en
Feedback
ISLAM WITH EMAN

ISLAM WITH EMAN

Open in Telegram

اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات... ایڈمن سے رابطہ کیلئے: @syedsajjadhamdani

Show more
1 419
Subscribers
No data24 hours
-17 days
-1330 days
Posts Archive
*دھوکہ* مٹھائی فروش سوچتا ہے: "میں تو مٹھائی کھاتا نہیں، لہٰذا اگر مٹھائی میں ملاوٹ کر دوں تو مجھے کیا فرق پڑے گا۔" بیکری کا مالک سوچتا ہے: "میں تو بسکٹ کھاتا نہیں، اس لیے اگر خراب انڈے اور باسی آٹا استعمال کر کے بسکٹ بنا بھی دوں، تو مجھے کیا نقصان ہوگا۔" پھل فروش سوچتا ہے: "میں تو پھل کھاتا نہیں، اگر میں پھلوں میں کیمیکل ملا بھی دوں تو میرا کیا جائے گا۔" مچھلی فروش سوچتا ہے: "میں یہ مچھلی خود نہیں کھاؤں گا، اس لیے اگر میں اس میں فارملین بھی ڈال دوں، تو مجھے اس سے کوئی پریشانی نہیں۔" لیکن دن کے اختتام پر— مٹھائی فروش مٹھائی بیچ کر بسکٹ، پھل اور مچھلی خرید کر گھر لے جاتا ہے۔ بیکری کا مالک بسکٹ بیچ کر مٹھائی، پھل اور مچھلی خرید کر گھر لے جاتا ہے۔ پھل فروش پھل بیچ کر مٹھائی، بسکٹ اور مچھلی خرید کر گھر لے جاتا ہے۔ مچھلی فروش مچھلی بیچ کر پھل، بسکٹ اور مٹھائی خرید کر گھر لے جاتا ہے۔ یہ سب اپنے تئیں خود کو بڑا ہوشیار سمجھتے ہیں، سمجھتے ہیں انہوں نے زیادہ منافع کمایا، اور فخر سے سینہ تان کر جیت کی ڈکار لیتے ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ خود اپنے ہی پاؤں پر کلہاڑی مار رہے ہیں—دوسروں کا نقصان کرتے کرتے بالآخر اپنے ہی گھر کی دہلیز پر زہر لے جا رہے ہیں۔ لیکن انہیں اس بات کا شعور ہی نہیں ہوتا۔ حالانکہ یہ سمجھنا ہم سب کے لیے بےحد ضروری ہے کہ دھوکہ صرف دوسروں کو نہیں، خود کو بھی تباہ کرتا ہے۔ 🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

*قرضے اور گدھوں کی کہانی* ایک دن ایک ہوشیار تاجر ایک گاؤں آیا اس نے کہا میں تمہارے گدھے دس روپے میں خریدوں گا گاؤں والوں نے خوشی خوشی اپنے گدھے اسے بیچ دیے کچھ دن بعد وہ پھر آیا اور بولا اب میں گدھا پندرہ روپے میں خریدوں گا جن لوگوں نے گدھے نہیں بیچے تھے انہوں نے بھی فوراً بیچ دیے پھر اس نے اعلان کیا اب میں ہر گدھا تیس روپے میں خریدوں گا یہ سن کر باقی سب نے بھی اپنے گدھے بیچ ڈالے اور گاؤں میں کوئی گدھا نہ بچا پھر اس تاجر نے کہا اب میں گدھا پچاس روپے میں خریدوں گا لیکن میں چند دن کی چھٹی پر جا رہا ہوں واپس آ کر خریدوں گا جب وہ چلا گیا تو گاؤں والوں کو لالچ ہوا انہوں نے اپنے گدھے واپس خریدنے کی کوشش کی تاکہ بعد میں پچاس روپے میں بیچ کر منافع کما سکیں اسی دوران تاجر کا ایک ساتھی آیا اور بولا میرے پاس تمہارے پرانے گدھے ہیں چالیس روپے میں لے لو گاؤں والوں نے سارے پیسے لگا دیے اور کچھ نے قرض بھی لیا تاکہ گدھے واپس خرید لیں لیکن تاجر واپس نہ آیا نہ اس کا ساتھی اب گدھے ان کے پاس تھے لیکن ان کی قیمت نہ رہی اور قرض بڑھ گیا بینک نے بھی پیسے نہیں پائے اور دیوالیہ ہو گیا اور وہ تاجر سب کا پیسہ سمیٹ کر غائب ہو چکا تھا اصل سبق یہ ہے کہ گدھا صرف ایک علامت ہے اس کی جگہ تم کچھ بھی رکھ سکتے ہو زمین گاڑی مکان چینی تیل سونا شیئر کرپٹو طریقہ سب میں ایک جیسا ہے قیمت بڑھاؤ لالچ جگاؤ پھر اچانک سب بیچ کر نکل جاؤ اور پیچھے رہ جاتے ہیں وہ لوگ جو خوابوں میں جیتے ہیں اور حقیقت سے غافل رہتے ہیں بازار میں سب کچھ ہوتا ہے سوائے عقل کے۔ 🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

تحریر پڑھنے کے لیے لنک پر کلک کریں https://whatsapp.com/channel/0029Vb1PxYPEwEjoQpZsBA1F/2009
تحریر پڑھنے کے لیے لنک پر کلک کریں https://whatsapp.com/channel/0029Vb1PxYPEwEjoQpZsBA1F/2009

*چھوارے اور مصری* چھوہارے اور مصری رات میں کھائیں اور کمال دیکھیں آپ کو کمر میں درد رہتا ہے . دانتوں گھٹنوں کندھوں یا پھر ہڈیوں کی تکلیف کی کوئی بھی پریشانی لاحق ہے۔ تو اس آسان علاج سے فوری طور ہمیشہ کیلئے چھٹکارہ ملے گا ۔ اس کے علاوہ پرانی سے پرانی قبض سردرد بواسیر جسمانی طور پر کمزور اور دبلے پتلے افراد سانس لینے میں دشواری لقوہ اور خون کی کمی دور کرنے کیلئے یہ بہت مفید ہے ۔ عورتو ں کے پوشیدہ امراض اور کمزور مردوں کی قوت باہ بڑھانے کیلئے یہ نسخہ کمال کے فوائد رکھتا ہے ۔ اس کو بنانے اور استعمال کرنے کا طریقہ بتاتے ہیں ۔ چھوہارہ اس کی تاثیر گرم ہوتی ہے . یہ کیلشیم ، آئرن ،فائبر ،پوٹاشیم ،میگنیشیم ، اینٹی آکسیڈنٹ جیسے قیمتی منرلز سے مالا ہوتے ہیں ۔ وٹامن بی اور وٹامن سی کا قیمتی خزانہ چھوہارے 100گرام لیکر اس کی گٹھلیاں نکال کر چھوہاروں کو باریک پیس لیں مثل آرد یعنی آٹا بنالیں۔ مصری پچاس گرام۔ , الائچی خورد دو عدد . ان اشیاء کو بھی باریک پیس لیں اور آرد چھوہارے کیساتھ اچھی طرح مکس کرلیں اور اس سفوف کو ہوا بند جار میں محفوظ کرلیں۔ طریقہ استعمال:- ایک گلاس دودھ کو دو سے تین ابال دیکر گرم کرلیں، جب دودھ گرم ہوجائے تو چولہے سے اتار لیں اور تین چمچ کے قریب چھوہارہ اور مصری سے بنا ہوا سفوف شامل کریں اور اچھی طرح مکس کرلیں ۔۔ آپ دودھ کو دس سے پندرہ منٹ کیلئے ٹھنڈا ہونے کیلئے چھوڑ دیں۔۔ جب دودھ پینے کے قابل ہوجائے تو کھانے کے ایک گھنٹہ بعد دودھ پی لیں اس کے بعد کم ازکم ایک گھنٹہ تک کوئی اور چیز استعمال نہ کریں۔ یہ قدرتی طاقت کا خزانہ ہے ۔ جریان سرعت انزال کو دور کرتا ہے۔ مادہ تولید کو گاڑھا اور قوت باہ کو بڑھاتا ہے۔ ۔ جن لوگوں کو پیشاب کی پریشانی رہتی ہے ان کیلئے چھوہارہ بے حد فائدہ مند ثابت ہوتا ہے ۔ آپ کو دو چھوہارے روزانہ ایسے ہی کھالینے ہیں اس سے آپ کو پیشاب سے جڑی بیماریوں میں کافی فائدہ ملے گا۔۔ صبح و شام چھوہارے کھانے سے دمہ کی بیماری سے نجات مل جاتی ہے ۔۔ روزانہ کھانے سےجسم میں خون کی کمی دور ہوجاتی ہے ۔ اگر آپ کے جسم میں خون کی کمی ہے تو چھوہارے ضرور کھائیں۔ چھوہارے میں کیلشیم اچھی خاصی مقدار میں پائی جاتی ہے ۔۔ اس کو اچھے طریقے سے کھانے سے ہڈیاں مضبوط ہوتی ہیں اور ہڈیوں کی کمزوری دور ہوجاتی ہے چھوہارے میں سے گھٹلی نکال کر دن میں آٹھ سے دس بار چوسیں یہ شوگر کے مریضوں کے لیے فائدہ مند ہے۔ 📚 یہ معلومات ہیلتھ آرٹیکلز سے لی گئی ہیں 🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

*"جوتے"* آپ نے کبھی جوتے کی زبان سے کہانی سنی ہے؟ نہیں ناں؟ تو آئیے، آج میں آپ کو ایک ایسی کہانی سناتا ہوں جو شاید آپ کی زندگی کا نظریہ بدل دے۔ یہ کہانی ہے دو جوتوں کی… ایک مہنگے، برانڈڈ جوتے کی، جو صرف خاص مواقع پر پہنا جاتا ہے، اور ایک عام مگر وفادار جوتے کی، جو دن رات اپنے مالک کے ساتھ چلتا ہے۔ یہ دونوں جوتے ایک دن ایک موچی کی دکان پر مرمت کے لیے آئے۔ رات کا وقت تھا، دکان بند ہو چکی تھی، اور دکان کے کونے میں رکھے جوتے آپس میں گفتگو کرنے لگے۔ "تم جانتے ہو، میں کون ہوں؟" برانڈڈ جوتے نے غرور سے کہا۔ "نہیں، مگر تمہاری چمک سے لگتا ہے کہ تم بہت قیمتی ہو!" پرانے جوتے نے مسکرا کر جواب دیا۔ "بالکل! میرا مالک ایک کروڑ پتی بزنس مین ہے۔ میں صرف خاص تقریبات میں پہنا جاتا ہوں۔ نرم قالینوں، سنگ مرمر کے فرش اور باغات کے علاوہ میں نے کبھی کسی اور جگہ قدم نہیں رکھا۔" پرانے جوتے نے نرمی سے سر ہلایا، جیسے کوئی راز جانتا ہو، اور بولا، "میرے مالک کے پاس کروڑوں نہیں ہیں، مگر اس کے پاس محنت کی دولت ہے۔ دس سال سے وہ مجھے پہنے ہوئے ہے۔ میں نے اس کی زندگی کے ہر اچھے برے لمحے کا ساتھ دیا ہے۔ میں نے اس کے قدموں کو سخت زمین پر چلتے دیکھا ہے، میں نے پسینے میں بھیگے اس کے دن دیکھے ہیں، میں نے راتوں کو اسے دیر تک کام کرتے دیکھا ہے۔ وہ مجھے روز پالش کرتا ہے، سنوار کر رکھتا ہے، شاید اسے مجھ سے محبت ہے!" برانڈڈ جوتے نے طنزیہ ہنسی ہنسی، "محبت؟ احمق ہو تم! محبت قیمتی چیزوں سے کی جاتی ہے، پرانی چیزوں سے نہیں۔ میرے مالک کے پاس درجنوں جوتے ہیں، مگر میں ان سب میں سب سے خاص ہوں۔ تم بس ایک عام جوتے ہو، جو ہر روز کی دھول میں اَٹ جاتا ہے!" پرانے جوتے نے ہلکا سا قہقہہ لگایا، "یہی تو فرق ہے! میں تمہاری طرح مشین سے نہیں بنا، مجھے کسی ہنر مند موچی نے اپنے ہاتھوں سے سیا تھا، میری ہر سلائی کسی کی محنت کی گواہ ہے۔ میں نے مشکل وقت برداشت کیا ہے، اس لیے میں آج بھی قائم ہوں۔ مگر تم؟ تم ایک ہلکی سی ضرب بھی برداشت کر سکو گے؟" برانڈڈ جوتے نے نخوت سے نظریں پھیر لیں، جیسے اسے اس بات کا یقین نہ ہو۔ اگلے دن، موچی دکان میں آیا۔ اس نے برانڈڈ جوتے کو اٹھایا، اس کی ایڑی میں ایک کیل رکھی اور ہتھوڑی سے ایک ضرب لگائی۔ "ٹَک!" ایک لمحہ بعد برانڈڈ جوتے کی ایڑی میں ایک دراڑ پڑ چکی تھی۔ وہ کانپنے لگا، جیسے اس کی دنیا ہی بکھر گئی ہو۔ پرانے جوتے نے مسکراتے ہوئے سر ہلایا اور آہستہ سے کہا، "دیکھا؟ اصل زندگی نرم قالینوں پر نہیں چلتی، اصل زندگی ان راستوں پر چلتی ہے جہاں پتھر بھی ہوں، کیچڑ بھی، دھوپ بھی اور بارش بھی۔ جو زندگی کی سختیوں کو سہہ نہ سکے، وہ زندگی کے کسی مقام پر ٹوٹ جاتا ہے، جیسے تم ابھی ٹوٹ گئے!" اگلے دن مالک کا ملازم جوتے لینے آیا۔ موچی نے جوتا ہاتھ میں دیا اور کہا: "صاحب کو بتا دینا، کیل لگانے سے ایڑی میں دراڑ آ گئی ہے۔" ملازم نے فوراً فون ملایا اور ساری بات بتائی۔ دوسری طرف سے بس اتنا جواب ملا: "اچھا ٹھیک ہے… یہ جوتے تم ہی رکھ لو!" بس اتنی سی بات تھی، مگر اس ایک جملے میں اس برانڈڈ جوتے کی پوری کہانی ختم ہو گئی۔ سالوں کی قیمت، چمک دمک اور غرور… سب ایک لمحے میں بیکار ہو گیا۔ برانڈڈ جوتے کی غرور سے بھری چمک ماند پڑ چکی تھی۔ اس نے نظریں جھکا لیں، کل تک وہ نرم قالینوں پر چلتا تھا، آج کچے راستوں کی مٹی چاٹے گا۔ وقت کے ہاتھوں سے گزرتے گزرتے اسے پتہ چلا… اصل چمک چمڑے میں نہیں ہوتی، وہ تو صرف پہننے والے کے وقار سے جڑتی ہے۔ --- "زندگی کی حقیقت بھی کچھ ایسی ہی ہے، جو مشکلات سہتا ہے، وہی مضبوط ہوتا ہے۔ اور جو صرف نرمی اور آسانی کا عادی ہوتا ہے، وہ ایک ہلکی سی چوٹ بھی نہیں سہہ پاتا!" رائیٹر. #عمران_اقبال 🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

*"خواتین کیلئے خصوصی پوسٹ"* ماں جی صحن میں پودوں کو پانی دے رہی تھیں کہ پھٹ پھٹاتا ہوا رکشہ بالکل گھر کے دروازے سے آن لگا -دروازے کی جھری سے انہوں نے جھانک کر جو دیکھا تو ماہا کو صبح صبح دیکھ کر انکا ماتھا ٹھنکا -اپنی اس بیٹی کی معاملات میں جلد باز، خودسر اور نادان طبیعت کے باعث انکا دل ویسے ہی اسکی طرف سے کھٹکتا ہی رہتا تھا اور بلا کسی پیشگی اطلاع کےصبح صبح یوں رکشہ پکڑ کر آ جانا ویسے ہی کئی سوال اٹھا رہا تھا- انہوں نے لپک کر دروازہ کھولا تو ماہا رکشے میں بیٹھی اسکے ڈرائیور سے بحث میں الجھی ہوئی تھی کہ جب وہ کام کرنے نکلا ہے تواسکے پاس ہزار کا کھلا کیوں نہیں موجود؟ غریب رکشے والا ابھی ان جوابات پر روشنی ڈال ہی رہا تھا کہ ماں جی چادر جیسا دوپٹہ سر پر جماتی سلیقے سے لپیٹے ہوئے باہر آ گئیں۔ بیٹی سے علیک سلیک کے بعد رکشے والے سے پولیں . اے بیٹا تم اس پھٹ پھٹی کو تو ذرا دم کے لیے بند کر دو کان پڑی آواز نہیں آتی مجھے تو۔ اور بیٹا ذرا دیر یہ دروازے کے ساتھ والی بینچ پر بیٹھ جاؤ جب تک چاۓ پی لو تب تک ملازم قریبی دکان سے کھلے پیسے لے آتا ہے۔ یہ کہہ کر انہوں نے فوراً ہی ملازم کے ہاتھوں اسے ناشتے کی ٹرے بھجوا دی۔ اس سے پہلے کہ ماہا گھر میں موجود بھاوج اور چھوٹے بھتیجے سے ملنے ملانے میں وقت لگاتی ماں جی اسکا ہاتھ تھامے ساتھ والی بیٹھک میں اسے گھسیٹ لائیں اور حیران ہو کر پوچھا سب خیریت تو ہے میری بچی اسطرح کیسے آگئی؟ ماہا نے جوابا بہت ہی فاتحانہ انداز میں انکی طرف دیکھتے ہوۓ بتایا " میری نندوں کا تو اپنے سسرال میں دل ہی نہیں لگتا۔ بے بی باجی کے بیٹے کی آج چھٹی تھی تو جھٹ ہمارے گھر آ گئیں ،مجھے تو ایسی آگ لگی بغیر کسی سے کچھ کہے رکشہ پکڑا اور ادھر آگئی . اس کے جواب سے ماں جی کو یہ تو بخوبی اندازہ ہو رہا تھا کہ آگ لگنا کسے کہتے ہیں۔ انہوں نے کافی سخت لہجے میں اس سے پوچھا تمھاری نند تمہارے گھر آگئی تو تم اٹھ کر یہاں چلی آئی؟ بغیر یہ سوچے کہ تمھاری آمد پر یہی باہر کھڑا رکشہ پکڑ کر تمھاری بھابھی اپنی ماں کے گھر چلی جاۓ تو تم کو کیسا لگے گا ؟ گھر ہے یا تاش کے پتوں کا گھروندا کہ ایک کو ذرا دھکا لگا تو آخر تک سب گرتے چلے گۓ، کبھی زندگی میں اپنی ماں کو مہمانوں سے ایسا برتاؤ کرتے دیکھا ہے؟ یاد رکھنا! مہمان کی تکریم اسکی عزت ایمان کا حصہ ہے، فون اور ڈراموں سے دھیان ہٹے تو ایمان کو سمجھو ناں تم .کچھ دیر اس کے اس عمل سے پیدا ہو جانے والے حالات کی اونچ نیچ سمجھاتی رہیں جب دیکھا کہ بیٹی کو بات سمجھ آگئی ہے تو .....پھر تھوڑا نرم ہوتی ہوئی بولیں میری بیٹی تو بہت سمجھدار ہے، کہ اتنی سی بات بھی نہ سمجھ سکے کہ ایک دن تو ہم سب کو اللہ تعالیٰ کا مہمان بننا ہی ہے سوچو ذرا کہ اللہ تعالیٰ اپنے کسی مہمان سے اس روز بات بھی نہ کرے غصه ہو جاۓ اسکے آنے پر .....ماہا نے انکو بات مکمل نہ کرنے دی اور نم آنکھوں کے ساتھ ماں سے بولی "ماں جی اب کیا کروں ؟" ماں جی کا چہرہ یک دم کھل اٹھا اسے ساتھ آنے کا اشارہ کر کے فریزر کی طرف لپکیں ،دو پیکٹ سموسے اور کباب کے نکال کر بیٹی کو پکڑا کر بولیں بس یہ سرپرائز اب اپنی ساس اور نند کو کسطرح دینا ہے یہ تمھارا کام ہے .ماہا نے ماں کی بات سمجھتے ھوۓ انکو خوش ہو کر گلے لگایا مدھم سی آواز میں سوری کہا جلدی سے کچن میں کام کرتی بھاوج سے مل کر دروازے کی جانب لپکی -ماں جی بھی پیچھے ہو لیں رکشے والا پلیٹ میں چمٹا ہوا جام چاٹنے میں مصروف تھا۔ انہیں دیکھ کر کچھ خفگی اور کچھ شکر گزار لہجے میں بولا " امّاں دیر کرا دی ،اب سواری بھی ملے کہ نہیں اس ٹیم پر " ماہا نے کہا "ہے سواری ......جہاں سے لیا تھا وہاں واپس بھی جانا ہے " رکشے والے نے یہ سنتے ہی چابکدستی سے رکشے میں بیٹھ کر لیور کھینچ ڈالا ..... اللہ تعالیٰ کے ڈھیروں شکر کے ساتھ اسکی حفاظت میں اپنی نگاہوں سے دور ہوتی بیٹی کو دیتے ہوئے ماں جی گھر کا دروازہ بند کرتے ہوئے مسکرا رہی تھیں کہ رکشے کی پھٹ پھٹ انہیں زندگی بھر کبھی اتنی سریلی نہ لگی تھی جتنی اس دم لگ رہی تھی۔ 🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🕋 کعبہ پر ہونے والے 5 تاریخی حملے 🕋 کعبہ، بیت اللہ، دنیا بھر کے مسلمانوں کے دلوں کی دھڑکن ہے۔ یہ وہ مقدس گھر ہے جس کے بارے میں قرآن میں ارشاد ہوا: "وَمَن دَخَلَهُ كَانَ آمِنًا" (آلِ عمران: 97) ترجمہ: "جو اس میں داخل ہوا، وہ امن پا گیا۔" لیکن تاریخ کے اوراق پلٹنے سے ایک انتہائی تلخ حقیقت سامنے آتی ہے کہ اس گھر کی حرمت پر کئی بار حملہ ہوا۔ حیران کن بات یہ ہے کہ ان میں سے زیادہ تر حملے مسلمانوں ہی کے ہاتھوں ہوئے، جو سیاسی اقتدار، فرقہ واریت یا ذاتی مفادات کے سبب اس مقدس گھر کو بھی نشانہ بنانے سے نہ چوکے۔ یہ بلاگ ایک جامع جائزہ ہے ان حملوں کا، جو کعبہ کی حرمت کو پامال کرتے رہے۔ ہم نہ صرف ان حملوں کی تفصیلات بیان کریں گے بلکہ ان کے اسباب، نتائج اور سبق بھی تلاش کریں گے۔ --- ✨ فہرست 1. ابرہہ کا حملہ (عام الفیل – 570 عیسوی) 2. یزید بن معاویہ کے دور میں حملہ (64 ہجری / 683 عیسوی) 3. حجاج بن یوسف کا محاصرہ (73 ہجری / 692 عیسوی) 4. قرمطیوں کا خوفناک حملہ (317 ہجری / 930 عیسوی) 5. مسجد الحرام پر قبضہ (1979 عیسوی) 6. کعبہ کی حرمت اور مسلمانوں کے لیے پیغام --- 1️⃣ ابرہہ کا حملہ (عام الفیل – 570 عیسوی) 🐘 📜 پس منظر ابرہہ یمن کا حبشی گورنر تھا۔ اس نے صنعاء میں ایک شاندار گرجا بنایا تاکہ عرب حج کے لیے وہاں آئیں۔ لیکن جب کسی عرب نے اس گرجے کی بے حرمتی کی تو ابرہہ نے کعبہ کو منہدم کرنے کا عزم کر لیا۔ ⚔️ حملہ ابرہہ ایک بڑے لشکر کے ساتھ نکلا، جس میں ہاتھی بھی شامل تھے۔ لیکن جب وہ کعبہ پر حملہ کرنے لگا تو اللہ نے ابابیل پرندے بھیجے، جنہوں نے کنکریاں مار کر اس لشکر کو تباہ کر دیا۔ قرآن کی سورۃ الفیل اسی واقعے کی وضاحت کرتی ہے۔ 📌 نتیجہ یہ معجزہ اس بات کی دلیل ہے کہ کعبہ کی حفاظت اللہ تعالیٰ خود فرماتا ہے۔ اسی سال رسول اللہ ﷺ کی ولادت ہوئی، جسے "عام الفیل" کہا جاتا ہے۔ --- 2️⃣ یزید کے دور میں کعبہ پر حملہ (64 ہجری / 683 عیسوی) 🔥 📜 پس منظر یزید بن معاویہ کی خلافت کے خلاف مکہ میں عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے علمِ بغاوت بلند کیا۔ یزید نے اپنی فوج کو حکم دیا کہ مکہ کا محاصرہ کریں اور ابن زبیر کو کعبہ سے نکالیں۔ ⚔️ واقعہ حصین بن نمیر کی قیادت میں فوج نے منجنیقوں کے ذریعے کعبہ پر پتھر اور آگ برسائی۔ اس حملے میں: کعبہ کا غلاف جل گیا۔ دیواریں ٹوٹ گئیں۔ حجر اسود کے کئی ٹکڑے ہو گئے۔ 📌 نتیجہ یزید کی موت کے بعد محاصرہ ختم ہوا، لیکن امت مسلمہ میں گہری دراڑ پیدا ہو گئی۔ ابن زبیر نے بعد میں کعبہ کی تعمیر ابراہیمی بنیادوں پر دوبارہ کی۔ --- 3️⃣ حجاج بن یوسف کا حملہ (73 ہجری / 692 عیسوی) 🩸 📜 پس منظر یزید کے بعد عبداللہ بن زبیر نے خلافت کا اعلان کیا، لیکن عبدالملک بن مروان نے شام میں خلافت قائم کر لی۔ اس نے حجاج بن یوسف کو بھیجا تاکہ ابن زبیر کو شکست دی جائے۔ ⚔️ محاصرہ مکہ کا 8 ماہ تک محاصرہ کیا گیا۔ کعبہ پر پھر منجنیقوں سے حملے ہوئے۔ شہر میں بھوک اور پیاس سے لوگ مرنے لگے۔ آخرکار ابن زبیر شہید کر دیے گئے اور ان کی لاش لٹکا دی گئی۔ 📌 نتیجہ کعبہ دوبارہ نقصان کا شکار ہوا۔ بعد میں حجاج نے اس کی تعمیر پرانی قریشی بنیادوں پر کروائی۔ یہ واقعہ اسلامی تاریخ کے سیاہ ترین ابواب میں شمار ہوتا ہے۔ --- 4️⃣ قرمطیوں کا حملہ (317 ہجری / 930 عیسوی) 💀 📜 پس منظر قرمطی، ایک انتہا پسند اسماعیلی فرقہ تھا، جو خلافتِ عباسیہ اور حج کے نظام کے خلاف تھا۔ ان کا لیڈر ابو طاہر قرمطی مکہ پر حملہ آور ہوا۔ ⚔️ وحشیانہ واقعہ ذوالحجہ میں حاجیوں کو قتل کیا گیا۔ ہزاروں لاشیں مسجد الحرام میں گر گئیں۔ لاشوں کو زمزم میں پھینک دیا گیا۔ کعبہ کا دروازہ اور غلاف لوٹ لیا گیا۔ حجر اسود اکھاڑ کر بحرین لے جایا گیا، جو 22 سال بعد واپس آیا۔ 📌 نتیجہ یہ واقعہ امت مسلمہ کے لیے سب سے بڑا زخم تھا۔ اس حملے نے حج کے تقدس کو بھی پامال کر دیا۔ --- 5️⃣ مسجد الحرام پر قبضہ (1979 عیسوی) 🔫 📜 پس منظر جہیمان العتیبی اور اس کے ساتھیوں نے یہ دعویٰ کیا کہ ان کا بہنوئی "مہدی" ہے۔ وہ سعودی حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے اور مکہ کو اپنا مرکز بنانے کی کوشش کی۔ ⚔️ واقعہ 1 محرم 1400 ہجری کو یہ گروہ مسجد الحرام پر قابض ہو گیا۔ سینکڑوں حاجی یرغمال بن گئے۔ دو ہفتوں تک خونریز لڑائی ہوئی، سعودی فوج نے فرانسیسی کمانڈوز کی مدد سے آپریشن کیا۔ 📌 نتیجہ سینکڑوں افراد مارے گئے، لیکن آخرکار مسجد الحرام آزاد کرائی گئی۔ یہ واقعہ اسلامی دنیا میں شدت پسندی کے نئے باب کا آغاز تھا۔ 🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔ https://t.me/islamwitheman/6924 ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

photo content

*شیخ بلخی کا شاگرد* ایک روز شیخ شقیق بلخیؒ نے اپنے شاگرد حاتمؒ سے پوچھا.. "حاتم! تم کتنے دنوں سے میرے ساتھ ہو..؟" حاتم نے کہا.. "بتیس برس سے.." شیخ نے پوچھا.. "بتاؤ اتنے طویل عرصے میں تم نے مجھ سے کیا سیکھا..؟" حاتم نے کہا.. "صرف آٹھ مسئلے.." شیخ نے کہا.. "انا للہ وانا الیہ راجعون.. میرے اوقات تیرے اوپر ضائع چلے گئے.. تُو نے صرف آٹھ مسئلےسیکھے..؟" حاتم نے کہا.. "استادِ محترم! زیادہ نہیں سیکھ سکا اور جھوٹ بھی نہیں بول سکتا.." شیخ نے کہا.. "اچھا بتاؤ کیا سیکھا ھے..؟" حاتمؒ نے کہا.. "میں نے مخلوق کو دیکھا تو معلوم ہوا ہر ایک کا محبوب ہوتا ھے قبر میں جانے تک.. جب بندہ قبر میں پہنچ جاتا ھے تو اپنے محبوب سے جدا ہو جاتا ھے.. اس لیے میں نے اپنا محبوب "نیکیوں" کو بنا لیا ھے کہ جب میں قبر میں جاؤں گا تو یہ میرا محبوب میرے ساتھ قبر میں رھے گا.. 🌿 2: لوگوں کو دیکھا کہ کسی کے پاس قیمتی چیز ھے تو اسے سنبھال کر رکھتا ھے اور اس کی حفاظت کرتا ھے.. پھر فرمانِ الہی پڑھا.. "جو کچھ تمہارے پاس ھے وہ خرچ ہو جانے والا ھے.. جو کچھ اللہ کے پاس ھے وہی باقی رہنے والا ھے.." (سورۃ النحل آیت 96) تو جو چیز مجھے قیمتی ہاتھ آئی اسے اللہ کی طرف پھیر دیا تا کہ اس کے پاس محفوظ ہو جائے جو کبھی ضائع نہ ہو..🌿 3: میں نے خدا کے فرمان پر غور کیا.. "اور جس نے اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے کا خوف کیا اور نفس کو بُری خواہشات سے باز رکھا' جنت اسی کا ٹھکانہ ہو گا.." (سورۃ النازعات آیت 40) تو اپنے نفس کو بُرائیوں سے لگام دی.. خواہشاتِ نفسانی سے بچنے کی محنت کی , یہاں تک کہ میرا نفس اطاعتِ الٰہی پر جم گیا.. 🌿 4: لوگوں کو دیکھا ہر ایک کا رجحان دنیاوی مال، حسب نسب، دنیاوی جاہ و منصب میں پایا.. ان امور میں غور کرنے سے یہ چیزیں ہیچ دکھائی دیں.. اُدھر فرمان الٰہی دیکھا.. "درحقیقت اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ھے جو تمہارے اندر سب سے زیادہ پرہیزگار ھے.." (سورۃ الحجرات آیت 13) تو میں نے تقوٰی اختیار کیا تاکہ اللہ کے ہاں عزت پاؤں.. 🌿 5: لوگوں میں یہ بھی دیکھا کہ آپس میں گمانِ بد رکھتے ہیں، ایک دوسرے کو بُرا کہتے ہیں.. دوسری طرف اللہ کا فرمان دیکھا.. "دنیا کی زندگی میں ان کی بسر اوقات کی ذرائع تو ہم نے ان کے درمیان تقسیم کیے ہیں.." (سورۃ الزخرف آیت 32) اس لیے میں حسد کو چھوڑ کر خلق سے کنارہ کر لیا اور یقین ہوا کہ قسمت صرف اللہ کے ہاتھ میں ھے.. خلق کی عداوت سے باز آگیا.. 🌿 6: لوگوں کو دیکھا کہ ایک دوسرے سے سرکشی اور کشت و خون کرتے ہیں.. اللہ کی طرف رجوع کیا تو فرمایا.. "درحقیقت شیطان تمہارا دشمن ھے اس لیے تم بھی اسے اپنا دشمن سمجھو۔" (سورۃ فاطر آیت 6) اس بنا پر میں نے صرف اس اکیلے شیطان کو اپنا دشمن ٹھہرا لیا اور اس بات کی کوشش کی کہ اس سے بچتا رہوں.. 🌿 7: لوگوں کو دیکھا پارہ نان (روٹی کے ٹکرے) پر اپنے نفس کو ذلیل کر رہے ہیں، ناجائز امور میں قدم رکھتے ہیں.. میں نے ارشادِ باری تعالٰی دیکھا.. "زمین پر چلنے والا کوئی جاندار ایسا نہیں ھے جس کا رزق اللہ کے ذمے نہ ہو.." (سورۃ ہود آیت6) پھر میں ان باتوں میں مشغول ہوا جو اللہ کے حقوق میرے ذمے ہیں.. اس رزق کی طلب ترک کی جو اللہ کے ذمے ھے.. 🌿 8: میں نے خلق کو دیکھا، ہر ایک کسی عارضی چیز پر بھروسہ کرتا ھے.. کوئی زمین پر بھروسہ کرتا ھے، کوئی اپنی تجارت پر، کوئی اپنے پیشے پر، کوئی بدن پر، کوئی ذہنی اور علمی صلاحیتوں پر بھروسہ کیے ہوئے ھے.. میں نے خدا کی طرف رجوع کیا.. یہ ارشاد دیکھا.. "جو اللہ پر بھروسہ کرے اس کے لیے وہ کافی ھے.." (سورۃ طلاق آیت3) تو میں نے اپنےخدا پر توکل کیا.. وہی مجھے کافی ھے.." 🌿 شیخ بلخیؒ نے فرمایا.. "اے میرے پیارے شاگرد حاتم! خدا تمہیں ان کی توفیق نصیب کرے.. میں نے قرآن کے علوم پر مطالعہ کیا تو ان سب کی اصل جڑ انہی آٹھ مسائل کو پایا.. ان پر عمل کرنے والا گویا چاروں آسمانی کتابوں کا عامل ہوا.." 🔷🔷🔷🔷🔷

👈4. فقہاء کے اقوال: حافظ ابن قیم الجوزیہ رحمہ اللہ: "لا مصلحة دنيوية ولا دينية في ثقب أذن الطفل، بل هو إيذاء عضو من أعضائه، وهو غير جائز." ترجمہ: "بچے کے کان چھیدوانے میں نہ کوئی دنیاوی مصلحت ہے اور نہ ہی دینی۔ یہ صرف اس کے ایک عضو کو نقصان پہنچانا ہے، جو کہ جائز نہیں۔" (تحفة المودود بأحكام المولود، ص: 143) ابن الخاص: "ثقب أذن الطفل بدعة، يجب إنكارها والمنع منها." ترجمہ: "بچے کے کان چھیدنا بدعت ہے، اس کا انکار کرنا اور اس سے منع کرنا واجب ہے۔" امام اسحاق بن راہویہ رحمہ للہ:0) 5. عورتوں کے لیے کان چھیدوانے کا حکم: عورتوں کے لیے کان چھیدوانا اور بالیاں پہننا جائز ہے، کیونکہ یہ ان کی زینت کا حصہ ہے۔ اس کی دلائل درج ذیل ہیں: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے حدیث ام زرع: "أناس من حلي أذني." ترجمہ: "اس نے زیورات سے میرے کان لچکا دیے۔" (صحیح بخاری، حدیث نمبر: 5189؛ صحیح مسلم، حدیث نمبر: 2448) سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما: "فجعلت المرأة تلقي قرطها." ترجمہ: "عورتیں اپنی بالیاں اتار کر دینے لگیں۔" (صحیح بخاری، حدیث نمبر: 5873؛ صحیح مسلم، حدیث نمبر: 890) محمد بن محمود السروشنی الحنفی (م: 632ھ): "ولا بأس بثقب أذن الطفل من البنات، لأنهم يفعلون ذلك زمن النبي صلى الله عليه وسلم من غير إنكار." ترجمہ: "بچیوں کے کان چھیدوانے میں کوئی حرج نہیں، کیونکہ عہد نبوی میں لوگ یہ کام بغیر کسی انکار کے کرتے تھے۔" (جامع أحكام الصغار، ص: 122) 6. یورپی عیسائیت میں مردوں کا کان چھیدوانا اور بالیاں پہننا زیادہ تر غیر مسلم لڑکوں میں دیکھا جاتا ہے۔ یورپی عیسائیت: مردوں کے لیے کان چھیدوانا اور بالیاں پہننا یورپی عیسائی ثقافت کا عمومی حصہ نہیں رہا۔ قرون وسطیٰ اور ابتدائی جدید یورپ میں بالیاں زیادہ تر عورتوں، ملاحوں، یا بعض خاص گروہوں (مثلاً خانہ بدوش یا فنکار) سے منسوب تھیں۔ عیسائی معاشرے میں مردوں کا زیورات پہننا اکثر نسوانیت سے تعبیر کیا جاتا تھا یا نچلے طبقات سے منسوب تھا، کیونکہ یہ مردانہ معیار کے خلاف تھا۔ تاہم، 1980 کی دہائی سے مغربی معاشروں میں بالیاں مردوں کے لیے فیشن کے طور پر مقبول ہوئیں، جو کہ موسیقی کے رجحانات (مثلاً پنک، گوٹھ، اور راک) اور مشہور شخصیات کے اثر کی وجہ سے تھا، نہ کہ عیسائی مذہبی روایات کی وجہ سے۔ دیگر ثقافتیں: مردوں کا کان چھیدوانا مختلف غیر مسلم ثقافتوں میں رائج رہا ہے۔ مثلاً: قدیم مصر میں، اعلیٰ طبقے کے مرد دولت اور طاقت کے اظہار کے لیے بالیاں پہنتے تھے۔ جنوبی ایشیا (مثلاً ہندوستان، پاکستان) کی بعض قبائلی روایات میں مرد بالیاں پہنتے ہیں، جو کہ مذہبی سے زیادہ ثقافتی روایت ہے۔ سترہویں اور اٹھارویں صدی کے بحری قزاقوں اور ملاحوں میں بالیاں خوش قسمتی یا تجربے کی علامت سمجھی جاتی تھیں۔ جدید مغربی ثقافت میں، بیسویں صدی کے آخر میں بالیاں مردوں میں فیشن کے طور پر مقبول ہوئیں، جو کہ پاپ کلچر، موسیقی، اور میڈیا کے اثر کی وجہ سے تھا، نہ کہ عیسائیت سے۔ اسلامی نقطہ نظر: جیسا کہ حدیث سے ثابت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں کے عورتوں سے مشابہت اختیار کرنے پر لعنت فرمائی۔ مردوں کا بالیاں پہننا جدید مغربی فیشن سے زیادہ تعلق رکھتا ہے، نہ کہ عیسائی مذہبی روایات سے۔ اسلامی شریعت میں یہ عمل عورتوں کی مشابہت اور فطرتِ مردانہ سے انحراف کی وجہ سے حرام ہے۔ : آپ نے ذکر کیا کہ آپ نے زیادہ تر غیر مسلم لڑکوں کو بالیاں پہنتے دیکھا۔ یہ جدید مغربی رجحان سے مطابقت رکھتا ہے، جو کہ 1980 کی دہائی سے پاپ کلچر، موسیقی (مثلاً پنک راک، ہپ ہاپ)، اور مشہور شخصیات کے اثر سے مقبول ہوا۔ یہ عمل عیسائی مذہبی تعلیمات سے منسلک نہیں، بلکہ سیکولر فیشن سے تعلق رکھتا ہے۔ : مردوں کا بالیاں پہننا یورپی عیسائیت کا کوئی خاص فیشن نہیں، بلکہ یہ مختلف غیر مسلم ثقافتوں اور جدید سیکولر رجحانات سے تعلق رکھتا ہے۔ اسلامی شریعت میں یہ عمل حرام ہے، کیونکہ یہ عورتوں کے ساتھ مشابہت اور خلقتِ الٰہی میں تبدیلی کے زمرے میں آتا ہے۔ 🔷🔷🔷🔷🔷

*مردوں کا کان چھدوانا* مرد کے لیے کانوں کو چھیدوا کر بالیاں وغیرہ ڈالنا شرعاً کیسا ہے؟ ✍️حسن راجپوت اسلامی شریعت میں مردوں کے لیے کان چھیدوانا اور بالیاں یا دیگر زیورات پہننا جائز نہیں، کیونکہ یہ عورتوں کے ساتھ مشابہت (تشبہ بالنساء) کے زمرے میں آتا ہے، جو کہ قرآن کریم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث اور فرامین اہل بیت علیہم السلام سے منع ہے۔ اس کے علاوہ، یہ عمل اللہ کی بنائی ہوئی فطرت میں تبدیلی اور شیطانی وسوسوں کی پیروی کے مترادف ہے۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں کیا ارشاد فرمایا ہے 1. 👈سورۃ النساء (4:119) وَلَأُضِلَّنَّهُمْ وَلَأُمَنِّيَنَّهُمْ وَلَآمُرَنَّهُمْ فَلَيُبَتِّكُنَّ آذَانَ الْأَنْعَامِ وَلَآمُرَنَّهُمْ فَلَيُغَيِّرُنَّ خَلْقَ اللَّهِ ۚ وَمَن يَتَّخِذِ الشَّيْطَانَ وَلِيًّا مِّن دُونِ اللَّهِ فَقَدْ خَسِرَ خُسْرَانًا مُّبِينًا ترجمہ: "اور میں انہیں گمراہ کروں گا، اور انہیں (باطل) امیدیں دلاؤں گا، اور انہیں حکم دوں گا کہ وہ جانوروں کے کان کاٹ دیں، اور انہیں حکم دوں گا کہ وہ اللہ کی بنائی ہوئی خلقت کو بگاڑ دیں۔ اور جو شخص اللہ کے بجائے شیطان کو اپنا ولی بنائے، وہ یقیناً کھلا نقصان اٹھائے گا۔" : اس آیت میں شیطان کی طرف سے خلقتِ الٰہی میں تبدیلی کا ذکر ہے۔ مردوں کا عورتوں کی طرح زیورات پہننا فطرتِ مردانہ سے انحراف ہے، جو کہ شیطان کے کام ہیں۔ 👈سورۃ الروم (30:30) فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفًا ۚ فِطْرَتَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا ۚ لَا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّهِ ۚ ذَٰلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ ترجمہ: "پس اپنا رخ خالص دین کی طرف رکھو، اس فطرت کے مطابق جس پر اللہ نے انسانوں کو پیدا کیا۔ اللہ کی بنائی ہوئی خلقت میں کوئی تبدیلی نہیں کی جا سکتی۔ یہی دین قیم ہے۔" یہ آیت فطرتِ الٰہی پر قائم رہنے کی تلقین کرتی ہے۔ مردوں کا عورتوں کی طرح بالیاں پہننا فطرتِ مردانہ سے ہٹ کر ہے اور حرام ہے۔ 2. احادیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم: حدیث: 👈عن ابن عباس رضي الله عنهما قال: لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم المتشبهين من الرجال بالنساء والمتشبهات من النساء بالرجال. ترجمہ: "سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں میں سے ان پر لعنت فرمائی جو عورتوں سے مشابہت اختیار کریں، اور عورتوں میں سے ان پر لعنت فرمائی جو مردوں سے مشابہت اختیار کریں۔" (صحیح بخاری، کتاب اللباس، حدیث نمبر: 5546؛ صحیح مسلم، حدیث نمبر: 5887) : بالیاں پہننا عورتوں کی زینت کا حصہ ہے۔ مرد کا یہ عمل عورتوں کے ساتھ مشابہت کے زمرے میں آتا ہے، جو کہ حرام ہے۔ حدیث: عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "صنفان من أهل النار لم أرهما..." (صحیح مسلم، حدیث نمبر: 2128) : یہ حدیث غیر فطری اور غیر شرعی اعمال کی ممانعت کو واضح کرتی ہے۔ 👈3. اہل بیت علیہم السلام کے فرامین اہل بیت علیہم السلام نے خلقتِ الٰہی میں تبدیلی کو شیطانی عمل قرار دیا ہے۔ 👈امام محمد باقر علیہ السلام: قال الإمام الباقر عليه السلام: "إنّ تغيير خلق الله هو الخروج عن فطرة التوحيد والطاعة لله، وهو من وسوسة الشيطان." ترجمہ: "خلقتِ الٰہی میں تبدیلی فطرتِ توحید اور اللہ کی اطاعت سے نکلنا ہے، اور یہ شیطان کے وسوسوں سے ہے۔" (ماخوذ از: تفسیر القمی، ج1، ص143، سورۃ النساء کی تفسیر) 👈امام جعفر صادق علیہ السلام: قال الإمام الصادق عليه السلام: "من اتبع الشيطان في تغيير خلق الله فقد خسر خسرانًا مبينًا." ترجمہ: "جو شخص شیطان کی پیروی کرتے ہوئے اللہ کی خلقت کو تبدیل کرتا ہے، وہ کھلا نقصان اٹھاتا ہے۔" (ماخوذ از: وسائل الشیعہ، ج12، ص223) 👈امام علی رضا علیہ السلام: قال الإمام الرضا عليه السلام: "إنّ الله خلق الرجل على فطرة الرجولة والمرأة على فطرة الأنوثة، فمن تشبّه بغير فطرته فقد عصى الله." ترجمہ: "اللہ نے مرد کو مردانگی کی فطرت پر اور عورت کو نسوانیت کی فطرت پر پیدا کیا۔ جو شخص اپنی فطرت کے خلاف مشابہت اختیار کرے، اس نے اللہ کی نافرمانی کی۔" (ماخوذ از: عیون اخبار الرضا، ج2، ص45) 👈امام حسن عسکری علیہ السلام: قال الإمام العسكري عليه السلام: "التشبّه بالنساء من الرجال والتشبّه بالرجال من النساء من الكبائر التي نهى الله عنها." ترجمہ: "مردوں کا عورتوں سے مشابہت اور عورتوں کا مردوں سے مشابہت اختیار کرنا ان بڑے گناہوں میں سے ہے جن سے اللہ نے منع کیا۔" (ماخوذ از: بحار الانوار، ج74، ص312) : اہل بیت علیہم السلام کے یہ اقوال واضح کرتے ہیں کہ مردوں کا عورتوں کی طرح زیورات پہننا فطرتِ الٰہی سے انحراف اور شیطان کی پیروی ہے، جو کہ حرام ہے۔اہل سنت

*💥ستلج، راوی اور چناب میں 3 ستمبر تک انتہائی اونچے درجے کا سیلاب جاری رہنے کا خدشہ* *🌼پنجاب میں سیلاب سے 30 اموات، ہزاروں دیہات زیر آب، 15 لاکھ سے زائد شہری متاثر ، 4 لاکھ 81 ہزار افراد محفوظ مقامات پر منتقل، ملتان سے 3 لاکھ افراد کی نقل مکانی، بلوچستان میں 2 ستمبر کو سیلاب داخل ہونے کا خدشہ*

یہ "Flood Routing Map" پاکستان کے پانچ بڑے دریاؤں (سندھ، جہلم، چناب، راوی، ستلج) میں سیلابی پانی کے بہاؤ کا وقت (Lag Time) ظاہر کرتا ہے، جو مختلف مقامات سے گزرتے ہوئے بحرِ عرب تک پہنچتا ہے۔ اس نقشے میں 1990–2020 کے درمیان نظرِ ثانی شدہ وقت (سبز رنگ) اور 1960–1990 کے پرانے وقت (سرخ رنگ) کا تقابلی جائزہ دیا گیا ہے۔ 1. دریائے سندھ (Indus River) دریائے سندھ، پاکستان کا سب سے بڑا دریا ہے، جو اس نقشے میں گلگت بلتستان کے اسکردو سے شروع ہو کر بحرِ عرب میں جا گرتا ہے۔ اس کے مختلف اسٹیشنز اور Lag Times درج ذیل ہیں: اسکردو سے پرتاب برج: 12 گھنٹے پرتاب برج سے بشام: 19 (پرانا) / 18 (نیا) بشام سے تربیلا ڈیم: 6 گھنٹے تربیلا سے کالا باغ (کابل دریا کے ملاپ کے بعد): 26 گھنٹے کالا باغ سے چشمہ: 12 گھنٹے چشمہ سے تونسہ: 58 (نیا) / 61 (پرانا) تونسہ سے گڈو: 84 (نیا) / 72 (پرانا) گڈو سے سکھر: 32 (نیا) / 24 (پرانا) سکھر سے کوٹری: 173 (نیا) / 178 (پرانا) 2. دریائے جہلم (Jhelum River) دریائے جہلم کشمیر کے علاقے کوہالہ سے شروع ہو کر منگلا ڈیم سے گزرتا ہے: کوہالہ سے منگلا ڈیم: 5 گھنٹے منگلا سے رسول: 18 (نیا) / 17 (پرانا) رسول سے چناب کے ساتھ ملحقہ: 64 گھنٹے 3. دریائے چناب (Chenab River) یہ دریا بھارت کے زیرِ انتظام جموں سے آکر پاکستان کے مختلف مقامات سے گزرتا ہے: اکھنور سے مارالہ: 5 (نیا) / 6 (پرانا) مارالہ سے کھنکی: 9 (نیا) / 9 (پرانا) کھنکی سے قادرآباد: 6 گھنٹے قادرآباد سے تریمو: 64 (نیا) / 48 (پرانا) تریمو سے پنجند: 81 (نیا) / 84 (پرانا) 4. دریائے راوی (Ravi River) یہ دریا نسبتاً چھوٹا مگر اچانک سیلابی ریلوں کے لیے مشہور ہے: مادھوپور سے جسار: 12 گھنٹے جسار سے شاہدرہ: 22 (نیا) / 24 (پرانا) شاہدرہ سے بلوکی: 19 (نیا) / 18 (پرانا) بلوکی سے سدھنائی: 48 (نیا) / 56 (پرانا) سدھنائی سے پنجند: 63 (نیا) / 60 (پرانا) 5. دریائے ستلج (Sutlej River) ستلج بھارت سے آ کر پاکستان میں داخل ہوتا ہے: ہریکے سے گنڈا سنگھ والا: 19 (نیا) / 24 (پرانا) گنڈا سنگھ والا سے سلیمانکی: 53 (نیا) / 48 (پرانا) سلیمانکی سے اسلام: 60 (نیا) / 42 (پرانا) اسلام سے پنجند: 74 (نیا) / 72 (پرانا) نوٹ : 2023 کے فلڈ میں جب تک اسلام سے سیلاب چل رہا تھا بہاولپور کی انتظامیہ غفلت میں ڈوبی رہی اور بہاول پور برج کے نیچے مٹی کو صاف نہ کر سکی جس کی وجہ سے آدم واہن سے پیچھے لال سہنارا تک بڑی آبادی نے نقصان جھیلا ۔مطلب کوئی بھی دریا کہیں بھی انتظامی غلفت کی وجہ سے نقصان کرتا ہے تو اس کو جان بوجھ کر سمجھا جائے وجہ وقت کی قلت نہیں ہوتی بلکہ انتظامیہ کی غلفت ہوتی ہے۔ ہمیں فالو کر لیں شکریہ #pakistan_river_updates

photo content

*💥ستلج، راوی اور چناب میں 3 ستمبر تک انتہائی اونچے درجے کا سیلاب جاری رہنے کا خدشہ* *🌼پنجاب میں سیلاب سے 30 اموات، ہزاروں دیہات زیر آب، 15 لاکھ سے زائد شہری متاثر ، 4 لاکھ 81 ہزار افراد محفوظ مقامات پر منتقل، ملتان سے 3 لاکھ افراد کی نقل مکانی، بلوچستان میں 2 ستمبر کو سیلاب داخل ہونے کا خدشہ*

ایشیائی ترقیاتی بینک کا پاکستان کے لئے 30 لاکھ ڈالر ہنگامی امداد کا اعلان۔

🛑 اگلے 12 سے 18 گھنٹوں کے درمیان سیلاب کے خدشات، گوجرانوالہ، گجرات اور لاہور ڈویژن میں شدید بارشوں کی پیشگوئی، محکمہ موسمیات

🛑:Emergency Alert: دریائے راوی میں ہیڈ بلوکی کے مقام پر بہاو میں اضافہ (180410 کیوسک) اور انتہائی اونچے درجے کا سیلاب

🛑دریائے ستلج گنڈا سنگھ والا کے مقام پر خطرناک حالت میں تبدیل ہوگیا ہے شہری ہوشیار رہیں 🛑Emergency Alert ⚠️

🛑⚠️ ناروال کے عوام الرٹ رہیں : نارروال میں نالہ ڈیک میں بڑا پانی کا ریلہ آنے والا ہے، محفوظ مقام پر منتقل ہو جائیں، الرٹ جاری