uk
Feedback

Не попадись на ботовода! Telemetrio знаходить і позначає такі канали мітками 👉 Хочеш бачити мітку, оформляй підписку

ISLAM WITH EMAN

ISLAM WITH EMAN

Відкрити в Telegram

اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات... ایڈمن سے رابطہ کیلئے: @syedsajjadhamdani

Показати більше
1 285
Підписники
-324 години
-77 днів
-730 днів
Архів дописів
🔷 کالا لباس پہننا 🔷 ایام عزا میں کالا لباس پہننا مستحب (باعثِ ثواب) ہے۔ کچھ اہلسنت آج کل شیعہ کتابوں میں موجود چند ضعیف روایات پیش کرتے ہیں اور پھر یہ کہتے ہیں کہ دیکھو کالا لباس پہننے کی ممانعت تو خود شیعوں کی کتابوں میں موجود ہے. جو روایات نقل کی جاتی ہیں لبس السواد کی مکروہیت پر (یعنی کالے لباس کے پہننے پر) تو آئیے ان کو نقل کرتے ہے اور ان کی علمی حیثیت کا تعین کیا جاتا ہے۔ پہلی: امام صادق ع سے منقول روایت کہ یہ دوزخیوں کا لباس ہے (لا تصل فيها فانها لباس أهل النار.) جواب: یہ روایت شیخ صدوق نے مرسلا من لايحضره الفقيه جلد ١ ص ٢٥١ میں نقل کی ہے اور علل الشرائع میں مسند طریق سے نقل کی ملاحظہ ہو علل الشرائع جلد ٢ ص ٣٤٦ اور اس کی سند یوں ہے: - أبى رحمه الله قال: حدثنا محمد بن يحيى العطار عن محمد بن احمد عن سهل بن زياد عن محمد بن سليمان عن رجل عن ابى عبد الله (ع) واضح طور سے اس کی سند میں ارسال ہے کہ راوی جس نے امام صادق ع سے روایت نقل کی وہ غیر موسوم ہے۔ دیگر اس روایت کی سند میں سھل بن زیاد اور محمد بن سلیمان پر کلام ہے۔ علی کل حال اس روایت کی سند ضعیف ہے۔ دوسری: امام علی ع سے منقول روایت کہ کالا لباس فرعون کا لباس ہے (لا تلبسوا السواد فانه لباس فرعون.) جواب: اس روایت کو شیخ صدوق نے مرسلا من لايحضره الفقيه جلد ١ ص ٢٥١ میں نقل کیا ہے اور علل الشرائع میں مسند طریق سے نقل کی ملاحظہ ہو علل الشرائع جلد ٢ ص ٣٤٧ اور اس کی سند یوں ہے: وبهذا الاسناد عن محمد بن احمد عن محمد بن عيسى اليقطينى عن القاسم ابن يحيى عن جده الحسن بن راشد عن ابى بصير عبد الله (ع) قال: حدثنى ابى، عن جدى، عن ابيه عن أمير المؤمنين (ع) قال اس کی سند میں تامل ہے کیونکہ اس میں حسن بن راشد ہے جو مختلف فیہ راوی ہے اور محمد بن عیسی الیقطینی بھی مختلف فیہ راوی ہے۔ البتہ ہمارا کلام حسن بن راشد کے لئے ہے اور ہمارے نزدیک جو مبنی زیادہ محکم ہے اس کے تحت راوی مجہول الحال ہے۔ تیسری: امام صادق ع کی روایت کہ رسول ص تین موارد کے علاوہ کالے کپڑے کو مکروہ جانتے تھے۔ (كان رسول الله صلى الله عليه وآله يكره السواد إلا في ثلاثة العمامة والخف والكساء.) جواب: یہ روایت شیخ صدوق نے مرسلا من لايحضره الفقيه جلد ١ ص ٢٥١ میں نقل کی ہے، الکافی جلد ٣ ص ٤٠٣۔ البتہ علل الشرائع جلد ٢ ص ٢٤٧ میں سند کے ساتھ نقل کی ہے۔ الکافی کی سند: عدة من أصحابنا، عن أحمد بن محمد رفعه، عن أبي عبد الله (عليه السلام) قال علل الشرائع: وبهذا الاسناد عن محمد بن احمد باسناده يرفعه إلى ابى عبد الله (ع) قال: اس سند میں واضح طور پر ارسال موجود ہے۔۔ راوی اور امام صادق ع کے درمیان واسطہ موجود نہیں۔ چوتھی: حذیفہ بن منصور کی روایت جس میں امام صادق ع کو جب عباسی خلیفہ کی طرف سے بلایا جاتا ہے تو آپ کالے لباس کو اہل نار کا لباس کہتے ہیں۔ جواب: اس روایت کو شیخ صدوق مرسلا من لايحضره الفقيه جلد ١ ص ٢٥٢ میں نقل کیا ہے اور مسندا علل الشرائع جلد ٢ ص ٣٤٧ میں نقل کیا ہے بایں سند: وبهذا الاسناد عن محمد بن احمد عن الحسن بن الحسين اللؤلؤي عن محمد بن سنان، عن حذيفة بن منصور قال: كنت عند ابى عبد الله سند میں محمد بن سنان مشہور ضعیف راوی موجود ہے۔۔ اگرچہ اس روایت کو مان بھی لیا جائیں تو ہمارے لئے مسئلہ نہیں کیونکہ اس روایت میں چونکہ عباسیوں نے کالے لباس کو اپنا شعار بنایا تھا تو اس معھود عنوان سے کالے لباس کو جہنمیوں (عباسیوں) کا گردانا گیا ہے۔ یہ روایت تو ہماری موید ہے نہ کہ مخالف۔ چنانچہ چیدہ عنوان سے یہی روایات نقل کیں جاتیں ہیں اور ہم نے ان کا جواب دے دیا ہے، آئے اب ہم دو بزرگ مراجعین کرام کے فتاوی نقل کئے دیتے ہیں جو کالے لباس پر ہیں آیت اللہ جواد تبریزی ایک سوال کے جواب میں فرماتے ہے: لم يثبت كراهية لبس السواد لا في الصلاة ولا في غيرها. نعم، ورد في بعض الروايات ما يستفاد منها كراهية لبس السواد، ولكنها ضعيفة السند، ومع الإغماض عن ضعفها فالكراهة في الصلاة بمعنى كونها أقل ثواباً، ولبس السواد في عزاء الحسين والأئمة (عليهم السلام) لأجل إظهار الحزن وإقامة شعائر المذهب مستحب نفسي، وثوابه أكثر من نقص الثواب في الصلاة، واللّه العالم. کالے کپڑے کی پہننے کی کراہیت چاہے نماز میں ہو یا نماز کے علاوہ وہ ثابت نہیں۔ ہاں البتہ کچھ روایات سے اس کپڑے کا پہننے کی مکروہیت کا اسخراج کیا جاسکتا ہے لیکن وہ تمام ضعیف سند پر مشتمل ہیں۔ اور اگر اس ضعف سند سے چشم پوشی بھی کی جائے تو نماز میں کراہیت سے مراد نماز میں ثواب کا کم ہونا ہے (یاد رہے عبادات میں کسی چیز کا مکروہ ہونا اس عبادت کا عدم تقرب نہیں بلکہ قلت ثواب ہے از خیر طلب) اور ایام عزائے حسینی ع و آئمہ علیھم السلام میں کالے کپڑے کا پہننا اظہار غم اور شعائر مذھب کو قائم کرنے کے عنوان سے ہوتا ہے جو خود اپنے عمل کے عنوان سے مستحب ہے۔

🔷 حبیب بن مظاہر کو امام ع کا خط 🔷 محرم کے ایام میں عموما ایک "خط" گردش کرنے لگتا ہے جو کہ امام حسین ع کی جانب سے حبیب بن مظاہر اسدی کو بھیجا گیا ہوتا ہے۔ اس خط کا متن یہ نقل ہوتا ہے: حبیب سلام ہو تم پر، شاید تمہیں معلوم نہیں کہ ہم دو محرم سے کربلا پہنچ چکے ہں میرے ساتھ اس عالم غربت میں میرے اہلخانہ اور بچے بھی ہیں ہمیں چاروں طرف سے دشمنوں نے گھیر لیا ہے اگر بے وطنوں کی مدد کرنا چاہتے ہو تو عصر عاشور سے پہلے کربلا پہنچ جانا ورنہ عصر قیامت ملاقات ہوگی۔ والسلام۔ تمہارا بچپن کا ساتھی حسین بن فاطمہ اگر ہم مقاتل کی کتب کا مطالعہ کریں، تو ہمیں کسی بھی معتبر و مستند مقتل کی کتب میں ایسا کوئی خط نہیں ملتا جسکا یہ متن ہو۔ جو تصویر پھیلائی جاتی ہے اس میں بھی اسکا کوئی حوالہ درج نہیں۔ اسکے أسلوب میں بھی اشکالات ہیں۔ خصوصا ایسے الفاظ جیسے "تمہارا بچپن کا ساتھی" خط کے آخر میں لکھنا اور آخر میں اپنا نام لکھنا، جبکہ اس زمانے میں عرب میں اس أسلوب اور طرز پر خطوط لکھنے کا رواج نہیں تھا۔ ہاں، یہ بات درست ہے کہ اس خط کی بجائے ایک اور خط منقول ہے جو کہ بعض متأخر کتب میں نقل ہوا ہے، وہ یہ ہے: مِنَ الحُسَينِ بنِ عَلِيٍّ بنِ أبي طالبٍ إلى الرَّجُلِ الفَقيهِ حَبيبِ بنِ مُظاهِر: أمَّا بعدُ يا حبيب؛ فَأنتَ تَعلَمُ قَرابَتَنا مِن رَسولِ اللّه ِ صلى الله عليه وآله، وَأنتَ أَعرَفُ بِنا من غَيْرِكَ، وأنتَ ذُو شيمَةٍ وغَيْرَةٍ، فَلا تَبخَل عَلَينا بِنَفسِكَ، يُجازيكَ جَدِّي رَسولُ اللّه ِ صلى الله عليه وآله يَومَ القِيامَةِ. حسین بن علی بن ابی طالب کی جانب سے مردِ فقیہ حبیب بن مظاہر کو خط: اما بعد، اے حبیب! تم رسول اللہ ص سے ہماری رشتہ داری جاتے ہو، اور تم دوسرے کی نسبت زیادہ پہچانتے ہو ہمیں۔ اور تم اچھی صفت والے اور غیرتمند ہو۔ تو تم بخل نہ کرو ہمارے معاملے میں، میرے جد رسول اللہ ص تمہیں بروز قیامت جزائے خیر دیں۔ (1) اس خط کی کوئی سند نہیں ہے۔ مگر اسکے استناد سے قطع نظر، کم از کم اسکا وجود ہے کتب میں چاہے متأخر کتب میں ہی صحیح۔ کچھ متن کے اختلاف سے کتاب فرسان الهيجاء میں شیخ محلاتی لکھتے ہیں: أقول : لا أستحضر الآن بخلدي المصدر الذي عثرت على الرواية التالية فيه وهي أنّ الحسين عليه ‌السلام لمّا نزل كربلاء كتب كتاباً إلى محمّد بن الحنفيّة وآخر إلى الكوفة ، وكتب كتاباً خاصّاً إلى حبيب بن مظاهر وفيه : بسم الله الرحمن الرحيم ، من الحسين بن عليّ إلى الرجل الفقيه حبيب بن مظاهر الأسدي ، أمّا بعد ، فقد نزلنا كربلاء وأنت تعلم قرابتي من رسول الله فإن أردت نصرتنا فاقدم إلينا عاجلاً ... ولكن كيف وصلت هذه الرسالة إلى حبيب، علم ذلك عند الله، لأنّ الطرق جميعها مأخوذة بالرصد والعدوّ قد أحاط بهم. میں کہتا ہوں: مجھے یاد نہیں ہے کہ کس مصدر میں مجھے یہ درج ذیل روایت ملی ہے، یہ ہے کہ امام حسین ع جب کربلاء آئے تو انہوں نے محمد بن حنفیہ کو ایک خط لکھا اور ایک کوفہ کی جانب، اور ایک خاص خط انہوں نے حبیب بن مظاہر کو لکھا جس میں تھا: بنام خدا جو نہایت مہربان اور رحم کرنے والا ہے، حسین بن علی کی جانب سے مرد فقیہ حبیب بن مظاہر اسدی کو۔ اما بعد، ہم کربلاء آ گئے ہیں اور تم رسول اللہ ص سے میری رشتہ داری جانتے ہو، اگر تم ہماری مدد کرنا چاہتے ہو تو جلدی ہمارے پاس آجاؤ۔۔۔ لیکن یہ پیغام حبیب تک کیسے پہنچا، اسکا علم اللہ ہی کے پاس ہے، کیونکہ سب کے سب رستوں پر نگران موجود تھے اور دشمن نے اسکو گھیر لیا تھا۔ (2) اس خط کو صاحب کتاب نے اپنی یاد داشت سے اسکو نقل کیا ہے جس سے اس کی نقل میں خطا کا امکان ہے اور درست متن پہلا ہی ہے جو کہ بیشتر کتب میں موجود ہے، ساتھ ہی شیخ محلاتی کا اشکال بھی معقول اور غور طلب ہے۔ لیکن جو خط سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہا ہے وہ من گھڑت اور بے بنیاد ہے، اسکا کوئی وجود نہیں معتبر کتب میں۔ براہ کرم معصومین سے کسی بھی چیز کو نسبت دینے یا شیئر کرنے سے پہلے اسکی تصدیق کروا لیا کریں۔ تحریر: سید علی اصدق نقوی 📚 مآخذ: (1) وسيلة الدارين في أنصار الحسين، ص 120 – 121 (2) فرسان الهيجاء، 1، ص 124۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🔷 جھوٹے مصائب کا آغاز 🔷 جھوٹے مصائب کا آغاز کب اور کہاں سے شروع ہوا از نظر استاد آیت اللہ شہید مرتضی مطہری۔۔۔ جھوٹے مصائب والی تاریخی کتب کا تعارف... (حصه اول) 🔪کتاب: روضة الشھداء 💂تالیف: ملا حسین کاشفی ملا حسین کاشفی نے یه کتاب 500 سال قبل لکھی. اس بندے کے بارے میں آج تک پته نه چل سکا که سنی تھا یا شیعه کیوں که یه سبزوار ایران میں ھوتا تو خود کو شیعه بتاتا اور جب ھرات افغانستان جاتا تو کہتا میں سنی هوں. (مفاھمتی پالیسی) ان صاحب نے ایسی اندھیاں ماری هیں که پنجاب کے بڑے بڑے ذاکر انھیں دیکھتے تو قدموں میں گر جاتے. یه ملا کاشفی وه پہلا شخص ہے جس نے: 👋 بیبی صغری (س) کو بیمار کہا اور کربلا میں لکھنے کی بجائے جھوٹ لکھا که مدینه میں تھیں. سند بھی نہیں دی کس تاریخ کی کتاب سے یه بات لی. 👋بیبی لیلا (س) مادر جناب علی اکبر (ع) کو کربلا میں موجود لکھا اور بہت رونا دھونا اور فضول باتیں ان (س) سے منسوب کیں. 👋 یه وه پہلا شخص هے جس نے شھزاده قاسم (ع) کی شادی کا جھوٹا قصه لکھا. 👋 پہلی بار جعفر جنی اور قاصد امام حسین (ع) کیلئے خط لایا جیسی جھوٹی باتیں لکھیں. 👋 اس نے اور بھی بہت جھوٹ لکھے جن سے آپ کو آگاه کرتا رهوں گا. اس کی اور بھی کتب هیں خود بھی مجلس پڑھتا تھا. 💡بتی سوال... یار ٹھیک هے! اس نے جھوٹ لکھا, بیشک ھم نے مانا لیکن اس ایک بندے کی جھوٹی بات اتنی مشھور کیسے هوئی؟؟؟ اچھا سوال هے... شھید مطھری کا جواب سنئے۔ لکھتے هیں ایران میں ذاکری کو "روضه خوانی" کہا جاتا هے آج تک... روضه خوانی نه عربوں میں تھی, نه کسی امام کے دور میں تھی, نه ھندوستان میں (شاعری کو روضه خوانی سے مخلوط مت کیجے گا الگ صنفیں هیں) روضه خوانی کی شروعات بھی اسی کتاب "روضة الشھداء" کی تالیف کے بعد شروع هوئی. روضه مطلب روضة الشھداء کتاب, خوانی مطلب پڑھنا. اس کتاب کے مصائب جو ذاکر پڑھتا اسے کہتے "روضه خوان" اور اس عمل کو روضه خوانی کہا جانے لگا. یه روضه خوانی گھومتی پھرتی چپس اور سموسے ٹھونستی ھندوستان آئی اور ذاکری کہلانے لگی اور اس طرح بھولی عوام سر و دھن کے چکر میں جھومتی جھومتی جا کر جھوٹ کے اندھیرے کنویں میں گری که جہاں سے اسے نکالنے کی بات کرو تو الٹا همیں هی جھوٹا کہتی هے. . ملتمس دعا: محمد زکی حیدری https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

علامہ حلی نے کہا جیسے نکاح نکاح نکاح کہنے سے نکاح نہیں ہوتا ویسا ہی طلاق طلاق طلاق کہنے سے طلاق نہیں ہوتی سب چپ ہوگئے علامہ حلی نے کہا بادشاہ سلامت تمہارا نکاح باقی ہے دین اسلام عزتوں کے تحفظ کے لئے ہے عزتوں کی نیلامی کے لئے نہیں بادشاہ اٹھا اور علامہ حلی کے ہاتھ چومنے لگا اور کہا علامہ صاحب اگر آج آپ نہ ہوتے تو میں ہلاک ہو گیا ہوتا علامہ حلی مسکرا کر کہنے لگے بڑے بڑے علی سے بھی کہتے رہے اگر آج علی ع نہ ہوتا تو ہم ہلاک ہو جاتے ۔ بادشاہ علامہ حلی کے قدموں میں بیٹھ گیا اور کہا تم نے آج میری عزت بچائی ہے ملک ایران کی خزانوں کی اتنی قیمت نہیں جتنی قیمتی میری عزت ہے حلی دل کر رہا ہے میں بادشاہی تاج تمہارے سر پر رکھ دوں اور تمہارے قدموں میں بیٹھ جاؤں عزت میری بہت قیمتی تھی جو تم نے بچالی علامہ حلی نے کہا اقتدار نہ ہمارے اماموں کو پسند تھا نہ ہمیں پسند ہے ہماری ڈیوٹی صرف تبلیغ کرنا ہے جو میں نے کی ہے بادشاہ سلامت اب مجھے اجازت دے دیں میں جانا چاہتا ہوں باشاہ نے کہا علامہ حلی صاحب ایسے نہیں جاؤ اپ ھمیں کلمہ پڑھاتے جاؤ علامہ نے کہا کونسا کلمہ ؟ بادشاہ نے کہا جو تم پڑھتے ہو علامہ حلی نے کہا ہم تو لا الہ الا اللہ محمد الرسول اللہ کےبعد علی ولی اللہ و وصی رسول اللہ وخلیفتہ بلافصل پرھتے ہیں بادشاہ نے کہا میں نے بھی یہ کلمہ پڑھنا ہے علامہ حلی نے کہا آپنے یہ کلمہ کیوں پڑھنا ہے ؟ بادشاہ نے کہا میں بھی اس فرقہ میں آنا چاہتا ہوں جہاں عزتوں کا تحفظ ہو بادشاہ نے کہا صرف میں ہی یہ کلمہ نہیں پڑھوں گا یہ سب ایرانی کلمہ پڑھیں گے علامہ حلی نے کہا یہ کیوں پڑھیں گے ؟ بادشاہ نےولی کہا یہ بھی سب عزت والے ہیں تب بادشاہ کے دربار میں سب نے فقہ جعفریہ میں شمولیت اختیار کرلی۔ 🔘 یہ ایک مشہور واقعہ ہے جو علامہ حلی کے مشہور مناظروں میں سے ایک ہے۔ اور یہ واقعہ علامہ حلی کا تاریخی (مشہور) مناظرہ کے نام سے یو ٹیوب اور انٹرنیٹ پر بھی موجود ہے۔ 📚 میرزا محمد علی مدرس تبریزی اپنی کتاب ریحانۃ الادب میں علامہ مجلسی سے کتاب من لا یحضرہ الفقیہ کی شرح میں اس سے ملتا جلتا واقعہ لکھتے ہیں۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

علامہ حلی نے کہا میں بھولتا ہوں مجھے لگتا ہے امام مالک نے جوتا چوری کیا تھا فقہ مالکی کا عالم دین کھڑا ہوا اور کہا بادشاہ سلامت یہ جھوٹ بولتا ہے امام مالک تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے 120 سال بعد پیدا ہوئے ہیں علامہ حلی جھوٹ بول رہا ہے علامہ حلی کہتے ہیں پھر ایک ہی رہ گیا مجھے لگتا ہے پھر احمد بن حنبل ہوگا احمد بن حنبل تھے جس نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے جوتے چوری گئے تھے فقہ احمد بن حنبل کے عالم دین اٹھے اور کہا احمد بن حنبل تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے ڈیڑھ سو سال بعد پیدا ہوئے انہوں نے کیسے جوتے چوری کر لیے ؟ بادشاہ کو یہ سن کر بہت غصہ آیا اور کہا میں نے اپنا مسئلہ حل کرنے کے لئے بلایا تھا اور تم لوگ اپنا مسئلہ لے کر بیٹھ گئے ؟ بادشاہ نے کہا حلی تم کون ہو ؟ تم تو چھوٹے بچے ہو اور وہ عالم دین اتنی بڑی عمر کے لوگ ہیں اور۔ تم ان کے سامنے ان کے اماموں کی توہین کر رہے ہو ۔ بادشاہ نے کہا ان کو چھوڑو میرے مسئلے کا حل بتاؤ جس کے لیے میں نے بلوایا تھا علامہ حلی نے کہا کون سا مسئلہ ؟ بادشاہ نے کہا طلاق والا مسئلہ جو میں نے اپنی بیوی کو غصے میں دی علامہ حلی نے کہا ویسے میں نے آپ کو بتا تو دیا ہے لیکن آپ کو سمجھ نہیں آئی بادشاہ نے کہا تم نے کیا بتایا ہے؟ علامہ حلی نے کہا تم دین محمدی اور شریعت ان سے لے رہے ہو ان سے مسئلے پوچھ رہے ہو جن میں سے کسی ایک کا بھی امام حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں موجود ہی نہیں تھا پیدا ہی نہیں ہوا تھا کوئی ستر سال کوئی اسی سال کوئی 120سال تو کوئی ڈیڑھ سال بعد پیدا ہوا ہے ان کو کیا پتا طلاق کیسے ہوتی ہے نکاح کیسے ہوتا ہے ؟ حلال کیا ہے حرام کیا ہے ان کو کیا پتا جائز کیا ہے ۔اور ناجائز کیا ہے ؟ بادشاہ سنتے ہی کھڑے ہوگئے جیسے کسی کو کانٹ لگ جاتا ہے تو پہلے علامہ حلی کو بچہ کہہ رہے تھے وہ بادشاہ اب علامہ حلی کو علامہ صاحب کہا کر بلانے لگا اور بادشاہ علامہ حلی کے پاس آئے اور ماتھا چوم کر کہا جو بات مولوی نے مناظرہ کرکے نہیں مانتے وہ تم نےجوتوں سے منوالی دربار میں موجود سب لوگوں نے کہا جس فقہ کا بچہ اتنا سمجھ دار ہو ان کے عالم کتنے سمجھدار ہوں گے بادشاہ نے پھر علامہ حلی سے مخاطب ہو کر کہا تمہاری کونسی فقہ ہے ؟ کہا فقہ جعفریہ بادشاہ۔ نے کہا آپ کے فقہ کے بانی حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے کتنے سال بعد پیدا ہوئے ؟ علامہ حلی نے کہا ان کے اماموں کے تاریخ پیدائش میں نے بتائی ان سے کہو میرے امام کی تاریخ بتائیں ! سب کے سر شرم سے جھک گئے علامہ حلی نے کہا میرا امام وہ ہے جس نے آنکھیں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھوں میں کھولی ہیں میرا تو امام وہ ہے جس کو گھٹی نبی نے اپنی زبان سے دی میرا امام وہ ہے جو کھیلا نبی کے ہاتھوں میں ہے میرا امام وہ ہے جو پیدا ہی کعبے میں ہوا ۔ بادشاہ نے دوسرے مولوی سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کیا یہ ٹھیک کہ رہا ہے ؟ مولویوں نے آگے سے کہاں ( آہو ) ٹھیک کہ رہا ہے بادشاہ نے کہا واقعی۔ اس کے امام کو گھٹی حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے دی ؟ سب نے کہا جی ہاں بادشاہ نےولی کہا اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ اس کے امام نے جو دین لیا وہ سیدھا محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے لیا سب نے کہا جی ہاں بادشاہ علامہ حلی سے پھر مخاطب ھوا اور کہا جنہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان چوس چوس کر دین حاصل کیا ان کی فقہ میں کیا غصے میں طلاق ہو جاتی ہے ؟ علامہ حلی نے کہا نہیں فقہ جعفر صادق میں غصے میں دی جانے والی طلاق طلاق نہیں ہوتی صرف کہہ دینے سے طلاق نہیں ہوتی ساتھ کھڑے دوسرے فقہ کے علما بولے آپ دلیل سے جواب دیں تمام مولوی پریشان ہوگئے اور بادشاہ کی جان میں جان آ گئی علامہ حلی نے کہا کہ چار مولوی ہیں اس لیے چار دلیل دیتا ہوں بادشاہ نے کہا تم ایک دلیل دو میرا کام ہو جائے گا علامہ حلی نے کہا بادشاہ سلامت جو شرطیں دین محمدی میں نکاح کے وقت ہیں وہی شرطیں دین محمدی میں طلاق کے وقت بھی ہیں غصے میں طلاق نہیں ہوتی اس کی پہلی دلیل جیسے غصے میں نکاح نہیں ہوتا ویسے غصے میں طلاق نہیں ہوتی ۔ دوسری دلیل جیسے نکاح بغیر عربی زبان کے نہیں ہوتا ویسے طلاق بھی عربی زبان کے بغیر نہیں ہوتی مطلب فارسی اردو پنجابی سرائیکی پشتو انگلش زبان میں طلاق نہیں ہوتی تیسری دلیل جیسے نکاح کے وقت دو عادل گواہ کا ہونا ضروری ہے ویسے ہی طلاق کے وقت بھی دو عادل گواہوں کا ہونا ضروری ہے بادشاہ سے کہا جب طلاق دے رہے تھے تو دو گواہ تھے ؟ بادشاہ نے کہا اگر دو گواہ ہوتے تو ہمیں چھڑوا نہ لیتے لڑائی کرنے سے چوتھی دلیل علامہ حلی نے کہا پوچھو ان مولویوں سے کیا نکاح نکاح نکاح کہنے سے نکاح ہوجاتا ہے ؟ سب نے کہا نہیں

اس بندے نے کہا فقہ جعفریہ کا مرکز نجف اشرف عراق ہے بادشاہ نے اس آدمی سے کہا جو چاہے لے کر نجف جاؤ اور پانچویں فقہ جعفریہ کا عالم دین لے کر آؤ ہو سکتا ہے میرے مسئلے کا کوئی حل نکل آئے وہ بندہ جب نجف پہنچا جو اس وقت شیخ نصیرالدین طوسی بچوں کو درس دے رہے تھے ایرانی قاصد نے شیخ نصیرالدین طوسی کو سلام کیا اور اس کو سب ماجرہ سنایا ہمارے بادشاہ نے ایسے بیوی غصے میں طلاق دی اور چار فقہ کے علماء نے فیصلہ سنایا ہے ہمارا بادشاہ ہمارا پورا ملک پریشان ہے پانچوں فقہ آپ ہماری رہنمائی کریں شیخ نصیر الدین طوسی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایایہ فقہ میری نہیں ہے یہ فقہ جعفر صادق کی ہے اس نے کہا آپ کے فقہ کا جو بڑا عالم دین ہے وہ آپ بھیج دیں جو آپ کی فقہ کی ترجمانی کرے شیخ نصیرالدین طوسی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے تمام شاگردوں کو دیکھا اور ان کے نظر علامہ حلی پر آکر رک گئی تاریخ میں لکھا گیا ہے کہ علامہ حلی کی عمر بہت کم تھی یہاں تک کہ ان کے داڑھی بھی نہیں آئی تھی شیخ نصیرالدین طوسی نے علامہ حلی کا اپنی طرف بلایا اور کہا آپ نے ساری بات تو سن لی ہے میرا دل کرتا ہے کہ تم ایران جاکر فقہ جعفریہ کی ترجمانی کرو ایرانی قاصد علامہ حلی کو لیکر ایرانی بادشاہ کے دربار میں آیا دربار میں اعلان ہوا پانچویں فقہ جعفریہ کا عالم دین بادشاہ کے دربار میں حاضر ہو رہے ہیں سب انتظار کر رہے تھے دربار سجایا گیا قاصد دربار میں داخل ہوا اور دروازے کے ساتھ اپنے جوتے اتار دیا سب کے جوتے وہاں پڑے ہوے تھے علامہ حلی نے جوتے اتارے اور اپنی بغل میں دبا دیے بادشاہ نے قاصد کی طرف دیکھا اور کہایہ نجف سے آیا ہے ؟ ور یہ عالم دین فقہ جعفری کی ترجمانی کرے گا سب دیکھ کر ہنسنے لگے چھوٹا بچہ ترجمانی کرے گا ؟ قاصد نے کہا جی ہاں بادشاہ پھر ان کو پانچویں کرسی دی گئی چار کرسی پر پہلے عالم دین چاروں فرقوں کے بیٹھے ہوئے تھے علامہ حلی پانچویں کرسی پر بیٹھے اور جوتے اپنی کرسی کے نیچے رکھ دیے بادشاہ نے علامہ حلی سے کہا آپ کا استاد کون ہے انھوں نے کہا شیخ نصیرالدین طوسی رحمۃ اللہ علیہ بادشاہ نے کہا آپ کو استاد نے دینی تعلیم کے علاوہ دنیاوی تعلیم نہیں دی ؟ علامہ حلی مسکرائے اور کہا آپ جوتوں کی بات کر رہے ہیں ؟ کہ میں جوتے ساتھ لے کے دربار میں آگیا اور اپنی کرسی کے نیچے رکھ دیے ؟ مجھے دروازے پر اتارنے چاہیے تھے؟ بادشاہ نے کہا ہاں بالکل صحیح بات ہے علامہ حلی نے کہا مجھے پتا ہے سب کی جوتے وہاں اترے ہوئے تھے مجھے بھی جوتے دروازے کے ساتھ اتارنا چاہیے تھے پر میں ایک مسافر آدمی ہوں کیا پتا آپ کے دربار سے میرے جوتے چوری ہو جاتے میرے پاس اور پیسے بھی نہیں تھے کہ میں جوتے خرید سکوں تو اس لیے میں نے اپنے جوتے اپنے ساتھ لے لئے بادشاہ کو یہ بات سن کر بہت پریشانی ہوئی کہ میرے دربار میں چوری ہو سکتی ہے ؟ علامہ حلی نے کہا بے شک آپ کے دربار میں جوتی چوری ہو سکتی ہے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دربار میں لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جوتے چوری کر لئے تھے چور ہر جگہ ہوتے ہیں چاروں فقہ کے علماء کرام بیٹھے ہوئے تھے انہوں نے کہا استغفراللہ علامہ حلی جھوٹ بول رہا ہے ہم نے تمام کتابیں پڑھی ہوئی ہیں ہمیں تو کسی کتاب میں نہیں ملا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے جوتے حضور کے دربار سے چوری ہوگئے تھے علامہ حلی نے جھوٹ بولا ہے اس کو سزا دی جائے بادشاہ نے کہا مجھے تو نہیں پتا نہ میرے پاس اتنا علم ہے کہ میں نے کہیں پڑھا ہوں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے جوتے چوری ہوئے تھے چاروں فقہ کے علماء نے کہا کہ ہم ضمانت دیتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جوتے چوری نہیں ہوئے تھے ہم نے ہر فرقے کی ہر کتاب پڑھی ہے کسی کتاب میں یہ روایت نہیں ملتی بادشاہ نے کہا تم کہتے ہو حضور کے جوتے چوری ہوئے تھے اور یہ کہتے ہیں کہ آج تک کوئی روایتی نہیں ملی نہ کتاب میں لکھا ہوا ہے کہ جوتے چوری ہوئے تھے علامہ حلی نے کہا کہ چور بھی کبھی چوری مانتا ہے ؟ علامہ حلی نے کہا میں چور کو بھی جانتا ہوں چور کے باپ کو بھی جانتا ہوں جس نے جوتا چوری کیا تھا سب لوگ دھنگ رہ گئے انہوں نے پوچھا بتاؤ کون تھے وہ ؟ علامہ حلی نے کہا ابوحنیفہ تھے وہ فقہ حنفی کے عالم دین کھڑے ہوئے اور کہا استغفراللہ ابوحنیفہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں پیدا ہی نہیں ہوا تھا ہمارا امام تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے ستر سال بعد پیدا ہوئے ہیں علامہ حلی نے کہا ہوسکتا ہے میں بھول گیا ہوں علامہ حلی نے پھر کہا وہ امام شافی تھے جس نے جوتے چوری کیے فقہ شافی کے عالم دین کھڑے ہوئے اور کہا امام شافعی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے 82 سال بعد پیدا ہوئے وہ بھی تب نہیں تھے

🔷 پورا ایران شیعہ کیسے ہوا؟ 🔷 ایران کا ایک بادشاہ تھا جس کا نام "خدا بندہ" تھا کچھ لوگ "محمد الجائتو " بھی کہتے ہیں ٫جو مسلمان تھا ایک دن اپنے تخت پر آکر پریشانی کی حالت میں بیٹھ گیا پریشانی کے آثار چہرے پر صاف نمودار ہو رہے تھے ان کے بہت ہی پرانے اور سینئر ترین وزیر نے پوچھا عالم پناہ اگر جان کی امان ہو تو پوچھ سکتا ہوں کہ بادشاہ سلامت پریشان کیوں ہیں ؟ بادشاہ نے پریشانی کے عالم میں جواب دیا رات محل میں میرا بیوی کے ساتھ جھگڑا ہوا ٫ اور میں نے غصے کے عالم میں تین بار اسے طلاق دے دی زبانی اسے کہا ہے طلاق طلاق طلاق اب صبح اٹھنے کے بعد مجھے احساس ہوا غلطی میری تھی شاہی خون تھا جوش میں آ گیا اب پریشان اس لئے ہوں کے دین محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں شریعت محمدی میں بیوی مجھ پر حلال ہے یا حرام ؟ بادشاہ کی یہ بات سن کر اس کا وزیر بھی بہت پریشان ہوا اس نے کہا بادشاہ سلامت اگر یہ مسئلہ سیاسی یا دنیاوی ہوتا تو میں آپ کی مدد کر سکتا تھا کیونکہ یہ مسئلہ شرعی ہے تو علماء سے رجوع کرنا پڑے گا بادشاہ نے کہا پھر علماء کرام کو جمع کرو وزیر نے چار علماء بلائیں اور بادشاہ سے کہا بادشاہ سلامت ہمارے ملک میں سب سے بڑے چار علماء ہیں پہلے کرسی پر فقہ حنفیہ کا سب سے بڑا عالم دین بٹھایا دوسری کرسی پر فقہ مالکی کا سب سے بڑا عالم دین بٹھایا تیسری کرسی پر فقہ شافعی کا سب سے بڑا عالم دین بیٹھا تھا چوتھی کرسی پر فقہ حنبلی " امام احمد بن حببل " کا سب سے بڑا عالم دین تھا وزیر نے کہا بادشاہ سلامت ان کے سامنے مسئلہ پیش کیا جائے اور یہ عالم دین آپ کو اس کا حل بتائیں گے تمام درباری دربار میں بیٹھ کر سن رہے تھے بادشاہ نے علماء کرام سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا رات میرا بیوی سے جھگڑا ہوا اور میں نے غصے کی حالت میں طلاق طلاق طلاق کہہ دیا آپ کو اس لئے بلایا ہے کہ شریعت کے لحاظ سے بتائیں کیا طلاق ہو چکی ہے یا نہیں ؟ چاروں علماءکرام متفقہ فیصلہ دیا بادشاہ سلامت آپ کی طلاق ہو چکی ہے اور آپ کی بیوی آپ پر حرام ہے بادشاہ سلامت نے کہا اگر میں رجوع کرنا چاہوں تو٫ دوبارہ میری بیوی٫ میری زوجیت میں آ سکتی ہے ؟ انہوں نے کہا ہر مسئلے کا حل دین مصطفی ص میں موجود ہے بادشاہ نے کہاں بتایا جائے کیا حل ہے دربار میں بیٹھے تمام لوگ سن رہے تھے علمائے کرام نے کہا اگرآپ دوبارہ اپنی بیوی کو اپنے زوجیت میں لانا چاہتے ہیں تو اپنے خاندان میں اپنے دوستوں میں ایک ایسا شخص تلاش کریں جس پر آپ کو سو فیصد یقین ہو جو کل اپنی بات سے مکرے نہ بادشاہ نے کہا بہت ہیں علمائے کرام نے کہا آپ کی بیوی کا نکاح آپ کے اس دوست سے کر دیا جائے گا کچھ عرصہ وہ اس کی زوجیت میں رہے گی پھر اس کے بعد وہ طلاق دے دے گا پھر وہ اپنی عدت پوری کرے گی اور اس کے بعد پھر آپ اس سے رجوع (نکاح ) کر سکتے ہیں یہ سنتے ہی بادشاہ کا سر کا پسینہ پاؤں سے نکل گیا اس نے کہا کیا یہ نبی پاک کی شریعت ہے ؟ علماء نے کہا جی ہاں بادشاہ بادشاہ نے کہا دین اسلام میں تو عزتوں کا تحفظ ہے عزتوں کی پامالی کا نام دین نہیں ہے میری غیرت گوارہ نہیں کرتی میری بیوی کسی اور کے نکاح میں رہے بادشاہ نے کہا دین فطرت ہے جرم چھوٹا ہے میرا سزا بہت بڑی ہے بادشاہ ان کی باتیں سن کر بہت پریشان ہوا بادشاہ نے وزیر سے کہا ان کے علاوہ کوئی اور عالم دین نہیں ہے وزیر نے کہا نہیں بادشاہ یہ چار فرقوں کے سب سے معتبر علماء کرام میں ڈھونڈ کر لایا ہوں باقی سب ان سے چھوٹے مولوی ہیں بادشاہ کے دربار میں بیٹھا ایکہ آدمی بولا بادشاہ سلامت اگر مجھے بولنے کی اجازت دی جائے تو میں بات کرنا چاہتا ہوں آپ کا وزیر جھوٹ بول رہا ہے بادشاہ نے اس کی بات سن کر کہا کھڑے ہو کر جو بھی بات کرنی ہے کرو اس نے کہا بادشاہ سلامت فقہ پانچ ہیں اور آپ کا وزیر چار فقہ کی علماء کو لے کے آیا ہے اس نے کہا کہ چار فقوں کی نمائندگی ہے پانچویں فقہ کے عالم دین کو نہیں بلایا گیا بادشاہ کو تھوڑی سی امید پیدا ہوئی ہے اور اس نے کہا پانچویں فقہ بھی ہے ؟ اس نے کہا جی ہاں بادشاہ فقہ حنفی ٫ فقہ مالکی ٫ فقہ شافعی ٫ فقہ حنبلی کے علماء تو موجود تھے آپ کے وزیر نے فقہ جعفریہ کے عالم دین کو نہیں بلایا بادشاہ نے اپنے وزیر خاص سے کہا تم نے فقہ جعفریہ کے عالم دین کو کیوں نہیں بلایا ؟ وزیر نے جواب دیا بادشاہ سلامت میں جانتا ہوں فقہ جعفریہ پانچ فقہ ہے پر ہمارے ملک میں فقہ جعفریہ کا کوئی عالم دین ہی نہیں ہے بادشاہ اس بندے سے مخاطب ہو کر کہا تم بتاؤ اس وقت فقہ جعفریہ کا علم دین کہاں مل سکتا ہے

(14726) 14783- حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَا عِنْدَ مَوْتِهِ بِصَحِيفَةٍ لِيَكْتُبَ فِيهَا كِتَابًا لاَ يَضِلُّونَ بَعْدَهُ ، قَالَ : فَخَالَفَ عَلَيْهَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ حَتَّى رَفَضَهَا : حوالہ کتاب بمعہ کتاب کے صفہہ پک کے کمنٹ میں موجود ھے ۔ اور پھر بھی اگر شیعہ کو رافضی کہا جائے : تو دنیا جان لے ۔ کہ ھم بخوشی اس بات کا ببانگ دھل اعلان و اقرار کرتے ھیں ۔ ۔۔ کہ ھاں ، ھم رافضی (انکار کرنیوالے) ھیں ۔ 1- پاک پروردگار کے علاوہ سب جھوٹے خدائوں ، لات و منات و ھبل و عزی کا انکار کرتے ھیں ۔ 2- پیغمبر اکرم (ص) کے علاوہ ھر جھوٹے نبی بشمول قادیانی مرزا کو ریجیکٹ کرتے ھیں ۔ 3- اور رسالت مآب (ص) کے وصی ، جانشین ، وزیر ، نائب و خلیفہ مولائے کائنات علی ابن ابی طالب (ع) اور انکی اولاد طاھرہ آئمہ معصومین علیہم السلام (اثناعشر) کے مقابلے پہ آنیوالے ھر خود ساختہ فرد اور بیبی پاک خاتون جنت (ص) کے دشمنوں ، خائنوں ، بددیانتوں اور ظالموں کے ایک ایک فرد کا ببانگ دھل انکار و بطلان بھی کرتے ھیں اور ان پر لعنت بھی بھیجتے ھیں ۔ اسلیئے ھم رافضی (انکاری) بھی ھیں ۔ و سیعلمو الزین ظلمو ای منقلبون ینقلبون ۔ پوسٹ پسند آئے ۔ تو آپکے قیمتی کمنٹ کا انتظار رھیگا ۔ جزاک اللہ خیر ۔۔۔۔۔۔۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

عمّار نے کہا : "نہیں ! ایسا نہیں ھے !! جو تم خیال کر رھے ھو ۔ بلکہ میرا رونا اپنے اور تمہارے لیئے تھا ۔ اپنے لیئے اسوجہ سے کہ تم نے مجھے ایک بلند مقام و منزلت کی طرف نسبت دی ۔ جبکہ میں اپنے آپکو اس مقام کے لائق نہیں سمجھتا ھوں ! تم نے مجھے رافضی کہا ۔ حالانکہ امام صادق (ع) فرماتے ھیں : پہلی مرتبہ اس نام سے فرعون کے ان جادوگروں کو پکارا گیا ۔ جو حضرت موسیٰ (ع) کی حقانیت کو دیکھ کر فرعون اور اسکے حکم سے روگردانی کرتے ھوئے حضرت موسیٰ (ع) کی جماعت میں شامل ھو گئے تھے ۔ اور اس راہ میں انہوں نے ھر قسم کے آزار و اذیت کو خندہ پیشانی سے قبول کیا ۔ اس موقع پر فرعون نے انہیں رافضی کہا تھا ۔ پس رافضی وہ شخص ھے ۔ جو ھر اس چیز سے منہ موڑ لے ۔ جو خدا کی بارگاہ میں نا پسند ھو ۔ اور تمہارے لیئے میں اسلیئے رو رہا تھا ۔ کہ تم نے کیسے یہ جرأت کی کہ ایک اچھے نام کو برا جانا اور تم خوفزدہ نہ ھوئے ۔ کہ بروز قیامت اس عظیم جرم کے حوالے سے خدا کے سامنے کیا جواب دو گے ?? ۔۔۔۔ حضرت امام صادقؑ نے جب یہ واقعہ سنا تو فرمایا : "اگر عمّار نے آسمان اور زمین سے بھی بڑا کوئی گناہ انجام دیا ھو ۔ تب بھی انکے ان جملوں سے انکے سارے گناہ محو ھو جائیں گے ۔ اور یہ کام انکے نیک اعمال اور حسنات میں یوں اضافہ کرے گا ۔ جیسے رائی برابر چیز کو دنیا سے ھزار گنا بڑا کر دیا جائے ۔" بعد میں اس لفظ کا استعمال اھلسنت اُن شیعہ افراد کیلیئے کرنے لگے ۔ جو خلفاء ثلاثہ کو بغض اھلبیت (ع) اور انکے عناد و دشمنی کیوجہ سے تبراء کرتے تھے ، چنانچہ محدثین کے زمانہ میں اس لفظ کا استعمال ایسے ھی لوگوں کیلیئے کیا جاتا تھا ۔ ماہرین اسماء الرجال اور محدثین اہل سنت نے تصریح کی ھے ۔ کہ رافضیوں کی روایت کردہ حدیثیں مردود ھیں ، قابل قبول نہیں ۔ جبکہ شیعہ کی روایات قبول کرنے میں حرج نہیں ۔ شاید یہی وجہ ھے ۔ کہ اہلسنت کتب حدیث اور کتب تاریخ شیعہ روایات سے معمور ھیں ، لیکن حیرت بالائے حیرت یہ ھے ۔ کہ رافضیوں کی روایات کو مردود کہنے کے باوجود سنی محدثین نے انکی روایات کو لیا ھے ، قبول بھی کیا ھے ، اپنی کتابوں میں درج بھی کیا ھے ۔ اور ان سے مسائل و احکام کا استنباط بھی کیا ھے ۔ حتی کہ بخاری و مسلم میں بھی رافضی راویوں کی حدیثیں موجود ھیں ۔ اگر کتب حدیث و تاریخ اہلسنت سے شیعہ و روافض کی روایات نکال دی جائیں ۔ تو بلا مبالغہ یہ بھاری بھر کم کتابیں بغدادی قاعدے جتنی رہ جائیں ۔ بلکہ بعض تو نورانی قاعدہ جتنی ھو جائیں ۔ آجکل تمام شیعہ کو بطور اہانت و گالی کے رافضی کہا جانے لگا ھے ، لیکن رافضی کا لفظ اپنے معنی اور اصل تاریخ کے اعتبار سے بُرا نہیں ھے ۔ خود معاویہ نے یہ لفظ اپنے حامیوں کے لیئے استعمال کیا ۔ کیونکہ وہ حضرت امام علی (ع) کو ترک کر چکے تھے ۔ اسی طرح معاویہ نے یہ لفظ اپنے ایک خط میں امام علی (ع) کے حامیوں کے لیئے بھی استعمال کیا ۔ کیونکہ وہ معاویہ کو ترک کر چکے تھے ، اس سے یہ معلوم کیا جاسکتا ھے ۔ کہ کسی لیڈر کی اطاعت ترک کرنے والے کو رافضی کہا جاتا ھے ۔ 🌒 ماحصل : (سب گفتگو کا خلاصہ) اصل اور اوریجنل رافضی کون ۔۔۔۔۔ مندرجہ گفتگو کا ماحصل یہ ھے کہ رافضی لفظ آپ نے زندگی میں بہت سنا غوگا ۔ غیر شیعہ حضرات لوگ یہ لفظ خاص طور پر شیعوں کو رافضی کہتے ھوئے استعمال کرتے ھیں ۔ اور رفض کا معنی انکار ھے ۔ اور رافضی انکار کرنیوالے کو کہتے ھیں ۔۔۔۔ اسی وجہ سے مخالف لوگ یہ غلط دعوی کرتے ھیں ۔ اور مکتب تشیع پر بہتان لگاتے ھیں ۔ کہ شیعہ صحابہ وغیرہ کا انکار کرنے والے ھیں ! جبکہ ثبوت ایک بھی نہیں !! کیونکہ ھمارے نزدیک معیار صحابیت قرآن و احادیث کیمطابق ھے ۔ ھم پاک و وفادار و جاں نثار و حبداران اھلبیت (ع) صحابہ کرام پہ انگشت نمائی کرنیوالے پر بھی لعنت بھیجتے ھیں ۔اور دشمن علی (ع) و بتول (ص) و اھلبیت (ع) کو سورہ منافقین کا مصداق اور لعنت کا حقدار سمجھتے ھیں ۔ جبکہ ھمارے پاس تو بخاری سے لیکر ھر کتاب کا ثبوت بھی موجود ھے ۔ کہ کون کون دشمن محمد و آل محمد (ع) ھے ۔ اور کس کس نے اھلبیت (ع) پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے ۔ اور مکتب تسنن کی کتب معتبرہ گواہ ھیں ۔ کہ سنت نبوی (ص) کو صحابہ بالخصوص ام المومنین عائشہ نے بدل ڈالا ۔۔۔ بہرحال اس کو رھنے دیں ، آتے ھیں ۔ اصل مطلب پر۔۔۔۔۔۔۔۔ 💓 آپ حیران ھونگے کہ اصل رافضی تو خود حضرت عمر ھیں ۔ جنہوں نے نبی پاک (ص) کو کاغذ قلم دینے کی شدید مخالفت کی تھی ۔ اور رافضی بن گیا تھا ۔ سنی کتاب کا حوالہ ھی پیش ھے ۔ ملاحظہ ھو : (فَخَالَفَ عَلَيْهَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ حَتَّى رَفَضَهَا) ۔۔۔۔ حَتَّى رَفَضَهَا ۔۔۔۔۔ حَتَّى رَفَضَهَا ۔۔۔۔۔۔ حَتَّى رَفَضَهَا ۔۔۔۔۔ دیکھیئے لفظ کو * رفضھا * کو یہاں امام احمد بن حنبل کی کتاب مسند احمد میں ۔۔۔ حدیث صحیح لغیرہ ھے ۔۔۔۔ مسند أحمد (3/ 346)

🔷 رافضی کون ..... ?? 🔷 💓 شیعہ کو رافضی کہنے والوں کو منہ توڑ جواب !! 💓 ھاں ۔۔۔۔۔ ھم رافضی ھیں ۔ رافضی عربی زبان کا ایک طنز آمیز لفظ ھے ۔ جو زيد بن على بن الحسين (ع) کو اکیلا چھوڑ کر انکے لشکر سے الگ ھونے والوں کیلئے بولا جاتا تھا ۔ بعض اھلسنت بطور طنز سارے اھل تشیع کو رافضى ھی کہتے ھیں ۔ کیونکہ انکا عقیدہ ھے ۔ کہ شیعہ خلفائے ثلاثہ کی خلافت کو نہیں مانتے ۔ اور انہیں ترک کرتے ھیں ۔ مگر الحمدوللہ شیعہ ، بعض احادیث کی روشنی میں مذکورہ معنی میں "رفض" کو اپنے لیئے باعث فخر سمجھتے ھیں ۔۔۔۔۔ ❤️ لغوی اور اصطلاحی معنی : رافضی مادہ ( "ر ـ ف ـ ض" سے یاء نسبتی کے ھمراہ) اسم فاعل کا صیغہ ھے ۔ جسکے معنی اس شخص یا گروہ کے ھیں ۔ جنہوں نے اپنے لیڈر یا رھبر کو تنہا چھوڑ دیا ھو ۔ اسکی جمع "روافض" ھے ۔ 🌒 ابوالحسن اشعری (متوفی330ھ) ، مکتب امامیہ کو رافضی سے تعبیر کرتے ھوئے انہیں شیعوں کا ایک فرقہ قرار دیتے ھیں ۔ اور انہیں رافضی کہنے کیوجہ کے بارے میں کہتے ھیں ۔ کہ انہوں نے ابوبکر اور عمر کی خلافت کو قبول نہیں کیا ۔ اور ان سے منہ موڑ لیا اس لیئے انہیں رافضی کہا جاتا ھے ۔ 🌒 امام شافعی کا رافضیوں کی شان میں کہے گئے اشعار : ان كان رفضاً حب آل محمد ، فلیشهد الثقلان انی رافضی ۔ ترجمہ : اگر آل محمد (ع) کی محبت رفض ھے ۔ تو جن و انس گواہ رہنا میں رافضی ھوں ۔ (دیوان شافعی صفحہ 55) آیت اللہ جعفر سبحانی کے نزدیک رافضی ایک سیاسی اصطلاح ھے ۔ جسکا اطلاق حکومت وقت کے مخالفین پر ھوتا ھے ۔ اور شیعہ رسول خدا ؐ (ص) کے بعد برسر اقتدار آنے والے خلفاء کی خلافت کو قبول نہیں کرتے تھے ۔ اسلیئے انہیں یہ نام دیا گیا ۔ ❤️ تاریخی پس منظر : بعض ماہرین لغت کے مطابق "رافضی" شیعوں کے ایک گروہ کا لقب تھا ۔ انہوں نے اپنے لیڈر یعنی امام زید بن علی بن حسین بن علی بن ابی طالب (ع) سے منہ موڑ لیا تھا ۔ چونکہ وہ انہیں صحابہ خاص کر شیخین پر لعن طعن سے منع کرتے تھے ۔ یہ لقب بعد میں صحابہ پر لعن طعن کو جائز سمجھنے والوں کیلئے استعمال کیا جانے لگا ۔۔۔۔ 🌒 اس واقعے پر کچھ اعتراضات وارد کیئے گئے ھیں ؛ جو یہ ھیں : یہ لفظ امام زید بن علی (ع) سے پہلے رائج تھا : ۔۔۔۔ معاویہ کے دور میں : معاویہ نے عمروبن عاص کے نام ایک خط میں مروان کے ھمراہ حضرت علی بن ابی طالب (ع) کے مخالفین کو بصرہ کے رافضی کے نام سے یاد کیا ھے ۔ اس سے معلوم ھوتا ھے ۔ کہ کسی بھی حکومت ، چاھے وہ حق ھو یا باطل ، کی مخالفت کرنے والوں کو رافضی کہا جاتا ھے ۔ دوسری طرف سے جب معاویہ نے اپنے حامیوں کو اس لقب سے یاد کیا ھے تو اس سے معلوم ہوتا ھے ۔ کہ اسوقت یہ لفظ منفی معنی میں استعمال نہیں ھوتا تھا ۔ ۔۔۔۔ ابن اعثم نے معاویہ کے عمروبن عاص کے نام ایک خط کو نقل کیا ھے ۔ جسمیں معاویہ حضرت علی بن ابی طالب (ع) کے حامیوں کو بصرہ کے رافضی کہہ کر مخاطب کرتا ھے ۔ ۔۔۔۔ امام محمد باقر (ع) کے زمانے میں : احمد بن محمد بن خالد برقی اپنی کتاب المحاسن میں دو حدیثیں نقل کرتے ھیں : جنکے مطابق قیام امام زید سے پہلے امام باقرؑ (ع) کے دور میں بھی یہ لفظ رائج تھا ۔ ابو الجارود کہتے ھیں : ایک شخص نے امام باقر (ع) سے عرض کیا : یا ابن رسول اللہ (ص) ! لوگ ھم (شیعوں) کو "رافضی" کہتے ھیں ۔ امام نے اپنے سینہ اطہر کی طرف اشارہ کرتے ھوئے فرمایا : میں بھی رافضی ھوں ۔ اسکو تین دفعہ تکرار فرمایا ۔ ابو بصیر کہتے ھیں : امام باقر (ع) سے میں نے عرض کیا : میں آپ پر قربان جاؤں ۔ ھم شیعوں کا ایک نام رکھا گیا ھے ۔ جسکے بہانے حکومتی کارندے ھمارے جان و مال پر ظلم و ستم کو روا سمجھتے ھیں ۔ امام (ع) نے فرمایا : وہ نام کیا ھے ?? میں نے عرض کیا : رافضی ۔ امامؑ نے فرمایا : فرعون کے لشکر سے 70 لوگوں نے اسے رفض (یعنی چھوڑ) کر حضرت موسیؑ کا ساتھ دیا تھا ۔ اور یہ لوگ دوسروں سے زیادہ اپنے دین پر قائم تھے ۔ اور سب سے زیادہ ہارون (ع) سے محبت کرتے تھے ۔ اس وقت حضرت موسیؑ نے انہیں رافضی کا لقب دیا ۔ خدا کیطرف سے حضرت موسیٰ (ع) پر وحی نازل ھوئی ۔ کہ یہ نام تورات میں ان لوگوں کیلئے ثبت کرو ۔ کیونکہ مینے ان کیلئے یہ نام انتخاب کیا ھے ۔ اسکے بعد امام (ع) نے فرمایا : خدا نے یہ نام تم (شیعوں) کیلئے بھی انتخاب کیا ھے ۔ شیعہ احادیث میں اس لفظ کا استعمال : امام جعفر صادق (ع) کو خبر دی گئی ۔ کہ عمّار دہنی نے ایکدن ابن ابی لیلی کوفہ کے قاضی کے روبرو گواھی دی ، اس موقع پر قاضی نے اس سے کہا : "اے عمّار ! ھم تمہیں جانتے ھیں ۔ کہ تم رافضی ھو ، اس بنا پر تمہاری گواھی قابل قبول نہیں ھے ، یہاں سے چلے جاؤ ۔" عمار کھڑے ھو گئے ۔ اس حالت میں کہ انکا بدن کانپ رہا تھا اور وہ رو رھے تھے ۔ ۔۔۔۔ ابن ابی لیلیٰ نے کہا : "اے عمّار ! تم ایک دانشمند آدمی ھو ۔ اگر اس نام سے راضی نہیں ھو ۔ تو اس مذہب کو چھوڑ دو ۔ اس صورت میں تم ھمارے بھائی بن جاؤ گے ۔"

🔷 18 جیٹھ یا 10 ہاڑ۔۔۔ یوم عاشورہ؟ 🔷 بکرمی تقویم ایک شمسی تقویم ہے جو برصغیر پاکستان اور ہندوستان میں صدیوں سے رائج ہے۔ بکرمی کلینڈر جو راجہ بکرم اجیت کے دور سے شروع ہوتا ہے، اس کو دیسی سال یا جنتری بھی کہتے ہیں۔ اس شمسی تقویم میں سال ویساکھ کے مہینے سے اور قمری تقویم میں سال چیت کے ماہ سے شروع ہوتا ہے۔ تین سو پینسٹھ (365) دنوں کے اس کلینڈر کے نو مہینے تیس (30) تیس دن کے ہوتے ہیں اور ایک مہینہ وساکھ اکتیس (31) دن کا ہوتا ہے اور دو مہینے جیٹھ اور ہاڑ بتیس (32) بتیس دن کے ہوتے ہیں۔ پاکستان کے کچھ حصوں میں 18 جیٹھ کو یوم عاشور کے طور پر منایا جاتا ھے جبکہ کچھ حصوں میں 10 ہاڑ کے دن کو بطور روز عاشور منایا جاتا ھے۔ 💥 واضح رہے کہ محاسباتی کیلنڈز کے مطابق 10 محرم سنہ 61 ہجری کی تاریخ عیسوی اعتبار سے 13 اکتوبر سنہ 680ء بنتی ہے اور اسی اعتبار سے بکرمی اور دیسی کیلنڈر میں 27 اسوج کی تاریخ بنتی ہے۔ 🤔 اب سوال یہ ہے کہ 27 اسوج کی بجائے 18 جیٹھ کو 10 محرم کی مناسبت سے کیوں منایا جاتا ہے؟ کچھ محققین نے جیٹھ یا ہاڑ کی تاریخوں میں عزاداری پر تحقیق کی ھے۔۔ ان کے مطابق 18 جیٹھ کو یوم عاشور کے طور پر منانے کا سلسلہ کوئی 250 سال قبل نارووال سے شروع ہوا۔ جبکہ 10 ہاڑ کی عزاداری کوئی ڈیڑھ سو سال پہلے شمالی علاقوں میں شروع کی گئی۔ دونوں تاریخوں کا پس منظر یہ ھے کہ ان ایام میں ان علاقوں میں گندم کی کٹائی اور فروخت کا عمل مکمل ہوتا ھے۔ زمیندار حضرات کے پاس پیسے آتے تھے اور وہ ان سے عزاداری کرواتے تھے۔ شمالی علاقوں میں سردی دیر سے ختم ہوتی ھے اس لئے انہوں نے پنجاب سے 22 دن بعد کی تاریخ کا انتخاب کیا۔ کوئی ایک صدی تک تو 18 جیٹھ نارووال تک محدود رھی۔ اس کے بعد قلعہ ستار شاہ کے سادات نے بھی اس دن عزاداری کا اہتمام شروع کیا۔ آجکل بہت سے شہروں میں 18 جیٹھ کو یوم عاشور کے طور پر منایا جاتا ھے۔ عزاداری کی فضیلت بہت زیادہ ھے۔ اس میں کوئی دو آراء نہیں۔ جب کسی کا دل گریہ و ماتمداری کیلئے آمادہ ہو، عزاداری کر لینی چاہیئے اور اس پر کسی کو کوئی اعتراض نہیں کرنا چاہیئے۔ مگر مذہب تشیع میں اصل اہمیت قمری تقویم کی ھے۔ یعنی اسلامی کیلنڈر کے مطابق خوشی اور غمی کے ایام منائے جاتے ہیں اور یہی سیرت اہلبیت اطہار علیھم السلام ھے۔ چونکہ اسلامی کیلنڈر میں سال 355 دنوں کا ہوتا ھے یعنی شمسی کیلنڈر سے 10 دن چھوٹا ہوتا ھے اس لئے اسلامی کیلنڈر میں تاریخیں کسی فکسڈ شمسی تاریخ پر نہیں آتیں۔ اب مشکل اس وقت پیش آتی ھے جب اسلامی کیلنڈر کے مطابق کوئی خوشی کا دن 18 جیٹھ یا 10 ہاڑ کو آجاتا ھے۔ مثلاً 1444 ہجری میں 11 ذیقعدہ ، جو کہ مولا والی خراسان علیہ السلام کا یومِ ولادت باسعادت ھے، وہ 18 جیٹھ کو ہے۔ ایسی صورت میں ہمیں اسلامی کیلنڈر کو ترجیح دینی چاہیئے کیونکہ یہ سنت آئمہ طاہرین علیھم السلام ھے۔ دعا فرمائیں کہ مولا امام زمانہ عج کا ظہور جلدی سے پہلے ہو جائے اور پاک خاندان صلواۃ اللہ علیہم اجمعین کے گھروں میں حقیقی ابدی دائمی اور لامتناہی خوشیوں کی بہار آ جائے۔ اللھم عجل لولیک الفرج اللھم عجل لولیک الفرج اللھم عجل لولیک الفرج اللھم عجل لولیک الفرج اللھم عجل لولیک الفرج اللھم عجل لولیک الفرج 🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی معلومات کے لیے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🔴 سرِمبارک امام حسینؑ کا محل دفن 🛑 امام حسینؑ کا سرِ مبارک کہاں دفن ہے؟ شیعہ اور سنی مصادر میں مختلف روایات بیان کی گئی ہیں یہاں تک کہ اس بارے میں چھ اقوال بیان کیے گئے ہیں. ■پہلا قول: سرمبارک، بدن مبارک کے ساتھ دفن ہے. یہ شیعہ اور اھل سنت کا مشترک نظریہ ہے شیعہ علماء جیسے شیخ صدوق، سید مرتضٰی، فتال نیشاپوری، ابن نما حلی، سید بن طاؤس شیخ بہائی اور علامہ مجلسی نے اسی نظریہ کو اختیار کیا ہے. شیخ صدوق اور ان کے بعد فتال نیشاپوری اس بارے میں لکھتے ہیں: علی بن حسین اھلبیت کے ساتھ شام سے نکلے اور امام حسینؑ کے سرمبارک کو کربلا واپس لائے. [1] سید مرتضی اس بارے میں کہتےہیں: روایت نقل کرتے ہیں کہ امام حسینؑ کا سرمبارک ان کے جسد اطہر کے ساتھ دفن کیا گیا. [2] ابن شھر آشوب سید مرتضٰی کے اس قول کو نقل کرنے کے بعد شیخ طوسی کی زبانی نقل کرتے ہیں کہ اسی وجہ سے (یعنی سرمبارک کا جسد اطہر سے ملحق اور دفن کرنا) معصومینؑ کی طرف سے زیارت اربعین کی وصیت کی گئی ہے.[3] ابن نما حلی نے بھی لکھا ہے: وہ قول جس پر اعتماد کیا جا سکتا ہے وہ یہ ہے کہ شھروں میں امام کے سرمبارک کو پھرانے کے بعد جسد اطہر کی طرف پلٹایا گیا اور جسد کے ساتھ دفن ہوا.[4] سید بن طاؤس نے لکھا ہے: روایت نقل ہوئی ہے کہ سرمبارک جسد اطہر کی طرف پلٹایا گیا اور کربلا میں جسد اطہر کے ساتھ دفن کیا گیا اور علماء کا طرز عمل اسی تناظر میں رہا ہے.[5] علامہ مجلسی چہلم کے دن کی زیارت کے مستحب ہونے کی ایک دلیل یہ دیتے ہیں کہ اسی دن سروں کو علیؑ بن حسینؑ کے توسط سے اجساد مطہرہ کی طرف پلٹایا گیا.[6] ابوریحان بیرونی اس بارے میں لکھتا ہے: بیس صفر کے دن سر مبارک کو جسد اطہر کے ساتھ ملحق اور اس کے ساتھ دفن کیا گیا.[7] قزوینی بھی کہتا ہے: ماہ صفر کا پہلا دن بنی امیہ کے لیے عید کا دن ہے کیونکہ اسی دن امام حسینؑ کے سرمبارک کو دمشق لایا گیا اور اسی مہینے کی بیس تاریخ کو اجساد مطہرہ کی طرف پلٹایا گیا.[8] ■دوسرا قول: امیرالمؤمنین علیہ السلام کی قبرمطہر کےساتھ دفن ہے. [9] ■تیسرا قول: فرات کے کنارے مسجد رقہ میں. ■چوتھا قول: جنت البقیع میں ان کی والدہ ماجدہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیھا کے ساتھ. ■پانچواں قول: دمشق میں. ■چھٹا قول: قاھرہ (مصر). [10] 💥 ان اقوال اور نظریات کی تحقیق اور ان میں توجہ کرنے سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ پہلا نظریہ یعنی سرمبارک کا بدن مطہر کے ساتھ ملحق ہونا مشہور اور قابل اعتماد نظریہ ہے اور شیعہ علماء کا عمل بھی اسی کا آئینہ دار ہے اس اعتبار سے یہ نظریہ قابل قبول ہے اور تاریخی روایات کی روشنی میں سرمبارک کو 20 صفر سن 61 ھجری کو پلٹایا گیا، کیونکہ یہ الحاق، اھل بیت کا اسیری کے بعد کربلا واپس آنے سے جدا مسئلہ نہیں ہے کیونکہ مشہور قول کی بنا پر یہ کام امام علی بن الحسین علیھماالسلام کے توسط سے انجام پایا ہے.[11] اور کوئی تاریخی روایت ثابت نہیں کرتی کہ امام سجاد علیہ السلام اس موقع کے علاوہ کبھی کربلا آئے ہوں لہذا اھل بیت کا اسیری کے بعد کربلا آنا بھی چہلم کے دن ہونا چاہیے. 📚 حوالہ جات 1۔ شیخ صدوق، الامالی، مجلس 31، ص232؛ فتال نیشاپوری، روضۃ الواعظین، ص192؛ مجلسی، بحارالانوار، ج45، ص140 2۔ رسائل المرتضی، ج3، ص130 3۔ مناقب آل ابی طالب، ج4، ص85؛ مجلسی، بحارالانوار، ج44، ص199؛ "قال الطوسی: ومنہ زیارۃ الاربعین." 4۔ نجم الدین محمد بن جعفر بن نما حلی، مثیرالاحزان، ص85 5۔ سید ابن طاؤس، اللھوف، ص:114 6۔ مجلسی، بحارالانوار، ج98، ص334 7۔ الآثارالباقیۃ عن القرون الخالیۃ، ص331 8۔ زکریا محمد بن محمود قزوینی، عجائب المخلوقات والحیوانات و غرائب الموجودات، ص45 9۔ ابن قولویہ، کامل الزیارات، ص84؛ کلینی، الکافی، ج:4، ص571.572؛ ابوجعفرمحمد بن حسن طوسی، تھذیب الاحکام، ج:6، ص35؛ ابن شھرآشوب، روضۃالواعظین، ج:4، ص85 10۔ سبط ابن جوزی، تذکرۃالخواص، ص265. 266؛ سید محسن امین عاملی، اعیان الشیعہ، ج:1، ص626؛ و ھمو، لواعج الاشجان، ص:247؛ محمد امین امینی، وہی، ج:6، ص321 .337. قاضی طباطبایی نے اس موضوع کے بارے میں بیان کیے گئے تمام اقوال کی جانچ پڑتال اور تحلیل کے بعد پہلے نظریے کا دفاع کیا ہے سرمبارک جسد اطہر کے ساتھ دفن ہے. ر۔ک: تحقیق دربارہ اول اربعین حضرت سید الشہدا علیہ السلام، ص303 کیبعد. 11۔ مجلسی، بحارالانوار، ج:45، ص145 اور جلاءالعیون، ص:407 https://t.me/islamwitheman 👈 مزید تفصیل کے لیے 👇👇👇 https://www.facebook.com/share/p/jbzgSR7hrUdKDkTb/?mibextid=oFDknk ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

بعض اہل تاریخ کاخیال ہے کہ آں جناب کا سرمقدس پہلا سر ہےجسے نوک سناں پر بلند کر کے پھرایا گیا مگر صحیح یہ ہے کہ سب سے پہلے جناب عمرو بن الحمق خزاعی کےساتھ یہ سلوک کیا گیا.[16] جوکہ جناب امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کے مخلص صحابی تھے اور معاویہ لع نے انہیں شہید کرایا تھا. 📚 حوالہ جات: [1]: محمد بن حبان بن احمد ابی حاتم تمیمی بستی، الثقات، ج:2، ص:312. یزید بن معاویہ کے مدخل کے ذیل میں. [2]: الامالی، مجلس31، ح:3، ص:230. [3]: مقتل الحسین، ج:2، ص:68. [4]: الاخبارالطوال، ص:260؛ الکامل فی التاریخ، تحقیق مکتب التراث، بیروت، داراحیاءالتراث العربی، 1408ق؛ ج:2، ص:576 اور تذکرۃالخواص، ص:260.263. [5]: الاقبال، ج:3، ص:89. [6]: اللھوف، ص:99. [7]: کتاب الفتوح، ج:5، ص:127تا129؛ مقتل الحسین، ج:2، ص:62. [8]: الارشاد، ج:2، ص:118؛ اعلام الوری، ج:1، ص:473. اور مجلسی، بحارالانوار، ج45، ص:130. [9]: ابوریحان محمد بن احمد بیرونی خوارزمی، الآثارالباقیۃ عن القرون الخالیۃ، ص:331. [10]: زکریا محمد بن محمود قزوینی، عجائب المخلوقات و غرائب الموجودات، ص:45. [11]: مصاح کفعمی، ص:510. [12]: عماد الدین حسن بن علی طبری، کامل بہائی، ج2:، ص:293. 13۔ نفس المہموم ص220، ملہوف ص150، مقتل الحسین للمقرم ص398، عاشربحارص221، لواعج الاشجان ص179 وغیرہ 14۔ نفس المہموم ص21۔ 15۔ لواعج الاشجانص170۔ 16۔ کامل ابن اثیر جلد3 ص398۔ https://t.me/islamwitheman 👈 مزید تفصیل کے لیے 👇👇👇 https://www.facebook.com/share/p/jbzgSR7hrUdKDkTb/?mibextid=oFDknk ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🔴 داستان سرہائے مبارک شہدائے کربلا 🛑 🔴 سرمبارک کو شام میں لایاجانا: تاریخی مصادر میں امام حسین علیہ السلام کے سرمبارک کو شام لانے کےحوالے سے مختلف روایات نقل ہوئی ہیں. 🔲الف: سرمبارک کا قافلہ کے ھمراہ شام لایاجانا، بعض مصادر نے نقل کیا ہے کہ سرمبارک کو قافلہ کے ھمراہ شام لایا گیا. ابن حبان (متوفی 354 ق) اس بارے میں لکھتا ہے: پھر عبیداللہ بن زیاد نے حسین بن علی علیھماالسلام کے سر مبارک کو اھل بیت رسول کے اسیر بچوں اور عورتوں کے ساتھ شام روانہ کیا. [1] شیخ صدوق (متوفی 381 ق) نے بھی لکھا ہے: ثم امر عبیداللہ بالسبایا و رأس الحسین علیہ السلام فحملوا الی الشام. [2] خوارزمی کی روایت کے مطابق کہ جب سھل بن سعد کی شام میں داخل ہوتے وقت امام حسین علیہ السلام کی بیٹی سکینہ سے ملاقات ہوئی سھل بن سعد حضرت سکینہ سے درخواست کرتا ہے کہ اگر (اھل بیت کو) کسی چیز کی ضرورت ہے تو مجھے حکم دیجیئے. حضرت سکینہ نے سھل سے کہا: جن کے ہاتھوں میں امام حسین علیہ السلام کا سر مبارک ہے ان سے کہو کہ سروں کو اھل بیت سے آگے لے جائیں تا کہ شام والوں کی نگاہ سروں کو دیکھنے میں مشغول ہو جائیں اور اھل بیت کی عورتوں سے نگاہیں ہٹا لیں. [3] یہ واقعہ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ امام حسین علیہ السلام کا سر مبارک قافلہ کے ساتھ شام میں داخل ہوا. ابوحنیفہ دینوری (متوفی 382 ق) ،ابن اثیر اور سبط ابن جوزی کا بھی یہی نظریہ ہے کہ اھل بیت کے اسیر قافلہ کے ساتھ امام حسین علیہ السلام کا سرمبارک بھی تھا. [4] سید بن طاؤس امام سجاد علیہ السلام سے نقل کرتے ہوئے لکھتا ہے: مجھے اونٹ پر بٹھایا گیاجو صحیح چل بھی نہیں سکتا تھا در حالانکہ مظلوم کربلا کا سر نیزے پر تھا اور عورتیں اور بچے بے پالان خچروں پر سوار ہمارے پیچھے تھے. چھوٹے بڑے بچے ہمارے پیچھے اور ہمارے اردگرد نیزے تھے. [5] سید بن طاؤس ایک اور جگہ پر یزید کا عبیداللہ کے خط کے جواب کے بارے میں لکھتا ہے کہ جب عبیداللہ نے قیدیوں کے بارے میں پوچھا کہ ان کا کیا کروں تو یزید نے عبیداللہ کو جواب دیتے ہوئے اسے حکم دیا کہ امام حسین علیہ السلام اور ان کے اصحاب کے سروں کو امام حسین علیہ السلام کے اھل بیت کے ساتھ شام روانہ کرے. [6] 🔲ب: اسیروں سے پہلے سرمبارک کا شام میں آنا. ابن اعثم اور خوارزمی کا نظریہ یہ ہے کہ امام کے سرمبارک کو اھل بیت کے اسیر قافلہ کے دمشق پہنچنے سے پہلے شام لایا گیا. [7] 🔲ج: اھل بیت کے شام میں داخل ہونے کے وقت سرمبارک کو بھی ملحق کرنا. شیخ مفید اور طبرسی کے نظریہ کے مطابق سرمبارک کو شام بھیجنے کے چند دن بعد اھل بیت کو شام روانہ کیا گیا. لیکن شام میں داخل ہوتےوقت اس شخص سے ملحق ہوگئے جو سرمبارک کو لے کر چلا تھا. [8] 💥البتہ احتمال ہے کہ امام کا سرمبارک اسیر قافلے کے ساتھ شام میں داخل کیا گیا ہو لیکن امام علیہ السلام کا سرمبارک اھل بیت سے پہلے یزید کے دربار میں لایا گیا کہ یہ احتمال وہی پہلا نظریہ بنتا ہے اور دوسرا نظریہ بھی اسی پر حمل ہو گا. ↩جو کچھ ذکر کیا گیا اس سے یہ نتیجہ لیا جا سکتا ہے کہ اگرچہ بعض کی تحریروں سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ شام میں داخل ہوتے وقت سر مبارک، اھل بیت کے ساتھ نہیں تھا لیکن پہلا نظریہ جس کے ذکر کرنے والوں کی تعداد بھی زیادہ ہے یعنی دمشق میں داخل ہوتے وقت اھل بیت کے ساتھ، امام کے سرمبارک کا ہونا زیادہ قوی ہے کیونکہ اس کو نقل کرنے والوں کی تعداد بھی زیادہ ہے. ⏪اب دیکھنا یہ ہے کہ اھل بیت کا قافلہ اور سرمبارک امام حسین علیہ السلام کس دن دمشق میں داخل ہوئے؟ ■ابوریحان بیرونی ماہ صفر کے واقعات میں لکھتا ہے: ماہ صفر کی پہلی تاریخ کو امام حسین علیہ السلام کا سرمبارک دمشق لایا گیا. [9] ■قزوینی نے لکھا ہے: ماہ صفر کا پہلا دن بنی امیہ کی عید کا دن ہے کیوں کہ اس دن امام حسین علیہ السلام کا سرمبارک دمشق لایا گیا. [10] ■کفعمی بھی کہتا ہے: ماہ صفر کے پہلے دن امام حسین علیہ السلام کا سرمبارک دمشق لایا گیا. [11] ⏪لیکن ان روایات کے مقابلے میں عماد الدین طبری کا نظریہ یہ ہے کہ 16ربیع الاول (عاشور کے 66 دن بعد) اھل بیت کا قافلہ دمش میں داخل ہوا. [12] ابوریحان جو ایک طرف طبری پر سبقت زمانی بھی رکھتا ہے اور دوسرا نقل روایات میں دقت سے بھی کام لیتا ہے اس کا قول مقدم ہے اس کے ساتھ ساتھ قزوینی اور کفعمی کی روایات بھی اس کی تایید میں ہیں. 🔴 سر مقدس اور دارالامارہ کا دروازہ: ابن زیاد ملعون نےحکم دیا کہ سیدالشہداء کا سرمقدس نوک سناں پرسوار کر کےکوفہ کے بازاروں میں پھرایا جائے چنانچہ اس حکم کی تعمیل کی گئی۔[13] اسکےبعددارالامارہ کےدروازہ پرنصب کر دیا گیا. کوفہ میں جناب مسلم کے سر کے بعد یہ دوسرا سرمقدس تھا جسے نصب کیا گیا تھا.[14] بروایتے تمام شھداء کے سرہائے مقدسہ کے ساتھ یہی سلوک کیا گیا.[15]

ﮨﮯ ﺟﺴﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﺑﺎﺭﮔﺎﮦ ﻣﯿﮟ ﻟﮯ ﺟﺎﻭﻧﮕﺎ۔" ﺭﻭﺍﯾﺖ ﮐﯿﻤﻄﺎﺑﻖ ﺟﺐ ﻗﺒﺮ کھودی ﺟﺎﻧﮯ ﻟﮕﯽ ﺗﻮ ﺣﺴﯿﻦ علیہ السلام ﮐﯽ ﻗﺒﺮ ﮐﮯ ﺳﺮﮨﺎﻧﮯ ﺳﮯ ﺍﯾﺴﯽ ﺧﻮﺷﺒﻮ پھیلی ﺟﻮ ﻣﺸﮏ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﭘﺎﮐﯿﺰﮦ تھی ﺍﯾﺴﯽ ﮨﯽ ﺧﻮﺷﺒﻮ ﺣﺴﯿﻦ علیہ السلام ﮐﮯ ﻭﻓﺎﺩﺍﺭ ﺻﺤﺎﺑﯽ ﺟﻨﺎﺏ ﺟﻮﻥ ﮐﮯ ﺟﺴﺪ ﺍﻃﮩﺮ ﻣﯿﮟ ﺩﻓﻦ ﮐﮯ ﻭﻗﺖ ﭘﺎﺋﯽ ﮔﺌﯽ ﺟﻨﮑﮯ ﻟﯿﮯ ﺣﺴﯿﻦ علیہ السلام ﻧﮯ ﺩﻋﺎ ﮐﯽ تھی۔ ﮨﻢ ﯾﮩﺎﮞ ﺍﺱ ﻣﺸﮩﻮﺭ ﺭﻭﺍﯾﺖ ﮐﺎ ﺧﻼﺻﮧ ﺑﯿﺎﻥ ﮐﺮﻧﺎ ﻣﻨﺎﺳﺐ سمجھتے ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ (ص) ﺳﮯ ﻣﺮﻭﯼ ﮨﮯ ﺟﺐ ﺍﭘﮑﻮ ﺟﺒﺮﯾﯿﻞ ﻧﮯ ﻗﺘﻞ ﺣﺴﯿﻦ علیہ السلام ﮐﯽ ﺧﺒﺮ ﺩﯼ ﭘﮭﺮ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ "ﺟﺐ ﺍﻥ ﺷﮩﺪﺍﺀ ﮐﯽ ﻣﻮﺕ ﮐﺎ ﻭﻗﺖ آئے گا ﺗﻮ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﺰﻭﺟﻞ ﺧﻮﺩ ﺍﻧﮑﯽ ﺍﺭﻭﺍﺡ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﻗﺒﻀﮧ ﻣﯿﮟ ﻟﮯ ﻟﯿﮕﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮑﯽ ﺭﻭﺣﻮﮞ ﮐﻮ ﺧﻮﺩ ﻗﺒﺾ ﮐﺮﯾﮕﺎ. ﺗﺎﮐﮧ ﺍﻧﮑﯽ ﻋﺰﺕ ﺍﻓﺰﺍئی ﮨﻮ۔ ﯾﮩﯽ ﺍﺭﺟﻌﯽ ﺍﻟﯽ ﺭﺑﮏ ﮐﯽ ﺣﻘﯿﻘﯽ ﺗﻔﺴﯿﺮ ﮨﮯ۔ ﺍﺱ ﮐﯿﺒﻌﺪ آﺳﻤﺎﻥ ﺳﮯ ﻣﻼئکہ ﯾﺎﻗﻮﺕ ﻭ ﺯﻣﺮﺩ ﮐﮯ ﺑﺮﺗﻦ ﻟﯿﮑﺮ ﺍﻥ ﺷﮩﺪﺍﺀ ﮐﮯ ﺍﺟﺴﺎﻡ ﮐﻮ ﺩھوئیں ﮔﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﻟﻠﮧ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺑﮩﺘﺮﯾﻦ ﭘﻮﺷﺎﮎ ﺟﻨﺖ ﭘﮩﻨﺎئے گا ﺑﻌﺪ ﺍﺯاں ﻣﻼئکہ ﺻﻒ ﺩﺭﺻﻒ ﺍﻥ ﭘﺮ ﻧﻤﺎﺯ ﭘﮍھیں ﮔﮯ۔ پھر ﺍﻟﻠﮧ ﺍﯾﺴﯽ ﻗﻮﻡ ﻻئے گا ﺟﺴﮯ ﯾﮧ ﮐﻔﺎﺭ نہیں ﭘﮩﭽﺎﻧﺘﮯ ﮨﻮﻧﮕﮯ۔ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﻟﻮﮒ ﺧﻮﻥ ﺣﺴﯿﻦ ﺑﮩﺎﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﺷﺮﯾﮏ ﻧﮧ ﮨﻮﻧﮕﮯ. ﯾﮧ آ ﮐﺮ ﺍﻥ ﺷﮩﺪﺍﺀ ﮐﯽ ﻻﺷﻮﮞ ﮐﻮ ﺩﻓﻦ ﮐﺮیں ﮔﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﻗﺒﻮﺭ ﮐﮯ ﻧﺸﺎﻧﺎﺕ ﺑﻨﺎئیں گے۔ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﻗﺒﺮ ﺳﯿﺪ ﺍﻟﺸﮩﺪﺍء ﺍﮨﻞ ﺣﻖ ﮐﯽ ﻋﻼﻣﺖ ﺑﻦ ﺟﺎئے گی ﺟﮩﺎﮞ ﺳﮯ ﻣﻮﻣﻨﯿﻦ ﮐﺎﻣﯿﺎﺑﯿﺎﮞ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮیں گے ﺍﻭﺭ ﻓﺮﺷﺘﻮﮞ ﺳﮯ ﺗﺤﺎئف ﻭﺻﻮﻝ ﮐﺮﯾﻨﮕﮯ پھر ﺍﻟﻠﮧ ﻋﺰﻭﺟﻞ ﺩﻥ ﺭﺍﺕ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﻻکھ ﻓﺮﺷﺘﻮﮞ ﮐﻮ ﻣﺴﻠﺴﻞ بھیجے ﮔﺎ ﺟﻮ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺍﻥ ﺯﻭﺍﺭﻭﮞ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ لکھیں ﮔﮯ ﺟﻮ ﯾﮩﺎﮞ آئیں ﮔﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ کیلئے ﻭﮦ ﺍﺳﺘﻐﻔﺎﺭ ﻭ ﺭﺣﻤﺖ ﻃﻠﺐ ﮐﺮﯾﻨﮕﮯ۔" ﺍﻟﺴﻼﻡ ﻋﻠﯽ ﺍﻟﺤﺴﯿﻦ ﻭ ﻋﻠﯽ ﻋﻠﯽ ﺍﺑﻦ ﺍﻟﺤﺴﯿﻦ ﻭ ﻋﻠﯽ ﺍﻭﻻﺩ ﺍﻟﺤﺴﯿﻦ ﻭ ﺍہلبیت ﺍﻟﺤﺴﯿﻦ ﻭ ﺍﺻﺤﺎﺏ ﺍﻟﺤﺴﯿﻦ. ﻭ ﻟﻌﻨﺖ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯽ ﺍﻟﻈﺎﻟﻤﯿﻦ. ﺍﻧﺎ ﻟﻠﮧ ﻭﺍﻧﺎ ﺍﻟﯿﮧ ﺭﺍﺟﻌﻮﻥ۔ 📚 ﺣﻮﺍﻟﮧ جات 1) ﻧﻔﺲ ﺍﻟﻤﻬﻤﻮﻡ 356-355- 2) ﺑﺤﺎﺭ ﺍﻻﻧﻮﺍﺭ 230 -394 /45۔ 3) ﺍﻟﺒﺤﺎﺭ 48/270۔ 4) ﺭﺟﺎﻝ ﺍﻟﻜﺸﻲ 464- 5) ﺍﻟﻤﻨﺎﻗﺐ 4/112۔ 6) ﺗﺬﻛﺮﺓ ﺍﻟﺨﻮﺍﺹ 14- 7) ﺍﻟﺒﺤﺎﺭ 22/513۔ 8) ﺍﻟﺒﺤﺎﺭ 289 /27۔ 9) ﺑﺼﺎ ﺋﺮ ﺍﻟﺪﺭﺟﺎﺕ 225- 10) ﻛﺎﻣﻞ ﺍﻟﺰﻳﺎﺭﺍﺕ 261۔ 11) ﻛﺎﻣﻞ ﺍﻟﺒﻬﺎﺋﯽ 288-287 /2۔ 12) ﺍﻻﺭﺷﺎﺩ 227۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🛑 تدفین شہدائے کربلا 🛑 ﻧﻔﺲ ﺍﻟﻤﮩﻤﻮﻡ ﮐﯽ ﺭﻭﺍﯾﺖ ﮐﯿﻤﻄﺎﺑﻖ ﺍﺑﻦ ﺳﻌﺪ ﻟﻌﯿﻦ ﮐﮯ ﮐﺮﺑﻼ ﺳﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﻘﺘﻮﻟﯿﻦ ﮐﻮ ﺩﻓﻦ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺣﺴﯿﻦ ﻭ ﺍہلبیت ﺍﻭﺭ ﺍﻧﺼﺎﺭ اﺑﺎ ﻋﺒﺪﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﻣﻄﮩﺮ ﻻﺷﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﯾﺴﮯ ﮨﯽ ﺑﮯ ﮔﻮﺭ ﻭ ﮐﻔﻦ ﭼھﻮﮌ ﮐﺮ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﯿﺒﻌﺪ ﻗﺮﯾﺒﯽ ﻣﻘﺎﻣﯽ ﺁﺑﺎﺩﯼ (ﻏﺎﺿﺮﯾﮧ) ﮐﮯ ﺭﮨﺎئشی ﻗﺒﯿﻠﮧ ﺑﻨﯽ ﺍﺳﺪ ﮐﮯ ﺑﻌﺾ ﻟﻮﮒ ﺍئے ﺟﻨﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺣﺴﯿﻦ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮑﮯ ﺍﺻﺤﺎﺏ ﻭ ﺍہلبیت ﮐﮯ ﻻﺷﻮﮞ ﭘﺮ ﻧﻤﺎﺯ ﭘﮍھی ﺍﻭﺭ ﻭﮨﯿﮟ ﺩﻓﻦ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﺟﮩﺎﮞ ﺍﺝ ﺍﻥ ﮐﯽ ﻗﺒﺮﯾﮟ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﯿﮟ۔ "ﺍﻟﮑﺎﻣﻞ ﺍﻟﺒﮩﺎﺋﯽ" ﮐﯽ ﺭﻭﺍﯾﺖ ﮐﯿﻤﻄﺎﺑﻖ ﺟﻨﺎﺏ ﺣﺮ ﮐﻮ ﻭﮨﺎﮞ ﺩﻓﻦ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ ﺟﮩﺎﮞ ﻭﮦ ﺷﮩﯿﺪ کئے ﮔﺌﮯ ﺍﻧﮑﯽ ﻗﺒﺮ ﮔﻨﺞ ﺷﮩﯿﺪﺍﻥ ﺳﮯ کچھ ﺩﻭﺭ ﮨﮯ۔ ﺗﻘﺮﯾﺒﺎ ﺍﺝ ﮐﮯ ﺣﺴﺎﺏ ﺳﮯ 19 کلو ﻣﯿﭩﺮ ﺑﻨﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺑﻨﻮ ﺍﺳﺪ ﻗﺒﺎئل ﻋﺮﺏ ﭘﺮ ﻓﺨﺮ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺣﺴﯿﻦ ﺍﻭﺭ ﺷﮩﺪﺍﺀ ﮐﯽ ﻻﺷﻮﮞ ﭘﺮ ﻧﻤﺎﺯ ﭘﮍھی ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺩﻓﻨﺎﯾﺎ. ﺍﺳﯿﻄﺮﺡ ﺟﻨﺎﺏ ﺍﺑﻮﺍﻟﻔﻀﻞ ﺍﻟﻌﺒﺎﺱ ﻛﻮ ﻋﻠﻘﻤﻪ ﮐﮯ ﻧﺰﺩﯾﮏ ﻭﮨﯿﮟ ﺩﻓﻦ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ ﺟﮩﺎﮞ ﻭﮦ ﺷﮩﯿﺪ ﮨﻮﺋﮯ۔ ﺍﺑﻦ ﺷﮩﺮ ﺍﺷﻮﺏ ﻭ ﻣﺴﻌﻮﺩﯼ ﮐﯽ ﺭﻭﺍﯾﺘﻮﮞ ﮐﯿﻤﻄﺎﺑﻖ ﺍہلیان ﻏﺎﺿﺮﯾﮧ (ﺑﻌﺾ ﻧﮯ ﻋﺎﻣﺮﯾﮧ ﻟﮑﮭﺎ ﮨﮯ) ﻧﮯ ﺣﺴﯿﻦ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮑﮯ ﺍﺻﺤﺎﺏ ﭘﺮ ﻧﻤﺎﺯ ﭘﮍھ ﮐﺮ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺩﻓﻦ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ. ﺍﻭﺭ ﺟﺐ ﻭﮦ ﺍﻥ ﺷﮩﺪﺍء ﮐﻮ ﺩﻓﻦ ﮐﺮ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ﺗﻮ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺳﻔﯿﺪ ﭘﺮﻧﺪﻭﮞ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺟﻮ ﻓﻀﺎ ﻣﯿﮟ ﮔﺮﺩﺵ ﮐﺮ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ۔ "ﺗﺬﮐﺮﺓ ﺍﻟﺨﻮﺍﺹ" ﻣﯿﮟ ﻃﺒﺮﯼ ﻟﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ. ﺯﮨﯿﺮ ﺑﻦ ﺍﻟﻘﯿﻦ ﺟﻮ ﺣﺴﯿﻦ ﮐﯿﺴﺎتھ ﺷﮩﯿﺪ ﮨﻮﺋﮯ۔ ﺍﻧﮑﯽ ﺯﻭﺟﮧ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﻏﻼﻡ ﮐﻮ ﮐﺮﺑﻼ بھیجا ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺟﺎﮐﺮ ﺍﭘﻨﮯ آﻗﺎ ﮐﻮ ﮐﻔﻦ ﭘﮩﻨﺎ ﺩﮮ۔ ﺟﺐ ﯾﮧ ﻏﻼﻡ ﮐﺮﺑﻼ ﭘﮩﻨﭽﺎ ﺍﻭﺭ ﺣﺴﯿﻦ ﮐﮯ ﺟﺴﺪ ﺍﻃﮩﺮ ﮐﻮ ﺭﯾﮓ ﮔﺮﻡ ﭘﺮ ﺑﮯ ﮐﻔﻦ ﭘﺎﯾﺎ ﺗﻮ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﺎ "ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ آﻗﺎ ﮐﻮ ﮐﻔﻦ ﺩﻭﮞ؟ ﺍﻭﺭ ﺣﺴﯿﻦ ﺑﮯ ﮐﻔﻦ ﭘﮍﮮ ﺭﮨﯿﮟ ﻭﺍﻟﻠﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﺴﺎ ﻧﮧ ﮐﺮﻭﻧﮕﺎ. ﭘﺲ ﺍﺱ ﻧﮯ ﯾﮧ ﮐﻔﻦ ﺣﺴﯿﻦ ﮐﻮ ﭘﮩﻨﺎ ﺩیا ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﻗﺎ ﮐﻮ ﺩﻭﺳﺮﺍ ﮐﻔﻦ ﭘﮩﻨﺎ ﺩﯾﺎ" ﻋﺰﯾﺰﻭ! ﯾﮩﺎﮞ ﺩﯾﮕﺮ ﺍﯾﺴﯽ ﺭﻭﺍﯾﺎﺕ ﺑﮑﺜﺮﺕ ﮨﯿﮟ ﺟﻦ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﺻﺮﺍﺣﺘﺎ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﻣﺎﻡ ﺯﯾﻦ ﺍﻟﻌﺎﺑﺪﯾﻦ ﺑﺎﻋﺠﺎﺯ ﺍﻣﺎﻣﺖ ﮐﻮﻓﮧ ﺳﮯ ﺗﺸﺮﯾﻒ ﻻئے ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﺎﺑﺎ ﺍﻭﺭ ﺷﮩﺪﺍﺀ ﮐﯽ ﻻﺷﻮﮞ ﭘﺮ ﻧﻤﺎﺯ ﭘﮍھائی ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﻭﮨﯿﮟ ﺩﻓﻦ ﮐﯿﺎ ﺟﮩﺎﮞ ﺍﺝ ﺍﻧﮑﯽ ﻗﺒﻮﺭ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﯿﮟ۔ ﻣﻌﺮﻭﻑ ﺷﯿﻌﮧ ﻧﻈﺮﯾﮧ ﮐﯿﻤﻄﺎﺑﻖ ﻣﻌﺼﻮﻡ ﮐﻮ ﺻﺮﻑ ﻣﻌﺼﻮﻡ ﮨﯽ ﻏﺴﻞ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻧﻤﺎﺯ ﭘﮍھاتا ﮨﮯ. ﮨﻢ ﻧﮯ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺍﻗﻮﺍﻝ ﺍﭖ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺑﯿﺎﻥ ﮐﺮ ﺩیئے ﮨﯿﮟ۔ ﺍﺱ ﻣﻀﻤﻮﻥ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﺭﻭﺍﯾﺖ "ﻧﻔﺲ ﺍﻟﻤﮩﻤﻮﻡ" ﻣﯿﮟ ﺍﻣﺎﻡ ﺍﺑﻮ ﺟﻌﻔﺮ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﺳﮯ ﻣﺮﻭﯼ ﮨﮯ ﺍﭖ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ہیں ﮐﮧ "ﺟﺐ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ (ﺹ) ﮐﯽ ﻭﻓﺎﺕ ﮨﻮئی ﺗﻮ ﺟﺒﺮئیل ﺍﻭﺭ ﻓﺮﺷﺘﻮﮞ ﻧﮯ ﻏﺴﻞ ﻭ ﺗﮑﻔﯿﻦ ﻭ ﺗﺪﻓﯿﻦ ﺍﻭﺭ ﻗﺒﺮ کھودنے ﻣﯿﮟ ﻣﻮﻻ ﻋﻠﯽ علیہ السلام ﮐﯽ ﻣﺪﺩ ﮐﯽ ﺍﻭﺭ آپ کے ﺟﺴﺪ ﺍﻃﮩﺮ ﭘﺮ ﻧﻤﺎﺯ ﭘﮍھی۔ ﺍﺳﯿﻄﺮﺡ ﻣﻮﻻ ﻋﻠﯽ علیہ السلام ﮐﯽ ﺷﮩﺎﺩﺕ ﮨﻮئی ﺗﻮ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ (ص) ﻧﮯ ﺍﻣﺎﻡ ﺣﺴﻦ علیہ السلام ﮐﯽ ﻣﺪﺩ ﮐﯽ ﺍﻭﺭ ﺗﺠﮩﯿﺰ ﻭ ﺗﮑﻔﯿﻦ ﻭ ﺗﺪﻓﯿﻦ ﻣﯿﮟ ﺳﺎتھ ﺩﯾﺎ۔ ﺍﺳﯿﻄﺮﺡ ﺟﺐ ﺣﺴﻦ ﻣﺠﺘﺒﯽ علیہ السلام ﺷﮩﯿﺪ ﮨﻮئے ﺗﻮ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﮐﺮﻡ (ص) ﻭ ﻣﻮﻻ ﻋﻠﯽ علیہ السلام ﻧﮯ ﺗﺠﮩﯿﺰ ﻭ ﺗﺪﻓﯿﻦ ﻭ ﺗﮑﻔﯿﻦ ﻣﯿﮟ امام ﺣﺴﯿﻦ علیہ السلام ﮐﯽ ﻣﺪﺩ ﮐﯽ۔ ﺍﺳﯿﻄﺮﺡ ﺟﺐ ﻣﻈﻠﻮﻡ ﮐﺮﺑﻼ ﮐﯽ ﺗﺪﻓﯿﻦ ﮐﺎ ﻭﻗﺖ آﯾﺎ ﺗﻮ ﺍﻣﺎﻡ ﺯﯾﻦ ﺍﻟﻌﺎﺑﺪﯾﻦ علیہ السلام ﺑﺎﻋﺠﺎﺯ ﺍﻣﺎﻣﺖ ﺗﺸﺮﯾﻒ لائے ﺍﻭﺭ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﮐﺮﻡ (ص) و ﺍﻣﺎﻡ ﻋﻠﯽ علیہ السلام اور ﺍﻣﺎﻡ ﺣﺴﻦ علیہ السلام ﻧﮯ ﺗﺪﻓﯿﻦ ﻣﻈﻠﻮﻡ ﮐﺮﺑﻼ ﻣﯿﮟ ﺍﭖ کی ﻣﻌﺎﻭﻧﺖ ﮐﯽ۔" ﺍﮔﺮﭼﮧ ﺑﻨﻮ ﺍﺳﺪ بھی ﮨﻤﺮﺍﮦ ﺭﮨﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﯾﮧ ﺳﯿﺪ ﺍﻟﺼﺎﺑﺮﯾﻦ ﺍﻣﺎﻡ ﺳﺠﺎﺩ علیہ السلام ﮨﯽ ﺗﮭﮯ ﺟﻨﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺷﮩﺪﺍﺀ ﮐﻮ ﺍﺱ ﺗﺮﺗﯿﺐ ﭘﺮ ﺩﻓﻦ ﮐﺮﻭﺍﯾﺎ ﺟﺲ ﻃﺮﺡ ﺍﺝ ﺍﻧﮑﯽ ﻗﺒﻮﺭ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﯿﮟ۔ (ﺳﻼﻡ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮩﻢ ﺍﺟﻤﻌﯿﻦ) ﺭﻭﺍﯾﺖ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ ﺟﺐ ﺑﻨﻮ ﺍﺳﺪ ﺗﺪﻓﯿﻦ ﮐﺮ ﺭﮨﮯ تھے ﺍﺱ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﮐﻮﻓﮧ ﮐﯽ ﺟﺎﻧﺐ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﺳﻮﺍﺭ آﺗﺎ ﺩکھائی ﺩﯾﺎ۔ ﯾﮧ ﻟﻮﮒ چھپ ﮔﺌﮯ ﺷﺎﯾﺪ ﮐﮧ ﺍﺑﻦ ﺳﻌﺪ ﮐﮯ ﻟﻮﮒ ﮨﻮﮞ۔ ﻟﯿﮑﻦ ﯾﮧ ﺻﺎﺑﺮﯾﻦ ﮐﮯ ﺍﻣﺎﻡ ﺳﯿﺪ ﺳﺠﺎﺩ علیہ السلام تھے۔ آﭖ ﻧﮯ ﺑﻨﻮ ﺍﺳﺪ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﺎ ﺗﻌﺎﺭﻑ ﮐﺮﺍﯾﺎ ﭘﺲ آپ ﺗﺮﺗﯿﺐ ﺑﺘﺎﺗﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﻨﻮ ﺍﺳﺪ ﺍﺳﯽ ﺗﺮﺗﯿﺐ ﮐﯿﻤﻄﺎﺑﻖ ﺗﺪﻓﯿﻦ ﺷﮩﺪﺍﺀ ﻣﯿﮟ آپ کی ﻣﺪﺩ ﮐﺮﺗﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﺍﺱ ﺩﻭﺭﺍﻥ آپ کی آنکھوں ﺳﮯ ﺍﻧﺴﻮ ﻣﻮﺳﻢ ﺑﮩﺎﺭ ﮐﯽ ﺑﺎﺭﺵ ﮐﯿﻄﺮﺡ ﺟﺎﺭﯼ ﺗﮭﮯ۔ ﺧﺼﻮﺻﺎ ﺟﺐ آﭖ ﺍﭘﻨﮯ ﭼﭽﺎ ﺍﺑﻮ ﺍﻟﻔﻀﻞ ﺍﻟﻌﺒﺎﺱ ﮐﯽ ﻧﻌﺶ ﺍﻃﮩﺮ ﮐﯽ ﺗﺪﻓﯿﻦ ﮐﺮﻧﮯ ﻟﮕﮯ ﺗﻮ ﭼﯿﺨﯿﮟ ﻣﺎﺭ ﮐﺮ ﺭﻭئے ﺑﯿﺸﮏ ﺍﺑﻮﺍﻟﻔﻀﻞ ﺍﻟﻌﺒﺎﺱ ﮐﯽ ﺷﮩﺎﺩﺕ ﻧﮯ ﺣﺴﯿﻦ علیہ السلام ﮐﯽ ﮐﻤﺮ ﺗﻮﮌ ﺩﯼ ﺍﻭﺭ ﺳﯿﺪ ﺳﺠﺎﺩ ﮐﻮ ﺑﮯ ﺣﺎﻝ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ۔ ﺷﯿﺦ ﻃﻮﺳﯽ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺍﺳﻨﺎﺩ ﻣﯿﮟ ﺑﺴﻨﺪ ﺍﻣﺎﻡ ﺻﺎﺩﻕ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﺭﻭﺍﯾﺖ ﮐﯽ ﮨﮯ "ﺍﯾﮏ ﺻﺒﺢ ﺟﻨﺎﺏ ﺍﻡ ﺍﻟﻤﻮﻣﻨﯿﻦ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﻡ ﺳﻠﻤﮧ ﺭﻭﺗﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﻧﮑﻠﯿﮟ ﭘﺲ ﺟﺐ ﺍﻥ ﺳﮯ ﺭﻭﻧﮯ ﮐﺎ ﺳﺒﺐ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﺑﻮﻟﯿﮟ "ﻣﯿﺮﺍ ﺑﭽﮧ ﺣﺴﯿﻦ ﮐﺮﺑﻼ ﻣﯿﮟ ﻗﺘﻞ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺍﻟﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﻮ ﺧﻮﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮧ ﺍﭖ ﮐﺎ ﭼﮩﺮﮦ ﺍﻗﺪﺱ ﺧﺎﮎ آﻟﻮﺩ ﮨﮯ۔ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﺘﮩﺎﺋﯽ ﻏﻤﮕﯿﻦ ﻭ ﺣﺰﯾﻦ ﮨﯿﮟ" ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ "ﺍﮮ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﺭﺳﻮﻝ! ﮐﺲ ﺷﮯ ﻧﮯ ﺍﭖ ﮐﻮ ﺍﺳﻘﺪﺭ ﻏﻤﮕﯿﻦ ﻭ ﺩﻝ ﮔﺮﻓﺘﮧ ﮐﺮﺩﯾﺎ ﮨﮯ؟" ﺗﻮ ﺍﭖ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ: "ﺍﻡ ﺳﻠﻤﮧ! ﻣﯿﮟ ﺍﺝ ﭘﻮﺭﯼ ﺭﺍﺕ ﺣﺴﯿﻦ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺍﺻﺤﺎﺏ کیلئے ﻗﺒﺮﯾﮟ کھوﺩ ﺭﮨﺎ ﮨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ابھی ﻓﺎﺭﻍ ﮨﻮﮐﺮ ﮐﺮﺑﻼ ﺳﮯ ﺍﺭﮨﺎ ﮨﻮﮞ۔" ﺍﺳﯽ ﻣﻀﻤﻮﻥ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﺍﻭﺭ ﺭﻭﺍﯾﺖ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﺑﻦ ﻋﺒﺎﺱ ﺳﮯ ﻣﺮﻭﯼ ﮨﮯ ﺟﺲ ﮐﯿﻤﻄﺎﺑﻖ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ (ص) ﮐﻮ ﺍﺱ ﺣﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮧ آﭖ ﮐﯽ آنکھوں ﺳﮯ آﻧﺴﻮ ﺟﺎری ہیں، ﭼﮩﺮﮦ ﺍﻧﻮﺭ ﻏﺒﺎﺭ آﻟﻮﺩ ﺍﻭﺭ ﭘﺎئے ﺍﻗﺪﺱ ﻣﯿﮟ ﻧﻌﻠﯿﻦ نہیں ﺗﮭﮯ۔ آﭖ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﮐﺮﺗﮧ ﻣﺒﺎﺭﮎ تھاﻣﺎ ﮨﻮﺍ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺍﯾﺖ ﭘﮍھ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ (ﻇﺎﻟﻢ ﯾﮧ ﮔﻤﺎﻥ ﻧﮧ ﮐﺮﯾﮟ ﮐﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﺍﻥ ﮐﯽ ﮐﺮﺗﻮﺗﻮﮞ ﺳﮯ ﻏﺎﻓﻞ ﮨﮯ- ﺍﺑﺮﺍﮨﯿﻢ 42) ﭘﮭﺮ ﺍﭖ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ: ﻣﯿﮟ ﮐﺮﺑﻼ ﺳﮯ آ ﺭﮨﺎ ﮨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺣﺴﯿﻦ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮑﮯ ﺍﺻﺤﺎﺏ ﮐﺎ ﺧﻮﻥ

یہی حال ان شہداء کا تھا جو جنت کے وارث تهے لیکن کربلا میں انکی لاشوں کا کوئی پرسان حال نہ تها. ولا حول ولا قوہ الا باللہ) پس میری پھوپھی بولیں: "بیٹے! جو تم دیکھ رہے ہو اس پر غم وحزن نہ کر، اللہ کی قسم! یہ ایک عہد تھا جو تیرے جد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے تیرے دادا، بابا اور چچا تک پہنچا ہے. بیشک! اللہ نے ایک قوم سے یہ عہد لیا ہے کہ وہ ان شہیدوں کے جسم کے ٹکروں کو جمع کرینگے اور انہیں باحترام دفن کرینگے یہ ایسی قوم ہو گی جسے اس امت کے فرعون نہیں پہچانتے ہونگے لیکن یہ لوگ آسمان پر زمیں سے زیادہ مشہور ہونگے. پهر یہ لوگ تیرے بابا کی قبر کے نشان کو اسطرح بلند کریں گے کہ گردش دوراں اسے زائل نہ کر سکے گا. کفر کے پیشوا اور اسکے پیروکار اس نشان بلند کو مٹانے کی کوشش کرینگے لیکن وہ اسے مٹانے اور دبانے کی جس قدر کوشش کرینگے یہ نشاں اتنی ہی قوت و بلندی کےساتھ ابهرے گا." [9][10][11][12][13] السلام علیک یا شریکة الحسين. 📚 حوالہ جات 1۔ فرہنگ لغت عمید، ذیل لغت «غریب»؛ فرہنگ واژگان مترادف و متضاد تألیف فرج‌اللہخداپرستی 2۔ دہخدا، ذیل شام غریبان. نمونہ ۔در شعر حافظ: بیا بشام غریبان و آب دیدۂ من بین // بسان بادۂ صافی در آبگینۂ شامی 3۔ مراجعہ کریں: محدثی، فرہنگ عاشورا، ص۲۴۱؛ مراجعہ کریں: جمعی از نویسندگان، پژوہشی در مقتل‌ ہای فارسی، ص۱۲۳۔ 4۔ مراجعہ کریں: الوان ساز خویی، وقایع الأیام، ج۲، ص۱۳۵و۱۵۱۔ 5۔ مراجعہ کریں: رسولی، زینب عقیلہ بنی‌ہاشم، ج۱، ص۵۵۔ 6۔ مراجعہ کریں: قمی، در کربلا چہ گذشت؟ (ترجمہ نفس المہموم)، ص۴۸۶۔ 7۔ مراجعہ کریں: رسولی، زینب عقیلہ بنی‌ہاشم، ج۱، ص۶۱و۶۲۔ 8۔ محسن زادہ، سر نینوا زینب کبریؑ، ص۱۵۸۔ 9۔ کامل الزیارات .261-262 10۔ نفس المہموم 351-352 11۔ العقد الفرید 4/358 12۔ تاریخ طبری 7/369-370۔ 13 اللہوف 126۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🔥 شام غریباں و اسیران کربلا 🔥 لفظ غریب کا ایک معنی، وطن سے دور ہونا ہے اور بعض اوقات جو بے یارو مددگار اور اکیلا رہ گیا ہو اس کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے۔[1] شام غریباں بھی جو لوگ اپنے وطن سے دور اکیلے اور بے یارومددگار رہ گئے تھے ان کے لئے استعمال ہوا ہے۔[2] اصطلاح اور فارسی زبان کے مرثیے میں، روز عاشور کے سورج غروب ہونے اور اس رات کی سوگواری کو کہا گیا ہے۔[3] ■ واقعات دشمن کی فوج نے عاشورا کا سورج غروب ہوتے ہی عورتوں کو خیموں سے باہر نکال دیا اور خیموں کو آگ لگا دی۔[4] اور اس وقت مستورات فریاد کرتی رہیں اور اپنے پیاروں کی لاشوں کو دیکھ کر اپنے منہ پر پیٹتی رہیں۔[5] عمر بن سعد نے شام عاشورا کو امام حسینؑ اور کربلا کے دوسرے شہداء کے سروں کو (سروں کی تعداد 72 تھی) شمر، قیس بن اشعث اور عمرو بن حجاج اور عزرۃ بن قیس کے ہاتھوں ابن زیاد کے پاس بھیج دیا۔[6] عمر سعد اپنے لشکر کے ہمراہ اس رات کربلا میں ہی رکا اور دوسرے دن ظہر کے قریب اپنے سپاہیوں کے لاشوں کو دفن کرنے کے بعد اہلبیتؑ اور دوسرے بچے ہوئے افراد کو لے کر کوفہ کی جانب حرکت کی۔[7] قول کے مطابق محرم کی گیارہویں رات جسے شام غریباں کہتے ہیں حضرت زینبؑ نے نماز شب ترک نہ کی لیکن اس مصیبت اور صدمے کے باعث اس رات نماز شب بیٹھ کر ادا کی۔[8] ■ اسیران کربلا "الکامل البہایی" میں روایت ہے كه ابن سعد لعین روز عاشور اور اسکے اگلے دن زوال تک کربلا میں مقیم رہا. پهر اس نے اپنے مقتولین کی لاشوں پر نماز پڑهی اور انہیں دفن کیا جبکہ حسینؑ اور انکے پاک اہل بیت واصحاب کی لاشیں کربلا کی گرم تپتی ریت پر بے گور و کفن چھوڑ دی گئیں. اللہ اکبر! اس کےبعد وہ مرحلہ آیا جس نے سید سجاد کو پچیس سال تک خون کے انسو رونے پر مجبور کر دیا. انا للہ وانا الیہ راجعون. عزیزو! اہل بیت مصطفٰی کو رسیوں میں جکڑ کر بے کجادہ اونٹوں پر بٹھایا گیا. انکے چہرے دشمنوں کے سامنے کھلے تھے اور انہیں اسطرح اسیر کر کے لے جایا گیا جس طرح ترک و دیلم کے غلاموں اور کنیزوں کو لے جایا جاتا ہے. اس وقت چوتھے امام علی زین العابدین علیہ السلام کی عمر مبارک 22 سال جبکہ امام باقر علیہ السلام چار سال کے تھے جو اس قتل عام میں محفوظ رہے. اہل بیت كے کل اسیر مخدرات کی تعداد 20 تهی جن میں بنو ہاشم کے 12 بچے بهی شامل تھے. مقتل کی کتابوں میں وارد ہوا ہے کہ ان ظالموں نے اہل حرم کو شہداء کی لاشوں کے قریب سے جان بوجھ کر گذارا تاکہ وہ اپنے مقتولین کو دیکھیں. جب جناب زینب کبری سلام اللہ علیہا اپنے بھائی کی لاش سے گذریں اور انہیں بے گور و کفن پا کر بے انتہاء مغموم و محزون ہوگئیں تو اس حال میں اپنے آپکو اونٹ کی پشت سے بھائی کی لاش پر گرا دیا. "صحیفہ کربلا" میں "آغاے منفرد" لکھتے ہیں کہ زینب کبری سلام اللہ علیہا نے اپنے بھائی کی لاش کو ہاتھوں پر بلند کیا اور فرمایا ( اللہم تقبل منا ہذا القربان). "اے اللہ ہماری جانب سے حسینؑ کی اس قربانی کو قبول کر لے." عزیزو! یہی وہ صبر زینبی ہے جس کی بناء پر بنت علی جبل الصبر (صبر کی کوہ بلند) کہلائیں. بیشک کسی نے سچ ہی کہا ہے جس منزل پر لوگ صبر کر کے صابرین کے مقام پر فائز ہوتے ہیں اسی منزل پر یہ "قافلہ حسینیؑ وزینبی" شکر الہی بجا لا کر صف شاکرین میں سے شمار کئے جاتے ہیں. سلام ہو آپ پر اے علی کی شیر دل بیٹی! اے صبر و تحمل کی کوہ بلند! کہ جنکی بلندی کے سامنے ہر مقام پست و کمتر ہے. سوگوارو! "زایدہ" امام سجاد علیہ السلام سے روایت کرتا ہے آپ فرماتے ہیں: "جب ہمیں بے کجادہ سورایوں پر بٹھا کر کوفہ لے جانےکی تیاری ہوئی اور میں نے اپنے شہدا کی لاشوں کو خاک وخوں میں غلطاں بے گورو کفن دیکھا پس یہ حال دیکھ کر میرا دل بھر آیا اور سانس سینے میں گھٹنے لگا. یوں لگتا تھا کہ شاید شدت غم سے میرا دم نکل جائے گا. میری پھوپھی زینب کبری میری یہ حالت دیکھ رہی تھیں. پس مجھ سے مخاطب ہوکر کہنے لگیں: "اے میرے بابا و نانا اور بھائی کی آخری نشانی! یہ میں کیا دیکھ رہی ہوں. لگتا ہے کہ شدت غم سے تیری روح تیرے جسم سے جدا ہونیوالی ہے." میں نے جواب دیا پھوپھی اماں! میرا یہ حال کیوں نہ ہو جس کا سید وسردار بابا، چچا، چچازاد اور اصحاب و رشتہ داروں کو ایک ہی دن میں اسطرح قتل کردیا جائے اور جو انکی لاشیں خاک وخون میں اپنے سامنے غلطاں پائے. اور نہ انہیں کوئی کفن دینے والا ہو، نہ دفن کرنیوالا. گویا یہ دیلم و خزر کے لوگ ہوں." (دیلم و خزر دو جگہوں کے نام ہیں، یہ ان شہداء کی مظلومیت اور انکے دفن و کفن کی عدم دستیابی کو بیان کرنے کیلیے بطور استعارہ استعمال کیا گیا ہے. کیونکہ یہ جگہیں بلاد عرب سے دور دراز تھیں ظاہر ہے ترک و دیلم کا کوئی فرد عربستان میں مرجاتا تو اسکی لاش پر رونے والے کون ہوتے؟؟ کیونکہ عربوں میں تو انکا کوئی رشتہ دار یا پرسان حال نہ ہوتا.

ذھبی:تاریخ الذھبی،ص:۱۰۵۹دارلنشر الکتاب العربیۃ، بیروت 11۔ أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ الْعَامِرِيُّ بِالْكُوفَةِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الثَّعْلَبِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ يَمَانٍ، عَنْ إِمَامٍ أَبِي سُلَيْمٍ، عَنْ أَشْيَاخٍ لَهُ غَزُوا بِلَادَ الرُّومِ، قَالُوا: وَجَدْنَا فِي كَنِيسَةٍ مِنْ كَنَائِسِ الرُّومِ مَكْتُوبًا: أَيَرْجُو مَعْشَرًا قَتَلُوا حُسَيْنًا شَفَاعَةَ جَدِّهِ يَوْمَ الْحِسَابِ قَالَ قُلْتُ لِلرُّومِ: مَتَى كُتِبَ هَذَا فِي كَنِيسَتِكُمْ؟ قَالُوا: قَبْلَ أَنْ يُبْعَثْ نَبِيِّكُمْ بِثَلاثِ مِائَةِ عَامٍ. الشجری، الامالی الخمیسیۃ للشجری،ص:۵۹۱،حدیث نمبر:۱۳۲۲،مطبوعہ: الکتب العلمیۃ، بیروت 12۔ وَلَا تَحْسَبَنَّ اللَّهَ غَافِلًا عَمَّا يَعْمَلُ الظَّالِمُونَ إِنَّمَا يُؤَخِّرُهُمْ لِيَوْمٍ تَشْخَصُ فِيهِ الْأَبْصَارُ ﴿ابراهيم: ٤٢﴾ 13۔ إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَذَكَرُوا اللَّهَ كَثِيرًا وَانتَصَرُوا مِن بَعْدِ مَا ظُلِمُوا وَسَيَعْلَمُ الَّذِينَ ظَلَمُوا أَيَّ مُنقَلَبٍ يَنقَلِبُونَ ﴿الشعراء: ٢٢٧﴾ 14۔ أَمْ حَسِبْتَ أَنَّ أَصْحَابَ الْكَهْفِ وَالرَّقِيمِ كَانُوا مِنْ آيَاتِنَا عَجَبًا ﴿الكهف: ٩۔ 🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵

بیہقی، دلائل النبوۃ،ج:۶،ص: ۴۷۲،حدیث نمبر::۲۸۱۶، مطبوعہ:دارالکتب العلمیۃ، بیروت 5۔ ورس فتح اول اور سکون ثانی کے ساتھ ایک قسم کی برنگ زرد گھاس ہے۔جو یمن کے علاقہ میں بکثرت پائی جاتی ہے اور وہیں سے دوسری جگہوں پر لائی جاتی ہے۔ اس کا پودا کنجد(تل) کے پودے کی طرح ہوتا ہے۔ 6۔ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي جَدَّتِي، قَالَتْ: " لَقَدْ رَأَيْتُ الْوَرْسَ عَادَ رَمَادًا، وَلَقَدْ رَأَيْتُ اللَّحْمَ كَأَنَّ فِيهِ النَّارَ حِينَ قُتِلَ الْحُسَيْنُ بیہقی، دلائل النبوۃ،ج:۶،ص: ۴۷۲،حدیث نمبر::۲۸۱۵، مطبوعہ:دارالکتب العلمیۃ، بیروت 7۔ یہ روایت درج ذیل ہے: أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَلَاءِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْعَلَاءِ بْنِ الشَّاهِ الصُّعَدِيُّ الْخَطِيبُ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ بِأَصْفَهَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ حِبَّانَ، إِمْلَاءً، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مَنْدَهْ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ ذَكْوَانَ، عَنِ الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذِ بْنِ عَفْرَاءَ، قَالَتْ: أَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى قُرَى الْأَنْصَارِ الَّتِي حَوْلَ الْمَدِينَةِ: " مَنْ كَانَ أَصْبَحَ صَائِمًا فَلْيُتِمَّ صَوْمَهُ، وَمَنْ كَانَ مُفْطِرًا بَقِيَّةَ يَوْمِهِ "، وَكُنَّا بَعْدُ نَصُومُهُ، وَيَصُومُ الصِّبْيَانُ، وَنَذْهَبُ إِلَى الْمَسْجِدِ، وَنَجْعَلُ اللُّعْبَةَ مِنَ الْعِهْنِ الصُّوفِ الْمُلَوَّنِ فَإِذَا بَكَى أَحَدُهُمْ، أَعْطَيْنَاهُ إِيَّاهُ، حَتَّى يَكُونَ عِنْدَ الْإِفْطَارِ أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ شَاهِينَ الْوَاعِظُ، بِقِرَاءَتِي عَلَيْهِ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ يَعْقُوبَ الرُّوَاحِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو زِيَادٍ الْفُقَيْمِيُّ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ الْكَلْبِيُّ، قَالَ: كَانَ الْجَصَّاصُونَ يَنْزِلُونَ إِلَى الْجَبَّانَةِ حِينَ قُتِلَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ عَلَيْهِمَا السَّلَامُ، فَيَسْمَعُونَ نَوْحَ الْجِنِّ عَلَى الْحُسَيْنِ عَلَيْهِ السَّلَامُ، وَهُمْ يَقُولُونَ: مَسَحَ الرَّسُولُ جَبِينَهُ فَلَهُ بَرِيقٌ فِي الْخُدُودِ أَبَوَاهُ مِنْ عُلْيَا قُرَيْشٍ جَدُّهُ خَيْرُ الْجُدُودِ الشجری:یحییٰ بن الحسین الشجری الجرجانی، الامالی الخمیسیۃ للشجری،ص: ۵۹۱، حدیث نمبر: ۱۳۲۲مطبوعہ: الکتب الغلمیۃ، بیروت، لبنان 8۔ حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ عَبَّادٍ الْخَطَّابِيُّ، ثنا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا عَمْرُو بْنُ ثَابِتٍ، قَالَ: قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: " مَا سُمِعَتْ نَوْحَ الْجِنِّ مُنْذُ قُبِضَ النَّبِيُّ إِلا اللَّيْلَةَ، وَمَا أَرَى ابْنِي إِلا قَدْ قُتِلَ "، تَعْنِي الْحُسَيْنَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ، فَقَالَتْ لِجَارِيَتِهَا: " اخْرُجِي فَسَلِي "، فَأُخْبِرَتْ أَنَّهُ قَدْ قُتِلَ، وَإِذَا جِنِّيَّةٌ تَنُوحُ: أَلا يَا عَيْنُ فَاحْتَفِلِي بِجَهْدِ وَمَنْ يَبْكِي عَلَى الشُهَدَاءِ بَعْدِي عَلَى رَهْطٍ تَقُودُهُمُ الْمَنَايَاإِلَى مُتَحَيِّرٍ فِي مُلْكِ عَبْدِ الطبرانی:سلیمان بن احمد الطبرانی، المعجم الکبیر،ص:۸۰۴،حدیث نمبر:۲۸۰۰،مطبوعہ: مکتبۃ العلوم والحکم ، الموصل 9۔ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سِنَانٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ السَّرَّاجُ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَفٍ، ثنا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ النُّعْمَانِ، ثنا عَبْدَ اللَّهِ بْنُ مَيْسَرَةَ أَبُو لَيْلَى، عَنْ مَزِيدَةَ بْنِ جَابِرٍ الْحَضْرَمِيِّ، عَنْ أُمِّهِ، قَالَتْ: " سُمِعَتِ الْجِنُّ، تَنُوحُ عَلَى الْحُسَيْنِ، تَقُولُ: أَبَغَى حُسَيْنٌ هَبَلا كَانَ حُسَيْنٌ جَبَلا ابو نعیم: ابو نعیم الاصبھانی، معرفۃ الصحابۃ، ص: ۵۹۹، حدیث نمبر::۱۶۹۳، مطبوعہ:دارالکتب العلمیہ، بیروت 10۔ وَعَنْ أَبِي قَبِيلٍ، قَالَ: لَمَّا قُتِلَ الْحُسَيْنُ احْتَزُّوا رَأْسَهُ وَقَعَدُوا فِي أَوَّلِ مَرْحَلَةِ يَشْرَبُونَ النَّبِيذَ، فَخَرَجَ عَلَيْهِمْ قَلَمٌ مِنْ حَدِيدٍ مِنْ حَائِطٍ فَكَتَبَ بِسَطْرِ دَمٍ: أَتَرْجُو أُمَّةٌ قَتَلَتْ حُسَيْنًاشَفَاعَةَ جَدِّهِ يَوْمَ الْحِسَابِ