en
Feedback
|-|ard Talk جلی کٹی

|-|ard Talk جلی کٹی

Open in Telegram

Cartoonist, Journalist, Researcher Journalism Is Not A Crime ہمارا فیسبک پیج بھی ضرور لائک کریں https://www.facebook.com/profile.php?id=61564417160250&mibextid=ZbWKwL

Show more
1 748
Subscribers
No data24 hours
+207 days
+4330 days
Posts Archive
ارادے اور عزم کو نہ کمزور کر سکے اور نہ کر سکو گے۔ شام کے سیاسی امن کے لیے قائم شدہ جیل میں مجاہد جمال رفعت عتیبی کو قید کیا گیا۔ اس انفرادی کٹہرے میں جو کہ تاریک اور متعفن تھا، ہر جگہ پھپوندی تھی۔ قرآن کریم پر پابندی تھی۔ وہ دور مسجدوں سے سنائی دینے والی ہر آیت کے لیے بے تاب رہتے، اسی کو دہراتے اور یاد کر لیتے۔ ایک دفعہ جرأت کرتے ہوئے انہوں نے قرآن کریم کا نسخہ طلب کیا تو انہیں جواب کٹہرے تک گھسیٹتے ہوئے گندی گالیوں کے ساتھ مار پیٹ اور مختلف قسم کی اذیتوں سے ملا۔ عتیبی فرماتے ہیں کہ جس دن مارتے ہوئے وہ مجھے کٹہرے تک لے کر گئے اس دن میں نے اپنے پہرہ دار سے کہا: اللہ کی قسم! اگر تم لوگ مجھے قرآن کریم دے دیتے، میں اس کٹہرے میں ہزار سال رہ لیتا۔“ [شعر کا نثری ترجمہ]: (اللہ کی قسم! دعوت کبھی بھی اذیتوں سے شکست نہیں کھاتی۔ تاریخ میں میری یہ قسم پوری ہو کر رہی۔ میرے ہاتھ زنجیر میں جکڑ دو، میرے سینے میں کوڑوں سے آگ لگا دو، میری گردن پر چھری رکھ دو۔ تم ایک گھڑی کے لیے میری سوچ کو گھیر نہ سکو گے۔ نہ ہی میرے ایمان کو اور نورِ یقین کو چھین سکو گے۔ نور تو میرے دل میں ہے، اور دل میرے رب کے ہاتھ میں ہے۔ اور رب میرا حافظ و مددگار ہے۔) ابو البراء الاِبی کی تالیف ’تبصرة الساجد في أسباب انتكاسۃ المجـ.ــاهد‘ کے اردو ترجمے "مجـــ۔اہد جـــہـــ.ــاد کیوں چھوڑ جاتا ہے؟" سے اقتباس

ہاں، جیل کبھی بہت اچھے پھل بھی دیتی ہے۔ جب داعی اور مجاہد جیل کے اوقات کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت گزاری اور عبادت میں گزارے۔ قرآن یاد کرے، علم دین سیکھے، دعوت دے، اپنے اور اوروں کے تجربوں سے فائدہ اٹھائے…… تاکہ زیادہ مضبوط ہو کر نکلے۔ اپنی دعوت کو مضبوطی سے پکڑے اور اپنے جہاد اور منہج پر ثابت قدم رہے۔ لیکن ایسا بھی ہوتا ہے کہ انسان ٹوٹ جائے اور الٹے پاؤں پھر جائے۔ لوگوں کے عذاب کو اللہ تعالیٰ کا عذاب سمجھنے لگے۔ ایسی حالت میں وہ تبدیلی لائے، اپنے موقف سے پھر جائے اور زمیں بوس ہو جائے۔ جبکہ اس سے پہلے اسے حق کی پہنچان ہو گئی تھی، وہ حق دیکھ چکا تھا اور راہِ حق پر چل چکا تھا۔ اب وہ حق کو باطل سے خلط ملط کرنا شروع کر دیتا ہے، دین دشمن کی صفوں میں گھس جاتاہے۔ اس کی شکلیں بے شمار ہیں اور مختلف و متنوع ہیں۔ اللہ تعالیٰ سے ہم عافیت، سلامتی اور خاتمہ بالخیر کا سوال کرتے ہیں۔ اور ممکن ہے کہ وہ گدلا اور کھوٹا ہو جائے۔ مطلب یہ ہے کہ جیل انسان کی طبیعت کے مطابق اسے راہِ راست سے ہٹا دیتا ہے۔ اگر وہ سختی کی طرف مائل ہو تو قید و بند اور عقوبت و اذیت اسے غلو کی طرف لے جاتی ہے۔ انہیں میں سےقید کی تکفیری نظریات نے جنم لیا، جس نے افراد کی عمومی تکفیر کی، پورے پورے معاشرے کو کافر قرار دیا۔ ان کے تکفیر کسی دلیل کے بنا پر نہیں ہوتی تھی بلکہ انتقامی اور متشدد ردِعمل تھا۔ جس سے کوئی نہیں بچتا ما سوائے جو خود ان کی طرح ہو اور ہو بہو ان کے عقائد کا حامل ہو۔ اس کے برعکس اگر  قیدی کی طبیعت نرم ہو تو وہ جدید ارجاء اور جہمیت کی طرف مائل ہو جاتا ہے۔ تفریط اور مداہنت میں مبتلا ہوتا ہے۔ وہ رخصتیں یا علماء کی غلطیوں کو ڈھونڈتا ہے اور انہیں اپنانے لگتا ہے۔ سمجھ داری اور دلیل کے بنا پر نہیں، بلکہ اس لیے کہ وہ جیل کی تنگی میں اس کی خواہش اور سوچ کے مطابق تھیں۔ جیل کی سختی کے نتیجے میں جینے کے اسباب ڈھونڈنے والی اس کی عقل جہاں منحرف ہوئی اسی طرح وہ اپنے پسندیدہ نظریات وضع کرتا ہے۔ یہ ساری آزمائشیں ہیں جن کے جھیلنے والوں کے ساتھ ہم رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے ہی فضل و کرم اور احسان و توفیق سے ہمیں محفوظ رکھا۔ اہل افراط اور ان کے افراط سے بھی اور اہل تفریط اور ان کی تفریط سے۔ مزید جان لیجیے کہ سجن کے فتنے اور اللہ کے دشمن کی اذیتیں مختلف ممالک کی بنا پر کم اور زیادہ ہوتی ہیں۔ اسی طرح داعی کی اپنی دعوت اور صحیح عقیدے کے کھلم کھلا بیان کی بنا پر بھی۔ اسی طرح اس شخص کی طاغوت سے سب سے زیادہ دشمنی رکھنے والی جہادی تحریک کی قربت کی بنا پر بھی۔ اسی طرح قیدی پر قید میں گزرنے والے مرحلوں کے بنا پر بھی۔ قید کے شروع کے دنوں میں قیدِ تنہائی، لگاتار تفتیش، عقوبت خانوں کے چکر اور بیرونی دنیا سے رابطوں کے کٹ جانے کے مرحلے میں قیدی پر حالت زیادہ سخت ہوتی ہے۔ جبکہ اس کے بعد جب اس کا معاملہ کچھ سنبھل جائے اور اسے عمومی جیل میں منتقل کر دیا جائےجہاں وہ لوگوں سے رابطہ کر سکے تو اس کی حالت کچھ بہتر ہو جاتی ہے۔ یہ سب تفاصیل جاننے سے اور یہ کہ قیدی سے کس مرحلے اور کس حالت میں وہ بات نکلی جو اس نے کہی، اس سے اس کی حقانیت اور وقعت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ بہر حال جیل عموماً دباؤ اور زبردستی کی جگہ ہے۔ چنانچہ جب تک قیدی قید میں ہے تو وہ اس کی حالت کی مسلسل تبدیلی، اسے ایک قید خانے سے دوسرے میں منتقل کرنے، اس پر اچانک دباؤ پڑ جانے اور دیگر حالات کا شکار رہتا ہے۔ اور ان عناصر کا خیال رکھنا چاہیے اور پرکھنا چاہیے جب بھی قیدیوں کی طرف سے فتوے یا بیانات جاری ہوں۔ خصوصاً اگر یہ ان کے سابقہ منہج اور ان کے کردار کے مخالف ہوں۔“ شیخ ابو محمد مقدسی حفظہ اللہ نے مزید فرمایا: ”میں وہ کہتا ہوں جو کہ میں نے مسلسل تفتیش کے دوران تفتیش کاروں سے کہا: کیا تم جنوبی کوریا کے ’کیم سونگ میونگ‘ کو جانتے ہو؟ اللہ کے حکم سے وہ مجھ سے زیادہ ثابت قدم نہیں رہا ہوگا! جب تفتیش کار اس کے بارے میں دریافت کرتا تو میں بتاتا کہ وہ کھوکھلے اشتراکی نظریات کا حامل تھا۔ اس کے باوجود وہ جنوبی کوریا میں سب سے پرانا اشتراکی قیدی ہے جو اپنے نظریات کے سبب ۴۴ سال کے لیے کپڑوں کی الماری کے برابر کٹہرے میں بند رہا لیکن ایک لحظے کے لیے بھی اشتراکی نظریات پر یقین سے پیچھے نہ ہٹا۔ یہاں تک کہ اسے اس کے نظریات پر ہی رِہا کر دیا گیا۔ حالانکہ اس وقت اشتراکیت کو شکست کا سامنا تھا اور سوویت یونین ٹوٹ چکی تھی اور لاکھوں اشتراکی اپنے نظریات چھوڑ چکےتھے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اس شخص کو سب سے پرانا سیاسی قیدی قرار دیا ہے۔ یہ ستر سالہ شخص جیل سے تب نکلا جب اس کی جوانی جیل میں گزر گئی۔ اتنا لاغر ہو چکا تھا کہ اس کا دوست اسے سہارا دے رہا تھا۔ صحافیوں کے کیمروں کے سامنے کھڑا ہو کر بہ زبانِ حال پوری دنیا سے اور خصوصاً جنہوں نے اسے قید کیے رکھا تھا، ان سے کہہ رہا تھا: اگرچہ تم نے میرے جسم کو کمزور کر دیا ہے، ہڈیوں اور کمر کو توڑ ڈالا ہے، لیکن تم میرے

 قیدی کی طبیعت نرم ہو تو وہ جدید ارجاء اور جہمیت کی طرف مائل ہو جاتا ہے۔ تفریط اور مداہنت میں مبتلا ہوتا ہے۔ وہ رخصتیں یا علماء کی غلطیوں کو ڈھونڈتا ہے اور انہیں اپنانے لگتا ہے۔ سمجھ داری اور دلیل کے بنا پر نہیں، بلکہ اس لیے کہ وہ جیل کی تنگی میں اس کی خواہش اور سوچ کے مطابق تھیں۔ جیل کی سختی کے نتیجے میں جینے کے اسباب ڈھونڈنے والی اس کی عقل جہاں منحرف ہوئی اسی طرح وہ اپنے پسندیدہ نظریات وضع کرتا ہے۔ یہ ساری آزمائشیں ہیں جن کے جھیلنے والوں کے ساتھ ہم رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے ہی فضل و کرم اور احسان و توفیق سے ہمیں محفوظ رکھا۔ اہل افراط اور ان کے افراط سے بھی اور اہل تفریط اور ان کی تفریط سے۔ مزید جان لیجیے کہ سجن کے فتنے اور اللہ کے دشمن کی اذیتیں مختلف ممالک کی بنا پر کم اور زیادہ ہوتی ہیں۔ اسی طرح داعی کی اپنی دعوت اور صحیح عقیدے کے کھلم کھلا بیان کی بنا پر بھی۔ اسی طرح اس شخص کی طاغوت سے سب سے زیادہ دشمنی رکھنے والی جہادی تحریک کی قربت کی بنا پر بھی۔ اسی طرح قیدی پر قید میں گزرنے والے مرحلوں کے بنا پر بھی۔ قید کے شروع کے دنوں میں قیدِ تنہائی، لگاتار تفتیش، عقوبت خانوں کے چکر اور بیرونی دنیا سے رابطوں کے کٹ جانے کے مرحلے میں قیدی پر حالت زیادہ سخت ہوتی ہے۔ جبکہ اس کے بعد جب اس کا معاملہ کچھ سنبھل جائے اور اسے عمومی جیل میں منتقل کر دیا جائےجہاں وہ لوگوں سے رابطہ کر سکے تو اس کی حالت کچھ بہتر ہو جاتی ہے۔ یہ سب تفاصیل جاننے سے اور یہ کہ قیدی سے کس مرحلے اور کس حالت میں وہ بات نکلی جو اس نے کہی، اس سے اس کی حقانیت اور وقعت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ بہر حال جیل عموماً دباؤ اور زبردستی کی جگہ ہے۔ چنانچہ جب تک قیدی قید میں ہے تو وہ اس کی حالت کی مسلسل تبدیلی، اسے ایک قید خانے سے دوسرے میں منتقل کرنے، اس پر اچانک دباؤ پڑ جانے اور دیگر حالات کا شکار رہتا ہے۔ اور ان عناصر کا خیال رکھنا چاہیے اور پرکھنا چاہیے جب بھی قیدیوں کی طرف سے فتوے یا بیانات جاری ہوں۔ خصوصاً اگر یہ ان کے سابقہ منہج اور ان کے کردار کے مخالف ہوں۔“ شیخ ابو محمد مقدسی حفظہ اللہ نے مزید فرمایا: ”میں وہ کہتا ہوں جو کہ میں نے مسلسل تفتیش کے دوران تفتیش کاروں سے کہا: کیا تم جنوبی کوریا کے ’کیم سونگ میونگ‘ کو جانتے ہو؟ اللہ کے حکم سے وہ مجھ سے زیادہ ثابت قدم نہیں رہا ہوگا! جب تفتیش کار اس کے بارے میں دریافت کرتا تو میں بتاتا کہ وہ کھوکھلے اشتراکی نظریات کا حامل تھا۔ اس کے باوجود وہ جنوبی کوریا میں سب سے پرانا اشتراکی قیدی ہے جو اپنے نظریات کے سبب ۴۴ سال کے لیے کپڑوں کی الماری کے برابر کٹہرے میں بند رہا لیکن ایک لحظے کے لیے بھی اشتراکی نظریات پر یقین سے پیچھے نہ ہٹا۔ یہاں تک کہ اسے اس کے نظریات پر ہی رِہا کر دیا گیا۔ حالانکہ اس وقت اشتراکیت کو شکست کا سامنا تھا اور سوویت یونین ٹوٹ چکی تھی اور لاکھوں اشتراکی اپنے نظریات چھوڑ چکےتھے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اس شخص کو سب سے پرانا سیاسی قیدی قرار دیا ہے۔ یہ ستر سالہ شخص جیل سے تب نکلا جب اس کی جوانی جیل میں گزر گئی۔ اتنا لاغر ہو چکا تھا کہ اس کا دوست اسے سہارا دے رہا تھا۔ صحافیوں کے کیمروں کے سامنے کھڑا ہو کر بہ زبانِ حال پوری دنیا سے اور خصوصاً جنہوں نے اسے قید کیے رکھا تھا، ان سے کہہ رہا تھا: اگرچہ تم نے میرے جسم کو کمزور کر دیا ہے، ہڈیوں اور کمر کو توڑ ڈالا ہے، لیکن تم میرے ارادے اور عزم کو نہ کمزور کر سکے اور نہ کر سکو گے۔ شام کے سیاسی امن کے لیے قائم شدہ جیل میں مجاہد جمال رفعت عتیبی کو قید کیا گیا۔ اس انفرادی کٹہرے میں جو کہ تاریک اور متعفن تھا، ہر جگہ پھپوندی تھی۔ قرآن کریم پر پابندی تھی۔ وہ دور مسجدوں سے سنائی دینے والی ہر آیت کے لیے بے تاب رہتے، اسی کو دہراتے اور یاد کر لیتے۔ ایک دفعہ جرأت کرتے ہوئے انہوں نے قرآن کریم کا نسخہ طلب کیا تو انہیں جواب کٹہرے تک گھسیٹتے ہوئے گندی گالیوں کے ساتھ مار پیٹ اور مختلف قسم کی اذیتوں سے ملا۔ عتیبی فرماتے ہیں کہ جس دن مارتے ہوئے وہ مجھے کٹہرے تک لے کر گئے اس دن میں نے اپنے پہرہ دار سے کہا: اللہ کی قسم! اگر تم لوگ مجھے قرآن کریم دے دیتے، میں اس کٹہرے میں ہزار سال رہ لیتا۔“ [شعر کا نثری ترجمہ]: (اللہ کی قسم! دعوت کبھی بھی اذیتوں سے شکست نہیں کھاتی۔ تاریخ میں میری یہ قسم پوری ہو کر رہی۔ میرے ہاتھ زنجیر میں جکڑ دو، میرے سینے میں کوڑوں سے آگ لگا دو، میری گردن پر چھری رکھ دو۔ تم ایک گھڑی کے لیے میری سوچ کو گھیر نہ سکو گے۔ نہ ہی میرے ایمان کو اور نورِ یقین کو چھین سکو گے۔ نور تو میرے دل میں ہے، اور دل میرے رب کے ہاتھ میں ہے۔ اور رب میرا حافظ و مددگار ہے۔) ابو البراء الاِبی کی تالیف ’تبصرة الساجد في أسباب انتكاسۃ المجـ.ــاهد‘ کے اردو ترجمے "مجـــ۔اہد جـــہـــ.ــاد کیوں چھوڑ جاتا ہے؟" سے اقتباس

”جیل ایک آزمائش ہے۔ جو یا تو قیدی کو توڑ دیتی ہے، یا نچوڑ دیتی ہے یا پھر بار آور کرتی ہے۔ چنانچہ قیدی ہر قسم کی ملاوٹوں سے پاک ہو کر نکلتا ہے۔ نظریات کی ملاوٹیں، خواہشاتِ نفس کی ملاوٹیں…… اس طرح انسان کا ادراک ترقی پاتا ہے اور اس کا نفس اپنے آپ کو مزید نکھارنے اور اپنی تربیت کرنے کا عادی بن جاتا ہے۔ جیل کی تعریف اتنی ہی کی جاتی ہے جتنا انسان اس سے فائدہ اٹھا لیتا ہے۔ یہ نہیں کہ جیل خود قابلِ تعریف اور رہنے کے لائق ہے، کیونکہ ممکن ہے کہ انسان وہاں الٹے پاؤں پھر جائے۔ اور ممکن ہے کہ انسان ویسے ہی نکلے جیسے اس میں جاہل، اندھا اور بداخلاق داخل ہوا تھا۔ ممکن ہے کہ ان صفات میں وہ آگے بھی نکل جائے۔ اس سب کا دار و مدار انسان اور اس کی سوچ ہے کہ دنیا کا ظاہر اور معاملے کی اصل کیا ہے۔ خلاصہ یہ کہ قید ہونا کوئی قابلِ تعریف مرتبہ نہیں ہے، اور نہ ہی ایسی چیز جسے انسان اس لیے حاصل کرے کہ اپنے ساتھیوں میں افضل قرار پائے۔ بلکہ دیکھا جائے کہ انسان اس تجربے سے کیا سیکھ پایا۔“ شیخ ابو قتادہ حفظہ اللہ ابو البراء الاِبی کی تالیف ’تبصرة الساجد في أسباب انتكاسۃ المجـ.ــاهد‘ کے اردو ترجمے "مجـــ۔اہد جـــہـــ.ــاد کیوں چھوڑ جاتا ہے؟" سے اقتباس

4_5935897566192342739.mp326.13 MB

Repost from اذانِ سحر
قربانی کی یہ عید غزہ کے با ہمت اور صبر و ایمان کے پیکر مسلمانوں کو مبارک ہو، جو قربانی کے اصل مفہوم کو سمجھتے ہیں۔ #غزه_تقاوم
قربانی کی یہ عید غزہ کے با ہمت اور صبر و ایمان کے پیکر مسلمانوں کو مبارک ہو، جو قربانی کے اصل مفہوم کو سمجھتے ہیں۔ #غزه_تقاوم_وستنتصر_بأذن_الله #عيد_الأضحى_المبارك

اسرائیل ہر وقت راگ الاپتا ہے کہ حماس سویلینز کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرتی ہے اب خود اتنے گنجان آبادی والے علاقے سے میزائل فائر کررہا ہے جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اسرائیل خود اپنے شہریوں کو ہیومین شیلڈ کے طور پر استعمال کررہا ہے #IsraeliranWar https://t.co/Mr9UbGNGIJ 🔗 Politics plus (@Polplusorg) 📲 @twittervid_bot

اللہ کی نازل کردہ شریعت سے بغاوت کر کے اپنی معیشت پر ناز کرنے والی قوتوں کا انجام کیا ہوا، وہی خسارہ، معیشت کا بھی اور ابدی ز
اللہ کی نازل کردہ شریعت سے بغاوت کر کے اپنی معیشت پر ناز کرنے والی قوتوں کا انجام کیا ہوا، وہی خسارہ، معیشت کا بھی اور ابدی زندگی کا بھی، مسلمانوں کا قتلِ عام کرنے کے لیے اور افغانستان میں اللہ کی زمین سے اللہ کا قانون ختم کرنے کے لیے عالمِ کفر کا ساتھ اس لیے دیا تھا کہ معیشت کی حالت بہتر ہو جائے گی،یہ کتنا بڑا دھوکہ تھا کہ اللہ کے ساتھ کفر کر کے ،اللہ کی شریعت کے خلاف جنگ میں شرکت کر کے اور مسلمانوں کے قتل ِ عام کے لیے اپنی فوج پیش کر کے اللہ کا جو غضب نازل ہو گا اس سے معیشت کی حالت سدھرنے کے بجائے پہلے سے بھی ابتر ہو جائے گی۔ لیکن یقین کون کرے؟ جن کے دلوں میں یہ قرآن اترا ہو، جو امریکی حکم کے مقابلے اللہ کے حکم کو کوئی اہمیت دیتے ہوں۔ اکیسویں صدی میں جمہوری نظام تباہی کے دہانے پر!

اپنا اپنا اسماعیل پیش کرو! اداریہ آلاء النجار سے کون واقف نہیں؟ نو شہیدوں کی ماں جن کی عمریں ۶ ماہ سے ۱۲ سال کے درمیان تھیں، حمدی النجار کی بیوہ، حافظۂ قرآن، بچوں کے امراض کی ماہر طبیبہ، خنساءِ دوراں۔ وہ امت کے کٹے پھٹے بچوں کے لیے دوا دارو کا انتظام کر رہی تھی۔ ایسے میں جھلسے ہوئے نو (۹)بچے اسی کے ہسپتال ’الناصر میڈیکل کمپلیکس‘ میں لائے گئے، جھلسے ہوئے نو بچے یا جھلسے ہوئے نو لاشے اور دو جھلسے ہوئے مزید لوگ بھی، آلاء کا گیارہ سالہ لختِ جگر آدم اور ان بچوں کا باپ، آلاء کا شریکِ حیات حمدی النجار۔ وہ صدمے کے عالم میں کچھ بول بھی نہ سکی۔ یحییٰ، رکان، رسلان، جبران، ایو، ریوان، سیدن، لقمان اور سدرہ…… آلاء کے دل نے ان سبھی ناموں کو باری باری پکارا، لیکن کہیں سے کوئی جواب نہ آیا۔ آلاء نے حمدی کو پکارا، لیکن حمدی بھی جان کنی کے عالم میں تھا۔ کچھ دیر کو آنکھیں بند کر لیجیے۔ تصور کیجیے، آلاء النجار آپ ہی ہیں۔ یہ آپ کے سامنے آپ کے لخت ہائے جگر پڑے ہیں۔ سخت دل ہیں تو بھی آپ کے رونگٹے تو کھڑے ہوئے ہوں گے۔ ورنہ تصور کے ان چند ثانیوں میں آپ کی زبان گنگ ضرور ہو گئی ہو گی۔ دماغ ماؤف ہو گیا ہو گا، دل چند چند بار دھڑکنا بھول گیا ہو گا۔ آلاء النجار نے یہ سب کچھ جھیلا ہے، بلکہ وہ اب تک جھیل رہی ہے۔ وہ اس صدمے سے تا دمِ تحریر باہر نہیں نکل سکی۔ کہنے والوں نے کہا ہے کہ وہ نہ کھاتی پیتی ہے، نہ بولتی ہے، بس تسبیح گھماتی رہتی ہے۔ ہم ہوتے تو ہمیں تسبیح کا بھی کہاں ہوش رہتا۔ دل پھٹ جاتا، جگر پاش پاش ہو جاتا۔ ذوالحجۃ کا مہینہ ہے، یہ سطور پڑھنے کے ایک آدھ دن بعد یا تو آپ سنتِ ابراہیمی (علیہ وعلیٰ نبینا ألف صلاۃ وسلام) ادا کر نے والے ہوں گے یا کر چکے ہوں گے۔ خلیل اللّٰہؑ کو بذریعہ خواب وحی ہوئی کہ اپنی قیمتی ترین چیز، اپنا قیمتی ترین بیٹا، اپنے بڑھاپے کی اولاد، اپنے اسماعیلؑ کو ہماری خاطر ذبح کر دو۔ تسلیم و رضا کے مجسم خلیل اللّٰہ (علیہ صلاۃ اللّٰہ وسلام) نے ایک لحظے کو سوچا بھی نہیں۔ باپ کا کسی درجے میں غم خوار اور اب چھوٹا موٹا مشیر، اسماعیلؑ، اس عمر کی اولاد جس کو بوڑھے باپ نے بڑے چاؤ سے، بڑے ارمانوں سے پالا ہوتا ہے اور اب یہ بھاگ بھاگ کر کام کروانے والا بن جاتا ہے، اسی کو ذبح کرنے کا حکم ہوا ہے۔ جب اسماعیلؑ کو ابراہیمؑ نے بتایا تو اسماعیلؑ بولے يٰٓاَبَتِ افْعَلْ مَا تُــؤْمَرُ، ابا جان! کر گزریے وہ کام جس کا حکم آپ کو دیا گیا ہے: یہ فیضانِ نظر تھا یا کہ مکتب کی کرامت تھی سکھائے کس نے اسماعیل کو آدابِ فرزندی یہ فیضانِ نظر بھی تھا اور مکتبِ جوارِ کعبہ و ابراہیمؑ کی کرامت بھی۔ خلیل اللّٰہؑ نے دل کے ٹکڑے کو لٹایا اور چھری پھیر دی۔ قُلْ اِنَّ صَلَاتِيْ وَنُسُكِيْ وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِيْ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ ؀ لَا شَرِيْكَ لَهٗ وَبِذٰلِكَ اُمِرْتُ وَاَنَا اَوَّلُ الْمُسْلِمِيْنَ ؁ (سورۃ الانعام: ۱۶۲–۱۶۳) ’’کہہ دو کہ : بے شک میری نماز، میری عبادت اور میرا جینا اور مرنا سب کچھ اللّٰہ ربّ العالمین کے لیے ہے ۔ اس کا کوئی شریک نہیں ہے، اسی بات کا مجھے حکم دیا گیا ہے، اور میں اس کے آگے سب سے پہلے سرجھکانے والا ہوں۔ ‘‘ چھرا تھا، خون کی دھار تھی، اور ابراہیمؑ کا دل بارگاہِ خداوندی میں فروتنی، انؑ کاسارا وجود ، اس وجود کا رُواں رُواں، ریشہ ریشہ حالتِ سجدہ میں تھا۔ اسماعیلؑ اب ذبیح اللّٰہ ہو گئے تھے۔ یہ سنتِ خلیل اللّٰہی ہزاروں سال سے جاری ہے۔ یہاں قربانی اپنی قیمتی ترین چیز کی ہوتی ہے۔ اللّٰہ کے احکام کی بجا آوری یہ قربانی ہے۔ اس قربانی کو ذوالحجۃ کی شرط کے بغیر اہلِ غزہ پچھلے ڈیڑھ سال سے دن کے چوبیس گھنٹے پیش کر رہے ہیں۔ آلاء النجار اسی خلیل اللّٰہی سلسلے سے ہے۔ ہمارے پاس کہنے کو مزید کچھ بھی نہیں ہے۔آلاء النجار کے لیے اس کے ایمان کی سلامتی کا سوال ہے اور اپنے لیے ایمان و اسلام اور غیرت و حمیت کا سوال ہے، خلیل اللّٰہی سلسلے کی نسبت اور قربانی کی توفیق کا سوال ہے۔ آلاء النجار کی دینِ محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی خاطر قربانی دیکھو اور پھر اپنے اعمال کا جائزہ لو، کیا آس لگائے بیٹھے ہو!؟ ہم سب سے بس ایک ہی تقاضا ہے: اپنا اپنا اسماعیل پیش کرو! اللھم اهدنا فيمن هديت وعافنا فيمن عافيت وتولنا فيمن توليت وبارك لنا فيما أعطيت وقنا شر ما قضيت إنك تقضي ولا يقضی عليك وإنه لا يذل من واليت ولا يعز من عاديت تبارکت ربنا وتعاليت! اللھم وفقنا لما تحب وترضى وخذ من دمائنا حتى ترضى .اللھم اهدنا لما اختلف فيه من الحق بإذنك. اللھم زدنا ولا تنقصنا وأکرمنا ولا تھنّا وأعطنا ولا تحرمنا وآثرنا ولا تؤثر علینا وارضنا وارض عنا. اللھم إنّا نسئلك الثّبات في الأمر ونسئلك عزیمۃ الرشد ونسئلك شكر نعمتك وحسن عبادتك. اللھم انصر من نصر دین محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم واجعلنا منھم واخذل من خذل دین محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم ولا تجعلنا منھم، آمین یا ربّ العالمین!

Repost from Politics Plus
‏کچھ لوگ سمجھتےہیں یہ فوجیں امت کی خدمت کرسکتی ہیں، عرب بہارکےانقلاب کوجس طرح کچلاگیایہ اس بات کاثبوت ہے ان فوجوں کاامت سےکوئی تعلق نہیں ہےان فوجوں کو نوآبادیاتی طاقتوں نےتخلیق کیاتربیت دی، پھر نام نہاد آزادی کےبعدیہ فوجیں جبرکا ہتھیاراور حکمران ایلیٹ کی محافظ بن گئیں ‎#قافلہ_صمود https://x.com/Polplusorg/status/1933403443475239322?s=19

نیزوں کے زخم بھرے جاسکتے ہیں ، لیکن جو زخم زبان سے لگتا ہے وہ بھرا نہیں جاسکتا #IslamicQuotes
نیزوں کے زخم بھرے جاسکتے ہیں ، لیکن جو زخم زبان سے لگتا ہے وہ بھرا نہیں جاسکتا #IslamicQuotes

شریعت یاشہادت"کا عموماً مطلب لیاجاتاہےکہ شریعت نافذ کریں گے، ورنہ دوسری صورت میں شہادت گلے لگائیں گے، اس سے بہتر تعبیر پڑھنے کو ملی، "إما الإستقامة على الشريعة وإما الإستشهاد في سبيلها" یعنی "شریعت پر بہر صورت عمل کریں گے، اتباع شریعت پر استقامت دکھائیں گے،ورنہ اس راستے میں جان دے دیں گے" یہ دوسری تعبیر ہی اصل مطلوب ہے،کیونکہ ہماری اول ذمہ داری خود شریعت پر عمل ہے، پھر دوسروں پر نفاذ ہے، خود اس پر عمل کریں گے تو دنیا پر بھی اسے نافذ کرنے کے قابل بنیں گے۔ تاریخ شاہد ہے کہ شریعت کا نفاذ فقط وہ لوگ ہی کرسکے ہیں جو خود شریعت کے تابع تھے۔ https://x.com/abo1_abm/status/1932645108824092900?t=Ay1iFP1jH1-cBW413IkVaQ&s=19

جو معصیت پر ڈٹا رہے اور اس میں منہمک رہے اسکے لیے پوری پوری ہلاکت ہے #IslamicQuotes
جو معصیت پر ڈٹا رہے اور اس میں منہمک رہے اسکے لیے پوری پوری ہلاکت ہے #IslamicQuotes

Repost from Politics Plus
"یاد رکھو! مصائب پر صبر کرنے میں بڑی خیر ہے کیونکہ مدد صبر کے ساتھ ہے، کشادگی تنگی کے ساتھ ہے اور آسانی سختی کے ساتھ ہے۔" مسند احمد 2666 https://t.me/taalimulislam1/1031

ایتھنز، #یونان میں چھٹیاں گزارنے والے ایک اسرائیلی فوجی کی مقامی لوگ طبیعت صاف کررہے ہیں "تمہارا یہاں استقبال نہیں ہوگا، صیہونی، تم پر لعنت ہو، دفعہ ہوجاؤ ہمارے ملک سے" #StopGazaGenocide‌NOW https://t.co/mclt9I0DHV 🔗 Politics plus (@Polplusorg) 📲 @twittervid_bot

مدیر انٹرویو: آپ کی ان مفید باتوں پر ہم اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں کیونکہ آپ نے ہماری توجہ ان خطرات کی جانب مبذول کرائی ہے جن کے بارے میں ہم نہیں سمجھتے تھے کہ وہ اتنے بڑے ہیں اور اتنے بڑے پیمانے پر آپس میں جڑے ہوئے اور الجھے ہوئے ہیں۔ میں آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ آپ نے ان کا خلاصہ اس طرح پیش کیا کہ مبصرین کو شام کی موجودہ حقیقت کو سمجھنے میں آسانی ہو۔ (جاری ہے، ان شاء اللہ) ٭٭٭٭٭ 1  ایک ماہ سے بھی کم عرصہ گزرا کہ محترم استاذ کا یہ خدشہ درست ثابت ہوا اور اب اس مکالمے کے اردو ترجمے کی اشاعت تک اس خطرے نے اپنی تخریبی کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔ 2 ایک ماہ سے بھی کم عرصہ گزرا کہ محترم استاذ کا یہ خدشہ بھی درست ثابت ہوا اور اب اس مکالمے کے اردو ترجمے کی اشاعت تک سوریہ کا تدمر فضائی اڈا (ٹی فور) ترکیا کے حوالے کیا جا چکا ہے۔

چوتھا خطرہ داعشی – صہیونی خطرہ ہے جو پیدا کیا گیا اور اس وقت اس کی سرپرستی کی جا رہی ہے، اسے تحفظ دیا جا رہا ہے اور داعش کی افزائش کے فارموں اسے اُگایا جا رہا ہے۔ گزشتہ ایک دہائی سے داعش کے عسکریت پسندوں کو گمراہی کے دائرے سے نکال کر مزدوری کے دائرے میں منتقل کرنے کے لئے زبردست صہیونی – صلیبی کوششیں کی جا رہی ہیں اور جو داعشی صرف اپنی خارجیت کی گمراہی پر قائم رہنا چاہے اور مزدوری کے دائرے میں داخل ہونے سے انکار کرے تو اس کے سرپرست اور محافظ صحرائے شام (بادیہ) اور تدمر اور حمص کے مضافات میں اسے نشانہ بناتے ہیں تاکہ داعش کے مزدور محاذ کو گمراہی کے محاذ پر غالب رکھا جا سکے۔ شام کے اہلِ سنت کے منصوبے کے لیے یہ خطرہ زہر آلود خنجر کی مانند ہے۔ اس میں کوئی مبالغہ نہیں کہ یہ خطرہ بھی اوپر بیان کیے گئے خطرات سے کسی صورت کم نہیں ہے بلکہ یہ جــــہادی صفوں میں موجود لوگوں میں زیادہ عداوت پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، اسی وجہ سے صہیونی – صلیبی مہم اب بھی اپنے کیمپوں میں ان کی مناسب دیکھ بھال کر رہی ہے جو اس نے ان کے لیے بنائے تھے تاکہ وہ اس کی آنکھوں کے نیچے پلتے بڑھتے رہیں اور ان میں امتِ مسلمہ کے خلاف نفرت کے عوامل پیدا کرتے رہیں اور ان میں اہلِ سنت کے خلاف رنجش و بغض کے اسباب کو مزید گہرا کرتے رہیں۔ جلد ہی ہم صہیونی – صلیبی جہنمیوں کو سیٹی بجاتے ہوئے دیکھیں گے اور سنیں گے کہ وہ اپنے داعشی کتوں کو سیٹی بجاتے ہیں تاکہ وہ شام کے اہل سنت مجاہدین کے گوشت کا شکار کرنے کے مناظر سے لطف اندوز ہو سکیں۔ پس ہم اللہ تعالیٰ سے سلامتی اور عافیت کے طالب ہیں۔ عالمی صہیونی – صلیبی جنگ کے لئے داعش کی خدمات اور ایک فعال آلہ کار ہونے کی حقیقت پر مبنی سچی ترین مثال وہ ہے جس میں امتِ مسلمہ نے افغانستان میں ان کے افعال کا مشاہدہ کیا اور اب بھی کر رہی ہے۔ انہیں امریکہ اور خطے میں امریکی آلہ کاروں کی حمایت حاصل تھی اور آج بھی ہے۔ پس جب مجـــاہدین کسی علاقے سے انہیں ختم کرنے کے قریب پہنچتے تو کافر فوجیں فوری طور پر حرکت کرتیں، انہیں اپنے طیاروں سے امداد فراہم کرتیں اور انہیں ان کے لیے پیشگی تیار کردہ کیمپوں میں منتقل کرتیں، تاکہ ان کی افزائش کی دیکھ بھال کر سکیں، ان کی اولاد کی پرورش کریں اور انہیں مناسب فکری غذا فراہم کریں۔ اور اب افغانستان میں امارتِ اسلامیہ کی جانب سے داعش کے کیمپوں کا خاتمہ کرنے کے بعد پاکستان اور تاجکستان میں ان کی پرورش کا انتظام کیا گیا ہے اور کچھ پڑوسی ممالک کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ ان کے معسکرات کو اپنے یہاں منتقل کریں تاکہ انہیں ضرورت کے مطابق اسلامی شریعت کے منصوبے پر حملہ کرنے کے لیے ملازمت دی جا سکے اور اس طرح صہیونی – صلیبی منصوبے کو مکمل کیا جا سکے۔ پانچواں خطرہ سیکولر ترکیا کا خطرہ ہے، جسے ’نیٹو میں ارتداد کا سربراہ‘ سمجھا جاتا ہے، ایک ایسا خطرہ جو اب بھی شمالی شام کے ساتھ اس کے اڈوں میں جڑا ہوا ہے۔ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ وہ اب ظاہری طور پر سوریہ کا سرپرست ہاتھ اور اس کی پشت کا مالک بن چکا ہے اور شام کے لئے صہیونی – صلیبی پولیس اہلکار کا کردار ادا کر رہا ہے۔ شام پر اس کا اثر و رسوخ فکری، سماجی، سیاسی اور عسکری محاذ پر حد سے تجاوز کرے گا اور ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ اس کے پاس ’آزاد شامی فوج‘ اور ’وطنی فوج‘ جیسے مختلف ناموں کے ساتھ ہزاروں شامی جنگجو ہیں۔ سیکولر ترکیا کے منصوبے کے خطرے کی حقیقت یہ ہے کہ یہ اس دور میں مسلم ممالک کے خلاف صہیونی – صلیبی جنگوں میں نہ صرف ایک قابل اعتماد ایجنٹ ہے بلکہ صہیونی – صلیبی اتحاد یعنی ’نیٹو‘ کا ایک لازمی جزو اور مسلمانوں کی طرف سے سب سے مضبوط اور سب سے بُرا تیر ہے۔ اس منصوبے نے گزشتہ دو دہائیوں میں افغانستان کے قبضے کے دوران حملے اور دورے کیے ہیں۔ اس نے کمزور مسلمانوں کے خون اور گوشت کو اتنا کھایا کہ وہ سیراب ہو گیا، چاہے وہ افغانستان میں ہمارے مسلمان بھائیوں کا خون اور گوشت ہو یا شامی حدود میں ترکیا کی سرحد پر ترکیا کی جندرما فوج کے ذریعے پناہ لینے کے خواہش مند ہمارے شامی بھائیوں اور بہنوں کا خون ہو۔ یا جیسا کہ آج ہم معمولی سی بھی انسانیت سے عاری ترکیا کو مالی، صومالیہ اور افریقی ساحل کے خطے میں غریب اور کمزور مسلمانوں کا خون بہاتے ہوئے دیکھتے ہیں، جس کی وجہ سے ایک باشعور شخص مستقبل قریب میں شام میں مسلمانوں کے خون کی ضمانت دینے کے ترک منصوبے کے بارے میں شکوک و شبہات کا شکار ہو جاتا ہے۔2 میری رائے میں یہ پانچ محاذ شام کے مستقبل کو درپیش خطرناک ترین محاذ ہیں۔ اس کے علاوہ دیگر اندرونی و بیرونی خطرات بھی ہیں لیکن فی الحال ان سخت ترین خطرات پر ہی بات کرنا کافی ہے۔

وضاحت کرنے سے کبھی نہیں تھکتا اور اس نے اپنے لیے دستیاب تمام طریقوں اور ذرائع سے ان عزائم کا کھلا اظہار کیا ہے۔ اسرائیل کی عظیم ریاست کے وہ نقشے جو صہیونی فوجی اپنے کندھوں پر لٹکائے ہوئے ہیں، ان اشتعال انگیز ذرائع کے سمندر میں صرف ایک قطرہ ہیں۔ اور اس خطرے کا سب سے خطرناک پہلو ’احمد العودۃ‘ کی قیادت میں عرب – صہیونی افواج کا خطرہ ہے، جو دمشق میں داخل ہونے والا اور اس کا تختہ الٹنے والا پہلا شخص تھا۔ تب تک ہیئۃ تحریر الشام حمص کو بھی مکمل طور پر آزاد نہیں کرا پائی تھی۔ اور پھر وہ کمانڈر احمد الشرع (سابقہ جولانی) کے ساتھ فور سیزن ہوٹل میں اپنی عجیب و غریب ملاقات کے بعد دمشق کے منظر نامے سے غائب ہو گیا اور پھر بعد میں وہ سوریہ کے منظر نامے میں سب سے آگے نکل گیا۔ ہمیں یہ بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ ہم نے جو خطرہ لیبیا میں حفتر اور سوڈان میں حمیدتی سے دیکھا ہے یہ خطرہ اس کے متوازی ہے، پس احمد العودہ ’شام کا حمیدتی‘ ہے اور ’سوریہ کا حفتر‘ ہے کیونکہ اسے متحدہ عرب امارات، اردن اور خطے کے دیگر انقلاب مخالف ممالک کی بھرپور حمایت حاصل ہے، بلکہ اس سے بھی زیادہ خطرناک بات یہ ہے کہ اسے ایک ہی وقت میں روس اور امریکہ کی حمایت بھی حاصل ہے جو کہ ایک عجیب و غریب بات ہے۔ ہمسایہ ممالک نے دمشق کی آزادی کے فورا بعد ان کے لیے تربیت، بھرتی اور اسلحے کے دروازے کھول دیے ہیں۔ پس کیا ہم جنوب کی طرف سے ردِ انقلاب کے دہانے پر ہیں؟ دوسرا خطرہ امریکی – صہیونی – صلیبی خطرہ ہے جو اپنے عرب اور کرد ایجنٹوں کے ذریعے شامی سرزمین کے کچھ حصوں پر قابض ہے۔ ’سالم ترکی العنتری‘ کی قیادت میں فری سیرین آرمی، امریکی – صہیونی – صلیبی جنگ کے عرب ایجنٹوں میں سے ہے، اور ان کا کیمپ عراق اور اردن سے متصل شامی مثلث میں واقع امریکی اڈے ’التنف‘ پر ہے۔ اگرچہ وہ اس وقت نئی انتظامیہ اور نئی شامی فوج میں شامل ہیں، لیکن درحقیقت وہ سنہ 2008ء میں عراق میں امریکی جنرل پیٹریاس کی طرف سے تشکیل کردہ صحوات (نام نہاد امن لشکروں) میں سے ایک لشکر ہے۔ یہ خطے میں صحوات کے منصوبے کی توسیع ہے اور شام میں امریکی فوج کا ایک ہراول جنگی دستہ ہے جن کی تعداد دس ہزار سے تجاوز کر چکی ہے اور ان کا اسلحہ اور مکمل تربیت امریکی محکمہ دفاع کی نگرانی میں کی جاتی ہے۔ جہاں تک امریکی – صہیونی – صلیبی جنگ کے کرد ایجنٹوں کا تعلق ہے، تو وہ سیرین ڈیموکریٹک فورسز ہیں جنہیں (SDF) یا (قسد) کے نام سے جانا جاتا ہے جس کی قیادت ظالم مجرم ’مظلوم عبدی‘ کر رہا ہے۔ یہ ملحد گروہ شام کے بدترین کافروں میں سے ایک ہے اور یہ لوگ اسلام اور اہلِ اسلام سے سب سے زیادہ نفرت کرنے والے ہیں، ان کے علاقوں میں قرآن کریم حفظ کرنے کی اجازت نہیں ہے اور نہ ہی اسلام کا رنگ رکھنے والے بہت سے شعائر کی اجازت ہے، ان میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو آج بھی آگ، سورج اور چاند کی پوجا کرتے ہیں۔ شام میں اِن ملحد کُردوں اور نصیری رافضیوں سے زیادہ بڑا کوئی کافر نہیں ہے اور ان دونوں گروہوں سے زیادہ کوئی بھی اسلام اور مسلمانوں سے نفرت نہیں کرتا۔ یہ گروہ شام کے ان وسیع و عریض علاقوں پر قابض ہیں جو اسٹریٹیجک ہیں اور معاشی لحاظ سے اہم ہیں کیونکہ ان میں کالے سونے یعنی شامی تیل کے ذخائر موجود ہیں۔ وہ اپنے علاقوں میں امریکی اڈوں کی حفاظت اس سے زیادہ کرتے ہیں جتنا کہ وہ اپنی حفاظت کرتے ہیں۔ مجـــاہدین کی طرف سے دمشق کو آزاد کرانے کے بعد انہوں نے حال ہی میں امریکی اڈے نمبر 29 اور 30 تعمیر کیے ہیں جس سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ وہ شام کی سرزمین کے بعض حصوں پر اپنا قبضہ جاری رکھے ہوئے ہیں اور نئی شامی انتظامیہ کو بھی ایسا کرنے پر مجبور کر رہے ہیں۔ تیسرا خطرہ روسی – صلیبی اور اس کے روایتی اتحادیوں کا خطرہ ہے جو نصف صدی سے دمشق کے منظر نامے پر اور اس پر حکمرانی میں سب سے آگے رہے ہیں۔ یہ لوگ اس وقت لاذقیہ کے پہاڑوں اور ساحلی علاقوں میں فوجی اڈے اور قلعہ بند عمارتیں قائم کر رہے ہیں اور ان کے پاس ایک مقبول فرقہ وارانہ بیانیہ ہے جسے وہ پالتے ہیں، جس کی صلاحیتیں ادلب، عفرین اور شمالی شام کے ان لوگوں کی صلاحیتوں سے کہیں زیادہ ہیں جنہوں نے انقلاب کے تیرہ سالوں کے دوران شامی انقلابیوں کو گلے لگایا۔ انہیں ایران، روس، لبنان، یمن وغیرہ کی طرف سے زبردست مالی امداد ملتی رہی ہے اور مستقبل قریب میں اس بات کا امکان ہے کہ ہم ان کی تخریبی کارروائیوں کے ایک بڑے پھیلاؤ کا مشاہدہ کریں، کیونکہ وہ اب اپنی صفوں کو ترتیب دینے اور انقلابی نصیری ڈھانچے کو دوبارہ تعمیر کرنے کے عمل میں ہیں اور طرطوس میں روسی حمیمیم اڈے کا باقی رہنا اور طرطوس کی بندرگاہیں، اس خطرے کو طاقت، بقاء اور استحکام فراہم کرنے کا سب سے بڑا سبب ہیں۔1

یہ کسی بھی حالت میں جائز نہیں ہے اور انہیں کبھی بھی ایسے طریقوں سے ان ممالک کے خطرے کو بے اثر کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے جو سیاسی و شرعی دونوں لحاظ سے غلط ہوں، ایسے طریقے انہیں، مجاہدین کو اور پورے انقلاب کو تباہی کی کھائی تک لے جا سکتے ہیں۔ میرے پیارے بھائی! اگر وہ ایک زبردست اور فیصلہ کن فتح چاہتے ہیں تو انہیں اپنے منہ سے ظالموں کو ’’نہیں‘‘ کہنا چاہئے اور انہیں بتانا چاہئے کہ آپ ہماری سرزمین اور مٹی پر قابض ہیں اور یہ کہ ہمارے لوگ اس غاصبانہ قبضے اور اس متکبرانہ سرپرستی کو قبول نہیں کریں گے۔ اور ہاں، وہ باقی مقبوضہ شامی سرزمین کو آزاد کرانے کے لئے اپنی جـــہادی اور انقلابی تحریک کو اس وقت تک مؤخر کر سکتے ہیں جب تک کہ وہ اپنی سانسیں نہ پکڑ لیں اور اپنی صفوں کی تنظیم نو نہ کر لیں، تاہم اس کے باوجود انہیں اپنے عوام، سپاہیوں اور امت کے ساتھ ایماندار ہونا چاہیے۔ اس کے بعد موجودہ کمزوری کے سائے میں ان بڑے ممالک کو اس بیان کے ساتھ سنبھالنا ٹھیک ہے کہ ہمیں شامی سرزمین پر تمہارے قبضے کا سامنا ہے۔ اب یا تو قابضین سفارتی ذرائع اور سیاسی مذاکرات کے ذریعے شامی سرزمین چھوڑ دیں گے یا پھر مجــــاہدین کی قیادت قابضین کے سامنے اعلان کرے گی کہ وہ آسمانی اور زمینی قوانین میں بیان کیے گئے ہر جائز طریقے سے ان کے خلاف مزاحمت کریں گے اور یہ کہ چاہے کتنی ہی دیر کیوں نہ ہو جائے، وہ لامحالہ اپنی انقلابی اور جـــہادی تحریک دوبارہ شروع کریں گے تاکہ اپنی سرزمین کے آخری ذرّے کو ہر قابض اور ایجنٹ سے آزاد کرایا جا سکے۔ جہاں تک ہماری اسلامی دنیا پر قابض ان ممالک کو دھوکا دینے کے امکانات کے بارے میں آپ کا سوال ہے تو میری حقیر سی رائے میں یہ تصور ہمارے متکبر دشمنوں کی حقیقت کے بارے میں پائے جانے والے سادہ اسلامی تصورات میں سر فہرست ہے۔ میرے بھائی! یہ ممالک کوئی خیراتی ادارے یا دعوتی گروہ نہیں ہیں جنہیں اہلِ اسلام دھوکا دے سکیں اور ان کو اس طرح چکما دے سکیں جس طرح کچھ لوگ خواب دیکھتے ہیں اور وہم و گمان رکھتے ہیں۔ یہ وہ بڑے بڑے ظالم ممالک ہیں جو ہمارا گوشت کھا کر، ہمارا خون پی کر اور ہمارے بچوں اور عورتوں کو قتل کر کے بڑے ہوئے ہیں اور اب بھی بڑھ رہے ہیں اور جی رہے ہیں۔ یہ ممالک جنگجو ممالک ہیں جو جارحیت اور جنگوں کو پسند کرتے ہیں۔ وہ تباہی پھیلانے میں ماہر ہیں، اور ان کی خونی تاریخ ان بات کی تصدیق کرتی ہے کہ وہ استعماری ممالک ہیں جو اپنے دشمنوں کو شکست دینے اور کچلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، یہاں تک کہ مسابقتی انسانی تہذیبوں کو تباہ کرنے میں بھی مہارت رکھتے ہیں اور جو کوئی بھی ان کے بارے میں ایسا سادہ سا تصور رکھتا ہے، آخر کار اس کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ ان کے غلاموں کا غلام، ان کے ایجنٹوں کا ایجنٹ اور ان کے گماشتوں کا گماشتہ بن جاتا ہے۔ میرے پیارے بھائی! ہمیں ایسی سلطنتوں کا سامنا ہے جنہوں نے لاکھوں لوگوں کا قتل کیا ہے۔ جب ہم میں سے کوئی مسلمان، ان کے رحم و کرم پر اور خود پر مسلط بین الاقوامی برادری کے احسان سے، اقتدار میں آئے گا، تو وہ ہمیں اپنی سانسیں بحال کرنے یا اپنی صفوں کو دوبارہ منظم کرنے کے لیے ایک لمحہ بھی اقتدار میں رہنے نہیں دیں گے، بلکہ وہ تو ہمارے لیے سازشیں اور کھیل تیار کر رہے ہیں، اور ہم اس دائرے کی طرف بڑھ رہے ہیں جس میں بشار الاسد نصف صدی تک جیتا رہا، اور بد قسمتی سے پھر اس کے بعد ہم مجــــاہدین کے قائدین کو تلاش کریں گے جو اسے رغبت اور خوف سے پکاریں اور اس کے تئیں عاجزی کا مظاہرہ کریں۔ مدیر انٹرویو: محترم استاذ عبدالعزیز الحلاق! آئیے اس موضوع کی گہرائی میں جاتے ہیں۔ آپ کی رائے میں دمشق کی آزادی کے تقریباً دو ماہ بعد پورے خطے میں بالعموم اور خاص طور پر سوریہ میں ہونے والے اثرات کی روشنی میں آپ شام میں کیا خطرہ دیکھتے ہیں؟ استاذ عبدالعزیز الحلاق: پورے خطے میں بالعموم اور خاص طور پر سوریہ میں صہیونی – صلیبی خطرے سے بڑھ کر کوئی خطرہ نہیں ہے اور اس خطرے کا موازنہ نصیری خطرے سے بالکل بھی نہیں کیا جا سکتا جس کی نمائندگی پہلے بشار الاسد کر رہا تھا، جبکہ شامی انقلابی یہ سوچ کر بغاوت کر رہے تھے کہ سوریہ میں ان کو درپیش واحد خطرہ مقامی نصیری حکومت اور اس کے اتحادی ہیں، لیکن اب ان پر واضح ہو گیا کہ صہیونی – صلیبی دشمن نے ان پر ہر طرف سے پنجوں کی طرح اپنا محاصرہ سخت کر دیا ہے۔ سب سے پہلا خطرہ اسرائیلی – صہیونی خطرہ ہے جسے ’خطے کا آقا‘ سمجھا جاتا ہے۔ اور یہ معلوم ہے کہ اس نے جنوبی سوریہ کے علاقوں سمیت عظیم تر شام کی سرزمین کے اہم حصوں پر قبضہ کر رکھا ہے۔ یہ قبضہ اب بھی جنوب سے پھیل رہا ہے اور ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ درعا، قنیطرۃ اور سویدا میں غداروں کے بہت سے حامی اور مددگار ہیں، جن میں کچھ سنی گروہ، دروز وغیرہ کے فرقوں سے تعلق رکھنے والے افراد شامل ہیں۔ یہ خطرہ پورے عظیم تر شام کے لئے سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا ہے۔ وہ اپنے عزائم اور آرزوؤں کی