ru
Feedback
Sobain|سوبین بلوچ

Sobain|سوبین بلوچ

Открыть в Telegram

Freelance journalist from war zone Balochistan

Больше
Страна не указанаКатегория не указана
259
Подписчики
+124 часа
+77 дней
+2230 дней
Архив постов
گوادر حملے میں کوسٹ گارڈ کے تین اہلکار ہلاک، جبکہ اطلاعات کے مطابق ہلاک ہونے والے اہلکاروں کا اسلحہ بھی مسلح افراد نے اپنے قبضے میں لے لئے۔

Operation Against Death Squad.jpg2.45 MB

Three agents Killed in Operation Against Death Squad in Tump, Turbat, and Tejaban- Balochistan Liberation Front
Three agents Killed in Operation Against Death Squad in Tump, Turbat, and Tejaban- Balochistan Liberation Front

Ashoob Statement Pad English Page 02.jpg3.48 MB

Ashoob Statement Pad English Page 01.jpg4.93 MB

15 March 2026 Ref. No. BLF/Mar2026/00038   Three agents Killed in Operation Against Death Squad in Tump, Turbat, and Tejaban-Major Gwahram Baloch   On 4 March 2026, based on intelligence information, fighters of the Balochistan Liberation Front carried out a targeted operation in the Konshqalat area of Tump, in which Muslim son of Ismail, a member of a state-sponsored local death squad was killed.   Our fighters attempted to capture the said agent alive in order to interrogate him and gather information. However, upon seeing our fighters, he attempted to flee. The fighters responded promptly and targeted him, resulting in his death.   The agent was operating under the patronage of Saeed Abid, the notorious head of the death squad active in Tump. The said operative had long been directly involved in informing on Baloch youth, facilitating their enforced disappearances at the hands of occupying forces, and participated in operations against the local population.   In another operation, on 12 March 2026, our fighters carried out an intelligence-based operation in the Absar area of Turbat and killed a state operative named Parvez son of NekBakht. Parvez had previously been part of the movement but surrendered to the Pakistani army in 2017 and subsequently became active against the national movement. In the operation, our fighters attempted to capture him alive for intelligence purposes, but he resisted, resulting in his death. Parvez was a key member of the local death squad active in Absar and surrounding areas.   On 11 February 2026, fighters of the Balochistan Liberation Front carried out an intelligence-based operation in the Karki area of Tejaban and detained Wahid son of Kamalan, resident of Tejaban, an informant for the Pakistani army and local death squad. During the subsequent interrogation, he confessed to serious crimes. He revealed that he was operating under the supervision of the notorious death squad head Saeed Lanto and was directly involved in the martyrdom of Fighter Naseeb and Altaf at Balgatar on 4 February 2022. In addition, Wahid son of Kamalan also confessed to participating in multiple military operations and informant activities alongside the Pakistani army in various areas of Balgatar, Hoshab, Tejaban, and Karki. On the basis of his confession and evidence, our fighters eliminated him on 6 March 2026.   The Balochistan Liberation Front makes it clear that all agents and death squad members are on our hit list. Anyone who engages in spying against the Baloch national struggle will be brought to their end.   Major Gwahram Baloch Spokesperson- Balochistan Liberation Front

Ashoob Statement Pad Urdu Page 02.jpg3.50 MB

Ashoob Statement Pad Urdu 01.jpg4.79 MB

15 مارچ 2026 Ref. No. BLF/Mar2026/00038 تمپ، تربت اور تجابان میں ڈیتھ اسکواڈ کے خلاف کارروائی تین کارندے ہلاک۔ میجر گہرام بلوچ   بلوچستان لبریشن فرنٹ کے سرمچاروں نے 4 مارچ 2026 کو انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر تمپ کے علاقے کونشقلات میں ایک ٹارگٹڈ کارروائی کی جس کے دوران ریاستی سرپرستی میں سرگرم مقامی ڈیتھ اسکواڈ کے رکن مسلم ولد اسماعیل کو ہلاک کر دیا گیا۔   سرمچاروں نے مذکورہ آلہ کار کو زندہ گرفتار کرنے کی کوشش کی تاکہ اس سے تفتیش کرکے معلومات حاصل کی جا سکیں، تاہم اس نے سرمچاروں کو دیکھتے ہی فرار ہونے کی کوشش کی ۔ سرمچاروں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے اسے نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں وہ ہلاک ہو گیا۔   ہلاک ہونے والا شخص تمپ میں سرگرم ڈیتھ اسکواڈ کے بدنامِ زمانہ سرغنہ سعید عابد کی سرپرستی میں کام کر رہا تھا۔ مذکورہ آلہ کار طویل عرصے سے بلوچ نوجوانوں کی مخبری کرنے، انہیں قابض فورسز کے ہاتھوں جبری گمشدگی کا نشانہ بنوانے اور مقامی آبادی کے گھروں میں لوٹ مار کی کارروائیوں میں براہِ راست ملوث تھا۔     ایک اور کارروائی میں سرمچاروں نے تربت کے علاقے آبسر میں 12 مارچ 2026 کو انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران پرویز ولد نیک بخت نامی ایک ریاستی آلہ کار کو ہلاک کر دیا۔ پرویز ماضی میں تحریک کا حصہ رہا تھا لیکن 2017 میں پاکستانی فوج کے سامنے سرنڈر کرکے تحریک کے خلاف سرگرم عمل ہو گیا تھا۔   کارروائی کے دوران سرمچاروں نے اسے زندہ پکڑنے کی کوشش کی تاکہ انٹیلی جنس مقاصد کے لیے اس سے پوچھ گچھ کی جا سکے، لیکن اس نے مزاحمت کیا جس کے نتیجے میں وہ مارا گیا۔ پرویز آبسر اور گردونواح میں سرگرم مقامی ڈیتھ اسکواڈ کا ایک کلیدی رکن تھا۔     بلوچستان لبریشن فرنٹ کے سرمچاروں نے 11 فروری 2026 کو تجابان کے علاقے کرکی میں ایک انٹیلی جنس بیسڈ کارروائی کرتے ہوئے پاکستان فوج اور مقامی ڈیتھ اسکواڈ کے مخبر واحد ولد کمالان ساکن تجابان کو حراست میں لے لیا۔   گرفتاری کے بعد تفتیشی عمل کے دوران مذکورہ شخص نے سنگین جرائم کا اعتراف کیا۔ ملزم نے انکشاف کیا کہ وہ بدنامِ زمانہ ڈیتھ اسکواڈ کے سربراہ سعید لانٹو کی سرپرستی میں کام کر رہا تھا اور 4 فروری 2022 کو بالگتر کے مقام پر سرمچار  نصیب اور سرمچار الطاف کی شہادت میں براہِ راست ملوث تھا۔ اس کے علاوہ، واحد ولد کمالان نے بالگتر، ہوشاب، تجابان اور کرکی کے مختلف علاقوں میں پاکستانی فوج کے ساتھ مل کر متعدد فوجی آپریشنز اور مخبری کی کارروائیوں میں شرکت کا اعتراف بھی کیا۔ اعترافِ جرم اور شواہد کی بنیاد پر سرمچاروں نے 6 مارچ 2026 کو اسے منطقی انجام تک پہنچا دیا۔   بلوچستان لبریشن فرنٹ یہ واضح کرتی ہے کہ دشمن فوج کے لیے مخبری کرنے والے تمام آلہ کار اور ڈیتھ اسکواڈ کے کارندے ہماری ہٹ لسٹ پر ہیں۔ جو بھی بلوچ قومی تحریک کے خلاف مخبری یا غداری کا مرتکب ہوگا، اسے اس کے انجام تک پہنچایا جائے گا۔   میجر گہرام بلوچ ترجمان، بلوچستان لبریشن فرنٹ

بریکنگ نیوز گوادر کے علاقے پانواں میں نا معلوم مسلح افراد نے گھات لگا کر پاکستانی کوسٹ گارڈ فورسز پر حملہ کیے،حملے کی نتیجے میں دو اہلکاروں کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔ مزید تفصیلات کا انتظار ہے

میرے نئے فیس بک اکاؤنٹ کو فالو کریں ۔ https://www.facebook.com/share/1Ao7i2mkC6/?mibextid=wwXIfr

بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان میجر گہرام بلوچ کا اسپر میگزین کے ساتھ تفصیلی انٹرویو
+3
بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان میجر گہرام بلوچ کا اسپر میگزین کے ساتھ تفصیلی انٹرویو

Fighters-Aashob.jpg2.14 MB

BLF fighters targeted the enemy's most important military installation, Navel camp in Turbat city, by firing two 107mm Rocket
BLF fighters targeted the enemy's most important military installation, Navel camp in Turbat city, by firing two 107mm Rockets at it. Both Rockets struck their designated targets at the heart of the camp, resulting in heavy casualties and material losses for the occupying forces. This missile strike inside the enemy's fortified position is proof that the occupying forces are not safe anywhere from the reach of the Baloch sarmachars. #Aashob #BLF

جواب: بلوچ تحریک آزادی کے ہر سال کی کامیابیاں بلوچستان میں دشمن کے انتظامی گرفت اور عمل داری کو مزید کمزور کرکے اس کی قانونی اور اخلاقی جواز کے بارے میں گہرے سوالات پیدا کررہے ہیں۔ پچھلے سال کی ہماری عسکری کامیابیوں اور دشمن پر اخلاقی برتری نے یہ واضع کر دیا ہے کہ اب جنگ کا رخ مڑ چکا ہے۔ اب ہم صرف دفاعی جنگ نہیں لڑ رہے بلکہ دشمن کو ان کی محفوظ سمجھے جانے والی فوجی قلعوں میں نشانہ بنا رہے ہیں۔ ہماری عسکری کامیابیوں اور جنگی حربوں نے ثابت کردیا ہے کہ قابض پاکستان بلوچ سرمچاروں کے سامنے سخت عزیمت اٹھا رہا ہے اور اس جنگ میں سرمچاروں کو بلوچ قوم کی وسیع حمایت حاصل ہے۔ یہ کامیابیاں آنے والے برسوں میں ایک فیصلہ کن معرکے کی بنیاد بنیں گے، جو بالآخر بلوچستان کی آزادی پر منتج ہوگا۔

جواب: گوریلہ جنگوں میں دشمن کا ردعمل ہمیشہ گوریلہ تنظیموں کو نئے پالیسی تشکیل دینے میں،سابقہ پالیسیوں پر نطرثانی کرنے اور تنظیم کو مزید مظبوط بنانے میں مددگار رہتی ہے۔ دشمن کے ردعمل نے ہمیں مزید نظم و ضبط کا پابند بنایا ہے۔ ہم نے اپنی نقل و حرکت، روابط کے طریقے بدلے ہیں اور مواصلات کے محفوظ ترین ذرائع اپنائے ہیں۔ دشمن کی سختی نے سرمچاروں کو مزید نظم و ضبط اور رازداری کے اصولوں کی جانب راغب کیا ہے، دشمن کا یہ عمل ہمارے لئے مدگار ثابت ہوئی ہے، جس سے تنظیم مزید مضبوط ہوئی ہے۔ سوال: ان حالات میں تنظیم اپنے نظم و ضبط کو برقرار رکھنے میں کتنی کامیاب رہی ہے؟ جواب: بی ایل ایف کا نظم و ضبط ہمیشہ سے مضبوط اور حالات کے تقاضوں سے ہم آہنگ رہی ہے۔ سخت ترین حالات اور ساتھیوں کی شہادت کے باوجود ہمارے کمانڈ سٹرکچر اور سرمچاروں کے نظم و ضبط و جذبہ آزادی میں کوئی کمزوری یا کمی نہیں آئی ہے۔ ہر سرمچار اپنے مقصد اور قیادت کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہے۔ سوال : بلوچستان لبریشن فرنٹ کے تنظیمی ڈھانچے میں پچھلے سال کون سی تبدیلیاں آئی ہیں؟ جواب : ہم جدید جنگی تکینک اور علوم سے واقف نوجوان کمانڈروں کو آگے لائے ہیں۔ اس کے علاوہ عسکری اور دوسرے ادارجاتی ونگز کے درمیان ہم آہنگی کو مزید بہتر بنایا گیا ہے تاکہ واضح سیاسی سوچ اور مقصد کے ساتھ ہم اپنی ادارجاتی زمہ داریوں کو سرانجام دے سکیں اور خطے کے بدلتے حالات میں اہم آہنگ ہوکر جدوجہد کو آگے لے جاسکیں۔ سوال: آپ مسلح محاذ پر تنظیمی استحکام کو کس حد تک ایک کامیابی سمجھتے ہیں؟ جواب: ایک گوریلا تنظیم کا دہائیوں تک متحد رہنا اور مسلسل فعال رہنا اس کے نظریاتی اور ادارہ جاتی طور پر مضبوط ہونے کی دلیل ہے۔ یہی ہماری سب سے بڑی کامیابی ہے۔ دشمن نے کئی بار دعویٰ کیا کہ اس نے ہمیں ختم کر دیا ہے، لیکن ہم ہر بار پہلے سے منظم اور قوت کے ساتھ ابھر کر دشمن کو غلط ثابت کرتے رہے ہیں۔ سوال: خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال نے بلوچستان میں مسلح جدوجہد کو کیسے متاثر کیا ہے؟ جواب: خطے میں طاقت کے بدلتے ہوئے توازن نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ اب جغرافیائی سرحدیں صرف طاقت کے زور پر برقرار نہیں رکھی جا سکتیں ہیں۔ اس صورتحال نے بلوچ تحریک کو ایک نئی توانائی دی ہے۔ دنیا کو یہ سمجھانے اور باور کرانے میں ہمیں کامیابی مل رہی ہے کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے آزاد بلوچستان ایک ناگزیر حقیقت ہے۔ عالمی طاقتوں کے مفادات بھی ہیں مگر دنیا کو بہت جلد اس بات کو قبول کرنا ہوگا کہ اس خطے میں سیاسی استحکام، امن اور ترقی کے کوششوں کی بار آوری بلوچستان کی آزادی سے مشروط ہے۔ سوال: بلوچ جنگ کے تناظر میں عالمی اداروں کے کردار کو آپ کس نظر سے دیکھتے ہیں؟ جواب: عالمی اداروں کا کردار تاحال مایوس کن ہے، لیکن ہم پرامید ہیں کہ جیسے جیسے ہماری طاقت بڑھے گی، دنیا ہمیں نظر انداز نہیں کر پائے گی۔ ہم عالمی برادری سے امداد کے طالب نہیں، بلکہ یہ چاہتے ہیں کہ وہ منصفانہ کردار ادا کرے۔ سوال: کیا پچھلے سال اور موجودہ حالات میں عالمی سطح پر کوئی ایسا پہلو نمایان ہوا ہے جسے آپ اپنی تنظیم کے لیے اہم سمجھتے ہیں؟ جواب: عالمی سطح پر توانائی کی گزرگاہوں کی اہمیت اور چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے خلاف عالمی ردِعمل ہمارے لیے اہم ہے۔ بلوچستان کی تزویراتی اہمیت اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں، اور یہی وہ نکتہ ہے جو عالمی اور علاقائی طاقتوں کو بلوچ مسئلے کی طرف متوجہ کر رہا ہے۔ سوال: مستقبل قریب کے لیے بی ایل ایف کی ترجیحات کیا ہیں؟ جواب: ہماری ترجیحات میں بلوچستان میں دشمن کے استحصالی معاشی منصوبوں کو مکمل طور پر روکنا، ریاستی عمل داری کو مفلوج و کمزور کرنا،اپنی انتظامی گرفت مضبوط کرنا اور تمام مزاحمتی تنظیموں کے درمیان اتحاداور اشراک عمل کو مزید ٹھوس بنانا ہے۔ سوال: آپ بلوچ جنگِ آزادی کے مستقبل کو کس تناظر میں دیکھتے ہیں؟ جواب: میں مستقبل کو مکمل آزادی کی صورت میں دیکھتا ہوں۔ ریاست کے پاس جبر کے سوا کوئی راستہ نہیں بچا ہے اور جبر کی ایک حد ہوتی ہے۔ جب عوام موت کے خوف سے آزاد ہو جائے، تو دنیا کی کوئی فوج انہیں غلام نہیں رکھ سکتی ہے۔ سوال: آپ پچھلے سال کی جنگی کامیابیوں کو کیسے بیان کریں گے اور مستقبل میں یہ کامیابیاں بلوچ جنگ پر کیا اثرات مرتب کریں گی؟

جواب: بی ایل ایف ایک قومی تنظیم ہے، اس لیے ہماری کارروائیاں بلوچستان بھر میں محیط رہے ہیں۔ مکران کے ساحلوں سے چاغی ؤ نوکنڈی کے ریگستانوں سے لے کر کوہِ سلمان کے پہاڑی سلسلوں تک ہمارے سرمچار عسکری لحاظ سے فعال رہے۔ ہم نے بلوچستان کے بڑے شہری مراکز اور چاغی میں سونے اور دیگر معدنیات کے استحصالی منصوبوں پر حملے کر کے دشمن پر حیران کن کارروائیاں کیے ہیں۔ ہمارا مقصد کسی ایک محاذ پر دشمن پر توجہ مرکوز کرانے کے بجائے پورے بلوچستان میں اسے الجھائے رکھنا ہے۔ سوال : آپ کے نزدیک دو ہزار پچیس میں بلوچستان میں مسلح محاذ پر سب سے اہم پیش رفت کیا رہی ہے؟ جواب: سب سے اہم پیش رفت سرمچاروں کے انٹیگریٹڈ یونٹس کا قیام اور مربوط حملے ہیں جوہم نے ان حملوں سے نہ صرف قابض پاکستان کو معاشی اور عسکری طور پر مفلوج کردیا ہے بلکہ دشمن کے مقامی نیٹ ورکس (ڈیتھ اسکواڈز) کو ختم کرنے کا سلسلہ بھی جاری رہا ہے، جس کی وجہ سے فوج مقامی سہولت کاروں سے مدد حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے اور انٹلیجنس کے حوالے سے کمزور ہوا ہے۔ ہماری دوسری بڑی پیش رفت بی ایل ایف کے فدائی یونٹ کا قیام اور فدائیں حملوں کے لئے دور رس اثرات کے حامل اہداف کا کامیاب انتخاب اور نفاذ ہے۔ سوال : بلوچستان لبریشن فرنٹ بلوچستان کے سیاسی و سماجی تناظر میں کیسا کردار ادا کر رہا ہے؟ جواب: بی ایل ایف بلوچ سماج میں مزاحمت کے کلچر کو تسلسل کے ساتھ زندہ رکھے ہوئے ہے۔ ہم نے بلوچ عوام کو یہ یقین دلایا ہے کہ غلامی مقدر نہیں بلکہ استعمار کی مسلط کی ہوئی ایک کیفیت و حالت ہے، جسے جدوجہد اور قومی طاقت سے بدلا جا سکتا ہے۔ ہم سیاسی طور پر عوام کو یہ سمجھانے کی کوشش کررہے ہیں کہ ریاست کی طرف سے ترقی کے نام نہاد دعوے اور منصوبے دراصل ہماری زمین پر قبضے کو طول دینے اور ہمارے قومی وسائل کو لوٹنے کے ہتھیار ہیں۔ سوال: بی ایل ایف نے اپنی جدوجہد میں جو اہداف مقرر کئے ہیں، پچھلے سال ان مقاصد کے حصول میں کتنی پیش رفت ہوئی ہے؟ جواب: ہمارا بنیادی ہدف دشمن کو معاشی طور پر اس حد تک تھکانا ہے کہ وہ بلوچستان پر قبضہ برقرار رکھنے کی قیمت ادا کرنے کے قابل ہی نہ رہ سکے۔ 2025 میں دشمن کی دفاعی لاگت میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے اور سی پیک جیسے استحصالی منصوبے مکمل طور پر غیر فعال اور غیر محفوظ ہو چکے ہیں۔ نوکنڈی میں سیندک اور ریکوڈک سے منسلک غیرملکی عملے کی کمپاؤنڈ پر حملے نے غیرملکی سرمایہ کاروں کو واضح پیغام پہنچایا ہے کہ بلوچستان میں پاکستانی شراکت داری میں کوئی منصوبہ محفوظ نہیں ہے۔ یہ ہماری بڑی پیش رفت ہے۔ سوال: پچھلے سال بی ایل ایف کے بیانیے میں کیا تبدیلیاں آئی ہیں؟ جواب: ہم نے اپنے بیانیے کو مزید بین الاقوامی رنگ دیا ہے۔ اب ہم دنیا کے سامنے ایک ایسی قوم کے طور پر سامنے آئے ہیں جو اپنے حقوق کی جنگ لڑنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔ دنیا کو یہ باور کرایا ہے کہ بلوچستان میں بلوچ قوم کی مرضی و منشا اور اجازت و شراکت کے بغیر نہ کوئی سرمایہ کاری ممکن ہے اور نہ ہی طاقت کے زور پر ہمیں غلام بنایا جاسکتا ہے۔ سوال: کیا بی ایل ایف اپنے مؤقف کو عوام اور دنیا تک پہنچانے میں کامیاب رہا ہے؟ جواب: جی ہاں، ریاستی پابندیوں کے باوجود ہمارا پیغام گھر گھر پہنچ رہا ہے۔ آشوب، اسپر اور سرمچار جیسے اشاعتی اداروں اور سوشل میڈیا کے ذریعے ہم نے ریاستی پروپیگنڈے کا غیر مؤثر کیا ہے اور اپنا بیانیہ بلوچ عوام تک پہنچایا ہے۔ دنیا اب بلوچستان کو پاکستان کے سرکاری چشمے کے بجائے بلوچ مزاحمت کے آئینے میں دیکھ رہی ہے۔ سوال: اس سال تنظیم کو کن بڑے چیلنجز کا سامنا رہا ہے؟ جواب: سب سے بڑا چیلنج تو جنگی اور دیگر وسائل کی کمیابی رہی ہے۔ جس حساب سے مختلف عمر اور جنس سے بلوچ ہمارے صفوں میں آنے پہ آمادہ ہیں اس حساب سے انھیں وسائل کی فراہمی ایک چیلنج رہی ہے مگر ہم بلوچ عوام کی مدد سے اس چیلنج سے بھی نمٹ رہے ہیں۔ ریاست نے اجتماعی سزا (Collective Punishment) کی پالیسی سے تحریک کیلئے چیلنجز کھڑی کرنے کیلئے کوششیں کی ہیں مگر اس کی یہ جابرانہ پالیسی بھی اس کی قبضہ گیرانہ نوعیت کے بارے میں عوام کو سمجھانے کی ہماری کوششوں کی تقویت کا باعث بن رہی ہے۔ ویسے بھی چیلنجز ہی تحریک کو مزید مضبوط کرنے کے لیے نئے راستے کھولتی رہی ہیں۔ آزادی کی تحریک میں ہمیشہ مشکلات آتے ہیں اسے اپنے تجربات اور سیاسی شعور کے بنیاد پر حل کیا جاتا رہا ہے اور آگے بھی حل کیا جاتا رہے گا۔ سوال: موجودہ حالات میں دشمن کی ردعمل نے تنظیم کی سرگرمیوں پر کیا اثر ڈالا ہے؟

بی ایل ایف کے ترجمان میجر گہرام بلوچ کا اسپر میگزین کے ساتھ تفصیلی انٹرویو ادارہ آشوب پبلی کیشن کا اسپر میگزین اپنے قارئین کو حقیقی جنگی صوتحال سے آشنا کرانے کے لئے ایک خصوصی انٹرویو کر رہا ہے جو بلوچستان کی جاری مزاحمتی تاریخ کے اس اہم اور فیصلہ کن موڑ کی عکاسی کرتی ہے۔ بلوچستان کی تحریک آزادی اب اس مقام پر پہنچ چکی ہے جہاں قابض ریاست اپنے تمام تر سفاکیت، ظالمانہ اور مکارانہ حربوں اور جدید ترین ٹیکنالوجی کی استعمال کے باوجود بلوچ سرمچار کے مضبوط عزم کے سامنے بے بس نظر آتی ہے۔ سنگلاخ پہاڑوں سے بلند ہونے والی آزادی کی یہ گونج اب دشمن کو خوفزدہ و دھشت زدہ کرنے والی ایک ایسی دھاڑ بن چکی ہے جس نے دشمن کے ایوانوں میں لرزہ طاری کر دیا ہے۔ بلوچستان لبریشن فرنٹ نے سال 2025 کے دوران عسکری میدان میں جس غیر معمولی پختگی اور تزویراتی برتری کا ثبوت دیا ہے، وہ بلوچ جدوجہدِ آزادی کی تاریخ میں ایک نئے اور درخشاں باب کا اضافہ ہے۔ یہ انٹریو دراصل اس لہو رنگ داستان کا خلاصہ ہے جسے جری سرمچاروں نے سال 2025 کے دوران اپنے خون اورعظیم جنگی معرکوں سے رقم کیا ہے۔ چاہے دشمن کی معیشت پر لگائی جانے والی کاری ضربیں ہوں یا اس کے فوجی غرور کو خاک میں ملانے والے آپریشن بام جیسے عظیم معرکے، بی ایل ایف نے ہر محاذ پر دشمن پر اپنی جنگی برتری اور مہارت کو ثابت کیا ہے۔ بلوچ جنگ اہم ترین مرحلے پر ادارہ اسپر بلوچستان لبریشن فرنٹ کے مرکزی ترجمان میجر گہرام بلوچ کا تفصیلی انٹرویو پیش کر رہا ہے ۔ اس گفتگو میں میجر گہرام نے نہ صرف سال بھر کی جنگی کامیابیوں کا جامع احاطہ کیا ہے، بلکہ تنظیم کے مستقبل کے اہداف اور دشمن کے خلاف اپنائی گئی جدید عسکری حکمتِ عملی پر بھی مفصل روشنی ڈالی ہے، جو قارئین کے لیے تحریک کے بدلتے ہوئے منظر اور بی ایل ایف کی کثیر الجہتی حکمت عملی کو سمجھنے میں معاون ثابت ہوگی۔ سوال: آپ اپنے مصاحبہ کا آغاز اپنے مختصر تعارف سے کریں، ہمیں اور قارئین کو اپنے اور بلوچستان لبریشن فرنٹ میں اپنی ذمہ داریوں کے بارے میں بتائیں؟ جواب: میرا نام گہرام بلوچ ہے اور تنظیم میں مجھے میجر کی رینک کی ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں۔ میں اس سیاسی و عسکری جدوجہد سے وابستہ ہوں جو بلوچستان کی تاریخی شناخت اور بقا کیلئے جاری ہے۔ بلوچستان لبریشن فرنٹ نے مجھے بطور ترجمان یہ ذمہ داری سونپی ہے کہ میں تنظیم کے قومی سیاسی مؤقف اور عسکری اقدامات کی درست ترجمانی کروں۔ میری ذمہ داری محض بیانات جاری کرنا نہیں بلکہ اس بیانیے کی تشکیل ہے جو حقائق کو ان کی سیاق و سباق کے ساتھ دنیا کے سامنے لائے۔ میں عہدہ کو ایک پل سمجھتا ہوں جو بلوچستان میں جاری مزاحمت اور عالمی رائے عامہ کے درمیان رابطے کا کام کرتا ہے۔ میرا مقصد اور ذمہ داری اس کشمکش کو دنیا کے سامنے واضح کرنا ہے جو قابض ریاست پاکستان اور اپنی آزادی کے لیے لڑنے والی بلوچ قوم کے درمیان جاری ہے۔ سوال : 2025 کا سال مجموعی طور پر بلوچستان لبریشن فرنٹ کی کاروائیوں کے تناظر میں کیسا رہا ہے؟ جواب: دو ہزار پچیس کا سال بی ایل ایف کی عسکری قوت و حکمت عملی میں بنیادی نوعیت کی تبدیلیوں اور دشمن پرعسکری برتری کا ایک فیصلہ کن سال رہا ہے۔ اس سال ہم نے ثابت کیا کہ ہماری قوت میں نہ صرف اضافہ ہوا ہے بلکہ ہماری ضرب لگانے کی صلاحیت دشمن کے محفوظ ترین حصاروں تک پہنچ چکی ہے۔ 581 منظم کارروائیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ ہم صرف دفاعی حکمتِ عملی پر کاربند نہیں رہے بلکہ منظم اور مربوط کارروائیوں کی حکمت عملی اپنا کر دشمن پر کاری ضربیں لگاتے رہے ہیں۔ یہ سال تنظیم کے اندرونی استحکام اور دشمن کی معاشی و فوجی بنیادوں کو ہلانے کے حوالے سے انتہائی کامیاب رہا ہے۔ سوال: دو ہزار پچیس کے سال میں بی ایل ایف کی سرگرمیوں کے اہم خدوخال کو آپ کیسے واضح کریں گے؟ جواب: 2025 کی سرگرمیوں کے تین بنیادی خدوخال ہیں۔ آپریشنل وسعت: ہم نے آپریشن بام جیسے بڑے معرکوں کے ذریعے دشمن کی سپلائی لائنز اور بیس کیمپوں کو نشانہ بنایا ہے۔ ٹیکنالوجیکل ارتقاء: ہم نے انٹیلیجنس پر مبنی ٹارگٹڈ حملوں میں جدید ٹیکنالوجی اور طریقہ کار استعمال کیا ہے، جس سے دشمن کا جانی اور مالی نقصان میں اضافہ ہوا ہے۔ ریاستی عمل داری کو چیلنج: ہم صرف روایتی حملوں تک محدود نہیں رہے بلکہ متعدد شہری مراکز میں داخل ہوکر شہروں پر گھنٹوں تک کنٹرول برقرار رکھ کر دشمن کو معاشی اور عسکری نقصانات سے دوچار کیا ہے۔ ہم نے تواتر کے ساتھ مختلف مرکزی شاہراہوں پر طویل ناکہ بندیاں کر کے دشمن کی آزادانہ نقل و حرکت کو بری طرح سے متاثر کرکے یہ ثابت کیا کہ بلوچستان کی زمین پر کنٹرول سرمچاروں کا ہے۔ سوال : بلوچستان کے کن علاقوں یا محاذوں پر تنظیم کی سرگرمیاں زیادہ نمایاں اور اہم رہی ہیں؟

Turbat Attack.jpg2.18 MB