🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
Відкрити в Telegram
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں طالب دعا 🤲 محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ 🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Показати більше2 877
Підписники
-524 години
-97 днів
-3730 день
Архів дописів
اسلام نسلی نہیں اصولی دین ہے | ❷
✍مولانا حسن نوری گونڈوی صاحب
مخصوص لباس، زبان، غذا، رنگ،
شہر و نسل کا نام اسلام نہیں ہے ـ
https://whatsapp.com/channel/0029Va4xNTcBlHpj2ZXcdA3J
اسے یوں سمجھیے کہ اسلام کے لیے کوئی زبان خاص نہیں کہ جو فلاں زبان بولے وہی مسلمان ہے.
جو فلاں طرز کا لباس پہنے وہی مسلمان
جو فلاں فلاں غذا کھائے وہی مسلمان
جو فلاں شہر کا ہوگا وہی مسلمان ہوگا
جو فلاں رنگ کا ہوگا وہ مسلمان ہے
جو فلاں نسل سے ہے وہ مسلمان ہے
یاد رہے اسے لوح دل پر نقش کر لیجیے کہ اسلام زبان، رنگ، شہر، لباس و نسل کے ساتھ خاص نہیں کیوں کہ اسلام کی بنیاد اصول پر ہے، اصول کا زبان سے اقرار کرنا اور دل سے تصدیق کرنے والا کسی بھی رنگ و نسل و زبان و لباس کا ہو وہ مسلمان ہے اس پر کسی عربی عجمی شہری دیہاتی کو کوئی فوقیت نہیں
اصول کی خلاف ورزی کرنے والا نسل اعلی ، شہر حرمین، لباس اسلامی، غذا حلال، زبان عربی، رنگ گورا بھی رکھے وہ ہرگز مسلمان نہیں ہو سکتا ـ
اب کچھ لوگ دین اسلام کو دانستہ (یعنی جان بوجھ کر) یا غیر دانستہ نسلی دین بنانے پر تلے ہوئے ہیں،
وہ یہ بتانا چاہتے ہیں کہ ہم اور ہمارا قول دین ہے، ہم جو کہیں ہم جو کریں، جو پہنیں وہی دین و شریعت ہے ـ
یاد رہے یہ برہمنیت کا وائرس ہے
اسلام سے کوئی تعلق نہیں ـ
✍ محققِ اہلسنت ، علامہ حسن نوری
گونڈوی صاحب قبلہ دامت برکاتہم العالیہ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
येह तह़रीर हिंदी Hindī ہِنۡدِیۡ में ↷
https://whatsapp.com/channel/0029Va4xNTcBlHpj2ZXcdA3J/1537
Yeh Taḥreer ᴿᵒᵐᵃⁿ ᵁʳᵈᵘ Men ↷
https://whatsapp.com/channel/0029Va4xNTcBlHpj2ZXcdA3J/1536
یہ تحریر ٹیلی گرام Telegram پر↶
https://t.me/islaamic_Knowledge/95852
इस्लाम नस्ली नहीं उस़ूली दीन है। ❷
✍ मौलाना ह़सन नूरी गोंडवी स़ाह़ब
📝मुह़म्मद जमालुद्दीन ख़ान क़ादिरी
मख़स़ूस़ लिबास, ज़बान, ग़िज़ा, रंग,
शहर व नस्ल का नाम इस्लाम नहीं है।
https://whatsapp.com/channel/0029Va4xNTcBlHpj2ZXcdA3J
इसे यूँ समझिए कि इस्लाम के लिए कोई ज़बान ख़ास़ नहीं कि जो फ़ुलाँ ज़बान बोले वही मुसलमान है।
जो फ़ुलाँ त़र्ज़ का लिबास पहने वही मुसलमान
जो फ़ुलाँ फ़ुलाँ ग़िज़ा खाए वही मुसलमान
जो फ़ुलाँ शहर का होगा वही मुसलमान होगा
जो फ़ुलाँ रंग का होगा वोह मुसलमान है
जो फ़ुलाँ नस्ल से है वोह मुसलमान है
याद रहे इसे लौह़े दिल पर नक़्श कर लीजिए कि इस्लाम; ज़बान, रंग, शहर, लिबास व नस्ल के साथ ख़ास़ नहीं, क्योंकि इस्लाम की बुनियाद उस़ूल पर है।।
उस़ूल का ज़बान से इक़रार करना और दिल से तस़्दीक़ करने वाला किसी भी रंग व नस्ल, ज़बान व लिबास का हो वोह मुसलमान है। इस पर किसी अ़रबी अ़जमी, शहरी देहाती को कोई फ़ौक़ियत नहीं।
उस़ूल की ख़िलाफ़ वरज़ी करने वाला; नस्ल अअ़्ला, शहर ह़रमैन, लिबास इस्लामी, ग़िज़ा ह़लाल, ज़बान अऱबी, रंग गोरा भी रखे (फिर भी), वोह हरगिज़ मुसलमान नहीं हो सकता।।
अब कुछ लोग दीने इस्लाम को दानिस्तह (यअ़्नी जान भूझ कर) या ग़ैर दानिस्तह नस्ली दीन बनाने पर तुले हुए हैं,
वोह येह बताना चाहते हैं कि हम और हमारा क़ौल दीन है, हम जो कहें, हम जो करें, जो पहनें वही दीन व शरीअ़त है -
याद रहे येह ब्रह्मणियत का वायरस है,
इस्लाम से कोई तअ़ल्लुक़ नहीं ।।
✍ मुह़क़्क़िक़े अहले सुन्नत , ह़ज़रत
अ़ल्लामह व मौलाना ह़सन नूरी गोंडवी
स़ाह़ब क़िब्लह دامت برکاتہم العالیہ -
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
یہ تحریر اُرۡدُوۡUrdū उर्दू مِیں ↶
https://whatsapp.com/channel/0029Va4xNTcBlHpj2ZXcdA3J/1538
Yeh Taḥreer ᴿᵒᵐᵃⁿ ᵁʳᵈᵘ Men ↷
https://whatsapp.com/channel/0029Va4xNTcBlHpj2ZXcdA3J/1536
یہ تحریر ٹیلی گرام Telegram پر↶
https://t.me/islaamic_Knowledge/95851
islām Naslī Nahīṅ Usūlī Dīn Hai. ❷
✍Maulānā Ḥasan Nooree Gondvī
📝 Muḥammad Jamāluddīn Ḳhān
Maḳhṣooṣ Libās, Zabān, Ġizā, Rang, Shahar Wa Nasl Kā Naam islaam Nahīṅ Hai.
https://whatsapp.com/channel/0029Va4xNTcBlHpj2ZXcdA3J
ise Yūṅ Samajhiye Ki islām Ke Liye Koyī Zabān Ḳhāṣ Nahīṅ Ki Jo Fulāṅ Zabān Bole Wahī Musalmān Hai.
Jo Fulāṅ Ṭarz Kā Libās Pahne Wahī Musalmān
Jo Fulāṅ Fulāṅ Ġizā Khāye Wahī Musalmān
Jo Fulāṅ Shahar Kā Hogā Wahī Musalmān Hogā
Jo Fulāṅ Rang Kā Hogā Woh Musalmān Hai
Jo Fulāṅ Nasl Se Hai Woh Musalmān Hai
Yād Rahe ise Lauḥe Dil Par Naqsh Kar Leejiye Ki islām; Zabān, Rang, Shahar, Libās Wa Nasl Ke Sāth Ḳhāṣ Nahīṅ, Kyoṅki islam Kī Buniyād Usool Par Hai.
Usool Kā Zabān Se iqraar Karnā Aur Dil Se Taṣdeeq Karnē Wālā Kisī Bhī Rang Wa Nasl, Zabān Wa Libās Kā Ho Woh Musalmān Hai. is Par Kisī Ạrabī Ạjamī, Shaharī Dehātī Ko Koyī Fauqiyat Nahīṅ.
Usool Kī Ḳhilāf Warzī Karne Wālā; Nasl Aʿạlā, Shahar Ḥaramain, Libās islāmī, Ġizā Ḥalāl, Zabān Ạrabī, Rang Gorā Bhī Rakhe (Phir Bhī), Woh Hargiz Musalmān Nahīṅ Ho Saktā.
Ab Kuch Log Deene islaam Ko Dānistah (Yaʿạnī Jaan Boojh Kar) Yā Ġair Dānistah Naslī Deen Banāne Par Tule Huye Hain,
Woh Yeh Batānā Chāhte Hain Ki Ham Aur Hamārā Qaul Deen Hai, Ham Jo Kaheṅ, Ham Jo Kareṅ, Jo Pahneṅ Wahī Deen Wa Sharee-ạt Hai.
Yaad Rahe Yeh Brahmaniyat Kā Virus Hai, islaam Se Koyī Ta-ạlluq Nahīṅ.
✍ Muhaqqiqe Ahle Sunnat, Ḥazrat Ạllāmah Wa Māulānā Ḥasan Noorī Gondvī Ṣāḥab Qiblah دامت برکاتہم العالیہ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
یہ تحریر اُرۡدُوۡUrdū उर्दू مِیں ↶
https://whatsapp.com/channel/0029Va4xNTcBlHpj2ZXcdA3J/1538
येह तह़रीर हिंदी Hindī ہِنۡدِیۡ में ↷
https://whatsapp.com/channel/0029Va4xNTcBlHpj2ZXcdA3J/1537
یہ تحریر ٹیلی گرام Telegram پر↶
https://t.me/islaamic_Knowledge/95850
نیز یہ کہ اہل عرب لفظ "ثانی" کا استعمال وہاں کرتے ہیں جہاں اس کے لیے کوئی "ثالث" بھی ہو، اور چوں کہ "جُمادی" کا کوئی "ثالث" نہیں ہے؛ لہذا یہاں "جمادی" کے لیے "الثانی" کا استعمال بعید معلوم ہوتا ہے۔
فقیہ فقید المثال امام احمد رضا خان قدس سرہ نے فتاویٰ رضویہ شریف میں ایک جگہ کسی عرب صاحب کی خوب گرفت فرمائی ہے اور ان کی عربی دانی کی قلعی کھول کر رکھ دی ہے۔
عرب صاحب نے اپنی تحریر میں ایک جگہ "جُمادی الثانی" لکھا تھا، اس پر اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ گرفت فرماتے ہوئے لکھتے ہیں:
” جُمادی الثانی، مؤنث کی صفت مذکر! حضرت نے "جمادی" کا کوئی "تیسرا" بھی دیکھا ہوگا کہ عرب "ثانی" بے "ثالث" نہیں بولتے “
اس کے بعد تصحیح کرتے ہوئے رقم طراز ہیں:
” مہینے کا علم "جمادی الآخرۃ" ہے، اعلام میں تصرف کیسا؟ (اگر زبر زیر اور آنکھ پر پھلی نہ ہو، فافھم۔)“
(فتاویٰ رضویہ غیر مترجم، ج: ١١، ص: ٣٤١، رضا اکیڈمی ممبئی۔)
"غیاث اللغات" میں ہے:
”و جمادی الثانی چنانکہ مشہور شدہ بہتر نیست، گویند کہ اطلاق لفظ "ثانی" آں جا باشد کہ برائے او بعد ازاں ثالث نیز بود۔“ھ
( غیاث اللغات، فصل: جیم مع میم، ص: ٢٠٨ )
"لغاتِ کشوری" میں ہے:
” "جمادی الثانی" کہنا معتبر نہیں ہے، اس لیے کہ استعمال عرب میں "جمادی الثانی" نہیں ہے۔ اور یہ بھی وجہ ہے کہ "ثانی" اس مقام پر آتا ہے جہاں اس کے بعد"ثالث" بھی ہو۔ اور یہ بھی وجہ ہے کہ "جمادی" کے آخر میں الف مقصورہ بصورت یاے تحتانی ہے جو کتابت میں رہتا ہے اور تلفظ میں بسبب اجتماع ساکنین کے گر جاتا ہے، پس جب الف مقصورہ کے سبب سے اس کی صورت مؤنث کی ہوگئی تو اس کی صفت بھی "اولی" اور "آخرہ" کے ساتھ آنی چاہیے تاکہ صفت و موصوف میں تطابق باقی رہے۔“ (لغاتِ کشوری، فصل: جیم مع میم ص: ١٣٢، مطبوعہ لکھنؤ۔)
ان مذکورہ بالا تمام تفصیلات سے یہ ثابت ہوا کہ مہینے کا علم " جُمادی الآخرہ" ہے۔ اور چوں کہ اعلام میں تصرف و تغیر منع ہے؛ اس لیے "جمادی الأخری" یا "جمادی الثانی" لکھنا اور بولنا منع ہوگا۔ بہر صورت "جمادی الآخرۃ" ہی لکھنے اور بولنے کا التزام کیا جائے۔
فائدہ:
ان دونوں مہینوں کی وجہ تسمیہ سے متعلق لفظ "جمادی" کے تحت "معجم المعانی عربی اردو" میں ہے:
” جُمادي: (اسم) عربی مہینہ کے نام، ایک "جمادی الاولی" اور دوسرا "جمادی الآخرہ"۔ چوں کہ عربوں کے یہاں سال کے پانچویں اور چھٹے مہینوں میں کسی سردی کی وجہ سے پانی جم جاتا تھا، اس لیے وہ ان دونوں مہینوں کو "جمادی" کہتے تھے الخ۔“
نیز وجہ تسمیہ سے متعلق ایسا ہی "غیاث اللغات فارسی" میں ہے۔
ـــــــ
محمد شفاء المصطفی شفا مصباحی
٢٧ ؍ جمادی الآخرہ ١٤٤٢ھ
١٠ ؍ فروری ٫٢٠٢١۔
https://www.facebook.com/100012626434702/posts/1392433601187508/
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
اِس تحریر کی پہلی قِسط ↶
https://t.me/islaamic_Knowledge/95847
اِسی موضوع پر تفصیلی تحریر ↶
https://t.me/islaamic_Knowledge/95841
یہ تحریر فیس بک ᶠᵃᶜᵉᴮᵒᵒᵏ پر ↶
https://www.facebook.com/share/17Ru3Wf8YG/
📜 جُمَادَی الۡاُخۡرٰی یَا جُمَادَی الۡآخِرَہۡ ؟ 📜
✍ محمد شفاء المصطفٰی شفا مصباحیۡ
FaceBook
"جُمادی الآخرہ" یا "جُمادی الأخری" ؟؟
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
پرانی تحریر:
محمد شفاءالمصطفیٰ شفا مصباحی۔
مدینۃ العلما باڑا شریف، سیتا مڑھی۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
رواں مہینہ اسلامی اور قمری سال کے اعتبار سے چھٹا مہینہ ہے، جس کے آخری عشرہ سے ہم گزر رہے ہیں۔ اس کے حوالے سے اکثر ذہنوں میں یہ شبہ رہتا ہے کہ اس کا اصل و صحیح نام کیا ہے؟ کیوں کہ عام طور لوگ اس مہینے کے لیے دو طرح کے نام استعمال کرتے ہیں:
(١) جمادي الآخره.
(٢) جمادي الأخرى.
آئیے اس امر کی تحقیق کرتے ہیں کہ ان دونوں اسما میں کون صحیح ہے اور کون غلط؟ یا پھر یہ دونوں صحیح ہیں اور دونوں کا استعمال درست ہے۔
ظاہر ہے کہ اس نام کا تعلق عربی زبان سے ہے۔ لہذا اس کی بحث و تحقیق کے لیے بھی ہمیں عربی اصول و قواعد اور عربی لغات کا سہارا لینا ہوگا؛ تاکہ ہم کسی صحیح نتیجہ تک پہنچ سکیں۔ تو آئیے اس حوالے سے سب سے پہلے عربی لغات کا جائزہ لیتے ہیں۔
عربی لغات کا جائزہ لینے کے بعد کھلے طور پر یہ نتیجہ برآمد ہوتا ہے کہ مہینے کا اصل نام "جمادی الآخرہ" ہے نہ کہ "جمادی الأخری"۔ کیوں کہ :
عربی لغات میں اس مہینہ کا نام ” جمادي الآخره “ درج ہے۔ اس سلسلے میں بساط بھر کوشش کی مگر کسی بھی عربی لغت میں اس مہینے کا نام ” جمادی الأخری“ نہ ملا ۔
چاہیں تو عربی زبان کی کوئی لغت اٹھا کر آپ بھی دیکھ لیں؛ ہر جگہ لفظ "جمادی" کے تحت آپ کو "جمادی الاولی" اور "جمادی الآخرہ" ہی ملے گا۔ کہیں بھی "جمادی الأخری" نہ ملے گا۔
عربی اصول و قواعد کی رو سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کہ مہینے کا نام "جمادی الآخرہ" ہی ہو نہ کہ "جمادی الأخری"۔ کیوں کہ ”جمادي الآخرة“ میں جو لفظ" آخرہ" ہے یہ لفظ "اولی" کی ضد اور اس کے بالمقابل ہے۔ کیوں کہ جس طرح اس سے پہلے دو مہینے "ربیع الأول" اور "ربیع الآخر" میں "اول و آخر" ایک دوسرے کی ضد اور بالمقابل ہیں، اسی طرح یہاں "جمادی الاولی" اور "جمادی الآخرہ" میں "اولی و آخرہ" باہم متضاد و بالمقابل ہیں۔اور "اول" کی تانیث "اولی" آتی ہے کہ "اول" "افعلُ" کے وزن پر اسم تفضیل واحد مذکر کا صیغہ ہے؛ تو اس کی تانیث "اولی" آئے گی کہ اسم تفضیل واحد مؤنث کا وزن "فُعلی" ہے۔
اسی طرح "آخرة" یہ "آخِر" کی تانیث ہے کہ "آخِر" "فاعِلٌ" کے وزن پر اسم فاعل واحد مذکر کا صیغہ ہے، تو اس کی تانیث "آخِرةٌ" آئے گی کہ اسم فاعل واحد مؤنث کا وزن "فاعِلةٌ" ہے۔
اور "أخری" یہ "آخرِ" (بکسر الخاء) کی تانیث نہیں بلکہ "أخَر" (بفتح الخاء۔ بمعنی دوسرا، دو میں سے ایک، کوئی اور، غیر) کی تانیث ہے۔ جب کہ یہاں مقصود و مطلوب اسم فاعل مؤنث کا صیغہ ہے اور وہ "آخِرة" ہے کہ یہی" اولی" کی ضد اور اس کے بالمقابل ہے۔
فرمان باری تعالیٰ:
﴿ و للآخرة خير لك مِنَ الأولى ﴾
[الضحى : ٤]
لہذا اس تفصیل سے بھی واضح ہوگیا کہ مہینے کا نام " جمادی الآخرہ" ہی ہے نہ کہ " جمادی الأخری"۔ لہذا"جمادی الأخری" لکھنے والوں سے اس پر نظر ثانی کی اپیل ہے ۔
اب رہی یہ بات کہ اگر کوئی "جمادی الأخری" ہی استعمال کرے تو آیا اس کی گنجائش ہے یا نہیں؟۔
تو اس پر عرض یہ ہے کہ " جمادی الآخرہ" یہ علم ہے اور "اعلام" میں تغیر و تبدل منع ہے۔ لہذا لغوی اعتبار سے "جمادی الآخرہ" کے بجائے "جمادی الأخری" لکھنے اور بولنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ اس لیے بہر حال "جمادی الآخرہ" ہی لکھنے اور بولنے کا التزام کیا جائے کہ یہی صحیح و درست ہے۔
استاذی الکریم خطیبِ محقق حضرت علامہ محمد عبد الحق رضوی دام ظلہ ( استاذ: جامعہ اشرفیہ مبارک پور۔) اپنی مشہور و معروف کتاب" اذان خطبہ کہاں ہو؟" کے ابتدائیہ میں ایک تحریر اور صاحب تحریر پر تنقید کرتے ہوئے رقم طراز ہیں:
” جن کا مبلغ علم یہ ہے کہ انھوں نے اپنی تحریر کے نیچے جو دستخط کیے ہیں تو مہینے کا نام "جمادی الأخری" لکھا ہے، جب کہ مہینے کا علم "جمادی الآخرہ" ہے۔ جس شخص کو اپنے عربی مہینوں کے نام بھی معلوم نہ ہوں، اور جو اعلام میں تغیر کرتا ہو اس کی لیاقت معلوم، صاف ظاہر ہے۔“
( اذان خطبہ کہاں ہو؟ ابتدائیہ، ص: ٣، ٤، دائرة البرکات، گھوسی مئو۔)
استاذی الکریم دام ظلہ کے اس تنقیدی تبصرے سے وہ لوگ سبق حاصل کریں جو "جمادی الآخرہ" اور "جمادی الأخری" کے بجائے"جمادی الثانی" لکھتے اور بولتے ہیں۔ جب "جمادی الأخری" کی اجازت نہیں تو "جمادی الثانی" کیوں کر روا ہوگا۔
پھر یہ کہ "جُمادی الثانی" یہ مرکب توصیفی ہے کہ "جمادی" موصوف اور "الثانی" صفت ہے۔ اور موصوف صفت کا قاعدہ یہ ہے کہ تذکیراً و تانیثاً دونوں میں مطابقت ہو، جب کہ مطابقت یہاں مفقود ہے کہ "جُمادی" مؤنث ہے اور "الثانی" مذکر؛ حالاں کہ یہاں"الثانی" کا بھی مؤنث ہونا ضروری تھا۔ لہذا اس قاعدے کی رو سے بھی "جمادی الثانی" کا غلط ہونا معلوم ہے ۔
📜 جُمَادَی الۡاُخۡرٰی یَا جُمَادَی الۡآخِرَہۡ ؟ 📜
✍ محمد شفاء المصطفٰی شفا مصباحیۡ
FaceBook
"جُمادی الآخرہ" یا "جُمادی الأخری" ؟؟
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
پرانی تحریر:
محمد شفاءالمصطفیٰ شفا مصباحی۔
مدینۃ العلما باڑا شریف، سیتا مڑھی۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
رواں مہینہ اسلامی اور قمری سال کے اعتبار سے چھٹا مہینہ ہے، جس کے آخری عشرہ سے ہم گزر رہے ہیں۔ اس کے حوالے سے اکثر ذہنوں میں یہ شبہ رہتا ہے کہ اس کا اصل و صحیح نام کیا ہے؟ کیوں کہ عام طور لوگ اس مہینے کے لیے دو طرح کے نام استعمال کرتے ہیں:
(١) جمادي الآخره.
(٢) جمادي الأخرى.
آئیے اس امر کی تحقیق کرتے ہیں کہ ان دونوں اسما میں کون صحیح ہے اور کون غلط؟ یا پھر یہ دونوں صحیح ہیں اور دونوں کا استعمال درست ہے۔
ظاہر ہے کہ اس نام کا تعلق عربی زبان سے ہے۔ لہذا اس کی بحث و تحقیق کے لیے بھی ہمیں عربی اصول و قواعد اور عربی لغات کا سہارا لینا ہوگا؛ تاکہ ہم کسی صحیح نتیجہ تک پہنچ سکیں۔ تو آئیے اس حوالے سے سب سے پہلے عربی لغات کا جائزہ لیتے ہیں۔
عربی لغات کا جائزہ لینے کے بعد کھلے طور پر یہ نتیجہ برآمد ہوتا ہے کہ مہینے کا اصل نام "جمادی الآخرہ" ہے نہ کہ "جمادی الأخری"۔ کیوں کہ :
عربی لغات میں اس مہینہ کا نام ” جمادي الآخره “ درج ہے۔ اس سلسلے میں بساط بھر کوشش کی مگر کسی بھی عربی لغت میں اس مہینے کا نام ” جمادی الأخری“ نہ ملا ۔
چاہیں تو عربی زبان کی کوئی لغت اٹھا کر آپ بھی دیکھ لیں؛ ہر جگہ لفظ "جمادی" کے تحت آپ کو "جمادی الاولی" اور "جمادی الآخرہ" ہی ملے گا۔ کہیں بھی "جمادی الأخری" نہ ملے گا۔
عربی اصول و قواعد کی رو سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کہ مہینے کا نام "جمادی الآخرہ" ہی ہو نہ کہ "جمادی الأخری"۔ کیوں کہ ”جمادي الآخرة“ میں جو لفظ" آخرہ" ہے یہ لفظ "اولی" کی ضد اور اس کے بالمقابل ہے۔ کیوں کہ جس طرح اس سے پہلے دو مہینے "ربیع الأول" اور "ربیع الآخر" میں "اول و آخر" ایک دوسرے کی ضد اور بالمقابل ہیں، اسی طرح یہاں "جمادی الاولی" اور "جمادی الآخرہ" میں "اولی و آخرہ" باہم متضاد و بالمقابل ہیں۔اور "اول" کی تانیث "اولی" آتی ہے کہ "اول" "افعلُ" کے وزن پر اسم تفضیل واحد مذکر کا صیغہ ہے؛ تو اس کی تانیث "اولی" آئے گی کہ اسم تفضیل واحد مؤنث کا وزن "فُعلی" ہے۔
اسی طرح "آخرة" یہ "آخِر" کی تانیث ہے کہ "آخِر" "فاعِلٌ" کے وزن پر اسم فاعل واحد مذکر کا صیغہ ہے، تو اس کی تانیث "آخِرةٌ" آئے گی کہ اسم فاعل واحد مؤنث کا وزن "فاعِلةٌ" ہے۔
اور "أخری" یہ "آخرِ" (بکسر الخاء) کی تانیث نہیں بلکہ "أخَر" (بفتح الخاء۔ بمعنی دوسرا، دو میں سے ایک، کوئی اور، غیر) کی تانیث ہے۔ جب کہ یہاں مقصود و مطلوب اسم فاعل مؤنث کا صیغہ ہے اور وہ "آخِرة" ہے کہ یہی" اولی" کی ضد اور اس کے بالمقابل ہے۔
فرمان باری تعالیٰ:
﴿ و للآخرة خير لك مِنَ الأولى ﴾
[الضحى : ٤]
لہذا اس تفصیل سے بھی واضح ہوگیا کہ مہینے کا نام " جمادی الآخرہ" ہی ہے نہ کہ " جمادی الأخری"۔ لہذا"جمادی الأخری" لکھنے والوں سے اس پر نظر ثانی کی اپیل ہے ۔
اب رہی یہ بات کہ اگر کوئی "جمادی الأخری" ہی استعمال کرے تو آیا اس کی گنجائش ہے یا نہیں؟۔
تو اس پر عرض یہ ہے کہ " جمادی الآخرہ" یہ علم ہے اور "اعلام" میں تغیر و تبدل منع ہے۔ لہذا لغوی اعتبار سے "جمادی الآخرہ" کے بجائے "جمادی الأخری" لکھنے اور بولنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ اس لیے بہر حال "جمادی الآخرہ" ہی لکھنے اور بولنے کا التزام کیا جائے کہ یہی صحیح و درست ہے۔
استاذی الکریم خطیبِ محقق حضرت علامہ محمد عبد الحق رضوی دام ظلہ ( استاذ: جامعہ اشرفیہ مبارک پور۔) اپنی مشہور و معروف کتاب" اذان خطبہ کہاں ہو؟" کے ابتدائیہ میں ایک تحریر اور صاحب تحریر پر تنقید کرتے ہوئے رقم طراز ہیں:
” جن کا مبلغ علم یہ ہے کہ انھوں نے اپنی تحریر کے نیچے جو دستخط کیے ہیں تو مہینے کا نام "جمادی الأخری" لکھا ہے، جب کہ مہینے کا علم "جمادی الآخرہ" ہے۔ جس شخص کو اپنے عربی مہینوں کے نام بھی معلوم نہ ہوں، اور جو اعلام میں تغیر کرتا ہو اس کی لیاقت معلوم، صاف ظاہر ہے۔“
( اذان خطبہ کہاں ہو؟ ابتدائیہ، ص: ٣، ٤، دائرة البرکات، گھوسی مئو۔)
استاذی الکریم دام ظلہ کے اس تنقیدی تبصرے سے وہ لوگ سبق حاصل کریں جو "جمادی الآخرہ" اور "جمادی الأخری" کے بجائے"جمادی الثانی" لکھتے اور بولتے ہیں۔ جب "جمادی الأخری" کی اجازت نہیں تو "جمادی الثانی" کیوں کر روا ہوگا۔
پھر یہ کہ "جُمادی الثانی" یہ مرکب توصیفی ہے کہ "جمادی" موصوف اور "الثانی" صفت ہے۔ اور موصوف صفت کا قاعدہ یہ ہے کہ تذکیراً و تانیثاً دونوں میں مطابقت ہو، جب کہ مطابقت یہاں مفقود ہے کہ "جُمادی" مؤنث ہے اور "الثانی" مذکر؛ حالاں کہ یہاں"الثانی" کا بھی مؤنث ہونا ضروری تھا۔ لہذا اس قاعدے کی رو سے بھی "جمادی الثانی" کا غلط ہونا معلوم ہے۔
⚪️ اسی سے یہ بھی ظاہر ہو گیا کہ کچھ لوگ جو ناواقفی میں "جمادی الآخَرۃ"(خا کے فتحہ کے ساتھ) کہہ دیتے ہیں، یہ بھی صحیح نہیں۔ کیوں کہ آخری کا معنی دینے والے "الآخِر" کی مونث بھی خا کے کسرہ ہی کے ساتھ "الآخِرۃ" ہے۔ خا پر فتحہ دینا خطا ہے۔ اور اگر "آخَر/الآخَر"(بفتحِ خا) کو دیکھا جائے تو اس کی مونث "الآخَرۃ"(بفتح خا) نہیں آتی ہے بلکہ "اُخری" آتی ہے۔ اس لیے خا کے فتحے کے ساتھ "جمادی الآخَرۃ" کہنا بھی کسی طور سے صحیح نہیں بن رہا ہے۔
حاصل یہ کہ "جُمَادَی الآخِرۃ" کو "جمادی الأُخْریٰ" یا "جمادی الآخِر" یا "جمادی الثانیۃ" یا "جمادی الثانی" یا "جمادی الآخَرۃ" کہنا صحیح نہیں۔ اسی طرح "جمادی الأولی" کو "جمادی الأول" کہنا یا دونوں ناموں میں "جُمَادَی" (بروزنِ فُعَالَیٰ) کو اس کے وزن سے ہٹا کر "جُمَادِی" و "جَمادِی" کہنا بھی صحیح نہیں۔ نیز ربیع الآخِر کو ربیع الثانی کہنا درست نہیں۔
ہم فتاوی رضویہ کے اس جملے کو "حرفِ آخِر" کے طور پر درج کرتے ہوئے اپنی گفتگو ختم کرتے ہیں کہ :
*"مہینے کا عَلَم "جُمادَی الآخِرۃ"ہے۔ اَعلام میں تصرف کیسا؟!"*
واللہ تعالی اعلم۔
*✍️ نثار مصباحی*
۱۲ فروری ۲۰۲۱ء (جمعہ)
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/863200220917164/
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
قسط نمبر ❶ ↶
https://t.me/islaamic_Knowledge/95841
قسط نمبر ❷ ↶
https://t.me/islaamic_Knowledge/95842
قسط نمبر ❸ ↶
https://t.me/islaamic_Knowledge/95843
قسط نمبر ❹ ↶
https://t.me/islaamic_Knowledge/95844
یہ تحریر فیس بک پر ↶
https://www.facebook.com/share/p/18zkmeiXNu/
ترجمہ : لوگ "فِی جمادِی الأوّل"(دال کے کسرہ کے ساتھ) کہتے ہیں۔ جب کہ درست "جُمَادَی الأُولی"(دال کے فتحہ کے ساتھ) ہے، حُبَارَیٰ کے وزن پر۔ البتہ اسے "ی" کے ساتھ لکھا جائے گا، اور اس کا الف(مقصورہ) تانیث کے لیے ہے۔ مہینوں میں "جُمادَی" کے سوا کوئی مونث نہیں۔ اسی لیے اس کی صفت بھی مونث آئی، اور "جُمَادَی الأُولىٰ" و "جُمَادَی الآخِرَۃ" کہا گیا۔ اور (مذکر صفت کے ساتھ) "جمادی الأول" و "جمادی الآخِر" جائز نہیں۔ (تثقيف اللسان و تلقيح الجنان، ص ٢٢١)
⚪️ نیز "ربیع الآخِر" کو "ربیع الثانی" کہنا یا "جمادی الآخرۃ" کی صفت "الثانیہ" لگا کر "جمادی الثانیہ" کہنا درست نہیں (اگر چہ بعض اہلِ علم کے کلام میں یہ موجود ہے) کیوں کہ یہاں اگرچہ موصوف و صفت میں مطابقت ہے، مگر اہلِ عرب بغیر ثالث کے "ثانی" نہیں بولتے ، یعنی اگر "تیسرا" نہ ہو تو "دوسرا" نہیں بولتے ہیں۔ جب کہ یہاں نہ تو کوئی تیسرا "ربیع" ہے اور نہ تیسرا "جمادی"۔ اس لیے "الآخر" اور "الآخِرۃ" کی جگہ "الثانی" اور الثانیۃ" کا استعمال، وضع شدہ عَلَم اور طریقۂ عرب کے خلاف ہونے کی وجہ سے درست نہیں ہے۔
- اعلی حضرت امام احمد رضا قادری ایک نام نہاد عرب کی عربی پر گرفت فرماتے ہوئے رقم طراز ہیں:
*"جمادی الثانی" ؟؟!!* مونث کی صفت مذکر؟؟!! حضرت نے "جمادی" کا کوئی تیسرا بھی دیکھا ہوگا، کہ عرب "ثانی" بے "ثالث" نہیں بولتے۔"(فتاوی رضویہ)
یعنی "جمادی الثانی" کہنے میں دو خرابیاں ہیں: پہلی یہ کہ جمادی مونث کی صفت "الثانی" مذکر لائی گئی ہے۔ جو درست نہیں۔ اور دوسری یہ کہ "الثانی"(دوسرا) وہاں بولا جاتا ہے جہاں کوئی تیسرا بھی ہو، جب کہ یہاں کوئی تیسرا "جمادی" نہیں ہے۔
((نوٹ : یہ لحاظ کچھ حد تک ہماری اردو زبان میں بھی پایا جاتا ہے۔ اگر ہماری کوئی تحریر دو قسطوں میں ہوتی ہے تو ہم پہلی قسط کے لیے "پہلی قسط" کا لفظ استعمال کرتے ہیں اور دوسری کے لیے "آخری قسط" یا "دوسری اور آخری قسط" لکھتے ہیں۔ صرف "دوسری قسط" نہیں لکھتے تاکہ ہر ناظر یہ جان لے کہ اس تحریر کی کوئی تیسری قسط نہیں ہے۔ اگر اس آخری قسط کو صرف "دوسری قسط" لکھا جائے تو ناظر کو تیسری قسط کے بھی موجود ہونے کا اِیہام ہوگا۔))
- ماضی قریب کے معروف عراقی زبان داں ڈاکٹر مصطفی جواد (متوفی ۱۹۶۹ء) نے اپنی کتاب *"قل، ولا تقل"* کے حصہ دوم میں لکھا ہے:
قل: جُمادى الأولى وجُمادى الآخرة۔
ولا تقل: جَماد الأول وجَماد الثاني،
لأن جُمادَى على وزن فُعالى هو الإسم الصحيح لهذا الشهر، والألف فيه للتأنيث، ولذلك قالوا : “الأولى” و “الآخِرة”۔ وجُمادى مثل قُصارى من أوزان الأسماء المفردة۔
للعرب جُماديان : الأولى والآخرة، وربيعان : الأول والآخِر، ولغيرهم كانونان : الأول والثاني، ولو كانوا عرباً لقالوا : “الآخِر”۔ ولهم تشرينان : الأول والثاني، ولو كانوا عرباً لقالوا “تشرين الآخِر”.
ولا يخفى ما في قول العرب “الآخِر والآخِرة” من فائدة، وذلك أنهم أرادوا أن يُفهموا السامع أنه ليس عندهم ربيع ثالث ولا جمادى ثالثة، على حين ان قول غيرهم “تشرين الثاني” لا يمنع أن يأتي “تشرين ثالث” وقولهم “كانون الثاني” لا ينفي أن يكون لهم “كانون ثالث”.
ترجمہ : "جُمادَى الأُولىٰ" اور "جُمَادَى الآخِرَۃ" کہو۔ "جَماد الأول" اور "جماد الثانی" نہ کہو۔ اس لیے کہ فُعَالَیٰ کے وزن پر جُمَادَیٰ ہی اس مہینے کا صحیح نام ہے۔ اس میں الف(مقصورہ) تانیث کے لیے ہے۔ اسی لیے اہلِ عرب نے (جُمَادَی کے ساتھ مونث صفت لاتے ہوئے) "الاُولیٰ" اور "الآخِرَۃ" کہا ہے۔
قُصارَیٰ کی طرح جُمادی اسماے مُفردہ کے اوزان سے ہے۔
اہلِ عرب کے یہاں دو "جمادی" ہیں: "الأُولىٰ" اور "الآخِرَۃ"۔ اور دو "ربیع" ہیں: "الأَوَّل" اور "الآخِر"۔ اور غیروں کے دو "کانون" ہیں: "کانون الأول"(دسمبر)، اور "کانون الثانی"(جنوری)۔ اسی طرح غیروں کے یہاں دو "تشرین" ہیں: "تشرين الأول"(اکتوبر) اور "تشرین الثانی"(نومبر)۔(یعنی انھوں نے "آخِر" کے بجاے "ثانی" کہا ہے) اگر یہ لوگ عرب ہوتے تو یہ لوگ ضرور "تشرین الآخِر" کہتے۔(تشرین الثانی نہ کہتے)۔
اہلِ عرب نے جو "الآخِر" اور "الآخِرَۃ" کہا ہے، اس کا فائدہ پوشیدہ نہ رہے۔ انھوں نے چاہا کہ سامع کو یہ سمجھا دیں کہ ان کے یہاں کوئی تیسرا "ربیع" نہیں، اور نہ ہی کوئی تیسرا "جُمادی" ہے۔ (اس لیے انھوں نے "ربیع الآخِر" اور "جمادی الآخرۃ" کہا۔ اگر وہ "ربیع الثانی" اور "جمادی الثانیۃ" کہتے تو یہ فائدہ حاصل نہ ہوتا۔ اور تیسرے ربیع و جمادی کی نفی نہیں ہو پاتی۔) جب کہ غیروں کا قول "تشرین الثانی" کسی "تشرین ثالث" کی آمد کو نہیں روکتا، اور ان کا قول "کانون الثانی" کسی "کانونِ ثالث" کی نفی نہیں کرتا۔
(قل و لا تقل، حصہ دوم ص ۷۶)
- تاج العروس شرح قاموس میں ہے:
جُمَادَى ،كحُبَارى: مِنْ أَسْمَاءِ الشُّهُور العرَبيَّة. وهما جُمَادَيَانِ. فُعَالى من الجَمْد،
*مَعْرفَةٌ؛ لكَونهَا علَماً على الشَّهْر.* مُؤنَّثَة۔
سُمِّيَتْ بذالك لجمُودِ الماءِ فِيهَا عِنْد تسمِيةِ الشُّهُورِ.
قَالَ الفرَّاءُ: الشُّهُور كلّها مُذَكّرة إِلاّ جُمادَيَينِ فإِنّهما مُؤنّثان.
- لسان العرب میں ہے:
جُمَادَى الأُولى وَجُمَادَى الْآخِرَةِ، *بِفَتْحِ الدَّالِ فِيهِمَا*، مِنْ أَسماء الشُّهُورِ، وَهُوَ فُعَالَى منَ الجمد۔ ابْنُ سِيدَهْ: وَجُمَادَى مِنْ أَسماء الشُّهُورِ مَعْرِفَةٌ سُمِّيَتْ بِذَلِكَ لِجُمُودِ الْمَاءِ فِيهَا عِنْدَ تَسْمِيَةِ الشُّهُورِ؛ وَقَال الْفَرَّاءُ: *الشُّهُورُ كُلُّهَا مُذَكَّرَةٌ إِلا جُمَادَيَيْنِ فإِنهما مؤَنثان*۔
- امام فرّاء (متوفی ٢٠٧ھ) کی طرف منسوب کتاب *"الأیام و اللیالی والشہور"* میں ہے :
"الشهور كلها مذكرة، تقول: هذا شهر كذا، إلا جماديين، فإنهما مؤنثان. لأن جُمادَى جاءت على بنية فُعَالَى، و فُعَالَى لا تكون إلا للمؤنث. تقول: هذه جُمادَى الأُولى وَ هذه جُمَادَى الآخِرَة."
مذکورہ عبارات سے جہاں یہ واضح ہوا کہ صحیح و درست جُمادَی( جیم کے ضمہ اور دال کے فتحہ کے ساتھ )ہے ،وہیں یہ باتیں بھی معلوم ہوئیں:
◼️ جمادی الأولی اور جمادی الآخرۃ یہ دونوں عربی مہینوں کے عَلَم(نام) ہیں۔
◼️ دونوں ناموں میں "جمادی" کی دال پر فتحہ ہے۔ کوئی اور حرکت نہیں۔
◼️ "جمادی الأولی اور جمادی الآخرۃ" مونث ہیں۔ اور ان دونوں کے علاوہ سارے عربی مہینوں کے نام مذکر ہیں۔
◼️ جب ان مہینوں کے نام رکھے جا رہے تھے اس وقت عربوں کے یہاں سال کے پانچویں اور چھٹے مہینے میں سخت سردی کی وجہ سے پانی جم جاتا تھا اس لیے وہ ان دونوں مہینوں کو "جمادی" کہنے لگے۔ (ان دو مہینوں کی ایک اور وجہِ تسمیہ بھی بیان کی گئی ہے، جو بعض متعلقه کتابوں میں دیکھی جا سکتی ہے۔)
⚪️ واضح رہے کہ مہینوں کے نام اہلِ عرب سے جس طرح منقول ہیں اسی طرح لازم ہیں۔ ان کی صورت مسخ نہیں کی جا سکتی، اور نہ ہی قیاس کی بنیاد پر انھیں بدلا جا سکتا ہے۔ اگر قیاس کی بنیاد پر تبدیلی درست ہوتی تو امام فراء کے بقول: اگر جیم کے کسرہ کے ساتھ "جِماد"(بر وزنِ: عِطاش و کِسال) بھی وارد ہوتا تو بھی درست ہوتا۔ مگر اہلِ عرب سے یہ صرف "فُعَالَیٰ" کے وزن پر منقول ہے۔ اس لیے یہی لازم ہے۔
*"الأیام و اللیالی والشہور"* میں ہے :
*"قال الفراء : هكذا جاء عن العرب بضم الجيم، لا غير. و لو جاء جِماد بالكسر كان صوابا"*
(الأیام و اللیالی والشہور، ص ۴۲)
⚪️ ان چاروں مہینوں (ربیع الأول، ربیع الآخِر، جمادی الأولی، جمادی الآخِرۃ) کے نام دو-دو لفظوں سے مرکب ہیں، اور یہ سبھی مرکب توصیفی یعنی موصوف-صفت ہیں۔ موصوف و صفت کے بارے میں یہ ضابطہ سب کو معلوم ہے کہ اگر وہ وصف اسی موصوف کا ہو، اس کے کسی متعلق کا نہ ہو، تو تذکیر و تانیث میں موصوف و صفت دونوں کے درمیان مطابقت ضروری ہے۔ اور یہاں اول و آخر ہونا "ربیع" و "جمادی" ہی کا وصف ہے۔ اسی وجہ سے "ربیع" مذکر کے ساتھ "الأول" اور "الآخِر" مذکر صفتیں ہیں اور "جمادی" مونث ہے تو اس کے ساتھ "الاُولیٰ" اور "الآخِرۃ" مونث صفتیں ہیں۔ ("الأول" کی مونث "الاُولیٰ" ہے، اور "الآخِر" کی مونث "الآخِرۃ" ہے۔)
اسی سے ظاہر ہو گیا کہ جمادی کے ساتھ "الثانی" یا "الآخِر" لگا کر "جمادی الثانی" اور "جمادی الآخِر" کہنا، یا "جُمَادَیٰ الاُولیٰ" کو "جمادی الأول" کہنا درست نہیں۔ کیوں کہ یہاں موصوف و صفت کے درمیان تذکیر و تانیث میں مطابقت نہیں ہے۔
- تاج العروس میں ہے:
والآخِرُ: خلافُ الأَوَّلِ
وَهِي، أَي الأُنْثَى : الآخِرَۃ، بهاءٍ۔
- مختار الصحاح میں ہے:
وَالْآخِرُ: بِكَسْرِ الْخَاءِ بَعْدَ الْأَوَّلِ وَهُوَ صِفَةٌ تَقُولُ:جَاءَ آخِرًا، أَيْ أَخِيرًا۔
وَالْأُنْثَى : آخِرَةٌ۔
- ابن بَرّي المقدسي المصري (متوفی ۵۸۲ھ) اپنی کتاب *"غلط الضعفاء من الفقهاء"*(غلط الفقہاء-صفحہ ۲۸) میں ایک غلطی بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
"يقولون: (جُمَادى الأَوَّلِ) و (جُمادَى الآخِرِ) . والمشهورُ: جُمادَى الأُولى وجُمادَى الآخِرةُ، *لأَنَّ النعْتَ لجُمادَى، وهي مؤنثةٌ.*"
- امام ابن مکی الصقلی(ابو حفص عمر بن خلف النحوی) متوفی ۵۰۱ھ اپنی کتاب "تثقيف اللسان" میں لکھتے ہیں:
"يقولون : في جمادِي الأوّل۔
*والصواب : جُمادَى الأُولى بفتح الدال، على وزن حُبارى*. إلا أنها تكتب بالياء، و ألفها للتأنيث. و ليس في الشهور مؤنث سوى جمادى. ولذلك كان نعتها مؤنثا، فقيل: جُمادى الأولى وجُمادَى الآخِرة. *و لا يجوز "الأوَّل" و لا "الآخِر"*.
ربیع الآخر، جمادی الاولٰی و جمادی الآخِرہ
تحریر از : نثار مصباحی / شاہد مصباحی
Yeh Taḥreer FaceBook Par ↷
https://www.facebook.com/share/p/18zkmeiXNu/
*"ربیع الآخِر، "جمادی الأُولیٰ" اور "جُمادَی الآخِرۃ"*
تحریر :
- نثار مصباحی (خلیل آباد)
- شاہد مصباحی (جمشید پور)
﴿( نوٹ : یہ تحریر تقریبا 20 دن پہلے کی ہے۔ اس تحریر کی بنیاد اسی عنوان پر برادرِ گرامی مفتی شاہد رضا مصباحی (مرکزی دار القراءت، جمشید پور) کی ایک مختصر تحریر ہے، جس کا مسودہ انھوں نے میرے پاس از راہِ دوستی ایک نظر دیکھنے کے لیے بھیجا تھا۔ خاکسار نے ان کی تحریر میں حذف و ترمیم کی، اسے آراستہ کیا، اور اصل تحریر سے بھی زیادہ مقدار میں اضافے درج کیے۔ اس طرح یہ مکمل تحریر سامنے آئی۔ اس تحریر میں فقیر کا حصہ ۷۵ فیصد بلکہ شاید اس سے بھی زیادہ ہے۔ اس لیے انھوں نے ایثار کرتے ہوئے فرمایا کہ اب یہ آپ ہی کے نام سے شائع ہوگی۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ سبقت اور تقدم انہی کے لیے ہے۔ خاکسار نے علمی امانت و انصاف اور برادر گرامی کے تقدم کی وجہ سے ان کا نام بھی لکھنا ضروری سمجھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نثار مصباحی۔)﴾
اسلامی قمری کیلنڈر کے ۶ مہینوں کے نام مفرد ہیں(محرم، صفر، رجب، شعبان، رمضان، شوال) اور باقی ۶ مہینوں کے نام مرکب ہیں۔(ربیع الأوّل، ربیع الآخِر، جُمادَیٰ الأُولى، جُمَادَیٰ الآخِرَۃ، ذی القعدۃ، ذی الحجۃ)۔
مرکب اسما میں"ربیع" اور "جُمَادَی" کے الفاظ دو-دو مہینوں کے درمیان مشترک ہیں۔ اسی لیے ان کے نام رکھنے میں "ربیع" کے ساتھ "الأول" اور "الآخر" (صفت) لگا کر دونوں مہینوں کو الگ نام دے دیا گیا، ("ربیع الأول" اور "ربیع الآخر"۔) اسی طرح "جمادی" کے ساتھ "الأولیٰ" اور "الآخرۃ" (صفت) لگا کر دونوں مہینوں کو الگ نام دیا گیا۔ یعنی "جمادی الأولیٰ" اور "جمادی الآخرۃ"۔ اسی خاص ہیئت و ترکیب کے ساتھ یہ ان مہینوں کے "عَلَم"(نام) ہیں۔
یہ چاروں مہینے اپنے ناموں کی ساخت کے معاملے میں باقی آٹھ مہینوں سے الگ ہیں۔
ان چاروں مہینوں میں "ربیع الاول" کا نام لکھنے اور بولنے میں لوگ کسی قسم کی غلطی نہیں کرتے۔ لیکن باقی تینوں میں کرتے ہیں۔
((نوٹ : بعض ائمہ نے ربیع الأول اور ربیع الآخِر کے لفظ "ربیع" پر تنوین کو درست اور اضافت یعنی بلاتنوین کو نادرست کہا ہے۔ مگر یہ اسی طرح عوام و خواص میں رائج ہونے کی وجہ سے اب نادرست نہیں کہا جا سکتا۔ بلکہ اب تنوین والی صورت بالکل نامانوس ہو چکی ہے۔))
⚪️ کچھ لوگ "ربیع الآخِر" کو "ربیع الثانی" کہہ کر ایک غلطی کرتے ہیں، جب کہ "جمادی الأولی" اور "جمادی الآخرہ" میں متعدد غلطیاں ہوتی ہیں۔
بےتوجہی کے سبب ان ناموں کو غلط لکھنے اور بولنے کی خامی بعض اہلِ علم میں بھی در آئی ہے۔
"جمادی" والے دونوں ناموں میں زیادہ غلطی "جمادی الآخرۃ" میں ہوتی ہے۔ بعض لوگ اس مہینے کو *جمادی الثانی*، یا *جمادی الثانیۃ*، تو کچھ افراد *جمادی الآخِر*، تو بہت سے لوگ *جمادی الأُخْرَیٰ* بولتے اور لکھتے ہیں۔ بلکہ بعض لوگ صحت کے قریب مگر غلط *جمادی الآخَرۃ* بولتے ہیں۔ یوں ہی کچھ لوگ *"جمادی الأُولیٰ"* کو *"جمادی الأوّل"* کہہ دیا کرتے ہیں۔ بعض ناواقف لوگ ان دونوں ناموں میں *"جُمادَی"* کو *"جَمَادِی"* یا *"جُمادِی"* بولنے کی غلطی بھی کرتے ہیں۔
یہ سارے طریقے غلط ہیں۔
تفصیل یہ ہے:
⚪️ ربیع الاول کے بعد والے مہینے کا نام "ربیع الآخِر" ہے، ربیع الثانی نہیں۔ اور اس کے بعد والے مہینے کا نام "جُمادَی الاُولیٰ" ہے، جمادی الأوّل نہیں۔ یوں ہی "جُمَادی" والے دوسرے مہینے کا صحیح نام "جُمادَی الآخِرَۃ" ہے۔(جمادی لفظ کی جیم پر ضمہ اور دال پر فتحہ، اور آخر میں الف مقصورہ ہے۔ اور "الآخِرۃ" میں خا پر کسرہ ہے۔)، کچھ اور نہیں۔
*ربیع الآخِر، جُمادَی الأُولیٰ، جُمَادَی الآخِرۃ۔ یہی ان تینوں مہینوں کے ناموں کی درست صورت ہے۔ ان مہینوں کے یہی نام رکھے گئے۔ اور اصولوں کے مطابق یہی درست ہیں۔ اس لیے ان کے سوا اوپر مذکور سبھی صورتیں نادرست ہیں۔*
ان صورتوں کے صحیح نہ ہونے کی پہلی اور بنیادی وجہ یہ ہے کہ یہ عَلَم یعنی نام میں تبدیلی ہے، اور اعلام(ناموں) میں تصرف اور تبدیلی درست نہیں۔
امامِ اہلِ سنت اعلی حضرت فتاوی رضویہ میں اسی خطا کی اصلاح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
"مہینے کا عَلَم "جُمَادَی الآخِرۃ" ہے۔ اَعلام میں تصرف کیسا؟"
⚪️ عربی زبان کی مشہور و مستند لغات: الصحاح، تاج العروس، اور لسان العرب، وغیرہ میں ہے:
جُمادَی فُعالَی کے وزن پر ہے۔جیسے حُبارَی۔ یہ جمد سے مشتق ہے، جس کا معنی جمنا،خشک ہونا، منجمد ہونا ہے۔ کہا جاتا ہے:ظلت العین جُمادی: آنكھ منجمد ہوگئی، خشک ہو گئی۔
اس کی جمع : جُمادیات ہے۔
- الصحاح للجوہری میں ہے:
*جُمادَى الأولى وجُمادَى الآخِرة، بفتح الدال من أسماء الشهور، وهو فُعَالَى من الجَمْدِ.*
جمادی الاولی اور جمادی الآخرہ کا تلفظ
📝محمد جمال الدین خان قادِری رضوی
اِسلامی سال کے پانچویں اور چھٹے مہینے کے درست نام اور صحیح تلفظ ”جُمَادَی الۡاُوۡلٰی“ اور ”جُمَادَی الۡآخِرَہۡ“ ہیں ـ لغوی طور پر ”جمادی“ مؤنث ہے، اِس لئے اس کی صِفت بھی مؤنث ہونی چاہئے؛ لہٰذا ”جمادی الاول“ اور ”جمادی الاٰخِر“ کہنا غلط ہے ـ اِسی طرح ”ربیع الثانی“ اور ”جمادی الثانی“ کہنا بھی درست نہیں، کیونکہ عربی میں جب تیسرا (ثالِث) نہ ہو تو دوسرا (ثانِی) نہیں بولا جاتا ـ چنانچہ ”رَبِیۡعُ الۡاَوَّلۡ“ کے بعد والا مہینہ ”رَبِیۡعُ الۡآخِرۡ“ اور اس کے بعد ”جُمَادَی الۡاُوۡلٰی“ اور ”جُمَادَی الۡآخِرَۃ“ ہی صحیح اور عربی اصول کے مطابق نام ہیں ـ
https://whatsapp.com/channel/0029Va4xNTcBlHpj2ZXcdA3J
جمادی الاولٰی اور جمادی الآخرہ:لغت کے اعتبار سے ان دونوں مہینوں کے درست نام اور صحیح تلفظ یہ ہیں: جُمَادَی الۡاٗوۡلٰی اور جُمَادَی الۡاُخۡرٰی یا جُمَادَی الۡاٰخِرَہۡ ـ
مشہور نحوی امام فَراء کہتے ہیں:کُلُّ الشُّہُوۡرِ مُذَکَّرَۃٌ اِلَّا جُمَادَیَیۡنۡ یعنی تمام مہینوں کے نام مذکر ہیں سوائے دو جمادی مہینوں (یعنی جُمَادَی الۡاُوۡلٰی اور جُمَادَی الۡاُخۡرٰی یا جُمَادَی الۡاٰخِرَہۡ) کے ان دونوں کے نام مؤنث ہیں ـ [ الشماریخ فی علم التاریخ، ص:۱۳] جب لفظِ ”جمادی“ مؤنث ہے تو اس کی صفت بھی مؤنث ہی ذِکر کی جائےگی ـ اسی لئے ”جمادی الاول“ اور ”جمادی الآخِر“ نہ کہا جائے کیونکہ ”الاول“ اور ”الاٰخر“ مذکر ہیں بلکہ ”جُمَادَی الۡاُوۡلٰی“ اور ”جُمَادَی الۡاُخۡرٰی“ (یا ”جُمَادَی الۡاٰخِرَہۡ“) کہنا چاہیے ـ ایسے ہی چھٹے مہینے کو ”جمادی الثانی“ بھی نہ کہا جائے، کیونکہ ثانی وہاں آتا ہے جہاں اس کے بعد ثالث (یعنی تیسرا) بھی ہو جبکہ یہاں تیسرا نہیں ـ [ غیاث اللغات، باب الجیم، ص: ¹⁹⁴ و ¹⁹⁵] [ فیضان جمادی الاولٰی و جمادی الاخرٰی، صفحہ²، المدینۃ العلمیہ، دعوتِ اسلامی] ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬ येह तह़रीर हिंदी Hindī ہِنۡدِیۡ में ↷ https://whatsapp.com/channel/0029Va4xNTcBlHpj2ZXcdA3J/1531 Yeh Taḥreer ᴿᵒᵐᵃⁿ ᵁʳᵈᵘ Men ↷ https://whatsapp.com/channel/0029Va4xNTcBlHpj2ZXcdA3J/1530 یہ تحریر ٹیلی گرام Telegram پر↶ https://t.me/islaamic_Knowledge/95834
तलफ़्फ़ुज़ जुमादल ऊला, जुमादल आख़िरह
📝 मुह़म्मद जमालुद्दीन ख़ान क़ादिरी रज़वी
इस्लामी साल के पाँचवीं और छठे महीने के दुरुस्त नाम और स़ह़ीह़ तलफ़्फ़ुज़ “जुमादल ऊला” और “जुमादल आख़िरह” हैं - लुग़वी त़ौर पर “जुमादा” मुअन्नस (स्त्रीलिंग / Feminine) है, इस लिए इसकी स़िफ़त भी मुअन्नस होनी चाहिए; लिहाज़ा “जुमादल अव्वल” और “जुमादल आख़िर” कहना ग़लत़ है - इसी त़रह़ “रबीउ़स् सानी” और “जुमादस् सानी” कहना भी दुरुस्त नहीं, क्योंकि अ़रबी में जब तीसरा (सालिस) न हो तो दूसरा (सानी) नहीं बोला जाता - चुनांचे “रबीउ़ल अव्वल” के बअ़्द वाला महीना “रबीउ़ल आख़िर” और उसके बअ़्द “जुमादल ऊला” और “जुमादल आख़िरह” ही स़ह़ीह़ और अ़रबी उस़ूल के मुत़ाबिक़ नाम हैं।
https://whatsapp.com/channel/0029Va4xNTcBlHpj2ZXcdA3J
जुमादल ऊला और जुमादल आख़िरह:
लुग़त के एअ़्तिबार से इन दोनों महीनों के दुरुस्त नाम और स़ह़ीह़ तलफ़्फ़ुज़ येह हैं: जुमादल ऊला और जुमादल उख़रा।
मशहूर नह़वी इमाम फ़रा कहते हैं:
کُلُّ الشُّہُوۡرِ مُذَکَّرَۃٌ اِلَّا جُمَادَیَیۡنۡ
यअ़्नी तमाम महीनों के नाम मुज़क्कर (पुल्लिंग / Masculine) हैं सिवाए दो जुमादी महीनों (या'नी जुमादल ऊला और जुमादल उख़रा या जुमादल आख़िरह) के, इन दोनों के नाम मुअन्नस (स्त्रीलिंग / Feminine) हैं।
[ الشماریخ فی علم التاریخ، ص:¹³]
जब लफ़्ज़े “जुमादा” मुअन्नस है तो इसकी स़िफ़त भी मुअन्नस ही ज़िक्र की जाएगी - इसी लिए इसे “जुमादल अव्वल” और “जुमादल आख़िर” न कहा जाए। क्योंकि “अल अव्वल” और “अल आख़िर” मुज़क्कर हैं, बल्कि “जुमादल ऊला” और “जुमादल उख़रा” या “जुमादल आख़िरह” कहना चाहिए।
ऐसे ही छठे महीने को “जुमादस्सानी” भी न कहा जाए, क्योंकि सानी वहाँ आता है जहां उसके बअ़्द सालिस (यानी तीसरा) भी हो, जबकि यहाँ तीसरा नहीं।
[ غیاث اللغات، باب الجیم، ص:¹⁹⁴-¹⁹⁵]
[ फ़ैज़ाने जुमादल ऊला व जुमादल उख़रा पेज², अल् मदीनतुल् इ़ल्मिय्यह, दअ़्वते इस्लामी ]
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
یہ تحریر اُرۡدُوۡUrdū उर्दू مِیں ↶
https://whatsapp.com/channel/0029Va4xNTcBlHpj2ZXcdA3J/1532
Yeh Taḥreer ᴿᵒᵐᵃⁿ ᵁʳᵈᵘ Men ↷
https://whatsapp.com/channel/0029Va4xNTcBlHpj2ZXcdA3J/1530
یہ تحریر ٹیلی گرام Telegram پر↶
https://t.me/islaamic_Knowledge/95833
ᵀᵃˡᵃᶠᶠᵘᶻ: ᴶᵘᵐᵃᵈᵃˡ ᵂᵒᵒˡᵃ, ᴶᵘᵐᵃᵈᵃˡ ᴬᵃᵏʰⁱʳᵃʰ
📝 Muḥammad Jamāluddīn Ḳhān
islāmī Saal Ke Pāņchvīn Aur Chhathe Maheene Ke Durust Naam Aur Ṣaḥeeḥ Talaffuz “Jumādal Woolā” Aur “Jumādal Aaḳhirah” Haiņ – Luġavī Ṭaur Par “Jumādā” Mu-annaṡ (Strīliņg / Feminine) Hai, is Liye is Kī Ṣifat Bhī Mu-annaṡ Honī Chāhiye; Lihāzā “Jumādal Awwal” Aur “Jumādal Aaḳhir” Kahnā Ġalaṭ Hai – isī Ṭaraḥ “Rabeeụṡ Ṡānī” Aur “Jumādaṡ Ṡānī” Kahnā Bhī Durust Nahīn, Kyoņki Ạrabī Meņ Jab Teesrā (Ṡaaliṡ) Na Ho To Doosrā (Ṡaanī) Nahīn Bolā Jaatā – Chunāņche “Rabeeụl Awwal” Ke Baʿạd Waalā Maheenā “Rabeeụl Aaḳhir” Aur Us Ke Baʿạd “Jumādal Woolā” Aur “Jumādal Aaḳhirah” Hī Ṣaḥeeḥ Aur Ạrabī Uṣool Ke Muṭābiq Naam Haiņ.
https://whatsapp.com/channel/0029Va4xNTcBlHpj2ZXcdA3J
ᴶᵘᵐᵃᵃᵈᵃˡ ᵂᵒᵒˡᵃ ᴬᵘʳ ᴶᵘᵐᵃᵈᵃˡ ᴬᵃᵏʰⁱʳᵃʰLuġat Ke Eʿạtibār Se in Donoņ Maheenoņ Ke Durust Naam Aur Ṣaḥeeḥ Talaffuz Yeh Haiņ: Jumādal Woolā Aur Jumādal Uḳhrā. Mashʾhoor Naḥvī imām Farā Kahte Haiņ: کُلُّ الشُّہُوۡرِ مُذَکَّرَۃٌ اِلَّا جُمَادَیَیۡنۡ Yaʿạnī Tamām Maheenoņ Ke Naam Muzakkar (Pulliṅg / Masculine) Haiņ Siwāye Do Jumādā Maheenoņ (Yaʿạnī Jumādal Woolā Aur Jumādal Uḳhrā Yā Jumādal Aaḳhirah) Ke, in Donoņ Ke Naam Mu-annaṡ (Strīliņg / Feminine) Haiņ. [ الشماریخ فی علم التاریخ، ص:¹³] Jab Lafze Jumādā Mu-annṡ Hai To is Kī Ṣifat Bhī Mu-annaṡ Hī Zikr Kī Jāyegī - isee Liye ise Jumādal Awwal Aur Jumādal Aaḳhir Na Kahā Jāye, Kyoņki Al-Awwal Aur Al-Aaḳhir Muzakkar Haiņ, Balki Jumādal Woolā Aur Jumādal Uḳhrā Yā Jumādal Aaḳhirah Kahnā Chāhiye. Ayse Hī Chhathe Maheene Ko Jumādaṡ Ṡānī Bhī Na Kahā Jāye, Kyoņki Ṡānī Wahāņ Aatā Hai Jahāņ Us Ke Baʿạd Ṡaaliṡ (Yaʿạnī Teesrā) Bhī Ho, Jabki Yahāņ Teesra Nahīn. [ غیاث اللغات، باب الجیم، ص:¹⁹⁴-¹⁹⁵] [ Faizāne Jumādal Woolā Wa Jumādal Uḳhrā, Page 2, Al-Madīnatul ịlmiyyah, Daʿạwate islāmī ] ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬ یہ تحریر اُرۡدُوۡUrdū उर्दू مِیں ↶ https://whatsapp.com/channel/0029Va4xNTcBlHpj2ZXcdA3J/1532 येह तह़रीर हिंदी Hindī ہِنۡدِیۡ में ↷ https://whatsapp.com/channel/0029Va4xNTcBlHpj2ZXcdA3J/1531 یہ تحریر ٹیلی گرام Telegram پر↶ https://t.me/islaamic_Knowledge/95832
Вже доступно! Дослідження Telegram за 2025 — головні інсайти року 
