Sobain|سوبین بلوچ
Открыть в Telegram
Freelance journalist from war zone Balochistan
БольшеСтрана не указанаКатегория не указана
259
Подписчики
+124 часа
+77 дней
+2230 дней
Архив постов
17 مارچ 2026
Ref. No. BLF/Mar2026/00040
تمپ فوجی کیمپ اور واشک میں ڈیتھ اسکواڈ پر حملے میں فوج اور ڈیتھ اسکواڈ کے تین تین اہلکار ہلاک، 4 زخمی، ایک گرفتار اور اسلحہ و ساز و سامان ضبط۔ میجر گہرام بلوچ
بلوچستان لبریشن فرنٹ کے سرمچاروں نے 16 مارچ 2026 کو تمپ کے علاقے ملانٹ میں قائم قابض پاکستانی فوج کے کیمپ پر ایک مربوط و منظم حملہ کیا۔ سرمچاروں کے دستوں نے حکمت عملی کے تحت دشمن کے کیمپ کو مختلف اطراف سے گھیرے میں لے کر انتہائی قریب سے شدید حملہ کردیا۔
اس کارروائی میں سرمچاروں نے بی-10 82 ایم ایم راکٹ، اسنائپرز، آر پی جیز اور گرنیڈ لانچرز سمیت دیگر بھاری ہتھیاروں سے قابض فوج کے کیمپ کو موثر طور پر نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں قابض فوج کے کم از کم تین اہلکار موقع پر ہلاک اور چار شدید زخمی ہو گئے۔
سرمچاروں نے نگرانی کی غرض سے کیمپ پر نصب کیمروں کو بھی نشانہ بنا کر تباہ کر دیا، اور بھاری گولہ باری سے کیمپ کی اہم تنصیبات کو شدید نقصان پہنچایا۔ بعدازاں فوج کے ہلاک و زخمی اہلکاروں کی منتقلی کے لیے ہیلی کاپٹر آگئے۔
ایک اور کارروائی میں، سرمچاروں نے 17 مارچ 2026 کی صبح 7 بجے واشک کے علاقے گراڑی میں تنظیمی انٹیلی جنس کی مصدقہ اطلاعات پر ریاستی سرپرستی میں سرگرم ڈیتھ اسکواڈ کارندوں کے خلاف ایک کامیاب کارروائی سرانجام دی۔ قابض فوج کی سرپرستی میں سرگرمِ عمل ڈیتھ اسکواڈ کے مسلح کارندے سی پیک شاہراہ پر عارضی ناکہ بندی قائم کر کے وہاں سے گزرنے والے گاڑیوں کے ڈرائیوروں کو ہراساں کرنے اور ان سے جبری بھتہ وصولی میں مصروف تھے کہ سرمچاروں کے ایک دستے نے جائے وقوعہ پر پہنچ کر ڈیتھ اسکواڈ کے کارندوں کو گھیرے میں لے کر نشانہ بنایا۔ اس کارروائی کے نتیجے میں ڈیتھ اسکواڈ کے تین کارندے ہلاک ہو گئے، جبکہ ایک کارندے کو سرمچاروں نے گرفتار کر لیا جو اس وقت تنظیم کی حراست میں ہے۔
یہ مسلح گروہ مقامی سردار علی حیدر محمد حسنی کی سرپرستی میں ریاستی ایما پر ٹرانسپورٹرز سے بھتہ خوری سمیت بلوچ دشمن سرگرمیوں میں ملوث ہے۔ اس گروہ کی سربراہی سرور نامی ڈیتھ اسکواڈ کارندہ کر رہا تھا۔ ہلاک ہونے والے کارندوں میں سے ایک کی شناخت کہور عرف منان ولد مرید سکنہ مشکے کے نام سے ہوئی ہے، جبکہ بقیہ دو ہلاک شدگان کی شناخت تاحال نامعلوم ہے۔ گرفتار ہونے والے کارندے کی شناخت چاکر ولد شیر محمد سکنہ ناگ کے طور پر ہوئی ہے، جس سے تفتیش جاری ہے۔ سرمچاروں نے کارروائی کے دوران ان کارندوں کے زیرِ استعمال تمام جنگی اسلحہ و سازوسامان اپنے قبضے میں لے لیا اور ان کی گاڑی کو نذرِ آتش کر دیا۔
بلوچستان لبریشن فرنٹ تمپ کے علاقے ملانٹ میں فوجی کیمپ پر حملے اور واشک کے علاقے گراڑی میں ڈیتھ اسکواڈ کے خلاف کارروائی کی ذمہ داری قبول کرتی ہے۔ ہم واضح کرتے ہیں کہ ڈیتھ اسکواڈ کے کارندے ہماری ہٹ لسٹ پر ہیں۔ جو بھی بلوچ قومی تحریک کے خلاف سرگرمِ عمل ہوگا، اسے اس کے انجام تک پہنچایا جائے گا۔
میجر گہرام بلوچ
ترجمان، بلوچستان لبریشن فرنٹ
Gwadar Attack
March 15: In the Panwan area of Jiwani, Gwadar, an urban guerrilla unit of the BLA executed a highly organized and coordinated operation. Following a meticulous plan, sarmachars camouflaged themselves to gain access to a Coast Guard post and launched a sudden attack, killing the three personnel stationed there, Naik Saleem, Sepoy Adnan Rao, and Sepoy Azeem and seizing all their weapons and ammunition.
گزشتہ شام مسلح افراد نے کیچ کے علاقے ہیرونک میں سی پیک روڈ پر قائم پاکستانی فورسز کی چوکی پر حملہ کیا۔
ذرائع کے مطابق دیر تک دھماکوں اور فائرنگ کی آوازیں سنی گئی۔ فورسز کو جانی و مالی نقصان پہنچنے کی بھی اطلاعات ہیں۔
https://x.com/suhbainbluc/status/2033873390050672943?s=52
آج صبح مسلح افراد نے واشُک کے علاقے رخشان میں ریاستی حمایت یافتہ (ڈیتھ اسکواڈ) کے ٹھکانے پر حملہ کیا۔ حملے کے نتیجے میں گروہ کے تین کارندے ہلاک جبکہ ایک کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔
ذرائع کے مطابق حملے کے دوران گروہ کی ایک گاڑی کو بھی نذرِ آتش کر دیا گیا۔
#بلوچستان
https://x.com/suhbainbluc/status/2033839884641710513?s=52
❗الرٹ: بلوچستان کے ضلع گوادر میں ایران سے رہداری (بارڈر پرمٹ) سسٹم کے تحت چلنے والی گاڑیوں کا داخلہ امن و امان کی مخدوش صورتحال کے پیش نظر بند کر دیا گیا ہے۔ اسسٹنٹ کمشنر گوادر کے دفتر کی جانب سے مورخہ 16 مارچ 2026 کو جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق ایران کی جانب سے عام طور پر رہداری انتظامات کے ذریعے داخل ہونے والی گاڑیوں کو اگلے احکامات تک ضلع میں داخلے کی اجازت نہیں ہوگی۔ ضلعی انتظامیہ نے کہا کہ صورتحال معمول پر آنے تک پابندی برقرار رہے گی، اور متعلقہ حکام کو حکم پر سختی سے عمل درآمد کو یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے: سرکاری اعلامیہ
+3
بلوچستان سمیت دنیا بھر کی تازہ خبروں، بلوچ سیاسی و جنگی حالات سے متعلق اپڈیٹس، تجزیات اور تحریروں کے لیے میرے سمیت ہمارے پیارے دوست اور بلوچ جرنلسٹس دودا الطاف، ماھ درور بلوچ اور جیئند بلوچ کے ایکس (ٹوئٹر) اکاؤنٹس کو فالو کریں۔
ان اکاؤنٹس پر آپ کو بلوچستان کے حالات، سیاسی سرگرمیوں اور اہم واقعات سے متعلق تازہ معلومات اور تجزیے ملتے رہیں گے۔
👇
https://x.com/suhbainbluc
https://x.com/duda_Altaf09
https://x.com/mahdarwarbaloch
https://x.com/JBalochh
6 مارچ سے 16 مارچ کے دوران اٹھارہ عسکری کارروائیوں میں قابض فوج کے 55 اہلکار ہلاک – بلوچ لبریشن آرمی
بلوچ لبریشن آرمی کے سرمچاروں نے 6 مارچ سے 16 مارچ 2026 کے دورانیئے میں خضدار، سوراب، شاہرک، تربت، کرخ، پسنی، کوئٹہ، پنجگور، خاران، گوادر اور دکی میں اٹھارہ مختلف اور مربوط عسکری کارروائیاں سرانجام دیں۔ ان کارروائیوں میں قابض پاکستانی فوج، خفیہ اداروں کے آلہ کاروں، کوسٹ گارڈز اور دشمن کی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ سی پیک روٹ پر مؤثر تزویراتی کنٹرول حاصل کیا گیا۔ ان حملوں میں مجموعی طور پر قابض فوج وخفیہ اداروں کے 55 اہلکار ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے۔
تفصیلات درج ذیل ہیں:
6 مارچ: خضدار کے علاقے کھٹان میں قابض پاکستانی فوج کی چوکی پر گرنیڈ لانچر سے متعدد گولے داغے گئے، جس سے دشمن کو جانی ومالی نقصان پہنچا۔
7 مارچ: سوراب کے مقام پر بلوچ سرمچاروں نے کمشنر مکران کی بکتر بند گاڑی، گن مین اور ڈرائیور کو اس وقت اپنی تحویل میں لیا جب وہ کوئٹہ سے تربت جارہے تھے۔ مذکورہ گاڑی سے شراب کی متعدد بوتلیں اور منشیات برآمد ہوئیں، جو قابض افسرشاہی کے اخلاقی دیوالیہ پن کا ثبوت ہیں۔ زیرِ حراست افراد سے تنظیمی قوانین کے مطابق تفتیش جاری ہے۔
7 مارچ: کیچ کے علاقے شاہرک میں پوگنش کے مقام پر قابض فوج کی چوکی کو حملے میں نشانہ بنا کر دشمن کو جانی نقصان پہنچایا گیا، جبکہ وہاں نصب تمام جدید سرویلنس کیمرے تباہ کر دیئے گئے۔
9 مارچ تا 14 مارچ (آپریشن کرخ): بی ایل اے کے سرمچاروں نے خضدار کے علاقے کرخ میں سی پیک روٹ (ایم 8) پر ناکہ بندی کرکے اسٹریٹجک چیک پوائنٹس قائم کیئے۔ یہ کنٹرول مسلسل چھ روز تک برقرار رہا۔ اس دوران اسنیپ چیکنگ کے وقت قابض پاکستان کے خفیہ ادارے (آئی ایس آئی) کے تین اہلکاروں نے فرار ہونے کی کوشش کی، جن میں سے دو اہلکار فائرنگ کے نتیجے میں موقع پر ہلاک ہوگئے جبکہ ایک کو گرفتار کر لیا گیا۔ ہلاک و گرفتار اہلکاروں کا تعلق پنجاب سے ہے۔
آپریشن کے تیسرے روز پیش قدمی کی کوشش کرنے والے قابض فوج کے پیدل دستوں کو ریموٹ کنٹرول آئی ای ڈی حملے میں نشانہ بنایا گیا۔ چوتھے روز قابض فوج نے بڑی نفری کے ساتھ پیش قدمی کی کوشش کی، جسے سرمچاروں نے مختلف مقامات پر گھات لگا کر ناکام بنا دیا۔ دو روز تک جاری رہنے والی ان شدید جھڑپوں میں قابض فوج کے 17 سے زائد اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے، جبکہ دشمن کی تین گاڑیاں اور دو کواڈ کاپٹر بھی تباہ کیئے گئے۔
9 مارچ: سوراب میں "تاریکی" کے مقام پر قابض فوج کی پیش قدمی کو سرمچاروں نے بھرپور حملے میں ناکام بناکر دشمن کو پسپا ہونے پر مجبور کردیا۔
9 مارچ: تربت کے علاقے تجابان میں بی ایل اے سرمچاروں نے قابض فوج کی گاڑی کو ریموٹ کنٹرول آئی ای ڈی سے نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں ایک اہلکار ہلاک اور تین زخمی ہوگئے۔
10 مارچ: پسنی شہر میں قابض پاکستانی خفیہ ادارے ملٹری انٹیلی جنس (ایم آئی) کے کارندوں کے ٹھکانے کو دستی بم حملے میں نشانہ بنایا گیا۔
13 مارچ: کوئٹہ سے متصل ڈغاری کے علاقے پینگو میں قابض فوج، سی ٹی ڈی اور نام نہاد ڈیتھ اسکواڈ کے مشترکہ قافلے کو اس وقت گھات لگا کر نشانہ بنایا گیا جب وہ آپریشن کی غرض سے پیش قدمی کررہے تھے۔ حملے میں دو کارندے ہلاک اور ایک فوجی گاڑی مکمل طور پر خاکستر ہوگئی۔
14 مارچ: قابض فوج نے اسی علاقے میں دوبارہ پیش قدمی کی کوشش کی، جسے سرمچاروں نے آئی ای ڈی حملے کے ذریعے جانی و مالی نقصان پہنچا کر پسپا کردیا۔
14 مارچ: پنجگور کے علاقے پروم میں رات کے وقت قابض فوج کے قافلے پر نائٹ وژن اور جدید اسلحہ سے لیس بی ایل اے کے دستوں نے حملہ کیا۔ اس حملے میں دشمن کی تین گاڑیاں زد میں آئیں، پانچ اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے، جبکہ ایک گاڑی ناکارہ ہوگئی۔ بعد ازاں معائنے کیلئے آنے والے قابض کمانڈ کے ایک اہلکار کو بی ایل اے سنائپر نے نشانہ بنا کر موقع پر ہلاک کر دیا۔
14 مارچ: خاران کے علاقے گروک میں قابض فوج کے قافلے کو راکٹوں اور بھاری ہتھیاروں سے گھات لگا کر نشانہ بنایا گیا۔ حملے کی زد میں دشمن کی چھ گاڑیاں آئیں، جس کے نتیجے میں 14 اہلکار ہلاک اور 10 سے زائد زخمی ہوئے۔ اس سے ایک روز قبل سرمچاروں نے اسی مقام پر دشمن کے لیئے راشن لے جانے والے ٹرک کو تحویل میں لیا تھا، جسے بعد ازاں نذرِ آتش کر دیا گیا جبکہ ڈرائیوروں کو تنظیمی پالیسی کی بنیاد پر رہا کردیا گیا۔
15 مارچ: تربت ایئرپورٹ پر قائم قابض فوج کے اڈے اور جیٹ فیول اسٹیشن کو گرنیڈ لانچروں سے نشانہ بنایا گیا، جس سے تنصیبات کو شدید نقصان پہنچا۔
15 مارچ: گوادر (جیونی) کے علاقے پانوان میں بی ایل اے کے شہری گوریلا یونٹ نے ایک انتہائی منظم اور مربوط کارروائی کی۔ سرمچاروں نے منظم منصوبہ بندی کے تحت خود کو کیموفلاج کرکے کوسٹ گارڈز کی چوکی پر رسائی حاصل کی اور دشمن پر اچانک حملہ کر کے وہاں تعینات تینوں اہلکاروں نائیک سلیم، سپاہی عدنان راؤ اور سپاہی عظیم کو ہلاک کرکے ان کا تمام اسلحہ وگولہ بارود اپنی تحویل میں لے لیا۔
16 مارچ: دکی کے علاقے بختیار لونی میں سرمچاروں نے قابض پاکستانی فوج کے قافلے میں شامل گاڑی کو اس وقت ریموٹ کنٹرول آئی ای ڈی حملے میں نشانہ بنایا جب وہ علاقے میں جارحیت کی غرض سے پیش قدمی کررہے تھے، دھماکے میں قابض فوج کے دس اہلکار ہلاک جبکہ ان کی گاڑی مکمل تباہ ہوگئی۔
بلوچ لبریشن آرمی کے ان منظم حملوں کا مقصد بلوچستان سے پاکستان کے غاصبانہ تسلط کی جڑوں کو اکھاڑ پھینکنا ہے۔ دشمن یہ حقیقت نوشتہ دیوار سمجھ لے کہ اس کے قلعے، اس کے نام نہاد ترقیاتی ڈھونگ اور اس کے تنخواہ دار کارندے اب بلوچ سرمچاروں کی دسترس سے دور نہیں۔ بی ایل اے اپنے قومی بقا کے اس جنگ میں کسی بھی حد تک جانے کا پختہ ارادہ رکھتی ہے، اور جب تک قابض کا آخری نشان اس بلوچ سرزمین سے مٹ نہیں جاتا، ہماری بندوقیں خاموش ہوں گی نہ ہی ہماری تزویراتی ضربوں میں کوئی کمی آئے گی۔ یہ جنگ اب اپنے منطقی انجام کی جانب گامزن ہے، اور وہ انجام صرف اور صرف آزاد بلوچستان ہے۔
جیئند بلوچ
ترجمان، بلوچ لبریشن آرمی
مورخہ: 16 مارچ 2026
Confiscated Weapons and Vehicle by BLF from police and minerals expolring company in Turbat and Chagi.
16 March 2026
Ref. No. BLF/Mar2026/00039
One personnel killed in attacks on occupying forces and police in Jhao and Turbat, government weapons and a vehicle seized in Turbat and Chagai- Major Gehram Baloch
On the evening of March 6, 2026, fighters of the Balochistan Liberation Front targeted a soldier deployed at a military checkpoint established in the Gazzi area of Jhao with a sniper rifle, as a result the soldier was killed on the spot.
In another attack, on March 14, 2026, our fighters attacked a Frontier Corps (FC) post, responsible for the security of Turbat Airport with a hand grenade. The grenade exploded with a powerful blast inside the post, inflicting casualties and material losses to the personnel present inside.
On the same day, in another operation, at the Chogan Kandag area of Turbat city, BLF's fighters surrounded a police patrol team, disarmed the personnel, and took into custody three government rifles along with their magazines and a government vehicle. However, in light of humanitarian considerations, the organization warned the said police personnel and released them safely.
In another operation, on March 13, 2026, our fighters detained personnel of a mineral exploration company at the Wadh area of Chagai, seized one weapon from them, damaged their vehicle, warned the staff members, and released them safely on humanitarian grounds.
Companies engaged in mineral exploration and extraction are warned to immediately cease their activities related to Balochistan resources otherwise, they will be responsible for the consequences.
The Balochistan Liberation Front claims responsibility for the attacks on enemy forces and mineral exploration company personnel, and the seizure of government weapons, in Jhao, Turbat, and Chagai.
Major Gwahram Baloch
Spokesperson- Balochistan Liberation Front
16 مارچ 2026
Ref. No. BLF/Mar2026/00039
جھاؤ اور تربت کے علاقوں میں قابض فورسز اور پولیس پر حملوں میں ایک اہلکار ہلاک، تربت و چاغی میں سرکاری اسلحہ اور گاڑی ضبط۔ میجر گہرام بلوچ
بلوچستان لبریشن فرنٹ کے سرمچاروں نے 6 مارچ 2026 کی شام جھاؤ کے علاقے گزی میں قائم فوجی چیک پوسٹ پر مامور اہلکار کو اسنائپر رائفل سے نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں مذکورہ اہلکار موقع پر ہی ہلاک ہو گیا۔
ایک اور کارروائی میں 14 مارچ 2026 کو سرمچاروں نے تربت ایئرپورٹ کی سیکیورٹی پر مامور فرنٹیر کور (ایف سی) کی چوکی پر دستی بم سے حملہ کیا۔ دستی بم چوکی کے اندر زوردار دھماکے سے پھٹا، جس سے وہاں موجود اہلکاروں کو جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔
اسی روز ایک اور کارروائی میں سرمچاروں نے تربت شہر میں چوگان کنڈگ کے مقام پر پولیس کی ایک گشتی ٹیم کو گھیرے میں لے کر اہلکاروں کو غیر مسلح کر دیا، اور ان کے قبضے سے تین سرکاری بندوقیں بمع میگزینز اور سرکاری گاڑی تحویل میں لے لیا۔ تاہم تنظیم نے انسانی ہمدردی کے پیشِ نظر، مذکورہ پولیس اہلکاروں کو تنبیہ کر کے بحفاظت رہا کر دیا۔
ایک اور کاروائی میں سرمچاروں نے 13 مارچ 2026 کو چاغی کے علاقے وڈھ کے مقام پر معدنیات تلاش کرنے والی ایک کمپنی کے اہلکاروں کو حراست میں لے لیا، ان کے پاس موجود ایک بندوق کو قبضے میں لے کر ضبط کرلیا، اور ان کی گاڑی کو نقصان پہنچا کر عملے کے ارکان کو تنبیہ کرکے انسانی ہمدردی کے پیش نظر بحفاظت رہا کردیا۔
معدنیات کی تلاش اور اخراج سے وابستہ کمپنیوں کو تنبیہ کی جاتی ہے کہ وہ بلوچستان کے معدنی وسائل سے متعلق اپنی سرگرمیاں فوری طور پر ترک کر دیں، بصورتِ دیگر وہ اپنے جانی و مالی نقصان کی خود ذمہ دار ہوں گی۔
بلوچستان لبریشن فرنٹ جھاؤ، تربت اور چاغی میں دشمن فورسز اور معدنیات تلاش کرنے والے کمپنی کے عملے پر حملے اور ان سے سرکاری اسلحہ ضبط کرنے کی ذمہ داری قبول کرتی ہے۔
میجر گہرام بلوچ
ترجمان، بلوچستان لبریشن فرنٹ
بلوچ آزادی پسند رہنما ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ نے پنجابی کو "فتنہ الارض" (زمین پر فساد پھیلانے والا) قرار دے دیا۔
اب تک ہم نے اپنی جدوجہد کو بلوچستان تک محدود رکھا ہے، لیکن اگر حالات نے ہمیں مجبور کیا اور جنگ کا دائرہ زبردستی پنجاب تک پھیلایا گیا تو پھر ہمارے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں رہے گا کہ ہم اسی میدان میں اپنا دفاع کریں۔
ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ
کوئی بھی شخص آزادی کی تحریک سے بالاتر نہیں ہے۔ اگر فتنۃ الارض پنجابی فوج ایک ہی شہر پنجگور میں 20 بلوچوں کو قتل کر سکتی ہے تو پھر بین الاقوامی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے پاس یہ اخلاقی جواز نہیں رہتا کہ وہ اس وقت سوال اٹھائیں جب بلوچ آزادی کے جنگجو پنجاب میں داخل ہوں۔ فتنۃ الارض فوج کے اقدامات نے آزادی کے متوالوں کو یہ قدم اٹھانے پر مجبور کر دیا ہے۔
ہم اپنی ثقافت، شناخت اور وطن کے لیے اپنی جانوں کی قربانی دے رہے ہیں۔ اپنی چھینی گئی آزادی کا دفاع کرنا ہمارا جائز حق ہے۔ مگر جب بلوچ نسل کشی کی بات آتی ہے تو بین الاقوامی برادری اور پنجابی دانشور خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔
ہم بغور دیکھ رہے ہیں کہ کس طرح بین الاقوامی ادارے اور ان کے اتحادی، یعنی پاکستانی فوجی اسٹیبلشمنٹ، اپنی پالیسیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اب تک ہم نے اپنی جدوجہد کو بلوچستان تک محدود رکھا ہے، لیکن اگر جنگ کا میدان زبردستی پنجاب کے دل تک منتقل کیا گیا تو ہمارے پاس کوئی اور راستہ باقی نہیں رہے گا۔
ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ
تاریخ: 15 مارچ 2026
تُوئی “اسپر” آشوب پبلی کیشن نا پارہ غان شنگ مروک میگزین “اسپر” نا بروکا تُو ئنا ادبی و نظریاتی تیاریک بناء مسنو۔ غُٹ نوشتکار، صاحب فکر و شعور، و جہد تون تفوک نوشتکار آتیان خواست ءِ کہ تینا تخلیق، تجزیہ، نظریاتی نوشت و ادبی لِکھ آتے بلوچی، براہوی و اردو زبان ئٹ 25 مارچ 2026 اسکان ننے آ رادہ کبو۔ اسپر بیرہ اسہ میگزین ئس اف، بلکہ دا فکری و انقلابی دستاویز ئس ءِ۔ ہرا راجی شعور ئے بیدار کننگ، و مزاحمت نا توار تے دیہاڑ ئٹ نوشتہ کننگ نا اسہ زریعت ئس ءِ۔ نُما نوشت آک نن کن اسہ ادبی مڈی ئسے ءُ۔ تینا نوشت آتے “اسپر” میگرین ئٹ اوار کرفنگ کن تروک ای میل آ ننے آ رادہ کبو: aashobpublications@gmail.com تُوئی اسپر (توارِ آشوب روحِ مزاحمت) لٹریچر کمیٹی، آشوب پبلی کیشنز بلوچستان لبریشن فرنٹ
ماہنامہ “اسپر” شمارہ نمبر 19 کی ادبی و نظریاتی تیاریوں کا آغاز ہو چکا ہے۔ تمام اہلِ قلم، صاحبانِ فکر و شعور، اور جدوجہد سے وابستہ لکھاریوں سے گزارش ہے کہ اپنی تخلیقات، تجزیے، نظریاتی تحریریں اور ادبی کالمز بلوچی، براہوی اور اردو زبان میں 25 مارچ 2026 تک ہمیں ارسال فرمائیں۔ اسپر محض ایک میگزین نہیں، بلکہ وہ فکری اور انقلابی دستاویز ہے۔ جو قومی شعور کو بیدار کرنے مزاحمت کی صداؤں کو مکتوب کرنے اور ایک آزاد مستقبل کی نوید کو قرطاس پر ثبت کرنے کا ذریعہ ہے۔ آپ کی تحریریں ہمارے لیے ایک سرمایہ ہیں۔ انہیں درج ذیل ای میل پر بھیجا جائے: aashobpublications@gmail.com ماہنامہ اسپر (آوازِ آشوب روحِ مزاحمت) لٹریچر کمیٹی، آشوب پبلی کیشنز بلوچستان لبریشن فرنٹ
