ISLAM WITH EMAN
Open in Telegram
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات... ایڈمن سے رابطہ کیلئے: @syedsajjadhamdani
Show more1 288
Subscribers
No data24 hours
-47 days
-430 days
Posts Archive
1 288
🌹 عید میلاد حضرت زینبؑ 🌹
حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی ولادت باسعادت 5 جمادی الاوّل پنجم یا ششم ہجری مدینہ میں ہوئی، بعض مؤرخین نے اور اقوال بھی لکھے ہیں. (۱) آپ کی ولادت باسعادت یکم شعبان المعظم بھی ذکر ہوئی ہے۔
🔷آپ کے القابات بہت زیادہ ہیں، ان میں سے بعض یہ ہیں:
عقیلہ بنی ہاشم، عقیلۃالطالبین اور صدیقہ صغریٰ (اس میں اشارہ ہے کہ آپ کے والد گرامی صدیق اکبر، اور والدہ گرامی صدیقہ کبریٰ ہے)، عصمت صغریٰ، ولیة اللہ، الراضیة بالقدر و القضاء، صابرة البلوی من غیر جزع و لا شکوی، امینة اللہ، عالمة غیر معلمة، فھمة غیر مفھمة، محبوبة المصطفی، ثانیةالزهراء.
🔷آپ کی کنیت ام کلثوم، ام عبداللہ، ام الحسن ہے.
لیکن کنیت خاص ام المصائب ہے.
آپ کے شوہر کا نام حضرت عبداللہ بن جعفر بن ابی طالبؑ هے.
🔷آپ کے چار بیٹے، عون، محمد، علی، عباس ہیں کہ ان میں سے عون، محمد کربلا میں شہید ہوئے اور آپ کی ایک بیٹی جناب ام کلثوم ہیں.
🔷آپ کا نام اللہ تعالیٰ نے رکھا، جس وقت آپ کی ولادت ہوئی تو پیغمبر خدا (ص) سفر پر گئے ہوئے تھے، جناب امیرالمؤمنین نے فرمایا:
میں اپنی بیٹی کے نام رکھنے میں پیغمبر خدا (ص) سے پہل نہیں کروں گا یہاں تک کہ پیغمبر خدا (ص) واپس تشریف لائے تو بتایا گیا کہ اللہ نے آپ کو نواسی عطا فرمائی ہے.
آنحضرت (ص) نے فرمایا کہ:
میں اللہ سے پہل نہیں کروں گا پس حضرت جبرائیل نازل ہوئے اور عرض کی کہ خدا نے آپ کو سلام کہا ہے اور فرمایا ہے کہ اس بیٹی کا نام زینب رکھیں، کیونکہ اس نام کو ہم نے لوح ِمحفوظ میں لکھا ہے۔
اس کے بعد پیغمبر خدا (ص) نے جناب زینب۳ کو اپنے پاس منگوایا اور وصیت فرمائی کہ حاضرین اور غائبین، میری خاطر، میری نواسی کا احترام کریں، کیونکہ یہ جناب خدیجہ الکبری سلام اللہٰ علیہا کی طرح ہے۔
آپ (ص) نے فرمایا: حضرت زنیب سلام الله علیہا کا سکینہ و وقار، جناب خدیجہ، اورعصمت و حیا جناب زہراء اور فصاحت و بلاغت جناب علی مرتضی اور حلم اپنے بھائی حسن مجتبیٰ علیہ السلام اور شجاعت اور دل کی قوت میں اپنے بھائی امام حسین علیہ السلام کی طرح ہے. (۲)
📚حوالہ جات
1 ۔ عقیلہ بنی ہاشم ، ص 5 ،زنیب کبریٰ ، ص 17 ، و فیات الائمہ ، ص 431 ،مستدرک سیفنۃ البحار ، ج 4 ،ص 316 ، ج5 ،ص 208
۲۔ ریاحین الشریعہ ،ج3 ،ص 38.
👈 مزید تفصیل کے لیے۔۔۔
https://www.facebook.com/100062214292056/posts/122007136549762/
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
1 288
🌸 کھانا کھانے کی ابتداء و اختتام 🌸
■آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت علی علیہ السلام کو وصیت کرتے ھوئے فرماتے ہیں:
اے علی! کھانے کی ابتدا بھی نمک سے کرو اور اختتام بھی نمک ، چونکہ نمک میں ستر بیماریوں کا علاج ہے ان میں سے کچھ یہ ہیں:
1- پاگل پن،
2- جزام (کوڑھ)،
3- برص یعنی جلد پر سفید داغ بن جانا، بلکہ بعض کے تو بال اور پوری جلد بھی سفید ھوجاتی ہے،
4- گلے میں درد،
5۔ دانتوں میں درد،
اور
6- پیٹ میں درد،
■امام جعفرصادق علیہ السلام فرماتے ہیں:
جو چاھتا ہے کہ اس کے منہ پر سے کیل اور دانے ختم ھو جائیں اسے چاہیئے کہ کھانا کھاتے وقت پہلے لقمہ پر تھوڑا سا نمک چھڑک لے.
■امام رضاعلیہ السلام نے اپنے اصحاب سے پوچھا:
بتاؤ بھترین ہانڈی (سالن) کیا ہے؟
تو ایک نے کہا: گوشت.
دوسرے نے کہا: گھی.
تیسرے نے کہا زیتون کاتیل،
یہاں تک آپ نے خود فرمایا: نہیں، بہترین غذا نمک ہے۔
راوی کہتا ہے ایک دفعہ ھم مولا رضا علیہ السلام کے ساتھ سیر کے لئے باہر نکلے، چنانچہ آپ کا خادم نمک لے جانا بھول گیا تو ھم سب بغیر کچھ کھائے واپس آگئے. یعنی حضرت اس قدر پابند تھے کے نمک سے ابتدا اور اختتام فرماتے تھے. چونکہ اس سفر میں نمک ھمراہ نہیں تھا لھذا آپ نے واپس آکر کھانا تناول فرمایا.
■آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک حدیث میں فرماتے ہیں:
جو کوئی بھی کچھ کھانے سے پہلے اور آخر میں تھوڑا سا نمک کھا لیتا ہے تو خداوندعالم اس سے 330 بلاؤں کو دور فرما دیتا ہے. جن میں سے کمترین جذام ہے.
📚مکارم الاخلاق، ص355۔
https://t.me/islamwitheman
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
1 288
🔷 ماں کی خدمت 🔷
ایک چھوٹا سا بورڈ ریڑھی کی چھت سے لٹک رہا تھا، اس پر موٹے مارکر سے لکھا ہوا تھا۔۔
''گھر میں کوئی نہیں ھے، میری بوڑھی ماں فالج زدہ ہے، مجھے تھوڑی تھوڑی دیر بعد انہیں کھانا کھلانا اور اتنی ہی مرتبه حاجت کرانی پڑتی ہے، اگر آپ کو جلدی ھے تو اپنی مرضی سے فروٹ تول لیں اور پیسے کونے پر ریگزین کے گتے کے نیچے رکھ دیجیے. ساتھ ھی ریٹ بھی لکھے ھوئے هیں۔
اور اگر آپ کے پاس پیسے نه ھوں، تو میری طرف سے لے لینا, اجازت ہے!
وللہ خیرالرازقین!
ادھر اُدھر دیکھا، پاس پڑے ترازو میں دو کلو سیب تولے، درجن کیلے لیے، شاپر میں ڈالے، پرائس لسٹ سے قیمت دیکھی، پیسے نکال کر ریڑھی کے پھٹے کے گتے والے کونے کو اٹھایا، وہاں سو پچاس دس دس کے نوٹ پڑے تھی، میں نے پیسے اسی میں رکھ کر اسے ڈھک دیا، ادھر اُدھر دیکھا کہ شاید کوئی میری طرف متوجہ ہو، اور شاپر اٹھا کر واپس فلیٹ پر آگیا۔
افطار کے بعد میں اور بھائی ادھر گئے. دیکھا اک باریش آدمی، داڑھی آدھی کالی آدھی سفید، ہلکے کریم کلر کرتے شلوار میں ریڑھی کو دھکا لگا کر بس جانے ہی والا تھا وه ھمیں دیکھکر مسکرایا اور بولا:
"صاحب! پھل تو ختم ہوگیا۔۔۔۔"
نام پوچھا تو بولا؛ خادم حسین
پھر ہم تھوڑی دیر میں اس کو لے کر سامنے ڈھابے پہ بیٹھے تھے.
چائے آئی، وہ اپنی کہانی سناتے ہوئے کہنے لگا۔۔۔
"پچھلے تین سال سے اماں بستر پر ھے، کچھ نفسیاتی سی بھی ہوگئی ہے، اور اب تو فالج بھی ہوگیا ہے، میرا کوئی بال بچہ نہیں، بیوی مر گئی ہے، صرف میں ھوں اور میری اماں. اماں کی دیکھ بھال کرنے والا کوئی نهیں اس لئے مجھے ھروقت اماں کا خیال رکھنا پڑتا ھے"
اک دن میں نے اماں کے پاؤں دباتے ھوۓ بڑی نرمی لجالت سے کہا۔۔
"اماں! تیری تیمار داری کو تو بڑا جی کرتا ہے. پر جیب میں کچھ نھیں تو مجھے کمرے سے ہلنے نہیں دیتی، کہتی ہے تو جاتا ہے تو جی گھبراتا ہے، تو ہی بتا میں کیا کروں؟"
اب کیا غیب سے کھانا اترے گا ؟ نہ میں بنی اسرائیل کا جنا ہوں نہ تو موسیٰ کی ماں ہے، کیا کروں! یه سن کر اماں نے ہانپتے کانپتے اٹھنے کی کوشش کی, میں نے تکیہ اونچا کر کے اسکو بٹھایا، ٹیک لگوائی، انھوں نے جھریوں والا چہره اٹھایا اپنے کمزور ہاتھوں کا پیالا بنایا، اور نه جانے رب العالمین سے کیا بات کی،
پهر بولی۔۔
"تو ریڑھی وہی چھوڑ آیا کر، تیرا رزق تجھے اسی کمرے میں بیٹھ کر ملے گا"
میں نے کہا۔۔۔
"اماں کیا بات کرتی ھے, وہاں چھوڑ آؤں گا تو کوئی چور اچکا سب کچھ لے جاۓ گا، آجکل کون لحاظ کرتا ھے؟ بنا مالک کے کون خریدار آئے گا؟"
کہنے لگی۔۔
"تو فجر کو ریڑھی پھلوں سے بھر کر چھوڑ کر آجا بس، زیادہ بک بک نیئں کر، شام کو خالی لے آیا کر، اگر تیرا روپیہ گیا تو یه خالدہ ثریا الله سے پائی پائی وصول دیگی".
"ڈھائی سال ہوگئے ہیں بھائی! صبح ریڑھی لگا جاتا ہوں. شام کو لے جاتا ہوں، لوگ پیسے رکھ جاتے، پھل لے جاتے، دھیلا اوپر نیچے نہیں ہوتا، بلکہ کچھ تو زیادہ رکھ جاتے، اکثر تخمینہ نفع لاگت سے تین چار سو اوپر ہی جا نکلتا ھے، کبھی کوئی اماں کے لیے پھول رکھ جاتا ہے، کبھی کوئی اور چیز! پرسوں ایک پڑھی لکھی بچی پلاؤ بنا کر رکھ گئی، نوٹ لکھکر رکھ گئی "اماں کے لیے"،
اک ڈاکٹر کا گزر ہوا، وہ اپنا کارڈ چھوڑ گیا. پشت پہ لکھ گیا. "انکل! اماں کی طبیعت نہ سنبھلے تو مجھے فون کرنا، میں گھر سے پک کر لوں گا"
کسی حاجی صاحب کا گزر ہوا تو عجوہ کجھور کا پیکٹ چھوڑ گیا،
کوئی جوڑا شاپنگ کرکے گزرا تو فروٹ لیتے ہوئے اماں کے لیے سوٹ رکھ گیا،
روزانہ ایسا کچھ نہ کچھ میرے رزق کے ساتھ موجود ہوتا ہے، نہ اماں ہلنے دیتی ہے نہ اللہ رکنے دیتا ہے.
https://t.me/islamwitheman
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
1 288
ظا
ھر ھوگا اور اس طرح گناھگاروں کا استغفار بھی اس دنیا میں ایک طرح کی شفاعت ھے اور دوسرے لوگوں کیلئے دعا کرنا اور ان کے لئے خدا سے حاجتیں پوری کرانا بھی "شفاعت عند اللہ" کے موارد میں سے ھے کیونکہ یہ سب خدا کے پاس دوسرے لوگوں کو خیر پہنچانے اور ان سے شر کو دور کرنے کے موارد میں سے ھیں۔[2][3]
📚حوالہ جات:
[1] تفسیر نمونہ، ج ۱، ص۲۴۶ ، ۲۲۳۔
[2] آموزش عقاید، مصباح یزدی، ص ۴۸۲ و ۴۸۳۔
[3] مزید معلومات حاصل کرنے کیلئے رجوع کریں ، تفسیر نمونہ، ج۲، ص ۲۶۷، اور ترجمہ تفسیر المیزان، ج ۱، ص۳۷۷، ۲۳۹۔ عنوان: قیامت مین شفاعت کا مقام۔
Copied
https://t.me/islamwitheman
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
1 288
🌷 شفاعت کیا ھے؟ 🌷
شفاعت "شفع" کے مادے سے "جفت" کے معنی میں ھے۔ یہ معنی کسی چیز کو مشابہہ چیز سے شامل ھونے سے لیا گیا ھے، اس کے مدمقابل "وتر" ھے، جو "تنھا" اور "ایک" کے معنی دیتا ھے۔ اس کے بعد کسی طاقتور شخص کی مدد کرنے کی غرض سے کسی ضعیف کے ساتھ منسلک ھونے میں استعمال ھوتا ھے۔
عرف میں شفاعت کے معنی یہ هیں کہ "شفیع" اپنے منصب سے استفاده کر کے صاحب اقتدارکی نظر کو اپنے ماتحتوں کے بارے میں تبدیل کرے، اور یہ کام کبھی اثر و رسوخ سے یا کبھی اس کے خوف سے یا کبھی جذبات کے ذریعے، یا مجرم کے بارے میں صاحب اقتدار کی نظر کو تبدیل کرنے کے ذریعہ۔۔۔۔ انجام پاتا ھے۔ لیکن ان سب موارد میں مجرم شخص کے فکر اور سلوک میں کسی طرح کی تبدیلی پیدا نھیں ھوتی، بلکہ ھر طرح کی تبدیلی اس فرد میں رونما ھوتی ھے جس کے پاس شفاعت ھوتی ھے۔
اس قسم کی شفاعت اسلامی اور قرآنی نقطہ نظر سے معنی نھیں رکھتی، کیونکہ نہ ھی خدا کوئی غلطی کرسکتا ھے جس سے اس کی نظر تبدیل کی جائے (نعوذباللہ) اور اس کی نظر صحیح جانب موڑ دی جائے، اور نہ ھی وه جذبات رکھتا ھے جسطرح انسان کے اندر جذبات موجود ھیں تاکہ اس کے جذبات کو متحرک کیا جائے۔ وه کسی کے اثر و رسوخ میں نھیں آتا اور نہ ھی کسی سے ڈرتا ھے اور وه کوئی خلاف عدل پر مبنی فیصلہ نھیں کرتا کہ اس کی اصلاح کی جائے۔
لیکن شفاعت کے جو معنی قرآنی آیات اور اسلامی ثقافت (روایات) میں موجود ھیں، وه یہ ھے کہ شفاعت پانے والے افراد میں تبدیلی اور تغیر پیدا ھو، یعنی شفاعت پانے والا ایسے اسباب فراھم کرے جن کے ذریعے وه اپنی نامطلوب اور سزا پانے والی حالت سے نکل کر شفیع کے ساتھ رابطہ مستحکم کرے اور عفو اور درگذر کا مستحق قرار پائے۔ اسطرح کی شفاعت پر ایمان لانا حقیقت میں تربیت پانے کی اعلی درسگاه اور گناھگار افراد کی اصلاح کا ذریعہ ھے۔ کیونکہ جو لوگ گناھوں کے مرتکب ھوتے ھیں، اگر ایک طرف اپنے ضمیر کے عذاب میں گرفتار ھو جائیں اور دوسری جانب خدا کی رحمت اور بخشش سے ناامید ھو جائیں اور اپنے اوپر ھدایت پانے کے سب راستوں کو بند پائیں، تو عملی طور پر اپنے اعمال میں کسی بھی طرح کی تبدیلی نھیں لائیں گے۔ کیونکہ اس کام کیلئے وه کسی بھی طرح کا فائده تصور نھیں کرسکتے ھیں بلکہ اس کے بدلے کبھی ممکن ھے وه زیاده ھی سرکش اور باغی ھوکر، اپنے گناھوں کی ذمہ داری اپنے سماج کے اوپر ڈال دیں اور یہ کہیں کہ ھمارے سماج کے حالات ھی کچھ ایسے تھے جس کی وجہ سے ھم اس حد تک گر گئے۔ اور اسطرح وه اپنے گناھوں میں اضافہ کر کے سماج سے انتقام لیں گے۔
لیکن شفاعت پر ایمان، ان کے اوپر امیدوں کے دروازوں کو کھولتا ھے اور انہیں اپنے اوپر کنٹرول کرنے اور اپنی گزشتہ غلطیوں کا ازالہ کرنے کا شوق دیتا ھے۔ اور یہ امر خطاکار افراد کی اصلاح کرنے اور سماج میں امن و سلامتی برقرار کرنے میں معاون ثابت ھوتا ھے۔
دوسری جانب شفاعت ایک مطلق موضوع نہیں بلکہ اس کے شرائط اور قیود ھیں۔ یہ شرائط گناه اور جرم، شفاعت کرنے والے اور شفاعت پانے والے میں ھیں۔ جو لوگ اصل شفاعت کا اعتقاد رکھتے ھیں اور اس فرصت کو غنیمت جان کر شفاعت پانا چاھتے ھیں۔ ان کے لئے ناگزیر ھے کہ ان شرائط کو فراھم کریں اور خاص قسم کے گناھوں جیسے ظلم، شرک وغیره جن کی وجہ سے انسان کو شفاعت نصیب نھیں ھوتی، سے دوری اختیار کریں اور اپنے اعمال کو اسطرح بنائیں کہ شفاعت کرنے والوں کی عنایات میں شامل ھوں۔
یہ سب اس بات کی دلیل ھے کہ جو شفاعت قرآنی آیات میں بیان ھوئی ھے انسانوں کی تربیت اور سماج میں موجود افراد کیلئے ایک انمول خزانہ ھے کیونکہ انسانوں کی تربیت اور معاشرے کو پاک بنانا ھی انبیاء کو بھیجنے کا مقصد ھے۔[1]
دوسرے الفاظ میں شفاعت کے وه معنی جو عام طور پر استعمال ھوتے ھیں وه یہ ھے کہ کوئی باعزت انسان کسی بزرگ سے یہ چاھے کہ مجرم کی سزا سے درگزر کرے یا کسی خدمتگار کے اجر کو زیاده کرے، لیکن ان صورتوں میں ممکن ھے کہ شفیع کی شفاعت قبول کرنے کیلئے خاص دلائل ھوں جوکہ خداوندمتعال کے بارے میں منفی ھیں۔ کیونکہ خداوندمتعال کی طرف سے جن شفیعوں کو شفاعت کا اذن دیا گیا ھے، اس کی وجہ خوف اور ڈر یا انکی طرف سے خدا کی نیاز مندی نہیں ھے۔ بلکہ شفاعت ان افراد کیلئے ایک راستہ ھے جن میں خدا کی ابدی رحمت حاصل کرنے کیلئے صلاحیت موجود نھیں ھے۔ اور اس راستے کو خود خداوندمتعال نے قرار دیا ھے اور اس کے لئے شرائط و ضوابط بنا دیئے ھیں۔
البتہ اسلام میں کبھی یہ لفظ وسیع معنی میں بھی استعمال ھوتا ھے اور اس کے مطابق کسی دوسرے کے ذریعے انسان کو ھر طرح کا خیر پہنچنا بھی شامل ھوتا ھے اور اگر کہا جاتا ھے کہ ماں اور باپ اپنے فرزندوں یا اس کے برعکس فرزند اپنے ماں باپ کی یا استاد اپنے شاگرد کی یا مؤذن ان لوگوں کی بہ نسبت جنہیں وه نماز کی یاد دلاتا ھے اور مسجد میں حاضر ھوتے ھیں، شفاعت کرتا ھے۔ تو حقیقت میں اس کا مطلب وھی خیر کا اثر جو اسے دنیا میں تھا قیامت کے دن شفاعت کی صورت میں
1 288
🔷 ابوہریرہ 🔷
ابوہریرہ نے 8ھ کو اسلام قبول کیا۔ اسے رسول ﷺ کے ساتھ صرف اور صرف دو سال تک رہنا نصیب ہوا۔ ابوہریرہ 59ھ میں 78 سال کی عمر میں فوت ہوئے تھے۔
اس کو پیغمبر ﷺ کا دیدار نصیب ہوا تھا اس وجہ سے لوگ اسے صحابی بھی کہتے تھے۔ اس نے اس مقام سے ناجائز استفاده کیا اس نے اپنی اس منزلتکو دنیا کے بدلے فروخت کیا۔ اس نے پیٹ بھرنے کے لئے جھوٹی احادیث بنائی اور ان کی نسبت پیغمبر ﷺ کی طرف دی۔
خلیفہ دوئم نے پہلی دفعہ اسے احادیث بیان کرنے سے منع کیا تھا۔ دوسری مرتبہ اسے تازیانوں سے سزا دی اور تیسری مرتبہ اسے مدینہ سے نکال دیا تھا۔
21ھ میں جب بحرین کے گورنر اعليٰ کی وفات ہوئی تھی تو خلیفہ دوئم نے اسے وہاں کا حاکم بھی مقرر تھا کچھ عرصے کے بعد ابوہریرہ نے وہاں پر چار لاکھ دینار جمع کر لئے۔ جب خلیفہ کو اس کا علم ہوا تو اسے معزول کر دیا۔
معاویہ نے کچھ صحابہ اور تابعین کے ذمہ یہ کام لگایا کہ وہ حضرت علی علیہ السلام کی مخالفت میں جھوٹی احادیث بیان کریں ان میں سرِ فہرست ابوہریرہ تھا۔
اصبغ بن نباتہ نے ایک دفعہ اسے کہا تھا تجھے رسولﷺ کے فرمان کا خیال نہیں تو علی علیہ السلام کے دشمنوں سے دوستی رکھتا ہے اور علی علیہ السلام کے دوستوں سے دشمنی رکھتا ہے۔
ابوہریرہ نے اس کے جواب میں سرد آہ بھری اور کہا ”اناللہ واناالیہ راجعون“۔
ابوہریرہ کی ناکامی دیکھئے کہ یہ معاویہ سے دولت حاصل کرنے کے لئے کئی دفعہ مسجد کوفہ میں آکر اپنی پیشانی کو اپنے ہاتھوں سے زور سے پیٹا لوگ جمع ہوگئے اور کہنے لگا کہ اہل عراق یہ سمجھتے ہیں کہ میں رسول خدا ﷺ پر جھوٹ باندھتا ہوں اور اپنے آپ کو دوزخ کا ایندھن بنا رہا ہوں۔ خدا کی قسم میں نے رسول خدا ﷺ کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ ہر پیغمبر کا کوئی نہ کوئی حرم ہوتا ہے اور مدینہ میں ”کوہ عیر“ سے لے کر ”کوہ ثور“ تک میرا حرم ہے اور جو بھی میرے حرم نئی بات احداث کرے گا اور بدعت پیدا کرے گا۔ اس پر خدا، ملائکہ اور تمام انسانوں کی لعنت ہوگی۔ لوگو میں خدا کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ (نعوذباللہ) حضرت علی علیہ السلام نے حرم پیغمبر میں بدعت پیدا کی ہے۔
جب معاویہ نے یہ گفتگو سنی تو بہت خوش ہوا اور اس کے بدلہ میں ابوہریرہ کو مدینہ کا حکم بنا دیا۔
📚پیغمبر و یاران ج١ ص٥٤
Copied
https://t.me/islamwitheman
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
1 288
🔷 لاوارث لاش 🔷
ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﯽ ﻋﺎﺩﺕ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺑﮭﯿﺲ ﺑﺪﻝ ﮐﺮ ﻋﻮﺍﻡ ﮐﯽ ﺧﺒﺮ ﮔﯿﺮﯼ ﮐﺮﺗﺎ ﺗﮭﺎ ، ﺑﻮﻻ ،
ﭼﻠﻮ ﮐﭽﮫ ﻭﻗﺖ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮔﺰﺍﺭﺗﮯ ﮨﯿﮟ
ﺷﮩﺮ ﮐﮯ ﺍﯾﮏ ﮐﻨﺎﺭﮮ ﭘﺮ ﭘﮩﻨﭽﮯ ﺗﻮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺍﯾﮏ ﺁﺩﻣﯽ گرﺍ ﭘﮍﺍ ﮨﮯ . ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﮨﻼ ﮐﺮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﻮ ﻣﺮﺩﮦ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺗﮭﺎ . ﻟﻮﮒ ﺍﺱ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺳﮯ ﮔﺰﺭ ﮐﺮ ﺟﺎﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ .
ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﺁﻭﺍﺯ ﺩﯼ ،
ﺍﺩﮬﺮ ﺁﺅ ﺑﮭﺎﺋﯽ _
ﻟﻮﮒ ﺟﻤﻊ ﮨﻮ ﮔﮱ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﻮ ﭘﮩﭽﺎﻥ ﻧﮧ ﺳﮑﮯ . ﭘﻮﭼﮭﺎ : ﮐﯿﺎ ﺑﺎﺕ ﮨﮯ ؟
ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ : ﺁﺩﻣﯽ ﻣﺮﺍ ﭘﮍﺍ ﮨﮯ . ﺍﺱ ﮐﻮ ﮐﺴﯽ ﻧﮯ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﭨﮭﺎﯾﺎ . ﮐﻮﻥ ﮨﮯ ﯾﮧ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﻭﺍﻟﮯ ﮐﮩﺎﮞ ﮨﯿﮟ .
ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ : ﯾﮧ ﺑﮩﺖ ﺑﺮﺍ ﺍﻭﺭ ﮔﻨﺎﮦ ﮔﺎﺭ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮨﮯ _
ﺗﻮ ﺳﻠﻄﺎﻥ ﻣﺮﺍﺩ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ : ﮐﯿﺎ ﯾﮧ ﺍﻣﺖ ﻣﺤﻤﺪﯾﮧ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ . ﭼﻠﻮ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺍﭨﮭﺎﺋﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮑﮯ ﮔﮭﺮ ﻟﮯ ﭼﻠﯿﮟ _
ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﻣﯿﺖ ﮔﮭﺮ ﭘﮩﻨﭽﺎ ﺩﯼ _
ﺍﺱ ﮐﯽ ﺑﯿﻮﯼ ﻧﮯ ﺧﺎﻭﻧﺪ ﮐﯽ ﻻﺵ ﺩﯾﮑﮭﯽ ﺗﻮ ﺭﻭﻧﮯ ﻟﮕﯽ .
ﻟﻮﮒ ﭼﻠﮯ ﮔﮱ _
ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮑﺎ ﺳﮑﯿﻮﺭﭨﯽ ﺍﻧﭽﺎﺭﺝ ﻭﮨﯿﮟ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﺎ ﺭﻭﻧﺎ ﺳﻨﺘﮯ ﺭﮨﮯ .
ﻭﮦ کہہ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ ،
ﻣﯿﮟ ﮔﻮﺍﮨﯽ ﺩﯾﺘﯽ ﮨﻮﮞ ، ﺑﯿﺸﮏ ﺗﻮ ﺍﻟﻠّﻪ ﮐﺎ ﻭﻟﯽ ﮨﮯ . ﺍﻭﺭ ﻧﯿﮏ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﮨﮯ .
ﺳﻠﻄﺎﻥ ﻣﺮﺍﺩ ﺑﮍﺍ ﻣﺘﻌﺠﺐ ﮨﻮﺍ _ ﯾﮧ ﮐﯿﺴﮯ ﮨﻮﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ . ﻟﻮﮒ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﮐﺮ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻣﯿﺖ ﮐﻮ ﮨﺎﺗﮫ ﻟﮕﺎﻧﮯ ﮐﻮ ﺗﯿﺎﺭ ﻧﮧ ﺗﮭﮯ .
ﺍﺱ ﮐﯽ ﺑﯿﻮﯼ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ : ﻣﺠﮭﮯ ﺑﮭﯽ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﺳﮯ ﯾﮩﯽ ﺗﻮﻗﻊ ﺗﮭﯽ _ ﺍﺻﻞ ﺣﻘﯿﻘﺖ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﺍ ﺧﺎﻭﻧﺪ ﮨﺮ ﺭﻭﺯ ﺷﺮﺍﺏ ﺧﺎﻧﮯ ﺟﺎﺗﺎ ، ﺟﺘﻨﯽ ﮨﻮ ﺳﮑﮯ ﺷﺮﺍﺏ ﺧﺮﯾﺪﺗﺎ ﺍﻭﺭ ﮔﮭﺮ ﻻ ﮐﺮ ﮔﮍﮬﮯ ﻣﯿﮟ ﺑﮩﺎ ﺩﯾﺘﺎ . ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺘﺎ ﮐﮧ ﭼﻠﻮ ﮐﭽﮫ ﺗﻮ ﮔﻨﺎﮨﻮﮞ ﮐﺎ ﺑﻮﺟﮫ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﺳﮯ ﮨﻠﮑﺎ ﮨﻮ .
ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﺭﺍﺕ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﺑﺮﯼ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺟﺎﺗﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﺭﺍﺕ ﮐﯽ ﺍﺟﺮﺕ ﺩﮮ ﺩﯾﺘﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﻮ ﮐﮩﺘﺎ ﮐﮧ ، ﺍﭘﻨﺎ ﺩﺭﻭﺍﺯﮦ ﺑﻨﺪ ﮐﺮ ﻟﮯ . ﮐﻮﺋﯽ ﺗﯿﺮﮮ ﭘﺎﺱ ﻧﮧ ﺁﺋﮯ _
ﮔﮭﺮ ﺁﮐﺮ ﮐﮩﺘﺎ ، ﺍﻟﺤﻤﺪ ﻟﻠّﮧ ! ﺁﺝ ﺍﺱ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﺎ ﺍﻭﺭ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﮔﻨﺎﮨﻮﮞ ﮐﺎ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﭽﮫ ﺑﻮﺟﮫ ﮨﻠﮑﺎ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﮨﮯ .
ﻟﻮﮒ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺍﻥ ﺟﮕﮩﻮﮞ ﭘﺮ ﺁﺗﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﺗﮭﮯ _
ﻣﯿﮟ ﺍﺳﮯ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﯾﺎﺩ ﺭﮐﮫ ! ﺟﺲ ﺩﻥ ﺗﻮ ﻣﺮ ﮔﯿﺎ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﺗﺠﮭﮯ ﻏﺴﻞ ﺩﯾﻨﺎ ﮨﮯ ﻧﮧ ﺗﯿﺮﯼ ﻧﻤﺎﺯ ﭘﮍﮬﻨﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻧﮧ ﺗﺠﮭﮯ ﺩﻓﻨﺎ ﻧﺎ ﮨﮯ _
ﻭﮦ ﻣﺴﮑﺮﺍ ﺩﯾﺘﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﮐﮩﺘﺎ ﮐﮧ ، ﮔﮭﺒﺮﺍ ﻣﺖ _ ﺗﻮﺩﯾﮑﮭﮯ ﮔﯽ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﺍ ﺟﻨﺎﺯﮦ ﻭﻗﺖ ﮐﺎ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ، ﻋﻠﻤﺎﺀ ﺍﻭﺭ ﺍﻭﻟﯿﺎ ﭘﮍﮬﯿﮟ ﮔﮯ .
ﯾﮧ ﺳﻦ ﮐﺮ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺭﻭ ﭘﮍﺍ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﺎ : ﻣﯿﮟ ﺳﻠﻄﺎﻥ ﻣﺮﺍﺩ ﮨﻮﮞ . ﮐﻞ ﮨﻢ ﺍﺱ ﮐﻮ ﻏﺴﻞ ﺩﯾﮟ ﮔﮯ . ﮨﻢ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻧﻤﺎﺯِ ﺟﻨﺎﺯﮦ ﺑﮭﯽ ﭘﮍﮬﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺗﺪﻓﯿﻦ ﺑﮭﯽ ﮨﻢ ﮐﺮﻭﺍﺋﯿﮟ ﮔﮯ .
ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺟﻨﺎﺯﮦ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻋﻠﻤﺎﺀ ﺍﻭﻟﯿﺎﺀ ﺍﻭﺭ ﮐﺜﯿﺮ ﻋﻮﺍﻡ ﻧﮯ ﭘﮍﮬﺎ۔
🔘 ﺁﺝ ﮨﻢ ﺑﻈﺎﮨﺮ ﮐﭽﮫ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﯾﺎ ﻣﺤﺾ ﺩﻭﺳﺮﻭﮞ ﺳﮯ ﺳﻦ ﮐﺮ ﺍﮨﻢ ﻓﯿﺼﻠﮯ ﮐﺮ ﺑﯿﭩﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ۔ ﺍﮔﺮ ﮨﻢ ﺩﻭﺳﺮﻭﮞ ﮐﮯ ﺩﻟﻮﮞ ﮐﮯ ﺑﮭﯿﺪ ﺟﺎﻥ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﺗﻮ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺯﺑﺎﻧﯿﮟ ﮔﻮﻧﮕﯽ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﯿﮟ ۔۔۔
Copied۔۔۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 288
🌹 ماں کی مامتا 🌹
نیشنل جیوگرافک نے نظر بند کیا ایک دل دہلادینے والا واقعہ!
ﯾﮧ ﺍﯾﮏ ﺳﭽﮧ ﻭﺍﻗﻌﮧ ﮨﮯ ﺟﻮ ﮐﮧ ﻧﯿﺸﻨﻞ ﺟﯿﻮ ﮔﺮﺍﻓﮏ ﭘﺮ ﺑﮭﯽ ﺍﯾﮏ ﮈﺍﮐﯿﻮﻣﻨﭩﺮﯼ ﻣﯿﮟ ﭼﻞ ﭼﮑﺎ ﮨﮯ، ﯾﯿﻠﻮ ﺳﭩﻮﻥ ﻧﯿﺸﻨﻞ ﭘﺎﺭﮎ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺩﻓﻌﮧ ﺍﯾﺴﯽ ﺁﮒ ﺑﮭﮍﮐﯽ ﮐﮧ ﺳﺐ ﮐﭽﮫ ﺍﮌﺍ ﮐﺮ ﻟﮯ ﮔﺌﯽ، ﮨﺮ ﺷﮯ ﺭﺍﮐﮫ ﺑﻦ ﮔﺌﯽ، ﮐﭽﮫ ﺑﮭﯽ ﻧﮧ ﺑﭽﺎ۔۔۔
ﺍﯾﺴﮯ ﻣﯿﮟ ﺟﺐ ﺭﯾﺴﺮﭺ ﭨﯿﻢ ﺍﺩﮬﺮ ﮔﺌﯽ ﺗﻮ ﺍﻧﮭﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﺑﮩﺖ ﺑﮍﮮ ﺟﻠﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺩﺭﺧﺖ ﮐﮯ ﺗﻨﮯ ﮐﮯ ﻧﯿﭽﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﻮ ﺍﯾﮏ ﺑﯿﭽﺎﺭﯼ ﭼﮍﯾﺎ ﮐﯽ ﺟﻠﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺑﺎﮈﯼ ﻣﻠﯽ۔
ﻭﮦ ﺑﮩﺖ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﻋﺎﻡ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﮐﺒﮭﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﭘﺮﻧﺪﮦ ﺍﯾﺴﮯ ﮐﺴﯽ آﻻﺅ ﮐﺎ ﻧﺸﺎﻧﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻨﺘﺎ۔ ﭘﺮﻧﺪﮮ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﺫﺭﺍ ﺳﯽ ﺑﮭﯽ ﺁﮒ ﯾﺎ ﺩﮬﻮﺍﮞ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﺍﮌ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺑﭻ ﻧﮑﻠﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔
ﺭﯾﺴﺮﭼﺮ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﮈﻧﮉﯼ ﮐﯽ ﻣﺪﺩ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﻃﺮﻑ ﺳﺮﮐﺎﯾﺎ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻧﯿﭽﮯ ﺳﮯ ﺗﯿﻦ ﭼﮭﻮﭨﮯ ﭼﮭﻮﭨﮯ ﭼﮍﯾﺎ ﮐﮯ ﺯﻧﺪﮦ ﺑﭽﮯ ﻧﮑﻠﮯ۔
ﻭﮦ ﭼﮍﯾﺎ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﻮ ﺧﻮﺩ ﮔﮭﻮﻧﺴﻠﮯ ﺳﮯ ﺍﭨﮭﺎ ﺍﭨﮭﺎ ﮐﺮ ﺍﺩﮬﺮ ﻻ ﮐﺮ ﺭﮐﮭﺘﯽ ﺭﮨﯽ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﺟﺐ ﻭﮦ ﯾﮧ ﺳﻤﺠﮫ ﮔﺌﯽ ﮐﮧ ﺁﮒ ﺳﮯ ﺑﭽﻨﮯ ﮐﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﺭﺍﺳﺘﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ ﺗﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﭽﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻭﮦ ﺧﻮﺩ ﺁﮒ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺩ ﮔﺌﯽ۔
ﻭﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﭘﺮ ﭘﮭﯿﻼ ﮐﺮ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺍﻭﭘﺮ ﺑﯿﭩﮫ ﮔﺌﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺗﻨﯽ ﺣﺮﺍﺭﺕ ﺍﻭﺭ ﺁﻧﭻ ﮐﯽ ﺷﺪﯾﺪ ﺗﮑﻠﯿﻒ ﮐﮯ ﺑﺎﻭﺟﻮﺩ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﻮﺕ ﭼﻦ ﮐﺮ ﺑﯿﭩﮭﯽ ﺭﮨﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﯽ ﺟﺎﻥ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﭽﻮﮞ ﭘﺮ ﻗﺮﺑﺎﻥ ﮐﺮ ﺩﯼ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﭽﮯ ﻭﺍﻗﻌﯽ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻗﺮﺑﺎﻧﯽ ﺳﮯ ﺑﭻ ﮔﺌﮯ۔
ﺍﺱ ﭼﮍﯾﺎ ﮐﯽ ﺑﺎﮈﯼ ﻧﯿﺸﻨﻞ ﺟﯿﻮ ﮔﺮﺍﻓﮏ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﮈﺍﮐﯿﻮﻣﻨﭩﺮﯼ ﻣﯿﮟ ﺩﮐﮭﺎﺋﯽ۔
ﯾﮧ ﺍﺱ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﮯ ﺗﻤﺎﻡ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺍﯾﮏ ﺳﺒﻖ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻣﺎﮞ ﮐﯽ ﻣﻤﺘﺎ ﮐﯿﺎ ﭼﯿﺰ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﻟﻠﮧ ﺟﻮ ﮨﻢ ﺳﮯ ﺳﺘﺮ ﻣﺎﺅﮞ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﭘﯿﺎﺭ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ، ﮐﯿﺴﮯ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﮨﺮ ﻭﻗﺖ ﺣﻔﺎﻇﺖ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﮨﻢ ﺍﻧﺠﺎﻥ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﺑﻼﻭﺟﮧ ﭘﺮﯾﺸﺎﻥ ﮨﻮﺗﮯ ﺭﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ، ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﮨﻢ ﺧﻮﺩ ﺍﮔﺮ ﺍﭘﻨﯽ ﺣﻔﺎﻇﺖ ﮐﺮ ﺭﮨﮯ ﮨﻮﺗﮯ ﺗﻮ ﺁﺝ ﺑﮯ ﺳﺮﻭﭘﺎ ﮨﻮﺗﮯ ﺍﻭﺭ ﮨﻤﺎﺭﺍ ﮐﻮﺋﯽ ﺣﺎﻝ ﻧﮧ ﮨﻮﺗﺎ۔ جب اللہ تعالٰی ہمارا نگہبان اور رازق ہے ﺗﻮ ﻣﻔﺖ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﻮﮞ ﭘﺮﯾﺸﺎﻥ ﮨﻮﺗﮯ ﺭﮨﺘﮯ ﮨﻮ.
https://t.me/islamwitheman
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
1 288
👁ﺑﺪ ﻧﮕﺎﮨﯽ ﮐﮯ ﺟﺴﻢ ﭘﺮ ﺍﺛﺮﺍﺕ👁
ﻧﮕﺎﮨﯿﮟ ﺟﺲ ﺟﮕﮧ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﯿﮟ ، ﻭﮨﯿﮟ ﺟﻤﺘﯽ ﮨﯿﮟ۔ ﭘﮭﺮ ﺍﻥ ﮐﺎ ﺍﭼﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﺮﺍ ﺍﺛﺮ ﺍﻋﺼﺎﺏ ﻭ ﺩﻣﺎﻍ ﺍﻭﺭ ﮨﺎﺭﻣﻮﻧﺰ ﭘﺮ ﭘﮍﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﺷﮩﻮﺕ ﮐﯽ ﻧﮕﺎﮦ ﺳﮯ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﺳﮯ ﮨﺎﺭﻣﻮﻧﺰﯼ ﺳﺴﭩﻢ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﺧﺮﺍﺑﯽ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺍﻥ ﻧﮕﺎﮨﻮﮞ ﮐﺎ ﺍﺛﺮ ﺯﮨﺮﯾﻠﯽ ﺭﻃﻮﺑﺖ ﺍﺧﺮﺍﺝ ﮐﺎ ﺑﺎﻋﺚ ﺑﻦ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯﺍﻭﺭ ﮨﺎﺭﻣﻮﻧﺰﯼ ﮔﻠﯿﻨﮉﺯ ﺍﯾﺴﯽ ﺗﯿﺰ ﺍﻭﺭ ﺧﻼﻑ ﺟﺴﻢ ﺯﮨﺮﯾﻠﯽ ﺭﻃﻮﺑﺘﯿﮟ ﺧﺎﺭﺝ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺟﺲ ﺳﮯ ﺗﻤﺎﻡ ﺟﺴﻤﺎﻧﯽ ﻧﻈﺎﻡ ﺩﺭﮨﻢ ﺑﺮﮨﻢ ﮨﻮﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺁﺩﻣﯽ ﺑﮯ ﺷﻤﺎﺭ ﺍﻣﺮﺍﺽ ﻣﯿﮟ ﻣﺒﺘﻼ ﮨﻮﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔۔۔
ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﺳﮯ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ؟
ﺻﺮﻑ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮨﯽ ﺗﻮ ﮨﮯ ۔۔۔ ﯾﮧ ﮐﻮﻥ ﺳﺎ ﻏﻠﻂ ﮐﺎﻡ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ؟
ﺗﻮ ﮐﯿﺎ ﮨﻢ ﻧﮯ ﮐﺒﮭﯽ ﯾﮧ ﺳﻮﭼﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﭼﺎﻧﮏ ﺍﮔﺮ ﺷﯿﺮﯾﺎ ﺳﺎﻧﭗ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺁﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﺁﺩﻣﯽ ﺻﺮﻑ ﺩﯾﮑﮫ ﻟﮯ ﺗﻮ ﺻﺮﻑ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﺳﮯ ﺟﺎﻥ ﭘﺮ ﮐﯿﺎ ﺑﻨﺘﯽ ﮨﮯ؟
ﺳﺒﺰﮦ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﻮﻝ ﺻﺮﻑ ﺩﯾﮑﮭﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﺳﮯ ﺩﻝ ﻣﺴﺮﻭﺭ ﺍﻭﺭ ﻣﻄﻤﺌﻦ ﮐﯿﻮﮞ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ؟
ﺯﺧﻤﯽ ﺍﻭﺭ ﻟﮩﻮﻟﮩﺎﻥ ﮐﻮ ﺻﺮﻑ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮨﯽ ﺗﻮ ﮨﯿﮟ ﻟﯿﮑﻦ ﭘﺮﯾﺸﺎﻥ ‘ ﻏﻤﮕﯿﻦ ﺍﻭﺭ ﺑﻌﺾ ﺑﮯ ﮨﻮﺵ ﮨﻮﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔۔۔ !
ﺁﺧﺮ ﮐﯿﻮﮞ؟
ﻭﺍﻗﻌﯽ ﺗﺠﺮﺑﺎﺕ ﮐﮯ ﻟﺤﺎﻅ ﺳﮯ ﯾﮧ ﺑﺎﺕ ﻭﺍﺿﺢ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻧﮕﺎﮨﻮﮞ ﮐﯽ ﺣﻔﺎﻇﺖ ﻧﮧ ﮐﺮﻧﮯ ﺳﮯ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮈﭘﺮﯾﺸﻦ ‘ ﺑﮯ ﭼﯿﻨﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﺎﯾﻮﺳﯽ ﮐﺎ ﺷﮑﺎﺭ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺟﺲ ﮐﺎ ﻋﻼﺝ ﻧﺎﻣﻤﮑﻦ ﮨﮯ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﻧﮕﺎﮨﯿﮟ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﮯ ﺧﯿﺎﻻﺕ ﺍﻭﺭ ﺟﺬﺑﺎﺕ ﮐﻮ ﻣﻨﺘﺸﺮ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﯿﮟ ﺍﯾﺴﯽ ﺧﻄﺮﻧﺎﮎ ﭘﻮﺯﯾﺸﻦ ﺳﮯ ﺑﭽﻨﮯ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺻﺮﻑ ﺍﻭﺭ ﺻﺮﻑ ﺍﺳﻼﻣﯽ ﺗﻌﻠﯿﻤﺎﺕ ﮐﺎ ﺳﮩﺎﺭﺍ ﻟﯿﻨﺎ ﭘﮍﺗﺎ ﮨﮯ۔۔۔
ﺑﻌﺾ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﮯ ﺗﺠﺮﺑﺎﺕ ﺑﺘﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺻﺮﻑ ﺗﯿﻦ ﺩﻥ ﻧﮕﺎﮨﻮﮞ ﮐﻮ ﺷﮩﻮﺍﻧﯽ ﻣﺤﺮﮐﺎﺕ ‘ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﭼﮩﺮﻭﮞ ﺍﻭﺭ ﻋﻤﺎﺭﺗﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻟﮕﺎﺋﯿﮟ ﺗﻮ ﺻﺮﻑ ﺗﯿﻦ ﺩﻥ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺟﺴﻢ ﻣﯿﮟ ﺩﺭﺩ ‘ ﺑﮯ ﭼﯿﻨﯽ ‘ ﺗﮑﺎﻥ ‘ ﺩﻣﺎﻍ ﺑﻮﺟﮭﻞ ﺑﻮﺟﮭﻞ ﺍﻭﺭ ﺟﺴﻢ ﮐﮯ ﻋﻀﻼﺕ ﮐﮭﯿﻨﭽﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﮔﺮ ﺍﺱ ﮐﯿﻔﯿﺖ ﮐﻮ ﺩﻭﺭ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺳﮑﻮﻥ ﺁﻭﺭ ﺍﺩﻭﯾﺎﺕ ﺑﮭﯽ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﯽ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﺗﻮ ﮐﭽﮫ ﻭﻗﺖ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺳﮑﻮﻥ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﻭﮨﯽ ﮐﯿﻔﯿﺖ۔ ۔۔
ﺁﺧﺮ ﺍﺱ ﮐﺎ ﻋﻼﺝ ﻧﮕﺎﮨﻮﮞ ﮐﯽ ﺣﻔﺎﻇﺖ ﮨﮯ۔۔۔
ﺑﮩﺮﺣﺎﻝ ﻣﺮﺩﻭﮞ ﺍﻭﺭ ﻋﻮﺭﺗﻮﮞ ﮐﻮ ﻋﻔﺖ ﺍﻭﺭ ﭘﺎﮎ ﺩﺍﻣﻨﯽ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺑﮩﺘﺮﯾﻦ ﻋﻼﺝ ﺍﭘﻨﯽ ﻧﻈﺮﻭﮞ ﮐﻮ ﺟﮭﮑﺎﻧﺎ ﮨﮯ ﺧﺎﺹ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﺍﺱ ﻣﻌﺎﺷﺮﮮ ﺍﻭﺭ ﮔﻨﺪﮮ ﻣﺎﺣﻮﻝ ﻣﯿﮟ ﺑﮯ ﺷﺮﻣﯽ ﺍﻭﺭ ﺑﮯ ﺣﯿﺎﺋﯽ ﺍﺱ ﻗﺪﺭ ﻋﺎﻡ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻧﻈﺮﻭﮞ ﮐﻮ ﻣﺤﻔﻮﻅ ﺭﮐﮭﻨﺎ ﺑﮩﺖ ﮨﯽ ﻣﺸﮑﻞ ﮐﺎﻡ ﮨﮯ۔۔۔
ﺍﺱ ﺳﮯ ﺑﭽﻨﮯ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﻇﺎﮨﺮﯼ ﻭ ﻋﻤﻠﯽ ﺷﮑﻞ ﺗﻮ ﯾﮩﯽ ﮨﮯ ﺟﻮ ﻗﺮﺁﻥ ﻧﮯ ﮨﻤﯿﮟ ﺑﺘﺎﺋﯽ ﮐﮧ ﭼﻠﺘﮯ ﭘﮭﺮﺗﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﻧﮕﺎﮨﻮﮞ ﮐﻮ ﭘﺴﺖ ( ﺟﮭﮑﺎ ﮐﺮ ) ﺭﮐﮭﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺩﻝ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﺎ ﺧﻮﻑ ﮨﻮ ﮐﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﻣﺠﮭﮯ ﺩﯾﮑﮫ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ ﺟﺲ ﻗﺪﺭ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﮐﺎ ﺧﻮﻑ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮨﻮﮔﺎ ، ﺍﺗﻨﺎ ﮨﯽ ﺣﺮﺍﻡ ﭼﯿﺰﻭﮞ ﺳﮯ ﺑﭽﻨﺎ ﺁﺳﺎﻥ ﮨﻮﮔﺎ۔
ﺣﺪﯾﺚ ﭘﺎﮎ ﻣﯿﮟ ﺁﻗﺎ ﮐﺮﯾﻢ ﷺ ﮐﺎﺍﺭﺷﺎﺩ ﮨﮯ ﮐﮧ " ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﺯﻧﺎ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﺎ ﺯﻧﺎ ﺩﯾﮑﮭﻨﺎ ﮨﮯ۔ "
ﺟﺒﮑﮧ ﻗﺮﺁﻥِ ﮐﺮﯾﻢ ﻣﯿﮟ ﺍﻟﻠﮧ ﺭﺏ ﺍﻟﻌﺰﺕ ﮐﮯ ﺍﺭﺷﺎﺩ ﮐﺎ ﻣﻔﮩﻮﻡ ﮨﮯ ﮐﮧ " ﺯﻧﺎ ﮐﯽ ﺳﻮﭺ ﮐﮯ ﻗﺮﯾﺐ ﺑﮭﯽ ﻣﺖ ﺟﺎﺅ ، ﺑﮯ ﺷﮏ ﯾﮧ ﺑﮩﺖ ﮨﯽ ﺑﺮﺍ ﺭﺍﺳﺘﮧ ﮨﮯ۔ "
ﺍﺏ ﺁﭖ ﺧﻮﺩ ﺩﯾﮑﮭﯿﮟ ﮐﮧ ﺟﺐ ﺗﮏ ﮨﻢ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﻧﮩﯿﮟ ، ﺗﻮ ﺳﻮﭺ ﮐﯿﺴﮯ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ ، ﺍﺱ ﻟﺌﮯ ﺟﺐ ﻧﮕﺎﮦ ﻣﺴﻠﺴﻞ ﺑﺮﺍﺋﯽ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﺭﮐﮫ ﮐﺮ ﮐﺴﯽ ﮐﺎ ﭘﯿﭽﮭﺎ ﮐﺮﮮ ﮔﯽ ﺗﻮ ﺯﻧﺎ ﮐﺎ ۔۔۔ ﺍﻭﺭ ﺯﻧﺎ ﮐﯽ ﺳﻮﭺ ﮐﺎ ﻣﻌﺎﻣﻠﮧ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﺗﻘﻮﯾﺖ ﭘﮑﮍﮮ ﮔﺎ۔۔۔
ﺍِﺳﯽ ﺟﮩﺎﮞ ﺍﻟﻠﮧ ﺭﺏ ﺍﻟﻌﺰﺕ ﻧﮯ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﺎ ﭘﺮﺩﮮ ﮐﺎ ﺣﮑﻢ ﺩﯾﺎ ، ﻭﮨﯿﮟ ﻣﺮﺩ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﺍﭘﻨﯽ ﻧﮕﺎﮨﯿﮟ ﺟﮭﮑﺎ ﮐﮯ ﺭﮐﮭﻨﮯ ﮐﺎ ﺣﮑﻢ ﺩﯾﺎ ، ﻣﺰﯾﺪ ﺑﺮﺁﮞ ﺁﯾﺎﺕ ﭘﮩﻠﮯ ﮐﺲ ﮐﻮ ﻣﺨﺎﻃﺐ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ ﯾﺎ ﺑﻌﺪ ﮐﯽ ﺁﯾﺖ ﻣﯿﮟ ﮐﺲ ﮐﻮ ﺣﮑﻢ ﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ ، ﻣﺮﺩ ﻭﺯﻥ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺍﺱ ﺍﺧﻼﻗﯽ ﻣﻌﺎﻣﻠﮯ ﮐﮯ ﻣﮑﻤﻞ ﺫﻣﮧ ﺩﺍﺭ ﺍﻭﺭ ﺣﻘﻮﻕ ﺍﻟﻌﺒﺎﺩ ﮐﯽ ﻣﻌﺎﺷﺮﺗﯽ ﺳﯿﮍﮬﯽ ﻣﯿﮟ ﺁﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔۔۔
٭٭٭ﺑﺪﻧﻈﺮﯼ ﮐﮯ ﻃﺒﯽ ﻧﻘﺼﺎﻧﺎﺕ٭٭٭
ﺍﯾﮏ ﺑﺪﻧﻈﺮﯼ ﺳﮯ ﮐﺌﯽ ﻣﺮﺽ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔۔۔
ﺍﮔﺮﭼﮧ ﺍﯾﮏ ﺳﯿﮑﻨﮉ ﮐﯽ ﺑﺪﻧﻈﺮﯼ ﮨﻮ ﺩﻝ ﮐﻮ ﺿﻌﻒ ﮨﻮﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔
ﻓﻮﺭﺍً ﮐﺸﻤﮑﺶ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻧﮩﯿﮟ؟
ﮐﺒﮭﯽ ﺍﺩﮬﺮ ﺩﯾﮑﮭﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﺒﮭﯽ ﺍﺩﮬﺮ ﺩﯾﮑﮫ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺩﯾﮑﮫ ﺗﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﺎ ۔۔۔
ﺍﺱ ﮐﺸﻤﮑﺶ ﺳﮯ ﻗﻠﺐ ﻣﯿﮟ ﺿﻌﻒ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ
ﺍﻭﺭ۔۔۔ ﮔﻨﺪﮮ ﺧﯿﺎﻻﺕ ﺳﮯ ﻣﺜﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﻏﺪﻭﺩ ﻣﺘﻮﺭﻡ ﮨﻮﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ
ﺟﺲ ﺳﮯ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺑﺎﺭ ﺑﺎﺭ ﭘﯿﺸﺎﺏ ﺁﻧﮯ ﻟﮕﺘﺎ ﮨﮯ۔۔۔
ﭘﯿﺸﺎﺏ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﯾﺎ ﺑﻌﺪ ﻣﯿﮟ ﺭﻃﻮﺑﺘﻮﮞ ﮐﮯ ﺍﺧﺮﺍﺝ ﮐﺎﻣﻌﺎﻣﻠﮧ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﻮ " ﺟﺴﻤﺎﻧﯽ ﺩﯾﻤﮏ " ﮐﯽ ﺑﯿﻤﺎﺭﯾﺎﮞ ﻟﮓ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﯿﮟ ﺍﯾﺴﮯ ﺟﺴﻤﺎﻧﯽ ﺩﯾﻤﮏ ﮐﯽ ﺑﯿﻤﺎﺭﯼ ﮐﮯ ﻣﺮﯾﻀﻮﮞ ﮐﯽ ﺗﻌﺪﺍﺩ ﻣﺮﺩ ﺍﻭﺭ ﻋﻮﺭﺕ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮨﯽ ﺁﺟﮑﻞ ﺑﮩﺖ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮨﮯ ۔۔۔۔
ﺍﻥ ﺳﺐ ﻣﻌﺎﻣﻼﺕ ﺳﮯ ﺍﻋﺼﺎﺏ ﮈﮬﯿﻠﮯ ﮨﻮﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﺲ ﺳﮯ ﺩﻣﺎﻍ ﮐﻤﺰﻭﺭ ﺍﻭﺭ ﻧﺴﯿﺎﻥ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔۔۔
ﮨﺮﻋﺼﯿﺎﻥ ( ﺑﺮﺍﺋﯽ ) ﮐﺎ ﺳﺒﺐ ﻧﺴﯿﺎﻥ ﮨﮯ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﮐﯽ ﮨﺮ ﻧﺎﻓﺮﻣﺎﻧﯽ ﺳﮯ ﻗﻮﺕ ﺩﻣﺎﻍ ﺍﻭﺭ ﺣﺎﻓﻈﮧ ﮐﻤﺰﻭﺭ ﮨﻮﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔۔۔
ﺑﮭﻮﻝ ﮐﯽ ﺑﯿﻤﺎﺭﯼ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﺴﮯ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﺎ ﻋﻠﻢ ﺑﮭﯽ ﺿﺎﺋﻊ ﮨﻮﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﭘﮭﺮ ﮔﺮﺩﮮ ﮐﻤﺰﻭﺭ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺑﺪﻧﮕﺎﮨﯽ ﮐﯽ ﺑﺪ ﻋﺎﺩﺕ ﻣﯿﮟ ﺳﺎﺭﮮ ﺍﻋﺼﺎﺏ ﮐﻤﺰﻭﺭ ﮨﻮﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔۔۔
ﯾﻮﮞ ﺳﻤﺠﮫ ﻟﯿﺠﺌﮯ ﮐﮧ ﺯﻟﺰﻟﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ
ﺟﺐ ﮐﮩﯿﮟ ﺯﻟﺰﻟﮧ ﺁﺗﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﻋﻤﺎﺭﺕ ﮐﻤﺰﻭﺭ ﮨﻮﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ﯾﺎ ﻧﮩﯿﮟ؟
ﮔﻨﺎﮦ ﻧﻔﺲ ﻭ ﺷﯿﻄﺎﻥ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﺯﻟﺰﻟﮧ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﺁﭖ ﮐﻮ ﮔﻨﺎﮦ ﺳﮯ ﺑﭽﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔۔۔
ﺍﭼﺎﻧﮏ ﻧﻈﺮ ﭘﮍﯼ ﺍﻭﺭ ﻓﻮﺭﺍً ﮨﭩﺎﻟﯽ ﺗﻮ ﺑﮭﯽ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﺯﻟﺰﻟﮧ ﺁﺗﺎ ﮨﮯ ﺟﮭﭩﮑﺎ ﻟﮕﺘﺎ ﮨﮯ۔۔۔
ﻣﮕﺮ ﮔﻨﺎﮦ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﺳﻮﭺ ﺍﻭﺭ ﺑﺮﯼ ﻧﻈﺮ ﺳﮯ ﺑﺎﺭ ﺑﺎﺭ ﯾﺎ ﻣﺴﻠﺴﻞ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﺭﮨﻨﮯ ﭘﺮ ﺯﻟﺰﻟﮯﮐﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﻟﻌﻨﺖ ﺑﺮﺳﺘﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺳﮯﺫﮨﻨﯽ ﺍﻭﺭ ﺩﻟﯽ ﺑﮯ ﺳﮑﻮﻧﯽ ﮐﮯ ﻋﺬﺍﺏ ﮐﮯ ﺟﮭﭩﮑﮯ ﻟﮕﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔۔۔ !!!
ﺍﻟﻠﻪ ﭘﺎﮎ ﮬﻤﯿﮟ ﺑﺪ ﻧﮕﺎﮬﯽ ﺟﯿﺴﮯ ﮔﻨﺎﻩ ﺳﮯ ﺩﻭﺭ ﻓﺮﻣﺎﮰ ... ﺁﻣﯿﻦ .
👆ایک مراسلہ👆
https://t.me/islamwitheman
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
1 288
🔰 حضرت بہلول اور سوداگر 🔰
بغداد کے ایک سوداگر نے حضرت بہلول سے سوال کیا کہ میں کیا خرید کروں تاکہ اس کا زیادہ منافع کما سکوں؟
حضرت بہلول نے جواب دیا:
لوہا اور روئی۔
وہ سوداگر گیا اور کچھ لوہا اور کچھ روئی خرید کر کے انبار کیا اتفاقاً کچھ مہینے بعد جب اس کو بیچا تو زیادہ منافع حاصل کیا.
دوبارہ ایک مرتبہ بہلول کے سے ملا اور کہنے لگا:
بہلول دیوانہ ابھی اس مرتبہ میں کیا خریدوں تاکہ زیادہ منافع حاصل کروں؟
حضرت بہلول نے جواب دیا:
پیاز اور تربوز خریدو.
سوداگر گیا اور اپنا سارا سرمایہ پیاز اور تربوز کی خرید میں لگا دیا اور اس کو اپنے انبار میں رکھ دیا، کچھ مدت کے گزرنے کیبعد سارے پیاز اور تربوز خراب ہو گئے اور ختم ہو گئے اور زیادہ نقصان ہوا.
سوداگر حضرت بہلول کے پاس گیا اور کہا:
پہلی مرتبہ آپ کے ساتھ مشورہ کیا تھا تو بہت منافع حاصل کیا تھا لیکن دوسری مرتبہ جو آپ نے مشورہ دیا تھا، میرا سارا سرمایہ ختم ہو گیا ہے.
■حضرت بہلول نے اس آدمی کے جواب میں کہا: جب آپ مجھے پہلی مرتبہ ملے تو مجھے آقای شیخ بہلول کے نام سے پکارا تھا کیونکہ ایک عاقل شخص کے نام سے مجھے پکارا تو عقل کی رو سے آپ کو جواب دیا تھا.
لیکن دوسری مرتبہ آپ نے مجھے دیوانہ کے نام سے پکارا میں نے اپنی دیوانگی کی رو سے آپ کو جواب دیا ہے.
🔘 وہ شخص اپنےکیے پر شرما رہا تھا اور حضرت بہلول کی بات کو مکمل طور پر سمجھ چکا تھا.
📚 یک جرعہ ای معرفت سے مآخوذ.
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 288
🌷 باربی گڑیا 🌷
شہید طہرانی مقدم کی بیٹی کی زبانی۔۔۔
تب میں تیسری کلاس میں پڑھتی تھی ،کہ باربی گڑیا کو پہلی بار دیکھا۔
اس کے ہاتھ پاؤں ہر طرف مڑ جاتے تھے اور بہت نازک سی انگلیاں تھیں۔ اس وقت مجھے تو ایسی چیزوں کا ہی شوق تھا ۔۔۔ نازک سی گڑیا اس کا گھر اور کھلونے۔۔۔
وہ میرا خواب بن گئی کہ کاش میرے پاس بھی باربی ہو۔
پھر ایک اس دن امی کے ساتھ کزن کے گھر گئی تو میری کزن نے مجھے باربی اور باربی کا پورا گھر دکھایا۔ میری کزن کے ابو جب بھی ملک سے باہر جاتے اس کے لیے باربی گڑیا لے کر آتے تھے۔
اب تو میرا صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا تھا ۔۔ میں اسے جلد از جلد حاصل کر لینا چاہتی تھی۔
اس سال عید پر میں نے امی کو بہت کہا تب جا کر امی نے ایک باربی گڑیا اس کے پورے گھر کے ساتھ مجھے لے کر دی۔
اس سال میں 9 سال کی ہو گئی تھی اور میرے لیے جشن تکلیف بھی منایا گیا لیکن ۔۔۔ میری باربی کے کپڑے پورے نہ تھے۔
جب سے باربی آئی امی بھی میرے ساتھ کھیلتیں۔ ایک دن امی کہنے لگیں، یہ تمھاری باربی ایسے کپڑوں کے ساتھ تو گھر سے باہر نہیں جاسکتی نا !!
امی نے باربی کیلئے ایک اسکارف، کالی چادر اور شلوار سی کر دی۔ اور گھر کے لیے نماز کی چادر بھی بنا کر دی۔
میں سوچتی ہوں کہ میں اس باربی کی عاشق تھی اور پورا اس باربی کے زیر اثر تھی۔
لیکن امی نے کھیل کھیل میں ہی میرا ذھن بدل دیا۔
باربی نے جب اسکول جانا شروع کیا تو میں نے اور امی نے مل کر اس کے ناخن بھی کاٹے کیونکہ لمبے ناخن کے ساتھ وہ سکول نہیں جا سکتی تھی۔
اس کی نیل پالش بھی صاف کی۔ اس کے بالوں کی بھی چٹیا بنائی ۔ اپنی طرح چادر اس کے سر پر دی۔
میری باربی میرے ساتھ نماز جمعہ بھی پڑھنے جاتی تھی۔
امی نے مجھے باربی جیسا نہ بننے دیا بلکہ باربی کو میرے جیسا بنا دیا۔
🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 288
🔷 چغلخوری 🔷
چغلخور شیطان کا شریک ہوتا ہے اور انسان کا قاتل۔ دو آدمیوں کے درمیان جنگ آگ کی طرح ہوتی ہے جن کے درمیان چغلخوری کرنے والا بدبخت ایندھن کی طرح ہوتا ہے۔
بالآخر وہ دونوں تو ایک دوسرے سے راضی ہو جاتے ہیں لیکن چغلخور بدبخت شرمندہ ہوتا ہے۔(1)
🌹حضرت رسولِخداؐ نے فرمایا:
"یعضه بعضکم بعضا"
ایک دوسرے کی چغلخوری نہ کیا کریں۔(2)
🌹حضرت رسولِخداؐ نے فرمایا:
"لا یدخل الجنة نمام"
چغلخور جنت میں داخل نہیں ہوگا۔(3)
🌹حضرت امیرالمؤمنین علیؑ نے فرمایا:
"ایاکم والنميمة فانھا تورث الضغائن"
چغلخوری سے پرہیز کرو، اس سے کینہ پیدا ہوتا ہے۔(4)
■چغلخور کی دعا:
ایک سال بنی اسرائیل پر قحط سالی نمودار ہوئی۔ حضرت موسٰیؑ نے چند دفعہ بارش طلبی کی دعا کی لیکن کوئی اثر ظاہر نہ ہوا۔
حضرت موسٰیؑ پر واپسی جواب آیا کہ۔۔۔
آپ کی جماعت میں ایک چغلخور آدمی ہے جو اپنے کام میں مشغول ہے اور اسے چھوڑنے پر آمادہ نہیں ہے۔ آپ کی بار بار کی دعا بھی اسی شخص کی وجہ سے قبول نہیں ہو رہی ہے۔
حضرت موسٰیؑ نے عرض کیا:
خدایا وہ کون شخص ہے، مجھے مطلع فرمائیں۔
خطاب ہوا:
اے موسٰی! میں خود چغلخوری سے منع کرتا ہوں۔ تو پھر اگر میں اس کے بارے تجھے بتاؤں تو کیا یہ چغلخوری نہیں ہوگی۔؟
آپ سب سے کہہ دیں کہ توبہ کریں۔ آپ سب کی دعا قبول ہو جائے گی۔
سب نے توبہ کر لی اور بارش نازل ہوئی۔(5)
🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔
📚حوالہ جات:
1) سعدی شیرازی کے اشعار کا ترجمہ
2) میزان الحکمۃ 20396۔
3) میزان الحکمۃ 20409۔
4) میزان الحکمۃ 20398۔
5) موضوعی داستانیں، ص226۔
✍ سید سجاد حسین ھمدانی
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 288
🔷 وصیت اور نصیحت 🔷
ایک دولت مند انسان نے اپنے بیٹے کو وصیت کرتے ہوئے کہا؛ "بیٹا میرے مرنے کے بعد میرے پاؤں میں یہ پهٹے هويے جراب (موزے) پہنا دینا، میری یہ خواهش ضرور پوری کرنا.
باپ کے مرتے ہی نہلانے کے بعد، بیٹے نے مولوی جی کو والد کی آخری خواهش بتائی.
مولوی جی نے کہا:
ہمارے مذہب میں کچھ بھی پہنانے کی اجازت نہیں هے۔
لیکن بیٹے کی ضد تھی کہ والد کی آخری خواهش پوری ہو.
بحث اتنی بڑھ گئی کے شہر کے مولويوں کو جمع کیا گیا، لیکن کوئی نتیجہ نہیں نکلا.
اسی ماحول میں ایک شخص آیا، اور آکر بیٹے کے ہاتھ میں باپ کا لکھا ہوا خط دیا، جس میں باپ کی نصیحت لکھی تھی۔۔۔
میرے پیارے بیٹے!
دیکھ رہے ہو..؟ دولت، بنگلہ، نوکری اور بڑی بڑی فیکٹری اور فارم ہاؤس کے بعد بھی، میں ایک پھٹا ہوا ذخیرہ تک نہیں لے جا سکتا.
ایک روز تمہیں بھی موت آئے گی، آگاہ رہو، تمہیں بھی ایک سفید کپڑے میں ہی جانا پڑے گا.
لہذا کوشش کرنا، پیسوں کے لئے کسی کو دکھ نہ دینا، غلط طریقے سے پیسہ نہ کمانا، دولت کو نیکی کے کام میں ہی لگانا.
سب کو یہ جاننے کا حق ہے کہ جسم چھوٹنے کے بعد صرف نيکی ہی ساتھ جائے گی لیکن پھر بھی آدمی اس وقت تک دولت کے پیچھے بھاگتا رہتا ہے جب تک اس کا انتقال نہیں ہو جاتا.
________
1) جو آپ سے دل سے بات کرتا ہے اسے کبھی دماغ سے جواب مت دینا.
2) ایک سال میں 50 دوست بنانا عام بات ہے. 50 سال تک ایک دوست سے دوستی نبھانا خاص بات ہے.
3) ایک وقت تھا جب ہم سوچتے تھے کہ ہمارا بھی وقت آئے گا اور ایک یہ وقت ہے کہ ہم سوچتے ہیں کہ وہ بھی کیا وقت تھا.
4) ایک منٹ میں زندگی نہیں بدلتی پر ایک منٹ سوچ کر لکھا فیصلہ پوری زندگی بدل دیتا ہے.
5) آپ زندگی میں کتنے بھی اونچے کیوں نہ اٹھ جائیں، پر اپنی غربت اور مشکلات کو کبھی نہ بھولنا.
6) وانی میں بھی عجیب طاقت ہوتی ہے. تلخ بولنے والے کا شہد بهی نہیں بکتا اور میٹھا بولنے والے کي مرچی بھی فروخت هو جاتی ہے.
7) زندگی میں سب سے بڑی خوشی اس کام کو کرنے میں ہے جسے لوگ کہتے ہیں کہ تم نہیں کر سکتے ہو.
8) انسان ایک کان ہے اور زبان اس کا تالا. تالا کھلتا ہے، تبھی معلوم ہوتا ہے کہ کان سونے کی ہے یا کوئلے کی.
9) دنیا مخالفت کرے آپ ڈرو مت، کیونکہ جس پيڑ پر پھل لگتے هيں دنیا اسے ہی پتھر مارتی ہے.
10) جیت اور ہار آپ کی سوچ پر ہی منحصر ہے. مان لو تو ہار ہوگی اور ٹھان لو تو جیت.
11) دنیا کی سب سے زیادہ سستی چیز ہے مشورہ، ایک سے مانگو ہزاروں سے ملتی ہے. تعاون ہزاروں سے مانگو ایک سے ملتا ہے.
12) میں نے دولت سے کہا کہ تم ایک کاغذ کے ٹکڑے ہو. دولت مسکرائی اور بولی بالکل میں ایک کاغذ کا ٹکڑا ہوں، لیکن میں نے آج تک زندگی میں کوڑے دان کا منہ نہیں دیکھا.
13) آندھيوں نے لاکھ بڑھايا حوصلہ دھول کا، دو بوند بارش نے اوقات بتا دی.
14) جب لوگ آپ کی (اچھائی میں) نقل کرنے لگیں تو سمجھ لینا چاہئے کہ آپ زندگی میں کامیاب ہو رہے ہیں.
15) مت پھینک پتھر پانی میں، اسے بھی کوئی پیتا ہے.
مت رہو یوں اداس زندگی میں، تمہیں دیکھ کر بھی کوئی جیتا ہے...
https://t.me/islamwitheman
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
1 288
🔶 غُربت کی چس 🔶
میرے والد صاحب نے ایک قصّہ سنایا، کہتے ہیں؛
ہمارے گاؤں میں ایک نائی تھا- اُسکا کُل سرمایا ایک تکیہ، ایک چادر، اور اپنے اوزاروں کا تھیلا تھا! اُسکا کوئی گھر نہیں تھا- بھلے وقتوں میں لوگ اکثر اپنے گھر کے باھر ایک چارپائی اور پانی کا گھڑا رکھا کرتے تھے- وہ نائی بھی کسی کے گھر کے باھر چارپائی پر سو جایا کرتا تھا!
ایک بار گاؤں میں سیلاب آ گیا!
سب لوگ اپنے اپنے مال اسباب کو محفوظ مقام پر منتقل کرنے کیلئے بھاگ دوڑ کر رہے تھے!
نائی نے اپنا تکیہ چادر اٹھایا، ایک دیوار پر چڑھ کر تکیے کو ٹیک بنایا، اور لیٹ گیا!
ایک شخص اس نائی کے پاس سے گزرا اور اسے پُرسکون دیکھ کر کہنے لگا:
لوکاں نو بھاجڑ پئی اے تے تو آرام نال لما پیا ایں؟ (لوگ پریشان حال بھاگ رہے ہیں اور تم سکون سے لیٹے ہوۓ ہو؟)
نائی نے جواب دیا:
اج ای تے غربت دی چس آئی اے!
(آج ہی تو غربت کا مزا آیا ہے!)
یعنی میرے پاس کونسا کوئی مال اسباب تھا، جسے بچانے کیلئے میں بھاگا پھرتا! میں تو آج اپنی غریبی کا مزا لے رہا ہوں!
🔘 جب میں نے یہ کہانی سنی تو ہنس پڑا مگر پھر ایک خیال آیا کہ شاید روز محشر کا منظر بھی کچھ ایسا ہی ہوگا۔ جب تمام انسانوں سے حساب لیا جائے گا۔۔۔
ایک طرف غریبوں کا حساب ہو رہا ہو گا۔ دو وقت کی روٹی، کپڑا، حقوق اللہ اور حقوق العباد۔
ایک طرف امیروں کا حساب ہو رہا ہو گا۔ پلازے، دکانیں، فیکٹریاں، گاڑیاں، بنگلے، سونا اور زیوارات، ملازم۔ پیسہ۔ حلال، حرام، عیش و آرام۔ زکوۃ، حقوق اللہ، حقوق العباد۔۔۔۔
اتنی چیزوں کا حساب کتاب دیتے ہوئے پسینے سے شرابور اور خوف سے تھر تھر کانپ رہے ہوں گے۔
تب شاید اسی نائی کی طرح غریب ان امیروں کو دیکھ رہے ہو گے۔ چہرے پر ایک عجیب سا سکون اور شاید دل ہی دل میں کہہ رہے ہوں گے۔۔۔۔!
"اج ای تے غربت دی چس آئی اے ۔۔۔۔
آج کے غریبوں کا حال بروز محشر اُس نائی جیسا ہی ہوگا! اور آج کے جاگیرداروں کا حال ان لوگوں کی طرح ہوگا جو بُرے حال بھاگ رہے تھے!
جھوٹ، مکر، فریب، خیانت اور ظلم سے دولت اکٹھی کرنے والے، جتنا دل چاہے اکٹھا کر لیں! یہ بات سورج کی طرح روشن ہے کہ خدا کو حساب تو دینا ہی ہے!
سچ یہ ہے کہ ان جاگیرداروں، وڈیروں، سرداروں، میاؤں کو اپنے رب کے حضور پیش ہونے کا یقین ہی نہیں ہے! اگر رائی کے دانے برابر بھی یقین ہوتا تو اپنی ضرورت سے زیادہ کے مال میں، اپنے مسلمان بھائی کو حصے دار بناتے!
"اللہ تعالی سے دعا ہے کہ ہمیں ہر نعمت کا شکر ادا کرنے کی اور اللہ کی رضا کے مطابق استعمال اور تقسیم کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔“ آمین یارب العالمین
منقول۔۔۔
https://t.me/islamwitheman
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
1 288
🔶 تہمت، گالی 🔶
«عمر بن نعمان» کہتا ہے:«حضرت امام صادق (علیه السلام) کے ایک دوست تھے جو ہمیشہ آنحضرت (علیہ السلام) کے ساتھ رہتے تھے.
ایک دن وہ اور اس کا غلام حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) کے ساتھ جوتوں کے بازار میں گئے ، لیکن اس شخص کا غلام کسی کام کے لئے اپنے مالک کو تنھا چھوڑ کر چلا جاتا ہے آنحضرت (علیہ السلام) کے دوست نے اپنے غلام کو آواز لگائی لیکن جواب نہیں اور اسی طرح اس نے تین مرتبہ آواز لگائی لیکن بالکل جواب نہ آیا۔۔
پھر وہ شخص بہت غصہ ہوا اور آواز لگائی: اے زنا کی اولاد تم کہا ہو؟
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے جب یہ کلمہ سنا تو بہت ناراض ہوئے اور اپنا ہاتھ مضبوطی کے ساتھ اس کی پیشانی پر مارا.
آنحضرت کے دوست نے عرض کی:
میں قربان جاؤں! وہ ھندوستان سے ہے اور اس کی ماں مشرک ہے۔
لیکن امام علیہ السلام نے اس کا عذر قبول نہ فرمایا اور اسے حکم دیا:
مجھے سے دور ہو جاؤ اور «عمر بن نعمان» کہتا ہے میں نے اس کو امام (علیہ السلام) کے ساتھ دوبارہ کبھی نہ دیکھا»
📚کافی، ج4، ص15
https://t.me/islamwitheman
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
1 288
🔵 خالی برتن 🔵
کچھ دن پہلے تهوڑی تیز ہوا چلی تو میں نے جو برتن دیوار پر رکها ہوا تها پرندوں کے لیے پانی ڈالنے کے لئے، وہ گِر گیا۔ میں اگلے دن باغیچے میں گیا تو برتن کو دیوار پر نہ پا کر کچھ پریشان ہوا لیکن قریب جا کر کیا دیکھا کہ وہ برتن نیچے زمین پر اوندھا پڑا ہوا تها اور مٹی سے اَٹ چکا تها۔
خیر میں نے اسے صاف کر کے دوبارہ ٹهنڈا پانی بهرا اور دیوار پر رکھ دیا، لیکن میں سوچتا رہا "ایسا کیا انتظام کروں کہ برتن دوبارہ نہ گرے۔۔؟"
بابا سے پوچھا تو وہ کہنے لگے
"بیٹا! اِسے ہمیشہ پانی سے بهرا رکهو تو نہیں گرے گا، بهاری ہو جائے گا تو خود بخود دیوار پر ٹِکا رہے گا ـــــــ
کچھ ایسا ہی ہمارے دلوں کا معاملہ ہے، اللہ کی یاد سے بهرا رہے تو کبھی گرتا نہیں گهبراتا نہیں، چاہے زمانے کی کتنی بھی تیز ہوا چلے۔ لیکن اللہ کی یاد نہ ہو تو فوراً گِر جاتا ہے گناہوں کی مٹی سے اَٹ جاتا ہے، اور گمراہی کے راستوں پر بهٹکتا پهرتا ہے.
منقول
https://t.me/islamwitheman
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
1 288
🎅 مرغی فروش اور قاضی 🎅
اﯾﮏ ﺷﺨﺺ ﺍﯾﮏ ﺫﺑﺢ ﮐﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﻣﺮﻏﯽ ﻟﮯ ﮐﺮ ﻣﺮﻏﯽ ﻓﺮﻭﺵ ﮐﯽ ﺩﻭﮐﺎﻥ ﭘﺮ ﺁﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ کہ " بھائی ذرا اﺱ مرغی ﮐﻮ ﮐﺎﭦ ﮐﺮ ﻣﺠﮭﮯ دے ﺩﻭ "
ﻣﺮﻏﯽ ﻓﺮﻭﺵﻧﮯ ﮐﮩﺎ " ﻣﺮﻏﯽ ﺭکھ ﮐﺮچلے ﺟﺎﺅ ﺍﻭﺭ ﺁﺩﮬ ﮔﮭﻨٹے ﺑﻌﺪ ﺁ ﮐﺮ ﻟﮯ ﺟﺎﻧﺎ "
ﺍﺗﻔﺎﻕ ﺳﮯﺷﮩﺮ ﮐﺎ قاضی ﻣﺮﻏﯽ ﻓﺮﻭﺵ ﮐﯽ ﺩﻭﮐﺎﻥ پر آ گیا ﺍﻭﺭ ﺩﻭﮐﺎﻧﺪﺍﺭ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ کہ" ﯾﮧ ﻣﺮﻏﯽ ﻣﺠﮭﮯ ﺩﮮ ﺩﻭ"
ﺩﻭﮐﺎﻧﺪﺍﺭ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ کہ " ﯾﮧ مرغی ﻣﯿﺮﯼ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻠﮑﮧ ﮐﺴﯽ ﺍﻭﺭ ﮐﯽ ھﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﺮﮮ ﭘﺎﺱ ﺑﮭﯽ ﺍﺑﮭﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﺮﻏﯽ ﻧﮩﯿﮟ جو آپ کو دے سکوں"
قاضی ﻧﮯ کہا کہ کوئی بات نہیں ، ﯾﮩﯽ مرغی ﻣﺠﮭﮯ ﺩﮮ ﺩﻭ ﻣﺎﻟﮏ ﺁﺋﮯ ﺗﻮ ﮐﮩﻨﺎ کہ مرغی ﺍﮌ ﮔﺌﯽھے "
ﺩﻭﮐﺎﻧﺪﺍﺭ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ کہ" ﺍﯾﺴﺎ ﮐﮩﻨﮯ ﮐﺎ بھلا ﮐﯿﺎ ﻓﺎﺋﺪﮦ ھو گا ؟ مرغی تو ﺍﺱ ﻧﮯ ﺧﻮﺩ ﺫﺑﺢ ﮐﺮ ﮐﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺩﯼ تھی پھر ﺫﺑﺢ ﮐﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﻣﺮﻏﯽ ﮐﯿﺴﮯ ﺍﮌ سکتی ھے" ؟
قاضی ﻧﮯ ﮐﮩﺎ- " ﻣﯿﮟ ﺟﻮ ﮐﮩﺘﺎ ﮨﻮﮞ اسے غور سے ﺳﻨﻮ ! ﺑﺲ ﯾﮧ مرغی ﻣﺠﮭﮯ ﺩﮮ ﺩﻭ ﺍﺱ کے مالک ﺳﮯ ﯾﮩﯽ ﮐﮩﻮ ﮐﮧ تیری مرغی ﺍﮌ ﮔﺌﯽ ھے - ﻭﮦ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ خلاف مقدمہ لے کر ﻣﯿﺮﮮ ﭘﺎﺱ ﺁﺋﮯ ہی ﮔﺎ "
ﺩﻭﮐﺎﻧﺪﺍﺭ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ کہ " ﺍﻟﻠﻪ سب کا ﭘﺮﺩﮦ ﺭﮐﮭﮯ" اور مرغی قاضی کو پکڑا دی -
قاضی ﻣﺮﻏﯽ ﻟﮯ ﮐﺮ نکل ﮔﯿﺎ ﺗﻮ مرغی کا ﻣﺎﻟﮏ ﺑﮭﯽ ﺁ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ دکاندار سے ﮐﮩﺎ کہ ﻣﺮﻏﯽ ﮐﺎﭦ ﺩﯼ ھے ؟
ﺩﻭﮐﺎﻧﺪﺍﺭ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ " میں نے تو کاٹ دی تھی مگر ﺁﭖ ﮐﯽ ﻣﺮﻏﯽ ﺍﮌ ﮔﺌﯽ ھے"
ﻣﺮﻏﯽ ﻭالے نے حیران ھو کر پوچھا : بھلا وہ ﮐﯿﺴﮯ ؟ "ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺧﻮﺩ ﺫﺑﺢ ﮐﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﮌ ﮐﯿﺴﮯ ﮔﺌﯽ ھے ؟ دونوں میں پہلے نوک جھونک شروع ھوئی اور پھر بات جھگڑے تک جا پہنچی جس پر ﻣﺮﻏﯽ ﻭﺍﻟﮯ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ کہ" ﭼﻠﻮ ﻋﺪﺍﻟﺖ قاضی کے پاس چلتے ھیں " اور چل پڑے -
ﺩﻭﻧﻮﮞ نے ﻋﺪﺍﻟﺖ ﺟﺎﺗﮯ ھﻮﺋﮯ ﺭﺳﺘﮯ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮧ ﺩﻭ ﺁﺩﻣﯽ ﻟﮍ ﺭھﮯ ہیں ، ﺍﯾﮏ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ھﮯ جبکہ ﺩﻭﺳﺮﺍ ﯾﮩﻮﺩﯼ - ﭼﮭﮍﺍﻧﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﻣﯿﮟ ﺩﻭﮐﺎﻧﺪﺍﺭ ﮐﯽ ﺍﻧﮕﻠﯽ ﯾﮩﻮﺩﯼ ﮐﯽ آنکھ ﻣﯿﮟ جا ﻟﮕﯽ ﺍﻭﺭ یہودی کی آنکھ ﺿﺎﺋﻊ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ - ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﺩﻭﮐﺎﻧﺪﺍﺭ ﮐﻮ ﭘﮑﮍ ﻟﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ کہ ﻋﺪﺍﻟﺖ ﻟﮯ کر ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ - ﺩﻭﮐﺎﻧﺪﺍﺭ ﭘﺮ ﺩﻭ مقدے ﺑﻦ ﮔﺌﮯ -
ﻟﻮﮒ ﻣﺮﻏﯽ ﻓﺮﻭﺵ ﮐﻮ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺟﺐ ﻋﺪﺍﻟﺖ ﮐﮯ ﻗﺮﯾﺐ ﭘﮩﻨﭻ ﮔﺌﮯ ﺗﻮ ﻣﺮﻏﯽ ﻓﺮﻭﺵ ﺍپنے آپ کو چھڑا ﮐﺮ ﺑﮭﺎﮔﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﺎﻣﯿﺎﺏ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ، ﻣﮕﺮ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﮯ ﭘﯿﭽﮭﺎ ﮐﺮﻧﮯ ﭘﺮ ﻗﺮﯾﺒﯽ ﻣﺴﺠﺪ ﻣﯿﮟ ﺩﺍﺧﻞ ھو کر ﻣﯿﻨﺎﺭ ﭘﺮ ﭼڑھ ﮔﯿﺎ - ﻟﻮﮒ جب ﺍﺱ ﮐﻮ ﭘﮑﮍﻧﮯ ﮐﮯ لئے ﻣﯿﻨﺎﺭ ﭘﺮ ﭼﮍﮬﻨﮯ ﻟﮕﮯ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﭼﮭﻼﻧﮓ ﻟﮕﺎﺋﯽ تو ﺍﯾﮏ ﺑﻮﮌﮬﮯ ﺁﺩﻣﯽ ﭘﺮ ﮔﺮ ﮔﯿﺎ ﺟﺲ ﺳﮯ ﻭﮦ ﺑﻮﮌﮬﺎ ﻣﺮ ﮔﯿﺎ -
ﺍﺏ ﺍﺱ ﺑﻮﮌﮬﮯ ﮐﮯ ﺑﯿﭩﮯ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺎتھ ﻣﻞ ﮐﺮ ﺍﺱ ﮐﻮ ﭘﮑﮍ لیا ﺍﻭﺭ سب اس کو ﻟﮯ ﮐﺮ قاضی ﮐﮯ ﭘﺎس ﭘﮩﻨﭻ ﮔﺌﮯ -
قاضی مرغی فروش ﮐﻮ ﺩﯾکھ ﮐﺮ ﮨﻨﺲ ﭘﮍﺍ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺍﺳﮯ ﻣﺮﻏﯽ ﯾﺎﺩ ﺁ ﮔﺌﯽ ﻣﮕﺮ ﺑﺎﻗﯽ ﺩﻭ ﮐﯿﺴﻮﮞ ﮐﺎ ﻋﻠﻢ اسے ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ -
ﺟﺐ قاضی ﮐﻮ ﺗﯿﻨﻮﮞ ﮐﯿﺴﻮﮞ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﺑﺘﺎﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﺗﻮ اس نے سر پکڑ لیا - اس کے بعد چند کتابوں کو الٹا پلٹا اور کہا کہ "ھم تینوں مقدمات کا یکے بعد دیگرے فیصلہ سناتے ھیں" ﺳﺐ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﻋﺪﺍﻟﺖ ﻣﯿﮟ ﻣﺮﻏﯽ ﮐﮯ ﻣﺎﻟﮏ ﮐﻮ ﺑﻼﯾﺎ ﮔﯿﺎ -
قاضی نے پوچھا ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﺩﻭﮐﺎﻧﺪﺍﺭ ﭘﺮ دعوی ﮐﯿﺎ ھے ؟
ﻣﺮﻏﯽ ﻭﺍﻻ: ''جناب والا ﺍﺱ ﻧﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﻣﺮﻏﯽ ﭼﺮﺍﺋﯽ ھے ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺫﺑﺢ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺩﯼ ﺗﮭﯽ ﯾﮧ ﮐﮩﺘﺎ ھﮯ ﮐﮧ ﻣﺮﻏﯽ ﺍﮌ ﮔﺌﯽ ھے'' - قاضی صاحب ! ﻣﺮﺩﮦ ﻣﺮﻏﯽ ﮐﯿﺴﮯ ﺍﮌ ﺳﮑﺘﯽ ﮨﮯ؟؟
قاضی: '' ﮐﯿﺎ ﺗﻢ ﺍﻟﻠﻪ اور اس کی قدرت ﭘﺮ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﺭﮐﮭﺘﮯ ﮨﻮ؟
ﻣﺮﻏﯽ ﻭﺍﻻ: ''ﺟﯽ ﮨﺎﮞ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮩﯿﮟ قاضی صاحب''
قاضی: '' ﮐﯿﺎ ﺍﻟﻠﻪ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﺑﻮﺳﯿﺪﮦ ﮨﮉﯾﻮﮞ ﮐﻮ ﺩﻭﺑﺎﺭﮦ ﺯﻧﺪﮦ ﮐﺮﻧﮯ ﭘﺮ ﻗﺎﺩﺭ ﻧﮩﯿﮟ۔۔۔ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﻣﺮﻏﯽ ﮐﺎ ﺯﻧﺪﮦ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺍﮌﻧﺎ بھلا کیا مشکل ھے''
ﯾﮧ ﺳﻦ ﮐﺮ ﻣﺮﻏﯽ کا مالک خاموش ھو گیا اور اپنا کیس واپس لے لیا -
قاضی: '' ﺩﻭﺳﺮﮮ ﻣﺪﻋﯽ ﮐﻮ ﻻﺅ '' - ﯾﮩﻮﺩﯼ ﮐﻮ ﭘﯿﺶ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻧﮯ عرض کیا کہ '' قاضی ﺻﺎﺣﺐ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﺁﻧکھ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﮕﻠﯽ ﻣﺎﺭی ھے ﺟﺲ ﺳﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﺁنکھ ﺿﺎﺋﻊ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺁﻧکھ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﮕﻠﯽ ﻣﺎﺭ ﮐﺮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺁﻧکھ ﺿﺎﺋﻊ ﮐﺮﻧﺎ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﮨﻮﮞ ''
قاضی ﻧﮯ ﺗﮭﻮﮌﯼ ﺩﯾﺮ ﺳﻮﭺ ﮐﺮ ﮐﮩﺎ: " ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﭘﺮ ﻏﯿﺮ ﻣﺴﻠﻢ ﮐﯽ ﺩﯾﺖ ﻧﺼﻒ ﮨﮯ ، ﺍﺱ ﻟﯿﺌﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﯾﮧ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﺩﻭﺳﺮﯼ آنکھ ﺑﮭﯽ ﭘﮭﻮﮌﮮ ﮔﺎ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺗﻢ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ آنکھ ﭘﮭﻮﮌ ﺩﯾﻨﺎ "
ﯾﮩﻮﺩﯼ: " بس ﺭھنے ﺩﯾﮟ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﺎ ﮐﯿﺲ ﻭﺍﭘﺲ ﻟﯿﺘﺎ ﮨوں"
قاضی: " ﺗﯿﺴﺮﺍ مقدمہ بھی پیش کیا جائے" -
ﻣﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺑﻮﮌﮬﮯ ﮐﺎ ﺑﯿﭩﺎ ﺁﮔﮯ ﺑﮍﮬﺎ ﺍﻭﺭ عرض کیا کہ " قاضی صاحب ﺍﺱ ﻧﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﺑﺎﭖ ﭘﺮ ﭼﮭﻼﻧﮓ ﻟﮕﺎﺋﯽ ﺟﺲ ﺳﮯ ﻭﮦ ﻣﺮﮔﯿﺎ "
قاضی تھوڑی دیر ﺳﻮﭼﻨﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺑﻮﻻ: " ﺍﯾﺴﺎ ﮐﺮﻭکہ تم لوگ ﺍسی ﻣﯿﻨﺎﺭ پر جاؤ ﺍﻭﺭ مدعی ﺍﺱ ﻣﯿﻨﺎﺭ ﭘﺮ ﭼﮍﮪ ﮐﺮ ﺍﺱ مدعی علیہ (ﻣﺮﻏﯽ ﻓﺮﻭﺵ) ﭘﺮ اسی طرح ﭼﮭﻼﻧﮓ ﻟﮕﺎ دے جس طرح مرغی فروش نے اس کے باپ پر چھلانگ لگائی تھی"
نوجوان نے کہا: " قاضی صاحب ﺍﮔﺮ ﯾﮧ ﺩﺍﺋﯿﮟ ﺑﺎﺋﯿﮟ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﺯﻣﯿﻦ ﭘﺮ ﮔﺮ ﮐﺮ ﻣﺮﺟﺎﺅﮞ گا "
قاضی نے کہا " ﯾﮧ ﻣﯿﺮﺍ ﻣﺴﺌﻠﮧ ﻧﮩﯿﮟ ، میرا کام عدل کرنا ھے - ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﺑﺎﭖ ﺩﺍﺋﯿﮟ ﺑﺎﺋﯿﮟ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺍ ؟؟؟
نوجوان نے اپنا دعوی واپس لے لیا -
🌹 نتیجہ اگر آپ کے پاس قاضی کو دینے کے لئے مرغی ھے تو پھر قاضی بھی آپ کو بچانے کا ہر ھنر جانتا ھے. 😅😂😅
اُمید ہے پاکستانی نظامِ عدل کے تناظر میں آپ اس کہانی کا مطلب سمجھ گئے ہوں گے؟
https://t.me/muskuraahten
🎅 MUSKURAAHTEN 🎅
1 288
🌷پانی پلانے کا اجر وثواب🌷
اسلام کے پسندیدہ ترین اور قرب خداوندی حاصل کرنے کے شائستہ ترین و بہترین اعمال میں سے ایک پیاسوں کی پیاس بجھانا اور پانی پلانا ہے۔ اسلام میں اس قسم کی خدمات کی بڑی حوصلہ افزائی اور تعریف و تمجید کی گئی ہے. پیاسوں تک پانی پہچانا اور ان کو سیراب کرنا اتنی اہمیت کا حامل ہے کہ روایات اسلامی میں اس کو بہترین صدقہ شمار کیا گیا ہے، پانی پلانا غلام آزاد کرنے کے برابر شمار کیا گیا ہے......
ان روایات میں سے کچھ یہ ہیں:
رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دیہات کے رہنے والوں سے فرمایا کہ اپنے سے اضافی پانی میں دوسروں کو استفادہ کرنے سے نہ روکیں،
اور چراگاھوں سے فقط خود ہی نہ فائدہ اٹھائیں بلکہ دوسرے اپنے جیسوں کو بھی فائدہ اٹھانے دیں.
1-- اسی طرح ان تین گروھوں سے خدا کلام کرنا پسند نہیں فرماتا اور ان کے لئے سخت عذاب کا وعدہ کیا ہے ان میں سے ایک ایسا شخص جو بیابان میں پانی پر قابض ہے خواہ کنویں کی صورت میں یا چشمہ وغیرہ کی صورت میں لیکن مسافروں، اور دوسرے لوگوں کو وہاں سے اسفادہ نہیں کرنے دیتا.
2-- آنحضرت ایک اور حدیث میں فرماتے ہیں:
جس شخص نے کنواں کھودا اور پانی تک پہنچ گیا پھر اس پانی کو مسلمانوں کے استفادہ کے لئے مثلا نماز کے وضوء کےلئے یا پینے اور دوسرے فائدے حاصل کرنے کے لئے عام کر دیتا ہے تو خدا اسے اس کا اجر عظیم عطا فرمائے گا۔
روایت میں ہےجتنے انسان، حیوان، پرندے، اس پانی سے استفادہ کرتے ہیں ان کے بالوں برابر اسے اجر عطا فرمائے گا اور قیامت کے دن پیغمبرؐ کے حوض سے سیراب ھوگا.
3-- جس کسی نے ایک پیاسے جگر سوختہ کی پیاس بجھائی تو خدائے متعال اسے قیامت کے دن بہشتی شربتوں سے سیراب فرمائے گا.
4 -- جب کوئی مسلمان تیرے پاس تشنہ لبی کی حالت میں آجائے تو اسے اچھی طرح سیراب کرو جس کا بہترین اجر پاؤ گے.
5 -- پانچ ایسی خصلتیں ہیں جو ان کو اپنائے یا ان میں سے ایک کو بھی اپنا لے تو وہ خدا سے ملاقات کرے گا اور جنت اس کے لئے واجب ھو جائے گی:
1- پیاسےکی پیاس بجھائے،
2- پیدل کو سواری پر بٹھائے،
3- ننگے کو لباس اور پابرہنہ کو جوتے پہنائے،
4- بھوکے کو کھانا کھلائے،
5- غلام کو آزاد کرے.
6 -- جس نے کسی پیاسے کو سیراب کیا ھو تو خدا اسے بھشت میں ایسے جام سے سیراب کرے گا جسے آج تک کسی نے کھولا تک نہ ھو. اور جس نے کسی مومن کو ایک چلو پانی دیا ھو خدا اسے جھنم سے آزاد کر دے گا جس نے کسی پیاسے کو بیابان میں پانی پلایا ھو وہ پیغمبر خدا کے ساتھ بہشت کے حوضوں سے سیراب ھوگا.
7 -- جس نے کسی مسلمان بھائی کو ایک گھونٹ پانی پلا دیا خدا اسے بھشت کے شربت سے سیراب فرمائے گا اور ایک ایک قطرہ کے بدلے اسے بہشتی اموال میں مال کثیر عطا فرمائے گا.
📜 پوسٹ ------- آقائ گلبھار.
اردوترجمہ--------- اصغررضا.
https://t.me/islamwitheman
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
1 288
🐜 چیونٹی کو جھوٹ کی سزا 🐜
علامہ ابن قیمؒ نے اپنی کتاب "مفتاح دارالسعادۃ" میں اس واقعہ کا ذکر کیا ہے,
ایک دن علامہ ابن قیم ایک درخت کے نیچے بیٹھے ہوئے تھے کہ انہوں نے ایک چیونٹی کو دیکھا جو ایک ٹڈی کے پَر کے پاس آئی اور اس کو اٹھا کر لے جانے کی کوشش کی مگر نہیں لے جا سکی۔
کئی بار کوشش کرنے کے بعد اپنے کیمپ (بل) کی طرف دوڑی۔ تھوڑی ہی دیر میں وہاں سے چیوٹیوں کی ایک فوج لے کر نمودار ہوئی اور ان کو لے کر اس جگہ آگئی جہاں پَر ملا تھا، گویا وہ ان کو لے کر پَر لے جانا چاہتی تھی۔
چیونٹیوں کے اس جگہ پہنچنے سے پہلے ابن قیم نے وہ پَر اٹھا لیا تو ان سب نے وہاں اس پَر کو تلاش کیا مگر نہ ملنے پر سب واپس چلے گئے۔ مگر ایک چیونٹی وہیں رہی اور ڈھونڈنے لگی جو شاید وہی چیونٹی تھی۔
اس دوران ابن قیم نے وہ پر دوبارہ اسی جگہ رکھ لیا جبکہ اس چیوونٹی کو دوبارہ وہی پَر مل گیا تو وہ ایک بار پھر دوڑ کر اپنے کیمپ میں چلی گئی اور پہلے کے مقابلے میں زیادہ دیر کے بعد، پہلے کے مقابلے میں کچھ کم چیونٹوں کو لے کر آئی گویا زیادہ تر نے اس کی بات کا یقین نہیں کیا۔
اس بار بھی جب وہ ان کو لے کر اس جگہ کے قریب پہنچی تو علامہ نے وہ پَر پھر اٹھا لیا اور سب نے اس کو دوبارہ کافی دیر تک تلاش کیا مگر نہ ملنے پر سب واپس چلے گئے اور حسب سابق ایک ہی چیونٹی وہاں اس پَر کو ڈھونڈتی رہی، اس دوران علامہ نے ایک بار پھر وہی پر اسی جگہ رکھ لیا تو اسی چیونٹی نے اس کو ڈھونڈ لیا اور اپنے کیمپ کی طرف ایک بار پھر دوڑ کر گئی مگر اس بار کافی دیر کے بعد صرف سات چیونٹیوں کو لے کر آئی تب ابن قیم نے اس پَر کو پھر اٹھا لیا اور چیونٹیوں نے کافی دیر تک پر کو تلاش کیا اور نہ ملنے پر غصے سے اسی چیونٹی پر حملہ آور ہوئیں اور اس کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے رکھ دیا گویا وہ جھوٹ بولنے پر اس سے ناراض ہو گئی تھیں۔
تب ابن قیم نے وہ پَر ان چیونٹیوں کے درمیان رکھ دیا جونہی ان کو پَر ملا ساری چیونٹیاں پھر اس مردہ چیونٹی کے پاس جمع ہو گئیں گویا وہ سب افسرہ اور شرمندہ تھیں کہ انہوں نے اس بے گناہ کو قتل کیا۔
ابن قیم کہتےہیں کہ یہ سب دیکھ کر مجھے بہت افسوس ہوا اور میں نے جاکر یہ واقعہ ابوالعباس ابن تیمیہ رحمہ اللہ کو بتایا۔
انہوں نے کہا اللہ تجھے معاف کرے ایسا کیوں کیا۔ دوبارہ کبھی ایسا مت کرنا.
سبحان اللہ جھوٹ سے نفرت فطرت کا حصہ ہے۔ کیڑے مکوڑے بھی جھوٹ سے نفرت کرتے ہیں اور قوم سے جھوٹ بولنے پر سزائے موت دیتے ہیں!
📘مصدر : مفتاح دار السعادہ، علامہ ابن قیم۔
https://t.me/islamwitheman
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
1 288
🌺 سجدہ 🌺
■سجدہ کرنے کا ثواب
🌹امام جعفرصادق علیہ السلام اپنے آباءطاھرین سے نقل کرتے ہیں کہ رسول خدا (ص) نے فرمایا:
جس نے خداوندمتعال کی بارگاہ میں ایک بار سجدہ کیا، اس عمل کی وجہ سے اس کا ایک گناہ مٹا دیاجاتا ہے اور ایک رتبہ بڑھا دیا جاتا ہے.
■سجدہ میں دونوں ہاتھ ٹیکنا
🌹امام جعفرصادق علیہ السلام اپنے آبائےطاھرین سے نقل کرتے ھوئے فرماتے ہیں کہ امیرالمؤمنین علی علیہ السلام نے فرمایا:
جب تم سجدہ کرنے لگو تو اچھی طرح اپنے ہاتھوں کی ہتھیلیاں زمین پر لگاؤ، اس امید کے ساتھ کے قیامت کے دن بندھے ہاتھوں پیش نہ کیے جاؤ.
■طولانی سجدہ کرنے کاثواب
🌹معاویہ بن عمار کہتے ہیں کہ میں نے امام جعفر صادق علیہ السلام کو فرماتے سنا:
بیشک جب کوئی خدا کا بندہ ایسی جگہ سجدہ کرتا ہے جہاں اسے دیکھنے والا کوئی نہیں اور سجدہ بھی طولانی کرتا ہے تو شیطان کہتا ہے؛ وائے ھو مجھ پر! یہ حُکمِ خُدا کی فرمانبرداری کر رہا ہے، میں نے اس کے حکم کی نافرمانی کی، یہ سجدہ کر رہا ہے لیکن میں نے سجدہ نہ کیا۔
🌹ایک اور مقام پر حضرت فرماتےہیں:
خدا کے قریب ہونے کے لئے سب سے بہترین حالت خُدا کو سجدہ کرنے میں ہے.
■سجدہ شکر کرنے کاثواب
🌹امام جعفر صادق علیہ السلام نقل فرماتے ہیں کہ آنحضرتؐ نے فرمایا:
کہ جس نے نماز کے علاوہ کسی اور نعمت کے ملنے پر بارگاہ خداوندی میں شکر کے طور پر سجدہ کیا، تو خدا اس کے اس سجدۂ شکر کے انعام میں، دس نیک کاموں کا ثواب لکھتا ہے اور اسکے بُرے اعمال میں سے دس کو مٹا دیتا ہے اور بہشت میں اس کے دس درجے بڑھا دیتا ہے.
📚ثواب الاعمال، ص75، 76۔
https://t.me/islamwitheman
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
