ISLAM WITH EMAN
Открыть в Telegram
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات... ایڈمن سے رابطہ کیلئے: @syedsajjadhamdani
Больше1 285
Подписчики
Нет данных24 часа
-67 дней
-730 дней
Архив постов
1 285
🔷 ہمارے سوال 1 🔷
صاحبان انصاف سے انصاف کے طلبگار ھیں!!
1۔ ناقۂ صالحؑ کا قاتل جہنمی اور کافر۔
مصداق من الحسینؑ اور ابن رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم کا قاتل مسلمان كيوں؟؟
2۔ فرمان ذیشان رسالت (ص) کیمطابق جو اھلبیتِ اطہار علیہم السلام سے بغض و عناد رکھے وہ تو پکا منافق۔
اور
جو اھلبیتِ اطہارؑ پہ "سب" کرے۔ آپؑ سے اس درجہ مخالفت۔ کہ علم بغاوت بلند کر کے میدان جنگ میں بھی آپکے سامنے آ جائے ۔ یا آپؑ کو قتل کرے وہ مسلمان کیوں؟؟
3۔ حضرت آدم علیه السلام کے بیٹے کا قاتل (پسر آدم) جہنمی کافر
مگر
حضرت سیدنا محمد مصطفٰی صلی الله علیه واله وسلم کے بیٹے کا قاتل مسلمان کیوں؟؟
4۔ کشتی نوح علیه السلام کا منکر کافر۔
کشتی نجات اھلبیتؑ کا منکر مسلمان کیوں؟؟
5۔ قرآن پاک کا منکر کافر۔
ناطق قرآن و مع القرآن کا منکر مسلمان کیوں؟؟
6- جو نبیؑ کو گالی دے وہ کافر۔
اور
جو اولاد رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم کو سر بازار پھراۓ۔ بھرے دربار میں بکواس بازی کرے۔ وہ مسلمان کیوں؟؟
7۔ جو کعبہ گرائے وہ کافر۔
اور
جو محمد مصطفٰی صلی الله علیه وآله وسلم کے بیٹے کا خون گرائے۔ وہ مسلمان کیوں؟؟
8- نبی کریم صلی الله علیه و آله وسلم کی پسندیدہ سبزی کدو شریف کی توھین حرام۔
اور
جنہیں رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم اپنی جان اور خون کہیں۔ جنکی سواری بنکر مہر نبوت پہ سوار کر کے، اپنی مبارک زلفیں پکڑا کے سواری کی آوازیں بھی نکالیں۔ انکی توھین کرنے والے مسلمان کیوں؟؟
9- پیغمبر اکرمؐ جس حجر اسود (پتھر) کا ایک بار بوسہ لیں۔ وہ تو قابل تعظیم ھو جائے۔ اور مسلمان اسکو دیوانہ وار چومیں, اسکی توھین کفر کا باعث ھو۔
اور
یہی نبیؐ جن حامل سیادت جنت بچوں کے بوسے ساری زندگی لیتا رھے۔ انکے مخالف صاحب تعظیم کیسے؟؟
10۔ جو صحابی و تابعی اور مسلمان بھی محمد مصطفٰی صلی الله علیه و آله وسلم کی شان مبارک میں توهین کرے یا آپکو دشمن رکھے وہ کافر۔
اور
جو اھلبیتؑ سے بغض و عناد اور دشمنی رکھ کے ببانگ دھل اپنے نقص نسب کے اظہار کرنے والا مولا علیؑ و آل نبی اولاد علی علیہم السلام سے دشمنی بھی کرے اور جنگ بھی کرے۔ اھلبیتؑ کو شہید کرے۔ وہ صحابی و تابعی کیسے؟؟ اور مسلمان کیوں؟؟
11۔ آل بنو امیہ و متون و یزید پلید ملعون باوجود فسق و فجور کے مسلمان۔
اور
حضور صلی الله علیه وآله وسلم اور حضرت علی علیه سلام کی پرورش کرنے والے، شعب ابوطالب میں پناھگاہ بننے والے، ساری زندگی آپکی مدد اور نصرت کرنیوالے دین اسلام کے محسن آعظم اور نکاح خوان مصطفٰیؐ حضرت ابوطالب علیہ السلام کافر کیوں؟؟
یاد رھے کہ
ایسی نجس زبانیں اھلبیت اطھارؑ کا ذکر خیر کر ھی نہیں سکتیں ۔۔۔۔
لمحہ فکریہ برائے ناصبین و خوارج۔۔!!
تھوڑا نہیں! بہت سارا سوچئے گا ضرور۔۔!!
التماس دعا: سید فاخر حسین رضوی
https://t.me/islamwitheman
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
1 285
🔷 جیسا سوال ویسا جواب 🔷
نبی کریم (ص) نے اعلان نبوت 40 سال کی عمر میں کیا اور آپ 63 سال کی عمر میں اس دنیا سے رخصت ہو گئے اس طرح صحابہ کرام کی زندگی میں نبی کریم (ص) کا یوم ولادت 23 مرتبہ آیا۔
پوچھنا یہ تھا کہ صحابہ کرام نے کیا کبھی ایک بار بھی 12 ربیع الاول کو عید میلادالنبی کا جلوس نکالا تھا۔؟؟
کیا صحابہ کرام نے ان 23 سالوں میں ایک بار بھی عید میلادالنبی پر گلیاں سجائی تھیں۔؟؟
کیا صحابہ کرام نے اپنی ساری زندگی میں ایک بار بھی خانہ کعبہ اور قبر رسول (ص) کے ماڈل بنا کر سڑکوں پر سجائے تھے۔؟؟
اگر نبی کریم (ص) نے اپنی زندگی میں ایسا کچھ نہیں کروایا، صحابہ کرام نے ایسا کبھی نہیں کیا تو میرا سوال یہ ہے کہ۔۔۔
آج کل جو لوگ ربیع الاول میں ایسا کرتے ہیں وہ کون ہیں؟؟
کس کے طریقے پر چل کر ایسا کرتے ہیں؟؟
کیا ان لوگوں کو صحابہ کرام سے زیادہ نبی کریم (ص) سے محبت ہے؟؟
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 285
🔷 نام نہیں کردار اہم ہے 🔷
کچھ لوگ کہتے ہیں کہ مولا علی علیہ السلام کے بچوں کے نام اصحاب ثلاثہ کے نام سے مماثلت رکھتے ہیں تو اسکا مطلب ہے مولا علی علیہ السلام کو ان صحابہ سے بہت پیار تھا۔
ذرا تاریخ بھی پڑھ لیں جناب، یہ نام بہت سے اور بھی صحابہ کے تھے صرف ان تینوں کے نہیں تھے۔ اس زمانے میں یہ عام نام تھے۔
🔹 وہ صحابہ جن کی کنیت ابوبکر تھی
1ـ أبو بكر بن شعوب الليثي، واسمه شدّاد۔
2ـ أبو بكر، عبدالله بن الزبير۔
🔹 وہ صحابہ جن کا نام عمر تھا
کتنے ھی صحابہ تھے جن کا نام عمر تھا۔۔۔
1ـ عمر اليماني۔
2ـ عمر بن الحكم السلمي۔
3ـ عمر بن سراقة، ممّن شهد بدراً۔
4ـ عمر بن سعد، أبو كبشة الأنماري۔
5ـ عمر بن سفيان بن عبد الأسد، ممّن هاجر إلى الحبشة۔
6ـ عمر بن عمير بن عدي الأنصاري۔
7ـ عمر بن عوف النخعي۔
8ـ عمر بن يزيد الكعبي۔
9ـ عمر بن عمرو الليثي۔
10ـ عمر بن منسوب۔
11ـ عمر بن لاحق۔
12ـ عمر بن مالك۔
13ـ عمر بن مالك القرشي الزهري، ابن عمّ والد سعد بن أبي الوقّاص۔
14ـ عمر بن معاوية الغاضري۔
15ـ عمر الأسلمي۔
16ـ عمر بن أبي سلمة، ربيب النبيّ ( صلى الله عليه وآله ) ، وأُمّه أُمّ سلمة۔
17ـ عمر الخثعمي۔
🔹 أسماء الصحابة ممّن كان اسمهم عثمان
کتنے ھی صحابہ تھے جن کا نام عثمان تھا۔۔۔
1ـ عثمان بن أبي الجهم الأسلمي۔
2ـ عثمان بن حكيم۔
3ـ عثمان بن حميد۔
4ـ عثمان بن حنيف۔
5ـ عثمان بن ربيعة بن اهبان، ممّن هاجر إلى الحبشة۔
6ـ عثمان بن ربيعة الثقفي۔
7ـ عثمان بن سعيد بن أحمر الأنصاري۔
8ـ عثمان بن شماس المخزومي۔
9ـ عثمان بن طلحة بن أبي طلحة۔
10ـ عثمان بن أبي العاص۔
11ـ عثمان بن عمّار ، والد أبي بكر۔
12ـ عثمان بن عبد غنم الفهري، ممّن هاجر إلى الحبشة۔
13ـ عثمان بن عبيد الله التميمي۔
14ـ عثمان بن عثمان الثقفي۔
15ـ عثمان بن عمرو ، ممّن شهد بدراً۔
16ـ عثمان بن مظعون ، الصحابي الجليل، الذي قبّله النبيّ (صلى الله عليه وآله) وهو ميّت۔
🔘 نام رکھنے سے کچھ نہیں ھوتا
اگر نام رکھنا محبت کا معیار ہے تو پھر تو ان صحابہ کو مولا علی علیہ السلام سے کوئی محبت نہیں کیونکہ جناب ابوبکر، عمر و عثمان نے اپنے کسی بچے کا نام علی، حسن یا حسین نہیں رکھا تھا۔
اور کیا اہلسنت عبدالرحمان نام اس وجہ سے رکھتے ھیں کہ حضرت علی علیہ السلام کے قاتل کا نام تھا۔؟؟۔۔ عبدالرحمان ابن ملجم
کیا اہل سنت مولا علی علیہ السلام کے قاتل سے محبت کرتے ہیں اس لئے یہ نام رکھتے ہیں؟؟؟؟
محترم نام اھم نہیں ھوتا کردار اھم ھوتا ھے۔
شہداء کربلا میں ایک حضرت حرؑ تھے جن کا پورا نام تھا ۔۔۔ حر ابن یزید الریاحی۔
جناب حر کے والد کا نام یزید کے نام سے مماثلت رکھتا تھا۔ کیا حر اپنے باپ کے ھمنام ھونے کی وجہ سے یزید ابن معاویہ سے راضی تھے ؟؟
بالکل نہیں
لہذا نام نہیں کردار اھم ھے جناب۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 285
اور یوں امام باقر علیہ السلام کی شادی حضرت ابوبکر کی پڑپوتی سے ہوئی۔
یہاں یہ بات بالکل واضح ہو گئی کہ امام باقر علیہ السلام کی شادی جناب ام فروہ سے اس لئے نہیں ہوئی کہ وہ حضرت ابوبکر کی نسل میں سے تھیں یا اہلبیت کو خلیفہ اول سے کوئی خاص لگاؤ تھا۔ بلکہ جناب ام فروہ کی شادی اس لئے امام باقر علیہ السلام کے ساتھ ہوئی کیونکہ جناب ام فروہ، انکے والد قاسم، انکے دادا محمد بن ابی بکر دراصل مولا علی علیہ السلام کے اطاعت گزار اور خاص اصحاب میں سے تھے اور اصحاب ثلاثہ کے بارے انکا عقیدہ وہ نہیں تھا جو آج اہلسنت برادران کا ہے۔
📚 حوالہ جات
[1] اصابہ، ج8، ص9۔
[2] نصر ابن مزاحم منقری، وقعۃ صفین، ص118۔
ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، ج2، ص92۔
[3] مسعودی، تنبیہ الاشراف، ص264۔
[4] ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، ج3، ص190م
حرزالدین، مراقد المعارف، ج2، ص249۔
✍ ذیشان کاظمی
https://t.me/islamwitheman/7206
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
1 285
🌸 ام فروہؑ والدۂ امام صادقؑ 🌸
کیا وجہ ہوئی کہ امام باقر علیہ السلام کی شادی مسلمانوں کے پہلے خلیفہ ابوبکر کی پڑپوتی سے ہوئی؟
یہ بات درست ہے کہ امام باقر علیہ السلام کی زوجہ اور امام صادق علیہ السلام کی والدہ جناب ام فروہ سلام اللہ علیہا پہلے خلیفہ ابوبکر کی نسل سے تھیں۔ لیکن ایسا کیونکر ہوا۔؟ آئیے جانتے ہیں۔
■ جناب اسماؓ بنت عمیس
مولا علی علیہ السلام کے ایک بھائی تھے جن کا نام حضرت جعفر طیارؓ تھا، وہ رسول اللہ (ص) کے صحابی تھے اور اسلام قبول کرنے والے اولین افراد میں سے تھے، جب جناب جعفر طیارؓ نے اسلام قبول کیا تو انکی زوجہ جناب اسما بنت عمیسؓ نے بھی انکے ساتھ اسلام قبول کیا اور پھر اپنے شوہر کے ہمراہ حبشہ کی طرف ہجرت بھی کی، حضرت جعفر طیارؓ سے جناب اسما کے تین بیٹے بھی پیدا ہوئے۔
جناب اسماؓ ایک نیک اور پرہیزگار اور اہلبیتؑ سے ایک خاص تعلق اور اُنس و محبت رکھنے والی خاتون تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ بعض روایات کے مطابق وہ جناب سیدہ فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے غسل و کفن میں بھی شریک تھیں..
نبی کریمؐ کے زمانے میں جنگ موتہ میں حضرت جعفر طیارؓ شہید ہوئے اور انکی بیوی اسما بنت عمیسؓ بیوہ ہو گئیں، عرب میں رواج تھا کہ عورتیں طلاق یا بیوگی کے بعد مزید شادی بھی کرتی تھیں لہذا مسلمانوں کے پہلے خلیفہ حضرت ابوبکر کے ساتھ جناب اسما نے شادی کی اور ان سے ایک بیٹا جس کا نام محمد بن ابی بکر تھا پیدا ہوئے...
ابھی محمد بن ابی بکر ڈھائی سال کے تھے کہ انکے والد حضرت ابوبکر کا انتقال ہو گیا اور یوں اسما بنت عمیس ایک بار پھر بیوہ ہو گئیں۔
جناب اسما بنت عمیس نے آٹھ ہجری میں حضرت ابوبکر سے شادی کی۔[1] اور تیرہ ہجری میں حضرت ابوبکر کی وفات ہوئی لہذا صرف پانچ سال حضرت ابوبکر کے ساتھ رہیں۔
چونکہ اسما پہلے مولا علیؑ کے بھائی کی زوجہ رہیں تھیں اور اہلبیتؑ سے ایک خاص محبت رکھتی تھیں اور انکے مرتبے سے آگاہ تھیں لہذا حضرت ابوبکر کی وفات کے بعد مولا علی علیہ السلام نے جناب اسما بنت عمیسؓ کو رشتہ بھجوایا اور یوں جناب اسماؓ مولا علی علیہ السلام کی زوجیت میں آ گئیں اور انکا بیٹا محمد بن ابی بکر چونکہ ابھی صرف ڈھائی سال کا تھا لہذا وہ بھی اپنی والدہ کے ساتھ مولا علیؑ کے گھر آیا اور یوں اس بچے کی ساری تربیت مولا علی علیہ السلام کے زیر سایہ ہوئی، یہی وجہ تھی محمد بن ابی بکر، مولا علی علیہ السلام کے اصحاب خاص میں شمار ہوتے تھے اور مولا علی علیہ السلام انکو اپنا بیٹا کہتے تھے۔
👈 یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ مولا علی علیہ السلام نے جناب جعفر طیارؓ کی شہادت کے فوراََ بعد ہی جناب اسما سے شادی کیوں نہ کرلی؟
اسکی وجہ یہ تھی کہ اس وقت جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا زندہ تھیں اور انکی موجودگی میں مولا علیؑ دوسری شادی نہیں کر سکتے تھے۔
■ محمد بن ابی بکر
خلفائے ثلاثہ کے بارے میں محمد بن ابی بکر کا نظریہ یہ تھا کہ انہوں نے خلافت کے حوالے سے حضرت علیؑ کو نظرانداز کیا اور خصوصاََ حضرت عثمان کے بارے میں وہ کہتے تھے کہ انہوں نے احکام خداوندی اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت سے روگردانی کی۔[2]
محمد بن ابی بکر مولا علی علیہ السلام کے جانثار صحابی تھے اور ہر جنگ میں مولا علیؑ کا ساتھ دیا، حتٰی کہ جب حضرت عائشہ نے مولا علیؑ سے جنگ کی تب بھی محمد بن ابی بکر نے حضرت عائشہ یعنی اپنی بہن کے خلاف جنگ کی اور مولا علیؑ کا ساتھ دیا۔
جب معاویہ نے مولا علیؑ کی بیعت سے انکار کیا اور شام میں اپنی الگ حکومت قائم کی تو جنگ صفین میں بھی محمد بن ابی بکر نے مولا علی علیہ السلام کا ساتھ دیا، یعنی ہر مشکل میں محمد بن ابی بکر مولا علیؑ کے حمایتی رہے اور مولا علیؑ نے بھی انکو جنگوں میں اہم عہدوں پر فائز کیا اور اپنی خلافت کے دوران انکو مصر کا گورنر بھی بنایا۔
🔷 محمد بن ابی بکر کی اولاد
محمد بن ابی بکر کی اولاد میں سے ایک قاسم بن محمد بن ابی بکر تھے،
"قاسم" (وفات ۹۲ یا ۱۰۸ق)، جو اپنے زمانے میں مدینے کے فقیہ اور بڑے علماء میں سے تھے۔[3]
قاسم خود بھی امام سجادؑ اور امام باقرؑ کے خواص اور اصحاب میں سے تھے۔[4]
قاسم نے مسلمانوں کے پہلے خلیفہ حضرت ابوبکر کے بیٹے عبدالرحمٰن کی بیٹی اسما سے شادی کی اور ان سے ایک بیٹی پیدا ہوئی جن کا نام فاطمہ یا قریبہ اور کنیت ام فروہ تھی۔
🔘 نتیجہ
قاسم بن محمد بن ابی بکر چونکہ امام سجاد علیہ السلام کے خاص اصحاب میں سے تھے اور قاسم کے والد محمد بن ابی بکر مولا علی علیہ السلام کے جانثار صحابیوں میں سے تھے اور محمد بن ابی بکر کی والدہ اسما بنت عمیس جناب جعفر طیارؓ اور مولا علی علیہ السلام کی زوجہ رہیں تھیں۔ اس لئے جناب ام فروہؓ کے عقائد اہلبیت علیہم السلام کے مطابق تھے۔
اسی وجہ سے امام سجاد علیہ السلام نے قاسم سے انکی بیٹی ام فروہؓ کا رشتہ امام باقر علیہ السلام کے لئے طلب کیا، جسکو قاسم نے قبول کیا۔
1 285
انجام دے اور نبی کریمؐ خاموش رہیں اور نہ ٹوکیں تو یہ عمل تقریر رسولؐ کہلائے گا اور اس شخص کے عمل کو کم ازکم جائز شمار کیا جائے گا۔ ورنہ بہت ممکن ہے کہ یہ عمل مستحب بھی ہو۔ لیکن اس کے لیے دیگر احادیث سے تائید حاصل کرنی ضروری ہوگی۔ لیکن شیعوں کے ہاں جس طرح نبیؐ کی خاموشی کسی عمل کے جائز ہونے پر دلالت کرتی ہے اسی طرح ہمارے 12 ائمہ علیہم السلام کے سامنے بھی کوئی عمل انجام دیا جائے اور وہ خاموش رہیں تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ کم ازکم یہ عمل جائز ہے۔ اور خود بی بی معظمہؑ سے کسی حرام عمل کے انجام پانے کا تصور کرنا بھی محال ہے۔
جو حضرات یہ سمجھتے ہیں کہ بدن سے خوان نکالنا حرام ہے لیکن حجامے کے ذریعے خون نکالنے کو جائز بلکہ سنت رسولؐ قرار دیتے ہیں۔ جبکہ دونوں عمل سے خون ہی نکل رہا ہوتا ہے۔ یہ اور بات ہے کہ اگر شیعہ حضرات دس محرم کو چھری کے ماتم کے بجائے امام حسین علیہ السلام کے نام پر حجامے کے ذریعے خون نکالیں تو پھر اہلسنت کے مولوی حجامے کو بھی حرام قرار دے دیں گے۔
ہاں یہ ایک حقیقت ہے کہ ہر چیز میں افراط و تفریط غلط ہے۔ شیعہ حضرات کو چاہیے کہ خونی ماتم اپنے مجتہد یا مفتی کے فتویٰ کے مطابق کریں اور اس قدر سختی سے نہ ہو کہ جان چلی جائے یا ہڈی یا اہم اعضائے بدن کو شدید نقصان پہنچے۔
آخری کا بات کا جواب یہ ہے کہ شیعہ حقیقتاً امام زین العابدین علیہ السلام کی طرح غم و گریہ کرنے سے عاجز ہیں۔ ہم پورا سال غم نہیں کر سکتے۔ ہم اس معاشرے کے ہاتھوں مجبور ہیں کہ ہمیں اپنے عزیزوں کے گھروں میں سالگرہ اور شادی وغیرہ کی تقریبات میں جانا پڑتا ہے۔ ہم روز کھانا یا پانی دیکھ کر نہیں رو سکتے۔ ہم امام زین العابدین علیہ السلام والی عزاداری کا عشر و عشیر بھی نہیں بجا لا سکتے۔ ہم عاجز بندے ہیں۔ صرف اپنی طاقت کے مطابق عمل کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔
آخری بات یہ ہے کہ انصاف کے ساتھ اور تحقیق کر کے بیان کیا جائے کہ کیا واقعہ کربلا کے بعد بنی امیہ اور بنی عباس نے ہمارے ائمہ علیہم السلام کو کُھل کر عزاداری کرنے دی؟ کیا ظالیمن نے آج تک مظلوموں کو یہ موقع دیا ہے کہ وہ ظالمین کے خلاف جلوس برپا کریں۔ آج بھی ہمیں لڑ جھگڑ کر عزاداری کرنے کا حق حاصل کرنا پڑ رہا ہے۔ طالبان نے عزاداری بند کرنے کی کتنی کوششیں کیں کتنے مومنین و عزادار اس عزاداری میں شہید ہوچکے ہیں؟ اور حکومت ہمیں تحفظ دینے میں آج تک ناکام ہے، بس ان کے پاس ایک ہی حل بچا ہے کہ وہ پورے جلوس کے راستے کو کنٹینر لگا کر مکمل بند کر دیتے ہیں اور موبائل کی سم اور انٹرنیٹ بھی بند کر دیتے ہیں۔ اور اس میں سارا قصور عزاداری کے مخالفین کا ہے ورنہ ایک وقت ایسا بھی تھا کہ ایک روڈ پر جلوس ہوتا تھا اور ایک روڈ پر گاڑیاں چل رہی ہوتی تھیں اور دکانیں تک کھلی ہوئی ہوتی تھیں۔
🔘 یہ بندۂ عاجز کا مختصر جواب تھا، اور اگر ضرورت پڑی تو تفصیل سے روایات بھی پیش کر دی جائیں گی۔ لیکن وہ روایات شیعہ کتب سے ہوں گی، صحاح ستّہ سے نہیں۔ اہلسنت کی احادیث کی چھ کتب اہلسنت کے لیے حجت ہیں، شیعوں کے لیے شیعوں کی کتب اربعہ اور دیگر شیعہ کتب حجت ہیں۔ اور اہلسنت کا شیعوں سے اہلسنت ہی کی کتب سے ماتم کا حوالہ مانگنا مناظرے کے اُصول کے خلاف ہے۔ کیونکہ اگر کوئی شیعہ یہ کہے کہ اہلسنت کی نماز شیعہ احادیث کے مطابق باطل ہے تو اہلسنت کا جواب یہی ہوگا کہ نماز ابو حنیفہ کے فتویٰ کے مطابق درست ہے، یہاں آپ کی احادیث ہمارے لیے حجت نہیں ہیں۔ تو اسی طرح اگر کوئی اہلسنت ہماری عزاداری کے کسی بھی عمل پر اعتراض کرنا چاہے تو اسے پہلے یہ سوچ لینا چاہئے کہ اہلسنت کی چھ احادیث کی کتب ہمارے لیے حجت نہیں ہیں بلکہ ہمارے لیے ہماری احادیث اور ہمارے مجتہدین و فقہاء کے فتاویٰ حجت ہیں۔ جب شیعہ فقہاء کے نزدیک یہ تمام اعمال احادیث کی روشنی میں جائز بلکہ مستحب اور اجر و ثواب کا باعث ہیں تو پھر آپ کو فکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ یہ بھی واضح رہے کہ اہلسنت کے ہاں پانچ سے دس سال میں مفتی تیار ہو جاتا ہے، جبکہ ہمارے ہاں بیس سے تیس سال میں فقیہ بنتا ہے اور ہمارا فقیہ اہلسنت کے فقیہ سے کئی درجہ افضل ہوتا ہے، کیونکہ وہ ہر فتوی از سر نو قرآن و احادیث کے مطالعے کے بعد دیتا ہے، جبکہ اہلسنت کا مفتی ابو حنیفہ اور امام یوسف کے فتاویٰ کے فتاویٰ کا بیان کر کے خود کو فقیہ اور مفتی مان رہا ہوتا ہے۔ یعنی مفتی ہو کر فتویٰ دینے کے بجائے ایک عالم دین کی طرح فتویٰ بیان کر رہا ہوتا ہے۔ ہاں جہاں ابو حنیفہ اور امام یوسف کا فتویٰ موجود نہ ہو وہاں سے اس کا فتویٰ دینے کا کام شروع ہوتا ہے۔ والسلام۔
حق اور باطل کو جان کر جیو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
■ مزید پوسٹس۔۔۔
🔷 سوال منجانب نواصب 1
https://t.me/islamwitheman/7201
🔷 سوال منجانب نواصب 2
https://t.me/islamwitheman/7202
🔷 سوال منجانب نواصب 3
https://t.me/islamwitheman/7203
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 285
سورہ حج آیت نمبر 32 میں ہے کہ: ذَٰلِک وَمَن یعَظِّمْ شَعَائِرَ اللَّهِ فَإِنَّهَا مِن تَقْوَی الْقُلُوبِ۔
ترجمہ: بات یہ ہے کہ جو شعائر اللہ کا احترام کرتا ہے تو یہ دلوں کا تقوی ہے۔
اور مفسرین نے شعائر اللہ کا معنیٰ یہ کیا ہے کہ جو چیزیں اطاعت الہی کے لیے علامات قرار پائیں۔ جیسے صفا، مروہ اور قربانی کا اونٹ وغیرہ۔ تو اب مفسرین قرآن کے مطابق جو چیزیں بھی اطاعت الہی کی علامات یا نشانیاں قرار پائیں وہ شعائر اللہ ہیں۔ تو علم، ذوالجناح اور تابوت وغیرہ بھی اطاعت الہی کی ہی علامات ہیں نہ دین سے دُوری کی علامات۔ ان کو دیکھ کر دین بچانے والے امام حسین علیہ السلام کی یاد تازہ ہوتی ہے اور دین کے لیے قربانی دینے کا جذبہ بیدار ہوتا ہے۔
میرا شبیہ ذوالجناح پر اعتراض کرنے والے سے ایک سوال یہ ہے کہ اگر کوئی شخص خانۂ کعبہ اور مسجد نبوی کی تصویر کو پھاڑ کر کچرے میں پھینکے تو آپ اس شخص کو ڈانٹیں گے یا نہیں؟ اور اگر کوئی شخص خانۂ کعبہ اور مسجد نبوی کی تصویر کو چومے اور اپنے گھر میں فریم کرکے لگائے تو کیا آپ اس شخص کی تعریف کریں گے یا نہیںَ؟ کیا اس شخص پر شبیہ کی تعظیم کرنے کا حکم نہیں لگے گا؟
اگر آپ کے مطابق خانۂ کعبہ اور مسجد نبوی کی شبیہ و تصویر کا احترام قابلِ تعریف عمل ہے تو ذوالجناح بھی تو شبیہ ہے، اس کے لیے احترام کیوں منع ہے؟ کوئی خاص وجہ؟
جواب (۲،۳،۴)۔ بقیہ سوالات کے جوابات یہ ہیں کہ اعتراض کرنے والے نے یہ اعتراض کیا کہ امام زین العابدین علیہ السلام نے واقعہ کربلا کے بعد 1 بار بھی 10 محرم کو ماتم کیا؟ نیز 1 بار بھی 10 محرم کو چھریاں ماریں۔ اور اعتراض کرنے والے کے نزدیک چونکہ یہ طے تھا کہ جواب میں منع ہی آئے گا کہ امام زین العابدین علیہ السلام نے تو ایسا نہیں کیا اسی لیے اس نے نتیجتاً یہ بھی کہہ دیا کہ آپ کس کے طریقے پہ چل کر ایسا کرتے ہیں؟ کیا شیعوں کو حضرت امام زین العابدین علیہ السلام سے بھی زیادہ غم ہے شہادتِ حضرت امام حسین علیہ السلام کا؟
اس اعتراض کا جواب یہ ہے کہ امام زین العابدین علیہ السلام امامِ معصوم تھے اور شیعوں کے عقیدے میں معصوم کی یاداشت میں کبھی بھول چوک واقع نہیں ہوتی جبکہ ہم ایک عام انسان ہیں اور ہم میں بھول چوک کا مادہ موجود ہے، ہم شیعہ حضرات تو فقط سوا دو مہینے غم منا کر پھر اپنی دنیا میں گم ہوجاتے ہیں۔ جبکہ ہمارے چوتھے امام واقعہ کربلا کے بعد 35 سال تک روزانہ ہی روتے رہتے تھے، جب بھی کھانا یا پانی آتا اس قدر روتے کہ کھانا آنسوؤں سے تر ہوجاتا۔ اور جب آپ پر اعتراض کیا گیا کہ آپ کب تک روئیں گے تو حضرتؑ نے فرمایا کہ اے شخص یعقوبؑ کے تو بارہ بیٹے تھے ان میں سے ایک گم ہوگیا تھا تو یعقوبؑ ان کی جدائی میں اس قدر روئے کہ آنکھیں سفید ہوگئیں تھیں، حالانکہ یوسفؑ زندہ تھے، اے شخص میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ ستّرہ اشخاص اہلبیتؑ کہ جن کا روئے زمین پر نظیر نہیں ایک ساعت میں قتل کر دیئے گئے اور ان کے سر نیزوں پر نصب کر کے شہر بہ شہر پھرائے گئے۔ نیز امام زین العابدین علیہ السلام روتے روتے غش کھا جاتے تھے ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ واقعہ کربلا کے بعد تا عمر گوسفند نہیں کھایا۔ اور نہ ہی کسی خوشی کے پروگرام میں شریک ہوئے۔
یہ بھی واضح رہے کہ شیعوں کے 12 ائمہ علیھم السلام ہیں، اور دیگر ائمہ سے بھی ماتم کے حوالے سے کثیر احادیث وارد ہوئی ہیں، کوفے میں جب بی بی زینب سلام اللہ علیھا کی نظر امام حسین علیہ السلام کے سر بریدہ پر پڑی تو انہوں نے غم کے مارے اپنا سر مبارک چوب عماری سے اس زور سے مارا کہ سر سے خون جاری ہو گیا تھا۔ (بحار جلد 10۔ ناسخ التواریخ جلد 6۔ نفس المہموم وغیرہ)
اور اس کے بعد آپ نے کوفے کے مجمع سے خطاب کیا اور یہ بیبی معظمہؑ کسی تعارف کی محتاج نہیں ہیں پھر بھی اعتراض کرنے والے کے لیے بیان کر دیا جائے کہ یہ حضرت علی مرتضٰی علیہ السلام کی بڑی بیٹی ہیں اور جب ان بیبی معظمہؑ نے کوفے میں خطبہ دیا تو اس خطبے کے بعد امام زین العابدین علیہ السلام نے ان سے مختصر خطاب کیا جس میں سے یہ بات بھی تھی کہ ۔۔۔ انت بحمد اللہ عالمۃ غیر معلمۃ فھمۃ غیر مفھّمۃ۔۔۔ (یعنی ۔۔۔آپ بحمد اللہ بغیر پڑھائے ہوئی عالمہ اور بغیر سمجھائے ہوئے سمجھ دار ہیں)
بیبی معظمہؑ کے اس طرح سر سے خون نکالنے پر نہ تو امام زین العابدینؑ نے کچھ کہا بلکہ خود امام زین العابدینؑ نے آپؑ کی شان میں آپ کو عالمہ غیر معلّمہ کا خطاب دیا، جبکہ اس خطاب دینے سے پہلے بیبی معظمہؑ سر سے خون نکال چکی تھیں۔
اعتراض کرنے والے کو میری اس بات کو سمجھنے کے لیے اپنے کسی عالم کی جانب رجوع کرنا چاہیے اور تقریر رسولؐ کے متعلق دریافت کرنا چاہئے کہ تقریر رسولؐ کیا ہوتا ہے۔ خیر مختصراً بیان کر دوں کہ نبیؐ کسی فعل کو خود انجام دیں یا کسی شخص کو انجام دینے کا کہیں تو یہ حدیث کہلاتی ہے لیکن ایک تیسری قسم کی حدیث بھی ہوتی ہے کہ اگر نبیؐ کے سامنے کوئی شخص کسی عمل کو
1 285
🔷 سوال منجانب نواصب 3 🔷
پوچھنا یہ تھا کہ امام زین العابدین جنہوں نے واقعہ کربلا اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔ واقعہ کربلا کے بعد تقریباً 40 سال زندہ رہے۔ اس طرح 40 مرتبہ آپ کی زندگی میں دس محرم کا دن آیا تھا۔ امام زین العابدین جو امامِ حسین رضی اللہ تعالٰی عنہ کے بیٹے تھے۔
کیا آپ نے اپنی زندگی میں ایک بار بھی دس محرم کو گھوڑا نکالا؟
کیا آپ نے اپنی زندگی میں ایک بار بھی دس محرم کو ماتم کیا؟
کیا آپ نے اپنی زندگی میں ایک بار بھی دس محرم کو اپنے آپ کو چھریاں ماریں؟
اگر امام زین العابدین نے ایسا کبھی نہیں کیا تو میرا سوال یہ ہے کہ آج کل جو لوگ محرم میں ایسا کرتے ہیں وہ کون ہیں، کس کے طریقے پہ چل کر ایسا کرتے ہیں؟ کیا اِن لوگوں کو امام زین العابدین سے بھی زیادہ غم ہے شہادت امامِ حسین رضی اللہ تعالٰی عنہ کا؟
حق اور باطل کو جان کے جیو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
■ جواب منجانب شیعیان علیؑ
مندرجہ بالا سوالات اہلسنت کی جانب سے شیعہ حضرات سے کیے جا رہے ہیں۔ اور مجھ سے ایک بندۂ مومن نے کہا کہ ان سوالات کے جوابات دیے جائیں تاکہ شیعہ بچے ان سوالات کے جوابات نہ ملنے پر گمراہ نہ ہوں۔ ان سوالات کے جوابات مختصراً پیشِ خدمت ہیں:
جواب(۱)۔ پہلے سوال کا جواب یہ ہے کہ حضرت امام زین العابدین علیہ السلام بن امام حسین علیہ السلام، واقعۂ کربلا کے بعد تقریباً 35 سال زندہ رہے، نہ کہ 40 سال لہذا عمر مبارک درست بیان کی جائے۔ ہاں یہ صحیح ہے کہ انہوں نے ایک بار بھی شبیہہ ذوالجناح نہیں نکالا۔ مگر آپ سے ایک سوال یہ ہے کہ آپ کو کس نے کہا کہ شیعہ حضرات شبیہ ذوالجناح اپنے ائمہ علیھم السلام کی احادیث پر ایک مستحب پر عمل کرنے کے لئے نکالتے ہیں؟ میں ایسے کسی شیعہ کو نہیں جانتا کہ جو یہ سمجھتا ہو کہ ہم شبیہ ذوالجناح ائمہ علیھم السلام کی فرمائش پر نکالتے ہیں اور یہ فعل احادیث میں تاکید کے ساتھ وارد ہوا ہو اور امام (ع) بھی شبیہ ذوالجناح نکالتے تھے۔ یہ شبیہ ذوالجناح فقط عقیدت و محبت اور کربلا والوں کی یاد میں اور غم کو تازہ کرنے کے لیے نکالی جاتی ہے۔ اور جلوس میں ہر وہ چیز جس سے واقعۂ کربلا اور امام حسین علیہ السلام کی یاد تازہ ہوتی ہو اور غم کا اظہار ہوتا ہو، اس کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ کیونکہ شیعہ حضرات کے پاس کثیر روایاتِ اہلبیت علیھم السلام ہیں جن میں غم منانے کا کہا گیا ہے لیکن طریقہ کار بیان نہیں کیا گیا ہے۔ اور طریقہ کار شاید اس لیے بیان نہیں کیا گیا کہ غم کا اظہار فطری ہے اس کو پابند نہیں کیا جاسکتا کہ غم اس طرح کرو یا اس طرح سینے پر ہاتھ مارو۔ اور غم منانے کے طریقے بھی ہر قوم و ملت کے مختلف ہیں، لہذا یہ غم منانے کا طریقہ عوام الناس پر چھوڑ دیا گیا کہ وہ شریعت کے دائرے میں رہتے ہوئے غم منا سکتے ہیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کو آپ سے نواسہ رسولؐ کا غم منانا مطلوب ہے، طریقۂ کار سے کوئی غرض نہیں۔
شبیہ ذوالجناح پر اعتراض کرنے والے حضرات سے گزارش ہے کہ وہ دوسروں کے گھروں پر نگاہ کرنے سے پہلے اپنے گھر پر بھی نگاہ دوڑائیں کہ کیا اسی قسم کا عمل آپ کے ہاں نہیں ہو رہا؟ عید میلاد النبیؐ پر کہ اہلسنت حضرات اپنی گلیوں کے اطراف میں داخلی راستوں پر کھجور کی بڑی بڑی شاخیں لگاتے ہیں، سبز گنبد کی شبیہ میز پر رکھتے ہیں اور لوگ اس کو احتراماً چومتے ہیں نیز نبی اکرمؐ کی اونٹی کی شبیہ تک جلوس میں لے کر آ جاتے ہیں اور اب نئے زمانے میں تو پیدائش کی خوشی میں کیک بھی کاٹا جا رہا ہے۔ مزید یہ کہ پورے سال اہلسنت کی عوام اور علماء نعلین مبارک کی شبیہ یا تصویر کا احترام کرتے نظر آتے ہیں، ان کو عقیدت سے چومتے ہیں، جبکہ یہ یقینی امر بھی نہیں ہے کہ نبی کریمؐ کی نعلین کی شکل اسی جیسی تھی بھی یا نہیں؟ یہ فقط ایک گمان کی حد تک ہے، نیز کیا نبی اکرمؐ کے زمانے کے دیگر مسلمانوں اور کافروں کی نعلین نبی اکرمؐ کی نعلین مبارک سے مختلف تھی؟ اہلسنت تو نعلین مبارک کی شبیہ کو چومیں اور اپنے عمامے پر بھی لگائیں اور عید میلاد النبیؐ کے جلوس میں نبی اکرمؐ کی اونٹنی کی شبیہ کو لائیں، لیکن شبیہ ذوالجںاح کے جلوس میں لانے اور اس کو عقیدت سے چومنے پر اعتراض!!
اب سوال یہ ہے کہ ان بیان کردہ چیزوں میں سے کونسی چیز احادیث میں بیان ہوئی ہے کہ عید میلاد النبیؐ میں یہ امور انجام دو؟ کیا اہلسنت یہ کام عقیدت و احترام میں نہیں کر رہے؟ کیا یہ کام بدعت شمار ہونگے؟ اور خود عید میلاد النبیؐ کا دن منانے کا ذکر بھی اہلسنت کی روایات میں بالخصوص وارد نہیں ہوا، پھر بھی مناتے ہیں۔
بات یہ ہے کہ آپ جس سے محبت کرتے ہیں تو اگر اس کے ہاں کوئی خوشی ہو تو آپ کو بھی خوشی ہونی چاہئے اور اگر اس کے ہاں کوئی غم ہو تو آپ کو بھی ہونا چاہئے، یہ کوئی محبت نہیں ہے کہ آپ اس سے جا کر پوچھیں کہ آپ کے گھر آج خوشی ہے کیا میں بھی خوشی منا سکتا ہوں؟ یا آپ کے گھر میں آج غم ہے تو کیا میں بھی غم منا سکتا ہوں؟
1 285
🔷 سوال منجانب نواصب 2 🔷
پوچھنا یہ تھا کہ امام زین العابدین جنہوں نے واقعہ کربلا اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔ واقعہ کربلا کے بعد تقریباً 40 سال زندہ رہے۔ اس طرح 40 مرتبہ آپ کی زندگی میں دس محرم کا دن آیا تھا۔ امام زین العابدین جو امامِ حسین رضی اللہ تعالٰی عنہ کے بیٹے تھے۔
کیا آپ نے اپنی زندگی میں ایک بار بھی دس محرم کو گھوڑا نکالا؟
کیا آپ نے اپنی زندگی میں ایک بار بھی دس محرم کو ماتم کیا؟
کیا آپ نے اپنی زندگی میں ایک بار بھی دس محرم کو اپنے آپ کو چھریاں ماریں؟
اگر امام زین العابدین نے ایسا کبھی نہیں کیا تو میرا سوال یہ ہے کہ آج کل جو لوگ محرم میں ایسا کرتے ہیں وہ کون ہیں، کس کے طریقے پہ چل کر ایسا کرتے ہیں؟ کیا اِن لوگوں کو امام زین العابدین سے بھی زیادہ غم ہے شہادت امامِ حسین رضی اللہ تعالٰی عنہ کا؟
حق اور باطل کو جان کے جیو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
■ جواب منجانب شیعیان علیؑ
ان تمام سوالوں کا جواب دینے کے لئے پہلے ایک مقدمے کی ضرورت ہے، وہ یہ کہ عزاداری اعلامیہ طور پر کب شروع ہوئی؟ اور اس سے پہلے اعلامیہ طور پر عزاداری کیوں نہیں ہوتی تھی؟
سب سے پہلے آپ تمام مومنین کے اذھان میں یہ بات ہونی چاہیے کہ آج جو عزادرری کی روش ہمارے پاس موجود ہے، اور جو سینہ زنی ہم کرتے ہیں یہ سینہ زنی ائمہ معصومین علیہم السلام کے دور میں نہیں تھی بلکہ آل بویہ حکومت جو شیعوں کی پہلی حکومت تھی اور یہ حکومت بنو عباس کی حکومت کے بعد آئی تھی اور آل بویہ نے ہی سن 352 ھجری میں یہ عزاداری اعلامیہ طور پر شروع کروائی اور اس دور میں امام زمانہ علیہ السلام غیبت کبریٰ میں چلے گئے تھے۔
اب آتے ہیں کہ اس سے پہلے کیوں عزاداری اعلامیہ طور پر نہیں ہوتی تھی؟
تو اس کا جواب واضح ہے کہ جس دور میں آئمہ معصومین علیہم السلام اور ان کے شیعوں کو پہلے بنو امیہ نے پھر بنو عباس نے ظلم کا نشانہ بنایا ہوا ہو، جس دور میں شیعہ چھپ چھپ کر زندگی بسر کرتے رہے، جس زمانے میں مؤمنین کا معصومین علیہم السلام سے ملنا مشکل تھا، جس دور میں لوگ عام زندگی میں بھی بنو امیہ اور بنو عباس سے ڈر ڈر کے گزارتے تھے، یہانتک کہ معصومین علیہم السلام کے روضوں کو نشانہ بنا کر کئی مرتبہ انکی قبروں کو پامال کیا گیا، تو آپ بتائیں ایسے حالات میں اعلامیہ طور پر عزادری کیسے کرتے؟
رہی بات کہ معصومین علیہم السلام عزادری کرتے تھے یا نہیں؟ اس کا بھی جواب دیتا چلوں کہ امام سجادؑ پورے 35 سال امام حسین علیہ السلام پر گریہ کرتے رہے ہیں اور ان کے بعد دوسرے ائمہ بھی محرم الحرام کے دنوں میں اپنے گھروں میں عزاداری کا ماحول بناتے تھے اور بیبی زینب سلام اللہ علیہا نے یہ عزاداری امانت کے طور پر اپنے شیعوں کے حوالے کی مگر کیونکہ اُس زمانے میں حالات خراب تھے اور بنو امیہ کھلم کھلا شیعوں کو ٹارگٹ گلنگ بناتے تھے تو اس لئے یہ عزادری اُس زمانے میں اعلامیہ طور پر نہیں ہوتی تھی۔ اعلامیہ طور پر عزادری کا آغاز 352 ھجری میں آل بویہ کے دور حکومت میں شروع ہوا۔
ان کی عزادری کی روش کچھ اس طرح تھی کہ عاشور کے دن انہوں نے عام تعطیل کا حکم جاری کیا تھا اور اسی دن کو رستے میں نکل کر آتے اور جلوس کی صورت میں امام حسین علیہ السلام پر گریہ کرتے تھے۔ اور یہ سلسلہ ہر سال عاشور کے دن ہوتا تھا۔ آج جو یہ سینہ زنی ہم کرتے ہیں، یہ اسی آل بویہ کے زمانے سے شروع ہوئی ہے۔
آل بویہ کی کئی سالوں تک حکومت قائم رہی اور آج تک اس کے اثرات پائے جاتے ہیں جس کے اثرات میں سے سب سے مھم اثر یہ عزادری ہے، پھر یہ عزادری کا سلسلہ کبھی نہیں رکا۔
اور اس روش میں قمہ زنی کا اضافہ صفویان کے دور حکومت میں ہوا اور جیسے جیسے حکومتیں تبدیل ہوتی گئیں کچھ رسومات کا اضافہ کیا گیا۔
جیسے شبیہ ذوالجناح جو برصغیر (پاکستان ھندستان، بنگلادیش) میں امام حسین علیہ السلام کے غم میں نکالی جاتی ہے، اور اسی طرح ہر ملک میں الگ طور پر شبیه نکالی جاتی ہیں.
آخر میں نتیجے کے طور پر ایک نقطہ آپ کے سامنے بیان کرتا چلوں، عزاداری ہم شیعوں کا ہر دور میں خاص طور پر 352 ھجری کے بعد شعار رہا ہے، اور دشمن نے یہ شعار بجھانے کی بہت کوشش کی ہے، مختلف صورتوں میں کبھی حملہ کر کے، کبھی منگھڑت سوالات کر کے، کبھی دوسری صورتوں میں۔
پر ان لوگوں کے ذھن میں یہ بات ہونی چاہیے کہ عزادری نہ کبھی رکی تھی، اور نہ کبھی رکے گی۔ عزادری ہماری شہ رگ حیات ہے۔ آج کا دور نہ بنو امیہ کا ہے اور نہ بنو عباس کا، آج کا دور حسینیوں کا دور ہے، عزادار جب اپنے سینے پر ہاتھ مارتا ہے تو یہ ہاتھ آج کے یزیدیوں کے منہ پر جا کر لگتا ہے، اسی لئے تو امام خمینی (رح) فرماتے ہیں آج اسلام اِس محرم اور صفر کی وجہ سے زندہ ہے کیونکہ ان دو مہینوں میں عزاداران امام حسین علیہ السلام کی وجہ سے دشمنوں کی نیندیں حرام ہو جاتی ہیں۔
العبد الحقیر: عاجز حسین عرفانی
https://t.me/islamwitheman/7201
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 285
🔷 سوال منجانب نواصب 1 🔷
پوچھنا یہ تھا کہ امام زین العابدین جنہوں نے واقعہ کربلا اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔ واقعہ کربلا کے بعد تقریباً 40 سال زندہ رہے۔ اس طرح 40 مرتبہ آپ کی زندگی میں دس محرم کا دن آیا تھا۔ امام زین العابدین جو امامِ حسین رضی اللہ تعالٰی عنہ کے بیٹے تھے۔
کیا آپ نے اپنی زندگی میں ایک بار بھی دس محرم کو گھوڑا نکالا؟
کیا آپ نے اپنی زندگی میں ایک بار بھی دس محرم کو ماتم کیا؟
کیا آپ نے اپنی زندگی میں ایک بار بھی دس محرم کو اپنے آپ کو چھریاں ماریں؟
اگر امام زین العابدین نے ایسا کبھی نہیں کیا تو میرا سوال یہ ہے کہ آج کل جو لوگ محرم میں ایسا کرتے ہیں وہ کون ہیں، کس کے طریقے پہ چل کر ایسا کرتے ہیں؟ کیا اِن لوگوں کو امام زین العابدین سے بھی زیادہ غم ہے شہادت امامِ حسین رضی اللہ تعالٰی عنہ کا؟
حق اور باطل کو جان کے جیو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
■ جواب منجانب شیعیان علیؑ
● امام زین العابدین علیہ السلام کا ہر سال بلکہ تمام تر زندگی غمِ حسینؑ میں رونا اور ماتم کرنا شیعہ و سنی دونوں کتب میں موجود ہے۔
(وسائل الشیعہ، عاملی۔ کشف المحجوب، علی ہجویری۔ کتاب التذکرہ امام ثعالبی)
شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی تحفہ اثناعشریہ صفحہ سات پہ لکھتے ہیں کہ سب سے پہلے امام حسین (علیہ السلام) پہ ماتم و نوحہ کی بنیاد مختار نے رکھی۔
یاد رہے کہ مختارؓ کا زمانہ دورِ امامتِ امام زین العابدین علیہ السلام میں گزرا ہے اور المعارف ابن قتیبہ کے مطابق آخری صحابی ابوالطفیل عامر بن واثلہؓ مختارؓ کے علمدار تھے۔ مطلب کہ اہلبیت علیھم السلام و صحابہؓ کی موجودگی میں امام حسین علیہ السلام کا ماتم و نوحہ شروع ہو رہا ہے۔ جب انہوں نے منع نہیں کیا تو کوئی اور کون ہوتا ہے اعتراض کرنے والا۔ جبکہ سیدہ زینبؑ کا امام حسین علیہ السلام کی لاش پہ منہ پر ماتم کرنا البدایہ و النھایہ جلد٨ صفحہ٢٧٢ ابن کثیر میں ثابت ہے۔ جب اہلبیت علیھم السلام نے خود ماتم کیا تو اہل تسنن کو کونسی چیز روکتی ہے ماتم سے؟
کہیں وہ چیز محبتِ یزید لع تو نہیں!
● رہا گھوڑا نکالنا تو گھوڑا نکالنا سنت صحابہؓ ہے(سنن نسائی)
روایاتِ امامیہ کے مطابق امام سجاد علیہ السلام کی زبان سے امام حسین علیہ السلام کی سواری کی روایات مقتل کی کتب میں موجود ہیں۔ اس لیے یہ سوال ہی بے بنیاد ہے ورنہ اہلسنت کو خلافتِ خلفاءِ ثلاثہ، تراویح، عمل کلوخ، غسل قدمین، ہاتھ باندھ کر نماز جیسی چیزوں سے ہاتھ دھونا پڑ جائے گا کیونکہ یہ چیزیں نہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ثابت ہیں اور نہ ہی امام زین العابدینؑ سے۔
● چھریاں مارنے کا مقصد غمِ امام حسین علیہ السلام میں خون نکالنا ہے۔ جب کہ امام سجاد علیہ السلام خون کے آنسو روتے رہے۔ (وسائل الشیعہ)
بس یہ سوال ہی نہیں بنتا۔ مقصد نماز پڑھنا ہے، چاہے شلوار قمیص میں پڑھو یا پینٹ شرٹ میں۔ اب یہ کہنا شروع کر دیا جائے کہ کس صحابی نے پینٹ شرٹ میں نماز پڑھی؟ عجیب سوال ہوگا۔
باقی بحکمِ الٰہی آسمان کا شہادتِ امام حسین علیہ السلام پہ خون کی بارش برسانا اہلسنت کتاب تحریر الشہادتین شرح سرالشہادتین صفحہ٩٦ طبع لکھنوء میں موجود ہے۔
🔘 تفصیل سے تحریر لکھی جائے تو قارئین پہ زحمت تصور ہوگی ورنہ "کل خطاب لا یستحق الجواب"
باطل کو تلوارِ ذوالفقار کے وار سے للکار کے جیو
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 285
🌺 اہلسنت کے اعتراض اور جواب (3) 🌺
بقیہ آخری حصہ ۔۔۔
🔘 پہلے اور دوسرے سوال کا جواب
اسلئے بند دوبارہ شروع نہیں کروایا کہ جو پروانے اپنی شمع رسالت ﷺ کا جنازہ چھوڑ کر تین دن واپس نہیں آۓ وہ کیا یہ بات مانتے؟؟ جنہوں نے نبی ﷺ کا لحاظ نہیں کیا وہ علی علیہ السّلام کا کیا کرتے؟؟
🔘 تیسرے سوال کا جواب
پہلی بات تو یہ کہ اس وقت تک واقعہ کربلا ھوا ھی کب تھا جاھل؟؟
دوسری بات یہ کہ پہلا امام بارگاہ "بیت الحزن" کے نام سے شمع رسالت کے پروانوں نے "رسول اللہ ﷺ کی بیٹی کو بنا کر دیا تھا جنت البقیع میں" ۔۔۔
کیونکہ اس وقت بھی تمہارے باپ دادا کو رسول اللہ ﷺ کی بیٹی کا رونا پسند نہیں تھا۔
جہاں تک بات ھے رونے کی ۔۔۔ تو کیا بھول گئے کہ رونے کیلئے جگہ کی قید نہیں ھوتی؟؟
"کسی کو غار میں رونا آگیا تھا ۔۔ یاد نہیں کیا ؟"
🔘 چوتھے سوال کا جواب
مُتعہ کو جاری تو تب کرتے جب اُنہوں نے وہ بند کیا ھو؟
اُن کے پیروکار تو "کسی کی بہن کے مُتعہ کرنے کی خبر کے بعد بند کرنے کے فیصلے کو اور فیصلہ کرنے والے کو مانتے ھی نہیں۔"
اسلیۓ مولا علی علیہ السّلام کے پیروکاروں میں وہ بمطابق حکم قرآن و رسول ﷺ جاری تھا اور ھے۔
🔘 پانچویں سوال کا جواب
باغ فِدک کو اسلئے واپس نہیں لیا مولا علی علیہ السّلام نے کیونکہ اس کی وارث مخدومہؑ عالیہ سیّدہ فاطمہؑ سلام اللہ علیہا تب دنیا سے پردہ کرچُکی تھیں ۔۔
اور ظاھر ھے جب دعویدار ھی نہ ھو تو کس طرح واپس لیتے؟
■ یہ تو تھے تمہارے سوالوں کے جواب ۔۔۔ اب میرے کچھ سوال ھیں تمہارے انہی سوالوں کے جواب میں ۔۔
اگر واقعی حق پر ھو تو دو اسکا جواب ۔۔
میں بھی تو دیکھوں کہ "شیعہ نے تو چیلنج کا جواب دے دیا۔" اب شیعہ کے چیلنج کا جواب کون دے گا ۔۔۔ !!
🔹 سوال نمبر ایک
رسوُل اللہ ﷺ کے جنازے میں "بڑے ستارے" کیوں نہیں تھے؟
🔹 سوال نمبر دو
"الصّلوٰۃ خیراً من النوم" رسول اللہ ﷺ کے دور میں جزو اذان نہیں تھا نہ ھی خلیفہؑ اؤّل کے دور میں تو پھر اس کو اذان کا جزو بنانے کی بدعت کیوں کی گئی؟؟
🔹 سوال نمبر تین
نماز تراویح نہ عہد رسالت ﷺ میں پڑھی گئی اور نہ ھی خلیفہ اوّل کے دور میں ۔۔ تو پھر یہ بدعت کیوں اپنائی گئی؟؟
🔹 سوال نمبر چار
قرآن نے کہا "نبی کی بیبیبیبیو گھروں میں قرار پکڑو"
تو پھر نبی کی جو بی بی گھر سے باھر نکلی اور صرف باھر نہیں نکلی بلکہ لشکر کی سربراہ بھی بن کر میدان میں آئی اس کے بارے میں کیا کہتے ھو؟؟
اور اگر وہ ٹھیک تھا تو پھر آج عورت کی حکمرانی پر فتوے کیوں لگاتے ھو؟
🔹 سوال نمبر پانچ
مُتعہ ۔۔۔ کو قرآن کی آیت اور رسوُل اللہ ﷺ کی حدیث نے حلال کیا تھا۔ خلیفہؑ اوّل کے دور میں بھی حلال ھی تھا۔ پھر قرآن و حدیث کیخلاف اسکو بند کرکے زناؑ سے بچنے کا راستہ بند کرنے کا اختیار کس نے دیا تھا بند کرنے والے کو؟
کیونکہ اسکے علاوہ اور کوئی طریقہ ھے ھی نہیں ایک شادی شدہ مرد کیلئے جو گھر سے دور ھو کہ وہ حرام کاری سے بچ سکے۔
🔹 سوال نمبر چھ
حضرت عمر بن عبدالعزیز (رح) نے باغ فِدک "اولاد فاطمہؑ سلام اللہ علیہا" کو یہ کہہ کر واپس کر دیا تھا کہ ۔۔۔۔۔ "یہ تمہارا حق تھا اور پہلے اس معاملے میں فیصلہ کرنے والے سے اجتہادی غلطی ھوئی۔"
اب یہ بتاؤ کہ ان دونوں میں سے کون صحیح تھا؟؟
خلیفہؑ اوّل یا پھر عمر بن عبدالعزیز؟؟
اب مجھے دیکھنا ھے کہ ان سوالوں کے کیا جواب دیتے ھو ۔۔ منتظر ھوں۔
(حجّت تمام ھوئی ۔۔۔ الحمد للہ)
https://t.me/islamwitheman/7199
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 285
🌺 اہلسنت کے اعتراض اور جواب (2) 🌺
بقیہ دوسرا حصہ ۔۔۔
کچھ اندازہ ھوا؟؟
کتنا مجبور کر دیا گیا تھا میرے مولا علی علیہ السّلام؟
کُچھ سمجھ میں آیا کہ کیوں جو بدعتیں دین میں داخل ھوئیں اُنکو بند نہیں کیا میرے مولا علی علیہ السّلام نے؟؟
ان چھ انبیاؑ میں سے چار اولوالعزم پیغمبر ھیں ۔۔ جو جو وجوھات ان آیات میں ان سب کی اپنی اپنی قوم سے علیحدگی کی بنی وہ تمام وجوھات اکیلے میرے مولا علی علیہ السّلام کو روکے ھوۓ تھیں۔
■ اب ایک اور سرکار جناب امیر علیہ السّلام کا خطبہ سُنو ۔۔
اور یاد رکھنا ۔۔ کہ کیوں سرکار نے تلوار نہیں اُٹھائی اور بہت کُچھ برداشت کیا ۔۔
چاھے وہ گلے میں رسّی ڈال کر حرامیوں کا میرے مولا کو کھینچنا ھو، چاھے وہ دروازے کو آگ لگانا ھو، چاھے وہ میری مخدومہؑ کونین سلام اللہ علیہا کا پہلو شکستہ کرنا ھو، چاھے وہ فدک کا حق غصب کرنا ھو؟ چاھے وہ خلافت کا حق چھیننا ھو۔ اس سب پر خاموشی کی سب سے بڑی وجہ ۔۔۔
(1) حوالہؑ کتاب استیعاب، عبدالبر،جلد ا، صفحہ۱۸۳۔ طبع حیدر آباد۔
حضرت علیؑ فرماتے ہیں کہ میں نے لوگوں سے یہ کہہ دیا تھا کہ دیکھو رسول اللہ کا انتقال ہو چکا ہے اور خلافت کے بارے میں مجھ سے کوئی نزاع نہ کرے کیوں کہ ہم ہی ا س کے وارث ہیں لیکن قوم نے میرے کہنے کی پرواہ نہیں کی۔ "خدا کی قسم اگر دین میں تفرقہ پڑ جانے اور عہد کفر کے پلٹ آنے کا اندیشہ نہ ہوتا تومیں ان کی ساری کاروائیاں پلٹ دیتا۔"
۔
(2) حوالہؑ کتاب معالم التنزیل، صفحہ۴۱۲، صفحہ۴۱۴۔
کتاب احیاءالعلوم؟ جلد۴، صفحہ ۸۸۔
کتاب سیرت محمدیہ؟ صفحہ۳۵۶۔
کتاب تفسیر کبیر جلد۴ صفحہ۶۸۶۔
کتاب تاریخ خمیس جلد۲ صفحہ ۱۱۳۹۔
کتاب سیرت حلبیہ صفحہ۳۵۶۔
کتاب شواہد النبوت اور فتح الباری۔
میں ہے کہ آنحضرت نے حضرت عائشہ سے فرمایا کہ ۔۔۔۔
"اے عائشہ ”لوَ لاَ حدَ ثَانِ قَومُک بالکَفرِ لَفَعلتُ“
ترجمہ:
اگر تیری قوم تازی کفر سے مسلمان نہ ہوئی ہوتی تو میں اس کے ساتھ وہ کرتا جو کرنا چاہیے تھا۔
اور اب مجھے یہ بتانے کی ضرورت تو ھے نہیں کہ "جنگ بدر سے خیبر و خندق تک" پورا عرب گواہ ھے کہ کس کی تلوار سینوں کو چیرتی رھی اور گردنوں کو کاٹتی رھی؟؟
بڑے بڑے "بہادروں" کو پہاڑوں پر بکری کی طرح اچھلتے دیکھا ھے۔
بڑے بڑے "بہادروں" کو جو ھنٹر ھاتھ میں لیے گھوما کرتے تھے تاریخ نے کوئی ایک نام بھی محفوظ نہیں کیا جو انکے ھاتھوں قتل ھوا ھو کسی بھی جنگ میں؟؟
(یہ چیلنج بھی ھے کہ دکھاؤ اگر کوئی نام مل جاۓ؟)
مکہ و مدینہ کے بسنے والے نہ تو عمرو بن عبدود کا مارے جانا بھولے تھے اور نہ ھی خیبر کا دروازہ اکھاڑے جانا ۔۔
جنگ خندق میں عمرو بن عبدود نے جب گستاخی کی اور مولا علی علیہ السّلام کے چہرہ مبارک پر لعاب دھن پھینکا تو آپ علیہ السّلام اُس کی چھاتی سے نیچے اُتر آۓ جس پر وہ جو بہُت زیادہ "غصّیلہ" تھا وہ بے اختیار بولا بھی تھا ۔۔۔" یا رسول اللہ یہ دیکھیے علی علیہ السّلام نے کیا کیا؟ اتنا اچھا موقع گنوا دیا ۔۔ اس پر تو قابو پالینا ھی بڑا کام تھا۔۔"
قتل عمرو بن عبدود کے بعد جب مولا علیہ السّلام سے پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا ۔۔
اگر اس وقت میں اسے قتل کردیتا تو میرا ذاتی غصّہ شامل ھوجاتا۔
(جبکہ میں تو "یدّ اللہ" ھوں اسلئے لڑتا ھی صرف اللہ اور اسکے رسول اور اسکے دین کیلئے ھوں)
ھاں یہ ضرور پتا چل گیا تھا کہ "یہ محمّد وآل محمّد ﷺ اپنا حق چھن جانے پر نہیں بولتے لیکن اگر اسلام و دین پر کچھ بن جاۓ تو پھر یہ اُٹھ کھڑے ھوتے ھیں۔"
تو بس اُنہوں نے طے کرلیا کہ ۔۔۔
"کہ دین کی بنیادوں کو فی الحال چھیڑو نہیں اور ان کو چھوڑو نہیں"
چنانچہ جن "چڑی ماروں" کی ٹانگیں کانپتی تھیں مولا علی علیہ السّلام کو آتے دیکھ کر ۔۔
" انکی ھمّت اتنی بڑھ گئی کہ گلے میں رسّی ڈال کر کھینچتے رھے۔"
(3) حوالہ کتاب تاریخ اعثم کوفی ۸۳ طبع بمبئی۔
میں حضرت علیؑ کی وہ تقریر موجود ہے جو آپ نے خلافت عثمان کے موقع پر فرمائی ہے۔ ہم اس کا ترجمہ اعثم کوفی اردو طبع دہلی کے صفحہ۱۱۳ سے نقل کرتے ہیں۔۔۔
"خدا ئے جلیل کی قسم ......
اگر محمد رسول اللہ ﷺ ہم سے عہد نہ لے لیتے اور ہم کو اس امر سے مطلع نہ کر چکے ہوتے جو ہونے والا تھا تو میں اپنا حق کبھی نہ چھوڑتا اور اپنا حق کسی شخص کو نہ لینے دیتا۔ اپنے حق کے حاصل کرنے کے لیے اس قدر کوشش بلیغ کرتا کہ حصول مطلب سے پہلے معرض ہلاکت میں پڑنے کا بھی خیال نہ کرتا۔"
اب کچھ سمجھ میں آئی؟
یہ وہ جواب ھیں جو مولا علی علیہ السّلام نے از خود ارشاد فرماۓ اور مجھے پورا یقین ھے کہ آپ میں سے اکثر نے یہ پڑھنا تو دور کی بات سُنے بھی نہیں ھونگے!!
■ اب باری ھے میرے تبصرے کی ۔۔۔ تو اب دل پر ھاتھ رکھو اور جواب سُنو ۔۔۔
ابوجہل کی جاھل اولادو ۔۔ !!
🔘 پہلے اور دوسرے سوال کا جواب:
https://t.me/islamwitheman/7198
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 285
🌺 اہلسنت کے اعتراض اور انکے جواب (1) 🌺
جو پوسٹ میں سوال پوچھے گئے ھیں وہ ترتیب وار یہ ھیں۔۔
جب حضرت علی علیہ السّلام (ظاھری طور پر) خلیفہ بنے تو۔۔
1= شیعہ کا کلمہ اور اذان جاری کیوں نہیں کروائی؟
2= نماز تراویح کیوں ختم نہیں کروائی؟
3= مسجدیں بنوائیں، امام باڑے کیوں نہیں بنواۓ؟
4= مُتعہ کو جاری کیوں نہیں کیا؟
5= باغ فِدک کو بیبی فاطمہؑ (سلام اللہ علیہا) اور حسنین کریمین (علیہم السّلام) کو واپس کیوں نہیں کیا؟
یہ کُل 5 سوال ھیں۔
اور آئیے آج آپکو پتا چلے گا کہ ان سوالوں کے جواب کسی مولوی یا مجتہد نے نہیں بلکہ خود مولا علی علیہ السّلام نے دیئے ھیں۔ کیونکہ یہ تمام سوال نئے نہیں ھیں 1436 سال سے نسل اُمیّہ و مروان و بنوُ عباس یہی سوال کرتی آئی ھے۔
جناب باب العلم علیہ السّلام سے جب یہی سوال پوچھے گئے تو آپ علیہ السّلام منبر کوفہ پر تشریف لے گئے اور ایک بلیغ خطبہ ارشاد فرمایا۔ اسکے اقتباس درج کر رھا ھوں۔
(حوالہؑ کتاب الاحتجاج ۔۔ جلد نمبر 1)
(حوالہؑ کتاب نہج الاسرار ۔۔ جلد نمبر 1)
(حوالہؑ کتاب فضائل امیرالمومنین، ابن عقده کوفی، 333)
(حوالہؑ علل الشرائع شیخ صدوق،381)
(حوالہؑ کتاب کفایه الاثر، خزاز قمی، 400)
(حوالہؑ کتاب احتجاج طبرسی، 548)
(حوالہؑ کتاب مناقب آل ابیطالب۔ ابن شهر آشوب، 588)
(حوالہؑ کتاب الروضه فی فضائل امیر المومنین۔ شاذان ابن جبرئیل قمی، 660)
■ خطبہؑ بعنوان۔۔
معاویہ سے جنگ کرنے اور ابوبکر و عمر سے جنگ نہ کرنے کا سبب:
جنگ نہروان (خوارجین سے جنگ) سے فارغ ھونے کے بعد سرکار جناب امیرالمُومنین علیہ السّلام ایک محفل میں کچھ ارشاد فرما رھے تھے کہ "اشعث" نے سوال کردیا۔
جسکے جواب میں جناب امیرالمومنین علیہ السّلام نے فرمایا:
"اے اشعث تو نے اپنی بات تو کہہ دی اب اسکا جواب بھی سُن اور اسکو یاد رکھ
اور حُجّت کو اپنا شُعار بنا لے کہ۔۔
میرا یہ اقتدار (خلافت ظاھری) چھ پیغمبروں کی طرح ھے۔۔
1 - نوُح علیہ السّلام
2 - لوُط علیہ السّلام
3 - ابراھیم علیہ السّلام
4 - مُوسیٰ علیہ السّلام
5 - ھاروُن علیہ السّلام
6 - مُحمّد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
نوُح علیہ السّلام کی تاسئ کی جیسا انہوں نے کہا:
"فَدَعَا رَبَّهُ أَنِّي مَغْلُوبٌ فَانتَصِرْ " (سورۃ القمر، آیت 10)
ترجمہ:
اے میرے ربّ میں مغلوُب ھو گیا میری نصُرت فرما"
اب اگر تمُ یہ کہو کہ اُنہوں نے بلا وجہ ایسا کہا تو تم نے کُفر کیا اور اگر کہو کہ اُنکی اُمت نے اُنکے ساتھ حالات ایسے بنا دیئے تھے تو پھر تمہارے نبی ﷺ کا وصی (علی علیہ السّلام) نوح سے زیادہ مجبوُر تھا۔
لوُط علیہ السّلام کی تاسئ کی جیسا کہ اُنہوں نے کہا:
"لو أن لي بكم قوة أو آوي إلى ركن شديد" (سورۃ ھوُد، آیت 80)
ترجمہ:
"کاش تم سے بچنے کی مجھ میں قوّت ھوتی یا میں کسی زبردست پناہ میں جاکر بیٹھ جاتا"
اب اگر تم یہ کہو کہ اُنہوں نے بلا کسی خوف کے یہ کہا تو تم نے کُفر کیا اور اگر تم یہ کہو کہ اُنکی قوم نے انکے ساتھ یہ حال کیا کہ وہ تنہا رہ گئے تو تمہارے نبی ﷺ کا یہ وصی اُس سے زیادہ مجبور تھا۔
ابراھیم علیہ السّلام کی تاسئ کی جیسا کہ اُنہوں نے کہا:
"وَأَعْتَزِلُکُمْ وَمَا تَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّهِ" ۔۔ سورۃ مریم، آیت 49)
ترجمہ:
میں تم سے اور جن جن کو تم اللہ کے سوا پُکارتے ھو علیحدہ ھوتا ھوں۔
اب اگر تم کہو کہ ابراھیم علیہ السّلام بنا کسی وجہ کے اپنی قوم سے الگ ھوگئے تو تم نے کفر کیا اور اگر کہو کہ انکی قوم نے انکو ایسا مجبور کیا تو تمہارے نبی ﷺ کا وصی اس سے زیادہ مجبور ھے۔
موُسیٰ علیہ السّلام کی تاسئ کی جیسا کہ اُنہوں نے کہا؛
"فَفَرَرْتُ مِنکُمْ لَمَّا خِفْتُکُم" (سورۃ الشعراؑ، آیت 21)
ترجمہ:
میں تم سے ڈرا تو میں خود ھی تم سے بھاگ گیا تھا۔
اب اگر تم کہو کہ اُنہوں نے بلا کسی خوف کے قوم کو چھوڑا تو تم نے کُفر کیا اور اگر کہو کہ واقعی قوم اُنکی جان کے درپے ھوگئی تھی اسلئے وہ وھاں سے چلے گئے تو تمہارے نبی ﷺ کا وصی اُن سے زیادہ مجبور تھا۔
ھاروُن علیہ السّلام کی تاسئ کی جیسا کہ اُنہوں نے کہا:
"یابْنَ أُمَّ إِنَّ الْقَوْمَ اسْتَضْعَفُونِی وَکَادُواْ یَقْتُلُونَنِی" (سورۃ الاعراف، آیت 151)
ترجمہ:
"اے میرے ماں جاۓ تحقیق کہ قوم نے مجھے (تیرے بعد) ضعیف سمجھا اور قریب تھا کہ مجھے قتل کردیتے۔"
اب اگر تم کہو کہ انہوں نے بلاوجہ ایسا کہا اور گئو سالہ کی پرستش سے بنا کسی وجہ کے نہیں روکا تو تم نے کُفر کیا اور اگر کہو کہ اُن کو مجبور اور کمزور کردیا گیا تھا تو تمہارے نبی ﷺ کا وصی اس سے زیادہ مجبور تھا۔
مُحمّد ﷺ کی تاسئ کی جب انہوں نے ھجرت کی اور جاتے ھوۓ مجھے اپنے بستر پر سُلا کر گئے۔
اب اگر تُم کہو کہ اُنہوں نے بلا کسی وجہ کے ھجرت کی تو تُم نے کُفر کیا اور اگر کہو کہ اُنکو مجبور کردیا گیا تھا تو تمہارے نبی ﷺ کا یہ وصی اُن سے زیادہ مجبور تھا۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 285
🔷 حضرت عباس علمدارؑ کی شادی اور اولاد 🔷
🔹 حضرت عباس علمدارؑ کی شادی
جناب عباس علیہ السلام لبابہ بنت عبید اللہ بن عباس بن عبدالمطلب کے ساتھ رشتۂ ازدواج میں منسلک ہوئے(1) لبابہ بنت عبیداللہ اپنے زمانے کی پاکیزہ اور بزرگ خواتیں میں شمار ہوتی تھیں اور قرآن کے سائے اوراہلبیتؑ کی محبت و اطاعت سے مالامال ماحول میں پرورش پا چکی تھیں۔ لبابہ بنت عبیداللہ کی والدہ اُمّ حكیم جویری بنت خالد بن قرظ كنانی تھیں۔(2) حضرت عباسؑ کی شادی 40 سے 45ہجری میں انجام پائی تھی اور آپ شادی کے وقت 20 سالہ نوجوان تھے۔ جس کا ثمرہ دو بیٹے "فضل اور عبید اللہ" تھے۔(3)
ایک روایت کے مطابق حضرت عباس کی پانچ اولادیں تھیں: چار بیٹے: "عبیدالله، فضل، حسن، قاسم" اور ایک بیٹی۔(4)
بہرحال آپ کی اولاد کے حوالے سے مؤرخین میں اختلاف ہے بعض منابع نے منقول ہے کہ آپ کے تین بیٹے تھے: عبیدا لله، حسن اور قاسم(5) بعض نے کہا ہے کہ آپ کے دو بیٹے عبید اللہ اور محمد تھے۔(6)
علامہ نجم الحسن کراروی مرحوم اسی بارے میں لکھتے ہیں کہ حضرت عباسؑ نے گیارہ سال کی عمر میں معرکہ صفین میں حصہ لیا، تقریبا چودہ سال کے سن میں بابا کے سایہ سے محروم ہوئے، دن گزرے، راتیں گزریں، بنام خدا پورے طور پر جوان ہوئے، ماں کے دل میں شادی کی تمنا تو تھی ہی لہذا انھوں نے امام حسین علیہ السلام سے کہا: سلطان دو عالم! کیا اچھا ہوتا اگر میرے نور نظر کا گھر آباد کر دیا جاتا، حضرت امام حسین علیہ السلام نے شادی کے انتظامات شروع کر دیئے اور جناب عبید اللہ بن عباس بن عبد المطلب سے ان کی دختر نیک اختر لبابہ خاتون کی خواستگاری کی، منظوری ہوئی اور عقد ہو گیا۔
جناب مولانا سید اولاد حیدر صاحب فوق بلگرامی نے آپ کی زوجہ کا اسم گرامی ذکیہ تحریر کیا ہے لیکن یہ درست نہیں ہے اس لئے کہ مؤرخین کا اس پر اتفاق ہے کہ آپ کی زوجہ محترمہ کا نام نامی لبابہ تھا۔
علامہ ابن قتیبہ عبیداللہ ابن عباس بن علی کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔ ’’امہ لبابہ بنت عبیداللہ بن عباس‘‘عبیداللہ کی ماں کا نام لبابہ تھا۔(7)
🔹 حضرت عباسؑ کی تعداد اولاد
حضرت عباس بن علی السلام کی اولاد میں سخت اختلاف ہے علامہ ابن قتیبہ لکھتے ہیں کہ حضرت عباس علیہ السلام کے ایک ہی فرزند عبیداللہ تھے۔(8)
لسان الملک تحریر فرماتے ہیں کہ آپؑ کے دو فرزند تھے ایک فضل اور دوسرے عبیداللہ۔(9)
جناب خان بہادر مولوی سید اولاد حیدر صاحب فوق بلگرامی رقمطراز ہیں کہ آپ کے دو صاحبزادے تھے اور ایک صاحبزادی۔ صاحبزادوں میں ایک کا نام فضل اور دوسرے کا عبیداللہ تھا۔(10)
🔹 حضرت عباسؑ کی نسل
ان کی نسل کے بارے میں علامہ عبد الرزاق موسوی لکھتے ہیں کہ تمام علمائے انساب کا اس پر اتفاق ہے کہ آپ کی نسل صرف عبیداللہ ابن عباس سے بڑھی ہے۔ آپ کا شمار بہت بڑے علماء میں تھا آپ کمال اور جمال میں بہت امتیاز رکھتے تھے۔ آپ نے ۱۵۵ھ میں وفات پائی ہے۔
آپ کے بیٹے حسن بن عبیداللہ تھے جناب حسن نے ۶۷ سال کی عمر میں انتقال کیا۔
آپ کے پانچ بیٹے تھے ۔۱: عبیداللہ ۲: عباس ۳: حمزہ ۴: ابراہیم ۵: فضل۔ یہ سب کے سب عالم اجل، فاضل اور ادیب دہر تھے۔
۱: عبید اللہ ابن حسن ابن عبید اللہ ابن عباس بن علی، یہ امیر مکہ و مدینہ اور قاضی الحرمین تھے۔
۲: عباس بن حسن بن عبیداللہ ابن عباس ’’کان بلیغا فصیحا شاعرا‘‘ یہ زبردست بلاغت اور فصاحت کے مالک تھے۔ شاعری میں بھی ملکہ تامہ رکھتے تھے۔ ابونصر بخاری کا بیان ہے کہ ان سے زبردست کوئی ہاشمی زبان کا مالک دیکھا ہی نہیں گیا۔ علویین انہیں اشعر اولاد ابی طالب کہتے تھے۔
۳: حمزہ بن حسن بن عبیداللہ بن عباس۔ ان کی کنیت ابوالقاسم تھی۔ یہ حضرت علی علیہ السلام سے بہت مشابہ تھے۔
۴: ابراہیم جروقہ ابن حسن ابن عبیداللہ بن عباس۔ یہ زبردست فقیہ، ادیب اور زاہد تھے۔
۵: فضل ابن حسن ابن عبیداللہ ابن عباس۔ یہ زبردست فصاحت کے مالک اور دین میں بہت پختہ تھے اور میدان شجاعت کے شہسوار تھے۔ لوگوں کی نظر میں آپ کی بے انتہا عزت تھی۔(11)
حضرت عباس علیہ السلام کی نسل کافی پھیلی ہے آپ کی اولاد سے کثیر بزرگان کا ذکر کتب میں موجود ہے۔
📚 حوالہ جات
1. البخاری
2. عبدالرزاق المقرم، العباسؑ، نجف، مطبعة الحیدریة، بی تا، ص 195۔
3. ابن صوفی نسابه، وہی ماخذ، ص436۔ السید عبد المجید الحائری، ذخیرة الدارین، نجف، مطبعة المرتضویة، 1345 ق، ج 1، ص 145 ؛ وسیلة الدارین، ص 278۔
4. عبدالرزاق المقرم، العباسؑ، نجف، مطبعة الحیدریة، بی تا، ص 195۔
5. بطل العلقمی، ج 3، ص 429۔
6. سید محسن امین العاملی، اعیان الشیعة، بیروت، دار التعارف للمطبوعات، 1406 ق، ج 1، ص 610۔
7۔ المعارف ص۹۶طبع مصر ۱۳۵۳ھ کبریت احمر۔
8۔ المعارف ص۹۶مصری
9۔ ناسخ التواریخ ج۶ص۲۸۹ طبع بمبئی ۔و شجرہ طوبی ج۱ص۱۲۶۔
10۔ ذبح عظیم ص ۲۱۰ طبع دہلی۔
11۔ عمدۃ الطالب ص۳۵۳طبع لکھنو تاریخ بغداد قمر بنی ہاشم ص۱۳۶۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 285
🔷 شہزادہ علی اصغرؑ 🔷
خطیب آل محمد سید اظہر حسن زیدی مرحوم فرماتے تھے شب عاشور امام حسین علیہ السلام خیام میں پہنچے تو دیکھا کہ جناب ربابؑ علی اصغرؑ کے جھولے سے لپٹے رو رہی ہیں۔
امام علیہ السلام نے پوچھا کیا بچہ ختم ہو گیا رباب؟
کہا کہ نہیں مولا۔
فرمایا کہ پھر کیوں رو رہی ہو رباب؟
کہا کہ جناب زینب اپنے عون و محمد، لیلیٰ اپنے علی اکبر، قاسم کی ماں قاسم کو قربانی کیلئے تیار کر رہی ہیں۔
آقا کاش میرا بچہ بھی تھوڑا بڑا ہوتا تو میں بھی اسے آپ پر قربان کر کے جناب سیدہ فاطمہ الزہراءؑ کے سامنے سرخرو ہوتی۔
دوسری بات یہ کہ آپ ہی نے فرمایا تھا کہ میری شہادت کے بعد ہمارے ہاتھ باندھے جائیں گے تو میرے علی اصغرؑ کو کون سنبھالے گا؟ میرے بغیر تو یونہی مر جائے گا میرا لعل۔
امام علیہ السلام نے فرمایا کہ رباب! اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو، میں حسین تجھ سے وعدہ کرتا ہوں کہ تمہارے اصغر کی قربانی کو لیلیٰ کے اکبر سے بڑھا نہ دوں تو کہنا۔
جناب ربابؑ نے علی اصغرؑ کو نیا کرتہ پہنایا، بچے کی کمر سے رومال باندھ کر سپاہی بنا کر بھیجا اور کہا:
دادی کے پاس پہنچ کے شکایت نہ کرنا کہ رباب نے منہ دھو کر نہیں بھیجا کہہ دینا پانی نہیں تھا۔
اور سنو میرے لعل! تمہارے دادا علی مرتضیٰؑ ساقی کوثر ہیں، تمہارے دادا جب کوثر پلائیں تو نہیں پینا کیونکہ تمہارے بابا حسینؑ پیاسے ہیں، ان سے پہلے کوثر نہیں پینا۔
میرے لعل! مجھے پتہ ہے کہ تمہیں تیر لگے گا، تیر جب لگے تو رونا نہیں، چھ ماہ کے ہو نا اسلیے شاید رونا آ جائے، میرے لعل تیر کھا کے رونا نہیں، دشمن کو رلا کر مسکرا دینا۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 285
فرسان الہیجاء، ج1 اور ذخیرۃ الدارین میں لکھا ہے کہ جناب سعیدؒ نے آخری وقت سیدالشہداءؑ کو مخاطب کر کے عرض کیا: فرزند رسولؐ! کیا میں نے عہد پورا کر دیا ہے؟
امامؑ نے فرمایا: ہاں! تم مجھ سے پہلے جنت میں جاؤ گے اس کے بعد آپ کی روح قفس عنصری سے جنت الفردوس کی طرف پرواز کر گئی۔
🔘 جناب سیدالشہداءؑ علیہ افضل التحیۃ والثناء نے ایسے زہرہ گداز حالات میں نماز پڑھ کر اور وہ بھی جماعت کے ساتھ اس کی اہمیت و عظمت پر وہ مہر تصدیق ثبت فرمائی ہے جسے طلوع آفتاب قیامت تک کوئی نہیں توڑ سکتا نیز جناب سرکار سیدالشہداءؑ نے جس انوکھے انداز سے نماز خدا ادا فرمائی ہے اس منظر کی نظیر چشم فلک نے کبھی نہ دیکھی ہوگی اور نہ قیامت تک دیکھ سکے گی۔ کربلا والوں نے دنیا والوں کو دکھا دیا کہ کس طرح
؎ نماز عشق ادا ہوتی ہے تلواروں کے سائے میں
دعا ہے کہ خداوندعالم امام حسین علیہ السلام کے تمام نام لیواؤں کو آپؑ کے اس اسوہ حسنہ سے درس عمل حاصل کرنے کی توفیق رفیق عطا فرمائے آمین بجاہ النبی و آلہ الطاہرینؑ۔
(سعادۃ الدارین فی مقتل الحسینؑ)
https://t.me/islamwitheman/7192
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 285
🔷 کربلا میں نماز ظہر کا منظر 🔷
آخری جنگ مغلوبہ قیامت خیز ہنگامہ زوال سے قریبا ایک گھنٹہ پہلے شروع ہوا جس نے زوال تک طول کھینچا۔ جب ملاعین (آخری جنگ مغلوبہ) سے واپس لوٹے تو اس وقت امامؑ کی جماعت جو پہلے ہی قلیل تھی اب قلیل تر ہو چکی تھی مگر مخالف فوج میں باوجود نقصان عظیم کے بوجہ غیرمعمولی کثرت کے کوئی خاص کمی محسوس نہیں ہوتی تھی۔
اس وقت جناب ابوثمامہ الصیداوی نے خدمت امامؑ میں عرض کیا: میں آپؑ پر قربان ہوں! یہ ملاعین بالکل قریب پہنچ گئے ہیں۔ خدا کی قسم! جب تک میں زندہ ہوں یہ آپؑ تک نہیں پہنچ سکتے میری خواہش ہے کہ جب خدا کی بارگاہ میں حاضر ہوں تو یہ آخری نماز جس کا وقت قریب ہے آپؑ کے ساتھ پڑھیں۔
ابوثمامہ کی یہ درخواست سن کر امامؑ نے آسمان کی طرف نگاہ بلند کی پھر فرمایا: تو نے (ایسے کٹھن حالات میں) نماز کو یاد کیا ہے خدا تیرا حشرونشر نماز گزاروں کے ساتھ کرے۔ ہاں! یہ نماز ظہر کا اول وقت ہے۔
پھر امامؑ عالی مقام نے حکم دیا فوج جفاکار سے کہو کہ اتنی دیر جنگ روک دیں کہ ہم نماز خدا پڑھ لیں۔ چنانچہ جب حسب الحکم قوم اشقیاء کے سامنے یہ درخواست پیش کی گئی تو حصین بن نمیر نے کہا: تمہاری یہ نماز قبول نہیں۔ اس کا یہ گستاخانہ کلام بےہنگام سن کر جناب حبیب بن مظاہر نے فرمایا: اے شراب خوار! تیرا گمان فاسد ہے کہ آلؑ رسولؐ اور ان کے انصار کی نماز نا مقبول اور تیری مقبول ہے۔
حصین بن تمیم ( نمیر ) اور جناب حبیب بن مظاہرؒ کے اس تلخ سوال و جواب سے ایک ہنگامہ برپا ہوگیا۔ جناب حبیبؒ کا جواب باصواب سن کر حصین نے ان پر حملہ کر دیا۔ جناب حبیبؒ نے آگے بڑھ کر اس کے گھوڑے کے منہ پر تلوار لگائی جس سے گھوڑا بدکا اور وہ ملعون نیچے آرہا۔ اس کے ہمراہیوں نے دوڑ کر اسے بچا لیا۔ اس کے بعد جناب حبیب نے یہ رجز پڑھنا شروع کیا۔
؎ انا حبیب و ابی مظہر
فارس ھیجاء و حرب تسعر
انتم اعد عدۃ و اکثر
و نحن اوفیٰ منکم واصبر
و نحن اعلیٰ حجۃ و اظہر
حقا واتقیٰ منکم و اعذر
اس کے بعد اس سن رسیدہ اور ضعیف العمر مگر قوی العزم والایمان بزرگوار نے میدان کارزار میں اپنی شجاعت کے جوہر دکھانا شروع کئے جو سامنے آتا اسے مولی گاجر کی طرح کاٹ کے رکھ دیتے۔ اسی طرح بنا بر مشہور پینسٹھ (65) کوفیوں کو واصل جہنم کیا۔ بالآخر ایک تمیمی مرد نے تیر مارا جس سے جناب حبیب گر پڑے۔ اٹھنا چاہتے مگر حصین بن تمیم (نمیر) نے جناب حبیب کے سر پر تلواریں مار مار کر نڈھال کردیا۔ جناب حبیب پھر منہ کے بل گر پڑے اور تمیمی ملعون نے گھوڑے سے اتر کر ان کا سر مبارک قلم کر دیا اور بروایتے بدیل بن صریم نے سر قطع کیا۔ (بحار، ج10۔ ناسخ ج6۔ قمقام، مقتل الحسینؑ)
جناب سیدالشہداءؑ پر جناب حبیبؒ کی شہادت بہت شاق گزری فرمایا: "احتسب نفسی وحماۃ اصحابی" میں اپنے نفس اور اپنے حامی اصحاب کی جزاء کا بارگاہ ایزدی سے متمنی ہوں۔ پھر کئی بار کلمہ استرجاع زبان پر جاری کیا۔ (ناسخ ج1۔ لواعج الاشجان)
بعض کتب میں لکھا ہے کہ آنجنابؑ نے جناب حبیبؒ کی لاش پر یہ بھی فرمایا: "للہ درک یا حبیب کنت فاضلا تختم القرآن فی لیلۃ واحدۃ"
اے حبیب! خدا تجھے جزائے خیر دے تو مرد فاضل تھا اور ایک رات میں پورا قرآن ختم کیا کرتا تھا۔ (نفس المھموم۔ ناسخ، ج6)
بہرکیف جب قوم اشقیاء جفاکار نے وارث رسولؐ کو نماز پڑھنے کی مہلت نہ دی اور نابکار جنگ موقوف کرنے پر راضی نہ ہوئے تو امامؑ نے بطور نماز خوف نماز ظہر ادا کرنے کا تہیہ کر لیا۔
جناب زہیربن القینؒ اور جناب سعید بن عبداللہ الحنفیؒ کو حکم دیا کہ تم دونوں میرے آگے کھڑے ہو جاؤ۔ چنانچہ یہ دونوں بزرگوار اور بروایتے صرف جناب سعید بن عبداللہ کو حکم دیا تھا۔ جو کہ ایمان و ایقان کے پیکر تھے امامؑ کے آگے سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح کھڑے ہوگئے۔ جدھر سے تیر یا تلوار یا نیزہ کا کوئی وار ہوتا تو یہ آگے بڑھ کر اپنے سینہ پر لے لیتے تھے۔ چنانچہ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ادھر امامؑ نے نماز کا سلام پڑھا اور ادھر جناب سعید بن عبداللہ جو زخموں سے چھلنی ہو چکے تھے زخموں کی تاب نہ لا کر زمین پر گر گئے۔
راویان اخبار کا بیان ہے کہ جناب سعیدؒ کے بدن پر تلواروں اور نیزوں کے زخموں کے علاوہ تیرہ تیر جسم مبارک میں پیوست تھے۔ گرتے ہوئے کہا: بارالٰہا! ان لوگوں پر اس طرح لعنت کر جس طرح قوم عاد و ثمود پر کی تھی اور جناب رسولؐ خدا کو میرا سلام پہنچا نیز میرے رنج والم کی ان کو اطلاع دے کیونکہ میں نے تیرے ثواب کی خاطر ذریت رسولؐ کی نصرت کی ہے۔
1 285
🔷 ذرا سوچئے! لمحہ فکریہ 🔷
آپ نے کبھی سوچا کہ امام حسن علیہ السلام اور امام حسین علیہ السلام کی پانچ چھ سال کی عمر تک تو واقعات ملتے ہیں مگر اس کے بعد تاریخ میں ان کا ذکر صرف تب ہوا جب ان کی شہادت ہوئی۔
کئی نامور اصحاب حضرت سلمان فارسی کہ جس کے بارے میں نبی کریم نے فرمایا کہ اگر علم ثریا ستارے پر بھی ہو اہل فارس وہاں پہنچ جائیں۔
حضرت ابوذر کہ جنہیں زمین پر سب سے سچا انسان قرار دیا۔
حضرت مقداد جن کی جنت مشتاق ہے۔
حضرت ایوب انصاری جو نبی کریم کے مدینہ میں میزبان تھے۔
حضرت جابر بن عبداللہ انصاری جو نبی کریم سے لے کر ان کی پانچویں نسل تک حیات رہے۔
حضرت عمار یاسر جن کی شان میں آیات نازل ہوئیں۔
حضرت بلال حبشی جو موذنِ رسول تھے۔
تاریخ ان کے بارے میں مکمل خاموش نظر آتی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ جیسے وفات نبی کریم ص کے بعد وہ اس دنیا سے غائب رہے اور بس شہادت یا وفات کے وقت دنیا میں کچھ دیر کے لئے آئے۔
آخر کہیں تو کچھ غلط ہوا ہے کہ ان شخصیات کا ذکر کرنا عیب سمجھا گیا۔
دوسری طرف جو افراد نبی کریم ص کی وفات سے سال دو سال قبل مسلمان ہوئے, ان کی سوانح عمری سے تاریخ بھری نظر آتی ہے۔
نبی کریم ص کی وفات کے بعد ایسا کیا ہوا کہ ان کی آل اور بہت سے وفادار اصحاب کو تاریخ نے مکمل نظرانداز کر دیا۔
کہاں کچھ غلط ہوا کہ نبی کریم ص کی وفات کے بعد ان کی آل کے کسی بھی فرد کی طبعی وفات نہ ہوئی۔
تمام قتل ہوئے اور قاتل بھی وہ جو ان کے جد کا کلمہ پڑھتے نہیں تھکتے تھے۔
آج چودہ صدیاں بعد بھی ہم جانتے ہیں کہ حسن و حسین علیہم السلام جنت کے سردار ہیں۔
ایسا کیا ہوا کہ جنت کے طلب گاروں نے سرداروں کو انتہائی اذیت کے ساتھ قتل کر دیا۔
مورخ نے آخر ان تمام ہستیوں کو اتنا غیر اہم کیسے سمجھا کہ تاریخِ اسلام میں ان کا حصہ ایک صحابی جتنا بھی نہیں رکھا۔
کربلا اچانک نہیں ہوئی۔
ایک طویل نفرت تھی جو دلوں میں پنپ رہی تھی۔ جوں جوں وقت گزرتا گیا, نفرت بڑھتی رہی اور ہر ہستی کے بعد دوسری ہستی پر پہلے سے زیادہ ظلم ہوتا نظر آیا۔
اتنی نفرت کہ اس مقدس گھرانے کی مطہرات پر ظلم کرنے سے بھی نہ چوکے۔
چھ ماہ کے بچے کا سر کاٹنا بھی ثواب سمجھا گیا حالانکہ بدترین دشمن کے چھ ماہ کے بچے سے بھی کوئی دشمنی کا بدلہ لینے کا نہیں سوچتا۔
امت نے تو آل رسول پر ظلم کیا ہی تھا مگر مورخین نے ان سے کہیں زیادہ ظلم کیا کہ جن کے فضائل تھے, انہیں چھپایا جبکہ ان کے دشمنوں کے فضائل سے کتابیں سیاہ کیں۔
24 ذوالحجہ کو واقعہ مباہلہ کی یاد منائی گٸی۔ اس واقعہ میں بنص قران پانچ ذواتِ مقدسہ میدان میں توحید کے گواہ بن کر پیش ہوئے اور قران مجید نےانہیں صداقت کی سند عطا کی۔
واقعہ مباہلہ کے کچھ مدت بعد ان پانچ ہستیوں میں بزرگ ترین ہیستی کا وصال ہوا جنازے میں کتنے کلمہ گو تھے؟؟
پھر 75 دن بعد اس گھر کا دوسرا جنازہ رات کی تاریکی میں اُٹھا اور چند مخلصین کی موجودگی میں بڑی خاموشی اور مظلومیت سے دفن کردیا گیا اور نشانِ قبر تک مٹا دیا گیا جو آج تک نہ مل سکا۔
پھر اسی گھرانے کا تیسرا جنازہ 40 ہجری میں کوفہ سے آدھی رات کے وقت اٹھا اور پشتِ کوفہ ریت کے ٹیلوں کے درمیان خاموشی سے دفن کر دیا گیا اور مدتوں قبر کا نشان نامعلوم رہا۔
پھراسی جماعت کے چوتھے فرد کا جنازہ 50 ہجری میں شہر مدینہ سےاُٹھا اور نانے کی مزار کی طرف چلا مگر کچھ لوگ تیروں سے مسلحہ راستے میں حاٸل ہوٸے کہ نواسے کو نانے کے پہلو میں دفن نہیں ہونے دیں گے آخر وہ جنازہ بقیع کے عوامی قبرستان میں دفن کر دیا گیا۔
پھر 61 ہجری میں اصحاب مباہلہ کے آخری فرد کا جنازہ اٹھایا بھی نہ جا سکا بلکہ جنازہ گھوڑوں کی ٹاپوں سے پامال کر دیا گیا۔
بحثیت مسلمان کیا ہم یہ حق نہیں رکھتے کہ کم از کم ہم مورخ اسلام سے یہ تو پوچھیں کہ جنکی صداقت کا گواہ خود اللہ ہے اور وہ توحیدِ خدا کے گواہ ہیں امت رسول نے انکے ساتھ یہ سلوک کیوں کیا۔؟
ہمارا یہ سوال امت مسلمہ پر قیامت تک قرض رہے گا اور اگر اس دنیا میں اس کا جواب نہ ملا تو میدان محشر میں عدالت خداوند تعالیٰ میں ہم یہ سوال اٹھاٸیں گے ؟؟؟؟؟
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 285
🔷 مجلس عزا کا ثواب 🔷
▪️حَدَّثَنِي نَصْرُ بْنُ الصَّبَّاحِ، قَالَ حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى، عَنْ يَحْيَى بْنِ عِمْرَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ، عَنْ زَيْدٍ الشَّحَّامِ، قَالَ:
كُنَّا عِنْدَ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ (ع) وَ نَحْنُ جَمَاعَةٌ مِنَ الْكُوفِيِّينَ، فَدَخَلَ جَعْفَرُ بْنُ عَفَّانَ عَلَى أَبِي عَبْدِ اللَّهِ (ع) فَقَرَّبَهُ وَ أَدْنَاهُ، ثُمَّ قَالَ يَا جَعْفَرُ! قَالَ لَبَّيْكَ جَعَلَنِيَ اللَّهُ فِدَاكَ، قَالَ: بَلَغَنِي أَنَّكَ تَقُولُ الشِّعْرَ فِي الْحُسَيْنِ (ع) وَ تُجِيدُ! فَقَالَ لَهُ نَعَمْ جَعَلَنِيَ اللَّهُ فِدَاكَ،
فَقَالَ قُلْ فَأَنْشَدَهُ (ع) [فَبَكَى] وَ مَنْ حَوْلَهُ حَتَّى صَارَتْ لَهُ الدُّمُوعُ عَلَى وَجْهِهِ وَ لِحْيَتِهِ،
ثُمَّ قَالَ يَا جَعْفَرُ وَ اللَّهِ لَقَدْ شَهِدَكَ مَلَائِكَةُ اللَّهِ الْمُقَرَّبُونَ هَاهُنَا يَسْمَعُونَ قَوْلَكَ فِي الْحُسَيْنِ (ع) وَ لَقَدْ بَكَوْا كَمَا بَكَيْنَا أَوْ أَكْثَرَ، وَ لَقَدْ أَوْجَبَ اللَّهُ تَعَالَى لَكَ يَا جَعْفَرُ فِي سَاعَتِهِ الْجَنَّةَ بِأَسْرِهَا وَ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ،
فَقَالَ يَا جَعْفَرُ أَ لَا أَزِيدُكَ! قَالَ نَعَمْ يَا سَيِّدِي،
قَالَ: مَا مِنْ أَحَدٍ قَالَ فِي الْحُسَيْنِ (ع) شِعْراً فَبَكَى وَ أَبْكَى بِهِ إِلَّا أَوْجَبَ اللَّهُ لَهُ الْجَنَّةَ وَ غَفَرَ لَهُ۔
▪️ترجمہ:
زید شحام سے روایت ہے کہ ہم کوفہ کے چند لوگوں کے ساتھ حضرت امام صادق علیہ السلام کی خدمت میں تھے، تبھی جعفر بن عفان بھی آپ علیہ السلام کے پاس آئے۔ آپ علیہ السلام نے انہیں اپنے قریب جگہ دی اور ان سے فرمایا: اے جعفر!
انہوں نے کہا: لبیک، خدا مجھے آپ پر قربان کرے۔
آپ علیہ السلام نے فرمایا: مجھے معلوم ہوا ہے کہ تم امام حسین علیہ السلام کے بارے میں شعر کہتے ہو اور بہت خوب کہتے ہو۔
انہوں نے کہا: جی، میں آپ پر قربان جاؤں۔
امام علیہ السلام نے فرمایا: تو کچھ شعر سناؤ۔
انہوں نے امام حسین علیہ السلام کی مصیبت کے بارے میں اشعار پڑھنا شروع کیا، تو امام علیہ السلام نے اس قدر گریہ کیا کہ اشک آپ علیہ السلام کے چہرے اور ریش مبارک پر جاری ہوگئے، اور جو لوگ امام علیہ السلام کے پاس بیٹھے تھے انھوں نے بھی گریہ کیا۔
امام علیہ السلام نے فرمایا: اے جعفر! واللہ یہاں پر خدا کے مقرب فرشتے حاضر تھے اور وہ حضرت امام حسین علیہ السلام کے بارے میں تمہارے اشعار سن رہتے تھے اور انھوں نے بھی ہماری طرح گریہ کیا بلکہ ہم سے زیادہ گریہ کیا۔ اور اسی وقت خدا نے تمہارے لیے جنت واجب قرار دی اور تمہارے گناہوں کو بخش دیا۔
اس کے بعد فرمایا: اے جعفر! کیا تمہیں کچھ اور بتاؤں؟
انہوں نے کہا: ضرور میرے آقا۔
امام علیہ السلام نے فرمایا: جو شخص امام حسین علیہ السلام کے بارے میں شعر کہے، اور اس کے ذریعہ خود روئے اور دوسروں کو رلائے تو اللہ اس کے لئے جنت واجب قرار دیتا ہے اور اسے بخش دیتا ہے۔
📚 رجال الكشي - إختيار معرفة الرجال، محقق / مصحح: طوسى، محمد بن الحسن؛ مصطفوى، حسن، ص۲۸۹، ح۵۰۸، في جعفر بن عفان الطائي۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 285
🖋 اب یہاں پہ واضح ھوا کہ ماتم کرنا نیک لوگوں کی سنت و سیرت ھے اور نہ کرنا برے لوگوں کی سنت۔
2️⃣1⃣ حضرت عثمان کی بیوی نائلہ اور بیٹیوں کا ماتم
📚حوالہ: ( تاریخ ابن کثیر ، ص ٢۴٩ )
3️⃣1⃣ روایت ہےکہ مولا علی علیہ السلام جب شہداء کی لاشوں پر گئے تو انہوں نے اپنی رانوں کو پیٹا۔
📚حوالہ: (تحفہ اثنا عشریہ ،ص ٦٣٨، تصنیف- حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی )
4️⃣1️⃣ جب اماں عائشہ نے وفات پائی۔ ماتم کا شور سن کر انصار اپنے گھروں سے نکل آئے۔جنازہ میں اتنا ہجوم تھا کہ لوگوں کا بیان ہے کہ رات کے وقت اتنا مجمع کبھی نہیں دیکھا گیا۔ بعض روایات میں ہے کہ عورتوں کا ازدہام دیکھ کر روز عید کے ہجوم کا دھوکا ہوتا تھا۔ سیدہ ام سلمہ نوحہ اور ماتم سن کر بولیں: عائشہ کے لیے جنت واجب ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سب سے پیاری بیوی تھیں۔
📚حوالہ: (سیرتِ عائشہ صفحہ ١۴٧)
5️⃣1️⃣ شہادت امام حسین علیہ السلام کے بعد ۔۔ قرہ بن قیس نے بیان کیا ہے کہ جب عورتیں مقتولین کے پاس سے گزریں تو وہ چلائیں اور انہوں نے اپنے رخساروں پر طمانچے مارے۔
📚حوالہ: (البدایہ والنہایہ، جلد ہشتم، ص ٢۴٧)
6️⃣1️⃣ عبدالمالک کہتا ہے میں نے قتل حسین علیہ السلام کی ندا کر دی۔ اس کو سن کر زنان بنی ہاشم نے اپنے اپنے گھروں میں جیسا نوحہ و ماتم قتل حسین علیہ السلام پر کیا میں نے کبھی نہ سنا تھا۔
📚حوالہ: (تاریخ طبری، جلدچہارم، حصہ اول، ص٢۴١)
7️⃣1️⃣ ورکانی کہتے ہیں جس دن امام احمد کا انتقال ہوا چار اقسام کے لوگوں میں ماتم اور نوحہ زنی کا ایک کہرام سا مچ گیا۔
📚حوالہ: (حلیۃ الاولیاء، حصہ نہم، ص۴٢)
8️⃣1️⃣ امام الحرمین کی وفات کے دن نیشاپور کے تمام بازار بند ہو گئے اور جامع مسجد کا ممبر توڑ دیا گیا۔ ان کے شاگرد جو چار سو کے قریب تھے سب نے دوات اور قلم توڑ ڈالے اور سال بھر تک ان کے ماتم میں مصروف رہے۔
📚حوالہ: (الغزالی، ص ١٩، مصنف علامہ شبلی نعمانی)
🔘 نتیجہ:
اوپر دیے گئے حوالہ جات کے بعد بھی اگر کوئی ناصبی، نواسہ رسول امام حسین علیہ السلام کے سوگ منانے، گریہ کرنے، نوحہ و مرثیہ اور ماتم کرنے کو بدعت سمجھتا ہے تو وہ ناصبی کم از کم اپنی عقل پر ماتم ضرور کرے۔
دعا گو: ذاکر مسافرہ شام ایاز حسین گھلو
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
