📚حدیثِ رسـولﷺ🌴
Open in Telegram
🌴حــــــدیثِ رســــــولﷺ چـینــل📚 صحیحین، سنن اربعہ و دیگر کتبِ احادیث کا بہترین مجموعـہ جس کو آپکی خدمت میں خوبصورت مختصر پوسٹ کی شکل میں پیش کیا جارہا،چینل کو جوائن کریں https://t.me/HadeethERasool •°• ایڈمن ٹیم: حـدیثِ رسولﷺ 🌴°•°
Show moreThe country is not specifiedReligion & Spirituality38 086
2 924
Subscribers
No data24 hours
-37 days
-530 days
Posts Archive
2 924
🍀 *مغرب سے پہلے دو رکعت!*
🔹 *نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مغرب کے فرض سے پہلے (سنت کی دو رکعتیں) پڑھا کرو۔ تیسری مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں فرمایا کہ جس کا جی چاہے کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات پسند نہ تھی کہ لوگ اسے لازمی سمجھ بیٹھیں۔*🔹
📗«صحیح بخاری-1183»
#نماز
2 924
‘‘دعا میں اپنی تقصیر و کوتاہی کا اعتراف‘‘
اللہ تعالی سے دعا کرتے وقت اپنی طرف ظلم و تقصیر کی نسبت اور بار گاہِ الہی میں اپنے آپ کو بطور مجرم و قصور وار پیش کرنا یقیناً دعا کی قبولیت کے اہم ترین اسباب میں سے ہے۔
✿⇚ سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے جب رسول اللہ ﷺ سے نماز میں پڑھنے کے لیے دعا سکھلانے کی درخواست کی تو آپ ﷺ نے انہیں یوں دعا بتائی :
«اَللّٰهُمَّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي ظُلْمًا كَثِيرًا وَلَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ، فَاغْفِرْ لِي مَغْفِرَةً مِنْ عِنْدِكَ».
’’اے اللہ! میں نے اپنی جان پر بہت زیادہ ظلم کیے اور آپ کے سوا کوئی گناہوں کو معاف کرنے والا نہیں۔ مجھے اپنے پاس سے بھرپور مغفرت عطا فرمائیں۔‘‘
(صحیح بخاری : 6326، صحیح مسلم : 2705)
قرآن مجید میں بیان شدہ انبیاء کی دعاؤں پر غور کرنے سے بھی یہی چیز سامنے آتی ہے۔
✿⇚سیدنا آدم و حوا علیہما السلام نے دعا کی :
﴿رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنفُسَنَا وَإِن لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ﴾.
’’اے ہمارے پروردگار! ہم نے اپنے آپ پر ظلم کیا اور اگر آپ نے ہمیں معاف نہ کیا اور ہم پر رحم نہ کیا تو ہم بہت نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوجائیں گے‘‘ (الأعراف : 23)
✿⇚موسی علیہ السلام یوں دعا کرتے ہیں :
﴿رَبِّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي فَاغْفِرْ لِي﴾.
’’اے میرے رب! میں نے اپنے نفس پر ظلم کیا ہے، مجھے معاف کر دیں۔‘‘ (القصص : 16)
✿⇚یونس علیہ السلام اندھیروں میں رب تعالی کو یوں پکارتے ہیں :
﴿لَا إِلَٰهَ إِلَّا أَنتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنتُ مِنَ الظَّالِمِينَ﴾.
’’الہی! آپ کے سوا کوئی معبود نہیں، آپ پاک ہیں بیشک میں ہی ظلم کرنے والوں میں سے تھا۔‘‘(الانبیاء : 87)
✿⇚سیدنا خلیل اللہ ابراہیم علیہ السلام اپنی طرف خطأ و کوتاہی کی نسبت کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
﴿وَالَّذِي أَطْمَعُ أَن يَغْفِرَ لِي خَطِيئَتِي يَوْمَ الدِّينِ﴾.
’’اور (وہ رب کہ) جس سے میں توقع رکھتا ہوں کہ قیامت کے دن میری خطائیں معاف کر دے گا۔‘‘ (الشعراء : 82)
✿⇚رسول اللہ ﷺ سے بھی اسی معنی کے قریب دعا ثابت ہے :
«اَللّٰهُمَّ أَنْتَ الْمَلِكُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، أَنْتَ رَبِّي وَأَنَا عَبْدُكَ، ظَلَمْتُ نَفْسِي وَاعْتَرَفْتُ بِذَنْبِي، فَاغْفِرْ لِي ذُنُوبِي جَمِيعًا إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ».
’’اے اللہ ! آپ ہی بادشاہ ہیں آپ کے سوا کوئی بندگی کے لائق نہیں، آپ میرے رب ہیں اور میں آپ کا بندہ ہوں، میں نے اپنے اوپر ظلم کیا ہے اور اپنے گناہ کا اعتراف کرتا ہوں، میرے سارے گناہ معاف کر دیں کیونکہ آپ کے علاوہ گناہوں کو بخشنے والا کوئی نہیں ۔‘‘ (صحیح مسلم : 771)
اے ہمارے رب! ہم معترف ہیں کہ ہم نے اپنی جانوں پر بڑے ظلم کیے ہیں، اے ہمارے رب! ہمیں معاف فرما، ہماری کوتاہیوں اور خطاؤں سے درگزر فرما ۔ آمین ۔
(حافظ محمد طاھر)
#مسنون_دعائیں #اصلاحی_تحریریں
2 924
🍏 - *سوموار اور جمعرات کا روزہ رکھنا ...*
🔹 سيدنا أبو هريرة رضي الله عنه کہتے ہیں کہ رسول الله صلى الله عليه وسلم نے فرمایا :
*❐ ’’تُعرَضُ الأعمالُ يومَ الاثنينِ والخميسِ فأحبُّ أن يُعرَضَ عملي وأنا صائمٌ.‘‘*
"اعمال سوموار (دوشنبہ) اور جمعرات کو (الله سبحانه وتعالیٰ کے حضور) پیش کئے جاتے ہیں، میری خواہش ہے کہ میرا عمل اس حال میں پیش کیا جائے کہ میں روزے سے ہوں۔"
📗 - *(سنن الترمذي : ٧٤٧، صححه الألباني)*
🔹 ایک دوسری روایت میں آپ عليه الصلاة والسلام سے جب سوموار اور جمعرات کا روزہ رکھنے کی وجہ پوچھی گئی تو فرمایا :
*❐ ’’إنَّ يومَ الاثنينِ والخميسَ يَغفِرُ اللَّهُ فيهما لِكُلِّ مسلمٍ، إلَّا مُهتَجِرَينِ، يقولُ : دَعهما حتَّى يصطَلِحا.‘‘*
"سوموار اور جمعرات کو الله تعالیٰ ہر مسلمان کی مغفرت فرما دیتا ہے مگر وہ دو آدمی جو آپس میں قطع تعلق کیے ہوئے ہوں۔ الله تعالیٰ فرماتا ہے: انہیں چھوڑ دو حتیٰ کہ صلح کر لیں۔"
📗 - *(سنن ابن ماجه : ١٧٤٠، صححه الألباني)*
🔹 سوموار اور جمعرات کو نفل روزہ رکھنے کا اہتمام کرنا چاہیے۔ روزہ ایک بڑا نیک عمل ہے جس کی برکت سے مغفرت کی زیادہ امید کی جا سکتی ہے۔ مسلمانوں کا ایک دوسرے سے بلاوجہ ناراض رہنا بڑا گناہ ہے۔ کسی دینی وجہ سے ناراضی رکھنا اور اہل و عیال کو تنبیہ کرنے کے لئے ناراض ہو جانا اس وعید میں شامل نہیں۔
📗 - *(فوائد و مسائل از مولانا عطاء الله ساجد حفظه الله || سنن ابن ماجه : ٦٣٠/٢)*
#منتخب_احادیث #فوائد #روزہ
2 924
🍂 *قبر کا امتحان!*
🔹 *رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ کے لیے کھڑے ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبر کے امتحان کا ذکر کیا جہاں انسان جانچا جاتا ہے۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کا ذکر کر رہے تھے تو مسلمانوں کی ہچکیاں بندھ گئیں۔*🔹
📗«صحیح بخاری-1373»
#قبر
2 924
📗سنن ابن ماجہ
کتاب: کھانوں کے ابواب
باب: مؤمن ایک آنت میں کھاتا ہے اور کافر سات آنتوں میں
حدیث نمبر: 3256
💟جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ایک شخص کا کھانا دو کے لیے کافی ہوتا ہے اور دو کا کھانا چار کے لیے کافی ہوتا ہے، اور چار کا کھانا آٹھ افراد کے لیے کافی ہوتا ہے ١ ؎۔
📚تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الأشربة ٣٣ (٢٠٥٩)، (تحفة الأشراف: ٢٨٢٨)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الأطعمة ٢١ (١٨٢٠)، مسند احمد (٢/٤٠٧، ٣/٣٠١، ٣٠٥، ٣٨٢)، سنن الدارمی/الأطعمة ١٤، ٢٠٨٧) (صحیح )
✒️وضاحت: ١ ؎: یعنی جب ایک آدمی پیٹ بھر کھاتا ہو، تو وہ دو آدمیوں کو کافی ہوجائے گا، اس پر گزارہ کرسکتے ہیں گو خوب آسودہ نہ ہوں، بعضوں نے کہا: حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جب کھانے کی قلت ہو، اور مسلمان بھوکے ہوں، تو ہر ایک آدمی کو مستحب ہے کہ اپنے کھانے میں ایک اور بھائی کو شریک کرے، اس صورت میں دونوں زندہ رہ سکتے ہیں اور کم کھانے میں فائدہ بھی ہے کہ آدمی چست چالاک رہتا ہے اور صحت عمدہ رہتی ہے، بعضوں نے کہا: مطلب یہ ہے کہ جب آدمی کے کھانے میں دو بھائی مسلمان شریک ہوں گے، اور اللہ تعالیٰ کا نام لے کر کھائیں گے، تو وہ کھانا دونوں کو کفایت کر جائے گا، اور برکت ہوگی، واللہ اعلم۔
2 924
📗سنن ابن ماجہ
کتاب: کھانوں کے ابواب
باب: ایک شخص کا کھانا دو کے لئے کافی ہوجاتا ہے
حدیث نمبر: 3255
💟عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا اور عرض کیا: اللہ کے رسول! کون سا اسلام بہتر ہے ١ ؎؟ آپ ﷺ نے فرمایا: کھانا کھلانا، ہر شخص کو سلام کرنا، چاہے اس کو پہچانتے ہو یا نہ پہچانتے ہو ۔
📚تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الإیمان ٦ (١٢)، ٢٠ (٢٨)، الاستئذان ٩ (٦٢٣٦)، صحیح مسلم/الإیمان ١٤ (٣٩)، سنن ابی داود/الأدب ١٤٢ (٥١٩٤)، سنن النسائی/الإیمان ١٢ (٥٠٠٣)، (تحفة الأشراف: ٨٩٢٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/١٥٦) (صحیح )
✒️وضاحت: ١ ؎: یعنی اسلام میں کون سا عمل بہتر ہے۔
2 924
📗سنن ابن ماجہ
کتاب: کھانوں کے ابواب
باب: ایک شخص کا کھانا دو کے لئے کافی ہوجاتا ہے
حدیث نمبر: 3254
💟عبداللہ بن عمر ؓ کہتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سلام کو پھیلاؤ، کھانا کھلاؤ، اور بھائی بھائی ہوجاؤ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں حکم دیا ہے ۔
📚 تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٧٦٧٠، ومصباح الزجاجة: ١١١٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/١٥٦) (صحیح) (تراجع الألبانی: رقم: ٥٨٧ )
2 924
📗سنن ابن ماجہ
کتاب: کھانوں کے ابواب
باب: کھانا کھلانے کی فضیلت
حدیث نمبر: 3251
💞ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سانپ فاسق ہے، بچھو فاسق ہے، چوہا فاسق ہے اور کوا فاسق ہے ۔ قاسم سے پوچھا گیا: کیا کوا کھایا جاتا ہے؟ کہا: رسول اللہ ﷺ کے فاسق کہنے کے بعد اسے کون کھائے گا؟۔
📚 تخریج دارالدعوہ: تفردبہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٧٤٩٨، ومصباح الزجاجة: ١١١٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٢٠٩، ٢٣٨) (صحیح) (ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: ١٨٢٥ )
2 924
📗سنن ابوداؤد
کتاب: جنازوں کا بیان
باب: جو شخص حالت احرام میں انتقال کر جائے اس کی تجہیز وتکفین کس طرح ہوگی
حدیث نمبر: 3241
🌷اس سند سے بھی ابن عباس ؓ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں ایک محرم کو اس کی اونٹنی نے گردن توڑ کر ہلاک کردیا، اسے رسول اللہ ﷺ کے پاس لایا گیا تو آپ نے فرمایا: اسے غسل دو اور کفن پہناؤ (لیکن) اس کا سر نہ ڈھانپو اور اسے خوشبو سے دور رکھو کیونکہ وہ لبیک پکارتا ہوا اٹھایا جائے گا ۔
📚تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: (٣٢٣٨)، (تحفة الأشراف: ٥٤٩٧) (صحیح )
2 924
📗سنن ابوداؤد
کتاب: جنازوں کا بیان
باب: قبروں کی زیارت کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 3234
🩷ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ اپنی والدہ کی قبر پر آئے تو رو پڑے اور اپنے آس پاس کے لوگوں کو (بھی) رلا دیا، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: میں نے اپنے رب سے اپنی ماں کی مغفرت طلب کرنے کی اجازت مانگی تو مجھے اجازت نہیں دی گئی، پھر میں نے ان کی قبر کی زیارت کرنے کی اجازت چاہی تو مجھے اس کی اجازت دے دی گئی، تو تم بھی قبروں کی زیارت کیا کرو کیونکہ وہ موت کو یاد دلاتی ہے ۔
📚 تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الجنائز ٣٦ (٩٧٦)، سنن النسائی/الجنائز ١٠١ (٢٠٣٦)، سنن ابن ماجہ/الجنائز ٤٨ (١٥٧٢)، (تحفة الأشراف: ١٣٤٣٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٤٤١) (صحیح )
2 924
📗سنن ابوداؤد
کتاب: جنازوں کا بیان
باب: میت کی تعریف بیان کرنا
حدیث نمبر: 3233
🩷ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ کے پاس سے لوگ ایک جنازہ لے کر گزرے تو لوگوں نے اس کی خوبیاں بیان کیں تو آپ ﷺ نے فرمایا: وجبت جنت اس کا حق بن گئی پھر لوگ ایک دوسرا جنازہ لے کر گزرے تو لوگوں نے اس کی برائیاں بیان کیں تو آپ ﷺ نے فرمایا: وجبت دوزخ اس کے گلے پڑگئی پھر فرمایا: تم میں سے ہر ایک دوسرے پر گواہ ہے ۔
📚تخریج دارالدعوہ: سنن النسائی/الجنائز ٥٠ (١٩٣٥)، (تحفة الأشراف: ١٣٥٣٨)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الجنائز ٢٠ (١٤٩١)، مسند احمد (٢/٢٦١، ٤٦٦، ٤٧٠، ٤٩٩، ٥٢٨) (صحیح )
2 924
📗سنن ابوداؤد
کتاب: جنازوں کا بیان
باب: قبر ستان میں جوتا پہن کر جانا
حدیث نمبر: 3231
💟انس ؓ نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا: جب بندہ اپنی قبر میں رکھ دیا جاتا ہے اور اس کے ساتھی لوٹنے لگتے ہیں تو وہ ان کی جوتیوں کی آواز سنتا ہے ۔
📚تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الجنائز ٦٧ (١٣٣٨)، ٨٦ (١٣٧٣)، صحیح مسلم/الجنة ١٧ (٢٨٧٠)، سنن النسائی/الجنائز ١٠٨ (٢٠٥١)، (تحفة الأشراف: ١١٧٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/١٢٦، ٢٣٣)، ویأتی ہذا الحدیث فی السنة (٤٧٥١، ٥٧٥٢) (صحیح )
2 924
📗سنن ابوداؤد
کتاب: جنازوں کا بیان
باب: قبر پر بیٹھنے کی ممانعت
حدیث نمبر: 3229
💞واثلہ بن اسقع ؓ کہتے ہیں کہ میں نے ابومرثد غنوی ؓ کو کہتے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قبروں پر نہ بیٹھو، اور نہ ان کی طرف منہ کر کے نماز پڑھو ۔
📚 تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الجنائز ٣٣ (٩٧٢)، سنن الترمذی/الجنائز ٥٧ (١٠٥٠)، سنن النسائی/القبلة ١١ (٧٦١)، (تحفة الأشراف: ١١١٦٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/١٣٥) (صحیح )
2 924
📗سنن ابوداؤد
کتاب: جنازوں کا بیان
باب: قبر پر بیٹھنے کی ممانعت
حدیث نمبر: 3228
💞ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے کسی شخص کا آگ کے شعلہ پر بیٹھنا، اور اس سے کپڑے کو جلا کر آگ کا اس کے جسم کی کھال تک پہنچ جانا اس کے لیے اس بات سے بہتر ہے کہ وہ قبر پر بیٹھے ۔
📚تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٢٦٣٨)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الجنائز ٣٣ (٩٧١)، سنن النسائی/الجنائز ١٠٥ (٢٠٤٦)، سنن ابن ماجہ/الجنائز ٤٥ (١٥٦٦)، مسند احمد (٢/٣١١، ٣٨٩، ٤٤٤، ٥٢٨) (صحیح )
2 924
📗سنن ابوداؤد
کتاب: جنازوں کا بیان
باب: قبر پر عمارت بنانے کی ممانعت
حدیث نمبر: 3227
🌹ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ یہود کو غارت کرے انہوں نے اپنے نبیوں کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا ۔
📚 تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الصلاة ٥٤ (٤٣٧)، صحیح مسلم/المساجد ٣ (٥٣٠)، سنن النسائی/الجنائز ١٠٦ (٢٠٤٩)، (تحفة الأشراف: ١٣٢٣٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٢٤٦، ٢٦٠، ٢٨٤، ٢٨٥، ٣٦٦، ٣٩٦) (صحیح )
2 924
🫲🫱السلام علیکم ورحمته اللہ وبرکاته
📘مکمل قرآن ساتھ تفسیر میں سرچ بار میں بھی
📚26 احادیث کتب اسناد ساتھ سرچ میں بھی
📚حدیث کی تمام اصطلاحات
💐اور بہت کچھ اس app میں اس app کو لوڈ کریں اور لوگوں کو آگے share کریں
https://play.google.com/store/apps/details?id=com.islam.islamic_urdu_books
2 924
📗سنن ابوداؤد
کتاب: جنازوں کا بیان
باب: قبر پر عمارت بنانے کی ممانعت
حدیث نمبر: 3226
🌷اس سند سے بھی جابر ؓ سے یہی حدیث مروی ہے، ابوداؤد کہتے ہیں: عثمان کی روایت میں یہ بھی ہے کہ اس میں کوئی زیادتی کرنے سے (بھی منع فرماتے تھے) ۔ سلیمان بن موسیٰ کی روایت میں ہے: یا اس پر کچھ لکھنے سے ١ ؎ مسدد نے اپنی روایت میں: أو يزاد عليه کا ذکر نہیں کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مسدد کی روایت میں مجھے حرف وأن کا پتہ نہ لگا۔
📚 تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ٢٢٧٤، ٢٧٩٦) (صحیح )
✒️ وضاحت: ١ ؎: قبر پر لکھنے سے مراد وہ کتبہ ہے، جو بعض لوگ قبر پر لگاتے ہیں، اور جس میں میت کے اوصاف اور تاریخ وفات درج کئے جاتے ہیں، اور بعض لوگوں نے کہا کہ مراد اللہ یا رسول اللہ ﷺ کا نام لکھنا ہے یا قرآن مجید کی آیتیں وغیرہ لکھنا ہے، کیونکہ بسا اوقات کوئی جانور اس پر پاخانہ یا پیشاب وغیرہ کردیتے ہیں جس سے ان چیزوں کا استخفاف لازم آتا ہے۔
2 924
📗سنن ابوداؤد
کتاب: جنازوں کا بیان
باب: قبر پر عمارت بنانے کی ممانعت
حدیث نمبر: 3225
🩷جابر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو قبر پر بیٹھنے ١ ؎، اسے پختہ بنانے، اور اس پر عمارت تعمیر کرنے سے منع فرماتے سنا ہے ٢ ؎۔
📚 تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الجنائز ٣٢ (٩٧٠)، سنن الترمذی/الجنائز ٥٨ (١٠٥٢)، سنن النسائی/الجنائز ٩٦ (٢٠٢٩)، (تحفة الأشراف: ٢٢٧٤، ٢٧٩٦)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الجنائز ٤٣ (١٥٦٢)، مسند احمد (٣/٢٩٥، ٣٣٢، ٣٩٩) (صحیح )
✒️ وضاحت: ١ ؎: قبر پر بیٹھنے سے مراد حاجت کے لئے بیٹھنا ہے، اور بعض لوگوں نے کہا ہے کہ مطلق بیٹھنا مراد ہے کیونکہ اس میں صاحب قبر کا استخفاف ہے۔ ٢ ؎: قبر پر بیٹھنے سے صاحب قبر کی توہین ہوتی ہے اور قبر کو مزین کرنے اور اس پر عمارت بنانے سے اگر ایک طرف فضول خرچی ہے تو دوسری جانب اس سے لوگوں کا شرک میں مبتلا ہونے کا خوف ہے، کیونکہ قبروں پر بنائے گئے قبے اور مشاہد شرک کے مظاہر و علامات میں سے ہیں۔
2 924
📗سنن ابوداؤد
کتاب: جنازوں کا بیان
باب: ایک مدت گزرنے کے بعد قبر پر جنازہ کی نماز پڑھنا
حدیث نمبر: 3223
💟عقبہ بن عامر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک دن مدینہ سے نکلے اور اہل احد پر اپنے جنازے کی نماز کی طرح نماز پڑھی، پھر لوٹے۔
📚تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الجنائز ٧٢(١٣٤٤)، والمناقب ٢٥ (٣٥٩٦)، والمغازی ١٧ (٤٠٤٢)، ٢٧ (٤٠٨٥)، والرقاق ٧ (٦٤٢٦)، ٥٣ (٦٥٩٠)، صحیح مسلم/الفضائل ٩ (٢٢٩٦)، سنن النسائی/الجنائز ٦١ (١٩٥٦)، (تحفة الأشراف: ٩٩٥٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/١٤٩، ١٥٣، ١٥٤) (صحیح )
