uz
Feedback

Firibgarlarga uchmang! Telemetrio bunday kanallarni topadi va belgilaydi 👉 Belgini ko‘rmoqchi bo‘lsangiz, obuna bo‘ling

ISLAM WITH EMAN

ISLAM WITH EMAN

Kanalga Telegram’da o‘tish

اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات... ایڈمن سے رابطہ کیلئے: @syedsajjadhamdani

Ko'proq ko'rsatish
1 288
Obunachilar
Ma'lumot yo'q24 soatlar
-47 kun
-430 kun
Postlar arxiv
🔷 مسخ شُدہ جانور (1) 🔷 امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا بنی آدم تیرہ قسم کے جانوروں میں مسخ ہوئے ہیں۔ بندر، سور، چمگادڑ، سوسمار (چھپکلی کی شکل کا بڑا جانور)، ریچھ، ہاتھی، کرم سیاہ (سیاہ کیڑا)، سگ ماہی، بچھو، سہل، خار پشت، زہرہ اور مکڑی۔ 1- بندر: یہ بنی اسرائیل کی قوم تھی جو ساحل سمندر پر آکر ہفتہ کے روز مچھلی پکڑ کر حد سے تجاوز کرجاتے تھے (اس لئے کہ اللہ نے انہیں ہفتہ کے دن مچھلی پکڑنے سے منع کیا تھا) لہذا اللہ نے بندر کی صورت مسخ کردیا۔ 2- سؤر: یہ بھی بنی اسرائیل ہی کی قوم تھی اور حضرت عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) نے ان کو بددُعا دی تھی لہذا اللہ نے سؤر کی صورت مسخ کردیا۔ 3- چمگادڑ: یہ ایک عورت تھی جس نے اپنے دایہ پر جادو کردیا تھا تو اللہ نے اسے چمگادڑ کی صورت مسخ کردیا۔ 4- سوسمار (چھپکلی کی شکل کا بڑا جانور): یہ ایک بُدو عرب تھا جو ہر اس شخص کو قتل کر دیتا تھا جو اس کے پاس سے گُذرتا تھا لہذا اللہ نے اسے سوسمار (ایک صحرائی جانور) کی صورت میں مسخ کردیا۔ 5- ریچھ: یہ ایک مخنث شخص تھا جو لوگوں کو اپنے ساتھ بدفعلی کی طرف بُلاتا تھا لہٰذا اللہ نے اسے ریچھ کی صورت میں مسخ کردیا۔ 6- ہاتھی: یہ ایک ایسا شخص تھا جو چوپایوں کے ساتھ بدفعلی کیا کرتا تھا، اور یہ اغلام باز تھا۔ لہٰذا اللہ نے اسے ہاتھی کی صورت میں مسخ کردیا۔ 7- بچھو: یہ ایک چغلخور شخص تھا اور بدزُبان تھا۔ اس کی زبان سے کوئی محفوظ نہیں تھا۔ لٰہذا اللہ نے اسے بچھو کی صورت میں مسخ کردیا۔ 8- کرم سیاہ: یہ شخص اِدھر کی بات اُدھر اور اُدھر کی بات اِدھر کیا کرتا تھا اور اس طرح محبت کرنے والوں میں جُدائی ڈالتا تھا۔ 9- سگ ماہی: یہ دیوث(بے غیرت) شخص تھا جو مردوں کو اپنی بیوی کے ساتھ زنا کی طرف بُلاتا تھا۔ 10- سہیل: یہ ایک ایسا شخص تھا جو یمن خراج وصول کیا کرتا تھا۔ 11- خار پشت: یہ ایک بداخلاق مرد تھا۔ 12- زہرہ: یہ ایک عورت تھی جس نے ہاروت و ماروت کو ورغلایا تھا اور دوسری روایت میں لکھا ہے کہ یہ ایک نصرانی عورت تھی جو بنی اسرائیل کے کسی بادشاہ کی بیوی تھی۔ اور یہی وہ عورت تھی جس نے ہاروت و ماروت کو ورغلایا تھا اس کا نام ناہیل تھا جبکہ لوگ اسے ناہید کہہ کر پُکارتے تھے۔ 13- مکڑی: یہ ایک بداخلاق اور اپنے شوہر کی نافرمان عورت تھی جو اپنے شوہر سے روگردانی کرتی تھی۔ لہٰذا اللہ نے اسے مکڑی کی صورت میں مسخ کردیا۔ 🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی معلومات کے لیے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🦅 ابابیل 🦅 یہ وہ چھوٹا سا پرندہ 🦅 #ابابیل ہے جس نے ابراہ کے لشکر پر کنکریاں مار مار کر نیست و نابود کر دیا تھا جو بدبخت کعبہ ڈھانے کیلئے ہاتھیوں کا لشکر لے کر آیا تھا۔ اللہ نے برباد چھوٹی سی مخلوق سے کروا دیا ۔۔۔۔ آج پھر جو کعبہ پر حملہ کے بارے ناپاک عزائم رکھتے ہیں اللہ کسی بھی مخلوق سے انہیں برباد کروا سکتا ہے! ابابیل کے متعلق مزید جائیے ۔۔ ابابیل زمین پر اترے بغیر مسلسل 10 ماہ تک پرواز کرسکتی ہے پرندوں پر تحقیق کرنے والے ماہرین نے دریافت کیا ہے کہ ابابیل (کامن سوئفٹ) 10 ماہ تک مسلسل پرواز کرسکتی ہے جبکہ اپنے اس پورے سفر میں وہ ایک لمحے کےلئے بھی زمین پر نہیں اُترتی اور اُڑتے دوران ہی اپنی غذا بھی حاصل کرتی ہے۔ واضح رہے کہ چھوٹی جسامت ہونے کے باوجود ابابیل (سوئفٹ) کا شمار دنیا کے بلند پرواز اور تیز رفتار پرندوں میں کیا جاتا ہے۔ اس سے پہلے مسلسل طویل ترین مدت تک پرواز کا ریکارڈ 6 ماہ تھا جو ابابیل ہی کی ایک قسم ’’الپائن سوئفٹ‘‘ کے پاس تھا۔ عام ابابیل نے، جسے سائنسی زبان میں ’’ایپس ایپس‘‘ (Apus Apus) کہا جاتا ہے، یہ ریکارڈ بھی توڑ دیا ہے۔ یورپ سے افریقہ تک موسمی نقل مکانی (سیزنل مائیگریشن) کرتے ہوئے یہ ابابیل مسلسل 10 ماہ تک بغیر رُکے اور بغیر زمین پر اُترے پرواز کرتی ہے۔ سویڈن کی لیونڈ یونیورسٹی نے ڈیٹا حاصل کرنے کا ایک نیا طریقہ اختیار کرتے ہوئے 19 سوئفٹ پرندوں کا مطالعہ کیا تو معلوم ہوا کہ جب یہ پرندہ اپنی نسل نہیں بڑھاتا تو اس دوران 10 ماہ کے عرصے میں 99 فیصد وقت میں پرواز ہی کرتا رہتا ہے۔ ایکولوجی کے پروفیسر اینڈرس ہیڈینسٹروئم کے مطابق عام سوئفٹ پرندے اگست میں اپنا گھر چھوڑ کر وسط افریقہ کے جنگلات کی جانب پرواز کرتے ہیں۔ ان میں سے کچھ ایک رات کچھ کئی دن اور کچھ مہینوں تک زمین کو نہیں چھوتے۔ کرنٹ بائیالوجی میں شائع ہونے والی اس تحقیق کے مطابق رات کو وہ کم بلندی پر پرواز کرتے ہیں اور اس سے اپنی توانائی بچاتے ہیں۔ دن میں گرم ہوا کے مرغولوں پر تیرتے رہتے ہیں اور اس طرح دن میں بھی اپنی قوت کو جمع رکھتےہیں۔ لیکن یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ پرندے سوتے بھی ہیں یا نہیں۔ یہ اڑان کے دوران ہی کھانا جمع کرکے کھاتے رہتے ہیں۔ شاید یہ رات کو کچھ وقت کے لیے آرام کرتے ہوں گے مگر بہت ہی تھوڑے وقفے کےلئے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ سوئفٹ پرندوں کی زندگی بھی طویل ہوتی ہے اور ایک پرندہ اوسطاً 20 سال تک زندہ رہتا ہے۔ ان کے مسلسل سفر کو دیکھ کر کہا جاسکتا ہے کہ ایلپائن سوئفٹ اور عام ابابیل، دونوں پرندے ہی اپنی 20 سالہ زندگی میں اتنے فاصلے تک پرواز کرلیتے ہیں جو چاند تک آنے اور جانے کے 7 چکروں جتنا طویل ہوتا ہے۔ https://t.me/islamwitheman 🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵

⁉️ کثر انبیاء علیہم السلام مشرق وسطیٰ میں آئے ہیں۔ برصغیر و دیگر بہت سے مناطق میں ابنیاء مبعوث نہیں ہوئے۔ اس کی کیا وجہ ہے؟ 🔰 جواب:اس سوال کا جواب جاننے کے لیے چند نکات کی جانب توجہ ضروری ہے۔ 📌 1۔ ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیائے الٰہی میں سے قرآن مجید و روایات میں بیان کیے گئے انبیاء علیہم السلام کے ناموں کی تعداد 28 سے تجاوز نہیں کرتی۔ یعنی قرآن مجید میں اکثر انبیاء کے نام اور ان کے علاقے بیان نہیں کیے گئے۔ 📔 وَ لَقَدْ أَرْسَلْنا رُسُلاً مِنْ قَبْلِكَ مِنْهُمْ مَنْ قَصَصْنا عَلَيْكَ وَ مِنْهُمْ مَنْ لَمْ نَقْصُصْ عَلَيْك‏ اور ہم نے آپ سے پہلے بھی بہت سے رسول بھیجے ہیں جن میں سے بعض کا تذکرہ آپ سے کیا ہے اور بعض کا تذکرہ بھی نہیں کیا ہے۔ (سورہ غافر/78) ہمارے پاس کوئی دلیل موجود نہیں ہے کہ مختلف مناطق میں انبیاء مبعوث نہ ہوئے ہوں؛ بلکہ قرآنی و دیگر ادلہ جس چیز کی نشاندہی کرتی ہیں، وہ اس کے برعکس ہیں۔ قرآن مجید میں بیان کیا گیا ہے کہ کوئی امت ایسی نہیں ہے جس میں کوئی نذیر (خطروں سے آگاہ کرنے والا ) نہ گزرا ہو۔ 📔 وَ إِنْ مِنْ أُمَّةٍ إِلاَّ خَلا فيها نَذيرٌ اور کوئی امت ایسی نہیں گزری جس میں کوئی متنبہ کرنے والا نہ آیا ہو۔ (سورہ فاطر/24) اسی طرح سے خدا وند متعال نے عبادت الٰہی کے قیام اور طاغوت سےلوگوں کے اجتناب کی غرض سے ہر امت میں رسول مبعوث فرمائے ہیں۔ 📔 وَ لَقَدْ بَعَثْنا في‏ كُلِّ أُمَّةٍ رَسُولاً أَنِ اعْبُدُوا اللَّهَ وَ اجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَ اور بتحقیق ہم نے ہر امت میں ایک رسول بھیجا ہے کہ اللہ کی عبادت کرو ( یعنی زندگی کے ہر شعبے میں خدا کو اپنا معبود مانو)اور طاغوت کی بندگی سے اجتناب کرو۔ (سورہ نحل/36) اسی طرح سے اس سنتِ الٰہی کو بیان کیا گیا ہے کہ جب تک خدائے متعال کی جانب سے کوئی رسول نہ بھیجا جائے، عذاب نہیں دیا جاتا۔ 📔 وَ ما كُنَّا مُعَذِّبينَ حَتَّى نَبْعَثَ رَسُولاً اور جب تک ہم کسی رسول کو مبعوث نہ کریں عذاب دینے والے نہیں ہیں۔ (سورہ اسراء/15) 📌 2۔ قرآن مجید کی رُو سےپانچ انبیاء ، حضرت نوحؑ، حضرت ابراہیمؑ، حضرت موسیٰ ؑ، حضرت عیسیٰ ؑ اور پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم، اولوالعزم (صاحبانِ شریعت) نبی ہیں جن کی ذمہ داری اور رسالت کی خصوصیات میں سے ایک خصوصیت ان کے پیغام کا عالمی سطح کا ہونا ہے۔ 📌 3۔ ایک اور نکتہ یہ ہے کہ کسی پیغمبر کا جغرافیائی علاقہ اہم نہیں، بلکہ ان کا پیغام اہم ہے۔ اسلام قبول کرنے والے افراد دنیا کے مختلف خطوں سے تعلق رکھتے تھے۔ 📌 4۔ جن انبیاء کا تذکرہ موجود ہے ان میں سے اکثر بین النہرین، جس کو مشرق وسطی کہا جاتا ہے (اس رائج لفظ کی بجائے مغربی ایشیاء کی تعبیر صحیح ہے) کے علاقے میں مبعوث ہوئے۔ اس کی ایک وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ یہ خطہ قدیمی ترین بڑی تہذیبوں کا مرکز رہا ہے، اور دوسری وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ قرآن مجید کے مستقیم طور پر مخاطب لوگ دیگر تہذیبوں کی نسبت اس علاقے کی تہذیب سے زیادہ آگاہ تھے اور یہ امر قرآن مجید کے بنیادی ہدف یعنی ہدایت کے ساتھ زیادہ سازگار ہے۔ 📌 5۔ امکان موجود ہے کہ کئی علاقوں میں ابنیاء مبعوث ہوئے ہوں جن کا تذکرہ موجود نہیں۔ اکثر کے نام سے ہم واقف نہیں ہیں۔ اسی طرح سے بعض ایسے افراد کے نام موجود ہیں جن کو نبی کے عنوان سے بیان نہیں کیا گیا لیکن ان میں انبیاء جیسی صفات موجود تھیں۔ بہر حال قرآن مجید میں فرمایا گیا ہے کہ ہر قوم کے لیے ہادی ہے۔ 📔 وَ لِكُلِّ قَوْمٍ هادٍ اور ہر قوم کے لئے ایک ہادی اور رہبر ہے۔ (سورہ رعد/7) حوالہ: قرآن مجید https://t.me/islamwitheman 🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵

💧 5. جسمانی ڈیٹوکس اور صفائی (Evacuation and Repletion): جسم میں موجود فضلات (Toxins) کو باہر نکالنا ذہنی علاج کا ایک انتہائی اہم حصہ تھا۔ اگر انسان کا نظامِ انہضام درست نہیں (جیسے قبض کا ہونا) تو پرانے طبیب اسے براہِ راست ذہنی دباؤ اور چڑچڑے پن سے جوڑتے تھے۔ اس کے علاوہ، اس دور میں "غسل" (Bathing) کو ایک باقاعدہ تھراپی کا درجہ حاصل تھا۔ گرم پانی کے حمام میں وقت گزارنا، خوشبودار تیل سے مساج کرنا اور جسم کو صاف ستھرا رکھنا ذہنی سکون کا سب سے طاقتور ذریعہ مانا جاتا تھا۔ گرم پانی پٹھوں کی جکڑن کو کھولتا تھا اور اعصاب کو اس حد تک پرسکون کر دیتا تھا کہ مریض کو فوراً ایک گہری اور سکون بخش نیند آ جاتی تھی۔ رونا (Crying) بھی ایک طرح کا ڈیٹوکس مانا جاتا تھا، تاکہ دل کا غبار آنسوؤں کے ذریعے باہر نکل سکے اور دماغ پر پڑنے والا بوجھ ہلکا ہو جائے۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🔷 دماغی صحت 🔷 کیا آپ کا دماغ ہر وقت الجھا رہتا ہے؟ جانیے ذہنی صحت کا 1000 سال پرانا راز جس نے آج کی جدید سائنس کو بھی حیران کر دیا ہے! ہمیں لگتا ہے کہ ذہنی دباؤ (Stress)، انزائٹی اور ڈپریشن آج کے جدید دور کی بیماریاں ہیں اور پرانے وقتوں کے لوگ ان مسائل کو صرف "آسیب" یا جادو ٹونا سمجھ کر نظر انداز کر دیتے تھے۔ لیکن تاریخ کے اوراق پلٹیں تو قرونِ وسطیٰ (Middle Ages) کے طبیبوں اور مفکرین نے ذہنی صحت کو برقرار رکھنے کے لیے ایک ایسا حیرت انگیز اور سائنسی لائف اسٹائل ماڈل پیش کیا تھا، جسے آج کی ماڈرن میڈیکل سائنس بھی تسلیم کرتی ہے۔ اس دور کے ماہرین کا ماننا تھا کہ انسان کا دماغ اور جسم ایک ہی گاڑی کے دو پہیے ہیں۔ اگر جسمانی روٹین خراب ہوگی، تو دماغ کبھی پرسکون نہیں رہ سکتا۔ انہوں نے ذہنی سکون کے لیے جو اصول وضع کیے، آئیے ان 5 بنیادی اور انتہائی طاقتور طریقوں پر تفصیل سے روشنی ڈالتے ہیں: 🌬️ 1. ہوا اور ماحول کا دماغ پر اثر (Air and Environment): آج ہم اپنے دن کا 90 فیصد حصہ بند کمروں، مصنوعی روشنیوں اور ایئرکنڈیشنڈ ماحول میں گزارتے ہیں اور پھر شکایت کرتے ہیں کہ ہمارا دل گھبراتا ہے۔ آج سے ہزار سال پہلے کے طبیبوں کا نظریہ تھا کہ آپ جس ہوا میں سانس لیتے ہیں، وہ سیدھا آپ کے دماغی خلیوں (Brain Cells) اور سوچنے کی صلاحیت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ ان کے نزدیک کھلی، تازہ اور خوشبودار ہوا دماغی الجھنوں کو دور کرنے کی پہلی دوا تھی۔ اگر کوئی شخص ڈپریشن یا "مالیخولیا" (Melancholy) کا شکار ہوتا، تو اسے سختی سے ہدایت کی جاتی تھی کہ وہ تاریک اور تنگ کمروں سے نکلے۔ مریضوں کو سمندر کے کنارے، پہاڑوں یا سرسبز وادیوں میں وقت گزارنے کا مشورہ دیا جاتا تھا۔ ان کا ماننا تھا کہ روشن جگہیں اور تازہ آکسیجن دماغ کے اندر موجود زہریلے خیالات کو اُسی طرح صاف کر دیتی ہے جیسے تیز ہوا کسی کمرے کا دھواں نکال دیتی ہے۔ آج کی جدید 'Nature Therapy' بھی بالکل اسی اصول پر کام کرتی ہے! 🥗 2. غذا اور ہاضمہ – آپ کا دوسرا دماغ (Diet and Nutrition): جدید سائنس آج چیخ چیخ کر کہہ رہی ہے کہ ہمارا معدہ ہمارا "دوسرا دماغ" (Second Brain) ہے اور ہماری خوراک ہمارے موڈ کو کنٹرول کرتی ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ قرونِ وسطیٰ کے طبیب اس "Gut-Brain Connection" کو صدیوں پہلے سمجھ چکے تھے! اس دور کے میڈیکل ماڈل کے مطابق، جسم میں چار طرح کے مائعات (Humors) ہوتے ہیں۔ جب انسان بہت زیادہ خشک، بھاری، تلی ہوئی یا باسی غذائیں (جیسے جلا ہوا گوشت، پرانی روٹی یا حد سے زیادہ مصالحے) کھاتا ہے، تو جسم میں 'Black Bile' (کالا صفرا یا خلطِ سودا) پیدا ہوتا ہے۔ یہ کالا صفرا خون کے ذریعے دماغ تک پہنچتا ہے اور انسان کو شدید مایوسی، اداسی، خوف اور منفی سوچوں کے اندھیرے میں دھکیل دیتا ہے۔ ذہنی سکون کے لیے انہوں نے انتہائی شاندار ڈائٹ پلانز بنائے، جن میں ہلکی، تازہ، اور آسانی سے ہضم ہونے والی غذائیں شامل تھیں۔ ان کا ماننا تھا کہ جو کھانا معدے پر بوجھ نہیں ڈالتا، وہ دماغ کو بھی ہلکا اور خوشگوار رکھتا ہے۔ 🛌 3. نیند اور بیداری کا توازن (Sleep and Wakefulness): آج ہم راتوں کو دیر تک جاگ کر اسکرینز دیکھتے ہیں اور پھر نیند کی گولیاں کھاتے ہیں۔ پرانے وقتوں کے ماہرین کے نزدیک نیند صرف جسمانی آرام نہیں، بلکہ دماغ کی 'سروسنگ' (Servicing) کا وقت تھا۔ ان کا نظریہ تھا کہ دن بھر کے خیالات اور سوچ و بچار سے دماغ گرم اور خشک ہو جاتا ہے۔ بھرپور نیند اس گرم دماغ کو ٹھنڈا کرتی ہے اور اس میں ضروری نمی (Moisture) واپس لاتی ہے تاکہ اگلے دن وہ پھر سے درست کام کر سکے۔ انہوں نے خبردار کیا تھا کہ راتوں کو جاگنا (Insomnia) اور سوچوں میں گم رہنا دماغی تاروں کو خشک کر دیتا ہے، جس سے انسان آہستہ آہستہ پاگل پن یا شدید انزائٹی کا شکار ہو جاتا ہے۔ اسی طرح ضرورت سے زیادہ سونا بھی نقصان دہ مانا جاتا تھا کیونکہ یہ انسان کو سست اور کاہل بنا کر ذہنی طور پر مفلوج کر دیتا ہے۔ آج کی سائنس بھی 7 سے 8 گھنٹے کی متوازن نیند کو مینٹل ہیلتھ کے لیے ناگزیر قرار دیتی ہے۔ 🏃‍♂️ 4. ورزش اور جسمانی حرکت (Exercise and Rest): "فارغ دماغ شیطان کا کارخانہ ہے۔" قرونِ وسطیٰ کے طبیب اس محاورے کی سائنسی حقیقت سے بخوبی واقف تھے۔ ان کا ماننا تھا کہ جب انسان سارا دن ایک ہی جگہ بیٹھا رہتا ہے اور کوئی جسمانی مشقت نہیں کرتا، تو اس کے جسم میں زہریلے مادے جمع ہونے لگتے ہیں جو سیدھا دماغ کی طرف سفر کرتے ہیں اور ڈپریشن پیدا کرتے ہیں۔ ذہنی بے چینی کے مریضوں کو باقاعدہ ورزش، تیز چہل قدمی، گھڑ سواری یا کسی بھی ایسے کام میں خود کو تھکانے کا مشورہ دیا جاتا تھا جس سے پسینہ آئے۔ پسینہ آنے سے جسم کی اندرونی غلاظت باہر نکلتی ہے، دورانِ خون تیز ہوتا ہے اور دماغ میں جمع ہونے والے منفی خیالات ٹوٹ جاتے ہیں۔ ورزش کو جسم اور دماغ کے درمیان ایک بہترین پل سمجھا جاتا تھا۔

🔶 بو علی سینا اور حکمت و دانائی 🔶 ایک رئیس کی بیٹی گھوڑا سواری کے دوان گھوڑے سے نیچھے گر گئی اور اُس کے کولہے کی ھڈی اپنے بند سے جدا ھو گئی۔ لڑکی کے باپ نے بہت سے حکیموں سے علاج کروانے کی کوشش کی کہ ھڈی کو واپس اپنی جگہ پر بٹھائیں.... مگر مصیبت یہ تھی کہ لڑکی کسی حکیم کو اپنا جسم چھونے کی اجازت نہیں دیتی تھی۔ باپ نے بہت اصرار کیا لیکن بیٹی کسی طرح راضی نہیں ھو رھی تھی اور دن بہ دن کمزور ھوتی جا رھی تھی۔ آخر لوگوں نے مشورہ دیا کہ شہر سے باھر ایک بہت حاذق حکیم رھتے ھیں اُن سے مشورہ کر لیں۔ وہ ..... حکیم صاحب کے پاس گئے اور اپنا مسئلہ بیان کیا تو حکیم صاحب نے کہا کہ ایک شرط پر میں آپ کی بیٹی کا کولہا ھاتھ لگائے بغیر واپس بٹھا سکتا ھوں۔ وہ شخص کہنے لگا کہ جو بھی شرط ھو وہ قبول کرنے پر آمادہ ھے۔ حکیم نے کہا کہ شرط یہ ھے کہ ایک بہت موٹی تازی گائے میرے لئے لا دو تو میں علاج کر دوں گا آپ کی بیٹی کا۔ وہ شخص بہت بھاری قیمت پر شہر کی سب سے تنومند گائے خرید کر حکیم صاحب کے گھر لے گئے۔ حکیم صاحب نے کہا کہ آپ اپنی بیٹی کو پرسوں اپنے ساتھ لے آئیں، اُسی دن #اللہ_کے_حکم سے اُس کا علاج کر دوں گا۔ جب وہ شخص چلا گیا تو حکیم صاحب نے اپنے شاگردوں سے کہا کہ دو دن تک نہ تو گائے کو گھاس کا ایک تنکا کھلایا جائے اور نہ پانی کا ایک قطرہ پلایا جائے۔ شاگرد حیران ھوئے کہ اِتنی تنومند گائے دو دن میں بھوک اور پیاس سے مر نہ جائے۔ لیکن چونکہ استاد کا حکم تھا اس لئے تعمیل کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔ دو دن تک گائے بھوک اور پیاس کی شدّت سے بہت کمزور ھو گئی۔ دوپہر کے وقت وعدے کے مطابق وہ شخص اپنی بیٹی کو چارپائی پر ڈال کر حکیم صاحب کے پاس لے آیا۔ حکیم نے لڑکی کے والد سے کہا کہ اپنی بیٹی کو گائے کی پیٹھ پر بٹھا لیں۔ سب بہت حیران ھوئے لیکن حکم ماننے کے علاوہ اور کوئی راستہ نہ تھا۔ لڑکی کو گائے کی پیٹھ پر بٹھا دیا گیا۔ اب حکیم صاحب نے اپنے شاگردوں سے کہا کہ لڑکی کے دونوں پاؤں گائے کے پیٹ کے گرد رسّی سے باندھ دیں۔ یہ کام ھونے کے بعد حکیم صاحب نے شاگردوں سے کہا کہ اب گائے کے سامنے گھاس اور دوسری خوراک ڈال دو۔ گائے دو دن کی بھوکی پیاسی تھی۔ جلدی جلدی کھانے لگی۔ حکیم صاحب نے اُس کے سامنے پانی کی بڑی سی بالٹی میں بہت سا نمک ڈال کر رکھ دیا اور گائے تیزی سے پانی پینے لگی۔ پانی میں نمک کی آمیزش نے پیاس کی شدّت اور بڑھا دی تو گائے نے ایک ساتھ بہت سا پانی پی لیا۔ گھاس اور پانی نے گائے کا پیٹ پُھلانا شروع کر دیا اور لڑکی کی ٹانگیں پر دباؤ اتنا بڑھا کہ وہ چیخنے لگ گئی۔ اچانک کھڑاک کی آواز آئی اور لڑکی شدّتِ درد سے بے ھوش ھو گئی۔ حکیم صاحب نے لڑکی کو گائے سے اُتروا کر اُس کے والد سے کہا کہ آپ کی بیٹی کے کولھے کی ھڈی اپنی جگہ پر واپس بیٹھ گئی ھے اور یہ گائے آج سے میری ھے۔ یہ کوئی اور نہیں .....#حکیم_بو_علی_سینا تھے .... جن کا نام بعد میں چہار بانگِ عالم میں مشہور ھو گیا۔ 📚حکایاتِ فارسی. https://t.me/islamwitheman 🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵

👇🏻🌸داستان سکاکی🌸👇🏻 سراج الدین سکاکی ایک بلند پایہ عالم تھے۔ وہ کئی علوم کے ماہر سمجھے جاتے تھے مفتاح العلوم اُن کی مشہور کتاب ہے۔ وہ اپنی جوانی میں لوہار تھے اور لوہے کے اوزار بنایا کرتے تھے۔ انہوں نے اس دور میں ایسا تالا بنایا جس کا وزن صرف ایک قیراط تھا۔ اور اس تالے کو بادشاہ کی خدمت میں بطور ہدیہ پیش کرنے لے گئے۔ بادشاہ اور اس کے درباریوں نے اس تالے کو دیکھا ضرور لیکن اس کی کوئی خاص تعریف نہیں کی۔ اسی اثنا میں ایک عالم دربار میں داخل ہوا تو بادشاہ نے اٹھ کر اس کا استقبال کیا اور اس کو اپنے پہلو میں بٹھایا۔ سکاکی نے پوچھا یہ کون ہے؟ اسے بتایا گیا کہ یہ ایک عالم ہے۔ یہ سن کر سکاکی سوچنے لگا اگر میں عالم ہوتا تو بادشاہ میرا بھی اتنا احترام کرتا جتنا عالم کا ہورہا ہے۔ اس وقت سکاکی کی عمر تیس برس تھی۔ وہ تحصيل علم کے لئے مدرسہ گئے۔ اسے دیکھ کر استاد نے کہا کہ مجھے پڑھانے میں تو کوئی اعتراض نہیں مگر اس عمر میں کچھ یاد نہیں کر سکوگے۔ سکاکی نے کہا کہ میں ہر قیمت پر علم حاصل کرونگا۔ استاد نے کہا: میں تمہارے حافظے کا امتحان لونگا پھر تمہیں پڑھانا شروع کرونگا۔ استاد نے امام شافعی کے اجتہادات میں سے ایک مسئلہ اسے سکھایا اور کہا کہ تم اس عبارت کو یاد کرو عبارت یہ تھی: قَالَ الشیخُ یُطَھرُ جِلدُ الکَلبِ بالدباغِ شیخ کا قول ہے کہ دباغت سے کتے کی جلد پاک ہوجاتی ہے۔ استاد نے کافی دیر تک سکاکی کو یہ عبارت یاد کرائی۔ دوسرے دن سکاکی نے اس عبارت کو یوں سنایا: قَالَ الکَلبُ یُطَھرُ جِلدُ الشَیخِ بِالدِباغ۔ کتے کا قول ہے کہ شیخ کی جلد دباغت سے پاک ہوجاتی ہے۔ مدرسے کے سارے طلباء یہ عبارت سن کر ہنسی سے لوٹ پوٹ ہو گئے۔ سکاکی اپنے مستقبل سے مایوس ہوگئے اور دل میں کہنے لگے کہ اس عمر میں کچھ پڑھنا بے کار ہے۔ بالخصوص جب قوتِ حافظہ کمزور ہو۔ انہوں نے مدرسہ چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا۔ اسی دوران اس کا گزر ایک پہاڑی سے ہوا تو انہوں نے دیکھا کہ پہاڑ سے پانی کا قطرہ قطرہ نیچے گر رہا ہے اور جہاں پانی کے قطرے گر رہے ہیں وہاں سخت پتھر ہونے کے باوجود پانی کی مسلسل بوندیں گرنے کی وجہ سے اس پتھر پر نشان پڑ چکا ہے۔ سکاکی اس منظر کو کافی دیر دیکھتے رہے پھر اپنے آپ سے کہنے لگے کہ پتھر سے زیادہ سخت کوئی چیز نہیں اور پانی سے زیادہ نرم کوئی چیز نہیں۔ جب نرم پانی کی ایک ایک بوند گرنے سے سخت پتھر پر نشان بن سکتا ہے تو میرا دل و دماغ پتھر سے تو زیادہ سخت نہیں۔ یہ سوچ کر ایک نئے عزم و ارادہ سے انہوں نے پڑھنا شروع کیا۔ آخر کار چند سالوں کے بعد وہ اپنے زمانے کے مشہور عالم بن گئے۔ 👈داستانہای ما ج٣ ص٤٥ https://t.me/islamwitheman 🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵

*معصوم ؑکی زبانی حدیث کی اہمیت* *حدیث* حضرت رسول اللہ صلی الله علیه و آله وسلم: ۱۔جو شخص میری امت تک ایک حدیث پہنچائے جس سے کوئی سنت قائم ہو یا کسی بدعت کے رخنہ کو مسدود کیا جائے تو اس کے لیے بہشت ہے۔(بحارالانوارج۲ ص۱۵۲) حضرت امام محمد باقر علیہ السلام: ۲۔ ہماری حدیث دلوں کو زندہ کرتی ہے۔(بحارالانوار ج۲ ص۱۴۴) ۳۔ایک حدیث جسے تو کسی سچے انسان سے حاصل کرے تیرے لیے دنیا و مافیہا سے بہتر ہے۔(امالی شیخ مفید ص۴۲) حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام: ۴۔ ہمارے نزدیک لوگوں کے مقام و منزلت کو ان کے ہم سے روایات کے بیان کرنے کی مقدار سے پہچانو۔ (بحارالانوارج۲ ص۱۵۰) *حدیث بیان کرنے والا* حضرت رسول اللہ صلی الله علیه و آله وسلم: ۵۔خداوندا! میرے خلفاء پر رحم فرما! یہ تین مرتبہ فرمایا لوگوں نے پوچھا: ’’یا رسول اللہ(ص) آپ ؐ کے خلفاء کون ہیں؟‘‘ فرمایا: ’’وہی لوگ جو میری حدیث اور سنت تک پہنچتے ہیں اور میری امت کو حدیث و سنت کی تعلیم دیتے ہیں‘‘ (بحارالانوار ج۲ ص۱۴۴) حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام: ۶۔حدیثوں کا راوی اور دین کا فقیہ ایسے ہزار عابدوں سے افضل ہے جن کے پاس نہ تو فقہ ہوتی ہے اور نہ ہی روایت۔ (بحارالانوار ج۲ ص۱۴۵) *چالیس حدیثوں کا حافظ* حضرت رسول اللہ صلی الله علیه و آله وسلم: ۷۔جو شخص میری امت کو چالیس حدیثیں حفظ کر کےبتائے جن سے وہ دین کے معاملہ میں فائدہ اٹھائیں، خداوند تعالیٰ اسے قیامت کے دن فقیہ اور عالم بنا کر اٹھائے گا۔ (بحارالانوارج۲ ص۱۵۶) حدیث کی درایت حضرت امام علی علیہ السلام: ۸۔ تمہیں روایات کی نہیں درایات کی پابندی کرنی چاہیے۔(کنزالفوائدج۲ ص۳۱) ۹۔ بیوقوں کی زیادہ تر کوشش روایت ہی کے لیے ہوتی ہے، جب کہ (سمجھدار) علماء کی کوشش درایت ہوا کرتی ہے۔ (بحارالانوار ج۲ ص۱۶۰) حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام: ۱۰۔ایک حدیث جو تم درایت کے ساتھ یاد رکھو ایسی ہزار حدیثوں سے بہتر ہے جسے تم روایت کے طور پر بیان کرو۔ (معانی الاخبار ج۲ ص۳) https://t.me/islamwitheman 🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵

🔷 انسان وجودِ انبیاء کا محتاج 🔷 سوال: کیوں، انسان وجودِ انبیاء کے محتاج ہیں؟ جواب: استاد شہید مرتضیٰ مطہریؒ فرماتے ہیں کہ انسان دو وجوہات کی بنیاد پر انبیاء کا محتاج ہے۔ ■ پہلی وجہ: انسان، غریزۂ حیات کی بنیاد پر زندہ رہنا چاہتا ہے مگر زندہ رہنے کے لئے ہمیشہ اپنے ذاتی منافع و مفادات کے پیچھے رہتا ہے۔ لہذا نہ تو اجتماعی مصلحتوں (جیسے حق کا بول بالا، اجتماعی عدالت، انصاف و۔۔۔) کو تشخیص دے سکتا ہے اور نتیجتاً نہ ہی ان کی رعایت کرتا ہے۔ پس انسان ان دونوں مراحل کے لئے الہٰی ہادی، رہبر اور رہنما کا محتاج ہے۔ انبیاء وہ خدائی ہادی اور رہنما ہیں کہ جو ان دونوں مراحل کی ذمہ داری نہایت ہی احسن انداز سے نبھاتے ہیں۔ وہ کیسے؟ 📍یعنی یہ الہٰی نمائندے ایک طرف انسان کو اجتماعی مصلحتوں (یعنی دین کے انفرادی اور اجتماعی پہلو) سے آگاہ کرتے ہیں۔ 📍اور دوسری طرف اس انسان کے اندر ایمان نامی ایک قوت کو برانگیختہ کرتے ہوئے اس کے رگ و پے کا حصہ بنا دیتے ہیں۔ اور پھر یہی قوت، انسان کو موظَّف اوراجتماعی مصلحتوں کی رعایت کرنے کا پابند بنا دیتی ہے کہ جس کی وجہ سے ایک صحیح اور سالم معاشرہ وجود میں آتا ہے۔ "لَقَدْ أَرْسَلْنا رُسُلَنا بِالْبَيِّناتِ وَ أَنْزَلْنا مَعَهُمُ الْكِتابَ وَ الْميزانَ لِيَقُومَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ۔" (سورہ حدید/25) ترجمہ: بتحقیق ہم نے اپنے رسولوں کو واضح دلائل دے کر بھیجا ہے اور ان کے ساتھ کتاب اور میزان نازل کیا ہے تا کہ لوگ عدل قائم کریں۔ "يا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِنَّا أَرْسَلْناكَ شاهِداً وَ مُبَشِّراً وَ نَذيراً وَ داعِياً إِلَى اللَّهِ بِإِذْنِهِ وَ سِراجاً مُنيراً۔" (سورہ احزاب/45 و 46) ترجمہ: اے نبی ہم نے آپ کو گواہ اور بشارت دینے والا اور تنبیہ کرنے والا بنا کر بھیجا ہے۔ اور اُس کے اذن سے اللہ کی طرف دعوت دینے والا اور روشن چراغ بنا کر۔ "فَبَعَثَ اللَّهُ فيهِمْ رُسُلَهُ، وَ وَاتَرَ إِلَيْهِمْ أَنْبِيَاءَهُ بِمَا خَصَّهُمْ بِهِ مِنْ وَحْيِهِ، وَ جَعَلَهُمْ حُجَّةً لَهُ عَلى خَلْقِهِ، فَدَعَاهُمْ بِلِسَانِ الصِّدْقِ إِلى سَبيلِ الْحَقِّ، لِيَسْتَأْدُوهُمْ ميثَاقَ فِطْرَتِهِ، وَ يُذَكِّرُوهُمْ مَنْسِيَّ نِعْمَتِهِ، وَ يَحْتَجُّوا عَلَيْهِمْ بِالتَّبْليغِ، لِئَلَّا تَجِبَ الْحُجَّةُ لَهُمْ بِتَرْكِ الإِعْذَارِ إِلَيْهِمْ، وَ يُثيرُوا لَهُمْ دَفَائِنَ الْعُقُولِ، وَ يُرُوهُمْ آيَاتِ الْمَقْدِرَة۔" (نہج البلاغہ/خ 1) ترجمہ: پروردگار نے ان کے درمیان رسول بھیجے۔ انبیاء کا تسلسل قائم کیا تاکہ وہ ان سے فطرت کی امانت واپس لیں اور انہیں بھولی ہوئی نعمتِ پروردگار یاد دلائیں۔ تبلیغ کے ذریعہ ان پر اتمام حجت کریں اور ان کی عقل کے دفینوں کو برانگیختہ کریں اور انہیں قدرت الہی کی نشانیاں دکھلائیں۔ ■ دوسری وجہ: انسان کے وجودِ انبیاء کے محتاج ہونے کی دوسری وجہ آخرت و معاد کی حقیقت سے ناآشنائی ہے۔ کیونکہ نہ تو کوئی بھی عقل اور ٹیکنالوجی معاد کو ثابت کر سکتی ہے اورنہ ہی اس کی حقیقت و ماہیت بیان کر سکتی ہے اور نہ ہی یہ بتا سکتی ہے کہ انسان کی اخروی سعادت و شقاوت کے اسباب کیا ہیں۔ معاد سے متعلق پیغمبر اسلام (ص) اور ان سے پہلے والے انبیاء پر نازل ہونے والی وحیِ الہٰی کی آیات اور انبیاء (ع) کے اقوال و فرامین اس وجہِ ثانی کے بہترین شواہد ہیں۔ 🔘 نتیجہ: پس اگر انبیاء جیسے معلّم اس دنیا میں تشریف نہ لاتے تو روئے زمین پر انسان و انسانیت نامی کوئی چیز نہ ہوتی بلکہ ابتداء سے ہی جنگل کا ایک ایسا قانون بن جاتا کہ جس کی بنیاد پر ہر قوی، ضعیف کو پائمال و نابود کر دیتا اور دنیوی و اخروی شقاوت اُس کا مقدر بن جاتی۔ 📚 حوالہ جات: [➊] قرآن مجید [➋] نہج البلاغہ [➌] مجموعۂ آثار استاد شہید مرتضیٰ مطہری، ج 4، ص 290 تا 293. https://t.me/islamwitheman 🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵

🔷 فضیلت مولا علی علیہ السلام 🔷 (علماءوکتب اہل سنت کی نظر میں) 🔵💥علی (ع)  سب سے پہلے نبوت اور کلمہ ٴتوحید کی گواہی دینے والے ہیں۔💥🔵 ❤عَنْ انس ابن مالک قَالَ: قَالَ رَسُوْل اللّٰہِ:صَلّٰی عَلیَّ الْمَلٰائِکَةُ وَ عَلٰی عَلِیِّ سَبْعَ سِنِیْنَ وَلَمْ یَصْعُدْ اَوْ لَمْ یَرْتَفِعْ بِشَھٰادَةِ اَنْ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مِنَ الْاَرْضِ اِلَی السَّمَاءِ اِلَّا مِنِّی وَمِنْ علی ابنِ ابی طالب۔ ❤انس بن مالک روایت کرتے ہیں کہ پیغمبر اکرم (ص) نے فرمایا کہ فرشتے سات سال تک مجھ پر اور علی علیہ السلام پر درود بھیجتے رہے (یہ اس واسطے کہ ان سات سالوں میں) خدا کی وحدانیت کی گواہی زمین سے آسمان کی طرف سوائے میرے اور علی کے علاوہ کسی نے نہ دی۔ ❤یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ حضرت علی علیہ السلام کے سب سے پہلے اسلام لانے کے بارے میں اہلِ سنت اور شیعہ کتب سے کافی روایات ملتی ہیں۔ جیسے زید بن ارقم کہتے ہیں کہ: اَوَّلُ مَنْ اَسْلَمَ عَلِی، ❤سب سے پہلے جو اسلام لائے وہ علی تھے۔ ابن کثیر کتاب البدایہ والنہایہ،جلد7،صفحہ335(باب فضائلِ علی علیہ السلام)۔ گنجی شافعی کتاب کفایة الطالب،باب25،صفحہ125۔ سیوطی ،کتاب تاریخ الخلفاء، صفحہ166(بابِ ذکر علی ابن ابی طالب علیہ السلام)۔ ابن عساکر تاریخ دمشق ،باب شرح حالِ امام علی ،جلد1، ص70،حدیث116۔ ابن مغازلی کتاب مناقب ِ امیر المؤمنین ،حدیث 19،ص8،اشاعت اوّل،ص14پر شیخ سلیمان قندوزی حنفی، کتاب ینابیع المودة، باب12،صفحہ68۔ حافظ الحسکانی، کتاب شواہد التنزیل میں، حدیث 786اور 819۔ سیوطی، کتاب اللئالی المصنوعہ،ج1،ص169و(صفحہ166اشاعت بولاق) متقی ہندی، کنز العمال،ج11،ص616(موٴسسة الرسالہ بیروت،اشاعت پنجم)۔ اسی طرح انس بن مالک کہتے ہیں کہ: "بُعِثَ النَّبِیُّ یَوْمَ الْاِثْنَیْنِ وَاَسْلَمَ عَلِیٌّ یَوْمَ الثلاثا" یعنی پیغمبر اکرم (ص) پیر کے دن مبعوث برسالت ہوئے اور علی علیہ السلام نے منگل کے  دن اسلام قبول کیا۔ خطیب،تاریخ بغداد میں، جلد1، صفحہ134(حالِ علی علیہ السلام، شمارہ1)۔ حاکم ،المستدرک میں، جلد3، صفحہ112(بابِ فضائلِ علی علیہ السلام)۔ ابن کثیر، کتاب البدایہ والنہایہ، جلد3،صفحہ26۔ سیوطی، کتاب تاریخ الخلفاء،صفحہ166(بابِ ذکر علی ابن ابی طالب علیہ السلام)۔ شیخ سلیمان قندوزی حنفی، ینابیع المودة، باب12، صفحہ 68اورباب59،ص335 ابن عساکر تاریخ دمشق ، حالِ امیر الموٴمنین امام علی ،جلد1، ص41،حدیث76۔ https://www.valiasr-aj.com/urdu/shownews.php?idnews=795

⚜مثالی خواتین⚜ 🌺اسلام سے پہلے شائستہ ترین خواتین میں سے ایک ہیں حضرت ایوب ع کی ہمسر گرامی ۔ آپ کا نام رحمہ تها۔ آپکی زندگی میں خدا کی سخت آزمائشیں آئیں ۔ ⭕️آپکے فرزندان زلزلے کی وجہ سےفوت ہوگئے ، باغ جل گیۓ اور سب مال و دولت چلا گیا اور حضرت ایوب ع بیمار ہوگئے۔ 📛️اور سب سے سخت یہ کہ لوگ حضرت ایوب ع کی عیادت کرنے کی بجاۓآپ سے دوری اختیار کرتے کہ ضرور آپ نے کوئی بڑا گناه کیا ہے اسی لیے آپ شہر سے چلے گئے اور جنگل میں رہنے لگے۔ 🍁رحمہ بہت صابر خاتون تهیں۔ آپ نے اپنے همسر کی خدمت جاری رکهی پهر حضرت ایوب ع نے آپ سے بهی دوری اختیار کرلی اور آپ سے جدا ہوگئے ۔ 🔆حضرت ایوب ع جب خدا کے امتحانات میں کامیاب ہوۓ خدا نے تمام نعمتیں دوباره عطا کردیں.. آپکی ہمسر گرامی اب بهی آپکی خدمت میں واپسی کی منتظر تهیں۔ آپکو حضرت ایوب ع کے حالات کا علم نہ تها آپ نے فیصلہ کیا کہ آپ دوباره حضرت ایوب ع کے پاس جائیں اور ان کی خدمت کریں. ♥️جب آپ حضرت ایوب ع کے پاس پہنچیں تو یہ نعمتیں دیکھ کر آپ کو علم ہو گیا کہ خدا نے دوباره ان پر رحم و کرم فرمایا هے اور دونوں نے مل کر خدا کا شکر ادا کیا۔۔ (📒قصص القرآن، تالیف صدرالدین بلاغی) تلخیص از ص 213 .207📖 📝اس سے سبق ملتا ہے کہ ۔۔۔۔۔ سخت سے سخت حالات میں بھی تھکنا نہیں چاہیے اور امید رکهنی چاہیے. 🍁🍃🍁🍃🍁🍃🍁🍃🍁🍃🍁🍃 #مثالی_خواتین https://t.me/islamwitheman 🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵

⚜مثالی خواتین⚜ 🌱 حضرت ہاجرہؑ 🌱 💠حضرت ہاجرہؑ ایک کنیز تھیں خدا نے آپ کے توسط سے لمبے عرصے کے بعد حضرت ابراہیم ؑ کو اولاد کی نعمت عطا فرمائی ۔ 🔹جب حضرت ابراہیم ؑ حجاز کی سرزمین پر حضرت ہاجرہؑ اور حضرت اسماعیلؑ کو تنہا چھوڑ کر جارہے تھے ۔۔۔ 🔺ہاجرہؑ خوف کے مارے حضرت ابراہیمؑ سے التماس کر رہی تھیں کہ ہمیں اس صحرا میں جہاں آب و خوراک کا وجود نہیں اکیلے چھوڑ کر مت جاؤ۔ 🔸حضرت ابراہیمؑ نے ان پر توجہ کیے بغیر اپنی حرکت جاری رکھی۔ جب وہ ایک پہاڑی پر پہنچے کہ جس کے بعد حضرت ابراہیمؑ حضرت ہاجرہؑ کو نظر نہ آئے ۔ ▫️حضرت ہاجرہؑ نے سوال کیا۔۔۔کیا تم نے خدا کے حکم سے یہ کام کیا ہے۔۔۔۔ ؟؟ حضرت ابراہیمؑ نے جواب دیا ۔۔جی ۔۔۔ 🔻اس جواب پر حضرت ہاجرہؑ نے آسمان کی طرف نگاہ کی اور بولیں۔۔ پس ۔۔۔!! وہ ہمیں کبھی بھی اکیلا نہ چھوڑے گا ۔ ⭕️حضرت ہاجرہؑ کی دوسری آزمائش ۔۔۔ 🔅جب حضرت ابراہیمؑ حضرت اسماعیلؑ کو ذبح کرنے لے کر گئے شیطان ایک بوڑھے شخص کی صورت میں حضرت ہاجرہؑ کے پاس آیا۔۔۔۔۔۔ 💭اور بولا کہ کوئی بھی باپ بیٹے کو ذبح نہیں کرتا ابراہیمؑ کہتا ہے کہ خدا نے کہا ہے ۔ ♥️اس بات پر جناب ہاجرہؑ نے فرمایا ۔۔۔میں اور اسماعیلؑ ہزار بار خدا کی راہ میں فدا ہوں ۔۔۔اے کاش!! میرے پاس ہزار فرزند ہوتے سب کو خدا کی راہ میں قربان کر دیتی 🔶پھر حضرت ہاجرہؑ نے کنکر شیطان کو مارے اور اسے اپنے سے دور کردیا ۔ مجمع البیان ، طبرسی ، ج۸،ص435 🍁🍃🍁🍃🍁🍃🍁🍃🍁🍃🍁🍃 #مثالی_خواتین #حضرت_ہاجرہؑ https://t.me/islamwitheman 🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵

⚜مثالی خواتین⚜ 🌱 یوکابد 🌱 ♻️حضرت موسٰیؑ کی والدہ کا نام " یوکابد" تھا۔ فرعون نے حکم دیا کہ بنی اسرائیل میں پیدا ہونے والے ہر لڑکے کا قتل کر دے کیونکہ پیش بینی کی گئی تھی کہ ایک بچہ پیدا ہوگا جو اسکے تخت کا خاتمہ کرے گا ۔ 💠حضرت موسٰیؑ کی والدہ کے حاملہ ہونے کے اثرات کسی کو بھی نظر نہ آئے اور اسطرح حضرت موسٰیؑ کی ولادت کی کسی کو خبر نہ ہوسکی۔ 🔴اللہ نے حضرت موسٰیؑ کی والدہ کے دل میں الہام ڈالا کہ اس بچے کو صندوق میں ڈال کر پانی میں بہا دے ۔ یہ موقع کسی بھی ماں کیلئے سخت ترین آزمائش ہوسکتی ہے جس کو حضرت موسٰیؑ کی والدہ نے پورا کر دکھایا ۔ 🔵آپ حزبیل جو کہ لکڑی کا کام کرتا تھا اس کے پاس گئیں اور اس سے لکڑی کا صندوق بنوایا اور حضرت موسٰیؑ کو صندوق میں ڈال کر پانی میں بہا دیا اور صندوق فرعون کے محل پہنچ گیا اور حضرت آسیہؑ نے آپکو اپنا فرزند بنالیا ۔ ♥️حضرت موسٰیؑ کی والدہ نے اس قربانی اور مقاومت کے ذریعے حضرت موسٰیؑ کی جان کو نجات دی اور قرآن پاک میں آپکا ذکر بہت اچھے الفاظ میں کیا گیا ہے ۔ 📖 مجمع البیان ، طبرسی 🍃🍁🍁🍃🍁🍃🍁🍃🍁🍃🍁🍃 #یوکابد #مثالی_خواتین #والدہ_حضرت_موسٰیؑ https://t.me/islamwitheman 🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵

💐🌷فریضہ زکوٰۃ🌷💐 حضرت رسولخدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم: ١۔زکوٰۃ اسلام کاپل ہے، لہٰذا جو شخص زکوٰۃ ادا کرتا ہے وہ اس پرسے گذر جائے گا اورجوروکے رکھتاہے اسے اس پل سے پہلے ہی روک لیاجائے گا۔زکوٰۃ غضب خداوندی(کے شعلوں)کو بجھاتی ہے۔ (بحارالانوارجلد٧٧ص٤٠٥) ٢۔اگرتم چاہتے ہوکہ تمہارے مال میں برکت ہو تو زکوٰۃ اداکیاکرو۔ (بحار جلد٩٦ص٢٣) حضرت علی علیہ السلام: ٣۔اللہ تعالیٰ نے مالدار لوگوں کے مالوں پرغریبوں کی ضروریات کے مطابق زکوٰۃ فرض کی ہے، لہٰذا اگرکوئی غریب ضائع ہوگیا، یا بھوکا ننگاہواتواس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ مالدار زکوٰۃ ادا نہیں کرتے اور خداوندعالم قیامت کے دن مالداروں سے زکوٰۃ کا حساب لے گا،اور انہیں دردناک عذاب میں مبتلا کرے گا۔ (بحارالانوارجلد ٩٦ص٢٨) حضرت امام حسن علیہ السلام: ٤۔زکوٰۃکبھی بھی مال کوکم نہیں کرتی۔(بحارالانوارجلد٩٦ص٢٣) حضرت امام محمدباقر علیہ السلام: ٥۔''فَاَمَّامَنْ اَعْطیٰ وَاتَّقیٰ وَصَدَّقَ بِالْحُسْنیٰ'' یعنی جس نے سخاوت کی، تقویٰ اختیار کیا اوراچھی بات کی تصدیق کی (لیل/٥۔٦)کے بارے میں فرمایا خداوندعالم ایک نیکی کے بدلے میں دس سے لے کر ایک لاکھ بلکہ اس سے بھی زیادہ عطاکرتاہے: ''فَسَنُیَسِّرُہُ لِلیُسْریٰ'' یعنی ہم اس کے لئے راحت و آسانی(جنت)کے اسباب مہیاکریں گے (لیل/٧) کے بارے میں فرمایا:وہ جس بھی نیکی کا ارادہ کرے گا خدا اسے اس میں خوشی عطافرمائے گا۔(وسائل الشیعہ جلد٦ ص٢٥٦) حضرت امام جعفرصادق علیہ السلام: ٦۔خشکی اورتری میں جو بھی مال ضائع اورتلف ہوتاہے وہ صرف زکوٰۃکی عدم ادئیگی کی وجہ سے ہوتاہے،لہٰذاتم زکوٰۃاداکرکے اپنے مالوںکابیمہ کرالو۔ (بحارج٦٩ص٣٩٣) ٧۔جب قائم آل محمدؐ ظہور فرمائیں گے توزکوٰۃ ادانہ کرنے والے کوپکڑکراس کاسرتن سے جدا کر دینگے۔(بحارج٩٦ص٢١) ٨۔جوشخص زکوٰۃکاایک قیراط (روپیہ،پیسہ)بھی روک لیتاہے تواسے یاتویہودی ہوکرمر نا چاہیئے یا نصرانی (اسلام پراس کی موت واقع نہیں ہوگی) (بحار جلد٩٦ ص٢٠) ٩۔اللہ تعالیٰ نے اس امت پر کوئی ایسی چیزفرض نہیں کی جو ان کے لئے زکوٰۃ سے زیادہ سخت ہو۔ (بحارالانوار ٩٦ ص٢٢) ١٠۔جو زکوٰۃادا نہیں کرتااس کی نمازنہیں اور جو تقوی اختیار نہیں کرتااس کی زکوٰۃنہیں۔(بحارالانوارجلد٩٦ص١٢) نقل از تفسیر المعین والترجمۃ القرآن الکریم تالیف: علامہ محمد علی فاضل دام عزہ https://t.me/islamwitheman 🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵

🌳 یہ بابے ویلے نہیں ہوتے 🌳 ﺩﻓﺘﺮ ﺳﮯ ﭼﮭﭩﯽ کیبعد ﻣﯿﮟ ﺑﮭﺎﮔﻢ ﺑﮭﺎﮒ ﺳﮍﮎ ﮐﻨﺎﺭﮮ ﭘﮩﻨﭽﺎ ﺗﺎﮐﮧ ﺳﻮﺍﺭﯼ ﭘﮑﮍ ﮐﮯ ﺟﻠﺪﯼ ﺳﮯ ﮔﮭﺮ ﭘﮩﻨﭻ ﺳﮑﻮﮞ، ﭼﻮﻧﮑﮧ ﺷﺎﻡ ﮐﻮ ﺗﻤﺎﻡ ﺩﻓﺎﺗﺮ ﮐﯽ ﭼﮭﭩﯽ ﮨﻮﺗﯽ ہے ﺍسلئے ﺟﻮ ﺑﮭﯽ ﻭﯾﮕﻨﯿﮟ ﯾﺎ ﺭﮐﺸﮯ ﺁﺗﮯ، ﮐﮭﭽﺎ ﮐﮭﭻ ﺑﮭﺮﮮ ﮨﻮﺗﮯ۔ ﻋﺠﻠﺖ ﻣﯿﺮﯼ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺣﺮﮐﺎﺕ ﺳﮯ ﻋﯿﺎﮞ ﺗﮭﯽ۔ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﯽ ﺷﺶ ﻭ ﭘﻨﺞ ﻣﯿﮟ ﮐﮭﮍﺍ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﻭﮞ, ﺍﯾﮏ ﻣﻮﭨﺮ ﺳﺎﺋﯿﮑﻞ ﺳﻮﺍﺭ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺳﮯ ﮔﺰﺭﺍ۔ ﻭﮦ ﺗﮭﻮﮌﺍ ﺳﺎ ﺁﮔﮯ ﺟﺎﮐﺮ ﺭﮐﺎ ﺍﻭﺭ ﮨﺎﺗﮫ ﮐﮯ ﺍﺷﺎﺭﮮ ﺳﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﻼﯾﺎ۔ ’’ﺍﻧﺪﮬﺎ ﮐﯿﺎ ﭼﺎﮨﮯ ﺩﻭ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ‘‘ ﮐﮯ ﻣﺼﺪﺍﻕ ﻣﯿﮞ بھاﮒ ﮐﺮ ﺍُﺱ ﺗﮏ ﭘﮩﻨﭽﺎ، ﻭﮦ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﮐﭽﮫ ﯾﻮﮞ ﻣﺨﺎﻃﺐ ﮨﻮﺍ ’’ﺑﺮﺧﻮﺭﺩﺍﺭ! میں آﭖ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮨﯽ ﺭﮐﺎ ﮨﻮﮞ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺁﭖ ﮐﮯ ﭼﮩﺮﮮ ﺳﮯ ﺍﻧﺪﺍﺯﮦ ﻟﮕﺎﻟﯿﺎ ﮐﮧ ﺁﭖ ﻋﺠﻠﺖ ﻣﯿﮟ ﮨﯿﮟ۔‘‘ ﭘﮭﺮﻣﺴﮑﺮﺍﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﺑﯿﭩﮭﻨﮯ ﮐﺎ ﺍﺷﺎﺭﮦ ﮐﯿﺎ۔ ﻣﯿﮟ ﺷﮑﺮﯾﮧ ﺍﺩﺍ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺑﯿﭩﮫ ﮔﯿﺎ۔ ﻭﮦ ﺳﺎﭨﮫ ﭘﯿﻨﺴﭩﮫ ﮐﮯ ﭘﯿﭩﮯ ﻣﯿﮟ ﺗﮭﮯ۔ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﮯ۔ ‘‘ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺍﺗﻨﺎ ﮨﺠﻮﻡ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺳﻮﺍﺭﯼ ﻣﻠﻨﺎ ﺑﮩﺖ ﻣﺸﮑﻞ ﮨﮯ۔ ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﺳﻮﭼﺎ‘ ﺁﭖ ﭘﺘﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺐ ﺳﮯ ﯾﮩﺎﮞ ﮐﮭﮍﮮ ﮨﯿﮟ۔ ﭼﻠﻮ ﺁﭖ ﮐﻮ ﻟﻔﭧ ﺩﮮ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﻮﮞ" ‘‘ﻣﯿﮞ نے ﺩﻭﺑﺎﺭﮦ ﺷﮑﺮﯾﮧ ﺍﺩﺍ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﮐﮧ ﺁﭖ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ؟ ﺍﻧﮭﻮﮞ ﻧﮯ ﺯﻭﺭﺩﺍﺭ ﻗﮩﻘﮩﮧ ﻟﮕﺎﯾﺎ۔ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﻏﯿﺮﻣﺘﻮﻗﻊ ﺟﻮﺍﺏ ﭘﮧ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﮨﻮﺍ۔ ﻭﮦ ﭘﮭﺮ ﺍﭘﻨﺎ ﮨﺎﺗﮫ ﻓﻀﺎ ﻣﯿﮟ ﺑﻠﻨﺪ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺑﻮﻟﮯ ’’ﺑﺎﺑﺎ ﻭﯾﻼ ﺍﮮ‘‘ ﺳﺎﺗﮫ ﮨﯽ ﺍﻥ ﮐﺎ ﮔﻼ ﺭﻧﺪﮪ ﮔﯿﺎ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺳﻮﭼﺎ ﯾﮧ ﺑﻨﺪﮦ ﺯﻧﺪﮦ ﺩﻝ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺩﮐﮭﯽ ﺑﮭﯽ! ﺟﺎﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﮐﯿﺴﯽ ﭘﺮﯾﺸﺎﻧﯿﺎﮞ ﺩﺭﭘﯿﺶ ﮨﯿﮟ۔ ﻣﯿﮞ نے ﻗﺪﺭﮮ ﺣﯿﺮﺕ ﺳﮯ ﺍﺳﺘﻔﺴﺎﺭ ﮐﯿﺎ ’’ﮐﯿﺎ ﻣﻄﻠﺐ؟" ﻭﮦ ﺑﻮﻟﮯ ﺑﯿﭩﺎ! ﺻﺒﺢ ﺳﻮﯾﺮﮮ ﺍُﭨﮫ ﮐﺮ ﻧﻤﺎﺯ ﭘﮍﮬﻨﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﮔﻮﺍﻟﮯ ﺳﮯ ﺩﻭﺩﮪ ﻻﺗﺎ ﮨﻮﮞ۔ﭘﮭﺮ ﺍﻧﮉﮮ، ﮈﺑﻞ ﺭﻭﭨﯽ ﺍﻭﺭ ﮐﻠﭽﮯ ﻻﻧﺎ ﺑﮭﯽ ﻣﯿﺮﯼ ﺫﻣﮯ ﺩﺍﺭﯼ ﮨﮯ۔ ﻧﺠﺎﻧﮯ ﮐﯿﻮﮞ ﺁﺝ ﮐﻞ ﮐﯽ ﺑﮩﻮ ﺑﯿﭩﯿﻮﮞ ﻧﮯ ﮔﮭﺮﻭﮞ میں ﻧﺎشتہ ﺗﯿﺎﺭ ﮐﺮﻧﺎ ﭼﮭﻮﮌ ﺩﯾﺎ ﮨﮯ۔ ﺷﺎﯾﺪ ﮨﺮ ﭼﯿﺰ ﺑﺎﺯﺍﺭ ﺳﮯ ﭘﮑﯽ ﭘﮑﺎﺋﯽ ﺟﻮ ﻣﻞ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ،، ﭘﮭﺮ ﭘﻮﺗﮯ ﭘﻮﺗﯿﻮﮞ کو ﺍﺳﮑﻮﻝ ﭼﮭﻮﮌﻧﮯ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﻮﮞ۔ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﮔﮭﺮ ﮐﮯ ﭼﮭﻮﭨﮯ ﻣﻮﭨﮯ ﮐﺎﻡ ﺍﻧﺠﺎﻡ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﻮﮞ۔ ﻣﺜﻼً ﺳﻮﺋﯽ ﮔﯿﺲ ﮐﮯ ﭼﻮﻟﮭﮯ ﮐﺎ ﺑﭩﻦ ﺧﺮﺍﺏ ﮨﮯ ﯾﺎ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﺎ ﭘﺎﺋﭗ ﻟﯿﮏ ﮐﺮ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ۔ ﺍِﺱ ﻣﺎﮦ ﺑﺠﻠﯽ ﮐﮯ ﺑﻞ ﻣﯿﮟ ﺳﺎﺑﻘﮧ ﺑﻞ ﺑﮭﯽ ﻟﮓ ﮐﺮ ﺁ ﮔﯿﺎ، ﺍُﺳﮯ ﭨﮭﯿﮏ ﮐﺮﺍﻧﺎ ﮨﮯ۔ ﻟﯿﺴﮑﻮ ﻭﺍﻟﮯ ﺑﮭﯽ ﻧﺠﺎﻧﮯ ﮐﺲ ﻣﭩﯽ ﮐﮯ ﺑﻨﮯ ﮨﯿﮟ, ﻭﮦ ﮨﻢ ﺻﺎﺭﻓﯿﻦ ﮐﯽ ﺷﮑﺎﯾﺘﻮﮞ ﮐﺎ ﺍﺯﺍﻟﮧ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﺠﺎﺋﮯ ﻣﺰﯾﺪ ﭘﯿﭽﯿﺪﮔﯿﻮﮞ میں ﺍﻟﺠﮭﺎ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﻭﻗﺘﯽ ﻃﻮﺭﭘﺮ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺑﻞ ﺩﺭﺳﺖ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ‘ ﻣﮕﺮ ﺍﮔﻠﮯ ﻣﺎﮦ ﭘﮭﺮ ﻭﮨﯽ ﺷﮑﺎﯾﺘﯽ ﺑﻞ… ﺑﮍﺍ ﻭﻗﺖ ﺑﺮﺑﺎﺩ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﻭﺍﺷﻨﮓ ﻣﺸﯿﻦ ﺧﺮﺍﺏ ﮨﮯ, ﺍُﺳﮯ ﻣﺴﺘﺮﯼ ﮐﯽ ﺩﮐﺎﻥ ﭘﺮﭘﮩﻨﭽﺎﻧﺎﮨﮯ۔ ﺑﮩﻮ ﻧﮯ ﮐﭙﮍﮮ ﺩﺭﺯﯼ ﮐﻮ ﺩﯾﻨﮯ ﮨﯿﮟ، ﺍُﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺟﺎﻧﺎ ﮨﮯ۔ ﻏﺮﺽ ﭼﮭﻮﭨﮯ ﺑﮍﮮ ﮐﺌﯽ ﮐﺎﻡ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ ’’ﺑﯿﭩﮯ ﮐﯽ ﮐﭙﮍﮮ ﮐﯽ ﺩﮐﺎﻥ ﮨﮯ۔ ﺩﻭﭘﮩﺮ ﮐﻮ ﺍُﺳﮯ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﺩﯾﻨﮯ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﻮﮞ۔ ﺩﮐﺎﻥ ﭘﺮ ﺑﮭﯽ ﮐﺌﯽ ﮐﺎﻡ ﻣﯿﺮﮮ ﻣﻨﺘﻈﺮ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﻭﮨﺎﮞ ﺳﮯ ﻭﺍﭘﺴﯽ ﭘﺮ ﮔﮭﺮ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺳﺒﺰﯼ ﺧﺮﯾﺪﺗﺎ ﮨﻮﮞ۔ ﭘﮭﺮ ﺑﮩﻮ ﮐﯽ ﻓﺮﻣﺎﺋﺸﯿﮟ ﭘﻮﺭﯼ ﮐﺮﻧﺎ ﭘﮍﺗﯽ ﮨﯿﮟ، ﻏﺮﺽ ﺭﺍﺕ ﮐﻮ ﮔﮭﺮ ﮐﮯ ﺳﺒﮭﯽ ﺍﻓﺮﺍﺩ ﺳﻮ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﻣﮕﺮ ﻣﯿﺮﮮ ﮐﺎﻡ ﺧﺘﻢ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﮯ۔ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﺎﻭﺟﻮﺩ ﮔﮭﺮ ﻭﺍﻟﮯ ﯾﮩﯽ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ’’ﺑﺎﺑﺎ ﻭﯾﻼ ﺍﮮ" ﮐﮩﯿﮟ ﻓﻮتگی ﮨﻮ ﮔﺌﯽ ﯾﺎ ﺩﻭﺭ ﭘﺮﮮ ﮐﮯ ﺭﺷﺘﮯ ﺩﺍﺭ ﮐﯽ ﺷﺎﺩﯼ ﮨﮯ ﺟﮩﺎﮞ ﺟﺎﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﭩﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﮩﻮﺋﯿﮟ ﺩﻟﭽﺴﭙﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮐﮭﺘﮯ، ﺗﻮ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ، ﻭﮨﺎﮞ ﺑﺎﺑﮯ ﮐﻮﺑﮭﯿﺞ ﺩﻭ ﮐﯿﻮنکہ ’’ﺑﺎﺑﺎ ﻭﯾﻼ ﺍﮮ‘‘ ﻗﺪﺭﮮ ﺗﻮﻗﻒ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻭﮦ ﺑﮭﺮﺍﺋﯽ ﺁﻭﺍﺯ ﻣﯿﮟ ﺑﻮﻟﮯ ’’ﺍﯾﮏ ﺭﺍﺕ ﻣﯿﺮﮮ ﮈﯾﮍﮪ ﺳﺎﻟﮧ ﭘﻮﺗﮯ ﮐﯽ ﺍﭼﺎﻧﮏ ﻃﺒﯿﻌﺖ ﺧﺮﺍﺏ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺯﺍﺭ ﻭ ﻗﻄﺎﺭ ﺭﻭﻧﮯ ﻟﮕﺎ۔ ﺑﮩﻮ ﺍُﺳﮯ ﮔﻮﺩ ﻣﯿﮟ ﻟﮯ ﮐﺮ ﭼﭗ ﮐﺮﺍﻧﮯ ﻟﮕﯽ ﺗﻮ ﻣﯿﺮﮮ ﺑﯿﭩﮯ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ، ﺍﺳﮯ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﮐﻤﺮﮮ ﻣﯿﮞ لے ﺟﺎؤ ﺳﺎﺭﺍ ﺩﻥ ﺩﮐﺎﻥ ﭘﺮ ﮐﺎﻡ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺗﮭﮏ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﻮﮞ۔ ﺍﺏ ﺗﮭﻮﮌﯼ ﺩﯾﺮ ﺁﺭﺍﻡ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﻧﮯ ﺩﮮ ﮔﺎ۔ ﺑﮩﻮ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ, ﺑﭽﮯ ﮐﯽ ﻃﺒﯿﻌﺖ ﭨﮭﯿﮏ ﻧﮩﯿﮟ, ﺍِﺳﮯ ﮈﺍﮐﭩﺮ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﻟﮯ ﭼﻠﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺑﯿﭩﮯ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ, ﺑﺎﺑﮯ ﺳﮯ ﮐﮩﻮ‘ ﻭﮦ ﺍِﺳﮯ ﮈﺍﮐﭩﺮ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﻟﮯ ﺟﺎﺋﮯ۔ ﺳﺎﺭﺍ ﺩﻥ ﻭﯾﻼ ﮨﯽ ﺗﻮ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ، ﺑﮩﻮ ﺑﭽﮯ ﮐﻮ ﻣﯿﺮﮮ ﭘﺎﺱ ﻟﮯ ﺁﺋﯽ۔ ﻣﯿﮟ ﺑﮩﻮ ﮐﮯ ﺍﻓﺴﺮﺩﮦ ﭼﮩﺮﮮ ﺍﻭﺭ ﭘﻮﺗﮯ ﮐﺎ ﺭﻭﻧﺎ ﺳﻦ ﮐﺮ ﺍُﭨﮫ ﮐﮭﮍﺍ ﮨﻮﺍ۔ ﺑﭽﮯ ﮐﻮ ﻟﯿﮯ ﮐﻠﯿﻨﮏ ﭘﮩﻨﭽﺎ۔ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﺎﺭﯼ ﮐﺎ ﺍﻧﺘﻈﺎﺭ ﮐﺮﺗﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﭽﮯ ﮐﻮ ﭼﯿﮏ ﮐﺮﺍﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺩﻭﺍﺋﯽ ﻟﯿﺘﮯ ﺭﺍﺕ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮦ ﺑﺞ ﮔﺌﮯ۔ ﮔﮭﺮ ﭘﮩﻨﭽﺎ ﺗﻮ ﺳﺐ ﺳﻮ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ﺻﺮﻑ ﺑﭽﮯ ﮐﯽ ﻣﺎﮞ ﺟﺎﮒ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﻣﯿﮞ نے ﭘﻮﺗﮯ ﮐﻮ ﺍُﺱ ﮐﮯ ﺣﻮﺍﻟﮯ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﮐﻤﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﭼﻼ ﺁﯾﺎ۔ ﺻﺒﺢ ﻣﯿﺮﯼ ﺁﻧﮑﮫ ﻧﮧ ﮐﮭﻠﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﻭﻗﺖ ﭘﺮ ﺩﻭﺩﮪ ﺍﻭﺭ ﻧﺎﺷﺘﮯ ﮐﺎ ﺳﺎﻣﺎﻥ ﻧﮧ ﻻ ﺳﮑﺎ ﺗﻮ ﺑﯿﭩﻮﮞ ﻧﮯ ﺷﻮﺭ ﻣﭽﺎ ﺩﯾﺎ ﮐﮧ ﺑﺎﺑﺎ ﺍﺑﮭﯽ ﺗﮏ ﺳﻮﯾﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ، ﻧﺎﺷﺘﺎ ﻟﯿﻨﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﮔﯿﺎ۔ ﺳﺎﺭﺍ ﺩﻥ ﻭﯾﻼ ﮨﻮﺗﺎ ﺍﻭﺭ ﺳﺎﺭﯼ ﺭﺍﺕ ﺳﻮﺗﺎ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ۔ ﮐﻮﺋﯽ ﮐﺎﻡ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﺎﺑﮯ ﮐﻮ! ﺻﺒﺢ ﻧﺎﺷﺘﮯ ﮐﺎ ﺳﺎﻣﺎﻥ ﮨﯽ ﺗﻮ ﻻﻧﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺑﺲ۔ ﺍﻧﮭﻮﮞ نے ﻣﺠﮭﮯ ﺧﻮﺏ ﺟﻠﯽ ﮐﭩﯽ ﺳﻨﺎﺋﯿﮟ۔ ﻣﯿﮟ ﮨﮍﺑﮍﺍ ﮐﺮ ﺍُﭨﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﻐﯿﺮ ﻣﻨﮧ ﺩﮬﻮﺋﮯ ﻧﺎﺷﺘﺎ ﻟﯿﻨﮯ ﭼﻼ ﮔﯿﺎ، ﮐﭽﮫ ﻟﻤﺤﮯ ﺧﺎﻣﻮﺵ ﺭﮨﻨﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪﻭﮦ ﺑﻮﻟﮯ ’’ﺑﺲ ﺑﯿﭩﺎ! ﯾﮩﯽ ﮐﭽﮫ ﮐﺎﻡ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﻮﮞ ﭘﮭﺮ ﺑﮭﯽ ’’ ﺑﺎﺑﺎ ﻭﯾﻼ ﺍﮮ‘‘ ﯾﮧ ﻓﻘﺮﮦ ﻣﯿﺮﺍ ﭘﯿﭽﮭﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﭼﮭﻮﮌﺗﺎ۔‘‘ ﻣﯿﮟ ﺍﻓﺴﻮﺱ ﺍﻭﺭ ﺣﯿﺮﺕ ﮐﮯ ﻣﻠﮯ ﺟﻠﮯ ﺍﻧﺪﺍﺯ ﻣﯿﮟ ﺑﺲ ﻣﺴﮑﺮﺍ ﮐﺮ ﺭﮦ ﮔﯿﺎ۔ ﺍﺏ ﺍﻥ ﺳﮯ ﮐﯿﺎ ﮐﮩﺘﺎ‘ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺩﮐﮭﻮﮞ ﭘﺮ ﻣﺮﮨﻢ ﮐﺲ ﻃﺮﺡ ﺭﮐﮭﺘﺎ؟ ﺍﻟﺒﺘﮧ ﻣﯿﮟ ﺳﻮﭼﻨﮯ ﻟﮕﺎ, ﮨﻤﺎﺭﮮ ﻣﻌﺎﺷﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﺴﮯ ﮐﺘﻨﮯ ﮨﯽ ﺑﺎﺑﮯ ﺭﻭﺯﻣﺮﮦ ﮐﺎﻡ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﺎﻭﺟﻮﺩ ﺍﭘﻨﯽ ﺍﻭﻻﺩ ﮐﯽ ﻧﻈﺮ ﻣﯿﮟ ﻭﯾﻠﮯ ﮨﯽ ﮨﻮﮞ ﮔﮯ۔ 🔘 صرف گوگل پر فادر ڈے منانے پر اکتفا نہ کریں، عملی زندگی میں بھی ان کی اسی طرح قدر کریں جیسے یہاں کرتے ہیں۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

☔ والدین اور رحمت خداوندی ☔ اسے نہیں معلوم وہ کس طرح مسجد سے نکلا اور گاڑی میں آبیٹھا. دل و دماغ میں آندھیاں سی چلتی ہوئی محسوس ہورہی تھیں. اس کا پورا وجود کسی طوفان کی زد میں آچکا تھا. کچھ دیر پہلے سنا گیا ایک ایک حرف اس کے دل کو چھلنی کررہا تھا. اس نے اپنے آپکو کسی دلدل میں دھنستا محسوس کیا. سانس حلق میں اٹکتا ہوا لگا. گاڑی اسٹارٹ کرتے ہی ضبط کے سارے بندھن ٹوٹ گئے. آنسوؤں کا ایک سیل رواں جاری تھی. اسے صرف اور صرف گھر پہنچنے کی جلدی تھی. ہاں، وہی گھر جہاں اس کی جنت تھی. "ماں کے قدموں تلے جنت ہے." "باپ جنت کا دروازہ ہے." "ہلاک ہوگیا وہ شخص جس نے اپنے والدین کی خدمت کرکے جنت نہ حاصل کی." "اپنے والدین کو "اف" تک نہ کرو." "والدین اگر کافر بھی ہوں تو ان کی عزت کرو." "جو شخص بصورت خفگی پدر و مادر رات بسر کر دے جب صبح کو اٹھے تو اس کے لئے دو دروازے جہنم کے کھول دیئے جاتے ہیں۔" کچھ دیر پہلے مولوی صاحب سے سنے گئے درس کے الفاظ ایک بےربط تسلسل کے ساتھ اس کی سماعت سے ٹکرارہے تھے. حدیث پاک کے الفاظ کی بازگشت اسے لرزا رہی تھی. رحمتوں اور مغفرتوں کے اس موجزن دریا میں کیا میرا کوئی حصہ نہیں؟ میں کنارے پر کھڑا پیاسا ہی رہا. درد کی ایک تیز لہر اس کے وجود میں اٹھی. اےسی کی ٹھنڈک کے باوجود اس کا جسم پسینے سے شرابور تھا. رحمت خداوندی نے اسے چپکے سے دیکھا. پچھلے سال وہ ناراض ہوکر والدین کے گھر سے نکلا تھا. ابو سے آۓ روز کی تلخ کلامی کے بعد اس نے یہ فیصلہ کرلیا تھا کہ اب وہ اس گھر میں نہیں رہے گا. دو دن بعد ابو کی غیرموجودگی میں وہ بیوی بچوں کو لے کر اس گھر سے نکل گیا. اس کی والدہ اور بہن نے اسے بہت روکا مگر اس نے کسی کی نہ سنی. اس پر ستم کہ اس نے یہ بھی نہ بتایا کہ وہ کہاں جاۓ گا. اس کا یہ دعوٰی تھا کہ وہ اپنے پیروں پر کھڑا ہوکر دکھاۓ گا. اپنے اس زعم میں وہ اتنا مگن ہوا کہ قریبی رشتوں سے ہر رابطہ توڑ کر سب کو بھول بھال دنیا کے پیچھے بھاگتا چلا گیا. ایک بار مڑ کر بھی نہ دیکھا کہ والدین اور بہن بھائی کس حال میں ہیں. "کسی نے اپنے ماں باپ کو ناراض کیا ہوا ہے تو خدا کے واسطے آج جاکر انہیں منا لو ان کے قدموں میں گر جاؤ۔" مولوی صاحب نے ہاتھ جوڑ کر کہا تھا. "امی، ابو میں آرہا ہوں" اس کے ہونٹوں میں جنبش ہوئی. رحمت خداوندی مسکرا کر اس کے قریب آ کھڑی ہوئی. آنسو اس کا دامن بھگونے کے ساتھ ساتھ اس کے دل پر پڑی قساوت کی گرد کو بھی دھو رہے تھے. وہ دیوانہ وار گاڑی سے اتر کر گھر کی جانب بھاگا. رحمت خداوندی نے بھی اس کا پیچھا کیا. وہ اندھا دھند بھاگتا گیا اور ماں باپ کے قدموں سے جاکر لپٹ گیا، ہاتھ جوڑ کر ان سے معافی مانگی. اللہ پاک نے والدین کے دلوں کو بےحد بڑا بنایا ہے. انہیں کہاں گوارا تھا کہ ان کا لخت جگر ان کے قدموں میں بیٹھے. ماں نے بہتے اشکوں کے ساتھ اسے گلے سے لگالیا اس شکوے کے بغیر کہ پورے سال بعد ان کا خیال کیونکر آیا. ابو نے بھی لپک کر اسے سینے سے لگایا اور اسی لمحے رحمت خداوندی نے بھی اسے ڈھانپ لیا. https://t.me/islamwitheman 🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵

🌸 زیارتنامہ معصومۂ قُمؑ 🌸 امام رضا علیہ السلام فرماتے ہیں اے سعد! جب زیارت کرنا چاہو تو بالائے سر قبلہ رخ کھڑے ھو کر پہلے 34 مرتبہ اللہ اکبر پھر 33 مرتبہ سبحان اللہ پھر 33 مرتبہ الحمد للہ پڑھو پھر اس طرح زیارت پڑھو۔۔۔ السَّلامُ عَلَى آدَمَ صِفْوَةِ اللهِ السَّلامُ عَلَى نُوحٍ نَبِیِّ اللهِ السَّلامُ عَلَى إِبْرَاهِیمَ خَلِیلِ اللهِ السَّلامُ عَلَى مُوسَى کَلِیمِ اللهِ السَّلامُ عَلَى عِیسَى رُوحِ اللهِ السَّلامُ عَلَیْکَ یَا رَسُولَ اللهِ السَّلامُ عَلَیْکَ یَا خَیْرَ خَلْقِ اللهِ السَّلامُ عَلَیْکَ یَا صَفِیَّ اللهِ السَّلامُ عَلَیْکَ یَا مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللهِ خَاتَمَ النَّبِیِّینَ السَّلامُ عَلَیْکَ یَا أَمِیرَالْمُؤْمِنِینَ عَلِیَّ بْنَ أَبِی طَالِبٍ وَصِیَّ رَسُولِ اللهِ السَّلامُ عَلَیْکِ یَا فَاطِمَةُ سَیِّدَةَ نِسَاءِ الْعَالَمِینَ السَّلامُ عَلَیْکُمَا یَا سِبْطَیْ نَبِیِّ الرَّحْمَةِ وَ سَیِّدَیْ شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ السَّلامُ عَلَیْکَ یَا عَلِیَّ بْنَ الْحُسَیْنِ سَیِّدَ الْعَابِدِینَ وَ قُرَّةَ عَیْنِ النَّاظِرِینَ السَّلامُ عَلَیْکَ یَا مُحَمَّدَ بْنَ عَلِیٍّ بَاقِرَ الْعِلْمِ بَعْدَ النَّبِیِّ السَّلامُ عَلَیْکَ یَا جَعْفَرَ بْنَ مُحَمَّدٍ الصَّادِقَ الْبَارَّ الْأَمِینَ السَّلامُ عَلَیْکَ یَا مُوسَى بْنَ جَعْفَرٍ الطَّاهِرَ الطُّهْرَ السَّلامُ عَلَیْکَ یَا عَلِیَّ بْنَ مُوسَى الرِّضَا الْمُرْتَضَى السَّلامُ عَلَیْکَ یَا مُحَمَّدَ بْنَ عَلِیٍّ التَّقِیَّ السَّلامُ عَلَیْکَ یَا عَلِیَّ بْنَ مُحَمَّدٍ النَّقِیَّ النَّاصِحَ الْأَمِینَ السَّلامُ عَلَیْکَ یَا حَسَنَ بْنَ عَلِیٍّ السَّلامُ عَلَى الْوَصِیِّ مِنْ بَعْدِهِ اللهُمَّ صَلِّ عَلَى نُورِکَ وَ سِرَاجِکَ وَ وَلِیِّ وَلِیِّکَ وَ وَصِیِّ وَصِیِّکَ وَ حُجَّتِکَ عَلَى خَلْقِکَ السَّلامُ عَلَیْکِ یَا بِنْتَ رَسُولِ اللهِ السَّلامُ عَلَیْکِ یَا بِنْتَ فَاطِمَةَ وَ خَدِیجَةَ السَّلامُ عَلَیْکِ یَا بِنْتَ أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ السَّلامُ عَلَیْکِ یَا بِنْتَ الْحَسَنِ وَ الْحُسَیْنِ السَّلامُ عَلَیْکِ یَا بِنْتَ وَلِیِّ اللهِ السَّلامُ عَلَیْکِ یَا أُخْتَ وَلِیِّ اللهِ السَّلامُ عَلَیْکِ یَا عَمَّةَ وَلِیِّ اللهِ السَّلامُ عَلَیْکِ یَا بِنْتَ مُوسَى بْنِ جَعْفَرٍ وَ رَحْمَةُ اللهِ وَ بَرَکَاتُهُ السَّلامُ عَلَیْکِ عَرَّفَ اللهُ بَیْنَنَا وَ بَیْنَکُمْ فِی الْجَنَّةِ وَ حَشَرَنَا فِی زُمْرَتِکُمْ وَ أَوْرَدَنَا حَوْضَ نَبِیِّکُمْ وَ سَقَانَا بِکَأْسِ جَدِّکُمْ مِنْ یَدِ عَلِیِّ بْنِ أَبِیطَالِبٍ صَلَوَاتُ اللهِ عَلَیْکُمْ أَسْأَلُ اللهَ أَنْ یُرِیَنَا فِیکُمُ السُّرُورَ وَ الْفَرَجَ وَ أَنْ یَجْمَعَنَا وَ إِیَّاکُمْ فِی زُمْرَةِ جَدِّکُمْ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَ آلِهِ وَ أَنْ لا یَسْلُبَنَا مَعْرِفَتَکُمْ إِنَّهُ وَلِیٌّ قَدِیرٌ أَتَقَرَّبُ إِلَى اللهِ بِحُبِّکُمْ وَ الْبَرَاءَةِ مِنْ أَعْدَائِکُمْ وَ التَّسْلِیمِ إِلَى اللهِ رَاضِیا بِهِ غَیْرَ مُنْکِرٍ وَ لا مُسْتَکْبِرٍ وَ عَلَى یَقِینِ مَا أَتَى بِهِ مُحَمَّدٌ وَ بِهِ رَاضٍ نَطْلُبُ بِذَلِکَ وَجْهَکَ یَا سَیِّدِی اللهُمَّ وَ رِضَاکَ وَ الدَّارَ الْآخِرَةِ یَا فَاطِمَةُ اشْفَعِی لِی فِی الْجَنَّةِ فَإِنَّ لَکِ عِنْدَ اللهِ شَأْنا مِنَ الشَّأْنِ اللهُمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ أَنْ تَخْتِمَ لِی بِالسَّعَادَةِ فَلا تَسْلُبْ مِنِّی مَا أَنَا فِیهِ وَ لا حَوْلَ وَ لا قُوَّةَ اِلّا بِاللهِ الْعَلِیِّ الْعَظِیمِ اللهُمَّ اسْتَجِبْ لَنَا وَ تَقَبَّلْهُ بِکَرَمِکَ وَ عِزَّتِکَ وَ بِرَحْمَتِکَ وَ عَافِیَتِکَ وَ صَلَّى اللهُ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ آلِهِ أَجْمَعِینَ وَ سَلَّمَ تَسْلِیما یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ۔ 📚 مفاتیح الجنان https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🌸 معصومۂ قُمؑ کی زیارت 🌸 دعا اور زیارت گوشہ تنہائی سے پر کھول کر لقاءاللہ تک عروج کرنے کا نام ہے۔ خالص معنویت کے شفاف چشمے کے آب خوشگوار سے بھرا ہوا شفاف جام ہے اور حضرت معصومہ کے حرم کی زیارت زمانے کی غبار آلود فضا میں امید کی کرن ہے، غفلت اور بے خبری کے بھنور میں غوطہ کھانے والی روح کی فریاد ہے اور بہشت کے بوستانوں سے اٹھی ہوئی فرح بخش نسیم ہے۔ حضرت فاطمہ معصومہؑ کے مرقد منور کی زیارت انسان کو خود اعتمادی کا درس دیتی ہے، ناامیدی کی گرداب میں ڈوبنے سے بچا دیتی ہے اور اس کو مزید ہمت و محنت کی دعوت دیتی ہے۔ کریمہ اہلبیتؑ کے مزار کی زیارت موجب بنتی ہے کہ زائر خود کو خداوند صمد کے سامنے نیازمند اور محتاج پائے، خدا کے سامنے خضوع و خشوع اختیار کرے، غرور و تکبر کی سواری کہ جو تمام بدبختیوں اور شقاوتوں کا موجب ہے، سے نیچے اتر آئے اور حضرت معصومہؑ کو اپنے اور خدا کے درمیان واسطہ قرار دے۔ اسیوجہ سے آپؑ کی زیارت کے لئے عظیم انعامات کا وعدہ دیا گیا ہے۔ حضرت معصومہؑ کی زیارت کے سلسلے میں آئمہ معصومینؑ سے متعدد احادیث و روایات نقل ہوئی ہیں۔ 1ـ قم کے نامور محدث (سعد ابن سعد) کہتے ہیں کہ میں امام رضاؑ کی بارگاہ میں حاضر ہوا تو امام ہشتمؑ نے مجھ سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: "اے سعد! ہماری ایک قبر تمہارے ہاں ہے۔ میں نے عرض کیا؛ میری جان آپ پر فدا ہو کیا آپ فاطمہؑ بنت موسٰیؑ بن جعفرؑ کے مزار کی بات کر رہے ہیں؟ فرمایا: "من زارها فله الجنّة۔" ترجمہ: "جو شخص ان کی زیارت کرے، اس کے لئے بہشت ہے۔"(1) 2ـ حضرت امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں: "من زارها عارفاً بحقّها فله الجنة۔" ترجمہ: "جو کوئی ان کی زیارت کرے اور ان کے حق کی معرفت رکهتا ہو اس پر جنت واجب ہے"۔ اور ایک اور حدیث میں ہے کہ: "ان کی زیارت بہشت کے ہم پلہ ہے"۔(2) 3۔ نیز فرمایا: "انّ زيارتها تعدل الجنّة۔" ترجمہ: "بتحقیق ان کی زیارت جنت کے برابر ہے۔" 4۔ امام رضاؑ نے فرمایا: "من زار المعصومة عارفاً بحقّها فله الجنّة۔" ترجمہ: "جو شخص از روئے معرفت آپ کی زیارت کرے اس کا انعام جنت ہے۔"(3)  5۔ نیز فرمایا: "من زار المعصومة بقم کمن زارنی۔" ترجمہ: "جو شخص قم میں حضرت معصومہؑ کی زیارت کرے، گویا اس نے میری زیارت کی ہے۔" 6ـ ابن الرضا امام محمد تقی الجوادؑ نے فرمایا: "من زار قبر عمّتی بقم فله الجنة۔" ترجمہ: "جو شخص قم میں میری پھوپھی کی زیارت کرے بہشت اس پر واجب ہے۔"(4) 7۔ ایک مؤمن امام رضاؑ کی زیارت کے لئے مشہد گیا اور وہاں سے کربلا روانہ ہوا اور ہمدان کے راستے کربلا چلا گیا۔ سفر کے دوران اس نے خواب میں امام رضاؑ کی زیارت کی اور امام رضاؑ نے فرمایا: "کیا ہوتا اگر تم سفر کے دوران قم سے گذرتے اور میری ہمشیرہ کی زیارت کرتے۔" 8۔ مولی حیدر خوانساری لکهتے ہیں: روایت ہے کہ امام رضاؑ نے فرمایا: "جو شخص میری زیارت کے لئے نہ آ سکے رے میں میرے بهائی (حمزه) کی زیارت کرے یا قم میں میری ہمشیره معصومہ کی زیارت کرے اس کو میری زیارت کا ثواب ملے گا۔"(5) 🔷 احادیث کی مختصر شرح و تفصیل: گو کہ یہ ساری احادیث حضرت معصومہؑ کی عظمت کی دلیل ہیں مگر ان روایات میں بعض نکات قابل تشریح ہیں جیسے: جنت کا واجب ہونا، جنت کے برابر ہونا، بہشت کا مالک ہو جانا، اور ان کی زیارت کا حضرت رضاؑ کی زیارت کے برابر ہونا اور حضرت امام رضاؑ کا اس شیعہ بهائی سے باز خواست کرنا، جس نے حضرت معصومہؑ کی زیارت نہیں کی تهی۔ حضرت معصومہؑ کی زیارت کی سفارش صرف ایک امام نے نہیں فرمائی ہے بلکہ تین اماموں نے ان کی زیارت کی سفارش فرمائی ہے۔ امام صادقؑ، امام رضاؑ و امام جوادؑ۔ اور دلچسپ امر یہ کہ امام صادقؑ نے حضرت معصومهؑ کی ولادت باسعادت سے بہت پہلے بلکہ آپؑ کے والد امام کاظمؑ کی ولادت سے بهی پہلے ان کی زیارت کی سفارش فرمائی ہے۔ دوسرا دلچسپ نکتہ پانچویں روایت میں ہے جس میں حضرت معصومہؑ کی زیارت امام رضاؑ کی زیارت کے ہم پلہ قرار دیا گیا ہے۔ زید شحّام نے امام صادقؑ سے سوال کیا: "یابن رسول الله جس شخص نے آپ میں سے کسی ایک کی زیارت کی اس کی جزا کیا ہے؟ امام علیہ السلام نے فرمایا: "جس نے ہم میں سے کسی ایک کی زیارت کی:  "کمن زار رسول الله(ص)" وہ اس شخص کی طرح ہے جس نے رسول خدا صلی الله و علیہ و آلہ کی زیارت کی ہو"۔  چنانچہ جس نے سیده معصومہؑ کی زیارت کی در حقیقت اس نے رسول خدا (ص) کی زیارت کی ہے۔ 📚 حوالہ جات: (1) ثواب الأعمال۔ عيون اخبار الرضاؑ۔ عوالم العلوم، ج 21، ص 353 نقل از اسنى المطالب، ص49 تا ص51۔ (2) بحار، ج48، ص308۔ (3) عیون اخبارالرضاؑ (4) كامل الزيارة۔ (5) زبدة التصانيف، ج6، ص 159۔ بحوالہ كريمہ اہل بيت، ص 3۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🌹مقام ومنزلت حضرت فاطمہ معصومہؑ🌹 حضرت معصومہ قم سلام اللہ علیھا کو معصومہ کا لقب خود حضرت امام رضا علیہ السلام نے عطا فرمایا : امام رضا علیہ السلام ایک روایت میں ارشاد فرماتے ہیں : مَنْ زَارَ الْمَعصُومَةَ بِقُمْ كَمَنْ زَارَنى جس نے شہر قم میں معصومہ کی زیارت کی اس نے ہماری زیارت کی ۔ ۱ امام معصوم کی جانب سے حضرت کو یہ لقب ملنا آپ کی شان و منزلت کی بہترین دلیل ہے ، امام رضا علیہ السلام ایک دوسری روایت میں فرماتے ہیں : جو میری زیارت کو نہ آسکے وہ شہر ری میں میرے بھائی یا شہر قم میں میری بہن کی زیارت کرے تو اسے میری زیارت کا ثواب عطا کیا جائے گا ۔۲ حضرت فاطمہ معصومہ (س) کا دوسرا لقب کریمہ اہلبیت ہے ۔ البتہ اس لقب کی دلیل ایک عظیم المرتبت عالم کا خواب ہے اور وہ خواب اس طرح منقول ہے ۔ آیۃ اللہ العظمیٰ شہاب الدین مرعشی نجفی کے والد آیۃ اللہ محمود مرعشی کو یہ اشتیاق تھا کہ حضرت صدیقہ طاہرہ (س) کے قبر کی جگہ معلوم کریں ۔ آپ نے ایک عمل کیا اور چالیس شب عمل تمام ہونے کے بعد آپ عالم خواب میں امام باقر علیہ السلام اور امام صادق علیہ السلام کی خدمت میں شرفیاب ہوئے ۔ امام (ع) نے ان سے فرمایا : عَلَيْكَ بِكَرِيمَةِ اَهْل ِ الْبَْيت ِ تم کریمہ اہلبیت(ع) سے متوسل ہو ۔ انھوں نے یہ سوچا کہ کریمہ اہلبیت(ع) سے مراد حضرت زہرا(س) ہیں اس لئے عرض کیا کہ ،مولا! میں آپ پر قربان جاؤں میں نے یہ عمل اسی لئے انجام دیا ہے تاکہ حضرت زہرا(س) کی زیارت کر سکوں ،امام علیہ السلام نے فرمایا : میری مراد حضرت معصومہ قم کے قبر کی زیارت ہے ، پھر امام نے فرمایا : خداوند عالم کے علم میں مصلحت یہی ہے کہ حضرت زہرا(س) کی قبر مخفی رہے لہذا معصومہ قم کی قبر کو قبر حضرت زہرا(س) کی تجلی گاہ قرار دیا ہے ۔ اس خواب کے بعد آیۃ اللہ مرعشی نے فوراً قم کے لئے سامان سفر آمادہ کیا اور اپنے اہل وعیال کے ساتھ نجف ترک کر کے قم کی جانب چل پڑے ۔ ۳ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۱۔ ناسخ التواریخ ،ج/۳،ص/ ۶۸ ۲۔ زبدۃ التصانیف ،ج/۶،ص/۱۵۹ ۳۔ کریمہ اہل بیت، ص/۴۳ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🌹معصومہ قم سلام اللہ علیھا🌹 🌷مختصر سوانح حیات: حضرت فاطمہ معصومہؑ کہ جو برّصغیر میں معصومہ قم کے نام سے مشہور ہیں، امام ہفتم حضرت موسٰی بن جعفر الکاظمؑ کی بیٹی ہیں۔ آپ کی ولادت یکم ذوالقعدہ سن ۱۷۳ھ ق کو مدینہ منورہ میں ہوئی۔ کمسنی کے عالم میں باپ کا سایہ سر سے اٹھ گیا اور اس وقت سے جناب معصومہؑ کے بھائی امام رضاؑ نے آپ کی پرورش کی، یہی وجہ تھی کہ آپؑ اپنے بھائی امام رضاؑ سے بے انتہا محبت کرتی تھیں۔ امام رضاؑ کی مدینہ سے خراسان ہجرت کے بعد آپؑ نے بھی فیصلہ کیا کہ مدینہ سے ہجرت کر کے اپنے بھائی کے پاس خراسان جائیں گی، اس سفر کے دوران آپؑ نے بہت مصیبتیں اٹھائیں لیکن اپنے بھائی سے نہ مل سکیں اور خراسان پہنچنے سے پہلے ہی زہر دیئے جانے کی بنا پر شہرِقم میں ۲۸ سال کی عمر میں سن ۲۰۱ ھ میں آپ کی شھادت ہو گئی۔ قم المقدسہ میں آج بھی آپ کا روضہ بڑی شان و شوکت کے ساتھ موالیان اہلبیتؑ کی زیارتگاہ بنا ہوا ہے۔ 🌷آپؑکی حضرت زہراءؑ سے شباہتیں: ۱) نام اور لقب: حضرت معصومہؑ کا نام بھی فاطمہ ہے اور جناب سیدہؑ کا نام بھی فاطمہ ہے۔ جناب سیدہ کونینؑ بھی معصوم اور حضرت معصومہؑ کو بھی لقب ’معصومہ‘ سے نوازا گیا ہے۔ امام رضاؑ فرماتے ہیں: "مَنْ زَارَ الْمَعصُومَةَ بِقُمْ كَمَنْ زَارَنى" جس نے قم میں معصومہ کی زیارت کی گویا اسنے میری زیارت کی۔ اگرچہ عصمت کے مراتب ہیں اور فقط چہاردہ معصومیںؑ عصمت کے اعلی تریں مراتب پر فائز ہیں لیکن امام معصومؑ کی اس حدیث سے علماء یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ جناب فاطمہ معصومہؑ معصومہ ہیں۔ ۲) شفیع روز محشر: جیسا کہ حدیث میں ہے کہ جناب زہراءؑ کا مہر، امت رسول کے گناہگاروں کی شفاعت ہے۔ لھذا جس طرح سے بنت الرسول جناب فاطمہؑ بہت وسیع شفاعت کا اختیار رکھتیں ہیں اسی طرح جناب فاطمہ معصومہؑ بھی وسیع شفاعت کی مالکہ ہیں۔ امام صادقؑ فرماتے ہیں: "اَلا اِنّ لِلْجَنَّةِ ثَمانِیَةَ اَبْوابٍ ثَلاثَةٌ مِنْها اِلی قُمْ، تُقْبَضُ فیها اِمْرَأةٌ مِنْ وُلْدی اسمُها فاطِمَة بنتَ مُوْسی، و تُدْخَلُ بشفاعَتِها شیعَتی الْجَنَّةَ بِاَجْمَعِهِمْ" جان لو کہ جنت کے آٹھ دروازے ہیں جن میں سے تیں قم کی طرف ہیں، قم میں ہماری نسل میں سے ایک خاتوں دفن کی جائیں گی جنکا نام فاطمہ بنت موسیٰ ہوگا، انکی شفاعت سے ہمارے تمام شیعہ جنت میں داخل کئے جائیں گے۔ ۳) فداھا ابوھا: معصوم کبھی بھی مبالغہ یا احساسات کے بہاؤ میں کوئی بات نہیں کرتا۔ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جس طرح جناب زہراؑ کے لئے فرمایا: "فَداها اَبُوها" اسکا باپ اس پر فدا ہو جائے یعنی میں (رسول) آپ پر قربان جاؤں۔ اسیطرح امام موسیٰ الکاظمؑ نے جناب معصومہؑ کے لئے بھی فرمایا: "فَداها اَبُوها" ۴) جناب معصومہؑ کا روضہ حضرت زہراؑ کی قبر کی تجلی گاہ: مصلحت خداوندی یہ ہے کہ حضرت زہراؑ کی قبر مخفی رہے لیکن مؤمنین کو انکی قبر کی زیارت سے محروم نہیں رکھا، اس لیے بعض قرائن کی بنا پر کہا جا سکتا ہے کہ جناب معصومہؑ کا روضہ حضرت زہراؑ کے قبر کی تجلی گاہ ہے۔ مثلا جناب معصومہؑ کی زیارت کے آداب میں تسبیح حضرت زہراءؑ کا پڑھنا یا وہ مشہور واقعہ کہ جس میں آیت اللہ سید محمود مرعشی (رہ) سے خواب میں امام صادقؑ فرماتے ہیں "عَلَیْكَ بِكَرِیمَةِ اَهْلِ الْبَیْتِ" یعنی اگر تم جناب سیدہؑ کی قبر ڈھونڈنا چاہتے ہو تو جاکر جناب فاطمہ معصومہؑ کی قم میں زیارت کرو۔ ۵) حصارِ ولایت: جس طرح سے جناب سیدہؑ نے ولایت کے حصار میں زندگی بسر کی، جسکی بہترین مثال روز مباہلہ ہو سکتی ہے۔ اسی طرح جناب معصومہؑ کے زیارت نامہ میں وارد ہوا ہے: السلام علیک یا بنت ولی الله، السلام علیک یا اخت ولی الله، السلام علیک یا عمة ولی الله۔ سلام ہو آپ پر اے ولی اللہ کی بیٹی، اے ولی اللہ کی بہن ، اے ولی اللہ کی پھوپھی۔ ان کلمات میں بھی حصارِ ولایت نظر آتا ہے کہ جو امام رضاؑ نے جناب معصومہؑ کے لئے زیارت میں بیان کیا ہے۔ ان شباہتوں کے علاوہ بھی کئی اور شباہتیں ہیں کہ جنکا ذکر اس تحریر کی وسعت سے خارج ہے۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕