fa
Feedback
ISLAM WITH EMAN

ISLAM WITH EMAN

رفتن به کانال در Telegram

اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات... ایڈمن سے رابطہ کیلئے: @syedsajjadhamdani

نمایش بیشتر
1 419
مشترکین
اطلاعاتی وجود ندارد24 ساعت
-17 روز
-1330 روز
آرشیو پست ها
Aloe Vera /کوار گندل / صبر سقاری
Aloe Vera /کوار گندل / صبر سقاری

photo content

زندگی کے لیے پانی کیوں ضروری ہے۔۔۔ پانی میں ایسا کیا ہے کہ اس کے بغیر زندگی وجود میں نہیں آ سکتی؟ پانی زندگی کے لیے *انتہائی بنیادی اور ضروری عنصر* ہے۔ اس کی ضرورت اور اہمیت کو سمجھنے کے لیے چند سادہ مگر گہرے نکات: 1. *جسم کا بڑا حصہ پانی ہے:* انسانی جسم کا تقریباً *60-70٪ حصہ پانی پر مشتمل* ہوتا ہے۔ دل، دماغ، پھیپھڑے، گردے اور خون — سب میں پانی بڑی مقدار میں موجود ہے۔ 2. *خلیوں (Cells) کی بنیادی ضرورت:* ہر خلیہ (cell) کو زندہ رہنے، توانائی حاصل کرنے اور اپنا کام کرنے کے لیے پانی چاہیے۔ بغیر پانی کے خلیے *خشک ہو کر مر جاتے ہیں*۔ 3. *نظامِ ہضم (Digestion) کے لیے:* کھانے کو ہضم کرنے، غذائی اجزاء کو خون میں جذب کرنے، اور فاضل مادوں کو خارج کرنے کے لیے پانی ضروری ہے۔ 4. *درجہ حرارت کو کنٹرول کرتا ہے:* پانی جسم کا درجہ حرارت *پسینے کے ذریعے کنٹرول* کرتا ہے، جو جسم کو ٹھنڈا رکھتا ہے۔ 5. *گردوں اور جگر کی صفائی:* پانی گردوں اور جگر کو *زہریلے مادے خارج کرنے میں مدد* دیتا ہے۔ پانی کی کمی سے یہ اعضا ٹھیک کام نہیں کرتے۔ 6. *زندگی کی ابتداء پانی سے:* سائنس کے مطابق زمین پر زندگی کی شروعات پانی میں ہوئی، اور آج بھی *تمام جانداروں کی زندگی پانی پر منحصر* ہے۔ خلاصہ: پانی کے بغیر *خلیے مردہ، جسم ناکارہ، اور نظام زندگی مفلوج* ہو جاتا ہے۔ اسی لیے قرآن میں بھی پانی کو "ہر جاندار کی زندگی کی بنیاد" قرار دیا گیا ہے: *"اور ہم نے ہر زندہ چیز کو پانی سے پیدا کیا"* (سورۃ الانبیاء، آیت 30) پانی نہ صرف جسم، بلکہ *روح، فطرت، اور زمین کی زندگی* کا راز ہے۔ 🔷🔷🔷🔷🔷

*کیا جادو حقیقت ہے؟* کیا جادو حقیقت ہے یا صرف ایک سائنسی فریب؟ جادو، ایک ایسا لفظ جو صدیوں سے انسانوں کو مسحور اور حیران کرتا آیا ہے۔ ہم نے کہانیوں، فلموں اور ٹی وی شوز میں جادوگروں کو ایسی چیزیں کرتے دیکھا ہے جو ہمارے لیے ناممکن ہیں۔ لیکن کیا حقیقت میں ایسا جادو ممکن ہے؟ سائنس اس بارے میں کیا کہتی ہے؟ سائنسی نقطہ نظر: جادو صرف ایک فریب ہے سائنسدانوں اور ماہرین نفسیات کی اکثریت اس بات پر متفق ہے کہ جادو حقیقت نہیں ہے، بلکہ یہ صرف ہاتھ کی صفائی (Sleight of hand) اور نفسیاتی فریب کا ایک فن ہے۔ جادوگر ہمارے دماغ اور ہماری توجہ کو دھوکا دیتے ہیں۔ یہ چند اہم طریقے ہیں جنہیں جادوگر استعمال کرتے ہیں: ہاتھ کی صفائی (Sleight of Hand): یہ جادو کی بنیاد ہے۔ جادوگر اپنے ہاتھوں کی تیزی اور مہارت کا استعمال کرتے ہوئے چیزوں کو غائب یا ظاہر کرتے ہیں۔ ہمارا دماغ اس تیزی کو پکڑ نہیں پاتا، جس کی وجہ سے ہمیں لگتا ہے کہ یہ جادو ہے۔ نفسیاتی فریب (Psychological Misdirection): جادوگر جانتے ہیں کہ انسان کا دماغ ایک وقت میں صرف ایک چیز پر مکمل توجہ دے سکتا ہے۔ وہ ہماری توجہ کسی دوسری چیز کی طرف موڑ کر اپنا کام کرتے ہیں اور جب ہم دوبارہ دیکھتے ہیں تو ہمیں یقین نہیں آتا کہ یہ کیسے ہو گیا۔ آپٹیکل الوژن (Optical Illusion): کچھ جادوگر روشنی، آئینے اور سائے کا استعمال کرتے ہوئے ایسے بصری فریب (Visual Illusions) پیدا کرتے ہیں جو حقیقت میں موجود نہیں ہوتے۔ کیمسٹری اور فزکس کا استعمال: بہت سے جادو کے کرتب حقیقت میں کیمسٹری اور فزکس کے بنیادی اصولوں پر مبنی ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر، دھواں پیدا کرنا، چیزوں کا رنگ بدلنا، یا کسی چیز کو فوری طور پر غائب کرنا۔ جادوگر اور سائنسدان: ایک جیسے لیکن مختلف ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ جادوگر اور سائنسدان دونوں مشاہدہ، تجربے اور نتائج کو پیش کرتے ہیں۔ لیکن ان کا مقصد مختلف ہوتا ہے۔ جادوگر کا مقصد لوگوں کو حیران کرنا اور یہ تاثر دینا ہوتا ہے کہ یہ کوئی مافوق الفطرت (Supernatural) عمل ہے۔ سائنسدان کا مقصد مشاہدے اور تجربے کی بنیاد پر حقائق اور اصولوں کو جاننا اور سمجھنا ہوتا ہے۔ حقیقت کیا ہے؟ ہاتھ کی صفائی اور فریب کو جادو کہا جاتا ہے، لیکن یہ کسی بھی طرح سے مافوق الفطرت قوتوں یا پوشیدہ طاقتوں کا استعمال نہیں ہے۔ جادو کا فن سیکھا اور سکھایا جا سکتا ہے، اور ہر کامیاب جادوگر اس بات کو تسلیم کرتا ہے کہ اس کے کرتب کے پیچھے ایک سائنسی وضاحت موجود ہے۔ جادو محض ایک دل لگی اور فن کا مظاہرہ ہے جو لوگوں کو خوشی اور حیرت میں ڈالتا ہے۔ یہ ایک پرفارمنگ آرٹ ہے جہاں جادوگر ہمیں یہ احساس دلاتے ہیں کہ دنیا میں ناممکن بھی ممکن ہے۔ آج کے دور میں، جادو ایک تفریحی فن ہے جو انسانی مہارت اور ذہانت کی ایک شاندار مثال ہے۔ اس لیے، جب اگلی بار آپ کوئی جادو کا کرتب دیکھیں، تو یاد رکھیں کہ یہ مافوق الفطرت نہیں بلکہ انسان کی فطری ذہانت اور مہارت کا کمال ہے۔ 🔷🔷🔷🔷🔷

🔷 عورتوں میں سرویکل کینسر کی ویکسین 🔷 ایک عورت کی بچہ دانی کی نچلی طرف، بچہ دانی کا چھوٹا سا منہ ہوتا ہے، جو اندام نہانی (یعنی "وجائنا") میں کھلتا ہے۔ اس منہ کو یا بچہ دانی اور اندام نہانی کے درمیان یہ جو چھوٹا سا راستہ ہے، اسے "سروکس" بولتے ہیں۔ "سرویکل کینسر" جسم کے اسی حصے میں ہوتا ہے، یا اس کا آغاز یہاں سے ہوتا ہے۔ دنیا بھر میں خواتین کو سب سے زیادہ ہونے والے کینسر میں سے سرویکل کینسر کا چوتھا نمبر ہے۔ اس کینسر کی وجہ (نوے فیصد سے زیادہ) ایک وائرس "ایچ پی وی" (پورا نام اردو میں لکھنا مشکل ہے) بنتا ہے۔ وائرل انفیکشنز سے بچاؤ کا سب سے اچھا طریقہ ویکسین ہے، سو اس وائرس کے خلاف بھی ویکسینز موجود ہیں۔ جو کہ اب پاکستان حکومت کی طرف سے چلنے والی مہم کے زیر اثر بچیوں کو لگانے کا پلان ہے۔ جس سے پھر سوشل میڈیا پر وہ طوفان شروع ہوگیا جو کسی بھی ویکسن کے آنے سے شروع ہوتا ہے، بلکہ پولیو ویکسین کی تو ہر مہم پر شروع ہوجاتا ہے۔ اس ویکسین کے لیے بھی لوگوں کے پاس وہی دلائل ہیں جو پولیو ویکسین کے لیے ہیں۔ جیسا کہ "یہ ہماری بچیوں کو بے اولاد کردے گا"۔ بلکل یہی الزام دہائیوں سے پولیو ویکسین پر لگایا جاتا ہے۔ ان عظیم لوگوں کو کوئی بتائے کہ پولیو ویکسین کے ہوتے ہوئے بھی ملک کی آبادی کتنے گنا بڑھ چکی ہے اور مزید کس رفتار سے بڑھ رہی ہے۔ نیز دنیا اتنی فارغ نہیں کہ آپ کے ہونے والے بچوں سے ڈر کر سازشیں شروع کردے۔ بلکہ یہ ویکسن بچیوں کی جنسی صحت کے لیے ایک بہتر اقدام ہے۔ ویسے عام زندگی میں دیکھیں تو ہماری بچیاں کوئی بہت صحت مند زندگی نہیں گزار رہیں، ہوا اور پانی میں بڑھتی ہوئی آلودگی دیکھ لیں، یا فاسٹ فوڈ کا رحجان دیکھیں، یا پھر ذہنوں پر اثر کرتی ہوئی فضول ٹک ٹاک، یوٹیوب ولاگز اور ساس بہو کے ڈرامے۔ یہ اصل نقصاندہ چیزیں ہیں نہ کہ ویکسین۔ دوسری بات یہ اڑائی جا رہی ہے کہ "یہ ویکسین تو اصل میں ہم پر ٹیسٹ ہو رہی ہے کہ ٹھیک بنی بھی ہے کہ نہیں"۔ ان عظیم لوگوں سے یہ عرض ہے کہ یہ ویکسین 2006 سے مارکیٹ میں موجود ہے، اب جاکر کہیں پاکستان جیسے تیسری دنیا کے ملک تک پہنچی ہے۔ تیسری بات یہ کہ جس وائرس کا ذکر کیا جاتا ہے، وہ تو جنسی عمل سے پھیلتا ہے۔ تو جناب جنسی عمل دو لوگوں کے درمیان ہوتا ہے۔ ہم اپنی بچی کے کردار کی گارنٹی لیتے ہیں، مگر کیا اس کے ہونے والے شوہر کے ماضی اور حال کی بھی ؟ آغا خان یونیورسٹی کے مطابق 2023 کے ڈیٹا نے بتایا کہ پاکستان میں ہر سال پانچ ہزار سے زیادہ خواتین کو سرویکل کینسر تشخیص ہوتا ہے اور تین ہزار سے زیادہ مر جاتی ہیں۔ مزید یہ کہ پاکستان میں سرویکل کینسر خواتین کو ہونے والا تیسرا بڑا کینسر ہے، جبکہ 15 سے 44 سال کی پاکستانی خواتین کو ہونے والا دوسرا بڑا کینسر ہے۔ گویا کہ سرویکل کینسر اور ایچ پی وی وائرس کا مسلہ تو پاکستان میں موجود ہے، اور بڑھ بھی رہا ہے۔ تو کیا ان فضول باتوں سے نکل کر اپنی پیاری بیٹیوں، بہنوں کی صحت کے لیے ایک اچھا قدم نہیں لینا چاہیے ؟ پھر لوگ سوال کرتے ہیں کہ ویکسین میں پتہ نہیں کیا ڈالا۔ ایک آسان سی گوگل سرچ کرلیں "ایچ پی وی ویکسین" یا "ایچ پی وی ویکسین کمپوزیشن" آپکے سامنے اس کے اجزاء آجائیں گے۔ اور اگر آپ ان اجزاء کو بھی سمجھنے کی صلاحیت نہیں رکھتے تو مان لیں کہ آپ ان معاملات کو سمجھ نہیں سکتے مگر پھ بھی فضول کی مخالفت اور عداوت رکھ رہے ہیں۔۔۔ #وارث_علی 🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔ https://t.me/islamwitheman/7006 ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

photo content

🎅 سرشت 🎅 ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک گھنے جنگل میں بندروں کا ایک خاندان رہتا تھا۔ ان کی سب سے بڑی پریشانی یہ تھی کہ اکثر بندر اور دیگر جانور بیمار ہو جاتے اور پھر علاج نہ ہونے کے باعث مر جاتے۔ یہ حالت دیکھ کر وہ بہت دل گرفتہ رہتے تھے۔ آخر ایک دن انہوں نے سوچا کہ کیوں نہ ہم اپنے ہی خاندان کے کسی بندر کو شہر بھیجیں تاکہ وہ وہاں جا کر طب سیکھے، حکیم یا ڈاکٹر بنے اور واپس آ کر ہمارا علاج کرے۔ طویل مشاورت کے بعد ایک بندر کو منتخب کیا گیا اور اسے شہر بھیج دیا گیا۔ وہ بندر کئی برس تک ایک حکیم کے پاس تعلیم حاصل کرتا رہا۔ اس نے نہ صرف علاج کے نسخے یاد کیے بلکہ شہر کے تمام اطوار بھی سیکھ لیے۔ کچھ عرصے بعد اسے یقین ہو گیا کہ اب وہ ڈاکٹر بن چکا ہے۔ تب وہ فخر سے اپنے جنگل واپس لوٹ آیا۔ کچھ دنوں بعد ایک دوسرے قبیلے کا بندر سخت بیمار پڑ گیا۔ اس کے ساتھی اسے فوراً نئے "ڈاکٹر بندر" کے پاس لے آئے اور کہا: "ہمارے ساتھی کا علاج کرو، یہ بڑی تکلیف میں ہے۔" ڈاکٹر بندر نے مریض کو دیکھا اور نہایت سنجیدگی سے کہا: "اوہو! یہ تو بہت خطرناک حالت میں ہے۔ بہت ہی ایمرجنسی صورتحال ہے۔ ایک لمحہ رکیے، میں فوراً علاج کرتا ہوں!" یہ کہہ کر وہ اچانک ایک درخت پر چڑھا، زور سے چیخ ماری، پھر دوسرے درخت پر چھلانگ لگا دی۔ وہاں سے تیسرے درخت پر جا پہنچا۔ پھر چیختا ہوا واپس دوسرے درخت پر، وہاں سے پہلے پر اور دوسرے سے تیسرے پر۔ یوں وہ بار بار اچھل کود کرتا رہا۔ نیچے کھڑے باقی بندر حیران و پریشان یہ تماشا دیکھتے رہے کہ مریض کا علاج کرنے کی بجائے یہ ڈاکٹر مسلسل درختوں پر چھلانگیں لگا رہا ہے۔ کچھ ہی دیر میں وہ بیمار بندر دم توڑ گیا۔ ڈاکٹر بندر فوراً نیچے اترا اور پوچھا: "اب کیا حال ہے مریض کا؟" انہوں نے غصے سے جواب دیا: "مریض مر گیا! خاک تم نے علاج کیا؟" ڈاکٹر بندر بڑے اعتماد سے بولا: "ارے! مریض کی عمر ہی اتنی تھی۔ میں نے تو اپنی طرف سے پوری بھاگ دوڑ کی تھی۔ مگر جب زندگی ہی ختم ہو چکی ہو تو میں کیا کر سکتا ہوں؟" 😂😂🤡😂😂 🔘 اس لطیفے میں ایک سبق موجود ہے اور وہ یہ کہ کچھ لوگوں کی فطرت کبھی نہیں بدلتی۔ چاہے وہ کتنی ہی تعلیم حاصل کر لیں یا معاشرے میں کتنا ہی مقام بنا لیں، آخرکار وہ وہی کرتے ہیں جو ان کی اصل سرشت اور کردار کے مطابق ہوتا ہے۔ http://t.me/muskuraahten 🎅 MUSKURAAHTEN 🎅

"ڈھکن تیار کرنے کی فیکٹریاں" مجھے اب بھی حیرت ہوتی ہے کہ پاکستان میں آج بھی لوگوں کی ایک بڑی تعداد چرب زبان موٹیویشنل اسپیکرز کو سنتی ہے۔ اس سے زیادہ افسوس کی بات یہ ہے کہ انھیں بڑے بڑے انسٹیٹیوشنز میں بطور اسپیکر مدعو کیا جاتا ہے۔ جب کہ یہ لوگ سر سے پیر تک زبان ہی زبان ہیں۔ یہ کسی فیلڈ کے ایکسپرٹ نہیں۔ کوئی اسکلز نہیں جانتے۔ کوئی کمپنی، کوئی ادارہ build نہیں کیا۔ کسی اسٹارٹ اپ کے فاؤنڈر نہیں۔ پھر بھی لاکھوں لوگ انھیں بیٹھ کر سنتے اور اپنا وقت برباد کرتے ہیں۔ آپ کسی وقت یوٹیوب پر بیٹھ کر انٹرنیشنل TED Talks سنیے تو آپ جانیں کوالٹی اور ٹیلنٹ کسے کہتے ہیں۔ وہاں اپنی فیلڈ کے ماہرین مدعو کیے جاتے ہیں، بڑے بڑے achievers اور Doers کو بلایا جاتا ہے۔ وہ اپنا سفر شئیر کرتے ہیں، چول پنے کے قصے کہانیوں کی بجائے اپنے رئیل ورلڈ experiences شئیر کرتے ہیں۔ پاکستانی قوم کی اکثریت سرے سے جانتی ہی نہیں کہ "ویلیو انفارمیشن" کسے کہتے ہیں۔ میری ایک نصیحت ہمیشہ کے لیے یاد رکھیں۔ یہ نہ دیکھیں کہ کوئی بندہ کیا کہہ رہا ہے بلکہ یہ دیکھیں کہ یہ کیا کرچکا ہے۔ باتوں سے نہیں، کام سے متاثر ہونا سیکھیں۔ ان جیسے ٹین کے ڈبوں کو سن کر وقت برباد کرنے سے کہیں بہتر یہ ہے کہ آپ کسی مناسب سائز کے کریانہ سٹور کے مالک کے ساتھ بیٹھ جائیے۔ وہ کم سے کم مارکیٹ کا عملی تجربہ رکھتا ہے۔ ایک مناسب سائز کا اسٹور کھڑا کرچکا ہے۔ اس کی چھوٹی ہی سہی پر ایک عملی اچیومنٹ ہے۔ وہ آپ کو ان سے زیادہ لرننگ دے کر جائے گا۔ 🔷🔷🔷🔷🔷

🔷 خون کی کمی اور کمزوری کا علاج 🔷 #خون_کی_کمی، #کمزوری اور #چکر_آنا #چہرے کی_زردی، دل کی #دھڑکن_تیز، ذرا سا کام کریں تو سانس پھول جائے… اس کا آسان #قدرتی_علاج! یہ مسئلہ آج کے دور میں ہر دوسرے شخص کو ہے، خاص طور پر خواتین کو۔ خون کی کمی کی وجہ سے جسم میں کمزوری، #ہاتھ_پاؤں_کا_سن_ہونا، چکر آنا اور چہرے کا مرجھایا ہوا رنگ عام ہو جاتا ہے۔ جب ہمارے جسم میں خون کی مقدار اور اس کے #سرخ_ذرات کم ہو جائیں تو دل اور دماغ تک آکسیجن کی رسائی متاثر ہوتی ہے، یہی وجہ ہے کہ انسان #تھکن، بیزاری اور بے دلی محسوس کرتا ہے۔. قدرت نے ہمیں اس بیماری کا حل زمین سے نکال کر دیا ہے، ایک ایسا نسخہ جو نہ صرف #خون_بڑھاتا ہے بلکہ جسم میں نئی #توانائی پیدا کرتا ہے، نظر کو تیز کرتا ہے اور #یادداشت کو بہتر کرتا ہے۔ یہ نسخہ ہمارے بزرگ صدیوں سے استعمال کرتے آ رہے ہیں۔ ھوالشافی۔۔۔! آپ نے #کھجور کے 5 دانے، #کشمش آدھا کپ اور #سونف ایک چمچ لینی ہے۔ ان سب کو رات کو ایک گلاس #نیم_گرم_دودھ میں بھگو دیں۔ صبح اٹھ کر #دودھ کو ہلکا سا گرم کر لیں، #کھجور کی گٹھلیاں نکال دیں اور باقی سب چیزیں دودھ کے ساتھ بلینڈر میں پیس لیں۔ یہ گاڑھا، #خوش_ذائقہ شیک نہار منہ پی لیں۔۔ صرف 15 دن کے استعمال سے #چہرے_پر_لالی آ جائے گی، جسم میں #تازگی_محسوس ہو گی اور چکر آنا ختم ہو جائے گا۔ 📚 یہ معلومات مختلف ہیلتھ آرٹیکلز سے لی گئی ہیں۔ 🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کیجیے۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🔷 مرد کی دائمی صحت کا دارومدار 🔷 جالینوس کا قول ہے مباشرت جماع میں اگر شہوت مجامت دیر سے پیدا ہو تو ضعف دماغ و ضعف اعصاب کی دلیل ہے۔ اگر لطف لذت نہ آئے تو دماغ کمزور ہے۔ اگر عضو تناسل میں ایریکشن ایستادگی فعلیت سختی نہ ہو تو دل کمزور ہے۔ عضو خاص میں خون پورا نہ ہونے سے تناؤ پورا نہیں ہوتا۔ اگر مجامعت کے وقت دخول کے بعد آلہ تناسل ڈھیلا پڑ جائے تو ضعف جگر کی دلیل ہے۔ کمزوری جگر کی وجہ سے عضو مخصوص میں سکڑاؤ اور ڈھیلا پن ہوتا ہے۔ اگر بغیر ارادے کے ختم ہو تو معدہ کمزور اگر شہوانی خیال پیدا ہونے سے منی یا مذی کے قطرے آئیں، باتوں ہی باتوں میں فارغ ہو تو گردے کمزور ہونے کی دلیل ہے۔ بلا ارادہ منی نکل جائے کمزوری گردہ۔ منی پتلی کی وجہ سے ٹائمنگ کم جلدی انزال تو خصیتین کمزور۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 💕 مرد کی دائمی صحت کا دارومدار مردانہ ہارمونزٹیسٹوسٹیرون لیول پر ہے۔ جہاں یہ لیول کم ہونا شروع ہو گا مردانہ کمزوری, بال سفید ہونا, حرارت غزیزی کم, جسم ٹھنڈا سیکس سے بے رغبتی ہونا شروع ہو گی. جس کی بڑی وجہ جست کی کمی بتائی جاتی ہے۔ ٹیسٹوسٹیرون بوسٹ کے لئے قدرتی طور پر غذا میں چلغوزے، تخم کونج کافی بہتر ہیں۔ مگر ہم آج ایک بہت عام سی چیز پر بات کرتے ہیں جسکا بنانا استعمال کرنا بیحد آسان اور ہر خطرے سے مبرا ہے۔ جی وہ چیز ہے *ماش کی دال* ماش کی دال میں قدرتی طور پر جست کی کافی مقدار پائی جاتی ہے, اکثر حکماء کوئی دوا بناکر ماش کے دال کا آٹا بناکر اس میں دوا کو آگ دیتے ہیں جس سے اس دوا میں قدرتی جست دوا کا حصہ بن جاتا ہے۔ ایک پاؤ ماش کی دال صاف کریں صاف پانی سے دھولیں خشک کریں تھوڑا سا اصلی دیسی گھی لیں اور اس میں دال کو بریاں کر لیں ٹھنڈی کر کے گرائینڈر کر لیں اور اسکا دگنا شہد ملا لیں ایک چائے کا چمچ کھانا اور ناشتے کے ایک گھنٹے بعد لیں اور سدا بہار جوانی قائم رکھیں۔ 💕💕💕💕💕

🔷 خون کی کمی اور کمزوری کا علاج 🔷 #خون_کی_کمی، #کمزوری اور #چکر_آنا #چہرے کی_زردی، دل کی #دھڑکن_تیز، ذرا سا کام کریں تو سانس پھول جائے… اس کا آسان #قدرتی_علاج! یہ مسئلہ آج کے دور میں ہر دوسرے شخص کو ہے، خاص طور پر خواتین کو۔ خون کی کمی کی وجہ سے جسم میں کمزوری، #ہاتھ_پاؤں_کا_سن_ہونا، چکر آنا اور چہرے کا مرجھایا ہوا رنگ عام ہو جاتا ہے۔ جب ہمارے جسم میں خون کی مقدار اور اس کے #سرخ_ذرات کم ہو جائیں تو دل اور دماغ تک آکسیجن کی رسائی متاثر ہوتی ہے، یہی وجہ ہے کہ انسان #تھکن، بیزاری اور بے دلی محسوس کرتا ہے۔. قدرت نے ہمیں اس بیماری کا حل زمین سے نکال کر دیا ہے، ایک ایسا نسخہ جو نہ صرف #خون_بڑھاتا ہے بلکہ جسم میں نئی #توانائی پیدا کرتا ہے، نظر کو تیز کرتا ہے اور #یادداشت کو بہتر کرتا ہے۔ یہ نسخہ ہمارے بزرگ صدیوں سے استعمال کرتے آ رہے ہیں۔ ھوالشافی۔۔۔! آپ نے #کھجور کے 5 دانے، #کشمش آدھا کپ اور #سونف ایک چمچ لینی ہے۔ ان سب کو رات کو ایک گلاس #نیم_گرم_دودھ میں بھگو دیں۔ صبح اٹھ کر #دودھ کو ہلکا سا گرم کر لیں، #کھجور کی گٹھلیاں نکال دیں اور باقی سب چیزیں دودھ کے ساتھ بلینڈر میں پیس لیں۔ یہ گاڑھا، #خوش_ذائقہ شیک نہار منہ پی لیں۔۔ صرف 15 دن کے استعمال سے #چہرے_پر_لالی آ جائے گی، جسم میں #تازگی_محسوس ہو گی اور چکر آنا ختم ہو جائے گا۔ 📚 یہ معلومات مختلف ہیلتھ آرٹیکلز سے لی گئی ہیں۔ 🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کیجیے۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

⭕ کنڈوم کی کیمسٹری ۔ کنڈوم ایک حفاظتی آلہ ہے جو غیر منصوبہ شدہ حمل اور جنسی طور پر منتقل ہونے والی بیماریوں (STIs) سے بچاؤ کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس مضمون میں ہم کنڈوم کی بناوٹ، اقسام، اور اس میں شامل کیمیکل اجزاء پر بات کریں گے۔ کنڈوم کیوں استعمال کیا جاتا ہے؟ کنڈوم بنیادی طور پر: غیر منصوبہ شدہ حمل سے بچاؤ کے لیے ایچ آئی وی (HIV)، گونوریا (Gonorrhea)، سفلس (Syphilis) اور دیگر جنسی امراض سے بچاؤ کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ کنڈوم کی اقسام 1) مردانہ کنڈوم یہ عام طور پر لیٹیکس (Latex) سے بنایا جاتا ہے، جو ایک قدرتی ربڑ ہے۔ لیٹیکس کنڈوم نرم، لچکدار، اور زیادہ تر لوگوں کے لیے محفوظ ہوتے ہیں، تاہم کچھ افراد کو اس سے الرجی ہو سکتی ہے۔ الرجی والے افراد کے لیے پولی یوریتھین (Polyurethane) یا پولیسوپرین (Polyisoprene) کنڈوم بھی دستیاب ہوتے ہیں۔ 2) زنانہ کنڈوم یہ پولی یوریتھین (Polyurethane) یا نائٹریل ربڑ (Nitrile Rubber) سے بنتے ہیں، جو کہ زیادہ مضبوط ہوتے ہیں اور خواتین کو اپنی حفاظت کا ایک اضافی اختیار فراہم کرتے ہیں۔ کیا کنڈوم سپرم کو مار دیتا ہے؟ بعض کنڈوم میں Nonoxynol-9 نامی ایک اسپرم کش (Spermicide) کیمیکل شامل کیا جاتا ہے، جو سپرم کو ختم کر کے حمل کے امکانات کو مزید کم کرتا ہے۔ تاہم، زیادہ مقدار میں استعمال سے یہ ویجائنا (اندام نہانی) میں جلن پیدا کر سکتا ہے۔ کچھ کنڈوم میں لبریکینٹ (Lubricant) کی کوٹنگ کی جاتی ہے، جو سہولت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ جنسی عمل کے دوران رگڑ کو کم کرتا ہے۔ 2001 میں ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (WHO) نے پایا کہ Nonoxynol-9 کا زیادہ استعمال حساس جلد کو نقصان پہنچا سکتا ہے، جس کے بعد اس کا بے دریغ استعمال کم کر دیا گیا۔ خاص کنڈوم: Benzocaine & Erectogenic بعض کنڈوم میں Benzocaine یا Lidocaine شامل ہوتا ہے، جو کہ ایک ہلکا Anaesthetic (سن کرنے والا) کیمیکل ہے۔ اس کا مقصد وقت سے پہلے انزال (Premature Ejaculation) کو روکنا ہوتا ہے۔ کچھ کنڈوم میں Nitroglycerin Gel بھی شامل کیا جاتا ہے، جو عضو تناسل میں خون کی روانی کو بہتر بنا کر ایریکشن (Erection) کو زیادہ دیر برقرار رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ نوٹ:- یہ مضمون صرف سائنسی اور تعلیمی مقاصد کے لیے لکھا گیا ہے۔ براہ کرم غیر ضروری یا نازیبا تبصروں سے گریز کریں۔ 🔷🔷🔷🔷🔷

یہ ایک سفید کوّا (Albino Crow) ہے 🔥 اس غیر معمولی کوّے کے برف جیسے سفید پروں کی وجہ ایک جینیاتی کیفیت ہے جسے لیوسزم (Leucism
یہ ایک سفید کوّا (Albino Crow) ہے 🔥 اس غیر معمولی کوّے کے برف جیسے سفید پروں کی وجہ ایک جینیاتی کیفیت ہے جسے لیوسزم (Leucism) کہا جاتا ہے۔ اس کیفیت میں پرندے کے جسم میں رنگت کم ہو جاتی ہے لیکن آنکھوں کا رنگ معمول کے مطابق رہتا ہے۔ دنیا کے مختلف حصوں میں کبھی کبھار ایسے کوّے دیکھنے کو ملتے ہیں جو اپنے سیاہ ساتھیوں کے درمیان بہت نمایاں دکھائی دیتے ہیں۔ ✨ دلچسپ حقیقت: اصلی البینو کے برعکس، لیوسزم والے کوّوں کی بینائی بالکل نارمل ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ کوّے بھی دوسرے عام کوّوں کی طرح ہوشیار اور ذہین ہوتے ہیں۔ 🐦

*آپ برگر اُلٹا کھاتے ہیں یا سیدھا؟* تحریر: ڈاکٹر حفیظ الحسن اکثر سیدھا برگر کھانے سے برگر کے اندر سے سب کچھ کھسکنے لگتا ہے تاہم سائنسی طور پر اگر برگر اُلٹا کر کے کھایا جائے تو اسکے کئی ممکنہ فائدے ہو سکتے ہیں؟ آئیں جانتے ہیں. جب برگر کو اُلٹا کھایا جاتا ہے تو اس کی سائنسی وجہ زیادہ تر روٹی کی بناوٹ اور کششِ ثقل سے جڑی ہوتی ہے۔ برگر کی اوپری روٹی عام طور پر نیچے والی روٹی کے مقابلے میں زیادہ موٹی اور مضبوط ہوتی ہے۔ نیچے والی روٹی پتلی ہوتی ہے اور جب ساس یا گوشت کا رس نیچے گرتا ہے تو وہ جلدی بھیگ کر ٹوٹنے لگتی ہے۔ اگر برگر کو اُلٹا پکڑا جائے تو موٹی روٹی نیچے آجاتی ہے اور وہ رس کو زیادہ بہتر سہہ لیتی ہے۔ برگر کی اوپری روٹی عام طور پر نیچے والی روٹی کے مقابلے میں زیادہ موٹی اور مضبوط ہوتی ہے، جبکہ نیچے والی روٹی پتلی اور سادہ ہوتی ہے۔ جب برگر سیدھا رکھا ہو تو زبان سب سے پہلے نیچے والی پتلی روٹی کو چھوتی ہے، اس کے بعد گوشت، سبزیاں اور ساس کا ذائقہ محسوس ہوتا ہے۔ اُلٹا کھانے پر زبان سب سے پہلے اوپر والی زیادہ موٹی اور ذائقے دار روٹی کو چھوتی ہے، اور فوراً اندر کے فِلنگز کا ذائقہ آ جاتا ہے۔ اس کے علاوہ جب ہم برگر کو دباتے ہیں تو سیدھا رکھنے پر دباؤ اوپر سے نیچے لگتا ہے جس سے اندر کی پیٹی اور چیزیں نیچے کھسکنے لگتی ہیں، جبکہ اُلٹا رکھنے پر یہ دباؤ کششِ ثقل کے خلاف جاتا ہے اور برگر زیادہ مستحکم رہتا ہے۔ اسی لیے برگر کو اُلٹا کھانے سے وہ کم بکھرتا ہے اور ذائقے کا تجربہ بھی بہتر ہوسکتا ہے۔ ڈاکٹر حفیظ الحسن 🔷🔷🔷🔷🔷

*بڑھاپا ٹانگوں سےاوپر کیطرف شروع ہوتا ہے۔ اپنی ٹانگوں کو متحرک اور مضبوط رکھیں ۔۔۔۔۔ !* ▪️ جیسے جیسے ہم سالوں میں آگے بڑھتے ہیں، ہماری ٹانگیں ہمیشہ متحرک اور مضبوط رہنی چاہیے۔ جیسا کہ ہم مسلسل بوڑھے ہوتے جا رہے ہیں، ہمیں اپنے بالوں کے سرمئی ہونے (یا) جلد کی جھریوں سے خوفزدہ نہیں ہونا چاہیے۔ ▪️لمبی عمر کی علامات میں، ٹانگوں کے مضبوط پٹھے سب سے اہم اور ضروری ہیں۔ ▪️اگر آپ دو ہفتے تک اپنی ٹانگیں نہیں ہلائیں گے (واک نہیں کریں گے) تو آپ کی ٹانگوں کی طاقت 10 سال تک کم ہو جائے گی۔ ڈنمارک کی یونیورسٹی آف کوپن ہیگن کی ایک تحقیق سے پتا چلا ہے کہ بوڑھے اور جوان دونوں، دو ہفتوں کی غیر فعالیت کے دوران، ٹانگوں کے پٹھوں کی طاقت ایک تہائی تک کمزور ہو سکتی ہے، جو کہ 20-30 سال کی عمر کے برابر ہے۔ ▪️جیسے جیسے ہماری ٹانگوں کے پٹھے کمزور ہوتے جائیں گے، انہیں ٹھیک ہونے میں کافی وقت لگے گا، چاہے ہم بعد میں بحالی اور ورزشیں کریں۔ ▪️اس لیے چہل قدمی جیسی باقاعدہ ورزش بہت ضروری ہے۔ ▪️جسم کا سارا وزن ٹانگوں پر ہوتا ہے۔ ▪️ پاؤں ایک قسم کے ستون ہیں جو انسانی جسم کا سارا وزن اٹھاتے ہیں۔ ▪️دلچسپ بات یہ ہے کہ انسان کی 50% ہڈیاں اور 50% پٹھے دونوں ٹانگوں میں ہوتے ہیں۔ ▪️انسانی جسم کے سب سے بڑے اور مضبوط جوڑ اور ہڈیاں بھی ٹانگوں میں ہوتی ہیں۔ ▪️مضبوط ہڈیاں، مضبوط پٹھے اور لچکدار جوڑ "آئرن ٹرائی اینگل" بناتے ہیں جو انسانی جسم کا سب سے اہم بوجھ اٹھاتا ہے۔ ▪️ انسان کی زندگی میں 70% سرگرمیاں اور توانائی کو جلانا دونوں پاؤں سے ہوتا ہے۔ ▪️کیا آپ یہ جانتے ہیں؟ جب ایک شخص جوان ہوتا ہے تو اس کی رانوں میں اتنی طاقت ہوتی ہے کہ وہ 800 کلو وزنی گاڑی اٹھا سکے! ▪️ ٹانگ جسم کی حرکت کا مرکز ہے۔ ▪️دونوں ٹانگوں میں انسانی جسم کے 50% اعصاب، 50% خون کی شریانیں اور 50% خون ان سے بہتا ہے۔ ▪️یہ سب سے بڑا گردشی نیٹ ورک ہے جو جسم کو جوڑتا ہے۔ ▪️جب ٹانگیں صحت مند ہوتی ہیں تو خون کا بہاؤ آسانی سے ہوتا ہے اس لیے جن لوگوں کی ٹانگوں کے پٹھے مضبوط ہوتے ہیں ان کا دل ضرور مضبوط ہوتا ہے۔ ▪️ بڑھاپا پاؤں سے اوپر کی طرف شروع ہوتا ہے۔ ▪️جیسے جیسے کوئی شخص بڑا ہوتا جاتا ہے، دماغ اور ٹانگوں کے درمیان ہدایات کی ترسیل کی درستگی اور رفتار کم ہوتی جاتی ہے، اس کے برعکس جب کوئی شخص جوان ہوتا ہے۔ ▪️اس کے علاوہ، نام نہاد بون فرٹیلائزر کیلشیم جلد یا بادیر وقت گزرنے کے ساتھ ختم ہو جائے گا، جس سے بوڑھوں کو ہڈیوں کے ٹوٹنے کا زیادہ خطرہ ہو گا۔ ▪️بزرگوں میں ہڈیوں کا ٹوٹنا آسانی سے پیچیدگیوں کا ایک سلسلہ شروع کر سکتا ہے، خاص طور پر مہلک بیماریاں جیسے دماغی تھرومبوسس۔ ▪️کیا آپ جانتے ہیں کہ عام طور پر 15% عمر رسیدہ مریض، ران کی ہڈی کے فریکچر کے ایک سال کے اندر مر جاتے ہیں؟ ▪️ ٹانگوں کی ورزش، 60 سال کی عمر کے بعد بھی کسی صورت نہیں چھوڑنی چاہیے۔ ▪️اگرچہ ہمارے پاؤں/ٹانگیں وقت کے ساتھ آہستہ آہستہ بوڑھے ہوں گے، لیکن ہمارے پیروں/ٹانگوں کی ورزش کرنا زندگی بھر کا کام ہے۔ ▪️صرف ٹانگوں کو مضبوط کرنے سے ہی کوئی شخص مزید بڑھاپے کو روک یا کم کر سکتا ہے۔ ▪️براہ کرم روزانہ کم از کم 60 منٹ چہل قدمی Walk کریں تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ آپ کی ٹانگوں کو کافی ورزش مل رہی ہے اور یہ یقینی بنانے کے لیے کہ آپ کے ٹانگوں کے پٹھے صحت مند رہیں۔ 🔷🔷🔷🔷🔷

جس کا رویہ اپنے اہل خانہ کے ساتھ اچھا ہوتا ہے اس کی زندگی زیادہ ہو جاتی ہے۔
جس کا رویہ اپنے اہل خانہ کے ساتھ اچھا ہوتا ہے اس کی زندگی زیادہ ہو جاتی ہے۔

خبردار امیدوں کے سہارے پر نہ بیٹھنا کیونکہ امیدوں احمقوں کا سرمایہ ہوتی ہیں۔
خبردار امیدوں کے سہارے پر نہ بیٹھنا کیونکہ امیدوں احمقوں کا سرمایہ ہوتی ہیں۔

بہترین صدقہ وہ ہے جو ایسے رشتہ دار کو دیا جائے جو قلبی طور پر دشمنی رکھتا ہو۔
بہترین صدقہ وہ ہے جو ایسے رشتہ دار کو دیا جائے جو قلبی طور پر دشمنی رکھتا ہو۔

صدقہ بھیک مانگنے والوں کی بجائے اپنے قرابتداروں کو دو۔ اس میں بہت زیادہ اجر ہے۔
صدقہ بھیک مانگنے والوں کی بجائے اپنے قرابتداروں کو دو۔ اس میں بہت زیادہ اجر ہے۔

🔷 سورہ فلق اور سورہ والناس 🔷 ‏آپ نے کبھی قرآن مجید کی آخری دو سورتوں پر غور فرمایا؟…… ”سورہ فلق“ میں چار چیزوں سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگی گئی ہے…اور وہ چاروں بڑی خطرناک، خوفناک اور ہلاکت خیز چیزیں ہیں…… جبکہ ”سورۃ الناس“ میں صرف ایک چیز سے پناہ مانگی گئی ہے…مگر وہ ایک چیز…اپنی تباہی اور ہلاکت میں…سورہ فلق والی چار چیزوں سے بھی زیادہ خطرناک ہے…… اب غور کریں ”سورہ فلق“ میں چار چیزوں سے پناہ مانگی گئی…مگر اس کے آغاز میں اللہ تعالیٰ کی صرف ایک ”صفت“ کا وسیلہ پکڑا گیا…… *”اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ“* میں پناہ مانگتا ہوں صبح کے رب کی…ان چار چیزوں سے (١) تمام مخلوق کے شر سے (٢) چھا جانے والے اندھیرے کے شر سے (٣) جادوگر عورتوں کے شر سے (٤) حسد کرنے والوں کے شر سے جب وہ اپنے حسد پر چل پڑیں…… اب ”سورۃ الناس“ کو دیکھیں…اس میں پناہ صرف ایک چیز سے مانگی گئی…مگر آغاز میں اللہ تعالیٰ کی تین صفات کا وسیلہ پکڑا گیا…… *اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ، مَلِكِ النَّاسِ، اِلٰهِ النَّاسِ……* میں پناہ مانگتا ہوں…تمام انسانوں کے رب کی…تمام انسانوں کے بادشاہ اور مالک کی…تمام انسانوں کے حقیقی معبود کی…صرف ایک چیز سے…اور وہ چیز ہے…خنّاس کا وسوسہ…… اے تمام انسانوں کے رب!…اے تمام انسانوں کے شہنشاہ!…اے تمام انسانوں کے معبود برحق!…مجھے خنّاس کے وسوسے کے شر سے بچالے… یہ ”خنّاس“ یعنی چھپا ہوا دشمن انسان ہو یا کوئی جن یا شیطان…… ”خنّاس“ اسے کہتے ہیں جو سیدھا آپ کے دل پر وار کرے…اور آپ کو پتا ہی نہ چلے…اور وہ یہ وار کرکے چھپ جائے…چھپ جانے کا مطلب یہ ہے کہ… یا تو نظر ہی نہ آئے… یا بظاہر دوست اور خیر خواہ نظر آئے…مگر حقیقت میں وہ آپ کے دل میں کوئی برائی اُتار دے…… بڑا خطرناک معاملہ ہے… بہت ہی خطرناک…دل میں وسوسہ اُتر گیا تو پھر تباہی ہی تباہی ہے…… خاوند بیوی محبت سے رہ رہے ہوتے ہیں…کوئی آتا ہے ہنستے کھیلتے دو لفظ بول کر…اُن میں سے کسی کے دل میں وسوسے کا بیج بوتا ہے…اور چلا جاتا ہے… بس اس کے دو لفظ کا وسوسہ…اتنے حسین اور قریبی رشتے کو برباد کر دیتا ہے…اور محبت فنا ہوجاتی ہے…دکھ، غم اور شکوے جنم لے لیتے ہیں…… آپ کسی اچھے انسان سے محبت کرتے ہیں…اس کی محبت سے آپ کو دینی فائدہ ہوتا ہے…ایک چغل خور آتا ہے… باتوں باتوں میں غیر محسوس طریقے سے آپ کے کان میں وہ ڈال جاتا ہے کہ…آپ کی محبت…نفرت اور شک میں تبدیل ہوجاتی ہے…اور سالہا سال کی محنت اور محبت کا منٹوں میں جنازہ نکل جاتا ہے…… اسی طرح…شیاطین جو جنات ہیں…نظر نہیں آتے آپ کو کسی ایسی بدگمانی میں ڈال دیتے ہیں کہ…پھر آپ خود کو روک نہیں سکتے…اور اس بدگمانی کے طوفان میں…آپ کے کتنے رشتے، نعمتیں اور محبتیں تنکوں کی طرح بہہ جاتی ہیں…… اللہ ہم سب کو اپنی امان میں رکھے آمین 🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕