fa
Feedback

فریب کلاهبرداران را نخورید! تل‌متریو این کانال‌ها را شناسایی و برچسب‌گذاری می‌کند 👉 برای مشاهده برچسب، اشتراک تهیه کنید

ISLAM WITH EMAN

ISLAM WITH EMAN

رفتن به کانال در Telegram

اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات... ایڈمن سے رابطہ کیلئے: @syedsajjadhamdani

نمایش بیشتر
1 288
مشترکین
اطلاعاتی وجود ندارد24 ساعت
-47 روز
-430 روز
آرشیو پست ها
👅 زبان کی حفاظت 👅 زبان کو بے معنی باتوں سے محفوظ رکھو کہ فرزند آدم کی خطاؤں کا زیادہ حصہ زبان ہی سے متعلق ہے اور زبان سے زیادہ کسی عضو کے گناہ نہیں ہیں۔[1] ٭ خاموشی حکمت کے ابواب میں سے ایک دروازہ ہے۔[2] ٭ اپنی زبان کو ہمیشہ محفوظ رکھو اور صرف وہ بات کرو جو جنت تک پہنچا سکے۔ ٭ بندۂ مومن جب تک خاموش رہتا ہے اسکا شمار نیک کرداروں میں ہوتا ہے۔ ٭ جو شخص دنیا و آخرت کی سلامتی چاہتا ہے اسے چاہئے کہ خاموش رہے۔ ٭ انسان منہ کے بل جہنم میں صرف اپنی زبان کی وجہ سے پھینکا جاتا ہے۔ ٭ پروردگار جب کسی بندے کو نیکی دینا چاہتا ہے تو اس کی زبان محفوظ بنانے میں اس کی مدد کرتا ہے اور اسے دوسروں کے عیوب کے بجائے اپنے جائزہ میں مصروف کردیتا ہے جس کا کلام کم ہوتا ہے اس کی عقل کامل اور قلب صاف ہوتا ہے اور جسکا کلام زیادہ ہوتا ہے اس کی عقل کم اور دل سخت ہوتا ہے۔ ٭ انسان کا ایمان اس وقت درست ہوتا ہے جب دل درست ہوتا ہے اور دل اسی وقت درست ہوتا ہے جب زبان درست ہوتی ہے۔[3] ٭ مومن کی زبان کو دل کے پیچھے رہنا چاہئے کہ پہلے فکر کرے پھر مناسب ہو تو کلام کرے ورنہ خاموش رہے۔ منافق کا معاملہ اس کے بر عکس ہوتا ہے وہ صرف بکتا رہتا ہے اس کی پرواہ نہیں کرتا کہ کیا کہہ رہا ہے۔[4] ٭ خاموشی سے شرمندگی نہیں ہوتی لیکن کلام بعض اوقات دنیا اور آخرت دونوں میں شرمندہ بنا دیتا ہے۔[5] ٭ انسان اپنی زبان کے نیچے چھپا رہتا ہے۔[6] بیٹا! پہلے تولو پھر بولو۔ بات کو عقل و معرفت کے پیمانہ پر پرکھو برائے خدا ہو تو تکلم کرو ورنہ خاموش رہو۔ بالکل خاموش رہو بلکہ گونگے بن جاؤ۔ انسان کے جسم کا ہر عضو زبان سے فریاد کرتا رہتا ہے کہ خدا کے لئے ہمیں جہنم میں نہ ڈال دینا۔ تکلم اور خاموشی کا موازنہ کیا جائے تو تکلم چاندی ہے اور سکوت سونا۔[7] یہ اور بات ہے کہ کبھی کبھی کلام سونا بن جاتا ہے اور خاموشی مٹی بن جاتی ہے اور یہ اس وقت ہوتا ہے جب کلام فقہ، علم دین، موعظہ و نصیحت، آدابِ شریعت اور اخلاقیات سے متعلق ہو۔ بلکہ ایسے وقت میں سکوت زہر قاتل بن جاتا ہے جب امر بالمعروف اور نہی عن المنکر چھوڑ کر سکوت اختیار کیا جائے۔ 📚حوالہ جات: [1] اصول کافی [2] اصول کافی [3] مستدرک وسائل [4] نہج البلاغہ [5] مستدرک وسائل [6] نہج البلاغہ [7] اصول کافی https://t.me/islamwitheman 🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵

💠قرآن سے انسیت كے مراتب🌿 قرآن كے سلسلہ میں مجموعۂ روایات ➊ سے جو درجہ بندی سامنے آٓئی ھے وہ گھر میں قرآن ركھنے سے شروع ھو كر بالاترین درجہ یعنی اس پر عمل كرنے پر جاكر ختم ھوتی ھے۔ قرآن كے علم كے مراتب اور اس كے بطون مندرجہ ذیل ھیں: 🌱الف) گھروں میں قرآن ركھنا 🌱ب) قرآنی آیتوں كی طرف دیكھنا 🌱ج) آیات قرآنی كو غور سے سننا 🌱د) تلاوت قرآن 🌱ھ) قرآن میں غور و فكر كرنا 🌱و) قرآن پر عمل كرنا ➋ ➊الكافی، ج4، ص613، ثواب الاعمال، الصدوق، ص129۔ ➋ الامالی، الطوسی، ص450(ح1016)؛ بحارالانوار، ج38، ص196۔ مصنّف : اصغر ھادوی كاشانی مترجم : سید محمد جعفر زیدی / بشکریہ مجتمع جہانی شیعہ شناسی https://t.me/islamwitheman 🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵

🌻 خدا سے تعلق 🌻 اہلسنت کے امام احمد بن حنبلؒ کہتے ہیں: ایک بار راہ چلتے ہوئے میں نے دیکھا، ایک ڈاکو لوگوں کو لوٹ رہا ہے۔ کچھ دنوں بعد مجھے وہی شخص مسجد میں نماز پڑھتا نظر آیا۔ میں اس کے پاس گیا اور اسے سمجھایا کہ تمہاری یہ کیا نماز ہے۔ خدا کے ساتھ معاملہ یوں نہیں کیا جاتا کہ ایک طرف تم لوگوں کو لوٹو اور دوسری طرف تمہاری نماز خدا کو قبول اور پسند آتی رہے۔ ڈاکو بولا: امام صاحب! میرے اور خدا کے مابین تقریباً سب دروازے بند ہیں۔ میں چاہتا ہوں کوئی ایک دروازہ میرے اور خدا کے مابین کھلا رہے۔ کچھ عرصہ بعد میں حج پر گیا۔ طواف کے دوران دیکھتا ہوں ایک شخص کعبہ کے غلاف سے چمٹ کر کھڑا کہتا جا رہا ہے: میری توبہ، مجھے معاف کردے۔ میں اس نافرمانی کی طرف کبھی پلٹنے والا نہیں۔ میں نے دیکھنا چاہا اس بےخودی کے عالم میں آہیں بھر بھر کر رونے والا کون خوش قسمت ہے۔ کیا دیکھتا ہوں، یہ وہی شخص ہے جسے میں نے بغداد میں ڈاکے ڈالتے دیکھا تھا!!! تب میں نے دل میں کہا: خوش قسمت تھا، جس نے خدا کی طرف جانے والے سب دروازے بند نہیں کر ڈالے؛ خدا مہربان تھا جس نے وہ سبھی دروازے آخر کھول ڈالے! تو کیسے بھی برے حال میں ہو، کتنے ہی گناہگار ہو… خدا کے ساتھ اپنے سب دروازے بند مت کر لینا۔ جتنے دروازے کھلے رکھ سکتے ہو انہیں کھلے رکھنے کےلیے شیطان کے مقابلے پر مسلسل زور مارتے رہنا… اور کبھی ہار مت ماننا۔ کوئی ایک بھی دروازہ یہاں کھلا مل گیا تو کچھ بعید نہیں وہ سب دوروازے ہی کھل جائیں، جن کے بارے میں تمہیں کبھی آس نہ تھی کہ خدا کی جانب سفر میں ان سب خوبصورت راہوں سے تمہارا کبھی گزر ہو گا!!! قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِن رَّحْمَةِ اللَّـهِ ۚ إِنَّ اللَّـهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا ۚ إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ وَأَنِيبُوا إِلَىٰ رَبِّكُمْ وَأَسْلِمُوا لَهُ مِن قَبْلِ أَن يَأْتِيَكُمُ الْعَذَابُ۔ (الزمر) کہہ دو کہ اے میرے بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کر لی ہے! خدا کی رحمت سے ناامید نہ ہونا۔ خدا تو سب گناہوں کو بخش دیتا ہے۔ (اور) وہ تو بخشنے والا مہربان ہے۔ رجوع کر لو اپنے پروردگار سے اس سے پہلے کہ تم پر عذاب آ واقع ہو… خیال رکھنا… خدا کی جانب کبھی پشت مت کرنا! https://t.me/islamwitheman 🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵

🌸 نماز کے احکام 🌸 🔘ٍ نماز دینی اعمال میں سے بہترین عمل ہے۔ اگر یہ بارگاہ الہٰی میں قبول ہوگئی تو دوسری عبادات بھی قبول ہو جائیں گی اور اگر یہ قبول نہ ہوئی تو دوسرے اعمال بھی قبول نہ ہوں گے۔ جس طرح انسان اگر دن رات میں پانچ دفعہ نہر میں نہائے دھوئے تو اس کے بدن پر میل کچیل نہیں رہتی اسی طرح پنج وقتہ نماز بھی انسان کو گناہوں سے پاک کر دیتی ہے اور بہتر ہے کہ انسان اول وقت میں نماز پڑھے جو شخص نماز کو معمولی اور غیر اہم سمجھے وہ اس شخص کی مانند ہے جونماز نہ پڑھتا ہو۔ 🔘 حضور نبی کریمؐ کا ارشاد گرامی ہے کہ جو شخص نماز کو اہمیت نہ دے اور اسے معمولی چیز سمجھے وہ آخر ت میں عذاب کا مستحق ہے۔ ٍ ایک دن حضرت محمدؐ مسجد میں تشریف فرما تھے کہ ایک شخص مسجد میں داخل ہوا اور نماز پڑھنے میں مشغول ہو گیا لیکن رکوع اور سجود مکمل طور پر نہ بجالایا اس پر آپؐ نے فرمایا اگر یہ شخص اس حالت میں مر جائے جبکہ اس کے نماز پڑھنے کا یہ طریقہ ہے تو یہ ہمارے دین پر نہیں مرے گا۔ پس انسان کو خیال رکھنا چاہیے کہ نماز جلدی جلدی نہ پڑھے اور نماز کی حالت میں خدا کی یاد میں رہے اور خشوع و خصو ع اور وقار اور یکسوئی سے نماز پڑھے اور یہ خیال رکھے کہ کس ہستی سے کلام کر رہا ہے اور اپنے آپ کو خداوندعالم کی عظمت اور بزرگی کے مقابلے میں حقیر اور ناچیز سمجھے۔ اگر انسان نماز کے دوران پوری طرح ان باتوں کی طرف متوجہ رہے تو وہ اپنے آپ سے بے خبر ہو جاتا ہے جیسا کہ نماز کی حالت میں حضرت امیرالمؤمنین امام علی علیہ السلام کے پاؤں سے تیر کھنچ لیا گیا اور آپ کو خبر تک نہ ہوئی۔ علاوہ ازیں نماز پڑھنے والے کو چاہیے کہ توبہ و استغفار کرے اور نہ صرف ان گناہوں کو جو نماز قبول ہونے میں مانع ہوتے ہیں مثلاً حسد، تکبر، غیبت، حرام کھانا، شراب پینا اور خمس و زکوٰة کا ادا نہ کرنا، ترک کرے بلکہ تمام گناہ ترک کر دے نیز بہتر ہے کہ جو کام نماز کا ثواب گھٹاتے ہیں وہ نہ کرے ۔ مثلا ً اونگھنے کی حالت میں یا پیشاب روک کر نماز کیلئے کھڑا نہ ہو اور نماز کے موقع پر آسمان کی طرف نہ دیکھے اور وہ کام کرے جو نماز کا ثواب بڑھاتے ہیں مثلا ً عقیق کی انگوٹھی اور پاکیزہ لباس پہننا، گنگھی اور مسواک کرنا اور خوشبو لگانا۔  ■ واجب نمازیں چھ نمازیں واجب ہیں۔۔ (۱) روزانہ کی نمازیں  (۲) نماز آیات  (۳) نماز میت  (۴) خانہ کعبہ کے واجب طواف کی نماز  (۵) باپ کی قضا نمازیں جو بڑے بیٹے پر احتیاط کی بنا پر واجب ہیں۔  (۶) جو نمازیں اجارہ، منت، قسم اور عہد سے واجب ہو جاتی ہیں۔ نماز جمعہ روزانہ کی نمازوں میں سے ہے۔  ■ روزانہ کی واجب نمازیں۔۔ روزانہ کی واجب نمازیں پانچ ہیں:  ظہر اور عصر (ہر ایک چار رکعت) مغرب (تین رکعت) اور فجر (دو رکعت)  ■ روزانہ کی واجب ومستحب نمازیں 🌸واجب نمازیں (17رکعات) 🔘 صبح 2 رکعت 🔘 ظھر 4 رکعت 🔘 عصر 4 رکعت 🔘 مغرب 3 رکعت 🔘 عشاء 4 رکعت 🌸مستحب نمازیں (34رکعات) 🔘 نماز تہجد 11 رکعت 🔘 نماز صبح 2 رکعت 🔘 نماز ظھر 8 رکعت 🔘 نماز عصر 8 رکعت 🔘 نماز مغرب 4 رکعت 🔘 نماز عشاء 1 رکعت 👆🏻نماز عشاء کی دو رکعت بیٹھ کر جو پڑھی جاتی ہے ایک رکعت شمار ہوتی ہے۔ ⛔ مستحب نمازیں دو دو رکعت کی صورت میں پڑھی جائیں گی البتہ نماز عشاء کی ایک رکعت وتر اور نماز تہجد کی آخری ایک رکعت وتر ہوگی۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🌷 خوشحال زندگی کے لئے 🌷 1- آپکو سب سے زیادہ طاقت والے اور سب سے بڑے مالدار کا ساتھ حاصل ھے (الله سبحانہ و تعالیٰ) اس پر اعتماد کریں اور خوش رہیں۔ 2- دن کا آغاز نماز فجر، اذکار اور توکل علی الله سے کریں۔ 3- نماز، تلاوت اور ذکر، چہرے کا نور، دل کا چین اور مزید نیک اعمال کی توفیق کا ذریعہ ھے۔ 4- مصیبتوں، مشقتوں حتٰی کے ذمہ داریوں کے نبھانے میں نماز آپکی مددگار ھے، اسکا سہارہ لیں۔ 5۔ خشوع اور اطمینان سے کیا گیا سجدہ زمین بھر سونے سے بھی بہتر ھے، اسکی قدر کریں۔ 6- نماز اطمینان سے ادا کریں باقی سارے کام اس سے بہت کم اہمیت کے ہیں۔ 7- خشوع سے خالی نماز، آنسو سے خالی آنکھیں محرومی ھے، اس محرومی سے نکلیں۔ 8- تمام فکروں، غموں کا سبب اپنے رب سے دوری ھے، اس دوری کو ختم کردیں۔ 9- افکار اور غم کی کثرت میں کہیں لااله الا اللہ۔ 10- دعا نہ چھوڑیں، یہ کامیابی کی کنجی ھے۔ 11- روپے پیسے سے فقیروں اور مسکینوں کی دعا خریدیں۔ 12- گناھوں سے مسلسل معافی مانگتے رھیں، گناہ بھی معاف رزق میں بھی اضافہ۔ 13- جو جہنم کی آگ یاد رکھے، گناہ سے بچنا اسکے لئے آسان ھو جائیگا۔ 14- مظلوم کی بدعا اور محروم کی آہ سے بچیں۔ 15- اخبار، رسائل سے پہلے کچھ تلاوت قرآن کرلیں۔ 16- قرآن تک ہر وقت رسائی رکھیں، ایک آیت کی تلاوت بھی دنیا ومافیہا سے بہتر ھے۔ 17- سورۃ الملک کی تلاوت نجات کا باعث ھے۔ 18- زندگی انتہائی مختصر ھے۔ غصہ نہ کریں، کسی سے بغض نہ رکھیں۔ 19- بدگمانی سے بچیں، دوسروں کو بھی راحت پہنچائیں اور خود بھی راحت میں رہیں۔ 20۔ دوسروں کو تکلیف دینے سے بہت بچیں۔ 21- بحث مباحثہ چھوڑیے بڑے بڑے کام کرنے کو پڑے ہیں۔ 22- یاد رکھیں زبان سے نکلے کلمات لکھے جارھے ہیں۔ زبان سے کوئی لفظ نکالتے ھوئے سوچیں اسکے اثرات کیا ھونگے، ایک لفظ بعض اوقات مہلک ھو جاتا ھے۔ 23- غیبت کریں نہ سنیں، کوئی کر رہا ہو تو اسکو بھی روکیں۔ 24- جو آپکی غیبت کرے اسکو معاف کردیں وہ تو خود اپنی نیکیاں آپکی نذر کررھا ھے۔ 25- سخت آندھیوں میں امید کا دامن نہ چھوٹے۔ 26- جب رات ھمیشہ نہیں رہتی تو غم، پریشانی کے بادل بھی چھٹ جائیں گے اور تنگی آسانی سے بدل جائیگی۔ 27- آپ اپنی اصلاح کی فکر کریں، آپکا گھرانہ بھی آپکے راستہ پر چلیگا۔ 28- آپکا نفس برائی کی طرف بلاتا ھے، اسکو نیکی میں لگاکر مقابلہ کریں۔ 29- والدین کی قدر کیجئے، انکو نعمت عظمٰی سمجھیں، رضائے الہٰی کا قریبی سبب ھے۔ 30- آخر مردہ یہ تمنا کیوں کریگا کہ وہ واپس آکر صدقہ کرے اس لئے کہ وہ صدقہ کا فائدہ دیکھ لیگا۔ صدقہ کریں، مومن قیامت کے دن اپنے صدقہ کے سائے میں ھوگا۔ بہت ممکن ھے پڑھنے والا لکھنے اور بھیجنے والے سے زیادہ عمل کرلے۔ https://t.me/islamwitheman 🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵

🔶 قرض کے بارے احادیث 🔶 حضرت رسولخدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم: ١۔ قرض لینے سے اجتناب کرو کیونکہ یہ رات کا غم اور دن کی ذلت ہوتا ہے۔ (بحارالانوار، جلد١٠٣، ص١٤١) ٢۔ جوشخص زندہ رہنا چاہتا ہے حالانکہ یہاں کسی نے ہمیشہ زندہ نہیں رہنا تو اسے چاہیئے کہ سویرے بیدار ہو اپنے جوتے ڈھیلے ڈھالے پہنے، اپنی چادر کو خفیف رکھے اور جماع کم کیا کرے۔ پوچھا گیا: اپنی چادر کوخفیف رکھنے کا کیا مقصد ہے؟ فرمایا: قرضے کم لیا کرے۔ (چادر دیکھ کر پاؤں پھیلائے) (وسائل الشیعہ، جلد١٣، ص٧٧) ٣۔ جوشخص کسی مؤمن کو قرضہ دے اور اس کی آسودہ حالی تک اسے مہلت دے تو جب تک قرضہ واپس نہیں ہوجاتا اس کا مال زکوٰۃ ہی سمجھا جائے گا (اسے زکوٰۃ کا ثواب ملے گا) اور وہ خود قرض کی ادائیگی تک ملائکہ کے ورود میں دن رات گزارتا رہے گا۔ (بحارالانوار، جلد١٠٣، ص١٣٩) حضرت علی علیہ السلام: ٤۔ بکثرت قرضہ سچے شخص کو جھوٹا اور بروقت ادا کر دینے والے کو وعدہ خلاف بنا دیتا ہے۔ (غررالحکم) حضرت امام محمد باقرعلیہ السلام: ٥۔ راہ خدا میں شہادت ہر گناہ کو مٹا دیتی ہے سوائے قرض کے کیونکہ اس کا کفارہ صرف اسی صورت میں ہوتا ہے کہ یا تو اسے خود ادا کرے یا اس کا ساتھی اس کی طرف سے ادا کرے یا پھر جس کا حق ہے وہ معاف کردے۔ (وسائل الشیعہ جلد١٣ص٨٣) حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام: ٦۔ چور تین قسم کے ہیں۔۔ ١۔زکوٰۃ ادا نہ کرنے والا، ٢۔بیوی کے حق مہر کو حلال سمجھ کر ادا نہ کرنے والا، ٣۔ادا نہ کرنے کی نیت سے قرض لینے والا۔ (وسائل الشیعہ، جلد١٨، ص٥٢٢) حضرت رسولخدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم: ٧۔ جوشخص یہ چاہتا ہے کہ جس دن عرش الہٰی کے سایہ کے علاوہ کوئی اور سایہ نہیں ہوگا اور وہ عرش الٰہی کے سایہ میں رہے، تو اسے چاہئے کہ تنگدست مقروض کو آسانی حاصل ہونے تک مہلت دے یا اس سے اپنے حق کا مطالبہ کرنا چھوڑ دے۔ (وسائل الشیعہ، جلد١٣، ص١١٣) ٨۔ جو گواہ ٹھہرائے بغیر کسی کو کوئی قرضہ دے اور اس کا حق ضائع ہوجائے تو ١سے اس کے ضائع ہونے کا کوئی اجر نہیں ملے گا۔ (وسائل الشیعہ، جلد١٣، ص٩٣) ٩۔ قرضہ کم سے کم لیا کرو، اس لئے کہ قرضہ جتنا کم ہوگا، عمر اسی قدر زیادہ ہوگی۔ (بحارالأنوار، جلد١٠٣، ص١٤٥) نقل از تفسیر المعین و ترجمۃ القرآن الکریم تالیف: علامہ محمد علی فاضل دام عزہ https://t.me/islamwitheman 🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵

💥⚡✨جنتی باورچی خانہ✨⚡💥 🌺 ان خواتین کے لیے جو چاھتی ھیں انکے گھر کا دستر خوان نورانی اور بابرکت ھو🌺 🌷🍃 جب بھی خریداری کے لیے جائیں سورہ کوثر اور سورہ قدر کی تلاوت کریں تاکہ برکت زیادہ ھو🍃🌷 💐🍃کھانا پکانے سے پہلے اس کھانے کو کسی معصوم علیہ السلام کی خدمت میں نذر کر دیں🍃🌷 🍃🌹🍃ایسا بھی کرسکتے ھیں جو دن کسی معصوم علیہ السلام سے منصوب ھے انکے لیے نذر کردیں اس طرح ھم ھروز کی غذا کسی معصوم علیہ السلام کے نام پر کھائیں گے🍃🌹🍃 🥀🍃پکانے کے دوران سورہ نور کی 35آیت(اللہ نورالسموات والارض) تا(کل شئ علیم) تک تلاوت کریں آپ اس آیت کو باورچی خانے میں لکھ کر لٹکا سکتیں ھیں 🍃🥀 🍃ا🌷سطرح کھانا مزیدار ھوگا اور آپس میں گھر والوں میں پیار ومحبت زیادہ ھوگا 🌷🍃 🥀انکے دل نورانی ھونگے ایک دوسرے کے ساتھ با اخلاق ھونگے🍃🥀 🍂🌾جب کھانا پک چکیں نکالنے سے پہلے سات مرتبہ سورہ قریش کی تلاوت کریں🍂🌾 🌷🌹پکاتے ھوئے جب آپ آج کے پکائے ھو کھانے کو کسی معصوم علیہ السلام کے نام سے منصوب کریں گی تو آپ کو اور گھر والوں کو یہ سوچ کر ھی بہت لطف آئے گا کہ آپ آج کس مصوم علیہ السلام کی نذر کھایں گے 🌹🌷 🍁🌿پکانے سے پہلے وضو کریں🌿🍂 🌷🌷باورچی خانے میں داخل ھونے سے پہلے بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھیں🌷🌷 💐جب آپ یہ دیکھیں کام زیادہ ھےلا حول ولا قوہ الا باللہ پڑھیں💐 💥چولھا روشن کرتے ھوئے اللھم اجرنا من النار( یعنی پروردگار مجھے جہنم کی آگ سے دور رکھ) 💥 🌺پانی کا استعمال کرتے ھوئے پیغمبر صل اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجیں تاکہ انک شفاعت اور حوض کوثر کا پانی پینا نصیب ھو🌺 🌸پھل ااور سبزی کے استعمال کے وقت کہیں اللھم اسئلک الجنہ🌸 🎄کاٹتے ھویے کہیں سبحان اللہ ولحمد للہ🎄 ✨✨جب آپ کا کام ختم ھوجائےشکر پروردگار بجا لائیں✨✨ 🌿🍃اور اگر تھک گئیں اعوذ باللہ پڑھیں🌿🍃 🌷🌷 ان تمام ذکر کو انجام دیتے ھوئے آپ ایک مجاھد کی طرح ہیں اب آپ سوچیں آپ کھانا بھی پکارہی ھیں اور جھاد کا ثواب بھی لے رہی ہیں🌷🌷 👆ایک مراسلہ👆 https://t.me/islamwitheman 🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵

🌺 احترام سادات 🌺 سادات كے احترام ميں مختلف روايات شيعہ و سنى كتب ميں وارد ہوئى ہيں۔ علماء اعلام آيت مودت سے استدلال كرتے ہوئے احترام سادات كى خصوصى تاكيد كرتے ہيں. نيز روايات ميں ہے كہ جس نے اولادِ رسول صلى اللہ عليہ وآلہ وسلم كا احترام كيا آپ صلى اللہ عليہ وآلہ وسلم روزِ قيامت اس كى شفاعت كريں گے۔ 🔻 اللہ تعالٰی نے انسان كى عزت و احترام كا حكم قرآن كريم ميں نازل كيا ہے۔ پھر مؤمن كى جان، مال اور عزت حرمت ركھتا ہے۔ اس ليے مؤمن كى بے احترامى كرنا اور اس كى تذليل كرنا جائز نہيں ہے۔ اگر مومن سيد ہو تو اس كى قدر و قيمت بڑھ جاتى ہے اور اس كا احترام رسول اللہ صلى اللہ عليہ وآلہ وسلم اور جناب زہراء سلام اللہ عليہا كى وجہ سے زيادہ كرنا چاہيے۔ 🔹اگر سيد بداخلاق يا جرائم پيشہ ہو تو ضرورى نہيں ہے كہ اس سے رابطہ قائم كيا جائے۔ البتہ اسے ايسے الفاظ نہيں بول سكتے جو اس كے نسب كى طرف جائيں يا اس كى اس طرح كى تذليل نہيں كر سكتے كہ رسول اللہ صلى اللہ عليہ وآلہ وسلم كى طرف اس كى بازگشت ہو۔ نيز روايات سے ظاہر ہوتا ہے كہ سيد كى بے احترامى كسى صورت نہ كى جائے اور خاموشى سے كنارہ كش ہو جايا جائے۔ ہاں، اگر سيد مجرم ہے تو جرم كى سزا اور قانون كے مطابق حدود اس پر جارى ہوں گى۔ 🔹 سيد كا احترام اس وقت تک ہے جب تک وہ ولايت سے متمسك اور آئمہ اہلبيت عليہم السلام سے بغض و دشمنى كا اظہار نہيں كرتا۔ ليكن اگر كسى پر ناصبى، منافق، كافر، مشرک ۔۔ جيسے عناوين آئيں تو اس صورت ميں حسب كى بنياد پر اسے قابل قدر قرار نہيں ديا جا سكتا۔ اگر سيد اہل ولاء ميں سے ہے يعنى ناصبى و منافق نہيں ہے بلكہ اہلبيت عليہم السلام سے مودت و محبت ركھنے والا ہے ليكن گناہ گار ہے يا بد زبان ہے يا مجرم ہے تو احترام سادات باقى رہے گا ليكن اسے فضيلت و قدر حاصل نہيں ہو گى اور نہ ہى اسے مؤمن و متقى پر برترى دى جائے گى۔ رسوال اللہ صلى اللہ عليہ وآلہ كے احترام كى وجہ سے اس كا احترام كيا جائے گا اور قانونى ضابطوں كى رعايت كى جائے گى، مثلا نمازِ جماعت كے ليے عادل عالم ہونا ضرورى ہے، اب اگر ايک سيد ہے ليكن عادل نہيں ہے تو اسے غيرسيد پر يہاں فضيلت نہيں دى جائے گى، اس كا احترام اپنى جگہ كيا جائے گا ليكن فضيلت اہل فضل و تقوٰی كے ساتھ خاص ہے۔ https://t.me/islamwitheman 🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵

👁نظر بد سے کیا مراد ہے؟👁 نظرِ بد كا تصور شيعہ و سنى ہر دو كتبِ احاديث ميں وارد ہوا ہے۔ اہل سنت اور وہابيوں كا اس پر عقيدہ انتہائى قوى ہے كيونكہ اس سے متعلق روايت ’’بخارى و مسلم‘‘ ميں وارد ہوئى ہے۔ 🔻مكتبِ اہل بيت عليہم السلام ميں تقريبا ۵ كے قريب روايات وارد ہوئى ہيں جوكہ از لحاظ سند ’’ضعيف‘‘ ہيں۔ نہج البلاغہ ميں بھى امام على عليہ السلام كے كلمات وارد ہوئے ہيں جن سے نظرِ بد كے تصور كو سمجھا جا سكتا ہے۔ البتہ نہج البلاغہ ميں منقول كلمات كى سند بھى وارد نہيں ہوئى ہے۔ ليكن اكثر علماء و فقہاء كرام معتبر ذخيرہ حديث ميں وارد ہونے والى ايسى روايات جو استحباب كو بيان كرے اس پر بغير سند كے بھى عمل كرتے ہيں۔ 🔻نظرِ بد كے اگر ہم قائل ہو جائيں تو اس كے ليے بہترين عمل اللہ سبحانہ پر توكل كرنا، صدقہ دينا اور مشكل سے بچنے كى دعا كرنا ہے۔ ليكن اگر كوئى صرف صحيح السند روايات پر نظريہ قائم كرنا چاہے تو پھر نظرِ بد كا كوئى وجود نہيں۔ ايسے موارد ميں احتياط كا دامن نہيں چھوڑنا چاہيے اور تمام مسائل كے حل كى بازگشت اللہ سبحانہ كى طرف پلٹانى چاہيے۔ نيز صدقہ دينے اور دعا پڑھنے ميں كوئى حرج نہيں۔ ليكن كسى سے بداخلاقى كرنا، كسى پر تہمت لگانا، مختلف دھوئيں دينا، كسى سے غلط فہمى پيدا كر لينا۔۔۔ ايسے امور كسى صورت درست نہيں۔ بلكہ غيبت، تہمت، الزام تراشى، غلط فہمى ايجاد كرنا۔۔۔ گناہوں ميں سے ہے. https://t.me/islamwitheman 🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵

🔶 مٹی پر سجدہ 🔶 1- رسولِخداؐ نے فرمایا: جُعِلَتْ لِىَ الاَْرْضُ مَسْجِداً وَ طَهُوراً۔ ترجمہ: زمین میرے لئے سجدہ گاہ اور طہارت (تیمم کا وسیلہ) قرار دیا گیا۔ (صحيح بخارى، جلد 1، صفحه 91 اور سنن بيهقى، جلد 2، صفحه 433 نیز یہ حدیث بہت سی دوسری کتب میں بھی نقل ہوئی ہے) 2- رسولِخداؐ نے فرمایا: "زمین طہور (طہارت اور پاکیزگی کا وسیلہ) بھی ہے اور مسجد اور سجدہ گاہ بھی ہے اور ہم جانتے ہیں کہ جو طہور ہے اس پر تیمم کیا جاسکتا ہے، مٹی اور پتھر زمین ہے چنانچہ مٹی اور پتھر کو سجدہ گاہ بھی ہونا چاہئے"۔ 3- ابوہریرہ سے مروی ہے کہ رسولِخداؐ نے فرمایا: "سجد رسول الله صلى الله عليه وسلم في يوم مطير حتى اني لانظر إلى أثر ذلك في جبهته وأرنبته"۔ ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے بارش کے دن سجدہ کیا حتی کہ میں نے آپ (ص) کی پیشانی اور ناک پر سجدے کے آثار دکھائی دے رہے تھے۔ (مجمع الزوائد، جلد 2، صفحه 126۔ احمد بن حنبل نے مسند کی جلد 3 صفحہ 60 نقل کیا ہے کہ بارش کی وجہ سے مسجد کی چھت ٹھپک رہی تھی چنانچہ رسول اللہ (ص) پانی اور مٹی میں سجدہ فرماتے رہے حتی کہ میں آپ (ص) کی پیشانی پر مٹی کے اثرات دکھائی دیئے۔) راوی 4- ام المؤمنین میمونہ سے روایت ہے: "ورسول الله يصلي على الخمرة فيسجد۔" ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم چٹائی یا حصیر کے ٹکڑے پر نماز پڑھتے اور سجدہ فرمایا کرتے تھے۔ مسلماً حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم حصیر پر نماز پڑھا کرتے تھے۔ (مسند احمد بن حنبل، جلد 6، صفحه 331۔) 5- اہل سنت کے منابع و مآخذ میں متعدد روایات نقل ہوئی ہیں کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم "خمرہ" پر نماز پڑھا کرتے تھے۔ (خمرہ کھجوروں کے پتوں سے تیار کردہ چھوٹی سی چٹائی یا مصلے کو کہا جاتا ہے)۔ عجیب بات یہ ہے کہ اگر شیعہ نماز پڑھتے وقت حصیر کے مصلے یا صفیں بچھائیں تو بعض متعصبین ان پر بدعت کا الزام لگاتے ہیں اور انہیں غضبناک نظروں سے دیکھتے ہیں حالانکہ ان احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ سب سنت نبوی ہے۔ ابن حجر عسقلانی لکھتے ہیں: "روى عن عمر بن عبد العزيز أنه كان يؤتى بتراب فيوضع على الخمرة فيسجد عليه"۔ عمر ابن عبدالعزیز سے روایت ہے کہ وہ چٹائی یا حصیر کے اوپر مٹی ڈال کر اس پر سجدہ کیا کرتے تھے۔ (فتح الباري شرح صحيح البخاري جلد 1 صفحه 410)۔ واضح رہے کہ اہل سنت کے ہاں عمر بن عبدالعژیژ کو خلیفہ راشد کا درجہ دیا جاتا ہے۔ 6- جابر بن عبداللہ انصاری کہتے ہیں: كنت اصلّى مع النبى (صلى الله عليه وآله) الظهر فآخذ قبضة من الحصى فاجعلها فى كفىّ ثم احولها إلى الكف الأخرى حتّى تبرد ثمّ اضعها لجبينى حتّى اسجد عليها من شدّة الحرّ۔ ترجمہ: میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی امامت میں نماز ظہر پڑھ رہا تھا پس کچھ سنگریزے اٹھاتا اور انہیں دست بدست کرتا تاکہ ٹھنڈے ہوجائیں اور میں ان پر سجدہ کرسکوں، یہ عمل گرمی کی شدت کی وجہ سے تھا۔ (مسند احمد، جلد 3، صفحه 327 ; سنن بيهقى، جلد 1، صفحه 439) 7- انس بن مالک سے روایت ہے: كنّا مع رسول الله(صلى الله عليه وآله) فى شدّة الحرّ فيأخذ أحدنا الحصباء فى يده فإذا برد وضعه و سجد عليه۔ ترجمہ: ہم شدید گرمی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ہمراہ تھے اور ہم میں سے بعض صحابی سنگریزے ہاتھ میں لیتے تا کہ ٹھنڈے ہوجائیں اور پھر انہیں زمین پر رکھتے اور ان پر سجدہ کرتے تھے۔ (السنن الكبرى بيهقى، جلد 2، صفحه 106) https://t.me/islamwitheman 🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵

🌼 بسم الله کی فضیلت پر یقین 🌼 ﻋﻼﻗﮯ ﻣﯿﮟ ﻗﺤﻂ ﺳﺎﻟﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﺟﺎﻧﻮﺭ ﺳﺐ ﮐﭽﮫ ﮐﮭﺎ ﮐﺮ ﻓﺎﺭﻍ ﮬﻮ ﮔﺌﮯ ﺗﮭﮯ ﻣﺰﯾﺪ ﮐﭽﮫ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﮐﻮ ﺭﮬﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﻮﯾﺸﯽ ﻣﺎﻟﮑﺎﻥ ﻧﮩﺎﯾﺖ ﭘﺮﯾﺸﺎﻥ ﺗﮭﮯ۔ ﺍﺱ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﻣﻮﻟﻮﯼ ﺍﻟﻠﮧ ﻭﺳﺎﯾﺎ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﺟﻤﻌﮯ ﮐﮯ ﺧﻄﺒﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﮩﺎﯾﺖ ﯾﻘﯿﻦ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﯾﮧ ﺑﺎﺕ ﺑﺘﺎﺋﯽ ﮐﮧ ﺍﮔﺮ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﻟﮯ ﮐﺮ ﯾﻌﻨﯽ ﺑﺴﻢ ﺍﻟﻠﮧ ﭘﮍﮪ ﮐﺮ ﺩﺭﯾﺎ ﮐﻮ ﺣﮑﻢ ﺩﯾﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺑﮭﯽ ﻧﺎﻓﺮﻣﺎﻧﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﺎ، ﺷﺎﯾﺪ ﯾﮧ ﺍﺱ ﮐﺎ ﻣﻮﻟﻮﯼ ﺻﺎﺣﺐ ﮐﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﺎ ﭘﮩﻼ ﺟﻤﻌﮧ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺑﺎﺕ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﺍﺗﺮ ﮐﺮ ﯾﻘﯿﻦ ﮐﺎ ﺩﺭﺟﮧ ﭘﺎگئی، ﺍﺱ ﻧﮯ ﻭﺍﭘﺲ ﺁ ﮐﺮ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﮑﺮﯾﺎﮞ ﮐﮭﻮﻟﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺳﯿﺪﮬﺎ ﺩﺭﯾﺎ ﭘﮧ ﭼﻼ ﮔﯿﺎ۔ ﺍﻭﻧﭽﯽ ﺁﻭﺍﺯ ﺳﮯ ﺑﺴﻢ ﺍﻟﻠﮧ ﺍﻟﺮﺣﻤٰﻦ ﺍﻟﺮﺣﯿﻢ ﭘﮍﮬﺎ ﺍﻭﺭ ﺩﺭﯾﺎ ﮐﻮ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺫﺭﺍ ﭘﺎﺭ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﮑﺮﯾﺎﮞ ﭼﺮﺍﻧﮯ ﺟﺎ ﺭﮬﺎ ﮬﮯ ﺍﺱ ﻟﺌﮯ ﻭﮦ ﺍﺳﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﻭﭘﺮ ﺳﮯ ﮔﺰﺭﻧﮯ ﺩﮮ، ﯾﮧ ﮐﮩﮧ ﮐﺮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﮑﺮﯾﻮﮞ ﮐﻮ ﮬﺎﻧﮑﺎ ﺍﻭﺭ ﺩﺭﯾﺎ ﮐﮯ ﺍﻭﭘﺮ ﺳﮯ ﭼﻠﺘﺎ ﮬﻮﺍ ﺩﺭﯾﺎ ﭘﺎﺭ ﮐﺮ ﮔﯿﺎ، ﻋﻼﻗﮧ ﮔﮭﺎﺱ ﺳﮯ ﺑﮭﺮﺍ ﭘﮍﺍ ﺗﮭﺎ، ﺩﺭﺧﺘﻮﮞ ﮐﮯ ﭘﺘﮯ ﺑﮭﯽ ﺳﻼﻣﺖ ﺗﮭﮯ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﯾﮩﺎﮞ ﺗﮏ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﺭﺳﺎﺋﯽ ﺣﺎﺻﻞ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﯽ،، ﺍﺏ ﺗﻮ ﯾﮧ ﺍﺱ ﮐﺎ ﻣﻌﻤﻮﻝ ﺑﻦ ﮔﯿﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺑﮑﺮﯾﺎﮞ ﭘﺎﺭ ﭼﮭﻮﮌ ﮐﺮ ﺧﻮﺩ ﻭﺍﭘﺲ ﺁ ﺟﺎﺗﺎ ﺍﻭﺭ ﺷﺎﻡ ﮐﻮ ﺟﺎ ﮐﺮ ﻭﺍﭘﺲ ﻟﮯ ﺁﺗﺎ، ﺍﺱ ﮐﯽ ﺑﮑﺮﯾﻮﮞ ﮐﺎ ﻭﺯﻥ ﺩﮔﻨﺎ ﭼﮕﻨﺎ ﮬﻮﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﻟﻮﮒ ﭼﻮﻧﮑﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﮑﺮﯾﻮﮞ ﮐﻮ ﮐﯿﺎ ﮐﮭﻼﺗﺎ ﮬﮯ، ﻭﮦ ﺳﯿﺪﮬﺎ ﺳﺎﺩﺍ ﺻﺎﻑ ﺩﻝ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺗﮭﺎ، ﺻﺎﻑ ﺻﺎﻑ ﺑﺎﺕ ﺑﺘﺎ ﺩﯼ ﮐﮧ ﺟﻨﺎﺏ ﮬﻢ ﺗﻮ ﺩﺭﯾﺎ ﭘﺎﺭ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﮑﺮﯾﺎﮞ ﭼﺮﺍﻧﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﮬﯿﮟ، ﺑﺎﺕ ﺳﺐ ﻧﮯ ﺳﻨﯽ ﻣﮕﺮ ﯾﻘﯿﻦ ﮐﺴﯽ ﻧﮯ ﻧﮧ ﮐﯿﺎ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﯾﮧ ﺍﯾﮏ ﻧﺎﻗﺎﺑﻞِ ﯾﻘﯿﻦ ﺑﺎﺕ ﺗﮭﯽ، ﻣﮕﺮ ﺑﺎﺕ ﮬﻮﺗﮯ ﮬﻮﺗﮯ ﻣﻮﻟﻮﯼ ﺍﻟﻠﮧ ﻭﺳﺎﯾﺎ ﺗﮏ ﺟﺎ ﭘﮩﻨﭽﯽ۔ ﻣﻮﻟﻮﯼ ﺍﻟﻠﮧ ﻭﺳﺎﯾﺎ ﻧﮯ ﺍﺱ ﺑﮑﺮﻭﺍﻝ ﮐﻮ ﺑﻠﻮﺍ ﺑﮭﯿﺠﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺻﻞ ﺣﻘﯿﻘﺖ ﺑﺘﺎﻧﮯ ﮐﻮ ﮐﮩﺎ۔ ﺑﮑﺮﻭﺍﻝ ﻧﮯ ﻣﻮﻟﻮﯼ ﺍﻟﻠﮧ ﻭﺳﺎﯾﺎ ﮬﯽ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﺎ ﺭﯾﻔﺮﯾﻨﺲ ﺑﻨﺎ ﻟﯿﺎ ﮐﮧ ﻣﻮﻟﻮﯼ ﺟﯽ ﻣﯿﮟ ﺗﻮ ﺧﻮﺩ ﺁﭖ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺷﮑﺮﯾﮧ ﺍﺩﺍ ﮐﺮﻧﮯ ﺁﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺁﭖ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﺟﻤﻌﮯ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﻧﺴﺨﮧ ﺑﺘﺎﯾﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺑﺴﻢ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮩﮧ ﮐﺮ ﺩﺭﯾﺎ ﮐﻮ ﺣﮑﻢ ﺩﻭ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺑﮭﯽ ﺍﻧﮑﺎﺭ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﺎ۔۔۔ ،، ﻣﻮﻟﻮﯼ ﺍﻟﻠﮧ ﻭﺳﺎﯾﺎ ﺻﺎﺣﺐ ﭨﮏ ﭨﮏ ﺩﯾﺪﻡ ﺩﻡ ﻧﮧ ﮐﺸﯿﺪﻡ ﮐﯽ ﺗﺼﻮﯾﺮ ﺑﻨﮯ ﺑﯿﭩﮭﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﺍﯾﺴﯽ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﺗﻮ ﮬﻢ ﮬﺮ ﺟﻤﻌﮯ ﮐﻮ ﮐﺮﺗﮯ ﮬﯿﮟ ﻣﮕﺮ ﺍﻥ ﮐﺎ ﻣﻘﺼﺪ ﺗﻮ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﺎ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﺑﻨﺎﻧﺎ ﮬﻮﺗﺎ ﮬﮯ ﻣﮕﺮ ﺑﮑﺮﯾﻮﮞ ﻭﺍﻻ ﮈﭨﺎ ﺭﮬﺎ ﮐﮧ ﺑﺲ ﻣﯿﮟ ﺗﻮ ﺑﺴﻢ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮩﮧ ﮐﺮ ﭘﺎﻧﯽ ﭘﺮ ﭼﻠﺘﺎ ﮬﻮﺍ ﺑﮑﺮﯾﻮﮞ ﺳﻤﯿﺖ ﭘﺎﺭ ﭼﻼ ﺟﺎﺗﺎ ﮬﻮﮞ۔ ﺁﺧﺮﮐﺎﺭ ﻣﻮﻟﻮﯼ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﺻﺒﺢ ﺧﻮﺩ ﯾﮧ ﺗﺠﺮﺑﮧ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﭨﮭﺎﻧﯽ۔ ﻟﻮﮒ ﺑﮭﯽ ﺻﺒﺢ ﺩﺭﯾﺎ ﮐﮯ ﮐﻨﺎﺭﮮ ﺟﻤﻊ ﮬﻮ ﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﮑﺮﻭﺍﻝ ﺑﮭﯽ ﺁ ﮔﯿﺎ۔ ﻣﺠﻤﻊ ﺑﮩﺖ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺗﮭﺎ۔ ﻣﻮﻟﻮﯼ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﺩﻭ ﺩﻓﻌﮧ ﺍﻧﺪﺭ ﮬﯽ ﺍﻧﺪﺭ ﺍﺭﺍﺩﮦ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﺍﻧﮑﺎﺭ ﮐﺮ ﺩﯾﮟ ﻣﮕﺮ ﻭﮦ ﺟﻮ ﻣﻮﻟﻮﯼ ﺻﺎﺣﺐ ﮐﻮ ﻣﺴﺠﺪ ﺳﮯ ﮐﻨﺪﮬﻮﮞ ﭘﺮ ﺍﭨﮭﺎ ﮐﺮ ﻻﺋﮯ ﺗﮭﮯ ،ﺍﺏ ﺑﮭﯽ ﺟﻮﺵ ﻭ ﺧﺮﻭﺵ ﺳﮯ ﺍﻟﻠﮧ ﺍﮐﺒﺮ ﮐﮯ ﻧﻌﺮﮮ ﻟﮕﺎ ﺭﮬﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﻮﻻﻧﺎ ﺍﻟﻠﮧ ﻭﺳﺎﯾﺎ ﮐﮯ ﺣﻖ ﻣﯿﮟ ﺗﻌﺮﯾﻔﯽ ﻣﻮﺷﮕﺎﻓﯿﺎﮞ ﮐﺮ ﺭﮬﮯ ﺗﮭﮯ ،، ﺁﺧﺮ ﮐﺎﺭ ﻣﻮﻟﻮﯼ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﺭﺳﮧ ﻣﻨﮕﻮﺍﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﭘﮩﻠﮯ ﺍﺳﮯ ﺩﺭﺧﺖ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺑﺎﻧﺪﮬﺎ ﭘﮭﺮ ﺍﭘﻨﯽ ﮐﻤﺮ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺑﺎﻧﺪﮬﺎ ، ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﮈﺭﺗﮯ ﮈﺭﺗﮯ ﮈﮬﯿﻼ ﮈﮬﺎﻻ ﺳﺎ ﺑﺴﻢ ﺍﻟﻠﮧ ﭘﮍﮬﺎ ﺍﻭﺭ ﺩﺭﯾﺎ ﭘﺮ ﭼﻠﻨﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮬﻮ ﮔﺌﮯ ،، ﻣﮕﺮ ﭘﮩﻼ ﭘﺎﺅﮞ ﮬﯽ ﺷﮍﺍﭖ ﺳﮯ ﭘﺎﻧﯽ ﻣﯿﮟ ﭼﻼ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﻮﻟﻮﯼ ﺍﻟﻠﮧ ﻭﺳﺎﯾﺎ ﺻﺎﺣﺐ ﮈﺑﮑﯿﺎﮞ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﻟﮕﮯ ، ﺑﺪﺣﻮﺍﺳﯽ ﻣﯿﮟ ﻭﮦ ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﺑﮭﻮﻝ ﮔﺌﮯ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺍﺑﮭﯽ ﮐﻤﺮ ﮐﻤﺮ ﭘﺎﻧﯽ ﻣﯿﮟ ﮬﯿﮟ ﺍﭨﮫ ﮐﺮ ﮐﮭﮍﮮ ﺑﮭﯽ ﮬﻮ ﺳﮑﺘﮯ ﮬﯿﮟ ،، ﻭﮦ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﮯ ﺑﮩﺎﺅ ﻣﯿﮟ ﺑﮩﻨﺎ ﺑﮭﯽ ﺷﺮﻭﻉ ﮬﻮ ﮔﺌﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﮐﮭﯿﻨﭻ ﮐﮭﺎﻧﭻ ﮐﺮ ﺑﺎﮬﺮ ﻧﮑﺎﻻ ﺍﻭﺭ ﺳﻮﮐﮭﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺳﺎﺋﮉ ﭘﮧ ﮈﺍﻝ ﺩﯾﺎ۔ ﻣﻮﻟﻮﯼ ﺻﺎﺣﺐ ﮐﯽ ﺩﺭﮔﺖ ﻧﮯ ﺑﮑﺮﻭﺍﻝ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﭘﺮﯾﺸﺎﻥ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﮐﮧ ﻣﻮﻟﻮﯼ ﺻﺎﺣﺐ ﮐﯽ ﺑﺴﻢ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﻮ ﮐﯿﺎ ﮬﻮ ﮔﯿﺎ ﮬﮯ۔ ﻣﮕﺮ ﭼﻮﻧﮑﮧ ﺍﺱ ﮐﺎ ﯾﮧ ﺭﻭﺯ ﮐﺎ ﻣﻌﻤﻮﻝ ﺗﮭﺎ ﻟﮩﺬﺍ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﯾﻘﯿﻦ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﻓﺮﻕ ﻧﮧ ﺁﯾﺎ۔ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺑﺴﻢ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮩﮧ ﮐﺮ ﺑﮑﺮﯾﻮﮞ ﮐﻮ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺍﺷﺎﺭﮦ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺩ ﺍﻥ ﮐﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﭼﻠﺘﺎ ﮬﻮﺍ ﺍﻥ ﮐﻮ ﭘﺎﺭ ﭼﮭﻮﮌ ﮐﺮ ﻭﺍﭘﺲ ﺑﮭﯽ ﺁﮔﯿﺎ۔ ﻟﻮﮒ ﺍﺳﮯ ﻭﻟﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺳﻤﺠﮫ ﺭﮬﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺣﻖ ﻣﯿﮟ ﻧﻌﺮﮮ ﻟﮕﺎ ﺭﮬﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﻣﮕﺮ ﻭﮦ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮯ ﻧﯿﺎﺯ ﺳﯿﺪﮬﺎ ﻣﻮﻟﻮﯼ ﺍﻟﻠﮧ ﻭﺳﺎﯾﺎ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﭘﮩﻨﭽﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﻣﻮﻟﻮﯼ ﺻﺎﺣﺐ ﻣﯿﮟ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺑﺴﻢ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﮐﺎﻓﯽ ﭘﺮﯾﺸﺎﻥ ﺗﮭﺎ ﻣﮕﺮ ﭘﺎﻧﯽ ﭘﺮ ﭼﻠﺘﮯ ﮬﻮﺋﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺑﺴﻢ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﺑﯿﻤﺎﺭﯼ ﮐﺎ ﭘﺘﮧ ﭼﻞ ﮔﯿﺎ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺩﺭﺧﺖ ﺳﮯ ﺑﻨﺪﮬﮯ ﺭﺳﮯ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺍﺷﺎﺭﮦ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﻣﻮﻟﻮﯼ ﺻﺎﺣﺐ ﯾﮧ ﮬﮯ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺑﺴﻢ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﺑﯿﻤﺎﺭﯼ۔ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺑﺴﻢ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﺑﺮﮐﺖ ﮐﻮ ﯾﮧ ﺭﺳﮧ ﮐﮭﺎ ﮔﯿﺎ ﮬﮯ۔ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺍﻟﻠﮧ ﺍﻭﺭ ﺑﺴﻢ ﺍﻟﻠﮧ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺍﺱ ﺭﺳﮯ ﭘﺮ ﺑﮭﺮﻭﺳﮧ ﺗﮭﺎ ﻟﮩﺬﺍ ﺍﻟﻠﮧ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺭﺳﮯ ﮐﮯ ﺣﻮﺍﻟﮯ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﮐﻤﺎﻝ ﮐﺮﺗﮯ ﮬﯿﮟ ﺁﭖ ﺑﮭﯽ ﻣﻮﻟﻮﯼ ﺻﺎﺣﺐ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺁﭖ ﮐﮯ ﻣﻨﮧ ﺳﮯ ﺳﻨﺎ ﺍﻭﺭ ﯾﻘﯿﻦ ﮐﺮ ﻟﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﺮﮮ ﺍﻟﻠﮧ ﻧﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﯾﻘﯿﻦ ﮐﯽ ﺷﺮﻡ ﺭﮐﮫ ﻟﯽ ﻣﮕﺮ ﺁﭖ ﻧﮯ ﺍﻟﻠﮧ ﺳﮯ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﺎ ﮐﻼﻡ ﺳﻨﺎ ﻣﮕﺮ ﯾﻘﯿﻦ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯿﺎ؟ ﻟﮩﺬﺍ ﺍﻟﻠﮧ ﻧﮯ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺭﺳﻮﺍ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ!! ﯾﮩﯽ ﮐﭽﮫ ﺣﺎﻝ ﮨﻤﺎﺭا ﮨﮯ ... ﮨﺮ ﺍﯾﮏ ﻋﺒﺎﺩﺕ ﯾﻘﯿﻦ ﺳﮯ ﺧﺎﻟﯽ ﮨﮯ... https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

❄ نماز کی تاثیر ❄ حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں: ایک دن میں رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ نماز کے انتظار میں مسجد میں بیٹھا ہوا تھا، اتنے میں ایک شخص اٹھا اور کہنے لگا یا رسول اللہ! میں نے ایک گناہ کیا ہے اس کی مغفرت کے لیے کیا کروں؟ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اس کی طرف سے رخ موڑ لیا۔ جب نماز تمام ہو گئی تو وہ آدمی دوبارہ اٹھا اور اس نے اپنا سوال تکرار کیا۔ رسول خدا (ص) نے اس کے جواب میں فرمایا: کیا تم نے ابھی نماز ادا نہیں کی، کیا اس کے لیے اچھے طریقے سے وضو نہیں کیا؟ عرض کیا: کیوں نہیں یا رسول اللہ! فرمایا: یہی نماز، تمہارے گناہوں کا کفارہ اور ان کی بخشش کا سبب ہے۔ 📚 بحار الانوار، ج ۷۲، ص۳۱۹۔ https://t.me/islamwitheman 🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵

🍃 اول وقت میں فضیلتِ نماز 🍂 خداوندمتعال قرآن میں ارشاد فرماتا ہے: وَ أَقيمُوا الصَّلاةَ وَ آتُوا الزَّكاةَ وَ ارْكَعُوا مَعَ الرَّاكِعينَ سوره بقره/ آيه 43 اور نماز قائم کرو اور زکواۃ اد ا کرو اور (اللہ کے سامنے) جھکنے والوں کے ساتھ جھکا کرو۔ نماز اول وقت کی چند فضیلتیں درج ذیل ہیں: ☀️پہلی فضیلت: محافظتِ نماز حافِظُوا عَلَى الصَّلَواتِ وَ الصَّلاةِ الْوُسْطى‏ وَ قُومُوا لِلَّهِ قانِتينَ سوره بقره/ آيه 238 نمازوں کی محافظت کرو، خصوصا درمیانی نماز کی اور اللہ کے حضور مطیعانہ خضوع کے ساتھ کھڑے ہو جاؤ۔ ✍ خصوصی محافظت کا حکم خود نماز کی ایک فضیلت ہے۔ اس آیہ میں خداوند متعال نماز کی تمام پہلوؤں سے محافظت کا حکم دے رہاہے۔ کہ انہی میں سے ایک پہلو وقت کی رعایت ہے یعنی اول وقت میں نماز ادا کریں کیونکہ اول وقت میں ادا کرنے سے معلوم ہو گا کہ آپ نماز کو کتنی اہمیت دیتے اور خدا سے کتنا عشق کرتے ہیں۔ اور دوسرا یہ کہ اول وقت میں نماز پڑھنے میں بہت سی حکمتیں اور اسرار پوشیدہ ہیں جیسے مثلا اول وقت نماز پڑھنے سے خصوصی الطافِ الہی شامل حال ہوتے ہیں جیسے مثلا معصوم کے بقول اس کی حاجات پوری ہوتی ہیں، بہشت اس کے لئے مباح ہوجاتی ہے، مرتے وقت آسانی ہوتی ہے و۔۔۔ (بحارالانوار، ج 82، ص 204 اور سفینۃ البحار، ج 2، ص 42) ☀️دوسری فضیلت: قربِ خدا سابِقُوا إِلى‏ مَغْفِرَةٍ مِنْ رَبِّكُم‏ ۔۔۔۔ الحدید/ آیہ 21 ایک دوسرے پر سبقت لے جاؤ اپنے پروردگار کی مغفرت کی طرف۔۔۔ وَ السَّابِقُونَ السَّابِقُونَ (10) أُولئِكَ الْمُقَرَّبُونَ (11) ۔۔۔۔ واقعہ / آیہ 10 اور 11 اور سبقت لے جانے والے تو آگے بڑھنے والے ہی ہیں۔ یہی مقرب لوگ ہیں۔ ✍ اگر نماز ایسی عبادت ہوتی کہ انسان جس ٹائم مرضی پڑھ لے تو خدا کبھی بھی ایسی عبادات سے متعلق یہ تعبیرات استعمال نہ کرتا۔ یعنی انسان اول وقت میں نماز ادا کرنے کی جتنی جلدی کرتا ہے اور سبقت لینے کی کوشش کرتا ہے ، اتنا ہی زیادہ قربِ الہی کی منزلیں طے کرتے ہوئے مقربین میں سے ہوتا چلاجاتا ہے۔ پس اول وقت نماز ادا کرنے کی فضیلت قربِ نماز کی وجہ سے بھی ہے۔ ☀️تیسری فضیلت: نورانی برگشت قال الباقر (ع): إِنَ‏ الصَّلَاةَ إِذَا ارْتَفَعَتْ‏ فِي أَوَّلِ وَقْتِهَا رَجَعَتْ إِلَى صَاحِبِهَا وَ هِيَ بَيْضَاءُ مُشْرِقَةٌ تَقُولُ حَفِظْتَنِي حَفِظَكَ اللَّهُ وَ إِذَا ارْتَفَعَتْ فِي غَيْرِ وَقْتِهَا بِغَيْرِ حُدُودِهَا رَجَعَتْ إِلَى صَاحِبِهَا وَ هِيَ سَوْدَاءُ مُظْلِمَةٌ تَقُولُ ضَيَّعْتَنِي ضَيَّعَكَ اللَّهُ. (وسائل الشيعه، ج 3، ص 78) حضرت امام باقر (ع) فرماتے ہیں کہ جب بھی اول وقت کی نماز خدا کی طرف عروج کرتی ہےتو سفید اور نورانی حالت میں پڑھنے والے کی طرف لوٹتی ہے اور اسے خطاب کر کے کہتی ہے تو نے میری حفاظت کی خدا تیری حفاظت کرے۔ لیکن جب نماز اول وقت کے بعد اور بغیر شرائط کے پروردگار کی طرف عروج کرے تو پڑھنے والے کی طرف سیاہ اور تاریک حالت میں برگشت کرتی اور اسے مخاطب کر کے کہتی ہے تو نے مجھے ضائع اور تباہ کیا، خدا تجھے نابود کرے۔ ☀️چوتھی فضیلت: شفاعتِ روزِ قیامت لَا يَنَالُ‏ شَفَاعَتِي‏ مَنْ أَخَّرَ الصَّلَاةَ بَعْدَ وَقْتِهَا (بحار الانوار، ج 83، ص 20) پیغمبر اسلام (ص) فرماتے ہیں نماز کو اپنے وقت (یعنی اول وقت) سے تاخیر کرنے والے کو روز قیامت میری شفاعت نصیب نہیں ہو گی (یعنی جو بھی اول وقت نماز پڑھے گا اسے شفاعت نبی مکرم اسلام نصیب ہو گی)۔ ☀️نتیجہ: اسی لئے معصوم فرماتےہیں: إنْ قُبِلَتْ‏ قُبِلَ‏ مَا سِوَاهَا و إنْ رُدَّتْ رُدَّ مَا سِوَاهَا (اصول کافی، ج 3، ص 268) اگر نماز قبول ہوئی تو ساری عبادات قبول ہو جائیں گی لیکن اگر نماز ردّ ہو گئی تو سب عبادات ردّ ہو جائیں گی۔ ✍ملتمس دعا: غلام شبیر حسین https://t.me/islamwitheman 🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵

💐 ﻧﻤﺎﺯ ﻛﻰ ﺍﮨﻤﯿﺖ 💐 ﺍﺳﻼﻡ ﻣﻴﮟ ﻧﻤﺎﺯ ﻛﻮ ﺑﮩﺖ ﺑﮍﺍ ﻣﻘﺎﻡ ﺍﻭﺭ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﺣﺎﺻﻞ ﮨﮯ، ﺗﻮحید ﺑﺎﺭﯼ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﺍﻭﺭ ﺷﮩﺎﺩﺗﯿﻦ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺻﻼۃ ‏(ﻧﻤﺎﺯ‏) ﺳﺐ ﺳﮯ ﺍﻓﻀﻞ ﺗﺮﯾﻦ ﻋﻤﻞ ﮨﮯ، ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﻗﺮﺁﻥ ﻣﺠﯿﺪ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﺳﮯ ﻣﻮﺳﻮﻡ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ، ﻓﺮﻣﺎﻥ ﺑﺎﺭﯼ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﮨﮯ: ﺍﻭﺭ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﮐﻮ ﺿﺎﺋﻊ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﯾﮕﺎ۔‏(ﺍﻟﺒﻘﺮۃ : 143‏) ﯾﻌﻨﯽ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﺑﯿﺖ ﺍﻟﻤﻘﺪﺱ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﭘﮍﮬﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﻧﻤﺎﺯﯾﮟ ﺭﺩ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﮞ ﮔﯽ۔‏(ﺗﻔﺴﻴﺮ ﺍﺑﻦ ﮐﺜﯿﺮ : 1/458) ﻧﻤﺎﺯ ﮐﯽ ﻗﺪﺭ ﻭ ﻣﻨﺰﻟﺖ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﻔﺮﺍﺩﯾﺖ ﮐﮯ ﺑﺎﻋﺚ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﻧﺒﯿﺎﺀ ﻭ ﺭﺳﻞ ﻋﻠﯿﮩﻢ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﭘﺮ ﺑﮭﯽ ﺍﺳﮯ ﻓﺮﺽ ﮐﯿﺎ، ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ﺍﺑﺮﺍﮨﯿﻢ، ﺍﺳﺤﺎﻕ، ﯾﻌﻘﻮﺏ ﻋﻠﯿﮩﻢ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﭘﺮ ﻧﻤﺎﺯ ﻗﺎﺋﻢ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﻭﺣﯽ ﮐﯽ، ﻓﺮﻣﺎﻥ ﺑﺎﺭﯼ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﮨﮯ: ﺍﻭﺭ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺍﻧﮑﯽ ﻃﺮﻑ ﻧﯿﮑﯿﺎﮞ، ﻧﻤﺎﺯﯾﮟ، ﺍﻭﺭ ﺯﮐﺎۃ ﺍﺩﺍ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﻭﺣﯽ ﮐﯽ۔ ‏(ﺍﻷﻧﺒﻴﺎﺀ : 73) ﻣﻮﺳﯽ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﺳﮯ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﻧﮯ ﺑﺮﺍﮦِ ﺭﺍﺳﺖ ﮔﻔﺘﮕﻮ ﮐﯽ ﺍﻭﺭ ﺗﻮﺣﯿﺪ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺳﺐ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﻧﻤﺎﺯ ﮨﯽ ﮐﻮ ﻓﺮﺽ ﮐﯿﺎ، ﻓﺮﻣﺎﻥ ﺑﺎﺭﯼ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﮨﮯ: ﺑﯿﺸﮏ ﻣﯿﮟ ﮨﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﮨﻮﮞ، ﻣﯿﺮﮮ ﺳﻮﺍ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﻌﺒﻮﺩ ﻧﮩﯿﮟ، ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ﻣﯿﺮﯼ ﮨﯽ ﻋﺒﺎﺩﺕ ﮐﺮﻭ، ﺍﻭﺭ ﻣﺠﮭﮯ ﯾﺎﺩ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﻧﻤﺎﺯ ﻗﺎﺋﻢ ﮐﺮﻭ۔ ‏(ﻃﮧ : 14‏) ﻣﻮﺳﯽ ﻭ ﮨﺎﺭﻭﻥ ﻋﻠﯿﮩﻤﺎ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮐﻮ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﮐﯽ ﺩﻋﻮﺕ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻧﻤﺎﺯ ﮐﯽ ﺩﻋﻮﺕ ﮐﺎ ﺣﮑﻢ ﺩﯾﺎ، ﺍﻭﺭ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ: ﮨﻢ ﻧﮯ ﻣﻮﺳﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮑﮯ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﮐﻮ ﻭﺣﯽ ﮐﯽ: ﺍﭘﻨﯽ ﻗﻮﻡ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺷﮩﺮ ﻣﯿﮟ ﻗﺒﻠﮧ ﺭﺥ ﮔﮭﺮ ﺑﻨﺎﺅ، ﺍﻭﺭ ﻧﻤﺎﺯﯾﮟ ﻗﺎﺋﻢ ﮐﺮﻭ۔ ‏(ﻳﻮﻧﺲ : 87) ﺳﺎﺑﻘﮧ ﺍﻣﺘﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﻧﮯ ﻧﻤﺎﺯ ﻗﺎﺋﻢ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﺣﮑﻢ ﺩﯾﺎ ،ﻓﺮﻣﺎﻥ ﺑﺎﺭﯼ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﮨﮯ: ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺍﺳﯽ ﺑﺎﺕ ﮐﺎ ﺣﮑﻢ ﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﻣﺨﻠﺺ ﮨﻮﮐﺮ ﻋﺒﺎﺩﺕ ﺻﺮﻑ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﮐﺮﯾﮟ، ﻧﻤﺎﺯﯾﮟ ﺍﻭﺭ ﺯﮐﺎۃ ﺍﺩﺍ ﮐﺮﯾﮟ، ﯾﮩﯽ ﻣﻀﺒﻮﻁ ﺩﯾﻦ ﮨﮯ۔ ‏(ﺍﻟﺒﯿﻨۃ : 5) ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﻧﮯ ﺍﺁﺧﺮﯼ ﻧﺒﯽ ﻣﺤﻤﺪ (ص) ﮐﻮ ﻧﻤﺎﺯ ﮐﺎ ﺣﮑﻢ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ: ﺩﻥ ﮐﮯ ﺩوﻧﻮﮞ ﮐﻨﺎﺭﻭﮞ ﺍﻭﺭ ﺭﺍﺕ ﮐﮯ ﺣﺼﮧ ﻧﻤﺎﺯ ﻗﺎﺋﻢ ﮐﺮﯾﮟ۔ ‏(ﻫﻮﺩ : 114) نماز پڑھو اس سے پہلے کہ تمھارى نماز پڑھی جائے. ~التماس دعا: عامر شهزاد~ https://t.me/islamwitheman 🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵

⚘ایک طالبعلم کا زنا سے بچنا⚘ ﻭﮦ ﻋﻮﺭﺕ ﺭﻭﺯ ﺍﺱ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﺘﯽ ﻟﯿﮑﻦ ﻭﮦ ﺑﻐﯿﺮ ﺍسکی ﻃﺮﻑ ﺩﯾﮑﮭﮯ، ﺳﺮﺟﮭﮑﺎ ﮐﺮ ﮔﻠﯽ ﺳﮯ ﮔﺰﺭﺟﺎﺗﺎ۔ ﻭﮦ دینی ﻃﺎلبعلم ﻟﮕﺘﺎﺗﮭﺎ، ﻟﯿﮑﻦ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮨﯽ ﺍﺳﮯ ﺩﻝ ﺩﮮ ﺑﯿﭩﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﭼﺎﮨﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﻭﮦ کسیطرﺡ ﺍﺱ ﭘﺮ ﻧﻈﺮِﺍﻟﺘﻔﺎﺕ ﮈﺍﻟﮯ۔ ﻟﯿﮑﻦ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﺴﺘﯽ ﻣﯿﮟ ﻣﮕﻦ ﺳﺮﺟﮭﮑﺎﺋﮯ ﺯﯾﺮﻟﺐ ﮐﭽﮫ ﭘﮍﮬﺘﺎ ﮨﻮﺍ ﺭﻭﺯﺍﻧﮧ ایک ﻣﺨﺼﻮﺹ ﻭﻗﺖ ﭘﺮﻭﮨﺎﮞ ﺳﮯ ﮔﺰﺭﺗﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﺒﮭﯽ ﺁﻧﮑﮫ اﭨﮭﺎﮐﺮ ﺑﮭﯽ ﻧﮧ ﺩﯾﮑﮭﺘﺎ۔ ﺍﺱ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﻮ ﺍﺏ ﺿﺪ ﺳﯽ ﮨﻮﮔﺌﯽ ﺗﮭﯽ، ﻭﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﻋﻼﻗﮯ ﮐﯽ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺍﻣﯿﺮ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﻋﻮﺭﺕ ﺗﮭﯽ۔ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﺍﺗﻨﯽ ﮐﮧ ﺟﺐ ﻭﮦ ﺑﺎﮨﺮﻧﮑﻠﺘﯽ ﺗﻮﻟﻮﮒ ﺍﺳﮯ ﺑﮯﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﭘﺮ ﻣﺠﺒﻮﺭ ﮨﻮﺟﺎﺗﮯ۔ ﺍﺳﮯ ﺣﯿﺮﺕ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ جسکی ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺗﯽ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ کیلئے ﻟﻮﮒ ﺗﺮﺳﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻭﮦ ﺧﻮﺩ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﭘﺴﻨﺪ ﮐﺮﮮ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺍﺳﮑﯽ ﻃﺮﻑ ﺩﯾﮑﮭﻨﺎ ﮔﻮﺍﺭﮦ ﻧﮧ ﮐﺮﮮ۔ ﺍﭘﻨﯽ ﺍﻧﺎ ﮐﯽ ﺷﮑﺴﺖ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺗﯽ ﮐﯽ ﺗﻮﮨﯿﻦ ﭘﺮ ﻭﮦ ﭘﺎﮔﻞ ﮨﻮﮔﺌﯽ ﺍﻭﺭ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﯾﺴﺎ ﻣﻨﺼﻮﺑﮧ ﺳﻮﭼﻨﮯ ﻟﮕﯽ ﺟﺲ ﺳﮯ ﻭﮦ ﺍﺱ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﮐﻮ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮﺳﮑﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮑﺎ ﻏﺮﻭﺭ ﺗﻮﮌ ﺳﮑﮯ۔ ﺁﺧﺮﮐﺎﺭ ﺷﯿﻄﺎﻥ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﺴﺎ ﻃﺮﯾﻘﮧ ﺳﺠﮭﺎﺩﯾﺎ۔۔۔ ﺍﮔﻠﮯ ﺩﻥ ﺟﺐ ﻭﮦ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﺍﺱ ﮔﻠﯽ ﺳﮯ ﮔﺰﺭﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﺗﻮ ﺍﯾﮏ ﻋﻮﺭﺕ ﺍﺳﮑﮯ ﻗﺮﯾﺐ ﺁکر ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﯽ؛ ﺑﯿﭩﺎ! ﻣﯿﺮﯼ ﻣﺎﻟﮑﻦ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺑﻼﺭﮨﯽ ﮨﮯ۔ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ؛ ﺍﻣﺎﮞ ﺟﯽ ﺁپکی ﻣﺎﻟﮑﻦ ﮐﻮ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﮐﯿﺎ ﮐﺎﻡﮨﮯ؟ ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ؛ ﺑﯿﭩﺎ! ﺍﺱ ﻧﮯ ﺗﻢ ﺳﮯ ﮐﻮﺋﯽ مسئلہ ﭘﻮﭼﮭﻨﺎ ﮨﮯ ﻭﮦ ﻣﺠﺒﻮﺭﮨﮯ، ﺑﺎﮨﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺳﮑﺘﯽ۔ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﺍسکے ﺳﺎﺗﮫ ﭼﻼﮔﯿﺎ ﻧﻮﮐﺮﺍﻧﯽ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﮐﻤﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺑﭩﮭﺎﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﺘﻈﺎﺭ ﮐﺮنیکا کہکر ﭼﻠﯽ ﮔﺌﯽ۔ ﺗﮭﻮﮌﯼ ﺩﯾﺮﺑﻌﺪ ﮐﻤﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﻭﮨﯽ ﻋﻮﺭﺕ ﺩﺍﺧﻞ ﮨﻮﺋﯽ، ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ نے ﺍﭘﻨﯽ ﻧﻈﺮﯾﮟ ﺟﮭﮑﺎلیں اور ﭘﻮﭼﮭﺎ؛ بیبی ﺁﭖ ﻧﮯ ﮐﻮﻧﺴﺎ مسئلہ ﭘﻮﭼﮭﻨﺎ ﮨﮯ؟ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﮯ ﭼﮩﺮﮮ ﭘﺮ ﺷﯿﻄﺎﻧﯽ ﻣﺴﮑﺮﺍﮨﭧ ﺁﮔﺌﯽ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺩﻝ ﮐﺎﺣﺎﻝ ﮐﮭﻮلدﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﯼ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮍﯼ ﺧﻮﺍﮨﺶ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺩﻓﻌﮧ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮﻟﻮﮞ۔ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﺳﻦ ﮐﺮ ﮐﺎﻧﭗ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﺎ؛ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ بندی ﺍﻟﻠﮧ ﺳﮯ ﮈﺭﻭ ﮐﯿﻮﮞ ﮔﻨﺎﮦ کیطرف ﻣﺎﺋﻞ ﮨﻮﺭﮨﯽ ﮨﻮ۔ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﻮ ﺑﮩﺖ ﺳﻤﺠﮭﺎﯾﺎ ﻟﯿﮑﻦ بےسود۔ عورت ﻧﮯ ﮐﮩﺎ؛ ﯾﺎﺗﻮ ﺗﻢ ﻣﯿﺮﯼ ﺧﻮﺍﮨﺶ ﭘﻮﺭﯼ ﮐﺮﻭﮔﮯ ﯾﺎ ﭘﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺷﻮﺭ ﻣﭽﺎﺅنگی ﮐﮧ ﺗﻢ ﺯﺑﺮﺩﺳﺘﯽ ﻣﯿﺮﮮ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺩﺍﺧﻞ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﺮﯼ ﻋﺰﺕ ﭘﺮﺣﻤﻠﮧ ﮐﯿﺎ۔ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﯾﮧ سنکر ﺑﮩﺖ ﭘﺮﯾﺸﺎﻥ ﮨﻮﺍ، ﺍﺳﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﻋﺰﺕ کسیطرﺡ ﻣﺤﻔﻮﻅ ﻧﻈﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ، ﺍﺳﮑﯽ ﺑﺎﺕ ﻣﺎﻧﺘﺎ ﺗﻮ ﮔﻨﺎہگاﺭ ﮨﻮﺗﺎ، ﻧﮧ ﻣﺎﻧﺘﺎ ﺗﻮﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﯽ ﻧﻈﺮ ﻣﯿﮟ ﺑﺮﺍ ﺑﻨﺘﺎ۔ ﻭﮦ ﻋﺠﯿﺐ ﻣﺼﯿﺒﺖ ﻣﯿﮟ ﭘﮭﻨﺲ ﮔﯿﺎﺗﮭﺎ۔ ﺩﻝ ﮨﯽ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﻭﮦ ﺍﻟﻠﮧ کیطرف ﻣﺘﻮﺟﮧ ﮨﻮﺍ ﺍﻭﺭﺍﻟﻠﮧ ﺳﮯ ﻣﺪﺩ ﭼﺎﮨﯽ ﺗﻮ ﺍسکے ﺫﮨﻦ ﻣﯿﮟ ﺍک ﺗﺮﮐﯿﺐ ﺁﮔﺌﯽ۔۔ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻋﻮﺭﺕ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ؛ ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﺧﻮﺍﮨﺶ ﭘﻮﺭﯼ ﮐﺮﻧﮯ کیلئے ﺗﯿﺎﺭ ﮨﻮﮞ ﻟﯿﮑﻦ ﭘﮩﻠﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﯿﺖ ﺍﻟﺨﻼﺀ ﺟﺎنیکی ﺣﺎﺟﺖ ﮨﮯ۔ ﻋﻮﺭﺕ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﺑﯿﺖ ﺍﻟﺨﻼﺀ ﮐﺎ ﺑﺘﺎﺩﯾﺎ۔ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﻧﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﺟﺎﮐﺮ ﮈﮬﯿﺮ ﺳﺎﺭﯼ ﻏﻼﻇﺖ ﺍﭘﻨﮯ ﺟﺴﻢ ﭘﺮ ﻣﻞ ﻟﯽ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﮨﺮ ﺁﮔﯿﺎ۔ ﻋﻮﺭﺕ ﺍﺳﮯ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ہی ﭼﻼ ﺍﭨﮭﯽ ﯾﮧ ﺗﻢ ﻧﮯ ﮐﯿﺎﮐﯿﺎ ﻇﺎﻟﻢ۔۔ ﻣﺠﮫ ﺟﯿﺴﯽ ﻧﻔﯿﺲ ﻃﺒﻌﯿﺖ ﻭﺍﻟﯽ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺍﺗﻨﯽ ﮔﻨﺪﯼ ﺣﺎﻟﺖ ﻣﯿﮟ ﺁﮔﺌﮯ۔۔ ﺩﻓﻊ ﮨﻮ ﺟﺎﺅ۔۔ ﻧﮑﻞ ﺟﺎﺅ ﻣﯿﺮﮮ ﮔﮭﺮ ﺳﮯ۔ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﻓﻮﺭﺍً ﺍسکے ﮔﮭﺮ ﺳﮯ ﻧﮑﻞ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﻗﺮﯾﺐ ﮨﯽ ﻧﮩﺮ ﭘﺮ خودﮐﻮ ﺍﻭﺭ ﮐﭙﮍﻭﮞ ﮐﻮ ﺍﭼﮭﯽ ﻃﺮﺡ ﭘﺎﮎ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﺎ ﺷﮑﺮ ﺍﺩﺍﮐﺮﺗﺎ ﮨﻮﺍ ﻭﺍﭘﺲ ﻣﺪﺭﺳﮯ ﭼﻼﮔﯿﺎ۔ ﻧﻤﺎﺯ کیبعد ﺟﺐ ﻭﮦ ﺳﺒﻖ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﺗﻮ ﺗﮭﻮﮌﯼ ﺩﯾﺮ ﺑﻌﺪ ﺍﺳﺘﺎﺩﺟﯽ ﻧﮯﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺁﺝ ﺗﻮ ﺑﮩﺖ ﭘﯿﺎﺭﯼ ﺧﻮﺷﺒﻮ ﺁﺭﮨﯽ ﮨﮯ، ﮐﺲ ﻧﮯ ﺧﻮﺷﺒﻮ ﻟﮕﺎﺋﯽﮨﮯ؟ ﻭﮦ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﺳﻤﺠﮫ ﮔﯿﺎ ﮐﮧ ﺍسکے ﺟﺴﻢ ﺳﮯ ﺍﺑﮭﯽ ﺑﺪﺑﻮﮔﺌﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﺘﺎﺩﺟﯽ ﻃﻨﺰ ﮐﺮﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﺁﭖ ﻣﯿﮟ ﺳﻤﭧ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ اسکی ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺁﻧﺴﻮ ﺁﮔﺌﮯ۔ ﺗﮭﻮﮌﯼ ﺩﯾﺮ ﺑﻌﺪ ﺍﺳﺘﺎﺩﺟﯽ ﻧﮯ ﭘﮭﺮ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﮐﮧ ﯾﮧ ﺧﻮﺷﺒﻮ ﮐﺲ ﻧﮯ ﻟﮕﺎﺋﯽﮨﮯ؟ ﻟﯿﮑﻦ ﻭﮦ ﺧﺎﻣﻮﺵ ﺭﮨﺎ ﺁﺧﺮﮐﺎﺭ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﻧﮯ سبکو ﺍﯾﮏ ﺍﯾﮏ ﮐﺮﮐﮯ ﺑﻼﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺷﺒﻮ ﺳﻮﻧﮕﮭﻨﮯ ﻟﮕﮯ۔ ﺍﺱ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﮐﯽ ﺑﺎﺭﯼ ﺁﺋﯽ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺑﮭﯽ ﺳﺮﺟﮭﮑﺎ ﮐﺮ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﮐﮭﮍﺍ ﮨﻮﮔﯿﺎ۔ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﻧﮯ ﺍسکے ﮐﭙﮍﻭﮞ ﮐﻮﺳﻮﻧﮕﮭﺎ ﺗﻮﻭﮦ ﺧﻮﺷﺒﻮ ﺍﺳﮑﮯ ﮐﭙﮍﻭﮞ ﺳﮯ ﺁﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﻧﮯﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺗﻢ ﺑﺘﺎﮐﯿﻮﮞ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﯾﮧ ﺧﻮﺷﺒﻮ ﺗﻢ ﻧﮯ ﻟﮕﺎﺋﯽﮨﮯ؟ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﺭﻭ ﭘﮍﺍﺍﻭﺭ ﮐﮩﻨﮯﻟﮕﺎ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﺟﯽ ﺍﺏ ﺍﻭﺭ ﺷﺮﻣﻨﺪﮦ ﻧﮧ ﮐﺮﯾﮟ ﻣﺠﮭﮯ پتہ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﮮ ﮐﭙﮍﻭﮞ ﺳﮯ ﺑﺪﺑﻮ ﺁﺭﮨﯽ ﮨﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﻣﯿﮟ ﻣﺠﺒﻮﺭ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺳﺎﺭﺍ ﻭﺍﻗﻌﮧ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﮐﻮ ﺳﻨﺎﯾﺎ۔ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﻣﺬﺍﻕ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﮌﺍ ﺭﮨﺎ ﺧﺪﺍ ﮐﯽ ﻗﺴﻢ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﮐﭙﮍﻭﮞ ﺳﮯ ﻭﺍﻗﻌﯽ ﺍﯾﺴﯽ ﺧﻮﺷﺒﻮ ﺁﺭﮨﯽ ﮨﮯ ﺟﻮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺁﺝ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﮐﺒﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﻮﻧﮕﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﯾﻘﯿﻨﺎً ﯾﮧ ﺍﻟﻠﮧ کیطرف ﺳﮯ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺗﻢ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺁﭖ ﮐﻮ ﮔﻨﺎﮦ ﺳﮯ ﺑﭽﺎﻧﮯ کیلئے ﺍﭘﻨﮯ ﺁﭖ ﮐﻮ ﮔﻨﺪﮔﯽ ﻟﮕﺎﻧﺎ ﭘﺴﻨﺪ ﮐﺮﻟﯿﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﻟﻠﮧ ﻧﮯ ﺍﺳﯽ ﮔﻨﺪﮔﯽ ﮐﻮ ﺍﯾﺴﯽ ﺧﻮﺷﺒﻮ ﻣﯿﮟ ﺑﺪﻝ ﺩﯾﺎ ﺟﻮ ﮐﮧ ﺍﺱ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﻟﮕﺘﯽ۔ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﺱ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﮐﮯ ﺍﻥ ﮐﭙﮍﻭﮞ ﺳﮯ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﮨﯽ ﻭﮦﺧﻮﺷﺒﻮ ﺁﺗﯽﺭﮬﯽ۔ https://t.me/islamwitheman 🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵

🌲 توکل بر خدا 🌲 ‏ دلہن نے گھر میں داخل ہوتے ہی تنقیدی نظروں سے گھر کا معائنہ کیا، چہرہ پر کسی قسم کا تاثر نہیں تھا، گھر کیا تھا، ایک کچی چہاردیواری تھی، جس میں کچی پکی اینٹوں کو جوڑ کر ایک چھوٹا سا کمرہ نما بنا لیا گیا، چھت کھجور کے پتوں کی تھی، جس سے چھن چھن کر روشنی کمرے میں آرہی تھی، کمرے میں کوئی کھڑکی نہیں تھی، دیوار کو کاٹ کر کمرے کا ایک مدخل بنا لیا گیا تھا، کمرے کے فرش پر کھجور کے پتوں کا ایک گدّا بچھا ہوا تھا، گرہستی کے نام پر مٹی کی ایک ہنڈیا، ایک آبخورہ اور طاق پر ایک لکڑی کا پیالہ رکھا تھا۔ دولہن خاموشی سے بستر پر بیٹھ گئی، تھوڑی دیر میں دولھے میاں خشک روٹی کے کچھ ٹکڑے اور سالن لائے اور بیوی سے کہا: آئیے پہلے کھانا کھالیں، پھر باتیں ہوں گی، عورت پہلی بار مسکرائی اور دستر خوان پر بیٹھ گئی، دونوں اسطرح کھانے لگے جیسے انواع و اقسام کے کھانے سامنے پروسے گئے ہوں، کھانے کیبعد دونوں نے اللہ کا شکر ادا کیا، جس نے انھیں بھوکا نہیں رکھا۔ دولہن کمرے سے باہر نکلی اور ٹہلنے لگی، طاق پر رکھے ہوئے پیالے کو ہاتھ میں لے کر غور سے دیکھا، اس کی سمجھ میں نہیں آیا کہ پیالے میں کیا ہے، آخر شوہر سے دریافت کیا۔۔ "اس پیالے میں کیا ہے؟" شوہر کا چہرہ پھیکا پڑگیا، دبی زبان میں کہا: "روٹی کے کچھ ٹکڑے ہیں، پانی میں بھگو دیے ہیں، صبح ہم دونوں کا ناشتہ ہو جائےگا۔" دلھن نے پیالے کو پٹک کر اسی طاق پر واپس رکھ دیا، آنکھوں کے شہابی ڈورے شرربار ہوگئے، رخسار کے انار دہکنے لگے، آتش غضب سے جسم کی حدت بڑھ گئی، دولھا گھبرا گیا، پل بھر میں دلھن کی کیفیت کیوں بدل گئی۔ لرزتی ہوئی آواز میں پوچھا: "کیا ہوا تم اتنا پریشان کیوں ہوگئیں؟" دولہن نے فیصلہ کن آواز میں کہا: "میں آپ کے ساتھ نہیں رہ سکتی، مجھ کو میرے گھر پہنچا دیجئے۔" شوہر کی سمجھ میں کچھ نہیں آیا، اس نے منت سماجت کرتے ہوئے کہا: "ابھی تک تو آپ خوش تھیں، اچانک آپ کو کیا ہو گیا؟ کیا میں آپ کو پسند۔۔۔ ایسی بات تھی تو نکاح سے پہلے آپ کو بتا دینا چاھئے تھا۔" دلہن نے نرمی سی کہا: "ایسی کوئی بات نہیں، آپ تو مجھے دل و جان سے پسند ہیں۔" "پھر میری غربت سے آپ گھبرا گئیں؟ میں نے تو پہلے ہی آپ کے والد سے کہہ دیا تھا کہ مال ومنال کے نام پر میرے گھر میں الله کے نام کے علاوہ کچھ نہیں ہے، پھر بھی میں محنت کروں گا اور آپ کے نان و نفقہ کا انتظام کروں گا ان شاء اللہ۔" اس نے جواب دیا: "آپ پتہ نہیں کیا کیا کہے جارہے ہیں، دراصل آپ کو الله پر بھروسہ اور توکل نہیں ہے اور جس شخص کا توکل الله پر نہ ہو اس کے ساتھ میں کیسے رہ سکتی ہوں؟" "آپ نے میری کس بات سے اندازہ لگایا کہ مجھے الله پر توکل نہیں ہے؟" شوہر نے کہا۔ "اگر الله پر توکل ہوتا تو کل کی روزی کا انتظام آج ہی کیوں کرتے؟ پیالے میں روٹی نہ بھگوتے، کیا آپ نے پڑھا نہیں ہے۔۔ ومن یتوکل علی الله فھو حسبه، اگر آپ چاھتے ہیں کہ میں آپ کے ساتھ رہوں تو آپ ابھی اس پیالے کو لے جائیے اور کسی بھوکے کو کھلا دیجئیے، اللہ نے آج روزی دی ہے تو بھروسہ رکھئے الله کل بھی دے گا۔" شوہر نے پیالے کو ہاتھ میں لیا اور زاروقطار رونے لگا۔ https://t.me/islamwitheman 🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵

🌺 حق مہر میں حِفظ سورۂ قرآن 🌺 جس وقت میرے بابا جان کی انگیجمینٹ ہوئی -- بابا نے مہر کی جگہ سورہ آل عمران حفظ کرکے میری والدہ کو ھدیہ کیا---- اور جس دم میری انگیمینٹ ہوئی بابا نے میرے منگیتر سے کہا-- تمہیں قرآن مجید کا ایک مکمل سورہ حفظ کرنا ھوگا ورنہ میں اپنی بیٹی کا ہاتھ تمہارے ہاتھ میں نھیں دونگا--- مجھ سے کسی ایک سورہ کو منتخب کرنے کے لئے کہا گیا-- چونکہ میری نظر میں سورہ نور کثیرالمطالب اور آسانی سے یاد ہونیوالا سورہ نہیں تھا لہذا میں نے سورہ نور کا انتخاب کیا- شادی سے چند روز قبل باوجودیکہ نکاح و بیاہ کی ڈھیر ساری مصروفیات سر پہ منڈلا رہی تھیں مگر میرے منگیتر کے ہاتھوں میں مسلسل قرآن مجید نظر آرھا تھا۔ محفل عروسی سے چند روز قبل میرا منگیتر بابا جان کے سامنے حاضر ہوا, بابا نے کہا: اگر درمیان قرآئت کوئی اشتباہ یا غلطی سرزد ھوئی تو پھر شروع سے سورہ دہرانا ھوگا- یہ سنکر انہوں نے نرم و نازک اور لطیف آواز میں سورہ نور کی تلاوت شروع کی۔۔ یہ وہ حسِین وخوشگوار لمحات تھے جنہیں میں کبھی دستِ فراموشی کے سپرد نہیں کرسکتی-- میرے کاندھے سے لگی ہوئی ماں بار بار میری طرف دیکھتی اور ہلکی سی مسکان ان کے ہونٹوں پہ بکھر جاتی-- ہم اُس لمحہ کا بہت بیتابی سے انتظار کررہے تھے کہ جب وہ کوئی غلطی کریں اور پھر شروع سے سورہ کی تلاوت کرنا پڑے۔ مگر میرے شوھر نے (خدا انکا نصیب اچھا کرے) دورانِ قرائت ایک بار بھی اشتباہ نہیں کیا۔ جب سورہ ختم ہوا، بابا جان نے انہیں لپک کے اپنی آغوش میں بھرلیا اور کہا: لو یہ رہا تمہارا بہترین تحفہ، میں اپنی بیٹی کا ہاتھ تمہارے سپرد کرتا ھوں کیونکہ تم نے اپنا وعدہ بخوبی نبھایا ھے۔ میں نے اپنے شوھر سے نہ زر لیا نہ زیور، انہوں نے مجھے کلامِ خداوندعالم سے قانع کردیا، یہی میرا زر بھی تھا یہی میرا زیور بھی. https://t.me/islamwitheman 🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵

🔷 زیدی شیعہ مسلک کی کتابیں 🔷 1۔ مجموع الإمام زيد بن علي للإمام زيد بن علي عليه السلام اس کتاب کی نسبت امام زیدؑ کی طرف کی جاتی ہے، جو آپ کی وفات کے بعد آپ کے شاگرد اور مخلص دوست ابوخالد عمرو الواسطی کے توسط سے ہم تک پہنچی۔ امام زیدؑ 122 ہجری میں وفات پا گئے۔ آپ کی اس کتاب کے دو حصے ہیں: ایک احادیث اور دوسرا فقہی احکامات۔ چنانچہ یہ کتاب مسند امام زیدؑ کے نام سے شائع کی گئی ہے۔ آپؑ کی وفات 122 ہجری میں ہوئی تھی۔ 2۔ مسند الإمام علي بن موسى الرضا عليه السلام اس کتاب کو اہلِ بیتؑ کے ایک فرد امام علی بن موسیٰ الرضا یا مسند امام رضاؑ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس کتاب میں بھی دو سو یا اس سے زیادہ احادیث جمع کی گئی ہیں۔ البتہ اس میں اختلاف ہے کہ کچھ احادیث کا وجود اصل نسخے میں تھا یا نہیں۔ بہرحال، اس کتاب کے جامع، یعنی امام علی الرضاؑ، 203 ہجری میں وفات پا گئے۔ 3۔ أحمد بن محمد بن سعيد الكوفي المعروف بابن عقدة کی کتابیں امام ابن عقدہ، جو اہلِ بیتؑ کے افراد میں سے تھے اور جن کی وفات 232 ہجری میں ہوئی، انہوں نے بہت ساری کتابیں لکھی تھیں۔ ان کی کتابیں یہ ہیں: حدیث الغدیر، حدیث الرایہ، حدیث الطائر، حدیث الشوریٰ، حدیث الکوفہ، فضائل امام علیؑ، کتاب السنن۔ 4۔ امالی امام احمد بن عیسیٰؑ امام احمد بن عیسیٰؑ زیدی شیعہ کے مشہور امام ہیں۔ ان کی کتاب امالی امام احمد زیدیوں میں بہت زیادہ مقبول ہے۔ آپ کی وفات 247 ہجری میں ہوئی۔ آپ امام زیدؑ کے پوتے تھے۔ 5۔ امام قاسم بن ابراہیم کی کتابیں امام قاسم نے بھی بہت ساری کتب لکھی ہیں، جن میں الفرائض والسنن، وكتاب المناسك، وكتاب صلاة اليوم والليلة، وكتاب مسائل جهشيار، وكتاب مسائل الكلاري، وكتاب مسائل النيروسي مشہور ہیں۔ آپ 246 ہجری میں وفات پا گئے۔ 6۔ محدث الحبری کی کتابیں محدث الحبری، جن کی وفات 286 ہجری میں ہوئی، ان کی تفسیر آج بھی زیدی شیعوں میں مقبول ہے۔ اس کے علاوہ ان کی کتاب امالی بھی ہے۔ 7۔ کتاب الذکر حافظ محمد بن منصور المرادی کی کتاب الذکر بھی ایک اہم کتاب ہے، جن کی وفات 290 ہجری میں ہوئی۔ 8۔ امام ہادی علیہ السلام کی کتب امام ہادیؑ، جو 298 ہجری میں فوت ہوئے اور جن کی وجہ سے زیدیہ میں ایک نیا فقہی مسلک ہادویہ کے نام سے پیدا ہوا، امام ہادیؑ نے کتاب الاحکام لکھی اور عقائد و فروع پر دیگر کافی کتب لکھیں۔ 9۔ امام ناصر الاطروش کی کتب امام ناصر الاطروش بھی مشہور امام زیدیہ تھے، جن کے نام سے ایک فقہی مسلک ناصریہ کے نام سے بنا۔ کتاب امالی اور کتاب البسط آپ کی شاہکار کتب ہیں۔ آپ کی وفات 304 ہجری میں ہوئی۔ 10۔ کتاب مناقب امیر المؤمنین یہ کتاب محدث محمد بن سلیمان کوفی نے لکھی، جن کی وفات 322 ہجری میں ہوئی۔ 11۔ شرح الاحکام امام ابوالعباس احمد بن ابراہیم الحسنی، جو 353 ہجری میں فوت ہوئے، ان کی کتاب شرح الاحکام بھی زیدیہ کے ہاں مقبول ہے۔ 12۔ امالی امام المؤید باللہ امام احمد بن الحسین الہارونی امام ہارونی، جن کے نام سے ایک فقہی مسلک بھی بنا، آپ کی وفات 411 ہجری میں ہوئی۔ آپ نے امالی کے علاوہ دیگر کتب بھی لکھیں۔ 13۔ کتاب الشرح التجرید امام مؤید باللہ کی کتاب الشرح التجرید بھی کافی مقبول اور معتبر زیدی کتاب ہے۔ 14۔ امام حسین بن اسماعیل الجرجانی کی کتب آپ کی وفات 420 ہجری میں ہوئی۔ آپ کی کتاب الإعتبار وسلوة العارفين کافی مشہور کتاب ہے۔ 15۔ امام ابوطالب یحییٰ الحسین الہارونی امام ابوطالب یحییٰ الحسین الہارونی، جن کی وفات 424 ہجری میں ہوئی، ان کی کتاب امالی ابوطالب بہت معتبر زیدی شیعہ کتاب ہے۔ اس کے علاوہ ان کی کتاب التحریر بھی قابلِ ذکر ہے۔ 16۔ کتاب امالی السمان یہ حافظ اسماعیل بن علی، جو السمان کے نام سے معروف تھے، کی کتاب ہے۔ آپ 440 ہجری میں فوت ہوگئے۔ 17۔ کتاب الاذان بحی علی خیر العمل حافظ ابوعبداللہ محمد بن علی العلوی، جن کی وفات 445 ہجری میں ہوئی، انہوں نے یہ کتاب لکھی۔ 18۔ الجامع الکافی یہ اہم زیدی کتاب ہے، جسے حافظ ابوعبداللہ علوی نے ہی لکھا۔ اس میں زیدی تمام ائمہؑ کے ارشادات اور احادیث کو جمع کیا گیا ہے، اور اکثر زیدی حضرات کے ہاں یہ کتاب دیکھنے کو ملتی ہے۔ 19۔ امالی امام مرشد باللہ امام یحییٰ بن حسین جرجانی، جو 479 ہجری میں فوت ہوگئے، ان کی یہ کتاب ہے، جسے زیدیہ میں بہت پذیرائی حاصل ہے۔ 20۔ ۔ شرح الاحکام یہ بھی زیدیہ میں معروف کتاب ہے، جسے محدث علی بن بلال نے تالیف کیا ہے، جن کی وفات پانچویں صدی ہجری کے وسط میں ہوئی۔ پس یہ دوسری صدی ہجری سے لے کر پانچویں صدی ہجری تک کے ائمۂ زیدیہ و علمائے زیدیہ کی کتب تھیں، جن میں مذہبِ اہلِ بیتؑ اور عترت کے فقہ پر کافی کام کیا گیا۔ سلسلہ تقابلِ مسالک و فقہ 🔷🔷🔷🔷🔷🔷🔷🔷🔷

30۔ خلفائے ثلاثہ کے متعلق موقف زیدی شیعہ: خلفائے ثلاثہ، حضرت ابوبکر، حضرت عمر اور حضرت عثمان کے متعلق اکثر زیدی شیعہ وقوف کے قائل ہیں؛ یعنی نہ سبّ و شتم، لعن و تبرا کرتے ہیں اور نہ ہی رضی اللہ عنہ کہنے کے قائل ہیں۔ تاہم شروع سے اب تک ایک کم تعداد میں زیدی شیعہ ترضیہ، یعنی ان خلفائے ثلاثہ سے رضامندی اور ان کے لیے رضی اللہ عنہ کہنے کے قائل بھی رہے ہیں۔ اثناعشری شیعہ: اثناعشری شیعوں کے ہاں ان دونوں موقف، یعنی ترضیہ اور وقوف، کے بجائے تبرا، لعن اور سبّ و شتم کا کلچر پایا جاتا ہے۔ 31۔ وسیلہ اور «یا علی مدد» زیدی شیعہ: زیدی شیعوں کے نزدیک ائمہ اور رسول اللہ ﷺ کو وسیلہ بنانا جائز ہے۔ اسی طرح انہیں صرف یا رسول یا یا علی پکارنا شرک نہیں۔ لیکن ان سے کچھ مانگنے کی نیت یا ان سے مخاطب ہو کر حاجت مانگنا، مثلاً یا علی مدد کہنا یا نادِ علی پڑھنا اور براہِ راست ان سے مانگنا، ان کے نزدیک شرک باللہ ہے۔ اثناعشری شیعہ: اثناعشری شیعوں کے ہاں یا علی مدد، نادِ علی وغیرہ رائج ہیں۔ 32۔ انبیاء اور ائمہ کی فضیلت زیدی شیعہ: زیدی شیعوں کے نزدیک انبیاء علیہم السلام، ائمہ علیہم السلام اور حضرت فاطمہ علیہا السلام سے افضل ہیں۔ اثناعشری شیعہ: اثناعشری شیعوں میں آج کے دور میں ائمہ علیہم السلام کو انبیاء علیہم السلام سے افضل سمجھنے والا طبقہ بھی موجود ہے، اگرچہ قدیم دور میں ایک قلیل تعداد اثناعشری علماء کی ایسی تھی جو انبیاء علیہم السلام کو ائمہ علیہم السلام سے افضل سمجھتی تھی۔ 33۔ بنیادی کتب زیدی شیعہ: زیدی شیعوں کی بنیادی کتاب مسند امام زید علیہ السلام ہے۔ اس کے علاوہ امالی امام احمد بن عیسیٰ، امالی ابوطالب، امالی مرشد باللہ بھی زیدی شیعہ کی بنیادی کتب میں شمار ہوتی ہیں۔ اثناعشری شیعہ: الکافی، الاستبصار، من لا یحضره الفقیه، تہذیب اور بحارالأنوار وغیرہ اثناعشری شیعہ کی معروف کتب ہیں۔ 34۔ امام ابو حنیفہ اور امام مالک زیدی شیعہ: زیدی شیعوں کے نزدیک اہلِ سنت کے ائمۂ اربعہ، بالخصوص امام مالک اور امام ابوحنیفہ، جو امام زید علیہ السلام کے شاگرد تھے، محبِ اہلِ بیت تھے۔ زیدی روایات کے مطابق امام ابوحنیفہ نے امام زید علیہ السلام کی جہاد و معاونت کے لیے 900 درہم بھیجے۔ اثناعشری شیعہ: اثناعشری شیعوں کے ہاں ابوحنیفہ کو دشمنِ اہلِ بیت قرار دینے والی روایات موجود ہیں، جن میں امام جعفر صادق علیہ السلام کی طرف سے ان پر لعنت منسوب کی گئی ہے۔ 35۔ غروبِ آفتاب اور افطار زیدی شیعہ: زیدی شیعہ غروبِ آفتاب کے بعد فاصلۂ احتیاطی کے قائل نہیں، بلکہ غروب کے ساتھ ہی اذان اور افطار کرتے ہیں۔ اثناعشری شیعہ: اثناعشری شیعوں کی اکثریت فاصلۂ احتیاطی کی قائل ہے، اگرچہ چند مجتہدین اس کے قائل نہیں ہیں۔ 36۔ تبرا کا مفہوم زیدی شیعہ: زیدی شیعوں کے نزدیک تبرا کا مطلب زبان سے کسی کو سبّ و شتم کرنا نہیں، بلکہ عمل کے ذریعے براءت اور لاتعلقی ظاہر کرنا ہے۔ اثناعشری شیعہ: اثناعشری شیعوں میں زبانی تبرا اور سبّ و شتم بھی پایا جاتا ہے۔ 37۔ امام مہدی کا نسب زیدی شیعہ: زیدی شیعوں کے مطابق امام مہدی امام حسن علیہ السلام یا امام حسین علیہ السلام کی اولاد سے ہوں گے۔ یہ امر اللہ تعالیٰ کی مشیت پر موقوف ہے۔ ان کے مطابق امام حسن عسکری علیہ السلام لاولد فوت ہوئے۔ اثناعشری شیعہ: اثناعشری شیعوں کے مطابق امام مہدی امام حسین علیہ السلام کی اولاد میں پیدا ہوچکے ہیں اور وہ امام حسن عسکری علیہ السلام کے فرزند ہیں۔ 38۔ اصحابِ رسول ﷺ کے متعلق موقف زیدی شیعہ: زیدی شیعوں کے مطابق اصحابِ رسول ﷺ سے بڑی بڑی غلطیاں ہوئیں، لیکن انہیں مرتد اور خارج از اسلام قرار نہیں دیا جاسکتا۔ اس لیے چند اشخاص کے علاوہ باقی اصحاب کے متعلق ترضیہ اور توقف، دونوں موقف موجود ہیں۔ انصار و مہاجرین کی ابتدائی دورِ اسلام کی قربانیاں مسلم ہیں، اگرچہ ان سے بعض بڑی غلطیاں بھی ہوئیں۔ تاہم مولا علی علیہ السلام نے ان کے متعلق جو رویہ اختیار کیا، اس کی پیروی لازمی ہے۔ اثناعشری شیعہ: اثناعشری شیعوں کے مطابق اصحاب میں سے اکثر، چند اشخاص کے سوا، منافق تھے اور رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد مرتد ہوگئے تھے، نیز شروع ہی سے مخلص نہیں تھے۔ 39۔ جغرافیائی اور علمی مراکز زیدی شیعہ: زیدی شیعوں کی اکثریت یمن میں، پھر سعودی عرب اور اس کے بعد عمان و افریقہ میں پائی جاتی ہے۔ ان کا اہم علمی مرکز یمن ہے۔ اثناعشری شیعہ: اثناعشری شیعوں کی اکثریت ایران میں، پھر عراق، لبنان وغیرہ میں پائی جاتی ہے، جبکہ ان کے اہم علمی مراکز نجف اور قم ہیں۔ یہ کچھ فرق بیان کئے گئے ہیں اگرچہ دونوں کے درمیان اس سے بھی زیادہ اختلافات موجود ہیں، لیکن بیان کیے گئے یہ نکات کسی حد تک دونوں مکاتبِ فکر کے فرق کو سمجھنے کے لیے کافی ہیں۔ والسلام 🔷🔷🔷🔷🔷🔷🔷🔷🔷

15۔ حضرت عثمانؓ کا رسول اللہ ﷺ سے دامادی کا تعلق زیدی شیعہ: زیدی شیعوں کے مطابق حضرت عثمان رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے حقیقی داماد تھے، جن کے ساتھ رسول اللہ ﷺ نے اپنی دو بیٹیوں کی شادی کی۔ اثناعشری شیعہ: اثناعشری شیعوں کے مطابق حضرت عثمان رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے حقیقی داماد نہیں تھے۔ 16۔ حاضر و ناظر زیدی شیعہ: زیدی شیعوں کے مطابق ائمہ اور رسول اللہ ﷺ حاضر و ناظر نہیں ہیں؛ یہ صرف اللہ تعالیٰ کی صفات ہیں۔ اثناعشری شیعہ: اثناعشری شیعوں میں، معدودے چند کو چھوڑ کر، ائمہ اور رسول اللہ ﷺ کے حاضر و ناظر ہونے کا عقیدہ پایا جاتا ہے۔ 17۔ علمِ غیب زیدی شیعہ: زیدی شیعوں کے نزدیک علمِ غیب صرف اللہ تعالیٰ کے ساتھ مخصوص ہے۔ ائمہ علیہم السلام اور رسول اللہ ﷺ کے لیے علمِ غیب ماننا ان کے نزدیک مشبہ کا عقیدہ ہے، اور ایسا کہنے والا فاسق ہے۔ اثناعشری شیعہ: اثناعشری شیعوں میں، چند ایک کو چھوڑ کر، اکثر ائمہ کے لیے ما کان وما یکون یعنی ماضی و مستقبل کے امور کے علومِ غیب کے قائل ہیں۔ 18۔ نکاحِ متعہ زیدی شیعہ: زیدی شیعوں کے نزدیک نکاحِ متعہ اور نکاحِ سری حرام اور زنا کے حکم میں ہے۔ اثناعشری شیعہ: اثناعشری شیعوں کے ہاں نکاحِ متعہ جائز ہے۔ 19۔ ولایتِ تکوینی زیدی شیعہ: زیدی شیعہ ائمہ کے لیے ولایتِ تکوینی کے قائل نہیں ہیں۔ اثناعشری شیعہ: اثناعشری شیعوں میں اکثر ولایتِ تکوینی کے عقیدے کے قائل ہیں۔ 20۔ رسول اللہ ﷺ کا سایہ زیدی شیعہ: زیدی شیعوں کے ہاں رسول اللہ ﷺ کے سایہ نہ ہونے کے متعلق کوئی روایت نہیں؛ اس لیے رسول اللہ ﷺ کے متعلق سایہ نہ ہونے کا کوئی عقیدہ یا تصور زیدی شیعہ مذہب میں نہیں ہے۔ اثناعشری شیعہ: اثناعشری شیعوں میں، معدودے چند کو چھوڑ کر، رسول اللہ ﷺ کو نور ماننے اور آپ کا سایہ نہ ہونے کا عقیدہ پایا جاتا ہے۔ 21۔ خمس زیدی شیعہ: زیدی شیعوں کے ہاں خمس مکاسب سے متعلق نہیں بلکہ مالِ غنیمت سے متعلق ہے۔ اثناعشری شیعہ: اثناعشری شیعہ عوام خمس ادا کرتے ہیں۔ 22۔ سجدہ گاہ یا تربت زیدی شیعہ: زیدی شیعہ نماز کے لیے سجدہ گاہ یا تربت نہیں رکھتے۔ اثناعشری شیعہ: اثناعشری شیعہ سجدہ گاہ یا تربتِ حسینی رکھتے ہیں۔ 23۔ ماتم زیدی شیعہ: زیدی شیعہ ماتم، زنجیر زنی نہیں کرتے۔ اثناعشری شیعہ: اثناعشری شیعوں میں یہ اعمال بعض حلقوں میں رائج ہیں۔ 24۔ سیرتِ حسینی اور عزاداری زیدی شیعہ: زیدی شیعہ سیرتِ حسینی علیہ السلام کو بیان کرتے ہوئے اپنے وقت کے ہر یزید کے خلاف عملی جدوجہد اور خروج کرتے ہیں۔ مراسمِ عزاداری، علم، تابوت اور ذوالجناح کا تصور ان کے ہاں نہیں ہے۔ اثناعشری شیعہ: اثناعشری شیعوں کے ہاں شعائرِ حسینی اور اعمالِ شبیہ کے نام سے یہ سب امور رائج ہیں۔ 25۔ اہلِ سنت کے پیچھے نماز زیدی شیعہ: زیدی شیعہ دوسرے مسلمان فرقوں کے پیچھے بغیر کسی تقیہ کے نماز ادا کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یمن کی اکثر مساجد کے متعلق یہ معلوم کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ وہ کس فرقے کے زیرِ اثر ہیں۔ اثناعشری شیعہ: اثناعشری شیعوں کے ہاں تقیہ کرتے ہوئے فرادیٰ کی نیت سے اہلِ سنت وغیرہ کے پیچھے نماز پڑھنے کی اجازت ہے۔ 26۔ ایک دوسرے کے متعلق موقف زیدی شیعہ: زیدی شیعوں کے نزدیک اثناعشری شیعہ بہت سے گمراہ اور باطل عقائد و افکار رکھتے ہیں، جن کے رد میں اکثر زیدی علماء و ائمہ نے «الرد علی الروافض» یعنی ’’رافضیوں کا رد‘‘ کے نام سے کتب لکھی ہیں۔ اثناعشری شیعہ: اثناعشری شیعوں کے نزدیک زیدی شیعہ بھی ناصبی اور دشمنانِ اہلِ بیت ہیں، کیونکہ ان کے بعض علماء کے مطابق جو شخص اثناعشری ائمہ میں سے کسی ایک امام کا انکار کرے، وہ ناصبی اور کافر ہے۔ دنیا میں اس پر اسلام کے احکام ظاہراً نافذ ہوں گے، لیکن آخرت میں جہنمی اور کافروں کے ساتھ محشور ہوگا۔ شیخ مفید نے بھی زیدیوں کے متعلق اسی طرح کی رائے بیان کی ہے۔ 27۔ عاشورا کا روزہ زیدی شیعہ: زیدی شیعوں کے نزدیک عاشورا کا روزہ سنتِ اہلِ بیت علیہم السلام اور سنتِ رسول اللہ ﷺ ہے۔ اثناعشری شیعہ: اثناعشری شیعوں کے نزدیک عاشورا کا روزہ سنتِ بنی امیہ ہے۔ 28۔ حضرت فاطمہؓ کے گھر کا واقعہ اور سقطِ محسن زیدی شیعہ: زیدی شیعوں کے نزدیک حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر کو جلانے اور سقطِ محسن کا واقعہ درست نہیں ہے۔ اثناعشری شیعہ: اثناعشری شیعوں کی اکثریت، چند ایک کے سوا، واقعۂ ہجوم، گھر جلانے اور سقطِ محسن کو درست مانتی ہے۔ 29۔ سبّ و شتم اور لعن زیدی شیعہ: زیدی شیعوں کے نزدیک سبّ و شتم اور لعن اہلِ بیت علیہم السلام کی سیرت اور تعلیمات کے خلاف ہیں۔ اثناعشری شیعہ: اثناعشری شیعوں کے ہاں سبّ و شتم اور لعن کو جائز سمجھا جاتا ہے، اور لعنت پر مشتمل زیارتِ عاشورا اور دعائے صنمی قریش اکثر مجالس و محافل کا حصہ ہیں۔ چند علماء جو ان زیارات اور لعن کا انکار کرتے ہیں، انہیں مقصر، بتری، ضال اور مضل جیسے القابات سے نوازا جاتا ہے۔