uk
Feedback
|-|ard Talk جلی کٹی

|-|ard Talk جلی کٹی

Відкрити в Telegram

Cartoonist, Journalist, Researcher Journalism Is Not A Crime ہمارا فیسبک پیج بھی ضرور لائک کریں https://www.facebook.com/profile.php?id=61564417160250&mibextid=ZbWKwL

Показати більше
1 748
Підписники
Немає даних24 години
+207 днів
+4330 днів
Архів дописів
Repost from Voice Of Pakistan
‏🚨 اورکزی میں سیکیورٹی فورسز پر حملہ – 1 اہلکار ہلاک، 1 زخمی۔
‼️ آج صبح سے ضلع اورکزی کی تحصیل غلجو کے علاقے غنڈہ میلہ میں سیکیورٹی فورسز پر حملے کی اطلاعات ہیں۔ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (TTP) نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے جنگجوؤں نے گھات لگا کر فورسز کو نشانہ بنایا۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق حملے میں ایک سیکیورٹی اہلکار ہلاک جبکہ ایک زخمی ہوا ہے۔ کالعدم تنظیم نے فورسز کو مالی نقصان پہنچانے کا بھی دعویٰ کیا ہے۔

Repost from Conflict Monitor
“Teenagers being shot by Israeli soldiers.” Nick Maynard is a British gastrointestinal surgeon, who is currently in Gaza, working at Nasser Hospital in Khan Younis.  We began by asking him what he can tell us about the shootings near the aid distribution sites this morning. https://t.me/spluspk/5733

Repost from اذانِ سحر
ابو عبیدہ کہتے ہیں: صہیونیوں کے خلاف ہر شخص اپنی استطاعت کے مطابق جواب دہ ہے! لہٰذا یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم صہیونی مصنوعات
ابو عبیدہ کہتے ہیں: صہیونیوں کے خلاف ہر شخص اپنی استطاعت کے مطابق جواب دہ ہے! لہٰذا یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم صہیونی مصنوعات کو پہچانیں اور ان کا مکمل بائیکاٹ کریں۔ حقیقت میں، یہ فلسطینی عوام کے ساتھ ہماری سب سے ادنیٰ درجے کی مدد ہے۔

Repost from N/a
پاکستان میں انقلابِ اسلامی کی مسلح جدوجہد کے مقاصد کیا ہیں؟ 1۔ اسلامی نظام کا قیام 2۔ مظلوم مسلمان عوام کو ظالم فوج کے ظلم سے
پاکستان میں انقلابِ اسلامی کی مسلح جدوجہد کے مقاصد کیا ہیں؟ 1۔ اسلامی نظام کا قیام 2۔ مظلوم مسلمان عوام کو ظالم فوج کے ظلم سے نجات دلانا 3۔ اپنے مسلمان بھائیوں کو ظالم فوج کی جیلوں سے آزاد کروانا 4۔ پاکستان میں اسلامی نظام کے قیام کے بعد دیگر مظلوم مسلمانوں کی نصرت کرنا #انقلاب_اسلامی #انقلاب_اسلامی_پاکستان https://x.com/IIP_Media https://t.me/IIP_Media

بدعنوان، کرپٹ لٹیرے، عیّاش اور بدمعاش عناصر کے لیے اسلام میں کوئی رعایت نہیں۔ ’’نفاذِ اسلام‘‘ کا نعرہ سن کر اگر یہ عناصر چیخ
بدعنوان، کرپٹ لٹیرے، عیّاش اور بدمعاش عناصر کے لیے اسلام میں کوئی رعایت نہیں۔ ’’نفاذِ اسلام‘‘ کا نعرہ سن کر اگر یہ عناصر چیخ و پکار شروع کردیں تو یہ بالکل فطری سی بات ہے۔ قومی خزانے کو شِیرِ مادر سمجھ کر گلچھرے اڑانے والوں کو ’’نفاذِ شریعت‘‘ سے بدکنا ہی چاہیے اور اس پر حیران ہونے کی ضرورت نہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ اگر اس ملک میں شرعی نظام قائم ہو گیا تو ان کے اللوں تللوں کی ایک ایک پائی کا حساب لیا جائے گا۔ غازی عبدالرشید رحمہ اللہ شہید امامِ برحق مولانا عبد الرشید غازی رحمۃ اللہ علیہ

Repost from Voice Of Pakistan
‏🔴 کالعدم ٹی ٹی پی کی چھاپہ مار ٹیم کی عسکری تربیت کی تصاویر جاری۔
‼️ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے اپنی چھاپہ مار جنگجو ٹیم کی خصوصی عسکری تربیتی کلاس کی تصاویر جاری کی ہیں۔ ان تصاویر میں چھاپہ مار دستے سے وابستہ جنگجوؤں کو مختلف جنگی مشقوں اور مہارتوں میں مصروف دیکھا جا سکتا ہے، جو گروہ کی منظم تیاری اور تربیتی سرگرمیوں کی نشاندہی کرتی ہیں۔

Repost from Voice Of Pakistan
photo content
+3

”راز“احادیثِ نبویہ میں بہت سی احادیث ِ نبویہ مسلمانوں کو رازداری اور رازوں کو چھپانے کے باب میں وارد ہوئی ہیں۔ ان میں آپ نے راز کو افشا کرنے سے خبردار فرمایا ہے۔ یہاں ہم چند ایک احادیث پیش کرتے ہیں۔اللہ کے نبیﷺ نے فرمایا: اسْتَعِينُوا عَلَى إِنْجَاحِ حَوَائِجِكُمْ بِالْكِتْمَانِ، فَإِنَّ كُلَّ ذِي نِعْمَةٍ مَحْسُودٌ 7اسے بیھقی نے ’’شعب الإیمان ‘‘میں روایت کیا ہے اور اسے البانی نے ’’صحیح الجامع ‘‘ (۹۴۳) میں صحیح کہا ہے۔ ’’اپنے معاملات کی تکمیل میں رازداری کا سہارا لو کیونکہ ہر نعمت والے کے لیے ایک حاسد ہے۔‘‘ حضرت جابر ﷜سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: إِذَا حَدَّثَ الرَّجُلُ الْحَدِيثَ ثُمَّ الْتَفَتَ فَهِيَ أَمَانَةٌ8اسے احمد، ابو داود اور ترمذی (جامع ترمذی: جلد ۱: حدیث ۲۰۴۴) نے روایت کیا ہے اور البانی رحمہ اللہ نے اسے حسن کہا (صحیح سنن ترمذی میں)۔ ’’جب کوئی آدمی تم سے کوئی بات بیان کرے پھر (اسے راز میں رکھنے کے لیے) دائیں بائیں مڑ کر دیکھے تو وہ بات تمہارے پاس امانت ہے ۔‘‘ پس جب بھی کسی کے پاس کوئی راز امانت ہو تو اسے چاہیے کہ اس کی حفاظت کرے اور اگر کوئی راز کو افشاءکرتا ہے تو یہ صفت منافقین کی صفات میں سے ہے۔ابو ہریرة ﷜ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: آية المنافق ثلاث: إذا حدَّث كذب، وإذا وعَدَ أخلف، وإذا ائتُمِنَ خان9کنزالعمال:جلد ۱:حدیث۸۳۹ ’’منافق کی تین نشانیاں ہیں، جب بات کرے تو جھوٹ بولے، جب وعدہ کرے تو وعدہ خلاف کرے اور جب اسے امانت دی جائے تو وہ خیانت کرے۔‘‘ اور رسول اللہ ﷺنے فرمایا: الْمَجَالِسُ بِالْأَمَانَةِ10اسے البانی نے ’’صحیح الجامع ‘‘میں حسن کہا ہے، ۶۶۷۸)۔ ’’مجالس امانت کے ساتھ ہیں۔‘‘ اسی طرح معتمر بن سلیمان اور التیمی کہتے ہیں کہ: ’’نبی ﷺ نے انہیں کوئی راز کی بات کہی۔‘‘11 باب حفظ السر ایٔ ترک افشاء ، فتح الباری ، جلد ۱۱، صفحہ ۸۲ ۔ مسلم کی ایک روایت میں انس ﷜سے مروی ہے کہ: ’’نبیﷺ نے مجھے کسی کام کے لیے بھیجا تو میں اپنی ماں کے سامنے خاموش رہا اور جب میں آیا تو آپ نے فرمایا تجھے کس چیز نے روک لیا تھا۔‘‘ اسی مسند احمد اور ابن سعد نے حمید کے طریق سے انس ﷜ سے روایت کیا کہ: ’’آپ ﷺ نے مجھے پیغام دے کر بھیجا تو ام سلیم کہنے لگیں تجھے کس چیز نے روکا؟‘‘ تو انس ﷜ کہتے ہیں: ’’میں نے کسی کوبھی اس کے بعد خبر نہیں دی اور مجھ سے ام سلیم نے سوال بھی کیا تھا۔‘‘ اسی طرح ایک ثابت روایت میں کہ: ’’وہ کہنے لگی ان کا کیا کام ہے؟تو میں نے کہایہ راز ہے تو اس پر انہوں نے کہا: لَا تُخْبِر بِسِرِّ رَسُول اللَّه صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَدًا تم اللہ کے رسول کا راز کسی کو بھی نہ بتانا۔‘‘ اور حمید بن انس کی روایت میں ہے: اِحْفَظْ سِرّ رَسُول اللَّه صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے راز کی حفاظت کرنا۔ اور ایک روایت میں ہے: ’’اللہ کی قسم اے ثابت اگر میں یہ بات کسی کو بیان کرنے والا ہوتا تو میں تجھے ضرور بیان کردیتا۔‘‘ اس پر بعض علماءکہتے ہیں گویا کہ یہ آپﷺ کا راز تھا اوراگر یہ علم ہوتا تو انس ﷜ کبھی اس کو نہ چھپاتے۔ ابن بطّال کہتے ہیں کہ اہلِ علم کا موقف یہ ہے کہ کسی کا راز نہیں کھولنا چاہیے جبکہ اس سے صاحبِ راز کو کوئی تکلیف پہنچتی ہو۔لیکن جب ایسا شخص فوت ہوجائے تو پھر اس کا چھپانا لازمی نہیں جیسا کہ اس کی زندگی میں لازم تھا۔میں کہتا یہ ہوں جو بات اس تقسیم میں مستحب ہے وہ یہ کہ موت کے بعد اس راز کے ظاہر کر دینے میں کوئی حرج نہیں چاہے یہ صاحبِ راز کے لیے مضر بھی ہو۔مثلاً اس میں کسی کا تزکیہ ہو یا کسی کی عزت ہو وغیرہ وغیرہ۔ لیکن وہ جو بالکل مکروہ ہے اور اس کا چھپانا حرام ہے اور جس کی طرف ابن بطال نے بھی اشارہ کیا ہے مثلاً جب اس میں کسی کا کوئی حق ہو تو ایسی صورت میں اس امید سے اسے افشا کیا جائے کہ وہ صاحبِ حق کی طرف لوٹ جائے گا۔پس کسی کے لیے جائز نہیں کہ کسی صاحبِ راز کو ضرر پہنچانے والی بات کو افشاکرے۔ ٭٭٭٭٭ 1 صحیح مسلم: جلد ۱: حدیث ۹ 2 الاخلاق الاسلامیہ، جلد ۲، صفحہ۳۵۸ 3 المنہاج، جلد ۲، صفحہ ۴۸ 4 الاخلاق فی الاسلام، صفحہ۲۰۱ 5 فضل اللہ الصمد،صفحہ۴۸ 6 عدة الصابرین وذخیرة الشاکرین لابن القیم، صفحہ۱۷ 7 اسے بیھقی نے ’’شعب الإیمان ‘‘میں روایت کیا ہے اور اسے البانی نے ’’صحیح الجامع ‘‘ (۹۴۳) میں صحیح کہا ہے۔ 8 اسے احمد، ابو داود اور ترمذی (جامع ترمذی: جلد ۱: حدیث ۲۰۴۴) نے روایت کیا ہے اور البانی رحمہ اللہ نے اسے حسن کہا (صحیح سنن ترمذی میں)۔ 9 کنزالعمال:جلد ۱:حدیث۸۳۹ 10 اسے البانی نے ’’صحیح الجامع ‘‘میں حسن کہا ہے، ۶۶۷۸)۔ 11 باب حفظ السر ایٔ ترک افشاء ، فتح الباری ، جلد ۱۱، صفحہ ۸۲ ۔

اللہ تعالیٰ عہد کی حفاظت کا حکم دیتے ہوئے فرماتے ہیں: وَأَوْفُواْ بِالْعَهْدِ إِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْؤُولاً (سورۃ الإسراء: 34) ’’اور عہد کو پورا کرو، یقین جانو کہ عہد کے بارے میں (تمہاری) باز پرس ہونے والی ہے۔‘‘ اور راز بھی ایک عہد ہے جس کو صاحبِ راز نے چھپانے کے وعدہ کے ساتھ آپ کے حوالے کیا ہے۔ اسی طر ح اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں اُس کی پکڑ فرمائی ہے جس نے راز کو افشا کردیا۔ یہ نبیﷺ کا اپنی ازواجِ مطہرات رضوان اللہ علیہن کے ساتھ واقع ہے جس کی وجہ سے سورۃ التحریم کی ابتدائی آیات نازل ہوئیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: وَإِذْ أَسَرَّ النَّبِيُّ إِلَى بَعْضِ أَزْوَاجِهِ حَدِيثًا فَلَمَّا نَبَّأَتْ بِهِ وَأَظْهَرَهُ اللَّهُ عَلَيْهِ عَرَّفَ بَعْضَهُ وَأَعْرَضَ عَن بَعْضٍ فَلَمَّا نَبَّأَهَا بِهِ قَالَتْ مَنْ أَنبَأَكَ هَذَا قَالَ نَبَّأَنِيَ الْعَلِيمُ الْخَبِيرُ (سورۃ التحریم: 3) ’’اور یاد کرو جب نبی نے اپنی کسی بیوی سے راز کے طور پر ایک بات کہی تھی۔ پھر جب اس بیوی نے وہ بات کسی اور کو بتلا دی اور اللہ نے یہ بات نبی پر ظاہر کردی تو انہوں نے اس کا کچھ حصہ جتلا دیا اور کچھ حصے کو ٹال گئے۔ پھر جب انہوں نے اس بیوی کو وہ بات جتلائی تو وہ کہنے لگیں کہ : آپ کو یہ بات کس نے بتائی ؟ نبی نے کہا کہ : مجھے اس نے بتائی جو بڑے علم والا، بہت باخبر ہے۔‘‘ جبکہ ان لوگوں کے قصے جنہوں نے رازوں کی حفاظت کی، اللہ نے کتاب میں ذکر کیے ہیں۔ان کا یہ راز چھپانا ان کے لیے راحت و سعادت کا باعث تھا اور ان کے اعمال کی کامیابی کا ضامن تھا۔ پس یہ بہت ہیں ا ن میں سے کچھ درج ذیل ہیں: یوسف ﷤کا اپنا خواب چھپانا۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں جب انہوں نے خواب دیکھا تو ان کے والد یعقوب ﷤نے فر مایا: قَالَ يَا بُنَيَّ لاَ تَقْصُصْ رُؤْيَاكَ عَلَى إِخْوَتِكَ فَيَكِيدُواْ لَكَ كَيْدًا إِنَّ الشَّيْطَانَ لِلإِنسَانِ عَدُوٌّ مُّبِينٌ (سورۃ یوسف: 5) انہوں نے کہا : بیٹا ! اپنا یہ خواب اپنے بھائیوں کو نہ بتانا، کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ تمہارے لیے کوئی سازش تیار کریں، کیونکہ شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے۔ اسی طرح لوط ﷤کا اپنی قوم اور اپنی بیوی سے فرشتوں کو اور قوم و بیوی کے انجام کی خبر چھپانے کا قصہ ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: قَالُواْ يَا لُوطُ إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَن يَصِلُواْ إِلَيْكَ فَأَسْرِ بِأَهْلِكَ بِقِطْعٍ مِّنَ اللَّيْلِ وَلاَ يَلْتَفِتْ مِنكُمْ أَحَدٌ إِلاَّ امْرَأَتَكَ إِنَّهُ مُصِيبُهَا مَا أَصَابَهُمْ إِنَّ مَوْعِدَهُمُ الصُّبْحُ أَلَيْسَ الصُّبْحُ بِقَرِيبٍ (سورۃ ھود: 81) ’’(اب) فرشتوں نے (لوط سے) کہا : اے لوط! ہم تمہارے پروردگار کے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں۔ یہ (کافر) لوگ ہرگز تم تک رسائی حاصل نہیں کرسکیں گے۔ لہٰذا تم رات کے کسی حصے میں اپنے گھر والوں کو لے کر بستی سے روانہ ہوجاؤ، اور تم میں سے کوئی پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھے۔ ہاں مگر تمہاری بیوی ( تمہارے ساتھ نہیں جائے گی) اس پر بھی وہی مصیبت آنے والی ہے جو اور لوگوں پر آرہی ہے۔ یقین رکھو کہ ان (پر عذاب نازل کرنے) کے لیے صبح کا وقت مقرر ہے۔ کیا صبح بالکل نزدیک نہیں آگئی۔‘‘ اسی طرح مریم علیہا السلام کا قوم سے معاملے کو چھپانا ۔ اللہ فرماتے ہیں: فَكُلِي وَاشْرَبِي وَقَرِّي عَيْنًا فَإِمَّا تَرَيِنَّ مِنَ الْبَشَرِ أَحَدًا فَقُولِي إِنِّي نَذَرْتُ لِلرَّحْمَنِ صَوْمًا فَلَنْ أُكَلِّمَ الْيَوْمَ إِنسِيًّا (سورۃ مریم: 26) ’’اب کھاؤ، اور پیو اور آنکھیں ٹھنڈی رکھو۔ اور اگر لوگوں میں سے کسی کو آتا دیکھو تو (اشارے سے) کہہ دینا کہ : آج میں نے خدائے رحمٰن کے لیے ایک روزے کی منت مانی ہے، اس لیے میں کسی بھی انسان سے بات نہیں کروں گی۔‘‘ خضر ﷤کااپنے عمل کے سبب کو موسیٰ ﷤سے چھپانا اور اس میں عظیم سبق ہے۔ اللہ فرماتے ہیں: قَالَ إِنَّكَ لَن تَسْتَطِيعَ مَعِيَ صَبْرًاوَكَيْفَ تَصْبِرُ عَلَى مَا لَمْ تُحِطْ بِهِ خُبْرًا قَالَ سَتَجِدُنِي إِن شَاء اللَّهُ صَابِرًا وَلَا أَعْصِي لَكَ أَمْرًاقَالَ فَإِنِ اتَّبَعْتَنِي فَلَا تَسْأَلْنِي عَن شَيْءٍ حَتَّى أُحْدِثَ لَكَ مِنْهُ ذِكْرًا )سورۃ الکھف: 70-67) ’’انہوں (خضر) نے کہا : مجھے یقین ہے کہ آپ میرے ساتھ رہنے پر صبر نہیں کرسکیں گے۔ اور جن باتوں کی آپ کو پوری پوری واقفیت نہیں ہے، ان پر آپ صبر کر بھی کیسے سکتے ہیں؟ موسیٰ نے کہا : ان شاء اللہ آپ مجھے صابر پائیں گے اور میں آپ کے کسی حکم کی خلاف ورزی نہیں کروں گا۔ انہوں(خضر) نے کہا : اچھا ! اگر آپ میرے ساتھ چلتے ہیں تو جب تک میں خود ہی آپ سے کسی بات کا تذکرہ شروع نہ کروں، آپ مجھ سے کسی بھی چیز کے بارے میں سوال نہ کریں۔‘‘ اس کے علاوہ متعدد آیات ہیں جن میں سے ہم نے اوپر مذکور پر ہی اکتفا کیا ہے اور ”سر“ یعنی راز کا لفظ قرآن میں بتیس مرتبہ مختلف صورتوں میں وارد ہوا ہے۔

مجـ.ـاہـ.ـدیـ.ـن اخیار کو خبریں اور راز چھپانے کی ترغیب سیـ.ـف الـ.ـعـ.ـدل الحمد للہ والصلاة والسلام علی رسول اللہﷺ وعلیٰ آلہ وصحبہ اما بعد یہ موضوع ایسے اعلیٰ اخلاق و فضائل کا موضوع ہے جو کسی نیک انسان کی نیکی و شرافت کی علامت ہے۔یہ انسان کی عقل اور اس کے رشد کی علامت ہے اور یہ موضوع ہے ”رازداری اور راز کو چھپانے میں مبالغہاور اس کی حفاظت کرنے کی حرص“! اے مجـ.ـاہد بھائی! تمہارے لیے اس عادت کے اچھا ہونے کی یہی دلیل ہی کافی ہے کہ یہ خصلت جس آدمی میں پائی جائے تو لوگ اس کی مدح و ستائش کرتے ہیں اور اسے عقل والوں میں شمار کرتے ہیں۔پھر اس میں کوئی شک نہیں کہ لوگ راز کی حفاظت کی نسبت اموال کی حفاظت پر زیادہ قادر ہیں ۔پس ہر مال کی حفاظت کرنے والا راز کی حفاظت کرنے والا نہیں ہوسکتا۔اس لیے ایسا آدمی جس کو کوئی راز سونپا جائے تو اس کی حفاظت کے لیے اپنی اَن تھک کوشش کرنا پڑتی ہے جبکہ اسے اگر مال دیا جائے تو ایسی کوشش کوئی زیادہ جہد کی متقاضی نہیں ہوتی ، وہ راز کی حفاظت کے لیے کی جانے والی کوشش کا دسواں حصہ ہوتی ہے۔اسی لیے انسان مال کے ضائع ہونےکی نسبت راز کے افشاں ہونے سے زیادہ ڈرتا ہے ۔کیونکہ مال تو آنی جانی چیز ہے جبکہ راز تو کسی کی جان لے سکتا یا کسی کی عزت کو مجروح کرسکتا ہے! دیکھنے میں آیا ہے کہ مجاہدین میں عادتاً عام و خاص دونوں میں رازوں کو چھپانے کا کوئی خاص اہتمام نہیں کیا جاتا اور بالآخر اس کے نتیجے میں مجاہدین اور ان کے اہل و عیال کوشدید اذیت پہنچتی ہے اور یہ لوگ جو ہمارے انصار و معاونین ہیں، ناقابل برداشت تکلیف میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ ہمیں جہاد و دین کے مصالح سے غفلت برتے بغیر یہ بات سوچنی چاہیے کہ محض ایک معمولی غفلت سے کتنے ہی اہم کام معطل ہوگئے اور مجاہدین کی قوت کمزور ہوگئی اور یہ معمولی غفلت ہے: ” خبروں کو برے انداز میں پھیلادینا“ ۔ کتنے ہی مجاہد بھائیوں کو، جو کارروائی وہ کرنے جا رہے تھے ،اس راز کے افشاہوجانےکے سبب اذیت کا سامنا کرنا پڑا۔ پھر کبھی کوئی مجاہد بھائی مجھ سے سوال کرتا ہے کہ اس کا سبب کیا ہے اور اس کا علاج کیا ہے۔ لیکن مطالعہ، سیر حاصل بحث اور تحقیق کے بغیر اس سوال کا جواب دیناممکن نہیں۔ لیکن جو میرے لیے ممکن ہے وہ ان سطور میں راز کے ساتھ تعامل کے شرعی آداب کا ذکر کرنا ہے جن سے ہر مجاہد کو متصف ہونا چاہیے۔اس لیے میں نے چاہا کہ رازوں سے متعلق ان اقوال کو یہاں ذکر کروں اور رازوں کے ساتھ تعامل کی کیفیت اوران کا تحفظ کرنے کے حوالے سے مجاہد کی مسئولیت کو بیان کروں۔ اے مجاہد بھائی! تمہیں جاننا چاہیے کہ ہر وہ بات جو معرفت و علم میں آجائے اسے کہہ دینا ضروری نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: وَإِذَا جَاءهُمْ أَمْرٌ مِّنَ الأَمْنِ أَوِ الْخَوْفِ أَذَاعُواْ بِهِ (سورۃ النسآء: 83) ’’اور جب ان کو کوئی بھی خبر پہنچتی ہے، چاہے وہ امن کی ہو یا خوف پیدا کرنے والی، تو یہ لوگ اسے (تحقیق کے بغیر) پھیلانا شروع کردیتے ہیں۔ ‘‘ آپ ﷺ کا فرمان ہے: كَفَى بِالْمَرْءِ كَذِباً أَنْ يُحَدِّث بِكُلِّ مَا سَمِعَ1صحیح مسلم: جلد ۱: حدیث ۹ آدمی کے جھوٹا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی ہوئی بات کو بیان کردے۔ ’’السر‘‘اور ’’الکتمان ‘‘کی تعریف شروع میں میں آپ کے لیے راز(السر) اور چھپانے(الکتمان) کے لفظوں کی تعریف نقل کرتا ہوں۔ الکتمان(چھپانا) سے مراد اپنے نفس کوان اسباب کے خلاف ضبط میں رکھنا جو کسی معاملہ میں خلجان پیدا کردیں اور یہ صبر کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔2 الاخلاق الاسلامیہ، جلد ۲، صفحہ۳۵۸ السر( راز)ہر وہ چیز جسے تم اپنے دل کے اندر چھپاؤ اور اسے خفیہ رکھو اور کسی کو بھی کسی مصلحت یا ضرر کی بنا پر اس سے مطلع نہ کرو وہ راز کہلاتا ہے یا اسے کسی قابلِ اعتما د شخص کے ساتھ خاص کر لے وہ راز ہے۔3المنہاج، جلد ۲، صفحہ ۴۸ راز وہ ہے جسے انسان اپنے سینے میں چھپاتا ہے۔ سِر کی جمع ہے اسرار اور اسی طرح السریرة اور اس کی جمع السرائر ہے۔4الاخلاق فی الاسلام، صفحہ۲۰۱ کتمان یعنی راز کو چھپانا یہ ہے کہ انسا ن اپنے مافی الضمیرمیں موجود بات پر ضبط رکھے اور اس کا اظہار نہ کرے اور اسے وقت سے پہلے ظاہر نہ کرے۔5فضل اللہ الصمد،صفحہ۴۸ کتمان السر سے مراد ایسی چیز کے اظہار سے اجتناب برتنا ہے جس کا اظہار اچھا نہ ہو۔6عدة الصابرین وذخیرة الشاکرین لابن القیم، صفحہ۱۷ راز: قرآن کریم میں اللہ عزوجل کی کتاب میں ایسی آیات وارد ہیں جو راز کی حفاظت پر دلالت کرتی ہیں اوربہت سی آیات ان لوگوں کے تذکرے میں ہیں جنہوں نے رازوں کی حفاظت کی جو ان کی نجات کا باعث بنی۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اس عمل میں بہت عظیم فوائد پِنہاں ہیں۔اس کے علاوہ بہت سی آیات انسان کو کثرتِ کلام سے منع کرتی ہیں اور بیان کرتی ہیں کہ انسان ہر خیر و شر کے کلمے کا، جو وہ منہ سے نکالتا ہے ، جوابدہ ہے۔ ہم یہاں کچھ آیات ذکر کرتے ہیں جو رازوں کی حفاظت اور انہیں چھپانے کا حکم دیتی ہیں۔

اگر آج کے فاتح مسلمان حکمرانوں سے کوئی شرعاً واضح قابلِ گرفت خطا ہو اور اس پر امت کے اصحابِ خیر علماء و داعیان رد و نصیحت نہ
اگر آج کے فاتح مسلمان حکمرانوں سے کوئی شرعاً واضح قابلِ گرفت خطا ہو اور اس پر امت کے اصحابِ خیر علماء و داعیان رد و نصیحت نہ کریں تو ہمارے ان فاتح مسلمان حکمرانوں کو ہم اپنے ہاتھوں سے ہی شہباز شریف، ابنِ سلمان اور اردگان بنا دیں گے!

ہم بندگانِ خدا شریعت کے پابند ہیں! معین الدین شامی ہمارے یہاں برِّ صغیر ہند و پاک میں شریعت، طریقت اور سیاست کی اصطلاحیں عام ہیں اور اس پر حکیم الاسلام قاری محمد طیب قاسمیؒ کا ایک خطبہ بھی موجود ہے۔ برِّ صغیر میں یہ تصور بڑے زمانے تک چلا کہ طریقت ایک جدا چیز ہے اور شریعت جدا چیز۔ حضرت مجدد الفِ ثانیؒ نے طریقت کو شریعت کے تابع قرار دیا کہ یہ کوئی جدا چیز نہیں ہے بلکہ شریعت کے تابع ہے۔ مکتوباتِ امام ربانی میں ہے: ”طریقت اور شریعت عین ایک ہی چیز ہیں، ان کے درمیان بال برابر بھی کوئی مخالفت نہیں پائی جاتی… ہر وہ چیز جو شریعت کے خلاف ہو، مردود ہے“۔ طریقت کے متعلق ہمارے اکابرینِ اھل السنۃ کی یہی رائے ہے، اسی کی توثیق حضرت تھانویؒ اور مولانا علی میاںؒ نے بھی کی ہے۔ جس طرح طریقت شریعت کے تابع ہے بالکل اسی طرح سیاست بھی شریعت کے تابع ہے۔ کوئی صوفی ہو یا مُلّا ہو یا مجاہد ہو یا حاکم ہو، یہ سب شریعت کے تابع ہیں، ان کے اقوال و اعمال کو شریعت ہی پر پرکھا جائے گا۔ صوفی کی طریقت میں اگر پیرویٔ سنت اور اتباعِ سلف کا تقاضا ہے تو مُلّا کے بیان کردہ فتوے میں بھی یہی تقاضا ہے کہ وہ اللہ کی شریعت سے حکم بیان کرے۔ مجاہد کا جہاد بھی تابعِ شریعت ہونا چاہیے ورنہ بندوق بردار تو ڈاکو بھی ہو سکتا ہے۔ اسی طرح اللہ کی شریعت حکمران کے لیے بھی کچھ اصول و ضوابط و ثوابت (constants) بیان کرتی ہے۔ اگر کوئی حکمران اللہ کی شریعت کے علاوہ کوئی امر بیان کرے تو پھر بھلے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دستِ راست، امیر المومنین، سیّدنا فاروقِ اعظمؓ ہی کیوں نہ ہوں ان کو مسلمان عوام میں سے ایک عورت بھی کہہ سکتی ہے کہ آپ سے سہو ہوا اور وہ بھی کشادگیٔ صدر سے کہتے ہیں کہ ”أصابت امرأة وأخطأ عمر“، عورت نے ٹھیک کہا اور (میں) عمر غلط ہو گیا (رضوان اللہ علیہم أجمعین)۔ یاد رکھیے حکمرانوں سے سرزد ہونے والی غلطیوں ہی پر تنبیہ و نصیحت کرنے کے جرم میں امامِ اعظم ابو حنیفہ، امام احمد بن حنبل، امام ابنِ تیمیہ سے مجدد الفِ ثانی تک کو قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنا پڑیں! پس اگر آج کے فاتح مسلمان حکمرانوں سے کوئی شرعاً واضح قابلِ گرفت خطا ہو اور اس پر امت کے اصحابِ خیر علماء و داعیان رد و نصیحت نہ کریں تو ہمارے ان فاتح مسلمان حکمرانوں کو ہم اپنے ہاتھوں سے ہی شہباز شریف، ابنِ سلمان اور اردگان بنا دیں گے!

Repost from اذانِ سحر
قاضی ابن شدّاد رحمہ اللہ سلطان صلاح الدین ایوبی رحمہ اللہ کے بارے میں لکھتے ہیں: "قسم کھائی جا سکتی ہے کہ جہاد کا سلسلہ شروع
قاضی ابن شدّاد رحمہ اللہ سلطان صلاح الدین ایوبی رحمہ اللہ کے بارے میں لکھتے ہیں: "قسم کھائی جا سکتی ہے کہ جہاد کا سلسلہ شروع کرنے کے بعد انہوں نے ایک پیسہ بھی جہاد اور مجاہدین کی امداد و اعانت کے علاوہ کسی مصرف میں خرچ نہیں کیا۔" تاریخِ دعوت و عزیمت

فرعون واس کی قوم میں جو جو برائیاں تھیں، ان سب کا الزام الٹا موسی علیہ السلام پر لگادیا: تم اقتدار کے خواہشمند ہو! تم ملک میں فساد پھیلانا چاہتے ہو! تم ہمیں ہمارے وطن سے بے دخل کرنا چاہتے ہو! تم جادوگر ہو! تم جھوٹ بولتے ہو! یہی رویہ ہر دور کے اہل باطل کا رہاہے، ‏کہ وہ اپنی غلاظتوں کا الزام اُنہیں دے رہے ہوتے جو ان برائیوں کو ختم کرنے نکلنے ہوتے ہیں https://x.com/abo1_abm/status/1941734023937634689?t=R-9pHulvGLLmRmKqn9SbkQ&s=19

امیر المومنین حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کو نصیحتیں
امیر المومنین حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کو نصیحتیں

Repost from Conflict Monitor
Rafael, an Israeli arms manufacturer, uses footage of a Palestinian man being killed by a Spike FireFly drone in #Gaza as promotional material on X. https://t.me/spluspk/5714

دفاعی سازوسامان بنانے والی ایک اسرائیلی کمپنی نے اپنے ڈرون کی تشہیر کے لیے ایک نہتے فلسطینی کو نشانہ بنانے کی ویڈیو اپنے سوشل میڈیا اکاونٹ سے شئیر کی ہے۔ #IsraelTerroristState #GazaGenocide‌ #GazaDoctorsUnderAttack 🔗 Politics plus (@Polplusorg) 📲 @twittervid_bot

‏الله أكبر ؛؛؛!! آپ نے ایسا کیا دیکھا کہ آپ مسکرا دیے؟؟ رام اللہ/مغربی کنارے میں شہید ہونے والے جوان "محمد عوض" کا جسد خاکی ا
‏الله أكبر ؛؛؛!! آپ نے ایسا کیا دیکھا کہ آپ مسکرا دیے؟؟ رام اللہ/مغربی کنارے میں شہید ہونے والے جوان "محمد عوض" کا جسد خاکی ایسی حالت میں ملا کہ وہ مسکرا رہا تھا۔۔۔

1 سکم :برطانوی راج میں ایک نیم خودمختار ریاست تھی جس نے ۱۹۴۷ ء میں اپنی حیثیت برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا اور پاکستان یا بھارت دونوں میں سے کسی سے بھی الحاق سے انکار کیا۔ ۱۹۵۰ء میں بھارت نے سکم کے بادشاہ سے ایک معاہدہ طے کیا جس کے تحت سکم کا دفاع، امور خارجہ اور مواصلات بھارت کے کنٹرول میں چلی گئیں۔ ۱۹۶۰ میں بھارت نے سکم میں جمہوری سیاسی پارٹی سکم نیشنل کانگرس متعارف کروائی۔ اس پارٹی نے بادشاہت کے خلاف تحریک شروع کر دی۔ ۱۹۷۳ء میں سکم نیشنل کانگرس کی درخواست پر بھارتی فوج سکم میں داخل ہوئی اور دار الحکومت کا نظم و نسق سنبھال لیا۔ مذاکرات ہوئے اور یہ طے پایا کہ سکم میں ایک جمہوری نظام رائج ہو گا۔ اس طرح بھارتی وفادار سکم نیشنل کانگرس حکومت میں آ گئی۔ اس کے دو سال بعد ۱۹۷۵ میں سکم نیشنل کانگرس نے بھارت سے الحاق کی کمپین چلائی جس کے بعد ریفرنڈم کروایا گیا اور پھر بھارت سے الحاق کا اعلان کر دیا گیا۔ حیدرآباد:تقسیم کے وقت حیدر آباد ایک خود مختار نوابی ریاست تھا اور اس کے نواب نے بھارت سے الحاق سے انکار کر دیا۔ بھارت اور نواب کے درمیان مذاکرات ہوئے جس کے بعد بھارت نے یہاں بھی دفاع، خارجہ امور اور مواصلات اپنے کنٹرول میں لے لیں اور اسے خودمختار رہنے دیا۔ حیدر آباد میں ہندو اکثریتی آبادی تھی، بھارت نے اس کے ذریعے حیدر آباد میں بغاوت کھڑی کر دی۔ جس کے بعد کشیدہ حالات کا بہانہ اور پاکستان سے خفیہ تعلقات کا الزام لگا کر بھارت نے ۱۳ ستمبر ۱۹۴۸ء کو حیدر آباد پر فوج کشی کر دی۔ پانچ دن کی جنگ کے بعد یعنی ۱۷ ستمبر ۱۹۴۸ء کو حیدر آباد کی فوج نے ہتھیار پھینک دیے اور نواب نے بھارت سے الحاق کا اعلان کر دیا۔ بھوٹان: چین اور بھارت کے درمیان ایک چھوٹا سا خودمختار ملک ہے۔ ۱۹۴۹ء میں بھارت نے بھوٹان سے معاہدہ کر کے اس کے تمام خارجہ امور اپنے کنٹرول میں کر لیے۔ اس کے بعد سے بھوٹان کی حکومت کے ہر شعبے میں بھارت کا اثر و رسوخ بہت زیادہ ہے۔بھوٹان کی درآمدات اور برآمدات دونوں کا ۸۰ فیصد بھارت سے منسلک ہے جبکہ بھارتی فوج کی ایک محدود تعداد مستقل طور پر بھوٹان میں تعینات ہے جس کا مقصد بھوٹانی فوج کی تربیت اور بھوٹان کی چین کے ساتھ سرحد کی حفاظت میں بھوٹان کے ساتھ تعاون بتایا جاتا ہے۔

لیکن اب بحمد اللہ، بھارتی اثر و رسوخ میں کافی کمی آئی ہے اور بنگلہ دیش کی عوام پر لازم ہے کہ اس نعمت کا شکر ادا کریں، اور اپنی عظیم ذمہ داریاں پوری کریں۔ اگر ہم برصغیر کے دیگر حصوں میں مسلمانوں کی حالت پر غور کریں تو بنگلہ دیش اور پاکستان کے مسلمان نسبتاً زیادہ خوشحال، آزاد اور فارغ البال نظر آتے ہیں، جبکہ ان کے بھائی کشمیر، اراکان (برما)، اور بھارت کے مختلف علاقوں میں شدید آزمائش اور خطرات سے دوچار ہیں۔ جہاں تک اراکان کے مسلمانوں کا تعلق ہے، تو ان پر قیامت ٹوٹ پڑی، اُنہیں جبراً ہجرت پر مجبور کیا گیا، ان کی زمینیں غصب کر لی گئیں، ان کی عزتیں پامال ہوئیں اور ان کے خلاف بڑے پیمانے پر قتلِ عام کیے گئے۔ آج وہ ہمارے پاس مہمان ہیں اور ہم پر فرض ہے کہ ان کی عزت کریں، ان کی مدد کریں، اور انہیں دوبارہ دشمنوں کے خلاف مزاحمت اور اپنی غصب شدہ زمینوں کی بازیابی کے لیے تیار کریں۔ جبکہ بھارت کے مسلمانوں کو روئے زمین کے سب سے نیچ اور بدترین ہندوتوا کے پیروکاروں کا سامنا ہے، جو کسی مسلمان کے حق کو تسلیم نہیں کرتے۔ یہ لوگ قدم بہ قدم ’’رام راج‘‘ کے قیام کی طرف بڑھ رہے ہیں، جس کا مقصد بھارت کو مسلمانوں سے مکمل پاک کرنا اور ان کی نسل کشی کرنا ہے۔ انہوں نے اس مقصد کی جانب کئی مراحل طے کر لیے ہیں، اور اس کے لیے کالے قوانین بنائے ہیں جیسے ’’ترمیم شدہ شہریت کا قانون‘‘ اور ’’وقف کی نگرانی کا قانون‘‘۔ اسی طرح مسلمانوں کے گھروں، مساجد، مدارس کو مسمار کرنے، انہیں قتل کرنے، ذلیل کرنے، مارنے اور زبردستی شرکیہ نعرے لگوانے کے واقعات دن بہ دن بڑھتے جا رہے ہیں۔ ایسے حالات میں ضروری ہے کہ بنگلہ دیش کے عوام اور وہ سب لوگ جو کسی بھی قسم کی آسانی یا سکون میں ہیں، جاگ جائیں اور اپنی عظیم ذمہ داریاں ادا کریں۔ ہاں! ان پر بہت بھاری ذمہ داریاں ہیں، جو ان کے کندھوں پر بھاری بوجھ کی طرح ہیں، اور ان سے بھرپور قوت، قربانی، اور سنجیدگی کا تقاضا کرتی ہیں۔ یہ عظیم، بھاری، اور کٹھن ذمہ داری ہے، جسے وہی سچے اور اللہ پر بھروسا رکھنے والے لوگ نبھا سکتے ہیں جو کثیر تعداد میں ہوں اور ہر لحاظ سے تیار ہوں۔ کیونکہ آج مسائل بہت زیادہ ہیں، محاذ کئی ہیں، لیکن ان کا ساتھ دینے والے اتنے نہیں جو ان کی ضرورت پوری کر سکیں یا ان کے حقوق ادا کر سکیں۔ اگرچہ بنگلہ دیش میں مسلمانوں کی تعداد یا جسے انسانی سرمایہ کہا جاتا ہے کم نہیں، اور ان کے پاس موجود وسائل بھی معمولی نہیں ہیں۔ ان میں تعلیم یافتہ افراد، ماہرین اور مختلف شعبوں میں تجربہ و قابلیت رکھنے والے لوگ بڑی تعداد میں موجود ہیں۔ اگر ان تمام افراد کو اسلام اور مسلمانوں کی خدمت کے لیے منظم طریقے سے کام میں لایا جائے تو ان کے ذریعے اللہ کے حکم سے نصرت و خیر کے دروازے کھل سکتے ہیں۔ اس حوالے سے شہید محمد زواریؒ کی مثال ہمارے سامنے ہے، جنہوں نے فلسطینی تنظیم ’’کتائب القسام‘‘ کے لیے ڈرون طیارے تیار کیے۔ وہ تیونس کے رہنے والے تھے، فلسطینی نہ تھے اور نہ وہاں مقیم تھے، پھر بھی انہوں نے فلسطینی جہاد میں وہ کردار ادا کیا جو بہت سے فلسطینی ادا نہ کر سکے۔ تو کیا بنگلہ دیش کی سرزمین ایسے سینکڑوں، ہزاروں افراد پیدا نہیں کر سکتی؟ کیا یہ ممکن نہیں کہ یہاں کے ماہرین، ہنرمند اور تربیت یافتہ مسلمان دنیا بھر کے اسلامی و جہادی محاذوں بالخصوص برصغیر کے اندر، علم، ہنر، میڈیا، مالیات، لوجسٹکس اور دیگر تمام پہلوؤں سے مضبوط سہارا فراہم کریں؟ اور اسی راہ میں وہ اللہ کی طرف سے عطا کردہ آسانیوں اور رحمتوں کا حقیقی شکر ادا کریں۔ اگر بنگلہ دیش کے مسلمان اپنے دشمنوں پر نظر ڈالیں تو ان کی تعداد، ان کی تیاری اور ان کے اہداف کو دیکھیں تو وہ ضرور اس نتیجے پر پہنچیں گے کہ اب ان کے لیے آرام کا کوئی وقت نہیں بچا۔ ان پر لازم ہے کہ وہ جلد از جلد اپنے عوام کو دین کے لیے منظم کریں اور اپنے مظلوم بھائیوں کی مدد، پشت پناہی اور نصرت میں لگ جائیں۔ لیکن اگر وہ اپنے مظلوم بھائیوں کو تنہا چھوڑ کر خاموش تماشائی بنے رہے، یا صرف آنسو بہاتے رہے اور کچھ نہ کر سکے، جبکہ وہ دیکھ رہے ہوں کہ ان کے بھائی نسل کشی، جبری ہجرت اور ظلم کا شکار ہیں، تو پھر وہ خود اگلے نشانے پر ہوں گے! اور وہ دن دور نہیں ہو گا جب بھارتی ہندتوا کی طوفانی لہر انہیں بھی بہا لے جائے گی، اور وہ بھی اپنے بھائیوں کی طرح تباہی، قتل، بے دخلی، اور ذلت کا شکار ہوں گے، و لا حول و لا قوة إلا بالله العلي العظيم۔ ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمیں اپنے دین کی خدمت میں استعمال کرے، ہمیں استقامت اور ثابت قدمی مرحمت فرمائے۔ اور ہمیں اسلام اور مسلمانوں کی نصرت کے لیے توفیق عطا فرمائے، آمین۔ ٭٭٭٭٭