنا في يمننا قالوا وفي تجدنا قال اللهم بارك لنا في شامنا اللهم بارك لـنـا فـي يمننا قالوا يا رسول الله وفي نجدنا. فاظنة قال في الثالثة هناك الزلازل والفتن وبها يطلع قرن الشيطان. ( بخاری شریف: ۶۶۸۱، مسنداحد: ۵۹۸۷) ترجمہ: حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول ﷺ نے فرمایا: کہ اے اللہ ہمارے شام میں برکت عطا فرما، اے اللہ ہمارے یمن میں برکت عطا فرما، لوگوں نے کہا یا رسول اللہ ہمارے نجد میں بھی، آپ ﷺ نے فرمایا: اے اللہ ہمارے شام میں برکت عطا فرما اور ہمارے یمن میں بھی، لوگوں نے پھر کہا ہمارے نجد میں بھی، راوی کا کہنا ہے کہ میرا خیال ہے کہ تیسری بار رسول ﷺ نے فرمایا: کہ وہاں زلزے آئیں گے اور فتنے ہونگے۔ اور وہاں شیطان کا سینگ ظاہر ہوگا۔ فائدہ: شام اور یمن کی برکت تو آج بھی صاف نظر آرہی ہے کہ اللہ نے اس آخری معرکہ میں فلسطین، شام اور یمن کے مجاہدین کو جو حصہ عطا کیا ہے وہ آپ کی دعا ہی کا اثر ہے۔ اس وقت دنیاۓ کفر کو ہلانے والے شام اور یمن کے جانباز ہی زیادہ ہیں۔ اور خود شیخ اسامہ بن لادن (حفظہ اللہ) کا تعلق بھی یمن ہی سے ہے۔ نجد کا علاقہ، ریاض اور اسکے اردگرد کا علاقہ ہے۔ ---------------------------------------------- ❶ ابوداؤد کی روایت کو علامہ البانی نے صحیح کہا ہے اور ابن حبان کی روایت بھی امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے۔        <===== *جاری ہے* =====> ''ماخوذ از: تیسری جنگِ عظیم اور دجال" "تصنیف: حضرت مولانا عاصم عمر رحمہ اللہ"

قسط نمبر :- (15) تیسری جنگِ عظیم اور دجال :-      مسلم ممالک کی اقتصادی ناکہ بندی: حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: وہ وقت قریب ہے کہ عراق والوں کے پاس روپے اور غلہ آنے پر پابندی لگا دی جائے گی۔ ان سے پوچھا گیا کہ یہ پابندی کس کی جانب سے ہوگی؟ تو انہوں نے فرمایا کہ عجمیوں (Non Arabs) کی جانب سے۔ پھر کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد کہا کہ وہ وقت قریب ہے کہ جب اہلِ شام پر بھی یہ پابندی لگا دی جاۓ گی۔ پوچھا گیا کہ یہ رکاوٹ کس کی جانب سے ہوگی؟ فرمایا اہلِ روم (مغرب والوں) کی جانب سے۔ پھر فرمایا رسول ﷺ کا ارشاد ہے کہ میری امت میں ایک خلیفہ ہوگا جو لوگوں کو مال لپ بھر بھر کے دیگا اور شمار نہیں کرے گا، نیز آپ ﷺ نے فرمایا: کہ جس کے قبضے میں میری جان ہے یقیناً اسلام اپنی پہلی حالت کی طرف لوٹے گا جس طرح کے ابتداء مدینہ سے ہوئی تھی حتیٰ کہ ایمان صرف مدینہ میں رہ جاۓ گا پھر آپ نے فرمایا کہ مدینہ سے جب بھی کوئی بے رغبتی کی بنا پر نکل جائے گا تو اللہ اس سے بہتر کو وہاں آباد کر دے گا۔ کچھ لوگ سنیں گے کہ فلاں جگہ پر ارزانی اور باغ وزراعت کی فراوانی ہے تو مدینہ چھوڑ کر وہاں چلے جائینگے حالانکہ ان کے واسطے مدینہ ہی بہتر تھا کہ وہ اس بات کو جانتے نہیں۔ ❶  ( مستدرک: ج ۴ ص ۴۵۲) فائدہ ¹: عراق پر پابندی کی پیشن گوئی مکمل ہوچکی ہے۔ سو اے ایمان والو ! اب کس بات کا انتظار ہے؟ فائدہ ²: مدینہ میں کوئی منافق نہیں رہ سکے گا۔ صرف وہی لوگ وہاں رہ جائیں گے جو اللہ کے دین کی خاطر جان دینے کی ہمت رکھتے ہونگے۔ کیونکہ مسلم شریف میں حضرت انس رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ جب دجال مدینہ کے باہر آۓ گا اور اپنا گرز  مارے گا تو اس وقت مدینہ کو تین جھٹکے لگیں گے جس سے ڈر کر کمزور ایمان والے، مدینہ سے نکل کر کفار کے ساتھ مل جائیں گے۔ حضرت ابونضرہ تابعی بیان کرتے ہیں کہ ہم حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں تھے کہ انہوں نے فرمایا کہ قریب ہے وہ وقت جب اہلِ شام کے پاس نہ دینار لائے جاسکیں گے اور نہ ہی غلہ۔ ہم نے پوچھا یہ بندش کن لوگوں کی جانب سے ہوگی؟ حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا رومیوں کی طرف سے۔ پھر تھوڑی دیر خاموش رہ کر فرمایا، حضور ﷺ نے فرمایا: میری آخری امت میں ایک خلیفہ ہوگا جو مال لپ بھر بھر کر دے گا۔ اور شمار نہیں کرے گا۔ ( مسلم: ج ۲ ص ۳۹۵) حضرت ابو صالح تابعی نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ مصر پر بھی پابندیاں لگائی جائینگی۔ ( مسلم شریف: ۲۸۹۶، ابوداؤد: ۳۰۳۵)           عرب کی بحری ناکہ بندی: عـن كـعـب قال يوشك أن يزيح البحر الشرقي حتى لا يجرى فيه سفينة وحتى لا يجوز أهـل قرية إلى قرية وذلك عند الملاحم وذلك عند خروج المهدئ. ( السنن الواردة في الفتن) ترجمہ: حضرت کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انھوں نے فرمایا کہ قریب ہے کہ مشرقی سمندر دور ہو جائے گا اور اس میں کوئی کشتی بھی نہ چل سکے گی، چنانچہ ایک بستی والے دوسری بستی میں نہ جا پائینگے اور یہ جنگِ عظیم کے وقت میں ہوگا، اور جنگ عظیم حضرت مہدی کے وقت میں ہوگی۔ فائده: مشرقی سمندر سے یہاں بحرہ عرب مراد ہے، دور ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اس تک پہنچنا دشوار ہو جائیگا، جسکی وجہ سے وہاں آمد ورفت بند ہو جائیگی۔ آپ ذرا دنیا کا نقشہ اٹھائیں اور امریکن بحری بیڑوں کی موجودہ جگہوں کو دیکھیں تو یہ روایت بہت آسانی سے آپکی سمجھ میں آجائے گی۔ کراچی کے ساحل سے لے کر صومالیہ تک تمام بحری گزر گاہوں پر عالمی کفر کا قبضہ ہے۔ گیارہ ستمبر کے بعد، بحرہِ ہند اور بحرہِ عرب میں آنے جانے والے جہازوں کی چیکنگ بہت سخت کی جارہی ہے۔ خصوصاً پاکستان سے جانے والے جہازوں کی چیکینگ انتہائی سخت ہوتی ہے۔ آئندہ حالات مزید سخت ہونگے جس کی وجہ سے سمندر کے راستے ایک جگہ سے دوسری جگہ جانا بہت مشکل ہو جاۓ گا۔ دنیا کے نقشہ پر اگر نظر ڈالی جاۓ تو اس وقت دجالی قوتوں نے مکہ اور مدینہ کی ہر طرف سے ناکہ بندی کر رکھی ہے۔ تمام سمندری راستوں پر انکا کنٹرول ہے۔ اسی طرح خشکی کی جانب سے بھی ان دونوں شہروں کو مکمل اپنے گھیرے میں لیا ہوا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے گویا دجالی قوتیں حضرت مہدی تک پہنچنے والی رسد وکمک کو ہر طرف سے روکنا چاہتی ہیں۔ اور ان خاص جگہوں پر اپنا کنٹرول چاہتی ہیں جہاں سے انکی حمایت کے لئے مجاہدین آسکتے ہیں۔ ---------------------------------------------- ❶ اسی مفہوم کی روایت مسلم شریف کے طرق سے صحیح ہے۔       <===== *جاری ہے* =====> ''ماخوذ از: تیسری جنگِ عظیم اور دجال" "تصنیف: حضرت مولانا عاصم عمر رحمہ اللہ"