en
Feedback
☀️آئیـں اپنی اصـلاح کریں☀️

☀️آئیـں اپنی اصـلاح کریں☀️

Open in Telegram

درس قرآن(تفسیر ابن کثیر)منتخب احادیثِ مبارکہ،اقوال السلف،علماء کرام کے اوڈیو،ویڈیو بیانات،فضائل اعمـال،ردِ الحـاد،تـزکیة النفـوس،قبر جنت و جہنم کا تذکرہ ،اصلاحی تحریریں وغیرہ کے موضاعات پر پوسٹیں ڈالی جائیں گی رابطہ بوٹ @islahchannelbot

Show more
1 772
Subscribers
No data24 hours
No data7 days
No data30 days
Posts Archive
🤎 - *"تقویٰ کسے کہتے ہیں؟"* 🍂 أمير المؤمنين سيدنا عمر بن خطاب رضي الله عنه نے سيد القراء سيدنا أبي بن كعب رضي الله عنه سے تقوٰی کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے جواب دیا : 🍂 کیا آپ کو کبھی کانٹوں والے راستے پر چلنے کا اتفاق ہوا ہے؟ انہوں نے فرمایا: ہاں۔ 🍂 تو پوچھا: آپ ایسے راستے پر چلتے ہوئے کیا کرتے ہیں؟ فرمایا : دامن کو سمیٹ لیتا ہوں اور کوشش کر کے احتیاط سے گزر جاتا ہوں۔ 🍂 ابی بن کعب رضي الله عنه نے فرمایا : بس ایسے ہی گناہوں سے بچنے کا نام تقویٰ ہے۔ 📜 - *(تفسير القرطبي : ١٦١/١، تفسير ابن كثير : ٢٥٥/١، الدر المنثور للسيوطي : ٥٧/١)* #فوائد #سلسلة_اقوال_السلف #تقوی

*ساری رات تہجد کا ثواب*👆🏻 #منتخب_احادیث
*ساری رات تہجد کا ثواب*👆🏻 #منتخب_احادیث

🍀 *مغرب سے پہلے دو رکعت!* 🔹 *نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مغرب کے فرض سے پہلے (سنت کی دو رکعتیں) پڑھا کرو۔ تیسری مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں فرمایا کہ جس کا جی چاہے کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات پسند نہ تھی کہ لوگ اسے لازمی سمجھ بیٹھیں۔*🔹 📗«صحیح بخاری-1183» #نماز

‘‘دعا میں اپنی تقصیر و کوتاہی کا اعتراف‘‘ اللہ تعالی سے دعا کرتے وقت اپنی طرف ظلم و تقصیر کی نسبت اور بار گاہِ الہی میں اپنے آپ کو بطور مجرم و قصور وار پیش کرنا یقیناً دعا کی قبولیت کے اہم ترین اسباب میں سے ہے۔ ✿⇚ سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے جب رسول اللہ ﷺ سے نماز میں پڑھنے کے لیے دعا سکھلانے کی درخواست کی تو آپ ﷺ نے انہیں یوں دعا بتائی : «اَللّٰهُمَّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي ظُلْمًا كَثِيرًا وَلَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ، فَاغْفِرْ لِي مَغْفِرَةً مِنْ عِنْدِكَ». ’’اے اللہ! میں نے اپنی جان پر بہت زیادہ ظلم کیے اور آپ کے سوا کوئی گناہوں کو معاف کرنے والا نہیں۔ مجھے اپنے پاس سے بھرپور مغفرت عطا فرمائیں۔‘‘ (صحیح بخاری : 6326، صحیح مسلم : 2705) قرآن مجید میں بیان شدہ انبیاء کی دعاؤں پر غور کرنے سے بھی یہی چیز سامنے آتی ہے۔ ✿⇚سیدنا آدم و حوا علیہما السلام نے دعا کی : ﴿رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنفُسَنَا وَإِن لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ﴾. ’’اے ہمارے پروردگار! ہم نے اپنے آپ پر ظلم کیا اور اگر آپ نے ہمیں معاف نہ کیا اور ہم پر رحم نہ کیا تو ہم بہت نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوجائیں گے‘‘ (الأعراف : 23) ✿⇚موسی علیہ السلام یوں دعا کرتے ہیں : ﴿رَبِّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي فَاغْفِرْ لِي﴾. ’’اے میرے رب! میں نے اپنے نفس پر ظلم کیا ہے، مجھے معاف کر دیں۔‘‘ (القصص : 16) ✿⇚یونس علیہ السلام اندھیروں میں رب تعالی کو یوں پکارتے ہیں : ﴿لَا إِلَٰهَ إِلَّا أَنتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنتُ مِنَ الظَّالِمِينَ﴾. ’’الہی! آپ کے سوا کوئی معبود نہیں، آپ پاک ہیں بیشک میں ہی ظلم کرنے والوں میں سے تھا۔‘‘(الانبیاء : 87) ✿⇚سیدنا خلیل اللہ ابراہیم علیہ السلام اپنی طرف خطأ و کوتاہی کی نسبت کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ﴿وَالَّذِي أَطْمَعُ أَن يَغْفِرَ لِي خَطِيئَتِي يَوْمَ الدِّينِ﴾. ’’اور (وہ رب کہ) جس سے میں توقع رکھتا ہوں کہ قیامت کے دن میری خطائیں معاف کر دے گا۔‘‘ (الشعراء : 82) ✿⇚رسول اللہ ﷺ سے بھی اسی معنی کے قریب دعا ثابت ہے : «اَللّٰهُمَّ أَنْتَ الْمَلِكُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، أَنْتَ رَبِّي وَأَنَا عَبْدُكَ، ظَلَمْتُ نَفْسِي وَاعْتَرَفْتُ بِذَنْبِي، فَاغْفِرْ لِي ذُنُوبِي جَمِيعًا إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ». ’’اے اللہ ! آپ ہی بادشاہ ہیں آپ کے سوا کوئی بندگی کے لائق نہیں، آپ میرے رب ہیں اور میں آپ کا بندہ ہوں، میں نے اپنے اوپر ظلم کیا ہے اور اپنے گناہ کا اعتراف کرتا ہوں، میرے سارے گناہ معاف کر دیں کیونکہ آپ کے علاوہ گناہوں کو بخشنے والا کوئی نہیں ۔‘‘ (صحیح مسلم : 771) اے ہمارے رب! ہم معترف ہیں کہ ہم نے اپنی جانوں پر بڑے ظلم کیے ہیں، اے ہمارے رب! ہمیں معاف فرما، ہماری کوتاہیوں اور خطاؤں سے درگزر فرما ۔ آمین ۔ (حافظ محمد طاھر) #مسنون_دعائیں #اصلاحی_تحریریں

#سلسلة_آثار_الصحابة
#سلسلة_آثار_الصحابة

🤎 - *"تقویٰ کسے کہتے ہیں؟"* 🍂 أمير المؤمنين سيدنا عمر بن خطاب رضي الله عنه نے سيد القراء سيدنا أبي بن كعب رضي الله عنه سے تقوٰی کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے جواب دیا : 🍂 کیا آپ کو کبھی کانٹوں والے راستے پر چلنے کا اتفاق ہوا ہے؟ انہوں نے فرمایا: ہاں۔ 🍂 تو پوچھا: آپ ایسے راستے پر چلتے ہوئے کیا کرتے ہیں؟ فرمایا : دامن کو سمیٹ لیتا ہوں اور کوشش کر کے احتیاط سے گزر جاتا ہوں۔ 🍂 ابی بن کعب رضي الله عنه نے فرمایا : بس ایسے ہی گناہوں سے بچنے کا نام تقویٰ ہے۔ 📜 - *(تفسير القرطبي : ١٦١/١، تفسير ابن كثير : ٢٥٥/١، الدر المنثور للسيوطي : ٥٧/١)* #فوائد #سلسلة_اقوال_السلف #تقوی

*ساری رات تہجد کا ثواب*👆🏻 #منتخب_احادیث
*ساری رات تہجد کا ثواب*👆🏻 #منتخب_احادیث

🍀 *مغرب سے پہلے دو رکعت!* 🔹 *نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مغرب کے فرض سے پہلے (سنت کی دو رکعتیں) پڑھا کرو۔ تیسری مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں فرمایا کہ جس کا جی چاہے کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات پسند نہ تھی کہ لوگ اسے لازمی سمجھ بیٹھیں۔*🔹 📗«صحیح بخاری-1183» #نماز

🤎 - *"تقویٰ کسے کہتے ہیں؟"* 🍂 أمير المؤمنين سيدنا عمر بن خطاب رضي الله عنه نے سيد القراء سيدنا أبي بن كعب رضي الله عنه سے تقوٰی کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے جواب دیا : 🍂 کیا آپ کو کبھی کانٹوں والے راستے پر چلنے کا اتفاق ہوا ہے؟ انہوں نے فرمایا: ہاں۔ 🍂 تو پوچھا: آپ ایسے راستے پر چلتے ہوئے کیا کرتے ہیں؟ فرمایا : دامن کو سمیٹ لیتا ہوں اور کوشش کر کے احتیاط سے گزر جاتا ہوں۔ 🍂 ابی بن کعب رضي الله عنه نے فرمایا : بس ایسے ہی گناہوں سے بچنے کا نام تقویٰ ہے۔ 📜 - *(تفسير القرطبي : ١٦١/١، تفسير ابن كثير : ٢٥٥/١، الدر المنثور للسيوطي : ٥٧/١)* #فوائد #سلسلة_اقوال_السلف #تقوی

‘‘دعا میں اپنی تقصیر و کوتاہی کا اعتراف‘‘ اللہ تعالی سے دعا کرتے وقت اپنی طرف ظلم و تقصیر کی نسبت اور بار گاہِ الہی میں اپنے آپ کو بطور مجرم و قصور وار پیش کرنا یقیناً دعا کی قبولیت کے اہم ترین اسباب میں سے ہے۔ ✿⇚ سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے جب رسول اللہ ﷺ سے نماز میں پڑھنے کے لیے دعا سکھلانے کی درخواست کی تو آپ ﷺ نے انہیں یوں دعا بتائی : «اَللّٰهُمَّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي ظُلْمًا كَثِيرًا وَلَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ، فَاغْفِرْ لِي مَغْفِرَةً مِنْ عِنْدِكَ». ’’اے اللہ! میں نے اپنی جان پر بہت زیادہ ظلم کیے اور آپ کے سوا کوئی گناہوں کو معاف کرنے والا نہیں۔ مجھے اپنے پاس سے بھرپور مغفرت عطا فرمائیں۔‘‘ (صحیح بخاری : 6326، صحیح مسلم : 2705) قرآن مجید میں بیان شدہ انبیاء کی دعاؤں پر غور کرنے سے بھی یہی چیز سامنے آتی ہے۔ ✿⇚سیدنا آدم و حوا علیہما السلام نے دعا کی : ﴿رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنفُسَنَا وَإِن لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ﴾. ’’اے ہمارے پروردگار! ہم نے اپنے آپ پر ظلم کیا اور اگر آپ نے ہمیں معاف نہ کیا اور ہم پر رحم نہ کیا تو ہم بہت نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوجائیں گے‘‘ (الأعراف : 23) ✿⇚موسی علیہ السلام یوں دعا کرتے ہیں : ﴿رَبِّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي فَاغْفِرْ لِي﴾. ’’اے میرے رب! میں نے اپنے نفس پر ظلم کیا ہے، مجھے معاف کر دیں۔‘‘ (القصص : 16) ✿⇚یونس علیہ السلام اندھیروں میں رب تعالی کو یوں پکارتے ہیں : ﴿لَا إِلَٰهَ إِلَّا أَنتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنتُ مِنَ الظَّالِمِينَ﴾. ’’الہی! آپ کے سوا کوئی معبود نہیں، آپ پاک ہیں بیشک میں ہی ظلم کرنے والوں میں سے تھا۔‘‘(الانبیاء : 87) ✿⇚سیدنا خلیل اللہ ابراہیم علیہ السلام اپنی طرف خطأ و کوتاہی کی نسبت کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ﴿وَالَّذِي أَطْمَعُ أَن يَغْفِرَ لِي خَطِيئَتِي يَوْمَ الدِّينِ﴾. ’’اور (وہ رب کہ) جس سے میں توقع رکھتا ہوں کہ قیامت کے دن میری خطائیں معاف کر دے گا۔‘‘ (الشعراء : 82) ✿⇚رسول اللہ ﷺ سے بھی اسی معنی کے قریب دعا ثابت ہے : «اَللّٰهُمَّ أَنْتَ الْمَلِكُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، أَنْتَ رَبِّي وَأَنَا عَبْدُكَ، ظَلَمْتُ نَفْسِي وَاعْتَرَفْتُ بِذَنْبِي، فَاغْفِرْ لِي ذُنُوبِي جَمِيعًا إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ». ’’اے اللہ ! آپ ہی بادشاہ ہیں آپ کے سوا کوئی بندگی کے لائق نہیں، آپ میرے رب ہیں اور میں آپ کا بندہ ہوں، میں نے اپنے اوپر ظلم کیا ہے اور اپنے گناہ کا اعتراف کرتا ہوں، میرے سارے گناہ معاف کر دیں کیونکہ آپ کے علاوہ گناہوں کو بخشنے والا کوئی نہیں ۔‘‘ (صحیح مسلم : 771) اے ہمارے رب! ہم معترف ہیں کہ ہم نے اپنی جانوں پر بڑے ظلم کیے ہیں، اے ہمارے رب! ہمیں معاف فرما، ہماری کوتاہیوں اور خطاؤں سے درگزر فرما ۔ آمین ۔ (حافظ محمد طاھر) #مسنون_دعائیں #اصلاحی_تحریریں

🍏 - *سوموار اور جمعرات کا روزہ رکھنا ...* 🔹 سيدنا أبو هريرة رضي الله عنه کہتے ہیں کہ رسول الله صلى الله عليه وسلم نے فرمایا : *❐ ’’تُعرَضُ الأعمالُ يومَ الاثنينِ والخميسِ فأحبُّ أن يُعرَضَ عملي وأنا صائمٌ.‘‘* "اعمال سوموار (دوشنبہ) اور جمعرات کو (الله سبحانه وتعالیٰ کے حضور) پیش کئے جاتے ہیں، میری خواہش ہے کہ میرا عمل اس حال میں پیش کیا جائے کہ میں روزے سے ہوں۔" 📗 - *(سنن الترمذي : ٧٤٧، صححه الألباني)* 🔹 ایک دوسری روایت میں آپ عليه الصلاة والسلام سے جب سوموار اور جمعرات کا روزہ رکھنے کی وجہ پوچھی گئی تو فرمایا : *❐ ’’إنَّ يومَ الاثنينِ والخميسَ يَغفِرُ اللَّهُ فيهما لِكُلِّ مسلمٍ، إلَّا مُهتَجِرَينِ، يقولُ : دَعهما حتَّى يصطَلِحا.‘‘* "سوموار اور جمعرات کو الله تعالیٰ ہر مسلمان کی مغفرت فرما دیتا ہے مگر وہ دو آدمی جو آپس میں قطع تعلق کیے ہوئے ہوں۔ الله تعالیٰ فرماتا ہے: انہیں چھوڑ دو حتیٰ کہ صلح کر لیں۔" 📗 - *(سنن ابن ماجه : ١٧٤٠، صححه الألباني)* 🔹 سوموار اور جمعرات کو نفل روزہ رکھنے کا اہتمام کرنا چاہیے۔ روزہ ایک بڑا نیک عمل ہے جس کی برکت سے مغفرت کی زیادہ امید کی جا سکتی ہے۔ مسلمانوں کا ایک دوسرے سے بلاوجہ ناراض رہنا بڑا گناہ ہے۔ کسی دینی وجہ سے ناراضی رکھنا اور اہل و عیال کو تنبیہ کرنے کے لئے ناراض ہو جانا اس وعید میں شامل نہیں۔ 📗 - *(فوائد و مسائل از مولانا عطاء الله ساجد حفظه الله || سنن ابن ماجه : ٦٣٠/٢)* #منتخب_احادیث #فوائد #روزہ

🍂 *قبر کا امتحان!* 🔹 *رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ کے لیے کھڑے ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبر کے امتحان کا ذکر کیا جہاں انسان جانچا جاتا ہے۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کا ذکر کر رہے تھے تو مسلمانوں کی ہچکیاں بندھ گئیں۔*🔹 📗«صحیح بخاری-1373» #قبر

*عفت و عصمت اور مال و دولت پانے کی دعا*👆🏻 #مسنون_دعائیں
*عفت و عصمت اور مال و دولت پانے کی دعا*👆🏻 #مسنون_دعائیں

*✨صحابی رسول عبد الله بن عمر رضی الله عنهما ، سید التابعین سعید بن مسیب رحمه الله سے فتوی پوچھا کرتے تھے••••* 🌷امام مالک نے فرمایا : "عبد الله بن عمر رضی الله عنهما سعید بن مسیب کی طرف سوال بھیجا کرتے تھے اور ان سے عمر بن خطاب رضی اللہ عنه کے فیصلوں کے بارے میں پوچھا کرتے تھے" 📔(التاریخ الکبیر لابن ابی خیثمه: ١١٢/ ۲) 🌷اسی طرح امام یحیی بن سعید الانصاری نے فرمایا: "عبد الله بن عمر رضی الله عنهما سے جب کوئی ایسا سوال پوچھا جاتا جو انہیں مشکل معلوم ہوتا، تو وہ کہتے کہ (جاؤ) سعید بن مسیب سے پوچھو، کیونکہ وہ صالحین کی (صحبت) میں بیٹھے ہیں۔" 📔(کتاب المعرفة والتاریخ: ٤٧٥/ ١ واسنادہ حسن) 🌷اسی طرح امام سالم بن عبد الله بن عمر بن خطاب رحمہ الله فرماتے ہیں: "ابن عمر رضی الله عنه سے کسی چیز کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا: سعید بن مسیب سے پوچھو، پھر انہوں نے ہمیں مسئلہ بتایا۔ پھر وہ شخص متوجہ ہوا اور سعید سے مسئلہ پوچھا تو انہوں نے اس مسئلے میں ویسا ہی فتوی جیسا ابن عمر نے ہمیں بتایا۔ پھر وہ شخص ان کے پاس واپس آیا اور بتایا کہ اس مسئلے میں سعید نے ویسا ہی فتوی دیا ہے جیسا ابن عمر نے دیا ہے، تو ابن عمر نے فرمایا: میں نے تم لوگوں کو بتایا تھا کہ سعید علماء میں سے ہیں۔" 📔(تاریخ ابن زرعه الدمشقی: ص ٤٠٤ ، واسنادہ صحیح)

*عشرہ ذوالحجہ!* أعوذ بالله من الشيطان الرجيم. ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ❞وَالْفَجْرِ. وَلَيَالٍ عَشْرٍ.❝ «اور قسم ہے وقتِ فجر کی اور (قسم ہے) دَس راتوں کی۔» 📚 سورة والفجر، الآية: ٢، ١ - فوائد: ١۔ "وَالْفَجْرِ" شیخ محمد عبدہ الفلاح رحمه الله فرماتے ہیں: « صبح سے مراد ہر صبح ہے یا خاص یکم محرم کی صبح کیوں کہ اس سے سال کی ابتدا ہوتی ہے یا یکم ذی الحجہ کی صبح کیوں کہ اس سے ان دس راتوں کی ابتدا ہوتی ہے جن کا ذکر بعد کی آیت میں آرہا ہے ». 📚 تفسير اشرف الحواشی، سورة والفجر، تحت الآية: ١» ٢۔ "وَلَيَالٍ عَشْرٍ" جناب زُرَارَة الحَرَشی رحمه الله بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبد الله بن عباس رضي الله عنھما نے فرمایا: ❞إِنَّ اللَّيَالِي الْعَشْر الَّتِي أَقْسَمَ اللَّه بِهَا، هِيَ لَيَالِي الْعَشْر الْأُوَل مِنْ ذِي الْحِجَّة.❝ « وہ دَس راتیں، جن کے ساتھ اللہ نے قسم اٹھائی ہے ان سے مراد ذوالحجہ کا پہلا عشرہ ہے ». 📚 جامع البيان عن تأويل أي القرآن للطبري، سورة والفجر، تحت الآية: ٢ ⤺ وسندہ صحيح