en
Feedback
📚حدیثِ رسـولﷺ🌴

📚حدیثِ رسـولﷺ🌴

Open in Telegram

🌴حــــــدیثِ رســــــولﷺ چـینــل📚 صحیحین، سنن اربعہ و دیگر کتبِ احادیث کا بہترین مجموعـہ جس کو آپکی خدمت میں خوبصورت مختصر پوسٹ کی شکل میں پیش کیا جارہا،چینل کو جوائن کریں https://t.me/HadeethERasool •°• ایڈمن ٹیم: حـدیثِ رسولﷺ 🌴°•°

Show more
The country is not specifiedReligion & Spirituality38 086
2 924
Subscribers
No data24 hours
-37 days
-530 days
Posts Archive
📗سنن ابوداؤد کتاب: جنازوں کا بیان باب: میت کو غسل دینے کے بعد غسل کرنا حدیث نمبر: 3161 🩷ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو میت کو نہلائے اسے چاہیئے کہ خود بھی نہائے، جو جنازہ کو اٹھائے اسے چاہیئے کہ وضو کرلے ١ ؎۔ 📚تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٤٢٧٥)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الجنائز ١٧ (٩٩٣)، سنن ابن ماجہ/الجنائز ٨ (١٤٦٣) (صحیح ) ✒️وضاحت: ١ ؎: یہ دونوں حکم مستحب ہیں۔

📗سنن ابوداؤد کتاب: جنازوں کا بیان باب: میت کو مشک لگانا حدیث نمبر: 3158 💞ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تمہارے خوشبوؤوں میں مشک عمدہ خوشبو ہے (لہٰذا مردے کو یا کفن میں بھی اسے لگانا بہتر ہے) ۔ 📚تخریج دارالدعوہ: سنن النسائی/الجنائز ٤٢ (١٩٠٧)، (تحفة الأشراف: ٤٣٨١)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الأدب ٥ (٢٢٥٢)، سنن الترمذی/الجنائز ١٦ (٩٩١)، مسند احمد (٣/٣٦، ٤٠، ٤٦، ٦٢) (صحیح)

📗سنن ابوداؤد کتاب: جنازوں کا بیان باب: زیادہ قیمتی کفن دینا مکروہ ہے حدیث نمبر: 3155 🌹خباب ؓ کہتے ہیں کہ مصعب بن عمیر ؓ جنگ احد میں قتل ہوگئے تو انہیں کفن دینے کے لیے ایک کملی کے سوا اور کچھ میسر نہ آیا، اور وہ کملی بھی ایسی چھوٹی تھی کہ جب ہم اس سے ان کا سر ڈھانپتے تو پیر کھل جاتے تھے، اور اگر ان کے دونوں پیر ڈھانپتے تو سر کھل جاتا تھا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کملی سے ان کا سر ڈھانپ دو اور پیروں پر کچھ اذخر (گھاس) ڈال دو ۔ 📚تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الجنائز ٢٧ (١٢٧٦)، ومناقب الأنصار ٤٥ (٣٩١٣)، والمغازي ١٧ (٤٠٤٧)، ٢٦ (٤٠٨٢)، والرقاق ٧ (٦٤٣٢)، ١٦ (٦٤٤٨)، صحیح مسلم/الجنائز ١٣ (٩٤٠)، سنن الترمذی/المناقب ٥٤ (٣٨٥٣)، سنن النسائی/الجنائز ٤٠ (١٩٠٤)، (تحفة الأشراف: ٣٥١٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/١٠٩، ١١٢، ٦/٣٩٥) (صحیح )

📗سنن ابوداؤد کتاب: جنازوں کا بیان باب: کفن کا بیان حدیث نمبر: 3152 💟اس سند سے بھی ام المؤمنین عائشہ ؓ سے اسی کے ہم مثل مروی ہے البتہ اتنا زیادہ ہے کہ وہ کپڑے روئی کے تھے۔ پھر ام المؤمنین عائشہ ؓ سے یہ بات ذکر کی گئی کہ لوگوں کا کہنا ہے کہ آپ ﷺ کے کفن میں دو سفید کپڑے اور دھاری دار یمنی چادر تھی، تو انہوں نے کہا: چادر لائی گئی تھی لیکن لوگوں نے اسے لوٹا دیا تھا، اس میں آپ کو کفنایا نہیں تھا۔ 📚 تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/ الجنائز ١٣ (٩٤١)، سنن الترمذی/ الجنائز ٢٠ (٩٩٦)، سنن النسائی/ الجنائز ٣٩ (١٩٠٠)، سنن ابن ماجہ/ الجنائز ١١ (١٤٦٩)، (تحفة الأشراف: ١٦٧٨٦)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الجنائز ٢ (٥)، مسند احمد (٦/٤٠، ٩٣، ١١٨، ١٣٢، ١٦٥) (صحیح )

📗سنن ابوداؤد کتاب: جنازوں کا بیان باب: کفن کا بیان حدیث نمبر: 3151 🩷ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ تین سفید یمنی کپڑوں میں دفنائے گئے، ان میں نہ قمیص تھی نہ عمامہ ١ ؎۔ 📚 تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الجنائز ١٨ (١٢٦٤)، ٢٣ (١٢٧١)، ٢٤ (١٢٧٢)، ٩٤ (١٣٨٧)، (تحفة الأشراف: ١٧٣٠٩)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الجنائز ٢ (٥)، مسند احمد (٦/٤٠، ٩٣، ١١٨، ١٣٢، ١٦٥، ٢٣١) (صحیح ) ✒️ وضاحت: ١ ؎: اس سے معلوم ہوا کہ سفید کپڑا کفن کے لئے بہتر ہے، یہ بھی معلوم ہوا کہ تین کپڑوں سے زیادہ کپڑا مکروہ ہے، بالخصوص عمامہ (پگڑی) جسے متاخرین حنفیہ اور مالکیہ نے رواج دیا ہے، یہ سراسر بدعت ہے۔

📗سنن ابوداؤد کتاب: جنازوں کا بیان باب: کفن کا بیان حدیث نمبر: 3148 💞ابوالزبیر کہتے ہیں کہ انہوں نے جابر بن عبداللہ ؓ کو نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے سنا کہ ایک دن آپ ﷺ نے خطبہ دیا جس میں اپنے اصحاب میں سے ایک شخص کا ذکر کیا جن کا انتقال ہوگیا تھا، انہیں ناقص کفن دیا گیا، اور رات میں دفن کیا گیا تھا، آپ ﷺ نے لوگوں کو ڈانٹا کہ رات میں کسی کو جب تک اس پر نماز جنازہ نہ پڑھ لی جائے مت دفناؤ، إلا یہ کہ انسان کو انتہائی مجبوری ہو اور نبی اکرم ﷺ نے (یہ بھی) فرمایا: جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو کفن دے تو اچھا کفن دے ۔ 📚تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الجنائز ١٥ (٩٤٣)، سنن النسائی/الجنائز ٣٧ (١٨٩٦)، (تحفة الأشراف: ٢٨٠٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٢٩٥) (صحیح )

📗سنن ابوداؤد کتاب: جنازوں کا بیان باب: میت کو غسل دینے کا طریقہ حدیث نمبر: 3144 💞ام عطیہ ؓ کہتی ہیں ہم نے ان کے سر کے بالوں کی تین لٹیں گوندھ دیں اور انہیں سر کے پیچھے ڈال دیں، ایک لٹ آگے کے بالوں کی اور دو لٹیں ادھر ادھر کے بالوں کی۔ 📚 تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/ الجنائز ١٦ (١٢٦٢)، وانظر حدیث رقم: (٣١٤٢)، (تحفة الأشراف: ١٨١٣٨) (صحیح )

📗سنن ابوداؤد کتاب: جنازوں کا بیان باب: میت کو غسل دینے کا طریقہ حدیث نمبر: 3142 🌷ام عطیہ ؓ کہتی ہیں جس وقت رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادی (زینب ؓ) کا انتقال ہوا آپ ہمارے پاس آئے اور فرمایا: تم انہیں تین بار، یا پانچ بار پانی اور بیر کی پتی سے غسل دینا، یا اس سے زیادہ بار اگر ضرورت سمجھنا اور آخری بار کافور ملا لینا، اور جب غسل دے کر فارغ ہونا، مجھے اطلاع دینا، تو جب ہم غسل دے کر فارغ ہوئے تو ہم نے آپ کو خبر دی، آپ نے ہمیں اپنا تہہ بند دیا اور فرمایا: اسے ان کے بدن پر لپیٹ دو ۔ قعنبی کی روایت میں خالک سے مروی ہے یعنی آپ ﷺ کے ازار کو۔ مسدد کی روایت میں رسول اللہ ﷺ کے ہمارے پاس آنے کا ذکر نہیں ہے۔ 📚📚تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الوضوء ٣١ (١٦٧)، والجنائز ٨ (١٢٥٣)، ٩ (١٢٥٤)، ١٠ (١٢٥٥)، ١١ (١٢٥٦)، ١٢ (١٢٥٧)، ١٣ (١٢٥٨)، ١٤ (١٢٦٠)، ١٥ (١٢٦١)، ١٦ (١٢٦٢)، ١٧ (١٢٦٣)، صحیح مسلم/الجنائز ١٢ (٩٣٩)، سنن الترمذی/الجنائز ١٥ (٩٩٠)، سنن النسائی/الجنائز ٢٨ (١٨٨٢)، سنن ابن ماجہ/الجنائز ٨ (١٤٥٨)، (تحفة الأشراف: ١٨٠٩٤)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الجنائز ١ (٢)، مسند احمد (٦/٤٠٧، ٤٠٨) (صحیح )

📗سنن ابوداؤد کتاب: جنازوں کا بیان باب: شہید کو غسل دینے کا بیان حدیث نمبر: 3138 🩷عبدالرحمٰن بن کعب بن مالک کہتے ہیں کہ جابر بن عبداللہ ؓ نے انہیں خبر دی ہے کہ رسول اللہ ﷺ احد کے مقتولین میں سے دو دو آدمیوں کو ایک ساتھ دفن کرتے تھے اور پوچھتے تھے کہ ان میں قرآن کس کو زیادہ یاد ہے؟ تو جس کے بارے میں اشارہ کردیا جاتا آپ ﷺ اسے قبر میں (لٹانے میں) آگے کرتے اور فرماتے: میں ان سب پر قیامت کے دن گواہ رہوں گا اور آپ ﷺ نے انہیں ان کے خون سمیت دفنانے کا حکم دیا، اور انہیں غسل نہیں دیا۔ 📚 تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الجنائز ٧٢ (١٣٤٣)، ٧٣ (١٣٤٥)، ٧٥ (١٣٤٧)، ٧٨ (١٣٥٣)، المغازي ٢٦ (٤٠٧٩)، سنن الترمذی/الجنائز ٤٦ (١٠٣٦)، سنن النسائی/الجنائز ٦٢ (١٩٥٧)، سنن ابن ماجہ/الجنائز ٢٨ (١٥١٤)، (تحفة الأشراف: ٢٣٨٢) (صحیح )

📗سنن ابوداؤد کتاب: جنازوں کا بیان باب: شہید کو غسل دینے کا بیان حدیث نمبر: 3137 🌸انس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ حمزہ ؓ کے پاس سے گزرے، دیکھا کہ ان کا مثلہ کردیا گیا ہے، آپ ﷺ نے ان کے علاوہ کسی اور کی نماز جنازہ نہیں پڑھی ١ ؎۔ 📚تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٤٧٩) (حسن ) ✒️وضاحت: ١ ؎: چوں کہ نبی اکرم ﷺ نے شہداء احد کی نماز جنازہ نہیں پڑھی، اس لئے بعض لوگوں نے اس کا مطلب یہ لیا ہے کہ آپ نے ان کے لئے دعا کی۔

📗سنن ابوداؤد کتاب: جنازوں کا بیان باب: شہید کو غسل دینے کا بیان حدیث نمبر: 3136 🌴🌹انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ (غزوہ احد میں) رسول اللہ ﷺ حمزہ (حمزہ بن عبدالمطلب) ؓ کی لاش کے قریب سے گزرے، ان کا مثلہ کردیا گیا تھا، آپ ﷺ نے یہ دیکھ کر فرمایا: اگر یہ خیال نہ ہوتا کہ صفیہ (حمزہ کی بہن) اپنے دل میں کچھ محسوس کریں گی تو میں انہیں یوں ہی چھوڑ دیتا، پرندے کھا جاتے، پھر وہ حشر کے دن ان کے پیٹوں سے نکلتے ۔ اس وقت کپڑوں کی قلت تھی اور شہیدوں کی کثرت، (حال یہ تھا) کہ ایک کپڑے میں ایک ایک، دو دو، تین تین شخص کفنائے جاتے تھے ١ ؎۔ قتیبہ نے اپنی روایت میں یہ اضافہ کیا ہے کہ: پھر وہ ایک ہی قبر میں دفن کئے جاتے تھے، رسول اللہ ﷺ پوچھتے کہ ان میں قرآن کس کو زیادہ یاد ہے؟ تو جسے زیادہ یاد ہوتا اسے قبلہ کی جانب آگے رکھتے۔ 📚تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/ الجنائز ٣١ (١٠١٦)، (تحفة الأشراف: ١٤٧٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/١٢٨) (حسن ) ✒️ وضاحت: ١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ضرورت کے وقت ایک کفن یا ایک قبر میں کئی آدمیوں کو دفنانا درست ہے۔

📗سنن ابوداؤد کتاب: جنازوں کا بیان باب: شہید کو غسل دینے کا بیان حدیث نمبر: 3135 🩷انس بن مالک ؓ کا بیان ہے کہ شہدائے احد کو غسل نہیں دیا گیا وہ اپنے خون سمیت دفن کئے گئے اور نہ ہی ان کی نماز جنازہ پڑھی گئی۔ 📚 تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٤٧٨) (حسن )

📗سنن ابوداؤد کتاب: جنازوں کا بیان باب: میت کے گھروالوں کے لئے کھاناپکا کر بھیجنا حدیث نمبر: 3132 💟عبداللہ بن جعفر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جعفر کے گھر والوں کے لیے کھانا تیار کرو کیونکہ ان پر ایک ایسا امر (حادثہ و سانحہ) پیش آگیا ہے جس نے انہیں اس کا موقع نہیں دیا ہے ١ ؎۔ 📚تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الجنائز ٢١ (٩٩٨)، سنن ابن ماجہ/الجنائز ٥٩ (١٦١٠)، (تحفة الأشراف: ٥٢١٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٠٥) (حسن ) ✒️وضاحت: ١ ؎: اس سے معلوم ہوا کہ رشتہ داروں کو میت کے گھروالوں کے پاس کھانا پکوا کر بھجوانا چاہیے۔

📗سنن ابوداؤد کتاب: جنازوں کا بیان باب: نوحہ کرنے کا بیان حدیث نمبر: 3131 🌷رسول اللہ ﷺ سے بیعت کرنے والی عورتوں میں سے ایک عورت کہتی ہے رسول اللہ ﷺ نے جن بھلی باتوں کا ہم سے عہد لیا تھا کہ ان میں ہم آپ کی نافرمانی نہیں کریں گے وہ یہ تھیں کہ ہم (کسی کے مرنے پر) نہ منہ نوچیں گے، نہ تباہی و بربادی کو پکاریں گے، نہ کپڑے پھاڑیں گے اور نہ بال بکھیریں گے۔ 📚 تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٨٣٦٦) (صحیح )

📗سنن ابوداؤد کتاب: جنازوں کا بیان باب: نوحہ کرنے کا بیان حدیث نمبر: 3130 💟یزید بن اوس کہتے ہیں کہ ابوموسیٰ ؓ بیمار تھے میں ان کے پاس (عیادت کے لیے) گیا تو ان کی اہلیہ رونے لگیں یا رونا چاہا، تو ابوموسیٰ ؓ نے ان سے کہا: کیا تم نے رسول اللہ ﷺ کا فرمان نہیں سنا ہے؟ وہ بولیں: کیوں نہیں، ضرور سنا ہے، تو وہ چپ ہوگئیں، یزید کہتے ہیں: جب ابوموسیٰ ؓ وفات پا گئے تو میں ان کی اہلیہ سے ملا اور ان سے پوچھا کہ ابوموسیٰ ؓ کے قول: کیا تم نے رسول ﷺ کا فرمان نہیں سنا ہے پھر آپ چپ ہوگئیں کا کیا مطلب تھا؟ تو انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: جو (میت کے غم میں) اپنا سر منڈوائے، جو چلا کر روئے پیٹے، اور جو کپڑے پھاڑے وہ ہم میں سے نہیں ١ ؎۔ 📚 تخریج دارالدعوہ: سنن النسائی/الجنائز ٢٠ (١٨٦٦)، (تحفة الأشراف: ١٨٣٣٤)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الإیمان ٤٤ (١٠٤)، سنن ابن ماجہ/الجنائز ٥٢ (١٥٨٦)، مسند احمد (٤/٣٩٦، ٤٠٤، ٤٠٥، ٤١١، ٤١٦) (صحیح ) ✒️ وضاحت: ١ ؎: یہ کفر کی رسم تھی جب کوئی مرجاتا تو اس کے غم میں یہ سب کام کئے جاتے تھے، جس طرح ہندؤوں میں بال منڈوانے کی رسم ہے، اس سے معلوم ہوا کہ مصیبت میں صبر کرنا لازم ہے۔

📗سنن ابوداؤد کتاب: جنازوں کا بیان باب: نوحہ کرنے کا بیان حدیث نمبر: 3129 🌷عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میت کو اس کے گھر والوں کے رونے سے عذاب دیا جاتا ہے ١ ؎، ابن عمر ؓ کی اس بات کا ذکر ام المؤمنین عائشہ ؓ سے کیا گیا تو انہوں نے کہا: ان سے یعنی ابن عمر ؓ سے بھول ہوئی ہے، سچ یہ ہے کہ نبی اکرم ﷺ کا ایک قبر کے پاس سے گزر ہوا تو آپ ﷺ نے فرمایا: اس قبر والے کو تو عذاب ہو رہا ہے اور اس کے گھر والے ہیں کہ اس پر رو رہے ہیں ، پھر ام المؤمنین عائشہ ؓ نے آیت ولا تزر وازرة وزر أخرى کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا (سورۃ الإسراء: ١٥) پڑھی۔ ابومعاویہ کی روایت میں على قبر کے بجائے على قبر يهودي ہے، یعنی ایک یہودی کے قبر کے پاس سے گزر ہوا۔ 📚تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الجنائز ٩ (٩٣١)، سنن النسائی/الجنائز ١٥ (١٨٥٦)، (تحفة الأشراف: ٧٣٢٤، ١٧٠٦٩، ١٧٢٢٦)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/المغازي ٨ (٣٩٧٨)، مسند احمد (٢/٣٨، ٦/٣٩، ٥٧، ٩٥، ٢٠٩) (صحیح ) ✒️وضاحت: ١ ؎: إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ میت کو اس کے گھر والوں کے رونے سے عذاب دیا جاتا ہے، حالاں کہ رونا یا نوحہ کرنا بذات خود میت کا عمل نہیں ہے، پھر غیر کے عمل پر اسے عذاب دیا جانا باعث تعجب ہے، جب کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ولا تزر وازرة وزر أخرى کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا اس سلسلہ میں علماء کا کہنا ہے کہ مرنے والے کو اگر یہ معلوم ہے کہ میرے مرنے کے بعد میرے گھر والے مجھ پر نوحہ کریں گے اور اس نے قدرت رکھنے کے باوجود قبل از موت اس سے منع نہیں کیا تو نہ روکنا اس کے لئے باعث سزا ہوگا، اور اس کے گھر والے اگر آہ و بکا کئے بغیر آنسو بہا رہے ہیں تو یہ جائز ہے جیسا کہ ابراہیم اور ام کلثوم کے انتقال پر خود رسول اللہ ﷺ کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے، پوچھے جانے پر آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ تو رحمت ہے اللہ نے جس کے دل میں چاہا رکھا۔

📗سنن ابوداؤد کتاب: جنازوں کا بیان باب: نوحہ کرنے کا بیان حدیث نمبر: 3127 🌷ام عطیہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں نوحہ کرنے سے منع فرمایا ہے ١ ؎۔ 📚تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٨١٢٢)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجنائز ٤٥ (١٣٠٦)، والأحکام ٤٩ (٧٢١٥)، صحیح مسلم/الجنائز ١٠ (٩٣٦)، سنن النسائی/البیعة ١٨ (٤١٥٨)، مسند احمد (٦/٤٠٧، ٤٠٨) (صحیح ) ✒️وضاحت: ١ ؎: میت پر آواز کے ساتھ رونے کو نوحہ کہتے ہیں۔

📗سنن ابوداؤد کتاب: جنازوں کا بیان باب: میت پر رونے کا بیان حدیث نمبر: 3125 🩷اسامہ بن زید ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی ایک بیٹی (زینب ؓ) نے آپ کو یہ پیغام دے کر بلا بھیجا کہ میرے بیٹے یا بیٹی کے موت کا وقت قریب ہے، آپ ﷺ تشریف لے آئے، اس وقت میں اور سعد اور میرا خیال ہے کہ ابی بھی آپ کے ساتھ تھے، آپ ﷺ نے (جواباً ) سلام کہلا بھیجا، اور فرمایا: ان سے (جا کر) کہو کہ اللہ ہی کے لیے ہے جو چیز کہ وہ لے، اور اسی کی ہے جو چیز کہ وہ دے، ہر چیز کا ایک وقت مقرر ہے ۔ پھر زینب ؓ نے دوبارہ بلا بھیجا اور قسم دے کر کہلایا کہ آپ ضرور تشریف لائیں، چناچہ آپ ﷺ ان کے پاس تشریف لائے، بچہ آپ کی گود میں رکھا گیا، اس کی سانس تیز تیز چل رہی تھی تو رسول ﷺ کی دونوں آنکھیں بہ پڑیں، سعد نے آپ ﷺ سے کہا: یہ کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: یہ رحمت ہے، اللہ جس کے دل میں چاہتا ہے اسے ڈال دیتا ہے، اور اللہ انہیں بندوں پر رحم کرتا ہے جو دوسروں کے لیے رحم دل ہوتے ہیں ۔ 📚تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الجنائز ٣٢ (١٢٨٤)، والمرضی ٩ (٥٦٥٥)، و القدر ٤ (٦٦٠٢)، والأیمان والنذور ٩ (٦٦٥٥)، والتوحید ٢ (٧٣٧٧)، ٢٥ (٧٤٤٨)، صحیح مسلم/الجنائز ٦ (٩٢٣)، سنن النسائی/الکبري الجنائز ٢٢ (١٩٦٩)، سنن ابن ماجہ/الجنائز ٥٣ (١٥٨٨)، (تحفة الأشراف: ٩٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٢٠٤، ٢٠٦، ٢٠٧) (صحیح )

📗سنن ابوداؤد کتاب: جنازوں کا بیان باب: مصیبت کے وقت صبر کرنا حدیث نمبر: 3124 💞انس ؓ کہتے ہیں نبی اکرم ﷺ ایک ایسی عورت کے پاس سے گزرے جو اپنے بچے کی موت کے غم میں (بآواز) رو رہی تھی، آپ ﷺ نے اس سے فرمایا: اللہ سے ڈرو اور صبر کرو ١ ؎، اس عورت نے کہا: آپ کو میری مصیبت کا کیا پتا ٢ ؎؟، تو اس سے کہا گیا: یہ نبی اکرم ﷺ ہیں (جب اس کو اس بات کی خبر ہوئی) تو وہ آپ ﷺ کے پاس آئی، آپ کے دروازے پہ اسے کوئی دربان نہیں ملا، اس نے آپ ﷺ سے کہا: اللہ کے رسول! میں نے آپ کو پہچانا نہ تھا، آپ ﷺ نے فرمایا: صبر وہی ہے جو پہلے صدمہ کے وقت ہو یا فرمایا: صبر وہی ہے جو صدمہ کے شروع میں ہو ۔ 📚 تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الجنائز ٣١ (١٢٨٣)، ٤٢ (١٣٠٢)، الأحکام ١١ (٧١٥٤)، صحیح مسلم/الجنائز ٨ (٩٢٦)، سنن النسائی/الجنائز ٢٢ (١٨٧٠)، سنن الترمذی/ الجنائز ١٣ (٩٨٨)، سنن ابن ماجہ/الجنائز ٥٥ (١٥٩٦)، (تحفة الأشراف: ٤٣٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/١٣٠، ١٤٣، ٢١٧) (صحیح ) ✒️ وضاحت: ١ ؎: یعنی نوحہ مت کر ورنہ اسے عذاب دیا جائے گا۔ ٢ ؎: کہ یہ میرے لئے کتنی بڑی مصیبت ہے۔

📗سنن ابوداؤد کتاب: جنازوں کا بیان باب: مصیبت کے وقت بیٹھ جانے کا بیان حدیث نمبر: 3122 💟ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں جب زید بن حارثہ، جعفر بن ابوطالب اور عبداللہ بن رواحہ ؓ قتل کر دئیے گئے (اور آپ ﷺ کو اطلاع ملی) تو رسول ﷺ مسجد نبوی میں بیٹھ گئے، آپ کے چہرے سے غم ٹپک رہا تھا، اور واقعہ کی تفصیل بتائی۔ 📚تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الجنائز ٤٠ (١٢٩٩)، ٤٥ (١٣٠٥)، والمغازي ٤٤ (٤٢٦٣)، صحیح مسلم/الجنائز ١٠ (٩٣٥)، سنن النسائی/الجنائز ١٤ (١٨٤٨)، (تحفة الأشراف: ١٧٩٣٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٥٩، ٢٧٧) (صحیح )