بیادِ استاذ علی معاویہ شہید رحمہ الله
Open in Telegram
580
Subscribers
No data24 hours
+27 days
-2530 days
Posts Archive
Repost from BALOCHISTAN NEWS
ایک گالف کلب 22 ہزار گھروں کا پانی پی جاتا ہے ۔ پاکستان میں بیسیوں گالف کلب ہیں اور وہ انہی کی ملکیت ہیں جو بلوچستان کے وسائل پر قابض رہتے ہوئے اسے اپنے قبضے اور تسلط کو مستحکم کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں ۔ اس غلیظ غیرانسانی منصوبے کی قیمت بلوچستان کی عوام 1947 سے ادا کررہے ہیں۔
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں ⤵️⤵️⤵️⤵️
https://whatsapp.com/channel/0029VbAd6fFCnA7pepfXCZ3G
#Balochistan Vs #KPK #Sindh #Punjab
كَانَتْ لَكُمْ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ فِي إِبْرَاهِيمَ
جب اللہ تعالی نے حکم دیا ہے کہ "تمھارے لئے ابراہیم کی سیرت میں اچھا نمونہ ہے (پیروی کرنے کو ) تو اس جملے میں معنی کا سمندر سمیٹ دیا ہے
ابراہیم علیہ السلام نے صرف بت نہیں توڑے تھے بلکہ اس کے کارنامے بہت بلند ہیں اور وہ عظمت ہمت اور اطاعت کے وہ پہاڑ ہیں جس کی چوٹیاں آسمانوں تک بلند ہے
ابراہیم کی سب سے بڑئ خوبی یہ تھی کہ جو بھی حکم آیا اس نے کہا " لبیک میرے رب قبول ہے جیسے آپ کہو گے وہسے ہی کروں گا " اس نے کسی حکم میں حکمتیں و مصلحتیں تلاش نہیں کی نہ اس سے بچنے کےلئے کوئی عذر تراشے نہ کچھ وقت مانگا نہ فقہ کو الٹ پلٹ کر کر کے کوئی بچنے کی راہ ڈھونڈی نہ کمزورئ دکھائی نہ کم ہمتی دکھائی
یہاں حکم آیا وہاں ابراہیم نے کر ڈالا یہاں حکم آیا وہاں ابراہیم نے عمل کیا ، فرمایا بیٹے کو ذبح کرو بیٹے کو لٹا کر خنجر نکال لیا ، حکم ہوا ختنہ کرو 80 سال کی عمر میں اپنا ختنہ کر ڈالا ، حکم ہوا بیٹے بیوی کو بے آب و گیا میدان میں چھوڑ دو فوری چھوڑ کر چلا گیا ، باپ کو چھوڑا قوم کو چھوڑا وطن چھوڑا ساری قوم کے بت تہس نہس کر دئے اور کہیں بھی سستی یا کم ہمتی نہیں دکھائی
یہ ابراہیم کا اسوہ ہے اس پر چلنے کےلئے جگر چاہئے یہ ہر کسی کے بس کی بات نہیں ہے اگر ابراہیم کی ملت پر ہونے کا دعوی ہے تو سر جھکا کر کہنا پڑے گا اللہ تعالی سے کہ "میرے رب جیسے آپ کہو گے ویسا ہی کروں گا "
پھر مصلحتیں چھوڑنی پڑیں گی حکمتیں توڑنی پڑیں گی اور احکامات کو مروڑ مروڑ کر اپنے لئے آسان کرنے کی روش ترک کرنی پڑے گی ابراہیم کی طرح بت توڑنے پڑیں گے ظاہری بت ہی نہیں بلکہ سینوں میں موجود بت بھی تہس نہس کرنے ہوں گے مسلک کے بت شیخ صاب کا بت مولانا صاب کا بت حضرت کا بت ، سب کو توڑنا ہوگا ، دل کا گھر ایسے ہی اللہ کےلئے خالص اور صاف کرنا ہوگا جیسے ابراہیم نے کعبہ کو اس کےلئے خالص اور صاف کیا تھا
یہاں احکامات میں حکمتیں ڈھونڈی جاتی ہیں اور حکمتوں کے تحت احکامات معطل کئے جاتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ہم مسلم ہیں یہاں سینوں میں بت بنا کر پوجے جاتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ہم موحد ہیں کسی کا کوئی شیخ پسندیدہ ہے تو اس کے خلاف کچھ نہیں سنے گا اس کے باطل کاموں کی تاویلات ڈھونڈے گا اس کے کفر بواح کےلئے شلواریں سی کر چھپانے کی کوشش کرے گا
کسی کی کوئی جماعت پسندیدہ ہے تو ہر جماعت کے خلاف ہنس ہنس کر فتوے ٹھوکے گا لکن اپنی پسندیدہ جماعت پر بات آئے گی تو "ہولا ہاتھا رکھو گذارہ کرو " کی صدائیں بلند کرے گا
کسی کو کوئی شخصیت پسند ہے تو اس کے کفریات کو اسلام میں بدلنے کےلئے اوٹ پٹانگ مضحکہ خیز دلائل ڈھونڈے گا کیونکہ دل میں اس شخصیت کا بت نصب ہوچکا ہوتا ہے اور احترام اور محبت بڑھتے بڑھتے عبادت میں تبدیل ہوگئی ہوتی ہے لکن اس کو احساس نہیں ہوتا
ایسے ہی تو بت بنتے ہیں کہ احساس نہیں ہوتا اور بندے کو پتہ بھی نہیں چلتا کہ میں بت کا پجاری ہوں وہ بیچارہ سمجھتا ہے کہ میں موحد ہوں ، نوح کی قوم کے ساتھ بھی تو یہی ہوا تھا بزرگوں سے محبت ان کا احترام بڑھتے بڑھتے بتوں میں تبدیل ہوگیا تھا اور ان کو احساس تک نہیں ہوسکا تھا
سو ایسے ہی دلوں کے بت بنتے ہیں پہلے متاثر ہونا پھر محبت پھر محبت میں غلو پھر اس کو معصوم ماننا اور آخر میں اس کا بت دل میں نصب کر کے پوجنا اور یہ سمجھنا کہ میں شاید کسی عالم دین یا کسی حضرت سے محض محبت ہی تو کرتا ہوں یہ تو اچھی بات ہے اور اس کے خلاف بولنے والے تو بس جذباتی ہیں یہ تو ویسے بھی کسی کو نہیں بخشتے
ہاں نوح کی قوم نے بھی یہی کہا تھا کہ " یہ تو چند جذباتی نوجوان ہیں " دیکھو سورہ ھود میں بلکل یہی تو کہا تھا لکن ان کو علم نہیں ہوسکا تھا کہ ہم بت پرست بن چکے ہیں اور یہ جذباتی نوجوان نہیں بلکہ موحد نوجوان ہیں
ہاں سالوں سے دلوں میں پیوست بتوں کو توڑنا مشکل ہوتا ہے اور بچپن سے ذہن میں پختہ نظریات سے بغاوت کرنا تکلیف دہ ہوتا ہے لکن یہ تو کرنا پڑے گا ، اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں کیونکہ دونوں میں سےایک ہی بچے گا یا دل میں نصب بت بچے گا یا تم بچو گے سو اگر بت کو توڑ دیا تو تم بچ سکتے ہو اور باقی رکھا تو اس کو دل میں لے کر ہی جھنم کا ایندھن بنو گے
جی ہاں ابراہیم جیسا جگر پیدا کرنا ہوگا وہ پڑئ ہے کلہاڑی ! س کو اٹھاو اور اپنے دل کو بتوں سے صاف کردو تب تم محسوس کرو گے کہ اس پر علم اور ایمان کی لذت کی بارش کیسے نرمی سے برس رہی ہے اور کیسے تمھارا دل اس کا بابرکت شفاف ہانی جذب کرتا جارہا ہے پھر تم ایمان کی لذت بھی پاو گے اور علم کی گہرائی بھی حاصل کر سکو گے لکن وہی بات کہ اس کےلئے ابراہیم کا جگر چاہئے اور یہی قرآن تم سے کہہ رہا ہے " قَدْ كَانَتْ لَكُمْ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ فِي إِبْرَاهِيمَ "
اشرافیہ کے اس ناسور سے ہمیشہ ہمیشہ کیلئے اپنی جان چھڑا لے گا ...... اگر یہ تحریک کامیابی سے ہمکنار ہوتی ہے اور اس کے نتیجے میں مخلصین پر مشتمل اسلامی انقلابی شوریٰ معرضِ وجود میں آتی ہے تو انہیں فوری طور پر درج ذیل انقلابی اقدامات اٹھانے ہونگے ......
*فوری انقلابی اقدامات*
1 - فوری طور پر اس ملک کے زمینی اور ہوائی راستے بند کرکے ماضی میں اقتدار میں رہنے والے اور تمام اداروں کے کرپٹ اور امریکی ایجنڈوں کو ملک کی معیشت اور انسانی جانوں کے نقصان کی قیمت پر پائیہ تکمیل تک پہنچانے والے عناصر کو گرفتار کیا جائے ......
2 - ان کے تمام مقامی اور دیگر ممالک میں موجود جائیدادوں اور دولت کو فوری طور پر ضبط کیا جائے ....... ایک ارب سے زیادہ کرپشن کرنے والوں کو سرعام تین دن تک پھانسی پر لٹکایا جائے اور اس سے کم کے دونوں ہاتھ کاٹ کر نمونہ عبرت بنایا جائے .......
3 - انکی تمام جائیداد ضبط کرکے انہیں رہنے کیلئے 120 گز کا ایک چھوٹا سا گھر دیا جائے اور انہیں اس ملک کے ایک عام شہری جیسے حقوق دیئے جائیں ......
4 - ہر ادارے میں حکومت کے کسی بھی اعلیٰ سے اعلیٰ عہدیدار یہاں تک کہ سربراہِ حکومت کی تنخواہ بھی کسی صورت 2 لاکھ روپے سے زیادہ نہیں ہونی چاہئے اور اس کے علاوہ انہیں کسی قسم کے مراعات اور الاونسز نہیں دینے چاہئیں .......
5 - پروٹوکول کے نام پر ہر ذمہ دار اور بااختیار افسر، وزیر، مشیر یہاں تک کہ سربراہ مملکت کے شاہانہ معمولات پر قوم کے اربوں روپے خرچ کرنے کا سلسلہ پوری طور پر بند کردیا جائے ...... جہاں ضرورت ہو تو زیادہ سے زیادہ دو سے چار محافظ متعلقہ ذمہ دار فرد کیساتھ ایک ہی گاڑی میں رکھے جائیں ورنہ بہت ضرورت ہو تو صرف ایک مزید گاڑی کی اجازت دی جائے ....... یہ سارے ذمہ دار اس قوم کے آقا نہیں حقیقی معنوں میں خادم ہونگے اور یہ اپنے افعال اور سرگرمیوں سے یہ ثابت بھی کرینگے ........
6 - عام لوگوں کی تنخواہ اتنی ضرور ہونی چاہئے کہ جس میں انکا گزر بسر آسانی سے ہوسکے اور انکی ضروریاتِ زندگی پوری ہوسکیں .......
7 - عام عوام اور تمام حکومتی اہلکاروں کا علاج ایک جیسے ہسپتالوں میں ہونا چاہئے اور انکے بچوں کو ایک جیسے سکولوں میں پڑھنا چاہئے خواتین کے لئے خواتین اساتذہ پر مشتمل اسکولز اور کالجز کے قیام کو یقینی بنانا چاہئے ......
8 - کرپٹ عناصر سے وصول شدہ رقم سے آئی ایم ایف، ورلڈ بینک اور دیگر اداروں کے قرضے ختم کئے جائیں گے اور انہیں صرف قرض کا اصل زر دیا جایے گا، سود کی ضمن میں آدا کی گئی رقم اصل زر میں شمار ہوگی اور اصل زر سے زیادہ ایک روپیہ آدا نہیں کیا جائے گا .........
9 - موجودہ آئین اور غیر اسلامی قوانین کو فوری طور پر معطل کرکے اسلامی قوانین کا نفاذ کیا جائے گا اور کسی کو بھی اسلامی قوانین کے خلاف بات کرنے یا اس پر منفی ریمارکس دینے کی اجازت نہیں دی جائے گی، اور ایسا کرنے والوں کو موت کی سزاء دے کر منافقت کا یہ راستہ ہمیشہ ہمیشہ کیلئے بند کر دیا جائے گا .......
10 - پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کو مکمل طور پر اسلام کے سانچے میں ڈھال دیا جائے گا اور اس سے بیحیائی، بے پردگی اور بے راہ روی پھیلانے کی اجازت نہیں دی جائے گی، میڈیا کو اسلام کے سنہرے اصولوں کی ترویج اور اس حوالے سے عوام کی تربیت کیلئے کام میں لایا جائے گا اور اسے باطل نظام ہائے زندگی کو مدلل انداز میں ایکسپوز کرنے کیلئے استعمال کیا جائے گا ........
11 - دیگر اسلامی ممالک کو ہر ممکن صورت میں اس بات پر راضی کیا جائے گا کہ ان ممالک کو خلافت کی صورت میں ایک اٹوٹ اکائی اور ناقابلِ تسخیر وجود کی شکل دی جائے،
اور ابتدائی طور پر اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ
انکے دوست اور دشمن ایک ہوں ......
انکا فائده اور نقصان ساجھا ہو .......
انکی خارجہ اور داخلہ پالیسی ایک ہو ......
انکی کرنسی ایک ہو ......
یہ ایک دوسرے کے خلاف استعمال نہ ہوں .....
اور یہ سب ممالک بیرونی دشمن کے خلاف ایک جسدِ واحد کے مثل کھڑے ہوں .......
*اگر ہم اپنے معاشی حالات کو بدلنا چاہتے ہیں .......*
*اگر ہم اس دنیا میں عزت کے ساتھ سر اٹھا کر جینا چاہے ہیں ......*
*اور اگر ہم اللہ تعالٰی کو راضی کرکے اُخروی نجات کے حصول کے متمنی ہیں .......*
*تو ہمیں یہ سب کرنا پڑے گا*
*اور ان شاء اللہ یہ سب ہو کر رہے گا .......*
طالبِ دعا
ڈاکٹرسید محمد اقبال
12 جون 2022
کراچی
اور اس طرح وہ ملکی ٹیکسز اور آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے سودی قرض کو اپنی زرپرستی کی بھینٹ چھڑا کر ملک کو دیوالیہ ہونے کے قریب تر کرتے رہے اور نہ صرف ملک کو غلام بنالیا بلکہ ملک کے عام عوام کیلئے ان کا جینا سزاء کے مثل بنا دیا .......
اس اشرافیہ یا بدمعاشیہ کلب کے تمام ممبرز ہمیشہ ایک دوسرے کو راستہ دیتے رہے اور ایک دوسرے کے جرائم سے چشم پوشی کرتے رہے ....... فوج کے ہاتھوں شریعت کے عَلم بردار ہزاروں جوان مسنگ ہوتے رہے ان میں کئی ہزار گولیوں سے چھلنی کرکے ویرانوں میں پھینکے جاتے رہے اور کئی ہزار آج بھی ان کے عقوبت خانوں میں موجود ہیں لیکن آج تک انکے ذمہ داروں کو سزاء تو کیا " قانون " کے کٹھرے میں بھی نہیں لایا جاسکا ....... میرے سامنے آئی جی سندھ نے چیف جسٹس سپریم کورٹ کو راؤ انوار کے ہاتھوں 444 لوگوں کے ماورائے قانون قتل کی رپورٹ پیش کی لیکن یہ قاتل آج تک کھلی ہوا میں سانس لے رہا ہے ........ بعض کرپٹ سیاستدان عدالتوں سے سزاء یافتہ ہونے کے باوجود لندن کی فضاؤں سے مستفید ہوتے رہے ........ ان بڑے قومی مجرموں کے ساتھ اس خصوصی سلوک کا ایک عام پاکستانی اپنے لئے تصور بھی نہیں کرسکتا ......
*حل کیا ہے ...... ؟*
یہ بات خوب ذہن نشین کرلیجئے کہ جس طرح زہر سے کسی بیماری کا علاج ممکن نہیں بالکل اسی طرح اس ملک کو معاشی اور اخلاقی طور پر تباہ کرنے والوں سے کسی صورت کسی بہتری کی امید نہیں رکھی جاسکتی نہ تو کوئی قاتل مسیحا بن سکتا ہے اور نہ کسی ڈاکؤ کو رہبری کے مقام پر فائز کیا جاسکتا ہے ....... ان جمہوری ڈاکوؤں کی بیغرتی ، بیشرمی اور نیچ ذہنیت کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ یہ ملک کی معاشی بدحالی کا رونا بھی روتے ہیں اور جب یہ غریب عوام کو سہولت پہنچانے کے نام پر آٹے پر سبسڈی دیتے ہیں تو اپنی اس "خدمت " کی تشہیر کیلئے اخبارات کے فرنٹ پیج پر آدھے صفحہ کا اور ٹی وی چینلز پر کئی دن مسلسل اشتہار دے کر اس دیوالیہ ملک کے کروڑوں روپے اس پر خرچ کر دیتے ہیں اور مزید شرم کی بات یہ کہ ان سے انکی اس "سخاؤت" کے بارے میں پوچھنے والا بھی یہاں کوئی نہیں پایا جاتا ...... اس ملک کو ان ڈاکوؤں سے بچانے، اس کے تمام معاملات کو دوبارہ درست ٹریک پر لانے، اور اسکی تباہ حال معیشت کی اصلاح کے لئے انتہائی ضروری ہے کہ عوام کی حکمرانی کے نام پر دراصل چند خاندانوں کی بادشاہت قائم کرنے والے اس باطل جمہوری نظام سے ہٹ کر کوئی راستہ اختیار کرنا ہوگا اور اس ملک کی بھاگ ڈور متعلقہ شعبہ جات کے ماہر، باکردار، دیانتدار غیر جمہوری مگر انقلابی لوگوں کے حوالے کرنا ہوگا ........ جو صرف اللہ کا خوف رکھتے ہوں، جو دنیاوی ذاتی مفادات کے اسیر نہ ہوں اور جو سرعت کے ساتھ ملک اور قوم کو لوٹنے والوں سے نہ صرف لوٹی ہوئی دولت برآمد کریں بلکہ ساتھ ساتھ انہیں کڑی سزاؤں کے ذریعے عبرت کا نشان بھی بنا دیں ........
*اسکے دو طریقے ممکن ہیں،*
1 - پہلی بات یہ کہ اللہ تعالٰی اپنی حکمت اور قدرت سے دورِ جدید کے ان فرعونوں کے مقابلے کیلئے انہی کے گھروں سے کچھ موسی' کھڑے کردیں اور ان کے ذریعے مستقل اصلاح کا یہ کام اپنے انجام تک پہنچے ....... اس کام کے لئے قلم اور ڈنڈے کی طاقت ناگزیر ہے اور ضروری ہے ...... عدلیہ اور فوج میں موجود کچھ جرآت مند اور اللہ کا خوف رکھنے والے عناصر مل کر روائتی طریقہ کار سے ہٹ کر انقلابی اقدامات کے ذریعے اس ملک کے تمام مسائل کے حل کیلئے اس قاتل جمہوریت کا بوریہ بستر گول کردیں اور اس ملک کے ہر شعبہ کے ماہر اور دیانتدار لوگوں پر مشتمل انقلابی شوریٰ تشکیل دے دیں اور ان کرپٹ جمہوری ڈاکوؤں کے مستقل علاج اور ملک کے مسائل کے حل کا ٹاسک اس انقلابی شوریٰ کے حوالے کردیں، لیکن یہ طریقہ جہاں زیادہ مؤثر ، اور جلد عملی صورت اختیار کرنے والا ہے وہاں بالادست طبقات کی سخت گرفت کی وجہ سے اسکے امکانات بھی بہت کم ہیں .......
اگر ان اداروں کے یہ دیندار اور مخلص افراد وقت کی اس ناگزیر ضرورت کا وقت پر ادراک نہیں کرپاتے، وقت پر مناسب عملی اقدامات نہیں اٹھاتے اور انسانوں کے بنائے ہوئے آئین کے آرٹیکل 6 کے ڈر سے اس قوم پر ہر ظلم اور زیادتی کو برداشت کرتے ہوئے اسے کوئی فوری way out دینے کیلئے تیار نہیں ہوتے تو ........
2 - اس صورت میں اس ملک کی مٹھی بھر بدمعاشیہ کے استحصال اور ظلم کے خلاف عوام کا آٹھ کھڑا ہونا ناگزیر ہوجائے گا لیکن یہ راستہ انارکی، افراتفری اور خون ریزی کا لازمی موجب بنے گا اور اگر ایسے حالات پیدا ہوئے تو اس ملک کے فہیم، مخلص اور پڑھے لکھے باکردار افراد کا فرض ہوگا کہ وہ اس غیر منظم اور منتشر انتقامی صورتحال کو ایک منظم اور بامقصد تحریک میں بدلنے کی کوشش کریں اور اسے ایک مکمل اسلامی انقلاب کا دیباچہ بنا دیں یہ یقیناً ایک حوالے سے ملک وقوم کو مزید کمزور کرنے اور اسے بہت زیادہ نقصان پہنچانے کا سبب بنے گا لیکن دوسری طرف اس نقصان کی قیمت پر یہ قوم
"میرا بیٹا اسسٹنٹ کمشنر لگ گیا ہے "
تو اسکا مطلب یہ ہر گز نہیں ہوتا کہ اس کے بیٹے کو ملک و قوم کی خدمت کا موقع مل گیا ہے بلکہ اسکا صاف مطلب یہ ہوتا ہے کہ ہم اور ہمارا بیٹا اس منصب سے جڑے سماجی حیثیت، مراعات اور اختیارات کا خوب خوب فائدہ اٹھائیں گے ،
"میرا بھائی میجر ہے"
" ماشاء اللہ میرا بچہ گریڈ 18 میں چلا گیا"
"میرا چچا کرنل ہے"
"میرا شوہر جج ہے"
"فلاں انسپکٹر، ایس ایچ او، یا ایس ایس پی میرا دوست ہے ....."
"میرا فلاں عزیز ایم این اے ہے"
کا عمومی مطلب کیا لیا جاتا ہے اور یہ کہنے والا یہ حوالے دے کر کیا تاثر قائم کرنا چاہتا ہے ..... ؟
سوشل سٹیٹس، ناجائز مفادات کا حصول، اختیارات کا غلط استعمال اور دوسروں پر اپنا رُعب قائم کرنا .......
میں کھل کر کہہ رہا ہوں کہ ملک و قوم کی خدمت، تحفظ اور انصاف کے نام پر اس قوم اور ملک کے وسائل کو جس بیدردی سے لوٹا گیا، آج اس ملک کے معاشی تباہی کے کنارے پر کھڑا ہونا اس گھٹیا انفرادی سوچ کا ایک منطقی اور لازمی نتیجہ ہے ......
سیاست، عدلیہ، فوج، پولیس، سول بیوروکریسی اور دیگر ملکی اداروں میں جو لوگ بااختیار مناصب پر براجماں ہیں جنہیں عرفِ عام میں اشرافیہ کہا جاتا ہے جبکہ میرے نزدیک وہ درحقیقت بدمعاشیہ گروپ سے کسی طرح کم نہیں ، انکے لامحدود مادی فوائد اور عام عوام کی زبوں حالی کا ذرا موازانہ تو کیجئے .......
*❌ شاہانہ تنخواہیں*
پاکستان کے کروڑوں لوگ بیروزگار ہیں، جن کو روز گار میسر ہے ان میں اکثریت کی تنخواہ 20 ہزار ہے ، کچھ کا 25، 30 اور 35 سمجھ لیں اسکے مقابلے میں ان سیاستدانوں، بیوروکریٹس، ججز، جنرلز، سیکریٹریز، کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز، آئی جیز، ایس ایس پیز اور دیگر با اختیار عناصر کی تنخواہیں 5 لاکھ 7 لاکھ 10 لاکھ اور کہیں اس سے بھی زیادہ ہیں ........ سماجی اور معاشی عدل اور انصاف بھی تو کسی بلا کا نام ہے نا ....... اس قوم کے یہ "خادم " یا کوئی با اختیار جج اسی سماجی عدل و انصاف کا ذرا خُرد بینی تقابلی جائزہ لیں اور بتائیں کہ کھلے تضاد کی یہ صورتِحال عدل اور انصاف کے کونسے تقاضوں پر کتنا پورا اترتا ہے ...... ؟
لیکن اگر معاملہ یہاں تک محدود ہوتا تو پھر بھی کوئی بات تھی، انہیں ان بھاری بھرکم تنخواہوں پر بھی اکتفاء نہیں، ان تنخواہوں کے علاوہ جو مراعات انہیں ملتی ہیں ان کے سامنے یہ لاکھوں کی تنخواہیں بھی ہیچ ہیں ......
*❌ بے پناہ مراعات*
✔️ کئی کنال پر بنا ہوا گھر یا لاکھوں کا کرایہ ....
✔️ ہر ماہ کئی سو لیٹر مفت پیٹرول .......
✔️ بجلی فری .......
✔️ گیس مفت .......
✔️ ٹیلی فون مفت .......
✔️ انکے بچوں کی تعلیم مفت .......
✔️ نوکر گورنمنٹ کی طرف سے......
✔️ڈرائیور گورنمنٹ کی طرف سے......
✔️ مالی اور خانساماں گورنمنٹ کی طرف سے .....
✔️ انکے ائر ٹکٹ مفت........
✔️ فائیو سٹار ہوٹل میں رہائش مفت ......
✔️ وغیرہ ..... وغیرہ ..... وغیرہ
*❌ پروٹوکول کی عیاشیاں*
لیکن انہیں اس سب پر بھی اکتفا نہیں
یہ پروٹوکول کے نام پر قوم کا جو پیسہ اُڑاتے ہیں وہ ان مراعات سے بھی کہیں زیادہ ہے .....
آفس میں کئی قسم کے ماتحت ......
کہیں جانا ہو تو کئی گاڑیاں آگے اور پیچھے محافظوں سمیت ........
ان گاڑیوں کا پیٹرول اور مینٹینس .......
اس لاؤ لشکر کے کئی قسم کے اخراجات الگ .......
لیکن بات یہاں ختم نہیں ہوتی
*❌کرپشن کے کھلے سمندر میں آشنان*
ان سب تنخواہوں، مراعات اور پروٹوکول کے اخراجات سے کہیں زیادہ وہ کرپشن ہے جو یہ لوگ اپنے اپنے شعبوں میں مختلف انداز میں کرتے ہیں،
بھاری بھرکم تنخواہیں ، بے پناہ مراعات اور پروٹوکول پر آنے والے بھاری اخراجات کے اعتبار سے تو یہ لوگ تقریباً سبھی ایک کشتی کے سوار ہیں لیکن کرپشن کے حوالے سے ممکن ہے کہ ان میں الا ما شاء اللہ کچھ استثنائی مثالیں موجود ہوں لیکن بہر حال انکی اکثریت کے بارے میں یہی کہا جاسکتا ہے کہ وہ کسی نہ کسی طور کرپشن کی اس بہتی گنگا میں اگر نہاتے نہیں تو ہاتھ منہ ضرور دھوتے ہونگے ..... امریکہ، برطانیہ اور سویٹزرلینڈ جیسے ممالک کے بینکوں میں ان کے اربوں ڈالرز کی موجودگی، محل نما گھر اور تجارتی مراکز اس بات کے واضح ثبوت ہیں کہ ملک اور قوم کی خدمت کے نام کو انتہائی بے شرمی کے ساتھ ان لوگوں نے دولت، شہرت اور اختیار کے حصول کا ذریعہ بنایا ....... کسی نے سودوں میں کلک بیکس لئے تو کسی نے مختلف ملکی منصوبوں کیلئے مختص رقم اپنے چپڑاسیوں، اور نوکروں کے اکاؤنٹس میں جمع کرادی ....... کسی نے انصاف کے نام پر ناانصافی کی قیمت وصول کی تو کسی نے امریکہ کو اپنے شیر جیسے بچے بیچ کر ڈالر کمائے ........ اور بیس سال تک اس ملک کو امریکی ایجنڈے کیلئے جہنم کے مثل بنا کر ملکی معیشت کو 100 ارب ڈالر سے زیادہ کا نقصان پہنچایا .......
تحریر طویل ضرور ہے لیکن یہ آپکی
سوچ بدل دیگا ضرور پڑھئیے .......
*معاشی بربادی کا*
*ذمہ دار کون ....؟*
تحریر {ڈاکٹرسید محمد اقبال}
شائد مجھے یہ وضاحت کرنے کی ضرورت نہیں کہ آئی ایم ایف، ورلڈ بینک اور دیگر بین الاقوامی ساہو کار اداروں اور ممالک سے قرض لے لے کر ہم دیوالیہ ہونے کے قریب پہنچ چکے ہیں، ہمارے کئی قومی ادارے اور موٹر ویز تک ان اداروں کے ساتھ گروی رکھے جاچکے ہیں اور ہم نہ صرف اس قرض کے سود کی آدائیگی کی خاطر مزید سودی قرض لینے کیلئے ان سے بھیک مانگ رہے ہیں بلکہ ہم اپنی ریاست اور اسکے ادارے بھی انکی ہدایات کے مطابق چلانے پر مجبور ہیں آور اب تو اپنا بجٹ بھی انکی ہدایات پر بناتے ہیں .....
پیٹرول کی قیمت کیا ہونی چاہئے ....... ؟
بجلی کا پر یونٹ ریٹ کیا ہو ...... ؟
سود کا پرسنٹیج کیا ہونا چاہیے ......؟
یہاں تک کہ ہمیں اپنے سٹوڈنٹس کو سلیبس میں کیا پڑھانا ہے اور کیا نہیں پڑھانا یہ سب یہی ادارے اور ممالک طے کررہے ہیں ........
اور تو کیا ہم ان قرضوں کی وجہ سے اپنی آزادی تک کو بھی گروی رکھ چکے ہیں اور ڈالر فراہم کرنے والے ممالک کے ایجنڈوں کو تکمیل تک پہنچانے کے لئے اپنے ہی لوگوں کا خون کرنے اور انہیں پکڑ پکڑ کر ان کے حوالے کرنے سے بھی دریغ نہیں کررہے .......
ہم آزادی حاصل کرنے کے فوراً بعد ڈالرز کے پھندے سے اپنی خودی، خود داری اور غیرت کو پھانسی چڑھا چکے ہیں اور ہم اپنے ہی ملک میں غلامی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں .......
عوام کی اکثریت دو وقت کی روٹی کیلئے ترس رہی ہے ، وہ اپنا علاج کرنے کی استطاعت نہ رکھنے کی وجہ سے ایڑیاں رگڑ رگڑ کر موت کے منہ میں جا رہے ہیں ، بے روزگاری اپنی انتہاؤں پر ہے، کروڑوں بچے تعلیم سے محروم ہیں، کئی لوگ غربت کی وجہ سے اپنے بچوں کو مار کر خود کشی کررہے ہیں اور کئی مائیں اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کیلئے اپنی عزت بیچنے پر مجبور ہیں ........
سوال یہ ہے کہ ہم اس خطرناک معاشی اور اخلاقی طور پر دیوالیہ صورتحال تک کیسے پہنچے اور اسکے ذمہ دار کون ہیں ...... ؟
میرے نزدیک اسکے ذمہ داران کا تعین دو جمع دو کی طرح بالکل سادہ اور آسان ہے اور وہ یہ کہ ان تمام حالات کے ذمہ دار سیاست، سول اور ملٹری بیورو کریسی اور عدلیہ میں موجود وہ مقتدر عناصر ہیں جن کی ذمہ داری ہی ان مسائل کو حل کرنا ہوتا ہے اور جو ملک اور قوم کو بحرانوں سے نکالنے اور انکی بہتری کیلئے دیانتداری کیساتھ اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لانے کا حلف اُٹھا کر اپنے مناصب سنبھالتے ہیں .........
*یہ کس طرح ذمہ دار ہیں .....؟*
بہت سارے ماہرینِ معاشیات کسی ملک کی معاشی بدحالی کے مختلف ٹیکنیکل وجوہات بتاتے ہیں، لیکن میرے نزدیک انکی بیان کردہ ان تمام وجوہات کی حیثیت بنیادی نہیں بلکہ ثانوی ہی ہوا کرتی ہے .....
ہماری بدقسمتی ہمیشہ یہ رہی ہے کہ ہم جاہلوں کی طرح بیماری کے بنیادی وجوہات کی بجائے بیماری کی علامات کو ہی اصل بیماری سمجھنے کی غلط فہمی میں مبتلا رہے ہیں جبکہ بدیہی حقیقت یہ ہے کہ بیماری کی اصل وجوہات کی تشخیص اور تعین کے بغیر آپ بیماری کے خاتمے اور علاج کا تصور بھی نہیں کر سکتے، اس لئے کسی فرد کی جسمانی بیماری کی طرح کسی ملک کی معاشی یا دیگر مختلف بیماریوں کے علاج کیلئے بھی ضروری ہے کہ ان بیماریوں کی درست تشخیص کی جائے،
میں اس ملک کے معاشی مسائل اور خصوصی طور پر اس ملک کے مختلف طبقات میں معاشی عدم مساوات جیسی بیماریوں کو براہ راست اس ملک کے مختلف ذمہ دار عناصر کے بنیادی اخلاقیات اور کریکٹر سے جوڑتا ہوں یا بہ الفاظ دیگر میرے نزدیک معاشیات کا براہ راست تعلق بنیادی اخلاقیات اور کریکٹر سے ہی ہوا کرتا ہے .....
آپ میری اس بات سے اتفاق کریں گے کہ کوئی بھی فرد جب اس ملک کی فوج، پولیس، سول بیوروکریسی یا دیگر اداروں میں نوکری کرنے جاتا ہے تو بظاہر اس کا مقصد وہ ملک اور قوم کی خدمت بتاتا ہے اور ان اداروں میں جانے کا اصل مقصد بھی یقیناً یہی ہونا چاہیے جو عرفِ عام میں اسکے لئے مختص اصطلاحات سے واضح ہے "سروس یعنی خدمت" اور "سرونٹ یعنی خادم" لیکن زندگی کے عملی میدان میں آپ اجتماعی اور انفرادی سطح پر کسی ادارے میں سروس حاصل کرنے کے حوالے سے ان اصل مقاصد کا تصور بھی نہیں کر سکتے،
سروس کسی بھی ادارے کی ہو چاہے وہ ایک پولیس سپاہی کی ہی کیوں نہ ہو حقیقت اور عملی دنیا میں اس سے سوشل سٹیٹس، مالی مفادات اور اختیارات کا حصول جیسے غلیظ انفرادی مقاصد ہی جڑے ہوتے ہیں اور اس حقیقت کو آپ لوگوں کی روزمرہ باتوں سے بخوبی جان سکتے ہیں، اور بد قسمتی سے ہماری بربادی کا یہ ہمہ گیر اور تباہ کن سفر کردار اور سوچ کی اسی خرابی سے شروع ہوتا ہے
*اگر کوئی کہتا ہے کہ*
Repost from 𝐀𝐀𝐆𝐀𝐇𝐈 ||| آگاھــــــۍ
لال مسجد کی معلّمہ، امّ حسَّان صاحبہ کا خصوصی پیغام، مجا@دین کے نام۔
واٹسپ چینل
https://whatsapp.com/channel/0029Vays9nMBlHpg9RU9561s
ٹیلی گرام
@aagaahi313
Repost from 𝐀𝐀𝐆𝐀𝐇𝐈 ||| آگاھــــــۍ
+1
“إِنَّ هَذِهِ أُمَّتُكُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً وَأَنَا رَبُّكُمْ فَاعْبُدُونِ"
- وردت لفظة أمة في القرآن مفردة
49 مرة
- ووردت مضافة (أمتكم) مرتين،
- وفي حالة الجمع (أمم) 13 مرة.
••┈┈┈┈┈┈┈┈┈┈┈••
"یقیناً یہ تمہاری امت، امت واحدہ ہے، اور میں تمہارا رب ہوں، سو میری عبادت کرو۔" (سورۃ الانبیاء، آیت 92)
⦁ قرآن پاک میں لفظ "امت" اکیلے 49 بار آیا ہے۔
⦁ اور یہ "امتکم" (تمہاری امت) کے اضافے کے ساتھ دو بار آیا ہے۔
⦁ جبکہ جمع کی حالت میں (امم) 13 بار آیا ہے۔
یہ جہاا'د ہی ہے جو مختلف ممالک کے مجاا'ہدین کو مختلف ممالک میں دعوت الی اللّٰہ کے لئے کفار کے خلاف لاکھڑا کرتا ہے
Repost from 𝐀𝐀𝐆𝐀𝐇𝐈 ||| آگاھــــــۍ
#پاکستان
ایک اور غیر اسلامی قانون کا نفاذ
18 سال سے کم عمر کے افراد کا نکاح ممنوع قرار، نکاح پڑھانے والے نکاح خواں کو بھی قید اور جرمانے کا سامنا ہوگا۔
لیکن اس عمر تک تمام بے حیائی کے روابط حتیٰ کہ زنا بالرضا تک جائز قرار۔
کہاں گئی اسلامی نظریاتی کونسل؟
کہاں ہیں وہ علماء جنہیں اہلسنت کی اکثریت پر ناز تھا؟
یقین مانیں آپ لوگ کچھ نہیں کر سکتے.!!!
آپ کو بیدار ہونا ہوگا.!
آپ کو زبردستی شرعی نظام نافذ کرنا ہوگا.!
آخرت کے لیے کچھ آگے بھیجئے!
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ایک بار حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ خلیفہ سلیمان بن عبدالملک کے ساتھ کسی سفر کے لیے نکلے ۔ حضرت عمرؒ نے اپنا سامان اور خیمہ وغیرہ پہلے سے آگے نہیں بھجوایا تھا۔ منزل پر پہنچے تو ہر شخص اپنے خیمے میں جو اس نے پہلے سے بھجوا رکھا تھا، چلا گیا اور سلیمان کے لیے جو خیمہ نصب کیا گیا تھا وہ اس میں فروکش ہوا ۔
حضرت عمرؒ کہیں نظر نہ آئے تو سلیمان نے کہا اُنہیں تلاش کروں ۔ غالباً انہوں نے کوئی خیمہ نہیں بھیجا تھا ۔ تلاش کی گئی تو دیکھا کہ ایک درخت کے نیچے بیٹھے رو رہے ہیں ۔ سلیمان کو اطلاع کی گئی آپ کو بلایا اور دریافت کیا :
ابو حفض! کیوں رو رہے تھے:
سرمایا امیر امیرالمومنین رونے کا سبب یہ ہوا کہ مجھے قیامت کا دن یاد آگیا ۔ دیکھئے میں نے گھر سے کوئی چیز نہیں بھیجی تھی ۔ مجھے یہاں کچھ نہیں ملا ۔ اسی طرح قیامت میں بھی جس نے جو چیز آگے بھی بھیجی ہوگی وہیں اسے ملے گی اور جس نے کوئی چیز نہ بھیجی ہوگی وہ پریشان ہوگا ۔
( سیرت حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ ، مترجم مولانا محمد یوسف لدھیانوی ؒ ص ۲۰ 📔)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
کتاب : ہر واقعہ بے مثال جلد دوم
(صفحہ نمبر ۱۱۹ )
مصنف : ابو طلحہ محمد اظہار الحسن محمود
ناشر : مکتبہ الحسن
اشاعت: اپریل ۲۰۱۴ء
ناقل : عبدالرحمن
Repost from 𝐀𝐀𝐆𝐀𝐇𝐈 ||| آگاھــــــۍ
"تحقیق لازم ہے خاص طور پر فتنوں کے زمانے میں!"
"فتنوں کے زمانے میں بندے کو اپنے دین کو ان لوگوں سے سیکھنے میں احتیاط کرنی چاہیے جو علم کا دعویٰ کرتے ہیں اور انہیں عالم کہا جاتا ہے، اسے چاہیے کہ وہ حق کی تلاش میں رہے اور حق کی تلاش میں اس بات کا جائزہ لے کہ نبی کریم ﷺ نے ان حالات میں غرباء (مجاا'ہدین)، نجات پانے والوں اور غالب، مدد یافتہ جماعت کی جو صفات بیان کی ہیں ان صفات پر غور کرے، اور ان کے ساتھ اور ان میں شامل ہونے کی کوشش کرے، پس اگر اس نے ایسا کیا اور اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کی اور اس سے مضبوطی سے تعلق پکڑا، تو وہ یقیناً کامیاب ہوگا۔"
' الشیخ المجاهد عطیة اللہ اللیبي تقبله اللّٰه
فوجی ترجمان کے حالیہ بیان کے حوالے سے تحریک طالبان پاکستان کا اعلامیہ
چند روز قبل فوجی ترجمان نے ایک طویل پریس کانفرنس میں آیات قرآنیہ اور احادیث نبویہ کے الفاظ کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے اور ہر لائن میں "انڈیا" اور "ہندوستان" کا نام لے لے کر ایک بار پھر قوم کے سامنے وہی گھسا پٹا دعوی دہرایا، جو گزشتہ بیس سالوں سے عوام کو گمراہ کرنے کے لئے میڈیا میں ہر وقت سننے کو ملتا ہے۔
فوجی ترجمان نے امیرِ تحریک طالبان پاکستان کے بیان کردہ ایک فقہی مسئلہ پر غیر معقول اعتراض کیا۔
اسی طرح انہوں نے ایک طرف مذہبی کارڈ کا استعمال کیا تو دوسری طرف قومی عصبیت کا اظہار کیا کہ "ایک پاکستانی کا خون ہزار افغانوں پر مقدم ہے" اور کہا کہ یہ جملہ آرمی چیف کا ہے۔ فوجی ترجمان نے افغان حکومت، افغان قوم اور ان کے خون کی کھلی بیحرمتی کرتے ہوئے انہیں ہندوستان کا آلہ کار قرار دیا۔ اسی طرح فوجی ترجمان نے بلوچ حریت پسند خواتین کے بارے میں بھی انتہائی گھٹیا زبان استعمال کی۔
اور وہ روایتی الفاظ بھی دہرا کر (کہ انہیں اسلحہ، پیسہ اور ہدایات ہندوستان سے آ رہی ہیں) ان کے جائز حق آزادی کو سلب کرنے کے لئے سینہ زوری سے کام لیا۔
ہم بحیثیت مسلمان و پاکستانی ایسے بیانات کی مذمت کرتے ہیں، جن کی بنیاد قومی عصبیت پر ہو، یا جن سے کسی قوم یا خاص طبقے کی بے عزتی ہوتی ہو، یا جن سے مذہب اور انسانی جذبات کو ٹھیس پہنچتی ہو۔ اور ساتھ میں اہلیان پاکستان سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ایسے غیر شرعی اور غیر معقول بیانات کو مسترد کریں جن سے وطن عزیز غیر مستحکم ہو۔
پوری قوم کو یہ بات ذہن نشین رکھنی چاہئے کہ یہ وہی طبقہ ہے جس نے اسلام آباد تا باجوڑ مساجد و مدارس کو مسمار کیا، جس نے پشتون قبائل و بلوچ پٹی پر مظالم کے پہاڑ توڑ ڈالے، جو قوم کے خون پسینے کی کمائی کھا کر آسٹریلیا و فرانس چلتا بنتے ہیں، جنہوں نے نہتے عوام پر اسلام آباد وغیرہ میں گولیاں برسائیں اور اب ایک فلمی جنگ کے بعد فتح کے ڈرامے رچاکر قوم کے جذبات کے ساتھ کھیل رہے ہیں اور خود ہی اپنے سینے پر تمغے سجا کر قوم کی آنکھوں میں دھول جھونک رہے ہیں۔
تحریک طالبان پاکستان پہلے بھی ایسے بیانات کی تردید کرچکی ہے اور اب ایک بار پھر ان تمام الزامات کی تردید کرتی ہے جو دو روز قبل فوجی ترجمان کے پریس کانفرنس میں ہوئے۔
رہی بات امیر تحریک طالبان پاکستان کے بیان کی، تو اس پر ایسے لوگوں کی تنقید کرنے کو سوائے اس کے کیا نام دیں کہ قوم کو گمراہ کرنے کی ناکام کوشش ہے، کیونکہ امیرِ تحریک طالبان پاکستان کی باتیں علمی باتیں ہیں جن کے مخاطب علمائے کرام ہیں، جس کی اہمیت و حیثیت بھی وہی لوگ سمجھتے ہیں جنہیں کوئی علمی مقام حاصل ہو، فوجی ترجمان ان کو کیا جانے؟!
مگر پاکستان کا المیہ ہے کہ افواجِ پاکستان اپنے کام کو چھوڑ کر وہ تمام کام کرنے لگی ہے جس کی ابجد سے بھی واقف نہیں ، چنانچہ فتوے دینا ، سیاسی میدان میں کھیلنا ، زراعت وتجارت کو فروغ دینا وغیرہ کے اپنے ماہرین ہوتے ہیں، مگر پاکستان میں یہ سارے کام وہ فوجی ٹولہ کر رہا ہے جسے اپنا کام بھی صحیح طرح کرنا نہیں آتا ، جس نے آج تک کوئی جنگ نہیں جیتی ، جس نے پاکستان کا آدھا جغرافیہ گنوا دیا ، جس نے ترقی پذیر ملک کو بھیکاری بنایا ، جس نے تمام پڑوسی ممالک کو دشمن بنا کر ملک کو بے چینی میں مبتلا کیا، جس نے اندرونی طور پر سیاسی انارکی پھیلائی۔
اس لئے قوم کو سوچنا چاہئے کہ اس ناگہانی مصیبت سے کس طرح جان چھڑائی جائے!!
محمدخراسانی
ترجمان: تحریک طالبان پاکستان
28/ذی القعدہ/1446ھـ ق
26/ مئی / 2025 ء
#آپریشن_الخندق
#ٹی_ٹی_پی
#عمر_میڈیا
#محمد_خراسانی
#OperationAlkhandaq
#TTP
#Umar_Media
#Muhammad_Khurasani
ہماری ویب سائٹ:
https://umnews.net
1 حق کا معیار اکثریت نہیں
ابنِ مسعود رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے
> الجماعة ما وافق الحق وإن كنت وحدك
(جماعت وہ ہے جو حق پر ہو چاہے تم اکیلے ہی کیوں نہ ہو)
یہی مفہوم قرآن مجید نے بھی پیش کیا
> وَإِن تُطِعْ أَكْثَرَ مَن فِي الْأَرْضِ يُضِلُّوكَ عَن سَبِيلِ اللَّهِ
(سورۃ الأنعام: 116)
یعنی اگر تو زمین میں بسنے والوں کی اکثریت کی پیروی کرے گا تو وہ تجھے اللہ کے راستے سے بھٹکا دیں گے
2 جمہوری نظام کا فریب
جمہوریت ایک ایسا نظام ہے جس کی بنیاد ہی اس بات پر ہے کہ
قانون وہ ہے جو اکثریت بنائے حالانکہ اسلام کا تصورِ قانون وحی الٰہی ہے جس میں کسی مخلوق کو حقِ تشریع نہیں
جو جماعتیں جمہوری نظام کو شرعی جدوجہد کا نام دیتی ہیں وہ حقیقت میں عوام کو دین کے نام پر گمراہ کر رہی ہیں دین کا خدمت وہی ہے جو خالص کتاب و سنت پر ہو نہ کہ باطل نظام کے اندر رہ کر پارلیمانی سودے بازی
3 سوادِ اعظم کی شرعی تعریف
امام شاطبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں
> السواد الأعظم هم أهل الحق وإن قل عددهم
(الاعتصام)
یعنی سوادِ اعظم وہ ہیں جو حق پر ہوں اگرچہ وہ تھوڑے ہی ہوں
بس جو لوگ حق پر ثابت قدم ہیں دین کی اصل بنیادوں پر قائم ہیں اور طاغوتی نظام کا انکار کرتے ہیں وہی سوادِ اعظم کہلانے کے مستحق ہیں
4 عوام کو دھوکہ دینا کبیرہ گناہ ہے
جب دین کے نام پر کسی باطل نظام کو اسلامی جہد قرار دیا جاتا ہے اور پھر اسی بنیاد پر اپنی جماعت کو سوادِ اعظم کہا جاتا ہے تو یہ گمراہی کا نہایت خطرناک دروازہ ہے
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں
> کفر کو اسلام کے لباس میں چھپانا نفاق کی بدترین شکل ہے
5 حق کی پہچان شخصیت سے نہیں منہج سے ہوتی ہے
حق کو پرکھنے کا معیار
قرآن و سنت
فہمِ سلفِ صالحین
طاغوتی نظام سے براءت
لہٰذا جو جماعت ان تین اصولوں پر قائم ہو وہی جماعتِ حق اور حقیقی سوادِ اعظم کہلانے کی حقدار ہے، خواہ تعداد میں قلیل ہی کیوں نہ ہو۔
Repost from 𝐀𝐀𝐆𝐀𝐇𝐈 ||| آگاھــــــۍ
#امریکہ
#برما
#بنگلہ_دیش
امریکی فوج و فضائیہ بنگلہ دیش میں.!
بدھ (21 مئی) کو کاکس بازار کے فائر سروس کے ڈپٹی اسسٹنٹ ڈائریکٹر ٹنہارول اسلام کے مطابق بنگلہ دیش کے ساحلی شہر کاکس بازار میں بنگلہ دیشی فوج کی نگرانی میں تین ملکی بیٹھک ہوئی، جس میں امریکی فوج اور فضائیہ، آرکان آرمی اور بنگلہ دیش کے کچھ 'منتخب' فوجی شریک ہوئے
اس تین ملکی بیٹھک کا اصل ایجنڈہ بنگلہ دیش کی سرزمین پر آرکان آرمی کو 'اسٹریٹجک رسائی' اور بنگلہ دیش میں امریکی اڈے کا قیام تھا
رپورٹ کے مطابق یہ بات طے ہوئی کہ بنگلہ دیش کی جنوب مشرقی سرحد کے کچھ حصوں میں آرکان آرمی کو انسانی راہداری کے نام پر کس طرح جگہ خالی کرکے دی جائے اور راخائن ریاست اور بنگلہ دیش کے پہاڑی علاقے اراکان آرمی کے کنٹرول میں کس طرح منتقل کیے جائیں؟؟؟
اس کے علاوہ امریکی دفاعی قوت نے 'سیکورٹی کی ضمانت دینے' کے بہانے بنگلہ دیش کے اندر اور خلیج بنگال میں ایک فوجی اڈے کے قیام کی تجویز پیش کی۔ واضح طور پر ان تمام کا اصل مقصد بنگلہ دیش کی خودمختاری کو فروخت کرنا تھا۔
بنگلہ دیشی فوج کے اہلکار نے اس کا جواب دیتے کہا کہ امریکی انہیں سیکیورٹی مدد دے رہے ہیں، لیکن اس واقعے کے بعد فوج کے اکثر افسران اس کی حمایت تو بعض مخالفت کر رہے ہیں
Repost from 𝐀𝐀𝐆𝐀𝐇𝐈 ||| آگاھــــــۍ
#امریکہ
#برما
#بنگلہ_دیش
امریکی فوج و فضائیہ بنگلہ دیش میں.!
بدھ (21 مئی) کو کاکس بازار کے فائر سروس کے ڈپٹی اسسٹنٹ ڈائریکٹر ٹنہارول اسلام کے مطابق بنگلہ دیش کے ساحلی شہر کاکس بازار میں بنگلہ دیشی فوج کی نگرانی میں تین ملکی بیٹھک ہوئی، جس میں امریکی فوج اور فضائیہ، آرکان آرمی اور بنگلہ دیش کے کچھ 'منتخب' فوجی شریک ہوئے
اس تین ملکی بیٹھک کا اصل ایجنڈہ بنگلہ دیش کی سرزمین پر آرکان آرمی کو 'اسٹریٹجک رسائی' اور بنگلہ دیش میں امریکی اڈے کا قیام تھا
رپورٹ کے مطابق یہ بات طے ہوئی کہ بنگلہ دیش کی جنوب مشرقی سرحد کے کچھ حصوں میں آرکان آرمی کو انسانی راہداری کے نام پر کس طرح جگہ خالی کرکے دی جائے اور راخائن ریاست اور بنگلہ دیش کے پہاڑی علاقے اراکان آرمی کے کنٹرول میں کس طرح منتقل کیے جائیں؟؟؟
اس کے علاوہ امریکی دفاعی قوت نے 'سیکورٹی کی ضمانت دینے' کے بہانے بنگلہ دیش کے اندر اور خلیج بنگال میں ایک فوجی اڈے کے قیام کی تجویز پیش کی۔ واضح طور پر ان تمام کا اصل مقصد بنگلہ دیش کی خودمختاری کو فروخت کرنا تھا۔
بنگلہ دیشی فوج کے اہلکار نے اس کا جواب دیتے کہا کہ امریکی انہیں سیکیورٹی مدد دے رہے ہیں، لیکن اس واقعے کے بعد فوج کے بعض افسران اس کی حمایت تو بعض مخالفت کر رہے ہیں، حتی کہ بغاوت کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے
⭕️⭕️ کالعدم ٹی ٹی پی: ایک منظم نظریاتی پلیٹ فارم میں تبدیلی کا خطرناک رخ
( خصوصی رپورٹ: پاکستان نیوز )
کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) ایک بار پھر ملکی سلامتی کے لیے نہ صرف ایک چیلنج بن چکی ہے بلکہ اب یہ چیلنج محض عسکری نوعیت کا نہیں بلکہ فکری، نظریاتی اور سیاسی سطح پر بھی اثرانداز ہو رہا ہے۔ یہ گروہ جسکے بارے میں قبائلی علاقوں تک محدود کا پراپیگنڈا کیا جاتا تھا، آج خیبرپختونخوا، بلوچستان، سندھ اور پنجاب تک اپنی واضح موجودگی اور اثرات رکھتا ہے۔ حیران کن طور پر اس میں شامل افراد کا دائرہ کسی مخصوص قوم، زبان یا علاقے تک محدود نہیں رہا، بلکہ یہ ایک ایسے نظریے کی شکل اختیار کر چکا ہے جو ملک کے مختلف طبقات کو متاثر کر رہا ہے۔
ٹی ٹی پی کی حالیہ تنظیمی حکمت عملی اور وسعت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ اب یہ محض ایک مسلح گروہ نہیں بلکہ ایک منظم پلیٹ فارم ہے، جو مختلف عسکریت پسند دھڑوں کو اپنے اندر سمو رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق گزشتہ چند برسوں میں 90 سے زائد چھوٹے بڑے عسکریت پسند گروہ ٹی ٹی پی میں شامل ہو چکے ہیں۔ یہ پیش رفت نہ صرف ریاستی اداروں کے لیے لمحہ فکریہ ہے بلکہ اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ ٹی ٹی پی اب ایک ادارہ جاتی ڈھانچے میں ڈھل چکی ہے، جہاں اختلافات کے باوجود مرکزیت قائم ہے۔
اس بدلتے ہوئے منظرنامے میں اگر کوئی عسکری گروہ، ، ٹی ٹی پی سے علیحدہ رہتا ہے تو اس کا نقصان خود اس علیحدہ رہنے والے گروہ کو ہوتا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ اب ٹی ٹی پی کی وسعت چند افراد یا کمانڈروں پر منحصر نہیں رہی، بلکہ یہ ایک نظریاتی، سیاسی اور تنظیمی پلیٹ فارم بن چکی ہے،
یہ صورتحال افغانستان میں امارت اسلامیہ کے ابھار سے کچھ حد تک مشابہت رکھتی ہے۔ جس طرح امارت اسلامیہ افغانستان میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے خلاف ایک منظم قوت بن کر ابھری، اسی طرح ٹی ٹی پی پاکستان میں فوج اور ریاستی اداروں کے خلاف ایک مربوط بیانیے کے ساتھ سامنے آ رہی ہے۔ یہ نہ صرف نظریاتی محاذ پر متحرک ہے بلکہ عملی عسکری کاروائیاں بھی مسلسل انجام دے رہی ہے۔ اس کی صفوں میں شامل نوجوان اب بندوق اٹھانے سے پہلے ایک سوچ کے ساتھ جڑتے ہیں، جو اس تحریک کو مزید گہرا اور دیرپا خطرہ بناتا ہے۔
ریاستی اداروں کے لیے ٹی ٹی پی محض ایک "عسکری گروہ" نہیں رہا ، بلکہ ایک نظریاتی چیلنج بن چکی ہے جو نوجوانوں کو اپنی طرف متوجہ کر رہا ہے، مختلف علاقوں میں اپنے ٹھکانے بنا چکا ہے، اور ہر محاذ پر متحرک نظر آ رہا ہے۔ جو محض عسکری آپریشنز تک محدود نہیں ہے بلکہ فکری محاذ پر بھی مؤثر اقدامات کر رہا ہے ۔
ٹی ٹی پی کی بڑھتی ہوئی مقبولیت، اس کا منظم ڈھانچہ، اور مسلسل عسکری گروہوں کی شمولیت، ایک ایسی تصویر پیش کر رہے ہیں جو واضح کرتی ہے کہ یہ ایک جامع حکمت عملی مرتب کر کے آگے بڑھ رہے ہیں ، اور یہ تنظیم مستقبل میں حکومت اور فوج کے لیے ایک بڑا سیکیورٹی خطرہ بنتی نظر آرہی ہے جو پاکستان بھر کی مختلف اقوام میں قومی وحدت پیدا کر کے حکومت اورفوج کے خلاف ایک مستقل چیلنج بن سکتی ہے۔۔
اس دنیا سے بچو!! بیشک یہ ھاروت و ماروت سے زیادہ سخت ھے۔ وہ دونوں تو میاں بیوی میں جدائی ڈالتے تھے۔ جبکہ یہ دنیا اللہ اور اسکے بندے کے مابین دوری پیدا کرنے والی ھے۔
___
احذروا الدنيا فإنها أسحر من هاروت وماروت؛ ذانك يُفرِّقان بين المرء وزوجه وهذه تُفرِّق بين العبد وربه!
ابن الجوزي | المدهش (٣٨٦)
