ISLAM WITH EMAN
Відкрити в Telegram
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات... ایڈمن سے رابطہ کیلئے: @syedsajjadhamdani
Показати більше1 278
Підписники
Немає даних24 години
-37 днів
-1330 днів
Архів дописів
1 278
یہاں رہ کر ہم کبھی بھی اپنا گھر نہیں بنا سکیں گے۔ لیکن میں آپ کو پریشان نہیں کرنا چاہتی۔ آپ خود سوچ سمجھ کر فیصلہ کریں۔
آپکی پیاری جان۔ زہرہ
پیاری شریک حیات زہرہ!
انیسواں سال چل رہا ہے پردیس میں، اور بیسواں بھی جلد ہی ہو جائے گا۔ اللہ کے فضل سے ہمارا نیا علیحدہ گھر مکمل ہو چکا ہے۔ اور گھرمیں آج کے دور کی تمام آسائشیں بھی لگ چکی ہیں۔ اب تمام قرضوں کے بوجھ سے کمر سیدھی ہو چکی ہے میری ، اب میرے پاس ریٹائرمنٹ فنڈ کے سوا کچھ نہیں بچا، میری نوکری کی مدت بھی اب ختم ہو گئی ہے۔ اس ماہ کے اختتام پر کمپنی میرا ریٹائرمنٹ فنڈ جو کہ ۲۵۰۰ ہزار درہم ہے جاری کردے گی۔ اتنے لمبے عرصے اپنے گھر والوں سے دور رہنے کے بعد میں بھول ہی گیا ہوں کہ گھر میں رہنا کیسا ہوتا ہے۔ بہت سے عزیز دنیا سے کوچ کر چکے ہیں اور بہت سوں کی شکل تک مجھے بھول گئی۔ لیکن میں مطمئن ہوں ، اللہ کے کرم ہے کہ میں گھر والوں کو اچھی زندگی مہیا کر سکا اور اپنوں کے کام آسکا۔ اب بالوں میں چاندی اتر آئی ہے اور طبیعت بھی کچھ اچھی نہیں رہتی۔ ہر ہفتہ ڈیڑھ بعد ڈاکٹر کے پاس جانا پڑتا ہے۔ اب میں واپس آکر اپنوں میں رہوں گا۔ اپنی پیاری شریک حیات اور عزیز از جان بچوں کے سامنے۔
تمھارا شریک سفر – جمال
پیارے جمال!
آپ کے آنے کا سن کر میں بہت خوش ہوں۔ چاہے پردیس میں کچھ لمبا قیام ہی ہو گیا لیکن یہ اچھی خبر ہے ۔ مجھے تو آپکے آنے پر کوئی اعتراض نہیں لیکن بڑا بیٹا احمد ہے نا، وہ ضد کر رہا ہے کہ یونیورسٹی آف لاہور میں ہی داخلہ لے گا۔ میرٹ تو اس کا بنا نہیں مگر سیلف فنانس سے داخلہ مل ہی جائے گا۔ کہتا ہے کہ جن کے ابو باہر ہوتے ہیں سب یونیورسٹی آف لاہور میں ہی داخلہ لیتے ہیں۔ پہلے سال چار لاکھ فیس ہے اور اگلے تین سال میں ہر سال تین تین لاکھ۔ اور ہم نے پتہ کروایا ہے تو یونیورسٹی والے انسٹالمنٹ میں فیس بھرنے پر راضی ہو گئے ہیں۔ اس ماہ کی ۳۰ تک فیس کی پہلی قسط بھرنی پڑے گی،
آپکے جواب کی منتطر، آپکی پیاری جان۔ زہرہ
اس نے بیٹے کی پڑھائی کے لیے ساری رقم بھیج دی۔ بیٹی کی شادی کے لیے جہیز اور دیگر اخراجات بھیجے۔ مگر اب ستائیس سال ہو چکے تھے۔ وہ خود کو ائر پورٹ کی طرف گھسیٹ رہا تھا۔ شوگر، بلڈ پریشر، السر ،گردے و کمر کا درد اورجھریوں والا سیاہ چہرا اس کی کمائی تھا۔ اسے اچانک اپنی جیب میں کسی چیز کی موجودگی کا احساس ہوا۔ اس نے جیب میں ہاتھ ڈال کر دیکھا تو وہ ایک ان کھلا خط تھا۔
یہ وہ پہلا خط تھا جو اس نے اپنی پردیس کی زندگی میں نہیں کھولا۔۔۔
🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman/5528
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 278
🔷 ایک پردیسی کی کہانی 🔷
پیارے ابو جان اور امی جان۔۔
مجھے آج ملک سے باہر پانچ سال ہو گئے اور میں اگلے ماہ اپنے وطن واپسی کا ارداہ کر رہا ہوں، میں نے اپنے ویزا کے لیے جو قرض لیا تھا وہ ادا کر چکا ہوں اور کچھ اخراجات پچھلی چھٹی پر ہو گئے تھے۔ تحفے تحائف لینے میں اور کچھ دیگر اخراجات۔ اب میرے پاس کوئی بڑی رقم موجود نہیں لیکن میری صحت ابھی ٹھیک ہے اور میں خود کو اس قابل سمجھتا ہوں کہ پاکستان جا کر کوئی بھی اچھی نوکری کر سکوں اور گھر کے اخراجات چلا سکوں۔ یہ جگہ مجھے پسند نہیں ہے میں اپنے گھر رہنا چاہتا ہوں۔ آپ کی کیا رائے ہے۔
آپکا پیارا – جمال
پیارے بیٹے جمال
تمھارا خط ملا اور ہمیں تمھاری چھٹی کے بارے میں پڑھ کر خوشی ہوئی۔ باقی تمھاری امی کہہ رہی تھی کہ گھر کی حالت بہت خراب ہو رہی ہے اور تم جانتے ہو برسات شروع ہونے والی ہے۔ یہ گھر رہنے کے قابل نہیں ہے۔ گھر چونکہ پرانی اینٹوں اورلکڑیوں سے بنا ہے اس لیے اس کی مرمت پر کافی خرچ آئے گا۔ ہم سوچ رہے ہیں کہ کنکریٹ اور سیمینٹ سے بنا ہوا گھر ہو تو بہت اچھا ہو۔ ایک اچھا اور نیا گھر وقت کی ضرورت ہے۔ تم جانتے ہو یہاں کے کیا حالات ہیں اگر تم یہاں آ کر کام کرو گے تو اپنی محدود سی کمائی سے گھر کیسے بنا پاؤ گے۔ خیر گھر کا ذکر تو ویسے ہی کر دیا آگے جیسے تمھاری مرضی۔
تمھاری پیاری امی اور ابو۔
پیارے ابو جان اور امی جان!
میں حساب لگا رہا تھا آج مجھے پردیس میں دس سال ہو چکے ہیں۔ اب میں اکثر تھکا تھکا رہتا ہوں، گھر کی بہت یاد آتی ہے اور اس ریگستان میں کوئی ساتھی نہیں ہے۔ میں سوچ رہا ہوں اگلے ماہ ملازمت چھوڑ کر ہمیشہ کے لیے گھر آجاؤں۔ دس سال کے عرصے میں الحمدللہ ہمارا پکا گھر بن چکا ہے اور جو ہمارے اوپر جو قرضے تھے وہ بھی میں اتار چکا ہوں۔ اب چاہتا ہوں کہ اپنے وطن آ کر رہنے لگ جاؤں۔ اب پہلے والی ہمت تو نہیں رہی لیکن پھر بھی کچھ نہ کچھ کر کے ، ٹیکسی چلا کے گھر کا خرچ چلا لوں گا۔ اس ریگستان سے میرا جی بھر گیا ہے۔ اب اپنے بچوں کے ساتھ رہنا چاہتا ہوں۔ آپ کی کیا رائے ہے۔
آپکا پیارا – جمال
پیارے بیٹے جمال!
تمھارا خط ملا اور ہم پچھتا رہے ہیں اس وقت کو جب ہم نے تمھیں باہر جانے دیا، تم ہمارے لیے اپنے لڑکپن سے ہی کام کرنے لگ گئے۔ ایک چھوٹی سے بات کہنی تھی بیٹا۔ تمھاری بہنا زینب اب بڑی ہو گئی ہے ، اس کی عمر ۲۰ سے اوپر ہو گئی۔ اس کی شادی کے لیے کچھ سوچا ، کوئی بچت کر رکھی ہے اس لیے کہ نہیں۔ بیٹا ہماری تو اب یہی خواہش ہے کہ زینب کی شادی ہو جائے اور ہم اطمینان سے مر سکیں۔ بیٹا ناراض مت ہونا، ہم تم پر کوئی بوجھ نہیں ڈالنا چاہتے۔
تمھاری پیاری امی اور ابو۔
پیارے ابو جان اور امی جان!
آج مجھے پردیس میں چودہ سال ہو گئے۔ یہاں کوئی اپنا نہیں ہے۔ دن رات گدھے کی طرح کام کر کے میں بیزار ہو چکا ہوں، کمھار کا گدھا جب دن بھر کام کرتا رہتا ہے تو رات کو گھر لا کر اس کا مالک اس کے آگے پٹھے ڈال دیتا ہے اور اسے پانی بھی پلاتا ہے پر میرے لیے تو وہ بھی کوئی نہیں کرتا، کھانا پینا بھی مجھے خود ہی کرنا پڑتا ہے۔ بس اب میں ویزا ختم کروا کر واپس آنے کا سوچ رہا ہوں۔ پچھلے کچھ سالوں میں اللہ کی مدد سے ہم زندگی کی بیشتر آزمائشوں سے نکلنے میں کامیاب ہوگئے۔ زینب بہنا کی شادی ہو چکی ہے اور اب وہ اپنے گھر میں سکھی ہے۔ اس کے سسرال والوں کو خوش رکھنے کے لیے میں اکثر تحفے تحائف بھی بھیج دیتا ہوں۔ اللہ کے کرم سے آپ لوگوں کو میں نے حج بھی کروا دیا اور کوئی قرضہ بھی باقی نہیں ہے۔ بس کچھ بیمار رہنے لگا ہوں، بی پی بڑھا ہوا ہے اور شوگر بھی ہو گئی ہے لیکن جب گھرآؤں گا، گھر کے پرسکون ماحول میں رہوں گا اور گھرکا کھانا کھاؤں گا تو انشاء اللہ اچھا ہو جاؤں گا اور ویسے بھی اگر یہاں مزید رہا تو میری تنخواہ تو دوائی دارو میں چلی جائے گی وہاں آ کر کسی حکیم سے سستی دوائی لے کر کام چلا لوں گا۔ اب بھی مجھ میں اتنی سکت ہے کہ کوئی ہلکا کام جیسے پرائیویٹ گاڑی چلانا کر لوں گا۔
آپکا پیارا – جمال
پیارے بیٹے جمال!
بیٹا ہم تمھارا خط پڑھ کر کافی دیر روتے رہے۔ اب تم پردیس مت رہنا لیکن تمھاری بیوی زہرہ نے کچھ کہنا تھا تم سے ، اسکی بات بھی سن لو۔
(بیوی ) پیارے جمال!
میں نے کبھی آپکو کسی کام کے لیے مجبور نہیں کیا اور کسی چیز کے لیے کبھی ضد نہیں کی لیکن اب مجبوری میں کچھ کہنا پڑ رہا ہے مجھے۔ آپکے بھائی جلال کی شادی کے بعد آپ کے والدین تو مکمل طور پر ہمیں بھول چکے ہیں ان کا تمام پیار نئی نویلی دلہن کے لیے ہے، میں نے تو یہ بھی سنا ہے کہ وہ آبائی گھر جلال کو دینے کا سوچ رہے ہیں۔ ذرا سوچیے اگر آپ یہاں آ گئے اور مستقبل میں کبھی اس بات پر جھگڑا ہو گیا تو ہم اپنے چھوٹے چھوٹے بچے لے کر کہاں جائیں گے۔ اپنا گھر ہر انسان کی بنیادی ضرورت ہے۔ آپ کو پتہ ہے سیمنٹ سریہ کی قیمتیں کتنی ہیں؟ مزدوروں کی دیہاڑی آسمان سے باتیں کر رہی ہے۔
1 278
🌹 ازدواجی رشتہ 🌹
ازدواجی رشتہ کسی ایسے مرد پر نہیں چلتا جو بے حد مردانگی کا حامل ہو، اور نہ ہی کسی ایسی عورت پر جو نسوانیت میں حد سے زیادہ ہو۔ بلکہ رشتہ چار ستونوں پر قائم ہوتا ہے:
1. دل کی کشش
2. دماغ کی کشش
3. جسمانی کشش
4. روحانی کشش
یہ تمام عناصر ایک رشتے میں شامل ہونا ضروری ہیں۔ صرف ایک یا دو ستونوں پر کوئی رشتہ کامیاب نہیں ہو سکتا۔
رشتہ اس پر مبنی نہیں کہ مرد مہینے کے ہزاروں روپے خرچ کرے یا عورت گھر کی صفائی کا بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھائے۔ بلکہ رشتہ ایک دوسرے کی ذمہ داریوں، فرائض، محبت، اچھے اخلاق، اور دوسرے کے لیے صبر و تحمل کا خیال رکھنے پر قائم ہوتا ہے۔
🔹 شادی اور محبت کے حوالے سے:
شادی محبت کو ختم نہیں کرتی، بلکہ اکثر یہ ہوتا ہے کہ ایک فریق دوسرے سے زیادہ توقعات رکھنے لگتا ہے۔
شادی محبت کو ختم نہیں کرتی، لیکن بعض لوگ ذمہ داریوں کا بہانہ بناتے ہیں۔
شادی محبت کو ختم نہیں کرتی، مگر کچھ لوگوں کے لیے کہانی کا انجام شادی ہوتا ہے، اور شادی کے بعد کہانی ان کے لیے ختم ہو جاتی ہے۔
شادی محبت، سکون، اور ایک دوسرے کے ساتھ گزارے ہوئے وقت کی قدر بڑھاتی ہے۔
🔹 شادی اور ذمہ داریاں:
قوامیت (خاندان کی سربراہی) مرد پر فرض ہے، اور اس کے بارے میں وہ اللہ کے سامنے جوابدہ ہے۔
عورت کا اپنے شوہر کی فرمانبرداری کرنا اللہ کے راستے میں جہاد کے برابر ہے۔
🔹 رشتے میں رویے اور رویہ:
رشتے میں یہ نہیں ہونا چاہیے کہ صرف میری بات مانی جائے، بلکہ دلائل دیے جائیں، جو معقول ہوں اور دوسرے فریق کو قابل قبول ہوں۔
رشتہ یہ نہیں کہ "مرد مجھے یہ دینا ہی دینا ہے"، بلکہ رشتہ استطاعت اور سمجھوتے پر چلتا ہے۔
رشتہ یہ نہیں کہ ایک فریق ہر چیز قربان کر دے اور دوسرا کوئی جواب نہ دے، چاہے وہ تھکن، کام، ذمہ داریاں، یا حالات کا بہانہ کرے۔
🔹 آخر میں۔۔۔
ضدی انسان کے ساتھ نہیں رہا جا سکتا اور وہ محبت کے لائق بھی نہیں ہوتا ۔!!!
🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 278
🔷 عوام کو بیوقوف بنانا 🔷
جہاں بے وقوف زیادہ ہوں وہاں دھوکے باز بھوکا نہیں مرتا۔ پہلے موٹیوشنل اسپیکر اس معاشرے کو شارٹ کٹ کا ذریعہ سکھانے پر تلے ہوئے تھے اور ایک چاول سے دیگ بنانے کے خواب دکھاتے تھے۔
ان کو سنتے ہوئے نوجوانوں کو ایسا لگتا تھا کہ ان کے اندر ایک غیر مرئی طاقت آ چکی ہے ابھی وہ اس سیشن سے اٹھیں گے اور باہر کی دنیا پہ چھا جائیں گے۔ دو ہفتوں میں وہ کسی کمپنی کے سی ای او بن جائیں گے۔ لیکن سیشن سے اٹھنے کی دیر ہوتی تھی باہر نکل کر جب حقیقت کا سامنا کرنا پڑتا تو وہ سارا جوش و جذبہ جھاگ کی طرح بیٹھ جاتا جبکہ چاول سے دیگ بنانے کی ترکیب بتانے والا لاکھ ڈیڑھ لے کر اگلے سیشن کے لیے نکل کھڑا ہوتا ۔۔۔
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ لوگ اس راز کو سمجھ گئے کہ نناوے فیصد محض باتیں اور خیالی پلاو ہیں جبکہ میدان میں کامیابی کے چانس صرف ایک فیصد ہیں اور وہ بھی میرٹ اور جہد مسلسل کی بنیاد پر ۔۔۔
پھر ڈیجیٹل میڈیا کا انقلاب آیا فری لانسنگ، گرافک ڈیزائننگ، یوٹیوب چینلز سے کروڑ پتی بننے کے خواب دکھانے والے میدان میں آ گئے۔
ازاد چائے والا، اشرف چوہدری اور ان جیسے سینکڑوں شارٹ کٹ کا لالچ دے کر اپنے سبسکرائیبرز لاکھوں میں لے گئے اور سیکھنے والے صرف خواب ہی دیکھتے رہے۔
اس وقت نصف سے زیادہ نوجوانوں کو موبائل کے ایک ٹچ سے لکھ پتی ہونے کا لالچ دے کر یہ لوگ نفسیاتی بنا چکے ہیں۔
خواب دکھانا برا نہیں لیکن حقیقت کو نظرانداز کرنا برا ہے۔ ایسا کچھ بھی نہیں ہے جو یہ کورس کروانے والے آپ کو بتاتے ہیں کہ بس ایک موبائل اور انٹرنیٹ کا پیکج لیجیے اور پیسہ آپ کے قدموں میں ۔۔۔
نتیجہ یہ نکلا کہ ہر کوئی سمجھنے لگا ادھر گرافک ڈیزائننگ سیکھی ادھر ڈالرز آنا شروع ۔۔۔ یوٹیوب چینل بنتے ہی مونیٹائز ہو جائے گا ۔۔۔ کانٹینٹ رائٹنگ کا کورس کرنے والے سمجھنے لگے وہ اب ہیری پوٹر جیسا شاہکار تخلیق کرنے لگیں گے اور لوگ ان کی خدمات لینے لائن میں کھڑے ہوں گے۔
حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے، آپ جو بھی ہنر سیکھتے ہیں، اس میدان میں آپ سے پہلے لاکھوں لوگ سیکھ کر کام ملنے کے انتظار میں ہیں۔
پہلے سو لکھنے والے تھے تو ہزار پڑھنے والے، اب ہزار لکھنے والے ہیں تو پڑھنے والوں کی تعداد سو سے بھی کم ہے۔ ہر کسی کا اپنا چینل اور اپنا پیج ہے تو لاکھوں میں آڈینس کہاں سے آئیں؟
ویب سائٹ، یوٹیوب چینل، فیس بک پیج بنانے کے بعد بھی ایک لمبا سفر ہے جو طے کرنا پڑتا ہے، لاکھوں میں کوئی ایک ہوتا ہے جس کے سر پہ ہما بیٹھتا ہے اور راتوں رات وہ وائرل ہو جاتا ہے۔ آپ ڈیجیٹل ہنر ضرور سیکھیں لیکن جھوٹے خواب دکھانے والوں سے دور رہیں، حقیقت موبائل کے ایک ٹچ سے بہت مختلف ہے۔
آن لائن ارننگ اتنی آسان نہیں جتنی آپ کو بتائی جاتی ہے، اسے آپ اضافی سورس آف انکم کے طور پر چن سکتے ہیں۔ یہ ہوائی روزی ہے جس پر خاندان کی پرورش نہیں ہو سکتی۔
کوئی ایسا ہنر سیکھیے جو واقعی آپ کی شناخت بنے، مشکل وقت میں آپ کے کام آئے، جس کی سند آپ کے پاس ہو۔ یقین جانئیے قسمت اتنی بھی مہربان نہیں کہ موبائل کے ایک ٹچ سے بدل جائے ۔۔ قسمت بنانی پڑتی ہے.
منقول ۔۔۔
🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 278
🔷 ملٹی گرین آٹا 🔷
ملٹی گرین آٹا کیا ہے؟ کیا ہم گھر پر ملٹی گرین آٹا بنا سکتے ہیں؟
ملٹی گرین آٹا مختلف اناج اور بیجوں کا مجموعہ ہوتا ہے جو آپ کی صحت کے مختلف پہلوؤں کو فائدہ پہنچاتے ہیں۔ اس آٹے میں شامل کچھ اہم اجزاء اور ان کی غذائی ویلیوز درج ذیل ہیں:
1. گندم (Wheat)
• فائبر: گندم میں زیادہ مقدار میں حل پذیر اور غیر حل پذیر فائبر ہوتا ہے، جو ہاضمے کے لیے فائدہ مند ہے۔
• پروٹین: گندم میں پروٹین کی مقدار بھی اچھی ہوتی ہے، جو جسم کی مرمت اور نشو و نما میں مدد فراہم کرتی ہے۔
• وٹامنز اور معدنیات: گندم وٹامن B گروپ، آئرن، اور میگنیشیم کا اچھا ذریعہ ہے۔
2. باجرہ (Millet)
• اینٹی آکسیڈنٹس: باجرے میں اینٹی آکسیڈنٹس ہوتے ہیں جو جسم کو فری ریڈیکلز سے بچاتے ہیں۔
• معدنیات: باجرہ کیلشیم، آئرن، اور میگنیشیم سے بھرپور ہوتا ہے۔
• پروٹین: باجرے میں پروٹین ہوتا ہے، جو جسمانی نشوونما لیے اہم ہے۔
3. جو (Barley)
• فائبر: جو کا آٹا دل کی صحت کے لیے بہت مفید ہوتا ہے کیونکہ اس میں فائبر کی مقدار زیادہ ہوتی ہے۔
• معدنیات: جو میں آئرن، میگنیشیم اور زنک جیسے اہم معدنیات ہوتے ہیں۔
• کولیسٹرول کی سطح کم کرنا: جو کولیسٹرول کی سطح کو بہتر کرنے میں مددگار ہوتا ہے۔
4. مکئی (Corn)
• کاربوہائیڈریٹس: مکئی میں توانائی دینے والی کاربوہائیڈریٹس کی مقدار زیادہ ہوتی ہے۔
• وٹامن C: مکئی وٹامن C کا اچھا ذریعہ ہے جو مدافعتی نظام کو مضبوط کرتا ہے۔
5. چنے کا آٹا (Chickpea Flour)
• پروٹین اور فائبر: چنے کا آٹا پروٹین اور فائبر سے بھرپور ہوتا ہے، جو وزن کم کرنے اور ہاضمہ کی صحت میں مددگار ہے۔
• معدنیات: اس میں آئرن، میگنیشیم اور فولک ایسڈ بھی ہوتا ہے۔
6. جوی (Jawar)
• فائبر اور پروٹین: جوی میں فائبر اور پروٹین کی مقدار زیادہ ہوتی ہے، جو جسم کی مختلف ضروریات کو پورا کرتا ہے۔
• غذائیت: جوی میں آئرن، میگنیشیم اور دیگر اہم وٹامنز ہوتے ہیں۔
7۔ سویا بین آٹا
پروٹین سے بھرپور ہوتا ہے جو جسم کے خلیوں کی نشوونما کے لئے ہم ہے۔
8۔ السی کے بیج (Flaxseeds)
ان میں فائبر ، پروٹین، پوٹاشیم اور صحت مند فیٹس (omeg-3 fatty Cids) ہوتے ہیں جو جسم کی نشوونما اور دل کی صحت کے لئے بے حد مفید ہیں، ہاضمے کو بہتر کرتے ہیں اور کینسر کے رسک کو کم کرتے ہیں۔
9. جئی (Oats)
ایسے اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپور ہوتے ہیں جو کسے اور اناج میں نہیں ملتے اور دل کی صحت کے لئے بے حد مفید ہیں۔
■ ملٹی گرین آٹے کی غذائی ویلیو
ملٹی گرین آٹا مجموعی طور پر ایک بہترین متوازن آٹا ہے جو مختلف غذائی اجزاء فراہم کرتا ہے:
• پروٹین: جسم کی مرمت اور نشوونما کے لیے۔
• فائبر: ہاضے اور وزن کم کرنے کے لیے۔
• معدنیات: جیسے آئرن، میگنیشیم، اور کیلشیم جو ہڈیوں، خون کی کمی، اور دل کی صحت کے لیے فائدہ مند ہیں۔
• وٹامنز: جیسے وٹامن B، جو توانائی کی سطح کو بڑھاتے ہیں اور جسم کی عمومی صحت کو بہتر بناتے ہیں۔
• ملٹی گرین آٹا کھانے میں لذیذ بھی ہوتا ہے اور عمومی صحت کے لیے بہت مفید ہے کیونکہ اس میں تمام اجزاء کے فوائد ایک ہی آٹے میں ملتے ہیں۔ یہ شوگر کے مریضوں کے لئے بھی مفید ہے۔
⬅️ کیا ہم گھر پر ملٹی گرین آٹا تیار کر سکتے ہیں ؟
جی ہاں، آپ گھر پر ملٹی گرین آٹا بنا سکتے ہیں اور آپ اس میں اپنی پسند کے اناج بھی شامل کر سکتے ہیں۔
🔹 بنیادی ضروری اجزاء:
• گندم: 2 کپ
• باجرہ: 1 کپ
• جو: 1 کپ
• چنا دال یا چنا آٹا: 1/2 کپ
• مکئی: 1 کپ
• جوار: 1 کپ
• جئی 1 کپ
• سویا بین (اختیاری): 1/2 کپ
• السی کے بیج (اختیاری): 2 کھانے کے چمچ
■ طریقہ کار:
• صفائی: تمام اجزاء کو اچھی طرح صاف کریں تاکہ کسی بھی قسم کی مٹی یا خراب دانے نہ رہیں۔ انہیں دھو کر دھوپ میں خشک کریں۔
• بھونیں (اختیاری): ہلکی آنچ پر کچھ اناج جیسے مکئی، باجرہ، یا جو بھون لیں تاکہ ان میں خوشبو اور ذائقہ بہتر ہو۔
• پیسیں: تمام اجزاء کو اچھی طرح پیس لیں۔ آپ اجزاء قریبی چکی پر لے جا سکتے ہیں یا گھر پر گرائینڈر یا بلینڈر استعمال کر سکتے ہیں۔
• چھان لیں: اگر ضرورت ہو تو آٹا چھان لیں تاکہ باریک ساخت حاصل ہو۔
• ذخیرہ کریں: تیار شدہ آٹے کو کسی ایئر ٹائٹ ڈبے میں محفوظ کریں۔
ملٹی گرین آٹا روٹی، پراٹھا یا دیگر کھانے بنانے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ آپ اس میں مزید اناج یا بیج اپنی پسند کے مطابق شامل کر سکتے ہیں۔
Copied۔۔۔
🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 278
🌹 تنہائی عذاب ہے 🌹
میری بیوی نے کچھ دنوں پہلے گھر کی چھت پر کچھ گملے رکھوا دیے اور ایک چھوٹا سا باغ بنا لیا۔
گزشتہ دنوں میں چھت پر گیا تو یہ دیکھ کرحیران رہ گیا کہ بہت گملوں میں پھول کھل گئے ہیں، لیموں کے پودے میں دو ، لیموں بھی لٹکے ہوئے ہیں اور دو چار ہری مرچ بھی لٹکی ہوئی نظر آئیں۔
میں نے دیکھا کہ گزشتہ ہفتے اس نے بانس کا جو پودا گملے میں لگایا تھا، اس گملے کو گھسیٹ کر دوسرے گملے کے پاس کر رہی تھی۔ میں نے کہا تم اس بھاری گملے کو کیوں گھسیٹ رہی ہو؟ بیوی نے مجھ سے کہا کہ یہاں یہ بانس کا پودا سوکھ رہا ہے، اسے کھسکا کر اس پودے کے پاس کر دیتے ہیں۔
میں ہنس پڑا اور کہا ارے پودا سوکھ رہا ہے تو کھاد ڈالو، پانی ڈالو. اسےکھسکا کر کسی اور پودے کے پاس کر دینے سے کیا ہو گا؟ "
بیوی نے مسکراتے ہوئے کہا یہ
پودا یہاں اکیلا ہے اس لئے مرجھا رہا ہے. اسے اس پودے کے پاس کر دیں گے تو یہ پھر لہلہا اٹھے گا۔ پودے اکیلے میں سوکھ جاتے ہیں، لیکن انہیں اگر کسی اور پودے کا ساتھ مل جائے تو جی اٹھتے ہیں۔ "
یہ بہت عجیب سی بات تھی۔ ایک ایک کر کے کئی فوٹو آنکھوں کے آگے بنتی چلی گئیں۔
والد کی موت کے بعد والدہ صاحبہ کیسے ایک ہی رات میں بوڑھی، بہت بوڑھی ہو گئیں تھیں۔
ابو جان کے جانے کے بعد وہ سوکھے ہوئے پودے کی طرح رہتیں تھیں ۔جس والدہ صاحبہ کو میں نے کبھی اداس نہیں دیکھا تھا،
وہ والد صاحب کے جانے کے بعد خاموش سی ہو گئیں تھیں۔ مجھے بیوی کے یقین پر مکمل اعتماد ہو رہا تھا۔ لگ رہا تھا کہ سچ مچ پودے اکیلے میں سوکھ جاتے ہوں گے۔ بچپن میں میں ایک بار بازار سے ایک چھوٹی سی رنگین مچھلی خرید کر لایا تھا اور اسے شیشے کےجار میں پانی بھر کر رکھ دیا تھا۔
مچھلی سارا دن گم سم رہی۔ میں نے اس کے لئےکھانا بھی ڈالا، لیکن وہ چپ چاپ ادھر ادھر پانی میں گھومتی رہی اور اس کو ڈالا گیا سارا کھانا جار کی تہہ میں جا کر بیٹھ
گیا، مچھلی نے کچھ نہیں کھایا۔
دو دنوں تک وہ ایسے ہی رہی، اور ایک صبح میں نے دیکھا کہ وہ پانی کی سطح پر الٹی پڑی تھی۔ آج مجھے گھر میں پالی وہ چھوٹی سی مچھلی یاد آ رہی تھی۔ بچپن میں کسی نے مجھے یہ نہیں بتایا تھا، اگرمعلوم ہوتا تو کم سے کم دو، تین یا ساری مچھلیاں خرید لاتا اورمیری وہ پیاری مچھلی یوں تنہا نہ مر جاتی۔
مجھے لگتا ہے کہ دنیا میں
کسی کو تنہائی پسند نہیں۔
آدمی ہو یا پودا، ہر
کسی کو کسی نہ کسی کے ساتھ
کی ضرورت ہوتی ہے۔
آپ اپنے ارد گرد جھانكیں، اگر کہیں کوئی
اکیلا نظر آئے تو اسے اپنا ساتھ دیجئے، اسےمرجھانے سے بچائیں اگر آپ اکیلے ہوں، تو آپ بھی کسی کا ساتھ لیجئے، آپ خود کو بھی مرجھانے سے روكیں۔ تنہائی دنیا میں سب سے بڑی سزا ہے۔ گملے کےپودے کو تو ہاتھ سے کھینچ کر ایک دوسرے پودے کے پاس کیا جا سکتا ہے، لیکن آدمی کو قریب لانے کے لئے ضرورت ہوتی ہے رشتوں کو سمجھنے کی، محفوظ کرنے کی اور سمیٹنے کی۔
اگر دل کے کسی گوشے میں آپ کو لگے کہ زندگی کا رس سوکھ رہا ہے، زندگی مرجھا رہی ہے تو اس پر رشتوں کی محبت کا رس ڈالئےخوش رہئے اور مسكرائیے۔
کوئی یوں ہی کسی اور کی غلطی سے آپ سے دور ہو گیا ہو تو اسے اپنے قریب لانےکی کوشش کیجیے۔
🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 278
🔷 دھوکے باز کی سزا 🔷
ایک لڑکا پہاڑوں پر رہتا تھا اس کے پاس بہت زیادہ انڈے دینے والی مرغیاں تھیں اور وہ روزانہ انڈے فروخت کر کے جو کماتا اس سے اپنے گھر کے لیے راشن خریدتا۔
اس نے پہاڑ پر مرغیوں کے لیے ایک خوبصورت باڑہ بنایا تھا۔ ایک دن ایک لومڑی کھانے کی تلاش میں ادھر آ نکلی لومڑی نے دیکھا کہ ایک جگہ بہت سی مرغیاں ہیں لومڑی کے منہ میں پانی بھر آیا۔ لڑکا انڈے فروخت کرنے گیا ہوا تھا۔ لومڑی نے موقع کا فائدہ اٹھایا اور مرغیوں پر حملہ کر دیا اور ایک مرغی کو کھا گئی۔ مرغیوں نے بہت زیادہ شور مچایا تو لومڑی وہاں سے جنگل کی طرف بھاگ گئی۔
دوسرے دن لومڑی پھر آئی اور ایک اور مرغی کو کھا گئی۔ اس طرح لومڑی روز آتی اور ایک مرغی کھا جاتی۔ مرغیاں آہستہ آہستہ کم ہوتی گئیں۔
لڑکے نے دیکھا کہ انڈے پہلے سے کم ہونا شروع ہو گئے ہیں جس کی وجہ سے اس کی آمدن بھی کم ہوتی جا رہی ہے۔ اس نے مرغیوں کی گنتی کی تو کافی مرغیاں کم تھیں۔ اب لڑکا روز گنتی کرنے لگا تو اس نے دیکھا کہ روز ایک مرغی کم ہو جاتی ہے۔ لڑکا بہت پریشان ہوا اور سوچنے لگا کہ شاید کوئی اس کی مرغیاں چرا رہا ہے۔
چور سے مرغیوں کی حفاظت کے لیے لڑکے نے دو کتے خریدے۔ ایک کا نام ڈبو اور دوسرے کا نام بلیکو تھا۔
اب لڑکا انڈے فروخت کرنے جاتا تو بلیکو کو مرغیوں کی حفاظت کے لیے چھوڑ جاتا اور ڈبو لڑکے ساتھ جاتا۔
لومڑی اپنی عادت کے مطابق مرغی کھانے آئی تو اس نے دیکھا کہ مرغیوں کے مالک نے مرغیوں کی حفاظت کے لیے کتا رکھ لیا ہے لیکن کتا بالکل بھی اپنے مالک کا وفادار نہ تھا۔ لومڑی نے دیکھا کہ کتا خود ایک مرغی کھا رہا تھا تو لومڑی سمجھ گئی کہ اب اسے مرغیاں کھانے سے کوئی نہیں روک سکتا۔
لومڑی نے کتے (بلیکو) سے کہا تم اپنے مالک کے وفادار نہیں ہو، میں تمھارے مالک کو بتاؤں گی. تو بلیکو نے لومڑی سے کہا کہ نہیں تم ایسا نہ کرنا اگر تم چاہو تو تم بھی مرغی کھا سکتی ہو، ہم دونوں مل کر مرغیاں کھایا کریں گے۔
آہستہ آہستہ مرغیاں اور کم ہوتی گئیں تو لڑکے نے خود اپنی مرغیوں کی حفاظت کرنے کا سوچا۔ مرغیاں مزید کم ہونے کی وجہ سے انڈے بھی مزید کم ہو گئے تھے جس کی وجہ سے لڑکے کی آمدن بھی بہت کم ہو گئی تھی۔ لڑکا اپنے دونوں کتوں کو کھانا ڈالتا تو بھوک کی وجہ ڈبو کھا لیتا لیکن بلیکو نہ کھاتا۔ لڑکے نے سوچا کہ کچھ تو گڑبڑ ہے۔
اگلے دن ہی لڑکے نے سوچا کہ آج وہ انڈے فروخت کرنے نہیں جاۓ گا بلکہ آج وہ اپنی مرغیوں کی نگرانی خود کرے گا۔ آخر اس کی مرغیاں چراتا کون ہے؟
لڑکا اپنی بندوق لے کر پاس ہی جھاڑیوں میں چھپ کیا اور ڈبو بھی لڑکے کے ساتھ جھاڑیوں میں چھپ گیا۔ دونوں مرغیوں کی نگرانی کرنے لگے۔
بلیکو نے دیکھا کہ لڑکا اور ڈبو روزانہ کی طرح انڈے فروخت کرنے گئے ہیں کیوں نا آج پھر مرغی کے گوشت سے ناشتہ کیا جائے تو بلیکو نے ایک مرغی کو مار گرایا کہ اتنی دیر میں لومڑی بھی وہاں پہنچ گئی۔ بلیکو مرغی کو کھا کر آرام سے بیٹھ گیا تو لومڑی مرغیوں کو کھانے کے لیے آگے بڑھی تو لڑکے نے دیکھا کہ بلیکو بالکل بھی مرغیوں کی حفاظت نہیں کر رہا۔ لڑکا سمجھ گیا کہ اس کی مرغیاں کون کھاتا ہے۔
لڑکا اور ڈبو جھاڑیوں سے باہر آنے تو بلیکو نے لڑکے کو دیکھ کر فورا لڑکے سے کہا کہ لومڑی ہماری مرغیاں کھاتی ہے، میں نے بڑی کوشش کی لیکن اسے روکنے میں ناکام رہا۔ لڑکے نے اسی وقت بندوق سے گولی چلائی اور لومڑی کو مار دیا۔
پھر لڑکے نے بلیکو سے کہا: تم ایک دھوکے باز ہو تم بالکل بھی وفادار نہیں اور مجھے نقصان پہنچاتے ہو۔ لڑکے نے بلیکو کو بھی گولی مار دی۔ اس طرح بلیکو کو دھوکا دینے کی سزا مل گئی۔
ڈبو لڑکے کا وفادار کتا تھا۔ لڑکا ڈبو کا بہت خیال رکھتا اور خوب ڈھیر سارا کھانا اسے ڈالتا۔ ڈبو بہت خوش تھا لڑکے نے اور زیادہ مرغیاں خریدیں تو ڈبو ان کی حفاظت کرتا اور لڑکا ان مرغیوں کے انڈے بیچتا اور گھر کا خرچ چلاتا، اب تو اسے بہت زیادہ بچت بھی ہونے لگی تھی۔
🔘 پیارے بچو! اس کہانی سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ دھوکے باز کا انجام برا ہوتا ہے۔ اس لیے ہمیں کھبی کسی کو بھی دھوکا نہیں دینا چاییے۔
🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 278
🎅 کالو سے سراج تک کا سفر 🎅
کالو سے سراج تک کا سفر۔۔۔
اُس سے محبت ہونے میں مجھے پَل بھر لگا تھا ، جیسےکسی بھی مرد کو لگتا ہے، پھر آہستہ آہستہ میں نے اسے اپنی طرف متوجہ کرنا شروع کر دیا-
میں اس کی یورنیورسٹی کے باہر فاسٹ فوڈ کا ریفریشمنٹ پوائنٹ چلاتا ہوں، وہ کوئی گوری چٹی یا بہت خوبصورت تو نہیں اور نہ ہی فلمی ہیروئنوں جیسی ہے، بس مجھے ہی ملتانی حسن میں دلچسپی نے اسکی زلفوں کا اسیر کر دیا تھا۔
لمبا قد اور قد کے برابر شانوں پر پڑے بال، ہاتھوں کی کلائیاں ایسی کہ میرے دونوں ہاتھوں میں ایک نہ آتی، ابری ہانسے کی ہڈی، لمبی ناک اور گندمی رنگت، آہ! بس کیا ہی حسینہ تھی۔
جیسے تیسے کر کے ہماری شادی ہو گئی، میرا مکان جہاں میں اپنے دو بڑے شادی شدہ بھائیوں، ایک بڑی طلاق شدہ بہن، ایک غیر شادی شدہ بہن اور ایک چھوٹے بھائی کے ساتھ رہ رہا تھا وہ ہمارے ابا جی کی ہمارے اوپر مہربانی تھی۔
زندگی کے ماہ و سال خوبصورتی سے گزرنے لگے تھے اس دوران اللہ نے ہمیں اولاد کی نعمت سے نواز دیا۔ ہم نے اپنے بیٹے کا نام سراج رکھا تھا مگر میری طرح گہری رنگت کی وجہ سے سراج کو اسکی پھوپھیاں، چچیاں، کزنز سب کالو کے نام سے پکارنے لگے تھے۔
وقت گزرتا گیا اب کالو پانچ سال کا ہو چکا تھا کہ اچانک ایک رات شبانہ نے مجھ سے طلاق دینے کا مطالبہ کر دیا ،ہمارے درمیان گزرے سالوں کبھی ایسا کوئی بڑا جھگڑا بھی نہیں ہوا تھا کہ دلوں میں کدورتیں باقی ہوتیں۔
خیر بات بڑھی تو میں نے محبوبہ کے عشق میں اسے اسکے کہے مطابق طلاق بھی دے دی، وہ جاتے ہوئے کالو کو بھی میرے ہی پاس چھوڑ گئی تھی۔
پھر ایک دن ڈاکیا اسکی یورنیورسٹی ہی کے باہر مجھے عدالتی نوٹس تھما گیا جس میں کالو کی کسڈی فائل کی گئی تھی۔
میں نے پہلے بھی تو اسے کبھی رسوا نہ کیا تھا جو اب کرتا، لہذا مقررہ تاریخ پر میں کالو کو لے کر عدالت آ گیا اور خاموشی سے اسے شبانہ کے حوالے کر دیا۔
کاغذی کاروائی مکمل کر کے جب میں عدالت سے نکل رہا تھا تو اس نے میرے کندھے پر ویسے ہی محبت سے ہاتھ رکھا جیسے ہر صبح، ہر شام رکھا کرتی تھی، اسکی آنکھوں میں آنسو تھے جنہیں صاف کرتے ہوئے وہ کہنے لگی مجھے تم سے ویسی ہی محبت ہے جیسے کئی سال پہلے تھی مگر اپنے گھر کی عورتوں کو بتا دینا کہ ہمارے بیٹے کا نام
”سراج“ ہے کالو نہیں۔
🤔🤔😤🤡😤🤔🤔
https://t.me/muskuraahten
🎅 MUSKURAAHTEN 🎅
1 278
🔷 کوئی منحوس نہیں ہوتا 🔷
یہ کہانی ان حضرات کے لیے ہے جو صبح کسی کے ملنے کو نحوست اور پورا دن بیکار ہونا تصور کرتے ہیں، اور جو صبح متھے لگے اس کو سارا دن گالی گلوچ کرتے رہتے ہیں۔
یہ ایک بادشاہ کی کہانی ہے جو شکار کا بہت شوقین تھا۔ وہ جب بھی شکار پر جانے کے لیے محل سے نکلتا تو حکم دیتا کہ میرے راستے میں کوئی بندہ نہ آئے۔ اس کے حکم پر سپاہی سارے راستے صاف کر دیتے اور کوئی انسان بادشاہ کے سامنے نہ آتا۔
ایک دن ایسا ہوا کہ ایک بزرگ لکڑیاں کاٹنے کے لیے جنگل میں گیا ہوا تھا۔ وہ لکڑیاں کاٹ کر واپس جا رہا تھا اور اس کی راہ بادشاہ کے راستے سے ٹکرا گئی۔ بادشاہ نے اسے دیکھ لیا اور سخت غصے میں آ گیا۔ اس نے سپاہیوں کو حکم دیا کہ اس بزرگ کو درخت کے ساتھ باندھ دو۔ بادشاہ نے کہا: "اگر شکار نہ ملا تو واپس آ کر میں تمہیں پھانسی دے دوں گا، اور اگر شکار مل گیا تو میں تمہیں چھوڑ دوں گا۔"
بادشاہ شکار پر چلا گیا اور قسمت سے اسے بہت اچھا شکار مل گیا۔ خوش ہو کر وہ واپس آیا اور بزرگ کو درخت سے کھولنے کا حکم دیا۔ بادشاہ نے کہا: "مجھے شکار مل گیا ہے، اس لیے میں تمہیں معاف کرتا ہوں۔"
بزرگ نے کہا: "بادشاہ سلامت، میں آپ سے ایک بات عرض کرنا چاہتا ہوں۔"
بادشاہ نے کہا: "کہو کیا کہنا چاہتے ہو۔"
بزرگ نے کہا: "آپ کے لیے میں منحوس ثابت ہوا کیونکہ آپ کا ماننا تھا کہ میرے سامنے آنے کی وجہ سے آپ کو شکار نہیں ملے گا۔ لیکن آپ بھی میرے لیے منحوس ثابت ہوئے کیونکہ آپ کی وجہ سے میرا پورا دن برباد ہوا اور مجھے اس قدر تکلیف برداشت کرنی پڑی۔"
یہ سن کر بادشاہ سوچ میں پڑ گیا اور اسے احساس ہوا کہ بات درست ہے۔ اگر کوئی آپ کے لیے منحوس ہے تو آپ بھی اس کے لیے منحوس ہو سکتے ہیں۔
🔘 کوئی منحوس نہیں ہوتا، اور وہ بھی صبح کے وقت جب ہر طرف اللہ رسول کی حمد و ثنا ہو رہی ہو۔ کوئی کسی کے لیے منحوس نہیں ہوتا، یہ صرف شیطانی سوچ ہے اور کچھ نہیں۔
🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 278
🌺 منتخب جاپانی کہاوتیں 🌺
کہاوت مختصر ضرور ہوتی ہے لیکن اس میں کئی سالوں کا تجربہ پوشیدہ ہوتا ہے۔ یہ کتابوں کا ایسا نچوڑ ہوتا ہے جسے ایک سطر میں بیان کر دیا جاتا ہے۔ کئی مرتبہ ایک سطر زندگی میں ایسی تبدیلی لے آتی ہے جو کئی ہزار صفحات نہیں لاتے۔
ایک کتاب لکھی گئی ہے "Japanese Proverbs" اس کتاب کے مصنف ہیں "David Gales"۔ یہ کتاب دو سو مشہور جاپانی کہاوتوں کا مجموعہ ہے۔ اس کتاب کا بغور مطالعہ کیا گیا جس کے نتیجے میں کچھ ایسے کہاوتیں اخذ کی گئی ہیں جو حیران کن طور پر سوچ کو بدل دیتی ہیں اگر دماغ کی کھڑکی کھول کر پڑھا جائے۔ منتخب کہاوتیں یہ ہیں۔۔۔
1۔ ہر کسی سے مشورہ لیں یہاں تک کہ گھٹنوں سے بھی۔
ایک ذہن سے دو بہتر سوچیں گے۔ ایک شخص کی رائے سے علم والے لوگوں کا مشورہ بہتر ہے۔ اس لیے مشورہ لینے والا کبھی پچھتاتا نہیں ہے۔
2۔ بندر بھی درخت سے گر جاتا ہے۔
ماہر شخص سے بھی غلطی ہوجاتی ہے۔ یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ کسی سے غلطی نہیں ہو سکتی۔
3۔ زندگی چراغ ہے ہوا سے پہلے جلا لو۔
4۔ ہزار میل کا فاصلہ بھی ایک قدم سے شروع ہوتا ہے۔
5۔ جس طرح ٹوٹا ہوا پھول شاخ پر نہیں جڑ سکتا اسی طرح شیشہ بھی ٹوٹنے کے بعد نہیں جڑ سکتا۔
جو ہوگیا اب وہ واپس نہیں آ سکتا۔ گزرا ہوا وقت کبھی واپس نہیں آتا۔ گزرے ہوئے پر پچھتانا نہیں چاہیے۔
6۔ کتوں کی لڑائی میں بچے لڑ پڑتے ہیں، اور بچوں کی لڑائی میں بڑے۔
7۔ بیوقوف شخص میں بھی ایک قابلیت ضرور ہوتی ہے۔
خراب گھڑی بھی دن میں دو مرتبہ درست وقت بتاتی ہے۔
8۔ جو چھوڑ جاتے ہیں وہ آہستہ آہستہ بھولنا شروع ہو جاتے ہیں۔
جو آنکھوں کے سامنے سے چلا جائے وہ بعد میں دماغ سے بھی چلا جاتا ہے۔
9۔ پیار اور کھانسی کو کبھی چھپایا نہیں جا سکتا۔
10۔ قسمت ہمیشہ بہادر کا ساتھ دیتی ہے۔
11۔ چالاک شاہین پرندہ اپنے جبڑے چھپاتا ہے۔
ذہین شخص سب سے آخر میں مختصر اور اچھا بولتا ہے۔
12۔ بہترین دوائی کا ذائقہ منہ کو کڑوا لگتا ہے۔
اچھی اور سچی نصیحت ہمیں کڑوی لگتی ہے لیکن اس کا فائدہ سب سے زیادہ ہوتا ہے۔
13۔ دوسروں کے معاملات کو سر کا درد مت بنائیں۔
14۔ طالب علم کا پیٹ کبھی بھرا ہوا نہیں ہوتا۔
بھوک دماغ کو تیز کر دیتی ہے۔ بھرا ہوا پیٹ سست کر دیتا ہے۔
15۔ آسمان کو مارا گیا تیر خود کو لگتا ہے۔
جو کام آپ کرتے ہیں ان کا نتیجہ آپ کو ضرور ملتا ہے۔
16۔ کسی شخص کے لیے ناکارہ چیز دوسرے کے لیے خزانہ ہوتی ہے۔
17. ناکامی کامیابی کی ماں ہے، تجربہ استاد سے بہتر ہے۔
🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کریں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
■ مزید پوسٹس۔۔۔ دیکھنے کیلئے مطلوبہ پوسٹ کے لنک پر کلک کریں۔
🔷 زندگی کے کچھ حقائق
https://t.me/islamwitheman/5380
🔷 مختلف ممالک کی کہاوتیں
https://t.me/islamwitheman/5381
🌹 دانشوروں کے لطیف جملے
https://t.me/islamwitheman/5437
🌹 کچھ بہترین حکمتیں
https://t.me/islamwitheman/5448
🌷 اچھی زندگی کیلئے کچھ مشورے
https://t.me/islamwitheman/5449
🌹 پچاس حکمتیں
https://t.me/islamwitheman/5471
🌷 سماجی تعلقات کے اصول
https://t.me/islamwitheman/5515
🌹 نوجوانوں کے لیے نصیحت
https://t.me/islamwitheman/5514
🌺 منتخب جاپانی کہاوتیں
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 278
💞 دریا کیا سکھاتے ہیں 💞
سیکھنا ہو تو۔۔۔ دریا بھی بہت کچھ سکھاتے ہیں۔۔۔
1۔ دریا کبھی واپس نہیں بہتے، ہمیشہ آگے ہی آگے۔۔۔ ماضی کو بھول کر آپ بھی مستقبل پر فوکس کریں۔
2۔ دریا اپنا رستہ خود بناتے ہیں، لیکن اگر کوئی بڑی رکاوٹ سامنے آ جائے تو آرام سے اپنا رخ موڑ کر نئی راہوں پر چل پڑتے ہیں، مشکلوں اور رکاوٹوں سے لڑنا، بحث کرنا اور ضد کرنا دراصل وقت ضائع کرنا ہے۔
3۔ آپ گیلے ہوئے بغیر دریا پار نہیں کر سکتے۔۔۔ اسی طرح آپ کو دکھ سکھ کے ساتھ ہی زندگی گزارنا ہوگی۔ ہمت اور حوصلے کے ساتھ۔
4۔ دریاؤں کو دھکا نہیں لگانا پڑتا، یہ خود ہی آگے بڑھتے ہیں۔۔۔ کیا آپ سیلف سٹارٹ نہیں بن سکتے؟
5۔ جہاں سے دریا زیادہ گہرا ہوتا ہے، وہاں خاموشی اور سکوت بھی زیادہ ہوتا ہے۔ علم والے اور گہرے لوگ بھی پرسکون ہوتے ہیں۔
6۔ پیاسے شخص کا انتظار کیے بغیر اور پتھر پھینکنے والوں سے الجھے بغیر دریا بہتے چلے جاتے ہیں۔۔۔ روڑے اٹکانے والوں کی پرواہ کیے بغیر آپ بھی اپنی زندگی رواں دواں رکھیں۔
7۔ خواہشات کے دریا میں دنیاوی محبت ایک مگر مچھ کی طرح ہے۔۔۔ ذرا دھیان سے۔۔۔
8۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ دریا کتنا بڑا، چوڑا اور وسیع ہو گیا ہے، وہ پھر بھی بڑھنا چاہتا ہے۔۔۔ آپ کی صلاحیتیں بھی لامحدود ہیں، ان کو وسیع کیجیے۔
9۔ ایک بڑا دریا چھوٹی ندیوں، نالوں اور چشموں کو اپنے ساتھ ملنے سے کبھی منع نہیں کرتا۔۔۔ آپ بھی اپنا ظرف بلند اور نگاہ سربلند کر کے تو دیکھیں۔
10۔ زمین اور آسمان، جنگلات اور کھیت، جھیلیں اور دریا، پہاڑ اور سمندر۔۔۔ ایسے شاندار ماسٹر ہیں جو ہمیں کتابوں سے بھی زیادہ اچھی باتیں سکھاتے ہیں۔
11۔ دریا ہمیشہ ایک راستے کی پیروی کرتا ہے، وہ راستہ۔۔۔ جہاں سے گزر کر وہ سمندر میں پہنچ جائے۔۔۔ اللہ تعالیٰ کے پاس جانے کے لیے "صراط مستقیم" تو ہمیں بھی بتایا۔۔۔ سکھایا گیا ہے۔
12۔ دریا اپنا پانی خود نہیں پیتے، درخت اپنا پھل خود نہیں کھاتے۔۔۔ کیا آپ نے کبھی خدمت خلق کی اہمیت کے بارے میں کچھ سوچا۔۔۔ کچھ کیا۔۔۔؟
13۔ دریا میں دو خوبیاں زیادہ ہیں۔۔۔ فراخ دلی اور روانی۔۔۔ زندگی میں بھی فراخ دل اور رواں دواں لوگ کامیاب ہوتے ہیں۔
14۔ دریاؤں میں قدرتی زندگی، موسیقیت، تغیر پذیری اور حرکت ہوتی ہے اور اس کی کوئی حدیں بھی نہیں ہوتیں۔
اور آپ کی۔۔۔؟
15۔ دریا یہ بھی جانتے ہیں۔۔۔ کہ جلدی کی کوئی ضرورت نہیں، مستقل اور مسلسل حرکت سے ایک دن ہم منزل مقصود تک پہنچا ہی جاتے ہیں۔
🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 278
🌹 غیر مشروط محبت 🌹
ایک حاملہ عورت اپنے شوہر سے پوچھتی ہے: "آپ کیا چاہتے ہیں، بیٹا یا بیٹی؟"
شوہر جواب دیتا ہے: "اگر بیٹا ہوا تو میں اسے ریاضی سکھاؤں گا، اس کے ساتھ ورزش کروں گا، اسے شکار کرنا سکھاؤں گا اور بہت کچھ۔"
عورت ہنستے ہوئے پوچھتی ہے: "اور اگر بیٹی ہوئی تو؟"
شوہر مسکراتے ہوئے کہتا ہے: "اگر بیٹی ہوئی تو مجھے اسے کچھ بھی سکھانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ وہ مجھے سب کچھ سکھائے گی: کیسے لباس پہننا ہے، کیسے کھانا ہے، کیا کہنا ہے اور کیا نہیں کہنا۔ بہت جلد، وہ میری دوسری ماں کی طرح بن جائے گی۔ اور بغیر کچھ خاص کیے بھی، وہ ہمیشہ مجھے اپنا ہیرو سمجھے گی۔ جب میں اسے 'نہیں' کہوں گا، وہ سمجھ جائے گی۔ اور وہ ہمیشہ اپنے مستقبل کے شوہر کا موازنہ مجھ سے کرے گی۔ چاہے جتنی بڑی ہو جائے، وہ ہمیشہ چاہے گی کہ میں اسے اپنی چھوٹی شہزادی کی طرح ہی پیار کروں۔ وہ دنیا سے میرے لیے لڑے گی، اور اگر کسی نے مجھے تکلیف دی، تو وہ اسے کبھی معاف نہیں کرے گی۔"
عورت، کچھ حیران ہو کر پوچھتی ہے: "کیا تمہارا مطلب ہے کہ تمہاری بیٹی یہ سب کچھ کرے گی، لیکن بیٹا نہیں؟"
شوہر کہتا ہے: "نہیں، نہیں! میرا بیٹا بھی یہ سب کر سکتا ہے، لیکن اسے وقت کے ساتھ یہ سب سیکھنا ہوگا۔ دوسری طرف، بیٹیاں ان خوبیوں کے ساتھ پیدا ہوتی ہیں۔ بیٹی کا باپ ہونا ہر مرد کے لیے حقیقی فخر کی بات ہے۔"
پھر عورت کہتی ہے: "لیکن وہ ہمیشہ ہمارے ساتھ نہیں رہے گی۔"
شوہر نرمی سے جواب دیتا ہے: "ہاں، لیکن ہم ہمیشہ اس کے دل میں رہیں گے، جہاں بھی وہ جائے۔"
بیٹیاں واقعی فرشتے ہوتی ہیں... وہ غیر مشروط محبت اور خیال کے ساتھ پیدا ہوتی ہیں، ہمیشہ کے لیے۔
یہ تحریر اُن تمام خوش نصیب والدین کے لیے ہے جنہیں بیٹیاں عطا ہوئی ہیں۔
🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 278
🔷 کولڈ بلڈ مرڈر 🔷
مریم راولپنڈی کی رہائشی تھی، خوبصورت اور خوبرو، پڑھی لکھی اور باشعور، یہی وجہ تھی کہ اسے دیکھتے ہی لڑکے کی ماں نے ہاں کہہ دی تھی. مریم کی شادی آٹھ نو سال پہلے ہوئی. شادی کے پہلے چھے مہینے میں ہی اس کا پاؤں بھاری ہو گیا، ساس سسر نندیں بھاوجیں سبھی نے مبارک باد دی اور لڑکا ہو گا لڑکا ہو گا کہنا شروع کر دیا.
ڈلیوری کا وقت قریب آیا تو شوہر کے ساتھ ساتھ سسرال کے تقریباً سبھی لوگ مریم کو ہسپتال لے کر گئے، ڈلیوری نارمل ہوئی اور ڈاکٹروں نے بیٹی کی پیدائش کی خوشخبری سنائی.
یہ سن کر مریم کی ساس کا منہ بن گیا۔ مریم دو دن بعد گھر آئی تو معلوم ہوا کہ گھر کے حالات پہلے جیسے نہیں رہے، وہ ساس جو بلائیں لیتی تھی آج بےرخی سے بات کر رہی ہے..
خیر، اگلے ہی سال مریم دوبارہ پریگننٹ ہو گئی، اس بار بھی سسرال والے سبھی لوگ لڑکے کی امید لے کر مریم کی خدمت کرتے رہے، خدا کا کرنا کہ اس بار بھی لڑکی ہوئی۔
اس بار ساس کے ساتھ ساتھ نندوں نے بھی مایوسی کا اظہار کیا اور مریم بےبسی کی تصویر بنی ان کے رویے دیکھتی رہی، مریم نے شکر کیا کہ ڈلیوری نارمل ہوئی ورنہ سسرال والے آپریشن پر اٹھنے والے اخراجات بھی باتیں سنا سنا کر نکلوا لیتے۔
دو سال مزید گزرے مریم تیسری بار پھر ماں بننے والی تھی، لیکن اس کی حیرت کی انتہا نہ رہی جب مریم کے سسرال والوں نے مریم کو یہ کہتے ہوئے میکے بھیج دیا کہ اگر بیٹیاں ہی پیدا کرنی ہیں تو ڈلیوری کے اخراجات بھی تمہارے ماں باپ اور بھائی اٹھائیں.
مریم کے ہاں تیسری مرتبہ بھی بیٹی ہوئی تھی، بچی کی پیدائش پر مریم کے سسرال سے کوئی دیکھنے تک نہیں آیا، ڈیڑھ ماہ کی بچی اٹھائے مریم گھر واپس آئی تو اس کے لیے زمین بہت گرم ہو چکی تھی. ساس اٹھتے بیٹھتے پرانی باتیں نکال نکال کر طعنے دیتی، کبھی مریم کی بارات کے کھانے کو خراب کہا جاتا، کبھی مریم کے جہیز پر تنقید کی جاتی، گھر کے ہر کام میں کیڑے نکالے جاتے، اس کے پکائے ہوئے کھانے بھی اب برے لگنے لگے تھے..
مریم صابر شاکر بچی تھی چپ چاپ سب کچھ سنتی، مزید محنت اور خدمت کر کے ساس سسر کا دل جیتنا چاہتی، سارے گھر کا کھانا پکانا، کھانا پیش کرنا، برتن اٹھانا، برتن دھونا، کپڑے دھونا، صفائیاں کرنا غرض یہ کہ گھر کا کام اکیلی مریم کے سر تھا، عید آئی تو سارے گھر کا سامان نکال کر مریم نے خود ہی سارا گھر پینٹ کیا، سیڑھی پر چڑھ کر پنکھے صاف کیے اپنا گھر ہے صاف ہو گا گھر والے بھی سب خوش ہوں گے، یہی سوچ سوچ کر مریم دن رات کام میں جٹی رہی، روزانہ ساس کے سر میں تیل کی مالش کرنا اور سسر کے پیر دبانا مریم کی ذمے داری تھی، اتنا سب کچھ کرنے کے باوجود "اولاد نرینہ" اور "خاندان کے وارث" کا مطالبہ بدستور جاری تھا.
مریم کی بڑی پہلی بیٹی پانچ سال، دوسری تین سال اور تیسری ڈیڑھ سال کی ہو گئی تھی. مریم کی بیٹیاں بھی مریم کی طرح خوبصورت اور معصوم تھیں لیکن اس گھر میں اب ان کی کوئی وقعت نہیں تھی.
مریم چوتھی بار پریگننٹ ہو گئی، اس بار ہر نسخہ ہر وظیفہ آزمایا گیا، طرح طرح کے تعویذ لا کر باندھے گئے، مریم خود بھی بہت ڈری ہوئی تھی، کسی نے کہا صبح فجر کے بعد فلاں سورۃ پڑھو تو اولاد نرینہ ہو، کسی نے کہا فلاں فلاں آیات لکھ کر ناف پر باندھو الغرض ہر اسلامی و غیر اسلامی ٹونہ ٹوٹکا استعمال کیا گیا.
جوں جوں ڈلیوری کے دن قریب آتے گئے ڈر مریم کے دل میں بیٹھ گیا، وہ ہر وقت یہی دعا کرتی کہ اس کے ہاں لڑکا ہو جائے، وہ ہر وقت یہی سوچتی کہ لڑکی ہو گئی تو کیا ہو گا.
حسبِ سابق ڈلیوری کے لیے مریم کو اس کے ماں باپ کے گھر بھیج دیا گیا، اس کی ماں اسے لے کر ایک پرائیویٹ ہسپتال پہنچی، لیبر روم جاتے ہوئے بھی مریم بہت ڈری ہوئی تھی. ڈلیوری کے بعد لیڈی ڈاکٹر نے ایک ننھا سا وجود مریم کے سینے پر رکھتے ہوئے کہا "مبارک ہو بیٹی ہوئی ہے" یہ الفاظ مریم برداشت نہیں کر سکی، اس کا دل رک گیا، ہارٹ اٹیک اتنا شدید تھا کہ وہ چالیس سیکنڈ میں ہی مر چکی تھی.
وہ چالیس سیکنڈ مریم پر یوں گزرے جیسے چالیس سال ہوں، ان چالیس سیکنڈ میں مریم سوچتی رہی کہ بیٹی پیدا ہونے میں کیا گناہ ہے، میری تین بچیوں نے کیا گناہ کیا، اور یہ جو ابھی چالیس سیکنڈ پہلے ایک بیٹی میری چھاتیوں پر رکھی گئی اس کا کیا گناہ ہے.
ان چالیس سیکنڈ میں مریم نے آنے والے چالیس سالوں کے لئے سوچا. بِن ماں کی چار بچیاں کون سنبھالے گا؟
ڈاکٹروں نے مریم کی لاش اور بچی مریم کی بوڑھی ماں کے حوالے کر دی.
سب کہتے تھے مریم کو دل کا دورہ پڑا ہے لیکن میں کہتی ہوں کہ وہ ہارٹ اٹیک نہیں مرڈر تھا. ایک کولڈ بلڈ مرڈر...
آپ کیا کہتے ہیں ؟؟؟
🔘 خدارا بیٹیوں کے بارے اپنی سوچ بدلین۔ بیٹیاں تو رحمت ہوتی ہیں جو ماں باپ سے غیر مشروط محبت کرتی ہیں۔
🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 278
🎅 قہقہ لگائیں 🎅
وہ تمام یادیں
جن پر آپ کی آنکھ نم ہوتی ہے
ان پر ایک قہقہ لگائیں
وہ تمام دھوکے
جنہوں نے آپ کے وجود کو چھلنی کر دیا
ان پر ایک قہقہ لگائیں
وہ تمام اپنے
جو عین مشکل میں آپ کو اکیلا چھوڑ گئے
ان پر ایک قہقہ لگائیں
وہ تمام حادثے
جنہوں نے آپ کو تکلیف سے بھر دیا
ان پر ایک قہقہہ لگائیں
وہ تمام غلط فیصلے
جن کے نتیجے میں آپ کو بہت کچھ سہنا پڑا
ان پر ایک قہقہ لگائیں
وہ تمام پشیمان لمحے
جب آپ چاہتے تھے زمین پھٹ جائے اور آپ اس میں سما جائیں
ان پر ایک قہقہ لگائیں
وہ تمام مشکلات
جن کے بوجھ تلے دب کر آپ خود کو مار دینا چاہتے تھے
ان پر قہقہ لگائیں
جب جب آپ کو محسوس ہوا
بس اب زندگی ختم ہے، جینے کو کچھ نہیں بچا
اپنے احساسات پر ایک قہقہ لگائیں
وہ سب کچھ جو آپ کھو چکے ہیں
اس پر ایک قہقہ لگائیں
قہقہ لگائیں زندگی پر
اور موت پر بھی
قہقہ لگائیں
کیونکہ ہمارے رونے سے کچھ بھی تبدیل نہیں ہونے والا۔۔۔۔!
خوش رہیں خوشیاں بانٹیں۔
🌹🌹🌹🤡🌹🌹🌹
https://t.me/muskuraahten
🎅 MUSKURAAHTEN 🎅
1 278
🌷 سماجی تعلقات کے اصول 🌷
1. متواتر کالز نہ کریں:
اگر کوئی شخص ایک یا دو بار میں آپ کی کال کا جواب نہیں دیتا، تو فرض کر لیں کہ وہ مصروف ہے۔
2. قرض واپس کریں:
جو پیسے یا چیزیں آپ نے قرض لی ہیں، انہیں وقت پر واپس کریں۔ یہ آپ کی دیانت داری اور کردار کی علامت ہے۔
3. کھانے کی دعوت:
جب کوئی آپ کو کھانے پر مدعو کرے، تو کبھی سب سے مہنگا آئٹم نہ مانگیں۔
4. ناپسندیدہ سوالات سے گریز کریں:
کسی کی ذاتی زندگی میں مداخلت نہ کریں جیسے شادی، بچے، یا مالی حالات پر سوالات کرنا۔
5. دروازہ کھولنا:
ہمیشہ اپنے پیچھے آنے والے شخص کے لیے دروازہ کھولیں، یہ عمر یا جنس سے بالاتر ہے۔
6. اگلے موقع پر ادائیگی کریں:
اگر آپ کے دوست نے ٹیکسی کا کرایہ دیا ہے، تو اگلی بار آپ ادائیگی کریں۔
7. آراء کا احترام کریں:
دوسرے لوگوں کی آراء کا احترام کریں، کیونکہ ہر شخص کی دنیا کو دیکھنے کا اپنا زاویہ ہوتا ہے۔
8. بات نہ کاٹیں:
جب کوئی بات کر رہا ہو تو اسے مکمل طور پر سنیں، پھر اپنی رائے دیں۔
9. گفتگو کے دوران توجہ دیں:
اگر کسی کو آپ کی بات میں دلچسپی نہیں ہے، تو اپنی گفتگو کو جاری رکھنے کے بجائے اسے ختم کریں۔
10. شکریہ کہنا:
جب کوئی آپ کی مدد کرے، تو شکریہ ادا کریں۔
11. تعریف اور تنقید:
لوگوں کی تعریف عوام میں کریں اور تنقید نجی طور پر کریں۔
12. ظاہری شکل پر تبصرہ نہ کریں:
کسی کے وزن یا جسمانی حالت پر بات نہ کریں، بلکہ ان کی مثبت خصوصیات پر توجہ دیں۔
13. کسی کی تصاویر مت کھینچیں:
اگر کوئی آپ کو اپنے فون پر کچھ دکھاتا ہے، تو دوسری تصاویر یا ڈاکومنٹس پر نہ جائیں۔
14. ذاتی سوالات سے گریز:
اگر کوئی آپ کو بتاتا ہے کہ اس کا ڈاکٹر سے اپائنٹمنٹ ہے، تو مقصد مت پوچھیں۔
15. ہر ایک سے عزت سے پیش آئیں:
صفائی کرنے والے یا کسی بھی پیشے کے فرد کے ساتھ اسی عزت سے پیش آئیں جس سے آپ کسی اعلیٰ عہدے پر فائز شخص کے ساتھ پیش آتے ہیں۔
16. موبائل فون کا استعمال:
اگر آپ سے کوئی براہ راست بات کر رہا ہے، تو موبائل فون کا استعمال نہ کریں۔
17. مشورہ دینا:
مشورہ صرف اس وقت دیں جب آپ سے پوچھا جائے۔
18. ذاتی معلومات:
کسی شخص سے ذاتی معلومات جیسے عمر یا تنخواہ کے بارے میں نہ پوچھیں، جب تک وہ خود بات نہ کرے۔
19. اپنے معاملات تک محدود رہیں:
دوسروں کے معاملات میں غیر ضروری مداخلت سے گریز کریں۔
20. احترام کا اظہار:
جب آپ کسی سے بات کریں، تو اپنی آنکھوں سے رابطہ قائم کریں اور احترام کا مظاہرہ کریں۔
21. دولت کا ذکر نہ کریں:
اپنی دولت کے بارے میں لوگوں کے سامنے بات نہ کریں جو کم خوشحال ہوں۔
22. تعریف کریں:
لوگوں کو پسندیدگی اور احترام کے ساتھ پیش آئیں، کیونکہ یہ دل جیتنے کا بہترین طریقہ ہے.
🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کریں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
■ مزید پوسٹس۔۔۔ دیکھنے کیلئے مطلوبہ پوسٹ کے لنک پر کلک کریں۔
🔷 زندگی کے کچھ حقائق
https://t.me/islamwitheman/5380
🔷 مختلف ممالک کی کہاوتیں
https://t.me/islamwitheman/5381
🌹 دانشوروں کے لطیف جملے
https://t.me/islamwitheman/5437
🌹 کچھ بہترین حکمتیں
https://t.me/islamwitheman/5448
🌷 اچھی زندگی کیلئے کچھ مشورے
https://t.me/islamwitheman/5449
🌹 پچاس حکمتیں
https://t.me/islamwitheman/5471
🌷 سماجی تعلقات کے اصول
https://t.me/islamwitheman/5515
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 278
🌹 نوجوانوں کے لیے نصیحت 🌹
1. اپنے sexual urges پر قابو پانا آپ کی کامیابی یا ناکامی کا تعین کرے گا۔
2. پورن اور masturbation کامیابی کے سب سے بڑے دشمن ہیں، یہ دماغ کو کمزور کر دیتے ہیں۔
3. شراب پینے سے گریز کریں، اپنے ہوش اور عقل کھو دینا آپ کے لیے سب سے نقصان دہ ہوگا۔
4. اپنے standards بلند رکھیں اور کسی چیز پر صرف اس لیے سمجھوتہ نہ کریں کہ وہ دستیاب ہے۔
5. اگر کوئی آپ سے زیادہ ذہین ہو تو اس کے ساتھ کام کریں، مقابلہ نہ کریں۔
6. آپ کے مسائل حل کرنے کوئی نہیں آئے گا۔ آپ کی زندگی کی 100% responsibility آپ کی ہے۔
7. ان لوگوں سے مشورہ نہ لیں جو وہاں نہیں ہیں جہاں آپ جانا چاہتے ہیں۔
8. پیسہ کمانے کے نئے طریقے تلاش کریں اور مذاق اڑانے والوں کو ignore کریں۔
9. سو کتابوں کی ضرورت نہیں، action اور self-discipline سب کچھ ہے۔
10. منشیات اور weed سے دور رہیں۔
11. یوٹیوب سے ہنر سیکھیں اور نیٹ فلکس پر وقت ضائع نہ کریں۔
12. کوئی آپ کی پرواہ نہیں کرتا، شرم چھوڑیں اور اپنے مواقع خود بنائیں۔
13. آرام سب سے بری عادت اور depression کا آسان راستہ ہے۔
14. اپنے خاندان کو ترجیح دیں، ان کی حفاظت کریں، چاہے وہ غلط ہوں یا ٹھیک۔
15. نئے مواقع تلاش کریں اور اپنے سے آگے کے لوگوں سے سیکھیں۔
16. کسی پر بھروسہ نہ کریں، سوائے اپنے۔
معجزات کا انتظار نہ کریں، خود ممکن بنائیں۔
18. محنت اور determination سے سب کچھ ممکن ہے۔ Humility سے کامیابی ملتی ہے۔
19. اپنے آپ کو دریافت کرنے کا انتظار نہ کریں، خود کو create کریں۔
21. کوئی آپ پر قرضدار نہیں۔
22. زندگی ایک "single-player game" ہے، آپ اکیلے پیدا ہوتے ہیں اور اکیلے مرتے ہیں۔
23. آپ کی زندگی آپ کو کمزور اور مایوس رکھنے کے لیے بنائی گئی ہے، لیکن صرف آپ ہی خود کو اور اپنے پیاروں کو بچا سکتے ہیں۔
24. ہر کوئی آپ کی طرح ایماندار نہیں ہوتا، لوگ اپنا فائدہ اٹھا کر چھوڑ دیتے ہیں۔ Stay woke.
25. پچیس سال کی عمر تک آپ کو سمجھدار ہونا چاہیے کہ:
→ دوسروں کی کامیابی پر خوش ہوں۔
→ حسد اور جلن سے بچیں۔
→ کھلے ذہن کے ساتھ رہیں۔
→ اندازے لگانے سے پرہیز کریں۔
→ نیت کے ساتھ عمل کریں۔
→ شکر گزار رہیں۔
→ ایمانداری سے بات کریں۔
→ روزانہ ورزش کریں۔
→ غیبت سے بچیں۔
→ صاف ستھرا کھائیں۔
→ معاف کریں۔
→ سنیں۔
→ سیکھیں۔
→ محبت کریں۔
🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 278
🔷 جمعہ گُل 🔷
میں جب تین سال کا تھا تو ٹھٹھرتی سردی میں ایک دن دادا نے سکول میں داخل کروا کر عمر پانچ سال لکھوا دی کہ سرکاری سکول میں اس وقت پانچ سال سے کم عمر کے بچوں کا داخلہ ممنوع ہوتا تھا۔ جب کہ میرا یار جمعہ گُل اپنی اماں کی گرم گود میں بیٹھ کر چائے پراٹھے ٹھونستا رہا۔
میں ٹاٹ پر بیٹھ کر صبح سے دوپہر تک الف سے اللہ اور ب سے بکری کے راگ الاپتا رہا۔ اور جُمعہ گُل گلے میں غلیل ڈال کر گاؤں کے درختوں میں پرندے مارتا رہا۔
ہم سارا سارا دن اُستاد رحیم گل کی سوٹیاں اپنی پشت پر کھاتے رہے تاکہ کل کو مُعاشرے میں ایک مقام بنا سکیں۔اور جُمعہ گُل اپنے باپ کے کندھے پر بیٹھ کر گاؤں کے میلے لُوٹتا رہا۔
ہم سکول سے چُھٹی ہونے کے بعد گندم کی کٹائیوں میں اماں کا ہاتھ بٹاتے رہے۔ اور جُمعہ گُل کھیت کی مُنڈیر پر بیٹھ کر جوانی کے گیت گاتا رہا۔
ہم جب آنسو بھری آنکھوں سے جُمعہ گل کی طرف دیکھتے تو دل کا حال جان کر اماں بولتیں، بیٹا تم ایک دن بڑا افسر بنے گا اور جُمعہ گل جیسے لوگ تیرے نوکر بنیں گے۔
سکول سے کالج، کالج سے یونیورسٹی ہماری قسمت میں صرف کتابوں کا ڈھیر چاٹنا رہ گیا۔ جبکہ جُمعہ گُل گاؤں کا لُچا لفنگا بن کر جوانی کے مزے لُوٹتا رہا۔
اِدھر ہم نے پی ایچ ڈی تھیسز جمع کروا کر گویا علامہ بننے کی ٹھان لی۔ تو اُدھر گاؤں میں جُمعہ گُل نے بغل سے پستول کا ہولسٹر ہٹا کر کندھے پر کلاشنکوف رکھنی شروع کر دی۔
پھر ہم نے پیچھے کبھی مُڑ کر نہیں دیکھا۔ کہاں کا جُمعہ گُل اور کہاں کا عارف خٹک۔
ہم بقول اماں کے واقعی افسر بن گئے اور گاؤں سے اپنا ناطہ ٹوٹ گیا۔ اپنی افسری، شہری بیوی اور بچوں میں ایسا کھو گئے کہ یاد بھی نہیں رہتا تھا کہ جُمعہ گُل کیا کر رہا ہوگا۔
اماں کی باقی ساری باتیں بالکل سچ ثابت ہو چُکی تھیں۔ بس کبھی کبھار اُن کی یہ بات دل کے دروازے پر دستک دے کر بےچین کر دیتی کہ جُمعہ گُل تمہارا نوکر بنے گا۔ شائد اماں کی بات سے زیادہ یہ خود کی ایک خواہش تھی جو شعور سے لاشعور تک کا فاصلہ پاٹتے ہوئے تحت الشعور میں پنجے گاڑ بیٹھی تھی۔ اور پھر میں کیمبرج میں پڑھتے اپنے بچوں کو ہر وقت یہی راگ سُنانے لگتا کہ بیٹا عارف خٹک بنو، جُمعہ گُل مت بنو۔ میرے بچے مجھ سے پوچھتے کہ پاپا ہُو اِز جمعہ گل؟
اور میرا جواب ہمیشہ یہی ہوتا کہ میرا نوکر۔۔۔
سالوں بعد گاؤں جانا ہوا۔ بیوی بچے ساتھ تھے۔ گاؤں بھی پھیل کر جیسے چھوٹا سا شہر بن گیا ہو۔ کافی لوگ اب اجنبی تھے میرے لئے۔ ایک دن پیغام آیا کہ جُمعہ گُل نامی بندے نے اہلِ خانہ سمیت دعوت پر بُلایا ہے۔ میرے اندر ایک کمینی سی خوشی در آئی کہ جُمعہ گُل کو دکھاؤں گا کہ پڑھائی لکھائی اور اُستاد رحیم داد کی سوٹیوں نے مُجھے کہاں سے کہاں تک پُہنچا دیا اور وہ سدا کا لُچا لفنگا آج بھی دو وقت کی روٹی کے لئے مر رہا ہے۔
بیگم کو تاکید کی کہ پانچ ہزار اس کی بیوی کو تھما دینا۔ رات کو اپنی چار ہزار سی سی گاڑی میں بیٹھ کر جُمعہ گُل کے گھر پُہنچا تو سناٹے میں آگیا۔
شہر میں تین سو گز بنگلے والا افسر چار ہزار گز وسیع بنگلے کو دیکھ کر حیرت سے دانتوں میں اُنگلی دبائے رہ گیا۔ جس پر "جُمعہ گُل پیلس" کا نیم پلیٹ اُس کا مُنہ چڑھا رہا تھا۔ بنگلے کے اندر چار وی ایٹ لینڈ کروزرز ایک شان سے کھڑی تھیں۔
واسکٹ پہنے جُمعہ گُل گرمجوشی سے آگے بڑھ کر میرے گلے لگ گیا کہ ڈاکٹر صاب بڑے آدمی بن گئے۔ بُھول گئے ہم جیسے غریب اور ان پڑھوں کو۔۔۔
میری بیوی اور بچے مُنہ کھولے حیرانگی سے بنگلے کو دیکھ رہے تھے۔ اور جُمعہ گُل بتا رہا تھا کہ اماں کی دعاؤں سے وہ آج پاکستان کا سب سے بڑا ٹرانسپورٹر بن گیا ہے۔
اچانک میرے بیٹے نے انگریزی میں مُجھ سے پُوچھا کہ بابا یہ وہی جُمعہ گُل ہے جو آپ کا نوکر بن رہا تھا؟
میری خاموشی پر چھوٹے والے بیٹے نے انگریزی میں کہا؛ پاپا میں بھی جُمعہ گُل بنوں گا۔
آہستہ سے جواب دیتے ہوئے میں نے کہا؛
بن جانا بیٹا جُمعہ گُل چچا کی طرح۔۔۔
🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 278
🌹 دوسروں کا خیال رکھیں 🌹
ایک حکیم سے پوچھا گیا:
زندگی میں کامیابی کیسے حاصل ہوتی ہے؟
حکیم نے کہا اس کا جواب لینے کے لیے آپ کو آج رات کا کھانا میرے پاس کھانا ہوگا۔
سب دوست رات کو جمع ہو گئے تو اس نے سوپ کا ایک بڑا برتن سب کے سامنے لا کر رکھ دیا، مگر سوپ پینے کے لیے سب کو ایک ایک میٹر لمبا چمچ دے دیا۔ اور سب کو کہا کہ آپ نے سب اپنے اپنے لمبے چمچ سے سوپ پینا ہے۔
ہر شخص نے کوشش کی، مگر ظاہر ہے ایسا ناممکن تھا۔ کوئی بھی شخص چمچ سے سوپ نہیں پی سکا۔ سب بھوکے ہی رہے۔
سب ناکام ہو گئے تو حکیم نے کہا:
میری طرف دیکھو۔
اس نے ایک چمچ پکڑا، سوپ لیا اور چمچ اپنے سامنے والے شخص کے منہ سے لگا دیا۔
اب ہر شخص نے اپنا اپنا چمچ پکڑا اور دوسرے کو سوپ پلانے لگا۔
سب کے سب بہت خوش ہوئے۔
سوپ پینے کے بعد حکیم کھڑا ہوا اور بولا:
جو شخص زندگی کے دسترخوان پر اپنا ہی پیٹ بھرنے کا فیصلہ کرتا ہے، وہ بھوکا ہی رہے گا اور جو شخص دوسروں کو کھلانے کی فکر کرے گا، وہ خود کبھی بھوکا نہیں رہے گا۔
دینے والا ہمیشہ فائدہ میں رہتا ہے، لینے والے سے۔ آپ زندگی میں اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتے، جب تک آپ کے دوست احباب کامیاب نہیں ہوتے۔
🔘 ہم سب کی کامیابی کا راستہ دوسروں کی کامیابی سے ہو کر گزرتا ھے۔
🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 278
🌹 یتیم کیلئے ماں کی دعا 🌹
کہا جاتا ہے کہ ایک عورت نے اپنے شوہر کی وفات کے بعد دوسری شادی کی۔ اس کا پہلے شوہر سے ایک تین سالہ بیٹا تھا۔ جب اس عورت نے دوسری شادی کی تو وہ اپنے بیٹے کے ساتھ اپنے نئے شوہر کے گھر منتقل ہو گئی۔
نیا شوہر بہت امیر تھا، اس لیے اس نے اس بات پر کوئی اعتراض نہیں کیا کہ اس کا بیٹا بھی ان کے ساتھ رہے۔ شروع میں وہ اس بچے کے ساتھ کھیلتا بھی تھا۔
لیکن ایک سال بعد، جب ان کا اپنا بیٹا پیدا ہوا، تو شوہر کی محبت اور توجہ بدلنے لگی۔ اب وہ اپنے سوتیلے بیٹے سے کترانے لگا۔
ایک دن جب وہ کام سے واپس آیا، تو اپنے بیٹے کے لیے ایک نئی سائیکل لے کر آیا۔ ماں کا دل کٹ گیا جب اس نے اپنے یتیم بیٹے کو اپنے چھوٹے بھائی کو حسرت بھری نگاہوں سے دیکھتے پایا۔
ماں نے شوہر سے درخواست کی کہ وہ اپنے سوتیلے بیٹے کے لیے بھی ایک سائیکل خرید دے، لیکن شوہر نے انکار کر دیا اور کہا کہ وہ اس بچے کا ذمہ دار نہیں ہے۔ اگر ماں نے دوبارہ اس بارے میں بات کی، تو وہ بچے کو گھر سے نکال دے گا۔
وقت گزرتا گیا اور دونوں بچے بڑے ہو گئے۔ شوہر نے اپنے حقیقی بیٹے کو ایک بہترین پرائیویٹ اسکول میں داخل کروا دیا، لیکن سوتیلے بیٹے کے لیے کچھ نہیں کیا۔ اس نے کہا کہ وہ اس کا والد نہیں ہے، اس لیے اس پر اپنا پیسہ کیوں خرچ کرے؟
ماں نے غصے سے جواب دیا: "ہاں، وہ شاید تمہارا خون نہیں ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ تم اسے تعلیم سے محروم رکھو۔ کیا تمہارے دل میں ذرا سی بھی شفقت نہیں؟"
شوہر نے کہا: "بس بہت ہو چکا، میں اب اس کی موجودگی برداشت نہیں کر سکتا۔ میں اسے اپنے گھر میں نہیں دیکھنا چاہتا۔"
لڑکا اپنی ماں کے پاس آیا اور اس کے آنسو پونچھتے ہوئے کہا: "ماں، پریشان نہ ہو، کچھ بھی ایسا نہیں ہے جس کے لیے آپ کو رونا پڑے۔ میں تھک چکا ہوں آپ کو روزانہ میری خاطر اس شخص کی توہین برداشت کرتے دیکھ کر۔ میں یہ گھر چھوڑ دوں گا۔"
وہ لڑکا اپنی ماں کو چھوڑ کر چلا گیا۔ ماں کا دل جیسے آگ میں جلنے لگا۔ اس کے دماغ میں سوالات اٹھنے لگے کہ اس کا بیٹا کہاں جائے گا؟ کہاں رہے گا؟ کہاں سے کھائے گا؟
ماں نے اپنے ہاتھ آسمان کی طرف اٹھائے اور دعا کی: "اے اللہ! میں اپنے یتیم بیٹے کو تیرے سپرد کرتی ہوں، اس کی حفاظت فرما اور اسے محفوظ و سلامت واپس لے آ۔"
شوہر نے دیکھا کہ بیوی خوش اور مطمئن نظر آ رہی ہے۔ اسے حیرت ہوئی کہ بیٹا گھر سے چلا گیا ہے اور پھر بھی بیوی خوش کیوں ہے؟ اس نے پوچھا: "تم خوش کیوں ہو اور اپنے بیٹے کے جانے پر اداس کیوں نہیں ہو؟"
بیوی نے مسکرا کر کہا: "میں نے اپنے بیٹے کی حفاظت اس کے سپرد کر دی ہے جو اس کی دیکھ بھال اور حفاظت کے قابل ہے، جو کبھی تھکتا نہیں اور کبھی ناامید نہیں کرتا، اور وہ بغیر کسی اجر کے سب کچھ کر سکتا ہے۔"
شوہر نے پوچھا: "وہ کون ہے؟"
بیوی نے کہا: "اللہ عز و جل۔"
شوہر نے طنزیہ ہنسی کے ساتھ کہا: "دنیا باہر رحم نہیں کرتی، اور کوئی بھی بھوکے پر ترس نہیں کھاتا، لگتا ہے تم نے اپنا دماغ کھو دیا ہے۔"
وقت گزرتا گیا اور سالوں بعد، ماں کا بیٹا ایک دن واپس آیا، اپنے ہاتھ میں ایک بچہ اور ایک عورت کے ساتھ۔
اس نے اپنی ماں کو سلام کیا۔ ماں حیرت اور خوشی سے پوچھتی ہے: "یہ عورت کون ہے اور یہ بچہ کس کا ہے؟"
بیٹے نے جواب دیا: "یہ میری بیوی ہے اور یہ میرا بیٹا ہے۔"
ماں نے پوچھا: "تم نے یہ سب کچھ کیسے حاصل کیا۔؟"
بیٹے نے کہا: "میں بے یار و مددگار تھا اور نہیں جانتا تھا کہ کہاں جاؤں۔ پھر میں ایک چھوٹے سے گاؤں کی مسجد میں پہنچا اور وہاں رات گزاری۔ دن میں کام کی تلاش کرتا اور رات کو مسجد میں سوتا تھا۔ امام مسجد کو اپنی کہانی سنائی اور ان سے مسجد میں سونے کی اجازت مانگی، انہوں نے اجازت دے دی اور ہر روز مجھے کھانا دیتے تھے۔ میں شام کو مسجد صاف کرتا تھا اور امام نے مجھے قرآن حفظ کروایا اور دین کی تعلیم دی۔
ایک دن امام بیمار پڑ گئے، تو میں نے لوگوں کو نماز پڑھائی، اور اسی دن سے میں لوگوں کا امام بن گیا۔ لوگ مجھے پسند کرنے لگے۔ انہوں نے میرے لیے ایک یتیم لڑکی سے شادی کا انتظام کیا، جس کے پاس صرف اس کی دادی تھی۔ میں نے شادی کی اور کچھ ہی عرصے بعد اس کی دادی کا انتقال ہو گیا۔ بیوی کو اس کی دادی کی وراثت سے زمین کا ایک ٹکڑا ملا، جسے میں نے کاشت کیا اور حالات بہتر ہو گئے، الحمدللہ۔ اب اللہ کے فضل سے میرے پاس بہت سی زرعی زمینیں ہیں، اور اللہ نے مجھے اپنے فضل سے نوازا ہے۔ مجھے ہمیشہ لگتا تھا کہ آپ کی دعائیں میرے ساتھ ہیں، اور اللہ نے آپ کی وجہ سے میری مدد کی۔"
ماں خوشی سے رو پڑی اور جان گئی کہ اللہ نے اس کی دعائیں قبول کیں۔ اس نے اپنے پوتے کو گلے لگایا اور بیٹے نے ماں کے ہاتھ چومے۔
🔘 اللہ ہی رازق ہے اور جسے چاہے بے حساب نوازتا ہے۔ اس یتیم بچے کو اس کی ماں کی دعاؤں اور رضامندی کی بدولت نوازا گیا۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 278
🎅 غریب شادی کیوں کرتا ہے؟ 🎅
اخبار میں ایک دردناک خبر شائع ہوئی تھی کہ ’’ایک شخص نے مالی پریشانیوں سے تنگ آکر خودکشی کرلی۔‘‘ کہا جاتا ہے کہ صرف دو مہینے پہلے اس کی شادی ہوئی تھی لیکن اس کی آمدنی اتنی کم تھی کہ اس میں صرف ایک کا گزارہ ہی بمشکل ہوتا تھا اور اس پر اس نے شادی کرلی۔
یہ خبر پڑھ کر ہمارے دوست خوش حال خاں نے بڑے غصّے سے کہا، ’’کم بخت خود بھی جہنّم میں گیا اور اپنی بیوی کی زندگی کو بھی جیتے جی جہنم بنا گیا۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ غریب لوگ جب اپنے اکیلے کا پیٹ نہیں پال سکتے تو شادی کیوں کرتے ہیں؟
میں نے کہا یہ تو واقعی سوچنے کی بات ہے کہ غریب لوگ جب اپنے اکیلے کا پیٹ نہیں پال سکتے تو شادی کیوں کرتے ہیں۔ اپنے ساتھ دوسرے کو کیوں مصیبت میں جھونکتے ہیں؟ ’’بیچاری‘‘ اپنے ماں باپ کے گھر میں تو اچھی بھلی کھاتی پیتی ہوگی۔
خوش حال خاں بولا: تمہارا یہ کہنا بھی صحیح نہیں ہے ’’بیچاری‘‘ ماں باپ کے گھر میں اچھا کھاتی پیتی ہوتی تو ماں باپ اس کے شوہر کی حالت جانتے بوجھتے اسے اس کے پلے کیوں باندھ دیتے؟ لڑکیوں کے ماں باپ غالباً یہی سوچتے ہوں گے کہ جیسی یہاں ویسی وہاں۔ لہٰذا اپنے سر کا بوجھ اس کے کندھے پر اتار دو۔
میں نے کہا یہ تو جواب اس سوال کا ہوا کہ غریب ماں باپ اپنی لڑکیوں کی شادیاں کیوں کرتے ہیں؟ لیکن اس وقت ہمارے سامنے یہ سوال ہے کہ غریب مرد کیوں شادی کرتے ہیں؟ وہ اگر شادی نہ کرنا چاہیں تو لڑکیوں کے ماں باپ زبردستی تو اپنی بیٹی ان کے گلے نہیں منڈھ سکتے۔
خوش حال خاں بولا: میراخیال ہے کہ غریب مرد توہم پرست ہوتے ہیں۔ وہ اس وہم میں مبتلا ہوتے ہیں کہ عورت دولت کی دیوی ہوتی ہے۔ یعنی لچھمی اور کنوارے کے گھر میں عورت کا قدم ساری ساڑھ ستی دُور کر دیتا ہے۔
ہمارا نوکر یہ سن کر بولا:
سچ کہا بابو جی آپ نے عورت بڑی نیک قدم ہوتی ہے۔ شادی سے پہلے میں بھی کتّے کی زندگی بسر کر رہا تھا۔ قرض میں بال بال جکڑا ہوا تھا لیکن جیسے ہی میں نے شادی کی تو سارے قرضے اتر گئے۔
اس جواب پر ہم پھر اچھل پڑے اور بڑے فاتحانہ انداز سے خوش حال کی طرف دیکھ کر بولے؛ ’’ذرا نوکر کی بات پر غور کر۔‘‘
خوش حال خان بولا: لیکن سبھی عورتیں تو نیک قدم نہیں ہوتیں! اگر سب عورتیں نیک قدم ہوتیں تو اس آدمی نے کیوں خودکشی کی اور یہ کہ ہر غریب آدمی کیوں منہ لٹکائے پھرتا ہے؟
خوش حال خاں کا استدلال ٹھیک تھا۔ اس لئے سوال جہاں کا تہاں رہ گیا کہ جب ایک غریب آدمی اپنے اکیلے کا پیٹ نہیں پال سکتا تو پھر وہ شادی کیوں کرتا ہے؟
ابھی ہم اس سوال پر غور کر ہی رہے تھے ک ہمارا دوست شہاب الدین غوری آ گیا چنانچہ ہم نے غوری سے مدد طلب کی کہ غوری ذرا غور تو کرو کہ جب ایک غریب آدمی اپنے اکیلے کا پیٹ نہیں پال سکتا تو شادی کیوں کرتا ہے؟
غوری نے بغیر غور کئے جواب دیا: اگر غریب آدمی شادیاں نہ کریں تو دنیا میں ایک ’’بڑا آدمی‘‘ بھی زندہ نہ رہے یا پھر ہر روز غریب آدمیوں سے پٹتا رہے اور قید خانے غریب آدمیوں سے بھر جائیں۔
بھائی! دنیا میں امن اسی لئے قائم ہے کہ ہر غریب آدمی کے گھر میں ایک عورت بیٹھی ہوئی ہے۔
غوری تو یہ کہہ کر چلا گیا لیکن ہم چکرا گئے۔ ہماری کچھ سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ یہ کیا چکّر ہے؟
عین اسی وقت ہمارے پڑوس میں رہنے والے ایک چپڑاسی کے گھر اس کی عورت کی چیخ و پکار شروع ہوئی۔ چپڑاسی اپنی عورت کو دھڑا دھڑ پیٹ رہا تھا اور بیچاری عورت پٹتی پٹاتی پناہ لینے کیلئے ہمارے گھر آگئی اور بولی:
’’موا، روز بلا قصور مجھے مارتا ہے، حالانکہ سارا کام اس کی مرضی کے مطابق کیا ہے، حتیّ کہ سالن چکھ کر دیکھ لیجئے۔ مرچیں نہ کم ہیں نہ زیادہ۔‘‘
یہ جواب سن کر ہمیں مرچیں لگ گئیں۔ ہم بڑے غصّے میں چپڑاسی کے پاس پہنچے کہ ’’تو نے بلا قصور بیوی کو کیوں مارا؟‘‘
چپڑاسی بولا، ’’اس لئے مارا کہ میرے افسر کو قبض کی شکایت ہے۔‘‘
ہم نے بھِنّا کر پوچھا: ’’بھائی افسر کی قبض کا بیوی کو مارنے سے کیا تعلق؟‘‘
چپڑاسی بولا؛ ’’واہ! تعلق کیوں نہیں۔ افسر کو قبض تھی اس کی طبیعت چڑچڑی تھی۔ اس نے بلاوجہ ڈپٹی کو ڈانٹا، ڈپٹی نے سکشن افسر کو ڈانٹا، سکشن افسر نے سپرنٹنڈنٹ کو ڈانٹا، سپرنٹنڈنٹ نے ہیڈ کلرک کو، ہیڈ کلرک نے کلرک کو ڈانٹا، اور کلرک نے اپنا غصّہ مجھ پر اُتارا تو پھر آپ ہی بتائیے کہ میں اپنا غصّہ کس پر اتاروں! اس نیک بخت سے آخر شادی کس لئے کی ہے؟‘‘
یہ جواب سن کرایک دم ہمیں سکون سا ہوا اور سارے عقدے کھل گئے کہ واقعی دنیا میں امن اس لئے قائم ہے کہ ہر غریب آدمی کے گھر میں ایک عورت بیٹھی ہوئی ہے۔
واقعی اگر ’’غریب کی جورو‘‘ نہ ہو تو دنیا میں ایک بڑا بھی سلامت نہ رہے۔
واقعی یہ چپراسی ٹھیک ہی کہتا ہے کہ ’’اس نیک بخت سے آخر شادی کس لئے کی ہے۔‘‘
آپ کیا کہتے ہیں۔۔۔۔؟؟؟؟؟
🤔🤔😤🤡😤🤔🤔
https://t.me/muskuraahten
🎅 MUSKURAAHTEN 🎅
