ISLAM WITH EMAN
Ir al canal en Telegram
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات... ایڈمن سے رابطہ کیلئے: @syedsajjadhamdani
Mostrar más1 285
Suscriptores
-324 horas
-77 días
-730 días
Archivo de publicaciones
1 284
🔷 سوال منجانب نواصب 2 🔷
پوچھنا یہ تھا کہ امام زین العابدین جنہوں نے واقعہ کربلا اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔ واقعہ کربلا کے بعد تقریباً 40 سال زندہ رہے۔ اس طرح 40 مرتبہ آپ کی زندگی میں دس محرم کا دن آیا تھا۔ امام زین العابدین جو امامِ حسین رضی اللہ تعالٰی عنہ کے بیٹے تھے۔
کیا آپ نے اپنی زندگی میں ایک بار بھی دس محرم کو گھوڑا نکالا؟
کیا آپ نے اپنی زندگی میں ایک بار بھی دس محرم کو ماتم کیا؟
کیا آپ نے اپنی زندگی میں ایک بار بھی دس محرم کو اپنے آپ کو چھریاں ماریں؟
اگر امام زین العابدین نے ایسا کبھی نہیں کیا تو میرا سوال یہ ہے کہ آج کل جو لوگ محرم میں ایسا کرتے ہیں وہ کون ہیں، کس کے طریقے پہ چل کر ایسا کرتے ہیں؟ کیا اِن لوگوں کو امام زین العابدین سے بھی زیادہ غم ہے شہادت امامِ حسین رضی اللہ تعالٰی عنہ کا؟
حق اور باطل کو جان کے جیو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
■ جواب منجانب شیعیان علیؑ
ان تمام سوالوں کا جواب دینے کے لئے پہلے ایک مقدمے کی ضرورت ہے، وہ یہ کہ عزاداری اعلامیہ طور پر کب شروع ہوئی؟ اور اس سے پہلے اعلامیہ طور پر عزاداری کیوں نہیں ہوتی تھی؟
سب سے پہلے آپ تمام مومنین کے اذھان میں یہ بات ہونی چاہیے کہ آج جو عزادرری کی روش ہمارے پاس موجود ہے، اور جو سینہ زنی ہم کرتے ہیں یہ سینہ زنی ائمہ معصومین علیہم السلام کے دور میں نہیں تھی بلکہ آل بویہ حکومت جو شیعوں کی پہلی حکومت تھی اور یہ حکومت بنو عباس کی حکومت کے بعد آئی تھی اور آل بویہ نے ہی سن 352 ھجری میں یہ عزاداری اعلامیہ طور پر شروع کروائی اور اس دور میں امام زمانہ علیہ السلام غیبت کبریٰ میں چلے گئے تھے۔
اب آتے ہیں کہ اس سے پہلے کیوں عزاداری اعلامیہ طور پر نہیں ہوتی تھی؟
تو اس کا جواب واضح ہے کہ جس دور میں آئمہ معصومین علیہم السلام اور ان کے شیعوں کو پہلے بنو امیہ نے پھر بنو عباس نے ظلم کا نشانہ بنایا ہوا ہو، جس دور میں شیعہ چھپ چھپ کر زندگی بسر کرتے رہے، جس زمانے میں مؤمنین کا معصومین علیہم السلام سے ملنا مشکل تھا، جس دور میں لوگ عام زندگی میں بھی بنو امیہ اور بنو عباس سے ڈر ڈر کے گزارتے تھے، یہانتک کہ معصومین علیہم السلام کے روضوں کو نشانہ بنا کر کئی مرتبہ انکی قبروں کو پامال کیا گیا، تو آپ بتائیں ایسے حالات میں اعلامیہ طور پر عزادری کیسے کرتے؟
رہی بات کہ معصومین علیہم السلام عزادری کرتے تھے یا نہیں؟ اس کا بھی جواب دیتا چلوں کہ امام سجادؑ پورے 35 سال امام حسین علیہ السلام پر گریہ کرتے رہے ہیں اور ان کے بعد دوسرے ائمہ بھی محرم الحرام کے دنوں میں اپنے گھروں میں عزاداری کا ماحول بناتے تھے اور بیبی زینب سلام اللہ علیہا نے یہ عزاداری امانت کے طور پر اپنے شیعوں کے حوالے کی مگر کیونکہ اُس زمانے میں حالات خراب تھے اور بنو امیہ کھلم کھلا شیعوں کو ٹارگٹ گلنگ بناتے تھے تو اس لئے یہ عزادری اُس زمانے میں اعلامیہ طور پر نہیں ہوتی تھی۔ اعلامیہ طور پر عزادری کا آغاز 352 ھجری میں آل بویہ کے دور حکومت میں شروع ہوا۔
ان کی عزادری کی روش کچھ اس طرح تھی کہ عاشور کے دن انہوں نے عام تعطیل کا حکم جاری کیا تھا اور اسی دن کو رستے میں نکل کر آتے اور جلوس کی صورت میں امام حسین علیہ السلام پر گریہ کرتے تھے۔ اور یہ سلسلہ ہر سال عاشور کے دن ہوتا تھا۔ آج جو یہ سینہ زنی ہم کرتے ہیں، یہ اسی آل بویہ کے زمانے سے شروع ہوئی ہے۔
آل بویہ کی کئی سالوں تک حکومت قائم رہی اور آج تک اس کے اثرات پائے جاتے ہیں جس کے اثرات میں سے سب سے مھم اثر یہ عزادری ہے، پھر یہ عزادری کا سلسلہ کبھی نہیں رکا۔
اور اس روش میں قمہ زنی کا اضافہ صفویان کے دور حکومت میں ہوا اور جیسے جیسے حکومتیں تبدیل ہوتی گئیں کچھ رسومات کا اضافہ کیا گیا۔
جیسے شبیہ ذوالجناح جو برصغیر (پاکستان ھندستان، بنگلادیش) میں امام حسین علیہ السلام کے غم میں نکالی جاتی ہے، اور اسی طرح ہر ملک میں الگ طور پر شبیه نکالی جاتی ہیں.
آخر میں نتیجے کے طور پر ایک نقطہ آپ کے سامنے بیان کرتا چلوں، عزاداری ہم شیعوں کا ہر دور میں خاص طور پر 352 ھجری کے بعد شعار رہا ہے، اور دشمن نے یہ شعار بجھانے کی بہت کوشش کی ہے، مختلف صورتوں میں کبھی حملہ کر کے، کبھی منگھڑت سوالات کر کے، کبھی دوسری صورتوں میں۔
پر ان لوگوں کے ذھن میں یہ بات ہونی چاہیے کہ عزادری نہ کبھی رکی تھی، اور نہ کبھی رکے گی۔ عزادری ہماری شہ رگ حیات ہے۔ آج کا دور نہ بنو امیہ کا ہے اور نہ بنو عباس کا، آج کا دور حسینیوں کا دور ہے، عزادار جب اپنے سینے پر ہاتھ مارتا ہے تو یہ ہاتھ آج کے یزیدیوں کے منہ پر جا کر لگتا ہے، اسی لئے تو امام خمینی (رح) فرماتے ہیں آج اسلام اِس محرم اور صفر کی وجہ سے زندہ ہے کیونکہ ان دو مہینوں میں عزاداران امام حسین علیہ السلام کی وجہ سے دشمنوں کی نیندیں حرام ہو جاتی ہیں۔
العبد الحقیر: عاجز حسین عرفانی
https://t.me/islamwitheman/7201
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 284
🔷 سوال منجانب نواصب 1 🔷
پوچھنا یہ تھا کہ امام زین العابدین جنہوں نے واقعہ کربلا اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔ واقعہ کربلا کے بعد تقریباً 40 سال زندہ رہے۔ اس طرح 40 مرتبہ آپ کی زندگی میں دس محرم کا دن آیا تھا۔ امام زین العابدین جو امامِ حسین رضی اللہ تعالٰی عنہ کے بیٹے تھے۔
کیا آپ نے اپنی زندگی میں ایک بار بھی دس محرم کو گھوڑا نکالا؟
کیا آپ نے اپنی زندگی میں ایک بار بھی دس محرم کو ماتم کیا؟
کیا آپ نے اپنی زندگی میں ایک بار بھی دس محرم کو اپنے آپ کو چھریاں ماریں؟
اگر امام زین العابدین نے ایسا کبھی نہیں کیا تو میرا سوال یہ ہے کہ آج کل جو لوگ محرم میں ایسا کرتے ہیں وہ کون ہیں، کس کے طریقے پہ چل کر ایسا کرتے ہیں؟ کیا اِن لوگوں کو امام زین العابدین سے بھی زیادہ غم ہے شہادت امامِ حسین رضی اللہ تعالٰی عنہ کا؟
حق اور باطل کو جان کے جیو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
■ جواب منجانب شیعیان علیؑ
● امام زین العابدین علیہ السلام کا ہر سال بلکہ تمام تر زندگی غمِ حسینؑ میں رونا اور ماتم کرنا شیعہ و سنی دونوں کتب میں موجود ہے۔
(وسائل الشیعہ، عاملی۔ کشف المحجوب، علی ہجویری۔ کتاب التذکرہ امام ثعالبی)
شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی تحفہ اثناعشریہ صفحہ سات پہ لکھتے ہیں کہ سب سے پہلے امام حسین (علیہ السلام) پہ ماتم و نوحہ کی بنیاد مختار نے رکھی۔
یاد رہے کہ مختارؓ کا زمانہ دورِ امامتِ امام زین العابدین علیہ السلام میں گزرا ہے اور المعارف ابن قتیبہ کے مطابق آخری صحابی ابوالطفیل عامر بن واثلہؓ مختارؓ کے علمدار تھے۔ مطلب کہ اہلبیت علیھم السلام و صحابہؓ کی موجودگی میں امام حسین علیہ السلام کا ماتم و نوحہ شروع ہو رہا ہے۔ جب انہوں نے منع نہیں کیا تو کوئی اور کون ہوتا ہے اعتراض کرنے والا۔ جبکہ سیدہ زینبؑ کا امام حسین علیہ السلام کی لاش پہ منہ پر ماتم کرنا البدایہ و النھایہ جلد٨ صفحہ٢٧٢ ابن کثیر میں ثابت ہے۔ جب اہلبیت علیھم السلام نے خود ماتم کیا تو اہل تسنن کو کونسی چیز روکتی ہے ماتم سے؟
کہیں وہ چیز محبتِ یزید لع تو نہیں!
● رہا گھوڑا نکالنا تو گھوڑا نکالنا سنت صحابہؓ ہے(سنن نسائی)
روایاتِ امامیہ کے مطابق امام سجاد علیہ السلام کی زبان سے امام حسین علیہ السلام کی سواری کی روایات مقتل کی کتب میں موجود ہیں۔ اس لیے یہ سوال ہی بے بنیاد ہے ورنہ اہلسنت کو خلافتِ خلفاءِ ثلاثہ، تراویح، عمل کلوخ، غسل قدمین، ہاتھ باندھ کر نماز جیسی چیزوں سے ہاتھ دھونا پڑ جائے گا کیونکہ یہ چیزیں نہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ثابت ہیں اور نہ ہی امام زین العابدینؑ سے۔
● چھریاں مارنے کا مقصد غمِ امام حسین علیہ السلام میں خون نکالنا ہے۔ جب کہ امام سجاد علیہ السلام خون کے آنسو روتے رہے۔ (وسائل الشیعہ)
بس یہ سوال ہی نہیں بنتا۔ مقصد نماز پڑھنا ہے، چاہے شلوار قمیص میں پڑھو یا پینٹ شرٹ میں۔ اب یہ کہنا شروع کر دیا جائے کہ کس صحابی نے پینٹ شرٹ میں نماز پڑھی؟ عجیب سوال ہوگا۔
باقی بحکمِ الٰہی آسمان کا شہادتِ امام حسین علیہ السلام پہ خون کی بارش برسانا اہلسنت کتاب تحریر الشہادتین شرح سرالشہادتین صفحہ٩٦ طبع لکھنوء میں موجود ہے۔
🔘 تفصیل سے تحریر لکھی جائے تو قارئین پہ زحمت تصور ہوگی ورنہ "کل خطاب لا یستحق الجواب"
باطل کو تلوارِ ذوالفقار کے وار سے للکار کے جیو
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 284
🌺 اہلسنت کے اعتراض اور جواب (3) 🌺
بقیہ آخری حصہ ۔۔۔
🔘 پہلے اور دوسرے سوال کا جواب
اسلئے بند دوبارہ شروع نہیں کروایا کہ جو پروانے اپنی شمع رسالت ﷺ کا جنازہ چھوڑ کر تین دن واپس نہیں آۓ وہ کیا یہ بات مانتے؟؟ جنہوں نے نبی ﷺ کا لحاظ نہیں کیا وہ علی علیہ السّلام کا کیا کرتے؟؟
🔘 تیسرے سوال کا جواب
پہلی بات تو یہ کہ اس وقت تک واقعہ کربلا ھوا ھی کب تھا جاھل؟؟
دوسری بات یہ کہ پہلا امام بارگاہ "بیت الحزن" کے نام سے شمع رسالت کے پروانوں نے "رسول اللہ ﷺ کی بیٹی کو بنا کر دیا تھا جنت البقیع میں" ۔۔۔
کیونکہ اس وقت بھی تمہارے باپ دادا کو رسول اللہ ﷺ کی بیٹی کا رونا پسند نہیں تھا۔
جہاں تک بات ھے رونے کی ۔۔۔ تو کیا بھول گئے کہ رونے کیلئے جگہ کی قید نہیں ھوتی؟؟
"کسی کو غار میں رونا آگیا تھا ۔۔ یاد نہیں کیا ؟"
🔘 چوتھے سوال کا جواب
مُتعہ کو جاری تو تب کرتے جب اُنہوں نے وہ بند کیا ھو؟
اُن کے پیروکار تو "کسی کی بہن کے مُتعہ کرنے کی خبر کے بعد بند کرنے کے فیصلے کو اور فیصلہ کرنے والے کو مانتے ھی نہیں۔"
اسلیۓ مولا علی علیہ السّلام کے پیروکاروں میں وہ بمطابق حکم قرآن و رسول ﷺ جاری تھا اور ھے۔
🔘 پانچویں سوال کا جواب
باغ فِدک کو اسلئے واپس نہیں لیا مولا علی علیہ السّلام نے کیونکہ اس کی وارث مخدومہؑ عالیہ سیّدہ فاطمہؑ سلام اللہ علیہا تب دنیا سے پردہ کرچُکی تھیں ۔۔
اور ظاھر ھے جب دعویدار ھی نہ ھو تو کس طرح واپس لیتے؟
■ یہ تو تھے تمہارے سوالوں کے جواب ۔۔۔ اب میرے کچھ سوال ھیں تمہارے انہی سوالوں کے جواب میں ۔۔
اگر واقعی حق پر ھو تو دو اسکا جواب ۔۔
میں بھی تو دیکھوں کہ "شیعہ نے تو چیلنج کا جواب دے دیا۔" اب شیعہ کے چیلنج کا جواب کون دے گا ۔۔۔ !!
🔹 سوال نمبر ایک
رسوُل اللہ ﷺ کے جنازے میں "بڑے ستارے" کیوں نہیں تھے؟
🔹 سوال نمبر دو
"الصّلوٰۃ خیراً من النوم" رسول اللہ ﷺ کے دور میں جزو اذان نہیں تھا نہ ھی خلیفہؑ اؤّل کے دور میں تو پھر اس کو اذان کا جزو بنانے کی بدعت کیوں کی گئی؟؟
🔹 سوال نمبر تین
نماز تراویح نہ عہد رسالت ﷺ میں پڑھی گئی اور نہ ھی خلیفہ اوّل کے دور میں ۔۔ تو پھر یہ بدعت کیوں اپنائی گئی؟؟
🔹 سوال نمبر چار
قرآن نے کہا "نبی کی بیبیبیبیو گھروں میں قرار پکڑو"
تو پھر نبی کی جو بی بی گھر سے باھر نکلی اور صرف باھر نہیں نکلی بلکہ لشکر کی سربراہ بھی بن کر میدان میں آئی اس کے بارے میں کیا کہتے ھو؟؟
اور اگر وہ ٹھیک تھا تو پھر آج عورت کی حکمرانی پر فتوے کیوں لگاتے ھو؟
🔹 سوال نمبر پانچ
مُتعہ ۔۔۔ کو قرآن کی آیت اور رسوُل اللہ ﷺ کی حدیث نے حلال کیا تھا۔ خلیفہؑ اوّل کے دور میں بھی حلال ھی تھا۔ پھر قرآن و حدیث کیخلاف اسکو بند کرکے زناؑ سے بچنے کا راستہ بند کرنے کا اختیار کس نے دیا تھا بند کرنے والے کو؟
کیونکہ اسکے علاوہ اور کوئی طریقہ ھے ھی نہیں ایک شادی شدہ مرد کیلئے جو گھر سے دور ھو کہ وہ حرام کاری سے بچ سکے۔
🔹 سوال نمبر چھ
حضرت عمر بن عبدالعزیز (رح) نے باغ فِدک "اولاد فاطمہؑ سلام اللہ علیہا" کو یہ کہہ کر واپس کر دیا تھا کہ ۔۔۔۔۔ "یہ تمہارا حق تھا اور پہلے اس معاملے میں فیصلہ کرنے والے سے اجتہادی غلطی ھوئی۔"
اب یہ بتاؤ کہ ان دونوں میں سے کون صحیح تھا؟؟
خلیفہؑ اوّل یا پھر عمر بن عبدالعزیز؟؟
اب مجھے دیکھنا ھے کہ ان سوالوں کے کیا جواب دیتے ھو ۔۔ منتظر ھوں۔
(حجّت تمام ھوئی ۔۔۔ الحمد للہ)
https://t.me/islamwitheman/7199
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 284
🌺 اہلسنت کے اعتراض اور جواب (2) 🌺
بقیہ دوسرا حصہ ۔۔۔
کچھ اندازہ ھوا؟؟
کتنا مجبور کر دیا گیا تھا میرے مولا علی علیہ السّلام؟
کُچھ سمجھ میں آیا کہ کیوں جو بدعتیں دین میں داخل ھوئیں اُنکو بند نہیں کیا میرے مولا علی علیہ السّلام نے؟؟
ان چھ انبیاؑ میں سے چار اولوالعزم پیغمبر ھیں ۔۔ جو جو وجوھات ان آیات میں ان سب کی اپنی اپنی قوم سے علیحدگی کی بنی وہ تمام وجوھات اکیلے میرے مولا علی علیہ السّلام کو روکے ھوۓ تھیں۔
■ اب ایک اور سرکار جناب امیر علیہ السّلام کا خطبہ سُنو ۔۔
اور یاد رکھنا ۔۔ کہ کیوں سرکار نے تلوار نہیں اُٹھائی اور بہت کُچھ برداشت کیا ۔۔
چاھے وہ گلے میں رسّی ڈال کر حرامیوں کا میرے مولا کو کھینچنا ھو، چاھے وہ دروازے کو آگ لگانا ھو، چاھے وہ میری مخدومہؑ کونین سلام اللہ علیہا کا پہلو شکستہ کرنا ھو، چاھے وہ فدک کا حق غصب کرنا ھو؟ چاھے وہ خلافت کا حق چھیننا ھو۔ اس سب پر خاموشی کی سب سے بڑی وجہ ۔۔۔
(1) حوالہؑ کتاب استیعاب، عبدالبر،جلد ا، صفحہ۱۸۳۔ طبع حیدر آباد۔
حضرت علیؑ فرماتے ہیں کہ میں نے لوگوں سے یہ کہہ دیا تھا کہ دیکھو رسول اللہ کا انتقال ہو چکا ہے اور خلافت کے بارے میں مجھ سے کوئی نزاع نہ کرے کیوں کہ ہم ہی ا س کے وارث ہیں لیکن قوم نے میرے کہنے کی پرواہ نہیں کی۔ "خدا کی قسم اگر دین میں تفرقہ پڑ جانے اور عہد کفر کے پلٹ آنے کا اندیشہ نہ ہوتا تومیں ان کی ساری کاروائیاں پلٹ دیتا۔"
۔
(2) حوالہؑ کتاب معالم التنزیل، صفحہ۴۱۲، صفحہ۴۱۴۔
کتاب احیاءالعلوم؟ جلد۴، صفحہ ۸۸۔
کتاب سیرت محمدیہ؟ صفحہ۳۵۶۔
کتاب تفسیر کبیر جلد۴ صفحہ۶۸۶۔
کتاب تاریخ خمیس جلد۲ صفحہ ۱۱۳۹۔
کتاب سیرت حلبیہ صفحہ۳۵۶۔
کتاب شواہد النبوت اور فتح الباری۔
میں ہے کہ آنحضرت نے حضرت عائشہ سے فرمایا کہ ۔۔۔۔
"اے عائشہ ”لوَ لاَ حدَ ثَانِ قَومُک بالکَفرِ لَفَعلتُ“
ترجمہ:
اگر تیری قوم تازی کفر سے مسلمان نہ ہوئی ہوتی تو میں اس کے ساتھ وہ کرتا جو کرنا چاہیے تھا۔
اور اب مجھے یہ بتانے کی ضرورت تو ھے نہیں کہ "جنگ بدر سے خیبر و خندق تک" پورا عرب گواہ ھے کہ کس کی تلوار سینوں کو چیرتی رھی اور گردنوں کو کاٹتی رھی؟؟
بڑے بڑے "بہادروں" کو پہاڑوں پر بکری کی طرح اچھلتے دیکھا ھے۔
بڑے بڑے "بہادروں" کو جو ھنٹر ھاتھ میں لیے گھوما کرتے تھے تاریخ نے کوئی ایک نام بھی محفوظ نہیں کیا جو انکے ھاتھوں قتل ھوا ھو کسی بھی جنگ میں؟؟
(یہ چیلنج بھی ھے کہ دکھاؤ اگر کوئی نام مل جاۓ؟)
مکہ و مدینہ کے بسنے والے نہ تو عمرو بن عبدود کا مارے جانا بھولے تھے اور نہ ھی خیبر کا دروازہ اکھاڑے جانا ۔۔
جنگ خندق میں عمرو بن عبدود نے جب گستاخی کی اور مولا علی علیہ السّلام کے چہرہ مبارک پر لعاب دھن پھینکا تو آپ علیہ السّلام اُس کی چھاتی سے نیچے اُتر آۓ جس پر وہ جو بہُت زیادہ "غصّیلہ" تھا وہ بے اختیار بولا بھی تھا ۔۔۔" یا رسول اللہ یہ دیکھیے علی علیہ السّلام نے کیا کیا؟ اتنا اچھا موقع گنوا دیا ۔۔ اس پر تو قابو پالینا ھی بڑا کام تھا۔۔"
قتل عمرو بن عبدود کے بعد جب مولا علیہ السّلام سے پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا ۔۔
اگر اس وقت میں اسے قتل کردیتا تو میرا ذاتی غصّہ شامل ھوجاتا۔
(جبکہ میں تو "یدّ اللہ" ھوں اسلئے لڑتا ھی صرف اللہ اور اسکے رسول اور اسکے دین کیلئے ھوں)
ھاں یہ ضرور پتا چل گیا تھا کہ "یہ محمّد وآل محمّد ﷺ اپنا حق چھن جانے پر نہیں بولتے لیکن اگر اسلام و دین پر کچھ بن جاۓ تو پھر یہ اُٹھ کھڑے ھوتے ھیں۔"
تو بس اُنہوں نے طے کرلیا کہ ۔۔۔
"کہ دین کی بنیادوں کو فی الحال چھیڑو نہیں اور ان کو چھوڑو نہیں"
چنانچہ جن "چڑی ماروں" کی ٹانگیں کانپتی تھیں مولا علی علیہ السّلام کو آتے دیکھ کر ۔۔
" انکی ھمّت اتنی بڑھ گئی کہ گلے میں رسّی ڈال کر کھینچتے رھے۔"
(3) حوالہ کتاب تاریخ اعثم کوفی ۸۳ طبع بمبئی۔
میں حضرت علیؑ کی وہ تقریر موجود ہے جو آپ نے خلافت عثمان کے موقع پر فرمائی ہے۔ ہم اس کا ترجمہ اعثم کوفی اردو طبع دہلی کے صفحہ۱۱۳ سے نقل کرتے ہیں۔۔۔
"خدا ئے جلیل کی قسم ......
اگر محمد رسول اللہ ﷺ ہم سے عہد نہ لے لیتے اور ہم کو اس امر سے مطلع نہ کر چکے ہوتے جو ہونے والا تھا تو میں اپنا حق کبھی نہ چھوڑتا اور اپنا حق کسی شخص کو نہ لینے دیتا۔ اپنے حق کے حاصل کرنے کے لیے اس قدر کوشش بلیغ کرتا کہ حصول مطلب سے پہلے معرض ہلاکت میں پڑنے کا بھی خیال نہ کرتا۔"
اب کچھ سمجھ میں آئی؟
یہ وہ جواب ھیں جو مولا علی علیہ السّلام نے از خود ارشاد فرماۓ اور مجھے پورا یقین ھے کہ آپ میں سے اکثر نے یہ پڑھنا تو دور کی بات سُنے بھی نہیں ھونگے!!
■ اب باری ھے میرے تبصرے کی ۔۔۔ تو اب دل پر ھاتھ رکھو اور جواب سُنو ۔۔۔
ابوجہل کی جاھل اولادو ۔۔ !!
🔘 پہلے اور دوسرے سوال کا جواب:
https://t.me/islamwitheman/7198
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 284
🌺 اہلسنت کے اعتراض اور انکے جواب (1) 🌺
جو پوسٹ میں سوال پوچھے گئے ھیں وہ ترتیب وار یہ ھیں۔۔
جب حضرت علی علیہ السّلام (ظاھری طور پر) خلیفہ بنے تو۔۔
1= شیعہ کا کلمہ اور اذان جاری کیوں نہیں کروائی؟
2= نماز تراویح کیوں ختم نہیں کروائی؟
3= مسجدیں بنوائیں، امام باڑے کیوں نہیں بنواۓ؟
4= مُتعہ کو جاری کیوں نہیں کیا؟
5= باغ فِدک کو بیبی فاطمہؑ (سلام اللہ علیہا) اور حسنین کریمین (علیہم السّلام) کو واپس کیوں نہیں کیا؟
یہ کُل 5 سوال ھیں۔
اور آئیے آج آپکو پتا چلے گا کہ ان سوالوں کے جواب کسی مولوی یا مجتہد نے نہیں بلکہ خود مولا علی علیہ السّلام نے دیئے ھیں۔ کیونکہ یہ تمام سوال نئے نہیں ھیں 1436 سال سے نسل اُمیّہ و مروان و بنوُ عباس یہی سوال کرتی آئی ھے۔
جناب باب العلم علیہ السّلام سے جب یہی سوال پوچھے گئے تو آپ علیہ السّلام منبر کوفہ پر تشریف لے گئے اور ایک بلیغ خطبہ ارشاد فرمایا۔ اسکے اقتباس درج کر رھا ھوں۔
(حوالہؑ کتاب الاحتجاج ۔۔ جلد نمبر 1)
(حوالہؑ کتاب نہج الاسرار ۔۔ جلد نمبر 1)
(حوالہؑ کتاب فضائل امیرالمومنین، ابن عقده کوفی، 333)
(حوالہؑ علل الشرائع شیخ صدوق،381)
(حوالہؑ کتاب کفایه الاثر، خزاز قمی، 400)
(حوالہؑ کتاب احتجاج طبرسی، 548)
(حوالہؑ کتاب مناقب آل ابیطالب۔ ابن شهر آشوب، 588)
(حوالہؑ کتاب الروضه فی فضائل امیر المومنین۔ شاذان ابن جبرئیل قمی، 660)
■ خطبہؑ بعنوان۔۔
معاویہ سے جنگ کرنے اور ابوبکر و عمر سے جنگ نہ کرنے کا سبب:
جنگ نہروان (خوارجین سے جنگ) سے فارغ ھونے کے بعد سرکار جناب امیرالمُومنین علیہ السّلام ایک محفل میں کچھ ارشاد فرما رھے تھے کہ "اشعث" نے سوال کردیا۔
جسکے جواب میں جناب امیرالمومنین علیہ السّلام نے فرمایا:
"اے اشعث تو نے اپنی بات تو کہہ دی اب اسکا جواب بھی سُن اور اسکو یاد رکھ
اور حُجّت کو اپنا شُعار بنا لے کہ۔۔
میرا یہ اقتدار (خلافت ظاھری) چھ پیغمبروں کی طرح ھے۔۔
1 - نوُح علیہ السّلام
2 - لوُط علیہ السّلام
3 - ابراھیم علیہ السّلام
4 - مُوسیٰ علیہ السّلام
5 - ھاروُن علیہ السّلام
6 - مُحمّد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
نوُح علیہ السّلام کی تاسئ کی جیسا انہوں نے کہا:
"فَدَعَا رَبَّهُ أَنِّي مَغْلُوبٌ فَانتَصِرْ " (سورۃ القمر، آیت 10)
ترجمہ:
اے میرے ربّ میں مغلوُب ھو گیا میری نصُرت فرما"
اب اگر تمُ یہ کہو کہ اُنہوں نے بلا وجہ ایسا کہا تو تم نے کُفر کیا اور اگر کہو کہ اُنکی اُمت نے اُنکے ساتھ حالات ایسے بنا دیئے تھے تو پھر تمہارے نبی ﷺ کا وصی (علی علیہ السّلام) نوح سے زیادہ مجبوُر تھا۔
لوُط علیہ السّلام کی تاسئ کی جیسا کہ اُنہوں نے کہا:
"لو أن لي بكم قوة أو آوي إلى ركن شديد" (سورۃ ھوُد، آیت 80)
ترجمہ:
"کاش تم سے بچنے کی مجھ میں قوّت ھوتی یا میں کسی زبردست پناہ میں جاکر بیٹھ جاتا"
اب اگر تم یہ کہو کہ اُنہوں نے بلا کسی خوف کے یہ کہا تو تم نے کُفر کیا اور اگر تم یہ کہو کہ اُنکی قوم نے انکے ساتھ یہ حال کیا کہ وہ تنہا رہ گئے تو تمہارے نبی ﷺ کا یہ وصی اُس سے زیادہ مجبور تھا۔
ابراھیم علیہ السّلام کی تاسئ کی جیسا کہ اُنہوں نے کہا:
"وَأَعْتَزِلُکُمْ وَمَا تَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّهِ" ۔۔ سورۃ مریم، آیت 49)
ترجمہ:
میں تم سے اور جن جن کو تم اللہ کے سوا پُکارتے ھو علیحدہ ھوتا ھوں۔
اب اگر تم کہو کہ ابراھیم علیہ السّلام بنا کسی وجہ کے اپنی قوم سے الگ ھوگئے تو تم نے کفر کیا اور اگر کہو کہ انکی قوم نے انکو ایسا مجبور کیا تو تمہارے نبی ﷺ کا وصی اس سے زیادہ مجبور ھے۔
موُسیٰ علیہ السّلام کی تاسئ کی جیسا کہ اُنہوں نے کہا؛
"فَفَرَرْتُ مِنکُمْ لَمَّا خِفْتُکُم" (سورۃ الشعراؑ، آیت 21)
ترجمہ:
میں تم سے ڈرا تو میں خود ھی تم سے بھاگ گیا تھا۔
اب اگر تم کہو کہ اُنہوں نے بلا کسی خوف کے قوم کو چھوڑا تو تم نے کُفر کیا اور اگر کہو کہ واقعی قوم اُنکی جان کے درپے ھوگئی تھی اسلئے وہ وھاں سے چلے گئے تو تمہارے نبی ﷺ کا وصی اُن سے زیادہ مجبور تھا۔
ھاروُن علیہ السّلام کی تاسئ کی جیسا کہ اُنہوں نے کہا:
"یابْنَ أُمَّ إِنَّ الْقَوْمَ اسْتَضْعَفُونِی وَکَادُواْ یَقْتُلُونَنِی" (سورۃ الاعراف، آیت 151)
ترجمہ:
"اے میرے ماں جاۓ تحقیق کہ قوم نے مجھے (تیرے بعد) ضعیف سمجھا اور قریب تھا کہ مجھے قتل کردیتے۔"
اب اگر تم کہو کہ انہوں نے بلاوجہ ایسا کہا اور گئو سالہ کی پرستش سے بنا کسی وجہ کے نہیں روکا تو تم نے کُفر کیا اور اگر کہو کہ اُن کو مجبور اور کمزور کردیا گیا تھا تو تمہارے نبی ﷺ کا وصی اس سے زیادہ مجبور تھا۔
مُحمّد ﷺ کی تاسئ کی جب انہوں نے ھجرت کی اور جاتے ھوۓ مجھے اپنے بستر پر سُلا کر گئے۔
اب اگر تُم کہو کہ اُنہوں نے بلا کسی وجہ کے ھجرت کی تو تُم نے کُفر کیا اور اگر کہو کہ اُنکو مجبور کردیا گیا تھا تو تمہارے نبی ﷺ کا یہ وصی اُن سے زیادہ مجبور تھا۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 284
🔷 حضرت عباس علمدارؑ کی شادی اور اولاد 🔷
🔹 حضرت عباس علمدارؑ کی شادی
جناب عباس علیہ السلام لبابہ بنت عبید اللہ بن عباس بن عبدالمطلب کے ساتھ رشتۂ ازدواج میں منسلک ہوئے(1) لبابہ بنت عبیداللہ اپنے زمانے کی پاکیزہ اور بزرگ خواتیں میں شمار ہوتی تھیں اور قرآن کے سائے اوراہلبیتؑ کی محبت و اطاعت سے مالامال ماحول میں پرورش پا چکی تھیں۔ لبابہ بنت عبیداللہ کی والدہ اُمّ حكیم جویری بنت خالد بن قرظ كنانی تھیں۔(2) حضرت عباسؑ کی شادی 40 سے 45ہجری میں انجام پائی تھی اور آپ شادی کے وقت 20 سالہ نوجوان تھے۔ جس کا ثمرہ دو بیٹے "فضل اور عبید اللہ" تھے۔(3)
ایک روایت کے مطابق حضرت عباس کی پانچ اولادیں تھیں: چار بیٹے: "عبیدالله، فضل، حسن، قاسم" اور ایک بیٹی۔(4)
بہرحال آپ کی اولاد کے حوالے سے مؤرخین میں اختلاف ہے بعض منابع نے منقول ہے کہ آپ کے تین بیٹے تھے: عبیدا لله، حسن اور قاسم(5) بعض نے کہا ہے کہ آپ کے دو بیٹے عبید اللہ اور محمد تھے۔(6)
علامہ نجم الحسن کراروی مرحوم اسی بارے میں لکھتے ہیں کہ حضرت عباسؑ نے گیارہ سال کی عمر میں معرکہ صفین میں حصہ لیا، تقریبا چودہ سال کے سن میں بابا کے سایہ سے محروم ہوئے، دن گزرے، راتیں گزریں، بنام خدا پورے طور پر جوان ہوئے، ماں کے دل میں شادی کی تمنا تو تھی ہی لہذا انھوں نے امام حسین علیہ السلام سے کہا: سلطان دو عالم! کیا اچھا ہوتا اگر میرے نور نظر کا گھر آباد کر دیا جاتا، حضرت امام حسین علیہ السلام نے شادی کے انتظامات شروع کر دیئے اور جناب عبید اللہ بن عباس بن عبد المطلب سے ان کی دختر نیک اختر لبابہ خاتون کی خواستگاری کی، منظوری ہوئی اور عقد ہو گیا۔
جناب مولانا سید اولاد حیدر صاحب فوق بلگرامی نے آپ کی زوجہ کا اسم گرامی ذکیہ تحریر کیا ہے لیکن یہ درست نہیں ہے اس لئے کہ مؤرخین کا اس پر اتفاق ہے کہ آپ کی زوجہ محترمہ کا نام نامی لبابہ تھا۔
علامہ ابن قتیبہ عبیداللہ ابن عباس بن علی کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔ ’’امہ لبابہ بنت عبیداللہ بن عباس‘‘عبیداللہ کی ماں کا نام لبابہ تھا۔(7)
🔹 حضرت عباسؑ کی تعداد اولاد
حضرت عباس بن علی السلام کی اولاد میں سخت اختلاف ہے علامہ ابن قتیبہ لکھتے ہیں کہ حضرت عباس علیہ السلام کے ایک ہی فرزند عبیداللہ تھے۔(8)
لسان الملک تحریر فرماتے ہیں کہ آپؑ کے دو فرزند تھے ایک فضل اور دوسرے عبیداللہ۔(9)
جناب خان بہادر مولوی سید اولاد حیدر صاحب فوق بلگرامی رقمطراز ہیں کہ آپ کے دو صاحبزادے تھے اور ایک صاحبزادی۔ صاحبزادوں میں ایک کا نام فضل اور دوسرے کا عبیداللہ تھا۔(10)
🔹 حضرت عباسؑ کی نسل
ان کی نسل کے بارے میں علامہ عبد الرزاق موسوی لکھتے ہیں کہ تمام علمائے انساب کا اس پر اتفاق ہے کہ آپ کی نسل صرف عبیداللہ ابن عباس سے بڑھی ہے۔ آپ کا شمار بہت بڑے علماء میں تھا آپ کمال اور جمال میں بہت امتیاز رکھتے تھے۔ آپ نے ۱۵۵ھ میں وفات پائی ہے۔
آپ کے بیٹے حسن بن عبیداللہ تھے جناب حسن نے ۶۷ سال کی عمر میں انتقال کیا۔
آپ کے پانچ بیٹے تھے ۔۱: عبیداللہ ۲: عباس ۳: حمزہ ۴: ابراہیم ۵: فضل۔ یہ سب کے سب عالم اجل، فاضل اور ادیب دہر تھے۔
۱: عبید اللہ ابن حسن ابن عبید اللہ ابن عباس بن علی، یہ امیر مکہ و مدینہ اور قاضی الحرمین تھے۔
۲: عباس بن حسن بن عبیداللہ ابن عباس ’’کان بلیغا فصیحا شاعرا‘‘ یہ زبردست بلاغت اور فصاحت کے مالک تھے۔ شاعری میں بھی ملکہ تامہ رکھتے تھے۔ ابونصر بخاری کا بیان ہے کہ ان سے زبردست کوئی ہاشمی زبان کا مالک دیکھا ہی نہیں گیا۔ علویین انہیں اشعر اولاد ابی طالب کہتے تھے۔
۳: حمزہ بن حسن بن عبیداللہ بن عباس۔ ان کی کنیت ابوالقاسم تھی۔ یہ حضرت علی علیہ السلام سے بہت مشابہ تھے۔
۴: ابراہیم جروقہ ابن حسن ابن عبیداللہ بن عباس۔ یہ زبردست فقیہ، ادیب اور زاہد تھے۔
۵: فضل ابن حسن ابن عبیداللہ ابن عباس۔ یہ زبردست فصاحت کے مالک اور دین میں بہت پختہ تھے اور میدان شجاعت کے شہسوار تھے۔ لوگوں کی نظر میں آپ کی بے انتہا عزت تھی۔(11)
حضرت عباس علیہ السلام کی نسل کافی پھیلی ہے آپ کی اولاد سے کثیر بزرگان کا ذکر کتب میں موجود ہے۔
📚 حوالہ جات
1. البخاری
2. عبدالرزاق المقرم، العباسؑ، نجف، مطبعة الحیدریة، بی تا، ص 195۔
3. ابن صوفی نسابه، وہی ماخذ، ص436۔ السید عبد المجید الحائری، ذخیرة الدارین، نجف، مطبعة المرتضویة، 1345 ق، ج 1، ص 145 ؛ وسیلة الدارین، ص 278۔
4. عبدالرزاق المقرم، العباسؑ، نجف، مطبعة الحیدریة، بی تا، ص 195۔
5. بطل العلقمی، ج 3، ص 429۔
6. سید محسن امین العاملی، اعیان الشیعة، بیروت، دار التعارف للمطبوعات، 1406 ق، ج 1، ص 610۔
7۔ المعارف ص۹۶طبع مصر ۱۳۵۳ھ کبریت احمر۔
8۔ المعارف ص۹۶مصری
9۔ ناسخ التواریخ ج۶ص۲۸۹ طبع بمبئی ۔و شجرہ طوبی ج۱ص۱۲۶۔
10۔ ذبح عظیم ص ۲۱۰ طبع دہلی۔
11۔ عمدۃ الطالب ص۳۵۳طبع لکھنو تاریخ بغداد قمر بنی ہاشم ص۱۳۶۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 284
🔷 شہزادہ علی اصغرؑ 🔷
خطیب آل محمد سید اظہر حسن زیدی مرحوم فرماتے تھے شب عاشور امام حسین علیہ السلام خیام میں پہنچے تو دیکھا کہ جناب ربابؑ علی اصغرؑ کے جھولے سے لپٹے رو رہی ہیں۔
امام علیہ السلام نے پوچھا کیا بچہ ختم ہو گیا رباب؟
کہا کہ نہیں مولا۔
فرمایا کہ پھر کیوں رو رہی ہو رباب؟
کہا کہ جناب زینب اپنے عون و محمد، لیلیٰ اپنے علی اکبر، قاسم کی ماں قاسم کو قربانی کیلئے تیار کر رہی ہیں۔
آقا کاش میرا بچہ بھی تھوڑا بڑا ہوتا تو میں بھی اسے آپ پر قربان کر کے جناب سیدہ فاطمہ الزہراءؑ کے سامنے سرخرو ہوتی۔
دوسری بات یہ کہ آپ ہی نے فرمایا تھا کہ میری شہادت کے بعد ہمارے ہاتھ باندھے جائیں گے تو میرے علی اصغرؑ کو کون سنبھالے گا؟ میرے بغیر تو یونہی مر جائے گا میرا لعل۔
امام علیہ السلام نے فرمایا کہ رباب! اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو، میں حسین تجھ سے وعدہ کرتا ہوں کہ تمہارے اصغر کی قربانی کو لیلیٰ کے اکبر سے بڑھا نہ دوں تو کہنا۔
جناب ربابؑ نے علی اصغرؑ کو نیا کرتہ پہنایا، بچے کی کمر سے رومال باندھ کر سپاہی بنا کر بھیجا اور کہا:
دادی کے پاس پہنچ کے شکایت نہ کرنا کہ رباب نے منہ دھو کر نہیں بھیجا کہہ دینا پانی نہیں تھا۔
اور سنو میرے لعل! تمہارے دادا علی مرتضیٰؑ ساقی کوثر ہیں، تمہارے دادا جب کوثر پلائیں تو نہیں پینا کیونکہ تمہارے بابا حسینؑ پیاسے ہیں، ان سے پہلے کوثر نہیں پینا۔
میرے لعل! مجھے پتہ ہے کہ تمہیں تیر لگے گا، تیر جب لگے تو رونا نہیں، چھ ماہ کے ہو نا اسلیے شاید رونا آ جائے، میرے لعل تیر کھا کے رونا نہیں، دشمن کو رلا کر مسکرا دینا۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 284
فرسان الہیجاء، ج1 اور ذخیرۃ الدارین میں لکھا ہے کہ جناب سعیدؒ نے آخری وقت سیدالشہداءؑ کو مخاطب کر کے عرض کیا: فرزند رسولؐ! کیا میں نے عہد پورا کر دیا ہے؟
امامؑ نے فرمایا: ہاں! تم مجھ سے پہلے جنت میں جاؤ گے اس کے بعد آپ کی روح قفس عنصری سے جنت الفردوس کی طرف پرواز کر گئی۔
🔘 جناب سیدالشہداءؑ علیہ افضل التحیۃ والثناء نے ایسے زہرہ گداز حالات میں نماز پڑھ کر اور وہ بھی جماعت کے ساتھ اس کی اہمیت و عظمت پر وہ مہر تصدیق ثبت فرمائی ہے جسے طلوع آفتاب قیامت تک کوئی نہیں توڑ سکتا نیز جناب سرکار سیدالشہداءؑ نے جس انوکھے انداز سے نماز خدا ادا فرمائی ہے اس منظر کی نظیر چشم فلک نے کبھی نہ دیکھی ہوگی اور نہ قیامت تک دیکھ سکے گی۔ کربلا والوں نے دنیا والوں کو دکھا دیا کہ کس طرح
؎ نماز عشق ادا ہوتی ہے تلواروں کے سائے میں
دعا ہے کہ خداوندعالم امام حسین علیہ السلام کے تمام نام لیواؤں کو آپؑ کے اس اسوہ حسنہ سے درس عمل حاصل کرنے کی توفیق رفیق عطا فرمائے آمین بجاہ النبی و آلہ الطاہرینؑ۔
(سعادۃ الدارین فی مقتل الحسینؑ)
https://t.me/islamwitheman/7192
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 284
🔷 کربلا میں نماز ظہر کا منظر 🔷
آخری جنگ مغلوبہ قیامت خیز ہنگامہ زوال سے قریبا ایک گھنٹہ پہلے شروع ہوا جس نے زوال تک طول کھینچا۔ جب ملاعین (آخری جنگ مغلوبہ) سے واپس لوٹے تو اس وقت امامؑ کی جماعت جو پہلے ہی قلیل تھی اب قلیل تر ہو چکی تھی مگر مخالف فوج میں باوجود نقصان عظیم کے بوجہ غیرمعمولی کثرت کے کوئی خاص کمی محسوس نہیں ہوتی تھی۔
اس وقت جناب ابوثمامہ الصیداوی نے خدمت امامؑ میں عرض کیا: میں آپؑ پر قربان ہوں! یہ ملاعین بالکل قریب پہنچ گئے ہیں۔ خدا کی قسم! جب تک میں زندہ ہوں یہ آپؑ تک نہیں پہنچ سکتے میری خواہش ہے کہ جب خدا کی بارگاہ میں حاضر ہوں تو یہ آخری نماز جس کا وقت قریب ہے آپؑ کے ساتھ پڑھیں۔
ابوثمامہ کی یہ درخواست سن کر امامؑ نے آسمان کی طرف نگاہ بلند کی پھر فرمایا: تو نے (ایسے کٹھن حالات میں) نماز کو یاد کیا ہے خدا تیرا حشرونشر نماز گزاروں کے ساتھ کرے۔ ہاں! یہ نماز ظہر کا اول وقت ہے۔
پھر امامؑ عالی مقام نے حکم دیا فوج جفاکار سے کہو کہ اتنی دیر جنگ روک دیں کہ ہم نماز خدا پڑھ لیں۔ چنانچہ جب حسب الحکم قوم اشقیاء کے سامنے یہ درخواست پیش کی گئی تو حصین بن نمیر نے کہا: تمہاری یہ نماز قبول نہیں۔ اس کا یہ گستاخانہ کلام بےہنگام سن کر جناب حبیب بن مظاہر نے فرمایا: اے شراب خوار! تیرا گمان فاسد ہے کہ آلؑ رسولؐ اور ان کے انصار کی نماز نا مقبول اور تیری مقبول ہے۔
حصین بن تمیم ( نمیر ) اور جناب حبیب بن مظاہرؒ کے اس تلخ سوال و جواب سے ایک ہنگامہ برپا ہوگیا۔ جناب حبیبؒ کا جواب باصواب سن کر حصین نے ان پر حملہ کر دیا۔ جناب حبیبؒ نے آگے بڑھ کر اس کے گھوڑے کے منہ پر تلوار لگائی جس سے گھوڑا بدکا اور وہ ملعون نیچے آرہا۔ اس کے ہمراہیوں نے دوڑ کر اسے بچا لیا۔ اس کے بعد جناب حبیب نے یہ رجز پڑھنا شروع کیا۔
؎ انا حبیب و ابی مظہر
فارس ھیجاء و حرب تسعر
انتم اعد عدۃ و اکثر
و نحن اوفیٰ منکم واصبر
و نحن اعلیٰ حجۃ و اظہر
حقا واتقیٰ منکم و اعذر
اس کے بعد اس سن رسیدہ اور ضعیف العمر مگر قوی العزم والایمان بزرگوار نے میدان کارزار میں اپنی شجاعت کے جوہر دکھانا شروع کئے جو سامنے آتا اسے مولی گاجر کی طرح کاٹ کے رکھ دیتے۔ اسی طرح بنا بر مشہور پینسٹھ (65) کوفیوں کو واصل جہنم کیا۔ بالآخر ایک تمیمی مرد نے تیر مارا جس سے جناب حبیب گر پڑے۔ اٹھنا چاہتے مگر حصین بن تمیم (نمیر) نے جناب حبیب کے سر پر تلواریں مار مار کر نڈھال کردیا۔ جناب حبیب پھر منہ کے بل گر پڑے اور تمیمی ملعون نے گھوڑے سے اتر کر ان کا سر مبارک قلم کر دیا اور بروایتے بدیل بن صریم نے سر قطع کیا۔ (بحار، ج10۔ ناسخ ج6۔ قمقام، مقتل الحسینؑ)
جناب سیدالشہداءؑ پر جناب حبیبؒ کی شہادت بہت شاق گزری فرمایا: "احتسب نفسی وحماۃ اصحابی" میں اپنے نفس اور اپنے حامی اصحاب کی جزاء کا بارگاہ ایزدی سے متمنی ہوں۔ پھر کئی بار کلمہ استرجاع زبان پر جاری کیا۔ (ناسخ ج1۔ لواعج الاشجان)
بعض کتب میں لکھا ہے کہ آنجنابؑ نے جناب حبیبؒ کی لاش پر یہ بھی فرمایا: "للہ درک یا حبیب کنت فاضلا تختم القرآن فی لیلۃ واحدۃ"
اے حبیب! خدا تجھے جزائے خیر دے تو مرد فاضل تھا اور ایک رات میں پورا قرآن ختم کیا کرتا تھا۔ (نفس المھموم۔ ناسخ، ج6)
بہرکیف جب قوم اشقیاء جفاکار نے وارث رسولؐ کو نماز پڑھنے کی مہلت نہ دی اور نابکار جنگ موقوف کرنے پر راضی نہ ہوئے تو امامؑ نے بطور نماز خوف نماز ظہر ادا کرنے کا تہیہ کر لیا۔
جناب زہیربن القینؒ اور جناب سعید بن عبداللہ الحنفیؒ کو حکم دیا کہ تم دونوں میرے آگے کھڑے ہو جاؤ۔ چنانچہ یہ دونوں بزرگوار اور بروایتے صرف جناب سعید بن عبداللہ کو حکم دیا تھا۔ جو کہ ایمان و ایقان کے پیکر تھے امامؑ کے آگے سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح کھڑے ہوگئے۔ جدھر سے تیر یا تلوار یا نیزہ کا کوئی وار ہوتا تو یہ آگے بڑھ کر اپنے سینہ پر لے لیتے تھے۔ چنانچہ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ادھر امامؑ نے نماز کا سلام پڑھا اور ادھر جناب سعید بن عبداللہ جو زخموں سے چھلنی ہو چکے تھے زخموں کی تاب نہ لا کر زمین پر گر گئے۔
راویان اخبار کا بیان ہے کہ جناب سعیدؒ کے بدن پر تلواروں اور نیزوں کے زخموں کے علاوہ تیرہ تیر جسم مبارک میں پیوست تھے۔ گرتے ہوئے کہا: بارالٰہا! ان لوگوں پر اس طرح لعنت کر جس طرح قوم عاد و ثمود پر کی تھی اور جناب رسولؐ خدا کو میرا سلام پہنچا نیز میرے رنج والم کی ان کو اطلاع دے کیونکہ میں نے تیرے ثواب کی خاطر ذریت رسولؐ کی نصرت کی ہے۔
1 284
🔷 ذرا سوچئے! لمحہ فکریہ 🔷
آپ نے کبھی سوچا کہ امام حسن علیہ السلام اور امام حسین علیہ السلام کی پانچ چھ سال کی عمر تک تو واقعات ملتے ہیں مگر اس کے بعد تاریخ میں ان کا ذکر صرف تب ہوا جب ان کی شہادت ہوئی۔
کئی نامور اصحاب حضرت سلمان فارسی کہ جس کے بارے میں نبی کریم نے فرمایا کہ اگر علم ثریا ستارے پر بھی ہو اہل فارس وہاں پہنچ جائیں۔
حضرت ابوذر کہ جنہیں زمین پر سب سے سچا انسان قرار دیا۔
حضرت مقداد جن کی جنت مشتاق ہے۔
حضرت ایوب انصاری جو نبی کریم کے مدینہ میں میزبان تھے۔
حضرت جابر بن عبداللہ انصاری جو نبی کریم سے لے کر ان کی پانچویں نسل تک حیات رہے۔
حضرت عمار یاسر جن کی شان میں آیات نازل ہوئیں۔
حضرت بلال حبشی جو موذنِ رسول تھے۔
تاریخ ان کے بارے میں مکمل خاموش نظر آتی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ جیسے وفات نبی کریم ص کے بعد وہ اس دنیا سے غائب رہے اور بس شہادت یا وفات کے وقت دنیا میں کچھ دیر کے لئے آئے۔
آخر کہیں تو کچھ غلط ہوا ہے کہ ان شخصیات کا ذکر کرنا عیب سمجھا گیا۔
دوسری طرف جو افراد نبی کریم ص کی وفات سے سال دو سال قبل مسلمان ہوئے, ان کی سوانح عمری سے تاریخ بھری نظر آتی ہے۔
نبی کریم ص کی وفات کے بعد ایسا کیا ہوا کہ ان کی آل اور بہت سے وفادار اصحاب کو تاریخ نے مکمل نظرانداز کر دیا۔
کہاں کچھ غلط ہوا کہ نبی کریم ص کی وفات کے بعد ان کی آل کے کسی بھی فرد کی طبعی وفات نہ ہوئی۔
تمام قتل ہوئے اور قاتل بھی وہ جو ان کے جد کا کلمہ پڑھتے نہیں تھکتے تھے۔
آج چودہ صدیاں بعد بھی ہم جانتے ہیں کہ حسن و حسین علیہم السلام جنت کے سردار ہیں۔
ایسا کیا ہوا کہ جنت کے طلب گاروں نے سرداروں کو انتہائی اذیت کے ساتھ قتل کر دیا۔
مورخ نے آخر ان تمام ہستیوں کو اتنا غیر اہم کیسے سمجھا کہ تاریخِ اسلام میں ان کا حصہ ایک صحابی جتنا بھی نہیں رکھا۔
کربلا اچانک نہیں ہوئی۔
ایک طویل نفرت تھی جو دلوں میں پنپ رہی تھی۔ جوں جوں وقت گزرتا گیا, نفرت بڑھتی رہی اور ہر ہستی کے بعد دوسری ہستی پر پہلے سے زیادہ ظلم ہوتا نظر آیا۔
اتنی نفرت کہ اس مقدس گھرانے کی مطہرات پر ظلم کرنے سے بھی نہ چوکے۔
چھ ماہ کے بچے کا سر کاٹنا بھی ثواب سمجھا گیا حالانکہ بدترین دشمن کے چھ ماہ کے بچے سے بھی کوئی دشمنی کا بدلہ لینے کا نہیں سوچتا۔
امت نے تو آل رسول پر ظلم کیا ہی تھا مگر مورخین نے ان سے کہیں زیادہ ظلم کیا کہ جن کے فضائل تھے, انہیں چھپایا جبکہ ان کے دشمنوں کے فضائل سے کتابیں سیاہ کیں۔
24 ذوالحجہ کو واقعہ مباہلہ کی یاد منائی گٸی۔ اس واقعہ میں بنص قران پانچ ذواتِ مقدسہ میدان میں توحید کے گواہ بن کر پیش ہوئے اور قران مجید نےانہیں صداقت کی سند عطا کی۔
واقعہ مباہلہ کے کچھ مدت بعد ان پانچ ہستیوں میں بزرگ ترین ہیستی کا وصال ہوا جنازے میں کتنے کلمہ گو تھے؟؟
پھر 75 دن بعد اس گھر کا دوسرا جنازہ رات کی تاریکی میں اُٹھا اور چند مخلصین کی موجودگی میں بڑی خاموشی اور مظلومیت سے دفن کردیا گیا اور نشانِ قبر تک مٹا دیا گیا جو آج تک نہ مل سکا۔
پھر اسی گھرانے کا تیسرا جنازہ 40 ہجری میں کوفہ سے آدھی رات کے وقت اٹھا اور پشتِ کوفہ ریت کے ٹیلوں کے درمیان خاموشی سے دفن کر دیا گیا اور مدتوں قبر کا نشان نامعلوم رہا۔
پھراسی جماعت کے چوتھے فرد کا جنازہ 50 ہجری میں شہر مدینہ سےاُٹھا اور نانے کی مزار کی طرف چلا مگر کچھ لوگ تیروں سے مسلحہ راستے میں حاٸل ہوٸے کہ نواسے کو نانے کے پہلو میں دفن نہیں ہونے دیں گے آخر وہ جنازہ بقیع کے عوامی قبرستان میں دفن کر دیا گیا۔
پھر 61 ہجری میں اصحاب مباہلہ کے آخری فرد کا جنازہ اٹھایا بھی نہ جا سکا بلکہ جنازہ گھوڑوں کی ٹاپوں سے پامال کر دیا گیا۔
بحثیت مسلمان کیا ہم یہ حق نہیں رکھتے کہ کم از کم ہم مورخ اسلام سے یہ تو پوچھیں کہ جنکی صداقت کا گواہ خود اللہ ہے اور وہ توحیدِ خدا کے گواہ ہیں امت رسول نے انکے ساتھ یہ سلوک کیوں کیا۔؟
ہمارا یہ سوال امت مسلمہ پر قیامت تک قرض رہے گا اور اگر اس دنیا میں اس کا جواب نہ ملا تو میدان محشر میں عدالت خداوند تعالیٰ میں ہم یہ سوال اٹھاٸیں گے ؟؟؟؟؟
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 284
🔷 مجلس عزا کا ثواب 🔷
▪️حَدَّثَنِي نَصْرُ بْنُ الصَّبَّاحِ، قَالَ حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى، عَنْ يَحْيَى بْنِ عِمْرَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ، عَنْ زَيْدٍ الشَّحَّامِ، قَالَ:
كُنَّا عِنْدَ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ (ع) وَ نَحْنُ جَمَاعَةٌ مِنَ الْكُوفِيِّينَ، فَدَخَلَ جَعْفَرُ بْنُ عَفَّانَ عَلَى أَبِي عَبْدِ اللَّهِ (ع) فَقَرَّبَهُ وَ أَدْنَاهُ، ثُمَّ قَالَ يَا جَعْفَرُ! قَالَ لَبَّيْكَ جَعَلَنِيَ اللَّهُ فِدَاكَ، قَالَ: بَلَغَنِي أَنَّكَ تَقُولُ الشِّعْرَ فِي الْحُسَيْنِ (ع) وَ تُجِيدُ! فَقَالَ لَهُ نَعَمْ جَعَلَنِيَ اللَّهُ فِدَاكَ،
فَقَالَ قُلْ فَأَنْشَدَهُ (ع) [فَبَكَى] وَ مَنْ حَوْلَهُ حَتَّى صَارَتْ لَهُ الدُّمُوعُ عَلَى وَجْهِهِ وَ لِحْيَتِهِ،
ثُمَّ قَالَ يَا جَعْفَرُ وَ اللَّهِ لَقَدْ شَهِدَكَ مَلَائِكَةُ اللَّهِ الْمُقَرَّبُونَ هَاهُنَا يَسْمَعُونَ قَوْلَكَ فِي الْحُسَيْنِ (ع) وَ لَقَدْ بَكَوْا كَمَا بَكَيْنَا أَوْ أَكْثَرَ، وَ لَقَدْ أَوْجَبَ اللَّهُ تَعَالَى لَكَ يَا جَعْفَرُ فِي سَاعَتِهِ الْجَنَّةَ بِأَسْرِهَا وَ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ،
فَقَالَ يَا جَعْفَرُ أَ لَا أَزِيدُكَ! قَالَ نَعَمْ يَا سَيِّدِي،
قَالَ: مَا مِنْ أَحَدٍ قَالَ فِي الْحُسَيْنِ (ع) شِعْراً فَبَكَى وَ أَبْكَى بِهِ إِلَّا أَوْجَبَ اللَّهُ لَهُ الْجَنَّةَ وَ غَفَرَ لَهُ۔
▪️ترجمہ:
زید شحام سے روایت ہے کہ ہم کوفہ کے چند لوگوں کے ساتھ حضرت امام صادق علیہ السلام کی خدمت میں تھے، تبھی جعفر بن عفان بھی آپ علیہ السلام کے پاس آئے۔ آپ علیہ السلام نے انہیں اپنے قریب جگہ دی اور ان سے فرمایا: اے جعفر!
انہوں نے کہا: لبیک، خدا مجھے آپ پر قربان کرے۔
آپ علیہ السلام نے فرمایا: مجھے معلوم ہوا ہے کہ تم امام حسین علیہ السلام کے بارے میں شعر کہتے ہو اور بہت خوب کہتے ہو۔
انہوں نے کہا: جی، میں آپ پر قربان جاؤں۔
امام علیہ السلام نے فرمایا: تو کچھ شعر سناؤ۔
انہوں نے امام حسین علیہ السلام کی مصیبت کے بارے میں اشعار پڑھنا شروع کیا، تو امام علیہ السلام نے اس قدر گریہ کیا کہ اشک آپ علیہ السلام کے چہرے اور ریش مبارک پر جاری ہوگئے، اور جو لوگ امام علیہ السلام کے پاس بیٹھے تھے انھوں نے بھی گریہ کیا۔
امام علیہ السلام نے فرمایا: اے جعفر! واللہ یہاں پر خدا کے مقرب فرشتے حاضر تھے اور وہ حضرت امام حسین علیہ السلام کے بارے میں تمہارے اشعار سن رہتے تھے اور انھوں نے بھی ہماری طرح گریہ کیا بلکہ ہم سے زیادہ گریہ کیا۔ اور اسی وقت خدا نے تمہارے لیے جنت واجب قرار دی اور تمہارے گناہوں کو بخش دیا۔
اس کے بعد فرمایا: اے جعفر! کیا تمہیں کچھ اور بتاؤں؟
انہوں نے کہا: ضرور میرے آقا۔
امام علیہ السلام نے فرمایا: جو شخص امام حسین علیہ السلام کے بارے میں شعر کہے، اور اس کے ذریعہ خود روئے اور دوسروں کو رلائے تو اللہ اس کے لئے جنت واجب قرار دیتا ہے اور اسے بخش دیتا ہے۔
📚 رجال الكشي - إختيار معرفة الرجال، محقق / مصحح: طوسى، محمد بن الحسن؛ مصطفوى، حسن، ص۲۸۹، ح۵۰۸، في جعفر بن عفان الطائي۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 284
🖋 اب یہاں پہ واضح ھوا کہ ماتم کرنا نیک لوگوں کی سنت و سیرت ھے اور نہ کرنا برے لوگوں کی سنت۔
2️⃣1⃣ حضرت عثمان کی بیوی نائلہ اور بیٹیوں کا ماتم
📚حوالہ: ( تاریخ ابن کثیر ، ص ٢۴٩ )
3️⃣1⃣ روایت ہےکہ مولا علی علیہ السلام جب شہداء کی لاشوں پر گئے تو انہوں نے اپنی رانوں کو پیٹا۔
📚حوالہ: (تحفہ اثنا عشریہ ،ص ٦٣٨، تصنیف- حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی )
4️⃣1️⃣ جب اماں عائشہ نے وفات پائی۔ ماتم کا شور سن کر انصار اپنے گھروں سے نکل آئے۔جنازہ میں اتنا ہجوم تھا کہ لوگوں کا بیان ہے کہ رات کے وقت اتنا مجمع کبھی نہیں دیکھا گیا۔ بعض روایات میں ہے کہ عورتوں کا ازدہام دیکھ کر روز عید کے ہجوم کا دھوکا ہوتا تھا۔ سیدہ ام سلمہ نوحہ اور ماتم سن کر بولیں: عائشہ کے لیے جنت واجب ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سب سے پیاری بیوی تھیں۔
📚حوالہ: (سیرتِ عائشہ صفحہ ١۴٧)
5️⃣1️⃣ شہادت امام حسین علیہ السلام کے بعد ۔۔ قرہ بن قیس نے بیان کیا ہے کہ جب عورتیں مقتولین کے پاس سے گزریں تو وہ چلائیں اور انہوں نے اپنے رخساروں پر طمانچے مارے۔
📚حوالہ: (البدایہ والنہایہ، جلد ہشتم، ص ٢۴٧)
6️⃣1️⃣ عبدالمالک کہتا ہے میں نے قتل حسین علیہ السلام کی ندا کر دی۔ اس کو سن کر زنان بنی ہاشم نے اپنے اپنے گھروں میں جیسا نوحہ و ماتم قتل حسین علیہ السلام پر کیا میں نے کبھی نہ سنا تھا۔
📚حوالہ: (تاریخ طبری، جلدچہارم، حصہ اول، ص٢۴١)
7️⃣1️⃣ ورکانی کہتے ہیں جس دن امام احمد کا انتقال ہوا چار اقسام کے لوگوں میں ماتم اور نوحہ زنی کا ایک کہرام سا مچ گیا۔
📚حوالہ: (حلیۃ الاولیاء، حصہ نہم، ص۴٢)
8️⃣1️⃣ امام الحرمین کی وفات کے دن نیشاپور کے تمام بازار بند ہو گئے اور جامع مسجد کا ممبر توڑ دیا گیا۔ ان کے شاگرد جو چار سو کے قریب تھے سب نے دوات اور قلم توڑ ڈالے اور سال بھر تک ان کے ماتم میں مصروف رہے۔
📚حوالہ: (الغزالی، ص ١٩، مصنف علامہ شبلی نعمانی)
🔘 نتیجہ:
اوپر دیے گئے حوالہ جات کے بعد بھی اگر کوئی ناصبی، نواسہ رسول امام حسین علیہ السلام کے سوگ منانے، گریہ کرنے، نوحہ و مرثیہ اور ماتم کرنے کو بدعت سمجھتا ہے تو وہ ناصبی کم از کم اپنی عقل پر ماتم ضرور کرے۔
دعا گو: ذاکر مسافرہ شام ایاز حسین گھلو
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 284
🔷 ماتم کے ثبوت 🔷
ماتم کے ثبوت قرآن پاک اور کتب اہلسنت سے۔۔۔
آؤ ہم تمہیں دکھاتے ہیں کہ تاریخ میں کس کس نے ماتم کیا، کون کون سی ہستیوں نے شہید پر نوحہ و مرثیہ پڑھا تاکہ پھر سب پر فتویٰ لگانے میں آسانی ہو جائے۔
1⃣ قرآن مجید سے ماتم کرنے کا ثبوت
جب حضرت ابراہیمؑ کی زوجہ سارہؑ کو سو سال کی عمر میں اسحاقؑ پیدا ہونے کی خبر ملی تو یہ خبر سن کر حضرت سارہؑ کھڑی ہوئی اور
*فٙصٙکّٙتْ وٙجْھٙھٙا..... اپنا منہ پیٹ لیا۔*
📚حوالہ: (سورہ الذاریات آیت٢٩ پارہ ٢٦،ترجمہ شاہ عبدالقادر دہلوی،شاہ ولی اللہ محدث دہلوی،فتح محمدجالندھری،مولانا وحیدالزمان اہلحدیث،تفسیر کبیر امام رازی)۔
🖋قرآن مجید سے حضرت ابراہیمؑ کے سامنے ان کی بیوی کا ماتم کرنا ثابت ہے لیکن حضرت ابراہیمؑ نے منع نہیں کیا۔ بس ہمیں بھی بنص قرآن اتباع ابراہیمؑ کرنی چاہیے۔(سورہ آل عمران آیت٩۵)۔
2⃣ ماتم کرنا سنت رسولؐ (احادیث صحیحہ سے ثبوت)
بخاری میں ہے کہ حضرت امیرالمومنین علیؑ فرماتے ہیں کہ نبی کریم نے اپنی ران پر ماتم کیا۔
*یضرب فخذہ* آپؐ اپنی رانوں پر ماتم کر رہے ہیں۔
📚حوالہ: (صحیح بخاری حدیث١١٢٧ کتاب التہجد باب تحریض النبیؐ علی صلاة اللیل)۔
اس حدیث مبارکہ کی شرح میں محدث ابن حجر عسقلانی لکھتے ہیں کہ فیہ جواز ضرب الفخذ عند التاسف کہ اس حدیث سے اس بات کا جواز نکلتا ہے کہ افسوس کے وقت رانوں پر ماتم کیا جا سکتا ہے۔
📚حوالہ: (فتح الباری شرح صحیح البخاری ج٣ ص١۴ طبع کوئٹہ،ج٣ ص٩ طبع سعودی عرب)۔
🖋 جناب رسولؐ نے خود ماتم کیا۔ اگر ماتم حرام ہے تو کیا رسولؐ نے فعل حرام انجام دیا؟
3⃣ رسولؐ کے سامنے ایک صحابیؓ نے روزہ ٹوٹنے پے یضرب نحرہ و ینتف شعرہ کہ اپنے سینے پے ماتم کیا اور اپنے بال نوچے۔
📚حوالہ: (موطا امام مالک ج١ ص١٢١ باب کفارة من افطر فی رمضان،برحاشیہ مصابیح السنہ طبع قدیم مصر)۔
🖋 حضرت محمدؐ کے سامنے اس صحابی نے ماتم کیا لیکن رسولؐ نے منع نہیں کیا تو معلوم ہوا کہ ماتم کرنا حدیث تقریری کی رو سے بھی ثابت ہے۔
4⃣ حضرت آدم علیہ السلام جنت کی جدائی پر ستر سال اور اپنی خطا پر بھی ستر سال روئے اور جب آپ کے فرزند ہابیل قتل ھوئے تو آپ علیہ السلام نے چالیس سال ماتم کیا۔
📚حوالہ: (قصص الانبیاء ، امام حافظ ابن کثیر ، اردو ترجمہ مفتی فیض احمد اویسی، صفحہ ٣٧)
5⃣ کہا جاتا ھے کہ جب حضرت آدم علیہ السلام کی وفات ھوئی تو ان کے بیٹوں اور پوتوں میں چالیس ہزار آدمی تھے جنہوں نے ان کا ماتم کیا۔
📚حوالہ: (سیرتِ حلبیہ اردو ،جلد اول نصف ، صفحہ ١١۵ )
6⃣ روایت میں ہےکہ حضور پاک کو بیماری کی حالت میں دیکھ کر موذنِ اسلام حضرت بلال نے اپنا سر پیٹا۔
📚حوالہ: (مدارج النبوت، جلد ٢ ، تصنیف، حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی)
7⃣ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ھے کہ نبی کریم صلی اللہ علی و آلہ وسلم کا وصال میری گردن اور سینہ کے درمیان اور میری باری کے دن میں ہوا تھا، اس میں میں نے کسی پر کوئی ظلم نہیں کیا تھا، لیکن یہ میری سادگی اور نوعمری تھی کہ میری گود میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا وصال ھوا اور پھر میں نے ان کا سر اٹھا کر تکیہ پر رکھ دیا اور خود عورتوں کے ساتھ مل کر رونے اور اپنے چہرے پر تمانچے مارنے لگی"
[*إسناده حسن*]
📚حوالہ :
1_مسند احمد ، حدیث نمبر ٢٦٨٨٠
2_سیرت ابن ہشام ، جلد دوم، ص ۴٣٠
3_مسند ابی یعلیٰ ، حدیث نمبر ۴۵٨٦
4_تاریخ طبری ، ج ٢ ، ص ۴٠۴
5_البدائیہ و النہایۃ ، ج ۵ ، ص ٣٣٠
6_طبقات ابن سعد ، ج ٢ ، ص ٢٢٢
7_تاریخ خمیس ، ج ٢ ، ص ٦٦
8_الکامل ابن اثیر ، ج ٢ ، صفحہ ١٠٠
9_مدارج النبوت ، عبدالحق دہلوی ، ج ٢ ، ص ۵٠٠۔
8⃣ روایت ہےکہ صحابی رسول حضرت اویس قرنی نے جب حضور پاک کے دانت مبارک شہید ہونے کا سنا تو آپ نے اتباع نبوی میں اپنے تمام دانت توڑ دیئے۔
📚حوالہ ١:(تذکرہ الاولیا، تصنیف، شیخ فریدالدین عطار)
٢:(عروج ملت اسلامیہ کا فیصلہ کن مرحلہ)
9⃣ عبداللہ بن عکرمہ سے روایت ہے فرمایا: لوگوں کی بات پر تعجب ہے حضرت عمر نے نوحہ کرنے سے منع فرمایا، جبکہ خالد بن ولید پر مکہ اور مدینہ میں بنو مغیرہ کی عورتیں سات دن روتی رہیں،انہوں نے گریبان چاک کیے، چہروں پر مارا اور لوگوں کو ان ایام میں کھانا کھلایا یہاں تک کہ وہ دن گزر گئے حضرت عمر انہیں منع نہیں کرتے تھے۔
📚حوالہ: (کنزالعمال،جلد٨، حصہ پانزدہم، روایت ٣٢٩٠٨)
🔟 عاتکہ نے حضرت عمر کی وفات پر دو مرثیے پڑھے دوسرا مرثیہ کچھ اس طرح ھے:
*"اے آنکھ تو اشکباری اور ماتم کر بلکہ نجیب الطرفین امام پر اشکبار کرنے میں کوتاہی نہ کر"*
📚حوالہ: (تاریخ طبری، جلد سوم، حصہ اول، صفحہ ٢۴٢)
1⃣1⃣ "حضرت عثمان کی شہادت کے موقع پر دو قسم کے لوگ تھے *نیک لوگ ماتم کر رھے تھے اور رو رھے تھے* مگر باغی لوگ خوش ھو رھے تھے آخر میں یہ لوگ بہت پشیمان ھوئے"
📚حوالہ: (تاریخ طبری، ج ٣، حصہ اول، صفحہ ۴۴٨)
1 284
لا يبعد استثناء لبس السواد في مأتم الحسين (عليه السلام) من هذه الأخبار ل ما استفاضت به الأخبار من الأمر باظهار شعائر الأحزان
اور کالے لباس کا ام
ام حسین ع کی عزا میں پہننے کا عمومی کراہیت سے استثنی ہونا بعید نہیں کیونکہ مستفیض روایات میں غم کے اظہار کے شعار پر موجود ہیں (جن میں کالا لباس پہننا بھی ہے)
حوالہ: الحدائق الناضرة جلد ٧ ص ١١٨
یوں علمائے امامیہ کے ہاں سید الشہداء ع کی عزاداری میں کالا لباس پہننا شعار حسینی ع ہے جو بلاشک و شبہ مستحب ہے۔ اور ان کے پاس اس پر دلیل ہے، اس پر روایت ہے
المحاسن للبرقی جلد ٢ ص ٤٢٠ میں روایت منقول ہے:
عنه، عن الحسن بن طريف بن ناصح، عن أبيه، عن الحسين بن زيد، عن عمر بن على بن الحسين، قال: لما قتل الحسين بن على (ع) لبسن نساء بنى هاشم السواد والمسوح وكن لا يتشتكين من حر ولا برد وكان على بن الحسين (ع) يعمل لهن الطعام للمأتم
جب سید الشہداء ع شہید ہوئے تو بنی ہاشم کی خواتین نے کالے کپڑے پہنتیں اور وہ چادر مغطیہ پہنتیں اور وہ گرمی اور سردی کی شکایت نہیں کرتیں جب کہ امام زین العابدین ع ان کے کھانے کا انتظام کرتے تاکہ ان کے ماتم و غم چلتا رہے۔
اس کے علاوہ ایک عمومی دلیل اس عنوان سے ہے کہ اظہار حزن و غم کا طریقہ جو عرب اور دیگر جگاہوں پر عموما چلا آرہا ہے وہ کالے لباس کا پہننا ہے اور سید الشہداء ع کے غم کا اظہار کرنے پر روایات آئمہ ع ہیں چنانچہ اس عنوان سے یہ کالا لباس استثنی ہے۔
باقی جہاں تک اہلسنت ہیں ان کے ہاں مسلم ہیں کہ کالا لباس رسول اللہ پہنتے تھے اور خود اہلبیت ع بھی پہنا کرتے تھے۔
احمد بن حنبل نقل فرماتے ہے:
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، عَنِ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَمِيصَةٌ سَوْدَاءُ حِينَ اشْتَدَّ بِهِ وَجَعُهُ
عائشہ کہتی ہے کہ رسول اللہ ص جب شدید درد و الم سے دوچار تھے تو آپ نے کالا لباس اوڑھا ہوا تھا۔
حوالہ: مسند احمد، جلد ٤٣ ص ٢٧٠
ذھبی اپنی کتاب میں نقل کرتے ہے:
عاصم بن بهدلة، عن أبي رزين، قال: خطبنا الحسن بن علي وعليه ثياب سود وعمامة سوداء.
ابو رزین فرماتے ہے کہ امام حسن ع نے ہمارے سامنے خطبہ دیا جب کہ وہ کالا لباس اور کالا عمامہ پہنے ہوئے تھے
حوالہ:سير أعلام النبلاء جلد ٣ ص ٢٧٢
خلاصہ: کالا لباس عزائے سید الشہداء ع میں پہننا بالکل جائز ہے بلکہ مستحب ہے۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN
1 284
اور اس کے پہننے کا ثواب نماز میں ثواب کم ہوجانے سے زیادہ ہے، واللہ اعلم۔
آیت اللہ سیستانی فرماتے ہے:
لم تثبت الكراهة حتى في غير تلك الايام .
کالے کپڑے کے پہننا کا ایام عزا کے علاوہ بھی مکروہ ہونا ثابت نہیں ہے۔
کنز الفتاوی، باب السلوك الفردي سوال و جواب نمب ٥٥
چنانچہ فقہی مسئلہ کی حد تک ایام عزا کے علاوہ قاعدہ تسامح کے تحت بعض علماء کے نزدیک کالے لباس کا نماز میں پہننا مکروہ ہے اور بعض کے ہاں اس مکروہیت کا محل موجودہ زمانہ نہیں رہا کیونکہ محتمل بات یہ ہے کہ آئمہ علیھم السلام کے زمانہ میں یہ ظالم حکمران اور ان کے چاہنے والوں کا شعار ہو جب اب نہیں رہا اور بعض کے ہاں مطلقا اس کی کراہیت ثابت نہیں ہے۔
اب ایک سوال کیا جاسکتا ہے کہ کس دلیل کے تحت اس کالے کپڑے کو صرف اس زمانہ میں برا مانا گیا ہے اور اب کیوں نہیں تو دیکھیں خود امام اہلسنت احمد بن حنبل کے ہاں بھی کالے کپڑے پہننا اس وقت مکروہ ہے جب وہ ظالم حکمران اور اس کی فوج کا شعار ہو۔ چنانچہ ابن تیمیہ کہتے ہے:
وقد كره أحمد رضي الله عنه لبس السواد في الوقت الذي كان شعار الولاة والجند
احمد بن حنبل رضی اللہ عنہ نے کالے کپڑے کو مکروہ جانا ہے اس وقت جب یہ حکمرانوں اور فوج کا شعار ہو۔
حوالہ: شرح العمدة لشيخ الإسلام ابن تيمية ص ٣٨٥
لہذا اگر آپ روایات کو لیجئے جن میں اہلبیت ع نے منع کیا ہے تو اس میں بعض جگہ وجہ بھی بتائے گئی ہے۔
عن أبي عبد الله عليه السلام قال: أوحى الله عزوجل إلى نبي من أنبيائه قل للمؤمنين لا تلبسوا لباس اعدائي ولا تطعموا طعام أعدائي ولا تسلكوا مسالك أعدائي فتكونوا أعدائي كما هم أعدائي.
امام صادق ع سے منقول ہے کہ اللہ نے اپنے انبیاء میں سے ایک نبی کو وحی کی کہ وہ مؤمنین سے کہیں کہ وہ میرے دشمن کے لباس جیسا نہ پہنیں، ان جیسے مختص کھانے نہ کھائیں، اور میرے دشمنوں کے طریقے پر نہ چلیں کہ اگر ایسا نہ کیا تو مبادا کہ کہی وہ میرے دشمن نہ ہوجائیں جیسے وہ میرے دشمن ہیں
حوالہ: علل الشرائع جلد ٢ ص ٣٤٨
اس روایت کا مفاد پتا چلا کہ چونکہ عباسیوں کے زمانہ میں ان کا شعار تھا تو اس وجہ سے عین ممکن ہے کہ اس وقت اس کے تحت منع کیا جاتا ہو
ان حوالوں سے ہم نے مختلف اشکالات کے جوابات دئیں ہیں۔ ائے ہمارے علاقہ برصغیر میں اکثریت رہنے والے احناف کی رائے سے استفادہ کرتے ہیں:
شیخ علاء الدین الحنفی فرماتے ہے:
وَلَوْ اجْتَمَعَ الْمَوْتَى الْمُسْلِمُونَ وَالْكُفَّارُ يُنْظَرُ إنْ كَانَ بِالْمُسْلِمِينَ عَلَامَةٌ يُمْكِنُ الْفَصْلُ بِهَا يُفْصَلُ، وَعَلَامَةُ الْمُسْلِمِينَ أَرْبَعَةُ أَشْيَاءَ: الْخِتَانُ وَالْخِضَابُ، وَلُبْسُ السَّوَادِ وَحَلْقُ الْعَانَةِ
اگر مسلمان او کافروں کے مردے ایک جگہ ہوں (اور ان میں تشخص کرنا مقصود ہو) تو مسلمانوں کی عموما کچھ علامات ہوتیں ہیں جن سے ان دو کے فرق کو دیکھا جاسکتا ہے۔ اور وہ مسلمانوں کی علامات چار ہیں ١، ختنہ شدہ ہونا ٢، خضاب کا استعمال ٣، کالا لباس پہننا ٤، شرمگاہ کے بالوں کی تحلیق کرنا۔
حوالہ: بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع جلد ١ ص ٣٠٣
علامہ سرخسی حنفی نے تو سیدھی بات کہی کہ کالے کپڑے پہننا علامات مسلمان ہیں اور کفار کالے نہیں پہنتے۔۔ عبارت کا ترجمہ نہیں کرتا بلکہ فقط عربی عبارت عرض ہے:
وَأَمَّا السَّوَادُ مِنْ عَلَامَاتِ الْمُسْلِمِينَ جَاءَ فِي الْحَدِيثِ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دَخَلَ مَكَّةَ يَوْمَ الْفَتْحِ وَعَلَى رَأْسِهِ عِمَامَةٌ سَوْدَاءُ» وَقَالَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «إذَا لَبِسَتْ أُمَّتِي السَّوَادَ فَابْغُوا الْإِسْلَامَ» وَمِنْهُمْ مِنْ رَوَى فَانْعَوْا وَالْأَوَّلُ أَوْجَهُ فَقَدْ صَحَّ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَشَّرَ الْعَبَّاسَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - بِانْتِقَالِ الْخِلَافَةِ إلَى أَوْلَادِهِ بَعْدَهُ وَقَالَ: مِنْ عَلَامَاتِهِمْ لُبْسُ السَّوَادِ»، وَالْكُفَّارُ لَا يَلْبَسُونَ السَّوَادَ
حوالہ: المبسوط للسرخسی، جلد ١٠ ص ١٩٩-٢٠٠
چنانچہ ان عبارات سے واشگاف پتہ چلا کہ کالے لباس کو پہننا علامات مومن ہیں۔
اب آتے ہیں کہ کالے کپڑے پہننے پر کہ چونکہ کالے کپڑے کے پہننے کی نہی کراہیت پر روایت بھی نقل کیں گئیں ہیں مصادر امامیہ سے تو ان ہی مصادر میں وہ روایات بھی ہیں جن میں سید الشہداء ع کے غم میں اہلبیت ع اور محبین نے کالے کپڑے پہننے۔ اور فقہاء امامیہ میں اس پر کوئی اختلاف نہیں کہ عزائے سید الشہداء ع میں کالے کپڑے پہننا شعار حسینی ع کے عنوان سے بہترین عمل ہے اور اگر جہاں منع لبس السواد موجود ہے (جن کے نزدیک کراہیت ثابت ہے) تو سید الشہداء ع کا غم اس سے مستثنی ہے۔
شیخ یوسف البحرانی کا قول عموما علمائے امامیہ نقل کرتے ہیں تو ان علماء کی تاسی میں نقل کئے دیتا ہوں:
1 284
🔷 کالا لباس پہننا 🔷
ایام عزا میں کالا لباس پہننا مستحب (باعثِ ثواب) ہے۔
کچھ اہلسنت آج کل شیعہ کتابوں میں موجود چند ضعیف روایات پیش کرتے ہیں اور پھر یہ کہتے ہیں کہ دیکھو کالا لباس پہننے کی ممانعت تو خود شیعوں کی کتابوں میں موجود ہے.
جو روایات نقل کی جاتی ہیں لبس السواد کی مکروہیت پر (یعنی کالے لباس کے پہننے پر) تو آئیے ان کو نقل کرتے ہے اور ان کی علمی حیثیت کا تعین کیا جاتا ہے۔
پہلی: امام صادق ع سے منقول روایت کہ یہ دوزخیوں کا لباس ہے (لا تصل فيها فانها لباس أهل النار.)
جواب: یہ روایت شیخ صدوق نے مرسلا من لايحضره الفقيه جلد ١ ص ٢٥١ میں نقل کی ہے اور علل الشرائع میں مسند طریق سے نقل کی ملاحظہ ہو علل الشرائع جلد ٢ ص ٣٤٦ اور اس کی سند یوں ہے:
- أبى رحمه الله قال: حدثنا محمد بن يحيى العطار عن محمد بن احمد عن سهل بن زياد عن محمد بن سليمان عن رجل عن ابى عبد الله (ع)
واضح طور سے اس کی سند میں ارسال ہے کہ راوی جس نے امام صادق ع سے روایت نقل کی وہ غیر موسوم ہے۔ دیگر اس روایت کی سند میں سھل بن زیاد اور محمد بن سلیمان پر کلام ہے۔ علی کل حال اس روایت کی سند ضعیف ہے۔
دوسری: امام علی ع سے منقول روایت کہ کالا لباس فرعون کا لباس ہے (لا تلبسوا السواد فانه لباس فرعون.)
جواب: اس روایت کو شیخ صدوق نے مرسلا من لايحضره الفقيه جلد ١ ص ٢٥١ میں نقل کیا ہے اور علل الشرائع میں مسند طریق سے نقل کی ملاحظہ ہو علل الشرائع جلد ٢ ص ٣٤٧ اور اس کی سند یوں ہے:
وبهذا الاسناد عن محمد بن احمد عن محمد بن عيسى اليقطينى عن القاسم ابن يحيى عن جده الحسن بن راشد عن ابى بصير عبد الله (ع) قال: حدثنى ابى، عن جدى، عن ابيه عن أمير المؤمنين (ع) قال
اس کی سند میں تامل ہے کیونکہ اس میں حسن بن راشد ہے جو مختلف فیہ راوی ہے اور محمد بن عیسی الیقطینی بھی مختلف فیہ راوی ہے۔ البتہ ہمارا کلام حسن بن راشد کے لئے ہے اور ہمارے نزدیک جو مبنی زیادہ محکم ہے اس کے تحت راوی مجہول الحال ہے۔
تیسری: امام صادق ع کی روایت کہ رسول ص تین موارد کے علاوہ کالے کپڑے کو مکروہ جانتے تھے۔ (كان رسول الله صلى الله عليه وآله يكره السواد إلا في ثلاثة العمامة والخف والكساء.)
جواب: یہ روایت شیخ صدوق نے مرسلا من لايحضره الفقيه جلد ١ ص ٢٥١ میں نقل کی ہے، الکافی جلد ٣ ص ٤٠٣۔ البتہ علل الشرائع جلد ٢ ص ٢٤٧ میں سند کے ساتھ نقل کی ہے۔
الکافی کی سند: عدة من أصحابنا، عن أحمد بن محمد رفعه، عن أبي عبد الله (عليه السلام) قال
علل الشرائع: وبهذا الاسناد عن محمد بن احمد باسناده يرفعه إلى ابى عبد الله (ع) قال:
اس سند میں واضح طور پر ارسال موجود ہے۔۔ راوی اور امام صادق ع کے درمیان واسطہ موجود نہیں۔
چوتھی: حذیفہ بن منصور کی روایت جس میں امام صادق ع کو جب عباسی خلیفہ کی طرف سے بلایا جاتا ہے تو آپ کالے لباس کو اہل نار کا لباس کہتے ہیں۔
جواب: اس روایت کو شیخ صدوق مرسلا من لايحضره الفقيه جلد ١ ص ٢٥٢ میں نقل کیا ہے اور مسندا علل الشرائع جلد ٢ ص ٣٤٧ میں نقل کیا ہے بایں سند:
وبهذا الاسناد عن محمد بن احمد عن الحسن بن الحسين اللؤلؤي عن محمد بن سنان، عن حذيفة بن منصور قال: كنت عند ابى عبد الله
سند میں محمد بن سنان مشہور ضعیف راوی موجود ہے۔۔ اگرچہ اس روایت کو مان بھی لیا جائیں تو ہمارے لئے مسئلہ نہیں کیونکہ اس روایت میں چونکہ عباسیوں نے کالے لباس کو اپنا شعار بنایا تھا تو اس معھود عنوان سے کالے لباس کو جہنمیوں (عباسیوں) کا گردانا گیا ہے۔ یہ روایت تو ہماری موید ہے نہ کہ مخالف۔
چنانچہ چیدہ عنوان سے یہی روایات نقل کیں جاتیں ہیں اور ہم نے ان کا جواب دے دیا ہے، آئے اب ہم دو بزرگ مراجعین کرام کے فتاوی نقل کئے دیتے ہیں جو کالے لباس پر ہیں
آیت اللہ جواد تبریزی ایک سوال کے جواب میں فرماتے ہے:
لم يثبت كراهية لبس السواد لا في الصلاة ولا في غيرها. نعم، ورد في بعض الروايات ما يستفاد منها كراهية لبس السواد، ولكنها ضعيفة السند، ومع الإغماض عن ضعفها فالكراهة في الصلاة بمعنى كونها أقل ثواباً، ولبس السواد في عزاء الحسين والأئمة (عليهم السلام) لأجل إظهار الحزن وإقامة شعائر المذهب مستحب نفسي، وثوابه أكثر من نقص الثواب في الصلاة، واللّه العالم.
کالے کپڑے کی پہننے کی کراہیت چاہے نماز میں ہو یا نماز کے علاوہ وہ ثابت نہیں۔ ہاں البتہ کچھ روایات سے اس کپڑے کا پہننے کی مکروہیت کا اسخراج کیا جاسکتا ہے لیکن وہ تمام ضعیف سند پر مشتمل ہیں۔ اور اگر اس ضعف سند سے چشم پوشی بھی کی جائے تو نماز میں کراہیت سے مراد نماز میں ثواب کا کم ہونا ہے (یاد رہے عبادات میں کسی چیز کا مکروہ ہونا اس عبادت کا عدم تقرب نہیں بلکہ قلت ثواب ہے از خیر طلب) اور ایام عزائے حسینی ع و آئمہ علیھم السلام میں کالے کپڑے کا پہننا اظہار غم اور شعائر مذھب کو قائم کرنے کے عنوان سے ہوتا ہے جو خود اپنے عمل کے عنوان سے مستحب ہے۔
1 284
🔷 حبیب بن مظاہر کو امام ع کا خط 🔷
محرم کے ایام میں عموما ایک "خط" گردش کرنے لگتا ہے جو کہ امام حسین ع کی جانب سے حبیب بن مظاہر اسدی کو بھیجا گیا ہوتا ہے۔ اس خط کا متن یہ نقل ہوتا ہے:
حبیب سلام ہو تم پر،
شاید تمہیں معلوم نہیں کہ ہم دو محرم سے کربلا پہنچ چکے ہں میرے ساتھ اس عالم غربت میں میرے اہلخانہ اور بچے بھی ہیں ہمیں چاروں طرف سے دشمنوں نے گھیر لیا ہے اگر بے وطنوں کی مدد کرنا چاہتے ہو تو عصر عاشور سے پہلے کربلا پہنچ جانا ورنہ عصر قیامت ملاقات ہوگی۔
والسلام۔
تمہارا بچپن کا ساتھی
حسین بن فاطمہ
اگر ہم مقاتل کی کتب کا مطالعہ کریں، تو ہمیں کسی بھی معتبر و مستند مقتل کی کتب میں ایسا کوئی خط نہیں ملتا جسکا یہ متن ہو۔ جو تصویر پھیلائی جاتی ہے اس میں بھی اسکا کوئی حوالہ درج نہیں۔ اسکے أسلوب میں بھی اشکالات ہیں۔ خصوصا ایسے الفاظ جیسے "تمہارا بچپن کا ساتھی" خط کے آخر میں لکھنا اور آخر میں اپنا نام لکھنا، جبکہ اس زمانے میں عرب میں اس أسلوب اور طرز پر خطوط لکھنے کا رواج نہیں تھا۔ ہاں، یہ بات درست ہے کہ اس خط کی بجائے ایک اور خط منقول ہے جو کہ بعض متأخر کتب میں نقل ہوا ہے، وہ یہ ہے:
مِنَ الحُسَينِ بنِ عَلِيٍّ بنِ أبي طالبٍ إلى الرَّجُلِ الفَقيهِ حَبيبِ بنِ مُظاهِر: أمَّا بعدُ يا حبيب؛ فَأنتَ تَعلَمُ قَرابَتَنا مِن رَسولِ اللّه ِ صلى الله عليه وآله، وَأنتَ أَعرَفُ بِنا من غَيْرِكَ، وأنتَ ذُو شيمَةٍ وغَيْرَةٍ، فَلا تَبخَل عَلَينا بِنَفسِكَ، يُجازيكَ جَدِّي رَسولُ اللّه ِ صلى الله عليه وآله يَومَ القِيامَةِ.
حسین بن علی بن ابی طالب کی جانب سے مردِ فقیہ حبیب بن مظاہر کو خط: اما بعد، اے حبیب! تم رسول اللہ ص سے ہماری رشتہ داری جاتے ہو، اور تم دوسرے کی نسبت زیادہ پہچانتے ہو ہمیں۔ اور تم اچھی صفت والے اور غیرتمند ہو۔ تو تم بخل نہ کرو ہمارے معاملے میں، میرے جد رسول اللہ ص تمہیں بروز قیامت جزائے خیر دیں۔ (1)
اس خط کی کوئی سند نہیں ہے۔ مگر اسکے استناد سے قطع نظر، کم از کم اسکا وجود ہے کتب میں چاہے متأخر کتب میں ہی صحیح۔ کچھ متن کے اختلاف سے کتاب فرسان الهيجاء میں شیخ محلاتی لکھتے ہیں:
أقول : لا أستحضر الآن بخلدي المصدر الذي عثرت على الرواية التالية فيه وهي أنّ الحسين عليه السلام لمّا نزل كربلاء كتب كتاباً إلى محمّد بن الحنفيّة وآخر إلى الكوفة ، وكتب كتاباً خاصّاً إلى حبيب بن مظاهر وفيه : بسم الله الرحمن الرحيم ، من الحسين بن عليّ إلى الرجل الفقيه حبيب بن مظاهر الأسدي ، أمّا بعد ، فقد نزلنا كربلاء وأنت تعلم قرابتي من رسول الله فإن أردت نصرتنا فاقدم إلينا عاجلاً ... ولكن كيف وصلت هذه الرسالة إلى حبيب، علم ذلك عند الله، لأنّ الطرق جميعها مأخوذة بالرصد والعدوّ قد أحاط بهم.
میں کہتا ہوں: مجھے یاد نہیں ہے کہ کس مصدر میں مجھے یہ درج ذیل روایت ملی ہے، یہ ہے کہ امام حسین ع جب کربلاء آئے تو انہوں نے محمد بن حنفیہ کو ایک خط لکھا اور ایک کوفہ کی جانب، اور ایک خاص خط انہوں نے حبیب بن مظاہر کو لکھا جس میں تھا: بنام خدا جو نہایت مہربان اور رحم کرنے والا ہے، حسین بن علی کی جانب سے مرد فقیہ حبیب بن مظاہر اسدی کو۔ اما بعد، ہم کربلاء آ گئے ہیں اور تم رسول اللہ ص سے میری رشتہ داری جانتے ہو، اگر تم ہماری مدد کرنا چاہتے ہو تو جلدی ہمارے پاس آجاؤ۔۔۔ لیکن یہ پیغام حبیب تک کیسے پہنچا، اسکا علم اللہ ہی کے پاس ہے، کیونکہ سب کے سب رستوں پر نگران موجود تھے اور دشمن نے اسکو گھیر لیا تھا۔ (2)
اس خط کو صاحب کتاب نے اپنی یاد داشت سے اسکو نقل کیا ہے جس سے اس کی نقل میں خطا کا امکان ہے اور درست متن پہلا ہی ہے جو کہ بیشتر کتب میں موجود ہے، ساتھ ہی شیخ محلاتی کا اشکال بھی معقول اور غور طلب ہے۔ لیکن جو خط سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہا ہے وہ من گھڑت اور بے بنیاد ہے، اسکا کوئی وجود نہیں معتبر کتب میں۔ براہ کرم معصومین سے کسی بھی چیز کو نسبت دینے یا شیئر کرنے سے پہلے اسکی تصدیق کروا لیا کریں۔
تحریر: سید علی اصدق نقوی
📚 مآخذ:
(1) وسيلة الدارين في أنصار الحسين، ص 120 – 121
(2) فرسان الهيجاء، 1، ص 124۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 284
🔷 جھوٹے مصائب کا آغاز 🔷
جھوٹے مصائب کا آغاز کب اور کہاں سے شروع ہوا از نظر استاد آیت اللہ شہید مرتضی مطہری۔۔۔
جھوٹے مصائب والی تاریخی کتب کا تعارف...
(حصه اول)
🔪کتاب: روضة الشھداء
💂تالیف: ملا حسین کاشفی
ملا حسین کاشفی نے یه کتاب 500 سال قبل لکھی. اس بندے کے بارے میں آج تک پته نه چل سکا که سنی تھا یا شیعه کیوں که یه سبزوار ایران میں ھوتا تو خود کو شیعه بتاتا اور جب ھرات افغانستان جاتا تو کہتا میں سنی هوں. (مفاھمتی پالیسی)
ان صاحب نے ایسی اندھیاں ماری هیں که پنجاب کے بڑے بڑے ذاکر انھیں دیکھتے تو قدموں میں گر جاتے.
یه ملا کاشفی وه پہلا شخص ہے جس نے:
👋 بیبی صغری (س) کو بیمار کہا اور کربلا میں لکھنے کی بجائے جھوٹ لکھا که مدینه میں تھیں. سند بھی نہیں دی کس تاریخ کی کتاب سے یه بات لی.
👋بیبی لیلا (س) مادر جناب علی اکبر (ع) کو کربلا میں موجود لکھا اور بہت رونا دھونا اور فضول باتیں ان (س) سے منسوب کیں.
👋 یه وه پہلا شخص هے جس نے شھزاده قاسم (ع) کی شادی کا جھوٹا قصه لکھا.
👋 پہلی بار جعفر جنی اور قاصد امام حسین (ع) کیلئے خط لایا جیسی جھوٹی باتیں لکھیں.
👋 اس نے اور بھی بہت جھوٹ لکھے جن سے آپ کو آگاه کرتا رهوں گا.
اس کی اور بھی کتب هیں خود بھی مجلس پڑھتا تھا.
💡بتی سوال...
یار ٹھیک هے! اس نے جھوٹ لکھا, بیشک ھم نے مانا لیکن اس ایک بندے کی جھوٹی بات اتنی مشھور کیسے هوئی؟؟؟
اچھا سوال هے...
شھید مطھری کا جواب سنئے۔ لکھتے هیں ایران میں ذاکری کو "روضه خوانی" کہا جاتا هے آج تک... روضه خوانی نه عربوں میں تھی, نه کسی امام کے دور میں تھی, نه ھندوستان میں (شاعری کو روضه خوانی سے مخلوط مت کیجے گا الگ صنفیں هیں) روضه خوانی کی شروعات بھی اسی کتاب "روضة الشھداء" کی تالیف کے بعد شروع هوئی. روضه مطلب روضة الشھداء کتاب, خوانی مطلب پڑھنا. اس کتاب کے مصائب جو ذاکر پڑھتا اسے کہتے "روضه خوان" اور اس عمل کو روضه خوانی کہا جانے لگا.
یه روضه خوانی گھومتی پھرتی چپس اور سموسے ٹھونستی ھندوستان آئی اور ذاکری کہلانے لگی اور اس طرح بھولی عوام سر و دھن کے چکر میں جھومتی جھومتی جا کر جھوٹ کے اندھیرے کنویں میں گری که جہاں سے اسے نکالنے کی بات کرو تو الٹا همیں هی جھوٹا کہتی هے. .
ملتمس دعا: محمد زکی حیدری
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 284
علامہ حلی نے کہا
جیسے نکاح نکاح نکاح کہنے سے نکاح نہیں ہوتا
ویسا ہی طلاق طلاق طلاق کہنے سے
طلاق نہیں ہوتی
سب چپ ہوگئے
علامہ حلی نے کہا
بادشاہ سلامت تمہارا نکاح باقی ہے
دین اسلام عزتوں کے تحفظ کے لئے ہے
عزتوں کی نیلامی کے لئے نہیں
بادشاہ اٹھا
اور علامہ حلی کے ہاتھ چومنے لگا
اور کہا
علامہ صاحب
اگر آج آپ نہ ہوتے تو میں ہلاک ہو گیا ہوتا
علامہ حلی مسکرا کر کہنے لگے
بڑے بڑے علی سے بھی کہتے رہے
اگر آج علی ع نہ ہوتا تو ہم ہلاک ہو جاتے
۔
بادشاہ علامہ حلی کے قدموں میں بیٹھ گیا
اور کہا تم نے آج میری عزت بچائی ہے
ملک ایران کی خزانوں کی اتنی قیمت نہیں
جتنی قیمتی میری عزت ہے
حلی دل کر رہا ہے
میں بادشاہی تاج تمہارے سر پر رکھ دوں
اور تمہارے قدموں میں بیٹھ جاؤں
عزت میری بہت قیمتی تھی جو تم نے بچالی
علامہ حلی نے کہا
اقتدار نہ ہمارے اماموں کو پسند تھا
نہ ہمیں پسند ہے
ہماری ڈیوٹی صرف تبلیغ کرنا ہے
جو میں نے کی ہے
بادشاہ سلامت
اب مجھے اجازت دے دیں
میں جانا چاہتا ہوں
باشاہ نے کہا
علامہ حلی صاحب
ایسے نہیں جاؤ
اپ ھمیں کلمہ پڑھاتے جاؤ
علامہ نے کہا کونسا کلمہ ؟
بادشاہ نے کہا جو تم پڑھتے ہو
علامہ حلی نے کہا
ہم تو لا الہ الا اللہ محمد الرسول اللہ
کےبعد
علی ولی اللہ و وصی رسول اللہ وخلیفتہ بلافصل
پرھتے ہیں
بادشاہ نے کہا میں نے بھی یہ کلمہ پڑھنا ہے
علامہ حلی نے کہا
آپنے یہ کلمہ کیوں پڑھنا ہے ؟
بادشاہ نے کہا
میں بھی اس فرقہ میں آنا چاہتا ہوں
جہاں عزتوں کا تحفظ ہو
بادشاہ نے کہا
صرف میں ہی یہ کلمہ نہیں پڑھوں گا
یہ سب ایرانی کلمہ پڑھیں گے
علامہ حلی نے کہا
یہ کیوں پڑھیں گے ؟
بادشاہ نےولی کہا
یہ بھی سب عزت والے ہیں
تب بادشاہ کے دربار میں
سب نے فقہ جعفریہ میں شمولیت اختیار کرلی۔
🔘 یہ ایک مشہور واقعہ ہے جو علامہ حلی کے مشہور مناظروں میں سے ایک ہے۔ اور یہ واقعہ علامہ حلی کا تاریخی (مشہور) مناظرہ کے نام سے یو ٹیوب اور انٹرنیٹ پر بھی موجود ہے۔
📚 میرزا محمد علی مدرس تبریزی اپنی کتاب ریحانۃ الادب میں علامہ مجلسی سے کتاب من لا یحضرہ الفقیہ کی شرح میں اس سے ملتا جلتا واقعہ لکھتے ہیں۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 284
علامہ حلی نے کہا
میں بھولتا ہوں
مجھے لگتا ہے امام مالک نے
جوتا چوری کیا تھا
فقہ مالکی کا عالم دین کھڑا ہوا
اور کہا بادشاہ سلامت
یہ جھوٹ بولتا ہے
امام مالک تو
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے 120 سال
بعد پیدا ہوئے ہیں
علامہ حلی جھوٹ بول رہا ہے
علامہ حلی کہتے ہیں
پھر ایک ہی رہ گیا
مجھے لگتا ہے پھر
احمد بن حنبل ہوگا
احمد بن حنبل تھے
جس نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے
جوتے چوری گئے تھے
فقہ احمد بن حنبل کے عالم دین اٹھے
اور کہا احمد بن حنبل تو
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے ڈیڑھ سو سال
بعد پیدا ہوئے
انہوں نے کیسے جوتے چوری کر لیے ؟
بادشاہ کو یہ سن کر بہت غصہ آیا
اور کہا میں نے اپنا مسئلہ حل کرنے کے لئے بلایا تھا
اور تم لوگ اپنا مسئلہ لے کر بیٹھ گئے ؟
بادشاہ نے کہا
حلی تم کون ہو ؟
تم تو چھوٹے بچے ہو
اور وہ عالم دین اتنی بڑی عمر کے لوگ ہیں
اور۔ تم ان کے سامنے ان کے اماموں کی توہین کر رہے ہو
۔
بادشاہ نے کہا
ان کو چھوڑو میرے مسئلے کا حل بتاؤ
جس کے لیے میں نے بلوایا تھا
علامہ حلی نے کہا
کون سا مسئلہ ؟
بادشاہ نے کہا طلاق والا مسئلہ
جو میں نے اپنی بیوی کو غصے میں دی
علامہ حلی نے کہا
ویسے میں نے آپ کو بتا تو دیا ہے
لیکن آپ کو سمجھ نہیں آئی
بادشاہ نے کہا تم نے کیا بتایا ہے؟
علامہ حلی نے کہا
تم دین محمدی اور شریعت ان سے لے رہے ہو
ان سے مسئلے پوچھ رہے ہو
جن میں سے کسی ایک کا بھی امام
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں موجود ہی نہیں تھا پیدا ہی نہیں ہوا تھا
کوئی ستر سال
کوئی اسی سال
کوئی 120سال
تو کوئی ڈیڑھ سال بعد پیدا ہوا ہے
ان کو کیا پتا
طلاق کیسے ہوتی ہے
نکاح کیسے ہوتا ہے ؟
حلال کیا ہے
حرام کیا ہے
ان کو کیا پتا جائز کیا ہے ۔اور ناجائز کیا ہے ؟
بادشاہ سنتے ہی کھڑے ہوگئے
جیسے کسی کو کانٹ لگ جاتا ہے
تو پہلے علامہ حلی کو بچہ کہہ رہے تھے
وہ بادشاہ اب علامہ حلی کو
علامہ صاحب کہا کر بلانے لگا
اور بادشاہ علامہ حلی کے پاس آئے
اور ماتھا چوم کر کہا
جو بات مولوی نے مناظرہ کرکے نہیں مانتے
وہ تم نےجوتوں سے منوالی
دربار میں موجود سب لوگوں نے کہا
جس فقہ کا بچہ اتنا سمجھ دار ہو
ان کے عالم کتنے سمجھدار ہوں گے
بادشاہ نے پھر علامہ حلی سے مخاطب ہو کر کہا
تمہاری کونسی فقہ ہے ؟
کہا فقہ جعفریہ
بادشاہ۔ نے کہا
آپ کے فقہ کے بانی
حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے کتنے سال بعد پیدا ہوئے ؟
علامہ حلی نے کہا
ان کے اماموں کے تاریخ پیدائش میں نے بتائی
ان سے کہو
میرے امام کی تاریخ بتائیں !
سب کے سر شرم سے جھک گئے
علامہ حلی نے کہا میرا امام وہ ہے
جس نے آنکھیں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھوں میں کھولی ہیں
میرا تو امام وہ ہے
جس کو گھٹی نبی نے اپنی زبان سے دی
میرا امام وہ ہے جو کھیلا نبی کے ہاتھوں میں ہے
میرا امام وہ ہے
جو پیدا ہی کعبے میں ہوا
۔
بادشاہ نے دوسرے مولوی سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا
کیا یہ ٹھیک کہ رہا ہے ؟
مولویوں نے آگے سے کہاں
( آہو ) ٹھیک کہ رہا ہے
بادشاہ نے کہا
واقعی۔ اس کے امام کو گھٹی
حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے دی ؟
سب نے کہا جی ہاں
بادشاہ نےولی کہا
اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ اس کے امام نے جو دین لیا
وہ سیدھا محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے لیا
سب نے کہا جی ہاں
بادشاہ علامہ حلی سے پھر مخاطب ھوا
اور کہا
جنہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان چوس چوس کر دین حاصل کیا ان کی فقہ میں کیا غصے میں طلاق ہو جاتی ہے ؟
علامہ حلی نے کہا نہیں
فقہ جعفر صادق میں غصے میں دی جانے والی طلاق
طلاق نہیں ہوتی
صرف کہہ دینے سے طلاق نہیں ہوتی
ساتھ کھڑے دوسرے فقہ کے علما بولے
آپ دلیل سے جواب دیں
تمام مولوی پریشان ہوگئے
اور بادشاہ کی جان میں جان آ گئی
علامہ حلی نے کہا کہ
چار مولوی ہیں
اس لیے
چار دلیل دیتا ہوں
بادشاہ نے کہا تم ایک دلیل دو
میرا کام ہو جائے گا
علامہ حلی نے کہا
بادشاہ سلامت جو شرطیں دین محمدی میں نکاح کے وقت ہیں وہی شرطیں دین محمدی میں طلاق کے وقت بھی ہیں
غصے میں طلاق نہیں ہوتی
اس کی پہلی دلیل
جیسے غصے میں نکاح نہیں ہوتا
ویسے غصے میں طلاق نہیں ہوتی
۔
دوسری دلیل
جیسے نکاح بغیر عربی زبان کے نہیں ہوتا
ویسے طلاق بھی عربی زبان کے بغیر نہیں ہوتی
مطلب فارسی اردو پنجابی سرائیکی پشتو انگلش زبان میں طلاق نہیں ہوتی
تیسری دلیل
جیسے نکاح کے وقت دو عادل گواہ کا ہونا ضروری ہے
ویسے ہی طلاق کے وقت بھی
دو عادل گواہوں کا ہونا ضروری ہے
بادشاہ سے کہا جب طلاق دے رہے تھے
تو دو گواہ تھے ؟
بادشاہ نے کہا
اگر دو گواہ ہوتے
تو ہمیں چھڑوا نہ لیتے
لڑائی کرنے سے
چوتھی دلیل
علامہ حلی نے کہا
پوچھو ان مولویوں سے
کیا نکاح نکاح نکاح
کہنے سے نکاح ہوجاتا ہے ؟
سب نے کہا نہیں
