Sobain|سوبین بلوچ
Open in Telegram
Freelance journalist from war zone Balochistan
Show moreThe country is not specifiedThe category is not specified
249
Subscribers
+224 hours
+77 days
+2030 days
Data loading in progress...
Similar Channels
No data
Any problems? Please refresh the page or contact our support manager.
Tags Cloud
No data
Any problems? Please refresh the page or contact our support manager.
Incoming and Outgoing Mentions
---
---
---
---
---
---
Attracting Subscribers
September '26
September '26
+11
in 2 channels
August '26
+27
in 2 channels
Get PRO
July '26
+104
in 3 channels
Get PRO
June '260
in 2 channels
Get PRO
May '26
+141
in 2 channels
Get PRO
April '260
in 2 channels
Get PRO
March '26
+2
in 4 channels
| Date | Subscriber Growth | Mentions | Channels | |
| 08 September | 0 | |||
| 07 September | +2 | |||
| 06 September | 0 | |||
| 05 September | 0 | |||
| 04 September | +4 | |||
| 03 September | +1 | |||
| 02 September | +1 | |||
| 01 September | +3 |
Channel Posts
چاغی: کل رات مسلح افراد نے چاغی کے علاقے پدگ میں راسکوہ ایٹمی سائٹ کے فائبر آپٹکس کے اسٹیشن کو جلادیا۔
| 2 | https://x.com/sobainbalu?s=11 | 256 |
| 3 | No text... | 277 |
| 4 | خضدار کے علاقے گونِکُو سے چند روز قبل مسلح افراد نے سمیع اللہ نامی شخص کو گرفتار کرکے اپنے ساتھ لے گئے تھے۔ آج دوپہر اس کی لاش گونِکُو سے ملی، جسے گولیاں مار کر ہلاک کیا گیا ہے۔
مذکورہ شخص کا تعلق ریاستی حمایت یافتہ ایک مسلح گروہ سے بتایا جاتا ہے، جو علاقے میں چوری، ڈکیتی، اغوا برائے تاوان اور نوجوانوں کی جبری گمشدگی جیسے واقعات میں ملوث رہا ہے۔ | 280 |
| 5 | پنجابی بدتہذیب قبضہ گیر
کوہ زاد بلوچ
بلوچستان میں بلوچ قوم اپنی آزادی کی تحریک لڑ رہا ہے اور قابض پنجابی فوج اپنے جبری قبضے کو جاری رکھنے کی جنگ میں مصروف ہے۔ اب یہ دو قوموں تو دو تہذیبوں کی ایک دوسرے کے خلاف جنگ ہے پچھلے 78 سالوں سے جاری اس جنگ میں بے شمار موڑ آئے بلوچ نے کئی دفعہ پنجابی قبضہ گیر کو میدانِ جنگ میں شکست دی اور دشمن فوج کے بے شمار فوجی ہلاک کئے۔
مگر کبھی بھی دشمن فوج کے لاشوں کی بے حُرمتی نہیں کی اور تاریخ گواہ ہے کہ پنجابی فوج کو جب بھی موقع ملا اُس نے کبھی بھی کوئی موقع ضائع نہیں کیا ہر دفعہ لاشوں کی بے حُرمتی کی اور اپنے غیر انسانی وحشی ہونے کا ثبوت دیا۔
اسی طرح آج کے روز بھی مستونگ میں لاشوں کو سڑک کنارے پھینک کر پنجابی فوج نے در اصل اپنے بدتہذیب ہونے کا ثبوت دیا خیر ہم بلوچ تو پنجابی جیسے بدتہذیب سے اس سے بھی زیادہ وحشی پن ہونے کے امید کے ساتھ جی رہے ہیں لیکن آج کے لاشوں کا اس طرح پھینکنا نہ صرف پنجابی استعمار کی تہذیب کا موت ہے بلکہ۔
چند دن پہلے پشتونوں کے دھرنا میں رکھے ہوئے لاشوں کو دفنانے کی بات کرنے والا مُلا کے مذہبیت کا بھی موت ہے جو بار بار یہ بول رہا تھا کہ لاشوں کو اس طرح رکھنا نہیں چائیے مگر وہی مُلا آج پنجابی استعمار کے ہاتھوں سڑک کنارے پھینکے گئے لاشوں پر آج خاموش ہے۔
یہ آج ان لوگوں کا موت ہے جو انسانیت دوستی کا دعوی کرتے ہیں اُنکے انسانیت پسندی کا موت ہے۔
آج یہ ایک سماج کا موت ہے جہاں جو اسلام کے نام پر بڑے بڑے دعوی تو کرتا ہے مگر پنجابی قبضہ گیر کے سفاکیت پر خاموش ہے۔
آج یہ اُس صحافی کے صحافتی قلم کا موت ہے جو صحافی ہونے کا دعوی کرتا ہے مگر آج خاموش رہا۔
آج یہ اُس ٹیچر کے ٹیچری کا موت ہے جو اسکولوں میں بچوں کو چھ ستمبر کے نام نہاد جھوٹے تاریخ کے بارے میں بتاتے رہے لیکن پنجابی قبضہ گیر کے ہاتھوں چھ لاشوں کی بے حُرمتی کے بارے میں سب نے منہ پر تالے لگا لئے۔
پنجابی قبضہ گیر سمجھتا ہے کہ اس طرح کے حرکتوں سے بلوچ تحریکِ آزادی کے سُرخیل رہنماؤں کے فکری فلسفے کو ختم کرے گا۔
مگر آج سڑک کنارے وطن زادوں کی لاشوں کو اس طرح گرے ہوئے دیکھ کر بلوچ نوجوان اپنی سانسوں میں بھی پروفیسر صباء دشتیاری کے (میں بولوں گا ہاں میں بولوں گا)
بابا خیر بخش مری کے (پاکستان کے سات رہنا کُفر ہے )
شہید زبیر بلوچ کے(پنجابی استعمار مردہ بعد)
شہید واجہ غلام محمد کے (بلوچ سرمچار تمہیں شکست دیں گے)
شہید سنگت ثناء بلوچ کے (اواری ء اواری ء آزادی اِسکان اواری ء) جیسے فکری فلسفے کو محسوس کر رہے تھے۔
اور یہی فکری فلسفہ تُم پر قہر بنے گا اور تمہیں بتائے گا کہ جنگ کیا ہوتی ہے جیسے کہ شہید اُستاد اسلم بلوچ نے کہا تھا کہ یہ جنگ ہم سے زیادہ پنجابی کے ہاتھ میں ہے اب یہ پنجابی کے ہاتھ میں ہے کہ وہ اس جنگ کو کہاں لیجانا چاہتا ہے وہ جتنا غلط قدم اُٹھائے گا ہم بھی جنگ میان اتنا شدت لائیں گے۔
استعماریت پر لکھنے والے فرانز فینن ایڈورڈ سعید اور نگوگی بھی اگر آج زندہ ہوتے تو وہ بھی پنجابی قبضہ گیر کے اس طرح بدتہذیبی کو دیکھ کر محسوس کرتے کہ ہم نے اب تک استعماریت پے کچھ نہیں لکھا ہے اور کانپ جاتے۔ | 95 |
| 6 | +1 IMG_4527.PNG | 89 |
| 7 | بریکنگ نیوز
ھاران کے علاقے گْواش میں ھاران یکمچ سی پیک لنک روڈ پر مسلح افراد کی ناکہ بندی
اطلاعات کے مطابق مسلح افراد نے نوتان کمپنی کے ایک لوکل کوچ کو بھی اپنی تحویل میں لیا ہے جو ھاران سے ھُرماگے جارہا تھا۔ | 317 |
| 8 | خاران کے علاقے گْواش میں سی پیک لنک روڈ پر بلوچ سرمچاروں کہ ناکہ بندی
العزیز کمپنی کے ایک بس کو بھی تحویل میں لینے کی اطلاع
یاد رہے چار دن پہلے مزکورہ بس پر اس وقت حملہ ہوا تھا جب وہ ایف سی اہلکاروں کو قافلے کی صورت میں لیجارہا تھا. | 1 |
| 9 | بریکنگ نیوز
گزشتہ روز خضدار کے علاقے نوغے مغلی کراس کے مقام پر بلوچ آزادی پسندوں کی ناکہ بندی
کمک کے لیے آنے والے فورسز کے قافلے پر حملہ، ایک گاڑی ناکارہ جبکہ بڑے پیمانے پر ہلاکتوں کی اطلاعات
#بلوچستان | 384 |
| 10 | اس مربوط کارروائی کی ذمہ داری ہماری تنظیم بی آر جی قبول کرتی ہے اور ہمارے اس طرح کی حملے بلوچستان کی مکمل آزادی تک جاری رہیں گے۔
دوستین بلوچ
ترجمان بلوچ ریپبلکن گارڈز | 465 |
| 11 | بھاگ شہر پر سرمچاروں کا کنٹرول، قابض فوج کے 5 اہلکار ہلاک، متعدد سرکاری عمارتوں پر قبضہ، اسلحہ ضبط - بی آر جی
4 ستمبر 2026
آج صبح 5 بجے کے وقت بلوچ ریپبلکن گارڈز کے سرمچاروں نے ایک مربوط کارروائی کرتے ہوئے بلوچستان کے ضلع کچھی کے علاقے بھاگ شہر پر کنٹرول حاصل کر کے قابض پاکستانی فورسز کے کیمپ کو چاروں طرف سے گھیرے میں لے کر جھوٹے اور بڑے ہتھیاروں سے شدید حملے کا نشانہ بنایا۔ اس حملے کے نتیجے میں قابض دشمن کے 5 اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے جبکہ سرمچاروں نے دشمن کے دو کواڈ کاپٹر بھی مار گرائے۔
بی آر جی کے سرمچاروں نے سٹی پولیس تھانے پر بھی حملہ کر کے نشانہ بنایا۔ اس حملے کے نتیجے میں پولیس کو جانی اور مالی نقصان پہنچا۔ سرمچاروں نے صدر تھانہ، نادرہ آفس، اسسٹنٹ کمشنر آفس، نیشنل بینک، اور متعدد سرکاری عمارتوں پر قبضہ کر کے نذرآتش کردیا جبکہ وہاں موجود تمام سازو سامان کو ضبط کیا۔
اس حملے سے خوفزدہ ہوکر بزدل فوج نے عام آبادی پر فائرنگ کر کے لوگوں کو زخمی کیا۔ آپریشن مکمل ہونے کے بعد ہمارے سرمچار باحفاظت نکل کر اپنے محفوظ ٹھکانوں پر پہنچ گئے۔ | 446 |
| 12 | بریکنگ نیوز
مستونگ کے علاقے کھڈکوچہ میں فوجی آپریشن اور شدید جھڑپوں کی اطلاعات، ہیلی کاپٹروں کے ذریعے کمانڈوز کو علاقے میں اتارے جانے کی بھی اطلاعات
مزید تفصیلات آنا باقی ہے ۔۔
#بلوچستان | 399 |
| 13 | Ambush at Ziarat Cross: Fateh Squad Decimates Occupying Convoy
COMING SOON
Download:
https://www.mediafire.com/file/fgqr9s5axwpkphz/Ziarat+Final.mp4/file
https://archive.org/details/ziarat-final | 440 |
| 14 | بلوچستان لبریشن فرنٹ کے زیرِ اہتمام، آشوب پبلیکیشنز کی طرف سے ماہنامہ اسپر میگزین کا چوبیسواں شمارہ ستمبر 2026 شائع ہوچکا ہے۔ | 516 |
| 15 | The 7th edition of the quarterly magazine Sarmachar (June – August 2026) has been released by Aashob Publications of the Balochistan Liberation Front. | 146 |
| 16 | بریکنگ نیوز
کولواہ کنیچی اور اوٹان کے درمیان فوجی کانوائے اور انکی سیکورٹی پر مامور پیدل اہلکاروں پر شدید نوعیت کا حملہ | 475 |
| 17 | Sarmachar Magazine June to August 2026.jpg | 490 |
| 18 | The 7th edition of the quarterly magazine Sarmachar (June–August 2026) is set to be published by Aashob Publications of the Balochistan Liberation Front. It opens with an editorial titled “Bombardment on Civilians: Evidence of the Occupying State’s Vulnerability and Defeat.”
The magazine also features informative and critical articles by different writers concerning Balochistan and the national struggle. As per organizational policy, the quarterly report and infographic of BLF armed activities (June–August 2026), along with photographs of martyrs, are also included in the magazine. | 459 |
| 19 | بلوچستان لبریشن فرنٹ کے زیرِ اہتمام، آشوب پبلیکیشنز کی طرف سے ماہنامہ اسپر میگزین کا چوبیسواں شمارہ ستمبر 2026 کا اجرا کیا جا رہا ہے۔
حسبِ روایت میگزین کا آغاز اداریہ سے ہوتا ہے جو سوراب میں قابض ریاست کی عام آبادیوں پر بمباری کی تناظر میں تحریر کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ بلوچ، بلوچستان اور قومی جنگِ آزادی کے پس منظر میں لکھے گئے مختلف مضامین بلوچی، براہوئی اور اردو میں اس شمارے کا حصہ ہیں۔
ادارتی پالیسی کے تحت میگزین کے آخر میں بی ایل ایف کی ماہِ اگست کی آپریشنل رپورٹ، انفوگرافکس اور شہید ہونے والے سرمچاروں کی تصاویر شامل ہیں۔ | 374 |
| 20 | https://x.com/sobainblch/status/2094790347473965360?s=52 | 387 |
