fa
Feedback
|-|ard Talk جلی کٹی

|-|ard Talk جلی کٹی

رفتن به کانال در Telegram

Cartoonist, Journalist, Researcher Journalism Is Not A Crime ہمارا فیسبک پیج بھی ضرور لائک کریں https://www.facebook.com/profile.php?id=61564417160250&mibextid=ZbWKwL

نمایش بیشتر
1 748
مشترکین
اطلاعاتی وجود ندارد24 ساعت
+207 روز
+4330 روز
آرشیو پست ها
قسط نمبر :- (14) تیسری جنگِ عظیم اور دجال :-             کیا جہاد بند ہو جاۓ گا ؟ عن أنس بن مالک رضی اللہ عنہ قال قال رسول اللہ ﷺ الجهاد ماض منذ بعثني الله إلى أن يـقـاتـل آخـر أمتـى الدجال لا يبطله جور جائر ولا عدل عادل. ( ابورود: ج ۳ ص ۱۸، کتاب السنن: ج ۲ ص ۱۷۶، مسند ابی یعلی: ۴۳۱۱، سنن البیہقی الکبری) حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ نے جب سے مجھے بھیجا اس وقت سے جہاد جاری ہے اور (اس وقت تک جاری رہے گا جب تک کہ) میری امت کی آخری جماعت دجال کے ساتھ قتال کریگی۔ اس جہاد کو نہ تو کسی ظالم کا ظلم ختم کرسکے گا اور نہ کسی انصاف کرنے والے کا انصاف۔ عن جابر بن سمرة عن النبي ﷺ أنـه قـال لن يبرح هذا الذين قائماً يقاتل عليه عصابة من المسلمين حتى تقوم الساعة. ( مسلم: ج ۳ ص ۱۵۴۴) ترجمہ: آپ ﷺ نے فرمایا: یہ دین باقی رہے گا اسکی حفاظت کیلئے مسلمانوں کی ایک جماعت قیامت تک قتال کرتی رہے گی۔ عن عبد الرحمن بن زيد بن أسلم عن أبيه أن رسول اللہ ﷺ قال لا يزال الـجـهـاد حـلـوا أخضر ما قطر القطر من السماء وسيأتي على الناس زمان يقول فيـه قـراء مـنـهـم ليـس هـذا زمـان جـهـاد فـمـن أدرك ذلك الزمان فنعم زمان الجهاد قالوا يا رسول الله واحـد يقـول ذلك فقال نعم من عليه لعنة الله والملائكة والناس أجمعين. ❶ ( السنن الواردة في الفتن: ج ۳ ص ۷۵۱ ) ترجمہ: حضرت عبدالرحمن بن زید بن اسلم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: جب تک آسمان سے بارش برستی رہے گی تب تک جہاد ترو تازہ رہے گا (یعنی قیامت تک) اور لوگوں پر ایک زمانہ ایسا آۓ گا کہ جب ان میں پڑھے لکھے لوگ بھی یہ کہیں گے کہ یہ جہاد کا دور نہیں ہے۔ لہٰذا ایسا دور جس کو ملے تو وہ جہاد کا بہترین زمانہ ہوگا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا یا رسول اللہ ﷺ ! کیا کوئی (مسلمان) ایسا کہہ سکتا ہے؟ آپ نے فرمایا: ہاں (ایسا وہ پڑھے لکھے کہیں گے) جن پر اللہ کی لعنت، فرشتوں کی لعنت اور تمام انسانوں کی لعنت ہوگی۔ عـن الـحـسـن أنـه قـال سيأتى على الناس زمان يقولون لا جهاد فإذا كان ذلك فجاهدوا فإن الجهاد أفضل. ( کتاب السنن: ج ۲ ص ۱۷۲) ترجمہ: حضرت ابو رجاءالجزری حضرت حسن رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ لوگوں پر ایسا زمانہ آئیگا کہ لوگ کہیں گے کہ اب کوئی جہاد نہیں ہے، تو جب ایسا دور آجاۓ تو تم جہاد کرنا کیونکہ وہ افضل جہاد ہوگا۔ حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرمایا انکے سامنے یہ ذکر کیا گیا کہ لوگ کہتے ہیں (اب) کوئی جہاد نہیں ہے۔ تو انھوں نے فرمایا یہ بات شیطان نے پیش کی ہے۔ ( مصنف ابن ابی شیبہ: ج ۶ ص ۵۰۹) فائدہ: اگرچہ اس حدیث کا مصداق خلافت عثمانیہ ٹوٹنے کے بعد کا دور واضح ہے لیکن اس سے زیادہ واضح دور اور کونسا ہوسکتا جس سے ہم گذر رہے ہیں۔ جاہلوں کا تو کہنا ہی کیا پڑھے لکھے حضرات بھی جہاد کے بارے میں وہی الفاظ استعمال کر رہے ہیں جنکی طرف آپ ﷺ نے اشارہ فرمایا ہے۔ خصوصاً طالبان کی پسپائی کے بعد تو یوں لگتا ہے جیسے ہوا کا رخ ہی تبدیل ہوگیا ہو۔ سو جہاد کرنے والوں کو کسی کی باتوں یا مخالفتوں اور طعن وتشنیع سے دلبرداشتہ نہیں ہونا چاہئے کیونکہ انکو انکے رسول ﷺ نے پہلے ہی تسلی دیدی ہے کہ ایسے وقت میں جہاد کرنا افضل جہاد ہوگا۔ مجاہدین کو اخلاص اور اللہ کو راضی رکھتے ہوۓ اپنے کام میں لگے رہنا چاہئے۔ ------------------------------------------ ❶ اس میں عبدالرحمن بن زید بن اسلم راوی ضعیف ہیں۔        <===== *جاری ہے* =====> ''ماخوذ از: تیسری جنگِ عظیم اور دجال" "تصنیف: حضرت مولانا عاصم عمر رحمہ اللہ"

غرباء کی مزید وضاحت ’’مختصر تاریخ دمشق‘‘ کی اس روایت میں ملتی ہے جو آج کے دور کی مکمل عکاس ہے: حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ایک دن نبی کریم ﷺ نے فرمایا غرباء کو مبارک ہو۔ پوچھا گیا یا رسول اللہ غرباء کون ہیں؟ فرمایا صالح نیک افراد، جو لوگوں کی بہتات ( کے باوجود) کم ہونگے (انکی پہچان یہ ہے کہ) ان سے بغض رکھنے والوں کی تعداد محبت کرنے والوں سے زیادہ ہوگی اور انکی بات نہ ماننے والوں کی تعداد بات ماننے والوں سے زیادہ ہوگی۔ عن عبد الله بن عمرو قال قال رسول اللہ ﷺ أحب شيء إلى الله تعالى الغرباء قیل ومن الغرباء قال الفرارون بدينهم يبعثهم الله يوم القيامة مع عيسى بن مريم عليهما السلام. ( حلیة الاولیاء ابونعیم: ج ا ص ۲۵، کتاب الزہدالکبیر: ج ۲ ص ۱۱۶) ترجمہ: حضرت عبداللہ ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ کے نزدیک سب سے محبوب لوگ غرباء ہونگے، پوچھا گیا غرباء کون ہیں؟ فرمایا اپنے دین کو بچانے کے لئے فتنوں سے دور بھاگ جانے والے۔ اللہ تعالی انکو عیسیٰ بن مریم علیہا السلام کے ساتھ شامل فرماۓ گا۔ عـن أبـي شـعيـدن الخدري انه قال قال رسول اللہ ﷺ یوشك أن يكون خير مال المسلم غنم يتبع بها شعف الجبال ومواقع القطر يفر بدينه من الفتن. ( بخاری شریف: ج ۱ ص ۱۵، مصنف ابن ابی شیبہ: ج ۷ ص ۴۴۸، مسندابی یعلی: ج ۲ ص ۲۷۱) ترجمہ: حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ایسا وقت قریب ہے کہ مسلمان کا بہترین مال وہ بکریاں ہوں گی جن کو لے کر وہ پہاڑوں کی چوٹیوں پر اور (دور دراز کے) بارانی علاقوں میں دین کو بچانے کی خاطر فتنوں سے بھاگ جاۓ۔ فائدہ: اس حدیث میں بھی اسی بات کی طرف اشارہ ہے کہ ایسی جگہوں پر آدمی کا ایمان بچانا مشکل ہو جاۓ گا جہاں پر جاہلی ابلیسی تہذیب اور اسکا تجارتی نظام عام ہو۔ کیونکہ اگر یہ وہاں رہے گا تو یقیناً اسکو اس سودی نظام کی حمایت کرنی ہوگی یا کم از کم خاموش رہنا پڑیگا۔ اور یہ خاموش رہنا بھی اس پر راضی رہنے جیسا ہے۔ مبارک باد کے مستحق ہیں وہ نوجوان اور بوڑھے جو اس وقت اپنا ایمان بچانے کے لئے اپنا گھر بار، دھن دولت اور سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر پہاڑوں کو اپنا نشیمن بناچکے ہیں، اور ایک ایسے وقت میں کہ جب ابلیس کے نیولڈ آرڈر نے ہر مسلمان کو سودی کاروبار میں ملوث کر دیا ہے اور اگر کوئی براہ راست ملوث نہیں تو اسکو اس سودی نظام کی ہوا ضرور لگ رہی ہے، ایک ایسے وقت میں کہ جب امت کے سب سے معزز اور شریعت کے محافظ طبقے، علماء کرام کو غیر شرعی فتاویٰ دینے پر مجبور کیا جارہا ہے، دجالی قوتیں علی الاعلان اپنی حاکمیت اعلی (Sovereignty) کا اعلان کر رہی ہیں، اور صرف اللہ کی حاکمیت کے سامنے سر جھکانے کا وعدہ کرنے والے مسلمان، آج غیر اللہ کی حاکمیت کو تسلیم کر کے اللہ کے ساتھ کھلا شرک کر رہے ہیں .. مقررین خاموش ہیں، الا ماشاء اللہ، اہل قلم .. سوائے چند کے ..... یا تو قلم کے تقدس کو فروخت کرچکے یا پھر باطل کی گیدڑ بھکیوں نے انکے قلم کی سیاہی کو منجمد کر کے رکھدیا ہے۔ قرآن کریم کی ان آیات کا گلا گھونٹ کر رکھدیا گیا جو مسلمانوں کو باطل کے سامنے سر اٹھاکر جینا سکھاتی ہیں، جس طرف نظر دوڑاؤ مصلحتوں کی چادریں اوڑھے ایسے مسلمان نظر آتے ہیں کہ اگر انکے دور میں دجال آجاۓ اور اپنی خدائی کا اعلان کر دے تو شاید مصلحت کی چادر سے باہر نکلنا پسند نہ فرمائیں، کیونکہ اِس وقت بھی دجال کے ایجنٹ وہی بات کہہ رہے ہیں کہ یا تو ہماری صفوں میں شامل ہو جاؤ یا پھر ہمارے دشمنوں کی ... جبکہ نبی اکرم ﷺ کی احادیث بھی یہی مطالبہ کر رہی ہیں کہ اے مسلمانو ! اب وہ وقت آگیا ہے کہ اللہ والی جماعت میں شامل ہو جاؤ۔ اب درمیان کا کوئی راستہ نہیں ہے۔        <===== *جاری ہے* =====> ''ماخوذ از: تیسری جنگِ عظیم اور دجال" "تصنیف: حضرت مولانا عاصم عمر رحمہ اللہ"

قسط نمبر :- (13) تیسری جنگِ عظیم اور دجال :- دین کو بچانے کے لئے فتنوں سے بھاگ جانے کا بیان: عن بن عمر عن النبی ﷺ قال إن الاسلام بدأ غريباً وسيعود غريبا كم بدأ وهو يأرز بين المسجدين كما تأرز الحية إلى جخرها. ( صحیح مسلم: ج ۱ ص ۱۳۱) ترجمہ: حضرت عبد اللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ کا ارشاد نقل کرتے ہیں کہ اسلام کی ابتداء اجنبیت کی حالت میں ہوئی تھی اور عنقریب اسلام دوبارہ اجنبیت کی حالت کی طرف لوٹے گا جیسے کہ ابتدا میں ہوا تھا اور وہ (یعنی اسلام) سمٹ کر دو مسجدوں کے درمیان چلا جاۓ گا۔ جیسے سانپ اپنے سوراخ کی طرف سمٹتا ہے۔ فائدہ: حدیث میں لفظ غریب کا ترجمہ اجنبی اور غیر مانوس سے کیا گیا ہے۔ جس طرح ابتداۓ اسلام میں لوگ اسلام کو اجنبی اور غیر مانوس سمجھتے تھے اسی طرح آج بھی اکثر مسلمان اسلام کے بہت سارے احکامات کو اجنبی سمجھنے لگے ہیں اور ان احکامات کے ساتھ ایسا برتاؤ ہے گویا وہ ان کو جانتے ہی نہیں کہ ان احکامات سے بھی ہمارا وہی تعلق ہے جو نماز روزہ وغیرہ سے ہے۔ کہتے ہیں کہ اب تو اسکا دور ہی نہیں رہا۔ حالانکہ شریعت کا زیادہ بڑا حصہ انہی احکامات (اسلام کا تجارتی اور عدالتی نظام) پر مشتمل ہے۔ اسلئے آج یہی کہا جاۓ گا کہ اسلام ایک ارب چالیس کروڑ کے ہوتے ہوۓ بھی اجنبی بن کر رہ گیا ہے۔ سو ان لوگوں کو رحمۃ للعالمین ﷺ نے مبارک باد دی ہے جو ان جگہوں سے بھاگ جائیں جہاں اسلام اجنبی ہوگیا ہو، اور ایسی جگہ چلے جائیں جہاں اسلام اجنبی نہ بنا ہو، بلکہ وہاں کے لوگ آج بھی اسلام کو اسی طرح پہچانتے ہوں جیساکہ اس کو پہچاننے کا حق ہے، اور آج بھی انکی زندگی کا مقصد وہی ہو جو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی زندگیوں کا مقصد تھا۔ وہ نماز روزے کے ساتھ ساتھ اسلام کے دیگر احکامات کو بھی اپنے سینے سے لگاۓ رکھتے ہوں اور اس میں وہ کسی ملامت کرنے والے کے ملامت کی پروا بھی نہ کرتے ہوں۔ اور اس عہد پر اپنی جانیں کٹانے کا عزم رکھتے ہوں کہ جس طرح صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اپنا قیمتی لہو بہا کر اسلام کو اجنبیت کی حالت سے نکالا ہم بھی اس کو اجنبیت کی حالت سے نکال کر اس حالت میں لے آئینگے جہاں وہ اجنبی نہیں رہے گا۔ غرباء والی احادیث کی تشریح کرتے ہوۓ ابوالمحاسن حنفی رحمہ اللہ نے " المعتصر من المختصر" میں غریب کے یہی معنیٰ بیان فرمائے ہیں۔ فرماتے ہیں۔ " الاسلام طرا على اشياء ليست من اشكاله فكان بذلك معها غريبا كما يـقـال لمن نزل على قوم لا يعرفونه انه غريب بينهم". ( المختصر من المختصر من مشکل الآثار: ج ۲ ص ۲۶۶) یعنی اسلام کو ایسے حالات سے سابقہ پڑ جائے جو اس سے کوئی مناسبت نہ رکھتے ہوں تو اسلام اس صورت میں غریب (اجنبی) ہو جائے گا۔ جیساکہ اس شخص کے بارے میں کہا جاتا ہے جو ایسے لوگوں کے پاس جاپہنچے جو اس کو نہیں جانتے ہوں تو وہ آنے والا انکے درمیان غریب (اجنبی) ہوگا۔ یہاں یہ بات ذہن نشین رہے کہ بہت سے حضرات اس حدیث کو اپنی سستی اور بزدلی کے لئے آڑ بناتے ہیں۔ جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ کے دشمنوں سے مقابلہ کی تیاری کرو تو کہتے ہیں کہ اسلام تو ہر دور میں کمزور رہا ہے، اور اس حدیث کو دلیل میں پیش کرتے ہیں۔ وہ حدیث کے لفظ غریب کو اردو کے غریب کے معنیٰ میں استعمال کرتے ہیں۔ جو درست نہیں۔ قال ابو عيـاش سمعت جابر بن عبد الله يقول قال رسول اللہ ﷺ ان الاسـلام بـدأ غريبا وسيعود غريبا فطوبى للغرباء قال ومن هم يا رسول الله قال الذين يصلحون حين يفسد الناس. ( المعجم الا وسط: ج ۵ ص ۱۴۹، و، ج  ۸ ص  ۳۰۸) ترجمہ: حضرت ابوعیاش فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر ابن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوۓ سنا، کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اسلام کی ابتداء اجنبیت کی حالت میں ہوئی تھی اور ایک بار پھر اسلام اسی اجنبیت کی حالت میں چلا جائیگا، سو مبارک باد ہے غرباء کو۔ پوچھا کہ یا رسول اللہ ﷺ غرباء کون ہیں؟ آپ ﷺ نے جواب دیا وہ لوگ، جو لوگوں کے فساد میں مبتلاء ہونے کے وقت ان کی اصلاح کرینگے۔ فائدہ: اس حدیث شریف میں ان لوگوں کو آپ ﷺ نے مبارک باد دی ہے جو دنیا میں فساد عام ہو جانے کے وقت لوگوں کی اصلاح کرینگے۔ اور لوگوں میں سب سے بڑا فساد یہ ہے کہ وہ اللہ کی سب سے بڑی صفت حاکمیت میں انسانوں کو شریک بنالیں۔ لہٰذا شریعت کی نظر میں اللہ کی حاکمیت اور قانون کی جانب بلانا سب سے بڑی اصلاح کہلائے گی جسکے تحت امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ انجام دیا جائے گا۔ یہ بات ہم اپنی طرف سے نہیں کہہ رہے بلکہ اس پر قرآن کی آیت ﴿ کنتم خیر امة﴾ کے بارے میں حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ کی تفسیر گواہ ہے۔ نیز ملا علی قاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ غرباء سے مراد مجاہدین ہیں۔

قسط نمبر :- (12) تیسری جنگِ عظیم اور دجال :-       فتنوں کے وقت میں بہترین شخص: عـن بـن عبـاس قال قال رسول اللہ ﷺ خير الناس في الفتن رجل أخذ بعنان فرسه أو قـال بـرسـن فرسه خلف أعداء الله يخيفهم ويخيفونه أو رجل معتزل في باديتـه يـؤدي حق الله الذي عليه. هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يخرجاه. ووافقه الذهبي رحمہ اللہ. ( المستدرک، علی الصحيحين : ج ۴ ص ۵۱۰) ترجمہ: حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انھوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا فتنوں کے دور میں بہترین شخص وہ ہے جو اپنے گھوڑے کی لگام، یا فرمایا اپنے گھوڑے کی نکیل پکڑے اللہ کے دشمنوں کے پیچھے ہو، وہ اللہ کے دشمنوں کو خوف زدہ کرتا ہو اور وہ اس کو ڈراتے ہوں، یا وہ شخص جو اپنی چراگاہ میں گوشہ نشین ہو جائے، اس پر جو اللہ کاحق (زکوٰۃ وغیرہ) ہے اس کو ادا کرتا ہو۔ حاکم رحمہ اللہ نے اس حدیث کو شیخین کی شرط پر صحیح کہا ہے اور امام ذہبی رحمہ اللہ نے اس سے اتفاق کیا ہے۔ حضرت ام مالک بہنریہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فتنہ کا ذکر کیا اور اسکو کھول کر بیان کیا۔ تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ! اس فتنہ کے زمانے میں سب سے بہتر کون شخص ہوگا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ان فتنوں کے زمانے میں سب سے بہتر شخص وہ ہوگا، جو اپنے مویشیوں میں رہے اور انکی زکوٰۃ ادا کرتا رہے، اور اپنے رب کی بندگی میں مشغول رہے، اور وہ شخص (سب سے بہتر ہوگا) جو اپنے گھوڑے کا سر پکڑے ہو (یعنی ہر وقت جہاد کے لئے تیار ہو) اور دشمنانِ دین کو خوف زدہ کرتا ہو، اور دشمن اس کو ڈراتے ہوں۔ ❶ ( ترمذی شریف، الفتن نعیم بن حماد: ج ۱ ص ۱۹۰) فائدہ ¹: ایسے وقت میں بہترین لوگ وہ ہونگے جو جہاد میں مصروف ہونگے، وہ دشمن کو خوف زدہ کرتے ہونگے اور دشمن ان کو ڈراتا ہوگا۔ نبی کریم ﷺ نے خود اپنی زبان مبارک سے جہاد کی بھی تشریح فرما دی کہ یہاں جہاد سے کیا مراد ہے؟ پھر فرمایا: وہ لوگ بہترین ہونگے جو فتنوں کے وقت اپنے مال، مویشیوں کو پہاڑوں اور بیابانوں میں لے کر چلے جائینگے۔ اس میں اس بات کی طرف واضح اشارہ ہے کہ ان جگہوں سے دور چلا جاۓ جہاں دجالی تہذیب کا غلبہ ہو۔ فائدہ ²: مذکورہ حدیث اور کئی دیگر احادیث میں یہ ذکر ہے کہ دجال کے فتنے سے دو قسم کے لوگ محفوظ رہیں گے۔ پہلی قسم مجاہدین جو اللہ کے دین کی سر بلندی کے لئے جہاد کر رہے ہونگے اور دوسری قسم ان لوگوں کی ہے جو اپنے مال، مویشی لے کر پہاڑوں اور بیابانوں میں چلے جائیں گے۔ اور اللہ کی اطاعت کر رہے ہونگے۔ دوسری قسم کے لوگ صرف اپنا ایمان بچانے کے لئے پہاڑوں میں چلے جائیں گے۔ اور فتنوں کے دور میں ایمان بچانے کے لئے گھر بار چھوڑ دینا بھی اللہ رب العزت کے نزدیک بہت بڑی فضیلت رکھتا ہے۔ جبکہ مجاہدین صرف اپنے ایمان کی فکر نہیں کر رہے ہونگے بلکہ وہ ساری امت کے ایمان کو بچانے کی خاطر اور دجال کے فتنے کا زور توڑنے کی خاطر، دجال اور اسکے ایجنٹوں سے قتال کر رہے ہونگے۔ اپنا گھر، وطن، ماں باپ، بیوی بچے اور مال و دولت غرض سب کچھ امت کا ایمان بچانے کے لئے قربان کر رہے ہو نگے۔ اسلئے زیادہ فضیلت مجاہدین کی ہی ہوگی۔ ---------------------------------------------- ❶ علامہ ناصرالدین البانی رحمہ اللہ نے ترمذی شریف کی روایت کو صحیح کہا ہے۔       <===== *جاری ہے* =====> ''ماخوذ از: تیسری جنگِ عظیم اور دجال" "تصنیف: حضرت مولانا عاصم عمر رحمہ اللہ"

قسط نمبر :- (11) تیسری جنگِ عظیم اور دجال :-        فتنے میں مبتلاء ہونے کی پہچان: عن حذيفة قال تعرض الفتنة على القلوب فاي قلب کرهها نكتت فيه نكتة بيضاء وأي قلب أشربها نكتت فيه نكتة سوداء. ( السنن الواردة في الفتن: ج ا ص ۲۲۷، رواه الحاكم وصححه ووافقه الذهبي: ج ۴ ص ۵۱۵) ترجمہ: حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انھوں نے فرمایا فتنے دلوں پر یلغار کرتے ہیں۔ سو جو دل اس فتنے کو برا جانتا ہے تو اس دل میں ایک سفید نکتہ پڑ جاتا ہے۔ اور جو دل اس (فتنے) میں ڈوب جاتا ہے تو اس (دل) میں ایک کالا نکتہ پڑ جاتا ہے۔ "امام حاکم رحمہ اللہ نے بھی یہ روایت کی ہے اور اسکو بخاری ومسلم کی شرط پر صحیح کہا ہے۔ امام ذہبی رحمہ اللہ نے اسکی توثیق کی ہے"۔ عن حذيفة قال إذا أحب أحدكم أن يعلم أصابته الفتنة أم لا فلينظر فإن كان رأى حلالاً كـان يـراه حـرامـاً فقد أصابته الفتنة وإن كان يرى حراماً كان يراه حلالا فقد أصابته. ( هذا حديث صحيح الاسناد على شرط الشيخين ولم يخرجاه. وافقه الذهبي.)( مستدرک: ج ۴ ص ۵۱۵) ترجمہ: اگر تم میں سے کوئی شخص یہ جانا چاہتا ہے کہ آیا وہ فتنے میں مبتلاء ہوا یا نہیں تو اس کو چاہئے کہ وہ یہ دیکھے کہ کوئی ایسی چیز جس کو پہلے وہ حرام سمجھتا تھا اب اس کو حلال سمجھنے لگا ہے تو وہ بلاشبہ فتنے میں مبتلا ہوا، یا کوئی ایسی چیز جسکو پہلے وہ حلال سمجھتا تھا اب اس کو حرام سمجھنے لگا ہے تو وہ بلاشبہ فتنے میں مبتلا ہوا۔ "حاکم رحمہ اللہ نے اسکو شیخین کی شرط پر صحیح کہا ہے اور امام ذہبی رحمہ اللہ نے اس سے اتفاق کیا ہے"۔ فائدہ: حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فتنے میں مبتلاء ہونے کی پہچان بتادی کہ اگر پہلے کسی چیز کو حرام سمجھتا تھا لیکن اب اسکو حلال سمجھنے لگا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ایسا شخص فتنے میں مبتلا ہوچکا ہے۔ اگر غور کریں تو اپنی اصلاح کے لئے یہ بہت عمدہ نسخہ ہے۔        <===== *جاری ہے* =====> ''ماخوذ از: تیسری جنگِ عظیم اور دجال" "تصنیف: حضرت مولانا عاصم عمر رحمہ اللہ"

موجود شناختی کارڈ سے اِس کی تصدیق ہوگئ. احسان اللہ نے اپنے پسمندگان میں بیوہ،دو بیٹے اور تین بیٹیاں چھوڑیں.افسوس اس امر پر ہے کہ جس جرم کی پاداش میں انہیں قتل کیا گیا کچھ سالوں بعد یہ خبریں معمول بن گئیں اور تقریبا روزانہ کی بنیادوں پر ڈرون حملے رپورٹ ہوتے اور اندرون خانہ پاکستانی خفیہ ادارے خوشی سے نا سماتے تھے ۔جب القاعدہ یا طالبان کا کوئ رہنما اِن حملوں میں جاں بحق ہوتا اور اِن حملوں کی اکثر معلومات اور انٹیلیجنس وہ خود فراہم کرتے تھے. ہوتا ہے شپ و روز تماشہ میرے آگے سنہ ۲۰۲۱ کو پاکستانی حکومت نے حیات اللہ خان کو ستارہ جرأت سے نوازا جی ہاں انہوں نے ہی جنہوں نے قتل کیا تھا. اختتام https://x.com/Usmanbaloch316/status/1893269502260908470?s=19

آزادئ صحافت اور حیات اللہ خان ان گِنت یوٹیوبرز،ٹک ٹوکرز اور سوشل میڈیا پر بیٹھے paid trolls جنہیں آج صحافت سے منسلک کیا جاتا ہے۔جن کا کام واٹساپ گروپز میں بھیجے گئے بیانیہ کو رٹ کر آگے بڑھانا اور ریاست کی طرف سے عوام کو گمراہ کرنا جس کا نفع اِن نام نہاد صحافیوں کو بھرپور انداز میں معاوضوں اور سرکاری خرچ پر سیر سپاٹوں کی صورت میں ادا کیا جاتا ہے۔ اسی اثناء چند سال قبل قبائلئ علاقے کا ایک صحافی حیات اللہ داوڑ جسے بے دردی سے قتل کر دیا گیا،زیرِ نظر مضمون اُن کی صحافت پر ایک نظر ڈالنا اور ظالم کو بے نقاب کرنا ہے۔ ‏۳ دسمبر ۲۰۰۵ میں ۲۰۰% مطئمن ہوں حمزہ ربیعہ مارا جا چکا ہے۔ یہ الفاظ پرویز مشرف نے اپنے کویت کے سرکاری دورے کے دوارن کہے اس کے  بعد میں اُس وقت کے وزیر اطلاعات شیخ رشید نے CNN سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حمزہ ربیعہ دھماکہ خیز مواد تیار کرتے ہوئے مارا گیا ہے جس کی تصدیق بعد میں اُس وقت کے وزیر داخلہ آفتاب شیرپاؤ نے کی کہ”پانچ دہشتگرد مارے گئے جن میں سے تین غیر ملکی تھے اور دو افراد زخمی ہیں” اس وقت علاقے میں موجود قبائلی صحافی حیات اللہ خان اِس حملے کی تحقیقات میں مصروف تھے.وہ روزنامہ اوصاف اور دی ایشن اور دو غیر ملکی خبررساں اداروں کے لئے رپورٹنگ کرتے تھے. موقع پر موجود شواہد حکومتی جھوٹ کی ترجمانی کر رہے تھے حیات اللہ خان کے کیمرے نے وہ مناظر محفوظ کر لئے جس سے حکومتی جھوٹ کی کلئ کھلنا یقینی تھی،حملہ دار اصل ایک امریکی ڈرون سے کیا گیا تھا۔ اور اُس وقت پاکستانی فوج ۱۱ ستمبر کے بعد امریکی حکومت کا ساتھ دینے کی وجہ سے عوامی دباؤ کا شکار تھی،اور وہ ہرگز یہ نا چاہتے تھے کہ عوام میں ہماری ساکھ مزید خراب ہو.اس سے پہلے دو امریکی ڈرون حملے رپورٹ ہو چکے تھے جس میں نیک محمد وزیر اور ھیثم الیمنی مارے جا چکے تھے.جسے پاکستانی فوج نے اپنی شرمندگی چھپانے کے لئے یہ کہہ کر رد کر دیا کہ یہ حملہ ہم نے خود کیا ہے اور کوئ ڈرون حملہ نہیں ہوا. حیات اللہ خان کے بھائ احسان اللہ نے بتایا کہ حیات اللہ کو فون پر دھمکی دی گئ تھی کہ ہم جانتے ہیں تمہارے پاس ڈرون حملے کی تصاویر ہیں وہ تمہیں نشر نہیں کرنی اور اِس سے پہلے ہی اُن کو دھمکیاں ملنا شروع ہو گئ تھیں جس کے بعد حیات اللہ نے اپنی وصیت لکھ کر قبائلی عمائدین کے سپرد کردی کہ اگر مجھے کچھ ہوا تو اِس کی ذمہ دار حکومتی ایجنسیز ہوں گی. کچھ دن بعد پاکستانی اور غیرملکی خبررساں اداروں کی سرخیوں میں پاکستان میں امریکی ڈرون حملے کی تصاویر نمایاں تھیں. جس میں US Guided Missile Surface Attack: AGM 114” واضح الفاظ میں لکھا تھا.جس کے بعد ایوانِ اقتدار کے اصل مالکوں اور زمینی خداؤں کے غضب کو کون ٹھنڈا کرتا اور وہ حیات اللہ خان کو نشان عبرت بنانے کے درپے ہو گئے. حیات اللہ کے بھائ احسان اللہ نے بتایا کے ۵ دسمبر ۲۰۰۵ کو شمالی وزیرستان میر علی سے نامعلوم مسلح نقاب پوشوں نے میرے سامنے بھائ کو گھسیٹ کر اغواء کیا جب وہ کالج کے طلبہ کا احتجاج رپورٹ کرنے جا رہے تھے(اسی ڈرون حملے میں کالج کا ایک طالب علم بھی جاں بحق ہوا تھا)اور میں بے بسی کی تصویر بنا یہ سب دیکھتا رہا. اور چھ ماہ کے بعد سولہ جون ۲۰۰۶ کو میران شاہ سے حیات اللہ کی زنجیروں میں جکڑی لاش ایک آبی نالے سے برآمد ہوئ.آپ کو چھ گولیاں ماری گئ اور ہاتھ پیچھے سے مقید تھے جسم پہ تشدد کے آثار نمایاں تھے۔ احسان اللہ نے مزید بتایا کہ ۱۶ جون ۴:۴۰ منٹ پر میرے گھر کے فون کی گھنٹی بجی جب فون اٹھایا تو دوسری جانب شخص نے اپنا تعارف میجر کمال کے نام سے کروایا اور کہا کہ”حیات اللہ کی لاش ہم نے میران شاہ میں پھینک دی ہے جا کر اٹھا لو اور اب میری ذمہ داری ختم ہو گئ”اور خوف کی وجہ سے میں اپنے بھائ کی لاش اُٹھانے تک نا گیا. حیات اللہ خان قتل کے بعد تین حکومتی کمیشن بنے لیکن کسی بھی کمیشن کی رپورٹ پبلک نہیں ہو سکی بعداً احسان اللہ خان نے جب کمیشن کی رپورٹ شائع کرنے لئے ہائ کورٹ میں پٹیشن دائر کی تو اسے نامعلوم افراد نے ایک ماہ اغواء رکھا اور اتنا ہی نہیں بلکہ اسِ قتل سے متعلق ایک ایک ثبوت کو مٹا دیا گیا.حیات اللہ کی بیوہ مہرالنساء کو اُن کے گھر کے اندر ایک IED دھماکہ کر کے مار دیا گیا کیونکہ اُنہوں نے کمیشن کے سامنے بیان دیا تھا کہ مجھے قاتلوں کے نام پتہ ہیں. اس قتل سے جڑے ایک اور ثبوت جسے کم لوگ جانتے ہیں وہ ہے ماسٹر محمد سلام کا قتل ماسٹر صاحب نے وہ دیکھ لیا تھا جسے اُن کو نہیں دیکھنا چاہئے تھا وہ اِس قتل کے عینی شاہد تھے ظالموں کو اِس بوڑھے استاد پر بھی رحم نا آیا.ماسٹر کے بیٹے شوکت اللہ سلام نے بتایا کہ جب میں ۱۱ سال کا تھا میں نے آخری مرتبہ اپنے باپ کو گھر سے نکلتا دیکھا اور ۱۳ سال بعد ہمیں اطلاع ملی کے تعمیراتی کام کے دوران سڑک کنارے کچھ انسانی ہڈیاں ملی ہیں جب وہاں پہنچا تو میں نے اپنے والد کے بوسیدہ واسکٹ کو پہنچان لیا جو میں نے آخری مرتبہ انہیں پہنے دیکھا تھا اور جیب میں

قسط نمبر :- (10) تیسری جنگِ عظیم اور دجال :-                پانچ جنگِ عظیم: عن عبد الله بن عمرو قال ملاحم الناس خمس فينتان قد مضتا وثلاث في هذه الأمة ملحمة الترک وملحمة الروم وملحمة الدجال ليس بعد الدجال ملحمة. ❶ ( الفتن نعیم ابن حماد: ج ۲ ص ۵۴۸ ، السنن الواردة في الفتن) ترجمہ: حضرت عبداللہ ابن عمرو رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ (دنیا کی ابتداء سے آخر دنیا تک) کل پانچ جنگِ عظیم ہیں۔ جن میں سے دو تو (اس امت سے پہلے) گزر چکیں اور تین اس امت میں ہونگی۔ ترک جنگِ عظیم اور رومیوں سے جنگِ عظیم اور دجال سے جنگِ عظیم اور دجال والی جنگِ عظیم کے بعد کوئی جنگِ عظیم نہ ہوگی۔ فائدہ: اگرچہ مسلمان اپنی سستی اور کاہلی کی وجہ سے ایک، ہونے والی حقیقت کے لئے خود کو تیار نہیں کر رہے لیکن کفر اس کا اعلان واضح اور دو ٹوک الفاظ میں کر رہا ہے۔ اگر کوئی اس انتظار میں ہے کہ حضرت مہدی آنے کے بعد جنگِ عظیم کا اعلان کرینگے، تو ایسا شخص بس انتظار ہی کرتا رہ جاۓ گا۔ کیونکہ حضرت مہدی کا خروج ایک ایسے وقت میں ہوگا جب جنگ چھٹر چکی ہوگی۔                   فتنوں کا بیان: إن أبا هريرة قال قال رسول اللہ ﷺ ستكون فتن القاعد فيها خير من القائم والـقـائـم فيهـا خـيـر مـن الـمـاشي والماشي فيها خير من الساعي من تشرف لها تستشرفه ومن وجد فيها ملجأ فليعذ به. ( بخاری ومسلم) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول ﷺ نے فرمایا: عنقریب فتنے پیدا ہونگے، ان فتنوں میں بیٹھنے والا کھڑے ہونے والے سے بہتر ہوگا، اور کھڑا ہونے والا، چلنے والے سے بہتر ہوگا، اور چلنے والا، سعی کر نے والے سے بہتر ہوگا، اور جوشخص فتنوں کی طرف جھانکے گا، فتنہ اس کو اپنی طرف کھینچ لے گا، لہٰذا جو شخص ان فتنوں سے بچنے کے لئے کوئی پناہ گاہ پائے اور ٹھکانہ پاۓ تو وہیں پناہ لے لے۔ فائدہ: ’’چلنے والے سے کھڑے رہنے والا اور کھڑے رہنے والے سے بیٹھ جانے والا" اس سے مراد اس فتنہ میں کم کوشش کرنا اور کم مبتلا ہونا ہے۔ وہ فتنہ ایسا ہوگا کہ جو جتنی کوشش کرے گا وہ اتنا ہی اس میں ملوث ہوگا۔ یہ فتنہ کئی قسم کا ہوسکتا ہے انھی میں سے ایک مال کا فتنہ ہے جس کو آپ ﷺ نے اس امت کے لئے سب سے خطرناک فتنہ قرار دیا ہے۔ اس وقت عالمی سودی نظام کے ہوتے ہوۓ جو شخص اس نظام میں زیادہ کمانے کی کوشش کرے گا وہ اتنا ہی خود کو سود میں ڈبوتا جاۓ گا۔ اور جو کم کوشش کریگا و کم ملوث ہوگا۔ اس طرح چلنے والے سے کھڑا رہنے والا بہتر ہوگا۔ اور کھڑے رہنے والے سے بیٹھنے والا بہتر ہوگا۔ اس لئے آپ ﷺ نے فرمایا: کہ جس کے پاس بکریاں ہوں وہ بکریاں لے کر پہاڑوں یا بیابانوں میں نکل جائے۔ عن انس بن مالک قال قال رسول اللہ ﷺ يأتى على الناس زمان الصابر فيهـم عـلـى دينه کا لقابض على الجمر. قال ابو عيسىٰ هذا حديث غريب من هذا الوجه. ❷ ( سنن الترمذی: ج ۴ ص ۵۲۶) ترجمہ: حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: لوگوں پر ایسا زمانہ آۓ گا کہ اس وقت ان میں اپنے دین پر ڈٹ جانے والا اس شخص کے مانند ہوگا جس نے اپنی مٹھی میں انگارہ لے لیا ہو۔ عن أبي هريرة قال إن رسول اللہ ﷺ قال بادروا بالأعمال فتناً كقطع اليل المظلم يصبح الرجل مؤمنا ويمسي كافراً أو يمسي مؤمناً ويصبح كافراً يبيع دينه بعرض من الدنيا. ( مسلم: ج ا ص ۱۱۰، صحیح ابن حبان: ج ۱۵ ص ۹۶) ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول ﷺ نے فرمایا: اعمالِ صالحہ میں جلدی کرو قبل اس کے کہ وہ فتنے ظاہر ہو جائیں، جو تاریک رات کے ٹکڑوں کے مانند ہونگے (ان فتنوں کا اثر یہ ہوگا کہ) آدمی صبح کو ایمان کی حالت میں اٹھے گا اور شام کو کافر بن جائے گا یا شام کو مومن ہوگا تو صبح کو کافر اٹھے گا۔ اپنا دین ومذہب دنیا کے تھوڑے سے فائدہ کے لئے بیچ ڈالے گا۔ ---------------------------------------------- ❶ اس کے تمام راوی صحیح ہیں البتہ اس میں ایک راوی ابوالمغیرۃ القداس مجہول ہیں۔ ❷ علامہ ناصر الدین البانی نے اس کو صحیح کہا ہے۔        <===== *جاری ہے* =====> ''ماخوذ از: تیسری جنگِ عظیم اور دجال" "تصنیف: حضرت مولانا عاصم عمر رحمہ اللہ"

Repost from اذانِ سحر
یاد رکھو! یہ پاکستان ہمارا ہے۔ ہم پاکستان میں اسلامی نظام لائیں گے اور اپنے شہداء کے خون کا انتقام لیں گے۔ ان شاء اللہ! (مولا
یاد رکھو! یہ پاکستان ہمارا ہے۔ ہم پاکستان میں اسلامی نظام لائیں گے اور اپنے شہداء کے خون کا انتقام لیں گے۔ ان شاء اللہ! (مولانا حامد الحق حقانی شہید کے جنازے کے موقع پر شہداء کے وارثین کا اعلان) #سانحہ_اکوڑہ_خٹک #مولانا_حامد_الحق_حقانی_شہید #اذان_سحر #AzaaneSahar

Repost from Voice Of Pakistan
Take a look at Voice Of Pakistan (@voice_856): https://x.com/voice_856?t=hhLo3UBPS67A2OVuF6SzPA&s=35 وائس آف پاکستان کے نشریات کو ٹویٹر پر دیکھنے کےلئے ہمارے ٹویٹر پیچ کو فالو اور شئیر کجیئے۔ جزاک اللہ خیرا

توحــیـــد ۔۔۔ مجــدد جـــہــاد شیــخ عــبداللہ عــزام رحمہ اللہ
توحــیـــد ۔۔۔ مجــدد جـــہــاد شیــخ عــبداللہ عــزام رحمہ اللہ

Repost from Politics Plus
2011 میں قتل ہونےوالےصحافی سلیم شہزاد نے تھریٹ الرٹ کامطلب کیالیا تھااور پھر اپنے دوستوں کوبتایا۔ مولانا فضل الرحمن نےبھی تھریٹ الرٹ کےپیغام کوکیسےلیااور ردعمل دیا ۔ شایدحامد الحق رحمہ اللہ کابھی جمعےکا خطبہ انہی تھریٹ الرٹس کےجواب میں شدید غصےپرمبنی تھا https://x.com/Polplusorg/status/1896003145463185855?t=VQ9rHeo7l5KbcgvgpdOZMg&s=19

ماہ_فروری_رجب_المرجب_شعبان_المعظم.png11.81 MB

رواں سال (2025ء) ماہ فروری ( رجب المرجب-شعبان المعظم) میں تحریک طالبان پاکستان کی کارروائیوں کی تفصیلی رپورٹ! کُل حملے: 147 ــــــــــــــــــــ جائے عملیات: ولایت جنوبی وزیرستان: 34 ولایت شمالی وزیرستان: 27 ولایت خیبر ایجنسی: 24 ولایت ٹانک: 12 ولایت ڈی آئی خان: 12 ولایت پشاور: 8 ولایت باجوڑ: 6 ولایت بنوں: 5 ولایت کرم: 5 ولایت مہمند: 3 ولایت لکی مروت: 3 ولایت جنوبی پنجاب: 3 ولایت کرک: 2 ولایت لوئر دیر: 1 ولایت سوات: 1 ولایت اورکزئی: 1 ــــــــــــــــــــ نوعیت عملیات: گوریلہ حملے: 53 اسنائپر/لیزر حملے: 50 گھات حملے: 11 گرنیڈ/بم دھماکے: 14 جوابی حملے: 9 تعارضی حملے: 9 ٹارگٹڈ حملے: 1 ــــــــــــــــــــ دشمن کا جانی نقصان: ہلاکتیں: 85 زخمی: 95 کل ہلاک و زخمی: 180 گرفتاریاں: 6 ــــــــــــــــــــ نقصان اٹھانے والے ادارے: فوج/ایس ایس جی: 97 ایف سی: 44 پولیس/سی ٹی ڈی: 38 خفیہ/امن کمیٹی: 1 ــــــــــــــــــــ تخریب: 20 عدد سی سی ٹی وی کیمرے 12 عدد فوجی گاڑیاں 4 عدد پوسٹیں 2 عدد ڈرون کیمرے 2 عدد انٹرنیٹ بوسٹرز 2 عدد سولر سسٹمز 1 عدد بکتر بند گاڑی 1 عدد ٹینک ٹینک ــــــــــــــــــــ دشمن سے حاصل شدہ سامان: 4 عدد کلاشنکوف 1 عدد راکٹ لانچر دیگر عسکری سازوسامان ــــــــــــــــــــ

photo content

جمہوریت اس دور کا سب سے بڑا بُت ہے .... مولانا یوسف لدھیانوی رحمۃ اللہ علیہ
جمہوریت اس دور کا سب سے بڑا بُت ہے .... مولانا یوسف لدھیانوی رحمۃ اللہ علیہ

Repost from اذانِ سحر
آج ہمیں دھمکیاں دی جارہی ہیں کہ افغانستان کی بات نہ کرو، کشمیر کی بات نہ کرو، فلسطین کی بات نہ کرو اور حرمین شریفین کے بارے م
آج ہمیں دھمکیاں دی جارہی ہیں کہ افغانستان کی بات نہ کرو، کشمیر کی بات نہ کرو، فلسطین کی بات نہ کرو اور حرمین شریفین کے بارے میں بات نہ کرو۔ میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ ہم علماء اور فضلاء، ہم پاکستانی عوام ایک لفظ سے بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ اپنے سروں کو اسلام، محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کی خاطر قربان کردیں گے لیکن اسلام سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ شہیدِ منبر و محراب مولانا حامد الحق حقانی شہید رحمۃ اللہ علیہ #سانحہ_اکوڑہ_خٹک #مولانا_حامد_الحق_حقانی_شہید #اذان_سحر #AzaaneSahar

مولانا حسین احمد مدنی رحمہ اللہ کا فتوی ۔۔
مولانا حسین احمد مدنی رحمہ اللہ کا فتوی ۔۔

🔵⚪️🔘⚪️🔵 بسم الله الرحمان الرحیم #جديد #اداره_السحاب_برصغير #جماعت_قاعدة_الجهاد_برصغير ✨ بيان : مولانا حامد الحق حقانی کا س
🔵⚪️🔘⚪️🔵 بسم الله الرحمان الرحیم #جديد #اداره_السحاب_برصغير #جماعت_قاعدة_الجهاد_برصغير ✨ بيان : مولانا حامد الحق حقانی کا سانحۂ شہادت ✨ ✨ آفیشل اکاؤنٹس ✨ 🔘 تلغرام @Sahabsubcontinent_10_bot 🔘 ريوت https://matrix.to/#/#sahabsubcontinent:matrix.org 🔘 شيورب واير https://chirpwire.net/sahabsubcontinent 🔵⚪️🔘⚪️🔵

شیخ الہند مولانا محمود الحسن رحمہ اللہ کا علی گڑھ یونیورسٹی میں طلباء سے خطاب ۔۔۔ "آپ کے پاس اس کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں ک
شیخ الہند مولانا محمود الحسن رحمہ اللہ کا علی گڑھ یونیورسٹی میں طلباء سے خطاب ۔۔۔ "آپ کے پاس اس کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں کہ دشمنان اسلام کی ہر قسم کی مدد فکری ہو یا عملی مکمل طور پر چھوڑ دیں اور یہ دین کا ایک بنیادی متفقہ اصول ہے "