RAHI HIJAZI راہی حجازی
رفتن به کانال در Telegram
ہماری اردو موبائل ایپ ⬇ https://play.google.com/store/apps/details?id=com.arshad.rahihijaziurducalender ٹیلی گرام رابطہ آئی ڈی ⬇ @RAHIHIJAZI
نمایش بیشتر8 186
مشترکین
-224 ساعت
-37 روز
+2030 روز
در حال بارگیری داده...
کانالهای مشابه
ابر برچسبها
هیچ دادهای
مشکلی وجود دارد؟ لطفاً صفحه را تازه کنید یا با مدیر پشتیبانی ما تماس بگیرید.
اشارات ورودی و خروجی
---
---
---
---
---
---
جذب مشترکین
سپتامبر '26
سپتامبر '26
+20
در 0 کانالها
اوت '26
+127
در 0 کانالها
Get PRO
ژوئیه '26
+90
در 0 کانالها
Get PRO
ژوئن '26
+103
در 0 کانالها
Get PRO
مه '26
+104
در 0 کانالها
Get PRO
آوریل '26
+59
در 1 کانالها
Get PRO
مارس '26
+18
در 0 کانالها
Get PRO
فوریه '26
+55
در 0 کانالها
Get PRO
ژانویه '26
+60
در 2 کانالها
Get PRO
دسامبر '25
+118
در 0 کانالها
Get PRO
نوامبر '25
+36
در 1 کانالها
Get PRO
اکتبر '25
+57
در 0 کانالها
Get PRO
سپتامبر '25
+22
در 0 کانالها
Get PRO
اوت '25
+31
در 1 کانالها
Get PRO
ژوئیه '25
+38
در 0 کانالها
Get PRO
ژوئن '25
+37
در 0 کانالها
Get PRO
مه '25
+22
در 0 کانالها
Get PRO
آوریل '25
+57
در 0 کانالها
Get PRO
مارس '25
+103
در 1 کانالها
Get PRO
فوریه '25
+80
در 0 کانالها
Get PRO
ژانویه '25
+38
در 0 کانالها
Get PRO
دسامبر '24
+116
در 0 کانالها
Get PRO
نوامبر '24
+281
در 0 کانالها
Get PRO
اکتبر '24
+333
در 0 کانالها
Get PRO
سپتامبر '24
+112
در 1 کانالها
Get PRO
اوت '24
+189
در 2 کانالها
Get PRO
ژوئیه '24
+362
در 3 کانالها
Get PRO
ژوئن '24
+200
در 1 کانالها
Get PRO
مه '24
+355
در 0 کانالها
Get PRO
آوریل '24
+307
در 1 کانالها
Get PRO
مارس '24
+385
در 2 کانالها
Get PRO
فوریه '24
+314
در 0 کانالها
Get PRO
ژانویه '24
+261
در 3 کانالها
Get PRO
دسامبر '23
+172
در 1 کانالها
Get PRO
نوامبر '23
+57
در 0 کانالها
Get PRO
اکتبر '23
+53
در 0 کانالها
Get PRO
سپتامبر '23
+56
در 0 کانالها
Get PRO
اوت '23
+50
در 0 کانالها
Get PRO
ژوئیه '23
+55
در 0 کانالها
Get PRO
ژوئن '23
+45
در 0 کانالها
Get PRO
مه '23
+44
در 0 کانالها
Get PRO
آوریل '23
+46
در 0 کانالها
Get PRO
مارس '23
+69
در 0 کانالها
Get PRO
فوریه '23
+55
در 0 کانالها
Get PRO
ژانویه '23
+43
در 0 کانالها
Get PRO
دسامبر '22
+55
در 0 کانالها
Get PRO
نوامبر '22
+51
در 0 کانالها
Get PRO
اکتبر '22
+73
در 0 کانالها
Get PRO
سپتامبر '22
+78
در 0 کانالها
Get PRO
اوت '22
+53
در 0 کانالها
Get PRO
ژوئیه '22
+55
در 0 کانالها
Get PRO
ژوئن '22
+50
در 0 کانالها
Get PRO
مه '22
+361
در 0 کانالها
Get PRO
آوریل '22
+48
در 0 کانالها
Get PRO
مارس '22
+49
در 0 کانالها
Get PRO
فوریه '22
+63
در 0 کانالها
Get PRO
ژانویه '22
+62
در 0 کانالها
Get PRO
دسامبر '21
+84
در 0 کانالها
Get PRO
نوامبر '21
+136
در 0 کانالها
Get PRO
اکتبر '21
+44
در 0 کانالها
Get PRO
سپتامبر '21
+69
در 0 کانالها
Get PRO
اوت '21
+49
در 0 کانالها
Get PRO
ژوئیه '21
+80
در 0 کانالها
Get PRO
ژوئن '21
+89
در 0 کانالها
Get PRO
مه '21
+63
در 0 کانالها
Get PRO
آوریل '21
+70
در 0 کانالها
Get PRO
مارس '21
+147
در 0 کانالها
Get PRO
فوریه '21
+147
در 0 کانالها
Get PRO
ژانویه '21
+1 367
در 0 کانالها
Get PRO
دسامبر '20
+7 447
در 0 کانالها
| تاریخ | رشد مشترکین | اشارات | کانالها | |
| 04 سپتامبر | +8 | |||
| 03 سپتامبر | +2 | |||
| 02 سپتامبر | +4 | |||
| 01 سپتامبر | +6 |
پستهای کانال
میں پڑھنے کا وقت کہاں سے نکالتا تھا؟
========================
شیخ علی طنطاوی
_________
عدالت کا حال یہ تھا کہ ہر روز میرے سامنے تیس مقدمے ہوتے۔ دعوے دیکھتا، وکیلوں کی بحثیں سنتا اور فیصلے کرتا۔ ثالثی مجالس کی نگرانی الگ تھی۔ تین اور مجلسوں کی صدارت بھی میرے سر تھی: مجلسِ اوقاف، مجلسِ ایتام اور شام کے شرعی کالجوں کی مجلسِ اعلیٰ، جو وزارتِ اوقاف کے ماتحت تھی۔
دمشق کے شرعی کالج میں پڑھاتا تھا، لڑکوں کے سیکنڈری اسکول میں بھی اور لڑکیوں کے سیکنڈری اسکول میں بھی۔ جمعے کا خطبہ کبھی جامع المرابط میں ہوتا، کبھی مسجدِ جامعہ میں؛ کلبوں اور انجمنوں میں تقریریں الگ۔ ریڈیو دمشق سے گفت گو کا سلسلہ بھی جاری تھا اور میرا شمار ریڈیو کے اوّل اوّل بولنے والوں میں ہوتا تھا جنھیں لوگ سنتے چلے آ رہے تھے۔ اب تو پچاس برس سے زیادہ گزر چکے ہیں اور میری یہ گفت گو کبھی منقطع نہیں ہوئی۔
پھر روزانہ ایک مختصر سا کالم بھی لکھتا؛ پہلے روزنامہ “النصر” میں، پھر “الایام” میں۔ کالم چھوٹا ہوتا تھا مگر صاحب! دستی بم بھی تو چھوٹا ہی ہوتا ہے؛ دھماکا اس کا بھی خوب ہوتا ہے اور باطل کی عمارت میں رخنہ ڈالنے کا کام بھی کچھ کم نہیں کرتا۔
یہ سب کچھ کرتا تھا، پھر بھی وقت نکال لیتا کہ کتب خانے میں جا بیٹھوں۔
اور اس پر طرہ یہ کہ روزانہ دو سو، کبھی تین سو صفحے پڑھتا تھا۔ یہ عادت آج کی نہیں؛ جس دن بچپن میں پڑھنا سیکھا، اسی دن سے چلی آ رہی ہے۔ کوئی ستر برس ہونے کو آئے۔ جو وقت بچتا، کتاب لے کر بیٹھ جاتا۔
اب اس کا راز بھی سن لیجیے۔ میں نہ گلی میں لڑکوں کے ساتھ کھیلتا تھا، نہ جوانوں کے ساتھ کسی تفریح گاہ کا رخ کرتا۔ آدمی بھی کچھ ایسا مجلسی نہ تھا کہ آنے والوں کی پیشوائی میں وقت جائے؛ مسافروں کو رخصت کرنے میں گھڑیاں کٹیں؛ خوشی والوں کو مبارک بادیں دیتا پھروں اور مصیبت زدوں کے ہاں تعزیتیں کرتا رہوں۔ دعوت بھی قبول نہ کرتا، خصوصاً اگر دعوت کھانے کی ہوتی!
اگر اس روش میں اسلامی نقطۂ نظر سے کسی افضل و اکمل طریقے کی مخالفت ہو گئی ہو تو اللّٰہ سے معافی چاہتا ہوں؛ نہ میں کسی کو کہتا ہوں کہ وہ بھی میری طرح کرے۔ میرا طریقہ بس یہ تھا کہ بغیر پہلے سے وقت لیے کسی ملاقاتی کو نہ ملتا اور خود بھی کسی کے ہاں شاذ و نادر ہی جاتا۔ یوں وقت بھی بچا لیا اور جان بھی آسودہ رکھی۔
اب آپ کہیں گے: میاں! یہ سب کچھ آخر کیا کیسے؟ اور ایک دن میں اتنی گنجایش نکلتی کہاں سے تھی؟
جواب یہ ہے کہ میں نے اپنے آپ کو نہیں بانٹا تھا، اپنے وقت کو بانٹ رکھا تھا۔
فقہا کی اصطلاح میں اسے “مُہایَأَۃ” کہتے ہیں۔ مُہایَأَۃ سنی ہے کبھی؟ ایک مکان کے دو مالک ہوں، مکان اتنا نہ ہو کہ دونوں بہ یک وقت اس میں رہ سکیں اور تقسیم بھی نہ ہو سکتا ہو تو مکان نہیں، وقت بانٹ لیتے ہیں۔ ایک مہینا یا ایک سال ایک مالک استعمال کرے، پھر اتنی ہی مدت دوسرا۔
میں نے اپنے وقت کے ساتھ بھی یہی معاملہ کیا تھا۔
عدالت میں ہوتا تو بس عدالت ہی سامنے ہوتی؛ ساری توجہ اسی کی؛ نہ اخبار کا خیال، نہ مدرسے کا۔ اخبار کے لیے لکھنے بیٹھتا تو عدالت کو ذہن سے نکال باہر کرتا۔ مدرسے میں ہوتا تو مدرسے کے سبق کے سوا دنیا میں کوئی کام ہی نہ تھا۔
اور ہاں! یہ سب جوانی کے عہد کا قصہ ہے۔ ابو العتاہیہ نے خوب کہا ہے:
وَرَوَائِحُ الْجَنَّةِ فِي الشَّبَابِ “جنت کی مہک تو جوانی میں ہے!”
اس باب کو پڑھنے والے نوجوان اگر اپنی قوتیں سنجیدہ کام میں لگا دیں اور اپنا وقت ایسے کاموں میں صرف کریں جن سے کوئی مفید نتیجہ نکلتا ہو تو یقین جانیے، مجھ سے کہیں زیادہ کر گزریں۔
شیخ علی طنطاوی
(الذکریات، ج ۶، ص ۳۳۲)
[ترجمانی: طاہر اسلام عسکری]
| 2 | مولانا رشید احمد گنگوہی رحمہ اللہ کی نظر نے ان تمام جاہلانہ رسومات کا اندازہ لگا لیا تھا اور یہ بھی احساس ہوگیا تھا کہ آگے چل کر یہ اور زیادہ بھیانک روپ اپنا لیں گے۔ اسی لیے انہوں نے ہر طرح کی مجلس میلاد کو بند کرکے ایک طوفان کو روکنے کی کوشش کی۔ یہ فیصلہ اتنا بصیرت افروز تھا کہ حاجی امداد اللہ صاحب رحمہ اللہ کو بھی کہنا پڑا کہ اس مسئلے میں جو فیصلہ مولانا گنگوہی کا ہے وہی انکا بھی ہے (مرقوماتِ امدادیہ)
آج کل جو ہم یہ ڈرامے، تماشے، مرد و عورتوں کا پاگلوں کی طرح بیچ بازار ناچنا دیکھ رہے ہیں یہ سب اسی گنجائش کا فائدہ اٹھا کر کیا جارہا ہے جو ہمارے بعض حضرات نے ان کو دے رکھی ہے۔ ایک ایسے عمل کے لیے جس کی اصل نہ خیر القرون میں ملتی ہے اور نہ تمام علماء اس کے جواز کے درپے ہیں، مجوزین ایسے نت نئے مفسدات کے لئے کھلا دروازہ چھوڑ رہے ہیں۔
آپ مولانا رشید احمد گنگوہی رحمہ اللہ کی اس رائے سے اختلاف کیجئے یا بے شرم تکفیریوں کی طرح مولانا گنگوہی رح کا مزاق اڑائیں، تاریخ نے ان کی رائے کو احوط و اسلم ثابت کردیا۔ | 959 |
| 3 | حضرات! جامعہ بنوری ٹاؤن کا ایک فتوی ملاحظہ فرمائیں
سوال
ربیع الاول کے مہینہ کی تخصیص کرکے سیرت مصطفی، عظمت مصطفی، شان مصطفی، ولادت مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم وغیرہ جیسے ناموں سے جلسہ و خلوس کا انعقاد کرنا اور ماہ ربیع الاول کے آنے سے پہلے عوام کو خبردار کرنا اور ان سے مشورہ کرکے جلسہ کے لیے ربیع الاول کی تاریخ طے کرنا اور خصوصی اہتمام کے ساتھ اجتماعی جلسوں کا شیڈول ترتیب دینا کہ ایک ہی اشتہار میں اپنے علاقہ کی مختلف مساجد میں ربیع الاول میں روز و شب جلسوں کی ترتیب رکھنا اور عوام کو فضائل سنا کر جلسوں کے اخراجات چندہ کرکے وصول کرنا جیسے شرکاء کے کھانے پینے خطیبوں اور مقررین کے اخراجات و وظائف و ہدایا کے لیے چندہ وصول کرنا شرعا درست ہے کہ نہیں؟
جواب
اس میں شبہ نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت باسعادت اور بعثت امت محمدیہ کے لیے رحمت وسعادت کا ذریعہ ہے اوراس نعمت کا جتنا شکر ادا کیا جائے کم ہے، بلکہ مؤمن کا ایمان اس وقت تک کامل نہیں ہوسکتا جب تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سچی محبت اس کو نہ ہو، لیکن محبت سچی اورقابل قبول اسی وقت ہوسکتی ہے جب کہ وہ شرعی اصولوں سے نہ ٹکراتی ہو، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت واحوال، فضائل ومناقب اور حیات طیبہ کے مختلف گوشے اجاگرکرنا، اس پر بیان وتقریر کرنا کارِ ثواب ہے، لیکن یہ اسی وقت ہے جب کہ سنت وشریعت کے مطابق ہو۔
*ماہ ربیع الاول کو خاص کرکے میلاد النبی، سیرت مصطفی، عظمت مصطفی، شان مصطفی، ولادت مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم وغیرہ جیسے ناموں سے جلسہ جلوس کا انعقادکرنا، جشن وتہوار منانا، اور اس عنوان سے چندہ وصول کرنا نہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے نہ صحابہٴ کرام اور تابعین عظام سے۔حالاں کہ صحابہٴ کرام سے بڑھ کر سچا عاشق رسول اور جاں نثار کون ہوسکتا ہے، اس کے باوجود صحابہٴ کرام سے کہیں اس کا ثبوت نہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سچی محبت کا تقاضہ تو یہ تھا کہ اس طرح کی محافل کا انعقاد بغیر کسی چندہ مہم کے اور بغیر کسی تخصیص وتعیین کے وقتا فوقتا حدود شرع میں رہتے ہوئے ہوتا رہے، اس کا خاطر خواہ فائدہ بھی ہوتا، لیکن افسوس کہ اس کے برعکس اپنی دینداری اور محبت نبوی کو چند ایام میں محصور کرکے رکھ دیا گیا ہے اور پھر سال بھر آزاد چھوڑ دیاگیا ہے۔جس کو امت کے نباض علماء نے بدعات میں شمار کیا ہے۔*
المدخل میں ہے:
" ومن جملة ما أحدثوه من البدع مع اعتقادهم أن ذلك من أکبر العبادات وإظهار شرائع یفعلونه في شهر ربیع الأول من المولد وقد احتوی علی بدع ومحرمات جملة الخ (المدخل ۲/۳)فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 143803200014
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن | 1 119 |
| 4 | میلاد سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کو ذبح کرنے والی قبیح ترین بدعت ۔۔۔۔۔۔۔
حضرت عبدالله بن عباس رضی الله تعالی عنہما سے موقوفاً امام طبرانی اپنی حدیث کی کتاب "المعجم الکبیر" میں روایت کرتے ہیں:
«مَا أَتَى عَلَى النَّاسِ عَامٌ إِلَّا أَحْدَثُوا فِيهِ بِدْعَةً، وَأَمَاتُوا فِيهِ سُنَّةً، حَتَّى تَحْيَى الْبِدَعُ، وَتَمُوتَ السُّنَنُ»
ترجمہ:
’’لوگوں پر کوئی سال ایسا نہیں گزرتا مگر وہ اس میں کوئی بدعت ایجاد کرتے اور ایک سنت کو مٹا دیتے ہیں، یہاں تک کہ بدعتیں زندہ اور سنتیں مردہ ہو جاتی ہیں۔‘
المعجم الكبير، للطبرانی، حدیث نمبر 10610
امام ہیثمیؒ فرماتے ہیں:
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.
یعنی:
’’اسے امام طبرانی نے المعجم الکبیر میں روایت کیا ہے اور اس کے رجال موثق ہیں۔‘‘
(مجمع الزوائد ومنبع الفوائد، کتاب العلم، باب في البدع والأهواء، رقم 894)
وہ بریلوی احباب جو کہتے ہیں کہ بدعت سئیہ وہ ہوتی ہے جو سنت و شریعت کو تبدیل کرنے والی ہوتی ہے بتاؤ اس میلاد سے کونسی سنت تبدیل ہوئ ؟ کل آپ سب نے صرف پاکستان نہیں پوری دنیا میں منایا جانے والا میلاد دیکھ لیا کہ اس میلاد کی آڑ میں کونسی بے حیائ نہیں ہے جو نہ کئ گئ ہو ڈھول تماشے عورتوں مردوں کا آزادانہ اختلاط ناچ بھنگڑے فحاشی عریانی ۔۔۔ روافض کے تعزیہ نکلتے ہیں لیکن خدا کی قسم یہ شیطانیت تعزیوں میں بھی نہیں ہوتی جو کل پوری دنیا میں میلاد کی آڑ میں آپ نے سوشل میڈیا کے توسط سے دیکھ لی ۔۔۔ کف۔۔ر تو یہ کہ یہ لوگ یہ سب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی میلاد کی خوشی میں کررہے تھے ان کے نزدیک اس سب کو برا سمجھے والے
سوائے ابلیس کے جہاں میں سبھی تو خوشیاں منا رہے ہیں ۔۔۔
کا مصداق تھے ۔۔۔ بقول ان کے اسے گناہ کہنے والوں کو حضور کی میلاد سے مرچیں لگتی ہیں ۔۔۔۔ یہ سب بھی ان خرافات پر یہی کہہ رہے تھے کہ میلاد تو سیوطی نے بھی منایا ۔۔۔ حاجی امداد اللہ مہاجر مکی نے بھی منایا ۔۔۔۔
اگر اس سب کے بعد بھی اس میلاد نے دین کا حلیہ نہیں بگاڑا ۔۔۔۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں کو ذبح نہیں کیا۔۔۔۔ تو مبارک ہو آپ جیسا شخص کوے کو بھی سفید ثابت کرسکتا ہے۔۔۔ ایسے ہٹ دھرموں سے بحث کرنے کے بجائے بس قیامت کا انتظار کریں جہاں خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایک میلادی کو دیکھ کر فرمائیں گے سحقا سحقا لمن غیر بعدی دینا۔۔۔۔
طالب دعا ساجد خان نقشبندی | 1 190 |
| 5 | شکرِ میلاد
از قلم: محمد فہیم الدین بجنوری
11 ربیع الاول 1448ھ
25 اگست 2026ء
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نعمتِ حیات کا شکر ادا کرنا سکھایا، یہ سیرت کا غیر معمولی پہلو ہے، آپ کی سنتوں کا کمال ہے کہ بعض وقت عام اور سادہ معلوم ہوتی ہیں؛ مگر ان میں حکمت اور گہرائی نہاں رہتی ہے، پیر کا روزہ عہدِ نبوی میں نعمتِ زندگی کا مثالی شکرانہ تھا؛ مگر آج اس میں نئے خوب صورت معانی بھی شامل ہو گئے ہیں، مثال کے طور پر اب سال گرہ کا زمانہ ہے، اس جدید رجحان میں "دوشنبہ سنت" مشعل قرار پائے گی، آج آپ کا جنم دن ہے؟ ایک روزہ شکرانے کا رکھو۔
پھر تحدیثِ نعمتِ میلاد ایک ہفتہ واری سنت ہے، اسے سالانہ کی شکل دینا خلافِ سنت ہوگا، فرحتِ میلاد وہ عمل ہے جس میں امت کے سامنے اسوہ موجود ہے، وقت بھی معلوم ہے اور عمل بھی ثابت شدہ ہے، میلاد کی سفید اور روشن سنت یہ ہے کہ پیر کے دن روزہ رکھنے کا اہتمام کریں، خود اپنا جنم دن بھی اسی راہ پر منا سکتے ہیں، سیرت میں سالانہ جنم دن نہیں اور روزے کے سوا مَظہرِ تقریب نہیں۔
مروجہ میلاد کے پلڑے میں عظیم شخصیات کی نمائندگی نے مجھے بہت پریشان رکھا، اساطینِ علم اور اکابر امت کی پرجوش حمایت نے رونگٹے کھڑے کر دیے تھے، جن بزرگ ہستیوں نے مروجہ میلاد کی تائید کی ہے وہ دین و علمِ دین کے پہاڑ اور سمندر ہیں، حدیث، فقہ اور اصول کے ائمہ ہیں۔
پھر گہرے غور اور طویل جائزے نے پردہ اٹھایا اور یہ توجیہ سامنے آئی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات عشق کا سب سے بڑا عنوان ہے؛ جب معمولی جام بے خود کر دیتا ہے تو عشقِ نبی کے اثر کا اندازہ لگانا مشکل نہیں، میلاد میں وزن ڈالنے والے اہم نام بے شک علم اور استدلال رکھتے ہیں؛ مگر بادِ عشق اور بادۂ محبت کی مجبوری اور معذوری کا بھی ایک کردار یقینا ہے۔
بارہ ربیع الاول عاشق کے ظرف کا امتحان بھی ہے، محبوب کے نام پر منعقد تقریب سے دوری اختیار کرنے میں خارجی اور داخلی دونوں محاذوں پر مزاحمت درپیش ہوتی ہے، غیر طعنہ دیتے ہیں اور اپنی طبیعت بھی مچلتی ہے، اس سیاق میں حضرت گنگوہی علیہ الرحمہ کا مقام سمجھیں، در کفے جام شریعت در کفے سندانِ عشق کی ادا و عزیمت کا ادراک کریں، حضرت مولانا فضل الرحمن گنج مرادآبادی نے آپ کے بارے میں بجا فرمایا تھا کہ سمندر پیے بیٹھے ہیں اور ڈکار تک نہیں لیتے۔
دیوبند نے عشق کی نری گھٹی نہیں پلائی، آدابِ عشق بھی تعلیم کیے، دارالعلوم کے اسباق میں حدود کی پابندی عائد ہے، ہمارا میکدہ بالغ ہے اسے طفلانہ حرکتیں اغوا نہیں کر سکتیں، وہ اسمارٹ ہے جذبات کے ہاتھوں کمپرومائزڈ نہیں ہوتا، میلاد ضرور منائی جائے گی؛ مگر اسوۂ رسالت نقش ہوگا، سنت شمع ہوگی، سیرت نشان بنے گی، میلاد جس قدر اور جس طرح ثابت ہے اسی درجہ اور اسی رنگ میں منائی جائے گی، عشق کا جوش مشن کی وفاداری پر حاوی نہیں ہونا چاہیے۔
علی گڑھ داعی نے سیرت کے عنوان میں تبدیلی کر کے اعتبار کھو دیا ہے، اعلان کی خلاف ورزی ہمارے مولانا کے لیے موقع ہے، یہ بہانہ نہیں عذر کہلائے گا، اس نوع کا تصرف بھول نہیں شرارت شمار ہوتی ہے، یہ تعبیرات موقف، رائے اور مسلک کی نمائندگی کرتی ہیں، یوں بھی مخلوط پروگرام میں شرکت قابلِ احتیاط تھی، اب وہ مشکوک بھی ہوگیا، ترجمان سطح کی شخصیات کے لیے بہ ہر حال احتیاط بہتر ہے، واللہ اعلم۔ | 1 279 |
| 6 | دورِ حاضر میں اعتدال کا نیا مفہوم سامنے آیا ہے کہ:
▪️بدعات بھی جائز کردو۔
▪️گمراہوں کو بھی قبول کرلو۔
▪️حرام وحلال کو خلط ملط کردو۔
▪️ہدایت اور گمراہی کا فرق مٹا دو۔
▪️نہی عن المنکر کو ترک کردو۔
▪️مزاج پر گراں اور سخت گزرنے والے احکام میں گنجائش دے دو یا کم از کم چھپا لو۔
▪️'حرام' جیسے الفاظ استعمال نہ کرو۔
▪️اہلِ باطل کو اپنی جگہ درست قرار دے کر قبول کرلو۔
▪️تمام ادیان باطلہ کے لیے نرم گوشہ رکھتے ہوئے ان کو اپنے طور پر حق قرار دے دو۔
▪️مسلکِ اہل السنۃ کی شناخت مٹا دو اور اہلِ بدعت کی بدعات کے رنگ میں رنگ جاؤ۔
الغرض اب اعتدال اور حکمت مذکورہ گمراہ کن نظریات اور غلط خیالات کا نام پڑ گیا ہے!
✍️۔۔۔ بندہ مبین الرحمٰن
محلہ بلال مسجد نیو حاجی کیمپ سلطان آباد کراچی | 1 010 |
| 7 | عظیم شخصیت کی سبق آموز ادائیں
ہمارے محسن اور محبوب استاد حضرت مولانا محب اللہ صاحب دامت برکاتہم (استاد الحدیث جامعہ بنوری ٹاؤن) کا طریقہ کار تھا کہ خدمت کرنے والے طالب علم کو جب کسی کام کے لیے پیسے دیتے تو واپسی پر ایک ایک روپیہ کا حساب لیتے، یہاں تک کہ کوئی چیز 995 روپے کی خریدی ہو اور استاد جی نے 1000 روپے دئے ہوں تو خادم سے حساب کتاب کے بعد وہ پانچ روپے بھی مانگتے، اور اگر خادم کھلے پیسے نا ہونے کا عذر کرتا تو ناراض ہوتے کہ پانچ روپے لے کر آئیں
حالاں کہ استاد جی بڑے دریا دل انسان ہیں، طلبہ اور علماء پر پیسے لٹاتے ہیں، سخاوت میں ضرب المثل ہیں، جنہوں نے ان سے پڑھا وہ اس کی گواہی دیں گے لیکن حساب کتاب کی عادت ڈالنے اور اس کی اہمیت طالب علم کے دل میں اجاگر کرنے کے لیے یہ کام کرتے تھے تاکہ ہم لوگ حساب کتاب میں سستی کرکے اور بے جا اعتماد کرکے اپنا مالی نقصان نا کروا بیٹھیں
چناں چہ یہی وجہ ہے کہ آج کل والد اپنے بچے کو محبت جتلانے یا دوست اپنے کاروباری دوست پر اعتماد باور کروانے کے لیے اپنی جمع پونجی اس کے حوالہ کردیتے ہیں اور حساب کتاب مانگنے میں جھجھکتے ہیں یا لا پرواہی کرتے ہیں اور پھر کل کو جب غبن ہوتا ہے تو ڈھنڈورا پیٹتے ہیں کہ میرے اعتماد کا ناجائز کا فائدہ اٹھاکر میری کل کمائی کھاگیا
حالاں کہ "اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چک گئیں کھیت"
اس لیے بزرگوں کی عادات اپنے اندر لانی چاہیے، انحطاط اورتنزلی کا دور ہے، دیانت عنقا ہوچکا، پیسہ کے سامنے بڑے بڑے زور آور پگھل جاتے ہیں
لھذا کل کے پچھتاوے سے اچھا ہے کہ اپنے حساب کتاب سیدھے رکھیں
بیٹے یا دوست سے محبت ہے تو اسے تحفہ تحائف دیں، حساب کتاب میں چھوٹ نا دیں
اعتماد الگ چیز ہے، اصول الگ۔
اللّٰہ استاد محترم کو ہر قسم کی بیماریوں سے محفوظ رکھے اور تمام اساتذہ کا سایہ تا دیر ہمارے سروں پر قائم رکھے۔آمین۔
۔
منقول | 977 |
| 8 | عورت کی جاب سے پیسے تو آتے لیکن گھر کا سکون برباد ہوتا ہے اور باہر کے کھانوں سے صحت کا بھی بیڑہ غرق ہوتا ہے۔ جس مرد کو بھی پیسے سے زیادہ سکون اور صحت چاہیے ہو وہ جاب والی عورت کی بجائے گھریلو عورت کو ہی ترجیح دیتا ہے کیونکہ اسے معلوم ہوتا ہے کہ کمانے کی ذمہ داری مرد کی ہے۔
5) دنیا اور آخرت دونوں میں کامیابی
کوئی بھی مسلمان مرد جانتا ہے کہ موجودہ زمانے میں عورت جہاں بھی جاب کرے تو وہاں مخلوط نظام ہے اور بے پردگی اور دوسرے مسائل ہوتے ہی ہیں۔ ایسے میں مردوں کی جاب تو مجبوری ہے کہ انھوں نے کمانا ہے لیکن عورت گھر میں رہ سکتی ہے۔ اگر کوئی مجبوری ہے جاب کی تو وہ الگ بات لیکن بغیر مجبوری کے جاب کرنا عورت کی نہیں، مرد کی ذمہ داری ہے۔ ایسے میں دنیاوی سکون اور آخرت میں کامیابی کے لیے کونسی عورت مسلمان مرد کے لیے آئیڈیل ہے؟
ان سب باتوں سے کسی کے لیے بھی سمجھنا آسان ہے کہ مسلمان مرد کی پہلی ترجیح کونسی عورت ہوتی ہے اور کیوں۔ یہ بات فیمینسٹوں کو تو سمجھ نہیں آسکتی لیکن مسلمان مردوں اور عورتوں کو ان فیمینسٹوں کے پروپیگنڈے کے زہر سے بچانے کے لیے ضروری ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔
ڈاکٹرعدنان نیازی | 1 038 |
| 9 | فیمینسٹس کی طرف ایک پوسٹ اکثر کی جاتی ہے جس کا مفہوم کچھ اس طرح کا ہوتا ہے کہ
مرد ایک خود مختار، کامیاب، آزاد، مضبوط عورت کی بجائے ایک شرمیلی، بے روزگارعورت کو ترجیح دیتے ہیں کیونکہ وہ کامیاب عورت سے ڈرتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔
یہ تو درست ہے کہ مسلمان مرد عام طور پر ایسی عورتوں سے شادی نہیں کرنا چاہتے لیکن یہ سمجھنے کے لیے آئیے پہلے دیکھتے ہیں کہ ایک مسلمان مرد شادی کس لیے کرتا ہے ؟
کسی بھی مسلمان مرد کے لیے شادی کے محرکات یہ ہوتے ہیں:
1) جائز طریقے سے جنسی خواہشات کی تکمیل
2) اولاد کا حصول اور ان کی بہترین تربیت
3) گھر کا بہترین انتظام اور تعاون
4) گھریلو سکون اور روحانی اطمینان
5) دنیااور آخرت دونوں میں کامیابی
اب ایک ایک کر کے دیکھتے ہیں کہ یہ مقاصد کس عورت سے شادی کر کے زیادہ بہتر انداز میں پورے ہوتے ہیں۔
1) جائز طریقے سے جنسی خواہشات کی تکمیل
کسی بھی مسلمان مرد کے لیے یہ شادی کا پہلا اور بنیادی مقصد ہے کیونکہ اس کے لیے جنسی خواہشات کی تکمیل کا صرف ایک یہی جائز طریقہ ہے۔ اب ایک گھریلو عورت ہے جس کا اگر الگ گھر ہے جس میں وہ اور اس کا شوہر ہے یا پھر شادی کے کچھ سالوں بعد ساتھ بچے ہیں۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق شوہر جب بھی اسے بستر پر بلائے گا وہ آرام سے آسکتی ہے۔ جبکہ جاب کرنے والی عورت کو صبح سے شام تک جاب کرکے تھکنا ہے جیسا کہ شوہر تھکا ہوا آئے گا۔ جو خود سارے دن کی تھکی ہوگی وہ شوہر کی تھکن کیا اتارے گی۔اس کے لیے ممکن ہی نہیں ہوگا ۔ ایک مسلمان مرد کی یہاں چوائس کیا ہوگی؟
2) اولاد کا حصول اور ان کی بہترین تربیت
جنسی خواہشات کی تکمیل کے ساتھ ساتھ کسی بھی مسلمان کے لیے دوسرا سب سے اہم مقصد اولاد کا حصول اور ان کی بہترین تربیت ہوتی ہے اور یہ تربیت ایک ماں ہی کر سکتی ہے۔ سنن النسائی، ابی داوٴد، ابن ماجہ اور مسند احمد کی حدیث شریف کا مفہوم ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
محبت کرنے والی اور زیادہ بچے جننے والی عورتوں سے نکاح کرو، کیونکہ میں تمہاری کثرت کی وجہ سے قیامت کے دن امتوں پر فخر کروں گا۔
جاب والی عورت کے لیے زیادہ اولاد بہت مشکل ہوتی ہے کیونکہ اس سے اس کی جاب، کیرئیر ، ترقی، جسمانی ساخت وغیرہ سب کچھ متاثر ہوتا ہے۔ہر ڈیلیوری پر بہت سی چھٹیاں لینی پڑتی ہیں اور وہ اپنے کولیگز سے پیچھے رہ جاتی ہے۔ حمل کے دوران اور بچے کی پیدائش کے بعد کئی ماہ تک کارکردگی بھی متاثر ہوتی ہے۔ جبکہ گھریلو عورت کے لیے اس طرح کے مسائل نہیں ہوتے۔ پھر سب جانتے ہیں کہ بچوں کی تربیت اور دیکھ بھال کے لیے بہت زیادہ وقت اور توجہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ صرف وہی عورت یہ اچھے سے کر سکتی ہے جس پر کمانے کی کوئی ذمہ داری نہ ڈالی گئی ہو۔ اگر کسی عورت پر کمانے کی ذمہ داری ہو تو اسے بچوں کی پیدائش کے چند ہفتوں بعد سے ہی ڈے کئیر میں چھوڑنا پڑے گا۔ پھر جب بچے سکول جانے والے ہو جائیں تو انھیں بارہ سے دو کے درمیان چھٹی ہوجاتی ہے۔ ایسے میں اگر ماں گھر ہو تو بچے سکول سے گھر آتے ہیں، کھانا وقت پر ملتا، کھیلنے کودنے اور آرام کرنے کا وقت ملتا ہے۔ لیکن اگر ماں بھی جاب کرتی ہو تو پھر بچوں کو سکول سے آنے کے بعد بھی ماں باپ میں سے کسی کے دفتر جانا ہوتا ہے یا ڈے کئیر۔ جہاں سکول کے بعد نہ ان کے لیے کھانا اچھا ہوتا نہ وہ صحیح سے کھیل کود اور آرام کر سکتے۔ اس لحاظ سے ایک مسلمان مرد کس عورت کو ترجیح دے گا؟
3) گھر کا بہترین انتظام اور تعاون
مرد تو صبح نکلتا ہے اور شام کو آتا ہے۔ گھر کا سارا انتظام عورت ہی کر سکتی ہے۔ چاہے گھر میں کام کے لیے دوسری عورتیں بھی رکھی ہوں تب بھی ان سے کام لینے کے لیے بھی عورت کا گھر ہونا ضروری ہے۔ عورت گھر میں نہ ہو تو کام والیاں بھی کہاں سنبھال سکتی ہیں۔ایک عورت بھی صبح سے شام تک گھر میں نہیں ہے تو گھر کے کام کیسے ہونگے چاہے کسی کام والی سے ہی کروانے ہوں؟ اس لحاظ سے ایک مومن مرد کی چوائس کون سی عورت ہوگی؟
4) گھریلو سکون اور روحانی اطمینان
اکثر دیکھنے میں آتا ہے جس گھر میں عورت نے خود کام پر نہ جانا ہو بلکہ گھر پر رہنا ہو وہ صبح اٹھ کے شوہر اور بچوں کے لیے ناشتہ بناتی ہے۔ شوہر تب تک دفتر جانے کے لیے تیار ہوتا۔ بچے سکول جانے کے لیے تیاری کرتے، سب ناشتہ کرتے اور سکون سے جاتے۔ جہاں عورت نے بھی دفتر جانا ہو تو صبح اسے سب سے زیادہ اپنے تیار ہونے کی فکر ہوتی۔ عورتوں کو تیار ہونے کے لیے وقت بھی زیادہ چاہیے ہوتا۔ ایسے میں سب کو جلدی پڑی ہوتی۔ اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ جن مردوں کی بیویاں کام پر جاتی ہیں وہ ناشتہ دفتر آ کر باہر کسی کینٹین سے کر رہے ہوتے۔ بچوں کی روٹین بھی متاثر ہوتی۔ اگر سکول جانے والے ہوں تو انھیں دوپہر کو سکول سے واپسی پر کھانا باہر سے کھانا پڑتا۔ ایسے ہی شام کو بھی کئی دفعہ بیوی تھکی ہو تو کھانا گھر میں نہیں بنتا۔ اس میں قصور اس عورت کا نہیں کیونکہ دونوں کام ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے اور چلیں بھی تو متاثر ضرور ہوتے۔ | 1 133 |
| 10 | بدون متن... | 1 154 |
| 11 | اپنا دینی معیار اتنا پست نہ کریں کہ کوئی نور زمان شاذلی، کوئی ساحل عدیم، کوئی غامدی، کوئی انجینئر مرزا، کوئی منیر شاکر، کوئی یوٹیوبر، کوئی اینکر اور کوئی موٹیویشنل اسپیکر آپ کو اپنی گمراہ کن باتوں، خرافات اور خود ساختہ غیر معتبر نظریات کی وجہ سے راہِ حق سے ہٹا دیں، ارے ہمارا تو یہ مزاج ہے کہ ہم تو اپنے کسی معتبر قابلِ قدر بزرگ کا حق مسلک سے ہٹ کر کوئی غیر معتبر ذاتی قول وفعل بھی احترام کے ساتھ ناقابلِ قبول اور ناقابلِ تقلید سمجھتے ہیں، چہ جائیکہ آپ کسی گمراہ، غیر معتبر یا جاہل افراد کی باتوں کو اہمیت دیں اور انھیں آنکھ بند کرکے قبول کرلیں، خوب سمجھ لیں!
✍️۔۔۔ بندہ مبین الرحمٰن
محلہ بلال مسجد نیو حاجی کیمپ سلطان آباد کراچی | 1 786 |
| 12 | نماز اور عبادت
اصل کے لحاظ سے نماز اور عبادت میں عام خاص مطلق کی نسبت ہے، مطلب عبادات بہت ہیں، جب کہ نماز عبادت کی ایک قسم ہے؛ لیکن ہماری غفلت نے ان کے مابین عموم خصوص من وجہ بھی متعارف کرادی ہے، یعنی ہم ایسی نماز پڑھ لیتے ہیں جو عبادت کی روح سے معری ہو، بس مسجد میں ایک حاضری لگا آتے ہیں، رسم خانہ پری جاری ہے، نوبت بہ ایں جا رسید کہ رکعات کی تعداد کا ضبط چیلنج بن گیا ہے۔
ایک صاحب بہت مایوسی میں ملے، عرض حال یہ سامنے آیا کہ وہ ظہر کی چار سنتیں درمیان میں ترک کر آئے ہیں، کئی کوششیں ناکام رہی تھیں، ہر بار تعداد مشتبہ ہوئی، آخرش ہار گئے، یقینا مذکورہ شخص کسی درجہ ضعفِ دماغ میں مبتلا تھا؛ لیکن قوی القویٰ افراد کا حال بھی گفتہ بہ نہیں، امام تکبیرِ قیام کی تانت کم کردے تو ایک مخلوق پہلی اور تیسری رکعت میں قعدہ کا گمان کر لیتی ہے، قیام کے لیے نیا ٹیک آف درکار ہو جاتا ہے۔
میرا یہ ذہن بنا ہوا ہے کہ عبادت وجہِ تخلیق ہے، قرآن و سنت کے مطالعے نے مجھے اسی نکتے پر منتہی کیا ہے، پھر عبادات میں نماز اول اور اعلی ہے، گویا ہم نماز پڑھنے کے لیے پیدا ہوے ہیں، نماز ہماری پیدائش کا موضوع لہ ہے، علمی سرگرمیاں نماز کی معاون ہیں، علمِ نافع کے پہلے معنی یہ ہیں کہ اس سے نماز میں ترقی ہو، جو علم نماز میں کمیت اور کیفیت کے اعتبار سے اپنا حصہ نہیں ڈالتا وہ نافع نہیں۔
نماز ضابطے کا لفظ ہے؛ جب کہ عبادت میں رابطے کا رنگ ہے، نماز کے لیے عبادت شرط ہے، ورنہ ایستادن، نشستند اور برخاستند رہ جائے گا، مجرد جسمانی حرکات وسکنات مفیدِ مطلب نہیں؛ کسرت اور ورزش کا خیال بھی منکر ہے، عبادت کے معانی تعلق اور رابطے پر منحصر ہیں، دستک مطلوب ہے، خیمہ زنی چاہیے، پکار اور ندا درکار ہیں، لائن استوار کرنی ہوتی ہے، التفات اور توجہ لینی ہے، یہاں آئی فون کا بانی اسٹیو جابز یاد آتا ہے، اس نے انٹرویو میں کہا تھا کہ میں ٹی وی نہیں دیکھتا، یک طرفہ گفتگو سننا عزتِ نفس کے خلاف ہے، معاملہ دو طرفہ ہونا چاہیے۔
عبادت بھی ایک معاملہ ہے، جب تک یک طرفہ رہے گا ناقص ہوگا، اسے دو طرفہ بناؤ، آپ پکاریں اور وہ جواب دیں، قبولیت آنے تک سبحان ربی العظیم کہتے ہی رہو، جب تک وہ لبیک نہ کہہ دیں، سر نہ اٹھاؤ، مولانا فضل الرحمن گنج مرادآبادی فرماتے ہیں کہ سجدہ کرتا ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ انھوں نے چوم لیا، منظوری کی مہر لے کر ہی مانو، جانماز سے فراغت کو پروانے کے ساتھ مشروط کردو، فارغ ہو کر کرنا بھی کیا ہے؟ یہی زندگی ہے اور یہی حاصلِ زندگی۔
محمد فہیم الدین بجنوری
29 صفر 1448ھ
13 اگست 2026ء | 2 283 |
| 13 | https://whatsapp.com/channel/0029Va4emE0B4hdX2T4KuS18/19213
سال 1857 کی جنگ آزادی میں مسلمانوں کا کردار کیا تھا؟
ایک معروف غیر مسلم یوٹیوب ٹیچر سچن میوار کی زبانی تفصیلات جانیے حوالوں کے ساتھ
درج بالا لنک پر کلک کر ویڈیو دیکھیں | 2 250 |
| 14 | استاذِ محترم شیخ الاسلام حضرت مفتی محمد تقی عثمانی صاحب مدظلہم سے سوال کیا گیا کہ حضرت زندگی کا خلاصہ کیا ھے ؟
حضرت مدظلہم نے یہ 20 نکات ارشاد فرمائے :
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1:- ہر حال میں اللہ کا شکر ادا کیا کرو ۔
2:- کوشش کرو کہ پوری زندگی میں کوئی تمہاری شکایت کسی دوسرے انسان سے نہ کرے ، پروردگار سے تو بہت دور کی بات ھے ۔
3:- خاندان والوں کے ساتھ کبھی مقابلہ مت کرنا، نقصان قبول کر لینا ،مگر مقابلہ مت کرنا۔بعد میں نتیجہ خود مل جائے گا۔
4:- کسی بھی جگہ یہ مت کہنا کہ میں عالم ہوں ، میرے ساتھ رعایت کرنا۔ یہ ایک غیر نامناسب عمل ہے۔کوشش کرو دینے والے بن جاؤ۔
5:- سب سے بہترین دسترخوان گھر کا دسترخوان ھے ، جو بھی تمہاری نصیب میں ہوگا بادشاہوں کی طرح کھاؤ ۔
6:- اللہ کے سوا کسی سے امید مت رکھنا۔
7:- ہر آنے والے دن میں اپنی محنت میں مزید اضافہ کرنا۔
8:- مالداروں اور متکبروں کی مجالس سے دوری اختیار کرنا ۔
9:- ہردن صبح کے وقت صدقہ کرنا ،شام کے وقت استغفار کا ورد کرنا۔
10:- اپنی گفتگو میں مٹھاس پیدا کرنا۔
11:- اونچی آواز میں چھوٹے بچے سے بھی بات مت کرنا ۔
12:- جس جگہ سے تمہیں رزق مل رھا ھے ، اس جگہ کی دل وجان سے عزت کرنا۔جس قدر ادب کروگے ان شاءاللہ تعالی رزق میں اضافہ ہوگا ۔
13:- کوشش کرو کہ زندگی میں کامیاب لوگوں کی صحبت میں بیٹھا کرو ، ایک نہ ایک دن ضرور تم بھی اس جماعت کا حصہ بن جاؤگے۔
14:- ہر فیلڈ کےہنر مندوں کی عزت کرنا ،ان کے ساتھ ادب سے پیش آنا ، خواہ وہ کسی بھی فیلڈ کے ہنر مند ھوں ۔
15:- والدین ،اساتذہ اور رشتے داروں کے ساتھ جس قدر اخلاق کا معاملہ کروگے اس قدر تمہارے رزق اور زندگی میں برکت ھوگی۔
16:- ہر کام میں میانہ روی اختیار کرنا ۔
17:- عام لوگوں کے ساتھ بھی تعلق رکھنا اس سے بھی بہت کچھ سیکھنے کو ملے گا۔
18:- ایک انسان کی شکایت دوسرے سے مت کرنا، ہمارے پیارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم شکایت کرنے والے کو پسند نہیں فرماتے تھے۔
19:- ھر بات کو مثبت انداز میں پیش کرنا ،اس سے بہت سے مسائل حل ھو جائیں گے۔
20:- بڑوں کی مجلس میں زبان خاموش رکھنا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آخر میں درج ذیل دعا سکھائی کہ مشکل وقت میں اہتمام کے ساتھ پڑھا کرو ان شاء الله بہت فائدہ ھوگا۔"رَبَّنَا آتِنَا مِن لَّدُنكَ رَحْمَةً وَّهَيِّئْ لَنَا مِنْ أَمْرِنَا رَشَدًا “ ۔ | 3 039 |
| 15 | بدون متن... | 2 597 |
| 16 | ۳- لوگ مفتیوں کے فتووں پر تو کیڑے نکالتے ہیں، لیکن یہ بھول جاتے ہیں کہ خود دنیا کے بڑے بڑے سینٹرل بینک، نوبل انعام یافتہ ماہرین معاشیات اور ترقی یافتہ حکومتیں خود کرپٹو کو لے کر شدید تذبذب کا شکار ہیں، کئی ممالک نے اس پر پابندی لگائی، پھر ہٹائی، اور خطرات دیکھ کر پھر دوبارہ لگا دی، جب مادی دنیا کے یہ نام نہاد مایہ ناز ماہرین ایک ٹیکنالوجی کے معاشی خطرات کو سمجھنے سے قاصر ہیں، تو مفتیوں سے یہ امید رکھنا کہ وہ ابتدا ہی میں اسے ’’حلال‘‘ کی مہر لگا کر عوام کو ایک اندھی اور غیر محفوظ کھائی میں دھکیل دیں، سراسر نادانی اور بچپنا ہے۔
۴- قانون کا ایک مسلمہ اور اٹل قاعدہ ہے کہ حکم اپنی علت کے ساتھ وجود میں آتا اور ختم ہوتا ہے ، آج اگر کسی چیز کو ناجائز کیا گیا ہے تو وہ اس کے نام کی وجہ سے نہیں، بلکہ اس کے اندر موجود خرابی جیسے قمار، غرر یا عوامی نقصان کی وجہ سے ہے، اگر وقت کے ساتھ وہ علت اور خرابی ختم ہو جائے تو حرمت کا حکم بھی خود بخود ختم ہو جاتا ہے، یہ کسی دارالافتاء یا مفتی کا موڈ بدلنا نہیں، بلکہ قانون کی اصل روح ہے۔
۵- علماء کے لیے سب سے آسان کام ہر چیز پر ’’جائز‘‘ کا لیبل لگا کر سوشل میڈیا پر سستی مقبولیت اور لائکس حاصل کرنا ہے، لیکن عالمگیر اصول ہے کہ نقصان کو دور کرنا، فائدہ حاصل کرنے پر مقدم ہوتا ہے ، اگر مفتی آج عوامی دباؤ میں آکر اسے جائز کہہ دیں اور کل کو یہ غبارہ پھٹ جائے، جیسا کہ کئی کرپٹو کوائنز کے ساتھ ہو چکا ہے تو لاکھوں لوگوں کی عمر بھر کی کمائی ڈوبنے کی اخلاقی اور شرعی ذمہ داری کس پر ہوگی؟
خلاصہ یہ کہ پہلے ناجائز اور بعد میں جائز کہنا کوئی تضاد یا مولویوں کی ’’پرانی عادت‘‘ نہیں، بلکہ یہ قانون کے ارتقاء کا حصہ ہے، شریعت کا اصول کبھی نہیں بدلتا، بلکہ جب کوئی چیز اپنی خامیاں دور کر کے شریعت کے معیار پر پوری اتر جاتی ہے تو اس پر لاگو ہونے والا حکم بدل جاتا ہے، اسے مفتیوں کی تبدیلی نہیں، بلکہ ٹیکنالوجی کی اصلاح کہنا چاہیے، لیکن اس باریک نکتے کو سمجھنے کے لیے سوشل میڈیا اسکرول کرنے کے بجائے تھوڑی عقل اور مطالعے کی ضرورت ہوتی ہے۔
(عمر انور بدخشانی) | 2 662 |
| 17 | کرپٹو کرنسی
کوئی چیز پہلے ناجائز بعد میں جائز کیوں ؟
(عمرانور بدخشانی)
کرپٹو کرنسی کے عدم جواز کے فتویٰ پر سوشل میڈیا کے دانشوروں کی طرف سے یہ گھسا پٹا اعتراض بڑےزوروشور سے داغا جا رہا ہے کہ ’’علماء پہلے ہر نئی ایجاد کو حرام کہتے ہیں اور بعد میں حلال کر دیتے ہیں‘‘، یہ تنقید دراصل قانون کے بنیادی اصولوں اور زمینی حقائق سے مروجہ جہالت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
۱- دنیا کا کوئی بھی عاقل قانونی یا ریگولیٹری ادارہ کسی بھی نئی ایجاد یا دوا کو مارکیٹ میں آتے ہی آنکھیں بند کر کے لائسنس جاری نہیں کر دیتا، جب کوئی نئی دوا لیبارٹری سے نکلتی ہے تو حکومتیں پہلے اس پر پابندی لگاتی ہیں تاکہ اس کے سائیڈ ایفیکٹس اور نقصانات کا جائزہ لیا جا سکے، جب تک اس کے سو فیصد محفوظ ہونے کا یقین نہ ہو جائے، وہ غیر قانونی ہی رہتی ہے، شریعت کا مزاج بھی یہی ہے کہ جب تک کسی نئی فنانشل اسکیم کے اندر غرر (دھوکہ) قمار (جوا) اور معاشی تباہی کے جراثیم واضح نہ ہوں احتیاطاً اسے روکا جاتا ہے تاکہ زندگی بھر کی کمائی لٹنے سے بچائی جا سکے۔
سوشل میڈیا پر بیٹھ کر شریعت کو کوسنے والے شاید یہ نہیں جانتے کہ دنیا کی جن بڑی بڑی ٹیک کمپنیوں یعنی گوگل اور ایپل کی وہ دن رات پوجا کرتے ہیں، وہ بھی اپنا کوئی نیا سافٹ ویئر پہلے ہی دن مارکیٹ میں نہیں پھینک دیتیں، وہ اسے پہلے ایک محدود دائرے میں ’’بیٹا ورژن‘‘ کے نام پر ٹیسٹ کرتی ہیں اور عام صارفین کو اس کے استعمال سے روکتی ہیں، کیونکہ اس میں بگز Bugs اور سیکیورٹی کے بڑے خطرات ہوتے ہیں، شریعت کا کسی چیز کو ابتداً ناجائز کہنا دراصل اسی بگ والے پروجیکٹ کو روکنا ہے، جب تک کسی نظام کے معاشی اور سماجی بگز دور نہیں ہو جاتے، قانون شریعت عوام کو اس کے فنانشل نقصان سے بچانے کے لیے ایک مضبوط فائر وال لگا دیتا ہے، اب فائر وال پر غصہ نکالنا کہاں کی عقل مندی ہے؟
دنیا بھر کے اسٹاک مارکیٹ ریگولیٹرز کا یہ متفقہ قانون ہے کہ جب کسی کمپنی کے شیئرز کی قیمتیں بغیر کسی معقول وجہ کے قیاس آرائی یعنی اسپیکولیشن کی وجہ سے پاگلوں کی طرح اوپر نیچے ہونے لگیں تو وہ فوری طور پر اس شیئر کی ٹریڈنگ معطل کر دیتے ہیں، چاہے وہ کمپنی کتنی ہی قانونی کیوں نہ ہو، کرپٹو مارکیٹ کا تو پورا وجود ہی اسی پاگل پن پر قائم ہے، جہاں کسی کا ایک ٹویٹ اربوں ڈالر ڈبو دیتا ہے، جب دنیا کا مادی قانون عارضی خطرے پر پابندی لگانے کو عین دانش مندی کہتا ہے، تو شریعت اتنے بڑے مستقل خطرے پر پابندی لگائے تو لبرل مفکرین کی مروڑ کیوں اٹھنے لگتی ہے؟
۲- معترضین یہ تاثر دیتے ہیں جیسے مفتی صبح اٹھ کر اپنی مرضی سے فیصلہ بدل دیتے ہیں، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ فیصلہ نہیں بدلتا بلکہ حقیقتِ حال بدل جاتی ہے، جب دنیا میں پہلی بار کاغذی نوٹ متعارف کروائے گئے تو اس وقت کے ماہرین اور قانون دانوں نے اس کی شدید مخالفت کی تھی، وجہ بالکل واضح تھی کہ اس وقت کاغذی نوٹ کے پیچھے کوئی مضبوط قانونی نظام یا بین الاقوامی ضمانت موجود نہیں تھی، وہ محض کاغذ کا ایک بے وقعت ٹکڑا تھا، اگر کوئی بینک یا کمپنی بھاگ جاتی تو عوام برباد ہو جاتے، لیکن جب دنیا بھر کی حکومتوں نے اسے قانونی حیثیت دی، اس کے ضوابط طے کیے اور اس کے پیچھے ریاست کی ضمانت کھڑی کی، تو اب وہ محض کاغذ کا ٹکڑا نہیں رہا بلکہ مال اور ثمن بن گیا، چنانچہ علماء نے بھی اسے جائز قرار دیا۔
کرپٹو کے معاملے میں بھی بالکل یہی صورتحال ہے، آج کرپٹو میں بظاہر کوئی مادی حقیقت ہے نہ ہی اسے دنیا کی حکومتوں کی قانونی پشت پناہی حاصل ہے، جس کی وجہ سے یہ محض ایک قیاس آرائی اور جوئے کا اڈا بن چکا ہے، کل کو اگر یہ خامیاں دور ہو جائیں، حکومتیں اسے باقاعدہ کرنسی تسلیم کر لیں اور اس کا یہ پاگلوں والا اتار چڑھاؤ کنٹرول ہو جائے، تو اس وقت کا جواز آج کے عدمِ جواز کو غلط ثابت نہیں کرے گا، بعد میں اس کا جائز ہونا مفتیوں کا تضاد نہیں بلکہ کرپٹو کے اپنے اندر آنے والی تبدیلی ہوگی۔
بعض لوگ یہاں یہ مضحکہ خیز اعتراض بھی جڑ دیتے ہیں کہ بینک اکاؤنٹس اور اے ٹی ایم کارڈز میں بھی تو پیسہ ڈیجیٹل ہندسوں کی شکل میں ہی ہوتا ہے، پھر کرپٹو پر یہ سارا غصہ کیوں؟ یہ اعتراض ڈیجیٹل شکل اور ڈیجیٹل حقیقت کا فرق نہ سمجھنے کی نااہلی ہے، بینک اکاؤنٹ کے ہندسے دراصل اس حقیقی ملکی کرنسی کی نمائندگی کرتے ہیں جو بینک کے پاس محفوظ ہوتی ہے اور جس کے پیچھے ریاست کی ضمانت ہوتی ہے، آپ جب چاہیں اے ٹی ایم میں کارڈ ڈال کر انہیں نقد نوٹوں کی شکل میں باہر نکال سکتے ہیں، اس کے برعکس، کرپٹو کے ہندسوں کے پیچھے نہ تو کوئی مادی رقم ہوتی ہے اور نہ ہی کسی حکومت کی ضمانت، وہ محض چند کمپیوٹر کوڈز ہوتے ہیں جن کی قیمت صرف اس وقت تک ہے جب تک کوئی دوسرا خریدار اس سے بڑا جوا کھیلنے پر تیار ہو۔ | 2 288 |
| 18 | ‼️ آجکل کے خود ساختہ اعتدال کی چند جھلکیاں:
▪️سب کو صحیح کہنے والا معتدل کہلایا جاتا ہے، جبکہ غلط اور گمراہی کو غلط اور گمراہی کہنے والے کو متشدد شمار کیا جاتا ہے!
▪️حق وباطل اور ہدایت وگمراہی کو خلط ملط کرنے والا معتدل کہلایا جاتا ہے، جبکہ حق وباطل اور ہدایت وگمراہی میں امتیاز اور فرق کرنے والا متشدد کہلایا جاتا ہے!
▪️حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی گستاخی کو "اختلاف رائے" کا عنوان دینے والے کو معتدل قرار دیا جاتا ہے، جبکہ گستاخ کو گستاخ قرار دینے والے کو متشدد کہا جاتا ہے!
▪️اہلِ باطل کی تعریف کرنے اور انھیں امت میں فروغ دینے کو اعتدال سمجھا جاتا ہے، جبکہ ان کے فتنے سے امت کو آگاہ کرنے والے کو متشدد سمجھا جاتا ہے!
▪️ایمانیات اور عقائدِ اہل السنۃ کو غیر ضروری اور ہلکا قرار دینے والے کو معتدل سمجھا جاتا ہے جبکہ اس معاملے میں سمجھوتہ نہ کرنے والوں کو متشدد کہا جاتا ہے!
▪️اہلِ باطل کے گمراہ کن نظریات کو "اختلافِ رائے" کا خوبصورت عنوان دے کر قابلِ قبول قرار دینے والے کو معتدل سمجھا جاتا ہے، جبکہ ان گمراہ کن نظریات کے حامل اہلِ باطل کو غیر معتبر قرار دینے والے کو متشدد کہا جاتا ہے!
ایسے خود ساختہ اعتدال کے مدعی اور چیمپئن حضرات، اہلِ باطل اور گمراہ طبقات کو تو قبول کرلیتے ہیں لیکن ان کی رائے سے مختلف رائے رکھنے والے اہلِ حق کو قبول کرنے کو تیار نہیں ہوتے، بلکہ انھیں متشدد، شدت پسند اور انتہا پسند جیسے القابات دے کر ان کی مذمت کرتے نظر آتے ہیں!
✍️۔۔۔ بندہ مبین الرحمٰن
محلہ بلال مسجد نیو حاجی کیمپ سلطان آباد کراچی | 1 695 |
| 19 | مولانا سلمان ندوی صاحب سے متعلق ایسا جملہ آپ حضرات نے متعدد مضامین میں دیکھا ہوگا کہ: "ندوی صاحب کی بعض آرا سے اختلاف اپنی جگہ یا بعض صحابہ سے متعلق ان کی بعض آرا کا اختلاف اپنی جگہ لیکن ان کی دینی اور ملی خدمات بڑی وسیع ہیں، وغیرہ۔" مجھے ایسی تعبیرات پر بہت تشویش ہوتی ہے کہ حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی گستاخیوں کو کس قدر ہلکے اور ضمنی انداز میں پیش کیا جارہا ہے! اور کیسے اس بدترین جُرم کو "اختلافِ رائے" جیسا خوبصورت عنوان دے کر ہلکا اور قابلِ قبول قرار دیا جارہا ہے! کیا یہی صحابہ کرام کی محبت، عظمت، جلالت، احترام اور مقام کا تقاضا ہے؟ گستاخِ صحابہ شخص کی دینی خدمات کا کیا کرنا ہے بالخصوص جبکہ گستاخی آخری عمر کا عمل ہو؟! ایسا شخص ہرگز معتبر نہیں ہوسکتا۔ ہم تو احادیث مبارکہ اور اہل السنۃ والجماعۃ کے مسلک کے عین مطابق گستاخِ صحابہ شخص سے بغض فی اللہ رکھتے ہیں۔ اور اگر آپ کے نزدیک صحابہ کرام کی گستاخی کے باوجود ندوی صاحب کی دینی خدمات کا ذکر انصاف پسندی ہے تو پھر یوں تعبیر اختیار کیجیے ناں کہ: "ندوی صاحب کی دینی خدمات اپنی جگہ لیکن ان کی جانب سے صحابہ کرام کی گستاخی نہایت ہی قابلِ مذمت ہے۔" تاکہ معلوم ہو کہ آپ کے دل میں صحابہ کرام کی کیا عظمت ہے اور آپ گستاخِ صحابہ سے نفرت کا رویہ رکھتے ہیں اور آپ اس معاملے میں سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں ہیں! سو ایسے تمام حضرات کو اپنے اس انداز کی اصلاح کرنے کی ضرورت ہے جو کہ صحابہ کرام کی گستاخی کو یوں ہلکے اور ضمنی انداز میں پیش کرتے آرہے ہیں!
✍️۔۔۔ بندہ مبین الرحمٰن
محلہ بلال مسجد نیو حاجی کیمپ سلطان آباد کراچی | 1 828 |
| 20 | مولانا سلمان حسینی ندوی کے بہت سے تلامذہ میری فرینڈ لسٹ میں ہیں، بعض سے ہمارے بہت خوش گوار تعلقات ہیں،میرا خطاب تلامذہ سے ہے، میں سب سے تعزیت کرتا ہوں ، اللہ تعالیٰ آپ کو صبر دے، ایسا نہیں کہ ہم مولانا سے حسد کرتے ہیں ، مولانا واقعی بہت بڑے آدمی تھے ، اب وہ اللہ کی بارگاہ میں پہنچ چکے ہیں ، وہ اللہ جس کے آگے بڑے بڑے بے بسی کی تصویر بن جاتے ہیں ،مولانا سلمان ندوی صاحب کا اختیار بھی اب سلب ہوچکا۔ اب وہ عدالتِ عظمیٰ میں اپنے سیاہ و سفید نامۂ اعمال کے ساتھ حاضر ہیں اور سچی بات یہ ہے کہ اللہ کی بارگاہ میں پاس ہو جانا انسان کی سب سے بڑی کامیابی ہے ، ہماری دلی دعا ہے کہ اللہ اپنے فضل سے ان کی حسنات قبول فرمائے اور سیئات و تقصیرات کو خدمتِ دین کے بدلے معاف فرمائے۔
یہ ایک انسانی جذبہ ہے ، جو ہمیں مولانا سلمان ندوی سے ہے ، لیکن ان کی زندگی کی ایک اور حقیقت ہے ، وہ یہ کہ صحابیت کے تعلق سے ان کے افکار اہلِ سنت سے متصادم تھے، سیدنا حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے انھوں نے کھل کر تبرا کیا ہے ، سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے مفسدِ ایمان تعبیر اختیار کی ہے اور یہ بھی سچ ہے کہ آخر تک وہ اپنی اسی مؤقف پر قائم تھے،
صحابیت کے تعلق سے ہمارا صاف عقیدہ ہے کہ ہم صحابہ سے نفرت رکھنے والوں سے محبت نہیں کرسکتے ، ان کی خدمتِ دین اپنی جگہ ؛ مگر وہ اس نظریہ کے ساتھ رخصت ہوئے کہ ہم انھیں مثالی شخصیت نہیں سمجھ سکتے ، انھوں نے قابلِ تقلید افکار امت کو نہیں دیے ، صحابہ کا معاملہ سب سے اہم ہے، انھوں نے سیدنا معاویہ رضہ اللہ عنہ کا جس طرح مذاق اڑایا ، ان کا کفن نوچا، ان کے خلاف گھٹیا زبان استعمال کی ، وہ اب مثالی شخصیت نہیں رہے، وہ روافض اور جماعتِ اسلامی کے لیے تو نمونہ ہوسکتے ہیں ؛ اہلِ سنت والجماعت کو ان کے افکار سے دوری کا اعلان کرنا واجب ہے!
وفات شدہ لوگوں کے محاسن یاد کرو ؛ لیکن اگر کوئی ان کی خامی کو ہی حسن سمجھنے لگے تو پھر کھل کر بتاؤ کہ وہ ایک خطیب، عالم، محدث ، مفسر اور مؤلف ہونے کے ساتھ شیعیت کی زبان بولتے تھے ، ان کے دل میں صحابہ کا بغض تھا ، وہ جن کے لیے قابلِ تقلید تھے وہ تقلید کریں ، اہلِ سنت و الجماعت کے لیے وہ نمونہ نہیں تھے، ان کا نظریہ باطل تھا ، یہ کہنا صحابہ اور رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کا تقاضا ہے!
(انس بجنوری) | 2 135 |
