موبائل کا فتنہ Mobile Fitnah
Відкрити в Telegram
اس دور کا سب سے بڑا فتنہ جس کو موبائل فون ( Smart Fone) کہتے ہیں اس متعلق اس چینل پر آپ علماء کرام کے بیانات،کتب،تحریریں حاصل کرسکتے ہیں انٹرنیٹ کے فتنہ سے کیسے بچیں اور اس متعلق معلومات کیلئے اس چینل میں شامل ہوں ـ رابطہ بوٹ: @FitnaMobileRabtabot
Показати більше1 397
Підписники
Немає даних24 години
+87 днів
+5030 днів
Триває завантаження даних...
Схожі канали
Хмара тегів
Немає даних
Виникли проблеми? Будь ласка, оновіть сторінку або зверніться до нашого support-менеджера.
Вхідні та вихідні згадування
---
---
---
---
---
---
Залучення підписників
грудень '24
грудень '24
+17
в 0 каналах
листопад '24
+48
в 0 каналах
Get PRO
жовтень '24
+74
в 0 каналах
Get PRO
вересень '24
+32
в 0 каналах
Get PRO
серпень '24
+19
в 0 каналах
Get PRO
липень '24
+20
в 0 каналах
Get PRO
червень '24
+15
в 0 каналах
Get PRO
травень '24
+13
в 0 каналах
Get PRO
квітень '24
+12
в 0 каналах
Get PRO
березень '24
+20
в 0 каналах
Get PRO
лютий '24
+36
в 0 каналах
Get PRO
січень '24
+98
в 3 каналах
Get PRO
грудень '23
+31
в 5 каналах
Get PRO
листопад '23
+21
в 4 каналах
Get PRO
жовтень '23
+14
в 0 каналах
Get PRO
вересень '23
+21
в 0 каналах
Get PRO
серпень '23
+36
в 0 каналах
Get PRO
липень '23
+117
в 0 каналах
Get PRO
червень '23
+9
в 0 каналах
Get PRO
травень '23
+11
в 0 каналах
Get PRO
квітень '23
+11
в 0 каналах
Get PRO
березень '23
+7
в 0 каналах
Get PRO
лютий '23
+71
в 0 каналах
Get PRO
січень '23
+6
в 0 каналах
Get PRO
грудень '22
+8
в 0 каналах
Get PRO
листопад '22
+12
в 0 каналах
Get PRO
жовтень '22
+15
в 0 каналах
Get PRO
вересень '22
+15
в 0 каналах
Get PRO
серпень '22
+21
в 0 каналах
Get PRO
липень '22
+64
в 0 каналах
Get PRO
червень '22
+136
в 0 каналах
Get PRO
травень '22
+7
в 0 каналах
Get PRO
квітень '22
+7
в 0 каналах
Get PRO
березень '22
+11
в 0 каналах
Get PRO
лютий '22
+9
в 0 каналах
Get PRO
січень '22
+6
в 0 каналах
Get PRO
грудень '21
+18
в 0 каналах
Get PRO
листопад '21
+14
в 0 каналах
Get PRO
жовтень '21
+12
в 0 каналах
Get PRO
вересень '21
+4
в 0 каналах
Get PRO
серпень '21
+19
в 0 каналах
Get PRO
липень '21
+14
в 0 каналах
Get PRO
червень '21
+67
в 0 каналах
Get PRO
травень '21
+11
в 0 каналах
Get PRO
квітень '21
+17
в 0 каналах
Get PRO
березень '21
+23
в 0 каналах
Get PRO
лютий '21
+48
в 0 каналах
Get PRO
січень '21
+295
в 0 каналах
Get PRO
грудень '20
+1 006
в 0 каналах
| Дата | Залучення підписників | Згадування | Канали | |
| 09 грудня | +1 | |||
| 08 грудня | +1 | |||
| 07 грудня | +3 | |||
| 06 грудня | +2 | |||
| 05 грудня | +2 | |||
| 04 грудня | +3 | |||
| 03 грудня | +2 | |||
| 02 грудня | +3 | |||
| 01 грудня | 0 |
Дописи каналу
Repost from اسلامی اشعار
بعض صالحین کے حالات وفات :
---------
❶. عظیم محدث اور استاذ التعبیر امام محمد بن سیرین ؒ پر وفات کے وقت گریہ طاری تھا اور فرمارہے تھے کہ "مجھے گذشتہ زندگی کی کوتاہیاں اور جنت میں جانے والے اعمال میں کمی اور جہنم سے بچانے والے اعمال کی قلت پر رونا آرہا ہے"ـ ( کتاب العاقبته / 69)
❷. مشہور فقیہ اور محدث ابرہیم نخعی ؒ وفات کے وقت روتے ہوئے فرما رہے تھے "میں اپنے رب کے قاصد کا منتظر ہوں پتہ نہیں وہ مجھے جنت کی خوشخبری سنائے گا یا جہنم کی؟ " ـ
❸. حضرت ابو عطیہ المذبوح موت کے وقت گھبرانے لگے لوگوں نے کہا کیا موت سے گھبراتے ہیں؟ فرمایا: میں کیوں نہ گھبراؤ یہ تو ایسا وقت ہے کہ مجھے پتہ نہیں کہ مجھے کہاں لے جایا جائے (جنت یا جہنم) ـ
❹. حضرت فضیل بن عیاض پر وفات کے وقت غشی طاری ہوئی پھر جب افاقہ ہوا تو فرمایا "ہائے افسوس! سفر دور کا ہے اور توشـہ بہت کم ہے"ـ ( کتاب العاقبته / 70)
| 2 | عربی اشعار کا اردو ترجمہ :
❶ ان میں سے کچھ تو وہ ہیں جنہوں نے اپنی محبت کو مخفی رکھا اور اپنی زبان کو شکوے سے روکا اور خاموش ہوگئے ـ
❷ اور ان میں سے کوئی بے تکلف ہے جو ملامتی کی ملامت کے وقت کہتا ہے ملامت کر ـ
❸ کیا میرا دل اس کی امتحان گاہ نہیں ہے؟ جو کچھ اس میں (پوشیدہ) ہے وہ اس پر مخفی کیسے ہو ، وہ تو اس کو بخوبی جانتا ہےـ
❹ محبّ حضرات اور ان سے محبت کرنے والا کہا اور جس نے اپنی خواہشات کو پراگندہ کیا اور جمع کیا وہ کہاں؟
❺ ان کی آنکھیں تو رونے والی ہیں، تعجب اس پر ہے جس پر لگن پلٹی جائے تب روئے اور آبدیدہ ہو ـ
❻ انہوں نے نیند کو حرام جاننا ہے کیونکہ سونے والا اونگھنے والے کو بیدار نہیں کرسکتا، جبکہ بیکار مستی میں ہے ـ
❼ ان کے آنسو ان کی سفارش کرتے ہیں اور جب خدا رسیدہ کے آنسو سفارش کرتے ہیں تو سفارش قبول ہوتی ہے ـ
پس پاک ہے وہ ذات جو کفار کی توبہ قبول کرتی ہے گناہگار کو اپنا بناتی ہے جب اس کے سامنے توبہ کرے اور توجہ کرے ـ
کتاب : آنسوؤں کا سمندر (صفحہ نمبر ۲۳)
---------- اسلامی اشعار چینل ↶
[ https://t.me/Deenislami ] | 129 |
| 3 | غـزہ کے مشہور داعی اور صحافی جناب جهاد حلس کی پوسٹ دیکھیے! فرما رہے ہیں:
"خدا کی قسم !
اگر آپ اہلِ غـزہ پر ڈھائے جانے والے مظالم اور تکالیف دیکھیں تو آپ دنگ رہ جائیں ، ذہن اس بات کو تسلیم نہیں کر پائے گا کہ آیا ایک انسان ان تمام مظالم اور تکالیف کو برداشت کر کے زندہ کیسے رہ سکتا ہے ؟ اور ان تکالیف کی شدت سے اس کی موت کیسے واقع نہیں ہوئی ؟!!
خدا کی قسم !
اگر یہ تکالیف اور مشقتیں کسی چٹان پر گزرتیں تو وہ تکلیف کی شدت سے پھٹ جاتی، سمندر پر اتنا ظلم ڈھایا جاتا تو وہ بخارات بن جاتا، دیوہیکل پہاڑوں پر گر اتنا سِتم ڈھایا جاتا تو ان میں شگاف پڑ جاتے ، لوہے جیسی مضبوط دھات تک اس تکلیف کی شدت سے پگھل جاتی !!
ہم نے جو آفتیں دیکھی ہیں اس کے مقابلے میں آپ کی پریشانیاں ہیچ ہیں، (باخدا یہ حقیقت ہے) ،
ہم پر بیتنے والے دلسوز مناظر کے عادی نہ بنیں، اسے ہماری عادی زندگی / روٹین لائف نہ سمجھیں ،
بلاشبہ ہمیں تنہا ، بے یارو مددگار چھوڑنے والوں کو اللّٰہ رب العزت دیکھ رہے ہیں ، اور ان سب کو اللّٰہ رب العزت کے حضور جواب دہ ہونا ہے۔"
- مترجم: عبد الرحمن فضل۔ | 86 |
| 4 | https://chat.whatsapp.com/7yElZgLtDKw6q5KdkSyN6r | 172 |
| 5 | https://chat.whatsapp.com/IA4VMaZ3hPP731czA8xzqS | 170 |
| 6 | Немає тексту... | 535 |
| 7 | لہذا ان وسوسوں کے علاج کے لیے مذکورہ نسخہ نبوی ﷺ پر عمل کیا جائے، اور ساتھ ساتھ یہ اعمال کریں:
(1) أعُوذُ بِالله (2) اٰمَنْتُ بِاللّٰهِ وَرَسُوْلِه کا ورد کرے۔ (3) هُوَ الْاَوَّلُ وَالْاٰخِرُ وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْم (4) نیز رَّبِّ اَعُوْذُبِکَ مِنْ هَمَزٰتِ الشَّیٰطِیْنِ وَاَعُوْذُ بِکَ رَبِّ اَنْ یَّحْضُرُوْنِکا کثرت سے ورد بھی ہر طرح کے شیطانی شکوک ووساوس کے دور کرنے میں مفید ہے۔ | 35 |
| 8 | رنج و غم کی کوئی آواز ہوتی تو یوں ہوتی۔آہ جب دل میں ناقابلِ رفو چاک ہو تو اس سے اٹھنے والے طوفانِ کرب ایسی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔جب صدا دینے والا جانتا ہو کہ اس صدا پر حرکت کرنے والے، دوڑ کر والہانہ آنے والے، جن کی پیشانیاں بے چین ہوجاتی تھی وہ اب کبھی نہیں آئیں گے۔اب کوئی نہیں آئے گا۔اُن کی کیفیت اے دل نہ پوچھ!
ہے کوئی غيور حاکم جو اس صدا(حي على الفلاح) پر لبیک کہہ دے اور خدائے واحد کا حبيب بن جائے؟ کوئی نہیں!
الله أكبر (یاالله آپ کی اکبری ميں ہم تنہا ہیں) | 97 |
| 9 | ابو عبداللہ البعلی الحنبلی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں : ”میں رات کے پچھلے پہر جامع دمشق میں موجود تھا، شیخ نوَوِی رحمہ اللہ اندھیرے میں ایک ستون کے پیچھے نماز پڑھ رہے تھے اور انتہائی غم اور خشوع کے ساتھ بار بار یہی دہرا رہے تھے: ﴿وَقِفُوهُم إنَهُم مَسئولُونَ﴾ ، اور انہیں روک کر رکھو، کہ ان سے پوچھ گچھ کی جائے گی! یہاں تک مجھ پر ایسی کیفیت طاری ہوئی جسے اللہ ہی جانتا ہے!!“
(تحفة الطالبين لابن العطار : ٦٥) | 230 |
| 10 | اے ابو ہریرہ تمہیں کیا چیز رلارہی ہے؟: "جہاں تک میرے رونے کا تعلق ہے تو وہ تمہاری اس ںے مایہ سی دنیا کی وجہ سے نہیں ہے، بلکہ اس کا تعلق تو اس پریشانی سے ہے کہ میرے سفر کی مسافت طویل ہے اور اسکی خاطر میرے پاس زادِ راہ نام کو بھی نہیں پڑا ہے، میری حالت یہ ہے کہ میں جنت اور جہنم کی راہوں پر کبھی چڑھ رہا اور کبھی اتر رہا ہوں،اور مجھے کچھ پتا نہیں کہ وہ مجھے کہاں لے جائے گا "
[الطبقات الكبرى (٢٥٣/٤)] | 366 |
| 11 | سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سوشل میڈیا کے ذریعے اب تک کتنے لوگ توبہ تائب ہوچکے ہیں،کتنے تہجد گزار بن چکے ہیں،کتنے فرمانبردار،کتنے داعی،کتنے طالب علم اور کتنے ایسے ہیں جن کی مثال دی جاسکے کہ بلاشبہ نیٹ کی دنیا نے ان کی زندگی بدل دی ؟
اس کے بالکل برعکس ہم اچھی طرح جانتے ہیں اور اگر نہیں جانتے تو اپنے ارد گرد ایک گہری نظر دوڑائیں اور دیکھے کہ کتنے ہیں جو سوشل میڈیا کی دنیا میں مگن ہوکر اسی دنیا کے ہوکر رہ گئے،پہلے وہ موبائل استعمال کرتے تھے اور اب ان کو موبائل استعمال کرنے لگا ہے، پہلے وہ والدین کی آواز پر لبیک کہتے تھے اب وہ کسی اشتہار کو بھی برداشت نہیں کرتے، ان کی مجموعی فکر سبسکرائبر سے شروع ہوتی ہے اور موبائل چارج پر ختم ہوجاتی ہے، وہ ایک بے مقصد مصرف میں گھنٹوں برباد کرتا ہے جبکہ کسی بڑے کا حکم مان کر پانچ منٹ بھی اسے بھاری لگتے ہیں، وہ پہلے صرف بے نمازی تھا اب ملحد بھی بننے لگا ہے، پہلے سوکر اٹھتا تھا تو ماں کو ڈھونڈتا تھا اب موبائل ڈھونڈتا ہے۔ اس کے نیم مذہبی خیالات سے پورا گھر پریشان رہتا ہے، نیم سیاسی تجزیوں سے معاشرہ تنگ آچکا ہے، اخلاق و فکر، عقیدہ و عمل، ظاہر و باطن اس کی شخصیت میں فقط تضاد ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔
تجوید ٹھیک ہو یا نہ ہو قراء کو ہدف تنقید بنالیتا ہے، علم کی الف ب سے بھی واقف نہ علماء کو موضوع بناتا ہے، فن تاریخ پر کبھی کچھ پڑھا ہی نہ ہو اسلاف پر تنقید کرتا ہے، سیاسی شخصیات کو پوجتا ہے یا ان کی شخصیت پر کیچڑ اچھالتا ہے۔ سمجھ نہیں آتا کہ یہ شخص چاہتا کیا ہے؟ اس کی زندگی کا مقصد کیا ہے ؟ اس کا میدان عمل کیا ہے؟ اس کی تعلیم و صلاحیت کیا ہے؟ آخر یہ ٹھیکہ اسے ملا کہاں سے ہے اور یہ بلاسونپی ہوئی ٹھیکےداری کب تک معاشرے کو برداشت کرنی پڑے گی ؟
اقتباس "دین کی دعوت اور سوشل میڈیا " از عبدالمتین | 521 |
| 12 | شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب مدظلہم کا عید کے موقع پر درد بھرے بیان کا کچھ حصہ ۔۔
پاکستان میں بائیس کروڑ مسلمان بستے ہیں بائیس کروڑ مسلمان میں سے ہر ایک اگر سو سو روپے بھی جمع کرے تو کم از کم ان بھوکے فلسطینی بچوں کی تکلیف کا مداوا ہوسکتا ہے لیکن اگر یہ بھی ہم نہیں کرسکتے اگر ہم اتنا بھی نہیں کرسکتے تو پھر چھوڑ دیں یہ کہنا کہ ہم مسلمان ہیں ـ | 97 |
| 13 | مولا! میرا نُور مجھے لوٹا دے!!
-------
اہلِ معرفت نے علمِ شرعی کی تعریف کی ہے کہ یہ اللہ کا نور ہے جو بندے کے سینے میں روشن ہو جاتا ہے۔ یہ نُور دل میں قندیل کی لَو کی مانند باقاعدہ محسوس ہوتا ہے۔ بلکہ طالبِ علم تو اس فکر میں زندگی گُھلا دیتا ہے کہ یہ نُور بجھ نہ جائے! مالک بن دینار رحمہ اللہ کے فرمان "عمل کیلیے حاصل کیا گیا علم بندے کو توڑ کر رکھ دیتا ہے!" کا یہی معنی ہے۔
طالبِ علم بہت سارے گناہوں سے صرف اس لیے دُور رہتا ہے کہ میرا نُور مجھ سے چِھن نہ جائے۔ بسا اوقات ایک حرام نظر طویل عرصہ تک دل کو تاریک کر دیتی ہے۔ دل تعلق باللہ کی حلاوت سے شناسا ہونے کے باوجود کوئی تحریک نہیں پاتا، فالج زدہ ہو جاتا ہے، اسے گرہن لگ جاتا ہے۔
بعض دفعہ ہنسی مذاق اور قہقہوں کی مجلس طویل ہو جائے تو بیٹھے بیٹھے دل ٹَھک سے بند ہو جاتا ہے۔ جیسے ہوا کے تیز جھونکے سے چراغ بجھتا ہے۔ پوری نیت کے ساتھ ذکر و تلاوت کے ذریعے اس کو پھر سے روشن نہ کیا جائے تو وہ بند ہی رہ جاتا ہے۔
بحث و جدال بھی علم کا نُور لے جاتے ہیں۔ انسان کسی بے نتیجہ بحث میں مبتلا کر دیا جائے تو دل باقاعدہ سخت ہو جاتا ہے۔ کچھ دیر کیلیے نماز کا خشوع اور مناجات کی لذت رُوٹھ جاتے ہیں۔ بلکہ میں نے دیکھا ہے کہ کبھی والدین کے سامنے آواز اونچی ہو جائے تو یکا یک دل مَر سا جاتا ہے! وحشت طاری ہو جاتی ہے۔ گویا ایک دم علم کے سب پلندے وجود سے الگ ہو کر گُھور رہے ہوں کہ یہ کیا کر دیا؟!
دل کی دنیا اندھیری کرنے کیلیے دنیا کی چَکا چوند سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں۔ بعض دفعہ تو اہلِ دنیا کے ٹھاٹھ کی طرف نظر اٹھانے سے ہی بصیرت چُندھیا جاتی ہے۔ تو پھر اس طالب علم کا کیا حال ہو گا جس کا اٹھنا بیٹھنا ہی اُن لوگوں میں ہوتا ہے جن کے دل دنیا کی محبت سے لبریز ہوتے ہیں، اور جن کی باتوں کا محور دنیا ہوتی ہے؟!
کبھی علم والوں سے پوچھ کر دیکھیے کہ باجماعت نماز کے چُھوٹ جانے سے کیا گزرتی ہے؟! دنیا بیگانی سی نہیں ہو جاتی؟! کھانا بدمزہ ہو جاتا ہے۔ قدم بوجھل ہو جاتے ہیں۔ دوستوں کی مجلس بوجھ بن جاتی ہے۔ جب تک کہ انسان اپنے رب کے سامنے گڑگڑا نہ لے کہ مولا! میرا نُور مجھے لوٹا دے!! اور یہ توفیق بھی اللہ ہی کی طرف سے ہوتی ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ جب امام مالک رحمہ اللہ کے سامنے شاگرد بن کر بیٹھے تو استاد نے فرمایا : ”مجھے لگتا ہے کہ اللہ نے تمہارے سینے میں علم کا نُور روشن کر دیا ہے، دیکھو! گناہوں کی تاریکی سے اِسے بجھنے نہ دینا!“ اور ہم میں سے بہت ساروں کے نُور بجھ چُکے ہیں، مگر ہمیں احساس نہیں ہے۔ ہم علم کی دکان کے باہر نصب بے جان مجسمے ہیں۔ اور نہیں تو کیا!
سہل التستری رحمہ اللہ ایک نورانی جملہ کہہ گئے ہیں : "حرامٌ على قلبٍ أن يدخله النُّور، وفيه شيءٍ مما يكره الله عز وجل!" حرام ہے کہ اس دل میں نور داخل ہو جائے، جس میں تاریکیاں ہوں! جس میں دنیا کی محبت ہو! جو نامحرم سے تعلق استوار کرتا ہو! جسے خلقِ خدا پر ظلم کی نحوست نے کالا کر دیا ہو! جس کا "میں" کا ڈنک نکلا نہ ہو! ...
طالب علم کو چاہیے کہ ہر وقت فکرمند رہے کہ کہیں میرا نُور مجھ سے چِھن نہ جائے۔ اس فکر کو روگ بنا لے۔ لامحالہ اسے بہت سے مشاغل ترک کرنے پڑیں گے، کئی صحبتوں کو خیر آباد کہنا پڑے گا، کئی رویوں پر نظرِ ثانی کرنی پڑے گی۔ پھر شاید وہ سلفِ اوائل کی اس بات کا کچھ مصداق بن جائے کہ : ”ہم میں سے جب کوئی علم حاصل کرتا تھا تو وہ علم اس کی چال ڈھال میں نظر آ جاتا تھا۔“
يا نورَ السماوات والأرض، أتمِمْ لنا نورَنا واغفر لنا! | 145 |
| 14 | https://t.me/Eqtebaskb | 61 |
| 15 | الشريعة والحياة ( شریعت اور زندگی) عرب چینل الجزیرہ کا بڑا مفید اور موثرہفت روزہ دینی پروگرام ہے۔ جس کے عالمی سطح پر کروڑوں فالورز ہیں۔ اس پروگرام میں تربیتی، سوشل، اقتصادی اور سیاسی پہلوؤں سے بات چیت ہوتی ہے۔ عمومی طور پر اس پروگرام کے مہمان عالم اسلام کے جلیل القدر عالم دین شیخ یوسف القرضاوی ہوتے تھے۔
القرضاوی کی وفات کے بعد بھی جاری رہا۔ آج 2 اپریل کو اس پروگرام کے مہمان عالم اسلام کے مایہ ناز عالم دین ،صدر وفاق المدارس العربیہ شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی تھے۔
عربی میں حضرت نے برصغیر میں دین اسلام کی اشاعت اور معاشرے میں اس کے کردار واہمیت پر بڑی فصیح و دل آور موثر گفتگو کی۔
میرا خیال ہے کہ یوسف القرضاوی کی رحلت کے بعد اسلامی دنیا کو محسوس ہونے والی کمی کو حضرت شیخ الاسلام صاحب کی شخصیت اچھی طرح سے اچھی طرح سے پر کیا جاسکتا ہے۔ دونوں حضرات کی فکری بلند پروازی، شریعت کی سمجھ، فقہ الشریعہ اور ادراک یکساں بلندیوں اور رفعتوں پر ہے۔ اور دونوں اعتدال و وسطیت اور اسلام کے آفاقی مزاج کے شناور ہیں۔
علی ہلال
ٹیلی گرام چینل
https://t.me/MuftiTaqiUsmaniSahab | 1 |
| 16 | بعض صالحین کے حالات وفات :
---------
❶. عظیم محدث اور استاذ التعبیر امام محمد بن سیرین ؒ پر وفات کے وقت گریہ طاری تھا اور فرمارہے تھے کہ "مجھے گذشتہ زندگی کی کوتاہیاں اور جنت میں جانے والے اعمال میں کمی اور جہنم سے بچانے والے اعمال کی قلت پر رونا آرہا ہے"ـ ( کتاب العاقبته / 69)
❷. مشہور فقیہ اور محدث ابرہیم نخعی ؒ وفات کے وقت روتے ہوئے فرما رہے تھے "میں اپنے رب کے قاصد کا منتظر ہوں پتہ نہیں وہ مجھے جنت کی خوشخبری سنائے گا یا جہنم کی؟ " ـ
❸. حضرت ابو عطیہ المذبوح موت کے وقت گھبرانے لگے لوگوں نے کہا کیا موت سے گھبراتے ہیں؟ فرمایا: میں کیوں نہ گھبراؤ یہ تو ایسا وقت ہے کہ مجھے پتہ نہیں کہ مجھے کہاں لے جایا جائے (جنت یا جہنم) ـ
❹. حضرت فضیل بن عیاض پر وفات کے وقت غشی طاری ہوئی پھر جب افاقہ ہوا تو فرمایا "ہائے افسوس! سفر دور کا ہے اور توشـہ بہت کم ہے"ـ ( کتاب العاقبته / 70)
==================
کتاب : اللہ سے شرم کیجئے (صفحہ 240)
مصنف: مفتی سلمان منصوری پوری
ناقل : عبدالرحمن
بسلسلہ: کتب سے اقتباسات ٹیلی گرام چینل
https://t.me/Eqtebaskb | 68 |
| 17 | یہ بدن گل سڑ جائے گا :
------
انسان کا یہ بدن مٹی سے بنا ہے اور مٹی ہی میں مل جائے گا، قبر میں جاکر خوبصورت آنکھیں جنہیں سرمہ اور کاجل سے سنوارا جاتا ہے اور یہ بال اور رخسار جنہیں حسین و جمیل بنانے کی تگ و دو کی جاتی ہے اور یہ پیٹ جس کی بھوک مٹانے کے لیے ہر طرح کے جتن کئے جاتے ہیں، یہی آنکھیں پھوٹیں گی اور ان کا پانی چہرے کے رخساروں پر بہہ پڑے گا، بال خود بخود گل کر ٹوٹ جائیں گے، پیٹ بدبودار ہوکر پھٹ پڑے گا، قبر میں کیڑے اس مٹی کے بدن کو اپنی غذا بنالیں گے، اس حالت کو انسان دنیا میں بھولے رہتا ہے مگر یہ حالت پیش آکر رہے گی، اسی جانب متوجہ کرنے کے لیے ایک مرتبہ آنحضرت ﷺ نے حضرات صحابہ ؓ سے ارشاد فرمایا :
"روزانہ قبر فصیح و بلیغ زبان میں برملا یہ اعلان کرتی ہے کہ اے آدم کی اولاد! تو مجھے کیسے بھول گیا؟ کیا تجھے معلوم نہیں کہ میں تنہائی کا گھر ہوں،میں مسافرت کی جگہ ہوں،میرا مقام وحشت ناک ہے؟ اور میں کیڑوں کا گھر ہوں اور میں تنگ جگہ ہوں سوائے اس شخص کیلئے جس پر اللہ تعالٰی مجھے وسیع فرمادے! پھر آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ قبر یا تو جہنم کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا ہے ـ یا جنت کی پھلواریوں میں سے ایک پھلواری ہے"ـ
لٰہذا اللہ تعالٰی سے شرم و حیا کا تقاضا بیان کرتے ہوئے آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا " کہ اپنی موت اور بدن کی بوسیدگی کو یاد رکھیں! اس سے فکر آخرت پیدا ہوگی اور گناہوں سے بچنے کا داعیہ بھر کر سامنے آئے گا ـ
==================
کتاب : اللہ سے شرم کیجئے (صفحہ 255)
مصنف: مفتی سلمان منصوری پوری
ناقل : عبدالرحمن
بسلسلہ: کتب سے اقتباسات ٹیلی گرام چینل
https://t.me/Eqtebaskb | 33 |
| 18 | https://t.me/Eqtebaskb | 92 |
| 19 | در حقیقت ہم نے دنیا کو اپنا مسکن بنا لیا ـ آہ! ہم نے اپنی جانوں پر بہت ظلم کیا ـ | 47 |
| 20 | شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی مدظلہم کا دردِ دل :
------
شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی صاحب مدظلہم نے جمعہ کے روز خطابِ جمعہ میں فلسطین میں جاری تاریخ کے بدترین ظلم و سفاکیت پر ایک بار پھر امتِ مسلمہ کے سوئے ہوئے ضمیر کو جس زور دار انداز میں جھنجھوڑا ہے، اور جس طرح ظلم و جبر میں پسنے والے مظوم فلسطینی مسلمانوں کا درد امت کے سامنے بیان کیا ہے.......اسے سننے کے بعد کوئی بھی دردِ دل رکھنے والا انسان اور غیرت رکھنے والا مسلمان متاثر ہوئے اور بے چین ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔.....!
حضرت والا نے انتہائی پرجلال انداز میں درد بھرے دل کے ساتھ عالمِ اسلام کی بے حسی کو بیان کرتے ہوئے فرمایا:
’’مجھے اللہ تبارک و تعالٰی کے عذاب سے ڈر لگتا ہے کہ پورا عالم اسلام اس وقت جس بے غیرتی میں، بے حسی میں، جس بے حمیتی میں پھنسا ہوا ہے، یہ اللہ تعالٰی کو ناراض کر کے پورے عالم اسلام کے لیے تباہی کے پیش خیمہ نہ ہو۔‘‘
’’ تم اپنے گلچھرے اڑا رہے ہو، تم افطار کی دعوتیں کر رہے ہو، تم لوگوں کے لیے کھانے تیار کر رہے ہو، ہنسی اڑا رہے ہو، عیاشیاں کر رہے ہو، اور تمہارے بھائی، تمہاری بہنیں، تمہارے بچے، تمہاری اولاد، تاریخ کے بدترین طریقوں پر ذبح ہو رہے ہیں....‘‘
’’ کیا ہوگیا تمہیں ؟ تم وہ تھے کہ ایک عورت کی پکار پر حجاج بن یوسف جیسے ظالم انسان نے بھی محمد بن قاسم کو لشکر دے کر بھیج دیا تھا کہ سندھ کے اندر ایک عورت پر ظلم ہوا ہے تم وہاں جا کر راجہ داہر سے بدلہ لو اور آج ہم لوگ انہی کے حملے کی وجہ سے یہاں مسلمان بیٹھے ہوئے ہیں۔ مسلمان ایسی غیرت مند قوم تھی......... کہاں چلی گئی وہ غیرت؟ کہاں چلی گئی وہ انسان دوستی جس کا سبق میرے پیغمبر ﷺ نے دیا تھا؟وہ سب مر مٹ گئی، کہاں مر مٹ گئی؟ مغرب کی غلامی میں۔ امریکہ برطانیہ کی غلامی میں۔۔۔ وہ غیرت مٹ گئی، وہ حمیت مٹ گئی، کیونکہ ان کو اپنا سب کچھ سمجھ لیا گیا۔‘‘
’’ اللہ تعالی سے رجوع کرو.... اللہ تعالی سے مانگو.... جو شخص ان کو مدد پہنچانے کی جتنی طاقت رکھتا ہے.... وہ مدد پہنچائے....... جو شخص جتنی طاقت رکھتا ہے حکمرانوں کو متوجہ کرنے کی وہ اپنی طاقت استعمال کرے ورنہ یاد رکھو آخرت کے اندر جب 30 ہزار شہیدوں کے خون کا حساب لیا جائے گا تو حساب دینے والوں میں ہم بھی شامل ہوں گے کہ تم نے ان کے لیے کیا کیا تھا....‘‘
یہ مکمل بیان دارالعلوم میڈیا کی طرف سے ان شاءاللہ جلد ہی نشر کردیا جائے گا۔ اور اس کا لنک یہاں اس وال پر بھی شئیر کردیا جائے گا۔
یہ بیان اس لنک پر سنا جا سکتا ہے:
https://youtu.be/8UfamrodMq4
راشد حسین
------
نوٹ: - جو ساتھی یوٹیوب پر یہ بیان نہیں سن سکتے ہیں ان کیلیے یہ بیان آڈیو کی صورت میں یہاں بھیجا جا رہا ہے ـ ⇓⇓
https://t.me/MuftiTaqiUsmaniSahab/4062 | 45 |
