ISLAM WITH EMAN
Відкрити в Telegram
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات... ایڈمن سے رابطہ کیلئے: @syedsajjadhamdani
Показати більше1 284
Підписники
-124 години
-17 днів
-830 днів
Архів дописів
1 284
🔷 برائی کی جڑ کو ختم کرو 🔷
ایک عرب قبیلے کے شیخ کو جب معلوم ہوا کہ اس کے جانوروں میں سے ایک مرغا غائب ہے تو اس نے فوری طور پر اپنے ملازم گمشدہ مرغے کی تلاش میں ادھر ادھر دوڑائے‘ خود بھی ٹیلوں پر چڑھ کر دیکھا لیکن مرغا نہ ملا۔ رات گئے تک جاری رہنے والی یہ تلاش ختم ہوگئی ‘ کسی ملازم نے کہا‘ کوئی بھیڑیا مرغے کو لے گیا ہوگا۔ اس پر شیخ نے مرغے کے پروں کا مطالبہ کرڈالا تو ملازم اپنا سا منہ لے کر رہ گیا۔ اگلے روز شیخ نے اونٹ ذبح کروائے اور تمام قبیلے والوں کو کھانے سے پہلے مرغے کی تلاش میں مدد کی درخواست کی۔ سب لوگ حیرت زدہ تھے کہ اتنا امیر آدمی اور ایک مرغے کے لیے بے چین۔ قبیلے والوں نے شیخ کی درخواست سنی اَن سنی کی اور کھانا کھا کر چلے گئے۔ چند دن بعد قبیلے میں سے کسی کی بکری گم ہوئی تو شیخ نے ایک بار پھر اونٹ ذبح کیا‘ قبیلے والوں کو بلایا اور مرغے کی تلاش میں مدد کی درخواست کی۔ اس بار قبیلے والوں میں سے چند ایک نے تو اسے پاگل پن سے تعبیر کیا کہ معاملہ بکری کا ہے اوربات مرغا تلاش کرنے کی ہو رہی ہے۔ خود شیخ کے بیٹوں نے گھر آئے مہمانوں سے والد کے طرزِعمل کی معذرت کی اور بات رفع دفع ہوگئی۔ کچھ عرصہ گزرا کہ ایک اونٹ غائب ہوگیا۔ شیخ نے پھر وہی کیا‘ اونٹ ذبح ہوا‘ دعوت ہوئی اوراور گمشدہ مرغے کو ڈھونڈنے کی ترغیب دی۔ اب کی بار تو لوگوں نے دھمکی ہی دے ڈالی کہ اگر شیخ نے پاگل پن کی یہ باتیں جاری رکھیں تو سرداری سے معزول کردیاجائے گا۔ شیخ نے یہ ماحول دیکھا تو چپ سادھ لی۔ مہینہ بھر گزرا ہوگا کہ قبیلے کی ایک نوجوان لڑکی غائب ہوگئی۔لڑکی کا غائب ہونا قبیلے والوں کی غیرت پر تازیانہ تھا۔ اب کی بار شیخ نے پھر وہی کیا۔ لوگ اکٹھے ہوئے تو انہیں اپنے مرغے کی تلاش پر قائل کرنے لگا۔یہ سن کر لوگوں نے اسے خوب برا بھلا کہا اور لڑکی کی تلاش میں نکل گئے۔ کھوجیوں کی خدمات حاصل کی گئیں‘ کنوؤں میں جھانکا گیا‘ نوجوانوں کی ٹولیاں دور دور تک نکل گئیں ۔ آخرکار کسی نے خبر دی کہ فلاں پہاڑ کے ایک غار میں کچھ لوگ پوشیدہ طور پر رہ رہے ہیں۔ قبیلے والوں نے اس غار پر چھاپہ مارا تومعلوم ہوا کہ یہ ڈاکوؤں کا بسیرا ہے اور انہی نے لڑکی اغوا کی تھی۔ اس غار کے قریب سے ہی گمشدہ اونٹ‘ بکری اور شیخ کے مرغے کی باقیات بھی مل گئیں۔ لڑکی مل جانے کے بعد لوگوں کو خیال آیا کہ دراصل شیخ اپنے مرغے کی بازیابی کے لیے نہیں بلکہ انہیں کسی بڑے نقصان سے بچانے کے لیے ان سے مدد مانگ رہا تھا۔
🔘 اس حکایت کا پس منظر تو یقینا عرب ہے لیکن اس کا سبق عالمگیر ہے‘ جو اسی طرح کی سینکڑوں کہانیوں اور ضرب الامثال میں لپیٹ کرپچھلی نسل نے اگلی نسل تک پہنچا دیا ہے‘ یعنی جب تک پہلی غلطی کو درست نہیں کیا جاتا‘ کچھ بھی ٹھیک نہیں ہوسکتا۔ تباہی کسی ایک غلطی کا نتیجہ نہیں ہوتی بلکہ اپنی غلطی کو حکمت عملی سمجھ لینے سے ہوتی ہے۔
🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی معلومات کے لئے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 284
عیدالفطر کیلئے سو سالہ کیلنڈر جو کہ ابھی تک درست ثابت ہوا ہے اس کے مطابق امسال 29 روزے اور عیدالفطر 31 مارچ 2025 بروز پیر کو ہی ہوئی ہے۔
1 284
بلیک_میلنگ
خدانخواستہ اگر کسی خاتون نے اپنی ذاتی (صاف ستھری ناقابلِ اعتراض) تصویریں کسی دوست /کزن / کلاس فیلوز کے ساتھ یا کسی کلوزڈ گروپ میں شئیر کیں اور وہاں سے کسی بلیک میلر نے اٹھا کر AI کی مدد سے انہیں فحش تصاویر میں کنورٹ کر دیا تو اس واردات سے خود کو محفوظ کرنے کے لیے،
آپ اپنی اصل تصاویر اور ایڈٹ شدہ Morphed تصویریں ایک ویب سائٹ stop ncii org پر پوسٹ کر کے تمام تصاویر انٹرنیٹ سے Delete کروا سکتے ہیں،
ہوگا یہ کہ اگر بلیک میلر کسی بھی قسم کے فائدے کے لیے آپ کو Morphed تصویریں وائرل کرنے کی دھمکیاں دے اور خدانخواستہ پوسٹ کر بھی دے.
تو آپ نے مذکورہ ویب سائٹ پر جا کر دونوں تصاویر (یعنی اصل اور Morphed) کو اس ویب سائٹ پر موجود Create a case کے آپشن میں جا کر پوسٹ کر دینا ہے،
ویب سائٹ آپ سے ان تصاویر کے بارے میں کچھ بنیادی معلومات حاصل کرے گی اور ویریفیکیشن کرکے تمام Morphed تصویروں کو انٹرنیٹ پر جہاں جہاں بھی یہ شئیر/ پوسٹ ہوئی ہیں وہاں سے ڈیلیٹ کر دے گی.
ان معاملات میں ہر صورت گھر والوں کو اعتماد میں لیں اور سائبر کرائم میں رپورٹ کریں. یہ پوسٹ زیادہ سے زیادہ شیئر کریں اکاؤنٹ فا لو ضرور کریں
2nd method
بلیک میل ہونا چھوڑئیے ۔۔
اگرکوئی مرد عورت آپکو بلیک میل کرنےکی کوشش کرےیا آپکو آپکےپرسنل ڈیٹا (تصاویر/ ویڈیوز)کو لیک آؤٹ کرنےکی دھمکی دےتو اس صورت میں قانونی رہنمائی کے لیے ڈیجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن پاکستان سےرابطہ کریں.
0800-39393
ایف آئی اے میں ڈائریکٹ کمپلین کرنےکیلیےیہ سائبر کرائم ہیلپ لائن نمبر 9911 ڈائل کریں یا پھر آن لائن شکایت درج کروانے کے لیے helpdesk@nr3c.gov.pk پر ای-میل کریں۔
یہ آپکی شناخت بناسامنےلائےآپکی شکایت درج کرانےمیں نہ صرف آپکی مدد کرینگےبلکہ محکمہFIAاس شکایت پرسخت کاروائی بھی کرےگا-
Cyber Crime Reporting Centers Phone Numbers:
Islamabad (ICT) 051-9262106, 051-9262107-08
Rawalpindi 051-9330717, 051-9334919,051-9330720
Lahore 042-99332744
Peshawar 091-9217109
Quetta 081-2870057
Karachi 021-99333950
Multan 061-9330999
Sukkar 071-9310849
Faisalabad 041-9330865
Gujranwala 055-9330015-16
Dera Ismail Khan 0966-852945
Hyderabad 022-9250009
Gawadar 0322-2451500
Gilgit 05811-920409
Abbottabad 099-2384148
اس پوسٹ کو زیادہ سےزیادہ شیئرکریں اور ہماری ان بہنوں/بھائیوں کی مددکریں جو اس حوالے سےکسی پریشانی میں مبتلاہیں۔
...کاپیڈ...
...منقول...
1 284
🌹 فرمانبردار بیٹا 🌹
ایک نوجوان اپنے بوڑھے ماں باپ کے ساتھ کسی مہنگے ہوٹل میں کھانا کھانے گیا۔ ماں باپ تو نہیں چاہتے تھے، لیکن بیٹے کی خواہش تھی کہ وہ انہیں کسی مہنگے ہوٹل میں ضرور کھانا کھلائے گا، اِسی لیے اُس نے اپنی پہلی تنخواہ ملنے کی خوشی میں ماں باپ جیسی عظیم ہستیوں کے ساتھ شہر کے مہنگے ہوٹل میں لنچ کرنے کا پروگرام بنایا۔
باپ کو رعشے کی بیماری تھی، اُسکا جسم ہر لمحہ کپکپاہٹ میں رہتا تھا، اور ضعیفہ ماں کو دونوں آنکھوں سے کم دیکھائی دیتا تھا۔ یہ شخص اپنی خستہ حالی اور بوڑھے ماں باپ کے ہمراہ جب ہوٹل میں داخل ہوا تو وہاں موجود امیر لوگوں نے سیر سے پیر تک اُن تینوں کو یوں عجیب و غریب نظروں سے دیکھا جیسے وہ غلطی سے وہاں آ گئے ہوں۔
کھانا کھانے کیلئے بیٹا اپنے دونوں ماں باپ کے درمیان بیٹھ گیا۔ وہ ایک نوالہ اپنی ضیعفہ ماں کے منہ میں ڈالتا اور دوسرا نوالہ بوڑھے باپ کے منہ میں۔ کھانے کے دوران کبھی کبھی رعشے کی بیماری کے باعث باپ کا چہرہ ہل جاتا تو روٹی اور سالن کے ذرے باپ کے چہرے اور کپڑوں پر گر جاتے۔ یہی حالت ماں کے ساتھ بھی تھی، وہ جیسے ہی ماں کے چہرے کے پاس نوالہ لے جاتا تو نظر کی کمی کے باعث وہ انجانے میں اِدھر اُدھر دیکھتی تو اُس کے بھی منہ اور کپڑوں پر کھانے کے داغ پڑ گئے تھے۔
اِردگرد بیٹھے لوگ جو پہلے ہی انہیں حقیر نگاہوں سے دیکھ رہے تھے، وہ اور بھی منہ چڑانے لگے کہ، "کھانا کھانے کی تمیز نہیں ہے اور اتنے مہنگے ہوٹل میں آ جاتے ہیں۔۔۔!"۔ بیٹا اپنے ماں باپ کی بیماری اور مجبوری پر آنکھوں میں آنسو چھپائے، چہرے پر مسکراہٹ سجائے۔ اِردگر کے ماحول کو نظرانداز کرتے ہوئے، ایک عبادت سمجھتے ہوئے انہیں کھانا کھلاتا رہا۔
کھانے کے بعد وہ ماں باپ کو بڑی عزت و احترام سے واش بیسن کے پاس لے گیا، وہاں اپنے ہاتھوں سے اُنکے چہرے صاف کیے، کپڑوں پر پڑے داغ دھوئے اور جب وہ انہیں سہارا دیتے ہوئے باہر کی جانب جانے لگا تو پیچھے سے ہوٹل کے مینجر نے آواز دی اور کہا،
"بیٹا! تم ہم سب کیلئے ایک قیمتی چیز یہاں چھوڑے جا رہے ہو۔۔۔!"
اُس نوجوان نے حیرانگی سے پلٹ کر پوچھا، "کیا چیز۔۔۔؟"
مینجر اپنی عینک اُتار کر آنسو پونچھتے ہوئے بولا۔۔۔!
"نوجوان بچوں کیلئے سبق اور بوڑھے ماں باپ کیلئے اُمید۔۔۔!"
🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی معلومات کے لئے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 284
وہ چھ ماہ منانے نہیں آئے تو مان لو کہ تم نے اپنے آپ کو ناگزیر نہیں بنایا۔
اب کیا کرنا ہے؟
دو طلاقوں کے بعد آپشنز محدود تر ہو چکے ہیں۔ ایک ایسا گھرانا جو ائیڈیل ہو ملنا مشکل ہے۔ کوئی ڈھنگ کا بندہ اس کمپرومائز پر آ بھی جائے تو آپ کو بھی کچھ کمپرومائز کرنے پڑیں گے۔ وہ مرد کی عمر ہو، اسٹیٹس ہو، عادات ہوں، یا پھر شکل و صورت، قد ، حلیہ وغیرہ ۔ ۔
تو باقی لڑکیوں کے لیے سبق کیا ہے؟
احتیاط کریں، اور ان آنٹیوں کی باتوں میں مت آئیں جو کہتی ہیں کہ ساس کی خدمت آپ پر فرض نہیں ہے۔ ان آنٹیوں نے اپنے گھر جو بچا رکھے ہیں، بالکل ساس کی خدمت کر کے بچائے ہیں۔ مگر اپنے اندر زہر بھر کر اب اپنی ہی بیٹیوں کے کانوں میں انڈیل رہی ہیں ۔ ۔ کہ میری بیٹی کے ساتھ ایسا نہ ہو ۔ ۔ ایسا کیا؟؟؟ بیٹی کی شادی نہ ہو؟ یا دو دفعہ (خدا نخواستہ) طلاق ہو جائے مگر بیٹی گھر نہ بسا سکے؟
یاد رکھیے، عورت جتنی جتنی آزاد ہو رہی ہیں، اتنی زیادہ عورتیں مرد کو آپشن میں مل رہی ہیں۔
غور تو کیجیے۔ ۔ ۔ دس سال پہلے مرد کو دوسری بیوی ڈھونڈنا بہت مشکل ہوتا تھا۔ ۔ ۔ آج کئی آزاد لڑکیاں اسکے وٹس ایپ کے ایک ٹچ پر دستیاب ہو چکی ہیں۔ ۔ ۔ ایسے میں گھر بسانا اور اپنے مرد کو سیکیور کرنا آپ کے لیے بڑا چیلنج بن چکا ہے۔
ضد اور انا کی جنگ لڑنا ہے تو کوئی بات نہیں۔ آپ کو بس اس زندگی کی ایک جھلک دکھلانا ہے۔ وہ دیکھ لیجیے۔ کسی بھی اکیلی رہتی آنٹی کے ساتھ کچھ دن خاموشی سے گذاریے، اور اسکے روز و شب نوٹ کیجیے۔ پھر وہ زندگی اچھی لگے تو ۔ ۔ ۔ بالکل مرد کو گالی دیجیے ۔ ۔ اور دفعان کیجیے۔
🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی معلومات کے لئے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman/6069
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 284
🔷 موجودہ دور کی عورت 🔷
اسکی شادی ہوئی اور تین ماہ میں طلاق ہو گئی۔ وہ فیملی اچھی نہیں تھی۔
والدین نے عدت کے بعد دوسری جگہ شادی کروا دی۔
وہ بندہ اپنے ماں باپ کی سنتا تھا۔ اس کی ماں اور بہن جو کہتی تھیں وہ سچ سمجھتا تھا، بیوی جو کہتی تھی وہ جھوٹ سمجھتا تھا۔ خود کی کوئی سوچ سمجھ ہی نہیں تھی۔
لڑکی اپنے والدین کے گھر آ گئی۔ کچھ عرصے بعد ۔ تو چھ ماہ تک کوئی پوچھنے بھی نہیں آیا۔ پھر سسرال نے ڈائریکٹ طلاق کے کاغذات بھجوا دیے۔
لوگ طعنے مارتے ہیں اسے۔ بہت ڈپریس ہو گئی ہے وہ ، دوبارہ شادی نہیں کرنا چاہتی۔
اب وہ کیا کرے؟ والدین اسکی پھر سے شادی چاہتے ہیں۔ دو بار کی طلاق کے بعد اچھے رشتے کیسے ملیں گے؟ شادی کے بغیر اکیلی اس معاشرے میں کیا کریگی؟
خواتین! یہ ہے وہ سیناریو۔ ۔
یہ ہے وہ مسئلہ جو آپ کی زہریلی پوسٹوں اور کامنٹس سے بن رہا ہے۔
آپ کے بغیر سوچے سمجھے مشورے، جو آپ نے اپنے حالات، اپنے تعصبات اور میڈیا کے شور میں خیالات بنائے ہیں، انکا نتیجہ ہے۔
فیمنزم اور رومانویت مل کر لڑکیوں کے ذہنوں کو اس طرح متاثر کر رہے ہیں کہ انکو حقیقی زندگی میں چیلنجز سے نمٹنا ہی نہیں آتا۔ وہ اپنی ہی خیالی دنیا میں مگن ہیں۔ ماں باپ کی سننا تو اس نسل نے ویسے کم کر دیا ہے۔ میڈیا، ٹک ٹوک، فیمنسٹ بیبیاں مل کر ان لڑکیوں کی جو ذہن سازی کر رہی ہیں، اس کے مطابق:
۔ جیسے ہی شادی ہوگی، خاوند اس کے ہر مسئلے کا حل نکالے گا
۔ اس پر شادی میں کوئی زمہ داری نہیں ہوگی۔
۔ شادی صرف پھولوں کی سیج ہوگی، کوئی مشکل نہیں ہوگی
۔ شادی صرف خاوند سے ہوگی، خاوند کی جاب، والدین، گھر، دوست وغیرہ وہ سب چھوڑ دیگا۔ اور اسکی ناز برداری میں لگا رہیگا۔
۔ روپے پیسے کا کوئی مسئلہ نہیں ہوگا، بس کھانا پینا، سونا اور موج مستی ہوگی۔
ان خیالات کے ساتھ جب لڑکی شادی میں داخل ہوتی ہے تو پہلے ہی دن سے اسکو خاوند اور اسکے والدین برے لگنا شروع ہو جاتے ہیں۔ انکی کہی ہوئی عام سی باتیں بھی اسکو قید میں جیلر کی ڈانٹ لگتی ہیں۔
خاوند سمجھاتا ہے تو دشمن لگتا ہے۔ رومینس کا بیڑا غرق ہو جاتا ہے۔ اور اسکو لگتا ہے کہ اسکی شادی غلط لوگوں میں ہو گئی ہے۔ "فیملی ٹھیک نہیں تھی" یہ جملہ اوپر کہانی میں پھر پڑھیے (یہ سچی کہانی ہے، بس کچھ تبدیلی کی گئی ہے) ۔ ۔
کیسے ٹھیک نہیں تھی فیملی بھئی؟
دراصل لڑکی اپنے پہلے سے سیٹ کردہ ذہن کے مطابق خاوند کو مسلسل چوبیس گھنٹے کے لیے انگیج کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ بہنوں اور ماں کو برا لگتا ہے۔ وہ بھی ردعمل دیتی ہیں۔ دونوں میں کھینچا تانی میں مرد جو کہ اکثر کیسز میں خود بھی ابھی ایک "بونترا ہوا" لڑکا ہی ہوتا ہے، کو کچھ سمجھ نہیں آتی کہ کس کا ساتھ دے کس کا نہ دے؟
آپ میں سے جو مرد حضرات کاروباری ہیں، بتائیں کہ آپ ایک کمپنی سے بیس سال سے سودا لے رہے ہیں، دوسری کمپنی آپکو اچانک آ کر بتائے کہ پہلے والے فراڈ ہیں، آپ صرف ہمارا مال خریدا کریں؟ تو آپ کیا کریں گے؟ اچانک بغیر وجہ کے بھروسہ کر لیں گے؟ ہرگز نہیں ۔ ۔ بلکہ نئی کمپنی کے کنڈکٹ پر مشکوک ہو جائینگے۔ ۔ ۔ ہاں، اگر نئی کمپنی اپنی پروڈکٹ اچھی کوالٹی، اچھی قیمت، اور اچھی سروس کے ساتھ مہیا کرے، اور مسلسل کچھ عرصے تک مہیا کرتی رہے تو ممکن ہے کہ آپ پہلے والی کمپنیوں کے ساتھ نئی کمپنی سے بھی مال لینا شروع کر دیں۔
ایسا ہی ایک سمجھدار لڑکا کرتا ہے۔ جوانی، جذبات، اور عاشقی میں اندھے ہونے کے باوجود ستر اسی فیصدی مرد انصاف کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ باقی تیس فیصد میں سے کچھ ماں اور بہنوں کی باتوں میں آ کر گھر توڑ بیٹھتے ہیں، یا پھر بیوی کی باتوں میں آ کر اپنے رشتے کھو بیٹھتے ہیں۔
مسئلہ یہ ہے کہ سمجھدار مرد جو آپ کا ساتھ نہیں دیتا، آپ کو لگتا ہے وہ صرف ماں اور بہن کی سنتا ہے۔ آپ کے سچ کو سچ نہیں مانتا۔ کاش کوئی آپ کو سمجھا دیتا کہ آپ کا خاوند آپ کا سچ جاننے کے باوجود ابھی بہنوں کو مارجن دے رہا ہوتا ہے، اور کہیں وہ بہنوں اور ماں کے سچ کے باوجود آپ کو مارجن دے رہا ہوتا ہے۔
غیر حقیقی توقعات ہی ہوتی ہیں، جس کی وجہ سے فیملی اچھی نہیں لگتی، حالانکہ نوے فیصدی ہر خاندان ایک جیسا ہوتا ہے، دس فیصد آئیڈیل کیسز ہوتےہیں، مگر انکی تہہ میں بھی کوئی نہ کوئی راز ہوتا ہے، اللہ ان خاندانوں سے بچائے (وہ صرف فکشن میں بیان کیے جا سکتے ہیں)
پہلی طلاق فوری ہوئی۔
دوسری طلاق کچھ سال بعد۔
فرق دیکھیے۔
پہلی طلاق بھی معمولی وجہوں پر ہوئی تھی۔ اتنی فوری طلاق میں میں نے سو فیصد معمولی وجوہات یا انا کے مسائل دیکھے ہیں۔
دوسری طلاق میں بھی جو وجہ بیان کی گئی ہے۔ صاف نظر آتا ہے کہ لڑکے کو اپنی جانب کرنے کی کوشش پہلے روز سے شروع ہو گئی تھی۔ بالاخر ناکامی پر آخری حل تلاش کیا گیا کہ ناراض ہو کر گھر آ گئی۔ ۔ ۔ سیانی عورت! اگر ناراضگی کا ہتھیار استعمال کرنا ہو تو پہلے اپنے آپ کو ناگزیر بناتے ہیں۔ ۔ اور لکھ لو، پھوہڑ عورت کبھی اپنے آپ کو ناگزیر نہیں بنا سکتی۔ ۔
1 284
🔷 جنگل کا سکول 🔷
ایک جنگل کے باسیوں کو تعلیم یافتہ ہونے کا بھوت سوار ہوا اور اس سوچ میں جنگل کے دانشمند الو صاحب کا بڑا ہاتھ تھا وہ جانوروں کو تعلیم کی طرف راغب کرنے میں کامیاب ہوچکے تھے۔
ایک دن جنگل کے سارے جانور اکٹھے ہوئے تا کہ اس اہم معاملے پر پیش رفت ہوسکے ۔کافی سوچ وبچار کے بعد تمام جانور ایک اسکول بنانے پر متفق ہوگۓ۔ الو صاحب کی سربراہی میں، خرگوش، کوا، گلہری اور بطخ نصاب بنانے کے ذمہ دار قرار پائے۔
خرگوش نے بھاگنے، کوے نے اڑنے اور بطخ نے تیراکی کو نصاب کا حصہ بنانے کی سفارش کی، جبکہ گلہری کی ضد پر درختوں کے اوپر چڑھنا بھی نصاب میں شامل کر لیا گیا۔ اسکول انتظامیہ نے تمام تجاویز پر غور کیا اور منظوری دے دی کہ سارے جانور تمام مضامین کو پڑھیں گے۔
جب سال کے آخر میں نتیجہ آیا تو تمام جانوروں کی کارکردگی رپورٹ کچھ یوں بنی خرگوش نے دوڑنے میں تو 100 نمبر حاصل کرلیۓ لیکن درختوں پر چڑھنے تیراکی کرنے اور فضا میں اڑنے میں پاس نمبر حاصل نہ کر سکا۔ پرندوں نے اڑنے میں تو مکمل نمبر لے لئے، لیکن زمین پر دوڑنا اور پانی میں تیراکی کرنا انکے لئے سخت امتحان تھا سو ان میں وہ کامیاب نہ ہوسکے۔ گلہری کیلئے درختوں پر چڑھنا اترنا تو بائیں ہاتھ کا کھیل تھا لیکن اڑنے اور تیرنےمیں فیل ہوگئ۔
اسکول کے سب ذمہ داران اور منتظمین اس بات پر تو خوش تھے کہ تمام جانور تمام مضامین پڑھ رہے ہیں مگر کارکردگی کے نتائج انکے لیۓتشوشناک تھے ۔
تو جناب الو صاحب کیونکہ ایک دانشور تھے انھوں نے سوچ وبچار کے بعد تجزیہ کیا کہ اصل میں بات یہ ہیکہ ہرفرد ایک منفرد خداداد قابلیت رکھتا ہے اور یہ ممکن نہیں ہر فرد میں تمام قسم کی اہلیت پیدا کی جاسکیں۔
🔘 تعلیم دراصل شعور اور آگہی دیتی ہے جس سے طالب علم اپنے اندر چھپی قابلیت کو کھوجتا ہے اور اس تعلیم کی روشنی میں اسے مزید نکھارتا ہے۔
🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی معلومات کے لئے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 284
🔷 پاکستانی سائنسدانوں کی ایجادات 🔷
پاکستان کی وہ ایجادات جو دنیا میں مقبول ہوئیں۔۔۔
جب ہم ترقی یافتہ ممالک کی بات کرتے ہیں تو زیادہ تر لوگوں کو لگتا ہے کہ بڑی ایجادات صرف مغربی دنیا نے کی ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ پاکستان نے بھی کچھ ایسی حیرت انگیز ایجادات کی ہیں جو پوری دنیا میں مقبول ہوئیں اور آج بھی کئی شعبوں میں استعمال ہو رہی ہیں۔ آئیے جانتے ہیں پاکستان کی چند زبردست ایجادات کے بارے میں جو عالمی سطح پر پہچانی جاتی ہیں۔
---
1. USB (Universal Serial Bus) - کمپیوٹر کی دنیا میں انقلاب
USB ایک عام سی چیز لگتی ہے، مگر یہ وہ ایجاد ہے جس نے کمپیوٹر کی دنیا بدل کر رکھ دی۔ بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ اس کے موجد ایک پاکستانی نژاد امریکی سائنسدان اجاز علی گل تھے۔ USB کے ذریعے ڈیٹا کو آسانی سے ایک ڈیوائس سے دوسری ڈیوائس میں منتقل کرنا ممکن ہوا۔ آج ہر کمپیوٹر، لیپ ٹاپ، اور اسمارٹ فون میں USB پورٹس موجود ہیں، جو اس کی اہمیت کو ظاہر کرتے ہیں۔
---
2. انٹی وائرس سافٹ ویئر - دنیا کے پہلے انٹی وائرس بنانے والے پاکستانی
دنیا کا پہلا کمپیوٹر انٹی وائرس "Brain" 1986 میں دو پاکستانی بھائیوں باسط فاروق علوی اور امجد فاروق علوی نے بنایا تھا۔ اس وقت کمپیوٹر وائرس ایک نیا مسئلہ تھا اور ان کا بنایا گیا انٹی وائرس سافٹ ویئر اسے روکنے کے لیے ایک انقلابی قدم تھا۔ آج کے جدید انٹی وائرس اسی بنیادی تصور پر بنائے جاتے ہیں جو ان پاکستانی بھائیوں نے دیا تھا۔
---
3. دنیا کا سب سے چھوٹا دل کا اسٹنٹ (Stent) - ڈاکٹر ثمر مبارک مند کی ٹیم کی کامیابی
پاکستان کے سائنسدان ڈاکٹر ثمر مبارک مند کی ٹیم نے دنیا کا سب سے چھوٹا اور جدید دل کا اسٹنٹ تیار کیا، جو دل کی بند شریانوں کو کھولنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ یہ اسٹنٹ دنیا بھر میں دل کے مریضوں کے لیے ایک بہترین ایجاد ثابت ہوا ہے اور آج بھی اسے کئی ممالک میں استعمال کیا جاتا ہے۔
---
4. نیوکلئیر ٹیکنالوجی (ایٹمی ہتھیار) - پاکستان دنیا کی پہلی مسلم ایٹمی قوت
پاکستان نے 28 مئی 1998 کو کامیاب ایٹمی دھماکے کرکے دنیا کو حیران کر دیا تھا۔ یہ کارنامہ پاکستانی سائنسدان ڈاکٹر عبد القدیر خان اور ان کی ٹیم نے انجام دیا۔ پاکستان دنیا کی پہلی مسلم اور ساتویں عالمی ایٹمی طاقت بن گیا۔ اس کامیابی کے بعد کئی ممالک نے پاکستان کی نیوکلئیر ٹیکنالوجی میں دلچسپی لینا شروع کی اور اس کا اثر آج بھی عالمی دفاعی شعبے میں موجود ہے۔
---
5. "Saffron Tea" - پاکستان کی سائنسی طور پر ثابت شدہ جڑی بوٹی والی چائے
پاکستانی سائنسدانوں نے زعفران کی چائے کو طبی تحقیق کے بعد عالمی سطح پر متعارف کروایا، جو دل کے امراض، ذہنی دباؤ اور مدافعتی نظام کو مضبوط بنانے میں مدد دیتی ہے۔ یہ چائے اب مختلف ممالک میں سپر فوڈ کے طور پر فروخت ہو رہی ہے۔
---
6. ایدھی ایمبولینس سروس - دنیا کی سب سے بڑی فلاحی ایمبولینس سروس
پاکستانی سماجی کارکن عبد الستار ایدھی نے دنیا کی سب سے بڑی نجی ایمبولینس سروس کی بنیاد رکھی، جو آج بھی لاکھوں زندگیاں بچا رہی ہے۔ ان کی فلاحی خدمات کو دنیا بھر میں سراہا گیا اور کئی ممالک میں ان کے طرز پر ایمبولینس سروسز شروع کی گئیں۔
---
7. پاکستان کا مقامی جے ایف-17 تھنڈر جنگی طیارہ
پاکستان نے چین کے تعاون سے جے ایف-17 تھنڈر جنگی طیارہ تیار کیا، جو آج کئی ممالک کی فضائیہ کا حصہ بن چکا ہے۔ اس طیارے کی خصوصیات اور لاگت اسے دنیا کے بہترین جنگی طیاروں میں شامل کرتی ہیں۔
---
نتیجہ
پاکستان ایک باصلاحیت قوم ہے جس نے کئی ایسی ایجادات کی ہیں جو دنیا میں آج بھی استعمال ہو رہی ہیں۔ ہماری یونیورسٹیوں اور سائنسدانوں کی تحقیق نے ثابت کیا ہے کہ اگر وسائل اور مواقع دیے جائیں تو پاکستان جدید سائنسی اور تکنیکی دنیا میں ایک اہم مقام حاصل کر سکتا ہے۔.
🌹🌹🌹🌹🌹
1 284
سورج اور زمین کے درمیان پندرہ کروڑ کلومیٹر کا فاصلہ ہے۔زمین پر سورج کی روشنی 8.3 منٹ کے بعد آتی ہے۔اگر یہ سورج ابھی تباہ ہو جائے تو ہمیں اس کا پتہ 8.3 منٹ کے بعد چلے گا۔یعنی زمین کے لمحہ موجود اور سورج کے لمحہ موجود میں 8.3 منٹ کا فرق ہے۔جو سورج ہمیں نظر آتا ہے وہ 8.3 منٹ پہلے کا ہوتا ہے۔
لیکن اگر لمحہ موجود کا یہی فرق بڑھتے بڑھتے پچیس لاکھ نوری سال ہو جائے تو۔۔۔؟یہ فاصلہ پچیس لاکھ نوری سال ہو سکتا ہے اگر ہم سورج کی طرف نا دیکھیں بلکہ کہکشاں M.31 کی طرف دیکھیں ۔۔۔M31 کہکشاں زمین سے اتنی دور ہے کہ اس کی روشنی کو زمین تک آتے آتے پچیس لاکھ نوری سال لگ جاتے ہیں۔۔اگر آج ہم کہکشاں M.31 کا مشاہدہ دور بین سے کرتے ہیں تو ہمیں پچیس لاکھ نوری سال پہلے کے مناظر نظر آئیں گے۔۔ہو سکتا ہے لمحہ موجود میں وہ کہکشاں تباہ ہو چکی ہو۔۔وہ کہکشاں لمحہ موجود میں موجود بھی ہے کہ نہیں ؟ یہ سب جاننے کیلیے ہمیں مزید پچیس لاکھ نوری سال انتظار کرنا ہو گا۔۔مختصر یہ کہ ہم اجرام فلکی کو ہمیشہ ان کے ماضی میں دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ہم ان کے حال سے بے خبر ہوتے ہیں ۔۔
ہماری زمین سے ستتر سال دوری پہ ایک ستارہ موجود ہے جسے سائنسدان 84 CETI کہتے ہیں ۔اگر کوئی شخص اس ستارے سے ٹیلی سکوپ کے ذریعہ ہماری زمین کا مشاہدہ کر رہا ہو گا تو اسے زمین پہ وہ مناظر نظر آئیں گے جو آج سے ستتر سال پہلے کے تھے۔۔۔وہ شاید قائد اعظم ،مہاتما گاندھی اور لارڈ ماؤنٹ بیٹن کے درمیان مذاکرات دیکھ رہا ہو گا یا پھر قرارداد مقاصد کی روداد سن رہا ہو گا۔۔۔
اس شخص کے نقظہ نظر کے مطابق ابھی ہم پیدا نہیں ہوئے ۔۔شاید اسے ہمارے آباؤ اجداد کپڑوں کے گٹھڑ سر پہ لیے ہجرت کرتے نظر آئیں ۔۔
یا پھر ہمارا کوئی بزرگ جو اب فوت ہو چکا ہے انہیں سکول نہ جانے کی تکرار کرتا نظر آئے۔۔یہ سب ممکن ہے بلکہ عین ممکن ہے ۔البرٹ آئن سٹائن کی تھیوری آف ریلیٹوٹی کے مطابق ماضی، حال اور مستقبل میں کوئی بھی حقیقی تقسیم موجود نہیں ہے۔یہ تینوں وقت ہر وقت موجود رہتے ہیں ۔بالکل DVD پہ کسی فلم کی مانند ۔۔
لیکن ڈی وی ڈی پر موجود مناظر کو ہم جب چاہیں آگے پیچھے کر سکتے ہیں۔ تو کیا ممکن ہے کہ ہم حال سے ماضی یا ماضی سے مستقبل کی طرف غوطہ لگا سکیں ؟
اگر ہمارا ماضی اس وقت بھی موجود ہے تو کیا ہم ماضی کو واپس لا سکتے ہیں ؟
کیا ہم وقت کو روک پائیں گے۔۔؟
کیا ہم اپنے مستقبل کو دیکھ پائیں گے۔۔
تھیوری آف ریلیٹوٹی میں اس کا جواب ہاں ہے۔
کم ازکم نظریہ کی حد تک وقت کو دھوکا دینا عین ممکن ہے۔ان نظریات کے مطابق کائنات میں ہر جگہ وقت گزرنے کی رفتار ایک جیسی نہیں ہوتی ۔۔
کشش ثقل اور رفتار ۔۔۔یہ وہ دو عوامل ہیں جو کسی بھی چیز پہ وقت گزرنے کی رفتار کو کم یا زیادہ کر سکتے ہیں ۔۔۔
🌹🌹🌹🌹🌹
1 284
🎅 خوش فہمیاں 🎅
"کتنے پیسے بھیجوں بیٹا؟"
میں نے اپنی ریڑھی سے آلو اٹھا کر ہوا میں اچھالتے ہوئے پوچھا۔ دوسرے ہاتھ میں فون تھا جس پر میرا بیٹا مجھ سے بات کر رہا تھا۔
"ابو ایک سو روپے بھیجیں گے تو ہمیں ایک ماہ کے لیے کافی ہیں"، بیٹے نے جواب دیا۔
"ایک سو روپے کے کتنے ڈالرز بنتے ہیں؟" میں نے سوال کیا۔
"بیس ہزار ڈالرز ابو"، بیٹے نے جواب دیا۔
میں امریکہ سے بسلسلہ روزگار پاکستان آیا تھا۔ میں نے امریکہ سے انفارمیشن ٹیکنالوجی میں پی ایچ ڈی کیا تھا لیکن پاکستان میں میری ڈگری بی اے کے برابر تھی اور یہاں ہر کوئی پی ایچ ڈی تھا۔ اس لیے نوکری نہ ملی تو سبزی کی ریڑھی لگا لی۔ میرا تعلق کیلیفورنیا سے ہے۔ پاکستان میں آیا تو پتہ چلا یہاں انگریزی زبان پر پابندی ہے۔ اس لیے مجھے اردو سنٹر میں داخلہ لے کر اردو سیکھنا پڑی۔ اس دوران مجھے بیروزگاری الاؤنس کے تحت ماہانہ اتنے پیسے مل جاتے کہ تین ماہ میں میری فیملی نے واشنگٹن میں اپنا ذاتی گھر خرید لیا۔
"بیٹا اتنے کم مت مانگا کرو۔ یہاں میں ماہانہ دو لاکھ روپے کما لیتا ہوں۔ ٹیکس ادا کر کے میرے پاس اس وقت تین کروڑ روپے اکٹھے ہو چکے ہیں۔ سارے بھیج دیتا ہوں"، میں نے کہا۔
"ابو ہمیں پیسے نہیں چاہییں۔ ہمیں نکالیں یہاں سے۔ نہیں رہنا ہم نے اس گندے ملک میں۔ ہمیں بھی پاکستان لے چلیں"، میرا بیٹا اپنا مستقبل پاکستان میں بنانے پر بضد تھا۔
"بیٹا تمہاری امریکی تعلیم یہاں کسی کام کی نہیں۔ تمہاری اردو ابھی اتنی اچھی نہیں کہ تمہیں یہاں کلرک کی نوکری بھی ملے۔ رشوت سفارش کا تو پاکستان میں تصور بھی نہیں۔ یہ پاکستانی ہم امریکیوں جیسے کرپٹ نہیں ہیں۔ اور ویسے بھی دنیا کی ٹاپ پانچ سو یونیورسٹییز ساری پاکستان میں ہیں۔ عالمی نمبر ون یونیورسٹی آف منڈی بہاولدین میں داخلے کے لیے تمہیں دوبارہ پیدا ہو کر آنا پڑے گا پاکستانی شہریت کے ساتھ۔
پاکستانی ڈگری کے بغیر تمہیں یہاں نوکری ملنا ممکن ہی نہیں۔ تم ایسا کرو یہاں کی کسی دیہی یونیورسٹی میں آن لائن اپلائی کرو۔ شاید داخلہ مل جائے!" میں نے مایوس لہجے میں کہا۔
"جی ابو۔ اچھا یاد آیا۔ امی کا کینسر اب لاعلاج ہو گیا ہے۔ یہاں کے نیشنل ہیلتھ انسٹیٹیوٹ کے بورڈ نے کہا ہے کہ اب ان کا علاج پاکستان کے علاوہ دنیا میں کہیں نہیں ہو سکتا!" بیٹے نے پریشان ہو کر بتایا۔
"بیٹا تم فوراً ویزہ اپلائی کرو۔ یہاں علاج دوا سب مفت ہے۔ تم لوگ فوراً آ جاؤ۔ اچھا ابھی فون بند کرو، گاہک آیا ہے"، یہ کہہ کر میں نے فون بند کر دیا۔
میری ریڑھی دراصل ایک سنٹرلی ایئر کنڈیشنڈ کمپاؤنڈ میں ایک سٹال تھا جہاں پر سبزیاں پھل ڈبوں میں پیک کر کے دیے جاتے تھے۔ کمپاؤنڈ کی چھت سے لٹکی 7 ڈی سکرین پر خبر چل رہی تھی کہ کینیڈین وزیر اعظم کو بینظیر انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر دورانِ تلاشی روک دیا گیا تھا۔
"بہت سخت قوانین ہیں پاکستان کے!" میں نے تاسف سے سوچا۔
اسی دوران کمپاؤنڈ میں ایک برطانوی بھکاری داخل ہوا۔ فوراً کمپاؤنڈ کے سنسر نے خود کار طریقے سے پولیس کو اطلاع کر دی اور بھکاری ابھی کمپاونڈ کے وسط میں نہ پہنچا تھا کہ باہر پنجاب پولیس کی پندرہ سے بیس ٹربو کاریں آ کر رکیں اور سیاہ وردیوں میں ملبوس لیزر گنز سے مسلح پنجاب پولیس کے بیس پچیس کمانڈوز اندر گھس آئے۔ انھوں نے لیزر ڈیٹیکٹرز سے بھکاری کی تلاشی لی اور غیر مسلح ہونے کی تصدیق کر کے گرفتار کر لیا۔ اگلے دو منٹ میں کمپاؤنڈ کو کلیئر قرار دے کر پنجاب پولیس غائب ہو گئی۔
اسی لمحے سکرین پر خبر آنے لگی کہ جڑانوالہ سبزی منڈی سے ایک بھکاری گرفتار کر لیا گیا۔ ساتھ ہی وزیراعظم کا بیان چلنے لگ گیا جس میں عوام سے اس غفلت پر معافی مانگی گئی اور وعدہ کیا گیا کہ اس بھکاری کو فوراً انگلینڈ کے حوالے کیا جائے گا اور انگلینڈ سے ہرجانہ لیا جائے گا۔
اگلی خبر میں بتایا جا رہا تھا کہ چین اور روس پاکستان سے آسان شرائط پر قرضہ لینا چاہ رہے ہیں لیکن پاکستان نے سابقہ قرضہ کی وصولی کے لیے چین اور روس سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے عوام پر لگائے ٹیکسوں میں اضافہ کریں۔
جس خبر پر مجھے زیادہ دکھ ہوا وہ میرے اپنے ملک کے بارے تھی۔ اسلحہ سازی پر پاکستان کی جانب سے عائد پابندی کی خلاف ورزی کرنے پر پاکستان نے امریکہ پر اقتصادی پابندیاں عائد کر دی تھیں۔
.
مطالعہ پاکستان کے باب "خوش فہمیاں " سے اقتباس...😊😊
😃😃🤡😃😃
https://t.me/muskuraahten
🎅 MUSKURAAHTEN 🎅
