ru
Feedback
‎ علم كا گلستان🌿

‎ علم كا گلستان🌿

Открыть в Telegram

Al Salam Islamic center’s resources translated in Urdu

Больше
386
Подписчики
-224 часа
-37 дней
-2230 день

Загрузка данных...

Похожие каналы
Нет данных
Возникли проблемы? Пожалуйста, обновите страницу или обратитесь к нашему support-менеджеру .
Облако тегов
Нет данных
Возникли проблемы? Пожалуйста, обновите страницу или обратитесь к нашему support-менеджеру .
Входящие и исходящие упоминания
---
---
---
---
---
---
Привлечение подписчиков
июль '26
июль '26
+1
в 0 каналах
июнь '26
+1
в 0 каналах
Get PRO
май '260
в 0 каналах
Get PRO
апрель '260
в 0 каналах
Get PRO
март '26
+33
в 0 каналах
Get PRO
февраль '26
+1
в 0 каналах
Get PRO
январь '26
+5
в 0 каналах
Get PRO
декабрь '25
+13
в 0 каналах
Get PRO
ноябрь '25
+35
в 0 каналах
Get PRO
октябрь '25
+4
в 0 каналах
Get PRO
сентябрь '25
+2
в 0 каналах
Get PRO
август '25
+11
в 0 каналах
Get PRO
июль '25
+11
в 0 каналах
Get PRO
июнь '25
+13
в 0 каналах
Get PRO
май '25
+10
в 0 каналах
Get PRO
апрель '25
+16
в 0 каналах
Get PRO
март '25
+21
в 0 каналах
Get PRO
февраль '25
+20
в 0 каналах
Get PRO
январь '25
+21
в 0 каналах
Get PRO
декабрь '24
+25
в 0 каналах
Get PRO
ноябрь '24
+29
в 0 каналах
Get PRO
октябрь '24
+38
в 0 каналах
Get PRO
сентябрь '24
+29
в 0 каналах
Get PRO
август '24
+17
в 1 каналах
Get PRO
июль '24
+15
в 0 каналах
Get PRO
июнь '24
+7
в 0 каналах
Get PRO
май '24
+10
в 1 каналах
Get PRO
апрель '24
+12
в 0 каналах
Get PRO
март '24
+13
в 0 каналах
Get PRO
февраль '24
+26
в 0 каналах
Get PRO
январь '24
+24
в 0 каналах
Get PRO
декабрь '23
+10
в 0 каналах
Get PRO
ноябрь '23
+29
в 1 каналах
Get PRO
октябрь '23
+38
в 0 каналах
Get PRO
сентябрь '23
+33
в 0 каналах
Get PRO
август '23
+25
в 0 каналах
Get PRO
июль '23
+24
в 0 каналах
Get PRO
июнь '23
+22
в 0 каналах
Get PRO
май '23
+20
в 0 каналах
Get PRO
апрель '23
+14
в 0 каналах
Get PRO
март '23
+21
в 0 каналах
Get PRO
февраль '23
+14
в 0 каналах
Get PRO
январь '23
+15
в 0 каналах
Get PRO
декабрь '22
+23
в 0 каналах
Get PRO
ноябрь '22
+13
в 0 каналах
Get PRO
октябрь '22
+11
в 0 каналах
Get PRO
сентябрь '22
+18
в 0 каналах
Get PRO
август '22
+27
в 0 каналах
Get PRO
июль '22
+21
в 0 каналах
Get PRO
июнь '22
+12
в 0 каналах
Get PRO
май '22
+16
в 0 каналах
Get PRO
апрель '22
+16
в 0 каналах
Get PRO
март '22
+25
в 0 каналах
Get PRO
февраль '22
+18
в 0 каналах
Get PRO
январь '22
+34
в 0 каналах
Get PRO
декабрь '21
+44
в 0 каналах
Get PRO
ноябрь '21
+33
в 0 каналах
Get PRO
октябрь '21
+54
в 0 каналах
Get PRO
сентябрь '21
+38
в 0 каналах
Get PRO
август '21
+28
в 0 каналах
Get PRO
июль '21
+32
в 0 каналах
Get PRO
июнь '21
+44
в 0 каналах
Get PRO
май '21
+197
в 0 каналах
Дата
Привлечение подписчиков
Упоминания
Каналы
25 июля0
24 июля0
23 июля0
22 июля0
21 июля0
20 июля0
19 июля0
18 июля0
17 июля0
16 июля0
15 июля0
14 июля0
13 июля0
12 июля0
11 июля0
10 июля0
09 июля0
08 июля0
07 июля+1
06 июля0
05 июля0
04 июля0
03 июля0
02 июля0
01 июля0
Посты канала
بسم الله الرحمن الرحيم لا حول ولا قوة إلا بالله اللہ سبحانہ و تعالی سے محبت کا دعویٰ زبان سے کرنا آسان ہے، مگر اس کا ثبوت زندگی میں دینا پڑتا ہے ﴿ قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ ۗ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ ﴾ "آپ (نبی ﷺ) کہہ دیجیے: اگر تم واقعی اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا، اور اللہ بہت بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے" (آل عمران: 3۱) عموماً لوگ بہت آسانی سے کہتے ہیں کہ وہ ”اللہ سے محبت کرتے ہیں“ اور یہ الفاظ دل میں بڑے سچے محسوس ہوتے ہیں لیکن یہ آیت ہمیں یہ نہیں سکھاتی کہ ہم نے محبت کا دعویٰ کیا یا نہیں، بلکہ یہ بتاتی ہے کہ اس دعوے کے بعد ہماری زندگی ہمارے عمل سے، اس کی گواہی دیتی ہے؟ اگر ہماری اللہ سبحانہ و تعالی سے محبت سچی ہے، تو رسول اللہ ﷺ کی پیروی کرنے سے ہی یہ دعویٰ مکمل ہوگا صرف ان کاموں میں نہیں جو آسان ہوں یا جن کی ہمیں پہلے سے عادت ہو، بلکہ ان مواقع پر بھی جب سنت پر عمل کرنے کے لیے اپنی عادت، اپنے ماحول یا اپنی پسند کو چھوڑنا پڑے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں اللہ سبحانہ و تعالی سے محبت کی حقیقت سامنے آتی ہے یہ امتحان رمضان میں جذباتی کیفیت محسوس کرنے یا کعبہ کے سامنے کھڑے ہونے میں نہیں ہوتا، بلکہ روزمرہ زندگی کے اُن خاموش لمحات میں ہوتا ہے، جب رسول اللہ ﷺ کی پیروی کے لیے اپنے نفس کی خواہش کے خلاف قدم اٹھانا پڑتا ہے اکثر لوگ اس آیت کے پہلے حصے پر ہی رک جاتے ہیں۔ "اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو۔“ وہ اسے صرف ایک حکم سمجھتے ہیں۔ لیکن آیت کا دوسرا حصہ دل کو جھنجھوڑ دینے والا ہے۔ "اللہ تم سے محبت کرے گا“ یہ نہیں فرمایا کہ اللہ تمہیں صرف قبول کرے گا، یا صرف معاف کر دے گا، بلکہ فرمایا: "اللہ تم سے محبت کرے گا۔" آسمانوں اور زمین کا خالق، پوری کائنات کا ربّ، اس بندے سے محبت کرے گا جو کمزور ہے، بار بار غلطی کرتا ہے، گناہوں سے شرمندہ ہوتا ہے، لیکن اخلاص اور صدق کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کی پیروی کرتا ہے۔ یہ ایسی نعمت ہے جس کا مقابلہ نہ دنیا کی دولت کر سکتی ہے، نہ عزت و منصب، اور نہ لوگوں کی تعریف بندے کی اللہ سبحانہ و تعالی سے محبت تو ایک چھوٹے اور کمزور بندے کی اپنے عظیم ربّ سے محبت ہے لیکن اللہ سبحانہ و تعالی کی اپنے بندے سے محبت وہ نعمت ہے جو انسان کی پوری زندگی بدل دیتی ہے یہی محبت بندے کے لیے زمین میں قبولیت پیدا کرتی ہے، اُس کے لیے ایسے دروازے کھولتی ہے جو کوئی اور نہیں کھول سکتا، اور اُس کی زندگی کو ایسی حفاظت اور رحمت میں لے لیتی ہے جو کوئی انسانی تعلق نہیں دے سکتا پھر اللہ سبحانہ و تعالیٰ جانتا ہے کہ اس راستے پر چلنے والا بندہ کبھی نہ کبھی لغزش کا شکار ہوگا۔ اسی لیے آیت کے آخر میں اُس نے اپنے دو مبارک ناموں کا ذکر کیا ہے : الغفور، الرحیم۔ وہ جو بار بار معاف کرنے والا ہے، اور وہ جو اپنے بندے پر اس کی کمزوری کے باوجود رحم فرماتا ہے رسول اللہ ﷺ کی پیروی کا راستہ ہم سے بے عیب ہونے کا مطالبہ نہیں کرتا۔وہ ہم سے صرف یہ چاہتا ہے کہ ہماری سمت درست رہے یعنی کہ ہمارا دل سنت کی طرف بڑھتا رہے، اطاعت کی طرف چلتا رہے، اور اس ہستی کے نقشِ قدم پر چلنے کی کوشش کرتا رہے جسے اللہ سبحانہ و تعالی نے پوری انسانیت کے لیے نمونہ بنایا ہے، چاہے ہمارے قدم آہستہ ہوں، چاہے ہماری کمزوریاں ابھی باقی ہوں، اور چاہے نفس بار بار ہمیں دوسری طرف کھینچتا رہے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ ہماری اپنی محبت کو اتنا سچا بنا دے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی پیروی میں نظر آئے، اور ہمیں اپنی اس محبت سے نواز دے جو کبھی ختم نہیں ہوتی۔ آمین۔

2
**بسم الله الرحمن الرحيم** **لا حول ولا قوة إلا بالله** # **تم اس وقت تک وہ نہیں بن سکتے جو اللہ نے تمہیں بنانا چاہا ہے، جب تک تم کسی اور کے سائے میں جیتے رہو۔** یوسف علیہ السلام کی زندگی کا ہر مرحلہ کسی نہ کسی ایسے شخص کے زیرِ اثر گزرا جو ان سے بلند مقام رکھتا تھا۔ ایک والد، جو ان سے بے حد محبت کرتے تھے۔ ایک عورت، جو ان پر فریفتہ ہو گئی تھی۔ ایک بادشاہ، جو انہیں اپنے قریب رکھنا چاہتا تھا۔ اور ان تمام مراحل میں—اگرچہ ہر تعلق مختلف تھا اور ہر صورت حال الگ تھی—ایک ہی بات ہو رہی تھی: اختیار رکھنے والا، اپنی ضرورت یا اپنے جذبات کی بنا پر، انہیں اپنی طرف کھینچ رہا تھا۔ وہ ان کے گرد ایسا ماحول بنا رہا تھا جس میں اس کی نظر میں یوسف علیہ السلام کی جو تصویر تھی، وہی سب سے نمایاں تھی۔ اور ان میں سے کسی بھی مرحلے میں یوسف علیہ السلام کی اصل شخصیت پوری طرح ظاہر نہیں ہو سکتی تھی۔ یہ اس لیے نہیں تھا کہ یعقوب علیہ السلام کی محبت غلط تھی۔ وہ محبت سچی بھی تھی اور نہایت خوبصورت بھی۔ لیکن کسی کا سب سے محبوب ہونا انسان کی شخصیت نہیں بناتا، بلکہ اسے اپنے سایے میں محفوظ رکھتا ہے۔ اور تحفظ، چاہے کتنا ہی خوشگوار کیوں نہ ہو، شخصیت کی تعمیر نہیں ہوتا۔ اور یہ بھی اس لیے نہیں تھا کہ عزیزِ مصر کی بیوی کی دیوانگی یوسف علیہ السلام کا اپنا انتخاب تھی۔ لیکن جب کوئی شخص کسی کی حد سے بڑھی ہوئی خواہش کا مرکز بن جاتا ہے، تو وہ ایک ایسی کہانی کا حصہ بن جاتا ہے جو مکمل طور پر دوسرے شخص کے گرد گھومتی ہے۔ پھر انسان اپنی سمت رکھنے والی شخصیت نہیں رہتا، بلکہ دوسرے کی خواہشات کا عکس بن جاتا ہے۔ اور نہ ہی اس لیے کہ بادشاہ کا انہیں اپنے قریب رکھنا کسی برے ارادے پر مبنی تھا۔ لیکن اقتدار کے قریب ہونا، جب کسی شخص کی ذاتی پسند پر قائم ہو، تو ہمیشہ عارضی ہوتا ہے۔ وہ صرف اس وقت تک رہتا ہے جب تک وہ پسند باقی رہتی ہے۔ یوسف علیہ السلام ان تمام مراحل سے گزرے، اور ہر مرحلے سے اس حال میں نکلے کہ ان کی شخصیت اوپر والے لوگوں نے نہیں بنائی، بلکہ صرف اللہ کے ساتھ ان کے تعلق نے انہیں بنایا۔ یہی تو غیر معمولی بات ہے۔ صرف یہ نہیں کہ وہ ان حالات سے بچ نکلے، بلکہ یہ کہ ان سب کے باوجود وہ اپنی اصل شخصیت پر قائم رہے۔ اور دراصل یہی وہ سبق ہے جس پر ہمیں دیانت داری سے غور کرنا چاہیے۔ ہم اپنے بارے میں جو کچھ سمجھتے ہیں، اس میں کتنا حصہ کسی اور کی ضرورت، کسی اور کے اختیار، یا ہمارے بارے میں کسی اور کے تصور کے سائے میں بنا ہے؟ وہ والدین جنہوں نے ہمارے لیے ایک منصوبہ بنایا تھا۔ وہ شوہر جس کی کچھ توقعات ہیں۔ وہ بچے جنہیں ایک خاص قسم کی ماں چاہیے۔ یہ سب اپنی جگہ غلط نہیں ہیں۔ لیکن جب یہی ہماری پہچان کا اصل ذریعہ بن جائیں—جب ہم خود کو صرف اس حوالے سے پہچانیں کہ دوسروں کو ہم سے کیا چاہیے—تو پھر ہم اپنی نہیں، کسی اور کی کہانی میں زندگی گزار رہے ہوتے ہیں۔ صرف ایک ہی تعلق ایسا ہے جس میں ہماری اصل پہچان پوری طرح سامنے آ سکتی ہے، اور وہ اللہ کے ساتھ ہمارا تعلق ہے۔ کیونکہ اللہ کو ہماری کسی خاص صورت کی ضرورت نہیں۔ وہ ہمیں پہلے ہی پوری طرح جانتا ہے—ان تمام کرداروں سے پہلے بھی، ان کرداروں کے درمیان بھی، اور ان سب کے پیچھے بھی۔ اور وہی ایک ذات ہے جس کا ہمیں جاننا اس بات پر منحصر نہیں کہ اسے بدلے میں ہم سے کیا ملے گا۔ یوسف علیہ السلام وہ اس لیے نہیں بنے کہ صحیح لوگوں نے ان سے محبت کی۔ وہ اس لیے وہ بنے جو وہ تھے، کیونکہ وہ اپنے رب کو پہچانتے تھے، اور اللہ کی یہ معرفت ان کے دل میں اپنے اردگرد ہر اس شخص سے زیادہ غالب تھی جو انہیں اپنی مرضی کے مطابق ڈھالنا چاہتا تھا۔ یہی اصل آزادی ہے۔ لوگوں سے آزاد ہو جانا نہیں، بلکہ اپنی پہچان کا معیار لوگوں کو نہ بنانا۔ **اللہ تعالیٰ ہماری پہچان کو اپنے ساتھ اس قدر مضبوطی سے وابستہ کر دے کہ ہم ہر رشتے میں پوری طرح موجود رہیں، لیکن کسی بھی رشتے میں اپنی اصل شخصیت نہ کھوئیں۔** **آمین۔**
12
3
-2137248102.m4a
20
4
Нет текста...
20
5
AUDIO-2026-07-16-21-42-11.m4a
29
6
Нет текста...
28
7
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم لا حول ولا قوة إلا باللہ ہزار بار دہرائی گئی خواہش، حقیقت نہیں بن جاتی ﴿ وَقَالُوا لَن يَدْخُلَ الْجَنَّةَ إِلَّا مَن كَانَ هُودًا أَوْ نَصَارَىٰ ۗ تِلْكَ أَمَانِيُّهُمْ ۗ قُلْ هَاتُوا بُرْهَانَكُمْ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ ﴾ "اور انہوں نے کہا: جنت میں ہرگز کوئی داخل نہ ہوگا مگر وہ جو یہودی ہو یا نصرانی۔ یہ ان کی محض تمنائیں ہیں۔ کہہ دیجیے: اگر تم سچے ہو تو اپنی دلیل پیش کرو۔" [سورۃ البقرہ: 111] انہوں نے یہ نہیں کہا کہ "ہم امید رکھتے ہیں۔" انہوں نے یہ بھی نہیں کہا کہ "ہم اللہ سے دعا کرتے ہیں۔" بلکہ انہوں نے ایسے یقین کے ساتھ کہا جیسے وہ اعمال نامے دیکھ چکے ہوں، ناموں کی فہرستیں جانچ چکے ہوں، جنت کے دروازوں سے گزر کر دیکھ آئے ہوں کہ اندر کون ہے۔ "ہمارے سوا کوئی جنت میں داخل نہیں ہوگا۔" یہ بات انہوں نے پورے یقین سے کہی، بغیر کسی جھجک کے۔ گویا جنت کے مالک نے خود انہیں اس کی فہرست تھما دی ہو، حالانکہ ایسا ہرگز نہیں تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان سے لمبی بحث نہیں کی، نہ کوئی جوابی دعویٰ پیش کیا، نہ اس بحث میں پڑے کہ کون جنت کا زیادہ حق دار ہے۔ انہوں نے صرف ایک بات فرمائی—وہ ایک بات جو دین کے بارے میں ہر بے بنیاد دعوے کو منہدم کر دیتی ہے: "اپنی دلیل پیش کرو۔" یہ دو الفاظ سب کچھ بدل دیتے ہیں۔ کیونکہ دلیل کوئی احساس کا نام نہیں، نہ ایسی روایت کا جس کی کبھی تحقیق ہی نہ کی گئی ہو۔ دلیل وہ چیز نہیں جسے آدمی صرف اس لیے سچ مان لے کہ اس کے باپ دادا اسے مانتے آئے ہیں، یا اس کی قوم ہمیشہ یہی کہتی رہی ہے، یا اس پر یقین کرنے سے اسے ذہنی سکون ملتا ہے۔ دلیل وہ واضح، قطعی اور مستند ثبوت ہے جو اس چیز تک پہنچاتا ہو جو اللہ نے حقیقتاً نازل فرمائی ہے۔ اور ان کے پاس ایسی کوئی دلیل نہ تھی۔ جو کچھ ان کے پاس تھا، اللہ تعالیٰ نے اس کا صحیح نام رکھا: محض تمنائیں۔ ایسی تمنائیں جنہیں وہ اتنی شدت سے سچ دیکھنا چاہتے تھے کہ انہوں نے یہ پوچھنا ہی چھوڑ دیا کہ آیا وہ واقعی سچ بھی ہیں یا نہیں۔ وہ امیدیں وقت کے ساتھ یقین میں بدل گئیں، مگر اس لیے نہیں کہ ان کے حق میں کوئی دلیل آ گئی تھی، بلکہ اس لیے کہ کسی نے کبھی دلیل طلب ہی نہیں کی۔ یہی وہ خاموش خطرہ ہے جسے یہ آیت بے نقاب کرتی ہے۔ صرف ان کے بارے میں نہیں، بلکہ ہر اس دل کے بارے میں جو اللہ کے متعلق کسی بات پر ایمان تو رکھتا ہے، مگر کبھی یہ جاننے کی کوشش نہیں کرتا کہ وہ بات آئی کہاں سے ہے۔ آخر کتنی ہی باتیں انسان اللہ کے ہاں اپنے مقام کے بارے میں بغیر تحقیق کے فرض کر لیتا ہے؟ نجات، مغفرت، قبولیت اور رد کے بارے میں کتنے ہی تصورات محض آبائی روایات اور نفسیاتی اطمینان پر قائم ہوتے ہیں، نہ کہ اللہ کی نازل کردہ ہدایت پر؟ کتنی باتیں مجالس میں دہرائی جاتی ہیں، پیغامات میں پھیلائی جاتی ہیں، پورے اعتماد سے بیان کی جاتی ہیں، حالانکہ اس پوری زنجیر میں کسی نے کبھی یہ سوال ہی نہیں کیا: "کیا واقعی اللہ نے یہ فرمایا ہے؟" قرآن لوگوں سے ایمان چھوڑنے کا مطالبہ نہیں کرتا، بلکہ یہ سکھاتا ہے کہ ہر دعوے کو دلیل کی کسوٹی پر پرکھا جائے۔ ہر عقیدے کو وحی کی روشنی میں دیکھا جائے کہ آیا وہ اس آزمائش پر پورا اترتا بھی ہے یا نہیں۔ اور جو دعویٰ اس امتحان میں ثابت نہ ہو سکے—خواہ وہ کتنا ہی قدیم ہو، کتنے ہی لوگ اسے دہراتے ہوں، یا وہ کتنا ہی دل کو تسلی دینے والا محسوس ہوتا ہو—وہ ایمان نہیں، بلکہ ایک خواہش ہے۔ اور قیامت کے دن خواہشیں کسی کو ان دروازوں سے نہیں گزار سکیں گی جن کے بارے میں وہ دنیا میں یہ سمجھتا رہا کہ وہ اس کے لیے پہلے ہی کھلے ہوئے ہیں۔ جنت کسی نام، کسی نسب یا کسی مذہبی شناخت کے لیے مخصوص نہیں۔ جنت اس شخص کے لیے ہے جو اللہ کی نازل کردہ ہدایت پر ایمان لایا، اور اپنے عمل سے اس ایمان کی سچائی ثابت کی۔ یہی وہ برہان (دلیل) ہے جو اس دن کام آئے گی جب ہر دعوے کا ثبوت طلب کیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ان لوگوں میں شامل فرمائے جو اپنی امیدیں اللہ کے حقیقی وعدوں پر قائم کرتے ہیں، نہ کہ اپنی خواہشات پر؛ اور جو اس کے حضور قیاس اور گمان نہیں، بلکہ دلیل اور سچے اعمال کے ساتھ حاضر ہوں۔ آمین۔
50
8
893610508.m4a
37
9
Нет текста...
40
10
اسماء_اللّہ_الحسنی_۔_اشرف_العلوم_۔_الرب_کلاس_۶۴.pdf
40
11
AUDIO-2026-06-30-18-57-17.m4a
43
12
Нет текста...
43
13
sticker.webp
52
14
AUDIO-2026-06-26-08-48-49.m4a
48
15
Нет текста...
44
16
اسماء_اللّہ_الحسنی_۔_اشرف_العلوم_۔_الرب_کلاس_۶۳.pdf
40
17
اسماء_اللّہ_الحسنی_۔_اشرف_العلوم_۔_الرب_کلاس_۶۲.pdf
36
18
Нет текста...
38
19
AUDIO-2026-06-21-08-31-08.m4a
44
20
Нет текста...
44