uk
Feedback
📃📑کَٹ پِیس📜📄

📃📑کَٹ پِیس📜📄

Відкрити в Telegram

میگزین،اخبار،کتاب اور سوشل میڈیا سے منتخب دل چسپ وکارآمد تحریریں،اشعار،لطائف،ون لائنرز،اقوال،کالمز اور کوٹیشنز! @AlifBNoon

Показати більше
1 001
Підписники
Немає даних24 години
Немає даних7 днів
Немає даних30 днів
Архів дописів
اس سال ایک یہ بات بھی سیکھ لیں کہ زندگی کے کچھ مراحل میں لا پرواہ رہنا ہے ، اب اتنی بھی کیا حساسیت کہ ذرا ذرا سی بات پہ خون جلاتے رہیں ۔۔۔ جس طرح ہر بات کہنے والی نہیں ہوتی اسی طرح ہر بات سننے والی بھی نہیں ہوتی۔ کڑھنے اور شکوہ کرنے کی بجائے نظر انداز کریں اور آگے بڑھ جائیں ۔ جو ہاتھ بڑھائے ، اسے گلے لگا لیں ۔۔ جو ہاتھ چھڑائے اسے خدا حافظ کہہ دیں اور عزت نفس کو ہر چیز پہ مقدم رکھیں کہ زبردستی کے تعلقات نہایت ناپائیدار ہوتے ہیں ۔ وہی لوگ اہم ہیں جو آپ کو اہمیت دیں اور گرم و سرد میں آپ کے ساتھ کھڑے ہوں ۔ باقی سب سراب ہے ۔ (نقل وچسپاں) ـــــــــــــــــــــــــــــــــــ انتخاب: محمد بن نذر واٹس ایپ: https://chat.whatsapp.com/LB2YeGc0YQpBcqvmyUZlLw چینل : https://whatsapp.com/channel/0029Va5atGU5fM5QOYTGnn0C ٹیلی گرام: t.me/CutPiece (Available) فیسبک: https://www.facebook.com/fbcutpiece/ انسٹاگرام: https://instagram.com/cut_piece_?igshid=YmMyMTA2M2Y وہ

کبھی کبھار نظر انداز کرنے سے بہتر واقعی کوئی حل نہیں ہوتا ۔ سر پر سوار کرنا ، جلنا کڑھنا ، سوچ سوچ کر پاگل ہونا ، خومخواہ کسی بات کو دل پر لگا لینا ۔۔۔ ذہنی سکون تباہ کردیتا ہے ۔ نظر انداز کرنا میری طبیعت کے خلاف رہا ہے ہمیشہ ، میں سر پر سوار کرنے والی بندی تھی ۔۔۔ کسی کی بات میں حرف سے لے کر جملے تک کوئی ایک نقطہ بھی ادھر سے ادھر ہوا تو ہوا بھی کیسے ؟ بے بسی سے رو دینا ، جہاں بول سکتی تھی وہاں بول دینا ، کہہ دینا ۔۔۔ مخالفت کی پرواہ نہ حمایت کی فکر ، مصلحت و حکمت سے کوئی لینا دینا نہیں ۔۔۔ جب خون میں ابال آئے تو سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سلب کرلی جاتی ہے اور ہم جیسے زیادہ غصہ ور انسان درحقیقت بے وقوف انسان عین اسی وقت بولنے کو اپنا فرض سمجھتے ہیں ۔ آج پندرھویں بار ایسا ہوا کہ خون چولہے پر چڑھا ، کانوں سے دھواں نکلا ، بس نہیں چل رہا تھا کیا ہی کردوں اور یہ سب تب بڑھ جاتا ہے جب ہم ہر لحاظ سے بے قصور ہوتے ہیں ۔۔۔ لیکن پندرہ بار ، آج پندرھویں بار میں نے عین اس وقت اس جگہ سے اٹھنا مناسب سمجھا ، اپنی زبان منہ میں رکھنا عافیت جانی ، نظر انداز کرنا بھلائی لگی ، معاملے کو بھاڑ میں بھیجنا فائدہ لگا اور ہمیشہ کی طرح ہر بار دو منٹ بعد ہی میرے اردگرد کا ماحول اور میں خود ایسی تھی جیسے یہاں کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ طبیعت میں غصہ زیادہ ہو تو کبھی کبھار دماغ بھی زیادہ خراب ہوتا ہے تب خود کو سمجھا لیا کہ "بس ابھی صبر کرلو ، بعد میں اس کو دیکھتے ہیں۔" اور وہ بعد کبھی نہیں آئی ۔ بس خود سے ایک عہد کیا تھا دل و جان سے کہ "فورا ردعمل نہیں دینا ۔۔۔ مرتے مرجاو ، دماغ خراب ہوجائے ، کچھ سجھائی نہ دے لیکن چہرہ ایسا بے تاثر رکھنا ہے کہ لگے ہی نہ کوئی ذرہ برابر فرق بھی پڑا ہے۔" اس چیز نے توقع سے زیادہ فائدہ دیا ، ایسا سکون ملا کہ بیان سے باہر ۔۔۔ زندگی سیکھنا بہت مشکل ہے کہ سیکھے بغیر کوئی چارہ نہیں اور بغیر سیکھے تو اپنا نام لکھنا نہ آئے ، یہ تو پھر زندگی ہے ۔ ایک سال قبل کی یاد! اور مجھے اب یاد ہی نہیں کہ ہوا کیا تھا ۔ اللہ ہمیں ہر اس شے سے بے نیاز کردیں جو ہمارے لیے نہیں ہے ۔ (نقل وچسپاں) ـــــــــــــــــــــــــــــــــــ انتخاب: محمد بن نذر واٹس ایپ: https://chat.whatsapp.com/LB2YeGc0YQpBcqvmyUZlLw چینل : https://whatsapp.com/channel/0029Va5atGU5fM5QOYTGnn0C ٹیلی گرام: t.me/CutPiece (Available) فیسبک: https://www.facebook.com/fbcutpiece/ انسٹاگرام: https://instagram.com/cut_piece_?igshid=YmMyMTA2M2Y وہ

حاجی صاحب رات کو فوت ہوئے تو اگلے دن عصر کے بعد جنازہ کا وقت رکھا گیا۔ کئی رشتہ داروں نے کہا کہ بہتر تو ہے کہ صبح کے وقت ہی رکھ لیں نہیں تو ظہر کے بعد رکھ لیں اس سے لیٹ نہ کریں۔ لیکن جواب دیا گیا کہ حاجی صاحب کا ایک چچا اور بھتیجا، کراچی سے آ رہے ہیں تو ان کے لیے لیٹ کیا ہے کہ وہ تب تک پہنچ جائیں گے۔ عصر کے بعد جنازہ اٹھایا گیا تو تب بھی وہ نہیں پہنچ سکے تھے لیکن مسلسل فون پر تھے کہ فلاں جگہ پہنچ گئے اور فلاں جگہ پہنچ گئے، بس دو منٹ اور۔ دو دو منٹ کرتے مولوی صاحب نے بیس منٹ تک انتظار کیا، لوگوں نے کہنا شروع کر دیا کہ بس اب پڑھائیں تو مولوی صاحب نے جنازے کی دعا وغیرہ بتاتے مزید پانچ چھ منٹ لگا دیے مگر وہ نہ پہنچ سکے تو جنازہ پڑھا دیا۔ قبر میں میت رکھتے ہوئے بھی انتظار کیا گیا کہ آخری دیدار کر لیں مگر جب مٹی برابر کر رہے تھے تب پہنچے۔ بعد میں انھوں نے بتایا کہ اوور سپیڈنگ کی وجہ سے موٹر وے پولیس نے روک لیا تھا اور چالان کر دیا جس کی وجہ سے دیر ہوگئی ورنہ پہنچ جانا تھا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نماز جنازہ ایک فرض کفایہ ہے یعنی کچھ مسلمان اگر پڑھ لیں تو سب کی طرف سے ادا ہو جاتا ہے۔ لیکن ہمارے معاشرے میں اسے عبادت سے زیادہ ایک رسم بنا دیا گیا ہے۔ محلے میں کسی کا جنازہ ہو تو چند قدم چل کر نہیں جاتے لیکن ہزار کلو میٹر دور کسی قریبی کا ہو تو پھر اتنا خرچ کر کے، رش ڈرائیونگ کر کے پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس میں بھی عبادت سے زیادہ اس بات کی ہوتی ہے کہ نہ گئے تو لوگ کیا کہیں گے۔ یا یہ ہوتا کہ فلاں بھی تو ہمارے باپ کے جنازے پر آیا تھا۔ یعنی عبادت نہیں بلکہ رکھ رکھاؤ۔ پھر جیتے جی چاہے منہ دیکھے بلکہ فون پر بات کیے بھی سالوں گزر چکے ہوتے ہیں لیکن مرنے کے بعد منہ ضرور دیکھنا ہوتا ہے۔ اس رواج کو کیسے کم کیا جا سکتا ہے؟ 1۔ جنازے میں شرکت کا بہت زیادہ ثواب ہے، اسے حاصل کرنے کے لیے اپنے محلے میں ہونے والے ہر ایک جنازے میں لازمی شریک ہوں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ جنازے میں شامل ہوں۔ 2۔ اگر کوئی فوت ہو جائے تو اس کا جنازہ بس اتنا لیٹ کریں کہ جتنی دیر میں قبر تیار ہو جائے اور اس کے بعد بلاوجہ کی تاخیر نہ کی جائے۔ جنازہ اگر جلدی رکھ دیں گے تو دور کے بہت سے لوگوں کے لیے آسان ہو جائے گا کہ وہ اتنی دور سے آنے کا تکلف نہ کریں۔ 3۔ اگر کوئی رشتہ دار جنازہ میں شریک نہ ہو سکے تو اس سے ناراض نہ ہوں۔ نہ ہی کہیں یہ بات کریں کہ فلاں نہیں آیا یا اس نے پہنچنے کی کوشش ہی نہیں کی۔ اس سب کا مقصد یہ ہو کہ عبادات کو ان کی روح کے مطابق انجام دیا جائے ثواب کی نیت سے، رکھ رکھاؤ کے لیے نہیں۔ یہ تھی وہ تیسری بات جو دو دن قبل والی پوسٹ کے آخر میں کی تھی ۔ ۔۔۔۔۔۔۔ 🖊️ڈاکٹرعدنان نیازی ـــــــــــــــــــــــــــــــــــ انتخاب: محمد بن نذر واٹس ایپ: https://chat.whatsapp.com/LB2YeGc0YQpBcqvmyUZlLw چینل : https://whatsapp.com/channel/0029Va5atGU5fM5QOYTGnn0C ٹیلی گرام: t.me/CutPiece (Available) فیسبک: https://www.facebook.com/fbcutpiece/ انسٹاگرام: https://instagram.com/cut_piece_?igshid=YmMyMTA2M2Y وہ

بڑا بیٹا طلحہ جب پیدا ہوا تو بہت کمزور تھا۔ یوں سمجھ لیں ایک ہاتھ سیدھا کر کے اس پر لٹائیں تو پورا آ جاتا تھا۔ اس کی ماں کو یہی وہم تھا کہ اتنا کمزور بچہ ہے پتہ نہیں یہ بچے گا بھی یا نہیں۔ میں جب بھی گھر آتا اسے گود میں اٹھائے رکھتا۔۔ تب موبائل فون تو تھے نہیں۔ اس کے باوجود رِیل والے کیمرے سے بنائی گئی تصویریں سب زیادہ طلحہ کی بنی تھیں۔ چند ماہ کا ہوا تو ایک بار اسے موشن لگ گئے۔ سمندری کے ایک ڈاکٹر سے ڈرپ بھی لگوائی لیکن کوئی فرق نہ پڑا۔ یہ اتنا نڈھال ہو گیا کہ بیٹھے بیٹھے جیسے دائیں بائیں گرتا جائے۔ پریشانی کے عالم میں ایک دوست سے مشورہ کیا کہ اب کیا کریں۔ اس نے فیصل آباد کے چائلڈ سپیشلسٹ ڈاکٹر جاوید اقبال کا بتایا کہ انہیں چیک کروا لیں۔ ان دنوں ہمارے پاس مہران گاڑی تھی۔ خیر فوری طور پر طلحہ اور اس کی ماں کو ساتھ لیا اور فیصل آباد ستیانہ روڈ پر ڈاکٹر صاحب کے کلینک میں چیک کروایا۔ ڈاکٹر نے جب اس کی حالت دیکھی تو کہا اسے فوری طور پر ہسپتال ایڈمٹ کروائیں اسے شدید ڈی ہائیڈریشن ہوئی جسم میں پانی بہت کم ہو چکا ہے۔ کلینک سے تھوڑا آگے بدر بیکری کے ساتھ ہمارا چلڈرن ہسپتال ہے وہاں لے جائیں۔ ہم تو گھر سے آئے تھے کہ چیک کروائیں گے دوائی لے کر واپس آ جائیں گے لیکن یہاں تو نیا مسئلہ بن گیا۔ بہرحال ہسپتال پہنچے وہاں پرائیویٹ روم لیا۔۔ گرمی کا موسم تھا۔۔ تب شاید ائر کنڈیشنڈ روم 600 روپے یومیہ پر ملا تھا۔ فوری طور پر بچے کو ڈرپ لگائی گئی اور اتنی تیز کہ آدھے وقت میں ختم ہو گئی۔۔ رات وہیں گزری۔۔ اگلے دن میں سمندری گیا اور گھر سے ضرورت کی چیزیں لے کر آیا۔۔ ابا بھی ساتھ آئے کہ اپنے پوتے کو دیکھ سکیں۔ تین دن میں چھ سات ڈرپس لگیں تو اس کی طبعیت ٹھیک ہوئی اور پھر ہمیں گھر جانے کی چھٹی ملی۔ زندگی میں بہت دفعہ مختلف پریشانیوں سے واسطہ پڑتا رہا ہے لیکن اللہ نے ہر بار بروقت فیصلہ کرکے عملی قدم اٹھانے کی ہمت دی ہے۔ اور اللہ ہی کی مدد سے اس صورتحال سے نکل بھی آئے ہیں۔ پریشانی جیسی بھی ہو کبھی ہمت نہ ہاریں۔۔ بس لگے رہیں بشارت حمید ـــــــــــــــــــــــــــــــــــ انتخاب: محمد بن نذر واٹس ایپ: https://chat.whatsapp.com/LB2YeGc0YQpBcqvmyUZlLw چینل : https://whatsapp.com/channel/0029Va5atGU5fM5QOYTGnn0C ٹیلی گرام: t.me/CutPiece (Available) فیسبک: https://www.facebook.com/fbcutpiece/ انسٹاگرام: https://instagram.com/cut_piece_?igshid=YmMyMTA2M2Y وہ

کتاب کےلیے: https://wa.me/919123159396
کتاب کےلیے: https://wa.me/919123159396

ایک ٹریفک حادثے کا آج احوال سنا۔ میاں بیوی موٹر سائیکل پر جارہے تھے۔ پچھلے پہیے میں عبایا کا کونا پھنسا اور موثر سائیکل سڑک پر۔ رفتار بھی زیادہ تھی۔ شوہر کو تو ہاتھ پر چوٹ لگی لیکن خاتون کا سر بائیں طرف سے پھٹ گیا اور بہت زیادہ خون بہہ گیا۔ خاتون بے سدھ سی تھیں۔ کسی اوزار سے عبایا کا ٹائر میں پھنسا حصہ کاٹا گیا۔ اس کے بعد خاتون کو ہسپتال لے گئے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کبھی چادر، کبھی دوپٹہ اور کبھی عبایا۔ یہ حادثات تواتر سے پیش آتے رہتے ہیں۔ گاڑی میں بھی کئی دفعہ دیکھا کہ خواتین کے ملبوسات کا کوئی حصہ دروازے سے باہر معلق۔ اس سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ کچھ خواتین درست انداز میں لباس سمیٹ کر نہیں بیٹھا کرتیں۔ دوپٹہ، چادر ہو تو سیٹ تک لپیٹ کر بیٹھا جائے، نیچے لٹکا ہرگز نہ چھوڑا جائے۔ عبایا ہو تو زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے کیونکہ نیچے پیروں تک پھیلا ہوا ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ احتیاط صرف ٹائر تک نہیں اور نہ ہی محض خواتین کے لیے ہے۔ کہیں بھی ایسی مشینیں ہوں جو گھومتی ہیں تو لازماً چادر کا استعمال نہ کریں۔ گاؤں میں چارے والی مشینیں عام ہیں۔ اس کے علاوہ فیکٹریوں میں بھی احتیاط بہت ضروری ہے۔ زیادہ تر تو ایسے پھیلے ہوئے لباس کی پابندی دیکھی۔ اسی طرح سیڑھیاں اترتے ہوئے بھی خاص خیال رکھنا چاہیے، لاپرواہی میں پیروں تک لٹکتی چادر بہت خطرناک ثابت ہوسکتی ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ زندگی بہت قیمتی ہے اور زندگی میں کوئی بھی مستقل معذوری اس کا سفر مشکل بنا سکتی ہے۔ (نقل وچسپاں) ـــــــــــــــــــــــــــــــــــ انتخاب: محمد بن نذر واٹس ایپ: https://chat.whatsapp.com/LB2YeGc0YQpBcqvmyUZlLw چینل : https://whatsapp.com/channel/0029Va5atGU5fM5QOYTGnn0C ٹیلی گرام: t.me/CutPiece (Available) فیسبک: https://www.facebook.com/fbcutpiece/ انسٹاگرام: https://instagram.com/cut_piece_?igshid=YmMyMTA2M2Y وہ

اونچی دکان پھیکا پکوان۔۔۔ بِل 9854$ علاؤہ ٹیکس!! ( ستونت کور ) فینسی ہوٹلز پر مزاح آمیز تبصرہ۔ مینیو : فینسی ہوٹلز کے مینیو کی دو باتیں خاص ہیں۔۔ ۱- ایک تو مینیو کی کسی خوبصورت کتابچے کی طرح چھاپا گیا ہوتا ہے۔ ۲- اور دوسرا ڈشز کے نام ایسے گھما پھرا کر لکھے گئے ہوتے کہ بندے کا دماغ بھی گھوم کے رہ جائے مثلاً Freshly backed flat bread with fine organic wheat flour and yeast, backed in traditional clay oven. Comes with our signature rich chickpea butter stew with exotic species. ترجمہ : نان چنے۔ ۔۔۔۔۔۔۔ قیمت : فینسی ہوٹلز کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ سیون اپ کا کین کھول کر ایک گلاس میں مشروب ڈال کر ایک لیموں کا ٹکڑا گلاس کے کنارے میں پرو کر۔ ایک سٹرا اس گلاس میں رکھ کر اس گلاس کو ایک ٹرے میں آپ کو پیش کر کے۔ اس کے 5000 روپیہ بمع 500 سروس چارجز اور 300 ویلیو ایڈ ٹیکس وصول کر لیں۔۔۔ اور یہ کرنے کے بعد ویٹر مودب ہو کر آپ کے پاس کھڑا رہے گا تاکہ 500 روپیہ ٹپ میں بھی لے اڑے۔ ۔۔۔۔۔۔ چائے : اب چائے کی ہی مثال لے لیں۔ آپ نے کسی فینسی ہوٹل میں چائے طلب کی تو چائے بھی آپ کو ٹکڑوں میں ملے گی۔ مِلک پاوڈر ، گرم پانی، ٹی-بیگ، کپ، چینی،چمچ۔۔۔ ان کا بس نہیں چلتا کہ لیب گیس جارز میں ہائیڈروجن اور آکسیجن فراہم کر کے کہیں کہ چائے کے لیے پانی بھی خود بناؤ۔ تو بات یہ ہورہی تھی کہ ہم لوگ کھلاٹی والی ابلتی گرما گرم چائے کے شوقین ہیں اور یہ ہوٹلز اس ملک پاوڈر والی مردہ سے چائے پیش کرتے ہیں کہ اس مردے میں جان پھونک کر اسے پیو۔ سچ تو یہ ہے کہ کوئی انسان کم از کم چائے کے نام پر اس کاڑھے کو پسند نہیں کر سکتا محض کیڈٹ کالجز کے سٹوڈنٹس ہی اسے حلق سے اتار سکتے ہیں کیونکہ وہ دن بہ دن انسان کی کیٹگری سے خروج فرما رہے ہوتے ہیں۔ اور ویسے بھی کیڈٹ کالجز کے میس میں صرف یہی چائے ملتی ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔ کھانا : پھیکے اور بد مزہ سے کھانوں کو انتہائی فینسی سے برتنوں میں سجا کر پیش کرنا فینسی ہوٹلز کا امتیازی وصف ہے۔ اوپر سے ہمہ وقت ویٹر یوں مودبانہ انداز میں خدمت میں ساتھ ساتھ حاضر کہ لگتا ہے کہ ابھی اپنی جائیداد بھی ہمارے نام لکھ دے گا۔ یہ الگ بات ہے کہ جب بل آتا ہے تو لگتا ہے کہ ہوٹل والے ہماری جائیداد اپنے نام لکھوا کر دم لیں گے۔ فینسی ہوٹلز میں دراصل امیر کبیر افراد ہی تشریف آور ہوا کرتے ہیں اور امیر طبقے کو تو ویسے بھی پھیکے اور بد مزہ کھانے کھانے کی عادت ہوتی ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔ میوزک : فینسی ہوٹلز میں ہمہ وقت میوزک چلتا رہتا ہے۔ جس کی وجہ " کسٹمرز کے لیے اچھا ماحول پیدا کرنا " ہوتا ہے۔ پر سیدھی سے بات ہے کہ میوزک تو ہم اپنے گھر، کار، حتیٰ کہ کلاس روم میں بھی سن سکتے ہیں کانوں میں ائیرپوڈز لگا کر اوپر ٹوپی پہن کر 🤐 تو بھلا میں میوزک سننے کے لیے دس پندرہ ہزار کا صرفہ کیوں کریں۔ آپ بھی اگر کسی فینسی ہوٹل کا وزٹ کر چکے ہیں تو اپنے تجربات شیئر کریں۔۔۔۔ ستونت کور ـــــــــــــــــــــــــــــــــــ انتخاب: احمد بن نذر واٹس ایپ: https://chat.whatsapp.com/LB2YeGc0YQpBcqvmyUZlLw چینل : https://whatsapp.com/channel/0029Va5atGU5fM5QOYTGnn0C ٹیلی گرام: t.me/CutPiece (Available) فیسبک: https://www.facebook.com/fbcutpiece/ انسٹاگرام: https://instagram.com/cut_piece_?igshid=YmMyMTA2M2Y وہ

*کورس میں پہلے جوائن ہونے والے 30 طلبہ کو صرف 99 روپے دینے ہوں گے* *آنلائن موبائل گرافکس کورس* (ONLINE MOBILE GRAPHICS COURSE
*کورس میں پہلے جوائن ہونے والے 30 طلبہ کو صرف 99 روپے دینے ہوں گے* *آنلائن موبائل گرافکس کورس* (ONLINE MOBILE GRAPHICS COURSE) *تفصیلات بابت کورس* (١) یہ کورس گرافکس ڈیزائینگ سے متعلق ہے۔ جس میں آپ طرح طرح کی چیزیں اپنے موبائل فون کے ذریعے آسانی سے ڈیزائن کرنا سیکھ پائیں گے جیسا کہ پوسٹر میں چند چیزیں مینشن ہیں! (٢) کورس کی مدت (Duration) صرف دس (10) دن ہے۔ (٣) کورس کا آغاز 23 جنوری 2024 بروز منگل سے ان شاء اللہ ہوجائے گا۔ (٤) کلاس کی ٹائمنگ رات نو (9) بجے سے ہوگی۔ (٥) کلاس روزانہ زوم ایپ (Zoom App) کے ذریعے آدھا گھنٹہ لائیو لی جائے گی۔ (٦) کورس کی فیس (بہت ہی رعایت کے ساتھ) صرف 99 روپے۔ (٧) کورس جوائن کرنے کے لیے درج ذیل نمبر پر فیس (99 روپے) *فون پے/ گوگل پے یا پے ٹی ایم* وغیرہ کے ذریعے ٹرانسفر کرکے اسی نمبر پر اسکرین شاٹ واٹسپ کردیجیے۔ آپ کو کورس میں شامل کرلیا جائے گا۔ +91 7481099085 نوٹ: ہمارا یوٹیوب چینل وزٹ کرنے کے لیے اس لنک پہ کلک کیجیے: https://youtube.com/@computersncuts?feature=shared منجانب: کمپیوٹرس این کٹس

غریب آدمی کا حج زندگی میں ایک بار حج کرنا ہر صاحبِ ثروت مسلمان پر فرض ہے لیکن غریب پر نہیں کیونکہ حج کا شمار ان عبادات میں ہے جنہیں اللہ تعالی نے مالی استطاعت سے مشروط کر رکھا ہے۔ بد قسمتی سے ہمارے رواجی مذہبی ڈھانچے نے عام مسلمانوں کو ہر حال میں ادا کرنے والی عبادات کے مقابلے میں استطاعت کی شرط والی عبادات کی طرف اتنا متوجہ کر دیا ہے کہ ایک عام مسلمان جس کی پہلی ذمہ داری اپنی زیر کفالت افراد کے نان و نفقہ اور بہترین تعلیم و تربیت کے ذریعے اپنے معاشرے کو بہترین افراد مہیا کرنا تھا وہ بھی اپنے بیوی بچوں کے جاٸز حقوق فراموش کر کے پیسے جوڑتا ہے اور حج پر جاتا ہے۔ ایسے غریب لوگ جب حج کر کے آتے ہیں تو ان کی بڑی تعریف کی جاتی ہے کہ یہ انتہاٸی غریب بندہ تھا،اس نے پیسہ پیسہ جوڑ کر بیس سالوں میں حج کے اخراجات جمع کیے۔ ایک لمحے کے لیے سوچیے کہ اس غریب آدمی نے استطاعت سے مشروط عبادت کی وجہ سے اپنے بیوی بچوں کے جاٸز حقوق ادا نہ کرنے کا گناہ اپنے سر لیا، کٸی سالوں سے جو پیسے حج کے لیے جمع کر رہا تھا جب وہ پیسے زکوات کے نصاب کو پہنچے تو اس نے زکوات ادا نہ کرنے کا گناہ اپنے سر لیا،بچوں کو بہتر خوراک اور بہتر تعلیم نہ دلوا کر معاشرے کو جسمانی أور شعوری لحاظ سے کمزور افراد دینے کا گناہ اپنے سر لیا۔ خدا کے لیے غریبوں کو اللہ کا حقیقی دین بتاٸیں جس سے ان کی دنیا بھی سنورے اور آخرت بھی، غریبوں کو جھوٹی تعریفوں کی ٹکٹکی پر مت چڑھاٸیں، خدارا ان پر رحم کریں۔ حاصل کلام : جب ایک مسلمان اللہ تعالی کی دی ہوٸی رعایتوں سے منہ موڑتا ہے تو پھر کریم رب بھی اس سے منہ موڑ لیتا ہے جس کا نتیجہ دنیا میں ذلت اور کسمپرسی والی زندگی مقدر ٹھہرتی ہے اور آخرت کا خسارہ الگ۔ 🖊️صفدر چیمہ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــ انتخاب: احمد بن نذر واٹس ایپ: https://chat.whatsapp.com/LB2YeGc0YQpBcqvmyUZlLw چینل : https://whatsapp.com/channel/0029Va5atGU5fM5QOYTGnn0C ٹیلی گرام: t.me/CutPiece (Available) فیسبک: https://www.facebook.com/fbcutpiece/ انسٹاگرام: https://instagram.com/cut_piece_?igshid=YmMyMTA2M2Y وہ

*اس کورس کو جوائن کرنے والے پہلے بیس20 طلبا کے لیے فیس میں خصوصی آفر صرف 850 روپے ہے۔ اس آفر کا فایدہ اٹھاتے ہوئے جلد از جلد
*اس کورس کو جوائن کرنے والے پہلے بیس20 طلبا کے لیے فیس میں خصوصی آفر صرف 850 روپے ہے۔ اس آفر کا فایدہ اٹھاتے ہوئے جلد از جلد کورس جوائن کرلیں!* تفصیلات بابت *انپیج و کورل ڈرا* کورس 1. کورس ان شاء اللہ 1 دسمبر 2023 بروز جمعہ سے شروع ہوگا۔ 1. کورس دو بیچز میں تقسیم ہوگا۔ 3. صبح والے بیچ کی ٹائمنگ 7:00 AM سے 7:40 منٹ تک ہوگی۔ رات والے بیچ کی ٹائمنگ 10:00 PM سے 10:40 PM منٹ تک ہوگی۔ 4. روزانہ کلاس کا دورانیہ (Duration ) 40 منٹ ہوگا۔ 5. دونوں ٹائمنگ میں سے اپنی سہولت کے مطابق کوئی ایک کلاس جوائن کرنی ہوگی۔ 6. کلاس روزانہ زوم ایپ کے ذریعے لائیو لی جائے گی۔ 7. کورس کی مکمل فیس 1000 روپے ہے جس میں انپیج 3 پروفیشنل اور کورل ڈرا X7 ترتیب وار سکھائے جائیں گے۔ 8. کورس کی فیس درج ذیل نمبر پر فون پے / گوگل پے/ پے ٹی ایم کے ذریعے پیشگی ادا کرکے اسی نمبر پر سکرین شاٹ واٹسپ کرنی ہوگی! 7481099085 نوٹ: مزید معلومات کے لیے مذکورہ نمبر پر رابطہ کیجیے۔ منجانب: کمپیوٹرس این کٹس

آنلائن موبائل گرافکس کورس موبائل سے کمپیوٹر جیسا کام! گرافکس کے اس کورس میں اردو، انگریزی و ہندی میں دیدہ زیب اشتہار، پوسٹر، فلیکس بینر ،وزٹنگ کارڈ، یومیہ پوسٹ تھمب نائل مہر /3d وغیرہ بنانا سیکھیں ۔ ( خاصیت : موبائل ایڈیٹنگ سیکھنے سکھانے والے بہت ہیں؛ لیکن موبائل پہ ایسے کوالٹی پر کام کرنا جیسے کمپیوٹر پہ کورل ڈرا یا فوٹو شاپ میں کیا جاتا ہے، یہ آپ کو ہم سکھائیں گے ان شاءاللہ!) ہمارے ساتھ آئیے! پندرہ دنوں کے کورس سے ان شاءاللہ! آپ کو یہ احساس ہوجائے گا کہ آپ کے ہاتھ میں ہر وقت موجود یہ موبائل در اصل مِنی کمپیوٹر ہے۔ اور اس سے آپ بہت کچھ کرسکتے ہیں۔ مکمل کورس کی قیمت فقط 299 روپے ہے جسے آپ کو فون پے یا پے ٹی ایم کے ذریعہ مذکورہ نمبر پر ٹرانسفر کرکے اسکرین شاٹ واٹس ایپ کرنی ہے۔ 7654566172 نوٹ : آپ کو ایڈیٹنگ سے متعلق تمام مواد مہیا کیے جائیں گے جو ہمیشہ آپ کے کام کی چیز ہوگی۔ جیسے اردو، ہندی، انگلش کے فونٹس، بورڈر، کورنر ، پی این جی ، بیک گراؤنڈ وغیرہ سبق زوم ایپ پر ۔۔ دورانیہ چالیس منٹ۔ کلاس کا آغاز : 25 نومبر 2023 بوقت رات 9:00 بجے ۔

میرے بیٹے خبیث ہیں ! ::::::::::::::::::::::::: بات یہ نہیں کہ مجھے آپ کی بیٹی کے کردار پر شک ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مجھے اپنے بیٹوں پر اعتماد نہیں جو بہت چلاک ہیں۔ ان کے برخلاف آپ کی بیٹی بہت معصوم ہے۔ اتنی معصوم کہ ایک آئسکریم پر بھی پٹ جاتی ہے۔ اگر یقین نہیں تو شہر کے کسی بھی آئسکریم پارلر میں چل کر میرے بیٹوں کی چالاکی اور اپنی بیٹی کی معصومیت دیکھ لیجئے۔ بات آئسکریم تک کہاں رکتی ہے۔ وہ الو کے پٹھے اس کے بعد آپ کی بیٹی کو سی ویو دکھانے بھی لے جاتے ہیں ،جو اپنی گوناگوں مصروفیات کے سبب آپ خود بیٹی کو دکھا نہیں سکے۔ وہاں وہ آپ کی بیٹی کو صرف مہیب سمندری لہریں دکھانے پر قانع نہیں رہتے۔ وہ تو ساحل پر لے جا کر پیر گیلے کرنے کی دعوت بھی دیتے ہیں۔ یقین کیجئے جب ہاتھ میں ہاتھ ہو اور قدموں تلے گیلی سمندری ریت، تو بڑی شدت سے کسی گوشہ تنہائی کی طلب انگڑائی لینے لگتی ہے، جو ان دونوں کو مد و جزر والی سمندری لہروں کی طرح غرق کرنے کو بیتاب ہوتی ہے۔ میرے بیٹوں کی خباثت دیکھنی ہو تو کراچی کے پوش علاقوں میں قائم وہ گیسٹ ہاؤسز جا دیکھئے جو کمرہ یومیہ نہیں گھنٹے کے حساب سے کرائے پر دیتے ہیں ۔اور کسی تنہا یا شریف شخص کو نہیں دیتے۔ اگر آپ اسلام آباد یا پنڈی میں رہتے ہیں تو شکر پڑیاں کے جنگل میں ذرا اندر تک گھوم لیجئے جہاں درختوں کے نیچے پڑے کنڈوم بھی میرے بیٹوں کی خباثت خود بیان کر دیں گے۔ آپ موبائل خریدتے ہیں تو اس کی سکرین پر الگ پروٹیکٹر لگاتے ہیں اور باڈی کے لئے کور کا الگ بند و بست کرتے ہیں۔ جتنا اہتمام ایک دو ٹکے کے موبائل کے تحفظ کے لئے کرتے ہیں، اتنا ہی بیٹی کے تحفظ کے لئے بھی کر لیں تو عریانیت اور اوریانیت کا سوال ہی پیدا نہ ہو۔ میں کہتا ہوں اسی فیس بک پر دیکھ لیجئے جہاں میرے بیٹوں کی والز پر بہت کار آمد بات کو بھی دس لائیک نہیں مل پاتے۔ لیکن آپ کی بیٹی صرف اتنا کہدے کہ "اُف اللہ آج کتنی گرمی ہے" تو لائیکس کے روم کولرز اور کمنٹس کے ایسے ایئرکنڈیشنز چل پڑتے ہیں کہ صحرائے تھر پر بھی مری کا گمان گزرنے لگتا ہے۔ میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ مجھے آپ کی بیٹی کے کردار پر کوئی شک نہیں۔ میرے رب کی قسم میں اس کی معصومیت کا قائل ہوں۔ مسئلہ فقط یہ ہے کہ میرے بیٹے خبیث ہیں، آپ کو اپنی بیٹی کی حفاظت کم از کم اپنے موبائل کی طرح تو کرنی ہوگی ! ! ! (نقل و چسپاں) ـــــــــــــــــــــــــــــــــــ انتخاب: احمد بن نذر واٹس ایپ: https://chat.whatsapp.com/LB2YeGc0YQpBcqvmyUZlLw چینل : https://whatsapp.com/channel/0029Va5atGU5fM5QOYTGnn0C ٹیلی گرام: t.me/CutPiece (Available) فیسبک: https://www.facebook.com/fbcutpiece/ انسٹاگرام: https://instagram.com/cut_piece_?igshid=YmMyMTA2M2Y وہ

نیلسن منڈیلا نے کچھ اوپر 27 سال جیل میں گزارے. یہ ایک طویل سیاسی قید تھی لیکن یہ قید منڈیلا اور اس کے نظریہ کو نہ توڑ سکی نہ ختم کر پائی. آخر منڈیلا رہا ہوگیا اور پھر ایک دن افریقہ کا صدر بن گیا. صدر بننے کے بعد ابتدائی دنوں میں نیلسن منڈیلا اپنے سیکورٹی سٹاف کے ساتھ ایک ہوٹل میں کھانا کھانے گیا. منڈیلا نے ہوٹل میں ایک ٹیبل پر ایک تنہا شخص کو دیکھ کر اسے اشارہ کیا اور کہا میرے ساتھ کھانے میں شریک ہوجاو. وہ شخص نڈھال قدموں ٹیبل پر آیا اور کانپتے ہاتھوں کھانا کھایا. کھانا کھا کر اُس نے اجازت لی اور جلدی سے ریسٹورنٹ سے نکل گیا. سیکورٹی انچارج نے منڈیلا سے کہا مجھے اس آدمی کی صحت اچھی نہیں لگی. میں اس کے پیچھے جاوں؟ منڈیلا نے کہا نہیں وہ ٹھیک ہے. یہ اُس قید خانے کا گارڈ تھا جہاں میں قید تھا. یہ مجھے سب سے زیادہ اذیت دیتا تھا یہاں تک کے جب مجھے شدید پیاس لگتی تو یہ قہقہے لگاتا میرے منہ پر پیشاب کر دیتا. اسے ڈر تھا میں اب صدر بن گیا ہوں تو شائد انتقام لوں گا. میں نے اسے کہا میں اسے معاف کر چکا ہوں. کچھ لوگ خود اپنے انتقام کا بوجھ اٹھاتے ہیں. کچھ اپنے ساتھ ہوئی ظلم و زیادتی معاف کر دیتے ہیں. لیکن قدرت نہ انصافی نہیں کرتی. ظالم کو مظلوم سے خود معافی مانگنی اور تلافی کرنی ہوتی ہے. اس کیلئے قدرت ایک دن ظالم کو مکمل بے بس کر کے مظلوم کے سامنے کھڑا کر دیتی ہے. مثلاً نیلسن منڈیلا نے تو سب کو معاف کر دیا تھا لیکن قدرت نے تو معافی نہیں دی تھی. منڈیلا کی صدارت قدرت کا انتقام ہی تو تھا. انسان انصاف کیلئے کوشش کرتا ہے. انتقام میں کبھی بھی انسان مکمل انصاف نہیں کرپاتا. اسے صبر کر کے قدرت پر چھوڑ دینا بہتر ہوتا ہے. اور قدرت کا انتقام پھر بہترین ہوتا ہے. (نقل و چسپاں) ـــــــــــــــــــــــــــــــــــ انتخاب: محمد بن نذر واٹس ایپ: https://chat.whatsapp.com/LB2YeGc0YQpBcqvmyUZlLw چینل : https://whatsapp.com/channel/0029Va5atGU5fM5QOYTGnn0C ٹیلی گرام: t.me/CutPiece (Available) فیسبک: https://www.facebook.com/fbcutpiece/ انسٹاگرام: https://instagram.com/cut_piece_?igshid=YmMyMTA2M2Y وہ

لباس اور ستر لباس انسان اپنا ستر چھپانے اور زیب و زینت کے لئے پہنتا ہے۔ دین اسلام میں عورت کا سارا جسم ستر ہے جبکہ مرد کا کم سے کم ستر ناف سے گھٹنوں تک ہے لیکن اس کا مطلب یہ بالکل بھی نہیں کہ مرد حضرات بس اتنا مختصر لباس ہی پہنا کریں۔ نماز کے لئے ساتر لباس ہونا شرط اول ہے۔ آج کل نوجوان نسل میں پینٹ کو بالکل نیچے اور ساتھ اونچی شرٹ پہننے کا بے ہودہ رواج عام ہے اور نوجوان اسی لباس میں نماز کے لئے مسجد بھی آ جاتے ہیں۔ ایک بار جمعہ کی نماز میں ایسا ہی ایک نوجوان اگلی صفوں میں بیٹھا ہوا تھا جس کی پینٹ نیچے بیٹھنے کی وجہ سے مزید نیچے ہو رہی تھی اور شرٹ کی آخری حدود سے نیچے کم از کم 4 انچ پیٹھ کا حصہ بالکل ننگا نظر آ رہا تھا۔ ایسا منظر تو کہیں باہر بھی نظر آئے تو بے ہودگی ہے کجا مسجد کی اگلی صفوں میں بیٹھ کر اس کا مظاہرہ کیا جائے۔ وہ نوجوان میری پہنچ سے دور تھا ورنہ اسے ضرور تنبیہ کر دیتا۔ علماء اور مفتی صاحبان سے گزارش ہے کہ اس معاملے میں عوام کو آگاہی دیں اور خطاب جمعہ میں اس معاملے پر بھی روشنی ڈالیں۔ اگر آپ پینٹ شرٹ پہنتے ہیں تو اپنے ستر کا خاص خیال رکھیں کہ نیچے بیٹھے ہوئے اور رکوع و سجود میں پیچھے سے ننگے نہ ہوں۔ (نقل و چسپاں) ـــــــــــــــــــــــــــــــــــ انتخاب: محمد بن نذر واٹس ایپ: https://chat.whatsapp.com/LB2YeGc0YQpBcqvmyUZlLw چینل : https://whatsapp.com/channel/0029Va5atGU5fM5QOYTGnn0C ٹیلی گرام: t.me/CutPiece (Available) فیسبک: https://www.facebook.com/fbcutpiece/ انسٹاگرام: https://instagram.com/cut_piece_?igshid=YmMyMTA2M2Y

انسانوں کے سامنے رونا اور کمزور پڑنا کبھی کبھی بعد میں انسان کو مشکل میں ڈال دیتا ہے لیکن اللہ سبحان و تعالی کے سامنے رونا اپنی کمزوری کا اظہار انسان کو ایسی مضبوطی عطا کرتا ہے کہ وہ اپنے بہادر چہرے اور دل کی تقویت کے ساتھ لوگوں کا سامنا کرسکتا ہے ۔ اگرچہ ضرورت پڑنے پر کسی سے مدد مانگ لی جائے ، کسی کے کندھے پر سر رکھ دیا جائے یا دل بھر آنے پر کسی کے سامنے آنسو ٹپک پڑیں یہ انسان کو کمزور نہیں کرتا لیکن یہ دھیان رکھنا بھی ضروری ہے کہ کہیں ہم اُس ہستی کو بھول کر جو ہمارے دلوں کو تسکین عطاء کرتا ہے انسانوں کے پیچھے اُن کی توجہ کے منتظر بنے تو نہیں بھاگ رہے ؟؟ کیا ایسا تو نہیں کہ ہمارے آنسو کسی انسان کو ہمدرد پاکر تو چھلک جاتے ہیں لیکن تنہائی میں اپنے رب سے باتیں کرنے اور اُس کے سامنے دل کا ٹوٹنا اور اُداسی کا اظہار کرنا ہم بھول جاتے ہین ؟؟ پہلا سہارا اور واحد سہارا تو وہی ہے اور اُسی پر توکل بھی ہماری ضرورت ہے ۔ (نقل و چسپاں) ـــــــــــــــــــــــــــــــــــ انتخاب: محمد بن نذر واٹس ایپ: https://chat.whatsapp.com/LB2YeGc0YQpBcqvmyUZlLw چینل : https://whatsapp.com/channel/0029Va5atGU5fM5QOYTGnn0C ٹیلی گرام: t.me/CutPiece (Available) فیسبک: https://www.facebook.com/fbcutpiece/ انسٹاگرام: https://instagram.com/cut_piece_?igshid=YmMyMTA2M2Y وہ

سفری سامان تحریر بشارت حمید میں اپنے کاروباری معاملات کو دیکھنے کے لیے اکثر سفر میں رہتا ہوں تو میرا سفری بیگ ہمہ وقت تیار رہتا ہے کہ جانے کب رخت سفر باندھنا پڑ جائے۔ اس بیگ میں دو عدد سوٹ ۔۔ بنیان۔۔ تولیہ۔۔ ازار بند۔۔ رات کو سوتے وقت پہننے کے لئے رف سوٹ۔۔ پرفیوم۔۔ ہیئر ٹانک۔۔ ہیئر برش۔۔ ٹوتھ برش اور پیسٹ۔۔ مسواک۔۔ ڈیٹول صابن۔۔ کولڈ کریم۔۔ باڈی سپرے۔۔ انڈر آرمز استعمال کے لیے ڈیوڈورنٹ۔۔ ایک چھوٹا آئینہ۔۔ موبائل فون چارجر ہر وقت موجود ہوتے ہیں۔ اگر آپ کہیں سفر پر نکل رہے ہوں چاہے ایک دن کا پلان ہی ہو اور اگر اس طرح کا سفری بیگ نہیں رکھ سکتے تو کم از کم ایک شاپر میں اضافی نائٹ سوٹ۔۔ ٹوتھ برش۔۔ صابن۔۔ اور کوئی اچھا سا پرفیوم ضرور رکھیں۔۔ اس کے ساتھ موبائل فون چارجر بھی لازمی ہو تاکہ مطلوبہ پن والا چارجر تلاش کرنے میں مشکل نہ ہو۔۔ ضروری نہیں کہ سفر ایک دن تک ہی محدود رہے ممکن ہے کسی بھی وجہ سے ایک سے زائد دن بھی لگ جائیں۔ اگر صرف ایک سوٹ میں جائیں گے تو مسلسل پہنے رہنے کی وجہ سے کپڑوں سے ناخوشگوار بو آنے کا امکان ہوتا ہے جس سے دوسرے لوگ ڈسٹرب ہو سکتے ہیں۔ ایک ہی سوٹ ہو گا تو اگر کسی وجہ سے پھٹ گیا یا گندہ ہو گیا۔۔ تب بھی ناخوشگوار صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔ اس لئے ایک اضافی سوٹ ساتھ ضرور رکھنا چاہیئے۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــ انتخاب: محمد بن نذر واٹس ایپ: https://chat.whatsapp.com/LB2YeGc0YQpBcqvmyUZlLw چینل : https://whatsapp.com/channel/0029Va5atGU5fM5QOYTGnn0C ٹیلی گرام: t.me/CutPiece (Available) فیسبک: https://www.facebook.com/fbcutpiece/ انسٹاگرام: https://instagram.com/cut_piece_?igshid=YmMyMTA2M2Y وہ

(نقل و چسپاں

خود سے مطمئن ہونا سب سے اہم ہے ۔ ہمارے ہاں اکثریت خود کو پسند نہیں کرتی یا خود کو اس قابل نہیں بناتی کہ اپنی شخصیت پر راضی رہا جائے ، شکر گزار ہوا جائے ۔ نتیجتا دوسروں کی ناپسندیدگیوں پر کڑھتے ہیں ۔ ناپسندیدگی پر کڑھنے کی بجائے پہلے اس کی وجہ تک پہنچا کریں ۔۔۔ وجہ ٹھیک ہے تو بغیر آئیں بائیں شائیں اس خامی کو خوبی میں بدلنے کا عزم کریں ۔۔۔ خوامخواہ ہے تو لطف لیا کریں ، ایک کان کی بجائے دونوں کا استعمال کیا کریں اور زیادہ سوچا نہ کریں ، صحت کے لیے فائدہ مند نہیں ہوتا ۔ (نقل و چسپاں) ـــــــــــــــــــــــــــــــــــ انتخاب: محمد بن نذر واٹس ایپ: https://chat.whatsapp.com/LB2YeGc0YQpBcqvmyUZlLw چینل : https://whatsapp.com/channel/0029Va5atGU5fM5QOYTGnn0C ٹیلی گرام: t.me/CutPiece (Available) فیسبک: https://www.facebook.com/fbcutpiece/ انسٹاگرام: https://instagram.com/cut_piece_?igshid=YmMyMTA2M2Y