BALOCHISTAN NEWS
Open in Telegram
بلوچستان کے متعلق خبریں https://whatsapp.com/channel/0029Vb7q7VkAInPjT8pGTl3J
Show more1 192
Subscribers
No data24 hours
-17 days
-1530 days
Posts Archive
1 192
بلوچستان پریوینشن آف ڈیٹینشن اینڈ ڈی ریڈیکلائزیشن ایکٹ 2025 بلوچ نسل کشی کی ایک نئی شکل ہے
بلوچ یکجہتی کمیٹی
بلوچستان میں جبری گمشدگیاں کئی دہائیوں سے ایک سنگین اور مستقل مسئلہ رہی ہیں۔ اس وقت تقریباً ہر بلوچ گھرانہ اس اذیت سے براہِ راست یا بالواسطہ متاثر ہے۔ ریاستِ پاکستان کے ہر ادارہ اس عمل میں کسی نہ کسی سطح پر شامل رہا ہے، جبکہ عدالتوں اور مختلف کمیشنوں نے اس سنگین انسانی المیے کو اکثر متنازع بنانے، کمزور کرنے یا پروپیگنڈے کے ذریعے دبانے کی کوشش کی ہے۔ یہ حقیقت واضح کرتی ہے کہ بلوچ نسل کشی محض چند افراد یا اداروں تک محدود نہیں بلکہ ریاستی پالیسی کا حصہ ہے۔
موجودہ نام نہاد حکومت نے جبری گمشدگیوں کو جس انداز میں وسعت دی ہے، وہ فسطائیت کی بدترین مثال ہے۔ نام نہاد وزیرِ اعلیٰ بھی اس مسئلے کو متنازع بنانے میں پیش پیش رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ مختلف ریاستی نمائندے جبری گمشدگیوں کو کبھی خود روپوشی، کبھی کاؤنٹر انسرجنسی، اور کبھی دہشت گردی جیسے بیانیوں سے جوڑ کر اصل مسئلے سے توجہ ہٹاتے رہے ہیں۔
5 جون 2025 کو نام نہاد صوبائی حکومت نے بلوچستان پریوینشن آف ڈیٹینشن اینڈ ڈی ریڈیکلائزیشن ایکٹ 2025 منظور کیا۔ اس ایکٹ کے تحت کسی بھی شخص کو محض شبہ کی بنیاد پر بغیر ایف آئی آر تین ماہ تک حراست میں رکھا جا سکتا ہے۔ زیرِ حراست فرد کو عدالت میں پیش کیے بغیر ڈی ریڈیکلائزیشن کے نام پر ڈیٹینشن سینٹرز میں رکھا جا سکتا ہے، جہاں مکمل ثبوت کی بھی ضرورت نہیں۔قانون میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ زیرِ حراست شخص کے اہلِ خانہ کو 24 گھنٹوں کے اندر اطلاع دی جائے گی، جس سے یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ جبری گمشدگیوں کا خاتمہ کیا جا رہا ہے۔ تاہم حقیقت اس کے برعکس ہے۔ یہ ایکٹ جبری گمشدگیوں کی ایک نئی اور خطرناک شکل اختیار کر چکا ہے۔ اس قانون کے نفاذ کے بعد صرف دو ماہ کے اندر سینکڑوں بلوچوں کو محض شبہ کی بنیاد پر لاپتہ کیا گیا، جن میں سے اکثریت تاحال لاپتہ ہے اور ان کے اہلِ خانہ کو کسی قسم کی اطلاع نہیں دی گئی، جبکہ درجنوں افراد کو ماورائے عدالت قتل بھی کیا گیا۔
پریوینشن اینڈ ڈیٹینشن ایکٹ بلوچ نسل کشی میں ایک نیا اضافہ ہے۔ اس میں چینی ماڈل کی نقل کی جا رہی ہے، جہاں چین میں ایغور مسلمانوں کو گرفتار کر کے ڈیٹینشن سینٹرز میں رکھا جاتا ہے اور وہاں ذہنی، جسمانی اور نفسیاتی دباؤ کے ذریعے ان کی شناخت کو ختم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اسی طرز پر پاکستان نے بلوچستان میں بھی یہ نظام نافذ کر دیا ہے۔
ڈی ریڈیکلائزیشن کے نام پر جبری گمشدگیوں میں تیزی لائی گئی ہے، باقاعدہ ڈیٹینشن سینٹرز قائم کیے گئے ہیں جہاں افراد کو شدید ذہنی و جسمانی تشدد اور نفسیاتی دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہیں سیاسی سرگرمیوں سے دور رہنے، انسانی حقوق کی پامالیوں کے خلاف آواز نہ اٹھانے، بلوچ ثقافتی سرگرمیوں سے کنارہ کشی اختیار کرنے اور ریاستی بیانیے کو قبول کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔
تین ماہ کی اس جبری حراست کے بعد اگر کوئی شخص رہا بھی ہو جائے تو وہ شدید ذہنی دباؤ اور ڈپریشن کا شکار ہوتا ہے۔
دوسری جانب جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت قتل کے واقعات کے گرد ایک مخصوص بیانیہ تشکیل دیا جا رہا ہے۔ لواحقین کو دباؤ میں لا کر پریس کانفرنسوں میں اپنے پیاروں سے لاتعلقی ظاہر کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے، اور بعد ازاں انہی افراد کی لاشیں برآمد ہوتی ہیں۔
ہم بلوچ قوم سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ بلوچ نسل کشی کی اس نئی شکل کے خلاف آواز اٹھائیں اور اپنے پیاروں کی جبری گمشدگیوں پر کسی صورت خاموش نہ رہیں۔
اسی طرح ہم عالمی انسانی حقوق کے اداروں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ بلوچستان میں جاری جبری گمشدگیوں اور بلوچستان پریوینشن آف ڈیٹینشن اینڈ ڈی ریڈیکلائزیشن ایکٹ 2025 جیسے قوانین کے نفاذ کا فوری نوٹس لیں، اور ان واقعات سمیت اس قانون کے تحت ہونے والی گرفتاریوں کی آزادانہ، شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کو یقینی بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔
https://whatsapp.com/channel/0029Vb7q7VkAInPjT8pGTl3J
1 192
Repost from Politics Plus
دنیا کے فیصلے تو ہم ہی کریں گے 😜
مگر تیل ایران سے خریدنا ہے یا نہیں
یہ فیصلہ امریکہ کرے گا ۔۔۔۔🫤🤷
#PoliticsPlus #IranWar
#PakUSrelation
1 192
گوادر، #بلوچستان: بلوچ لبریشن آرمی (#BLA) نے گوادر میں پاکستانی فوج / کوسٹ گارڈ کی ایک چیک پوسٹ پر حملہ کیا جس میں کئی اہلکار ہلاک ہو گئے۔ بی ایل اے کے جنگجوؤں نے AKM / AKMS طرز کی 7.62x39mm رائفلوں سے لیس ہو کر یہ کارروائی کی۔ حملہ آوروں نے چیک پوسٹ پر فائرنگ کی اور کئی فوجیوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
#Pakistan #BLA #Balochistan #BreakingNews
1 192
Repost from Conflict Monitor
#Balochistan
These photos show 20+ people from #Panjgur killed by State forces between this February and March only. Mostly are victims of #enforceddisappearance, others of targeted killings.
1 192
بلوچستان : پنجگور سے ایک ماہ کے دوران پاکستانی فورسز کے ہاتھوں 22 جبری لاپتہ افراد کی لاشیں برآمد
مقامی ذرائع کے مطابق لاشیں مختلف علاقوں سے ملیں۔
بلوچستان کے دیگر علاقوں میں لاشوں کے ملنے اور حکومتی حمایت یافتہ گروہ “ڈیتھ اسکواڈز” کے ٹارگٹ کلنگ کے واقعات علاوہ ازیں ہے۔
#Balochistan
1 192
ذمہ دار ریاستیں بحران کو سنبھالتی ہیں۔ #بھارت اور #بنگلہ دیش جیسے ممالک ایک روپیہ اخافہ کئیے بغیر سپلائی محفوظ کر کے اور انتظامی اقدامات کے زریعے عوام کو بچانے کی کوشش کررہے ہیں۔
لیکن #پاکستان میں اکثر بحران عوام کو #لوٹنے کا موقع بن جاتا ہے—قیمتیں بڑھتی ہیں، اربوں کا منافع کمایا جاتا ہے اور سارا بوجھ عوام پر ڈال دیا جاتا ہے۔
ثناءاللہ بلوچ
1 192
Repost from Politics Plus
اسے کہا تھا جتنا ہم دکھائیں بس اتنا دیکھو
مگر یہ مرضی سے دیکھتا ہے اسے اٹھا لو!
یہ پوچھتا ہے کہ امن عامہ کا مسئلہ کیوں؟
یہ امن عامہ کا مسئلہ ہے اسے اٹھا لو !
اسے بتایا بھی تھا کہ کیا بولنا ہے اور کیا نہیں
مگر یہ اپنی ہی بولتا ہے اسے اٹھا لو !
https://x.com/i/status/2030462648060346873
1 192
جن دنوں بارڈر کھلے تھے چھوٹے بچے بہت تھوڑی مقدار میں چیزیں لانے لے جانے کا کام کرتے تھے بارڈر پر موجود یہ اہلکار جب جی چاہتا کسی سے بھی اپنی ضرورت کی چیزیں چھین کر حساب برابر کرتے
#Balochistan
1 192
Repost from Politics Plus
حامد میر پر خضدار میں 2012 میں حملہ ہوا تھا۔ ڈی آئی جی فصیح الدین نے انہیں بتایا تھا کہ جن عسکریت پسندوں نے حملہ کیا ہے انکا کمانڈر شفیق الرحمن مینگل توتک میں بیٹھا ہے (یعنی وہاں اسکا کیمپ تھا)
https://x.com/i/status/2029385769664844146
1 192
نو مئی تحریک انصاف کے احتجاجوں میں اپنے نام نہاد جنگی ہیروز کے مجسموں کے توڑے جانے پر "گھنگرو توڑ ماتم" کرنے والے اپنے زندہ فوجیوں کو پہچاننے سے انکار کر رہے ہیں؟؟؟؟
🤔🤔🤔🤔
https://whatsapp.com/channel/0029Vb7q7VkAInPjT8pGTl3J
1 192
Repost from Politics Plus
فرانسیسی آن لائن انٹیلیجنس پلیٹ فارم نے امریکہ اور ایران کے حالیہ تنازعے میں پاکستان کے قطر میں ایمبیسیڈر جنرل ریٹائرڈ عامر سے متعلق حیران کن دعوی کیا ہے۔
انٹیلیجنس آن لائن کے مطابق پاکستانی جنرل عامر ایران پر واشنگٹن کے موقف کو تشکیل دینے میں مدد کر رہے ہیں۔
جیسے جیسے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ ایران کے خلاف اپنی "زیادہ سے زیادہ دباؤ" (Maximum Pressure) کی پالیسی کو دوبارہ فعال کر رہی ہے، واشنگٹن کے انٹیلی جنس اور دفاعی حلقوں میں ایک اہم پاکستانی فوجی شخصیت کا کردار تیزی سے ابھر کر سامنے آیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان کے ایک سینیئر جنرل (جن کا نام انٹیلی جنس ذرائع سے منسوب ہے) واشنگٹن اور تہران کے درمیان ایک غیر رسمی پل کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ یہ جنرل ٹرمپ انتظامیہ کے اہم عہدیداروں، بشمول قومی سلامتی کے مشیر کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں تاکہ ایران کے جوہری پروگرام اور علاقائی اثر و رسوخ کے حوالے سے 'درمیانی راستہ' تلاش کیا جا سکے۔
انٹیلی جنس آن لائن کا دعویٰ ہے کہ پاکستانی فوجی قیادت نے واشنگٹن کو ایران کی اندرونی صورتحال اور پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کی نقل و حرکت کے حوالے سے اہم معلومات فراہم کی ہیں۔ اس تعاون کا مقصد امریکہ کو یہ باور کرانا ہے کہ مکمل جنگ کے بجائے Surgical Strikes یا اقتصادی دباؤ زیادہ موثر ثابت ہو سکتا ہے۔
انٹیلیجنس آن لائن کے مطابق پاکستان اس کردار کے ذریعے دو مقاصد حاصل کرنا چاہتا ہے:
اول، امریکہ کے ساتھ اپنے دفاعی تعلقات کو دوبارہ بحال کرنا جو گزشتہ چند سالوں سے سرد مہری کا شکار تھے۔
دوم، یہ یقینی بنانا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان کسی بھی ممکنہ تصادم کے اثرات پاکستان کی سرحدوں تک نہ پہنچیں۔
انٹیلیجنس آن لائن کے مطابق واشنگٹن میں موجود ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹرمپ ٹیم اس جنرل کو ایک "قابلِ بھروسہ شراکت دار" کے طور پر دیکھتی ہے جو خطے کی پیچیدگیوں کو سمجھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایران پر امریکی حکمتِ عملی تیار کرتے وقت پاکستانی فوجی حکام کی مشاورت کو اہمیت دی جا رہی ہے۔
آرٹیکل میں یہ بھی اشارہ دیا گیا ہے کہ یہ پاکستانی جنرل پسِ پردہ 'بورڈ آف پیس' (Board of Peace) کے فریم ورک کے تحت سعودی اور اسرائیلی انٹیلی جنس حکام کے ساتھ بھی رابطے میں ہیں تاکہ ایران کے خلاف ایک وسیع علاقائی محاذ کو منظم کیا جا سکے۔
انٹیلیجنس آن لائن کے مطابق پاکستان کی فوجی قیادت اس وقت ایک انتہائی باریک لکیر پر چل رہی ہے، جہاں وہ ایک طرف تہران کے ساتھ برادرانہ تعلقات کا تاثر دے رہی ہے اور دوسری طرف واشنگٹن کو ایران کے خلاف اپنی اسٹریٹجک مہارتیں فراہم کر رہی ہے۔
(ترجمہ و تبصرہ : عبید بھٹی)
https://t.me/ConflictM/2531
1 192
Repost from Politics Plus
کارگل میں مرنے والے فوجیوں کی لاشیں پاکستانی فوج نے وصول کرنے سے انکار کیا تھا۔ انہیں وہیں بھارتی فوج نے دفنایا ۔ یہ تاریخ معلوم ہوتی تو آج یہ فوجی اس طرح نہ روتا ۔ دنیا بھر کی فوجیں اپنے مغویوں کی رہائی کے لیے سر توڑ کوششیں کرکے negotiate کرتی ہیں مگر پاکستانی فوج؟
#Balochistan
https://whatsapp.com/channel/0029Vb7Bqt3LCoWyJ9OYVB1Y
1 192
پنجگور سے مزید 2 افراد کی تشدد زدہ لاشیں برآمد ہوئی ہیں، جن میں سے ایک کی شناخت جبری لاپتہ جنگیان ولد عبدالرشید کے نام سے ہوئی ہے جبکہ دوسرے شخص کی شناخت تاحال نہیں ہوسکی۔
#dailysangar #Balochistan
1 192
بلوچستان کے علاقے ڈیرہ مراد جمالی میں بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی ( بساک) کی جانب سے قائم کی گئی بک اسٹال پر پولیس نے دھاوابول کر تمام کتابیں ضط کیں اور انتظام کارطالب علموں کوگرفتارکرلیا۔
#BalochidtanNews
1 192
بلوچستان کے ضلع پنجگور کے دریائے رخشاں کے علاقے میں کرش پلانٹ کے قریب ایک نامعلوم شخص کی لاش برآمد ہوئی ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق اطلاع ملنے پر پولیس نے موقع پر پہنچ کر لاش کو تحویل میں لے لیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ لاش کو شناخت کے لیے ٹیچنگ ہسپتال پنجگور منتقل کردیا گیا ہے، تاہم متوفی کی شناخت تاحال نہیں ہو سکی۔ ابتدائی طور پر موت کی وجوہات معلوم نہیں ہو سکیں جبکہ واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں.
1 192
قاتل خونی درندوں پر مشتمل ادارے سی ٹی ڈی نے جن لوگوں کو ثالثی کے لیے بھیجا ملزمان کو سرنڈر کروانے کے لیے انہیں بھی قتل کر ڈالا جبکہ ملزمان سرنڈر کے لیے تیار تھے مگر سی ٹی ڈی فائرنگ روکنے کو تیار نہیں تھی۔
https://www.bbc.com/urdu/articles/cy59vpwlk9vo
1 192
Repost from TALKING PICS
ضلع کرم کے متاثرین کے کیمپ میں دل دہلا دینے والے مناظر سامنے آئے،
جہاں ایک 8 سالہ بچے کے پاؤں میں جرابوں کے بجائے پلاسٹک کے شاپرز لپٹے ہوئے تھے ایسے مناظر جنہیں لفظوں میں بیان کرنا ممکن نہیں۔
#FrozenToDeathInTirah
#TirahValley
#PakistanArmyOppression
@talkingpics
1 192
11 جولائی 2025 کو بلوچستان کے شہر کوئٹہ کے علاقے کلی کمالو سریاب میں پاکستانی فورسز کے اداروں، کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ اور آئی ایس آئی کے اہلکاروں نے سادہ لباس میں ملبوس ہو کر عبدالمطلب ولد عبدالعزیز کے گھر پر چھاپہ مارا اور اسے حراست میں لینے کے بعد جبری طور پر غائب کر دیا۔
کئی مہینے جبری طور پر لاپتہ رکھنے کے بعد، 19 جنوری 2026 کو بلوچستان کے علاقے دشت مستونگ میں دیگر کئی بلوچ نوجوانوں کی طرح اسے بھی جعلی مقابلے میں قتل کر دیا اور اگلے دن، 20 جنوری 2026 کو اس کی لاش لواحقین کے حوالے کی گئی، جس پر دوران حراست تشدد کے واضح نشان موجود تھے۔
#BalochistanNews
1 192
کوئٹہ کینٹ کا وزیراعلیٰ سوشل میڈیا پر بڑے بڑے دعوے کرتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس وقت بلوچستان مکمل طور پر مفلوج ہو چکا ہے۔ معیشت، سیاست، شاہراہیں، محکمے، پورا نظام درہم برہم ہے۔ کرپشن اس قدر عام ہو چکی ہے کہ ہر ضلع کا ڈپٹی کمشنر ماہانہ بھتہ دے رہا ہے۔
دوسری جانب، کچلاک سے لے کر حب چوکی تک زمینوں پر قبضے، کرپشن کے نئے نئے طریقے، اور موجودہ کابینہ کے ارکان جو صرف اپنی اقتدار بچانے میں لگے ہوئے ہیں، اس سے خوش ہیں باقی اس سے ایک محکمہ تک مطمئن نہیں۔
جس دن یہ شخص وزارتِ اعلیٰ کے عہدے سے ہٹے گا اسی دن سب سے زیادہ گالیاں اور اس کی کرپشن کے قصے اس کے اپنے لوگ ہی بیان کریں گے۔ اس کا سب سے قریبی دوست انوار کاکڑ تو پہلے ہی خوف کے مارے اپنا سب کچھ دبئی منتقل کر چکا ہے اور اس نے بھی یہی کرنا ہے۔
Kiyya baloch
