en
Feedback
بہترین مضامین

بہترین مضامین

Open in Telegram

اللہ اللہ اللہ

Show more
862
Subscribers
+124 hours
+17 days
+1430 days

Data loading in progress...

Tags Cloud
No data
Any problems? Please refresh the page or contact our support manager.
Incoming and Outgoing Mentions
---
---
---
---
---
---
Attracting Subscribers
December '24
December '24
+3
in 0 channels
November '24
+17
in 0 channels
Get PRO
October '24
+16
in 0 channels
Get PRO
September '24
+18
in 1 channels
Get PRO
August '24
+43
in 0 channels
Get PRO
July '240
in 0 channels
Get PRO
June '24
+1
in 0 channels
Get PRO
May '24
+18
in 0 channels
Get PRO
April '24
+2
in 1 channels
Get PRO
March '24
+18
in 0 channels
Get PRO
February '24
+18
in 2 channels
Get PRO
January '24
+27
in 0 channels
Get PRO
December '23
+29
in 0 channels
Get PRO
November '23
+21
in 0 channels
Get PRO
October '23
+22
in 0 channels
Get PRO
September '23
+33
in 0 channels
Get PRO
August '23
+28
in 0 channels
Get PRO
July '23
+33
in 0 channels
Get PRO
June '23
+21
in 0 channels
Get PRO
May '23
+14
in 0 channels
Get PRO
April '23
+28
in 0 channels
Get PRO
March '23
+26
in 0 channels
Get PRO
February '23
+16
in 0 channels
Get PRO
January '23
+21
in 0 channels
Get PRO
December '22
+28
in 0 channels
Get PRO
November '22
+58
in 0 channels
Get PRO
October '22
+26
in 0 channels
Get PRO
September '22
+32
in 0 channels
Get PRO
August '22
+46
in 0 channels
Get PRO
July '22
+44
in 0 channels
Get PRO
June '22
+66
in 0 channels
Get PRO
May '22
+147
in 0 channels
Get PRO
April '22
+29
in 0 channels
Get PRO
March '22
+61
in 0 channels
Get PRO
February '22
+228
in 0 channels
Date
Subscriber Growth
Mentions
Channels
13 December0
12 December0
11 December0
10 December+1
09 December+2
08 December0
07 December0
06 December0
05 December0
04 December0
03 December0
02 December0
01 December0
Channel Posts
💠🌐💠 🌐 تین فطری قوانین جو کڑوے لیکن حق ہیں          ۱)  پہلا قانون فطرت: اگر کھیت میں” دانہ” نہ ڈالا جاۓ تو قدرت اسے “گھاس پھوس” سے بھر دیتی ہے. اسی طرح اگر” دماغ” کو” اچھی فکروں” سے نہ بھرا جاۓ تو “کج فکری” اسے اپنا مسکن بنا لیتی ہے۔ یعنی اس میں صرف “الٹے سیدھے “خیالات آتے ہیں اور وہ “شیطان کا گھر” بن جاتا ہے۔ ۲ ) دوسرا قانون فطرت : جس کے پاس “جو کچھ” ہوتا ہے وہ” وہی کچھ” بانٹتا ہے۔ * خوش مزاج انسان “خوشیاں “بانٹتا ہے۔ * غمزدہ انسان “غم” بانٹتا ہے۔ * عالم “علم” بانٹتا ہے۔ * دیندار انسان “دین” بانٹتا ہے۔ * خوف زدہ انسان “خوف” بانٹتا ہے۔ ۱ ) تیسرا قانون فطرت : آپ کو زندگی میں جو کچھ بھی حاصل ہو اسے “ہضم” کرنا سیکھیں، اس لۓ کہ۔ ۔ ۔ * کھانا ہضم نہ ہونے پر” بیماریاں” پیدا ہوتی ہیں۔ * مال وثروت ہضم نہ ہونے کی صورت میں” ریاکاری” بڑھتی ہے۔ * بات ہضم نہ ہونے پر “چغلی” اور “غیبت” بڑھتی ہے۔ * تعریف ہضم نہ ہونے کی صورت میں “غرور” میں اضافہ ہوتا ہے۔ * مذمت کے ہضم نہ ہونے کی وجہ سے “دشمنی” بڑھتی ہے۔ * غم ہضم نہ ہونے کی صورت میں “مایوسی” بڑھتی ہے۔ * اقتدار اور طاقت ہضم نہ ہونے کی صورت میں” خطرات” میں اضافہ ہوتا ہے۔ 📢 اپنی زندگی کو آسان بنائ https://t.me/BehtarinMazamin

2
💠🌐💠 🌐 تین فطری قوانین جو کڑوے لیکن حق ہیں          ۱)  پہلا قانون فطرت: اگر کھیت میں” دانہ” نہ ڈالا جاۓ تو قدرت اسے “گھاس پھوس” سے بھر دیتی ہے. اسی طرح اگر” دماغ” کو” اچھی فکروں” سے نہ بھرا جاۓ تو “کج فکری” اسے اپنا مسکن بنا لیتی ہے۔ یعنی اس میں صرف “الٹے سیدھے “خیالات آتے ہیں اور وہ “شیطان کا گھر” بن جاتا ہے۔ ۲ ) دوسرا قانون فطرت : جس کے پاس “جو کچھ” ہوتا ہے وہ” وہی کچھ” بانٹتا ہے۔ * خوش مزاج انسان “خوشیاں “بانٹتا ہے۔ * غمزدہ انسان “غم” بانٹتا ہے۔ * عالم “علم” بانٹتا ہے۔ * دیندار انسان “دین” بانٹتا ہے۔ * خوف زدہ انسان “خوف” بانٹتا ہے۔ ۱ ) تیسرا قانون فطرت : آپ کو زندگی میں جو کچھ بھی حاصل ہو اسے “ہضم” کرنا سیکھیں، اس لۓ کہ۔ ۔ ۔ * کھانا ہضم نہ ہونے پر” بیماریاں” پیدا ہوتی ہیں۔ * مال وثروت ہضم نہ ہونے کی صورت میں” ریاکاری” بڑھتی ہے۔ * بات ہضم نہ ہونے پر “چغلی” اور “غیبت” بڑھتی ہے۔ * تعریف ہضم نہ ہونے کی صورت میں “غرور” میں اضافہ ہوتا ہے۔ * مذمت کے ہضم نہ ہونے کی وجہ سے “دشمنی” بڑھتی ہے۔ * غم ہضم نہ ہونے کی صورت میں “مایوسی” بڑھتی ہے۔ * اقتدار اور طاقت ہضم نہ ہونے کی صورت میں” خطرات” میں اضافہ ہوتا ہے۔ 📢 اپنی زندگی کو آسان بنائ https://t.me/ BehtarinMazamin
1
3
❣️❣️❣️ سوچنے کا کمال انداز عورت کی زندگی میں شادی نام کی ہجرت ہوتی ہے جو وہ اللہ کی رضا کے لیے اختیار کرتی ہے اور پھر نئے "مدینہ" کو ہی اپنا دیس بنا کر بس جاتی ہے۔ اللہ ہر مہاجر بیٹی کے نصیب میں انصار مدینہ جیسے میزبان لکھ دے۔ (رابعہ خرم) https://t.me/BehtarinMazamin
262
4
💐💐💐 السلام وعلیکم۔ ایک خوبصورت نصیحت۔ دیوار پر والد کے ہاتھ کے نشان ۔    ابا جی بوڑھے ہو گئے تھے اور چلتے چلتے دیوار کا سہارا لیتے تھے۔  نتیجتاً دیواروں کا رنگ خراب ہونے لگ گیا، جہاں بھی وہ چھوتے تھے وہاں دیواروں پر ان کی انگلیوں کے نشانات چھپ جاتے تھے۔     میری بیوی کو جب پتہ چلا تو وہ اکثر گندی نظر آنے والی دیواروں کے بارے میں مجھ سے شکایت کرتی۔ ایک دن سر میں درد ہو رہا تھا تو ابا جی نے سر پر تیل کی مالش کی۔  تو چلتے ہوئے دیواروں پر تیل کے داغ بن گئے۔     یہ دیکھ کر میری بیوی چیخ اٹھی۔ اور میں نے بھی غصے میں اپنے والد کو ڈانٹ دیا اور ان سے بدتمیزی سے بات کی، انہیں مشورہ دیا کہ چلتے وقت دیواروں کو ہاتھ نہ لگائیں۔     وہ بہت غمگین نظر آئے۔ مجھے اپنے رویے پر شرمندگی بھی محسوس ہوئی مگر ان سے کچھ نہ کہا۔     ابا جی نے چلتے ہوئے دیوار کو پکڑنا چھوڑ دیا۔ اور ایک دن وہ گر پڑے اور بستر سے جا لگے جو ان کے لئے بستر مرگ بن گیا اور کچھ ہی دنوں میں ہم سے رخصت ہو گئے۔  میں نے اپنے دل میں احساس جرم محسوس کیا اور میں ان کے تاثرات کو کبھی فراموش نہیں کر سکتا تھا اور اس کے فوراً بعد اپنے آپ کو ان کی موت کے لئے خود کو معاف نہیں کر پاتا ہوں۔     کچھ دیر بعد، ہم اپنے گھر کو پینٹ کروانا چاہتے تھے۔ جب پینٹر آئے تو میرا بیٹا، جو اپنے دادا سے پیار کرتا تھا، نے مصوروں کو دادا کے انگلیوں کے نشانات صاف کرنے اور ان علاقوں کو پینٹ کرنے کی اجازت نہیں دی۔ پینٹر بہت اچھے اور جدت پسند تھے۔ انہوں نے اسے یقین دلایا کہ وہ میرے والد کے فنگر پرنٹس/ ہینڈ پرنٹس کو نہیں ہٹائیں گے، بلکہ ان نشانات کے گرد ایک خوبصورت دائرہ بنائیں گے اور ایک منفرد ڈیزائن بنائیں گے۔     اس کے بعد یہ سلسلہ جاری رہا اور وہ پرنٹس ہمارے گھر کا حصہ بن گئے۔  ہمارے گھر آنے والے ہر فرد نے ہمارے منفرد ڈیزائن کی تعریف کی۔     وقت کے ساتھ ساتھ میں بھی بوڑھا ہوتا گیا۔    اب مجھے چلنے کے لیے دیوار کے سہارے کی ضرورت تھی۔ ایک دن چلتے ہوئے مجھے یاد آئے اپنے والد سے میرے کہے ہوئے الفاظ، اور سہارے کے بغیر چلنے کی کوشش کی تاکید ۔ میرے بیٹے نے یہ دیکھا اور فوراً میرے پاس آیا اور چلتے ہوئے مجھے دیواروں کا سہارا لینے کو کہا، اس خدشے کا اظہار کرتے ہوئے کہ میں سہارے کے بغیر گر سکتا ہوں، میں نے دیکھا کہ میرا بیٹا مجھے پکڑے ہوئے ہے۔ میری پوتی فوراً آگے آئی اور پیار سے میرا ہاتھ اپنے کندھے پر رکھ کر سہارا دیا۔ میں تقریباً خاموشی سے رونے لگا۔ اگر میں نے اپنے والد کے لیے بھی یہی کیا ہوتا تو وہ زیادہ دیرتک زندہ رہتے۔ میری پوتی نے مجھے ساتھ لیا اور صوفے پر بٹھایا۔ پھر اس نے مجھے دکھانے کے لیے اپنی ڈرائنگ بک نکالی۔ اس کی استانی نے اس کی ڈرائنگ کی تعریف کی تھی اور اس کو بہترین ریمارکس دیے تھے۔ خاکہ دیواروں پر میرے والد کے ہاتھ کے نشان کا تھا۔ اس کے ریمارکس تھے- "کاش ہر بچہ بڑوں سے اسی طرح پیار کرے" میں اپنے کمرے میں واپس آیا اور اپنے والد سے معافی مانگتے ہوئے رونے لگا، جو اب نہیں تھے۔ ہم بھی وقت کے ساتھ بوڑھے ہو جاتے ہیں۔ آئیے اپنے بڑوں کا خیال رکھیں اور اپنے بچوں کو بھی یہی سکھائیں۔ اپنے گھر والوں کو بھی بتائیں کہ یہ بزرگ قیمتی ہوتے ہیں دیواریں اور چیزیں نہیں۔ تحریر کو صدقہ جاریہ اور اللہ کی رضا کی نیت سے اپنے پیاروں کے ساتھ شیئر کیجئے ہو سکتا ہے۔اپ بھی تھوڑی سی محنت یا کوشش کسی کی زندگی بدلنے کا ذریعہ بن جائے https://t.me/BehtarinMazamin
381
5
🌹🌹🌹 🌹 حضرت شیخ زکریا رحمۃ اللہ علیہ کی ٹیں نصیحتیں ... عظیم ولی حضرت شیخ زکریا (رحمة اللہ علیہ) نے اپنی زندگی کا آخری رمضان اعتکاف جنوبی افریقہ کے شہر اسٹینجر میں گزارا۔ حضرت شیخ (رحمة اللہ علیہ ) کی کیفیت کو دیکھتے ہوئے یہ کوئی معمولی اعتکاف نہیں تھا، اور مزید یہ کہ وہ اپنی زندگی کے آخری حصے میں تھے، جب انسان کی روحانیت اپنے عروج پر ہوتی ہے ، رمضان کے مہینے میں، اکابر علماء کی صحبت میں۔ اور بڑے مجمع میں موجود مشائخ، اللہ اکبر! روانگی کے وقت انہوں نے لوگوں کو تین مختصر نصیحتیں کیں۔ اہل اللہ کی نصیحتیں سادہ مگر گہری ہیں اور زندگی کے تمام پہلوؤں کے لیے ایک ’روڈ میپ‘ کے طور پر عملی کام کرتی ہیں۔ پہلی نصیحت جو انہوں نے دی: 1) اپنی زبانوں کو درود شریف میں مشغول رکھیں۔ درود شریف ایک ایسا عمل ہے جس میں لامحدود فوائد اور اجر وثواب ہیں جیسے کہ خود حضرت شیخ سمیت بہت سے بڑے علماء نے مختلف شکلوں، الفاظ اور فضائل پر لکھا ہے۔ حضرت شیخ رحمۃ اللہ علیہ کی دوسری نصیحت: 2) اپنے جسم کو سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم پر عمل کرنے میں مشغول رکھیں۔ مشاٸخ فرمایا کرتے تھے کہ انسان جس سنت پر عمل کرنے میں آسانی ہو اس پر عمل کرے، اللہ تعالیٰ اسے ان سنتوں پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے گا جن پر عمل کرنا مشکل ہے۔ حضرت شیخ رحمۃ اللہ علیہ کی تیسری نصیحت: 3) اپنے دل کو موت کی یاد میں مشغول رکھو رمضان میں حضرت کے شیخ کے خانقاہ پروگراموں میں خطبات اور اشعار موت کی حقیقت پر توجہ مرکوز کرتے تاکہ لوگ غور و فکر کر کے غفلت کی حالت سے باہر نکل سکیں۔ زندگی میں زبان، اعضاء اور دل کے یہ اعمال ہیں جو انسان کی جنت یا جہنم کا تعین کرتے ہیں۔ https://t.me/BehtarinMazamin
407
6
🕋 🌄 عید مبارک 🌄 🕋 بندگی مقبول ہو اور زندگانی پھول ہو خوشنودی حاصل رہے اور یادِ رب میں دل رہے دور ہر آزار ہو اور روح بھی سرشار ہو شادمانی ہو عطا اور محو ہو ہر اک خطا کل کو رب کی دید ہو اور نِت مبارک عید ہو
437
7
❤️❤️❤️ ‏اس ٹوٹے ہوئے دل کی پُر درد کہانی ہے جو سرورِ عالم ﷺ کو رو رو کےسنانی ہے بہتا میری آنکھوں سے ہر وقت جو پانی ہے یہ عشقِ محمّدﷺ کی خاص نشانی ہے اے بادِ صبا لے آ کچھ خاک مدینے کی یہ خاکِ شفا میں نے آنکھوں میں لگانی ہے
490
8
💐💐💐 نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا سحری اور افطاری کیلیے طرزِ زندگی اعتدال اور میانہ روی پر مبنی تھا آپ اس میں اللہ تعالی کے حکم پر عمل کرتے ہوئے اسراف یا کنجوسی سے کام نہیں کرتے تھے، اور نہ ہی آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا ہدف کھانا پینا ہوتا تھا، بلکہ آپ اتنا ہی تناول فرماتے تھے کہ جس سے آپ کی کمر سیدھی رہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی کھانے پینے میں کوئی ایسی عادت نہیں تھی جس کی آپ پابندی کرتے ہوں، آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو اگر پسند کا کھانا مل جاتا تو کھا لیتے وگرنہ خاموش رہتے، اور اگر پسند کا کھانا نہ ملتا تو کھانا نہ کھاتے بلکہ بسا اوقات روزہ رکھ لیتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے کبھی کھانے میں عیب نہیں نکالا آپ صلی اللہ علیہ و سلم گوشت، روٹی، زیتون کا تیل، شہد، دودھ اور گھر میں میسر دیگر چیزیں تناول فرماتے تھے۔ بسا اوقات ایسا بھی ہوتا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم اور اہل خانہ پورا مہینہ صرف کھجور اور پانی پر گزار فرماتے تھے۔ کبھی یہ صورت حال بھی ہوتی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم اپنے مہمان کو لیکر تمام بیویوں کے گھر جاتے لیکن سب کے پاس صرف کھجور اور پانی ہی میسر ہوتا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم اور آپ کے صحابہ کرام کا مقصد اور ہدف آخرت اور دین کی آبیاری تھی۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم اپنے گھر میں جو کچھ میسر ہوتا تھا، تناول فرما لیتے تھے، اسی طرح آپ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین یا پڑوسیوں کی جانب سے جو کچھ ملتا کھا لیتے تھے، آپ نے اپنے لیے کوئی مخصوص کھانا مقرر نہیں کیا ہوا تھا، البتہ آپ افطاری کے وقت تازہ کھجوریں یا خشک کھجوریں استعمال کرتے تھے اور اگر ان میں سے کوئی چیز میسر نہ ہوتی تو پانی سے روزہ افطار کر لیتے تھے اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی سحری بھی معمولی مقدار میں ہوتی تھی کہ آپ کی کمر سیدھی ہو سکے، اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ و سلم سحری کیلیے کوئی مخصوص کھانا بھی تناول نہیں فرماتے تھے، تاہم آپ نے کھجور کے بارے میں تعریف کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ: (مومن کی بہترین سحری کھجور ہے) https://t.me/BehtarinMazamin
345
9
❣❣❣ ❤️ کیا ہر عورت کو رومینٹک Husband اور ہر مرد کو رومینٹک بیگم کی ضرورت رہتی ہے۔ جی ہاں عورت ہو یا مرد سکون سے زندگی کی بھاگ دوڑ سمنبھالنے 💕 حاضر دماغ رہنے 💕 اپنی صلاحیتوں کو چمکانے 💕 ٹھرک پن سے بچنے 💞 گھر ، بچوں اور شوہر کو کوالٹی ٹائم دینے بیوی بچوں اور اپنی جاب بزنس کو بہترین انداز میں مینیج کرنے 💕 پر سکون نیند کیلئے فریش رہنے اور اپنے روز مرہ کاموں میں دلچسپی اور سوچ کی مضبوطی کیلئے ہر عورت کو رومینٹک Husband اور ہر مرد کو رومینٹک بیگم کی ضرورت رہتی ہے تاکہ من چاہی جنسی ضرورت پوری ہو سکے اور یہ ضرورت تاحیات رہتی ہے چاہے بڑھاپا ہی کیوں نہ ہو ۔ کوشش کیجئے اس رشتے کو تنگ نہ کیا جائے تاکہ پر سکون ذہن کے ساتھ زندگی کے مشکل سفر کو کچھ سکون سے کاٹ لیا جائے ناکہ غیر لوگوں سے اپنی اس خواہش کو پورا کرنے کے چکر میں نہ انسان اپنے قابل رہے اور نہ ہی دوسروں کو کوئی فائدہ پہنچا سکے کیونکہ یہیں ضرورت ہر مرد و عورت کی اشد ضرورت ہے کیونکہ ذہنی جسمانی سکون حلال رشتے سے ہی منسلک ہے چاہے ساری دنیا سے آنکھیں چار کر لی جائیں۔ https://t.me/BehtarinMazamin
421
10
❣️❣️❣️ 🌷 ماحول اور عورت  ...     وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوز دروں (علامہ اقبال) ماحول کی خرابی یا اچھائی میں عورت کا کردار بہت اہم ہے۔ اسلام نے عورت کو چار حیثیتوں و رشتوں میں پسند کیا ہے۔ ماں، بہن، بیوی اور بیٹی۔ یہی عورت کی فطری حیثیت ہے۔ ایک ماں کی حیثیت سے وہ انسان ساز ہے۔ اس اہم کام کا تقاضا ہے کہ وہ ہر وقت اپنی ڈیوٹی پر مستعد رہے۔ لہذا وہ چوبیس گھنٹے اس اہم فریضہ کی ادائیگی کے لئے کار بند رہتی ہے۔ اس اہم ڈیوٹی کی انجام دہی اسے اپنی تمام ضروریات سے لاپرواہ کر دیتی ہے۔ انسان سازی حقیقت میں مشکل ترین اور اہم ترین عمل ہے جو ماں کے ذمہ ہے۔ اس حساس اور اہم ترین فرض کی ادائیگی کے لئے اسے زیادہ تر گھر کی چار دیواری کے اندر محصور رہنا پڑتا ہے۔ انسان سازی کا کام ماں کے سوا کوئی نہیں کر سکتا۔ وہ تو بچے کے لئے محبت کا سمندر اور عزت و شرف کا پہاڑ ہے۔ بچے کی پرورش میں اس کی قربانی لاثانی ہے۔ عورت کی دوسری حیثیت ایک بہن کی ہے۔ جو بھائی کیلئے سراسر پیار اور دعا کا سرچشمہ ہے۔ والدین کی غیر موجودگی میں بھائی اپنی بہن کی کفالت، پرورش اور تحفظ ناموس کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ عورت کی تیسری حیثیت ایک بیوی کی ہے۔ بیوی ایسی نعمت ہے جس کے پہلو میں ازروئے قرآن سکون ملتا ہے۔ قرآن نے سکون دو چیزوں میں بتایا ہے۔ الله کی یاد میں اور نیک بیوی کے پہلو میں۔ انسان جب نکاح کرتا ہے تو میاں بیوی ایک دوسرے کا لباس بن جاتے ہیں۔ گویا معنوی طور پر نکاح سے پہلے وہ برہنہ ہوتے ہیں۔ نکاح کے بعد وہ ملبوس ہو جاتے ہیں۔ نکاح سے پہلے دونوں ایک چٹیل میدان میں بے لباس ہوتے ہیں۔ مگر نکاح کے بعد دونوں ایک مضبوط قلعے کے اندر محفوظ ہو جاتے ہیں۔ بیوی دراصل شوہر کیلئے آرام محبت اور قربانی کا پیکر ہے۔ عبدالله بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”دنیا متاع (سامان) ہے، اور دنیا کے سامانوں میں سے کوئی بھی چیز نیک اور صالح عورت (بیوی) سے بہتر نہیں ہے۔‌‌‌‏“ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1855] عورت کی چوتھی حیثیت ایک بیٹی کی ہے۔ جووالدین کیلئے ایک رحمت ہے۔ وہ والدین جو بیٹیوں کی نیک پرورش کرتے ہیں تعلیم دلاتے ہیں اور اس کی شادی کسی نیک انسان سے کراتے ہیں۔ وہ قیامت کے دن جنت میں نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کے انتہائی قریب ہوں گے۔ حضرت سراقہ بن مالکؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ الله کے رسول ﷺ نے ان سے دریافت کیا: ’’اے سراقہ! کیا میں تمہیں سب سے زیادہ فضیلت والے صدقہ کے بارے میں نہ بتاؤں؟‘‘ انہوں نے جواب دیا: ’’ اے الله کے رسول ﷺ ،! ضرور بتائیے۔ ‘‘ آپؐ نے فرمایا: “تمہاری بیٹی تمہارے پاس لوٹ کر آجائے اور اسے کما کر کھلانے والا تمہارے علاوہ اور کوئی نہ ہو”(مسنداحمد: 17586) اسلام عورت کو انہی چار حیثیتوں میں دیکھنا چاہتا ہے۔ ان کے علاوہ اس کی کوئی حیثیت نہ باعزت و باوقار ہے، نہ ہی اسلام میں قابلِ قبول۔ امن و سکون، اطمینان و خوشگوار ماحول صرف ان معاشروں میں پایا جا سکتا ہے جہاں عورت کو ان ہی چار فطری حیثیتوں میں رکھا جائے۔ لیکن بد قسمتی سے عورت اپنی اصل فطرت سے دور ہٹتی جا رہی ہے۔ نتیجتاً وہ اپنی حیثیت و پہچان کسی اور غیر فطری شکل میں ڈھونڈتی نظر آتی ہے۔ یہ عمل عزت کا مقام دلانے کی بجائے عورت کی شخصیت کا جنازہ نکالنے کی راہ ہموار کر رہا ہے۔ مغربی معاشرے میں خاندانی نظام مکمل طور پر درہم برہم ہو چکا ہے۔ وہاں عورت کو ماں، بہن، بیوی اور بیٹی کی حیثیت سے نہیں پہچانا جاتا۔ وہاں تو اب عورت، عورت کی بجائے مرد کا روپ دھار چکی ہے۔ بسا اوقات اس کو وہ کام بھی کرنا پڑتے ہیں جو مرد بھی نہیں کرتے۔ گھر غیر آباد ہوتے جارہے ہیں۔ گھروں کو تالے لگے ہیں۔ خاندانی نظام نابود ہو چکا ہے۔ نتیجتاً میاں بیوی کا ایک دوسرے سے اعتماد اٹھ چکا ہے۔ اپنے خاندانی نظام کو تباہ کرنے کے بعد اب وہ مشرق کے خاندانی نظام کو بھی تباہ و برباد کرنا چاہتے۔ تاکہ عورت اپنی اصلی اور فطری حیثیت کھو کر ایک غیر فطری شکل اختیار کرلے۔ اس نیک کام میں مشرق کے چند زعماء اور معاشرے کے چند سرکردہ افراد گرمجوشی سے ان کا ہاتھ بٹا رہے ہیں۔ دانائی اسی میں ہے کہ عورت کو اس تباہی سے بچایا جائے اور اسی فطری حیثیت میں رہنے دیا جائے جو الله و اسلام نے عورت کو عطا کی ہے۔ لڑکياں پڑھ رہی ہیں انگریزی ڈھونڈ لی قوم نے فلاح کی راہ روش مغربی ہے مد نظر وضع مشرق کو جانتے ہیں گناہ یہ ڈراما دکھائے گا کیا سین پردہ اٹھنے کی منتظر ہے نگاہ (علامہ اقبال) https://t.me/BehtarinMazamin
373
11
💊🧬💊 ١۔کیا مانع حمل ادویات بے ضرر ہوتی ہیں؟ ٢۔کیا مردوں کا امساکی ادویات استعمال کرنا بے ضرر ہے؟ بعض لوگ ایسی مانع حمل ادویات کی تلاش میں ہوتے ہیں جو بے ضرر ہوں اور مانع حمل بھی ہوں۔جب کہ حقیقتاً ایسی کوئی دوا موجود نہیں ہے۔جو لوگ کہتے ہیں کہ فلاں دوا مانع حمل بھی ہے اور بے ضرر بھی وہ سفید جھوٹ بولتے ہیں کیوں کہ مانع حمل ادویات فطری عمل میں رکاوٹ ڈالنے کا نام ہے،یاد رکھنا چاہئے فطری عمل سے ہٹنے کا نام ہی بیماری ہے۔مانع حمل ادویات بعض اوقات ایسے ایسے امراض کا سبب بنتی ہیں،جن کو دور کرنے کے لئے ساری ساری زندگی دوائیں کھانا پڑتی ہیں۔عورتوں پر ہی منحصر نہیں مرد حضرات بھی بہت سی بے اعتدالیوں میں مبتلا ہیں من جملہ ان میں سے امساکی ادویات کا استعمال بھی ہے اوقاتِ جماع(ٹاٸمنگ)طویل سے طویل ہونے کی خواہش نے انسان کو دیوانہ بنا رکھا ہے(ہاں سرعت مرض ہے اس کا علاج ضروری ہے)۔ان امساکی ادویات سے اس دوران اگر کسی پٹھے میں کھچاوٹ یا درد شروع ہوجاۓ تو ساری زندگی پیچھا نہیں چھوڑتی۔یہ وبا کی شکل اختیار کر چکی ہے کہ مرد امساکی دوا،تو عورتیں مانع حمل ادویات کا بے تحاشہ استعمال کر کے اپنے اوپر ظلم ڈھا رہے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ کھانے پینے کی دوکان سے میڈیکل سٹوروں پر زیادہ رش ہوتا ہے۔معالجین کا فرض بنتا ہے کہ وہ برتھ کنٹرول اور امساکی ادویات تجویز کرنے کے بجائے جوانوں کو مناسب غذا اور غذاٸے دواٸی ادویہ تجویز کیا کریں تاکہ نسل محفوظ اور صحت مند رہ سکے اس وقت تک برتھ کنٹرول کی کوئی بھی صورت سامنے نہیں آئی جس سے بغیر رحم کی خرابی کے پیدائشِ اولاد کو روکا جا سکے۔جاننا چاہئے کہ پیدائش اولاد کا مسئلہ انتہائی قوت پر ہے جس سے انسانی خون کا جوہر(منی) مرد کی طرف سے نطفہ کی صورت میں عورت کے جسم میں منتقل ہوتا ہے اس حالت میں عورت کے جسم و خون میں اور نفس میں ایک زبردست جوش اور دل و دماغ اور جگر میں ایک غیر معمولی ارتعاش ہوتا ہے۔ایسے انتہائی موقع پر کہا جاتا ہے کہ دونوں سرور سے مستفید ہو سکتے ہیں مگر اولاد پیدا نہیں کر سکتے۔اس مقصد کے لئے ان کو ذیل کی صورتوں پر عمل کرنا پڑے گا: ١۔👈 اپنا مادہ منویہ باہر پھینک دے۔ ٢۔👈 غیر فطری رکاوٹوں کا سہارا لے۔ ٣۔👈 عورت ایسی ادویات کا استعمال کرے کہ وقتی طور کرم منی فنا ہوجائے۔ ٤۔👈 مردو و عورت دونوں ایسی ادویات کھائیں جن سے قیام نطفہ کی صلاحیت ختم ہوجاۓ۔ ٥۔👈 ان راستوں اور نالیوں کو بند کرادیں جن سے نطفہ گزر کر رحم میں داخل ہوتا ہے اور باعث حمل بنتا ہے۔ اول دونوں صورتوں میں مرد کا انزال پورے طور پر نہیں ہوسکتا جس سے اعضاء رئیسہ دل ، دماغ جگر میں یقینا خلل واقع ہوجاتا ہے جس کا نتیجہ پاگل پن،موت اور فالج کی صورت میں ہوسکتا ہے،ایسے تماش بینوں میں جو انزال روکنے اور امساک کو دیر تک قائم رکھنے کی کوشش کرتے ہیں ان امراض کا شکار دیکھا گیا ہے۔جہاں تک عورت کی تینوں صورتوں کا تعلق ہے اس میں لازم ہے کہ جب تک رحم کے اعضاء میں تغیر پیدا نہ ہوجاۓ پیدائش میں رکاوٹ نہیں ہوسکتی۔رحم میں تین صورتوں میں سے ایک کا پیدا ہونا ضروری ہے: ١۔سوزش ٢۔سیلان ٣۔ضعف جن کا بلاواسطہ اثر اعضائے رئیسہ پر یقینا پڑتا ہے۔یہی سوزش شدت اختیار کر کے دق وسل(ٹی،بی)کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔سیلان(لیکوریا)کی صورت میں عورت روز بروز برف کی طرح گھلنا شروع ہوجاتی ہے اور سوکھ کر کانٹا بن جاتی ہے،ضعف کی صورت میں اس کی طاقتیں جواب دینا شروع ہوجاتی ہیں۔عام طور پر خراش ہوجاتی ہے چلنے پھرنے اور کام دھندے کی قوت سلب ہونا شروع ہوجاتی ہے،اکثر تشنجی دورے پڑتے ہیں۔ایسی عورتوں کو. https://t.me/BehtarinMazamin
296
12
❣❣❣ عورت_کا_فطری_حق جب زندگی ﷲ تعالیٰ کی امانت ہے تو کرنا بھی وہی چاہیے جو ﷲ کی مرضی ہو۔ انسان کا اختیار نہ سانس پر ہے نہ تقدیر پر لیکن اگر ﷲ پاک کی مرضی میں اپنی مرضی شامل کرلی جائے تو راحت مل جاتی ہے۔ دعا یہ ہونی چاہیے کہ ﷲ رب العزت اپنی رضا کو ہماری رضا بنا دے اور ہم سے وہ کام نہ کروائے جسے وہ نا پسند کرتا ہے۔ زندگی سے موت تک عمل کی کئی راہوں سے سابقہ پیش آتا ہے جس راستے پر بھی جاؤ، اس کی کچھ راحتیں ہوتی ہیں یا کچھ تکلیفیں ہوتی ہیں یا اس راہ پر چلنے کی کچھ قیمتیں ادا کرنی پڑتی ہیں۔ تعلقات کو نبھانے کے لیے عہد و پیماں کی ضرورت نہیں ہوتی، ایک دوسرے کے تئین مخلص ہونا کافی ہوتا ہے۔ وہ تعلق چاہے دوستی کا ہو، محبت کا ہو یا احساس کا۔ اکثر جہاں عہد و پیماں زیادہ ہوتے ہیں وہیں رشتے جلدی زوال پذیر ہوتے ہیں۔ جن کو نبھانا ہوتا ہے وہ نہ تو بڑی بڑی قسمیں کھاتے ہیں اور نہ ہی ہر بات کو جتاتے ہیں بلکہ خاموشی سے رشتے نبھاتے ہیں اور محسوس بھی نہیں ہونے دیتے کہ وہ خود کن حالات سے گزر رہے ہیں۔ آپ جب ان کو پکارو گے وہ آپ کے ساتھ آپ کا سایہ بن کر موجود رہیں گے۔ عورت کا فطری حق یہ ہے کہ اسے اپنے شوہر کے گھر میں تحفظ حاصل ہو۔ عزت، جان، مال اور ایمان ہر چیز کا تحفظ۔ وہ اس کے گھر میں رہ کر مطمئن ہو کہ اب یہ میرا گھر ہے۔ میرا سب کچھ یہیں ہے اس لیے کہ میرے شوہر نے مجھے قبول کیا ہے۔ عورت بھی انسان ہے۔ یقیناً اس کے اندر کمزوریاں بھی ہوں گی۔ اگر ان کمزوریوں کی وجہ سے مرد اسے خشک پھول کی طرح توڑ کر پھینک دے گا تو عورت کا احساس تحفظ ختم ہو جائے گا۔ پھر وہ اس گھر کو کبھی بھی اپنا گھر نہیں سمجھے گی۔ اپنے دل کے راز نہیں بتائے گی۔ اپنے دل کی بات کا اظہار نہیں کرے گی۔ یہ اس کا حق ہے کہ اسے تحفظ ملے اسے اس بات کا احساس دلایا جائے کہ یہاں اس کی اچھائیوں کی حوصلہ افزائی ہوگی اور اس کی کمزوریوں کو درگزر کیا جائے گا۔ وہ صحت مند ہو یا بیمار دونوں صورتوں میں اسے قبول کیا جائے گا۔ یہ نہیں کہ وہ بیمار ہو تو کہا جائے کہ ماں کے گھر چلی جاؤ۔ بچے کی ولادت کا وقت قریب آئے تو اسے ماں کے گھر بھیج دیا جائے۔ اخراجات آن پڑیں تو ماں کے گھر جانے کا حکم سنا دیا جائے۔ اگر ایسے حالات پیدا کر دیے جاتے ہیں اور ایسا برتاؤ کیا جاتا ہے تو عورت عدم تحفظ کا شکار ہو جاتی ہے۔ وہ سوچتی ہے کہ جب تک میں ٹھیک ہوں اور مجھ سے شوہر کی جبلی خواہشات پوری ہونے تک تو میں یہاں پر رہوں اور اگر میرے اندر کچھ کمزوری یا بیماری آ جائے تو یا میری زندگی کی ضروریات بڑھ جائیں تو مجھے نظروں سے گرادیا جائے گا۔ ایسی عورت کبھی بھی مطمئن زندگی نہیں گزار سکتی اور احساس عدم تحفظ کا شکار رہتی ہے۔ پھر ایسی عورت سے اچھے اور بہترین سلوک اور کام کی توقع نہیں رکھنی چاہیے۔ لہٰذا عورت کا حق یہ ہے کہ اسے شوہر کے گھر میں تحفظ ملے۔ اس بات کی فکر شوہر کو ہونی چاہیے، ساس بھی کرے اور سسر بھی کرے کہ جس بچی کو ہم لائے ہیں اسے ہم کو تحفظ بھی دینا ہے اس لیے کہ کل ہماری بیٹی بھی تو کہیں جائے گی اور اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ کسی کی بیٹی کے ساتھ زیادتی کر کے تم اس خدا سے کیسے بچ پاؤ گے جس نے انصاف کو اپنے اوپر لازم کر لیا ہے۔ عورت کیسی ہونی چاہیے؟ ہر مرد بتا سکتا ہے لیکن کیا مرد کو یہ جاننے کی ضرورت نہیں کہ خود اسے کیسا ہونا چاہیے؟ ایک اچھا مرد اور شوہر وہ ہے جو عورت کی بڑی سی بڑی خطا بھی معاف کر دیتا ہے۔ جو حکمران بن کر نہیں محافظ اور ساتھی بن کر رہتا ہے۔ جو روٹی کپڑا اور پناہ دے کر احسان نہیں جتلاتا بلکہ شکر گزار نظر آتا ہے۔ جو وحشت کے گھوڑے پر سوار ہو کر عورت کی انا کی دھجیاں نہیں اڑاتا، جو بن مانگے عورت کو محبت کے ساتھ عزت بھی دیتا ہے۔ جو اپنی انا کی تسکین کے لیے عورت کی عزت نفس کو کچلتا نہیں ہے اور جو اپنے گھرانے کی خدمت کو عورت کا فرض نہ سمجھتا ہو۔ جو عورت کے ہر غم، دکھ درد میں شریک ہوتا ہو۔ ہاں وہ ایک اچھا مرد ہوتا ہے وہ ایک اچھا شوہر ہوتا ہے۔ عورت کا بھی یہ فرض ہے کہ وہ اپنے شوہر کی وفا دار، رہے اس کو عزت دینے والی، اس کا حکم ماننے والی بنے۔ جب وہ کسی قصور کے بغیر ہی زیادتی کر بیٹھے تو صبر کر لیا کرے لیکن اس کے خلاف کچھ سوچا نہ جائے، جب اس کے خلاف بولنا چاہو تو تمہاری زبان اور جب لکھنا چاہو تو تمہارے ہاتھ بغاوت کر جائیں۔ جب کوئی اس کے خلاف کچھ بول جائے تو تم اس کی عزت کی خاطر اس سے لڑجاو اس لیے کہ محبت کے کچھ تقاضے ہوتے ہیں۔ محبت قربانیاں مانگتی ہے، کبھی روح کی، کبھی جان کی اور کبھی خواہشات کی…!! رابطے ختم ہو جائیں، رشتے ٹوٹ جائیں تو بھی محبتوں کو کوئی خاص فرق نہیں پڑتا جس طرح یادیں حافظے پر قابض رہتی ہیں اسی طرح محبت بھی دل سے دستبردار نہیں ہوتی۔ اور اگر دلوں میں فرق آجائے تو تعلقات نبھائے نہیں جاتے بلکہ گھسیٹے جاتے ہیں۔۔۔۔۔ https://t.me/BehtarinMazamin
422
13
لیکن آج جب یہ معاملہ دوبارہ تازہ ہوا ہے تو اس پر زیادہ سے زیادہ بحث کی ضرورت ہے۔ سوچنے والی بات یہ ہے کہ ایک زمانے میں ہمارے ملک میں برہمن واد کے تحت اعلیٰ ذات کے ہندوؤں نے دلتوں پر خوب ظلم کیا، خاص طور پر عورتوں پر اتنا ظلم کیا کہ وہ بغیر کپڑوں کے ہی رہنے لگیں اور انہوں نے یہ سمجھ لیا کہ انہیں صرف اسی مقصد کے لیے پیدا کیا گیا ہے کہ وہ مردوں کے بنائے ہوئے قانون پر عمل کریں۔ آن لائن پر موجود رپورٹس کے مطابق، ہماچل پردیش کی منیکرن گھاٹی کے پینی گاؤں کی عورتوں کو آج بھی سال میں پانچ دن کپڑے پہننے کی اجازت نہیں ہے۔ اور یہ سب کچھ گاؤں کی رسم کے نام پر ہوتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ صدیوں پہلے اس گاؤں میں ایک ’راکشش‘ آیا کرتا تھا جو یہاں کی خوبصورت کپڑے پہننے والی خواتین کو اٹھا کر لے جاتا تھا۔ تب اس راکشش کو ان کے لہوا دیو نے مارا۔ مانا جاتا ہے کہ یہ دیوتا آج بھی اس گاؤں میں آتے ہیں اور برائیوں کا خاتمہ کرتے ہیں۔ خواتین اس رسم کی ادائیگی ساون کے مہینے میں کرتی ہیں۔ وہ اس مہینے کے پانچ دن برہنہ رہتی ہیں۔ اس دوران انہیں ہنسنے کی بھی اجازت نہیں ہوتی ہے۔ اگرچہ کچھ رپورٹیں بتاتی ہیں کہ وقت کے ساتھ ساتھ اس روایت میں کچھ تبدیلی آئی ہے۔ پہلے عورتیں بالکل برہنہ رہتی تھیں لیکن اب اون سے بنا ہوا پتلا پہاڑی کپڑا پہنتی ہیں۔ یہ ہمارے لیے انتہائی شرم کی بات ہے کہ آج بھی ہمارے ملک کے کچھ حصوں میں دلتوں کو شادی کے موقعوں پر گھوڑے پر سوار ہونے کی اجازت نہیں ہے۔ حالانکہ انہوں نے اب اس کی مخالفت شروع کر دی ہے۔ آج بھی اگر آپ ہندوستان میں دلت آبادی والے کسی گاؤں میں جائیں تو دیکھیں گے کہ خواتین کے پاس اپنا سینہ چھپانے کے لیے کپڑے نہیں ہیں۔ شاید حکومتیں بھی یہی چاہتی ہیں کہ وہ اسی حالت میں رہیں۔ ایسے میں جب کوئی عورت اپنے آپ کو مکمل طور پر ڈھانپ کر چلتی ہے تو یہ ان کی آنکھوں میں کھٹکتی ہے۔ ~افروز عالم ساحل https://t.me/BehtarinMazamin
408
14
خاوندوں کو قائل کرنے میں کامیاب ہو گئیں اور چند ماہ کے اندر امن وامان قائم ہوگیا۔‘ خواتین کا اپنے جسموں کے بالائی حصہ کو برہنہ رکھنے کا سلسلہ ٹیپو سلطان کے بعد بھی جاری رہا۔ سیموئیل سٹرینڈ برگ اپنی کتاب ’ٹیپو سلطان (دی ٹائگر آف میسور)‘ میں لکھتے ہیں کہ ’اس سلسلے میں ٹیپو سلطان نے ضلعی اہلکاروں کو خطوط بھی لکھے کہ ’میں نے مالابار میں کچھ خواتین کو ایسی حالت میں دیکھا کہ ان کے سینے کپڑوں سے بے نیاز تھے۔ انہوں نے اپنے سینے کپڑوں میں چھپا نہیں رکھے تھے۔ مجھے ان کے اس طرز عمل کی بدولت ازحد دکھ پہنچا ہے۔ میں حیران ہوں کہ آخر ایسا کیوں ہے؟ کیا واقعی یہ ایک رواج ہے یا قبیلے کی غربت کا سوال ہے؟ اگر اس قبیلے کی خواتین غربت کی وجہ سے اس طرز عمل کو اختیار کرنے پر مجبور ہیں تو میں ان کی غربت دور کرنے کے لیے ہر ممکن اقدام کرنے کے لیے تیار ہوں تاکہ اس قبیلے کی خواتین وہ لباس زیب تن کر سکیں جو ان کی مناسب ستر پوشی کرتا ہو اور اگر یہ اس قبیلے کا رواج ہے تب میں یہ چاہوں گا کہ آپ لوگ اپنے اثر ورسوخ کا استعمال کرتے ہوئے اس قبیلے کو اس رواج سے روکنے کی کوشش کریں اور قبیلے کے مذہبی رہنماؤں کے ساتھ بات چیت کر کے انہیں اس سے باز آنے پر آمادہ کریں۔ میں یہ بھی چاہتا ہوں کہ آپ لوگ دوستانہ ماحول میں ان کے مذہبی رہنماؤں سے بات چیت کریں اور ان کے مذہب کو برا بھلا کہنے سے گریز کریں۔۔۔‘‘ سیموئیل سٹرینڈ برگ آگے لکھتے ہیں، ’غالباً ٹیپو سلطان یہ نہیں جانتا تھا کہ اس قبیلے میں خواتین کا اپنا سینہ ڈھانپنا ایک ناشائستہ اور نامعقول فعل تصور کیا جاتا تھا، جبکہ دیگر لوگ خواتین کے سینہ نہ ڈھانپنے کے عمل کو ایک ناشائستہ اور نامعقول عمل تصور کرتے ہیں۔ ٹیپو سلطان اس رواج کو ختم کرنے میں بھی ناکام رہا۔۔۔‘ یعنی کمر سے اوپر برہنہ رہنے کا رواج ٹیپو سلطان پوری طرح ختم نہیں کر سکے۔ حقیقت یہ ہے کہ ٹیپو سلطان نے ہندو خواتین کو اس ملک میں عزت ووقار کے ساتھ جینا سکھایا۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی ٹیپو سلطان کی فوج جنگ کے لیے نکلتی تو ہندو خواتین جنگ پر جانے والے ہاتھیوں کی پوجا کرتی تھیں۔ کہا جاتا ہے کہ ٹیپو سلطان نے جس جگہ اپنی جان جانِ آفریں کے سپرد کی تھی اسی جگہ سلطان کے سیکڑوں فدائین کی لاشیں پڑی ہوئی تھیں جن میں عورتیں بھی تھیں اور جوان لڑکیاں بھی۔ جب سلطان کا جنازہ اٹھایا جانے لگا تو راہ میں ہندو عورتیں ماتم کرتے ہوئے اپنے سروں پر مٹی ڈال رہی تھیں۔ لیکن ہندوتوا کے ٹھیکیداروں نے ٹیپو سلطان کو کبھی پسند نہیں کیا اور ہمیشہ ان کی مخالفت کی۔ اور کرناٹک میں یہ ’ٹھیکیدار‘ اب بھی چاہتے ہیں کہ ترقی کے نام پر خواتین اپنا سینہ کھول کر چلیں۔ ایسی توقع رکھنا بھی فضول نہیں کہ اس ملک میں دوبارہ’بریسٹ ٹیکس‘لگا دیا جائے۔ بریسٹ ٹیکس کی تاریخ یہ ہے کہ مالابار کے علاقے میں یہ ایک قسم کا ٹیکس تھا، جسے مقامی ملیالم زبان میں مُلکرم یا مولہ کرم کہا جاتا تھا، اور جو نچلی ذات کی ہندو عورتوں پر ریاست تراونکور (کیرالا) کی جانب سے عائد تھا۔ اس کے تحت ان عورتوں کو برہمنوں کے سامنے اور مندروں میں بھی اپنے سینوں کو ڈھانپنے کی اجازت نہیں تھی۔ اگر کسی نے اپنا سینہ ڈھانکا تو اس کو اس کو بریسٹ ٹیکس ادا کرنا پڑتا تھا۔ ٹیکس کی رقم عورتوں کے سینوں کی جسامت پر منحصر ہوتی تھی۔ اس ٹیکس کا رواج 1924ء تک جاری رہا تھا۔ 2016ء کی بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق کیرالا کے چیرتھلا کی ایک خاتون ’ننگیلی‘ اور اس کے شوہر نے اس ’بریسٹ ٹیکس‘ کی مخالفت کی تھی۔ اس عورت پر جب ٹیکس کی رقم ادا کرنے کے لیے دباؤ ڈالا گیا تو اس نے اپنی چھاتیوں کو ہی کاٹ کر افسروں کے سامنے رکھ دیا۔ بہت زیادہ خون کے اخراج کی وجہ سے وہ اسی وقت فوت ہو گئی جس کے بعد اس کے شوہر نے اسے نذر آتش کرنے کے بعد اسی آگ میں چھلانگ لگا کر اپنی جان دی۔ اس طرح سے ننگیلی اور اس کے شوہر نے اپنے معاشرے کو بیدار کرنے کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔۔۔۔ ہمارے مورخین نے ننگیلی کی اس جرات مندانہ جدوجہد کو ہمیشہ نظر انداز کیا ہے۔ واضح رہے کہ ہندوستان کے سنٹرل بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن نے ننگیلی کے اس واقعہ کو نویں جماعت کی سوشل سائنس کے نصاب میں ’ذات، تنازعہ اور لباس کی تبدیلی‘ کے عنوان کے تحت شامل کیا تھا، لیکن بعد میں مدراس ہائی کورٹ کے ایک حکم کی وجہ سے اسے ہٹا دیا گیا۔ عدالت نے کہا کہ ’’موضوع پر مبنی افسانوی کام سے پیدا ہونے والی تاریخی صداقت کی غلط تشریح کی گئی ہے‘‘ اس کے علاوہ یہ کچھ ریاستوں اور مخصوص کمیونٹیز کے افراد کے خلاف ’’قابل اعتراض مواد‘‘ اور ’’نفرت انگیز تقریر‘‘ کے تحت آتا ہے۔
338
15
🌐🌐🌐 حجاب کے بہانے آج کل مسلم خواتین کے طرز زندگی پر بحث ہو رہی ہے۔ لیکن کہا جاتا ہے کہ حال اور مستقبل کو بہتر طور پر سمجھنا ہے تو پہلے ماضی کو سمجھنا ضروری ہوتا ہے۔ تو آئیے پہلے ماضی میں جا کر کرناٹک میں خواتین کے حالات کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ تاریخ کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ مالابار کے ساتھ ساتھ کرناٹک کے علاقے میں بھی عورتوں کو کمر سے اوپر کپڑا پہننے کی اجازت نہیں تھی۔ اس دور میں خواتین ہمیشہ اپنا سینہ کھلا رکھتی تھیں۔ لیکن جب ریاست میسور میں ٹیپو سلطان نے اقتدار سنبھالا تو انہوں نے خواتین پر ہونے والے اس ظلم کی مخالفت کی اور خواتین کے سینے کھلے رکھ کر چلنے کے رواج پر پابندی عائد کی۔ میر حسین علی خان کرمانی اپنی کتاب ’ہسٹری آف ٹیپو سلطان‘ میں لکھتے ہیں، ’مالابار کے بعض علاقوں کے ساتھ ساتھ بالا گھائی کے تمام علاقوں میں زیادہ تر ہندو خواتین جانوروں کی طرح اپنی چھاتیوں اور سروں کو ننگا کرکے گھومتی تھیں۔ یعنی عورتیں کمر سے اوپر کے بالائی حصے کو ڈھکتی نہیں تھیں۔ لیکن ٹیپو سلطان نے حکم دیا کہ یہ غیر مہذب رواج ہے۔ ان عورتوں میں سے کوئی بھی اب اپنے گھر سے بغیر چادر اور پردے کے یعنی برہنہ باہر نہ نکلے۔‘ یہ کتاب 1864ء میں شائع ہوئی تھی۔ دراصل کرمانی صاحب نے یہ کتاب فارسی زبان میں ’نشان حیدری‘ نام سے لکھی تھی۔ اس کتاب کا انگریزی میں W Miles نے ترجمہ کیا ہے۔ اس میں وہ لکھتے ہیں کہ ٹیپو سلطان نے عورتوں کو سر اور سینہ ڈھانپنا سکھایا اور خواتین کو کپڑے تحفے میں دیے۔ 1951 میں شائع ہونے والی محب الحسن خان کی کتاب ’ہسٹری آف ٹیپو سلطان‘ پڑھنے کے بعد پتہ چلا کہ ٹیپو سلطان کا کردار ایک سماجی مصلح کا بھی تھا۔ سلطان نے اپنے دور حکومت میں شراب اور تمام نشہ آور اشیاء کے استعمال پر پابندی لگا دی تھی، البتہ میسور کی فوج میں فرانسیسی سپاہیوں کے لیے کیمپ میں صرف ایک شراب کی دکان کھولنے کی اجازت دی تھی۔ ٹیپو سلطان نے عصمت فروشی اور گھریلو کاموں کے لیے لونڈیوں کو ملازمت پر رکھنے سے روکا۔ گورگ کے علاقے میں ایک سے زیادہ شوہر رکھنے کے رواج کو بھی روکنے کی کوشش کی۔ واضح رہے کہ اس زمانے میں یہ کلچر بہت عام تھا کہ گھر کا ایک آدمی شادی کرتا لیکن اس کی بیوی سبھی کی بیوی ہوتی تھی، ٹیپو سلطان نے اس کو روکنے کی بھرپور کوشش کی۔ اس سے متعلق ایک حکم نامہ بھی جاری کیا۔ ٹیپو سلطان نے انسانی قربانی کی اس رسم کو ختم کر دیا جو میسور کے قریب کالی دیوی کے مندر میں رائج تھی۔ شہر میسور کے قریب چامنڈی پہاڑی پر کالی دیوی کے مندر میں ایک عرصہ سے دیوی کو خوش کرنے کے لیے انسانوں کی قربانی کی جاتی تھی۔ خاص طور پر خواتین نذرانے کے طور پر پیش کی جاتی تھیں۔ ٹیپو سلطان نے اپنے دور میں اس پر سختی سے پابندی لگا دی تھی۔ اس کا ذکر محمود خاں محمود بنگلوری نے 1939 میں شائع ہونے والی اپنی کتاب ’تاریخ سلطنت خداداد (میسور) میں میسور گورنمنٹ کی جانب سے شائع کتاب ’رہنمائے میسور‘ کے حوالے سے کیا ہے۔ اس وقت کے بڑے شہروں میں ہندو عورتوں کی فروخت کے لیے منڈیاں لگائی جاتی تھیں، غلاموں کی خرید وفروخت کی جاتی تھی۔ شاہی فرمان جاری کر کے ٹیپو سلطان نے اسے بھی روک دیا۔ فارسی میں جاری کردہ اس حکم نامے کو ایم عبداللہ کی 1940 میں شائع ہونے والی کتاب ’ٹیپو سلطان‘ میں دیکھا جا سکتا ہے۔ عام طور پر اس زمانے میں جو بھی جنگ میں فتح حاصل کرتا وہ شکست خوردہ قوم کی عورتوں کو لونڈیاں بنا لیتا تھا۔ ٹیپو سلطان نے اس رواج کو بھی پوری طرح سے ختم کر دیا۔ اپنی فوج کو حکم دیا کہ وہ کبھی ان عورتوں کے ساتھ ظلم وزیادتی نہ کریں، بلکہ ان کے ساتھ پوری شفقت سے پیش آئیں۔ سیموئیل سٹرینڈ برگ اپنی کتاب ’ٹیپو سلطان (دی ٹائگر آف میسور)‘ میں لکھتے ہیں کہ 1780 میں مرہٹوں کے ساتھ ایک جنگ کے دوران ٹیپو سلطان کی سپاہ نے ایک معرکہ آرائی میں مرہٹوں کے سامان حرب کے ساتھ ان کی 80 خواتین کو بھی گرفتار کر لیا تھا۔ ان خواتین کا تعلق مرہٹہ جرنیلوں کے حرموں سے تھا۔۔۔ ان خواتین سے یہ وعدہ لیا گیا کہ وہ اپنے خاوندوں کو اس امر پر آمادہ کریں گی کہ وہ ٹیپو سلطان کے ساتھ معرکہ آرائی کی بجائے امن قائم کرنے کو ترجیح دیں۔ یہ وعدہ لینے کے بعد ان خواتین کو آزاد کر دیا گیا۔ جس کے بعد مرہٹوں نے یہ مشہور کر دیا کہ مسلمانوں نے ان کی خواتین کی بے حرمتی کی تھی لہٰذا ان خواتین کو علیٰحدہ جگہ پر رکھا گیا اور ان کے خاوندوں نے ان کے ساتھ اپنے روابط منقطع کر لیے۔ ان خواتین نے اپنے ساتھ روا رکھے جانے والے اس سلوک کو گوارا نہ کیا اور اپنے مردوں کی پست ذہنیت کے خلاف سخت احتجاج کیا۔ ان خواتین نے ٹیپو سلطان کے بہترین اور شریفانہ رویے کی از حد تعریف وتوصیف کی اور اپنے خاوندوں پر زور دیا کہ وہ لوگوں کی پھیلائی ہوئی بیہودہ باتوں کو اہمیت نہ دیں اور ٹیپو سلطان کے ساتھ امن کے لیے گفت وشنید کا آغاز کریں۔ بالآخر وہ اپنے
319
16
لیکن آج جب یہ معاملہ دوبارہ تازہ ہوا ہے تو اس پر زیادہ سے زیادہ بحث کی ضرورت ہے۔ سوچنے والی بات یہ ہے کہ ایک زمانے میں ہمارے ملک میں برہمن واد کے تحت اعلیٰ ذات کے ہندوؤں نے دلتوں پر خوب ظلم کیا، خاص طور پر عورتوں پر اتنا ظلم کیا کہ وہ بغیر کپڑوں کے ہی رہنے لگیں اور انہوں نے یہ سمجھ لیا کہ انہیں صرف اسی مقصد کے لیے پیدا کیا گیا ہے کہ وہ مردوں کے بنائے ہوئے قانون پر عمل کریں۔ آن لائن پر موجود رپورٹس کے مطابق، ہماچل پردیش کی منیکرن گھاٹی کے پینی گاؤں کی عورتوں کو آج بھی سال میں پانچ دن کپڑے پہننے کی اجازت نہیں ہے۔ اور یہ سب کچھ گاؤں کی رسم کے نام پر ہوتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ صدیوں پہلے اس گاؤں میں ایک ’راکشش‘ آیا کرتا تھا جو یہاں کی خوبصورت کپڑے پہننے والی خواتین کو اٹھا کر لے جاتا تھا۔ تب اس راکشش کو ان کے لہوا دیو نے مارا۔ مانا جاتا ہے کہ یہ دیوتا آج بھی اس گاؤں میں آتے ہیں اور برائیوں کا خاتمہ کرتے ہیں۔ خواتین اس رسم کی ادائیگی ساون کے مہینے میں کرتی ہیں۔ وہ اس مہینے کے پانچ دن برہنہ رہتی ہیں۔ اس دوران انہیں ہنسنے کی بھی اجازت نہیں ہوتی ہے۔ اگرچہ کچھ رپورٹیں بتاتی ہیں کہ وقت کے ساتھ ساتھ اس روایت میں کچھ تبدیلی آئی ہے۔ پہلے عورتیں بالکل برہنہ رہتی تھیں لیکن اب اون سے بنا ہوا پتلا پہاڑی کپڑا پہنتی ہیں۔ یہ ہمارے لیے انتہائی شرم کی بات ہے کہ آج بھی ہمارے ملک کے کچھ حصوں میں دلتوں کو شادی کے موقعوں پر گھوڑے پر سوار ہونے کی اجازت نہیں ہے۔ حالانکہ انہوں نے اب اس کی مخالفت شروع کر دی ہے۔ آج بھی اگر آپ ہندوستان میں دلت آبادی والے کسی گاؤں میں جائیں تو دیکھیں گے کہ خواتین کے پاس اپنا سینہ چھپانے کے لیے کپڑے نہیں ہیں۔ شاید حکومتیں بھی یہی چاہتی ہیں کہ وہ اسی حالت میں رہیں۔ ایسے میں جب کوئی عورت اپنے آپ کو مکمل طور پر ڈھانپ کر چلتی ہے تو یہ ان کی آنکھوں میں کھٹکتی ہے۔ ~افروز عالم ساحل https://t.me/BehtarinMazamin
1
17
https://t.me/talimulislah حجاب کے بہانے آج کل مسلم خواتین کے طرز زندگی پر بحث ہو رہی ہے۔ لیکن کہا جاتا ہے کہ حال اور مستقبل کو بہتر طور پر سمجھنا ہے تو پہلے ماضی کو سمجھنا ضروری ہوتا ہے۔ تو آئیے پہلے ماضی میں جا کر کرناٹک میں خواتین کے حالات کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ تاریخ کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ مالابار کے ساتھ ساتھ کرناٹک کے علاقے میں بھی عورتوں کو کمر سے اوپر کپڑا پہننے کی اجازت نہیں تھی۔ اس دور میں خواتین ہمیشہ اپنا سینہ کھلا رکھتی تھیں۔ لیکن جب ریاست میسور میں ٹیپو سلطان نے اقتدار سنبھالا تو انہوں نے خواتین پر ہونے والے اس ظلم کی مخالفت کی اور خواتین کے سینے کھلے رکھ کر چلنے کے رواج پر پابندی عائد کی۔ میر حسین علی خان کرمانی اپنی کتاب ’ہسٹری آف ٹیپو سلطان‘ میں لکھتے ہیں، ’مالابار کے بعض علاقوں کے ساتھ ساتھ بالا گھائی کے تمام علاقوں میں زیادہ تر ہندو خواتین جانوروں کی طرح اپنی چھاتیوں اور سروں کو ننگا کرکے گھومتی تھیں۔ یعنی عورتیں کمر سے اوپر کے بالائی حصے کو ڈھکتی نہیں تھیں۔ لیکن ٹیپو سلطان نے حکم دیا کہ یہ غیر مہذب رواج ہے۔ ان عورتوں میں سے کوئی بھی اب اپنے گھر سے بغیر چادر اور پردے کے یعنی برہنہ باہر نہ نکلے۔‘ یہ کتاب 1864ء میں شائع ہوئی تھی۔ دراصل کرمانی صاحب نے یہ کتاب فارسی زبان میں ’نشان حیدری‘ نام سے لکھی تھی۔ اس کتاب کا انگریزی میں W Miles نے ترجمہ کیا ہے۔ اس میں وہ لکھتے ہیں کہ ٹیپو سلطان نے عورتوں کو سر اور سینہ ڈھانپنا سکھایا اور خواتین کو کپڑے تحفے میں دیے۔ 1951 میں شائع ہونے والی محب الحسن خان کی کتاب ’ہسٹری آف ٹیپو سلطان‘ پڑھنے کے بعد پتہ چلا کہ ٹیپو سلطان کا کردار ایک سماجی مصلح کا بھی تھا۔ سلطان نے اپنے دور حکومت میں شراب اور تمام نشہ آور اشیاء کے استعمال پر پابندی لگا دی تھی، البتہ میسور کی فوج میں فرانسیسی سپاہیوں کے لیے کیمپ میں صرف ایک شراب کی دکان کھولنے کی اجازت دی تھی۔ ٹیپو سلطان نے عصمت فروشی اور گھریلو کاموں کے لیے لونڈیوں کو ملازمت پر رکھنے سے روکا۔ گورگ کے علاقے میں ایک سے زیادہ شوہر رکھنے کے رواج کو بھی روکنے کی کوشش کی۔ واضح رہے کہ اس زمانے میں یہ کلچر بہت عام تھا کہ گھر کا ایک آدمی شادی کرتا لیکن اس کی بیوی سبھی کی بیوی ہوتی تھی، ٹیپو سلطان نے اس کو روکنے کی بھرپور کوشش کی۔ اس سے متعلق ایک حکم نامہ بھی جاری کیا۔ ٹیپو سلطان نے انسانی قربانی کی اس رسم کو ختم کر دیا جو میسور کے قریب کالی دیوی کے مندر میں رائج تھی۔ شہر میسور کے قریب چامنڈی پہاڑی پر کالی دیوی کے مندر میں ایک عرصہ سے دیوی کو خوش کرنے کے لیے انسانوں کی قربانی کی جاتی تھی۔ خاص طور پر خواتین نذرانے کے طور پر پیش کی جاتی تھیں۔ ٹیپو سلطان نے اپنے دور میں اس پر سختی سے پابندی لگا دی تھی۔ اس کا ذکر محمود خاں محمود بنگلوری نے 1939 میں شائع ہونے والی اپنی کتاب ’تاریخ سلطنت خداداد (میسور) میں میسور گورنمنٹ کی جانب سے شائع کتاب ’رہنمائے میسور‘ کے حوالے سے کیا ہے۔ اس وقت کے بڑے شہروں میں ہندو عورتوں کی فروخت کے لیے منڈیاں لگائی جاتی تھیں، غلاموں کی خرید وفروخت کی جاتی تھی۔ شاہی فرمان جاری کر کے ٹیپو سلطان نے اسے بھی روک دیا۔ فارسی میں جاری کردہ اس حکم نامے کو ایم عبداللہ کی 1940 میں شائع ہونے والی کتاب ’ٹیپو سلطان‘ میں دیکھا جا سکتا ہے۔ عام طور پر اس زمانے میں جو بھی جنگ میں فتح حاصل کرتا وہ شکست خوردہ قوم کی عورتوں کو لونڈیاں بنا لیتا تھا۔ ٹیپو سلطان نے اس رواج کو بھی پوری طرح سے ختم کر دیا۔ اپنی فوج کو حکم دیا کہ وہ کبھی ان عورتوں کے ساتھ ظلم وزیادتی نہ کریں، بلکہ ان کے ساتھ پوری شفقت سے پیش آئیں۔ سیموئیل سٹرینڈ برگ اپنی کتاب ’ٹیپو سلطان (دی ٹائگر آف میسور)‘ میں لکھتے ہیں کہ 1780 میں مرہٹوں کے ساتھ ایک جنگ کے دوران ٹیپو سلطان کی سپاہ نے ایک معرکہ آرائی میں مرہٹوں کے سامان حرب کے ساتھ ان کی 80 خواتین کو بھی گرفتار کر لیا تھا۔ ان خواتین کا تعلق مرہٹہ جرنیلوں کے حرموں سے تھا۔۔۔ ان خواتین سے یہ وعدہ لیا گیا کہ وہ اپنے خاوندوں کو اس امر پر آمادہ کریں گی کہ وہ ٹیپو سلطان کے ساتھ معرکہ آرائی کی بجائے امن قائم کرنے کو ترجیح دیں۔ یہ وعدہ لینے کے بعد ان خواتین کو آزاد کر دیا گیا۔ جس کے بعد مرہٹوں نے یہ مشہور کر دیا کہ مسلمانوں نے ان کی خواتین کی بے حرمتی کی تھی لہٰذا ان خواتین کو علیٰحدہ جگہ پر رکھا گیا اور ان کے خاوندوں نے ان کے ساتھ اپنے روابط منقطع کر لیے۔ ان خواتین نے اپنے ساتھ روا رکھے جانے والے اس سلوک کو گوارا نہ کیا اور اپنے مردوں کی پست ذہنیت کے خلاف سخت احتجاج کیا۔ ان خواتین نے ٹیپو سلطان کے بہترین اور شریفانہ رویے کی از حد تعریف وتوصیف کی اور اپنے خاوندوں پر زور دیا کہ وہ لوگوں کی پھیلائی ہوئی بیہودہ باتوں کو اہمیت نہ دیں اور ٹیپو سلطان کے ساتھ امن کے لیے گفت وشنید کا آغاز کریں۔ بالآخر وہ اپنے
1
18
وشنید کا آغاز کریں۔ بالآخر وہ اپنے خاوندوں کو قائل کرنے میں کامیاب ہو گئیں اور چند ماہ کے اندر امن وامان قائم ہوگیا۔‘ خواتین کا اپنے جسموں کے بالائی حصہ کو برہنہ رکھنے کا سلسلہ ٹیپو سلطان کے بعد بھی جاری رہا۔ سیموئیل سٹرینڈ برگ اپنی کتاب ’ٹیپو سلطان (دی ٹائگر آف میسور)‘ میں لکھتے ہیں کہ ’اس سلسلے میں ٹیپو سلطان نے ضلعی اہلکاروں کو خطوط بھی لکھے کہ ’میں نے مالابار میں کچھ خواتین کو ایسی حالت میں دیکھا کہ ان کے سینے کپڑوں سے بے نیاز تھے۔ انہوں نے اپنے سینے کپڑوں میں چھپا نہیں رکھے تھے۔ مجھے ان کے اس طرز عمل کی بدولت ازحد دکھ پہنچا ہے۔ میں حیران ہوں کہ آخر ایسا کیوں ہے؟ کیا واقعی یہ ایک رواج ہے یا قبیلے کی غربت کا سوال ہے؟ اگر اس قبیلے کی خواتین غربت کی وجہ سے اس طرز عمل کو اختیار کرنے پر مجبور ہیں تو میں ان کی غربت دور کرنے کے لیے ہر ممکن اقدام کرنے کے لیے تیار ہوں تاکہ اس قبیلے کی خواتین وہ لباس زیب تن کر سکیں جو ان کی مناسب ستر پوشی کرتا ہو اور اگر یہ اس قبیلے کا رواج ہے تب میں یہ چاہوں گا کہ آپ لوگ اپنے اثر ورسوخ کا استعمال کرتے ہوئے اس قبیلے کو اس رواج سے روکنے کی کوشش کریں اور قبیلے کے مذہبی رہنماؤں کے ساتھ بات چیت کر کے انہیں اس سے باز آنے پر آمادہ کریں۔ میں یہ بھی چاہتا ہوں کہ آپ لوگ دوستانہ ماحول میں ان کے مذہبی رہنماؤں سے بات چیت کریں اور ان کے مذہب کو برا بھلا کہنے سے گریز کریں۔۔۔‘‘ سیموئیل سٹرینڈ برگ آگے لکھتے ہیں، ’غالباً ٹیپو سلطان یہ نہیں جانتا تھا کہ اس قبیلے میں خواتین کا اپنا سینہ ڈھانپنا ایک ناشائستہ اور نامعقول فعل تصور کیا جاتا تھا، جبکہ دیگر لوگ خواتین کے سینہ نہ ڈھانپنے کے عمل کو ایک ناشائستہ اور نامعقول عمل تصور کرتے ہیں۔ ٹیپو سلطان اس رواج کو ختم کرنے میں بھی ناکام رہا۔۔۔‘ یعنی کمر سے اوپر برہنہ رہنے کا رواج ٹیپو سلطان پوری طرح ختم نہیں کر سکے۔ حقیقت یہ ہے کہ ٹیپو سلطان نے ہندو خواتین کو اس ملک میں عزت ووقار کے ساتھ جینا سکھایا۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی ٹیپو سلطان کی فوج جنگ کے لیے نکلتی تو ہندو خواتین جنگ پر جانے والے ہاتھیوں کی پوجا کرتی تھیں۔ کہا جاتا ہے کہ ٹیپو سلطان نے جس جگہ اپنی جان جانِ آفریں کے سپرد کی تھی اسی جگہ سلطان کے سیکڑوں فدائین کی لاشیں پڑی ہوئی تھیں جن میں عورتیں بھی تھیں اور جوان لڑکیاں بھی۔ جب سلطان کا جنازہ اٹھایا جانے لگا تو راہ میں ہندو عورتیں ماتم کرتے ہوئے اپنے سروں پر مٹی ڈال رہی تھیں۔ لیکن ہندوتوا کے ٹھیکیداروں نے ٹیپو سلطان کو کبھی پسند نہیں کیا اور ہمیشہ ان کی مخالفت کی۔ اور کرناٹک میں یہ ’ٹھیکیدار‘ اب بھی چاہتے ہیں کہ ترقی کے نام پر خواتین اپنا سینہ کھول کر چلیں۔ ایسی توقع رکھنا بھی فضول نہیں کہ اس ملک میں دوبارہ’بریسٹ ٹیکس‘لگا دیا جائے۔ بریسٹ ٹیکس کی تاریخ یہ ہے کہ مالابار کے علاقے میں یہ ایک قسم کا ٹیکس تھا، جسے مقامی ملیالم زبان میں مُلکرم یا مولہ کرم کہا جاتا تھا، اور جو نچلی ذات کی ہندو عورتوں پر ریاست تراونکور (کیرالا) کی جانب سے عائد تھا۔ اس کے تحت ان عورتوں کو برہمنوں کے سامنے اور مندروں میں بھی اپنے سینوں کو ڈھانپنے کی اجازت نہیں تھی۔ اگر کسی نے اپنا سینہ ڈھانکا تو اس کو اس کو بریسٹ ٹیکس ادا کرنا پڑتا تھا۔ ٹیکس کی رقم عورتوں کے سینوں کی جسامت پر منحصر ہوتی تھی۔ اس ٹیکس کا رواج 1924ء تک جاری رہا تھا۔ 2016ء کی بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق کیرالا کے چیرتھلا کی ایک خاتون ’ننگیلی‘ اور اس کے شوہر نے اس ’بریسٹ ٹیکس‘ کی مخالفت کی تھی۔ اس عورت پر جب ٹیکس کی رقم ادا کرنے کے لیے دباؤ ڈالا گیا تو اس نے اپنی چھاتیوں کو ہی کاٹ کر افسروں کے سامنے رکھ دیا۔ بہت زیادہ خون کے اخراج کی وجہ سے وہ اسی وقت فوت ہو گئی جس کے بعد اس کے شوہر نے اسے نذر آتش کرنے کے بعد اسی آگ میں چھلانگ لگا کر اپنی جان دی۔ اس طرح سے ننگیلی اور اس کے شوہر نے اپنے معاشرے کو بیدار کرنے کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔۔۔۔ ہمارے مورخین نے ننگیلی کی اس جرات مندانہ جدوجہد کو ہمیشہ نظر انداز کیا ہے۔ واضح رہے کہ ہندوستان کے سنٹرل بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن نے ننگیلی کے اس واقعہ کو نویں جماعت کی سوشل سائنس کے نصاب میں ’ذات، تنازعہ اور لباس کی تبدیلی‘ کے عنوان کے تحت شامل کیا تھا، لیکن بعد میں مدراس ہائی کورٹ کے ایک حکم کی وجہ سے اسے ہٹا دیا گیا۔ عدالت نے کہا کہ ’’موضوع پر مبنی افسانوی کام سے پیدا ہونے والی تاریخی صداقت کی غلط تشریح کی گئی ہے‘‘ اس کے علاوہ یہ کچھ ریاستوں اور مخصوص کمیونٹیز کے افراد کے خلاف ’’قابل اعتراض مواد‘‘ اور ’’نفرت انگیز تقریر‘‘ کے تحت آتا ہے۔https://t.me/talimulislah
1
19
📩Articles(Mazameen) Talilmul Islah Group: https://t.me/talimulislah حجاب کے بہانے آج کل مسلم خواتین کے طرز زندگی پر بحث ہو رہی ہے۔ لیکن کہا جاتا ہے کہ حال اور مستقبل کو بہتر طور پر سمجھنا ہے تو پہلے ماضی کو سمجھنا ضروری ہوتا ہے۔ تو آئیے پہلے ماضی میں جا کر کرناٹک میں خواتین کے حالات کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ تاریخ کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ مالابار کے ساتھ ساتھ کرناٹک کے علاقے میں بھی عورتوں کو کمر سے اوپر کپڑا پہننے کی اجازت نہیں تھی۔ اس دور میں خواتین ہمیشہ اپنا سینہ کھلا رکھتی تھیں۔ لیکن جب ریاست میسور میں ٹیپو سلطان نے اقتدار سنبھالا تو انہوں نے خواتین پر ہونے والے اس ظلم کی مخالفت کی اور خواتین کے سینے کھلے رکھ کر چلنے کے رواج پر پابندی عائد کی۔ میر حسین علی خان کرمانی اپنی کتاب ’ہسٹری آف ٹیپو سلطان‘ میں لکھتے ہیں، ’مالابار کے بعض علاقوں کے ساتھ ساتھ بالا گھائی کے تمام علاقوں میں زیادہ تر ہندو خواتین جانوروں کی طرح اپنی چھاتیوں اور سروں کو ننگا کرکے گھومتی تھیں۔ یعنی عورتیں کمر سے اوپر کے بالائی حصے کو ڈھکتی نہیں تھیں۔ لیکن ٹیپو سلطان نے حکم دیا کہ یہ غیر مہذب رواج ہے۔ ان عورتوں میں سے کوئی بھی اب اپنے گھر سے بغیر چادر اور پردے کے یعنی برہنہ باہر نہ نکلے۔‘ یہ کتاب 1864ء میں شائع ہوئی تھی۔ دراصل کرمانی صاحب نے یہ کتاب فارسی زبان میں ’نشان حیدری‘ نام سے لکھی تھی۔ اس کتاب کا انگریزی میں W Miles نے ترجمہ کیا ہے۔ اس میں وہ لکھتے ہیں کہ ٹیپو سلطان نے عورتوں کو سر اور سینہ ڈھانپنا سکھایا اور خواتین کو کپڑے تحفے میں دیے۔ 1951 میں شائع ہونے والی محب الحسن خان کی کتاب ’ہسٹری آف ٹیپو سلطان‘ پڑھنے کے بعد پتہ چلا کہ ٹیپو سلطان کا کردار ایک سماجی مصلح کا بھی تھا۔ سلطان نے اپنے دور حکومت میں شراب اور تمام نشہ آور اشیاء کے استعمال پر پابندی لگا دی تھی، البتہ میسور کی فوج میں فرانسیسی سپاہیوں کے لیے کیمپ میں صرف ایک شراب کی دکان کھولنے کی اجازت دی تھی۔ ٹیپو سلطان نے عصمت فروشی اور گھریلو کاموں کے لیے لونڈیوں کو ملازمت پر رکھنے سے روکا۔ گورگ کے علاقے میں ایک سے زیادہ شوہر رکھنے کے رواج کو بھی روکنے کی کوشش کی۔ واضح رہے کہ اس زمانے میں یہ کلچر بہت عام تھا کہ گھر کا ایک آدمی شادی کرتا لیکن اس کی بیوی سبھی کی بیوی ہوتی تھی، ٹیپو سلطان نے اس کو روکنے کی بھرپور کوشش کی۔ اس سے متعلق ایک حکم نامہ بھی جاری کیا۔ ٹیپو سلطان نے انسانی قربانی کی اس رسم کو ختم کر دیا جو میسور کے قریب کالی دیوی کے مندر میں رائج تھی۔ شہر میسور کے قریب چامنڈی پہاڑی پر کالی دیوی کے مندر میں ایک عرصہ سے دیوی کو خوش کرنے کے لیے انسانوں کی قربانی کی جاتی تھی۔ خاص طور پر خواتین نذرانے کے طور پر پیش کی جاتی تھیں۔ ٹیپو سلطان نے اپنے دور میں اس پر سختی سے پابندی لگا دی تھی۔ اس کا ذکر محمود خاں محمود بنگلوری نے 1939 میں شائع ہونے والی اپنی کتاب ’تاریخ سلطنت خداداد (میسور) میں میسور گورنمنٹ کی جانب سے شائع کتاب ’رہنمائے میسور‘ کے حوالے سے کیا ہے۔ اس وقت کے بڑے شہروں میں ہندو عورتوں کی فروخت کے لیے منڈیاں لگائی جاتی تھیں، غلاموں کی خرید وفروخت کی جاتی تھی۔ شاہی فرمان جاری کر کے ٹیپو سلطان نے اسے بھی روک دیا۔ فارسی میں جاری کردہ اس حکم نامے کو ایم عبداللہ کی 1940 میں شائع ہونے والی کتاب ’ٹیپو سلطان‘ میں دیکھا جا سکتا ہے۔ عام طور پر اس زمانے میں جو بھی جنگ میں فتح حاصل کرتا وہ شکست خوردہ قوم کی عورتوں کو لونڈیاں بنا لیتا تھا۔ ٹیپو سلطان نے اس رواج کو بھی پوری طرح سے ختم کر دیا۔ اپنی فوج کو حکم دیا کہ وہ کبھی ان عورتوں کے ساتھ ظلم وزیادتی نہ کریں، بلکہ ان کے ساتھ پوری شفقت سے پیش آئیں۔ سیموئیل سٹرینڈ برگ اپنی کتاب ’ٹیپو سلطان (دی ٹائگر آف میسور)‘ میں لکھتے ہیں کہ 1780 میں مرہٹوں کے ساتھ ایک جنگ کے دوران ٹیپو سلطان کی سپاہ نے ایک معرکہ آرائی میں مرہٹوں کے سامان حرب کے ساتھ ان کی 80 خواتین کو بھی گرفتار کر لیا تھا۔ ان خواتین کا تعلق مرہٹہ جرنیلوں کے حرموں سے تھا۔۔۔ ان خواتین سے یہ وعدہ لیا گیا کہ وہ اپنے خاوندوں کو اس امر پر آمادہ کریں گی کہ وہ ٹیپو سلطان کے ساتھ معرکہ آرائی کی بجائے امن قائم کرنے کو ترجیح دیں۔ یہ وعدہ لینے کے بعد ان خواتین کو آزاد کر دیا گیا۔ جس کے بعد مرہٹوں نے یہ مشہور کر دیا کہ مسلمانوں نے ان کی خواتین کی بے حرمتی کی تھی لہٰذا ان خواتین کو علیٰحدہ جگہ پر رکھا گیا اور ان کے خاوندوں نے ان کے ساتھ اپنے روابط منقطع کر لیے۔ ان خواتین نے اپنے ساتھ روا رکھے جانے والے اس سلوک کو گوارا نہ کیا اور اپنے مردوں کی پست ذہنیت کے خلاف سخت احتجاج کیا۔ ان خواتین نے ٹیپو سلطان کے بہترین اور شریفانہ رویے کی از حد تعریف وتوصیف کی اور اپنے خاوندوں پر زور دیا کہ وہ لوگوں کی پھیلائی ہوئی بیہودہ باتوں کو اہمیت نہ دیں اور ٹیپو سلطان کے ساتھ امن کے لیے گفت
1
20
🌐🌐🌐 مغرب میں عورت کی حیثیت اور اہمیت ۔۔؟؟ "مغرب نے عورت کو جو کچھ دیا ہے عورت کی حیثیت سے نہیں دیا ہے بلکہ مرد بناکر دیا ہے۔ عورت درحقیقت اب بھی اسکی نگاہ میں ویسی ہی ذلیل ہے جیسی پرانے دورِ جاہلیت میں تھی۔ گھر کی ملکہ، شوہر کی بیوی، بچوں کی ماں، ایک اصلی اور حقیقی عورت کے لیے اب بھی کوئ عزت نہیں۔ عزت اگر ہے تو اس مردِمونث یا زنِ مذکر کیلیے جو جسمانی حیثیت سے تو عورت مگر دماغی اور ذہنی حیثیت سے مرد ہو اور تمدن اور معاشرت میں مرد ہی کے سے کام کرے۔ ظاہر ہے کہ یہ انوثت (زنانگی) کی عزت نہیں رجولیت (مردانگی) کی عزت ہے۔،پھر احساسِ پستی کی ذہنی الجھن (inferiority complex) کا کھلا ثبوت یہ ہے کہ مغربی عورت مردانہ لباس فخر کے ساتھ پہنتی ہے، حالانکہ کوئ مرد زنانہ لباس پہن کر برسرِعام آنے کا خیال نہیں کرسکتا۔ بیوی بننا لاکھوں مغربی عورتوں کے نزدیک موجبِ ذلالت ہے، حالانکہ شوہر بننا کسی مرد کے نزدیک ذلالت کا موجب نہیں۔ مردانہ کام کرنے میں عورتیں عزت محسوس کرتی ہیں، حالانکہ خانہ داری اور پرورشِ اطفال جیسے خالص زنانہ کاموں میں کوئ مرد عزت محسوس نہیں کرتا۔پس بلا خوفِ تردید کہا جاسکتا ہے کہ مغرب نے عورت کو بحیثیتِ عورت کوئ عزت نہیں دی ہے۔ یہ کام اسلام اور صرف اسلام نے کیا ہے کہ عورت کو تمدن و معاشرت میں اس کے فطری مقام ہی پر رکھ کر عزت و شرف کا مرتبہ عطا کیا اور صحیح معنوں میں انوثت کے درجہ کو بلند کردیا۔" https://t.me/BehtarinMazamin
276