en
Feedback
Sobain|سوبین بلوچ

Sobain|سوبین بلوچ

Open in Telegram

Freelance journalist from war zone Balochistan

Show more
The country is not specifiedThe category is not specified
258
Subscribers
+224 hours
+87 days
+2430 days
Posts Archive
بارکھان: پاکستانی فوج کا ایک گاڑی پر فائرنگ سے ایک ہی خاندان کے ایک درجن افراد جاںبحق https://urdu.zrumbesh.com/26024/ بلوچستان کے ضلع بارکھان کے علاقے لہمہ زرین ناہڑ کوٹ روڈ میں پاکستانی فوج کی کارروائی کے دوران خواتین اور بچوں سمیت متعدد افراد کے ہلاک اور زخمی ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ علاقائی ذرائع کے مطابق واقعہ اس وقت پیش آیا جب مری قبیلے سے تعلق رکھنے والا ایک خانہ بدوش خاندان موسمی نقل مکانی کے دوران ایک گاڑی میں سفر کر رہا تھا۔ اسی دوران پاکستانی فورسز کی جانب سے فائرنگ اور بمباری کی گئی، جس کے نتیجے میں ایک ہی خاندان کے ایک درجن سے زائد افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں بعض کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ بعض زخمیوں کے بارے میں یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ وہ سیکیورٹی فورسز کی تحویل میں ہیں، تاہم اس حوالے سے کوئی باضابطہ تصدیق موجود نہیں۔ اطلاعات میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ واقعے کے بعد ایک گاڑی میں موجود افراد کی لاشوں کو آگ لگنے کا واقعہ پیش آیا ہے۔

IBO in Panjpai Quetta.jpg3.68 MB

An urban unit of BLF in an IBO in Panjpai Quetta on April 11, 2026, arrested police personnel involved in extortion from driv
An urban unit of BLF in an IBO in Panjpai Quetta on April 11, 2026, arrested police personnel involved in extortion from drivers, their official weapons and vehicle were seized.

Chagai Road Blockades Weapons Seized.jpg3.79 MB

BLF conducted roadblockade and seized two police posts and their official weapons in the Aminabad and Karoduk area of Chagai
BLF conducted roadblockade and seized two police posts and their official weapons in the Aminabad and Karoduk area of Chagai on April 12, 2026.

Ashoob Statement Pad English 02.jpg4.32 MB

8 military personnel killed in eight separate operations, several wounded, police weapons and vehicle seized in Quetta and Chagai, mobile tower set ablaze: Major Gwahram Baloch   The fighters of the Balochistan Liberation Front ambushed a convoy of 8 vehicles of the occupying Pakistani army in the Ahori area of Awaran. Our fighters simultaneously targeted the front and last vehicles of the convoy with rocket launchers, sniper rifles, and automatic heavy weapons to reduce the enemy's movement. In this coordinated attack, 3 enemy vehicles were distroyed, resulting in 5 military personnel killed on the spot and 4 seriously wounded.   On April 11, 2026, our fighters targeted a Frontier Corps (FC) Bomb Disposal Squad team at the Kuncheti Cross area of Dasht,  with a remote-controlled IED. The front section of their vehicle was completely destroyed, killing all 3 onboard military personnel on the spot.   On the same day, April 11, 2026, the BLF's urban guerrilla unit conducted an operation based on verified intelligence in the Shadeni area of the Punjpai Quetta. Three personnel of  police in plainclothes had set up a checkpoint on the highway and were extorting money from local drivers. Our urban guerrilla unit taking action on intelligence report, surrounded, and apprehended the personnel engaged in extortion. Their official weapons and vehicle were confiscated.  On the bases of being local Baloch and Pashtun, the organization released them on humanitarian grounds after issuing a strict warning.   On April 12, 2026, our fighters carried out an organized operation, by attacking and taking full control of a police post in the Aminabad area of Chagai. All official weapons and other military equipment present at the post were seized.   On the same day on April 12, 2026, BLF's fighters also targeted a police post in the Karoduk area of Chagai, took control of it, and seized official weapons from the post.   As a continuation of this operation, our fighters imposed a strict blockade for an hour on the main highway in the area. During the blockade, full military control was maintained over the highway and snap-checking was conducted to prevent any possible enemy movement. After achieving their strategic objectives, our fighters departed safely to their bases with the seized weapons.   On the previous day, April 11, 2026, BLF's  fighters targeted a mobile tower in the Takhda area of Barkhan. Our fighters damaged the tower's equipment and subsequently set fire to the tower's main control room and machinery. This tower was not only a means of enemy communication but was also being used to spy on the local population.   On April 8, 2026, our fighters attacked a mobile tower in the Kotu area of Jhao. The tower's machinery and generator room were set on fire and completely destroyed. The state is attempting to monitor the fighters' movements through these towers, but we have foiled all such enemy tactics.   Previously, on March 15 of last month, our fighters had destroyed the machinery of a mobile tower in the Parwar Badhdo area of Mashkay by setting it ablaze. Sensitive parts of the tower were targeted to completely cut off the enemy's communication network in this difficult terrain.   The Balochistan Liberation Front claims responsibility for all these operations carried out in Awaran, Dasht, Chagai, Quetta, Barkhan, Jhao, and Mashkay. In total, 8 personnel of the occupying forces were killed and several wounded across these operations. The bomb disposal squad vehicle was destroyed, weapons and a vehicle were seized from police officers in Quetta and Chagai. Bockades were imposed in various areas and the enemy's communication and surveillance infrastructure was destroyed. We make it clear that we have our eyes on every movement of the enemy on the highways and streets of occupied Balochistan, and we have full capacity to strike anywhere, at any time.   Major Gwahram Baloch Spokesperson, Balochistan Liberation Front 12 April 2026 Ref. No. BLF/Apr2026/00050

Ashoob Statement Pad Urdu 02.jpg4.09 MB

Ashoob Statement Pad Urdu 01.jpg5.24 MB

آٹھ مختلف کارروائیوں میں پاکستانی فوج کے 8 اہلکار ہلاک، متعدد زخمی، کوئٹہ اور چاغی میں پولیس اہلکاروں سے اسلحہ و گاڑی ضبط، موبائل ٹاور نذرِ آتش: میجر گہرام بلوچ   بلوچستان لبریشن فرنٹ کے سرمچاروں نے 11 اپریل 2026 کو آواران کے علاقے آھوری میں قابض پاکستانی فوج کے 8 گاڑیوں پر مشتمل قافلے کو گھات لگا کر نشانہ بنایا۔ سرمچاروں نے راکٹ لانچرز، اسنائپر رائفلز اور خودکار بھاری ہتھیاروں سے قافلے کی اگلی اور پچھلی گاڑیوں کو بیک وقت نشانہ بنایا تاکہ دشمن کی نقل و حرکت کو روکا جا سکے۔ اس مربوط حملے میں دشمن کی 3 گاڑیاں ناکارہ بنا دی گئیں، جس کے باعث 5 فوجی اہلکار موقع پر ہلاک اور 4 شدید زخمی ہو گئے۔   بی ایل ایف کے سرمچاروں نے 11 اپریل 2026 کو کیچ کے علاقے دشت میں کنچتی کراس کے مقام پر فرنٹئر کور (ایف سی) کے بم ڈسپوزل اسکواڈ کی ٹیم کو ریموٹ کنٹرول آئی ای ڈی  بم (IED) دھماکے میں نشانہ بنایا۔ اس کارروائی کے نتیجے میں بم ڈسپوزل اسکواڈ کی گاڑی کا اگلا حصہ مکمل طور پر تباہ ہو گیا، جس کے نتیجے میں گاڑی میں سوار 3 فوجی اہلکار موقع پر ہی ہلاک ہو گئے۔   اسی روز 11 اپریل 2026 کو بی ایل ایف کے شہری گوریلہ دستے نے کوئٹہ کے علاقے پنجپائی میں شادینی کے مقام پر مصدقہ انٹیلی جنس اطلاعات پر آپریشن کیا۔ سادہ وردی میں ملبوس پولیس فورس کے تین اہلکار شاہراہ پر ناکہ لگا کر مقامی ڈرائیوروں سے جبری بھتہ وصول کر رہے تھے۔ تنظیم کے شہری گوریلہ دستے نے کارروائی کرتے ہوئے بھتہ خوری میں مصروف ان اہلکاروں کو گھیرے میں لے کر گرفتار کر لیا۔ تلاشی کے دوران ان کے قبضے سے سرکاری اسلحہ اور گاڑی قبضے میں لے کر ضبط کر لی گئی۔ بعد ازاں، مقامی بلوچ اور پشتون ہونے کی وجہ سے تنظیم نے انہیں انسانی ہمدردی کے پیشِ نظر سخت تنبیہ کے بعد رہا کر دیا۔   سرمچاروں نے 12 اپریل 2026 کو ایک منظم کارروائی کے دوران چاغی کے علاقے امین آباد میں قائم پولیس چوکی پر حملہ کرکے اس پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا۔ قبضے کے بعد چوکی میں موجود تمام سرکاری اسلحہ اور دیگر عسکری ساز و سامان اپنے قبضے میں لے لیا۔   سرمچاروں نے 12 اپریل 2026 کو چاغی ہی کے علاقے کرودُک میں قائم پولیس چوکی کو نشانہ بنایا۔ سرمچارروں نے  چوکی پر حملہ کر کے اسے اپنے کنٹرول میں لے لیا اور وہاں موجود سرکاری اسلحہ ضبط کر لیا۔   اس کارروائی کے تسلسل میں ہمارے سرمچاروں نے علاقے سے گزرنے والی مین شاہراہ پر ایک گھنٹے تک سخت ناکہ بندی کی۔ ناکہ بندی کے دوران شاہراہ پر مکمل عسکری کنٹرول برقرار رکھ کر دشمن کی کسی بھی ممکنہ نقل و حرکت کو روکنے کے لیے اسنیپ چیکنگ کی۔ تزویراتی مقاصد کے حصول کے بعد سرمچار ضبط شدہ اسلحہ سمیت باحفاظت اپنے ٹھکانوں کی جانب روانہ ہو گئے۔   گزشتہ روز 11 اپریل 2026 کو سرمچاروں نے بارکھان کے علاقے تکھڑا میں قائم ایک موبائل ٹاور کو نشانہ بنایا۔ سرمچاروں نے ٹاور کے آلات کو فائرنگ کر کے ناکارہ بنایا اور بعد ازاں ٹاور کے مین کنٹرول روم اور مشینری کو نذرِ آتش کر دیا۔ یہ ٹاور نہ صرف دشمن کے مواصلاتی رابطوں کا ذریعہ تھا بلکہ اسے مقامی آبادی کی جاسوسی کے لیے بھی استعمال کیا جا رہا تھا، جسے سرمچاروں نے مکمل طور پر تباہ کر دیا۔   سرمچاروں نے 8 اپریل 2026 کو جھاؤ کے علاقے کوٹو میں موبائل ٹاور پر حملہ کیا۔ ٹاور کی مشینری اور جنریٹر روم کو آگ لگا کر اسے مکمل طور پر تباہ کر دیا۔ دشمن ان ٹاورز کے ذریعے سرمچاروں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کی ناکام کوششیں کر رہا ہے، لیکن ہم دشمن کے ایسے تمام حربوں کو ناکام بنانے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔   قبل ازیں، گزشتہ ماہ 15 مارچ کو سرمچاروں نے مشکے کے علاقے پروار بدڑو میں واقع موبائل ٹاور کی مشینری کو نذرِ آتش کر کے تباہ کر دیا تھا۔ ٹاور کے حساس حصوں کو نشانہ بنایا گیا تاکہ دشمن کا مواصلاتی نیٹ ورک اس دشوار گزار علاقے میں مکمل طور پر منقطع ہو جائے۔   بلوچستان لبریشن فرنٹ آواران، دشت، چاغی، کوئٹہ، بارکھان، جھاؤ اور مشکے میں ہونے والی ان تمام کارروائیوں کی ذمہ داری قبول کرتی ہے۔ ان کارروائیوں میں مجموعی طور پر قابض فوج کے 8 اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے، بم ڈسپوزل اسکواڈ کی گاڑی تباہ کی گئی، جب کہ کوئٹہ اور چاغی میں پولیس اہلکاروں سے اسلحہ و گاڑی ضبط کرنے کے علاوہ مختلف علاقوں میں ناکہ بندی اور  دشمن کے مواصلاتی و جاسوسی نظام کو تباہ کر دیا گیا۔ ہم واضح کرتے ہیں کہ مقبوضہ بلوچستان کی شاہراہوں اور گلیوں میں دشمن کی ہر حرکت پر ہماری نظر ہے اور ہم کسی بھی وقت، کہیں بھی وار کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔   میجر گہرام بلوچ ترجمان، بلوچستان لبریشن فرنٹ 12 اپریل 2026 Ref. No. BLF/Apr2026/00050

بارکھان جھڑپ میں درجن سے زائد فوجیوں کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں جبکہ جھڑپ تاحال جاری ہے ۔۔

بارکھان: مسلح افراد اور پاکستانی فوج کے درمیان جھڑپیں جاری، پاکستانی فوج کے اندھا دھند فائرنگ سے ایک خواتین اور دو بچے زخمی مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔

بارکھان: لہمہ زرین ناہڑ کوٹ روڈ پر شدید فائرنگ جاری ہے، شاہراہ مکمل طور پر بند کر دی گئی ہے، جبکہ ڈی ایچ کیو ہسپتال میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔ غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق پاکستانی فوج اور مسلح افراد کے درمیان شدید جھڑپ جاری ہے،۔ تاہم مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔۔

جیونی کے سمندر میں قابض پاکستانی فوج پر حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں: بی ایل اے بلوچ لبریشن آرمی کے سرمچاروں نے ایک اہم اور نئی تزویراتی پیش قدمی کرتے ہوئے گوادر کے علاقے جیونی کے سمندر میں قابض پاکستانی فوج کی ایک گشتی کشتی کو مسلح حملے میں نشانہ بنایا۔ اس کامیاب بحری کارروائی کے نتیجے میں کشتی پر سوار تین اہلکار ہلاک ہوگئے۔ بلوچ لبریشن آرمی اس حملے کی ذمہ داری قبول کرتی ہے۔ زمین کے بعد اب سمندری حدود میں دشمن کے خلاف کارروائیوں کا یہ آغاز بی ایل اے کی عسکری حکمتِ عملی میں ایک نئی اور اہم پیش رفت ہے، جس کا مقصد بلوچ وسائل کی سمندری راستوں سے لوٹ مار کو روکنا اور دشمن کو ہر محاذ پر زک پہنچانا ہے۔ اس حملے کے حوالے سے تفصیلی بیان جلد ہی میڈیا میں جاری کیا جائے گا۔ جیئند بلوچ ترجمان بلوچ لبریشن آرمی مورخہ: 12 اپریل 2026

بریکنگ نیوز چاغی کے علاقے امین آباد اور کرودُک میں بلوچ آزادی پسندوں کا پولیس تھانوں پر کنٹرول ذرائع کے مطابق بلوچ آزادی پسندوں نے پولیس اہلکاروں کو یرغمال بنا کر ان سے سرکاری اسلحہ اور گاڑیاں اپنے قبضے میں لے لیے ہیں۔

گزشتہ شب مسلح افراد نے بارکھان کے علاقے ٹکرا بھدانی کے مقام پر یوفون ٹاور کو پر حملہ کر کے مشینری سمیت نزر آتش کیے۔

Road Blockades in Turbat.jpg3.15 MB

Road blockade and snap-checking on M-8 highway in Turbat on April 9, 2026. Surveillance cameras and tower installed by milita
Road blockade and snap-checking on M-8 highway in Turbat on April 9, 2026. Surveillance cameras and tower installed by military were also targeted.

Seized Police Checkpoint in Nushki.jpg3.49 MB

The police checkpost and weapon seized in Ahmad Wal area of Nushki on April,11 2026.
The police checkpost and weapon seized in Ahmad Wal area of Nushki on April,11 2026.