uk
Feedback
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹

🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹

Відкрити в Telegram

یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں طالب دعا 🤲 محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ 🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan

Показати більше
2 871
Підписники
-224 години
-117 днів
-3330 день
Архів дописів
مسلمانوں کے پاس صِرف چار نام 📜 ✍مولانا طارق انور مصباحی (کیرلا) येह तह़रीर हिंदी Hindi ہندی में ↷ https://whatsapp.com/channel/0029Va4xNTcBlHpj2ZXcdA3J/626 قوم مسلم پر الزام تراشیوں کی گرم بازاری ہے ۔ اہل تعصب ہنودکاکہنا ہے کہ مسلمانوں کے پاس صرف چار چہرے ہیں، جن کو دکھا کروہ اپنی وفاداری ثابت کرتے ہیں: ❶ اشفاق اللہ خاں (1900-1927)، ❷ ویر عبد الحمید (1933-1965)، ❸ ابو الکلام آزاد (1888-1958)، ❹ ڈاکٹراے پی جے عبد الکلام (1931-2015) ـ حکومت ہند کی سفارش پر ڈاکٹر بی این چوپڑا نے تین جلدوں میں پہلی جنگ آزادی: 1857 سے 1947 تک کے سر فروشوں و دیگر مجاہدینِ وطن کا تذکرہ جمع کیا ہے، جنہوں نے بھارت کے لیے اپنی جانیں قربان کیں، جس کا اردو ترجمہ قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان (دہلی) نے دو جلدوں میں شہیدان آزادی کے نام سے شائع کیا ہے ۔ اس میں ہر قوم کے ان مجاہدینِ آزادی کا ذکر ہے، جنہوں نے بھارت کے لیے اپنا خون بہایا، اور اپنی جانیں قربان کیں ۔ اس میں بے شمار مسلمانوں کے نام درج ہیں، لیکن تعصب اندھا، بہرا اور گونگا ہوتا ہے ۔ انگریزوں کے کاسہ لیس آج وفادارِ وطن بن چکے ۔ انگریزوں کی آمد سے لے کر پہلی جنگ آزادی 1857 تک بھارت کے تحفظ و آزادی کے لیے مسلمانوں نے اپنا خون پانی کی طرح بہایا ۔ جب 1857 میں مغلیہ سلطنت کا خاتمہ ہو گیا اور انگریزوں کو یقین ہو گیا کہ اس غدر میں مغل بادشاہ، مسلم امرا و نواب اور علما کا مرکزی کردار ہے تو بغاوت کے خاتمے کے بعد انگریزی حکومت کئی سالوں تک مسلمانوں پر سخت ظلم و ستم کرتی رہی ۔ بے شمار مسلم عوام، علما اور ارباب اقتدار کو پھانسی پر لٹکایا گیا ۔ جاگیریں ضبط ہوئیں ۔ مسلمانوں کو سرکاری ملازمت سے نکال دیا گیا ۔ ادھر قوم مسلم پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے جا رہے تھے، اسی عہد میں آرین قوم انگریزی حکومت کو ملکی حکومتوں سے بہتر بتا رہی تھی، ان سے وفاداری کا وعدہ کر رہی تھی، پھر جب انگریز یہاں سے چلے گئے، تو وہی لوگ خود کو وفادارِ وطن اور مجاہدینِ آزادی کہنے لگے، اور جس قوم نے آزادی کے لیے اپنا سب کچھ لٹا دیا تھا، اس کو غدار بتانے لگے ۔ کمزوری کا دوسرا نام مظلومیت ہے ۔ میدان کربلا سے لے کر آج تک کی تاریخ یہی بتاتی ہے ۔  بھارتی مؤرخ تارا چند (1888-1973) نے لکھا: ”1857 کی بغاوت کے فوراً بعد یہ خیال جڑیں پکڑنے لگا کہ اس کے باوجود کہ وہ ماضی کی مطلق العنان حکومتوں سے بہتر ہے اور ہر حال میں اٹھارہویں صدی اور انیسوںیں صدی کے اوائل کی بدنظمی کے مقابلے میں زیادہ قابلِ مقبول ہے، پھر بھی برطانوی حکومت لوگوں کی ضرورتیں پوری کرنے میں ناکام رہی ہے ۔ چنانچہ برطانوی حکومت کے فوائد کو تسلیم کرنے، برطانیہ کے ساتھ تعلقات برقرار رکھنے کی خواہش کی تصدیق اور برطانوی تاج کے ساتھ وفاداری کے اعلان کے باوجود ہندوستان کے رہنماؤں کو ضروری معلوم ہوا کہ شکایتوں کی طرف حکومت کو توجہ دلائی جائے ۔ انہیں امید تھی کہ لبرل ذہن رکھنے والے حکمرانوں کو جوں ہی ان کا علم ہوگا، وہ انہیں دور کر دیں‌گے ۔ انہیں بِالکل یقین تھا کہ برطانوی حکومت مفید ہے، لیکن اس میں چند سیاسی اور معاشی خامیاں ہیں ۔ سیاست کی حد تک دو اہم خامیاں تھیں ۔ حکومت کی کونسلوں میں عوامی آواز کی عدم موجودگی (غیر موجودگی) اور اعلیٰ عہدوں پر ہندوستانیوں کا تقرر نہ کیا جانا ۔ معاشی میدان میں بنیادی شکایت تھی ہندوستانیوں کا افلاس (مفلسی، تنگدستی)، جو بہت کم قومی اور انفرادی آمدنیوں سے، قحطوں سے، کسانوں کے قرضے سے، زندگی کی کم مدت سے اور زیادہ شرح اموات وغیرہ سے ظاہر ہوتا تھا ۔ اس کے علاوہ عام طور سے سمجھا جاتا تھا کہ افلاس کی ایک اہم وجہ تھی ہندوستان سے دولت کا نکاس“ ۔ (تاریخ تحریک آزادیِ ہند، تارا چند، جلد دوم ص469 - قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، دہلی، ترجمہ: از، ڈاکٹر ایم ہاشم قدوائی،علی گڑھ) جس عہد (دور) میں مسلمانوں کو بغاوت کے جرم میں پھانسیوں پر لٹکایا جا رہا تھا، اسی عہد میں برطانوی تاج کے ساتھ وفاداری کا اعلان کرنے والے ہندوستانی لیڈر کون لوگ تھے؟ انگریزوں سے اپنی وفاداری کے عوض حکومتی اعلیٰ عہدوں کی تمنا کرنے والے لوگ کون تھے؟ بھارت کی ساری دولت لوٹ کر اِنگلینڈ لے جانے والی حکومت کے فوائد کو یقینی تسلیم کرنے اور ان سے عمدہ تعلقات کی خواہش رکھنے والے لوگ کون تھے؟ در اصل یہی لوگ غدارِ وطن تھے ۔ آج ان کے وارثین محبِّ وطن بن چکے ہیں!!! ✍ طارق انور مصباحی (کیرلا)       📇 روشن مستقبل دہلی 🗓 جاری کردہ: 31 مئی 2020 ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬ یہ تحریر ٹیلی گرام Telegram پر ↶ https://t.me/TariqueAnwerMisbahi/2069 یہ تحریر فیس بک FaceBook پر ↶ https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=691511778086010&id=388280455075812 یہ تحریر واٹس ایپ WhatsApp پر ↶ https://whatsapp.com/channel/0029Va4xNTcBlHpj2ZXcdA3J/627

हैं।।।

मुसलमानों के पास स़िर्फ़ 4 नाम 📜 ✍ त़ारिक़ अनवर मिस़्बाह़ी (केरला) 📝 मुह़म्मद जमालुद्दीन ख़ान क़ादिरी یہ تحریر اردو Urdu میں ↶ https://whatsapp.com/channel/0029Va4xNTcBlHpj2ZXcdA3J/627 क़ौमे मुस्लिम पर इल्ज़ाम तराशियों की गरम बाज़ारी है - अहले तअ़स़्स़ुब हुनूद का कहना है कि मुसलमानों के पास स़िर्फ़ चार चेहरे हैं, जिन को दिखा कर वोह अपनी वफ़ादारी साबित करते हैं: ❶ अश्फ़ाक़ुल्लाह ख़ाँ (1900-1927), ❷ वीर अ़ब्दुल ह़मीद (1933-1965), ❸ अबुल कलाम आज़ाद (1888-1958) और ❹ डॉक्टर ए पी जे अ़ब्दुल कलाम (1931-2015) ह़ुकूमते हिन्द की सिफ़ारिश पर डॉक्टर बी एन चोपड़ा ने तीन जिल्दों में पहली जंगे आज़ादी 1857 से 1947 तक के सर-फ़रोशों व दीगर मुजाहिदीने वत़न का तज़किरह जमअ़् किया है, जिन्होंने भारत के लिए अपनी जानें क़ुरबान कीं, जिस का उर्दू तर्जुमह क़ौमी काउंसिल बराए फ़रोग़ उर्दू ज़बान (देहली) ने दो जिल्दों में शहीदाने आज़ादी के नाम से शाएअ़् किया है - इस में हर क़ौम के उन मुजाहिदीने आज़ादी का ज़िक्र है, जिन्होंने भारत के लिए अपना ख़ून बहाया, और अपनी जानें क़ुर्बान कीं - इस में बे शुमार मुसलमानों के नाम दर्ज हैं, लेकिन तअ़स़्स़ुब अंधा, बहरा और गूंगा होता है - अंग्रेज़ों के कासए लेस आज वफ़ादारे वत़न बन चुके। अंग्रेज़ों की आमद से लेकर पहली जंगे आज़ादी 1857 तक भारत के तह़फ़्फ़ुज़ व आज़ादी के लिए मुसलमानों ने अपना ख़ून पानी की त़रह़ बहाया - जब 1857 में मुग़्लियह सलत़नत का ख़ातिमह हो गया और अंग्रेज़ों को यक़ीन हो गया कि इस ग़दर में मुग़ल बादशाह, मुस्लिम उमरा व नवाब और उ़लमा का मरकज़ी किरदार है तो बग़ावत के ख़ातिमे के बअ़्द अंग्रेज़ी ह़ुकूमत कई सालों तक मुसलमानों पर सख़्त ज़ुल्मो सितम करती रही - बे शुमार मुस्लिम अ़वाम, उ़लमा और अरबाबे इक़्तिदार को फांसी पर लटकाया गया - जागीरें ज़ब्त़ हुईं - मुसलमानों को सरकारी मुलाज़िमत से निकाल दिया गया। इधर क़ौमे मुस्लिम पर ज़ुल्मो सितम के पहाड़ तोड़े जा रहे थे, उसी अ़हद में आरयन क़ौम अंग्रेज़ी ह़ुकूमत को मुल्की ह़ुकूमतों से बेहतर बता रही थी, उनसे वफ़ादारी का वअ़्दह कर रही थी, फिर जब अंग्रेज़ यहाँ से चले गये, तो वही लोग ख़ुद को वफ़ादारे वत़न और मुजाहिदीने आज़ादी कहने लगे, और जिस क़ौम ने आज़ादी के लिए अपना सब कुछ लुटा दिया था, उस को ग़द्दार बताने लगे - कमज़ोरी का दूसरा नाम मज़्लूमियत है - मैदाने कर्बला से लेकर आज तक की तारीख़ यही बताती है। भारती मुअर्रिख़ तारा चंद (1888-1973) ने लिखा: 1857 की बग़ावत के फ़ौरन बअ़्द येह ख़याल जड़ें पकड़ने लगा कि इसके बा-वजूद कि वोह माज़ी (अतीत) की मुत़लक़ुल इ़नान (बे लगाम) ह़ुकूमतों से बेहतर है और हर ह़ाल में अट्ठारहवीं स़दी और उन्नीसवीं स़दी के अवाइल की बद नज़्मी के मुक़ाबले में ज्यादह क़ाबिले मक़बूल है, फिर भी बरत़ानवी ह़ुकूमत लोगों की ज़रूरतें पूरी करने में नाकाम रही है, चुनांचे बर्त़ानवी ह़ुकूमत के फ़वाइद को तस्लीम करने, बरत़ानियह के साथ तअ़ल्लुक़ात बर क़रार रखने की ख़्वाहिश की तस़्दीक़ और बरत़ानवी ताज के साथ वफ़ादारी के एअ़्लान के बा-वजूद हिन्दुस्तान के रहनुमाओं को ज़रूरी मअ़्लूम हुवा कि शिकायतों की त़रफ़ ह़ुकूमत को तवज्जह दिलाई जाए। उन्हें उम्मीद थी कि लबरल ज़हन रखने वाले ह़ुकमरानों को जूं ही उनका इ़ल्म होगा, वोह उन्हें दूर कर देंगे - उन्हें बिल्कुल यक़ीन था कि बरत़ानवी ह़ुकूमत मुफ़ीद है, लेकिन इसमें चंद सियासी और मआ़शी ख़ामियां हैं - सियासत की ह़द तक दो अहम ख़ामियां थीं - ह़ुकूमत की काउंसिलों में अ़वामी आवाज़ की अ़दम मौजूदगी (ग़ैर मौजूदगी) और अअ़्ला ओ़हदों पर हिन्दुस्तानियों का तक़र्रुर न किया जाना - मआ़शी मैदान में बुनियादी शिकायत थी हिन्दुस्तानियों का इफ़्लास (मुफ़्लिसी, तंगदस्ती), जो बहुत कम क़ौमी और इन्फ़िरादी आमदनियों से, क़ह़त़ो से, किसानों के क़र्ज़े से, ज़िन्दगी की कम मुद्दत से और ज़्यादह शरह़े अमवात वग़ैरह से ज़ाहिर होता था - इसके अ़लावह आ़म त़ौर से समझा जाता था कि इफ़लास की एक अहम वजह थी हिन्दुस्तान से दौलत का निकास - (तारीख़े तह़रीके आज़ादिए हिन्द, तारा चंद जिल्द 2, पेज 469 - क़ौमी काउंसिल बराए फ़रोग़ उर्दू ज़बान देहली, तर्जुमह: अज़, डॉक्टर एम हाशिम क़िदवाई, अ़ली गढ़) जिस अ़हद (दौर) में मुसलमानों को बग़ावत के जुर्म में फांसियों पर लटकाया जा रहा था, उसी अ़हद में बरत़ानवी ताज के साथ वफ़ादारी का एअ़्लान करने वाले हिन्दुस्तानी लीडर कौन लोग थे? अंग्रेज़ों से अपनी वफ़ादारी के इ़वज़ ह़ुकूमती अअ़्ला ओ़हदों की तमन्ना करने वाले लोग कौन थे? भारत की सारी दौलत लूट कर इंग्लैंड ले जाने वाली ह़ुकूमत के फ़वाइद को यक़ीनी तस्लीम करने और उनसे उ़म्दह तअ़ल्लुक़ात की ख़्वाहिश रखने वाले लोग कौन थे? दर-अस़्ल यही लोग ग़द्दारे वत़न थे - आज उनके वारिसीन मुह़िब्बे वत़न बन चुके

sticker.webp0.30 KB

25-07-1446 ᴴ | 26-01-2025 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬ حضرت عمر بن عبد العزیز علیہ‌الرحمہ https://t.me/islaamic_Knowledge/45454 حضرت امام م
+9
25-07-1446 ᴴ | 26-01-2025 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬ حضرت عمر بن عبد العزیز علیہ‌الرحمہ https://t.me/islaamic_Knowledge/45454 حضرت امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ https://t.me/islaamic_Knowledge/45450 حضرت امام موسی کاظم علیہ‌الرحمہ https://t.me/islaamic_Knowledge/45447 سید العلماء حضرت علامہ مفتی شاہ آل مصطفی سید میاں مارہروی علیہ الرحمہ https://t.me/islaamic_Knowledge/45444 ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬ #یوم_ولادت_ماہ_رجب_المرجب #یوم_وصال_ماہ_رجب_المرجب

sticker.webp0.30 KB

⚡️ جن گن من پڑھنا ⚡ (سئل) ہند کا قومی ترانہ (جن گن من) پڑھنا کیسا ہے؟ ⚡⚡⚡⚡⚡ (فأجاب) اہل سنت وجماعت کے نزدیک کفار یا مرتدین کی جے پکارنا کفر ہے اور اللهﷻ یا مسلمانوں میں سے کسی کے نام کی جے پکارنا منع ہے. جیسا کہ اس گیت میں بھارت کی منزل کا فیصلہ کرنے والے (خواہ لکھنے والا اسے معبود ہو یا عبد) کی جے کا نعرہ لگایا ہے. قال المجدد رحمہ الله: جے جو کافر بولتے ہیں جیسے گاندھی وغیرہ کی یا عام ہنود کی، یہ بحکم فقہائے کرام کفر ہے، درمختار وغیرہ میں ہے: تبجیل الکافر کفر (کافر کی تعظیم کفر ہے) یونہی جو نام کا مسلمان حد کفر تک پہنچ گیا ہو اس کی جے کا بھی یہی حکم ہے، اور مسلمان کی جے بولنا بھی منع ہے کہ کفار سے مشابہت ہے. (فتاوی رضویہ، ٢٦٧/١٥، کتاب السیر) ہندؤں کو جے وارث کہنے کو بتاتا کیسا ہے اس کے جواب میں شارح بخاری فرماتے ہیں: جے کے معنی فتح ہیں. جے وارث کے معنی ہوتے ہیں وارث کی فتح ہو. اس میں کوئی حرج نہیں ہے البتہ مسلمانوں کو جے وارث کہنا جائز نہیں اس لیے کہ اس سے تشبہ ہوجائے گا کہ یہ ہندو ہے. (فتاوی شارح بخاری، ٥٢١/٢) ⚡⚡⚡⚡⚡ کتبه: ندیم ابن علیم المصبور العینی

sticker.webp0.30 KB

15 اگست اور 26 جنوری منانے کا حکم ـ جے ہند اور جے جھارکھنڈ بولنے کا حکم ـ ہندوؤں کو شہید کہنے کا حکم ـ وندے ماترم گانے کا شرعی حکم ـ بھارت ماتا کی جے بولنے کا حکم ... 📝 محمد جمال الدین خان قادِری https://whatsapp.com/channel/0029Va4xNTcBlHpj2ZXcdA3J 15 اگست اور 26 جنوری منانے کا حکم: حضور فقیہ ملت، مفتی جلال الدین احمد امجدی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: 15 اگست اور 26 جنوری ہر ہندوستانی کے لئے خوشی کا دن ہے ۔ کیونکہ 15 اگست کو انگریزوں کے ظلم و ستم اور بالا دستی سے تمام ہندوستانیوں کو آزادی و نجات ملی ہے - جس کی خاطر حضرت علامہ فضل حق خیر آبادی علیہ الرحمہ وغیرہ علمائے اہل سنت علیہم الرحمہ نے فتوئ جہاد دیا تھا اور ہزاروں مسلمانان ہند نے اس کے لئے اپنی جانیں قربان کی تھیں ـ اور 26 جنوری کو جمہور ہند کا دستور مرتب کیا گیا جس میں مسلمانوں کو اپنے بعض معاملات جیسے نکاح، طلاق، میراث، وغیرہا میں احکام شرعیہ کے نفاذ کی اجازت ملی، اس لئے یہ دونوں دن مسلمانان ہند کے لئے خوشی کے دن ہیں، اور اظہار خوشی کے لئے جلوس نکالنا عوام و خواص میں متعارف ہے ۔ بشرطیکہ اس میں کسی ممنوعات شرعیہ کا ارتکاب نہ ہو، مثلاً کسی مجسمہ یا کسی کافر کی تعظیم یا اس کو سلامی دینا یا کوئی غیر شرعی نعرہ لگانا وغیرہ واللہ تعالٰی اعلم ـ [ فتاویٰ فقیہِ ملت، جلد²، صفحہ²⁸⁸] جے ہند اور جے جھارکھنڈ کا حکم: یہ دونوں لفظ بولنا ہندوؤں کا شعار ہے ـ یہ لفظ جب کوئی بولتا ہے تو اس سے یہی سمجھ میں آتا ہے کہ بولنے والا ہندو ہے ـ اس لئے مسلمانوں کو جائز نہیں کہ اس قسم کے الفاظ استعمال کریں ـ حدیث میں ہے: ”وایاکم وزی الاعاجم“ یعنی عجمیوں کے طریقوں سے دور رہو ـ والله تعالٰی اعلم ـ [فتاوٰی شارح بخاری، جلد²، صفحہ⁴⁶³] ہندوؤں کو شہید کہنے کا حکم: ہندو کو شہید کہنا کفر ہے. [ایضًا ص⁵⁸⁸] وندے ماترم گانے کا شرعی حکم: وندے ماترم کے معنٰی یہ ہیں اے ماں! ہم تیرے پجاری ہیں، یہ زمین سے خطاب ہے ـ مشرکینِ ہند کے کروڑوں دیوتاؤں میں ایک دیوی زمین بھی ہے ـ اس سے خطاب کرتے ہوئے اس گیت میں کہا گیا ہے کہ اے زمین، اے دھرتی ماتا! ہم تیرے پجاری ہیں ـ پجاری کے معنٰی عبادت کرنے والے کے ہیں ـ اس وجہ سے یہ جملہ خالص مشرکانہ کافرانہ ہے ـ مسلمانوں کو ہرگز ہرگز جائز نہیں کہ وہ یہ نعرہ لگائیں ـ جو مسلمان یہ نعرہ لگائےگا، یہ گیت گائےگا وہ کافر مشرک مرتد ہوکر اسلام سے خارج ہو جائےگا ـ اس کی زوجہ (بیوی) اس کے نکاح سے نکل جائےگی ـ اس پر فرض ہوگا کہ فورًا توبہ کرے، پھر سے کلمہ پڑھ کر مسلمان ہو اور اگر اس بیوی کو رکھنا چاہتا ہے تو اس سے پھر سے نکاح کرے ـ والله تعالٰی اعلم ـ [فتاوٰی شارح بخاری، جِلد²، صفحہ⁵⁸⁹،⁵⁸⁸] بھارت ماتا کی جے بولنے کا حکم: بھارت ماتا کی جے بولنا کفر ہے ـ جو لوگ یہ جے بولیں ان پر توبہ، تجدید ایمان اور تجدید نکاح لازم ہے ـ یہ ہندوؤں کے شرکیہ اعتقاد کی ترجمانی ہے ان کے اعتقاد کے مطابق ایک دیوی ہے جس کو بھارت ماتا کہتے ہیں، جو ہندوستان کی مالک و مختار اور اس میں متصرف ہے جیسے گنگا جمنا کے بارے میں ان کا اعتقاد یہ ہے کہ یہ دونوں دریا نہیں دو دیوی ہیں ـ والله تعالٰی اعلم ـ [فتاوٰی شارح بخاری، جِلد²، صفحہ⁵⁹⁸] ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬ جنگ آزادی سے متعلق کتابیں ↶ https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/7013 ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬ येह तह़रीर हिंदी Hindi ہندی में ↷ https://whatsapp.com/channel/0029Va4xNTcBlHpj2ZXcdA3J/616 Yeh Ta'hreer ᴿᵒᵐᵃⁿ ᵁʳᵈᵘ Men ↷ https://whatsapp.com/channel/0029Va4xNTcBlHpj2ZXcdA3J/615

15 अगस्त और 26 जनवरी मनाने का ह़ुक्म - जय हिन्द और जय झारखण्ड बोलने का ह़ुक्म - हिन्दुओं को शहीद कहने का ह़ुक्म - वन्दे मातरम् गाने का शरई़ ह़ुक्म - भारत माता की जय बोलने का ह़ुक्म: 📝 मुह़म्मद जमालुद्दीन ख़ान क़ादिरी https://whatsapp.com/channel/0029Va4xNTcBlHpj2ZXcdA3J 15 अगस्त और 26 जनवरी मनाना: ह़ुज़ूर फ़क़ीहे मिल्लत मुफ़्ती जलालुद्दीन अह़मद अमजदी علیہ الرحمہ फ़रमाते हैं: 15 अगस्त और 26 जनवरी हर हिन्दुस्तानी के लिए ख़ुशी का दिन है - क्योंकि 15 अगस्त को अंग्रेज़ों के ज़ुल्म व सितम और बाला दस्ती से तमाम हिन्दुस्तानियों को आज़ादी व नजात मिली है - जिसकी ख़ात़िर ह़ज़रत अ़ल्लामह फ़ज़्ले ह़क़ ख़ैरआबादी علیہ الرحمہ वग़ैरह उ़लमाए अहले सुन्नत علیہم الرحمہ ने फ़तवए जिहाद दिया था और हज़ारों मुसलमानाने हिन्द ने इसके लिए अपनी जानें क़ुरबान की थीं, और 26 जनवरी को जम्हूरे हिन्द का दस्तूर मुरत्तब किया गया जिस में मुसलमानों को अपने बअ़्ज़ मुआ़मलात जैसे निकाह़, त़लाक़, मीरास वग़ैरहा में अह़कामे शरइ़य्यह के निफ़ाज़ की इजाज़त मिली, इस लिए येह दोनों दिन मुसलमानाने हिन्द के लिए ख़ुशी के दिन हैं, और इज़हारे ख़ुशी के लिए जुलूस निकालना अ़वाम व ख़वास़ में मु-तआ़रफ़ है - ब-शर्त़े कि इस में किसी ममनूआ़ते शरइ़य्यह का इर्तिकाब न हो, मस्लन किसी मुजस्समह या किसी काफ़िर की तअ़्ज़ीम या उसको सलामी देना या कोई ग़ैर शरई़ नअ़्रह लगाना वग़ैरह والله تعالٰی اعلم - [फ़तावा फ़क़ीहे मिल्लत, जिल्द², पेज²⁸⁸] जय हिन्द और जय झारखण्ड बोलना: ह़ुज़ूर शारेह़े बुख़ारी, मुफ़्ती शरीफ़ुल ह़क़ अमजदी علیہ الرحمہ फ़रमाते हैं: येह दोनों लफ़्ज़ बोलना हिन्दुओं का शिआ़र है - येह लफ़्ज़ जब कोई बोलता है तो इस से यही समझ में आता है कि बोलने वाला हिन्दू है - इस लिए मुसलमानों को जाइज़ नहीं कि इस क़िस्म के अल्फ़ाज़ इस्तेअ़्माल करें - ह़दीस में है: अ़जमियों के त़रीक़ों से दूर रहो والله تعالٰ اعلم - [फ़तावा शारेह़े बुख़ारी, जिल्द², पेज⁴⁶³] हिन्दुओं को शहीद कहने का ह़ुक्म: हिन्दू को शहीद कहना कुफ़्र है. [ऐज़न⁵⁸⁸] वन्दे मातरम् गाने का शरई़ ह़ुक्म: वन्दे मातरम् के मअ़्ना येह हैं: ऐ माँ! हम तेरे पुजारी हैं, येह ज़मीन से ख़ित़ाब है - मुशरिकीने हिन्द के करोड़ों देवताओं में एक देवी ज़मीन भी है - इससे ख़ित़ाब करते हुए इस गीत में कहा गया है कि ऐ ज़मीन, ऐ धर्ती माता! हम तेरे पुजारी हैं - पुजारी के मअ़्ना इ़बादत करने वाले के हैं - इस वजह से येह जुम्लह ख़ालिस़ मुशरिकानह काफ़िरानह है - मुसलमानों को हरगिज़ हरगिज़ जाइज़ नहीं कि वोह येह नअ़्रह लगाएं - जो मुसलमान येह नअ़्रह लगाएगा, येह गीत गाएगा वोह काफ़िर मुशरिक मुरतद होकर इस्लाम से ख़ारिज हो जाएगा - उसकी ज़ौजह (बीवी) उसके निकाह़ से निकल जाएगी - उस पर फ़र्ज़ होगा कि फ़ौरन तौबह करे, फिर से कलिमह पढ़ कर मुसलमान हो और अगर उस बीवी को रखना चाहता है तो उससे फिर से निकाह़ करे والله تعالٰی اعلم - [फ़तावा शारेह़े बुख़ारी, जिल्द², पेज⁵⁸⁸,⁵⁸⁹] भारत माता की जय बोलने का ह़ुक्म: भारत माता की जय बोलना कुफ़्र है - जो लोग येह जय बोलें उन पर तौबह, तजदीदे ईमान और तजदीदे निकाह़ लाज़िम है - येह हिन्दुओं के शिरकियह एअ़्तिक़ाद की तर्जुमानी है उनके एअ़्तिक़ाद के मुत़ाबिक़ एक देवी है जिसको भारत माता कहते हैं, जो हिन्दुस्तान की मालिक व मुख़्तार और इस में मुतस़र्रिफ़ है, जैसे गंगा जमुना के बारे में उनका एअ़्तिक़ाद येह है कि येह दोनों दरिया नहीं दो देवी हैं والله تعالٰی اعلم - [फ़तावा शारेह़े बुख़ारी, जिल्द², पेज⁵⁹⁸] ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬ یہ تحریر اردو Urdu उर्दू مِیں ↶ https://whatsapp.com/channel/0029Va4xNTcBlHpj2ZXcdA3J/617 Yeh Ta'hreer ᴿᵒᵐᵃⁿ ᵁʳᵈᵘ Men ↷ https://whatsapp.com/channel/0029Va4xNTcBlHpj2ZXcdA3J/615