en
Feedback
📚حدیثِ رسـولﷺ🌴

📚حدیثِ رسـولﷺ🌴

Open in Telegram

🌴حــــــدیثِ رســــــولﷺ چـینــل📚 صحیحین، سنن اربعہ و دیگر کتبِ احادیث کا بہترین مجموعـہ جس کو آپکی خدمت میں خوبصورت مختصر پوسٹ کی شکل میں پیش کیا جارہا،چینل کو جوائن کریں https://t.me/HadeethERasool •°• ایڈمن ٹیم: حـدیثِ رسولﷺ 🌴°•°

Show more
The country is not specifiedReligion & Spirituality38 086
2 924
Subscribers
No data24 hours
-37 days
-530 days
Posts Archive
🌱 *صدقہ کی ایک شکل انصاف!* 🔹 *رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”انسان کے بدن کے (تین سو ساٹھ جوڑوں میں سے) ہر جوڑ پر ہر اس دن کا صدقہ واجب ہے جس میں سورج طلوع ہوتا ہے اور لوگوں کے درمیان انصاف کرنا بھی ایک صدقہ ہے۔“*🔹 📗«صحیح بخاری-2707» #صدقہ

💐 - *’’خوف اور گھبراہٹ کے خاتمے کی دعا‘‘* 👈 سيدنا أبو سعيد الخدري رضي الله عنه بیان کرتے ہیں کہ غزوہ خندق کے موقع پر ہم نے عرض کیا، الله کے رسول! (صلى الله عليه وسلم) کیا کوئی کلمہ ہے جو ہم پڑھیں اب تو کلیجے منہ کو آ رہے ہیں؟ (یعنی ہم بہت بے چین اور پریشان ہو چکے ہیں) آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا : ’’ہاں (ہے۔ اور وہ دعا یہ ہے) : *❐ ’’اللَّهُمَّ اسْتُرْ عَوْرَاتِنَا وَآمِنْ رَوْعَاتِنَا‘‘* "اے الله! ہمارے عیبوں پر پردہ ڈال دے اور ہماری گھبراہٹوں میں ہمیں امن و سکون دے۔" *❐ راوی حدیث سیدنا أبو سعید الخدري رضي الله عنه کہتے ہیں:* "(اس دعا کی برکت کی وجہ سے) الله نے آندھی کے ذریعے دشمنوں کا رخ بدل دیا، اور الله نے سخت آندھی کے ذریعے (ان دشمنوں کو) شکست دی۔" 📚 *(مسند أحمد : ١١٠٠٩، كشف الأستار: ٣١١٩، حسَّنه الألباني و زبير علي زئي رحمهما الله)* #منتخب_احادیث #فوائد #دعا

🤲 - ”ہر معاملے میں دعا کیا کریں، میں تو رکشے پر بیٹھتے ہوئے بھی دعا کرتا ہوں کہ ساتھ کی سواری سے خیر پہنچے۔“ 🎙️ - *(شیخ الحدیث عمر فاروق سعیدی حفظه الله)* #سلسلة_اقوال_العلماء

🩶 - *ام المؤمنین سيده میمونہ بنت حارث رضي الله عنها کے فضائل و مناقب ...* *🌸 سیدہ میمونہ رضي الله عنها رسول الله صلى الله عليه وسلم کی آخری بیوی تھیں ان کے بعد آپ نے کسی کے ساتھ نکاح نہیں کیا۔* میمونہ بنت حارث بن حزن بن عامر بن صعصعہ ہلالیہ، ان کی ماں کا نام ہند بنت عوف ہے، پہلے ان کی شادی مسعود بن عوف ثقفی سے ہوئی، پھر دوسری شادی ابو رہم بن عبد العزی سے ہوئی، جس کا انتقال ہوگیا تو سیدہ میمونہ رضي الله عنها کے وکیل سیدنا عباس رضي الله عنه نے نبی کریم صلی الله علیه وسلم کے ساتھ ان کا نکاح پڑھایا، مکہ کے قریب مقامِ سرف میں ان کے ساتھ شبِ زفاف کی، نبی کریم صلی الله علیه وسلم نے سب سے اخیر میں سن 7 ہجری کو عمرة القضا کے موقع پر ان کے ساتھ شادی کی۔ *📋 (فضائل امہات المؤمنین رضي الله عنهن کا تذکرہ عنبریں اردو : 37)* *🌸 نبی اکرم صلى الله عليه وسلم نے ان کے ایمان کی گواہی دی ہے۔* سیدنا عبد الله بن عباس رضي الله عنهما سے روایت ہے کہ رسول الله صلی الله علیه وسلم نے فرمایا : "چار بہنیں پکی ایماندار ہیں : رسول الله صلی الله علیه وسلم کی زوجہ میمونہ بنت حارث، عباس کی زوجہ ام الفضل بنت حارث، حمزہ کی زوجہ سلمی بنت حارث اور ان کی اخیافی بہن اسماء بنت عمیس - رضي الله عنهم أجمعين." *📋 (شرح مشكل الآثار للطحاوي : 4869 وحسَّن إسناده شعيب الأرناؤوط في تخريج مشكل الآثار، المعجم الكبير للطبراني : 360)* *🌸 رسول الله صلی الله علیه وسلم نے ان کا نام میمونہ رکھا۔* سیدنا عبد الله بن عباس رضي الله عنهما فرماتے ہیں کہ میری خالہ میمونہ رضي الله عنها کا نام پہلے بَرہ تھا آپ صلی الله علیه وسلم نے ہی ان کا نام بدل کر میمونہ رکھا۔ *📋 (دیکھیے: صحيح مسلم: 2141، مستدرك الحاكم : 30/4)* #فضائل_صحابہ

*دنیا کی سب سے منفرد ترین ساس (ہند بنت عوف) :* یہ وہ خاتون ہیں جن کے مختلف اوقات میں یکے بعد دیگرے ایک سے زائد شوہر رہے جن سے انہیں بہت سی اولادیں ہوئیں۔ ان کی خاص بات ان کی بیٹیاں جن کی نسبت سے انہیں چند عظیم ترین داماد حاصل ہوئے۔ ان کی بیٹیوں میں ام المومنین زینب بنت خزیمہ، اور ام المونین میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنھما شامل ہیں۔ یعنی دونوں امہات آپس میں ماں شریک بہنیں تھیں اور نبی ﷺ نے ام المومنین میمونہ ؓ سے نکاح ام المومنین زینب بنت خزیمہ ؓ کی وفات کے بعد میں کیا تھا۔ یعنی ہند بنت عوف وہ خاتون ہیں جو دو بیٹیوں کی نسبت سے نبی پاک ﷺ کی ساس ہیں۔ اسی طرح ان کی ایک اور بیٹی ام الفضل (لبابہ کبری) بنت الحارث ؓ جو میمونہ ؓ کی سگی بہن ہیں اور نبی ﷺ کے چچا عباس بن عبدالمطلب ؓ کی زوجہ ہیں۔ اور فضل بن عباس ؓ اور مفسر قرآن عبداللہ ابن عباس ؓ انہیں کے فرزندان ہیں۔ اس حساب سے فضل ؓ اور عبداللہ بن عباس ؓ دونوں میمونہ ؓ کے سگے بھانجے بھی ہیں۔ ہند بنت عوف کی ایک اور بیٹی جو انکے شوہر عمیس بن معد سے تھیں جنکا نام ہے اسماء بنت عمیس ؓ ۔ اسماء ؓ کا پہلا نکاح جعفر بن ابی طالب ؓ سے ہوا جو نبی ﷺ کے چچا زاد ہیں۔ جنگ موتہ میں جعفر ؓ شہید ہوئے۔ اسکے بعد ان سے نکاح سیدنا ابوبکر صدیق ؓ نے کیا۔ اور اسماء بنت عمیس کو محمد بن ابی بکر سیدنا ابو بکر ؓ کی وفات کے بعد پیدا ہوئے۔ اس تعلق سے محمد بن ابی بکر ام المومنین سیدہ عائشہ ؓ کے بھائی ہوئے۔ سیدنا ابوبکر صدیقؓ کی وفات کے بعد اسماء بنت عمیس ؓ نے نکاح علی ابن ابی طالب ؓ سے کیا جو نبی ﷺ کے چچازاد اور جعفر ابن ابی طالب (سیدہ اسماء ؓ کے پہلے شوہر) کے بھائی ہیں۔ ہند بنت عوف کی ایک اور بیٹی جو سیدنا حمزہ بن عبدالمطلب ؓ کی زوجہ ہیں جنکا نام سلمی بنت عمیس ؓ ہے۔ اور یہ اسماء بنت عمیس ؓ کی سگی بہن ہیں۔ حمزہ ؓ کی بیٹی امامہ بنت حمزہ ؓ انہیں کے بطن سے ہیں۔ امامہ بنت حمزہ ؓ کی نسبت ام المومنین ام سلمہ ؓ کے فرزند سلمہ ابن ابو سلمہ ؓ سے طئے تھی لیکن امامہ ؓ کم عمری میں ہی انتقال کرگئیں۔ اس طرح ہند بنت عوف کی ایک اور بیٹی لبابہ صغرہ بنت عمیس ہیں جو کہ سیدنا خالد بن ولید ؓ کی والدہ اور ولید بن مغیرہ کی بیوی ہیں۔ اس طرح سیدنا خالد بن ولید ؓ، سیدہ امامہ بنت حمزہ ؓ اور اسماء بنت عمیس ؓ کی تمام اولاد جو (سیدنا جعفر، سیدنا ابو بکر اور سیدنا علی رضی اللہ عنھم سے ہے) آپس میں خالہ زاد بھائی بہنیں ہیں۔ ~صالح بن ماضی #اصلاح_معاشرہ #اصلاحی_تحریریں

📌 - ”لوگوں پر ایک وقت ایسا بھی آئے گا، جب مومن کو اس کے ایمان کا یوں طعنہ دیا جائے گا جیسے فاجر کو اس کے فجور کا طعنہ دیا جاتا ہے!“ 📜 - *(الفتن لنعيم بن حماد : ٦١)* 📜 - *(الزهد لابن أبي الدنيا : ١٤٠)* *📌 بعض صورتیں :* - سننِ ظاہرہ (داڑھی، شلوار، پردہ وغیرہ) کے عامل سے استہزاء کا رویہ۔ جیسے ”سارا اسلام شلوار ٹنگنے کو ہی سمجھا ہوا ہے۔“ - کسی کو مجموعی طور پر نیکی و تقوی کا عار دلانا۔ جیسے ”بڑا آیا نمازی پرہیزگار! / مولوی“ - حقوق العباد اور اخلاق کی افیون کے زیر اثر حقوق اللہ اور عبادات سے استخفاف کا رویہ۔ جیسے ”لوگوں کو دییے گئے چکر کعبے کے چکر کاٹنے سے معاف نہیں ہوتے!“ - احکام شرع کو بغرض اہانت فروعی و ثانوی باور کروانا۔ جیسے ”مولویوں کو رفع الیدین سے فرصت ملے تو تب نا۔“ - مادی ناکامیوں کا ملبہ دین پر ڈال دینا۔ جیسے ”دنیا چاند پر پہنچ گئی ہے مگر مولوی رٹے لگا رہا ہے۔“ ✍🏼 - *(فیضان فیصل وفقه الله)* #اصلاح_معاشرہ #اصلاحی_تحریریں

*🎁 بیوی جواب سوال کرے تو برداشت کرنا* حضرت عمر بن الخطاب رضی الله عنه کہتے ہیں : ایک دن میری بیوی مجھ سے کسی بات پر بحث کر رہی تھی، اس نے میری کسی بات کا جواب دے دیا.. مجھے اس کا جواب دینا بہت برا لگا. اس پر وہ بولی : میرا جواب دینا آپ کو برا کیوں لگ رہا ہے، الله کی قسم! نبی صلی الله علیه وسلم کی ازواج آپ کی باتوں کا جواب دے دیتی تھیں " _📔 ( بخاري ) *🎁 بیوی کے کھانے میں عیب نہ نکالے* • ابوہریرہ رضی الله عنه کہتے ہیں : نبی صلی الله علیه وسلم نے کبھی کھانے میں عیب نہیں نکالا، کھانا آپ کو پسند آتا تو آپ کھا لیتے ورنہ چھوڑ دیتے. " _📔 ( بخاری) *🎁 اس کی خدمات کی قدر کرنا اور ممنون ہونا* آپ ﷺ نے فرمایا " جس نے لوگوں کا شکریہ نہیں ادا کیا اس نے الله کا بھی شکر ادا نہیں کیا" _📔( صحيح الترغيب والترهيب 976) *🎁 اس کے گھر والوں اور سہیلیوں کا اکرام کرنا* • عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : الله کے رسول صلی الله علیه وسلم بکری ذبح کرتے تھے تو حضرت خدیجہ رضی الله عنہا کی سہیلیوں کا پتہ کر کے انہیں تحفے میں بھیجتے تھے " 📔 ( صحيح الترمذي ) *🎁 بیوی کا ساتھ نباہنے کا اعلان کرنا* • حضرت عائشہ رضی الله عنہا ایک مرتبہ ام زرع کا واقعہ بیان کرنے لگیں جس کا شوہر اس کے ساتھ بہت اچھا سلوک کرتا تھا لیکن بعد میں اسے الگ کر دیا. اس موقع پر نبی صلی الله علیه وسلم نے حضرت عائشہ رضی الله عنہا سے فرمایا : میں تمہارے لیے ویسے ہی ہوں جیسے ابو زرع ام زرع کے لیے تھا لیکن میں تمہیں طلاق نہیں دے سکتا. " _📔( صحيح البخاري ) *🎁 بیوی بیمار ہو تو اس کا خصوصی خیال رکھنا اور اسے دم کرنا* •حضرت عائشہ رضی الله عنہا واقعہ افک کے ضمن میں کہتی ہیں : جب میں بیمار ہوتی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ پر بہت مہربان اور شفیق ہوتے تھے، لیکن اس بیماری میں آپ کا سلوک ویسا نہیں تھا، مجھے آپ کا یہ سلوک عجیب لگا. آپ میرے پاس تشریف لاتے، میرے ساتھ میری والدہ بھی ہوتیں جو بیماری میری دیکھ بھال کرتی تھیں، آپ بس اتنا کہتے "کیسی ہو؟" اس سے زیادہ کچھ نہ فرماتے. " ( بخاری) • اماں عائشہ رضی اللہ عنہا ہی سے روایت ہے، کہتی ہیں : نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والوں میں جب کوئی بیمار ہوتا تو آپ اس پر معوذات پڑھ کر دم کرتے. " _📔 ( مسلم ) *🎁 اللہ کی اطاعت کے کاموں میں بیوی کی مدد کرنا* • آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ رحم فرمائے اس مرد پر جو رات میں قیام کرے اور اپنی بیوی کو بھی اٹھائے، اگر وہ انکار کرے تو اس کے چہرے پر پانی چھڑک دے" _📔 ( صحيح أبي داود ) *🎁 اس پر بھروسہ کرنا، اسے بے وفا نہ سمجھنا* • اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا کہ کوئی اچانک رات میں اپنی بیوی کے پاس آئے اور اسے بے وفا سمجھے یا اس کی غلطیاں ڈھونڈے " _📔( صحيح مسلم ) *🎁 جب کہیں جانے لگے تو بیوی کو بوسہ لینا* •عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ایک اہلیہ کو بوسہ لیا پھر آپ نماز کے لیے نکل گئے، آپ نے پھر سے وضو نہیں کیا. " _📔( أبو داود ) أبو حسن، میاں سعید #منتخب_احادیث #فوائد

🌷 *سنتـیں جنہیں چھوڑ دیا گیا* (بیوی کے ساتھ سلوک کے سلسلے میں) عربی سے اردو ترجمانی : عبدالغفار سلفی ،بنارس ————— *🪷 سنت نبوی کی روشنی میں ایک شوہر اپنی بیوی کے ساتھ کیسا سلوک کرے؟* *🎁 بیوی کا چہرہ دیکھ کر مسکرانا* • رسول الله ﷺ نے فرمایا : " تمہارا اپنے بھائی کے چہرے کو دیکھ کر مسکرانا صدقہ ہے " _📔 ( صحيح الترمذي 1956 ) ↩ *آپ کی بیوی آپ کی مسکراہٹ کی زیادہ حقدار ہے!* *🎁 بیوی کو محبت کے ساتھ کھانا کھلانا* • رسول الله ﷺ نے فرمایا "تم جو بھی خرچ کرتے ہو اس پر تمہیں اجر ملے گا یہاں تک کہ اس لقمے پر بھی جو تم اپنی بیوی کے منھ میں ڈالتے ہو" 📔( متّفق عليه ) *🎁 پیار میں بیوی کا بچا پانی پی لینا* • عائشہ رضي الله عنها سے روایت ہے، کہتی ہیں : - "میں حیض کی حالت میں پانی پیتی تھی، پھر بچا ہوا پانی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دے دیتی تھی اور آپ اسے وہیں منھ لگا کر پیتے تھے جہاں میں نے منھ لگایا ہوا تھا، میں حیض کی حالت میں گوشت کی بوٹی کھاتی تھی اور پھر بچی ہوئی بوٹی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیتی تھی، آپ اسے وہیں منھ لگا کر کھا جاتے تھے جہاں میں نے منھ لگایا ہوا تھا" _📔 ( مسلم ) *🎁 بیوی کی گود میں سر رکھ کر لیٹنا* • عائشہ رضي الله عنها فرماتی ہیں " اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم میری گود میں سر رکھ کر لیٹے رہتے تھے اور قرآن پڑھتے تھے جب کہ میں حیض کی حالت میں ہوتی تھی. " _📔 ( متّفق عليه ) *🎁 ایک ہی برتن سے بیوی کے ساتھ غسل کرنا* • حضرت عائشہ، أم سلمہ، ميمونہ اور ابن عمر رضي الله عنهم سے روایت ہے کہ " نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی بیوی ایک ساتھ ایک ہی برتن سے غسل کرتے تھے، یہاں تک کہ آپ فرماتے :میرے لیے پانی بچا رہنے دو، اس پر وہ بیوی بھی عرض کرتیں : آپ میرے لیے پانی بچا رہنے دیجیے. ". _📔( متّفق عليه ) *🎁 بیوی کے ساتھ کھیلنا اور ہنسی مذاق کرنا* • رسول الله ﷺ نے حضرت جابر بن عبد الله سے فرمایا : " تم نے کسی کنواری لڑکی سے شادی کیوں نہیں کی کہ تم اس کے ساتھ کھیلتے وہ تمہارے ساتھ کھیلتی" _📔 ( متفق عليه ) • عائشہ - رضي الله عنها سے روایت ہے کہ وہ ایک سفر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھیں، اس وقت وہ کمسن تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے فرمایا : تم لوگ آگے نکل جاؤ. جب وہ لوگ آگے نکل گئے تو آپ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا : آؤ ہم دونوں دوڑ کا مقابلہ کرتے ہیں. " _📔 ( السلسلة الصحيحة 1/254 ) *🎁 گھر کے کاموں میں بیوی کا تعاون کرنا* •حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا گیا : رسول الله صلی الله علیه وسلم گھر میں کیا کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: آپ انسانوں میں سے ایک انسان تھے، آپ اپنے کپڑے صاف کر لیتے تھے، بکری کا دودھ دوہ لیتے تھے اور اپنے کام خود کر لیتے تھے. " _📔( صحيح الأدب المفرد 4996 ) *🎁 بیوی کی خاطر اپنا منھ صاف رکھنا* • عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم جب گھر میں داخل ہوتے تو مسواک سے آغاز کرتے تھے ". _📔 ( صحيح مسلم ) *🎁 بیوی کے لیے خوشبو لگانا، سجنا سنورنا* • ابن عباس رضي الله عنهما فرماتے ہیں "مجھے یہ چیز محبوب ہے کہ میں بھی اپنی بیوی کے لیے زیب وزینت کروں جس طرح وہ میرے لیے سجتی سنورتی ہے. " _📔 ( مصنف ابن أبي شيبة ) *🎁 بیوی کے نام میں ترخیم کے ساتھ پکارنا (یعنی نام کا آخری حصہ حذف کر دینا)، اسے ان ناموں اور کنیت سے پکارنا جو اسے پسند ہوں* • آپ صلی الله علیه وسلم حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو پکارتے ہوئے کہتے تھے : عائش! عائش! جبریل تمہیں سلام کہہ رہے ہیں " _📔 ( متفق عليه ) • آپ حضرت عائشہ رضی الله عنہا کو" اے حمیراء! " کہہ کر بھی پکارتے تھے. ". 📔 ( السلسلة الصحيحة 818/7 ) *حمیراء حمراء کی تصغیر ہے، اس سے گوری چٹی عورت مراد ہوتی ہے.* • *عائشہ رضی الله عنہا نے ایک دن عرض کیا : اے اللہ کے رسول! مجھے چھوڑ کر آپ کی تمام بیویوں کی کنیت ہے. چنانچہ آپ ﷺ نے اماں عائشہ کی کنیت" ام عبدالله" مقرر فرمائی.* _📔 ( السلسلة الصحيحة 255/1 ) *🎁 بیوی کی خامیوں سے چشم پوشی کرنا* • آپ ﷺ نے فرمایا" کوئی مومن مرد اپنی ایمان والی بیوی سے نفرت نہ رکھے، اگر اس کی کوئی صفت اسے ناپسند ہوگی تو ضرور کوئی صفت پسند بھی ہوگی " _📔 ( مسلم ) *🎁 بیوی رو رہی ہو تو اسے دلاسا دینا اور اس کے آنسو پونچھنا* • أنس رضی الله عنه کہتے ہیں : ایک سفر میں الله کے رسول صلی الله علیه وسلم کے ساتھ حضرت صفیہ رضی الله عنہا تھیں، اس دن انہیں کی باری تھی، سفر میں وہ پیچھے رہ گئیں، الله کے رسول صلی الله علیه وسلم ان کے پاس آئے تو وہ رو رہی تھیں، کہنے لگیں : آپ نے مجھے بالکل دھیمے چلنے والے اونٹ پر سوار کر دیا ہے. آپ ﷺ ان کے آنسو پونچھ کر انہیں چپ کرانے لگے. " _📔 ( صحيح النسائي )

🌸 *|[ پریشانیوں اور مصائب کا علاج ]|* 🏼 مصیبت اور پریشانی کی حالت میں صبر اور نماز کو اپنا شعار بنانے کا حکم دیا گیا ہے کہ الله کی یاد میں جس قدر طبیعت مصروف ہو اسی قدر دوسری پریشانیاں خود بخود کم ہوجاتی ہیں۔ بعض لوگوں نے یہاں صبر سے روزہ بھی مراد لیا ہے اور رسول الله ﷺ کی عادت مبارکہ تھی کہ جب آپ ﷺ کو کوئی پریشانی لاحق ہوتی تو خود بھی نماز میں مشغول ہوتے اور اپنے اہل بیت - عليهم السلام - کو بھی اس کی دعوت دیتے تھے۔ 🏼 اور صبر کسے کہتے ہیں یہ بھی رسول الله ﷺ کی زبانی سنیے۔ سيدنا انس بن مالك - رضي الله عنه - کہتے ہیں کہ آپ ﷺ کا ایک عورت پر گزر ہوا جو ایک قبر کے پاس بیٹھی رو رہی تھی۔ آپ ﷺ نے اسے فرمایا ’’الله سے ڈرو اور صبر کرو۔‘‘ وہ کہنے لگی۔ ’’جاؤ اپنا کام کرو تمہیں مجھ جیسی مصیبت تو پیش نہیں آئی۔‘‘ وہ عورت آپ ﷺ کو پہچانتی نہ تھی۔ اسے لوگوں نے بتایا کہ وہ تو نبی ﷺ تھے۔ 🏼 چناچہ وہ آپ ﷺ کے دروازے پر حاضر ہوئی۔ وہاں کوئی دربان موجود نہ تھا۔ وہ اندر جا کر کہنے لگی۔ ’’میں نے آپ کو پہچانا نہ تھا (میں صبر کرتی ہوں) آپ ﷺ نے فرمایا : صبر تو اس وقت کرنا چاہیے جب صدمہ شروع ہو۔‘‘ (بخاری، کتاب الجنائز، باب زیارۃ القبور) 📝 *|[ مولانا عبد الرحمن کیلانی رحمه الله تعالى تيسير القرآن : ٧٢/١ البقرة : ٤٥ ]|* #منتخب_احادیث #فوائد

🌺 *اللہ کی رحمت !* 🔹 *نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ”جب اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کیا تو اپنی کتاب میں اسے لکھا، اس نے اپنی ذات کے متعلق بھی لکھا اور یہ اب بھی عرش پر لکھا ہوا موجود ہے «إِنَّ رَحْمَتِي تَغْلِبُ غَضَبِي» کہ ”میری رحمت میرے غضب پر غالب ہے.*🔹 📗«صحیح بخاری-7404»

🪶 - *|[ درود شریف ؛ بھلائی کا دروازہ ]|* ♥️ ‏امام ⁧ابن الجوزي⁩ رحمه الله فرماتے ہیں : *❐ ’’عباد الله تعاهدوا الصَّلاة على حبيبنا محمَّد صلى الله عليه وسلم، لأنَّ الله تعالى إذا أراد بعبده خيرًا، يسَّر لسانه للصَّلاة على محمَّد صلى الله عليه وسلم.‘‘* "ﷲ کے بندوں حبیبِ الٰہی سیدنا محمد صلى الله عليه وسلم پر درود بھیجنے کو لازم پکڑو، کیونکہ جب ﷲ تعالیٰ کسی بندے کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے تو اس کی زبان پر محمد صلى الله عليه وسلم پر درود کو جاری و ساری کردیتا ہے۔" 📜 - *¦[ بُستان الوَاعظين : 300/1 ]|* #دعا #درود

📗سنن ابوداؤد کتاب: جنازوں کا بیان باب: قبر کے پاس ذبح کرنے کی ممانعت حدیث نمبر: 3222 ⭐انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اسلام میں عقر نہیں ہے ۔ عبدالرزاق کہتے ہیں: لوگ زمانہ جاہلیت میں قبر کے پاس جا کر گائے بکری وغیرہ ذبح کیا کرتے تھے ١ ؎۔ 📚تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٤٧٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/١٩٧) (صحیح ) 📌وضاحت: ١ ؎: قبر کے پاس گائے بکری وغیرہ ذبح کرنا یہی عقر ہے، اسلام میں اس سے ممانعت ہوگئی۔

📗سنن ابوداؤد کتاب: جنازوں کا بیان باب: اگر کسی مسلمان کا کوئی کافر و مشرک رشتہ دار مرجائے تو کیا کرنا چاہئے حدیث نمبر: 3214 💟علی ؓ کہتے ہیں میں نے نبی اکرم ﷺ سے عرض کیا کہ آپ کا بوڑھا گمراہ چچا مرگیا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: جاؤ اور اپنے باپ کو گاڑ کر آؤ، اور میرے پاس واپس آنے تک بیچ میں اور کچھ نہ کرنا ، تو میں گیا، اور انہیں مٹی میں دفنا کر آپ کے پاس آگیا، آپ ﷺ نے مجھے غسل کرنے کا حکم دیا تو میں نے غسل کیا، آپ ﷺ نے میرے لیے دعا فرمائی۔ 📚 تخریج دارالدعوہ: سنن النسائی/الجنائز ٨٤ (٢٠٠٨)، (تحفة الأشراف: ١٠٢٨٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٩٧، ١٣١) (صحیح )

📗سنن ابوداؤد کتاب: جنازوں کا بیان باب: میت کو جب قبر میں رکھنے لگیں تو کیا دعا پڑھیں حدیث نمبر: 3213 💞عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ جب میت کو قبر میں رکھتے تو: بسم الله وعلى سنة رسول الله صلى الله عليه وسلم کہتے تھے، یہ الفاظ مسلم بن ابراہیم کے ہیں۔ 📚تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٦٦٦٠)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الجنائز ٥٤ (١٠٤٦)، سنن ابن ماجہ/الجنائز ٣٨ (١٥٥٠)، مسند احمد (٢/٢٧، ٤٠، ٥٩، ٦٩، ١٢٧) (صحیح )

📗سنن ابوداؤد کتاب: جنازوں کا بیان باب: قبر کھودنے والا اگر مُردے کی ہڈی دیکھے تو اس کو توڑے نہیں بلکہ چھوڑ دے اور دوسری جگہ کھودے حدیث نمبر: 3207 💞ام المؤمنین عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مردے کی ہڈی توڑنا زندے کی ہڈی توڑنے کی طرح ہے ١ ؎۔ 📚تخریج دارالدعوہ: سنن ابن ماجہ/الجنائز ٦٣ (١٦١٦)، (تحفة الأشراف: ١٧٨٩٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٥٨، ١٠٠، ١٠٥، ١٦٨، ٢٠٠، ٢٦٤) (صحیح ) ✒️ وضاحت: ١ ؎: گویا قبر کھودتے وقت اگر پہلے سے کسی میت کی ہڈی موجود ہے تو اسے چھیڑے بغیر دوسری جگہ قبر تیار کی جائے۔

📗سنن ابوداؤد کتاب: جنازوں کا بیان باب: جو مسلمان کافروں کے ملک میں مر جائے اس کی نماز جنازہ پڑھنے کا بیان حدیث نمبر: 3204 💟ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ (حبشہ کا بادشاہ) نجاشی ١ ؎ جس دن انتقال ہوا اسی دن رسول اللہ ﷺ نے ان کی موت کی اطلاع مسلمانوں کو دی، آپ ﷺ مسلمانوں کو لے کر عید گاہ کی طرف نکلے، ان کی صفیں بنائیں اور چار تکبیروں کے ساتھ نماز (جنازہ) پڑھی ٢ ؎۔ 📚 تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الجنائز ٦٠ (١٣٣٤)، ومناقب الأنصار ٣٨ (٣٨٨٠)، صحیح مسلم/الجنائز ٢٢ (٩٥١)، سنن النسائی/الجنائز ٧٢ (١٩٧٣)، (تحفة الأشراف: ١٣٢٣٢)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/ الجنائز ٥ (١٤)، مسند احمد (٢/٤٣٨، ٤٣٩) (صحیح ) ✒️ وضاحت: وضاحت ١ ؎: نجاشی حبشہ کے بادشاہ کا لقب ہے، ان کا نام اصحمہ تھا، یہ پہلے نصاری کے دین پر تھے، پھر نبی اکرم ﷺ پر ایمان لائے اور جو صحابہ کرام ہجرت کر کے حبشہ گئے ان کی خوب خدمت کی جب وہ فوت ہوئے تو نبی اکرم ﷺ نے عیدگاہ جا کر صحابہ کرام کے ساتھ ان کی نماز جنازہ پڑھی چونکہ ان کا انتقال حبشہ میں ہوا تھا، اور آپ ﷺ نے مدینہ میں ان کی نماز جنازہ پڑھی تھی اس سے بعض لوگوں نے نماز جنازہ غائبانہ کے جواز پر استدلال کیا ہے۔ ٢ ؎: نماز جنازہ غائبانہ کے سلسلہ میں مناسب یہ ہے کہ اگر میت کی نماز جنازہ نہ پڑھی گئی ہو تب پڑھی جائے اور اگر پڑھی جا چکی ہے تو مسلمانوں کی طرف سے فرض کفایہ ادا ہوگیا، الا یہ کہ کوئی محترم اور صالح شخصیت ہو تو پڑھنا بہتر ہے یہی قول ابن تیمیہ، ابن قیم اور امام احمد ابن حنبل رحمہم اللہ کا ہے، عام مسلمانوں کا غائبانہ جنازہ آپ ﷺ سے ثابت نہیں، اور نہ ہی تعامل امت سے۔

📗سنن ابوداؤد کتاب: جنازوں کا بیان باب: قبر پر نماز جنازہ پڑھنا حدیث نمبر: 3203 🌹ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ ایک کالی عورت یا ایک مرد مسجد میں جھاڑو دیا کرتا تھا، نبی اکرم ﷺ نے اسے موجود نہ پایا تو لوگوں سے اس کے متعلق پوچھا، لوگوں نے بتایا کہ وہ تو مرگیا ہے، اس پر آپ ﷺ نے فرمایا: تم لوگوں نے مجھے اس کی خبر کیوں نہیں دی؟ آپ نے فرمایا: مجھے اس کی قبر بتاؤ ، لوگوں نے بتائی تو آپ ﷺ نے اس کی نماز جنازہ پڑھی۔ 📚 تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الصلاة ٧٤ (٤٥٨)، صحیح مسلم/الجنائز ٢٣ (٩٥٦)، سنن ابن ماجہ/الجنائز ٣٢ (١٥٢٧)، (تحفة الأشراف: ١٤٦٥٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٣٥٣، ٣٨٨، ٤٠٦) (صحیح )

*✨صحابی رسول عبد الله بن عمر رضی الله عنهما ، سید التابعین سعید بن مسیب رحمه الله سے فتوی پوچھا کرتے تھے••••* 🌷امام مالک نے فرمایا : "عبد الله بن عمر رضی الله عنهما سعید بن مسیب کی طرف سوال بھیجا کرتے تھے اور ان سے عمر بن خطاب رضی اللہ عنه کے فیصلوں کے بارے میں پوچھا کرتے تھے" 📔(التاریخ الکبیر لابن ابی خیثمه: ١١٢/ ۲) 🌷اسی طرح امام یحیی بن سعید الانصاری نے فرمایا: "عبد الله بن عمر رضی الله عنهما سے جب کوئی ایسا سوال پوچھا جاتا جو انہیں مشکل معلوم ہوتا، تو وہ کہتے کہ (جاؤ) سعید بن مسیب سے پوچھو، کیونکہ وہ صالحین کی (صحبت) میں بیٹھے ہیں۔" 📔(کتاب المعرفة والتاریخ: ٤٧٥/ ١ واسنادہ حسن) 🌷اسی طرح امام سالم بن عبد الله بن عمر بن خطاب رحمہ الله فرماتے ہیں: "ابن عمر رضی الله عنه سے کسی چیز کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا: سعید بن مسیب سے پوچھو، پھر انہوں نے ہمیں مسئلہ بتایا۔ پھر وہ شخص متوجہ ہوا اور سعید سے مسئلہ پوچھا تو انہوں نے اس مسئلے میں ویسا ہی فتوی جیسا ابن عمر نے ہمیں بتایا۔ پھر وہ شخص ان کے پاس واپس آیا اور بتایا کہ اس مسئلے میں سعید نے ویسا ہی فتوی دیا ہے جیسا ابن عمر نے دیا ہے، تو ابن عمر نے فرمایا: میں نے تم لوگوں کو بتایا تھا کہ سعید علماء میں سے ہیں۔" 📔(تاریخ ابن زرعه الدمشقی: ص ٤٠٤ ، واسنادہ صحیح)

📗سنن ابوداؤد کتاب: جنازوں کا بیان باب: میت کے لئے دعا کرنے کا بیان حدیث نمبر: 3202 🩷واثلہ بن اسقع ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں مسلمانوں میں سے ایک شخص کی نماز جنازہ پڑھائی تو میں نے سنا آپ کہہ رہے تھے: اللهم إن فلان بن فلان في ذمتک فقه فتنة القبر اے اللہ! فلاں کا بیٹا فلاں تیری امان و پناہ میں ہے تو اسے قبر کے فتنہ (عذاب) سے بچا لے ۔ عبدالرحمٰن کی روایت میں: في ذمتک کے بعد عبارت اس طرح ہے: وحبل جو ارک فقه من فتنة القبر و عذاب النار وأنت أهل الوفاء والحمد اللهم فاغفر له وارحمه إنك أنت الغفور الرحيم اے اللہ! وہ تیری امان میں ہے، اور تیری حفاظت میں ہے، تو اسے قبر کے فتنہ اور جہنم کے عذاب سے بچا لے، تو وعدہ وفا کرنے والا اور لائق ستائش ہے، اے اللہ! تو اسے بخش دے، اس پر رحم فرما، تو بہت بخشنے والا، اور رحم فرمانے والا ہے ۔ 📚 تخریج دارالدعوہ: سنن ابن ماجہ/الجنائز ٢٣ (١٤٩٩)، (تحفة الأشراف: ١١٧٥٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤٩١) (صحیح )

📗سنن ابوداؤد کتاب: جنازوں کا بیان باب: میت کے لئے دعا کرنے کا بیان حدیث نمبر: 3201 💞ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے ایک جنازہ کی نماز پڑھی تو یوں دعا کی: اللهم اغفر لحينا وميتنا وصغيرنا وكبيرنا وذکرنا وأنثانا وشاهدنا وغائبنا اللهم من أحييته منا فأحيه على الإيمان ومن توفيته منا فتوفه على الإسلام اللهم لا تحرمنا أجره ولا تضلنا بعده اے اللہ! تو بخش دے، ہمارے زندوں اور ہمارے مردوں کو، ہمارے چھوٹوں اور ہمارے بڑوں کو، ہمارے مردوں اور ہماری عورتوں کو، ہمارے حاضر اور ہمارے غائب کو، اے اللہ! تو ہم میں سے جس کو زندہ رکھے ایمان پر زندہ رکھ، اور ہم میں سے جس کو موت دے اسے اسلام پر موت دے، اے اللہ! ہم کو تو اس کے ثواب سے محروم نہ رکھنا، اور اس کے بعد ہمیں گمراہ نہ کرنا ۔ 📚تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الجنائز ٣٨ (١٠٢٤)، (تحفة الأشراف: ١٥٣٨٥)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الجنائز ٧٧ (١٩٨٥)، سنن ابن ماجہ/الجنائز ٢٣ (١٤٩٩)، مسند احمد (٢/٣٦٨) (صحیح )