fa
Feedback

فریب کلاهبرداران را نخورید! تل‌متریو این کانال‌ها را شناسایی و برچسب‌گذاری می‌کند 👉 برای مشاهده برچسب، اشتراک تهیه کنید

ISLAM WITH EMAN

ISLAM WITH EMAN

رفتن به کانال در Telegram

اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات... ایڈمن سے رابطہ کیلئے: @syedsajjadhamdani

نمایش بیشتر
1 288
مشترکین
-124 ساعت
-27 روز
-230 روز
آرشیو پست ها
🔰 حضرت بہلول اور سوداگر 🔰 بغداد کے ایک سوداگر نے حضرت بہلول سے سوال کیا کہ میں کیا خرید کروں تاکہ اس کا زیادہ منافع کما سکوں؟ حضرت بہلول نے جواب دیا: لوہا اور روئی۔ وہ سوداگر گیا اور کچھ لوہا اور کچھ روئی خرید کر کے انبار کیا اتفاقاً کچھ مہینے بعد جب اس کو بیچا تو زیادہ منافع حاصل کیا. دوبارہ ایک مرتبہ بہلول کے سے ملا اور کہنے لگا: بہلول دیوانہ ابھی اس مرتبہ میں کیا خریدوں تاکہ زیادہ منافع حاصل کروں؟ حضرت بہلول نے جواب دیا: پیاز اور تربوز خریدو. سوداگر گیا اور اپنا سارا سرمایہ پیاز اور تربوز کی خرید میں لگا دیا اور اس کو اپنے انبار میں رکھ دیا، کچھ مدت کے گزرنے کیبعد سارے پیاز اور تربوز خراب ہو گئے اور ختم ہو گئے اور زیادہ نقصان ہوا. سوداگر حضرت بہلول کے پاس گیا اور کہا: پہلی مرتبہ آپ کے ساتھ مشورہ کیا تھا تو بہت منافع حاصل کیا تھا لیکن دوسری مرتبہ جو آپ نے مشورہ دیا تھا، میرا سارا سرمایہ ختم ہو گیا ہے. ■حضرت بہلول نے اس آدمی کے جواب میں کہا: جب آپ مجھے پہلی مرتبہ ملے تو مجھے آقای شیخ بہلول کے نام سے پکارا تھا کیونکہ ایک عاقل شخص کے نام سے مجھے پکارا تو عقل کی رو سے آپ کو جواب دیا تھا. لیکن دوسری مرتبہ آپ نے مجھے دیوانہ کے نام سے پکارا میں نے اپنی دیوانگی کی رو سے آپ کو جواب دیا ہے. 🔘 وہ شخص اپنےکیے پر شرما رہا تھا اور حضرت بہلول کی بات کو مکمل طور پر سمجھ چکا تھا. 📚 یک جرعہ ای معرفت سے مآخوذ. https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🌷 باربی گڑیا 🌷 شہید طہرانی مقدم کی بیٹی کی زبانی۔۔۔ تب میں تیسری کلاس میں پڑھتی تھی ،کہ باربی گڑیا کو پہلی بار دیکھا۔ اس کے ہاتھ پاؤں ہر طرف مڑ جاتے تھے اور بہت نازک سی انگلیاں تھیں۔ اس وقت مجھے تو ایسی چیزوں کا ہی شوق تھا ۔۔۔ نازک سی گڑیا اس کا گھر اور کھلونے۔۔۔ وہ میرا خواب بن گئی کہ کاش میرے پاس بھی باربی ہو۔ پھر ایک اس دن امی کے ساتھ کزن کے گھر گئی تو میری کزن نے مجھے باربی اور باربی کا پورا گھر دکھایا۔ میری کزن کے ابو جب بھی ملک سے باہر جاتے اس کے لیے باربی گڑیا لے کر آتے تھے۔ اب تو میرا صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا تھا ۔۔ میں اسے جلد از جلد حاصل کر لینا چاہتی تھی۔ اس سال عید پر میں نے امی کو بہت کہا تب جا کر امی نے ایک باربی گڑیا اس کے پورے گھر کے ساتھ مجھے لے کر دی۔ اس سال میں 9 سال کی ہو گئی تھی اور میرے لیے جشن تکلیف بھی منایا گیا لیکن ۔۔۔ میری باربی کے کپڑے پورے نہ تھے۔ جب سے باربی آئی امی بھی میرے ساتھ کھیلتیں۔ ایک دن امی کہنے لگیں، یہ تمھاری باربی ایسے کپڑوں کے ساتھ تو گھر سے باہر نہیں جاسکتی نا !! امی نے باربی کیلئے ایک اسکارف، کالی چادر اور شلوار سی کر دی۔ اور گھر کے لیے نماز کی چادر بھی بنا کر دی۔ میں سوچتی ہوں کہ میں اس باربی کی عاشق تھی اور پورا اس باربی کے زیر اثر تھی۔ لیکن امی نے کھیل کھیل میں ہی میرا ذھن بدل دیا۔ باربی نے جب اسکول جانا شروع کیا تو میں نے اور امی نے مل کر اس کے ناخن بھی کاٹے کیونکہ لمبے ناخن کے ساتھ وہ سکول نہیں جا سکتی تھی۔ اس کی نیل پالش بھی صاف کی۔ اس کے بالوں کی بھی چٹیا بنائی ۔ اپنی طرح چادر اس کے سر پر دی۔ میری باربی میرے ساتھ نماز جمعہ بھی پڑھنے جاتی تھی۔ امی نے مجھے باربی جیسا نہ بننے دیا بلکہ باربی کو میرے جیسا بنا دیا۔ 🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🔷 چغلخوری 🔷 چغلخور شیطان کا شریک ہوتا ہے اور انسان کا قاتل۔ دو آدمیوں کے درمیان جنگ آگ کی طرح ہوتی ہے جن کے درمیان چغلخوری کرنے والا بدبخت ایندھن کی طرح ہوتا ہے۔ بالآخر وہ دونوں تو ایک دوسرے سے راضی ہو جاتے ہیں لیکن چغلخور بدبخت شرمندہ ہوتا ہے۔(1) 🌹حضرت رسولِخداؐ نے فرمایا: "یعضه بعضکم بعضا" ایک دوسرے کی چغلخوری نہ کیا کریں۔(2) 🌹حضرت رسولِخداؐ نے فرمایا: "لا یدخل الجنة نمام" چغلخور جنت میں داخل نہیں ہوگا۔(3) 🌹حضرت امیرالمؤمنین علیؑ نے فرمایا: "ایاکم والنميمة فانھا تورث الضغائن" چغلخوری سے پرہیز کرو، اس سے کینہ پیدا ہوتا ہے۔(4) ■چغلخور کی دعا: ایک سال بنی اسرائیل پر قحط سالی نمودار ہوئی۔ حضرت موسٰیؑ نے چند دفعہ بارش طلبی کی دعا کی لیکن کوئی اثر ظاہر نہ ہوا۔ حضرت موسٰیؑ پر واپسی جواب آیا کہ۔۔۔ آپ کی جماعت میں ایک چغلخور آدمی ہے جو اپنے کام میں مشغول ہے اور اسے چھوڑنے پر آمادہ نہیں ہے۔ آپ کی بار بار کی دعا بھی اسی شخص کی وجہ سے قبول نہیں ہو رہی ہے۔ حضرت موسٰیؑ نے عرض کیا: خدایا وہ کون شخص ہے، مجھے مطلع فرمائیں۔ خطاب ہوا: اے موسٰی! میں خود چغلخوری سے منع کرتا ہوں۔ تو پھر اگر میں اس کے بارے تجھے بتاؤں تو کیا یہ چغلخوری نہیں ہوگی۔؟ آپ سب سے کہہ دیں کہ توبہ کریں۔ آپ سب کی دعا قبول ہو جائے گی۔ سب نے توبہ کر لی اور بارش نازل ہوئی۔(5) 🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔ 📚حوالہ جات: 1) سعدی شیرازی کے اشعار کا ترجمہ 2) میزان الحکمۃ 20396۔ 3) میزان الحکمۃ 20409۔ 4) میزان الحکمۃ 20398۔ 5) موضوعی داستانیں، ص226۔ ✍ سید سجاد حسین ھمدانی https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🔷 وصیت اور نصیحت 🔷 ایک دولت مند انسان نے اپنے بیٹے کو وصیت کرتے ہوئے کہا؛ "بیٹا میرے مرنے کے بعد میرے پاؤں میں یہ پهٹے هويے جراب (موزے) پہنا دینا، میری یہ خواهش ضرور پوری کرنا. باپ کے مرتے ہی نہلانے کے بعد، بیٹے نے مولوی جی کو والد کی آخری خواهش بتائی. مولوی جی نے کہا: ہمارے مذہب میں کچھ بھی پہنانے کی اجازت نہیں هے۔ لیکن بیٹے کی ضد تھی کہ والد کی آخری خواهش پوری ہو. بحث اتنی بڑھ گئی کے شہر کے مولويوں کو جمع کیا گیا، لیکن کوئی نتیجہ نہیں نکلا. اسی ماحول میں ایک شخص آیا، اور آکر بیٹے کے ہاتھ میں باپ کا لکھا ہوا خط دیا، جس میں باپ کی نصیحت لکھی تھی۔۔۔ میرے پیارے بیٹے! دیکھ رہے ہو..؟ دولت، بنگلہ، نوکری اور بڑی بڑی فیکٹری اور فارم ہاؤس کے بعد بھی، میں ایک پھٹا ہوا ذخیرہ تک نہیں لے جا سکتا. ایک روز تمہیں بھی موت آئے گی، آگاہ رہو، تمہیں بھی ایک سفید کپڑے میں ہی جانا پڑے گا. لہذا کوشش کرنا، پیسوں کے لئے کسی کو دکھ نہ دینا، غلط طریقے سے پیسہ نہ کمانا، دولت کو نیکی کے کام میں ہی لگانا. سب کو یہ جاننے کا حق ہے کہ جسم چھوٹنے کے بعد صرف نيکی ہی ساتھ جائے گی لیکن پھر بھی آدمی اس وقت تک دولت کے پیچھے بھاگتا رہتا ہے جب تک اس کا انتقال نہیں ہو جاتا. ________ 1) جو آپ سے دل سے بات کرتا ہے اسے کبھی دماغ سے جواب مت دینا. 2) ایک سال میں 50 دوست بنانا عام بات ہے. 50 سال تک ایک دوست سے دوستی نبھانا خاص بات ہے. 3) ایک وقت تھا جب ہم سوچتے تھے کہ ہمارا بھی وقت آئے گا اور ایک یہ وقت ہے کہ ہم سوچتے ہیں کہ وہ بھی کیا وقت تھا. 4) ایک منٹ میں زندگی نہیں بدلتی پر ایک منٹ سوچ کر لکھا فیصلہ پوری زندگی بدل دیتا ہے. 5) آپ زندگی میں کتنے بھی اونچے کیوں نہ اٹھ جائیں، پر اپنی غربت اور مشکلات کو کبھی نہ بھولنا. 6) وانی میں بھی عجیب طاقت ہوتی ہے. تلخ بولنے والے کا شہد بهی نہیں بکتا اور میٹھا بولنے والے کي مرچی بھی فروخت هو جاتی ہے. 7) زندگی میں سب سے بڑی خوشی اس کام کو کرنے میں ہے جسے لوگ کہتے ہیں کہ تم نہیں کر سکتے ہو. 8) انسان ایک کان ہے اور زبان اس کا تالا. تالا کھلتا ہے، تبھی معلوم ہوتا ہے کہ کان سونے کی ہے یا کوئلے کی. 9) دنیا مخالفت کرے آپ ڈرو مت، کیونکہ جس پيڑ پر پھل لگتے هيں دنیا اسے ہی پتھر مارتی ہے. 10) جیت اور ہار آپ کی سوچ پر ہی منحصر ہے. مان لو تو ہار ہوگی اور ٹھان لو تو جیت. 11) دنیا کی سب سے زیادہ سستی چیز ہے مشورہ، ایک سے مانگو ہزاروں سے ملتی ہے. تعاون ہزاروں سے مانگو ایک سے ملتا ہے. 12) میں نے دولت سے کہا کہ تم ایک کاغذ کے ٹکڑے ہو. دولت مسکرائی اور بولی بالکل میں ایک کاغذ کا ٹکڑا ہوں، لیکن میں نے آج تک زندگی میں کوڑے دان کا منہ نہیں دیکھا. 13) آندھيوں نے لاکھ بڑھايا حوصلہ دھول کا، دو بوند بارش نے اوقات بتا دی. 14) جب لوگ آپ کی (اچھائی میں) نقل کرنے لگیں تو سمجھ لینا چاہئے کہ آپ زندگی میں کامیاب ہو رہے ہیں. 15) مت پھینک پتھر پانی میں، اسے بھی کوئی پیتا ہے. مت رہو یوں اداس زندگی میں، تمہیں دیکھ کر بھی کوئی جیتا ہے... https://t.me/islamwitheman 🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵

🔶 غُربت کی چس 🔶 میرے والد صاحب نے ایک قصّہ سنایا، کہتے ہیں؛ ہمارے گاؤں میں ایک نائی تھا- اُسکا کُل سرمایا ایک تکیہ، ایک چادر، اور اپنے اوزاروں کا تھیلا تھا! اُسکا کوئی گھر نہیں تھا- بھلے وقتوں میں لوگ اکثر اپنے گھر کے باھر ایک چارپائی اور پانی کا گھڑا رکھا کرتے تھے- وہ نائی بھی کسی کے گھر کے باھر چارپائی پر سو جایا کرتا تھا! ایک بار گاؤں میں سیلاب آ گیا! سب لوگ اپنے اپنے مال اسباب کو محفوظ مقام پر منتقل کرنے کیلئے بھاگ دوڑ کر رہے تھے! نائی نے اپنا تکیہ چادر اٹھایا، ایک دیوار پر چڑھ کر تکیے کو ٹیک بنایا، اور لیٹ گیا! ایک شخص اس نائی کے پاس سے گزرا اور اسے پُرسکون دیکھ کر کہنے لگا: لوکاں نو بھاجڑ پئی اے تے تو آرام نال لما پیا ایں؟ (لوگ پریشان حال بھاگ رہے ہیں اور تم سکون سے لیٹے ہوۓ ہو؟) نائی نے جواب دیا: اج ای تے غربت دی چس آئی اے! (آج ہی تو غربت کا مزا آیا ہے!) یعنی میرے پاس کونسا کوئی مال اسباب تھا، جسے بچانے کیلئے میں بھاگا پھرتا! میں تو آج اپنی غریبی کا مزا لے رہا ہوں! 🔘 جب میں نے یہ کہانی سنی تو ہنس پڑا مگر پھر ایک خیال آیا  کہ شاید روز محشر کا منظر بھی کچھ ایسا ہی ہوگا۔ جب تمام انسانوں سے حساب لیا جائے گا۔۔۔ ایک طرف غریبوں کا حساب ہو رہا ہو گا۔ دو وقت کی روٹی، کپڑا، حقوق اللہ اور حقوق العباد۔ ایک طرف امیروں کا حساب ہو رہا ہو گا۔ پلازے، دکانیں، فیکٹریاں،  گاڑیاں،  بنگلے،  سونا اور زیوارات، ملازم۔ پیسہ۔ حلال، حرام، عیش و آرام۔ زکوۃ، حقوق اللہ، حقوق العباد۔۔۔۔ اتنی چیزوں کا حساب کتاب دیتے ہوئے پسینے سے شرابور اور خوف سے تھر تھر کانپ رہے ہوں گے۔ تب شاید اسی نائی کی طرح غریب ان امیروں کو دیکھ رہے ہو گے۔ چہرے پر ایک عجیب سا سکون اور شاید دل ہی دل میں کہہ رہے ہوں گے۔۔۔۔! "اج ای تے غربت دی چس آئی اے ۔۔۔۔ آج کے غریبوں کا حال بروز محشر اُس نائی جیسا ہی ہوگا! اور آج کے جاگیرداروں کا حال ان لوگوں کی طرح ہوگا جو بُرے حال بھاگ رہے تھے! جھوٹ، مکر، فریب، خیانت اور ظلم سے دولت اکٹھی کرنے والے، جتنا دل چاہے اکٹھا کر لیں! یہ بات سورج کی طرح روشن ہے کہ خدا کو حساب تو دینا ہی ہے! سچ یہ ہے کہ ان جاگیرداروں، وڈیروں، سرداروں، میاؤں کو اپنے رب کے حضور پیش ہونے کا یقین ہی نہیں ہے! اگر رائی کے دانے برابر بھی یقین ہوتا تو اپنی ضرورت سے زیادہ کے مال میں، اپنے مسلمان بھائی کو حصے دار بناتے! "اللہ تعالی سے دعا ہے کہ ہمیں ہر نعمت کا شکر ادا کرنے کی اور اللہ کی رضا کے مطابق استعمال اور تقسیم  کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔“ آمین یارب العالمین منقول۔۔۔ https://t.me/islamwitheman 🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵

🔶 تہمت، گالی 🔶 «عمر بن نعمان» کہتا ہے:«حضرت امام صادق (علیه السلام) کے ایک دوست تھے جو ہمیشہ آنحضرت (علیہ السلام) کے ساتھ رہتے تھے. ایک دن وہ اور اس کا غلام حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) کے ساتھ جوتوں کے بازار میں گئے ، لیکن اس شخص کا غلام کسی کام کے لئے اپنے مالک کو تنھا چھوڑ کر چلا جاتا ہے آنحضرت (علیہ السلام) کے دوست نے اپنے غلام کو آواز لگائی لیکن جواب نہیں اور اسی طرح اس نے تین مرتبہ آواز لگائی لیکن بالکل جواب نہ آیا۔۔ پھر وہ شخص بہت غصہ ہوا اور آواز لگائی: اے زنا کی اولاد تم کہا ہو؟ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے جب یہ کلمہ سنا تو بہت ناراض ہوئے اور اپنا ہاتھ مضبوطی کے ساتھ اس کی پیشانی پر مارا. آنحضرت کے دوست نے عرض کی: میں قربان جاؤں! وہ ھندوستان سے ہے اور اس کی ماں مشرک ہے۔ لیکن امام علیہ السلام نے اس کا عذر قبول نہ فرمایا اور اسے حکم دیا: مجھے سے دور ہو جاؤ اور «عمر بن نعمان» کہتا ہے میں نے اس کو امام (علیہ السلام) کے ساتھ دوبارہ کبھی نہ دیکھا» 📚کافی، ج‏4، ص‏15 https://t.me/islamwitheman 🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵

🔵 خالی برتن 🔵 کچھ دن پہلے تهوڑی تیز ہوا چلی تو میں نے جو برتن دیوار پر رکها ہوا تها پرندوں کے لیے پانی ڈالنے کے لئے، وہ گِر گیا۔ میں اگلے دن باغیچے میں گیا تو برتن کو دیوار پر نہ پا کر کچھ پریشان ہوا لیکن قریب جا کر کیا دیکھا کہ وہ برتن نیچے زمین پر اوندھا پڑا ہوا تها اور مٹی سے اَٹ چکا تها۔ خیر میں نے اسے صاف کر کے دوبارہ ٹهنڈا پانی بهرا اور دیوار پر رکھ دیا، لیکن میں سوچتا رہا "ایسا کیا انتظام کروں کہ برتن دوبارہ نہ گرے۔۔؟" بابا سے پوچھا تو وہ کہنے لگے "بیٹا! اِسے ہمیشہ پانی سے بهرا رکهو تو نہیں گرے گا، بهاری ہو جائے گا تو خود بخود دیوار پر ٹِکا رہے گا ـــــــ کچھ ایسا ہی ہمارے دلوں کا معاملہ ہے، اللہ کی یاد سے بهرا رہے تو کبھی گرتا نہیں گهبراتا نہیں، چاہے زمانے کی کتنی بھی تیز ہوا چلے۔ لیکن اللہ کی یاد نہ ہو تو فوراً گِر جاتا ہے گناہوں کی مٹی سے اَٹ جاتا ہے، اور گمراہی کے راستوں پر بهٹکتا پهرتا ہے. منقول https://t.me/islamwitheman 🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵

🎅 مرغی فروش اور قاضی 🎅 اﯾﮏ ﺷﺨﺺ ﺍﯾﮏ ﺫﺑﺢ ﮐﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﻣﺮﻏﯽ ﻟﮯ ﮐﺮ ﻣﺮﻏﯽ ﻓﺮﻭﺵ ﮐﯽ ﺩﻭﮐﺎﻥ ﭘﺮ ﺁﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ کہ " بھائی ذرا اﺱ مرغی ﮐﻮ ﮐﺎﭦ ﮐﺮ ﻣﺠﮭﮯ دے ﺩﻭ " ﻣﺮﻏﯽ ﻓﺮﻭﺵﻧﮯ ﮐﮩﺎ " ﻣﺮﻏﯽ ﺭکھ ﮐﺮچلے ﺟﺎﺅ ﺍﻭﺭ ﺁﺩﮬ ﮔﮭﻨٹے ﺑﻌﺪ ﺁ ﮐﺮ ﻟﮯ ﺟﺎﻧﺎ " ﺍﺗﻔﺎﻕ ﺳﮯﺷﮩﺮ ﮐﺎ قاضی ﻣﺮﻏﯽ ﻓﺮﻭﺵ ﮐﯽ ﺩﻭﮐﺎﻥ پر آ گیا ﺍﻭﺭ ﺩﻭﮐﺎﻧﺪﺍﺭ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ کہ" ﯾﮧ ﻣﺮﻏﯽ ﻣﺠﮭﮯ ﺩﮮ ﺩﻭ" ﺩﻭﮐﺎﻧﺪﺍﺭ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ کہ " ﯾﮧ مرغی ﻣﯿﺮﯼ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻠﮑﮧ ﮐﺴﯽ ﺍﻭﺭ ﮐﯽ ھﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﺮﮮ ﭘﺎﺱ ﺑﮭﯽ ﺍﺑﮭﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﺮﻏﯽ ﻧﮩﯿﮟ جو آپ کو دے سکوں" قاضی ﻧﮯ کہا کہ کوئی بات نہیں ، ﯾﮩﯽ مرغی ﻣﺠﮭﮯ ﺩﮮ ﺩﻭ ﻣﺎﻟﮏ ﺁﺋﮯ ﺗﻮ ﮐﮩﻨﺎ کہ مرغی ﺍﮌ ﮔﺌﯽھے " ﺩﻭﮐﺎﻧﺪﺍﺭ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ کہ" ﺍﯾﺴﺎ ﮐﮩﻨﮯ ﮐﺎ بھلا ﮐﯿﺎ ﻓﺎﺋﺪﮦ ھو گا ؟ مرغی تو ﺍﺱ ﻧﮯ ﺧﻮﺩ ﺫﺑﺢ ﮐﺮ ﮐﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺩﯼ تھی پھر ﺫﺑﺢ ﮐﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﻣﺮﻏﯽ ﮐﯿﺴﮯ ﺍﮌ سکتی ھے" ؟ قاضی ﻧﮯ ﮐﮩﺎ- " ﻣﯿﮟ ﺟﻮ ﮐﮩﺘﺎ ﮨﻮﮞ اسے غور سے ﺳﻨﻮ ! ﺑﺲ ﯾﮧ مرغی ﻣﺠﮭﮯ ﺩﮮ ﺩﻭ ﺍﺱ کے مالک ﺳﮯ ﯾﮩﯽ ﮐﮩﻮ ﮐﮧ تیری مرغی ﺍﮌ ﮔﺌﯽ ھے - ﻭﮦ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ خلاف مقدمہ لے کر ﻣﯿﺮﮮ ﭘﺎﺱ ﺁﺋﮯ ہی ﮔﺎ " ﺩﻭﮐﺎﻧﺪﺍﺭ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ کہ " ﺍﻟﻠﻪ سب کا ﭘﺮﺩﮦ ﺭﮐﮭﮯ" اور مرغی قاضی کو پکڑا دی - قاضی ﻣﺮﻏﯽ ﻟﮯ ﮐﺮ نکل ﮔﯿﺎ ﺗﻮ مرغی کا ﻣﺎﻟﮏ ﺑﮭﯽ ﺁ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ دکاندار سے ﮐﮩﺎ کہ ﻣﺮﻏﯽ ﮐﺎﭦ ﺩﯼ ھے ؟ ﺩﻭﮐﺎﻧﺪﺍﺭ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ " میں نے تو کاٹ دی تھی مگر ﺁﭖ ﮐﯽ ﻣﺮﻏﯽ ﺍﮌ ﮔﺌﯽ ھے" ﻣﺮﻏﯽ ﻭالے نے حیران ھو کر پوچھا : بھلا وہ ﮐﯿﺴﮯ ؟ "ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺧﻮﺩ ﺫﺑﺢ ﮐﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﮌ ﮐﯿﺴﮯ ﮔﺌﯽ ھے ؟ دونوں میں پہلے نوک جھونک شروع ھوئی اور پھر بات جھگڑے تک جا پہنچی جس پر ﻣﺮﻏﯽ ﻭﺍﻟﮯ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ کہ" ﭼﻠﻮ ﻋﺪﺍﻟﺖ قاضی کے پاس چلتے ھیں " اور چل پڑے - ﺩﻭﻧﻮﮞ نے ﻋﺪﺍﻟﺖ ﺟﺎﺗﮯ ھﻮﺋﮯ ﺭﺳﺘﮯ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮧ ﺩﻭ ﺁﺩﻣﯽ ﻟﮍ ﺭھﮯ ہیں ، ﺍﯾﮏ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ھﮯ جبکہ ﺩﻭﺳﺮﺍ ﯾﮩﻮﺩﯼ - ﭼﮭﮍﺍﻧﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﻣﯿﮟ ﺩﻭﮐﺎﻧﺪﺍﺭ ﮐﯽ ﺍﻧﮕﻠﯽ ﯾﮩﻮﺩﯼ ﮐﯽ آنکھ ﻣﯿﮟ جا ﻟﮕﯽ ﺍﻭﺭ یہودی کی آنکھ ﺿﺎﺋﻊ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ - ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﺩﻭﮐﺎﻧﺪﺍﺭ ﮐﻮ ﭘﮑﮍ ﻟﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ کہ ﻋﺪﺍﻟﺖ ﻟﮯ کر ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ - ﺩﻭﮐﺎﻧﺪﺍﺭ ﭘﺮ ﺩﻭ مقدے ﺑﻦ ﮔﺌﮯ - ﻟﻮﮒ ﻣﺮﻏﯽ ﻓﺮﻭﺵ ﮐﻮ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺟﺐ ﻋﺪﺍﻟﺖ ﮐﮯ ﻗﺮﯾﺐ ﭘﮩﻨﭻ ﮔﺌﮯ ﺗﻮ ﻣﺮﻏﯽ ﻓﺮﻭﺵ ﺍپنے آپ کو چھڑا ﮐﺮ ﺑﮭﺎﮔﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﺎﻣﯿﺎﺏ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ، ﻣﮕﺮ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﮯ ﭘﯿﭽﮭﺎ ﮐﺮﻧﮯ ﭘﺮ ﻗﺮﯾﺒﯽ ﻣﺴﺠﺪ ﻣﯿﮟ ﺩﺍﺧﻞ ھو کر ﻣﯿﻨﺎﺭ ﭘﺮ ﭼڑھ ﮔﯿﺎ - ﻟﻮﮒ جب ﺍﺱ ﮐﻮ ﭘﮑﮍﻧﮯ ﮐﮯ لئے ﻣﯿﻨﺎﺭ ﭘﺮ ﭼﮍﮬﻨﮯ ﻟﮕﮯ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﭼﮭﻼﻧﮓ ﻟﮕﺎﺋﯽ تو ﺍﯾﮏ ﺑﻮﮌﮬﮯ ﺁﺩﻣﯽ ﭘﺮ ﮔﺮ ﮔﯿﺎ ﺟﺲ ﺳﮯ ﻭﮦ ﺑﻮﮌﮬﺎ ﻣﺮ ﮔﯿﺎ - ﺍﺏ ﺍﺱ ﺑﻮﮌﮬﮯ ﮐﮯ ﺑﯿﭩﮯ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺎتھ ﻣﻞ ﮐﺮ ﺍﺱ ﮐﻮ ﭘﮑﮍ لیا ﺍﻭﺭ سب اس کو ﻟﮯ ﮐﺮ قاضی ﮐﮯ ﭘﺎس ﭘﮩﻨﭻ ﮔﺌﮯ - قاضی مرغی فروش ﮐﻮ ﺩﯾکھ ﮐﺮ ﮨﻨﺲ ﭘﮍﺍ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺍﺳﮯ ﻣﺮﻏﯽ ﯾﺎﺩ ﺁ ﮔﺌﯽ ﻣﮕﺮ ﺑﺎﻗﯽ ﺩﻭ ﮐﯿﺴﻮﮞ ﮐﺎ ﻋﻠﻢ اسے ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ - ﺟﺐ قاضی ﮐﻮ ﺗﯿﻨﻮﮞ ﮐﯿﺴﻮﮞ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﺑﺘﺎﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﺗﻮ اس نے سر پکڑ لیا - اس کے بعد چند کتابوں کو الٹا پلٹا اور کہا کہ "ھم تینوں مقدمات کا یکے بعد دیگرے فیصلہ سناتے ھیں" ﺳﺐ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﻋﺪﺍﻟﺖ ﻣﯿﮟ ﻣﺮﻏﯽ ﮐﮯ ﻣﺎﻟﮏ ﮐﻮ ﺑﻼﯾﺎ ﮔﯿﺎ - قاضی نے پوچھا ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﺩﻭﮐﺎﻧﺪﺍﺭ ﭘﺮ دعوی ﮐﯿﺎ ھے ؟ ﻣﺮﻏﯽ ﻭﺍﻻ: ''جناب والا ﺍﺱ ﻧﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﻣﺮﻏﯽ ﭼﺮﺍﺋﯽ ھے ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺫﺑﺢ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺩﯼ ﺗﮭﯽ ﯾﮧ ﮐﮩﺘﺎ ھﮯ ﮐﮧ ﻣﺮﻏﯽ ﺍﮌ ﮔﺌﯽ ھے'' - قاضی صاحب ! ﻣﺮﺩﮦ ﻣﺮﻏﯽ ﮐﯿﺴﮯ ﺍﮌ ﺳﮑﺘﯽ ﮨﮯ؟؟ قاضی: '' ﮐﯿﺎ ﺗﻢ ﺍﻟﻠﻪ اور اس کی قدرت ﭘﺮ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﺭﮐﮭﺘﮯ ﮨﻮ؟ ﻣﺮﻏﯽ ﻭﺍﻻ: ''ﺟﯽ ﮨﺎﮞ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮩﯿﮟ قاضی صاحب'' قاضی: '' ﮐﯿﺎ ﺍﻟﻠﻪ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﺑﻮﺳﯿﺪﮦ ﮨﮉﯾﻮﮞ ﮐﻮ ﺩﻭﺑﺎﺭﮦ ﺯﻧﺪﮦ ﮐﺮﻧﮯ ﭘﺮ ﻗﺎﺩﺭ ﻧﮩﯿﮟ۔۔۔ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﻣﺮﻏﯽ ﮐﺎ ﺯﻧﺪﮦ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺍﮌﻧﺎ بھلا کیا مشکل ھے'' ﯾﮧ ﺳﻦ ﮐﺮ ﻣﺮﻏﯽ کا مالک خاموش ھو گیا اور اپنا کیس واپس لے لیا - قاضی: '' ﺩﻭﺳﺮﮮ ﻣﺪﻋﯽ ﮐﻮ ﻻﺅ '' - ﯾﮩﻮﺩﯼ ﮐﻮ ﭘﯿﺶ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻧﮯ عرض کیا کہ '' قاضی ﺻﺎﺣﺐ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﺁﻧکھ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﮕﻠﯽ ﻣﺎﺭی ھے ﺟﺲ ﺳﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﺁنکھ ﺿﺎﺋﻊ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺁﻧکھ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﮕﻠﯽ ﻣﺎﺭ ﮐﺮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺁﻧکھ ﺿﺎﺋﻊ ﮐﺮﻧﺎ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﮨﻮﮞ '' قاضی ﻧﮯ ﺗﮭﻮﮌﯼ ﺩﯾﺮ ﺳﻮﭺ ﮐﺮ ﮐﮩﺎ: " ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﭘﺮ ﻏﯿﺮ ﻣﺴﻠﻢ ﮐﯽ ﺩﯾﺖ ﻧﺼﻒ ﮨﮯ ، ﺍﺱ ﻟﯿﺌﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﯾﮧ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﺩﻭﺳﺮﯼ آنکھ ﺑﮭﯽ ﭘﮭﻮﮌﮮ ﮔﺎ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺗﻢ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ آنکھ ﭘﮭﻮﮌ ﺩﯾﻨﺎ " ﯾﮩﻮﺩﯼ: " بس ﺭھنے ﺩﯾﮟ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﺎ ﮐﯿﺲ ﻭﺍﭘﺲ ﻟﯿﺘﺎ ﮨوں" قاضی: " ﺗﯿﺴﺮﺍ مقدمہ بھی پیش کیا جائے" - ﻣﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺑﻮﮌﮬﮯ ﮐﺎ ﺑﯿﭩﺎ ﺁﮔﮯ ﺑﮍﮬﺎ ﺍﻭﺭ عرض کیا کہ " قاضی صاحب ﺍﺱ ﻧﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﺑﺎﭖ ﭘﺮ ﭼﮭﻼﻧﮓ ﻟﮕﺎﺋﯽ ﺟﺲ ﺳﮯ ﻭﮦ ﻣﺮﮔﯿﺎ " قاضی تھوڑی دیر ﺳﻮﭼﻨﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺑﻮﻻ: " ﺍﯾﺴﺎ ﮐﺮﻭکہ تم لوگ ﺍسی ﻣﯿﻨﺎﺭ پر جاؤ ﺍﻭﺭ مدعی ﺍﺱ ﻣﯿﻨﺎﺭ ﭘﺮ ﭼﮍﮪ ﮐﺮ ﺍﺱ مدعی علیہ (ﻣﺮﻏﯽ ﻓﺮﻭﺵ) ﭘﺮ اسی طرح ﭼﮭﻼﻧﮓ ﻟﮕﺎ دے جس طرح مرغی فروش نے اس کے باپ پر چھلانگ لگائی تھی" نوجوان نے کہا: " قاضی صاحب ﺍﮔﺮ ﯾﮧ ﺩﺍﺋﯿﮟ ﺑﺎﺋﯿﮟ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﺯﻣﯿﻦ ﭘﺮ ﮔﺮ ﮐﺮ ﻣﺮﺟﺎﺅﮞ گا " قاضی نے کہا " ﯾﮧ ﻣﯿﺮﺍ ﻣﺴﺌﻠﮧ ﻧﮩﯿﮟ ، میرا کام عدل کرنا ھے - ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﺑﺎﭖ ﺩﺍﺋﯿﮟ ﺑﺎﺋﯿﮟ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺍ ؟؟؟ نوجوان نے اپنا دعوی واپس لے لیا - 🌹 نتیجہ اگر آپ کے پاس قاضی کو دینے کے لئے مرغی ھے تو پھر قاضی بھی آپ کو بچانے کا ہر ھنر جانتا ھے. 😅😂😅 اُمید ہے پاکستانی نظامِ عدل کے تناظر میں آپ اس کہانی کا مطلب سمجھ گئے ہوں گے؟ https://t.me/muskuraahten 🎅 MUSKURAAHTEN 🎅

🌷پانی پلانے کا اجر وثواب🌷 اسلام کے پسندیدہ ترین اور قرب خداوندی حاصل کرنے کے شائستہ ترین و بہترین اعمال میں سے ایک پیاسوں کی پیاس بجھانا اور پانی پلانا ہے۔ اسلام میں اس قسم کی خدمات کی بڑی حوصلہ افزائی اور تعریف و تمجید کی گئی ہے. پیاسوں تک پانی پہچانا اور ان کو سیراب کرنا اتنی اہمیت کا حامل ہے کہ روایات اسلامی میں اس کو بہترین صدقہ شمار کیا گیا ہے، پانی پلانا غلام آزاد کرنے کے برابر شمار کیا گیا ہے...... ان روایات میں سے کچھ یہ ہیں: رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دیہات کے رہنے والوں سے فرمایا کہ اپنے سے اضافی پانی میں دوسروں کو استفادہ کرنے سے نہ روکیں، اور چراگاھوں سے فقط خود ہی نہ فائدہ اٹھائیں بلکہ دوسرے اپنے جیسوں کو بھی فائدہ اٹھانے دیں. 1-- اسی طرح ان تین گروھوں سے خدا کلام کرنا پسند نہیں فرماتا اور ان کے لئے سخت عذاب کا وعدہ کیا ہے ان میں سے ایک ایسا شخص جو بیابان میں پانی پر قابض ہے خواہ کنویں کی صورت میں یا چشمہ وغیرہ کی صورت میں لیکن مسافروں، اور دوسرے لوگوں کو وہاں سے اسفادہ نہیں کرنے دیتا. 2-- آنحضرت ایک اور حدیث میں فرماتے ہیں: جس شخص نے کنواں کھودا اور پانی تک پہنچ گیا پھر اس پانی کو مسلمانوں کے استفادہ کے لئے مثلا نماز کے وضوء کےلئے یا پینے اور دوسرے فائدے حاصل کرنے کے لئے عام کر دیتا ہے تو خدا اسے اس کا اجر عظیم عطا فرمائے گا۔ روایت میں ہےجتنے انسان، حیوان، پرندے، اس پانی سے استفادہ کرتے ہیں ان کے بالوں برابر اسے اجر عطا فرمائے گا اور قیامت کے دن پیغمبرؐ کے حوض سے سیراب ھوگا. 3-- جس کسی نے ایک پیاسے جگر سوختہ کی پیاس بجھائی تو خدائے متعال اسے قیامت کے دن بہشتی شربتوں سے سیراب فرمائے گا. 4 -- جب کوئی مسلمان تیرے پاس تشنہ لبی کی حالت میں آجائے تو اسے اچھی طرح سیراب کرو جس کا بہترین اجر پاؤ گے. 5 -- پانچ ایسی خصلتیں ہیں جو ان کو اپنائے یا ان میں سے ایک کو بھی اپنا لے تو وہ خدا سے ملاقات کرے گا اور جنت اس کے لئے واجب ھو جائے گی: 1- پیاسےکی پیاس بجھائے، 2- پیدل کو سواری پر بٹھائے، 3- ننگے کو لباس اور پابرہنہ کو جوتے پہنائے، 4- بھوکے کو کھانا کھلائے، 5- غلام کو آزاد کرے. 6 -- جس نے کسی پیاسے کو سیراب کیا ھو تو خدا اسے بھشت میں ایسے جام سے سیراب کرے گا جسے آج تک کسی نے کھولا تک نہ ھو. اور جس نے کسی مومن کو ایک چلو پانی دیا ھو خدا اسے جھنم سے آزاد کر دے گا جس نے کسی پیاسے کو بیابان میں پانی پلایا ھو وہ پیغمبر خدا کے ساتھ بہشت کے حوضوں سے سیراب ھوگا. 7 -- جس نے کسی مسلمان بھائی کو ایک گھونٹ پانی پلا دیا خدا اسے بھشت کے شربت سے سیراب فرمائے گا اور ایک ایک قطرہ کے بدلے اسے بہشتی اموال میں مال کثیر عطا فرمائے گا. 📜 پوسٹ ------- آقائ گلبھار. اردوترجمہ--------- اصغررضا. https://t.me/islamwitheman 🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵

🐜 چیونٹی کو جھوٹ کی سزا 🐜 علامہ ابن قیمؒ نے اپنی کتاب "مفتاح دارالسعادۃ" میں اس واقعہ کا ذکر کیا ہے, ایک دن علامہ ابن قیم ایک درخت کے نیچے بیٹھے ہوئے تھے کہ انہوں نے ایک چیونٹی کو دیکھا جو ایک ٹڈی کے پَر کے پاس آئی اور اس کو اٹھا کر لے جانے کی کوشش کی مگر نہیں لے جا سکی۔ کئی بار کوشش کرنے کے بعد اپنے کیمپ (بل) کی طرف دوڑی۔ تھوڑی ہی دیر میں وہاں سے چیوٹیوں کی ایک فوج لے کر نمودار ہوئی اور ان کو لے کر اس جگہ آگئی جہاں پَر ملا تھا، گویا وہ ان کو لے کر پَر لے جانا چاہتی تھی۔ چیونٹیوں کے اس جگہ پہنچنے سے پہلے ابن قیم نے وہ پَر اٹھا لیا تو ان سب نے وہاں اس پَر کو تلاش کیا مگر نہ ملنے پر سب واپس چلے گئے۔ مگر ایک چیونٹی وہیں رہی اور ڈھونڈنے لگی جو شاید وہی چیونٹی تھی۔ اس دوران ابن قیم نے وہ پر دوبارہ اسی جگہ رکھ لیا جبکہ اس چیوونٹی کو دوبارہ وہی پَر مل گیا تو وہ ایک بار پھر دوڑ کر اپنے کیمپ میں چلی گئی اور پہلے کے مقابلے میں زیادہ دیر کے بعد، پہلے کے مقابلے میں کچھ کم چیونٹوں کو لے کر آئی گویا زیادہ تر نے اس کی بات کا یقین نہیں کیا۔ اس بار بھی جب وہ ان کو لے کر اس جگہ کے قریب پہنچی تو علامہ نے وہ پَر پھر اٹھا لیا اور سب نے اس کو دوبارہ کافی دیر تک تلاش کیا مگر نہ ملنے پر سب واپس چلے گئے اور حسب سابق ایک ہی چیونٹی وہاں اس پَر کو ڈھونڈتی رہی، اس دوران علامہ نے ایک بار پھر وہی پر اسی جگہ رکھ لیا تو اسی چیونٹی نے اس کو ڈھونڈ لیا اور اپنے کیمپ کی طرف ایک بار پھر دوڑ کر گئی مگر اس بار کافی دیر کے بعد صرف سات چیونٹیوں کو لے کر آئی تب ابن قیم نے اس پَر کو پھر اٹھا لیا اور چیونٹیوں نے کافی دیر تک پر کو تلاش کیا اور نہ ملنے پر غصے سے اسی چیونٹی پر حملہ آور ہوئیں اور اس کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے رکھ دیا گویا وہ جھوٹ بولنے پر اس سے ناراض ہو گئی تھیں۔ تب ابن قیم نے وہ پَر ان چیونٹیوں کے درمیان رکھ دیا جونہی ان کو پَر ملا ساری چیونٹیاں پھر اس مردہ چیونٹی کے پاس جمع ہو گئیں گویا وہ سب افسرہ اور شرمندہ تھیں کہ انہوں نے اس بے گناہ کو قتل کیا۔ ابن قیم کہتےہیں کہ یہ سب دیکھ کر مجھے بہت افسوس ہوا اور میں نے جاکر یہ واقعہ ابوالعباس ابن تیمیہ رحمہ اللہ کو بتایا۔ انہوں نے کہا اللہ تجھے معاف کرے ایسا کیوں کیا۔ دوبارہ کبھی ایسا مت کرنا. سبحان اللہ جھوٹ سے نفرت فطرت کا حصہ ہے۔ کیڑے مکوڑے بھی جھوٹ سے نفرت کرتے ہیں اور قوم سے جھوٹ بولنے پر سزائے موت دیتے ہیں! 📘مصدر : مفتاح دار السعادہ، علامہ ابن قیم۔ https://t.me/islamwitheman 🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵

🌺 سجدہ 🌺 ■سجدہ کرنے کا ثواب 🌹امام جعفرصادق علیہ السلام اپنے آباءطاھرین سے نقل کرتے ہیں کہ رسول خدا (ص) نے فرمایا: جس نے خداوندمتعال کی بارگاہ میں ایک بار سجدہ کیا، اس عمل کی وجہ سے اس کا ایک گناہ مٹا دیاجاتا ہے اور ایک رتبہ بڑھا دیا جاتا ہے. ■سجدہ میں دونوں ہاتھ ٹیکنا 🌹امام جعفرصادق علیہ السلام اپنے آبائےطاھرین سے نقل کرتے ھوئے فرماتے ہیں کہ امیرالمؤمنین علی علیہ السلام نے فرمایا: جب تم سجدہ کرنے لگو تو اچھی طرح اپنے ہاتھوں کی ہتھیلیاں زمین پر لگاؤ، اس امید کے ساتھ کے قیامت کے دن بندھے ہاتھوں پیش نہ کیے جاؤ. ■طولانی سجدہ کرنے کاثواب 🌹معاویہ بن عمار کہتے ہیں کہ میں نے امام جعفر صادق علیہ السلام کو فرماتے سنا: بیشک جب کوئی خدا کا بندہ ایسی جگہ سجدہ کرتا ہے جہاں اسے دیکھنے والا کوئی نہیں اور سجدہ بھی طولانی کرتا ہے تو شیطان کہتا ہے؛ وائے ھو مجھ پر! یہ حُکمِ خُدا کی فرمانبرداری کر رہا ہے، میں نے اس کے حکم کی نافرمانی کی، یہ سجدہ کر رہا ہے لیکن میں نے سجدہ نہ کیا۔ 🌹ایک اور مقام پر حضرت فرماتےہیں: خدا کے قریب ہونے کے لئے سب سے بہترین حالت خُدا کو سجدہ کرنے میں ہے. ■سجدہ شکر کرنے کاثواب 🌹امام جعفر صادق علیہ السلام نقل فرماتے ہیں کہ آنحضرتؐ نے فرمایا: کہ جس نے نماز کے علاوہ کسی اور نعمت کے ملنے پر بارگاہ خداوندی میں شکر کے طور پر سجدہ کیا، تو خدا اس کے اس سجدۂ شکر کے انعام میں، دس نیک کاموں کا ثواب لکھتا ہے اور اسکے بُرے اعمال میں سے دس کو مٹا دیتا ہے اور بہشت میں اس کے دس درجے بڑھا دیتا ہے. 📚ثواب الاعمال، ص75، 76۔ https://t.me/islamwitheman 🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵

🔵 جنت کی نعمتیں 🔵 از آیت اللہ ناصر مکارم شیرازی جنت میں مختلف قسم کی نعمتیں اور لذتیں ھیں جن سے جنت میں رہنے والے ھمیشہ لذت حاصل کریں گے، جنت میں وہ جو چاھیں گے اورانھیں جس چیز کی خواہش ھوگی وہ موجود ھے، جیسا کہ خداوندعالم فرماتا ھے: <فِیہَا مَا تَشْتَہِیہِ الْاٴَنفُسُ وَتَلَذُّ الْاٴَعْیُنُ>[1] ”اور جس سے آنکھیں لذت اٹھائیں (سب موجود ھے)“۔ < لَہُمْ مَا یَشَاوٴُونَ فِیہَا وَلَدَیْنَا مَزِیدٌ>[2] ”اس میں یہ لوگ جو چاھیں گے ان کے لئے حاضر ھے اور ھمارے ہاں تو( اس سے بھی)زیادہ ھے “۔ خداوندعالم نے اپنے متقین بندوں کے لئے جنت میں وہ نعمتیں آمادہ کررکھیں ھیں جن کی الفاظ کے ذریعہ توصیف بیان نھیں کی جاسکتی اور نہ ھی کسی انسان سے اب تک سنا ھے، جیسا کہ خداوندعالم کا ارشاد ھے: < فَلاَتَعْلَمُ نَفْسٌ مَا اٴُخْفِیَ لَہُمْ مِنْ قُرَّةِ اٴَعْیُنٍ جَزَاءً بِمَا کَانُوا یَعْمَلُونَ>[3] ”ان لوگوں کی کار گذاریوں کے بدلے میں کیسی کیسی آنکھوں کی ٹھنڈک ان کے لئے ڈھکی چھپی رکھی ھے اس کو تو کوئی جانتاھی نھیں ھے“۔ حدیث قدسی میں بیان ھوا ھے:”قال اللہ تعالی :اعددت لعبادی الصالحین ما لاعین رات،ولااذن سمعت،ولاخطر علی قلب بشر“۔[4] ”خداوندعالم فرماتا ھے: میں نے اپنے صالح بندوں کے لئے وہ چیز آمادہ کر رکھی ھے جس کو کسی آنکھ نے (ابھی تک ) نھیں دیکھا ھے، اور نہ ھی کسی کان سے سنا ھے، اور نہ ھی کسی انسان کے دل میں اس کا تصور آیا ھے“۔ حسی لذات: اہل جنت کھانے پینے کی چیزوں سے لذت حاصل کریں گے اور وہاں کے مناظر اور حوروں سے لذت حاصل کریں گے، اور جس چیز کی خواہش ھوگی وہ سب ان کے لئے حاضر ھوگا۔[5] ھم یہاں پر قرآن مجید میں بیان شدہ بعض لذتوں کو بیان کرتے ھیں: ۱۔ کھانے پینے کی چیزیں: اہل جنت کو جنت میں کھانے پینے کی چیزیں بے حساب ملےں گی، اور وہ کبھی ختم نھیں ھوں گی، اور وہ جس طرح کی کھانے پینے کی چیزوں کی خواہش کریں گے وہ سب موجود ھوگی، اپنے مرضی سے چوپھل چاھےں گے مل جائے گا، ان کے سروں پر قریب ترین سایہ ھوگا اور اور میوے بالکل ان کے اختیار میں کردئے جائیں گے۔[6] اہل بہشت کے لئے شراب طھور ھوگی، جن سے انھیں سیراب کیا جائے گاجن کے پیالے پر مشک کی مہر لگی ھوگی ،اس سے ان کی عقلیں زائل نہ ھوںگی، اور نہ وہ بے ھودہ باتیں کریں گے، وہاں جام بہت خوبصورت اور دل پذیر ھوں گے، جن پر کافور اور زنجبیل کی خوشبو ھوگی ، جہاں بہت سی نہریں اور چشمے ھوں گے، صاف و شفاف پانی کی نہریں ھوں گی دودھ کی نہریں ھوں گی جس کا ذائقہ کبھی نھیں بدلے گا، شراب کی وہ نہریں ھوں گی جس سے پینے والوں کو مزہ آجائے گا، اور بہترین شہد کی نہریں ھوں گی، کوثر و تسنیم اور سلسبیل ھوں گی، اہل جنت سے کھاجائے گا کہ کھاؤ اور پیئو، ان اعمال کے بدلے میں جو تم انجام دیتے تھے[7] 📚حوالہ جات: [1] سورہ ٴ زخرف آیت ۷۱۔ [2] سورہٴ ق آیت ۳۵۔ [3] سورہٴ سجدہ آیت ۱۷۔ [4] کنزل العمال / المتقی الہندی ۱۵:۷۷۸/۴۳۰۶۹،بحا رالانوار / علامہ مجلسیۺ۸:۱۹۱ / ۱۶۸۔ [5] تصحیح الاعتقاد / المفید :۱۱۷۔ [6] رجوع کریں : سورہٴ رعد:آیت۳۵،سورہٴ حج:آیت۵۰،سورہٴ یٰس:آیت۵۷،سورہٴ ص:آیت۵۴، سورہٴ غافر: آیت۴۰،سورہٴ فصلت :آیت۳۱،سورہٴ محمد: آیت۱۵، سورہ ٴطور:آیت۲۲، سورہ ٴرحمن:آیت ۵۲ سورہٴ واقعہ: آیت۲۱،۲۸،۳۳، سورہ ٴدہر: آیت۱۴،سورہٴ مرسلات: آیت۴۲،۔ [7] رجوع کریں :سورہٴ صافات : آیت۴۵، سورہٴ محمد : آیت۱۵،سورہٴ طور :آیت۱۹و۲۳،سورہٴ واقعہ : آیت۱۷۔۱۹،سورہٴ انسان: آیت۵۔۶و۱۷۔۱۸و۲۱،سورہٴ مرسلات : آیت۳ ۴،سورہٴ مطففین : آیت۲۵۔۲۸۔ https://t.me/islamwitheman 🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵

🚨 عورت کی چھٹی حس 🚨 عورت ذات کو اللہ تعالٰی نے چھٹی حس اتنی تیز دی ہے کہ وہ کسی بھی مرد کی نظروں سے اپنے بارے میں اسکی نیت کو جان لیتی ہے۔ حتیٰ کہ اگر کوئی اسے چھپ کر بھی گھور رہا ہو تو اسے احساس ہو جاتا ہے کہ کوئی اسے دیکھ رہا ہے۔ اللہ نے اسے یہ صلاحیت اس لیے دی ہے کہ وہ جان سکے کہ کون اس کے لیے اچھا ہے اور کون برا۔ لیکن نہ جانے کیوں یہی عورت جب کسی پر اعتبار کرتی ہے تو اس کی چھٹی حس کہاں چلی جاتی ہے۔ جو چیز سب کو نظر آرہی ہوتی ہے وہ اس کی آنکھوں سے کیسے اوجھل ہو جاتی ہے۔ اور پھر کوئی لاکھ اسے سمجھائے لیکن اس کی عقل پر ایسے پتھر پڑتے ہیں کہ اسکی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ختم ہو جاتی ہے۔ اسے پیدا کرنے والے ماں، باپ اسکی خوشیوں کا خیال رکھنے والے بھائی، بہن اچھا، برا سمجھانے والی سہیلیاں اور رشتہ دار سب لوگ اسے دشمن لگنے لگ جاتے ہیں اور صرف ایک شخص جو دل میں ایک برا ارادہ لیے اسکی طرف بڑھ رہا ہوتا ہے وہ اسے سچا لگتا ہے۔ وہ یہ نہیں سوچتی کہ اتنے سارے لوگ کیسے غلط ہوسکتے ہیں اور جو ساری دنیا سے چھپ کر مجھ سے تعلق رکھنا چاہتا ہے وہ کیسے درست ہوسکتا ہے۔ پھر آخر ایک دن پچھتاوا اس کا مقدر بنتا ہے۔ میری بہنو! ماں باپ غلط فیصلہ تو کر سکتے ہیں لیکن کبھی غلط نہیں ہوتے۔ وہ ہمیشہ اپنی اولاد کا بھلا ہی چاہتے ہیں۔ انہیں کبھی اپنا دشمن نہ سمجھیں۔ اپنے آپ کو عقلِ کُل سمجھ کر اپنی دنیا و آخرت کو برباد مت کریں۔ احتیاط ساری عمر کے پچھتاوے سے بچا سکتی ہے۔ یاد رکھیں! جو آپ کو حاصل کرنے کی ضد میں آج آپکی عزت کی پرواہ نہیں کر رہا وہ بعد میں بھی آپ کو عزت نہیں دے گا. https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

😥 *اس تحریر کا عنوان آنسو ہے* 😥 میں چیچہ وطنی (پنجاب) سے تقریر کر کے جارها تها کچھ ساتهی ساتھ تهے، ایک آدمی کو دیکها چار پائی پر بیٹها تها، مکهیاں اس کے پاس بهنبهنارهی تهیں، عجیب حالت تهی؛ چہره زرد هے، غبار و گرد هے، عجیب درد نہ اس کا کوئی همدرد هے، مجهے سمجھ نہ آئی یہ کون ہے، میں اس کے قریب گیا تو کہنے لگا "او مولانا! ادهر تشریف لائیں، پیلے دانت ہڈیوں کا ڈهانچہ کمزور سانچہ، اس کے پاؤں پر ایک کپڑا پڑا ہوا تها، اس نے کہا مجھے عبرت سے دیکهو، ابهی آپ کی تقریر کی آواز یہاں آرهی تهی اور میں سن رها تها، کہنے لگا یہاں میرا مکان تها، دوکان تهی، کاروبار تها،میں کون تها میں ایک شیر جیسا انسان تها، لیکن اب بهیک مانگتا هوں اور اب کوئی بهیک بهی نہیں دیتا، بلکہ مجھ پر لوگ لعنت کرتے هیں، کہنے لگا غور سے سننا، عبرت کی بات بتارها هوں، اس نے میرا ہاتھ پکڑا اور کافی دیر تک روتا رها، کہنے لگا میں وه بدنصیب هوں جس نے اپنی ماں کے چہرے پر جوتے مارے هیں، (استغفراللہ)کہنے لگا ایک رات اپنے بدکردار غنڈے دوستوں کے ساتھ سینما دیکهنے گیا واپسی پر گهر پہنچ کر ماں سے کهانا مانگا، تو ماں نے شرم دلائی،ساری رات آوارہ گردی کرتا هے کبهی پولیس پکڑتی هے، نہ تمہارا باپ ایسا تها نہ دادا اور نہ یہ تیری ماں ایسی هے، تو کن غنڈوں میں پهنس گیا هے،اس نے اپنی ممتا کا غصہ اتارا مجھ پر، بس مجهے غصہ آیا اور جوتا لے کر ماں کو مارنے لگا، اس میں دو جوتے اس کے منہ پر لگے، ماں کے منہ سے اتنی آواز سنی ، اے عرش والے! اس لیئے بچہ دیا تها کہ آج میں جوتے کها رهی هوں، اے رب مجهے اپنے پاس بلالے، اب مذید جوتے نہیں کها سکتی، اے رب جس نے ماں کے منہ پر جوتے مارے اس کتے کو تو دنیا اور آخرت میں برباد کردے، کہنے لگا اس وقت ماں کی ان باتوں کو سن کر سو گیا، رات پاؤں میں ایک درد اٹها، پاؤں لرزنے لگا، صبح تک پاؤں سوجھ کر بہت موٹا هوگیا، ڈاکٹروں کو دکهایا لاهور گیا ملتان نشتر ہسپتال گیا،آخر پاؤں کاٹنا پڑا اور پهر مسلسل پاؤں کٹتے گئے کٹتے گئے! اس نے اپنے پاؤں کے حصے سے کپڑا اٹهایا بہت پیپ بہہ رهی تهی، کہنے لگا یہ زخم نہیں ماں کی بدعا هے اللہ کا قہر هوا مجھ پر، ماں تو رو رو کر ایک ہفتے میں چل بسی، جائداد گئ، مال گیا، بیوی گئ، بیٹے گئے، 4 سال سے یہاں پڑا هوں، پیپ مسلسل بہہ رهی هے، ایسا لگتا هے کہ ہر وقت کتے کاٹ رهے هیں، نیند نہیں آتی، گزرنے والے کہتے هیں یہ وه لعنتی هے جس نے اپنی ماں کو جوتوں سے مارا هے، کتے کی طرح میرے سامنے روٹی پهینکنے هیں، بیٹوں کو بلاتا هوں نہیں آتے ابا نہیں کہتے، کہنے لگا مولانا مجهے روٹھا رب راضی کرادو، ماں کے ایک لفظ نے اللہ کے قہر سے مجهے برباد کردیا "" اتنا کہہ کر وه گر پڑا اور روتا رها، پهر اس نے آنکھ نہ کهولی، مولانا فرماتے هیں، خدا کی قسم یہ منظر میں نے اپنی آنکھوں سے دیکها هے، اے اللہ تو همیں والدین کا فرمانبردار بنادے،..... Intekhab..... https://t.me/islamwitheman 🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵

🌺 مسواک کرنے کے فوائد 🌺 🔵امام جعفر صادق علیہ السلام۔۔۔ مسواک کرنے کے بارہ فوائد اور خصوصیات ہیں. 1) پیامبر اکرم صلی الله عليه وآلہ وسلم کی سنت ہے۔ 2) منہ کو صاف کرتی ہے۔ 3) آنکھ کو روشنی عطا کرتی ہے۔ 4) خدا کو خوش کرتی ہے۔ 5) دانتوں کو سفید کرتی ہے۔ 6) دانتوں کے بوسیدہ ہونے کو ختم کرتی ہے۔ 7) مسوڑوں کو محکم کرتی ہے۔ 8) غذا کی طرف میل کو زیادہ کرتی ہے۔ 9) بلغم کو ختم کرتی ہے۔ 10) حافظہ کو قوی کرتی ہے۔ 11) نیکیوں اور خوبصورتی کو ڈبل کر دیتی ہے۔ 12) فرشتے اس سے خوش ہوتے ہیں۔ 📚 مکارم الاخلاق، ص 50. https://t.me/islamwitheman 🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵

🕸گھر سے بھاگی ہوئی لڑکی🕸 اس نے کانپتے ہاتھوں کے ساتھ نمبر ملایا ....... ٹرن ٹرن ۔۔۔ آگے سے کھانستی ہوئی آواز نے فون اٹھایا "ھیلو" "ھیلو" کون اے ؟ کوئی بولدا ہی نئیں۔ اس نے کال ڈراپ کردی پھر چند لمحے بعد پھر ہمت کر کے کال ملائی پھر اسی آواز نے فون اٹھایا ھیلو کون اے؟ ہمت کر کے ڈرتے ڈرتے ھیلو۔۔۔۔ کیا ۔۔۔ آگے ایک دم سے آواز آئی "نازی" پتر توں؟؟؟؟ کیا حال ہے پتر۔ تو ہمیں چھوڑ کر کیوں چلی گئی پتر کیوں ماں باپ کی عزت خاک میں ملا دی ۔ بھائی تیرے خون کے پیاسے ہوے ہیں کہاں ہے تو۔۔ تو ٹھیک تے ہے نا پتر۔ کتھے آں تو؟ نازی کا رو رو کر برا حال تھا۔۔ کچھ نا بولی اسکی ماں بولتی چلی گئی پوچھتی چلی گئی۔۔۔ لیکن نازی جیسے بے سدھ کھڑی رہی جیسے سکتے میں ہو۔" پھر اماں کی طرف سے سوال ہوا پتر تو ہے کہاں اتنے سال ہوگئے تو خوش تے ہے ناں ؟ آخر ماں تھی ماں کی محبت تو ختم۔نہیں ہوتی ۔ نازی صرف اتنا بولی ۔ ہاں امی" میں خوش ہوں" اتنے میں دروازے سے نازی کا شوہر گھر میں داخل ہوا نازی نے گھبراتے ہوے فون بند کیا اور ڈر سی گئی۔ شوہر نے داخل ہوتے ہی پوچھا کس سے فون پر لگی تھی میری غیر حاضری میں تم دوسرے مردوں سے گپیں لگاتی ہو ۔ تم میرے ساتھ بھاگ کر ائی ہو کسی اور کے ساتھ بھی بھاگنے کا ارادہ ہے بے اعتباری عورت۔۔۔۔۔۔!!! گھر سے بھاگی ہوئی لڑکی کو " جان نثار" کی والہانہ سچی محبت۔ "اندھے قانون"کی لاٹھی ۔۔۔ "دنیا" کے ہر مذہب کی رضا "مجبور " والدین" کی رضامندی ۔ "غیرت مند" بھائیوں کا وقتی سمجھوتہ ۔۔ " یار دوستوں " کی "دلی" خوشی اور "اپنے" ضمیر کی آواز کا اطمینان مل بھی جائے لیکن !!! اُسے " عزت" کبھی بھی نہیں ملتی ۔ اپنی ساری زندگی کی قیمت پر بھی نہیں۔ اپنی آنے والی نسلوں کے سامنے بھی نہیں۔ اسے صرف سمجھوتے کرنے ہوتے ہیں۔ وہ سمجھوتے جن سے فرار کے لیے اس نے یہ انتہائی قدم اٹھایا۔ زندگی کا یہ گول چکر اسے ساری زندگی گزار کر ہی سمجھ آتا ہے۔ " عزت" دنیا میں سب سے قیمتی اور کم یاب شے ہے جو ہمیں دوسروں کے رویےاور اپنے دل کی آنکھ میں اپنے لیے ملتی ہے " ۔ Copied۔۔۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

✈درست سمت اور مستقل مزاجی✈ ایک بہت بڑے جہاز کا انجن فیل ہوگیا۔ جہاز کے مالک نے ایک کے بعد ایک ماہر کو آزمایا مگر ان میں سے کوئی بھی طے نہ کر پایا کہ اس جہاز کو کیسے ٹھیک کیا جائے۔ پھر اسے ایک آدمی ملا جو اپنی جوانی سے جہاز ٹھیک کرتا چلا آیا تھا۔ جب وہ آیا تو اس کے پاس اوزاروں کا بہت بڑا بیگ اٹھایا ہوا تھا اور وہ جیسے ہی آیا اپنے کام میں لگ گیا۔ اس نے اوپر سے لے کر نیچے تک انجن کا معائنہ کیا۔ جہاز کے دو مالک وہیں موجود تھے جو اس آدمی کو دیکھتے ہوئے کچھ پرامید نظر آرہے تھے۔ جی بھر کے معائنہ کرنے کے بعد بوڑھے آدمی نے اپنے بیگ سے ایک ہتھوڑا نکال لیا اور آہستگی سے کسی چیز پر مارنی شروع کردی۔جلد ہی انجن کو زندگی آن ملی۔ہتھوڑی کو پھر اس نے واپس رکھ دیا۔ جہاز کا انجن اب ٹھیک ہو چکا تھا۔ ایک ہفتے بعد جہاز کے مالکوں کو بوڑھے آدمی کی طرف سے دس ہزار کا بل موصول ہوا۔حیران زدہ مالکوں نے کہا: اس نے تو اتنا بڑا کوئی کام کیا ہی نہیں پھر اتنا بل کیوں؟ لہذا انہوں نے بوڑھے آدمی کو ایک نوٹ لکھ کر بھیجا: برائے مہربانی! ہمیں اشیاء کے حساب سے بل بنا کر بھیجیں۔ بوڑھے آدمی نے جواباً عرض بھیجی: ہتھوڑی سے ٹھوکنے کی فیس: 2 ڈالر، صیح جگہ پر ٹھوکنے کی فیس: 9 ہزار 9 سو اٹھانوے ڈالر۔ محنت کرنا ایک اہم چیز ہے۔ لیکن کس جگہ محنت کرنی ہے، فرق اسی سے بنتا ہے۔لہذا محنت کرتے رہو، صحیح سمت کا تعین کرکے۔ مشکلیں آئیں گی لیکن بالاخرتم ایک مکمل تجربہ کار انسان بن جاؤگے۔ لوہا گرم بھٹی سے ہو کر ہی مظبوط بنتا ہے۔ تجربہ ہی ایک انسان کو ایک اناڑی سے مختلف بناتا ہے۔ پختگی وقت سے آتی ہے اور وقت صرف اس کا ساتھ دیتا ہے جو مستقل مزاج ہوتا ہے۔ (منقول) https://t.me/islamwitheman 🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵

🍂مردہ مرغی چھیلنے والا🍂 کچھ دن پہلے ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﮨﮯ ﺍﯾﮏ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﮐﺎﻡ ﺳﮯ میانوالی ﺟﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﺍﺗﻔﺎﻕ ﮨﻮﺍ ﭼﻨﺎﭼﮧ بندیال ﮐﯽ ﻭﯼ ﺁﺋﯽ ﭘﯽ ﻣﯿﭩﺮﻭ ﮐﯿﺮﯼ ﺳﺮﻭﺱ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﭩﮫ ﮐﺮ ﺭﻭﺍﻧﮧ ﮨﻮ گیا. ﺟﻮﻧﮩﯽ سرگودھا ﮐﮯ پہاڑوں کی ﻣﻮﮌﻭﺍﻟﯽ ﭼﮍﮬﺎﺋﯽ ﭼﮍﮬﮯ ﺍﯾﮏ ﮐﮩﺮﺍﻡ ﻣﭽﺎ ﮨﻮﺍ ﺗﮭﺎ ﺩﻝ ﺩﮬﮏ ﺩﮬﮏ ﮐﺮﻧﮯ ﻟﮕﺎ ﺳﺐ ﺧﯿﺮ ﮐﯽ ﺩﻋﺎﺋﯿﮟ ﮐﺮﻧﮯ ﻟﮕﮯ ﺭﻭﮈ ﺑﻼﮎ ﺗﮭﺎ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﮔﺎﮌﯼ ﺑﮭﯽ ﺭﮎ ﮔﺌﯽ . ﺧﻮﺍﺗﯿﻦ ﮐﻮ ﭼﮭﻮﮌ ﮐﺮ ﺳﺐ ﻣﺮﺩ ﺣﻀﺮﺍﺕ ﺍﺗﺮ ﮔﺌﮯ ﺗﺤﻘﯿﻖ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮧ ﻣﻌﺎﻣﻠﮧ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ؟ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﻮ ﺳﺐ لوﮔﻮﮞ ﮐﯽ ﺗﻘﺮﯾﺒﺎً ادھیڑ عمر کے ایک ﮐﻤﺰﻭﺭ ﺳﮯ ﺁﺩﻣﯽ ﮨﺮ ﺗﮭﭙﮍﻭﮞ ﮐﯽ ﺑﺎﺭﺵ ﮨﮯ۔ ﻭﺟﮧ ﯾﮧ ﺑﺘﺎﺋﯽ ﺟﺎ ﺭﮨﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﯾﮧ ﺁﺩﻣﯽ ﻣﺮﺩﮦ ﻣﺮﻏﯿﺎﮞ ﺟﻮ ﮐﮧ ﺍﮐﺜﺮ ﭘﻮﻟﭩﺮﯼ ﻓﺎﺭﻣﺰ ﻭﺍﻟﮯ ﺍﺱ ﻣﻮﮌ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﻧﺎﻟﮯ ﻣﯿﮟ ﭘﮭﯿﻨﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻟﮯ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﯿﭽﺘﺎ ﮨﮯ ﺁﺝ ﺭﻧﮕﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﭘﮑﮍﺍ ﮔﯿﺎ . ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﻮ ﺍﯾﮏ تھیلے ﻣﯿﮟ ﺩﻭ ﭼﮭﯿﻠﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﻣﺮﻏﯿﺎﮞ ﺑﮭﯽ ﭘﮍﯼ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﯾﮏ ﭼﺎﺩﺭ ﺑﮭﯽ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺷﺎﯾﺪ ﺍﺳﯽ ﮐﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﮔﺎﮌﯼ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﺟﺐ ﯾﮧ ﺳﺐ ﮐﭽﮫ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﻮ ﻃﺮﺡ ﻃﺮﺡ ﮐﯽ ﻟﻌﻦ ﻃﻌﻦ ﮐﺮﻧﮯ ﻟﮕﮯ . ﻟﯿﮑﻦ ﻭﮦ ﺑﻨﺪﮦ ﻧﻢ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﺧﺎﻣﻮﺵ ﺑﺖ ﺑﻨﺎ ﺭﮨﺎ . ﺑﻶﺧﺮ ﺟﺴﻤﺎﻧﯽ ﮐﻤﺰﻭﺭﯼ ﺍﻭﺭﻋﻤﺮ ﮐﺎ ﻟﺤﺎﻅ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﭼﻨﺪ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﯽ ﺭﺍﺋﮯ ﭘﺮ ﺍﺳﮑﻮ ﻣﺸﺘﻌﻞ ﮨﺠﻮﻡ ﻧﮯ ﭼﮭﻮﮌ ﺩﯾﺎ . ﺍﺗﻔﺎﻕ ﺳﮯ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﮔﺎﮌﯼ ﻣﯿﮟ ﺩﻭ ﺳﻮﺍﺭﯾﻮﮞ ﮐﯽ ﺟﮕﮧ ﺧﺎﻟﯽ ﺗﮭﯽ ﻭﮦ ﺑﮭﯽ ﺁ ﮐﺮ ﺑﯿﭩﮫ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﮔﺎﮌﯼ ﭼﻞ ﭘﮍﯼ۔ ﮔﺎﮌﯼ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﺑﻨﺪﮮ ﮐﻮ ﭼﮭﻮﮌ ﮐﺮ ﺍﯾﮏ ﺍﺩﮬﯿﮍ ﻋﻤﺮ ﻋﻮﺭﺕ ﺍﻭﺭ ﮈﺭﺍﺋﯿﻮﺭ ﺳﻤﯿﺖ ﮨﻢ کافی ﺁﺩﻣﯽ ﺗﮭﮯ۔ ﻟﻮ ﺟﯽ ﺍﺩﮬﺮ ﺑﮭﯽ ﻭﮨﯽ ﮈﺳﮑﺸﻦ ﺍﻭﺭ ﻟﻌﻦ ﻃﻦ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺴﯽ ﻧﮯ سرگودھا ہوٹل ﻣﯿﮟ ﺑﮑﻨﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﺯﺑﺢ ﻣﺮﻏﯽ ﮐﻮ ﻣﺮﺩﺍﺭ ﻣﺮﻏﯽ ﺛﺎﺑﺖ ﮐﯿﺎ ﺗﻮ ﮐﺴﯽ ﻧﮯ . خوشاب ﻣﯿﮟ . ﮐﭽﮫ ﻧﮯ ﺑﺮﺍ ﺑﮭﻼ ﮐﮩﺎ ﻋﻮﺭﺕ ﻧﮯ ﺗﻮ ﺑﺮﺍﮦ ﺭﺍﺳﺖ ﺍﺱ ﺑﻨﺪﮮ ﮐﻮ ﻣﺨﺎﻃﺐ ﮐﺮ ﮐﮯ ﮐﮩﺎ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺷﺮﻡ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺗﯽ ﯾﮧ ﻣﺮﺩﺍﺭ ﻣﺮﻏﯽ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﯿﭻ ﮐﮯ ﺣﺮﺍﻡ ﮐﺎ ﭘﯿﺴﮧ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﻮ ﮐﮭﻼﺗﮯ ﮨﻮ ﺗﻤﮭﺎﺭﺍ ﺿﻤﯿﺮ ﮐﺒﮭﯽ ﻣﻼﻣﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﺎ؟ ﺍﺱ ﺑﻨﺪﮮ ﻧﮯ ﺳﺮ ﺍﭨﮭﺎﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﻮﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﺧﺎﻣﻮﺵ ﺑﯿﭩﮭﮯ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ سرائیکی ﻣﯿﮟ ﻣﺨﺎﻃﺐ ﮨﻮ ﮐﺮ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﺎ ﮐﮧ ﺗﻢ ﮐﯿﻮﮞ ﺧﺎﻣﻮﺵ ﺑﯿﭩﮭﮯ ﮨﻮ ﺳﻨﺎﺅ ﮐﭽﮫ ﺗﻢ ﺑﮭﯽ ﺗﻢ ﺑﮭﯽ ﺩﮮ ﺩﻭ ﮔﺎﻟﯿﺎﮞ . ﻣﯿﮟ ﺗﮭﻮﮌﺍ ﺷﺸﺪﺭ ﮨﻮﺍ ﭘﮭﺮ ﺑﻮﻻ ﺑﻨﺎ ﺗﺤﻘﯿﻖ ﮐﮯ ﺳﻨﯽ ﺳﻨﺎﺋﯽ ﺑﺎﺕ ﭘﺮ ﻭﺍﻭﯾﻼ ﮐﺮﻧﺎ ﺍﭼﮭﯽ ﺑﺎﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﯽ۔ ﮔﺎﮌﯼ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﭩﮭﮯ ﺑﺎﻗﯽ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﮐﻦ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﻃﺮﻑ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﯾﻘﯿﻨﺎً ﺩﻝ ﮨﯽ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﮨﻨﺲ ﺭﮨﮯﮨﻮﮞ ﮔﮯﺍﻭﺭ ﮐﮧ ﺭﮨﮯ ﮨﻮﮞ ﮔﮯ ﮐﮧ " ﺍﺱ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﻮ ﺑﮍﺍ ﺁﯾﺎ ﺳﯿﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﭘُﺘّﺮ " ﺍﺱ ﺑﻨﺪﮮ ﻧﮯ ﺟﻮ ﻣﯿﺮﯼ ﻧﻈﺮ ﻣﯿﮟ ﺍﺑﮭﯽ ﻣﻠﺰﻡ ﺳﮯ ﻣﺠﺮﻡ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺍ ﺗﮭﺎ ﻭﮦ ﺑﻨﺪﮦ ﺭﻭ ﭘﮍﺍ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﺎ ﺗﻢ ﮔﻮﺍﮦ ﺭﮨﻨﺎ ﻗﯿﺎﻣﺖ ﮐﮯ ﺩﻥ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﭘﯿﺶ ﮨﻮﻧﮕﺎ ﯾﮧ ﻟﻮﮒ ﮨﻮﻧﮕﮯ ﺟﺲ ﺟﺲ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﻣﺎﺭﺍ ﺟﺲ ﺟﺲ ﻧﮯ ﮔﺎﻟﯽ ﺩﯼ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﺮﺍ ﮨﺎﺗﮫ ﮨﻮﮔﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮑﺎ ﮔﺮﯾﺒﺎﻥ ﮨﻮﮔﺎ .. میں حضور اکرم (ص) کو شکوہ کروں گا ۔۔ آپکے ﺍﻣﺘﯿﻮﮞ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﻨﺎ ﭘﻮﭼﮭﮯ ﺑﻨﺎ ﺗﺤﻘﯿﻖ ﮐﺌﮯ ﺻﺮﻑ ﻣﺠﮭﮯ ﻣﺮﺩﺍﺭ ﻣﺮﻏﯿﺎﮞ ﭼﮭﯿﻞ ﮐﺮ ﺗﮭﯿﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﮈﺍﻟﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺩ ﮨﯽ ﺍﻥ ﮐﻮ ﺑﯿﭽﻨﮯ ﮐﺎ ﺍﻟﺰﺍﻡ ﻟﮕﺎ ﮐﺮ ﻣﺎﺭﺍ ﮔﺎﻟﯿﺎﮞ ﺩﯼ . ﭘﮭﺮ ﻭﮦ ﭘﻮﺭﯼ ﮔﺎﮌﯼ ﮐﮯ ﻣﺴﺎﻓﺮﻭﮞ ﺳﮯ ﻣﺨﺎﻃﺐ ﮨﻮ ﮐﺮ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﺎ ﺑﮭﺎﺋﯿﻮ ! ﻣﯿﮟ جوہر آباد ﮐﺎ ﮨﻮﮞ ﻣﯿﺮﺍ ﺍﭘﻨﺎ ﺷﻮﺭﻭﻡ ﺗﮭﺎ ﺗﯿﻦ ﺳﺎﻝ ﺳﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﻠﮉ ﮐﯿﻨﺴﺮ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﺳﺐ ﮐﭽﮫ ﺑﯿﭻ ﮐﺮ ﻋﻼﺝ ﭘﺮ ﻟﮕﺎ ﺩﯾﺎ ﮨﺮ ﻣﮩﻨﮯ ﺩﻭ ﺑﻮﺗﻞ ﺧﻮﻥ ﺑﮭﯽ ﻟﮕﺘﺎ ﮨﮯ ﮨﻢ ﺩﻭ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﮨﯿﮟ ﺟﺐ ﻣﺠﮫ ﭘﺮ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﮐﺎ ﻗﺮﺽ ﭼﺎﺭ ﻻﮐﮫ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﻧﮯ ﻣﺰﯾﺪ ﻗﺮﺽ ﺩﯾﻨﮯ ﺳﮯ ﺍﻧﮑﺎﺭ ﮐﺮ ﻟﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﭘﯿﺴﮯ ﻭﺍﭘﺲ ﻣﺎﻧﮕﻨﮯ ﻟﮕﺎ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻣﮑﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﺎ ﺣﺼﮧ ﻗﺮﺽ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﮑﻮ ﺩﮮ ﺩﯾﺎ . ﭼﺎﺭ مہینے ﺳﮯ سرگودھا ﻣﯿﮟ ﮨﻮﮞ ﻣﯿﺮﯼ ﭼﺎﺭ ﺑﯿﭩﯿﺎﮞ ﮨﯿﮟ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮍﯼ ﺑﯿﭩﯽ ﺳﺎﺕ ﺳﺎﻝ ﮐﯽ ﮨﮯ ﺑﯿﻤﺎﺭﯼ ﺍﻭﺭ ﮐﻤﺰﻭﺭﯼ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﮐﺎﻡ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﺎ ﮐﺎﻡ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﻮ ﭘﯿﺴﮯ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﮭﯿﮏ ﻣﺎﻧﮕﻨﺎ ﻟﻌﻨﺖ ﮨﮯ . ﺩﻭ ﻣﺎﮦ ﺳﮯ ﺧﻮﻥ ﮐﯽ ﺑﻮﺗﻠﻮﮞ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺑﮭﯽ ﭘﯿﺴﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﻔﯿﺪ ﭘﻮﺷﯽ ﺳﮯ ﭼﻞ ﺭﮨﯽ ﮨﮯ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﯽ ﮔﺎﮌﯼ . ﭘﮭﺮ ﻭﮦ ﺷﺨﺺ ﺗﮭﻮﮌﺍ ﺳﺎ ﺧﺎﻣﻮﺵ ﮨﻮﺍ ﺍﻭﺭ ﺭﻭ ﭘﮍﺍ ﺍﻭﺭ ﺁﻧﺴﻮ ﺻﺎﻑ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺑﻮﻻ ﻣﯿﺮﯼ ﺑﯿﭩﺎﮞ ﺟﺐ ﺳﮯ سرگودھا ﺁﺋﮯ ﮨﯿﮟ ﺭﻭﺯ ﺑﻮﻟﺘﯽ ﮨﯿﮟ " ککڑ گھن آؤ ابا سائیں ککڑ پکاسوں " ﺍﺑﻮ ﺁﺝ ﮔﻮﺷﺖ ﻻﺋﯿﮟ ﺍﺑﻮ ﺁﺝ ﻣﺮﻏﯽ ﭘﮑﺎﺋﯿﮟ . ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺁﺝ ﻓﺎﺭﻡ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﻮ ﯾﮩﺎﮞ ﺗﺎﺯﮦ ﻣﺮﺩﺍﺭ ﻣﺮﻏﯿﺎﮞ ﭘﮭﻨﮑﺘﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺳﻮﭼﺎ ﺁﺝ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﭽﯿﻮﮞ ﮐﯽ ﺧﻮﺍﮨﺶ ﭘﻮﺭﯼ ﮐﺮﻭﮞ ﮔﺎ ﺍﻧﮑﻮ ﮐﯿﺎ ﺧﺒﺮ ﺑﺲ ﺧﻮﺵ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﯽ . ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻭﮦ ﺁﺩﻣﯽ ﺭﻭﻧﮯ ﻟﮕﺎ ﮨﻢ ﺳﺐ ﮐﯽ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﺁﻧﺴﻮ ﻧﮑﻞ ﮔﺌﮯ . ﻭﮦ ﺑﺎﮨﺮ ﮐﯽ ﻣﺎﺭ ﺍﻭﺭ ﺣﺎﻻﺕ ﮐﮯ ﺷﮑﺎﺭ ﺳﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﺟﻼ ﮨﻮﺍ ﺗﮭﺎ . ﭘﮭﺮ ﻭﮦ ﺟﮭﻮﻟﯿﺎﮞ ﺑﮭﺮ ﺑﮭﺮ ﻣﺎﺭﻧﮯ ﺍﻭﺭﮈﺍﻧﭩﻨﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﺪﻋﺎﺋﯿﮟ ﺩﯾﻨﮯ ﻟﮕﺎ . ﺳﺐ ﻧﮯ ﻣﻨﺘﯿﮟ ﮐﯽ ﻣﻌﺎﻓﯿﺎﮞ ﻣﺎﻧﮕﯿﮟ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺳﮑﺎ ﺭﻭﻧﺎ ﺑﻨﺪ ﻧﮧ ﮨﻮﺍ . ﻻﺭﯼ ﺍﮈﺍ ﺁ ﮔﯿﺎ ﮈﺭﺍﺋﯿﻮﺭ ﺳﻤﯿﺖ ﺳﺐ ﻧﮯ ﺟﯿﺐ ﻣﯿﮟ ﮨﺎﺗﮫ ﮈﺍﻻ ﺟﻮ ﮐﭽﮫ ﮨﺎﺗﮫ ﺁﯾﺎ ﺍﺳﮑﻮ ﺩﯾﻨﺎ ﭼﺎﮨﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻭﺍﭘﺲ ﻣﻨﮧ ﭘﺮ ﺩﮮ ﻣﺎﺭﺍ . ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﻧﺎﻡ ﺍﻭﺭ ﭘﺘﮧ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ " ﻣﯿﺮﺍ ﻧﺎﻡ عون محمد ہے ﻟﯿﮑﻦ ﺑﮭﻮﮐﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﺠﺒﻮﺭ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﺎﻡ ﻗﻮﻡ ﯾﺎ ﻣﺬﮨﺐ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ . . ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﭘﮍﻭﺱ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﺴﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﮈﮬﻮﻧﮉﯾﺌﮯ ﺟﻮ ﺳﻔﯿﺪ ﭘﻮﺷﯽ ﻣﯿﮟ ﮔﮭﭧ ﮔﮭﭧ ﮐﺮ ﺟﯽ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ . ﯾﮧ ﻧﮧ ﮨﻮ ﮐﻞ ﺭﻭﺯ ﻗﯿﺎﻣﺖ ﮨﻤﯿﮟ ﺍﻟﻠﮧ ﺍﻭﺭ ﺭﺳﻮﻝ ؐ پا ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﻧﺪﺍﻣﺖ ﺍﭨﮭﺎﻧﯽ ﭘﮍﮮ. (منقول) https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

😂😝 #جلسہ 😜😂 ایک دُور دراز کے گاؤں میں ایک سیاستدان کی تقریر تھی. 300 کلو میٹر ٹُوٹی پُھوٹی سڑکوں پر سفر کرنے کے بعد جب وہ تقریر کی جگہ پر پہنچے تو دیکھا کہ صرف ایک کسان انکی تقریر سُننے کے لئے بیٹھا ہُوا تھا۔ اس اکیلے شخص کو دیکھ کر سیاستدان کو سخت مایوسی ہُوئی، اور نہایت افسردہ انداز میں کہنے لگے، بھائی، آپ تو صرف اکیلے آدمی آئے ہو، سمجھ میں نہیں آتا کہ اب میں تقریر کروں یا نہیں-"،؟ کسان بولا، صاحب میرے گھر پر بیس(۲۰) گدھے ہیں۔ اگر میں ان کو چارہ ڈالنے جاؤں، اور دیکھوں کہ وہاں صرف ایک گدھا ہے، اور باقی دوڑ گئے ہیں، تو کیا میں اس ایک گدھے کو بھی چارہ نہ ڈالوں،؟ اور اسے بھی بُھوکا مار دوں؟؟ کسان کا بہترین جواب سُن کر سیاستدان بہت خُوش ہُوا، اور ڈائس پر جا کر اس اکیلے کسان کے لئے دو(۲) گھنٹے تک پُرجوش انداز میں تقریر کرتا رہا۔ تقریر ختم کرنے کے بعد، وہ ڈائس سے اُتر کر سیدھا کسان کے پاس آیا اور بولا، تُمہاری گدھے والی مثال مجھے بہت پسند آئی،، اب تُم بتاؤ، تُمہیں میری تقریر کیسی لگی؟ کسان بولا،، صاحب، اُنیس(۱۹) گدھوں کی غیر موجودگی کا یہ مطلب تو نہیں کہ بِیس(۲۰) گدھوں کا چارہ، ایک گدھے کے آگے ڈال دِیا جائے۔۔۔! 😃 https://t.me/islamwitheman 🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵

🍃کیا دنیا اور آخرت میں تضاد ہے؟(2)🍃 حضرت امام محمد باقرؑ سے ایک حدیث میں بیان ہوا ہے: ”نِعمَ العَون الدُّنْیَا عَلَی طَلَبِ الآخرة“ آخرت تک پہنچنے کے لئے دنیا بہترین مددگار ہے۔ سورہ قصص کی آیات میں مالدار اور مغرور ”قارون“ کی بہت زیادہ مذمت کی گئی ہے، جو اس موضوع کے لئے بہترین شاہد ہے، لیکن اسلام اس مال و دولت کو پسند کرتا ہے جو ”آخرت کے لئے کام آئے“، جس کے ذریعہ آخرت حاصل کی جائے، جیسا کہ بنی اسرائیل کے علماء قارون سے کہتے تھے: ”وَابْتَغِ فِیمَا آتَاکَ الله الدَّار الآخرة“ خدا کی عطا کردہ نعمتوں کے ذریعہ آخرت حاصل کرنے کی فکر کر۔ اسلام اس مال کو پسند کرتا ہے جس کے ذریعہ سب کے ساتھ نیکی کی جائے: ”اٴحْسَنَ کَمَا اٴحسنَ الله إلیک“ اسلام اس مال و دولت کی مدح و ثنا کرتا ہے جس میں انسان دنیا سے صرف اپنے حق کو نہ بھولے: ”لَاتَنْسِ نَصِیبکَ مِنَ الدُّنْیَا“ خلاصہ اسلام ایسے مال و دولت کو پسند کرتا ہے جس کے ذریعہ ظلم و فساد برپا نہ کیا جائے، انسانی اقدار کی پائمالی نہ ہو، اور مال زیادہ کرنے کے جنون میں مبتلا نہ ہو، نیز مال ”خود پسندی“ اور دوسرے کو ذلیل سمجھنے کا باعث نہ ہو یہاں تک کہ انسان مال و دولت کے نشہ میں خدا و رسول کے مقابلہ میں نہ آجائے۔ اس مال کے ذریعہ سب کی مشکلات دور کرناچاہئے، یہ مال اگر غریبوں کے زخم کا مرہم بن جائے، محتاج لوگوں کے درد کی دوا بن جائے تو واقعاً اسلام اس مال کوپسند کرتا ہے۔ ان مقاصد کے تحت مال و دولت حاصل کرنا دنیا کی محبت نہیں ہے، بلکہ یہ آخرت کی لگن ہے، جیسا کہ حدیث میں وارد ہوا ہے: حضرت امام صادق علیہ السلام کے دوستوں میں سے ایک شخص آپ کی خدمت میں آیا اور اس نے شکایت کی کہ ہم دنیا سے محبت کرتے ہیں اور اس کی آرزو کرتے ہیں (لیکن میں ڈرتا ہوں کہ کہیں دنیا پرست نہ ہوجاؤں!!) امام علیہ السلام (اس شخص کے تقویٰ اور پاکیزگی سے باخبر تھے) نے فرمایا: تم مال و دولت سے کیا کیا کام انجام دیتے ہو؟ اس نے عرض کی: اپنے او ر اپنے اہل و عیال کا خرچ پورا کرتا ہوں، اپنے رشتہ داروں کی مدد کرتا ہوں، راہ خدا میں خرچ کرتا ہوں اور حج و عمرہ بجالاتا ہوں۔ اس وقت امام علیہ السلام نے فرمایا: ”لَیسَ ھَذا طَلَبُ الدُّنیَا ھَذَا طَلَبُ الآخِرة" ِیہ دنیا طلبی اور دنیا پرستی نہیں ہے بلکہ یہ آخرت کا سودا ہے۔ اور یہیں سے ان دو گروہوں کے نظریہ کا باطل ہونا بھی واضح ہوجاتا ہے: پہلا گروہ ایسے مسلمانوں کا ہے جن کو تعلیمات اسلامی کی کوئی خبر نہیں ہے اور اسلام کو مستکبرین کا حامی قرار دیتے ہیں، اور دوسرا گروہ ان دشمنوں کا ہے جو اسلام کی صورت بگاڑ کر پیش کرتے ہیں، اور اسلام کو مال و دولت کا مخالف اور فقر و غربت کا طرفدار قرار دیتے ہیں۔ اصولی طور پر کوئی غریب قوم آزادی اور سربلند ی کی زندگی نہیں گزار سکتی۔ فقر و غربت وابستگی کا وسیلہ ہے۔ فقر و غربت دنیا و آخرت کی ذلت کا نام ہے۔ فقر و غربت انسان کو گناہ اور آلودگی کی دعوت دیتے ہیں۔ جیسا کہ حضرت امام صادق علیہ السلام سے منقول حدیث میں وارد ہوا ہے: ”غَنیٌّ یحجزُکَ عَن الظُّلْمِ خَیرٌ مِن فَقْرٍ یَحمَلُکَ عَلَی الاٴثمِ“ ایسی بے نیازی جو دوسروں پر ظلم کرنے سے روک لے، اس فقر و غربت سے بہتر ہے جو تجھے گناہوں کی دعوت دے۔ تمام ملت اسلام کو اس بات کی کوشش کرنی چاہئے کہ غنی بنیں اور دوسروں سے بے نیاز ہو جائیں، خود کفائی کی منزل تک پہنچیں اور اپنے پیروں پر کھڑے ہوں، اور اپنی عزت و شرافت اور استقلال کو فقر و غربت اور دوسرے سے وابستگی پر قربان نہ کریں، یہی اسلام کا اصلی راستہ ہے۔ 🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔ https://t.me/islamwitheman 🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵