en
Feedback
Sobain|سوبین بلوچ

Sobain|سوبین بلوچ

Open in Telegram

Freelance journalist from war zone Balochistan

Show more
The country is not specifiedThe category is not specified
255
Subscribers
+124 hours
+77 days
+2630 days
Posts Archive
دشت اور ہوشاپ میں فوجی کیمپوں اور مورچوں پر حملے، 1 فوجی اہلکار ہلاک، دو زخمی اور نگرانی کے کیمرے، فوجی گاڑی و املاک ناکارہ: میجر گہرام بلوچ بلوچستان لبریشن فرنٹ کے سرمچاروں نے 28 جون 2026 کو دشت کے علاقے مچات میں، مین روڈ پر قابض پاکستانی فوج کو ایک حملے میں بھاری اور خودکار ہتھیاروں سے نشانہ بنایا۔ اس کامیاب کارروائی کے نتیجے میں قابض فوج کو جانی و مالی نقصان پہنچا، جبکہ سرمچاروں نے اس مقام پر فوج کی جانب سے نصب کردہ نگرانی کے تمام کیمرے بھی اکھاڑ دیے۔ اس سے قبل، 27 جون 2026 کو دشت ہی کے علاقے پِٹوک میں، چِنال کے مقام پر بی ایل ایف کے سرمچاروں نے قابض فوج کے ایک مورچے پر حملہ کر کے وہاں مورچہ زن ایک فوجی اہلکار کو موقع پر ہلاک کر دیا اور مورچے میں موجود دیگر اہلکاروں کو راکٹ لانچروں اور بھاری ہتھیاروں سے نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں مزید دو فوجی اہلکار زخمی ہوئے، جبکہ مورچے کے قریب کھڑی ایک فوجی گاڑی کو بھی فائرنگ کر کے ناکارہ بنا دیا گیا۔ اسی روز 27 جون ایک اور کارروائی میں بی ایل ایف کے  سرمچاروں نے دشت کے علاقے بَل نِگوْر میں قائم پاکستانی فوج کے کیمپ پر راکٹ لانچرز اور دیگر بھاری ہتھیاروں سے حملہ کیا، اس حملے میں بھی قابض فوج کو جانی و مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ علاوہ ازیں، 27 جون ہی کو ہوشاپ کے علاقے دمب میں بھی بی ایل ایف کے سرمچاروں نے قابض فوج کے کیمپ کو حملے میں نشانہ بنایا۔ سرمچاروں نے گرنیڈ لانچر سے فوجی کیمپ پر متعدد گولے داغے جو اپنے اہداف پر جا گرے، جس کے نتیجے میں قابض فوج کو مزید جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا۔ بلوچستان لبریشن فرنٹ دشت اور ہوشاپ میں قابض پاکستانی فوج پر ہونے والے ان حملوں میں قابض پاکستانی فوج کے ایک اہلکار کو ہلاک و متعدد کو زخمی کرنے،  نگرانی کے کیمرے  اور فوجی گاڑی و املاک ناکارہ بنانے کی ذمہ داری قبول کرتی ہے۔ میجر گہرام بلوچ ترجمان: بلوچستان لبریشن فرنٹ 30 جون 2026 Ref. No. BLF/June2026/00080

+4
Martyr ZAKRIA ZEHRI.jpg9.49 KB

Martyrs.jpg9.27 KB

MARTYRS THEIR COURAGE SPARKED ETERNAL RESISTANCE
MARTYRS THEIR COURAGE SPARKED ETERNAL RESISTANCE

بلوچستان لبریش فرنٹ اپنے ان تمام شہدائے وطن کو گراں قدر الفاظ میں خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کرتی ہے کہ غاصب ریاست کے مکمل خاتمے اور مادرِ وطن بلوچستان کی مکمل آزادی تک ہر محاذ پر دشمن کے خلاف پوری شدت کے ساتھ جنگ جاری رہے گی۔ ہمارے شہدا کا مشن ہمارے لیے مشعلِ راہ ہے، اور ان کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے منزلِ مقصود تک پہنچنا ہمارا قومی و تنظیمی عہد ہے۔ میجر گہرام بلوچ ترجمان، بلوچستان لبریشن فرنٹ 28 جون 2026 Ref. No. BLF/June2026/00079

شہید سنگت شعیب زہری نے سال 2024 میں بلوچستان لبریشن فرنٹ کے فلیٹ فارم سے اپنے جدوجہد کا آغاز کیا۔ باقاعدہ عسکری محاذ پر منتقل ہونے سے قبل وہ تنظیمی صفوں میں فکری و سیاسی امور کو انتہائی تندہی سے سرانجام دیتا رہا اور قلیل عرصے میں عسکری ماحول کے تقاضوں کو سمجھا۔ اس لازمی تنظیمی کام کے بعد، وہ باقاعدہ طور پر محاذ پر منتقل ہوئے۔ وہ اپنی عسکری صلاحیتوں کی بدولت انتہائی مختصر عرصے میں کئی اہم قومی ذمہ داریاں نبھا چکے تھے۔ انہوں نے خضدار اور زہری کے کٹھن محاذوں پر گوریلا کارروائیوں میں حصہ لیا اور تنظیمی نیٹ ورک کو منظم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ وہ ایک انتہائی مخلص، جفاکش، وفادار اور نڈر سرمچار تھے، جنہوں نے انتہائی مخلصانہ انداز میں خدمات سرانجام دیں اور تنظیمی ڈسپلن پر سختی سے کاربند رہ کر دشمن کے خلاف عسکری مہمات کے دوران ہمیشہ ہراول دستے میں رہ کر کردار ادا کیا۔ 17 مئی کو خضدار کے علاقے لاکھوریان میں ایک کارروائی کے دوران سرمچاروں نے پولیس اہلکاروں کو گھیرے میں لے کر انہیں ہتھیار ڈالنے کا حکم دیا، تو پولیس اہلکاروں نے ہتھیار ڈالنے کے بجائے فائرنگ شروع کر دی۔ سرمچاروں نے پوزیشیں سنبھال کر جوابی کارروائی کی۔ اس دو بدو فائرنگ کے تبادلے میں سنگت شعیب زہری بہادری سے لڑتے ہوئے شہید ہو گئے۔ شہید شعیب زہری عرف فاروق ولد محمد ابراہیم، سکنہ تلاوان زہری کی شہادت پر بی ایل ایف انہیں سرخ سلام پیش کرتی ہے، اور اپنے اس سنمول ساتھی و عظیم قومی فرزند کی قربانی کو تحریک کا اثاثہ مانتے ہوئے ان کے مشن کو جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کرتی ہے۔ شہید کفایت اللہ بادینی 14 مئی 2026 کو نوشکی کے علاقے ابڑ میں قابض فوج کے ڈرون حملے کا نشانہ بن کر جامِ شہادت نوش کر گئے۔ شہید کفایت اللہ بادینی نے اپریل 2024 میں بلوچستان لبریشن فرنٹ کے فلیٹ فارم سے اپنے جدوجہد کا آغاز کیا۔ باقاعدہ پہاڑی محاذ پر منتقل ہونے سے قبل اس نے تنظیمی و سیاسی ڈسپلن اور جنگی اصولوں کی بنیادی تربیت حاصل کیا۔ اس فکری تربیت کے بعد وہ باقاعدہ طور پر پہاڑی محاذ پر منتقل ہو گئے۔ وہ عسکری میدان میں ایک انتہائی جفاکش، مخلص اور جنگی اصولوں سے گہری واقفیت رکھنے والے سرمچار تھے۔ انہوں نے نوشکی اور شال کے اطراف کے کٹھن محاذوں پر گوریلا کارروائیاں سرانجام دیں اور تنظیمی فرائض تندہی سے نبھائے۔ وہ ایک انتہائی محنتی، جفاکش، تنظیم اور جنگی اصولوں سے واقف سرمچار تھے، جنہوں نے اپنی انتھک محنت، تنظیمی ڈسپلن اور اعلیٰ سیاسی شعور کی بدولت تنظیمی صفوں میں اپنے لیے ایک محترم، و پر وقار مقام پیدا کیا۔ 14 مئی کو سرمچاروں کا دستہ نوشکی کے علاقے ابڑ میں تنظیمی امور کے سلسلے میں گشت پر مامور تھا، تو قابض فوج کی جانب سے ان پر ڈرون حملہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں سنگت کفایت اللہ شہید ہو گئے۔ بی ایل ایف شہید کفایت اللہ بادینی عرف بادل بلوچ ولد حبیب اللہ بادینی, سکنہ سریاب روڈ شال کی شہادت پر انہیں خراج عقیدت اور سلام پیش کرتی ہے۔ اس عظیم قومی فرزند کی قربانیاں تحریک کا لازوال اثاثہ قرار ہیں۔ تنظیم ان کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے آزادی کی منزل تک جنگ جاری رکھنے کا عہد کرتی ہے۔ شہید زکریا زہری 14 اپریل کو قلات کے علاقے ناگاؤ میں قابض فوج کے ساتھ جھڑپ میں دلیری سے لڑتے ہوئے جامِ شہادت نوش کر گئے۔ شہید سنگت زکریا زہری نے سال 2025 میں بلوچستان لبریشن فرنٹ کے فلیٹ فارم سے اپنے جدوجہد کا آغاز کیا۔ باقاعدہ عسکری محاذ پر منتقل ہونے سے قبل اس نے بنیادی تنظیمی اور فکری تربیت حاصل کیا۔ فکری پختگی حاصل کرنے کے بعد وہ جنگی خدمات کیلئے باقاعدہ طور پر قلات کے محاذ پر منتقل ہو گئے۔ وہ اپنی عسکری و تنظیمی صلاحیتوں کی بدولت انتہائی مختصر عرصے میں کئی اہم تنظیمی ذمہ داریاں سرانجام دے چکے تھے۔ انہوں نے قلات اور ناگاؤ کے مختلف محاذوں پر گوریلا جنگ کے دوران ہمیشہ ہراول دستے میں رہا اور گشتی ٹیموں کو فعال رکھا۔ وہ ایک انتہائی محنتی، وفادار، مخلص اور نڈر سرمچار تھے، جنہوں نے تنظیمی صفوں میں شامل ہونے کے بعد ہر عسکری ہدف پر پورا اترنے کی کوشش کی اور اپنے جفاکشی اور محنت کی وجہ سے ساتھیوں میں نمایاں مقام پایا۔ 14 اپریل کو سرمچاروں کا دستہ تنظیمی امور کے سلسلے میں گشت پر تھا، تو راستے میں قابض فوج نے ناکہ بندی کر رکھی تھی۔ سرمچاروں کو دیکھتے ہی قابض فوج نے سرمچاروں پر فائرنگ شروع کر دی، جس پر سرمچاروں نے فوری پوزیشنیں سنبھالیں اور جوابی کارروائی کرتے ہوئے دشمن پر حملہ کیا۔ اس جھڑپ کے دوران سنگت زکریا زہری دلیری سے دشمن کا مقابلہ کرتے ہوئے شہید ہو گئے۔ بی ایل ایف شہید زکریا زہری عرف استاد زورین بلوچ ولد مہیم خان، سکنہ زہری بلبل کی شہادت پر بی انہیں خراج عقیدت اور سلام پیش کرتی ہے، اور وطن کی آزادی تک ان کے مشن کو جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کرتی ہے۔

شہیدوں کا لہو وہ خراج ہے جو بلوچ قومی بقا اور خودمختاری کی ضمانت ہے۔ مختلف محاذوں پر قابض پاکستان کے خلاف مزاحمت کی نئی تاریخ رقم کرنے والے سرمچاروں کو سلام عقیدت پیش کرتے ہیں: میجر گہرام بلوچ بلوچستان لبریشن فرنٹ مادرِ وطن کی آزادی اور بلوچ قومی بقا کے لیے مختلف محاذوں پر قابض پاکستان کے استعماری ریاستی مشینری اور مکروہ عزائم کے خلاف لڑتے ہوئے شہادت پانے والے اپنے نڈر، مخلص اور باصلاحیت سرمچاروں کو ان کی لازوال قربانیوں پر دل کی گہرائیوں سے خراجِ عقیدت اور سلام پیش کرتی ہے۔ یہ عظیم قربانیاں اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ بلوچ قوم اپنے وطن پر غاصبانہ قبضے اور ظلم و جبر کے سامنے کبھی سر تسلیم خم نہیں کرے گی۔ گذشتہ دنوں نوشکی، قلات، خضدار اور بلیدہ سمیت بلوچستان کے طول و عرض میں مختلف محاذوں پر بی ایل ایف کے متعدد بہادر فکری سرمچاروں نے تنظیمی و عسکری امور کی انجام دہی، اور دشمن سے دو بدو معرکوں میں شہادت پاکر اپنے لہو سے جدوجہد آزادی کے چراغ کو روشن رکھا ہے۔ تحریکِ آزادی محض ایک عسکری مزاحمت کا نام نہیں، بلکہ یہ گہرے سیاسی شعور اور فکری پختگی پر استوار ایک قومی بیداری ہے جسے ریاستی بربریت کے ذریعے کبھی دبایا نہیں جا سکتا۔ ہمارے سرمچاروں کی یہ فکری اور عسکری خدمات اور قربانیاں تحریک کا وہ گراں قدر اثاثے ہیں جن کا متبادل دشمن کے پاس موجود نہیں۔ ان کےلہو کا ایک ایک قطرہ بلوچ سماج میں قومی آزادی کی شعور اور جذبے کو مزید جلا بخشے گا۔ مختلف معرکوں کے دوران جامِ شہادت نوش کرنے والے سرمچاروں کے کوائف، ان کے تنظیمی، سیاسی اور عسکری خدمات کی تفصیلات درج ذیل ہیں: شہید کپٹن ہاشم عرف کمبر ولد ناصر، سکنہ میناز بلیدہ 21 جون 2026 کو بلیدہ اور تربت کے درمیان گروک روڈ کے مقام پر قابض فوج کے ایک ڈرون حملے کا نشانہ بن کر شہید ہوگئے۔ شہید کپٹن ہاشم نے 2022 میں بلوچستان لبریشن فرنٹ کے فلیٹ فارم سے اپنے جدوجہد کا آغاز کیا۔ باقاعدہ پہاڑی محاذ پر منتقل ہونے سے قبل وہ ایک سال تک شہری و علاقائی نیٹ ورک میں دشمن کی نقل و حرکت کی نگرانی، راشن اور فوجی ساز و سامان کی فراہمی میں کلیدی کردار ادا کیا۔ اس خفیہ تنظیمی کام کے بعد وہ اپریل 2023 میں پہاڑی محاذ پر منتقل ہوئے۔ اُن کے بے پناہ عسکری و تنظیمی صلاحیتوں کی بدولت تنظیم نے انہیں کپٹن کے رینک پر فائز کیا۔ انہوں نے بلیدہ، پروم، زامران، دشت، کلبر اور سیاجی جیسے کٹھن محاذوں پر گراں قدر جنگی اور دیگر تنظیمی خدمات سرانجام دیں۔ وہ ایک انتہائی محنتی، جفاکش، مہربان اور نڈر سرمچار تھے، جنہوں نے اپنی تکنیکی و عسکری مہارت سے کیمپ اور تنظیم کے لیے کئی اہم دفاعی و جنگی وسائل خود تیار کیے۔ 21 جون 2026 کو شہید کپٹن ہاشم اپنے دستے کے ہمراہ کیمپ سے تنظیمی مشن اور گشت پر روانہ ہوئے تھے۔ اسی دن دوپہر 1 بجے بلیدہ اور تربت کے درمیان گروک روڈ پر قابض پاکستانی فوج نے ان پر ڈرون حملہ کیا، جس کے نتیجے میں کیپٹن ہاشم شہید ہو گئے۔ بی ایل ایف شہید کپٹن ہاشم عرف کمبر ولد ناصر، سکنہ میناز بلیدہ کو اس کی شہادت پر خراج عقیدت اور سلام پیش کرتی ہے۔ اس عظیم بہادر قومی فرزند کی قربانیاں تحریک کا لازوال اثاثہ ہیں۔ ہم ان کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے آزادی کی منزل تک جنگ جاری رکھنے کا عہد کرتے ہیں۔ شہید عبدالرحیم بھی 21 جون 2026 کو بلیدہ اور تربت کے درمیان گروک روڈ کے مقام پر قابض فوج کے ڈرون حملے کا نشانہ بن کر اپنے ساتھی کمانڈر کیپٹن ہاشم کے ہمراہ جامِ شہادت نوش کر گئے۔ شہید عبدالرحیم نے ستمبر 2024 میں بلوچستان لبریشن فرنٹ کے فلیٹ فارم سے اپنے جدوجہد کا آغاز کیا۔ باقاعدہ پہاڑی محاذ پر منتقل ہونے سے قبل 6 ماہ تک وہ شہری و علاقائی نیٹ ورک میں تنظیمی امور سرانجام دیتا رہا، بالخصوص فکری و سیاسی کام میں کلیدی کردار ادا کیا۔ اس متحرک تنظیمی کام کے بعد، وہ باقاعدہ پہاڑی محاذ پر منتقل ہوئے۔ وہ اپنی بے پناہ فکری و عسکری صلاحیتوں کی بدولت تنظیم میں نمایاں مقام پر فائز تھے۔ وہ بلیدہ، زامران، پروم اور بالگتر جیسے کٹھن محاذوں پر گوریلا جنگ کا وسیع تجربہ رکھتے تھے اور ہمیشہ فیلڈ میں متحرک رہے۔ وہ ایک انتہائی محنتی، جفاکش، شفیق، نڈر، فکری اور نظریاتی طور پر پختہ سرمچار تھے، جنہوں نے اپنے اعلیٰ سیاسی شعور اور جنگی مہارت کی بدولت تحریک کو فکری و عسکری، دونوں محاذوں پر جلا بخشی۔ بی ایل ایف اپنے اس مخلص اور نظریاتی سنگت شہید عبدالرحیم عرف استاد عمران ولد محمد عمر، سکنہ میناز بلیدہ کی شہادت پر انہیں سلام عویدت پیش کرتی ہے۔ ان کی قربانی قومی تحریک کا ایک عظیم سرمایہ ہے۔ تنظیم ان کے مشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کے عزم کا اعادہ کرتی ہے۔ شہید شعیب زہری 17 مئی 2026 کو خضدار میں دشمن کے خلاف ایک کارروائی کے دوران بہادری سے لڑتے ہوئے جامِ شہادت نوش کر گئے۔

Martyr Commander Abdull Raziq Baloch "Also Known as" Sangat Bahrag Jan Unit : QURBAN UNIT #BalochMartyrs - #RaziqJan
Martyr Commander Abdull Raziq Baloch "Also Known as" Sangat Bahrag Jan Unit : QURBAN UNIT #BalochMartyrs - #RaziqJan

دشت: بلنگور میں قائم پاکستانی فوج کے کیمپ پر مسلح افراد کا حملہ، اس دوران شدید فائرنگ و دھماکوں کی آواز سنائی گئی ہے۔

Asshob Statement English BLF June2026 00078 Page 2.jpg1.18 MB

Asshob Statement English BLF June2026 00078 Page 1.jpg1.55 MB

The Baloch nation today stands resolute on every front for its rights, its land, and the survival of its existence. The eternal sacrifices of mothers, sisters, and youth, this prolonged intellectual and political resistance, and this patience-testing historical struggle are a clear proclamation that no expediency, no puppet government, and no oppressive verdict can push us back. Our destination is neither this rubber-stamp parliament, nor this colonial constitution, nor justice from this captive judiciary, our destination is a free and sovereign Balochistan and we shall achieve it. Dr. Allah Nazar Baloch Supreme Commander, Balochistan Liberation Front 24 June 2026 Ref. No. BLF/June2026/00078

Pakistan is an unnatural state, the legislature, executive, and judiciary are all hostages of GHQ's dictators- Dr. Allah Nazar Baloch Sentencing the leadership of the Baloch Yakjehti Committee, Dr. Mahrang Baloch, Shah Ji Sibghatullah Baloch, and the ideological leaders of the Baloch Students Organization (BSO), to imprisonment and life sentences under serious charges through a sham faceless trial, in flagrant violation of established legal standards and principles, is in reality an open admission of the Pakistani establishment's political bankruptcy, fascist character, and colonial mentality. This vengeful and oppressive verdict places a seal of confirmation on our long-held and principled political position that all pillars of this unnatural state, whether the judiciary, the legislature, or the executive, operate behind the scenes at the directives of the military elite's faceless forces. For those who still, while operating within this colonial structure, continue to sing the praises of fake democracy, a captive judiciary, and the sanctity of a worthless constitution, the recent sentences handed down to peaceful public and student leadership should be more than sufficient to dispel their intellectual bankruptcy, wishful thinking, and political blindness. Pakistan is not a constitutional state, and its establishment is a military mafia, who in order to suppress the voices and rights of subjugated nations, is wielding purchased political pawns, parliamentary merchants, and conscienceless hired judges as weapons. On one hand, the occupying Pakistani army is on a daily basis forcibly disappearing Baloch youth, intellectuals, and political activists, and dumping their mutilated bodies, and on the other hand, political and human rights leadership is being subjected to imprisonment and incarceration. The silence and opportunistic complicity of the so-called political agents sitting in parliament over this systematic Baloch genocide and rights violations proves that they are facilitators and equal partners of the occupying state in this historical oppression. Despite all the state obstacles and propaganda, the Baloch Yakjehti Committee has always, while remaining within peaceful, public, and political spheres has exposed the true face of this tyrannical system before the world. But for an authoritarian and fascist state, even this peaceful intellectual and political struggle of the oppressed has become intolerable. The question that now arises is, can any conscious and principled Baloch still harbour the illusion that the state of Pakistan is anything other than a bloodthirsty murderer? Is it not as clear as daylight that these faceless creatures dance their nurtured puppets daily in exchange for a few scraps? The endorsement and praise for this recent judicial verdict rendered at the behest of the military, has come only from those elements whose own hands are stained with the blood of the Baloch people. Among them, on one side, stands the puppet Chief Minister of Balochistan, who is the ringleader of the notorious state-backed death squads operating in Sui, Dera Bugti, and Mach. And on the other side stand those former caretaker pawns who have sunk to such depths of political and moral degradation that they willingly abandon even the right to defend their own mothers' honour at press conferences, all to please their military masters, and proudly count this surrender as proof of their loyalty to the state. For conscienceless, and opportunistic pawns like these, serving the occupying army, licking its boots, and submitting to its commands is their sole means of livelihood and political survival. But history bears witness that the Baloch nation, armed with consciousness, has rejected this colonial domination and forced annexation from the very first day, from British colonialism to the current military occupation. Let the state remember, lashes, prisons, faceless trials, and gallows can never stop the ideological and political journey of nations.

Asshob Statement Urdu BLF June2026 00078 Page 2.jpg1.13 MB

Asshob Statement Urdu BLF June2026 00078 Page 1.jpg1.43 MB

پاکستان ایک غیر فطری ریاست ہے، مقننہ، انتظامیہ اور عدلیہ سب جی ایچ کیو (GHQ) کے نقاب پوش آمروں کے یرغمالی ہیں: ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ بلوچ یکجہتی کمیٹی کی صفِ اول کی قیادت ڈاکٹر مہرنگ بلوچ، شاہ جی صبغت اللہ بلوچ اور بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (BSO) کے فکری رہنمائوں کو مسلمہ قانونی معیارات و اصولوں کے برعکس ایک فیس لیس (faceless ) ٹرائل کا ڈھونگ رچاکر سنگین الزامات کے تحت قید و بند اور عمر قید کی سزائیں سنانا، دراصل پاکستانی مقتدرہ کے سیاسی دیوالیہ پن، فاشسٹ چہرے اور نوآبادیاتی ذہنیت کا کھلا اعتراف ہے۔ یہ انتقامی اور ظالمانہ فیصلہ ہمارے اس دیرینہ اور اصولی سیاسی موقف پر مہرِ تصدیق ثبت کرتا ہے کہ اس غیر فطری ریاست کے تمام ستون خواہ وہ عدلیہ ہو، مقننہ ہو یا انتظامیہ، سب پسِ پردہ عسکری اشرافیہ کے فیس لیس قوتوں کے اشاروں پر چلتی ہیں۔ جو عناصر اب بھی اس استعماری ڈھانچے کے اندر رہ کر جعلی جمہوریت، مقید عدلیہ اور بے وقعت آئین کی تقدس کا راگ الاپتے ہیں، پرامن عوامی و طالبعلم قیادت کو دی جانے والی یہ حالیہ سزائیں ان کی فکری دیوالیہ پن، سیاسی خوش فہمی اور سیاسی اندھے پن کو دور کرنے کے لیے کافی ہونی چاہئیں۔ پاکستان کوئی آئینی ریاست نہیں، اور اس کا مقتدرہ چند عسکری غاصبوں کا ایک مافیا ہے، جو محکوم اور مظلوم قوموں کی آوازِ حق کو دبانے کے لیے زرخرید سیاسی مہروں، پارلیمانی دکانداروں اور ضمیر فروش کرائے کے منصفوں کو بطور ہتھیار استعمال کر رہا ہے۔ ایک طرف قابض پاکستانی فوج روزانہ کی بنیاد پر بلوچ نوجوانوں، دانشوروں اور سیاسی کارکنوں کو جبری طور پر لاپتہ کر کے ان کی مسخ شدہ لاشیں گرا رہی ہے، اور دوسری طرف جو سیاسی اور انسانی حقوق کی قیادت کو قید و بند کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اس منظم بلوچ نسل کشی اور حقوق کی پامالی پر پارلیمان میں بیٹھے نام نہاد سیاسی گماشتوں کی مجرمانہ خاموشی اور مصلحت پسندی یہ ثابت کرتی ہے کہ وہ اس تاریخی جبر میں قابض ریاست کے سہولت کار اور برابر کے حصے دار ہیں۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی نے ہمیشہ پرامن، عوامی اور سیاسی دائروں میں رہ کر، تمام تر ریاستی رکاوٹوں اور پروپیگنڈے کے باوجود، اس استبدادی نظام کا اصل چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب کیا ہے۔ لیکن ایک آمرانہ اور فاشسٹ ریاست کے لیے مظلوموں کی یہ پرامن فکری اور سیاسی جدوجہد بھی ناقابلِ برداشت ہو چکی ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اب بھی کوئی ذی شعور اور باضمیر بلوچ اس مغالطے میں رہ سکتا ہے کہ ریاستِ پاکستان ایک خونخوار جلاد کے سوا کچھ اور ہے؟ کیا یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں نہیں کہ یہ فیس لیس مخلوق کٹھ پتلی حکمرانوں کو محض چند ٹکڑوں کے عوض روز نچاتی ہے؟ عسکری ایما پر کیے گئے عدلیہ کے اس حالیہ فیصلے کی تائید اور ستائش صرف ان عناصر کی طرف سے سامنے آئی ہے جن کا اپنا دامن بلوچ عوام کے خون سے داغدار ہے۔ ان میں ایک طرف بلوچستان کا کٹھ پتلی وزیر اعلیٰ شامل ہے جو سوئی، ڈیرہ بگٹی اور مچھ میں ریاستی پشت پناہی میں چلنے والے بدنامِ زمانہ ڈیتھ اسکواڈز کا سرغنہ ہے، تو دوسری طرف وہ سابقہ نگران کارندے ہیں جن کی سیاسی و اخلاقی گراوٹ کا یہ عالم ہے کہ وہ اپنے عسکری آقاؤں کی خوشنودی کے لیے پریس کانفرنسوں میں اپنی ماؤں کی توہین پر بھی مزاحمت کے حق سے دستبردار ہونے کو ریاست سے اپنی وفاداری کا معیار سمجھتے ہیں۔ ان جیسے بے ضمیر، زرخرید اور ابن الوقت مہروں کے لیے غاصب فوج کی چاکری، بوٹ چاٹنا اور تابعداری کرنا ہی ان کا واحد ذریعۂ معاش اور سیاسی بقا ہے۔ لیکن تاریخ گواہ ہے کہ شعور سے لیس بلوچ قوم نے برطانوی استعمار سے لے کر موجودہ عسکری قبضے کے پہلے دن سے اس نوآبادیاتی تسلط اور جبری الحاق کو یکسر مسترد کیا ہے۔ ریاست یاد رکھے کہ کوڑے، جیل، فیس لیس ٹرائل اور پھانسیاں کبھی قوموں کے نظریاتی اور سیاسی سفر کو نہیں روک سکتیں۔ بلوچ قوم آج اپنے حقوق، اپنی زمین اور اپنے وجود کی بقا کے لیے ہر محاذ پر سینہ سپر ہے۔ ماؤں، بہنوں اور نوجوانوں کی یہ لازوال قربانیاں، طویل فکری و سیاسی مزاحمت اور یہ صبر آزما تاریخی جدوجہد اس بات کا واضح اعلان ہے کہ اب کوئی مصلحت، کوئی کٹھ پتلی حکومت اور کوئی جابرانہ فیصلہ ہمیں پیچھے نہیں دھکیل سکتا۔ ہماری منزل نہ یہ ربڑ اسٹمپ پارلیمان ہے، نہ یہ نوآبادیاتی آئین اور نہ ہی اس مقید عدلیہ سے انصاف، ہماری منزل صرف اور صرف ایک آزاد، خودمختار اور غصب شدہ حقوق سے پاک بلوچستان ہے، اور ہم اسے حاصل کر کے رہیں گے۔ ڈاکٹر اللّہ نذر بلوچ سپریم کمانڈر، بلوچستان لبریشن فرنٹ 24 جون 2026 Ref. No. BLF/June2026/00078

مستونگ کے علاقے دشت سہہ پشت میں گزشتہ روز صبح 7 بجے کے قریب مسلح افراد نے پاکستانی فورسز کے ناکے کو حملے کا نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں فورسز کو جانی و مالی نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔ #بلوچستان

Weapons.jpg6.87 KB

Asshob Statement Urdu BLF June2026 00077 Page 2.jpg1.18 MB