📚حدیثِ رسـولﷺ🌴
Open in Telegram
🌴حــــــدیثِ رســــــولﷺ چـینــل📚 صحیحین، سنن اربعہ و دیگر کتبِ احادیث کا بہترین مجموعـہ جس کو آپکی خدمت میں خوبصورت مختصر پوسٹ کی شکل میں پیش کیا جارہا،چینل کو جوائن کریں https://t.me/HadeethERasool •°• ایڈمن ٹیم: حـدیثِ رسولﷺ 🌴°•°
Show moreThe country is not specifiedReligion & Spirituality38 086
2 924
Subscribers
No data24 hours
-37 days
-530 days
Posts Archive
2 924
*🚪••• تین دفعہ اجازت لینا•••*
🍂سیدنا عبید بن عمیر رحمه الله سے روایت ہے کہ سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی الله عنه نے سیدنا عمر بن خطاب رضی الله عنه کے پاس جانے کی اجازت مانگی تو انہوں نے کسی مشغولیت کی وجہ سے اجازت نہ دی تو سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ واپس آگئے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فارغ ہوئے تو کہا:مجھے عبداللہ بن قیس کی آواز آئی تھی، اسے اندر آنے کی اجازت دو۔ عرض کیا گیا:وہ واپس چلے گئے ہیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں بلایا تو انہوں نے کہا:ہمیں اسی بات کا حکم دیا جاتا تھا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:اس بات پر کوئی دلیل (گواہ)لاؤ (کہ آپ نے یہ حکم دیا ہے)چنانچہ وہ انصار کی مجلس میں گئے اور ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا:تمہاری اس بات کی گواہی ہمارے چھوٹے میاں ابو سعید خدری ہی دیں گے، چنانچہ وہ سیدنا ابو سعید خدری کو لے گئے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ حکم مجھ پر مخفي رہ گیا، مجھے بازار کی خرید و فروخت نے عافل کردیا، یعنی تجارت کے لیے جانے کی وجہ سے مجھ پر مخفي رہ گیا۔
*🔖تشریح :-*
(۱)سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ تین دفعہ اجازت طلب کرنے کے بعد واپس آگئے اور اس کی وجہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان تھا کہ تین دفعہ اجازت طلب کرنے پر اگر تمہیں اجازت نہ ملے تو واپس چلے جاؤ۔ (صحیح البخاري، ح:۵۸۹۱)
(۲) سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو اس حدیث کا علم نہیں تھا۔ جب انہیں حدیث کا علم ہوگیا تو فوراً تسلیم کرکے اپنی کوتاہی کا اعتراف کیا۔
(۳) اس سے معلوم ہوا کہ حدیث کے صحت اور ضعف کی چھان بین کرنی ضروری ہے۔
(۴) اس حدیث سے خبر واحد کے حجت نہ ہونے کی دلیل لینا حماقت ہے کیونکہ ایک سے زیادہ لوگ بیان کریں تب بھی وہ خبر واحد ہی رہتی ہے جب تک اس میں متواتر کی شرطیں نہ پائی جائیں۔ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دو کی بات قبول کرلی تو خبر واحد کا قبول کرنا ثابت ہوا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے مزید تائید لانے کے لیے اس لیے کہا تاکہ لوگوں کو حدیث کے حوالے سے محتاط انداز اختیار کرنے کی ترغیب دیں۔
🗒️ |[ الادب المفرد : ١٠٦٥ ]|
2 924
مولانا نعیم الحق نعیم لکھتے ہیں:مولانا عطاء اللہ حنیف بھوجیانی رحمہ اللہ نے "سير أعلام النبلاء" کی مکمل تئیس(23) جلدوں کا مطالعہ اس حالت میں کیا کہ ان پر فالج کا شدید حملہ ہوا تھا اور وہ صاحبِ فراش تھے۔(الاعتصام ص ٢٨١)
مولانا نعیم الحق لکھتے ہیں:حضر ہوتا یا سفر کتاب ان کے پاس ہمیشہ ہوتی۔علم اور کتب بینی کا شوق اتنا شدید تھا کہ گاڑی میں بیٹھے ہوئے بھی مطالعہ کرتے رہتے بلکہ بسا اوقات پیدل چلتے ہوئے بھی کتاب کھول کر پڑھتے جاتے تھے۔(الاعتصام ص ٢٨١)
مولانا نعیم الحق لکھتے ہیں:١٩٤٧ء قیامِ پاکستان کے وقت جب مولانا عطاء حنیف بھوجیانی سفرِ ہجرت کے لئے نکلے تو سر پر ایک صندوقچہ تھا اور ہاتھ میں ایک کتاب جس کا چلتے چلتے مطالعہ کر رہے تھے۔(الاعتصام ص ٢٩٠)
مولانا نعیم الحق لکھتے ہیں:ایک مرتبہ مولانا عطاء اللہ حنیف کھانا کھا رہے تھے اور ساتھ ساتھ حسبِ معمول مطالعہ کر رہے تھے کہ گھر والوں نے سالن کے برتن کی جگہ ایک پانی والا برتن رکھ دیا۔مولانا کو اپنے انہماک علمی کی وجہ سے پتہ نہ چل سکا اور انہوں نے ایک دو لقمے پانی میں لگا لئے.(الاعتصام ص ٢٨٢)
✍️حافظ عبدالرحمن المعلمی
#سلسلة_اقوال_العلماء
2 924
🩶 - *انمول نصیحت بصورت درخواست!"*
دوستوں اور خاص کر صحیح العقیدہ بھائیوں سے درخواست ہے کہ ہر وقت فتنوں سے بچنے کی دعا مانگتے رہا کریں۔ کیونکہ اچھے اچھوں کو فتنے یوں نگل گئے کہ جیسے وہ کبھی تھے ہی نہیں۔۔۔ کبھی بھی یہ گمان نہ کریں کہ آپ کا علم یا عقل کامل ہے، کبھی بھی بزعم خودی کا شکار ہو کر اپنے علم و عقل پہ تکیہ نہ کریں۔۔۔ کہیں آپ کے علم کا زعم آپ کو کسی فتنے میں نہ دھنسا دے اور آپ کی عقل ضبط نہ کر دے، آپ کو مغرور و سرکش اور منہ زور نہ بنا دے۔۔۔ اگر ایسا ہوا تو آپ میں انا و خود سری در آئے گی اور آپ عافیت سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔
شعراء، فلاسفہ اور متکلمین سے دور رہیں کہ ان کا کلام زومعنی و مبہم اور شیطان کی آنت سے زیادہ طویل اور پیچ دار ہے، جبکہ اللہ کا دین واضح، دو ٹوک اور سیدھا سادہ ہے۔۔۔ لیکن دین میں تدبر کرتے ہوئے کبھی فلاسفہ و متکلمین کی طرح آزاد فکری سے کام نہ لیں، بلکہ اپنی فکر کے گھوڑے کو اسلاف کے منہج کی لگام ڈالے رکھیں۔۔۔ تاریخ نے بڑے بڑے شہسوار اس میدان میں منہ کے بل فتنوں میں گرتے دیکھے ہیں۔ اور سب سے اہم، جب آپ کا کوئی بھائی آپ کو آپ کی فکری غلطی کی طرف متوجہ کرے تو انا پرستی کا شکار مت ہویے، کہ یہی ہلاکت ہے۔
✍️ - *(بھائی اویس خان سواتی رحمہ اللہ)*
#اصلاحی_تحریریں
2 924
غصے کا گھونٹ پینے سے مراد غصہ ضبط کرنا اور غلطی کرنے والے کو معاف کردینا۔اللہ تعالی کو یہ عمل بہت پسند ہے کیونکہ وہ خود بہت زیادہ معاف کرنے والا اور بخشنے والا ہے۔بہت سے جرائم محض غصے کی وجہ سے سرزد ہوتے ہیں۔اگر لوگ حلم و بردباری اختیار کریں تو جرائم بہت کم ہوسکتے ہیں۔
2 924
🌸 *سرخ اونٹ سے بہتر !*
🔹 *نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قسم اللہ کی، اگر تیری رہنمائی سے اللہ تعالیٰ ایک آدمی کو بھی ہدایت دیدے تو یہ تیرے لیے سرخ اونٹ سے (جو بہت قیمتی اور عزیز ہوتے ہیں) بہتر ہے ۔*🔹
📗«سنــن ابــو داٶد-3661»
2 924
🌺 *بیٹی کی پرورش !*
🔹 *رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کے پاس دو لڑکیاں ہوں اور وہ ان کے ساتھ حسن سلوک (اچھا برتاؤ) کرے جب تک کہ وہ دونوں اس کے ساتھ رہیں، یا وہ ان دونوں کے ساتھ رہے تو وہ دونوں لڑکیاں اسے جنت میں پہنچائیں گی.*🔹
📗«سنــن ابــن ماجہ-3670»
2 924
"ماں باپ کے ساتھ نیکی کرنے والا بُری موت نہیں مرتا!"
امام سعيد بن المسيب رحمه الله
(تاريخ ابن معين : 328/2)
#سلسلة_اقوال_السلف #حقوق
2 924
"عمر بن عبد العزیز رحمه الله ہر رات کے وقت علماء کو جمع کرتے پھر آپس میں مل کر موت اور قیامت کے بارے میں گفتگو کرتے پھر سب یوں روتے گویا ان کے سامنے جنازہ موجود ہے۔"
▪️ - عطاء بن ابی رباح رحمه الله
📘 - [تاريخ مدينة دمشق (ج ٤٥ ص ٢٣٩)]
#سلسلة_اقوال_السلف #قیامت
2 924
"جس نے اسلام کو زندہ کرنے کے لیے علم حاصل کیا تو وہ صدیقین میں سے ہے،اس کا درجہ انبیاء کے بعد کا ہے!
▪️ - شیخ الاسلام ابن القیم رحمه الله
📕 - (مفتاح دارالسعادة ١٨٥/١)
2 924
🤲🏻 *والدین کی دعا !*
🔹 *رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:تین دعائیں ہیں جن کی قبولیت میں کوئی شک نہیں: مظلوم کی دعا، مسافر کی دعا، والد (اور والدہ) کی دعا اپنی اولاد کے حق میں۔*🔹
📗«سنــن ابــن ماجہ-3862»
2 924
” الله کی قسم! میں ضرور ان بیڑیوں میں ہی جان دے دوں گا، تاکہ میرے بعد آنے والوں کو پتہ ہو کہ اس عقیدے کی خاطر کچھ لوگ بیڑیوں میں جکڑے الله کے حضور پیش ہوئے ہیں۔“
📘 - *(الإمام الصابر الصّدّيق أبو يعقوب البويطي رحمه الله تــ ٢٣١ھ)*
آپ امام شافعی رحمه الله کے سب سے فاضل شاگرد اور جانشین تھے۔ خلق قرآن کے فتنے میں قید کیے گئے، اور جیل میں ہی وفات ہوئی۔
#سلسلة_اقوال_السلف
2 924
🍂 *بے حیائی پھیلانے کے آرزو مند!*
🔹 *جو لوگ مسلمانوں میں بے حیائی پھیلانے کے آرزو مند رہتے ہیں ان کے لئے دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب ہیں اللہ سب کچھ جانتا ہے اور تم کچھ بھی نہیں جانتے۔*🔹
📗«سورۃ نور -19»
2 924
’’فیشنی اور وقتی فتنے‘‘
تاریخ پر نظر دوڑانے سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں کو روزِ اول سے ہی جہاں عام مسائل و فتنے درپیش ہوتے تھے وہیں ہر زمانے کے کچھ خاص فتنے ہوتے تھے، یہ فتنے بڑے زور و شور سے آتے یوں لگتا کہ سب کچھ بہا کر لے جائیں گے لیکن بالآخر اپنے کچھ اثرات چھوڑ کر نیست ونابود ہو جاتے۔
ان فتنوں کے مقابلے میں دو طریقے اختیار کیے گئے۔
پہلا طریقہ تو یہی تھا کہ اسلام کی اصل اور بنیاد کو مضبوط رکھا جائے، قرآن و سنت کی ٹھوس تعلیمات وہ عقائد ہوں یا فقہ ہو اسے صحیح ترین صورت میں جیسے تیسے اگلی نسل تک منتقل کر دیا جائے اور کسی خاص جگہ پر بوقتِ ضرورت کتاب و سنت کی بنیاد پر فتن کا سرسری رد کر دیا جائے، دوسرے الفاظ میں بہترین و عمدہ اور بلند پایہ علماء تیار کیے جائیں جو دین کے اصول و فروع کا پورا درک رکھتے ہوں، اپنے دین و ایمان کو فتنوں کے سامنے ڈھال بن کر بچا رکھیں۔
دوسرا طریقہ یہ اپنایا گیا کہ ان فتنوں کے رد کے لیے ان میں گھس جایا جائے، شب روز اسی کے سیکھنے سکھانے میں صرف کر دیے جائیں، انہی کو اصل بنا کر فیشنی طور پر دن رات اسی کے گن گائے جائیں، یوں باور کروایا جائے کہ یہ فتنہ گھر گھر آ گیا ہے، بس اب تو دیندار بھی متاثر ہو رہے ہیں، سب ختم ہونے والا ہے، پھر عالم صرف اسے سمجھا جائے جو اس فتنے پر بات کرے، پڑھا لکھا اور جدت پسند اسی کو خیال کیا جائے جس کے شب و روز اس فتنے کے رد میں لگیں، اس کے علاوہ دینی تعلیمات کے محافظ اور کتاب و سنت کے علمبرداروں پر طعن و تشنیع کر کے انہیں جدید فتنوں سے جاہل و نابلد باور کروایا جائے ۔
فتنے آئے اور چلے گئے لیکن یہ بات سمجھا گئے کہ علماء و محدثین کا طریقہ بالکل درست تھا کہ جنہوں نے فتنوں پر رد کو اصل بنانے کی بجائے اپنی علمی میراث کو مضبوطی کے ساتھ تھامے رکھا اور اسے من وعن آگے منتقل کرنے کی کوشش میں جُتْ گئے۔
کبھی فلسفہ یونان کا فتنہ تھا جس نے مسلمانوں کو ہلا کر رکھ دیا، علم الکلام کا صدیوں طوطی بولتا رہا، فتنۂ اعتزال نے سالوں راج کیا، مسلمانوں کے گھروں میں داخل ہو گیا، ایسا وقت بھی آیا کہ مقابلے میں امام احمد رحمہ اللہ جیسے انگلیوں کی تعداد سے بھی کم گنتی بَند باندھ کر کھڑی رہ گئی، یوں لگتا تھا کہ اب اسلام سمیت کسی مذہب کا کچھ نہیں بچے گا، اُس وقت جن لوگوں نے بجائے کتاب و سنت کے فلسفہ یونان سیکھنے پر وقت صرف کیا، علم الکلام میں مہارتیں حاصل کرنے لگ گئے انہوں نے سب سے زیادہ اسلامی ورثے کو نقصان پہنچایا، جس کی وجہ سے عقائد میں بھی مسلمانوں کے فرقے بن گئے ۔
لیکن ان سب کے مقابلے میں علماء ربانین کا ایک ہی طریقہ رہا اور تاریخ نے ثابت کیا کہ وہی صحیح راستہ تھا ۔
الحاد، فیمینزم، لبرلزم، سیکولرازم وغیرہ بھی ہمارے دور کے وقتی فتنوں میں سے ہیں، ہو سکتا ہے یہ بھی آئندہ کچھ صدیاں اسی طرح چلتے رہیں، یہ حقیقت ہے کہ ہمارے دور کے فتنوں کا پھیلاؤ سائنسی ایجادات کی بدولت زیادہ ہے لیکن یہ بھی یاد رہے کہ اِن کی بنیاد فلسفہ یونان، علم کلام و اعتزال کے مقابلے میں کہیں زیادہ کمزور و رکیک ہے، وہ باقاعدہ مذاہب کی طرح منظم اصول و قواعد پر مبنی فتنے تھے جبکہ یہاں ایسا کچھ نہیں ہے ۔
بہرحال تاریخ پھر اپنے آپ کو دہرا رہی ہے، ایک گروہ کا طرزِ عمل بالکل اسی طرح ہے کہ دن رات الحاد وغیرہ کا رد ہو، جو اس پر رد کرے وہ عالم ہے، باقی سب جاہل و نابلد اور دقیانوسی سوچ کے حاملین ہیں، فیشن اور ٹرینڈ بن گیا ہے کہ فلاں چونکہ الحاد کا رد کرتا ہے اس لیے کمال کا پڑھا لکھا و انٹلیکچویل ہے، نوجوانوں کو لگتا ہے کہ ہر جگہ بس انہی فتنوں پر بات ہو، خطبات جمعہ ہوں یا دروس قرآن، تعلیم و تعلم ہو یا درس و تدریس ہر جگہ ایک ہی بات ہو الحاد، فیمن ازم، سیکولرازم وغیرہ وغیرہ ۔
اس طرزِ فکر کو کتاب و سنت کے اعتبار سے دیکھنے کی بجائے صرف تاریخی تناظر میں دیکھا جائے تو یہ نہایت سطحی، غیر ذمہ دارانہ اور جذباتی رویہ ہے، تاریخِ اسلامی میں جس فتنے کا بھی یوں استقبال کیا گیا اس کا دورانیہ بڑھتا چلا گیا اور اس کے نقصانات امت زیادہ سے زیادہ تر ہوتے گئے، فلسفہ یونان پر رد کرتے کرتے کتنے جبل اس سے جا متاثر ہوئے، کیسے کیسے ذہین وفطین علم کلام کے رد کی کوشش میں خود متاثر ہوئے، اعتزال کے گورکھ دھندے سے الجھے اور اپنی اگلی کئی نسلوں تک کو ان برے جراثیم سے متاثر کرتے گئے ۔
مختصر یہ کہ فیشنی و وقتی فتنوں کا یوں استقبال امت کے لیے ہمیشہ خطرناک رہا ہے۔
(حافظ محمد طاھر)
#فتنے #اصلاحی_تحریریں #اصلاح_معاشرہ
2 924
💐 *جمعہ کی نماز !*
🔹 *اے ایمان والو !جب جمعہ کے دن نماز کے لیے پکارا جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف لپکو ، اور خریدو فروخت چھوڑ دو۔ یہ تمہارے لیے بہتر ہے ، اگر تم سمجھو ۔*🔹
📗«سورۃ الجمعہ-9»
2 924
🤲🏻 *والدین کی دعا !*
🔹 *رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:تین دعائیں ہیں جن کی قبولیت میں کوئی شک نہیں: مظلوم کی دعا، مسافر کی دعا، والد (اور والدہ) کی دعا اپنی اولاد کے حق میں۔*🔹
📗«سنــن ابــن ماجہ-3862»
2 924
”☀️ - *موسمِ گرما؛ چند قابلِ غور پہلو“*
دنیا میں گرمی کی شدت آخرت کی گرمی کی شدت یاد کرانے کا سبب ہونا چاہیے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمہاری یہ آگ جسے تم جلاتے ہو، جہنم کی آگ کے ستر حصوں میں سے صرف ایک حصہ ہے۔(١) اور قرآن مجید میں ہے کہ اہلِ جہنم بدترین لُو، کھولتے ہوئے پانی اور شدتِ حرارت سے سیاہ دھویں میں ہوں گے، نہ ٹھنڈک کا کوئی سامان ہو گا نہ رحم و کرم کا معاملہ ہو گا۔(٢) اللہ ہمیں جہنم کی گرمی سے بچائے۔
آج سورج ہزاروں میل دور سے ہمیں جھلسا رہا ہے۔ روزِ قیامت یہ ایک میل کی مسافت پر آ جائے گا۔(٣) ہم ہزاروں میل دور سورج سے بچنے کیلیے کولر، اے سی وغیرہ کا اہتمام کرتے ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قیامت کی گرمی سے بچنے کیلیے بھی کچھ ائیر کنڈیشنرز بتلائے ہیں۔ معروف حدیث ہے کہ سات قسم کے لوگوں کو الله عرش کے نیچے اپنے سائے میں جگہ دیں گے،(٤) یہ قیامت کے دن کام آنے والے سات اے سی ہیں۔ ان سات میں سے کسی ایک کا اہتمام تو کرنا چاہیے کہ نہیں؟!
نبی صلی الله علیه وسلم کے دور میں کچھ لوگوں نے گرمی کی شدت کا بہانہ بنا کر جہاد سے پیچھے رہنا چاہا تو الله نے فرمایا : ”کہہ دیجیے، جہنم کی آگ کہیں زیادہ گرم ہے۔“(٥) آج بھی بہت سے مسلمان گرمی کو بنیاد بنا کر کئی اعمال (جیسے باجماعت نماز / روزہ / پردہ) چھوڑ دیتے ہیں۔ انہیں سوچنا چاہیے کہ جہنم کی آگ کہیں زیادہ جلانے والی ہو گی!
جو الله موسموں کو بدلتا ہے وہی حالات کو بھی بدلتا ہے۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمه الله نے اپنے شاگرد رشید ابن قیم رحمه الله سے کہا تھا کہ آزمائشیں بھی گرم سرد موسموں کی مانند ہیں۔(٦) کبھی زندگی میں خزاں ہے تو کبھی بہار۔ یہ سب زندگی کا لازمہ ہے۔ اس بات کو سمجھ لینے سے غم و غصہ اور بے صبری زائل ہو جاتی ہے۔
گرمی کے موسم میں سب سے فرحت بخش اور پر لطف نعمت ٹھنڈا پانی ہے۔ قیامت کے دن نعمتوں میں سب سے پہلا حساب ٹھنڈے پانی کا ہو گا۔(٧) اس نعمت کا احساس اور اس کا کما حقہ شکر ادا کرنے کی پوری کوشش ہونی چاہیے۔
سب سے افضل صدقہ پانی کا صدقہ ہے۔(٨) کوشش کریں کہ اس موسم میں اس صدقے کا اہتمام کریں۔ بڑے پیمانے پر جیسے نہر جاری کروانا، کنواں کھدوانا، فلٹریشن پلانٹ لگوانا، کولر نصب کروانا وغیرہ۔ اسی طرح چھوٹے پیمانے پر جیسے مزدوروں / مسافروں / طالبعلموں بلکہ چرند پرند اور جانوروں تک کے پانی کا انتظام کرنا، عوامی مقامات اور ٹریفک اشاروں پر بوتلیں تقسیم کرنا وغیرہ۔ اہلِ علم کہتے ہیں کہ الله نے تو ایک کتے کو پانی پلانے والی کو بخش دیا تھا،(٩) تو وہ مومنوں کو پانی پلانے والے کو کیسے نہیں بخشے گا؟!(١٠)
.............
(١) صحيح البخاري : ٣٢٦٥
(٢) سورة الواقعة : ٤٢-٤٤
(٣) صحيح مسلم : ٢٨٦٤
(٤) صحيح البخاري : ١٤٢٣
(٥) سورة التوبة : ٨١
(٦) مدارج السالكين : ٣٦١/٣
(٧) سنن الترمذي : ٣٣٥٨
(٨) صحيح الترغيب : ٩٦٠-٩٦٢
(٩) صحيح البخاري : ٣٤٦٧
(١٠) تفسير القرطبي : ٢٣٣/٩
✍🏻 - (فیضان فیصل)
#اصلاحی_تحریریں
2 924
🌸 *پیارے رسولﷺکی پیاری سنت!*
🔹 *حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب رات کو اٹھتے تھے تو اپنے منہ کو مسواک کے ساتھ صاف کرتے تھے ۔* 🔹
📗«سنــن نسائی-1622»
2 924
🌼 *پیارے رسولﷺکی پیاری دعا !*
🔹 *نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ دعا مانگا کرتے تھے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْهُدَى وَالتُّقَى وَالْعَفَافَ وَالْغِنَى» اے اللہ! میں تجھ سے ہدایت، پرہیزگاری، پاکدامنی اور دل کی مالدرای چاہتا ہوں۔*🔹
📗«سنــن ابــن ماجہ-3832»
2 924
”اگر کوئی طالب علم ہمارے پاس سات آٹھ سال کا عرصہ گزارنے کے بعد امام، خطیب، مقرر یا ادیب نہ بن سکا لیکن ایک سلیم الفطرت، صحیح العقیدہ پنجگانہ نماز باجماعت ادا کرنے والا اور شریعت کے مطابق عام آدمی بن کر زندگی گزارنے والا بن گیا تو ہمارا مقصد پورا ہو گیا۔ اور ہمیں امید ہے کہ ہم اللہ کے ہاں کامیاب ہو جائیں گے، ان شاءاللہ۔“
🎙️ - *(مولانا عتیق اللہ سلفی حفظہ اللہ)*
2 924
6 ماہ میں حفظِ قرآن
میں نے جب حفظ قرآن شروع کیا تو میرے استاذ گرامی نے مجھے کہا:
آپ نے سبق یاد کرنے سے پہلے یہ دعائیں پڑھنی ہیں۔
اللَّهمَّ إنِّي أسألُكَ عِلمًا نافعًا ورزقًا طيِّبًا وعملًا متقبَّلًا۔ [صحیح ابن ماجہ: 762]
رَّبِّ زِدْنِي عِلْمًا۔ [طه: 114]
رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي - وَيَسِّرْ لِي أَمْرِي - وَاحْلُلْ عُقْدَةً مِّن لِّسَانِي - يَفْقَهُوا قَوْلِي۔ [طه: 25,28]
ان دعاؤں کی برکت سے میں نے 6 مہینوں میں مکمل قرآن مجید حفظ کر لیا تھا۔
جامعہ سلفیہ، فیصل آباد کے طلبہ سے خطاب:
شیخ الحدیث حافظ محمد شریف حفظہ اللہ
انتخاب: عبدالقیوم فرُّخ
#سلسلة_اقوال_السلف
