ch
Feedback

不要被骗子欺骗!Telemetrio 会找到并标记这些频道 👉 如果想查看标记,请订阅

ISLAM WITH EMAN

ISLAM WITH EMAN

前往频道在 Telegram

اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات... ایڈمن سے رابطہ کیلئے: @syedsajjadhamdani

显示更多
1 285
订阅者
-324 小时
-77 天
-730 天
帖子存档
🔷 ابوثمامہ صائدیؓ 🔷 ■ آپ کا نام اکثر منابع میں ابوعمرو سے ابوثمامہ مراد ہے لیکن بعض مصادر میں انکا اور نام ذکر ہوا ہے جبکہ بعض نے انکے دیگر مشخصات میں اختلاف کیا۔ اسطرح کے اختلاف کتابت کی وجہ پیدا ہوئے ہیں جیسا کہ ان اشتباہات میں سے ابوثمامہ کو ابوتمامہ لکھنا۔[1] ان کا نام زیاد[2] یا عمر[3] نیز انکی نسبت میں بھی اختلاف مذکور ہے جیسے صائدی[4]، انصاری[5]، صیداوی[6] و صاعدی[7] بنو صائد قبیلہ حَمْدان کی شاخ ہے۔ بعض کتب انساب میں ابوثمامہ کا نام اور مشخصات اسطرح مذکور ہیں: زیاد ابن عمرو بن عریب بن حنظلہ بن دارم بن عبدالله الصائدی[8] ■ ابوثمامہ اور قیام امام حسینؑ ابوثمامہ تابعین اور حضرت علیؑ کے ان اصحاب میں سے ہیں جنہوں نے حضرت علیؑ کے ہمراہ تمام جنگوں میں شرکت کی۔ انہیں حضرت امام حسنؑ کے اصحاب میں سے بھی شمار کیاگیا ہے۔ آپ معاویہ کے مقابلے میں امام حسنؑ کے ساتھ رہے۔[9] تاریخی مصادر میں زیادہ تر تذکرہ حضرت مسلمؑ بن عقیل کے ساتھ اور کربلا کے شہداء کے طور پر ملتا ہے۔ معاویہ کے مرنے کیبعد ابوثمامہ امام حسینؑ کو دعوت دینے میں شامل تھے اور کوفہ میں سلیمان بن صرد خزاعی کے گھر موجود تھے۔ جب حضرت امام حسینؑ حج کے فریضے کی ادائیگی کیلئے مکہ پہنچے تو امام کو خط لکھا۔[10] کوفہ میں امام حسینؑ کی جانب سے جب مسلمؑ بن عقیل موجود تھے تو ابوثمامہ لوگوں سے مالی امداد وصول کرتے اور جنگ کے حالات میں اسلحہ کی جمع آوری کی ذمہ داری ان کے سپرد تھی۔[11] ابن زیاد کے خلاف کوفے کے لوگوں کے قیام میں مسلم بن عقیل کی طرف سے تمیم اور حمدان نامی قبیلوں کی سپہ سالاری ابوثمامہ کے سپرد تھی۔[12] لیکن ابن زیاد کے لالچ دینے اور رعب ڈالنے کی سیاست نے کوفے کے اہم قبیلوں کے سرداروں کو پراگندہ کردیا اور مسلمؑ بن عقیل شہید ہوگئے۔ اسکے بعد ابوثمامہ ابن زیاد کی تعقیب کے تحت قرار پائے تو ابوثمامہ چند روز کیلئے اپنے قبیلے میں روپوش ہوگئے۔[13][14] پھر نافع بن ہلال کیساتھ مخفیانہ کوفہ سے باہر نکلے۔ مکہ سے کربلا کے راستے میں امام حسینؑ کے کاروان میں شمولیت اختیار کرلی اور انکے ہمراہ کربلا میں وارد ہوئے۔[15] واقعۂ کربلا میں ابوثمامہ سے مربوط واقعات میں سے ہے کہ آپ نے عمر بن سعد کے ایلچی کثیر بن عبداللہ شعبی کو حضرت امام حسینؑ کے پاس مسلح آنے سے روکا اور عاشورا کے دن ظہر کے وقت کی اطلاع لشکر کودی جس کے جواب میں امام حسینؑ نے انکے حق میں دعائیہ کلمات کہے۔[16] ■ شہادت ابوثمامہ کی شہادت کی جزئی کیفیات تاریخ میں مذکور نہیں لیکن طبری کی گزارش کے مطابق حر بن یزید ریاحی کی شہادت کیبعد ابوثمامہ نے اپنے مبارزے کو جاری رکھا یہانتک کہ شہید ہو گئے۔[17] کربلا میں امام حسینؑ کیساتھ ابوثمامہ کی گفتگو سے پتہ چلتا ہے کہ آپ نے مکمل آگاہی اور مشتاقانہ امام حسینؑ کی رکاب میں شہادت کو قبول کیا۔[18] روزِ عاشور جب سپاہ حسینؑ نے یکے بعد دیگرے ایکدوسرے سے شہادت میں سبقت حاصل کرنا شروع کی تو ابوثمامہ نے عرض کیا آقا! میں دیکھتا ہوں کہ یہ لوگ آپؑ کے قتل سے باز آنے والے نہیں اور میں چاہتا ہوں کہ آپؑ کے سامنے جام شہادت نوش کروں لیکن نماز کا وقت آگیا ہے اور بہت دوست رکھتا ہوں کہ یہ ایک آخری نماز بھی آپؑکی اقتدا میں ادا کرلوں۔ امام عالی مقامؑ نے آسمان کی طرف نظر اٹھائی تو زوال ہوچکا تھا فرمایا اے ابو ثمامہ! تو نے نماز کو یاد کیا ہے خدا تجھے نماز گزاروں میں سے کرے۔ پس امامؑ نے نمازِ خوف پڑھائی اور ابوثمامہ نے نماز کیبعد عرض کیا اے فرزند رسول! میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ ملحق ہونے کیلئے بے چین ہوں اور آپؑکو غریب و بے یار دیکھ کر طبیعت میں تابِ برداشت نہیں رہی، امامؑ نے اجازت دی اور ابوثمامہ نے میدانِ کارزار میں قدم بڑھایا۔ پس آپ فوجِ اعدأ پر شیر بن کر حملہ آور ہوئے اور بہت سے ملاعین کو قتل کیا اور بالآخر زخمی ہو کر گِر گئے، پس قیس بن عبداللہ نے انکو شہید کیا جو انکا چچازاد تھا۔ زیارت ناحیہ مقدسہ میں حضرت قائم آل محمد نے ان پر اِن الفاظ میں سلام بھیجا: اَلسَّلامُ عَلٰی اَبِیْ ثمَامَۃ عَمْرو بْنِ عَبْداللّٰہِ الصَّائِدِیْ۔ 📚 حوالہ جات 1۔ مقتل الحسین علیه‌السلام خوارزمی ج۱، ص۲۰۶۔ 2۔ جمہرةأنساب العرب، ص:۳۹۵۔ 3۔ اقبال الاعمال ج۳، ص۷۹۔ 4۔ مناقب آل ابیطالب ج۳، ص۲۵۳۔ 5۔ رجال طوسی، ص۷۷؛ مامقانی، تنقیح المقال فی علم الرجال،ج۲،ص۳۳۳۔ 6۔ جمہرة انساب العرب، ص۳۹۵؛دینوری، اخبار الطوال، ص۲۳۸۔ 7۔ الفتوح، ص۸۸۸۔ 8۔ جمہرةأنساب العرب، ص:۳۹۵۔ 9۔ ابصار العین، ص۱۱۔ 10۔ مامقانی، تنقیح المقال فی علم الرجال،ج۲،ص۳۳۳۔ 11۔ طبری، تاریخ،ج۵،ص۳۶۴۔ 12۔ دینوری، ص۲۳۸۔ 13۔ تاریخ طبری ج۵، ص۳۶۹۔ 14۔ ترجمہ الکامل فی التاریخ، ج۱۱، ص۱۲۵۔ 15۔ مامقانی، تنقیح المقال فی علم الرجال، ج۲، ص۳۳۳۔ 16۔ طبری، تاریخ، ج۵، ص۴۱۰و۴۳۹۔ 17۔ طبری،تاریخ،ج۵،ص۴۴۱۔ 18۔ طبری، تاریخ، ج۵، ص۴۱۰و۴۳۹ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🔷 نافع بن ہلال 🔷 کربلا کی عدیم المثال شخصیات میں سے ایک شخصیت شہیدِ کربلا "نافع بن ہلال" ہیں۔ نافع بن ہلال کا تعلق "قبیلہ جمل" سے تھا، جو "قبیلہ مذحج" کی ایک شاخ تھی اور وہ یمنی الاصل تھے۔ نافع اپنے قبیلہ کے سردار بزرگ تھے، بہادر اور حافظ قرآن تھے، حاملِ حدیث، اصحابِ امیرالمومنین حضرت علیؑ میں سے تھے، جنگِ جمل، صفین، نہروان تینوں جنگوں میں حضرت علیؑ کے ہمرکاب تھے۔ کربلا میں جب حضرت عباس علمدار پانی کی جدوجہد کیلئے نہر پر تشریف لے گئے تھے تو نافع ابن ہلال آپ کیساتھ تھے۔ حضرت نافع بن ہلال کا نام زیارت رجبیہ امام حسینؑ اور زیارت ناحیہ میں آیا ہے۔ زیارت ناحیہ میں ہے۔۔۔ "السلام علی نافع بن ہلال البجلی المرادی" نافع بن ہلال حضرت مسلم بن عقیل کی شہادت سے پہلے کوفہ سے نکلے اور راستے میں امام حسینؑ کے قافلے میں شامل ہوگئے۔ وہ عذیب الہجانات نامی یا اس سے قبل ایک جگہ پر امام حسینؑ کے ساتھ ملحق ہونے والے چار افراد میں سے ایک ہیں۔ ■ تجدید بیعت محرم کی دوسری تاریخ کو امام حسینؑ کربلا پہنچے۔ اور آپ نے اپنی اہلبیتؑ اور اصحاب کو جمع کیا اور اہلبیتؑ سے خطاب کیبعد امامؑ نے اصحاب کیطرف رخ کرکے فرمایا: "لوگ دنیا کے غلام بن گئے ہیں اور دین انکی زبان کی حد تک ہے، دین کی حمایت اور پیروی اسوقت تک کرتے ہیں، جب تک انکی زندگی آسائش میں گزرے اور جیسے ہی کوئی مصیبت آجائے اور کسی سختی کا شکار ہوں تو دیندار کم ہی نظر آتے ہیں۔" امامؑ کی اس تقریر کیبعد آپکے اصحاب نے ایک ایک کرکے اپنی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے آپکے ساتھ تجدید بیعت کیا۔ نافع بن ہلال نے زہیر بن قِین کے بعد کھڑے ہو کر امامؑ سے مخاطب ہوتے ہوئے فرمایا: "آج آپ ہمارے درمیان اسی طرح ہیں، بعض اپنا عہد و پیمان توڑ کر آپ کی بیعت سے خارج ہوگئے ہیں جبکہ اس بیعت شکنی میں ان کا اپنا نقصان ہے، کسی اور کا نہیں، خدا ان سے بے نیاز ہے۔ پس ہمیں جب تک آپ سالم ہیں، ہماری رہنمائی فرما کر ہمیں جہاں لے جانا چاہیں لے جائیں، خدا کی قسم ہمیں خدا کی تقدیر پر کوئی گلہ شکوہ نہیں ہے اور اپنے پروردگار کے ساتھ ملاقات کرنے میں کسی قسم کی کوئی پریشانی نہیں ہے۔ ہم اپنی نیت اور سوچ کے بل بوتے پر عمل پیرا ہونگے، جو بھی آپ سے محبت کرے اور آپ کی حمایت کرے، ہم بھی اس سے محبت کریں گے اور جو بھی آپ سے دشمنی اختیار کرے، ہم بھی اس کے دشمن بنیں گے۔" ■ شادی بعض منابع کے مطابق نافع بن ہلال نے انہی دنوں شادی کی تھی اور جب روز عاشورا میدان میں جانے کا ارادہ کیا تو ان کی نئی نویلی دلہن نے منع کیا، لیکن وہ امامؑ کی نصرت کیلئے اصرار کر رہے تھے۔ جب امامؑ کو اس بات کا پتہ چلا تو آپؑ نے نافع سے فرمایا: "تمہاری دلہن پریشان ہے اور مجھے یہ پسند نہیں ہے کہ تم دونوں جوانی میں ایک دوسرے کے فراق میں مبتلا ہو جاؤ، اگر یہ راضی نہیں ہے تو اپنی دلہن کا ہاتھ پکڑ کر یہاں سے چلے جاؤ۔" نافع نے کہا: "یابن رسول اللہ اگر سختی اور مصیبت میں آپ کو تنہا چھوڑ کر اپنی آسائش کے پیچھے چلا جاؤں تو کل قیامت کے دن آپ کے نانا رسول خدا کو کیا جواب دوں۔" ■ جنگ اور شہادت روز عاشورا تیروں پر اپنا نام لکھ کر انہیں زہر سے آلودہ کرکے دشمن کی طرف پھینکتے تھے اور تیر چلاتے وقت یہ اشعار پڑھتے تھے: "ایسا تیر چلا رہا ہوں، جس کے نوک پر لکھا ہے کہ جان کا خوف اسے کوئی فائدہ نہیں دیگا، یہ تیر زہر سے آلودہ اور مست حالت میں آگے جا رہا ہے، یہاں تک کہ میدان جنگ کو لطیف تیروں سے پر کریگا، جب نافع کے پاس تیر ختم ہوئے تو انہوں نے تلوار اٹھا لی اور دشمن کی صفوف پر حملہ آور ہوئے اور یہ اشعار پڑھ رہے تھے: "میں ایک یمنی اور جملی جوان ہوں، میں اس دین کا پیروکار ہوں، جس پر حسین ابن علی ہیں؛ آج میری آرزو یہ ہے کہ شہید ہو جاؤں۔ پس میری یہ آرزو ہے اور میں اپنے عمل سے خود ملاقات کروں گا۔" کربلا میں روزِ عاشور بارہ آدمی فوج ِ عمر بن سعد میں سے قتل کئے اور بہت سے لوگ زخمی ہوئے، اس کے بعد ان پر حملہ ہوا اور اتنی جنگ ہوئی کہ ان کے بازو ٹوٹ گئے اور انہیں گرفتار کرلیا گیا۔ شمر انہیں عمر بن سعد کے پاس لے گیا، عمر بن سعد نے کہا نافع یہ تم نے کیا کیا اور اپنے آپکو کس مصیبت میں مبتلا کیا۔ نافع نے کہا یہ تو خدا جانتا ہے کہ میری نیت کیا تھی، بہرحال شکر ہے کہ میں نے بارہ آدمی تم میں سے قتل کئے اور جو زخمی کئے وہ اس کے علاوہ ہیں اور اگر میرے بازوؤں میں دم اور کلائیوں میں سکت رہتی تو تم مجھے اس طرح گرفتار نہ کرسکتے۔ نافع یہ کہہ رہے تھے کہ خون بہہ کر اُن کی داڑھی کو تر کر رہا تھا۔ عمر سعد نے شمر کو حکم دیا کہ انہیں قتل کرے، شمر نے تلوار کھینچی نافع نے خدا کا شکر ادا کیا اور کہا: "اگر تو مسلمان ہوتا تو کبھی یہ گوارا نہ کرتا کہ ہمارا خون اپنے سر پر لے۔ شکر ہے خدا کا کہ ہماری موت بدترین خلق لوگوں کے ہاتھ سے قرار دی۔" شمر نے تلوار ماری اور نافع شہید ہوگئے۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🔷 جنادہ بن حارث حمدانی 🔷 جناده بن حارث سلمانی ازدی حسین بن علی کے طرفداروں میں سے تھے جو 10 محرم 61ھ کو کربلا کی لڑائی میں امام حسین علیہ السلام کی طرف سے یزیدی فوج کے ساتھ لڑتے ہوئے شہید ہوئے۔ ■ اصحاب علیؑ سلمان قبیلہ مراد کی ایک شاخ اور مراد قبیلہ مذحج کا ایک شعبہ ہے۔ جنادہ بن حارث کوفہ کے باشندے اور مشاھیر شیعہ میں سے تھے۔ عہدِ رسول اللہ (ص) کا ادراک کیا پھر حضرت علی بن ابیطالب علیھما السلام کے ساتھ رھے اور جنگِ صفین میں جہاد کیا۔ شیخ طوسی نے کتاب الرجال میں انکا نام اصحابِ حسین علیہ السلام میں درج کیا ہے۔ ■ مسلم بن عقیل کا ساتھ اور کربلا میں شہادت جب جناب مسلم بن عقیل علیہ السلام کوفہ میں امام حسین علیہ السلام کی بیعت لے رہے تھے تو جنادہ نے وفاداری کے ساتھ بیعت کی اور جناب مسلم کے ساتھ جہاد میں شریک بھی ہوئے مگر جب فضا جناب مسلم علیہ السلام کے خلاف ہوگئی تو وہ بھی مثل دیگر اشخاص کے مخفی ہوگئے اور آخر اسی جتھے میں جو منزل عذیب الھجانات میں خدمت امام علیہ السلام میں پہنچا تھا وہ بھی حاضر ہوئے اور اسی جتھے کے ساتھ رہ کر جنگ بھی کی اور درجہ شہادت حاصل کیا۔ 📚 جناده بن حارث سلمانی (تارنمای رشد) https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🔷 کربلا کی شہید خاتون 🔷 سانحہ کربلا میں شہید ہونے والی پہلی خاتون جناب وہب بن عبداللہ کی والدہ۔۔۔ تاریخِ کربلا میں بہت سارے ایسے موارد دکھائی دیتے ہیں جہاں ماؤں اور بیویوں نے مردوں کی حوصلہ افزائی کی اور انھیں فداکاری اور جانثاری پر آمادہ کیا۔ ان میں سے ایک جناب وہب بن عبداللہ بن حباب کلبی کی والدہ بھی ہیں۔ وہ اپنے بیٹے اور بہو کے ساتھ کربلا میں موجود تھیں۔ روز عاشور وہب کی ماں نے وہب سے کہا: "بیٹا دیکھو فرزند رسول کی مدد کرنا۔" وہب میدان میں گئے بہت سارے یزیدیوں کو واصل جہنم کیا زخموں سے چور ہو کر ماں کے پاس واپس آئے اور کہا: اے مادر گرامی کیا اب مجھ سے راضی ہیں؟ وہب کی ماں نے جواب دیا: جب تک تم فرزند رسول کی حمایت میں شہید نہ ہو جاؤ اس وقت تک میں تم سے راضی نہیں ہوں۔ اسلام میں ابتدائی جہاد اور میدان کارزار میں جنگ کرنا عورتوں پر واجب نہیں ہے۔ حتی کربلا میں جو جنگ دفاعی تھی امام حسین علیہ نے عورتوں کو جنگ کرنے کی اور میدان میں جانے کی اجازت نہیں دی، روز عاشور صرف دو عورتیں ایسی تھیں جو اپنے جذبہ ایمانی پر قابو نہ کر سکیں اور میدان میں داخل ہو گئیں اور امام ان کو واپس لے کر آئے۔ نقل ہوا ہے کہ جب وہب دوبارہ میدان میں لڑنے کے لیے گئے تو ان کی بیوی نے خیمہ کا پردہ الٹا اور میدان کی طرف بھاگ گئی۔ اور اپنے شوہر کے ہمراہ جنگ کرنا شروع کردیا۔ اور اپنے شوہر کو یہ کہتی تھیں: میرے ماں باپ تم پر قربان ہوں حرم رسول اللہ کی حفاظت میں جنگ کرتے رہو۔ جب جناب وہب نے انہیں واپس لوٹانا چاہا تو ان کا لباس پکڑ لیا اور کہا: میں واپس نہیں جاؤں گی جب تک کہ تمہارے ساتھ شہید نہ ہو جاؤں۔ امام حسین علیہ السلام اس منظر کو دیکھ کر تشریف لائے اور جناب وہب کی زوجہ سے کہا: تم اجر عظیم کی سزاوار ہو خدا تم پر رحمتیں نازل کرے خیمہ میں واپس چلی جاؤ۔ امام کے حکم سے واپس چلی گئیں اور جناب وہب جنگ کرتے کرتے شہید ہو گئے۔ روضۃ الواعظین نیشا پوری ص224، عاشر بحارالانوار، ص196، امالی شیخ صدوق،ص 97، لواعج الشجان ،ص116، اور نفس المہموم، ص 153 کتب وغیرہ سے ظاہر ھے۔ صاحب فرسان الہیجاء نے صفحہ 137 پر لکھا ھے "وہب کی تازہ شادی ھوئی تھی، روز عاشورہ شادی کو ابھی 17 روز سے زیادہ کا عرصہ نہیں گزرا تھا جب انہوں نے نصرت فرزند رسول صلی اللہ علیہ و اٰلہ وسلم میں جام شہادت نوش کیا۔ وہب کی شہادت کے بعد ان کی والدہ ان کے سرہانے آئیں اور وہب کے چہرے سے خون کو صاف کرنا شروع کیا۔ شمر اس منظر کو دیکھ رہا تھا اس نے اپنے غلام کو وہب کی ماں کے سر پر ضربت لگانے کا حکم دیا۔ غلام نے آگے بڑھ کر ایک کڑی ضربت لگائی۔ وہب کی والدہ کے سر میں شگاف پڑ گیا اور اپنے بیٹے کی لاش کے پاس شہید ہو گئیں۔ یہ سب سے پہلی وہ خاتون تھیں جو واقعہ کربلا میں شہید ہوئی تھیں۔ 🔘 واضح رہے جناب وہب، ان کی والدہ اور ان کی زوجہ پہلے عیسا‏ئی مذہب کی پیروکار تھیں۔ جب امام حسین علیہ السلام عراق کی جانب آ رہے تھے تو راستے میں جناب وہب، ان کی والدہ اور ان کی زوجہ کی ملاقات امام حسین علیہ السلام سے ہوئی۔ ان تینوں افراد نے امام علیہ السلام کی شخصیت سے متاثر ہو کر اسلام قبول کیا اور حسینی قافلہ میں شامل ہو گئے۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🔷 شہادت جون بن حویؑ 🔷 جون بن حویؑ کا تعلق حبشہ سے تھا آپ نے اسلام کی پہلی ہجرت کے بعد نجاشی کے دور میں اسلام قبول کیا اور بعد ازاں آپ رسول اللہؐ کی خدمت میں مدینہ آگئے ان کے بعد امیر المؤمنین علی علیہ السلام کے پاس رہے۔ امیرالمؤمنین علیہ السلام نے جون کو ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کے سپرد کر دیا اور یہاں سے جون علیہ السلام اور ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کی بہترین دوستی کا آغاز ہوا۔ علی علیہ السلام کے ساتھ گزرے وقت کی وجہ سے جون کی امام حسن علیہ السلام و امام حسین علیہ السلام کے ساتھ قلبی وابستگی پہلے ہی قائم ہو چکی تھی، ابوذر غفاری کا ساتھ ملنے پر محمدؐ و آل محمد علیہم السلام سے وابستگی مزید پختہ ہوتی چلی گئی۔ جب امام حسین علیہ السلام بیعت طلبی کے بعد مدینہ چھوڑ رہے تھے اس وقت جون کی عمر 70 برس ہو چکی تھی اور کمر میں خم پڑ چکا تھا مگر پھر بھی امام حسین علیہ السلام کے حضور پیش ہوئے اور اُن کا ساتھ دینے کے لیے سفر پر نکل پڑے۔ یوم عاشور امام حسین علیہ السلام نے جون کی خدمات و عمر کا لحاظ رکھتے ہوئے ان کو جنگ کرنے سے رعایت دے دی اور واپس مدینہ چلے جانے کو کہا تو جون نے کہا اے فرزند رسول میں آسودگی کے دور میں آپؑ کی خدمت کرتا رہا ہوں اب سختی و شدت کے دور میں آپ کو تنہا چھوڑ کر چلا جاؤں؛ "خدا کی قسم میری بو گندی اور بدبودار ہے، میرا حسب کمینہ ہے اور میرا رنگ سیاہ ہے تو آپؑ مجھ کو جنت سے دور رکھنا چاہتے ہیں، مجھے اس کا اہل نہیں سمجھتے تاکہ میری بدبو خوشبو میں بدل جائے اور میرا حسب شریف ہو جائے اور میرا چہرہ بھی سفید ہو جائے، نہیں خدا کی قسم آپؑ سے جدا نہ ہونگا جب تک یہ سیاہ خون آپؑ کے مطہر خون سے نہ مل جائے" جون کو جنگ کرنے کی اجازت ملی تو اس ضعیف العمری میں، اِس صحابی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے 25 یزیدیوں کو جہنم واصل کیا۔ بالآخر جب آپ گھوڑے سے زمین پر آئے تو امام حسین علیہ السلام جون کے پاس پہنچے جون کا سر اپنے زانو پر رکھا اور جون کا چہرہ تھام کر یہ تاریخی دعا کی: “اَللّهُمَّ بَیِّض وَجهَهُ وَ طَیِّب ریحَهُ وَ احشُرهُ مَعَ الأبرارِ وَ عَرِّف بَینَهُ و بَینَ مُحمدٍ و آلِ مُحمدٍ” ترجمہ: پروردگار اس کا چہرہ منور کر دے اور ان کی بو کو خوشبو میں بدل دے، انہیں نیکوکاروں کے ساتھ محشور فرما اور انہیں محمدؐ وآل محمدؐ کے درمیان باحیثیت بنا دے۔ امام محمد باقر علیہ السلام اپنے والد امام زین العابدین علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں کہ معرکہ کربلاء کے دس دن بعد جناب جون بن حوی علیہ السلام کی لاش کو کچھ افراد نے اس طرح پایا کہ ان کے جسم سے مشک و کستوری کی مہک آتی تھی۔ اُن کا نام زیارت ناحیہ میں ابوذر غفاری کے ساتھ بالکل اُسی طرح آیا ہے جیسا کہ اُن کا اور ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کا ساتھ رہا۔ ■ شہادت جناب جون بن حوی خطیب آل محمد سید اظہر حسن زیدی مرحوم فرماتے تھے کہ پچانوے سال کا بڈھا حبشی جون جھکی ہوئی کمر کے ساتھ امام حسینؑ کے سامنے آیا اور کہا آقا حسین! میں بھی چاہتا ہوں کہ آج آپ پر قربان ہو جاؤں۔ امام حسینؑ نے فرمایا: چچا جون! تم میرے بزرگوں کی یادگار ہو، تم بہت بوڑھے ہو چکے ہو، اس لیے تم کہیں محفوظ جگہ چلے جاؤ۔ یہ سننا تھا کہ جناب جون نے کہا کہ ہاں حسینؑ! میں نے اپنی حد سے بڑھ کر بات کر دی، میں کجا اور حسین پر قربان ہونا کجا؟ مولا حسینؑ! آپؑ پر قربان ہونے کیلئے عباس جیسا ہاشمی، اکبر جیسا نوجوان اور حبیب جیسا اسدی چاہیے۔ میں ٹھہرا ابوذر غفاری کا ایک حبشی غلام، میرا رنگ کالا، میرے خون میں بدبو اور میرا حسب نامعلوم مجھ سے گستاخی ہوگئی۔ یہ کہنا تھا کہ امام حسینؑ نے آگے بڑھ کر جون کو گلے لگا لیا اور فرمایا: چچا جون! تم برا مان گئے، تم مجھے عباس کی طرح پیارے ہو۔ یہ سن کر جناب جون کے چہرے پر رونق آئی اور میدان میں جا کر کہا: اے بے حیا قوم! میں محمدؐ کے بیٹے حسینؑ کی حمایت میں جنگ کرنے آیا ہوں۔ تھوڑی دیر بعد آواز دی: حسین میں گر گیا۔ امام حسینؑ سرہانے پہنچے اور جون کے رخسار پر رخسار رکھا یہ دیکھ کر جناب جون نے جناب حبیب کو آواز دی اور کہا: حبیب دیکھو! محمدؐ کے بیٹے کا رخسار میرے رخسار پر ہے۔ امام حسینؑ نے دعا دی اور جناب جون کے بدن سے مشک و عنبر کی خوشبو سے کربلا مہک اٹھا" 20 محرم الحرام کو آپ کو دفن کیا گیا۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🔷 جون بن حویؑ 🔷 جناب جون بن حویؑ حضرت ابوذرؑ کے سیاہ فام غلام اور شہدائے کربلاءؑ میں سے ہیں۔ 61 ہجری قمری کی 10 محرم کے روز حضرت امام حسینؑ نے انہیں میدان میں جانے سے روکا تو انہوں نے کہا: خدا کی قسم! میں آپؑ سے ہرگز جدا نہیں ہوں گا یہاں تک کہ میرا خون آپؑ کے خون سے مل نہ جائے۔[1] جون ان افراد میں سے ایک ہیں جن کی شہادت کے بعد حضرت امام حسینؑ خود ان کی نعش مبارک پہ پہنچے اور ان کیلئے دعا کی۔[2] جون بن حوی افریقہ کے علاقے نوبہ کے رہنے والے تھے۔ وہ فضل بن عباس بن عبد المطلب کے غلام تھے جنہیں حضرت علیؑ نے خرید کر حضرت ابوذر کو بخش دیا وہ حضرت ابوذر کے سن وفات 32 ہجری قمری تک ان کے ساتھ "ربذہ" میں رہے پھر اس کے بعد حضرت علی علیہ السلام کی خدمت میں آئے اور اہلبیتؑ کے ساتھ رہنے لگے۔ وہ اسلحہ بنانے اور اسے مرمت کرنے کی مہارت رکھتے تھے چونکہ حضرت امام سجاد علیہ السلام سے منقول ہے کہ وہ شب عاشور حضرت امام حسینؑ کے خیمہ میں آپؑ کی تلوار جنگ کیلئے تیار کر رہے تھے۔[3] آپ کا نام شیخ مفید نے "جُوَین" [4]، "بلاذری" [5] و طبری[6] "حُوَی"، ابن شہر آشوب نے "جُوَین بن ابی‌ مالک"[7] و ابوالفرج اصفہانی[8] و شیخ طوسی[9] و سید بن طاووس نے[10] "جَون" ذکر کیا ہے۔ روز عاشور حضرت امام حسینؑ کے میدان میں جانے سے منع کرنے پر انہوں نے کہا خدا کی قسم جب تک میرا خون آپؑ کے خون سے مل نہیں جاتا میں آپؑ سے جدا نہیں ہوں گا۔[11] عمرو بن قرظہ کی شہادت کے بعد [12] اور دوسری روایت کے مطابق حضرت امام حسینؑ کی معیت میں نماز جماعت کے پڑھے جانے کے بعد [13] امامؑ سے اجازت لے کر میدان روانہ ہوئے رجز پڑھا اور 25 افراد [14] کو قتل کرنے کے بعد شہید ہوئے۔ منقول ہوا ہے کہ حضرت امام حسینؑ ان کے جسد مبارک پہنچے اور اس طرح ان کیلئے دعا کی: اَللّهُمَّ بَیِّض وَجهَهُ وَ طَیِّب ریحَهُ وَ احشُرهُ مَعَ الأبرارِ وَ عَرِّف بَینَهُ و بَینَ مُحمدٍ و آلِ مُحمد [15] ان کی میت کو حضرت امام حسینؑ کی قبر کی پاینتی کی جانب دفن کیا گیا۔ علامہ مجلسی نے ایک روایت کی بنا پر نقل کیا ہے کہ ان کے دفن کے دس روز بعد ان کا جسد ظاہر ہوا اور اس سے عطر کی خوشبو پھوٹ رہی تھی[16] آپ کا نام زیارت ناحیہ میں آیا ہے: "اَلسَّلَامُ عَلَى جَوْنٍ مَوْلَى أَبِي‌ ذَرٍّ الْغِفَارِيِّ" 📚حوالہ جات اعیان الشیعہ، ج۱، ص۶۰۵۔ اعیان الشیعہ، ج۱، ص۶۰۵۔ نفس المہموم، شیخ عباس قمی، ص۲۶۳۔ الارشاد، مفید، ج۲، ص۹۳۔ تاریخ طبری، ج۵، ص۴۲۰۔ الارشاد، ج۲، ص۹۳۔ انساب الاشراف، بلاذری، ج۳، ص۱۹۶۔ تاریخ الطبری، ج۴، ص۴۲۰۔ مناقب ابن شہرآشوب، ج۴، ص۱۰۳۔ مقاتل الطالبیین، ص۱۱۳۔ رجال طوسی، ص۹۹۔ الملہوف علی قتلی الطفوف، ص۱۶۳۔ اعیان الشیعہ، ج۱، ص۶۰۵۔ الملہوف علی قتلی الطفوف، ص۱۶۳۔ دایره المعارف تشیع، ص۵۲۱۔ مناقب شہرآشوب، ج۴، ص۱۰۳۔ اعیان الشیعہ، ج۱، ص۶۰۵۔ نفس المہموم، شیخ عباس قمی، ص۲۶۳۔ بحار الأنوار (ط - بيروت)، ج‏45، ص23۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🔷 حبیب ابن مظاھر کی شہادت 🔷 ■ روز عاشورا حملوں کے دوران حبیب ابن مظاہر کا رجز کچھ یوں تھا: أنا حبيب و أبي مُظَهَّر میں حبیب ہوں اور میرے والد مُظَہَّر ہیں۔ فارس هيجاء وحرب تسعر میدان کارزار کا شہسوار ہوں اور جنگ کی بھڑکتی ہوئی آگ ہوں۔ وأنتم أعد عدة و أكثر تمہیں عددی برتری حاصل ہے۔ ونحن أوفی منكم و أصبر لیکن ہم (راہ حق میں) تم سے زیادہ وفادار اور زیادہ صابر ہیں۔ ونحن أعلی حجة وأظهر ہم اظہر اور اعلی حجت ہیں۔ حقاً وأتقی منكم و أعذر درحقیقت ہم تم سے زیادہ پرہیزگا اور زيادہ مقبول ہیں- ■ شہادت حبیب بن مظاہر، عمر رسیدہ ہونے کے باوجود شجاعت کے جوہر دکھاتے ہوئے شمشر زنی کر رہے تھے۔ انھوں نے 62 اشقیاء کو ہلاک کر ڈالا اور اسی اثناء میں بدیل بن مریم عقفانی نامی شقی نے ان پر حملہ کیا اور ان کی پیشانی کو تلوار کا نشانہ بنایا اور دوسرے تمیمی شخص نے نیزے سے حملہ کیا حتی کہ حبیب زین سے زمین پر آرہے، ان کی سفید داڑھی ان کے سر سے جاری خون سے خضاب ہوئی۔ بعد ازاں بدیل بن مریم نے ان کا سر تن سے جدا کر دیا۔ بروایت دیگر، تمیمی شخص بدیل بن مریم نے حبیب پر تلوار کا وار کیا اور دوسرے تمیمی نے نیزہ مارا جس کی وجہ سے وہ زمین پر آ رہے اور جب اٹھنا چاہا تو حصین بن نمیر نے ان کے سر کو تلوار سے زخمی کیا اور ابن صریم نے گھوڑے سے اتر کر ان کا سر تن سے جدا کیا۔ اسی اثناء میں امام حسین علیہ السلام حبیب کی بالین پر پہنچے اور فرمایا: عندالله احتسب نفسي وحماة اصحابي۔ یعنی میں اپنی اور اپنے حامی اصحاب کی پاداش کی توقع خداوند متعال سے رکھتا ہوں۔ اور اس کے بعد مسلسل اس آیت کریمہ "إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعونَ۔ (بلاشبہ ہم اللہ کے ہیں اور بلاشبہ ہمیں اسی کی طرف پلٹ کر جانا ہے) کی تلاوت کرتے رہے۔ بعض مقاتل میں ہے کہ امام حسینؑ نے حبیب سے مخاطب ہوکر فرمایا: "لله درك يا حبيب، لقد كنت فاضلا تختم القرآن في ليلة واحدة"۔ ترجمہ: آفرین ہو تم پر اے حبیب! تم ایک فاضل انسان تھے اور ہر شب ایک ختم قرآن کرتے تھے۔ حبیب بن مظاہر کا ایک کم سن فرزند قاسم تھا جس نے بالغ ہو کر اپنے والد کے قاتل بدیل بن مریم کو ہلاک کر دیا۔ ■ مدفن حبیب بن مظاہر اسدی، قبیلۂ بنی اسد سے تعلق رکھتے تھے اور قبیلے میں ہر دلعزیز اور محترم تھے۔ چنانچہ انھوں نے حبیب کو قبر امام حسینؑ سے 10 میٹر کے فاصلے پر دفن کیا۔ ■ زیارت نامہ پندرہ شعبان کے لئے مخصوص زیارتِ امام حسینؑ اور آپؑ کے دوسرے زیارت ناموں میں حبیب بن مظاہر کا ذکر ہوا ہے۔ اور امام زمانہؑ کی طرف سے وارد ہونے والی زیارت ناحیہ میں حبیب کو ان الفاظ سے سلام کیا گیا ہے: "السلام علی حبيب بن مظاهر الاسدی"۔ سلام ہو حبیب بن مظاہر اسدی پر۔ الا لعنة اللہ علی القوم الظالمين۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🔷 حبیب ابن مظاھر اور روزِ عاشورا 🔷 عاشورا کے دن امام حسین علیہ السلام نے اپنے قلیل لشکر کا میسرہ (بایاں بازو) حبیب بن مظاہر کے سپرد کیا اور میمنہ (دایاں بازو) زہیر بن قین کے حوالے کیا اور پرچم اور قلب (مرکز) کی قیادت حضرت عباس علیہ السلام کو سونپ دی۔ امام حسینؑ نے لشکر یزید سے مخاطب ہوکر اپنا حسب و نسب بیان کیا اور اپنے فضائل گنواتے ہوئے رسول خداؐ کی حدیث هذان سيدا شباب اهل الجنة (یہ دو (امام حسنؑ اور امام حسین)ؑ جوانان جنت کے سردار ہیں، کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا "تمہارے درمیان ایسے لوگ ہیں جنہوں نے یہ حدیث رسول اللہؐ سے سنی ہے؛ اس اثناء میں شمر بن ذی الجوشن نے کہا: "میں نے خدا کی عبادت شک و تردد کے ساتھ کی ہوگی اگر میں سمجھ لوں کہ کیا کہہ رہے ہو! حبیب بن مظاہر نے جواب دیا: اے شمر! تم ستر شکوک کے ساتھ خدا کی عبادت کرتے ہو اور میں گواہی دیتا ہوں کہ تم سچ کہہ رہے ہو اور تم واقعی نہیں سمجھتے ہو کہ امامؑ کیا کہہ رہے ہیں کیونکہ تمہارا قلب سیاہ ہوچکا ہے اور اس پر مہر لگی ہوئی ہے۔ جنگ کے آغاز پر جب عمر بن سعد بن ابی وقاص کے لشکر سے ایک ایک فرد نکل کر مبارز طلب کرتا تھا، حبیب اور بریر ہمدانی میدان میں آئے لیکن امام حسینؑ نے انہیں روکا۔ ابو ثمامہ نے امام حسینؑ کو وقتِ نماز کی یادآوری کرائی تو امامؑ نے فرمایا: ان (سپاہ یزید) سے کہو کہ جنگ روک لیں تاکہ ہم نماز ادا کریں۔ حصین بن نمیر (یا حصین بن تمیم) نے کہا: تمہاری نماز قبول نہیں ہوتی۔ حبیب بن مظاہر نے جواب دیا: تم سمجھتے ہو کہ آل رسولؐ کی نماز قبول نہیں ہوتی اور تمہاری نماز قبول ہوگی اے شراب خوار (اے گدھے)! اور اس پر حملہ کیا اور اپنی شمشیر پیچھے ہٹتے ہوئے حصین کے گھوڑے کے منہ پر وار کیا، حصین گھوڑے سے گر گیا اور اشقیاء نے لپک کر اسے حبیب کے فیصلہ کن حملے سے نجات دلائی۔ مسلم بن عوسجہ لڑ کر زخمی، اپنے خون میں رنگے ہوئے تھے، زندگی کے آخری لمحات گذار رہے تھے اور زمین پر گرے ہوئے تھے۔ امام حسینؑ حبیب کے ساتھ مسلم کے پاس پہنچے۔ امام حسینؑ نے فرمایا: اے مسلم! خدا تمہاری مغفرت فرمائے اور آیت قرآنی "مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ فَمِنْهُم مَّن قَضَى نَحْبَهُ وَمِنْهُم مَّن يَنتَظِرُ وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِيلاً" (ایمان والوں میں کچھ اشخاص ہیں جنہوں نے سچ کر دکھایا اسے جو انہوں نے اللہ سے عہد و پیمان کیا تھا تو ان میں کچھ وہ ہیں جنہوں نے اپنا وقت پورا کر لیا اور ان میں سے کچھ انتظار کر رہے ہیں اور انہوں نے بات میں ذرا بھی تبدیلی نہیں کی) کی تلاوت کی؛ حبیب قریب آئے اور کہا: "تمہارا قتل ہونا، مجھ پر بہت بھاری ہے لیکن میں تمہیں جنت کی خوشخبری دیتا ہوں؛ مسلم بن عوسجہ نے کمزور سی آواز میں کہا: "خداوند متعال تمہیں خیر کی بشارت دے"؛ حبیب نے کہا: "اگر میری شہادت قریب نہ ہوتی تو میرے لئے خوشی کی بات ہوتی کہ تم مجھے وصیت کرتے اور جو کچھ تمہارے لئے اہم ہے میں تمہارے لئے انجام دیتا اور دین اور قرابتداری کے حوالے سے تمہارا حق ادا کرتا؛ مسلم نے گوشۂ چشم سے سیدالشہداءؑ کی طرف اشارہ کیا اور کہا: میں تمہیں امام حسینؑ کے حق میں وصیت کرتا ہوں، خدا تم پر رحم کرے "جب تک تمہارے بدن میں جان ہے ان کا دفاع کرو اور ان کی نصرت سے ہاتھ میں کھینچو"، حبیب بن مظاہر نے کہا: میں تمہاری وصیت پر عمل کروں گا اور عمل کر کے تمہاری آنکھیں روشن کروں گا۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🌸 حبیب بن مظاہر اسدی 🌸 حبیب بن مظاہر اسدی، قبیلۂ بنو اسد میں سے اور کوفہ کے باشندے ہیں اور حضرت علیؑ کے خاص صحابی ہیں۔ وہ ان کوفیوں میں سے ہیں جنہوں نے معاویہ کی موت کے بعد امام حسینؑ کو خط لکھ کر کوفہ آنے کی دعوت دی لیکن جب انھوں نے کوفیوں کی بیعت شکنی کو دیکھا تو چپکے سے کوفہ چھوڑ کر امام حسینؑ سے جا ملے اور 75 سال کی عمر میں امام حسینؑ کی رکاب میں جام شہادت نوش کر گئے۔ حبیب مرد عابد و پارسا تھے، تقوٰی اور حدود الٰہیہ کی رعایت کرتے تھے، حافظ قرآن تھے، اور ہر شب عبادت و مناجات میں مصروف ہوتے تھے اور امام حسینؑ کے بقول ہر شب ایک ختم قرآن کیا کرتے تھے۔ پاک و پاکیزہ اور سادہ زندگی گذارتے تھے، اس قدر دنیا سے بے رغبت تھے اور زہد کو اپنی زندگی کے لئے نمونۂ عمل بنائے ہوئے تھے کہ جس قدر بھی انھیں مال و دولت اور امان ناموں کی پیشکش ہوئی، انھوں نے قبول نہ کیا اور کہا: "اگر ہم زندہ رہیں اور امام حسینؑ کو مظلومیت کی حالت میں قتل کر دیا جائے تو رسول خداؐ کے حضور ہمارے پاس کوئی عذر نہ ہوگا (اور ہمیں معاف نہ کیا جائے گا)۔" ■ ابن کلبی اور ابن حجر عسقلانی نے لکھا ہے کہ انہیں رسولخداؐ کی صحبت کی سعادت ملی ہے۔ ■ امام علیؑ کا دور حبیب مدینہ چھوڑ کر امیرالمؤمنینؑ کے ساتھ کوفہ چلے گئے اور آپؑ کے ساتھ جہاد و کوشش میں مصروف ہوئے اور آپؑ کے اصحاب خاص کے زمرے میں قرار پائے اور آپؑ کے علوم کے حاملین میں شمار ہوئے۔ حضرت علیؑ نے انہیں علم منایا و بلایا عطا کیا تھا۔ حبیب شرطۃ الخمیس کے رکن خاص تھے اور شرطۃ الخمیس خطرات کی صورت میں فوری رد عمل کے لئے تشکیل یافتہ مسلح دستے جوکھم دستے یا Task Force کا نام ہے، جس میں امام علیؑ کے مخلص اور مطیع ساتھی شامل تھے۔ واقعۂ عاشورا سے برسوں قبل میثم تمار کا بنو اسد کی مجلس سے گذر ہوا تو دونوں نے ایک دوسرے کو شہادت کی بشارت اور شہادت کی کیفیت کی خبر دی اور اسی علم منایا کا نتیجہ تھا جو انھوں نے امیرالمؤمنینؑ سے سیکھا تھا اور وہ دونوں مستقبل میں رونما ہونے والے واقعات کی خبر رکھتے تھے۔ ■ امام حسینؑ کا ساتھ معاویہ بن ابی سفیان کی موت (سنہ 60 ہجری) کے بعد حبیب اور کوفہ کہ بعض شیعہ اکابرین منجملہ سلیمان بن صُرَد، مسیب بن نَجَبَہ اور رفاعہ بن شداد بجلی نے بیعت یزید سے انکار کیا اور امام حسینؑ کو خط لکھا اور آپؑ کو امویوں کے خلاف قیام کی دعوت دی اور مسلم بن عقیل کوفہ آئے تو ان افراد نے ان کی نصرت کی۔ حبیب بن مظاہر اور مسلم بن عوسجہ خفیہ طور پر لوگوں سے مسلم کے لئے بیعت لیتے تھے اور اس راہ میں ان دو نے کوئی قصور روا نہيں رکھا۔ ابن زیاد کوفہ آیا اور لوگوں پر دباؤ ڈالا تو انھوں نے مسلم کا ساتھ چھوڑا اور بیعت توڑ دی چنانچہ قبیلۂ بنو اسد نے حبیب اور مسلم بن عوسجہ کو پناہ دی تاکہ انہیں کوئی نقصان نہ پہنچے اور موقع پاکر دونوں خفیہ طور پر کوفہ سے نکل گئے۔ وہ دن کی روشنی میں ابن زياد کے جاسوسوں اور گماشتوں کی نظروں سے کہیں چھپ جاتے تھے اور راتوں کو سفر کرتے تھے۔ حتٰی کہ امام حسینؑ کی لشکرگاہ تک پہنچے۔ بالآخر وہ سات محرم الحرام کو کربلا میں امام حسینؑ کے قافلے سے جاملے۔ ■ کربلا میں حبیب نے کربلا پہنچتے ہی ایک بار امامؑ کی نسبت اپنی وفاداری میدان عمل میں ثابت کر دی۔ جب دیکھا کہ امامؑ کے ساتھیوں کی تعداد بہت کم اور آپؑ کے دشمنوں کی تعداد کثیر ہے تو امامؑ سے عرض کیا: "قریب ہی قبیلۂ بنو اسد کا مسکن ہے، آپ اجازت دیں تو میں جاکر آپ کی مدد کی دعوت دوں گا شاید خدا انہیں ہدایت دے"، امامؑ نے اجازت دی تو حبیب عجلت کے ساتھ اپنے قبیلے میں پہنچے اور ان کو موعظت و نصیحت کی لیکن عمر سعد نے ایک لشکر بھیج کر بنواسد کو امامؑ کی طرف آنے سے روک لیا۔ ■ عصر تاسوعا ایک شخص اس روز عمر سعد کا ایک خط امام حسینؑ کے لئے لایا تو حبیب بن مظاہر نے اس کو نصیحت کرتے ہوئے کہا: ظلم و ستم والوں کے پاس مت جاؤ۔ عصر تاسوعا حبیب بن مظاہر نے خیام امام پر حملے کا ارادہ رکھنے والی دشمن کی سپاہ کو نصیحت کرتے ہوئے امام حسینؑ اور آپؑ کے اصحاب کے اوصاف بیان کئے اور انہیں جنگ سے پرہیز کرنے کی تلقین کی۔ ■ شب عاشورا شب عاشورا نافع بن ہلال نے حبیب کو اصحاب کی وفاداری اور استواری کے سلسلے میں بیبی زینبؑ بنت علیؑ کی فکرمندی سے آگاہ کیا تو حبیب اور ہلال مل کر اصحاب کی طرف گئے اور انہیں اکٹھا کر کے سب امام حسینؑ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اعلان کیا کہ اپنے خون کے آخری قطرے تک خاندان رسولؐ کی حمایت و حفاظت کریں گے۔ http://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🔷 شہادت عبدالله بن امام حسنؑ 🔷 وہ مصائب جو ہمارے منبروں سے پڑھے نہیں جاتے۔ ان میں سے ایک امام حسن علیہ السلام کے ایک فرزند عبداللہ ابن حسنؑ کی شہادت ہے۔ عبداللہ ابن حسنؑ کی شہادت عین اس وقت ہوئی جب امام حسین علیہ السلام کو اشقیاء نے نرغے میں گھیر کر شدت سے حملہ کیا تھا اور آپ زمین پر گر گئے تھے، ملاعین آپ کو قتل کرنے کے لئے آگے بڑھنا چاہتے تھے، اس وقت اس ننھے سے فرزند کی شہادت آپؑ کی گود میں ہوئی۔ جب دشمنانِ خدا نے امام حسین علیہ السلام کو آخری وقت میں گھیر لیا تو عبداللہ بن حسنؑ جو امام حسن علیہ السلام کے بیٹے تھے، جن کی عمر اس وقت بمشکل 10 سال بھی نہیں ہو گی، خیمے میں خواتین کے پاس سے فوج کی طرف نکلے۔ اس بچے کی پرورش امام حسین علیہ السلام نے کی تھی، چنانچہ عبداللہ علیہ السلام کو اپنے چچا حسینؑ سے بے پناہ محبّت تھی۔ عبداللہ علیہ السلام بھاگ کر امام حسین علیہ السلام کی طرف روانہ ہوئے تو جناب زینب سلام اللہ علیھا نے چاہا کہ عبداللہ کو روکیں، اور امام حسینؑ نے بھی آواز دے کر کہا کہ "اے بہن! اس کو روک لو"۔ لیکن عبداللہ علیہ السلام نے سختی سے انکار کیا اور کہا؛ "قسم بخدا میں اپنے چچا کو تنہا نہیں چھوڑوں گا"۔ اور جب ابجر بن کعب (لعین) امام حسینؑ کی طرف تلوار لے کر نکلا تو بچے نے اس کو پکار کر کہا؛ "اے خبیث عورت کے بیٹے! کیا تو میرے چچا کو قتل کرے گا؟" یہ دیکھ کر ابجر(ملون) نے عبداللہ (علیہ السلام) پر حملہ کیا، عبداللہ (علیہ السلام) نے ہاتھ سے تلوار کو روکنے کی کوشش کی، لیکن تلوار نے آپ کا ہاتھ کاٹ دیا اور آپ کا ہاتھ کھال سے لٹکنے لگا۔ اس پر عبداللہ (علیہ السلام) نے پکار کر کہا: "ہائے میری ماں" امام حسین علیہ السلام نے بچے کو پکڑ کر سینے سے لگایا اور فرمایا: "اے میرے بھائی کی یادگار، اس مصیبت پر صبر کرو جو تم پر وارد ہوئی ہے اور اس کے بدلے اللہ سے بہتری کی امید رکھو، بے شک وہ تمہیں تمہارے نیک اور صالح اجداد سے ملا دے گا۔" الا لعنۃ اللہ علی القوم الظالمین 📚 بحارالأنوار، ج45، ص153۔ الارشاد، ص307۔ http://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🔷جنگ مغلوبہ، حملہ اولیٰ 🔷 شیخ سماوی نے اپنی کتاب ''ابصارالعین'' میں حملہ اولیٰ کی تفصیلات کے ضمن میں لکھا ہے: ''امامؑ کی خدمت میں حر کے پہنچنے کے بعد عمر ابن سعد نے اپنی فوج کو امامؑ کی جماعت پر حملہ کرنے کا حکم دیا۔ عمر سعد کی فوج میں سے لیسار اور سالم نے انفرادی جنگ کی خواہش ظاہر کی اس کے علاوہ کچھ اور بھی انفرادی لڑائیاں ہوئیں۔ اپنے فوجیوں کی انفرادی جنگ کا حال دیکھ کر عمر ابن سعد اور شمر ملعون نے اپنے فوجیوں کو حکم دیا کہ خبردار کوئی ان سے اکیلا اکیلا نہ لڑے کیوں کہ یہ لوگ اپنی جانیں ہتھیلی پر رکھے ہوئے ہیں۔ اس حکم پر یزیدیوں نے امامؑ کی جماعت کو چاروں طرف سے گھیر لیا اور یکبارگی حملہ کر دیا۔ امامؑ کی فوج نے بڑی ہمت اور شجاعت سے ان کا مقابلہ کیا اور یزیدیوں کو بہت زیادہ نقصان پہنچایا۔ اس پر یزیدی واپس پلٹ گئے اس حملے کے بعد اصحاب حسین (سلام اللہ علیہم) کی تعداد میں کمی نظر آنے لگی''۔ محمد حسیں قرشی نے اپنی کتاب ''الحیات الامام الحسین'' میں تحریر کیا ہے کہ ابن سعد کی فوج کو امامؑ کی جماعت نے کئی بار ہزیمت اٹھانے پر مجبور کیا۔ علامہ طالب جوہری نے فاضل خیابانی کی کتاب ''وقائع الایام'' سے اقتباس کی روشنی میں تحریر کیا ہے کہ جنگوں میں دستور یہ تھا کہ پہلے جنگ کے آغاز میں ایک کے ساتھ ایک کا مقابلہ ہوتا تھا۔ دونوں طرف سے ایک ایک آدمی میدان میں نکلتا اور رجز پڑھتا اور پھر لڑائی ہوتی۔ کئی لڑائیوں کے بعد کہیں جنگ مغلوبہ (تمام فوج کا حملہ) کی نوبت آتی۔ لیکن عمر ابن سعد نے یہاں یہ کیا کہ انفرادی مبارز طلبی کی بجائے جنگ مغلوبہ سے حملے کا آغاز کیا۔ (حدیث کربلا، طالب جوہری) ■ حملہ اولیٰ کے شہداء کے اسماء گرامی ١- حباب بن عامر تمیمی ٢- جبلہ بن علی شیبانی ٣- جنادہ بن کعب بن حرث انصاری ٤- امیہ بن سعد طائ ٥- بشر بن عمرو حضرمی ٦- جبر بن حجاج ٧- ادھم بن امیہ عبدی بصری ٨- جندب بن حجیر کندی ٩- حارث بن امراءالقیس کندی ١٠- جوین بن مالک ١١- حارث بن نبہان ١٢- حجاج بن بدر ١٣- حللاس بن عمرو الراسبی ١٤- زاہر بن عمرو کندی ١٥- زہیر بن سلیم ازدی ١٦- سالم مولیٰ عامر بن مسلم ١٧- سالم بن عمرو ١٨- سوار بن ابی عمیر ١٩- شبیب بن عبدالله مولیٰ حرث بن سریح ہمدانی ٢٠- شبیب بن عبدالله نہثلی بصری ٢١- عائذ بن مجمع ٢٢- عامر مسلم عبدی ٢٣- عبدالله بن بشر ٢٤- عبدالله بن یزید بن نبیط عبدی ٢٥- عبیداللہ بن یزید بن نبیط عبدی ٢٦- عبدالرحمان بن عبدرب انصاری خزرجی ٢٧- عبدالرحمان بن مسعود ٢٨- عمرو بن ضبعیہ تمیمی ٢٩- عمار بن حسان طائی ٣٠- عمار بن ابی سلامہ ہمدانی ٣١- قاسم بن حبیب بن ابی بشر ازدی ٣٢- قاسط بن زہیر تغلبی ٣٣- کردوس بن زہیر تغلبی ٣٤- کنانہ بن عتیق ٣٥- مسلم بن کثیر ازدی ٣٦- مسعود بن حجاج ٣٧- مسقط بن زہیر ٣٨- نذر بن ابی نیزر ٣٩- نعمان بن عمرو الراسبی ٤٠- نعیم بن عجلان ٤١- عبدالله بن عمیر کلبی (سلام اللہ علیہم) 📚 یہ فہرست کتاب حدیث کربلا سے پیش کی گئی ہے۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🔷 لشکرِ حسینی کیطرف پہلا تیر 🔷 صبح عاشور ابن سعد کا تاحدِ نگاہ لشکر، امامؑ کی مختصر جماعت کے سامنے آ کھڑا ہوا اصحاب کی صفوں کی پشت پر خیام تھے اور خیام کے عقب میں امامؑ کے حکم سے خندق کھودی گئی تھی جس میں لکڑیاں اور جھاڑیاں وغیرہ بھر کر ان کو آگ لگا دی گئی تھی تاکہ دشمن خیام کی پشت سے حملہ آور نہ ہو سکے۔ (حدیث کربلا، طالب جوہری) امامؑ نے جب دشمن کا اژدہام ملاحظہ فرمایا تو آپؑ نے قران منگوا کر اپنے سر پر رکھا اور اپنے پروردگار سے مخاطب ہوئے: ''بارالہا! تو ہر مصیبت میں میرا بھروسہ ہے اور ہر سختی میں میری امید ہے اور تو ہی ہر اس پریشانی میں جو مجھ پر نازل ہوئی میرا اطمینان اور سہارا ہے۔ کتنے ایسے ہم وغم ہیں کہ جن سے دل مضطرب ہو جاتا ہے اور چارہ تدبیر گھٹ جاتے ہیں اور دوست ساتھ چھوڑ دیتا ہے۔ اور دشمن سخت کلامی کرتا ہے۔ میں انہیں پریشانیوں کو تیری بارگاہ میں لایا اور تجھ سے ان کا شکوہ کیا اس لئے کہ میں ماسویٰ (یعنی ہر غیر) کو چھوڑ کر صرف تیرا ہی طالب رہا تو تو نے انہیں پریشانیوں کو زائل فرما دیا اور مشکل حل کر دی پس تو ہی ہر نعمت کا مالک اور ہر نیکی کا دارا (محور اور جزا دینے والا ) اور ہر امید کا منتہا ہے''۔ (ارشاد، شیخ مفید، اور طبری) اس مناجات کے بعد امام حسین علیہ السلام نے رسول الله صلی الله علیہ و آلہ وسلم کی زرہ پہنی اور آپؑ کا خود جس کا نام ''سحاب'' تھا اپنے سر پر رکھا اور رسول اکرم صلی الله علیہ و آلہ وسلم کی تلوار حمائل کی اور خیمے سے باہر تشریف لے آئے۔ لشکر یزید کا پرچم، ابن سعد کے غلام "درید" کے ہاتھ میں تھا۔ ابن سعد نے اسے آواز دے کر کہا کہ پرچم میرے پاس لاؤ جب وہ پرچم لے کر قریب آگیا تو ابن سعد نے کمان میں تیر جوڑ کر لشکر حسین علیہ السلام کی طرف تیر چلایا اور کہا کہ تم لوگ گواہی دینا کہ حسینؑ کی طرف پہلا تیر میں نے چلایا۔ کتاب ''روضتہ الصفا'' میں مرقوم ہے کہ امامؑ کے لشکر میں سے کسی نے کہا کہ تم ہی سب سے پہلے جہنم میں جاؤ گے۔ ابن سعد کے تیر چلاتے ہی یزیدیوں کے تیر اندازوں نے امامؑ کی جماعت پر تیروں کی بارش کر دی۔ ان تیروں نے امامؑ کی جماعت کے ہر فرد کو نقصان پہنچایا۔ محمد بن ابیطالب کی روایت کے مطابق تیر اندازوں کی تعداد آٹھ ہزار تھی اس صورت حال میں امامؑ نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا: ''الله تم لوگوں پر اپنی رحمت نازل کرے اب موت کے لیے تیار ہو جاؤ کہ اس کے علاوہ کوئی چارہ کار نہیں ہے اس لئے کہ یہ تیر تمہارے لئے فوج مخالف کا پیغام لائے ہیں'' اس کے ساتھ ہی یزید کی فوج نے امام علیہ السلام کی جماعت پر حملہ کر دیا تاریخ میں اس حملے کو ''حملہ اولیٰ'' کا نام دیا ہے۔ علامہ طالب جوہری نے اپنی کتاب ''حدیث کربلا'' میں ''بحارالانوار'' کے حوالے سے تحریر کیا ہے کہ اس پہلے حملے میں امامؑ کے پچاس اصحاب کی شہادت ہوئی جو کہ درست نہیں ہے اگر اس تعداد کو درست تسلیم کر لیا جائے تو پھر حملہ اولیٰ میں ہی امامؑ کی جماعت تقریباً نصف سے زیادہ شہید ہو گئی تھی تو کیا پھر شہداء کی ایک بڑی تعداد کہ جس کا تذکرہ اور ان کی انفرادی جنگ کے احوال تاریخ نے رقم کیے ہیں درست نہیں؟ اگر کل نوے (٩٠) شہداء میں سے ٥٠ حملہ اولیٰ میں ہی شہید ہو جائیں تو باقی چالیس (٤٠) رہ جائیں گے اور اگر صبح عاشور لشکر یزید کے سامنے کھڑی ہونے والی امامؑ کی جماعت کی متفقہ تعداد بہتر (٧٢) پہ اکتفا کیا جائے تو باقی بچ جانے والوں کی تعداد بائیس (٢٢) رہ جاتی ہے۔ جب کہ تاریخی ماخذوں میں انفرادی جنگیں کرنے والے امامؑ کے اصحاب کی تعداد چالیس یا بائیس سے زیادہ ہے۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🔴 کربلا میں لعین زادوں کا پہلا حملہ 🔴 جب ابن سعد ملعون کو جناب حر اور کچھ دوسرے افراد کے امام حسین علیہ السلام کے ساتھ ملنے کا علم ہوا تو وہ اس بات سے خوف زدہ ہوا کہ کہیں دوسرے افراد بھی امام حسین علیہ السلام کے ساتھ نہ مل جائیں، لہذا ابن سعد لعین سامنے آیا اور چیخ کر کہا: اے درید اپنا علم آگے لے آؤ جب وہ علم اس کے نزدیک لایا تو عمر بن سعد لعین نے کمان میں تیر جوڑ کر امام حسین علیہ السلام کے لشکر کی طرف پھینکا اور اپنے لشکر کو مخاطب کر کے کہنے لگا اے لوگوں گواہ رہنا کہ میں وہ پہلا شخص ہوں کہ جس نے جنگ کے لیے امام حسین علیہ السلام کے لشکر کی طرف تیر پھینکا. سید ابن طاؤس کی نقل کردہ روایت کے مطابق جب ابن سعد لعین نے امام حسین علیہ السلام کے لشکر کی طرف تیر پھینکا تو اس کے بعد ان ملعونوں نے امام حسین علیہ السلام کے لشکر پر تیر برسانے شروع کر دیئے اور ہزاروں کی تعداد میں آنے والے تیروں نے امام حسین علیہ السلام کے اصحاب کو زخمی کیا. اس کے بعد امام حسین علیہ السلام نے اپنے اصحاب کی طرف رخ کیا اور فرمایا کھڑے ہو جاؤ اور موت کے لئے تیار ہو جاؤ بیشک یہ تیر تمہاری طرف اس قوم کے قاصد ہیں. کتاب منتھی الامال (احسن المقال) کے مطابق ابن سعد لعین کے لشکر نے تیر چلانے کے بعد امام حسین علیہ السلام کے لشکر پر حملہ کر دیا کافی دیر تک دونوں لشکروں میں جنگ ہوتی رہی امام حسین علیہ السلام کے اصحاب نے اپنی بہت ہی کم تعداد کے باوجود شجاعت، بہادری اور ایثار و قربانی کی عظیم تاریخ رقم کی. اس جنگ میں عمر بن سعد لعنتی کی فوج کے بے شمار افراد واصل جہنم ہوئے. اس اجتماعی حملے میں امام حسین علیہ السلام کے اصحاب میں سے تقریبا آدھے افراد نے جام شہادت نوش کیا. اس کے بعد دو یا تین یا چار افراد مل کر میدان جنگ میں آتے اور شجاعت کے ساتھ جنگ کرتے کرتے شہادت سے سرفراز ہوتے اور کبھی فقط ایک ہی فرد میدان جنگ میں آنے کے بعد دشمن کے ہزاروں فوجیوں پر حملہ کر دیتا. پس ہر کوئی میدان جنگ میں جانے سے پہلے امام حسین علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوتا اور میدان جنگ میں جانے کی اجازت لے کر دشمن پر حملہ کر دیتا. https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🔷 10 محرم کا روزہ رکھنے والا 🔷 10 محرم کا روزہ رکھنے والا اہلِ بیت علیھم السلام کا دشمن اور جہنمی ہے۔ بنى امیہ لعنت اللہ علیہم نہ فقط یہ کہ امام حسین (علیہ السلام) اور انکے اہل بیت و اصحاب کی شہادت پر عزاداری کرنے کی مخالفت کرتے تھے بلکہ عملی طور پر بھی مقابلہ کرنے کی غرض سے انھوں نے روز عاشورا کو جشن و خوشی و عید کا دن قرار دیا ہوا تھا۔ بنی امیہ روز عاشورا کو مبارک دن جانتے تھے اور اس دن جشن کی محافل برپا کیا کرتے تھے اور اس دن پورے سال کا راشن گھروں میں ذخیرہ کیا کرتے تھے اور وہ یہ سارے کام ہر سال انجام دیا کرتے تھے۔ اسی وجہ سے آئمہ معصومین علیہم السلام اور انہی کی راہ پر چلنے والے فقہاء نے بھی اس دن روزہ رکھنے سے منع کرتے ہوئے، اس دن کے روزے کو مکروہ قرار دیا ہے۔ امام صادق علیہ السلام سے عاشورا کے دن روزہ رکھنے کے بارے میں سوال کیا تو امام علیہ السلام نے فرمایا: یہ دن امام حسین (علیہ السلام) کی شہادت کا دن ہے، اگر تم اس دن امام حسین (علیہ السلام) پر ہونے والے مصائب سے راضی و خوش ہو تو اس دن روزہ رکھو۔ بنی امیہ لعنت اللہ علیہم اور اہل شام، کہ جنہوں نے امام حسین (علیہ السلام) کو شہید کیا تھا، نے نذر مانی ہوئی تھی کہ اگر حسین قتل ہو جائے اور ہمارا شامی لشکر سلامتی کے ساتھ واپس آ جائے اور مقام خلافت آل ابوسفیان کو مل جائے تو عاشورا کے دن کو خوشی کے ساتھ اپنے لیے عید کا دن قرار دیں گے اور شکرانے کے طور پر اس دن روزہ رکھیں گے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 📚 امالی شیخ طوسی، ص667، رقم‏1397/ 4. امام رضا علیہ السلام سے اسی بارے میں حدیث نقل ہوئی ہے کہ: یہ دن وہ دن ہے کہ بنی امیہ اس دن روزہ رکھتے تھے، حالانکہ اس دن اسلام اور مسلمین عزادار ہوئے تھے، پس آج کے دن روزہ نہ رکھو، جو بھی اس دن روزہ رکھے گا تو آل امیہ کی طرح اسکے نصیب میں بھی جہنم کی آگ لکھی جائے گی۔ 📚 حوالہ جات: اصول کافی، ج 4، ص147، شماره حدیث6۔ تهذیب الاحکام، ج4، ص301، شماره حدیث 912۔ الإستبصار، ج2، ص135، شماره حدیث 443۔ بحارالأنوار، ج61، ص291۔ شفاءالصدور، طهرانی، ص 259۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 👈 مزید پوسٹس۔۔۔ 🔷 9 اور 10 محرم کا روزہ https://t.me/islamwitheman/7112 🔷 10 محرم کو قبروں پر مٹی ڈالنا https://t.me/islamwitheman/7113 🔷 10 محرم کا روزہ https://t.me/islamwitheman/7131 🔷 10 محرم کا روزہ (مکمل بحث) https://t.me/islamwitheman/7124 🔷 10 محرم کا روزہ رکھنے والا https://t.me/islamwitheman/7132 ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🔷 10 محرم کا روزہ 🔷 بنى امیہ لعنت اللہ علیہم نہ فقط یہ کہ امام حسین علیہ السلام اور انکے اہلبیتؑ و اصحابؓ کی شہادت پر عزاداری کرنے کی مخالفت کرتے تھے بلکہ عملی طور پر بھی مقابلہ کرنے کی غرض سے انھوں نے روزِ عاشورا کو جشن و خوشی و عید کا دن قرار دیا ہوا تھا۔ بنی امیہ روزِ عاشورا کو مبارک دن جانتے تھے اور اس دن جشن کی محافل برپا کیا کرتے تھے اور اس دن پورے سال کا راشن گھروں میں ذخیرہ کیا کرتے تھے اور وہ یہ سارے کام ہر سال انجام دیا کرتے تھے۔ اسی وجہ سے آئمہ معصومینؑ اور انہی کی راہ پر چلنے والے فقہاء نے بھی اس دن روزہ رکھنے سے منع کرتے ہوئے، اس دن کے روزے کو مکروہ قرار دیا ہے۔ 🔷 امام صادق علیہ السلام سے عاشورا کے دن روزہ رکھنے کے بارے میں سوال کیا تو امامؑ نے فرمایا: یہ دن امام حسینؑ کی شہادت کا دن ہے، اگر تم اس دن امام حسینؑ پر ہونے والے مصائب سے راضی و خوش ہو تو اس دن روزہ رکھو۔ بنی امیہ لعنت اللہ علیہم اور اہل شام، کہ جہنوں نے امام حسینؑ کو شہید کیا تھا، نے نذر مانی ہوئی تھی کہ اگر حسینؑ قتل ہو جائے اور ہمارا شامی لشکر سلامتی کے ساتھ واپس آ جائے اور مقام خلافت آل ابوسفیان کو مل جائے تو عاشورا کے دن کو خوشی کے ساتھ اپنے لیے عید کا دن قرار دیں گے اور شکرانے کے طور پر اس دن روزہ رکھیں گے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 📚 امالی شیخ طوسی، ص 667، رقم‏1397 / 4. 🔷 امام رضا علیہ السلام سے اسی بارے میں حدیث نقل ہوئی ہے کہ: یہ دن وہ دن ہے کہ بنی امیہ اس دن روزہ رکھتے تھے، حالانکہ اس دن اسلام اور مسلمین عزادار ہوئے تھے، پس آج کے دن روزہ نہ رکھو، جو بھی اس دن روزہ رکھے گا تو آل امیہ کی طرح اسکے نصیب میں بھی جہنم کی آگ لکھی جائے گی۔ 📚 حوالہ جات: اصول کافی، ج 4، ص147، شماره حدیث6۔ تهذیب الاحکام، ج4، ص301، شماره حدیث912۔ الإستبصار، ج2، ص135، شماره حدیث443۔ بحارالأنوار، ج61، ص291۔ شفاءالصدور، طهرانی، ص259۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

ﺭﻭﺍﯾﺖ ﺣﺪﯾﺚ ﮐﮯ ﺑﺎﺏ ﻣﯿﮟ ﺟﮭﻮﭨﺎ ﻗﺮﺍﺭ ﺩﯾﺎ ﮨﮯ، ﺍﺑﻦ ﻋﺪﯼ ﮐﺎ ﺍُﺳﯽ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﻨﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺣﺪﯾﺜﯿﮟ ﮔﮭﮍﺍ ﮐﺮﺗﺎ ﺗﮭﺎ ، ﺍﺑﻮ ﺣﺎﺗﻢ ﺑﮭﯽ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﯾﮧ ﺭﻭﺍﯾﺖ ﺑﺎﻟﮑﻞ ﺑﺎﻃﻞ ﺍﻭﺭ ﺑﮯ ﺑﻨﯿﺎﺩ ﮨﮯ۔ ﴿ﺍﻟﻤﻮﺿﻮﻋﺎﺕ ، ﺍﺑﻦ ﺍﻟﺠﻮﺯﯼ ، ﺟﻠﺪ 2 ، ﺻﻔﺤﮧ 203 ، ﻧﺎﺷﺮ ﻣﺤﻤﺪ ﻋﺒﺪ ﺍﻟﻤﺤﺴﻦ، ﺻﺎﺣﺐ ﺍﻟﻤﮑﺘﺒۃ ﺍﻟﺴﻠﻔﯿﮧ ﻣﺪﯾﻨﮧ ، ﭘﮩﻼ ﺍﯾﮉﯾﺸﻦ 1996 ﻋﯿﺴﻮﯼ﴾ 4 ۔ ﺟﺲ ﺷﺨﺺ ﻧﮯ ﻣﺤﺮﻡ ﮐﮯ ﺍﺑﺘﺪﺍﺋﯽ ﻧﻮ ﺩﻥ ﮐﮯ ﺭﻭﺯﮮ ﺭﮐﮭﮯ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﺍُﺱ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺁﺳﻤﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﻣﯿﻠﻮﮞ ﻭﺳﯿﻊ ﻭ ﻋﺮﯾﺾ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﺴﺎ ﮔﻨﺒﺪ ﺑﻨﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ ﺟﺲ ﮐﮯ ﭼﺎﺭ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﮨﻮﮞ ﮔﮯ۔ ﯾﮧ ﺭﻭﺍﯾﺖ ﺑﮭﯽ ﺟﻌﻠﯽ ﺭﻭﺍﯾﺘﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﮨﮯ۔ ﴿ﺍﻟﻤﻮﺿﻮﻋﺎﺕ ﺍﺑﻦ ﺍﻟﺠﻮﺯﯼ ، ﺟﻠﺪ 2 ﺻﻔﺤﮧ 1993﴾ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻋﻼﻭﮦ ﻋﺎﺷﻮﺭ ﮐﯽ ﻓﻀﯿﻠﺖ ﺳﮯ ﻣﺘﻌﻠﻖ ﺍﻭﺭ ﺑﮭﯽ ﺑﮩﺖ ﺳﯽ ﻣﻦ ﮔﮭﮍﺕ ﺣﺪﯾﺜﻮﮞ ﮐﯽ ﻧﺸﺎﻧﺪﮨﯽ ﮐﯽ ﮔﺌﯽ ﮨﮯ ﺟﻦ ﮐﻮ ﮨﻢ ﺍﺧﺘﺼﺎﺭ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﻧﻘﻞ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺧﺪﺍ وند ﻋﺎﻟﻢ ﺗﻤﺎﻡ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﻮ ﻗﺮﺁﻥ ﻭ ﻋﺘﺮﺕ ﮐﮯ ﺩﺍﻣﻦ ﺳﮯ ﻣﺘﻤﺴﮏ ﺭﮐﮭﮯ۔ ﴿ﺁﻣﯿﻦ﴾ https://t.me/islamwitheman/7124 ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

ﯾﮧ ﺛﺎﺑﺖ ﮨﻮﺟﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﮐﮧ ﻋﺎﺷﻮﺭٔ ﻣﺤﺮﻡ ﮐﮯ ﺩﻥ ﺭﻭﺯﮦ ﺭﮐﮭﻨﮯ ﮐﺎ ﺣﮑﻢ ﻧﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﻧﮯ ﺩﯾﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻧﮧ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺭﺳﻮﻝ ‏( ﺹ ‏) ﻧﮯ ، ﻣﺎﻧﻨﺎ ﭘﮍﮮ ﮔﺎ ﮐﮧ ﯾﮧ ﺑﻨﯽ ﺍﻣﯿﮧ ﮐﯽ ﺷﺮﺍﺭﺕ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﻣﺎﻡ ﺣﺴﯿﻦ ‏( ﻉ ‏) ﮐﮯ ﻗﯿﺎﻡ ﻭ ﺍﻧﻘﻼﺏ ﮐﻮ ﮐﻢ ﺭﻧﮓ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺍﺳﻼﻣﯽ ﺷﺨﺼﯿﺎﺕ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﺳﮯ ﻋﺎﺷﻮﺭﺍ ﮐﮯ ﻓﻀﺎﺋﻞ ﺍﻭﺭ ﺭﻭﺯﮦ ﺭﮐﮭﻨﮯ ﮐﯽ ﺗﺎﮐﯿﺪ ﺍﺕ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﺣﺪﯾﺜﯿﮟ ﮔﮭﮍ ﮈﺍﻟﯿﮟ ﺗﺎﮐﮧ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﺭﺍﺋﮯ ﻋﺎﻣﮧ ﮐﻮ ﻣﻘﺼﺪ ﺍﻣﺎﻡ ﺣﺴﯿﻦ ‏( ﻉ ‏) ﺳﮯ ﻣﻨﺤﺮﻑ ﮐﺮﺩﯾﺎ ﺟﺎﺋﮯ ، ﻟﯿﮑﻦ ﭼﻮﻧﮑﮧ ﯾﮧ ﺍﻧﻘﻼﺏ ،ﺍﻣﺎﻡ ﺣﺴﯿﻦ ‏( ﻉ ‏) ﻧﮯ ﺧﺪﺍ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺑﺮﭘﺎ ﮐﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﻟﮩٰﺬﺍ ﺧﺪﺍ ﻭﻧﺪ ﻋﺎﻟﻢ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺣﻔﺎﻇﺖ ﮐﺎ ﺍﻧﺘﻈﺎﻡ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ ﺍﻭﺭﯾﮧ ﺧﺪﺍ ﮨﯽ ﮐﺎ ﺍﻧﺘﻈﺎﻡ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺧﻮﺩ ﺍﮨﻞ ﺳﻨﺖ ﮐﮯ ﻣﻮﺭﺧﯿﻦ ﻭ ﻣﺤﻘﻘﯿﻦ ﻧﮯ ﻓﻀﺎﺋﻞ ﻋﺎﺷﻮﺭﺍ ﺍﻭﺭ ﻋﺎﺷﻮﺭﮦٔ ﻣﺤﺮﻡ ﮐﺎ ﺭﻭﺯﮦ ﺭﮐﮭﻨﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﺭﻭﺍﯾﺎﺕ ﮐﻮ ﻣﻦ ﮔﮭﮍﺕ ﺑﺘﺎﯾﺎ ﮨﮯ ، ﺟﻦ ﮐﻮ ﮨﻢ ﺍﺧﺘﺼﺎﺭ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺧﺪﻣﺖ ﻣﯿﮟ ﭘﯿﺶ ﮐﺮﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ 1 ۔ ﻋﺒﺪﺍﻟﻠﮧ ﺑﻦ ﻋﺒﺎﺱ ‏( ﺭﺽ ‏) ﺳﮯ ﺭﻭﺍﯾﺖ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻧﺒﯽ ‏( ﺹ ‏) ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﻋﺎﺷﻮﺭ ﮐﮯ ﺩﻥ ﺭﻭﺯﮦ ﺭﮐﮭﻮ ﺍﻭﺭ ﯾﮩﻮﺩ ﮐﯽ ﺍِﺱ ﻃﺮﺡ ﻣﺨﺎﻟﻔﺖ ﮐﺮﻭ ﮐﮧ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﭘﮩﻠﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﺑﻌﺪ ﺑﮭﯽ ﺭﻭﺯﮦ ﺭﮐﮭﻮ . ﯾﮧ ﺭﻭﺍﯾﺖ ﺣﻀﻮﺭ ‏( ﺹ ‏) ﮐﯽ ﻧﺴﺒﺖ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﺳﻨﺪﺍً ﺿﻌﯿﻒ ﺍﻭﺭ ﻣُﻨﮑَﺮ ﮨﮯ . ﴿ ﻧﯿﻞ ﺍﻻﻭﻃﺎﺭ، ﺍﻟﺸﻮﮐﺎﻧﯽ، ﺟﻠﺪ 4 ، ﺻﻔﺤﮧ 289 ، ﺗﺤﻘﯿﻖ ﻋﺼﺎﻡ ﺍﻟﺪﯾﻦ ﺍﻟﺼﺒﺎﺑﻄﯽ ، ﻧﺎﺷﺮ ﺩﺍﺭﺍﻟﺤﺪﯾﺚ ﻣﺼﺮ ، ﭘﮩﻼ ﺍﯾﮉﯾﺸﻦ 1993 ﻋﯿﺴﻮﯼ ﴾ 2 ۔ ﺟﻮ ﺷﺨﺺ ﯾﻮﻡ ﻋﺎﺷﻮﺭﺍ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﮨﻞ ﻭ ﻋﯿﺎﻝ ﭘﺮ ﻓﺮﺍﺥ ﺩﻟﯽ ﺳﮯ ﺧﺮﭺ ﮐﺮﮮ ﮔﺎ ، ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﭘﻮﺭ ﮮ ﺳﺎﻝ ﺍُﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻓﺮﺍﺥ ﺩﻟﯽ ﮐﺎ ﻣﻌﺎﻣﻠﮧ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﮯ . ﺳﻌﻮﺩﯼ ﻋﺮﺏ ﮐﯽ ﺗﻨﻈﯿﻢ ’’ ﺍﻟﺠﻤﻌﯿۃ ﺍﻟﻌﻠﻤﯿۃ ﺍﻟﺴّﻌﻮﺩﯾۃ ﻟﻠﺴُﻨّۃ ﻭ ﻋُﻠﻮﻣﮩﺎ ‘‘ ﮐﯽ ﻭﯾﺐ ﺳﺎﺋﭧ www.sunnah.org.sa ﭘﺮ ﮐﺴﯽ ﻧﮯ ﺍﺳﯽ ﺣﺪﯾﺚ ﺳﮯ ﻣﺘﻌﻠﻖ ﺳﻮﺍﻝ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺁﯾﺎ ﯾﮧ ﺣﺪﯾﺚ ﺻﺤﯿﺢ ﯾﺎ ﻧﮩﯿﮟ ؟ ﺗﻨﻈﯿﻢ ﻧﮯ ﻭﯾﺐ ﺳﺎﺋﭧ ﭘﺮ ﺗﻔﺼﯿﻞ ﺳﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﻟﮑﮭﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﯾﮧ ﺣﺪﯾﺚ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ﺳﮯ ﻣﺮﻭﯼ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ، ﻭﯾﺐ ﺳﺎﺋﭧ ﻧﮯ ﺍﻣﺎﻡ ﺍﺣﻤﺪ ، ﺍﺑﻦ ﺭﺟﺐ ، ﻋﻘﯿﻠﯽ ، ﺣﺎﻓﻆ ﺍﺑﻮﺯﺭﻋۃ ﺍﻟﺮﺍﺯﯼ ، ﺩﺍﺭﻗﻄﻨﯽ ، ﺍﺑﻦ ﺗﯿﻤﯿﮧ ، ﺍﺑﻦ ﻋﺒﺪﺍﻟﮩﺎﺩﯼ ، ﺫﮨﺒﯽ ، ﺍﺑﻦ ﺍﻟﻘﯿﻢ ﺍﻭﺭ ﺍﻟﺒﺎﻧﯽ ﮐﮯ ﺣﻮﺍﻟﮯ ﺳﮯ ﻟﮑﮭﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﯾﮧ ﺣﺪﯾﺚ ﻣﻦ ﮔﮭﮍﺕ ﺍﻭﺭ ﺟﮭﻮﭨﯽ ﮨﮯ ، ﻣﺰﯾﺪ ﺗﻔﺼﯿﻞ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﯾﮧ ﻟﻨﮏ ﻣﻼﺣﻈﮧ ﮨﻮ۔ 3 ۔ ﺟﺲ ﺷﺨﺺ ﻧﮯ ﯾﻮﻡ ﻋﺎﺷﻮﺭﺍ ﮐﺎ ﺭﻭﺯﮦ ﺭﮐﮭﺎ ، ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﺍُﺱ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺳﺎﭨﮫ ﺳﺎﻝ ﮐﮯ ﺭﻭﺯﮮ ﺍﻭﺭ ﺍُﻥ ﮐﯽ ﺭﺍﺗﻮﮞ ﮐﮯ ﻗﯿﺎﻡ ﮐﯽ ﻋﺒﺎﺩﺕ ﻟﮑﮫ ﺩﯾﮟ ﮔﮯ ، ﺟﺲ ﻧﮯ ﻋﺎﺷﻮﺭ ﺍ ﮐﮯ ﺩﻥ ﺭﻭﺯﮦ ﺭﮐﮭﺎ ، ﺍُﺳﮯ ﺩﺱ ﮨﺰﺍﺭ ﻓﺮﺷﺘﻮﮞ ﮐﮯ ﻋﻤﻞ ﮐﮯ ﺑﺮﺍﺑﺮ ﺍﺟﺮ ﻣﻠﮯ ﮔﺎ ، ﺟﺲ ﻧﮯ ﯾﻮﻡ ﻋﺎﺷﻮﺭﺍ ﮐﺎ ﺭﻭﺯﮦ ﺭﮐﮭﺎ ، ﺍُﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﮨﺰﺍﺭ ﺣﺠﺎﺝ ﻭ ﻣﻌﺘﻤﺮﯾﻦ ﮐﮯ ﻋﻤﻞ ﮐﮯ ﺑﺮﺍﺑﺮ ﺛﻮﺍﺏ ﺣﺎﺻﻞ ﮨﻮﮔﺎ ، ﺟﺲ ﻧﮯ ﻋﺎﺷﻮﺭﺍ ﮐﮯ ﺩﻥ ﺭﻭﺯﮦ ﺭﮐﮭﺎ ، ﺍُﺳﮯ ﺩﺱ ﮨﺰﺍﺭ ﺷﮩﯿﺪﻭﮞ ﮐﺎ ﺍﺟﺮ ﻣﻠﮯ ﮔﺎ ، ﺟﺲ ﻧﮯ ﯾﻮﻡ ﻋﺎﺷﻮﺭﺍ ﮐﺎ ﺭﻭﺯﮦ ﺭﮐﮭﺎ ، ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﺍُﺱ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺳﺎﺕ ﺁﺳﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﺎ ﺗﻤﺎﻡ ﺍﺟﺮ ﻟﮑﮫ ﺩﯾﮟ ﮔﮯ ، ﺟﺲ ﺷﺨﺺ ﮐﮯ ﮨﺎﮞ ﮐﺴﯽ ﻣﻮﻣﻦ ﻧﮯ ﻋﺎﺷﻮﺭﺍ ﮐﮯ ﺩﻥ ﺭﻭﺯﮦ ﺍﻓﻄﺎﺭ ﮐﯿﺎ ﺗﻮ ﮔﻮﯾﺎ ﺍُﺱ ﮐﮯ ﮨﺎﮞ ﭘﻮﺭﯼ ﺍﻣﺖ ﻣﺤﻤﺪ ﻧﮯ ﺭﻭﺯﮦ ﺍﻓﻄﺎﺭ ﮐﯿﺎ ، ﺟﺲ ﻧﮯ ﯾﻮﻡ ﻋﺎﺷﻮﺭﺍ ﮐﻮ ﮐﺴﯽ ﺑﮭﻮﮐﮯ ﮐﻮ ﭘﯿﭧ ﺑﮭﺮ ﮐﮯ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﮐﮭﻼﯾﺎ ﺗﻮ ﺍُﺱ ﻧﮯ ﮔﻮﯾﺎ ﺍﻣﺖ ﻣﺤﻤﺪ ﮐﮯ ﺗﻤﺎﻡ ﻓﻘﺮﺍ ﮐﻮ ﭘﯿﭧ ﺑﮭﺮ ﮐﮯ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﮐﮭﻼﯾﺎ ، ﺟﺲ ﺷﺨﺺ ﻧﮯ ﴿ﺍِﺱ ﺩﻥ ﴾ ﮐﺴﯽ ﯾﺘﯿﻢ ﮐﮯ ﺳﺮ ﭘﺮ ﮨﺎﺗﮫ ﭘﮭﯿﺮﺍ ﺗﻮ ﺍُﺱ ﴿ﯾﺘﯿﻢ ﴾ ﮐﮯ ﺳﺮ ﮐﮯ ﺑﺎﻝ ﮐﮯ ﺑﺮﺍﺑﺮ ﺍُﺱ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺟﻨﺖ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺩﺭﺟﮧ ﺑﻠﻨﺪ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ ، ﺍﺱ ﭘﺮ ﺳﯿﺪﻧﺎ ﻋﻤﺮ ﻧﮯ ﻋﺮﺽ ﮐﯿﺎ : ﺍﮮ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﺭﺳﻮﻝ ! ﺑﻼ ﺷﺒﮧ ، ﻋﺎﺷﻮﺭ ﮐﺎ ﺩﻥ ﻋﻄﺎ ﮐﺮﮐﮯ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻧﮯ ﮨﻤﯿﮟ ﺑﮍﺍ ﮨﯽ ﻧﻮﺍﺯﺍ ﮨﮯ ، ﺁﭖ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ : ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻧﮯ ﺁﺳﻤﺎﻧﻮﮞ ، ﺯﻣﯿﻦ ، ﭘﮩﺎﮌﻭﮞ ، ﺗﺎﺭﻭﮞ ، ﻗﻠﻢ ﺍﻭﺭ ﻟﻮﺡ ﮐﯽ ﺗﺨﻠﯿﻖ ﺍﺳﯽ ﺩﻥ ﮐﯽ ﮨﮯ ، ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﺟﺒﺮﯾﻞ ، ﻓﺮﺷﺘﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺁﺩﻡ ﮐﯽ ﺗﺨﻠﯿﻖ ﺑﮭﯽ ﺍﺳﯽ ﯾﻮﻡ ﻋﺎﺷﻮﺭ ﮐﻮ ﮐﯽ ﮨﮯ ، ﺳﯿﺪﻧﺎ ﺍﺑﺮﺍﮨﯿﻢ ﮐﯽ ﻭﻻﺩﺕ ﺑﮭﯽ ﺍﺳﯽ ﺩﻥ ﮨﻮﺋﯽ ﮨﮯ ، ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺁﮒ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﺍﺳﯽ ﺩﻥ ﺑﭽﺎﯾﺎ ، ﺳﯿﺪﻧﺎ ﺍﺳﻤﺎﻋﯿﻞ ﮐﻮ ﻗﺮﺑﺎﻥ ﮨﻮﺟﺎﻧﮯ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﺍﺳﯽ ﺩﻥ ﺑﭽﺎﯾﺎ ﴿ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ 10 ﺫﯼ ﺍﻟﺤﺠﮧ ﮐﻮ ﻋﯿﺪ ﺍﻻﺿﺤﯽ ﮐﯿﻮﮞ ﻣﻨﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ؟﴾ﻓﺮﻋﻮﻥ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﺍﺳﯽ ﺩﻥ ﺩﺭﯾﺎ ﻣﯿﮟ ﻏﺮﻕ ﮐﯿﺎ ﴿ﮔﺰﺷﺘﮧ ﺻﻔﺤﺎﺕ ﻣﯿﮟ ﮨﻢ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺗﺤﻘﯿﻖ ﮐﺮ ﭼﮑﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﯾﮧ ﻏﻠﻂ ﮨﮯ ﴾ ﺳﯿﺪ ﻧﺎ ﺍﺩﺭﯾﺲ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﺍﺳﯽ ﺩﻥ ﺍﭨﮭﺎﯾﺎ ، ﺍُﻥ ﮐﯽ ﭘﯿﺪﺍﺋﺶ ﺑﮭﯽ ﺍﺳﯽ ﺩﻥ ﮨﻮﺋﯽ ﺗﮭﯽ ، ﺣﻀﺮﺕ ﺁﺩﻡ ﮐﯽ ﻟﻐﺰﺵ ﺑﮭﯽ ﺍﺳﯽ ﯾﻮﻡ ﻋﺎﺷﻮﺭ ﮐﻮ ﻣﻌﺎﻑ ﻓﺮﻣﺎﺋﯽ﴿ﺟﻨﺎﺏ ﺁﺩﻡ ﮐﮯ ﺯﻣﺎﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﺗﻮ ﮐﻮﺋﯽ ﮐﻠﯿﻨﮉﺭ ﮨﯽ ﻧﮧ ﺗﮭﺎ؟ ﴾ ، ﺩﺍﻭٔﺩ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮐﯽ ﻟﻐﺰﺵ ﺑﮭﯽ ﺍﺳﯽ ﺩﻥ ﻣﻌﺎﻑ ﻓﺮﻣﺎﺋﯽ ، ﺣﻀﺮﺕ ﺳﻠﯿﻤﺎﻥ ﮐﻮ ﺑﺎﺩﺷﺎﮨﺖ ﺑﮭﯽ ﺍﺳﯽ ﺩﻥ ﻋﻄﺎ ﮐﯽ ﺗﮭﯽ ، ﻣﺤﻤﺪ ‏( ﺹ ‏) ﮐﯽ ﻭﻻﺩﺕ ﺑﮭﯽ ﯾﻮﻡ ﻋﺎﺷﻮﺭ ﮐﻮ ﮨﻮﺋﯽ ﺗﮭﯽ ﴿ ﺗﻮ ﭘﮭﺮ 12 ﺭﺑﯿﻊ ﺍﻻﻭﻝ ﮐﻮ ﻋﯿﺪ ﻣﯿﻼﺩ ﺍﻟﻨﺒﯽ ‏( ﺹ ‏) ﮐﯿﻮﮞ ﻣﻨﺎﯾﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ؟﴾ﺍﻟﻠﮧ ﺍﭘﻨﮯ ﻋﺮﺵ ﭘﺮ ﺑﮭﯽ ﺍﺳﯽ ﺩﻥ ﻣﺴﺘﻮﯼ ﮨﻮﺍ ﺍﻭﺭ ﻗﯿﺎﻣﺖ ﺑﮭﯽ ﯾﻮﻡ ﻋﺎﺷﻮﺭ ﮨﯽ ﮐﻮ ﺑﺮﭘﺎ ﮨﻮﮔﯽ . ﻗﺎﺭﺋﯿﻦ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺁﭖ ﻧﮯ،ﯾﻮﻡ ﻋﺎﺷﻮﺭﺍﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺑﻨﯽ ﺍﻣﯿﮧ ﮐﮯ ﺩﺭﺑﺎﺭﯼ ﺣﺪﯾﺚ ﺳﺎﺯﻭﮞ ﻧﮯ ﺳﺎﺭﯼ ﻣﻨﺎﺳﺒﺘﯿﮟ ﮔﮭﮍ ﮈﺍﻟﯿﮟ ﺗﺎﮐﮧ ﻧﺒﯽ ‏( ﺹ ‏) ﮐﮯ ﭼﮩﯿﺘﮯ ﻧﻮﺍﺳﮯ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﻣﺎﻡ ﺣﺴﯿﻦ ‏( ﻉ ‏) ﮐﯽ ﺩﻟﺴﻮﺯ ﺷﮩﺎﺩﺕ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺗﺎﺛﯿﺮ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﯽ ﺗﻮﺟﮧ ﮨﭧ ﺟﺎﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﻨﯽ ﺍﻣﯿﮧ ﺑﮍﮮ ﺁﺭﺍﻡ ﺳﮯ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﮐﺮﺗﮯ ﺭﮨﯿﮟ ، ﯾﮧ ﺍﺗﻨﯽ ﻣﻨﺼﻮﺑﮧ ﺑﻨﺪ ﻃﻮﯾﻞ ﺭﻭﺍﯾﺖ ﮐﺴﯽ ﺑﮭﯽ ﻃﺮﺡ ﺩﺭﺍﯾﺖ ﭘﺮ ﭘﻮﺭﯼ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﺗﺮﺗﯽ ﮨﮯ ،ﺍﺳﯽ ﻟﺌﮯ ﺍﺱ ﺭﻭﺍﯾﺖ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﺍﻣﺎﻡ ﺟﻮﺯﯼ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﯾﮧ ﺑﻼ ﺷﺒﮧ ﻣﻦ ﮔﮭﮍﺕ ﺭﻭﺍﯾﺖ ﮨﮯ ، ﺍﻣﺎﻡ ﺍﺣﻤﺪ ﺑﻦ ﺣﻨﺒﻞ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺍﯾﮏ ﺭﺍﻭﯼ ’’ ﺣﺒﯿﺐ ﺑﻦ ﺍﺑﯽ ﺣﺒﯿﺐ ‘‘ ﮐﻮ

﴿ﺗﺎﺭﯾﺦ ﻃﺒﺮﯼ ، ﺟﻠﺪ 2 ، ﺻﻔﺤﮧ 392 ، ﻧﺎﺷﺮ ﺩﺍﺭﺍﻟﺘﺮﺍﺙ ﺑﯿﺮﻭﺕ، ﻟﺒﻨﺎﻥ ، ﺩﻭﺳﺮﺍ ﺍﯾﮉﯾﺸﻦ ، 1387 ﮪ ﴾ ﻟﮩٰﺬﺍ ﻣﺪﯾﻨﮧ ﭘﮩﻨﭻ ﮐﺮ ﺣﻀﻮﺭ ‏( ﺹ ‏) ﻧﮯ ﯾﮩﻮﺩﯾﻮﮞ ﮐﻮ ﻋﺎﺷﻮﺭ ﮐﮯ ﺩﻥ ﺭﻭﺯﮦ ﺭﮐﮭﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﮩﺎﮞ ﺳﮯ ﺩﯾﮑﮫ ﻟﯿﺎ ؟ ! ﺍﺱ ﺗﺤﻘﯿﻖ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﻧﮑﺘﮧ ﭘﺮ ﺗﻮﺟﮧ ﺑﮩﺖ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺟﺲ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ﭘﺮ ﯾﮧ ﺟﮭﻮﭦ ﺑﺎﻧﺪﮬﺎ ﮨﮯ ﻭﮦ ﻣﺪﯾﻨﮯ ﺳﮯ ﺗﻌﻠﻖ ﻧﮩﯿﮞﺮﮐﮭﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﺑﻠﮑﮧ ﻭﮦ ﺷﺎﻣﯽ ﺭﮨﺎ ﮨﻮﮔﺎ ، ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺍﮔﺮ ﺣﺪﯾﺚ ﮔﮭﮍﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﻣﺪﯾﻨﮧ ﮐﺎ ﺑﺎﺷﻨﺪﮦ ﮨﻮﺗﺎ ﺗﻮ ﺍُﺳﮯ ﯾﮧ ﻋﻠﻢ ﺿﺮﻭﺭ ﮨﻮﺗﺎ ﮐﮧ ﺟﺲ ﺩﻥ ﻣﻮﺳﯽٰ ‏( ﻉ ‏) ﮐﻮ ﻓﺘﺢ ﮨﻮﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﻓﺮﻋﻮﻥ ﺳﮯ ﻧﺠﺎﺕ ﻣﻠﯽ ﺍُﺱ ﺩﻥ ﮐﻮ ﯾﮩﻮﺩﯼ ’’ ﻋﯿﺪ ﺍﻟﻔﺼﺢ ‘‘ ﴿Passover ﴾ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﺩﻥ ﻭﮦ ﺭﻭﺯﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮐﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ، ﺁﺝ ﺑﮭﯽ ﺁﭖ ﺗﺤﻘﯿﻖ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﯾﮩﻮﺩﯾﻮﮞ ﺳﮯ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ ،ﯾﮩﻮﺩﯾﻮﮞ ﮐﮯ ﯾﮩﺎﮞ ﺭﻭﺯﻭﮞ ﮐﯽ 6 ﻗﺴﻤﯿﮟ ﮨﯿﮟ ، ﺟﻦ ﻣﯿﮟ ﻋﯿﺪ ﺍﻟﻔﺼﺢ ﯾﻌﻨﯽ ﺟﻨﺎﺏ ﻣﻮﺳﯽٰ ﺍﻭﺭ ﺑﻨﯽ ﺍﺳﺮﺍﺋﯿﻞ ﮐﯽ ﻧﺠﺎﺕ ﯾﺎ ﻓﺮﻋﻮﻥ ﭘﺮ ﻓﺘﺢ ﮐﺎ ﺩﻥ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺷﺎﻣﻞ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ، ﺍﺱ ﮐﯽ ﺗﻔﺼﯿﻞ ﺁﭖ ﺍﻧﭩﺮ ﻧﯿﭧ ﭘﺮ ﺑﮭﯽ ﺍﺱ ﻟﻨﮏ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﮑﮫ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺟﻮ ﻟﻮﮒ ﻋﺎﺷﻮﺭ ﮐﮯ ﺩﻥ ﺭﻭﺯﮦ ﺭﮐﮭﻨﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﺭﻭﺍﯾﺘﻮﮞ ﮐﮯ ﺣﺎﻣﯽ ﮨﯿﮟ ﻭﮦ ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﯾﺴﯽ ﺭﻭﺍﯾﺖ ﻣﯿﮟ ﻣﻮﺟﻮﺩ ’’ ﻋﺎﺷﻮﺭ ‘‘ ﮐﺎ ﺩﻥ ﯾﮩﻮﺩﯾﻮﮞ ﮐﺎ ’’ ﯾﻮﻡ ﮐﯿﭙﻮﺭ ‘‘ ﴿ﯾﻮﻡ ﺍﻟﻐﻔﺮﺍﻥ﴾ ﺗﮭﺎ ﺟﻮ ﮐﮧ ﯾﮩﻮﺩﯾﻮﮞ ﮐﮯ ﮐﻠﯿﻨﮉﺭ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ’’ ﺗﺸﺮﯾﻦ ‘‘ ﻣﮩﯿﻨﮯ ﮐﯽ 10 ﺗﺎﺭﯾﺦ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ، ﯾﻌﻨﯽ ﯾﮧ ﻣﺤﺮﻡ ﮐﺎ ﻋﺎﺷﻮﺭ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ، ﺍﮔﺮ ﺍﯾﺴﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﻣﺤﺮﻡ ﮐﮯ ﻋﺎﺷﻮﺭ ﮐﻮ ﺭﻭﺯﮦ ﺭﮐﮭﻨﮯ ﮐﯽ ﺗﺎﮐﯿﺪ ﮐﯿﻮﮞ ﮐﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﯾﮧ ﮐﮧ ’’ ﯾﻮﻡ ﮐﯿﭙﻮﺭ ‘‘ ﮐﺎ ﻣﻮﺳﯽٰ ‏( ﻉ ‏) ﮐﯽ ﻓﺮﻋﻮﻥ ﭘﺮ ﻓﺘﺢ ﺳﮯ ﺩﻭﺭ ﺩﻭﺭ ﺗﮏ ﮐﻮﺋﯽ ﺗﻌﻠﻖ ﻧﮩﯿﮟ ، ﺑﻠﮑﮧ ’’ ﯾﻮﻡ ﮐﯿﭙﻮﺭ ‘‘ ﯾﮩﻮﺩﯾﻮﮞ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ’’ ﺗﻮﺑﮧ ﮐﺎ ﺩﻥ ‘‘ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮯ ’’ ﻋﺸﺮۃ ﺍﻟﺘﻮﺑۃ ‘‘ ﮐﮩﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ، ﯾﮩﻮﺩﯾﻮﮞ ﮐﮯ ﻧﺰﺩﯾﮏ ﯾﻮﻡ ﮐﯿﭙﻮﺭ ﺗﻮﺑﮧ ﮐﺎ ﺁﺧﺮﯼ ﻣﻮﻗﻊ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﯾﮩﻮﺩﯼ ﺑﺎ ﺟﻤﺎﻋﺖ ﮨﻮﮐﺮ ﺧﺪﺍ ﺳﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﻋﻤﺎﻝ ﮐﯽ ﻣﻌﺎﻓﯽ ﻣﺎﻧﮕﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻟﮩٰﺬﺍ ﯾﮧ ﺗﻮ ﮐﺴﯽ ﻃﺮﺡ ﻣﻤﮑﻦ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ﮐﮧ ﯾﻮﻡ ﮐﯿﭙﻮﺭ ﮐﻮ ﻣﻮﺳﯽٰ ‏( ﻉ ‏) ﮐﯽ ﻓﺮﻋﻮﻥ ﭘﺮ ﻓﺘﺢ ﮐﺎ ﺩﻥ ﺑﻨﺎ ﮐﺮ ﺭﻭﺯﮦ ﺭﮐﮭﻨﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﺭﻭﺍﯾﺎﺕ ﮔﮭﮍ ﺩﯼ ﺟﺎﺋﯿﮟ؟ ! ﺍﺱ ﮐﮯ ﻋﻼﻭﮦ ﯾﮧ ﺑﺎﺕ ﺑﮭﯽ ﺛﺎﺑﺖ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﺳﻼﻣﯽ ﮐﻠﯿﻨﮉﺭ ﮐﮯ ﻣﺤﺮﻡ ﮐﯽ 10 ﺗﺎﺭﯾﺦ ﺳﻦ 1 ﮨﺠﺮﯼ ﻣﯿﮟ ﯾﮩﻮﺩﯾﻮﮞ ﮐﮯ ﮐﻠﯿﻨﮉﺭ ﮐﮯ ﺗﺸﺮﯾﻦ ﻣﮩﯿﻨﮧ ﮐﯽ 10 ﺗﺎﺭﯾﺦ ﮐﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﯽ ، ﺍﻧﭩﺮ ﻧﯿﭧ ﭘﺮ ﺁﭖ Gregorian-Hijri Dates Converter ﮐﮯ ﺫﺭﯾﻌﮧ ﭼﯿﮏ ﮐﺮﮐﮯ ﺩﯾﮑﮫ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ ، ﺑﻠﮑﮧ 25 ﺟﻮﻻﺋﯽ 622 ﻋﯿﺴﻮﯼ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﯾﮩﻮﺩﯾﻮﮞ ﮐﯽ ﻋﯿﺪ 30 ﻣﺎﺭﭺ 622 ﻋﯿﺴﻮﯼ ﺗﮭﯽ۔ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﺑﮍﮪ ﮐﺮ ﺍﮨﻢ ﺑﺎﺕ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺭﺳﻮﻝ ‏( ﺹ ‏) ﮐﯽ ﻣﺪﻧﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﮐﺒﮭﯽ ﺑﮭﯽ ﯾﮧ ﻣﺬﮐﻮﺭﮦ ﺩﻭ ﺩﻥ ﴿ﯾﻌﻨﯽ ﺍﺳﻼﻣﯽ ﻋﺎﺷﻮﺭﮦٔ ﻣﺤﺮﻡ ﺍﻭﺭ ﯾﮩﻮﺩﯼ ﯾﻮﻡ ﮐﯿﭙﻮﺭ ﴾ ﺍﯾﮏ ﮨﯽ ﺩﻥ ﻭﺍﻗﻊ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺋﮯ۔ ﺍﺳﻼﻣﯽ ﺍﻭﺭ ﯾﮩﻮﺩﯼ ﮐﻠﯿﻨﮉﺭ ﮐﮯ ﻓﺮﻕ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﯾﮧ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺩﻥ ﴿ﯾﻌﻨﯽ ﺍﺳﻼﻣﯽ ﻋﺎﺷﻮﺭﮦ ٔ ﻣﺤﺮﻡ ﺍﻭﺭ ﯾﮩﻮﺩﯼ ﯾﻮﻡ ﮐﯿﭙﻮﺭ﴾ ﺭﺳﻮﻝ ‏( ﺹ ‏) ﮐﯽ ﻣﺪﯾﻨﮧ ﮨﺠﺮﺕ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﺻﺮﻑ 29 ﺳﺎﻝ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﮨﯽ ﺍﯾﮏ ﮨﯽ ﺩﻥ ﮐﻮ ﻭﺍﻗﻊ ﮨﻮﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ ، ﺟﺒﮑﮧ ﺭﺳﻮﻝ ‏( ﺹ ‏) ﺍﺳﻼﻡ ﮐﯽ ﻭﻓﺎﺕ 10 ﮨﺠﺮﯼ ﻣﯿﮟ ﻭﺍﻗﻊ ﮨﻮﭼﮑﯽ ﺗﮭﯽ ، ﺍﺱ ﮐﺎ ﻣﻄﻠﺐ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺭﺳﻮﻝ ‏( ﺹ ‏) ﺍﺳﻼﻡ ﻧﮯ ﻋﺎﺷﻮﺭ ﮐﮯ ﺩﻥ ﺑﻨﯽ ﺍﺳﺮﺍﺋﯿﻞ ﮐﯽ ﻧﺠﺎﺕ ﮐﯽ ﺧﻮﺷﯽ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﺭﻭﺯﮦ ﺭﮐﮭﺎ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻧﮧ ﯾﮩﻮﺩﯾﻮﮞ ﮐﻮ ﺭﻭﺯﮦ ﺭﮐﮭﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ! ﺍﻓﺴﻮ ﺱ ! ﺑﻨﯽ ﺍﻣﯿﮧ ﮐﮯ ﭘﺮﻭﭘﯿﮕﻨﮉﮮ ﺳﮯ ﻣﺘﺎﺛﺮ ﻟﻮﮒ ، ﻋﺎﺷﻮﺭ ﮐﮯ ﺩﻥ ﺭﻭﺯﮦ ﺭﮐﮭﻨﮯ ﭘﺮ ﮨﯽ ﺑﻀﺪ ﺭﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻃﺮﺡ ﻃﺮﺡ ﮐﯽ ﺗﺎﻭﯾﻠﯿﮟ ﭘﯿﺶ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﯿﺴﮯ ﯾﮧ ﮐﮧ ﺭﺳﻮﻝ ‏( ﺹ ‏) ﺍﺳﻼﻡ، ﻣﺪﯾﻨﮧ ﺭﺑﯿﻊ ﺍﻻﻭﻝ ﮨﯽ ﻣﯿﮟ ﺗﺸﺮﯾﻒ ﻻﺋﮯ ﺗﮭﮯ ﻣﮕﺮ ﯾﮩﻮﺩﯾﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺑﻌﺪ ﮐﮯ ﺑﺮﺳﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺭﻭﺯﮦ ﺭﮐﮭﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﻮ ﺭﻭﺯﮦ ﺭﮐﮭﻨﮯ ﮐﺎ ﺣﮑﻢ ﺩﮮ ﺩﯾﺎ، ﺟﺒﮑﮧ ﺍﯾﺴﮯ ﻟﻮﮒ ﯾﮧ ﺑﮭﻮﻝ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺭﻣﻀﺎﻥ ﮐﮯ ﺭﻭﺯﮮ 2 ﮨﺠﺮﯼ ﻣﯿﮟ ﮨﯽ ﻓﺮﺽ ﮨﻮﮔﺌﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ 2 ﮨﺠﺮﯼ ﺗﻮ ﮐﯿﺎ ﺭﺳﻮﻝ‏( ﺹ ‏) ﮐﯽ ﺗﻮ ﭘﻮﺭﯼ ﻣﺪﻧﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺍﺳﻼﻣﯽ ﻋﺎﺷﻮﺭﮦٔ ﻣﺤﺮﻡ ﺍﻭﺭ ﯾﮩﻮﺩﯼ ﯾﻮﻡ ﮐﯿﭙﻮﺭ ﮐﺒﮭﯽ ﺍﯾﮏ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﮐﭩﮭﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺋﮯ ﺑﻠﮑﮧ 29 ﺳﺎﻝ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﭘﮩﻠﯽ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﯾﮧ ﺍﯾﮏ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﮐﻮ ﻭﺍﻗﻊ ﮨﻮﺋﮯ ، ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﺍﺳﻼﻣﯽ ﻋﺎﺷﻮﺭﮦٔ ﻣﺤﺮﻡ ﮐﻮ ﮨﺮ ﺳﺎﻝ ﺭﻭﺯﮦ ﺭﮐﮭﻨﺎ ﮐﯿﻮﻧﮑﺮ ﺳﻨﺖ ﮨﻮﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ ؟ ! ﻋﯿﺪ ﺍﻟﻔﺼﺢ ﴿ Passover ﴾ﮐﮧ ﺟﺐ ﯾﮩﻮﺩﯾﻮﮞ ﮐﻮ ﻓﺮﻋﻮﻥ ﺳﮯ ﻧﺠﺎﺕ ﻣﻠﯽ ، ﻭﮦ ﯾﮩﻮﺩﯾﻮﮞ ﮐﮯ ﻣﮩﯿﻨﮯ ’’ ﻧﯿﺴﺎﻥ ‘‘ ﮐﯽ 15 ﺗﺎﺭﯾﺦ ﮨﮯ ﴿ﺍﺱ ﻣﮩﯿﻨﮯ ﮐﯽ 10 ﺗﺎﺭﯾﺦ ﮐﻮ ﺑﻨﯽ ﺍﺳﺮﺍﺋﯿﻞ ﻣﺼﺮ ﺳﮯ ﺭﻭﺍﻧﮧ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﻭﺭ 15 ﮐﻮ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﻧﺠﺎﺕ ﻣﻠﯽ ﴾ ﺳﺎﺋﻨﭩﯿﻔﮏ ﮐﯿﻠﮑﻮﻟﯿﭩﺮ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ 1 ﮨﺠﺮﯼ ﮐﺎ ﻋﺎﺷﻮﺭﮦٔ ﻣﺤﺮﻡ 25 ﺟﻮﻻﺋﯽ 622 ﻋﯿﺴﻮﯼ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ، ﺟﺒﮑﮧ ﺍُﺱ ﺳﺎﻝ ﯾﮩﻮﺩﯾﻮﮞ ﮐﯽ ﻋﯿﺪ ﺍﻟﻔﺼﺢ 30 ﻣﺎﺭﭺ 622 ﻋﯿﺴﻮﯼ ﮐﻮ ﻭﺍﻗﻊ ﮨﻮﺋﯽ ﴿ﺍﺱ ﮐﯿﻠﮑﻮﻟﯿﺸﻦ ﻣﯿﮟ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ 10 ﺩﻥ ﮐﺎ ﻓﺮﻕ ﮨﻮ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ ﴾ ﯾﮧ ﮐﯿﻠﮑﻮﻟﯿﺸﻦ ﺁﭖ ﺍﻧﭩﺮ ﻧﯿﭧ ﭘﺮ ﺍﺱ ﻟﻨﮏ ﭘﺮ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ: ﺍﺱ ﮐﮯ ﻋﻼﻭﮦ ﯾﮩﻮﺩ ﮐﺎ ﺭﻭﺯﮦ ﻏﺮﻭﺏ ﺁﻓﺘﺎﺏ ﺳﮯ ﺍﮔﻠﮯ ﺭﻭﺯ ﻏﺮﻭﺏ ﺁﻓﺘﺎﺏ ﺗﮏ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺟﺐ ﮐﮧ ﺍﺳﻼﻡ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﺴﮯ ﺭﻭﺯﮮ ﮐﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﻭﺟﻮﺩ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ﭘﺲ ﺟﺐ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﮐﺎ ﺭﻭﺯﮦ ﺭﮐﮭﻨﺎ ﮨﯽ ﺻﺤﯿﺢ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺍﺗﺒﺎﻉ ﻣﯿﮟ ﮨﺮ ﺳﺎﻝ ﻋﺎﺷﻮﺭ ﮐﻮ ﺭﻭﺯﮦ ﺭﮐﮭﻨﺎ ﮐﮩﺎﮞ ﺳﮯ ﺻﺤﯿﺢ ﮨﻮﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ؟!

ﺑﻌﺾ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﯾﮧ ﮔﻤﺎﻥ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﻡ ﺳﻠﻤﯽ ‏( ﺭﺽ ‏) ﮐﯽ ﻭﻓﺎﺕ 59 ﮨﺠﺮﯼ ﻣﯿﮟ ﮨﻮﺋﯽ ﮨﮯ ، ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﴿ﺍﻥ ﮐﺎ﴾ ﻭﮨﻢ ﮨﮯ ، ﻇﺎﮨﺮ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﻥ ﮐﯽ ﻭﻓﺎﺕ 61 ﮨﺠﺮﯼ ﻣﯿﮟ ﴿ﺷﮩﺎﺩﺕ ﺍﻣﺎﻡ ﺣﺴﯿﻦ ‏( ﻉ ‏) ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﴾ ﮨﻮﺋﯽ ﮨﮯ . ﴿ﺍﻋﻼﻡ ﺍﻟﻨﺒﻼﺉ ، ﺟﻠﺪ 2 ﺻﻔﺤﮧ 210 ، ﻧﺎﺷﺮ ﻣﻮﺳﺴﮧ ﺍﻟﺮﺳﺎﻟﮧ، ﺗﯿﺴﺮﺍ ﺍﮈﯾﺸﻦ 1985 ﴾ ﺟﺲ ﺳﮯ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺷﮩﺎﺩﺕ ﺍﻣﺎﻡ ﺣﺴﯿﻦ ‏( ﻉ ‏) ﮐﮯ ﻭﻗﺖ ﺍﻡ ﺍﻟﻤﻮﻣﻨﯿﻦ ﺍﻡ ﺳﻠﻤﯽ ‏( ﺭﺽ ‏) ﺣﯿﺎﺕ ﺗﮭﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﻣﺎﻡ ﺣﺴﯿﻦ ‏( ﻉ ‏) ﮐﯽ ﺷﮩﺎﺩﺕ ﺳﮯ ﺑﺎﺧﺒﺮ ﮨﻮﮐﺮ ﮔﺮﯾﮧ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺭﻧﺞ ﻭ ﻏﻢ ﮐﺎ ﺍﻇﮩﺎﺭ ﮐﯿﺎ . ﺭﺳﻮﻝ ﺍﺳﻼﻡ ‏( ﺹ ‏) ﺍﭘﻨﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺑﮭﯽ ﺍﻣﺎﻡ ﺣﺴﯿﻦ ‏( ﻉ ‏) ﮐﮯ ﻏﻢ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﻗﺪﺭ ﺭﻧﺠﯿﺪﮦ ﻧﻈﺮ ﺁﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺁﭖ‏( ﺹ ‏) ﮐﯽ ﺳﻨﺖ ﭘﺮ ﻣﺮ ﻣﭩﻨﮯ ﻭﺍﻻ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﺑﺠﺎﺋﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ ﮐﮧ ﻋﺎﺷﻮﺭ ﮐﻮ ﻋﺰﺍﺩﺍﺭﯼ ﮐﺮﮮ ﯾﺎ ﻏﻢ ﻣﻨﺎﺋﮯ ،ﺑﻨﯽ ﺍﺳﺮﺍﺋﯿﻞ ﮐﯽ ﻧﺠﺎﺕ ﮐﯽ ﺧﻮﺷﯽ ﻣﯿﮟ ﺭﻭﺯﮦ ﺭﮐﮭﺘﺎ ﮨﮯ ، ﮐﯿﺎ ﺣﻀﻮﺭ ‏( ﺹ ‏) ﺳﮯ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﺎ ﯾﮩﯽ ﺗﻘﺎﺿﮧ ﮨﮯ ؟ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﯾﮧ ﮐﮧ ﺟﺲ ﺭﻭﺯﮦ ﮐﻮ ﺭﮐﮭﻨﮯ ﮐﺎ ﺣﮑﻢ ﺧﺪﺍ ﻭﻧﺪ ﻋﺎﻟﻢ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﻧﮧ ﺁﯾﺎ ﮨﻮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺭﮐﮭﻨﮯ ﭘﺮ ﺍﺗﻨﯽ ﺗﺎﮐﯿﺪ ﮐﯿﻮﮞ ﮐﯽ ﺟﺎﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﻧﺒﯽ ﮐﮯ ﻧﻮﺍﺳﮯ ﮐﯽ ﯾﺎﺩ ﭘﺮ ﺍﯾﺴﺎ ﺧﻮﺷﯽ ﮐﺎ ﺭﻭﺯﮦ ﺭﮐﮭﻨﮯ ﮐﯽ ﺳﻮﺍﺋﮯ ﻋﺪﺍﻭﺕِ ﺁﻝ ﺭﺳﻮﻝ ‏( ﺹ ‏) ﮐﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﯿﺎ ﻭﺟﮧ ﮨﻮ ﺳﮑﺘﯽ ﮨﮯ؟ ﺍﻭﺭ ﺗﯿﺴﺮﮮ ﯾﮧ ﮐﮧ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﻧﺒﯽ ﯾﮩﻮﺩ ﻭ ﻧﺼﺎﺭﯼٰ ﮐﯽ ﻣﻮﺍﻓﻘﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﮯ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺍﮨﻞ ﺳﻨﺖ ﺍﻭﺭ ﺷﯿﻌﮧ ﻋﻠﻤﺎﺉ ﮐﺎ ﻋﻘﯿﺪﮦ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺭﺳﻮﻝ ﺧﺪﺍ ‏( ﺹ ‏) ﺑﻌﺜﺖ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺑﮭﯽ ﺍﭘﻨﯽ ﻋﺒﺎﺩﺕ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﻣﯿﮟ ﯾﮩﻮﺩ ﻭ ﻧﺼﺎﺭﯼٰ ﮐﮯ ﺁﺋﯿﻦ ﻭ ﺍﺩﯾﺎﻥ ﮐﯽ ﭘﯿﺮﻭﯼ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﮯ ، ﻓﺨﺮ ﺭﺍﺯﯼ ﺟﻮ ﮐﮧ ﺍﮨﻞ ﺳﻨﺖ ﮐﮯ ﺑﺰﺭﮒ ﻋﺎﻟﻢ ﮨﯿﮟ ﺍﺱ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﺩﻟﯿﻞ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺗﺤﺮﯾﺮ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ : ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ‏( ﺹ ‏) ﺍﮔﺮ ﺑﻌﺜﺖ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﮐﺴﯽ ﴿ﻣﻮﺳﯽٰ ﻭ ﻋﯿﺴﯽٰ ﴾ﮐﯽ ﺷﺮﯾﻌﺖ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﻋﺒﺎﺩﺕ ﮐﺮ ﻟﯿﺘﮯ ﺗﻮ ﻻﺯﻡ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺍُﻥ ﺣﻮﺍﺩﺙ ﮐﮯ ﻣﻮﻗﻌﻮﮞ ﭘﺮ ﺟﻮ ﺑﻌﺜﺖ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺁﭖ ﭘﺮﺭﻭﻧﻤﺎ ﮨﻮﺋﮯ ، ﺍﭘﻨﮯ ﻣﺎ ﻗﺒﻞ ﺷﺮﯾﻌﺘﻮﮞ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﻣﺮﺍﺟﻌﮧ ﮐﺮ ﻟﯿﺘﮯ ﺍﻭﺭ ﻭﺣﯽ ﮐﺎ ﺍﻧﺘﻈﺎﺭ ﻧﮧ ﮐﺮﺗﮯ ،ﻟﯿﮑﻦ ﺁﻧﺤﻀﺮﺕ ‏( ﺹ ‏) ﻧﮯ ﺍﯾﺴﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺩﻭ ﺩﻟﯿﻠﯿﮟ ﮨﯿﮟ ، ﺍﯾﮏ ﯾﮧ ﮐﮧ : ﺍﮔﺮ ﺣﻀﻮﺭ ‏( ﺹ ‏) ﻧﮯ ﺍﯾﺴﺎ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﺗﻮ ﺿﺮﻭﺭ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﻣﺸﮩﻮﺭ ﮨﻮﺟﺎﺗﺎ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﯾﮧ ﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺭ ﻋﻤﺮ ﻧﮯ ﺗﻮﺭﯾﺖ ﮐﮯ ﺍﯾﮏ ﻭﺭﻕ ﮐﺎ ﻣﻄﺎﻟﻌﮧ ﮐﺮﻟﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﺑﺲ ﺍﺳﯽ ﺑﺎﺕ ﭘﺮ ﺭﺳﻮﻝ ﺧﺪﺍ ‏( ﺹ ‏) ﻏﻀﺒﻨﺎﮎ ﮨﻮﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﮧ : ﺍﮔﺮ ﻣﻮﺳﯽٰ ﺯﻧﺪﮦ ﮨﻮﺗﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﺍﺗﺒﺎﻉ ﺍﻭﺭ ﭘﯿﺮﻭﯼ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻋﻼﻭﮦ ﺍﻥ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﮐﻮﺋﯽ ﺭﺍﺳﺘﮧ ﻧﮧ ﮨﻮﺗﺎ﴿ ﭘﺲ ﮐﺲ ﻃﺮﺡ ﮐﮩﺎ ﺟﺎ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻧﺒﯽ ﺍﮐﺮﻡ ‏( ﺹ ‏) ﻧﮯ ﯾﮩﻮﺩ ﮐﯽ ﭘﯿﺮﻭﯼ ﻣﯿﮟ ﻋﺎﺷﻮﺭ ﮐﮯ ﺩﻥ ﺧﻮﺩ ﺑﮭﯽ ﺭﻭﺯﮦ ﺭﮐﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺣﮑﻢ ﺩﯾﺎ ؟ ! ﴾ ﻓﺨﺮ ﺭﺍﺯﯼ ﻧﮯ ﺍﺱ ﻣﻮﺿﻮﻉ ﭘﺮ ﺍﻭﺭ ﺑﮭﯽ ﺩﻟﯿﻠﯿﮟ ﺩﯼ ﮨﯿﮟ ﺟﻦ ﮐﻮ ﺍُﻥ ﮐﯽ ﮐﺘﺎﺏ ﴿ﺍﻟﻤﺤﺼﻮﻝ، ﺟﻠﺪ 3 ، ﺻﻔﺤﮧ 264-263 ،ﺗﺤﻘﯿﻖ ﮈﺍﮐﭩﺮ ﻃٰﮧ ﺟﺎﺑﺮ ﻓﯿﺎﺽ ﺍﻟﻌﻠﻮﺍﻧﯽ ، ﻧﺎﺷﺮ ﻣﻮﺳﺴۃ ﺍﻟﺮﺳﺎﻟﮧ ، ﺗﯿﺴﺮﺍ ﺍﯾﮉﯾﺸﻦ 1997 ﻋﯿﺴﻮﯼ﴾ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺟﺎ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ . ﺷﺮﺡ ﻣﺸﮑﺎۃ ﻣﯿﮟ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ‏( ﺹ ‏) ﺳﮯ ﺭﻭﺍﯾﺖ ﻧﻘﻞ ﮐﯽ ﮔﺌﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ‏( ﺹ ‏) ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﮧ : ﻭﮦ ﮨﻢ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ﺟﻮ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﻏﯿﺮ ،ﯾﮩﻮﺩ ﻭ ﻭ ﻧﺼﺎﺭﯼٰ ﮐﯽ ﺷﺒﺎﮨﺖ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﮐﺮﮮ . ﴿ﻣﺮﻗﺎۃ ﺍﻟﻤﻔﺎﺗﯿﺢ ﺷﺮﺡ ﻣﺸﮑﺎۃ ﺍﻟﻤﺼﺎﺑﯿﺢ ، ﻋﻠﯽ ﺑﻦ ﺳﻠﻄﺎﻥ ﻣﺤﻤﺪ ﺍﻟﻘﺎﺭﯼ ، ﺻﻔﺤﮧ 22 ، ﺣﺪﯾﺚ 4649 ، ﻧﺎﺷﺮ ﺩﺍﻟﻔﮑﺮ ﺑﯿﺮﻭﺕ، ﻟﺒﻨﺎﻥ ، 2002 ﻋﯿﺴﻮﯼ﴾ ﯾﮧ ﮐﯿﺴﮯ ﻣﻤﮑﻦ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺟﺲ ﺍﻣﺮ ﮐﯽ ﺭﺳﻮﻝ ‏( ﺹ ‏) ﺍﮐﺮﻡ ﺩﻭﺳﺮﻭﮞﮑﻮ ﻧﮩﯽ ﻓﺮﻣﺎﺋﯿﮟ ﺍﺳﮯ ﺧﻮﺩ ﺍﻧﺠﺎﻡ ﺩﯾﮟ؟ ! ﻣﺬﮐﻮﺭﮦ ﺑﺎﻻ ﺣﺪﯾﺚ ﻣﯿﮟ ﺳﺨﺘﯽ ﺳﮯ ﯾﮩﻮﺩ ﻭ ﻧﺼﺎﺭﯼٰ ﮐﯽ ﺷﺒﺎﮨﺖ ﮐﻮ ﻣﻨﻊ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮨﮯ ، ﺍﻭﺭ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﯾﮩﻮﺩ ﮐﯽ ﻣﻮﺍﻓﻘﺖ ﺍﻭﺭ ﭘﯿﺮﻭﯼ ﻣﯿﮟ ﻋﺎﺷﻮﺭ ﮐﻮ ﺭﻭﺯﮦ ﺭﮐﮭﻨﮯ ﮐﯽ ﻧﺴﺒﺖ ﺭﺳﻮﻝ ‏( ﺹ ‏) ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺩﮮ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ؟ ! ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺕ ﺍﻭﺭ ﻗﺎﺑﻞ ﺫﮐﺮ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻗﺮﯾﺶ ﮐﺎ ﮐﻠﯿﻨﮉﺭ ’’ ﻗﺼﯽ ‘‘ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﯾﮩﻮﺩﯾﻮﮞ ﮐﺎ ﮐﻠﯿﻨﮉﺭ ﺟﺲ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﻋﻤﺎﻝ ﺍﻧﺠﺎﻡ ﺩﯾﺘﮯ ﺗﮭﮯ ﻭﮦ ’’ ﮨﻼﻝ ﺩﻭﻡ ﴿‘‘ Hillel 2 ﴾ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻓﺮﻕ ﮨﮯ ، ﻟﮩٰﺬﺍ ﯾﮧ ﻣﻤﮑﻦ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﮐﻠﯿﻨﮉﺭﻭﮞ ﮐﺎ ﻋﺎﺷﻮﺭﺍ ﺍﯾﮏ ﮨﯽ ﭼﯿﺰ ﮨﻮ ﯾﺎ ﺍﯾﮏ ﮨﯽ ﺩﻥ ﮨﻮ ﻟﮩٰﺬﺍ ﯾﮧ ﮐﯿﺴﮯ ﻣﺎﻥ ﻟﯿﺎ ﮔﯿﺎ ﮐﮧ ﯾﮩﻮﺩﯾﻮﮞ ﮐﮯ ﺭﻭﺯﮦ ﺭﮐﮭﻨﮯ ﮐﯽ ﯾﮧ ﺳﻨﺖ ﺍﻭﺭ ﺭﺳﻢ ﮨﺮ ﺳﺎﻝ ﺩﺳﻮﯾﮟ ﻣﺤﺮﻡ ﮐﻮ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﻮ ﮔﯽ ﺍﻭﺭ ﭘﯿﻐﻤﺒﺮ ﺍﺳﻼﻡ ‏( ﺹ ‏) ﻧﮯ ﻋﺎﺷﻮﺭ ﮐﮯ ﺭﻭﺯﮮ ﮐﺎﺣﮑﻢ ﯾﮩﻮﺩ ﮐﯽ ﻣﺘﺎﺑﻌﺖ ﯾﺎ ﻣﺨﺎﻟﻔﺖ ﻣﯿﮟ ﺻﺎﺩﺭ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ؟ﺍﺱ ﮐﮯ ﻋﻼﻭﮦ ﺍﺳﻼﻣﯽ ﮐﻠﯿﻨﮉﺭ ﻣﺬﮐﻮﺭﮦ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﮐﻠﯿﻨﮉﺭﺳﮯ ﺑﺎﻟﮑﻞ ﻣﺨﺘﻠﻒ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﭼﺎﻧﺪ ﮐﯽ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﮐﮯ ﺣﺴﺎﺏ ﺳﮯ ﭼﻠﺘﺎ ﮨﮯ ﺑﻠﮑﮧ ﺭﺳﻮﻝ ‏( ﺹ ‏) ﮐﮯ ﺩﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﺗﻮ ﺍﺳﻼﻣﯽ ﮐﻠﯿﻨﮉﺭ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ ، ﺍﺱ ﮐﯽ ﺍﺑﺘﺪﺍ ﺗﻮ ﺭﺳﻮﻝ ‏( ﺹ ‏) ﮐﯽ ﻭﻓﺎﺕ ﮐﮯ ﺑﮩﺖ ﺑﻌﺪ ﻣﯿﮟ ﮨﻮﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﮨﺠﺮﺕ ﮐﮯ ﺳﺎﻝ ﮐﻮ ﭘﮩﻼ ﺳﺎﻝ ﺗﺴﻠﯿﻢ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ ، ﺍﺳﻼﻣﯽ ﮐﻠﯿﻨﮉﺭ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺳﺎﻝ ﻣﯿﮟ 355 ﺩﻥ ﮨﯽ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﯾﮩﻮﺩﯼ ﮐﻠﯿﻨﮉﺭ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ 355 ﺩﻥ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ، ﻣﮕﺮ ﻭﮦ ﮨﺮ ﺗﯿﺴﺮﮮ ﯾﺎ ﭼﻮﺗﮭﮯ ﺳﺎﻝ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ 10 ﺩﻥ ﮐﺎ ﺍﺿﺎﻓﮧ ﮐﺮﮐﮯ ﺍﺳﮯ ﻣﻮﺟﻮﺩﮦ ﺷﻤﺴﯽ ﴿ﻋﯿﺴﻮﯼ﴾ ﺳﺎﻝ ﮐﮯ ﺑﺮﺍﺑﺮ ﮐﺮﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ . ﺍﺱ ﮐﮯ ﻋﻼﻭﮦ 10 ﻣﺤﺮﻡ ﺳﻦ 1 ﮨﺠﺮﯼ ﮐﻮ ﺭﺳﻮﻝ ﺍ ﺳﻼﻡ ﻣﺪﯾﻨﮧ ﭘﮩﻨﭽﮯ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻠﮑﮧ ﻣﮑﮧ ﮨﯽ ﻣﯿﮟ ﺗﺸﺮﯾﻒ ﺭﮐﮭﺘﮯ ﺗﮭﮯ ، ﺳﺒﮭﯽ ﻣﻮﺭﺧﯿﻦ ﻭ ﻣﺤﺪﺛﯿﻦ ﮐﺎ ﺍﺱ ﭘﺮ ﺍﺗﻔﺎﻕ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺭﺳﻮﻝ ‏( ﺹ ‏) ﺍﺳﻼﻡ ﻋﺎﺷﻮﺭﺍ، ﺳﻦ 1 ﮨﺠﺮﯼ ﮐﮯ ﺩﻭ ﻣﮩﯿﻨﮧ ﺑﻌﺪ ﯾﻌﻨﯽ 12 ﺭﺑﯿﻊ ﺍﻻﻭﻝ ﺑﺮﻭﺯ ﭘﯿﺮ ﻣﺪﯾﻨﮧ ﻣﯿﮟ ﻭﺍﺭﺩ ﮨﻮﺋﮯ۔

﴿ﺍﻟﻄﺒﺮﺍﻧﯽ، ﺍﻟﻤﻌﺠﻢ ﺍﻟﮑﺒﯿﺮ ، ﻣﺤﻘﻖ ﺣﻤﺪﯼ ﺑﻦ ﻋﺒﺪﺍﻟﻤﺠﯿﺪ ﺍﻟﺴﻠﻔﯽ، ﻧﺎﺷﺮ ﻣﮑﺘﺒﮧ ﺍﺑﻦ ﺗﯿﻤﯿﮧ ، ﻗﺎﮨﺮﮦ ، ﺩﻭﺳﺮﺍ ﺍﯾﮉﯾﺸﻦ﴾ ﺣﺎﻻﻧﮑﮧ ﺟﻮﺗﻮﮞ ﺳﻤﯿﺖ ﻧﻤﺎﺯ ﭘﮍﮬﻨﮯ ﺳﮯ ﻧﻤﺎﺯ ﮐﺎ ﺗﻘﺪﺱ ﭘﺎﺋﻤﺎﻝ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﯾﮩﻮﺩ ﮐﯽ ﻣﻮﺍﻗﺖ ﻣﯿﮟ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﮐﺮﻡ ‏( ﺹ ‏) ﺭﻭﺯﮦ ﺭﮐﮭﻨﮯ ﮐﺎ ﺣﮑﻢ ﮐﺲ ﻃﺮﺡ ﺻﺎﺩﺭ ﻓﺮﻣﺎ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ ؟ ! ﮔﻮﯾﺎ ﯾﮩﻮﺩ ﮐﯽ ﻣﺨﺎﻟﻔﺖ ﺍﺗﻨﯽ ﺍﮨﻢ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﻧﻤﺎﺯ ﮐﮯ ﺗﻘﺪﺱ ﺍﻭﺭ ﺍﺣﺘﺮﺍﻡ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﻧﻈﺮ ﺍﻧﺪﺍﺯﮐﯿﺎ ﺟﺎ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ ، ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﯾﮩﻮﺩ ﮐﯽ ﻣﻮﺍﻓﻘﺖ ﻣﯿﮟ ﺁﻝ ﺭﺳﻮﻝ ‏( ﺹ ‏) ﮐﻮ ﮐﺲ ﻃﺮﺡ ﻧﻈﺮﺍﻧﺪﺍﺯﮐﺮﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ ؟ ! ﻋﺎﺷﻮﺭ ﮐﮯ ﺭﻭﺯ ﻧﺒﯽ ‏( ﺹ ‏) ﺍﮐﺮﻡ ﮐﯽ ﺑﮩﺘﺮﯾﻦ ﺳﯿﺮﺕ ﺍﻭﺭ ﺳﻨﺖ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﮨﻢ ﺍﻣﺎﻡ ﺣﺴﯿﻦ ‏( ﻉ ‏) ﮐﮯ ﻏﻢ ﻣﯿﮟ ﻣﻐﻤﻮﻡ ﺭﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﮔﺮﯾﮧ ﮐﺮﯾﮟ ﺍﻭﺭ ﯾﮩﯽ ﺳﯿﺮﺕ، ﺍﻡ ﺍﻟﻤﻮﻣﻨﯿﻦ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﻡ ﺳﻠﻤﯽٰ ‏( ﺭﺽ ‏) ﮐﯽ ﺑﮭﯽ ﺗﮭﯽ ،ﺑﮩﺮ ﺣﺎﻝ ﺍﻥ ﺗﻤﺎﻡ ﺭﻭﺍﯾﺘﻮﮞ ﺳﮯ ﭼﻨﺪ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﺛﺎﺑﺖ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﯿﮞﺎﻭﺭ ﻭﮦ ﯾﮧ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ : ۱۔ ﻋﺎﺷﻮﺭ ﮐﺎ ﺭﻭﺯﮦ ﺑﻨﯽ ﺍﺳﺮﺍﺋﯿﻞ ﮐﯽ ﻧﺠﺎﺕ ﮐﯽ ﺧﻮﺷﯽ ﮐﺎ ﺭﻭﺯﮦ ﮨﮯ . ۲۔ ﻋﺎﺷﻮﺭ ﮐﮯ ﺭﻭﺯﮮ ﮐﺎ ﺣﮑﻢ ﺧﺪﺍﻭﻧﺪ ﻋﺎﻟﻢ ﮐﯽ ﺟﺎﻧﺐ ﺳﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﯾﺎﮨﮯ . ۳۔ ﻋﺎﺷﻮﺭ ﮐﮯ ﺩﻥ ﺭﻭﺯﮦ ﺭﮐﮫ ﮐﺮ ﻣﻌﺎﺫﺍﻟﻠﮧ ﻧﺒﯽ ﻧﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﺣﮑﻢ ﺧﺪﺍ ﮐﮯ ﯾﮩﻮﺩ ﻭ ﻧﺼﺎﺭﯼٰ ﮐﯽ ﻣﻮﺍﻓﻘﺖ ﺍﻭﺭ ﭘﯿﺮﻭﯼ ﮐﯽ ﮨﮯ، ﺟﻮ ﮐﮧ ﻣﻘﺎﻡ ﺭﺳﺎﻟﺖ ﮐﮯ ﻣﻨﺎﻓﯽ ﮨﮯ . ﺟﺲ ﺳﮯ ﯾﮧ ﺛﺎﺑﺖ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻋﺎﺷﻮﺭ ﮐﻮ ﺭﻭﺯﮦ ﺭﮐﮭﻨﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﺗﺮﺟﯿﺤﯽ ﻭﺟﮧ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ، ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ 61 ﮨﺠﺮﯼ ﻣﯿﮟ ﻋﺎﺷﻮﺭ ﮐﮯ ﺭﻭﺯ ﺍﮨﻞ ﺑﯿﺖ ﭘﯿﻐﻤﺒﺮ ‏( ﺹ ‏) ﭘﺮ ﻏﻢ ﻭﺍﻟﻢ ﮐﮯ ﭘﮩﺎﮌ ﺗﻮﮌﮮ ﮔﺌﮯ ﺟﺲ ﮐﯽ ﯾﺎﺩ ﻣﻨﺎﻧﺎ ﮨﺮ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﮨﮯ ، ﻧﺒﯽ ﮐﮯ ﻧﻮﺍﺳﮯ ﻧﮯ ﺍﺳﻼﻡ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﮨﯽ ﺍﺗﻨﯽ ﻋﻈﯿﻢ ﻗﺮﺑﺎﻧﯽ ﭘﯿﺶ ﮐﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﺭﺍﮦ ﻣﯿﮟ ﻭﮦ ﻣﺼﺎﺋﺐ ﺑﺮﺩﺍﺷﺖ ﮐﺌﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺟﻦ ﮐﻮ ﺳﻦ ﮐﺮ ﮨﯽ ﮐﻠﯿﺠﮧ ﻣﻨﮫ ﮐﻮ ﺁﻧﮯ ﻟﮕﺘﺎ ﮨﮯ ، ﻟﮩٰﺬﺍ ﺍﯾﺴﯽ ﻋﻈﯿﻢ ﺍﻭﺭ ﺍﮨﻢ ﯾﺎﺩﮔﺎﺭ ﮐﮯ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺟﺲ ﻧﮯ ﺍﺳﻼﻡ ﮐﻮ ﺣﯿﺎﺕ ﻧﻮ ﺑﺨﺸﯽ ﮨﻮ، ﺑﻨﯽ ﺍﺳﺮﺍﺋﯿﻞ ﮐﯽ ﻧﺠﺎﺕ ﮐﯽ ﺧﻮﺷﯽ ﻣﻨﺎﻧﺎ ﻧﮧ ﺗﻮ ﻗﺮﯾﻦ ﻋﻘﻞ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻧﮧ ﮨﯽ ﺍﺳﻼﻣﯽ ﺣﻤﯿﺖ ﮐﺎ ﺗﻘﺎﺿﮧ ﮨﮯ ، ﺑﻠﮑﮧ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﮨﮯ ﮐﮧ ﮨﺮ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﻧﺒﯽ ﮐﮯ ﻧﻮﺍﺳﮯ ﮐﯽ ﯾﺎﺩ ﻣﺤﺮﻡ ﻣﯿﮟ ﻋﺎﺷﻮﺭ ﮐﮯ ﺭﻭﺯ ﻣﻨﺎﻧﯽ ﭼﺎﮨﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺳﻨﺖ ﺭﺳﻮﻝ ‏( ﺹ ‏) ﮨﮯ ،ﺣﻀﺮﺕ ﺍﻡ ﺍﻟﻔﻀﻞ ﺑﻨﺖ ﺍﻟﺤﺎﺭﺙ ‏( ﺭﺽ ‏) ﺳﮯ ﺭﻭﺍﯾﺖ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺁﻧﺤﻀﺮﺕ ﮐﯽ ﺧﺪﻣﺖ ﻣﯿﮟ ﺣﺎﺿﺮ ﮨﻮ ﮐﺮ ﻋﺮﺽ ﮐﯿﺎ ، ﯾﺎ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺁﺝ ﺭﺍﺕ ﺍﯾﮏ ﺑُﺮﺍ ﺧﻮﺍﺏ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮨﮯ ، ﺁﭖ ‏( ﺹ ‏) ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ : ﮐﯿﺎ؟ ﻋﺮﺽ ﮐﯿﺎ ﺑﮩﺖ ﮨﯽ ﺳﺨﺖ ﮨﮯ ﴿ﺑﯿﺎﻥ ﺳﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﮨﮯ ﴾ ﺁﭖ ﻧﮯ ﭘﮭﺮ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ : ﮐﯿﺎ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮨﮯ ؟ ﻋﺮﺽ ﮐﯿﺎ : ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﮔﻮﯾﺎ ﺁﭖ ﮐﮯ ﺟﺴﻢ ﺍﻃﮩﺮ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﭨﮑﮍﺍ ﮐﺎ ﭦ ﮐﺮ ﻣﯿﺮﯼ ﮔﻮﺩ ﻣﯿﮟ ﮈﺍﻝ ﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ ،ﺁﻧﺤﻀﺮﺕ ‏( ﺹ ‏) ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ : ﺗﻢ ﻧﮯ ﺗﻮ ﺑﮩﺖ ﺍﭼﮭﺎ ﺧﻮﺍﺏ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮨﮯ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻧﮯ ﭼﺎﮨﺎ ﺗﻮ ﻓﺎﻃﻤﮧ ﮐﮯ ﻟﮍﮐﺎ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﮔﺎ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺑﭽﮧ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﮔﻮﺩ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﮯ ﮔﺎ ﴿ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ﺍﯾﺴﺎ ﮨﯽ ﮨﻮﺍ﴾ ﺣﻀﺮﺕ ﻓﺎﻃﻤﮧ ‏( ﺭﺽ ‏) ﮐﮯ ﯾﮩﺎﮞ ﺣﻀﺮﺕ ﺣﺴﯿﻦ ‏( ﺭﺽ ‏) ﮐﯽ ﻭﻻﺩﺕ ﮨﻮﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺟﯿﺴﺎ ﮐﮧ ﺣﻀﻮﺭ ‏( ﺹ ‏) ﻧﮯ ﺍﺭﺷﺎﺩ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﺗﮭﺎ ﻣﯿﺮﯼ ﮔﻮﺩ ﻣﯿﮟ ﺁﺋﮯ ، ﭘﮭﺮ ﺍﯾﮏ ﺭﻭﺯ ﻣﯿﮟ ﺍﻥ ﮐﻮ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺁﻧﺤﻀﺮﺕ ‏( ﺹ ‏) ﮐﯽ ﺧﺪﻣﺖ ﻣﺒﺎﺭﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺣﺎﺿﺮ ﮨﻮﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﻮ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺁﻏﻮﺵ ﻣﯿﮟ ﺩﮮ ﺩﯾﺎ، ﺍﺳﯽ ﺍﺛﻨﺎ ﻣﯿﮟ ﻣﯿﺮﯼ ﺗﻮﺟﮧ ﺫﺭﺍ ﺩﯾﺮ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﻃﺮﻑ ﮨﻮﺋﯽ ﺗﻮ ﮐﯿﺎ ﺩﯾﮑﮭﺘﯽ ﮨﻮﮞ ﮐﮧ ﺭﺳﻮﻝ ‏( ﺹ ‏) ﮐﯽ ﭼﺸﻤﺎﻥ ﻣﺒﺎﺭﮎ ﺳﮯ ﺁﻧﺴﻮ ﺭﻭﺍﮞ ﺗﮭﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻋﺮﺽ ﮐﯿﺎ ﯾﺎ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ﻣﯿﺮﮮ ﻣﺎﮞ ﺑﺎﭖ ﺁﭖ ﭘﺮ ﻧﺜﺎﺭ، ﺁﭖ ﮐﻮ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﮔﯿﺎ ، ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ : ﺟﺒﺮﯾﻞ ‏( ﻉ ‏) ﻣﯿﺮﮮ ﭘﺎﺱ ﺁﺋﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﺘﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﯼ ﺍﻣﺖ ﻣﯿﺮﮮ ﺍﺱ ﺑﯿﭩﮯ ﮐﻮ ﻋﻨﻘﺮﯾﺐ ﻗﺘﻞ ﮐﺮﺩﮮ ﮔﯽ ، ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻋﺮﺽ ﮐﯿﺎ ، ﺍﻥ ﮐﻮ ، ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮨﺎﮞ ! ﺍﻭﺭ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻣﻘﺘﻞ ﮐﯽ ﺳﺮﺥ ﺭﯾﺖ ﺑﮭﯽ ﻻﮐﺮ ﺩﯼ ﮨﮯ . ﴿ﺍﻟﻤﺴﺘﺪﺭﮎ ﻋﻠﯽ ﺍﻟﺼﺤﯿﺤﯿﻦ ﻟﻠﺤﺎﮐﻢ ، ﺟﻠﺪ 3 ، ﺻﻔﺤﮧ 194 ،ﺣﺪﯾﺚ 4818 ، ﺗﺤﻘﯿﻖ ﻣﺼﻄﻔﯽ ﻋﺒﺪﺍﻟﻘﺎﺩﺭ ﻋﻄﺎ ، ﻧﺎﺷﺮ ﺩﺍﺭﺍﻟﮑﺘﺐ ﺍﻟﻌﻠﻤﯿﮧ ﺑﯿﺮﻭﺕ ، ﻟﺒﻨﺎﻥ ، ﭘﮩﻼ ﺍﯾﮉﯾﺸﻦ 1990 ﴾ ﺣﻀﺮﺕ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﮐﺮﻡ ‏( ﺹ ‏) ﮐﺎ ﺍﻣﺎﻡ ﺣﺴﯿﻦ ‏( ﻉ ‏) ﮐﯽ ﺧﺒﺮ ﺷﮩﺎﺩﺕ ﭘﺮ ﮔﺮﯾﮧ ﮐﺮﻧﺎ ﮐﯿﺎ ﺍﯾﺴﺎ ﻋﻤﻞ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ﺟﺲ ﮐﯽ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﺭﻭﺯ ﻋﺎﺷﻮﺭ ﭘﯿﺮﻭﯼ ﮐﺮﯾﮟ ؟ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﯾﮩﻮﺩ ﮐﯽ ﭘﯿﺮﻭﯼ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺍُﻥ ﮐﯽ ﻧﺠﺎﺕ ﮐﯽ ﺧﻮﺷﯽ ﻣﯿﮟ ﺭﻭﺯﮮ ﮐﯿﻮﮞ ﺭﮐﮭﮯ ﺟﺎ ﺗﮯ ﮨﯿﮟ ؟ ! ﺭﺳﻮﻝ ‏( ﺹ ‏) ﮐﮯ ﻏﻢ ﭘﺮ ﯾﮩﻮﺩ ﮐﯽ ﺧﻮﺷﯽ ﻣﻘﺪﻡ ! ﺍﯾﺴﺎ ﮐﯿﻮﮞ ؟ ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﺣﻀﺮﺕ ﺳﻠﻤﮧ ‏( ﺭﺽ ‏) ﺑﯿﺎﻥ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﻡ ﺍﻟﻤﻮﻣﻨﯿﻦ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﻡ ﺳﻠﻤﯽٰ ‏( ﺭﺽ ‏) ﮐﯽ ﺧﺪﻣﺖ ﻣﯿﮟ ﺣﺎﺿﺮ ﮨﻮﺋﯽ ﺗﻮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﻭﮦ ﺭﻭ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯿﮟ ، ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻋﺮﺽ ﮐﯿﺎ ﺁﭖ ﮐﯿﻮﮞ ﺭﻭﺗﯽ ﮨﯿﮟ ، ﻓﺮﻣﺎﻧﮯ ﻟﮕﯿﮟ : ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺭﺳﻮﻝ ‏( ﺹ ‏) ﺍﻟﻠﮧ ﮐﻮ ﺧﻮﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﺣﺎﻟﺖ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺭﯾﺶ ﺍﻭﺭ ﺳﺮ ﻣﺒﺎﺭﮎ ﭘﺮ ﺧﺎﮎ ﭘﮍﯼ ﮨﻮﺋﯽ ﺗﮭﯽ ، ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻋﺮﺽ ﮐﯿﺎ ﯾﺎ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ! ﺁﭖ ﮐﻮ ﮐﯿﺎ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ؟ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ : ﺍﺑﮭﯽ ﺍﺑﮭﯽ ﺣﺴﯿﻦ ‏( ﻉ ‏) ﮐﻮ ﻗﺘﻞ ﮨﻮﺗﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮨﮯ . ﴿ﺟﺎﻣﻊ ﺳﻨﻦ ﺗﺮﻣﺬﯼ ،ﺟﻠﺪ 6 ، ﺻﻔﺤﮧ 120 ،ﺣﺪﯾﺚ 3771 ، ﺑﺎﺏ 31 ﻣﻨﺎﻗﺐ ﺍﻟﺤﺴﻦ ﻭ ﺍﻟﺤﺴﯿﻦ ، ﻣﺤﻘﻖ ﺑﺸﺎﺭ ﻋﻮﺍﺩ ﻣﻌﺮﻭﻑ، ﻧﺎﺷﺮ ﺩﺍﺭﺍﻟﻐﺮﺏ ﺑﯿﺮﻭﺕ، ﻟﺒﻨﺎﻥ 1998 ﻋﯿﺴﻮﯼ ﴾ ﺑﻌﺾ ﻟﻮﮒ ﺍﺱ ﺣﺪﯾﺚ ﮐﻮ ﻣﺸﮑﻮﮎ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﯾﮧ ﮐﮩﮧ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﻡ ﺍﻟﻤﻮﻣﻨﯿﻦ ﺟﻨﺎﺏ ﺍﻡ ﺳﻠﻤﯽ ‏( ﺭﺽ ‏) ﮐﯽ ﻭﻓﺎﺕ ، ﺷﮩﺎﺩﺕ ﺍﻣﺎﻡ ﺣﺴﯿﻦ ‏( ﻉ ‏) ﺳﮯ ﺩﻭ ﺳﺎﻝ ﻗﺒﻞ ﮨﻮﭼﮑﯽ ﺗﮭﯽ ﻟﮩٰﺬﺍ ﯾﮧ ﺭﻭﺍﯾﺖ ﺻﺤﯿﺢ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﮨﻞ ﺳﻨﺘﮑﮯ ﻣﻌﺘﺒﺮﻣﻮﺭﺥ ﻋﻼﻣﮧ ﺫﮨﺒﯽ ﻧﮯ ﻟﮑﮭﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ: