Global Eye
Open in Telegram
جنگ کی تلخ سچائیوں کے بارے میں بیداری پیدا کرنے کے لیے حقائق اور حقیقت پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے عالمی تنازعات کو دستاویز کرنا۔ محبت امن🕊️🆓🇯🇴✌️
Show moreIndia184 180The category is not specified
450
Subscribers
No data24 hours
+367 days
+12330 days
Posts Archive
450
#مالی: القاعدہ جماعت نصرۃ الاسلام و المسلمین کو فوجی کیمپ پر قبضے میں حاصل ہونے والا جنگی سامان
#گلوبل_آئ
450
#شام | #ادلب میں داعش کا "پانچواں خلیفہ" فضائ چھاپے میں مارا گیا۔
امریکہ کی قیادت میں بین الاقوامی اتحادی افواج نے بدھ کی صبح شمالی ادلب کے دیہی علاقوں میں #عطما قصبے میں ایک پیچیدہ فضائ آپریشن کیا، جس میں ایک گھر کو نشانہ بنایا گیا جہاں داعش کے رہنما ابو حفص الہاشمی القرشی چھپے ہوئے تھے۔ اگست 2023 میں ان سے بیعت کرنے کے بعد سے انہیں تنظیم کا پانچواں خلیفہ سمجھا جاتا ہے۔
مقامی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ آپریشن میں پانچ امریکی ہیلی کاپٹروں نے حصہ لیا، اس کے ساتھ خصوصی دستوں کی ایک بڑی تعیناتی تھی جنہوں نے نشانہ بنائے گئے علاقے کے گرد حفاظتی حصار نافذ کیا اور لاؤڈ سپیکر پر رہائشیوں کو گھروں کے اندر رہنے کی اپیل کی۔ معلومات سے پتہ چلتا ہے کہ ہدف، ایک عراقی شہری، ایک فرانسیسی شہری سمیت یورپی خواتین کے ساتھ ایک نۓ نام سے وہاں رہائش پذیر تھا۔
شامی آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے مطابق تقریباً ڈیڑھ گھنٹے تک جاری رہنے والے اس آپریشن کے نتیجے میں جگہ کا کنٹرول حاصل کر لیا گیا۔ ایک لاش کو گھر سے نکالا گیا جس کے بارے میں متضاد اطلاعات ہیں کہ آیا وہ چھاپے کے دوران مارا گیا تھا یا زندہ پکڑا گیا تھا۔ خواتین کو بھی گرفتار کیا گیا، اور یہ واضح نہیں ہے کہ وہ اب بین الاقوامی اتحاد یا شامی حکومت کی تحویل میں ہیں۔
یہ پیشرفت حلب کے دیہی علاقوں میں الباب شہر میں اتحادی افواج کی جانب سے کی جانے والی اسی طرح کی کارروائی کے صرف ایک ماہ بعد ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں داعش کے سرکردہ رہنما مصلح الحردانی اور ان کے دو بیٹوں کی ہلاکت ہوئی تھی۔ یہ شام کے اندر داعش تنظیم کے باقی اعلیٰ درجے کے رہنماؤں کے لیے خطرے کا واضح اشارہ ہے۔
#گلوبل_آئ
@GlobalEyee
450
17 اگست: ضیاء الحق کا یومِ وفات
17 اگست 1988 کو بہاولپور کے قریب پیش آنے والے اس مبینہ فضائی حادثے میں صدر جنرل ضیا الحق، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل اختر رحمان، امریکی سفیر آرنلڈ لوئس رافل سمیت 30 کے قریب افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
450
بادلوں کا پھٹنا یا کلااؤڈ برسٹ کیا ہے اج کل کے پی کے میں پہاڑی علاقوں میں ایسا کیوں ہو رہا ہے اس کی سائنسی وجوہات کیا ہیں ائیے دیکھتے اور سمجھتے ہیں
کلاؤڈ برسٹ (Cloud Burst) ایک ایسا قدرتی موسمی واقعہ ہے جس میں کسی خاص علاقے میں اچانک اور بہت تھوڑے وقت میں انتہائی زیادہ بارش ہو جاتی ہے — عام طور پر یہ بارش چند منٹ سے ایک گھنٹے کے اندر اتنی زیادہ ہوتی ہے جتنی عام بارش میں کئی دن لگتے ہیں۔ اس سے اکثر شدید فلیش فلڈز (اچانک آنے والے سیلاب) پیدا ہو جاتے ہیں۔
---
📍 یہ زیادہ تر پہاڑی علاقوں میں کیوں ہوتا ہے؟
کلاؤڈ برسٹ کے لیے جو ماحول چاہیے، وہ پہاڑی علاقوں میں زیادہ آسانی سے بنتا ہے، اس کی چند اہم وجوہات یہ ہیں:
1. اوروجرافک لفٹنگ (Orographic Lifting)
جب نم ہوائیں پہاڑ سے ٹکراتی ہیں تو وہ اوپر اٹھتی ہیں، اور جتنا وہ اوپر جاتی ہیں، اتنی ٹھنڈی ہو کر نمی کو بادلوں میں بدل دیتی ہیں۔
پہاڑی علاقوں میں یہ عمل بہت تیز اور شدید ہو سکتا ہے، جس سے بادل اچانک بہت زیادہ پانی سے بھر جاتے ہیں۔
2. بادلوں کا پھنس جانا
بعض اوقات پہاڑ بادلوں کو آگے بڑھنے نہیں دیتے، اور وہ ایک ہی جگہ پر رک کر پانی گراتے رہتے ہیں۔
3. زیادہ نمی اور گرم ہوا کا امتزاج
مون سون یا نم دار سمندری ہوائیں جب گرم وادیوں سے ٹکرا کر اچانک بلند ٹھنڈے علاقوں میں پہنچتی ہیں تو پانی کے بخارات تیزی سے گاڑھے ہو کر شدید بارش میں بدل جاتے ہیں۔
4. لوکلائزڈ (مقامی) موسمی نظام
کلاؤڈ برسٹ عام بارش کے نظام کا حصہ نہیں ہوتا، بلکہ یہ اکثر ایک چھوٹے سے علاقے (کئی کلومیٹر) میں محدود رہتا ہے، اور پہاڑ یہ "محدود دائرہ" بنانے میں مدد دیتے ہیں۔
---
🌧 وجہ کو سادہ الفاظ میں سمجھ لیں:
آپ ایسے سمجھ لیں کہ بادل ایک بڑے ٹینک کی طرح ہیں۔
پہاڑی علاقوں میں بادل بہت تیزی سے "پانی سے بھر" جاتے ہیں، اور جب وہ ٹینک اچانک پھٹ جائے، تو چند منٹ میں وہ سارا پانی زمین پر آ جاتا ہے۔
---
450
ٹرمپ نے یورپی رہنماؤں کو بتایا کہ اگر زیلنسکی نے تمام ڈونباس کو روس کے حوالے کر دے، بشمول وہ علاقے جو روس کے زیر کنٹرول نہیں ہیں۔
بدلے میں، پوتن نے موجودہ خطوط پر جنگ بندی کی پیشکش کی اور یوکرین یا یورپ پر دوبارہ حملہ نہ کرنے کا تحریری عہد کا کہا
ماخذ: NYT
450
بریکنگ: امریکی محکمہ خارجہ نے غزہ کے لوگوں کے لیے تمام وزیٹر ویزوں کو روک دیا ہے جب کہ وہ حالیہ طبی-انسانی ہمدردی کے ویزوں کی منظوری کے عمل کا جائزہ لے رہا ہے۔
450
انقلاب اسلامی پاکستان یا IIP کی نئ ویڈیو اور سکیورٹی فورسز کے لیے ابھرتا چیلنج:
پاکستان کے یومِ آزادی 14 اگست کے موقع پر مسلح جماعت انقلابِ اسلامی پاکستان کی جانب سے ویڈیو بعنوان "کیا ہم آزاد ہیں" نشر کی گئ ہے۔ ویڈیو میں خاص طور پر عسکریت پسند گروپ نے پہلی بار اپنے امیر غازی شھاب الدین کا ویڈیو پیغام نشر کیا۔ جس میں یوم آزادی کے حوالے سے گفتگو شامل ہے۔ گروپ کے امیر جو اسلحہ تھامے جنگجوؤں کے ایک گروپ کے ساتھ موجود تھے، نے کہا کہ 14 اگست 1947 کو انگریزوں سے آزادی تو حاصل کر لی لیکن اب انگریزوں کی غلام پاکستانی فوج اس ملک پر قابض ہو چکی ہے۔ جو غزہ اور دنیا کے دیگر خطوں میں مظلوم مسلمانوں کی مدد کے لیے تو حرکت میں نہیں آتی۔ لیکن اپنے ہی ملک میں عام قبائلی عوام کو بمباریوں کا نشانہ بنانے کے لیۓ ضرور حرکت میں آتی ہے۔
ویڈیو میں انقلابِ اسلامی پاکستان کی جانب سے چند ماہ قبل پاکستانی فوج کے گراۓ گۓ ڈرون سے حاصل شدہ فوٹیج کے مناظر دکھاتے ہوۓ یہ سوال اٹھایا گیا ہے کہ کہ کیا واقعی اہلِ پاکستان آزاد ہیں۔ پکڑے گۓ ڈرون کی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کس طرح پاکستانی سکیورٹی فورسز قبائل میں نہتے عام عوام، عورتوں اور بچوں پر بم گرا رہی ہیں۔ اور چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کرتے ہوۓ پاکستانی فوج معصوم شہریوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کررہی ہے۔ انقلابِ اسلامی IIP کے امیر نے پاکستانی عوام کو مخاطب کرتے ہوے کہا کہ اٹھیں اور اس غلام قابض پاکستانی فوج سے آزادی حاصل کرتے ہوۓ 1947 کے اس وعدے کی تکمیل کریں کہ یہاں اسلام کا نظام قائم ہو گا۔ جس کی راہ میں اصل رکاوٹ پاکستانی فوج ہے۔
ویڈیو کا اختتام انقلابِ اسلامی پاکستان کے جنگجوؤں کو اعلیٰ جنگی مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوۓ ان الفاظ کے ساتھ ہوتا ہے کہ جب تک ہم ان غاصب، کرپٹ اور امریکی غلام جرنیلوں سے چھٹکارا حاصل نہیں کرتے تب تک ہم سے منزل یعنی اسلامی نظام کو نہیں پا سکتے جس کے لیے 1947 میں لاکھوں مسلمانوں نے قربانیاں دے کر یہ ملک حاصل کیا تھا۔
ویڈیو میں جس طرح عسکریت پسند گروپ نے نظریاتی عنصر کے علاؤہ منظم جنگجوؤں کی مہارت کو واضح کیا۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ مستقبل میں یہ گروپ اتحاد میں شامل دیگر جنگجوؤں کے ساتھ مل کر سکیورٹی فورسز کے لیۓ سنگین صورت پیدا کر سکتا ہے۔
پاکستان میں عسکریت پسند جماعتوں کا اتحاد "اتحاد المجاہدین پاکستان" یا IMP جس میں حافظ گل بہادر گروپ ، لشکرِ اسلام اور انقلابِ اسلامی پاکستان شامل ہیں، نظام بیزار عسکریت پر مائل نوجوانوں کو اپنی طرف راغب کرنے کا ایک نیا پلیٹ فارم ہو سکتا ہے۔ جہاں اتحاد میڈیا جدید میڈیا مہارتوں اور اعلیٰ سطح پر پروپیگنڈا مواد تیار کر رہا ہے۔
#گلوبل_آئ
@GlobalEyee
450
پاکستان کے یومِ آزادی 14 اگست کے موقع پر مسلح جماعت انقلابِ اسلامی پاکستان کی جانب سے ویڈیو بعنوان "کیا ہم آزاد ہیں" نشر کی گئ ہے۔ ویڈیو میں خاص طور پر عسکریت پسند گروپ نے پہلی بار اپنے امیر غازی شھاب الدین کا ویڈیو پیغام نشر کیا۔ جس میں یوم آزادی کے حوالے سے گفتگو شامل ہے۔ گروپ کے امیر نے کہا کہ 14 اگست 1947 کو انگریزوں سے آزادی تو حاصل کر لی لیکن اب انگریزوں کی غلام پاکستانی فوج اس ملک پر قابض ہو چکی ہے۔ جو غزہ اور دنیا کے دیگر خطوں میں مظلوم مسلمانوں کی مدد کے لیے تو حرکت میں نہیں آتی۔ لیکن اپنے ہی ملک میں عام قبائلی عوام کو بمباریوں کا نشانہ بنانے کے لیۓ ضرور حرکت میں آتی ہے۔
ویڈیو میں انقلابِ اسلامی پاکستان کی جانب سے چند ماہ قبل پاکستانی فوج کے گراۓ گۓ ڈرون سے حاصل شدہ فوٹیج کے مناظر دکھاتے ہوۓ یہ سوال اٹھایا گیا ہے کہ کہ کیا واقعی اہلِ پاکستان آزاد ہیں۔ پکڑے گۓ ڈرون کی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کس طرح پاکستانی سکیورٹی فورسز قبائل میں نہتے عام عوام، عورتوں اور بچوں پر بم گرا رہی ہیں۔ اور چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کرتے ہوۓ پاکستانی فوج معصوم شہریوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کررہی ہے۔ انقلابِ اسلامی کے امیر نے پاکستانی عوام کو مخاطب کرتے ہوے کہا کہ اٹھیں اور اس غلام قابض پاکستانی فوج سے آزادی حاصل کرتے ہوۓ 1947 کے اس وعدے کی تکمیل کریں کہ یہاں اسلام کا نظام قائم ہو گا۔ جس کی راہ میں اصل رکاوٹ پاکستانی فوج ہے۔
ویڈیو کا اختتام انقلابِ اسلامی پاکستان کے جنگجوؤں کو اعلیٰ جنگی مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوۓ ان الفاظ کے ساتھ ہوتا ہے کہ جب تک ہم ان غاصب، کرپٹ اور امریکی غلام جرنیلوں سے چھٹکارا حاصل نہیں کرتے تب تک ہم سے منزل یعنی اسلامی نظام کو نہیں پا سکتے جس کے لیے 1947 میں لاکھوں مسلمانوں نے قربانیاں دے کر یہ ملک حاصل کیا تھا۔
450
اتحاد المجاہدین پاکستان یا IMP کی جانب سے 14 اگست کو سکیورٹی فورسز پر حملوں کا جائزہ۔ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ گروپ نے ایک ہی دن میں تقریبا 18 حملے سرانجام دیۓ ہیں۔ جس میں تین ڈرون حملے بھی شامل ہیں۔ کواڈ کاپٹر سے حملوں کا نیا رجحان سکیورٹی فورسز کے لیے پریشانی کا باعث ہے۔
#گلوبل_آئ
450
اتحاد المجاہدین پاکستان یا IMP کی جانب سے پاکستانی سکیورٹی فورسز پر ہونے والے متعدد ڈرون حملوں کی فوٹیج
450
14 اگست کو ٹی ٹی پی TTP کی جانب سے پاکستانی سکیورٹی فورسز پر 74 حملوں کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ دوسری طرف اتحاد المجاہدین پاکستان IMP نامی گروپ نے اسی دن سکیورٹی فورسز پر 18 حملوں کا دعویٰ کیا۔ جبکہ گروپ کی جانب سے متعدد ڈرون حملوں کی فوٹیج بھی شائع کی گئ ہے۔
