Maktabus Suffah Ⓡ
رفتن به کانال در Telegram
▬▭▭▭▭▭▭▭▭▭▬ مَکْتَبُ الصُّفَّهْ : دینی تعلیمی ادارہ مقصد : نئی نسل کے ایمان کا تحفظ Maktabus Suffah Ⓡ 👇🔻👇🔻👇🔻👇 www.MSuffah.com https://telegram.me/MSuffah https://youtube.com/@msuffah ▬▭▭▭▭▭▭▭▭▭▬ ♡ ㅤ ❍ㅤ ⎙ㅤ ⌲ ˡᶦᵏᵉ ᶜᵒᵐᵐᵉⁿᵗ ˢᵃᵛᵉ ˢʰᵃʳᵉ
نمایش بیشتر2 757
مشترکین
+324 ساعت
+97 روز
+5330 روز
آرشیو پست ها
2 756
’’تربیتِ اطفال اور خیر کی بنیاد‘‘
عربی سے اردو ترجمہ
’’جان لیجیے کہ بہترین دل وہ ہے جو خیر کو سب سے زیادہ جذب کرنے والا ہو اور جس دل سے بھلائی کی سب سے زیادہ امید کی جا سکتی ہے وہ وہ ہے جس میں بچپن ہی سے شر داخل نہ ہوا ہو۔
اس لیے نصیحت کرنے والوں کے لیے سب سے اہم کام اور اجر کے طالبوں کے لیے *سب سے پسندیدہ چیز یہ ہے کہ وہ مومنوں کے بچوں کے دلوں تک خیر پہنچائیں* تاکہ وہ ان میں راسخ ہو جائے۔ اور انہیں دین کے شعائر اور شریعت کی حدود سے آگاہ کریں تاکہ وہ ان کے عادی ہو جائیں۔ ان کو وہ باتیں سکھائیں جن کا عقیدہ رکھنا ان کے دلوں پر اور جن پر عمل کرنا ان کے اعضاء پر لازم ہے۔
کیونکہ روایت میں ہے کہ ’’بچوں کو اللہ کی کتاب کی تعلیم دینا اللہ کے غصے کو ٹھنڈا کرتا ہے اور بچپن کی تعلیم پتھر پر نقش کی مانند ہوتی ہے۔‘‘....حدیث میں آیا ہے کہ ’’بچوں کو سات سال کی عمر میں نماز کا حکم دو، دس سال کی عمر میں سرزنش کرو اور ان کے بستر الگ کر دو۔‘‘ اسی طرح مناسب یہ ہے کہ بچوں کو بلوغت سے پہلے ہی اللہ تعالی کے فرائض سکھا دیے جائیں تاکہ جب وہ جوانی کی دہلیز پر قدم رکھیں تو دین ان کے دلوں میں گھر کر چکا ہو، ان کے نفس اس پر مطمئن ہوں اور ان کے اعضاء ان اعمال سے مانوس ہو چکے ہوں۔‘‘
(الإمام ابن أبي زيد القيرواني رحمه الله ٣٨٦هـ | المقدمة لكتابه الرسالة، صـ ٥٤)
2 756
*اسلامی تعلیمات اور نبوی طرزِ تربیت*
یہ جدید نفسیاتی حقائق اس بات کی تصدیق کرتے ہیں جو اسلام نے آج سے چودہ سو سال پہلے اپنے پیروکاروں کو سکھائی تھی۔
سیرتِ نبوی ﷺ اور سلف صالحین کا طرزِ عمل بچوں کے نفسیاتی احترام کی بہترین مثال ہے۔
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ، جنہوں نے اپنے بچپن کے دس سال نبی کریم ﷺ کی خدمت میں گزارے، آپ ﷺ کے خلقِ عظیم کی گواہی یوں دیتے ہیں:
"میں نے دس برس نبی اکرم ﷺ کی خدمت کی، آپ نے کبھی مجھے ’اف‘ تک نہیں فرمایا، اور نہ کبھی کسی کام کے کرنے پر یہ فرمایا کہ تم نے یہ کیوں کیا؟ اور نہ کسی کام کے نہ کرنے پر یہ فرمایا کہ تم نے یہ کیوں نہیں کیا؟" (صحیح مسلم)
یہ روایت واضح کرتی ہے کہ بچوں کی کوتاہیوں پر مسلسل ٹوکنا، طعنہ دینا یا محفل میں انہیں شرمندہ کرنا نبوی مزاج کے بالکل خلاف ہے۔
نبی کریم ﷺ کا عمومی طریقہ کار یہ تھا کہ جب کسی کی اصلاح مقصود ہوتی تو سب کے سامنے نام لے کر اس کی تحقیر نہیں فرماتے تھے، بلکہ اجتماعی مجلس میں عام فہم انداز میں فرماتے: "لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ وہ ایسا کرتے ہیں؟"
اور اگر کسی بچے کی خصوصی تربیت مقصود ہوتی تو اسے شفقت سے اکیلے میں بلا کر نصیحت فرماتے، جیسا کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو سواری کے پیچھے بٹھا کر تنہائی میں ارشاد فرمایا: "اے لڑکے! میں تمہیں چند اہم باتیں سکھاتا ہوں..."
اگر ہم کتابوں کا مطالعہ کرے تو معلوم ہوتا ہے کہ سلف صالحین نے بھی ہمیشہ بچوں کی عزتِ نفس کی حفاظت کو تربیت کا بنیادی رکن قرار دیا ہے:
امام غزالیؒ (احیاء العلوم): میں تحریر فرماتے ہیں کہ بچہ اگر پہلی بار کوئی غلطی کرے تو اس سے چشم پوشی (نظر انداز) کی جائے اور اس کا چرچا نہ کیا جائے۔ اگر دوبارہ کرے تو خفیہ طور پر تنہائی میں سمجھایا جائے۔ لیکن اگر اسے سب کے سامنے رسوا کیا گیا تو اس کے اندر ڈھیٹ پن پیدا ہو جائے گا اور وہ اس عیب پر قائم رہے گا۔
حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانویؒ: فرماتے ہیں کہ بچوں کو دوسروں کے سامنے ڈانٹنا يا ان کی کمزوری کا تذکرہ کرنا ان کے اخلاق کو بگاڑتا ہے اور ان میں جھجک، خود اعتمادی کی کمی اور احساسِ کمتری پیدا کرتا ہے۔
*عملی حل: (اساتذہ اور والدین کے لیے)*
ان تمام دینی و نفسیاتی حقائق کی روشنی میں اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے بچے احساسِ کمتری کے اندھیروں سے نکل کر خود اعتمادی کی فضا میں سانس لیں، تو ہمیں اپنے طرزِ عمل میں واضح تبدیلی لانی ہوگی۔
تربیت کا پہلا اور سب سے نقصان دہ پہلو یہ ہے کہ بچے کی موجودگی میں اساتذہ، مہتمم یا والدین بچے کے سامنے اس کی خامیاں اور شکایتیں بیان کرنے لگے، جیسے "تم کند ذہن ہو" یا "تم سے کچھ نہیں ہو سکتا" جیسے منفی القابات کے سانچے میں ڈھالا جائے، اور کلاس یا محفل کے سامنے اس کی کمزوریوں کو گنوا کر اس کی تذلیل کی جائے۔ یہ رویہ بظاہر اصلاح کا طریقہ لگتا ہے لیکن درحقیقت یہ بچے کے اندر سے خود اعتمادی کے جوہر کو ختم کر کے اس کے دل میں احساسِ کمتری کا بیج بو دیتا ہے، جس سے اس کی شخصی ارتقاء ہمیشہ کے لیے رک جاتی ہے۔
اس کے برعکس ایک شفیق معلم اور سمجھدار والد کا مناسب اور اصلاحی طریقہ یہ ہوتا ہے کہ وہ محفل میں بچے کے سامنے اس کا دفاع کرے اور اس کی خامیوں پر تنہائی میں شفقت کے ساتھ گفتگو کرے۔ وہ منفی لیبل لگانے کے بجائے بچے کے اندر مثبت انداز میں یہ اعتماد پیدا کرتا ہے کہ "تم ذہین ہو اور تم یہ کام بہتر طریقے سے کر سکتے ہو"۔ نیز، کسی بھی غلطی یا خامی کی نشاندہی اکیلے میں، بچے کی عزتِ نفس اور نفسیاتی احترام کا کامل خیال رکھتے ہوئے کی جاتی ہے؛ یہی وہ نبوی اور حکیمانہ طریقہ ہے جو بچے کو احساسِ کمتری سے نکال کر کامیابی کی راہ پر گامزن کرتا ہے۔
اس عمل کو روزمرہ زندگی میں اپنانے کے لیے تین باتیں پیشِ نظر رکھیں:
*عیب کے بجائے حل پر توجہ:*
بچے کی کمزوری پر کُڑھنے اور ماتم کرنے کے بجائے اس کا عملی حل تلاش کریں۔ اگر اس کا دھیان بورڈ پر نہیں رہتا تو اسے پہلی بینچ پر بٹھائیں اور اکیلے میں پیار سے اس کی وجہ دریافت کریں۔
*کوشش اور محنت کی سراہیں:*
بچے کا موازنہ کبھی کسی دوسرے بچے سے نہ کریں۔ اس کی چھوٹی سے چھوٹی پیشرفت اور محنت کی بھی کھلے دل سے تعریف کریں۔
*عزتِ نفس کا احترام:*
یاد رکھیے! بچہ بھی ایک کامل انسان ہے اور اس کی بھی عزتِ نفس ہوتی ہے۔ جب ہم اس کی عزتِ نفس کو مجروح کرتے ہیں تو اس کی شخصیتی و ذہنی نمو ہمیشہ کے لیے رک جاتی ہے۔
خلاصہٴ کلام یہ ہے کہ بچوں کے سامنے ان کی خامیوں کا تذکرہ ان کی اصلاح کا طریقہ نہیں بلکہ ان کی تعمیر شدہ شخصیت کو مسمار کرنے کا ذریعہ ہے۔ ایک سچا معلم اور شفیق والد وہی ہے جو بچے کی خامیوں پر پردہ ڈال کر اس کی چھپی ہوئی خوبیوں کو نکھارے۔
https://whatsapp.com/channel/0029VaAXunpBlHpVz1X9nJ2s
2 756
*احساسِ کمتری کی ایک وجہ: بچوں کے سامنے ان کی خامیوں کا تذکرہ*
فکری و اصلاحی مضمون
✍️تحریر: محمد زکریا اچلپوری
*شخصیت سازی کی نازک وادی*
بچہ قدرت کا وہ تراشا ہوا گوہر ہے جس کی چمک دمک کا تمام تر انحصار اس تراش خراش پر ہوتا ہے جو اسے اپنے ماحول، والدین اور اساتذہ سے ملتی ہے۔ بچپن کا ذہن ایک شفاف آئینے اور کورے کاغذ کی مانند ہوتا ہے؛ اس پر جو عکس بھی ڈال دیا جائے، وہ ہمیشہ کے لیے نقش ہو جاتا ہے۔
لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ ہم تربیت اور اصلاح کے نادانستہ نام پر بچوں کے نازک ذہنوں پر ایسے منفی نقوش ثبت کر دیتے ہیں جو آگے چل کر ان کی شخصیت میں "احساسِ کمتری" کی گہری جڑیں بن جاتے ہیں۔ اس المیے کی سب سے بڑی اور مہلک وجہ بچے کی موجودگی میں، دوسروں کے سامنے اس کی خامیوں اور کمزوریوں کا بے باکانہ تذکرہ کرنا ہے۔
*شکایت اور سرزنش کا انداز*
جب ہم اپنے تعلیمی و تربیتی ماحول پر نظر ڈالتے ہیں تو یہ تلخ منظر عام دکھائی دیتا ہے کہ بچے کی اصلاح کا مقصد تو نیک ہوتا ہے، لیکن اس کا طریقہ کار نہایت غیر سائنسی اور غیر اسلامی ہوتا ہے۔ اس بے احتیاطی کی سب سے بڑی مثال اس وقت سامنے آتی ہے جب اساتذہ مہتمم یا پرنسپل کے سامنے بچے کی موجودگی ہی میں اس کی نالائقیوں کا دفتر کھول دیتے ہیں کہ "یہ بڑا کمزور ہے، اس کا دھیان بورڈ پر نہیں رہتا یہ بار بار بھول جاتا ہے وغیرہ۔
یہی معاملہ والدین کے سامنے بھی ہوتا ہے جہاں والدین کو بلا کر بچے کے عین سامنے اس کی خامیوں اور کوتاہیوں کی پوری فہرست پیش کر دی جاتی ہے، جس کے نتیجے میں بچہ اپنے والدین اور اساتذہ کی نظروں میں گرنے کا شدید نفسیاتی صدمہ محسوس کرتا ہے۔
بات صرف شکایتوں تک محدود نہیں رہتی، بلکہ سرزنش کے دوران بچے کی اصلاح کے بجائے اس کی ذات کو منفی القابات کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور اسے "تم کند ذہن ہو"، "تم بے وقوف ہو" یا "تمہیں کچھ یاد نہیں رہتا" جیسے جملوں سے نوازا جاتا ہے۔ ہمارا خام خیال یہ ہوتا ہے کہ بچے کو اس کی خامیاں گنا کر ہم اسے غیرت دلائیں گے اور وہ سدھر جائے گا، حالانکہ اس کا نتیجہ بالکل الٹ نکلتا ہے۔ جب بچے کے سامنے مسلسل اس کی تحقیر کی جائے اور اسے نالائق کہا جائے، تو اس کا نازک ذہن ان منفی جملوں کو اپنی حتمی سچائی مان لیتا ہے، اور یوں وہ کمی دور ہونے کے بجائے اس کے وجود کا مستقل حصہ بن کر اسے احساسِ کمتری کی دلدل میں دھکیل دیتی ہے۔
*ایک آنکھوں دیکھا واقعہ: نادانستہ جملے کا ہلاکت خیز اثر*
اصلاحِ تربیت کا ایک تلخ اور عبرت انگیز واقعہ مجھے خوب یاد ہے؛ جب میں درجۂ اولا یا ثانیہ (عربی اول یا دوم) میں زیرِ تعلیم تھا، تو ہمارے ایک نہایت محترم استاد نے کلاس کے دیگر بچوں کی موجودگی میں ایک طالب علم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: "یہ لڑکا تو مجھے احساسِ کمتری کا شکار معلوم ہوتا ہے!"
اس وقت اس لڑکے کو یہ خبر تک نہ تھی کہ 'احساسِ کمتری' کس بلا کا نام ہے! لیکن اس جملے نے اس کے ذہن میں ایک تجسس پیدا کر دیا۔ اس نے اس لفظ کی کھوج شروع کی، کتابوں میں تلاش کیا کہ احساسِ کمتری آخر ہوتی کیا چیز ہے؟ جیسے جیسے اسے اس کے معنی و مفہوم کی آگاہی ہوتی گئی، ویسے ویسے وہ خوف اور منفی سوچ اس کے دل و دماغ میں جڑ پکڑتی گئی۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ بچہ، جو محض ایک غیر محتاط جملے کا نشانہ بنا تھا، واقعی احساسِ کمتری کے تاریک اندھیروں میں ڈھلتا چلا گیا اور رفتہ رفتہ اس کی تمام تر خداداد صلاحیتیں دَب کر رہ گئیں۔ یہ واقعہ اس بات کا زندہ ثبوت ہے کہ زبان سے نکلا ہوا ایک غیر محتاط لفظ کسی بچے کی ابھرتی ہوئی شخصیت کو کس طرح ہمیشہ کے لیے اپاہج بنا سکتا ہے۔
*جدید نفسیات کی روشنی میں: منفی تعبیرات کے نتائج*
اسی فکری تسلسل کو اگر ہم جدید نفسیات کے آئینے میں دیکھیں تو ماہرین اس طرزِ عمل کو "لیبلنگ تھوری"
(Labeling Theory)
(Pygmalion Effect)
(Self-Fulfilling Prophecy)
کیتے ہیں۔
نفسیات دان کہتے ہیں کہ جب کسی بچے پر مسلسل "کند ذہن" یا "لاپروا" کا لیبل لگایا جائے تو بچے کا لاشعور اس کیفیت کو قبول کر لیتا ہے۔ وہ سوچنے لگتا ہے کہ "جب میں ہوں ہی کند ذہن، تو محنت کا کیا فائدہ؟" یوں وہ آگے بڑھنے کی کوشش ہی چھوڑ دیتا ہے۔
*مثبت تلقین اور اعتماد کی طاقت*
اس کے برعکس، اگر کوئی بچہ پڑھائی میں واقعتاً کمزور ہو، لیکن اس کے سامنے اس کی صلاحیت کا اعتراف کیا جائے مثلاً یہ کہا جائے کہ "ماشاء اللہ! تم بہت سمجھدار ہو، تم میں آگے بڑھنے کی پوری صلاحیت ہے، بس تھوڑی سی توجہ اور محنت کی ضرورت ہے، واہ ماشاءاللہ تم نے تو بہت اچھا پڑھا بہت اچھا یاد کیا وغیرہ" تو بچے کا لاشعور اس مثبت پیغام کو جذب کرتا ہے اور اس کی سوئی ہوئی صلاحیتیں بیدار ہو جاتی ہیں۔
2 756
حضرت بلال حبشی رض یوم وصال 20 رمضان المبارک
https://whatsapp.com/channel/0029VaAXunpBlHpVz1X9nJ2s
2 756
*پریشان کیوں ہوتے ہو ؟ اللہ تمہیں تراش رہا ہے*
کبھی کبھی زندگی کا بوجھ سہارنا مشکل ہو جاتا ہے، اور ایسا لگتا ہے جیسے کوئی بھی کام آپ کی مرضی کے مطابق نہیں ہو رہا۔ لیکن یاد رکھیے—یہ اللہ کی طرف سے کوئی سزا نہیں، بلکہ وہ آپ کی تربیت فرما رہا ہے۔
راستے کی ہر رکاوٹ، ہر وہ صدمہ جس نے آپ کا دل توڑا، اور ہر مشکل گھڑی دراصل آپ کی شخصیت کو نکھار رہی ہے تاکہ آپ وہ بن سکیں جو بننا آپ کا مقدر ہے۔ اللہ بخوبی جانتا ہے کہ آپ کے اندر کتنی ہمت ہے، وہ کبھی بھی اپنے بندے کو بے مقصد کسی آزمائش میں نہیں ڈالتا۔
اس کی مصلحت اور اس کے وقت پر کامل یقین رکھیے، تب بھی جب اس کی حکمت آپ کی سمجھ سے بالاتر ہو۔ ایک دن جب آپ پلٹ کر دیکھیں گے، تو آپ کو شدت سے احساس ہوگا کہ وہ ہر کٹھن راستہ دراصل آپ کو کسی عظیم نعمت کی طرف لے جا رہا تھا—بالکل اسی منزل کی طرف، جس کی تمنا کبھی آپ نے دعاؤں میں کی تھی۔
2 756
*🌟 مکتب، مدرسہ اور مسجد مینیجمنٹ سسٹم 🌟*
📌 دینی مکاتب، مدارس، مساجد اور اردو اسکول کے لیے خصوصی ڈیجیٹل نظام
اب آپ کے ادارے کا سارا ریکارڈ ایک ہی جگہ — بغیر رجسٹرز اور کاغذی جھنجھٹ کے!
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
*ہم آپ کے لیے لائے ہیں ایک ایسا ایپ اور سوفٹویئر جو ہوگا:*
✅ آپ کے مدرسہ کی ضروریات کے مطابق
✅ مکمل طور پر محفوظ اور قابلِ اعتماد
✅ استعمال میں نہایت آسان
📋 ڈیجیٹل حاضری اور جائزہ – حفظ، ناظرہ، نماز، تربیت اور دیگر شعبہ جات میں طلبہ کی پیش رفت کو ٹریک کریں
📱 والدین کے لیے ایپ – حاضری، کارکردگی، اور رویے کی معلومات فوری طور پر والدین تک
🧑🏻🏫 اساتذہ کے لیے آسان انٹرفیس، بچوں کی حاضری لینا، روزمرہ کی تعلیمی و تربیتی رپورٹنگ کے لیے سادہ ٹولز
📡 آن لائن و آف لائن سپورٹ - ادارے کے اندر یا دور دراز، دونوں جگہ استعمال کے قابل
🔔 فوری نوٹیفکیشنز – عملہ، طلبہ، اور والدین کے درمیان مؤثر رابطہ
✅ دین و دنیا کا امتزاج، اقدار اور اخلاق پر زور
✅ انتظامی امور میں وقت کی بچت
✅ کاغذ سے پاک، محفوظ ڈیجیٹل ریکارڈ
✅ شفافیت اور احتساب کے ذریعے اعتماد میں اضافہ
✅ انتہائی کم قیمت میں دستیاب (فی الحال مفت)
📚 طلبہ اور اساتذہ کا مکمل ریکارڈ
📊 حساب کتاب،کورس فیس، خرچ، چندہ وغیرہ
👨💼 عملہ اور نظم و نسق
🌐 مدرسہ کی تعروفی ویب سائٹ
📱 موبائل اور کمپیوٹر دونوں پر قابلِ استعمال
🔐 پرائیویسی اور سیکیورٹی کا مکمل لحاظ
🕔 ریکارڈ چند منٹوں میں تیار
🎯 رجسٹرز سے نجات پائیں — جدید ڈیجیٹل نظام اپنائیں!
*ڈیمو دیکھیں* 👇
https://youtube.com/playlist?list=PLvkamYdddMBs9u5ZYYWIdt3v6giSPIBKS&si=t2YcHZ2MaQ39AK7A
ہمارے گروپ سے جڑیں
https://chat.whatsapp.com/HSmqGyXbBap9O1aftVYdcg?mode=gi_t
2 756
https://www.facebook.com/share/v/1CfDNacGRS/
مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا رجوع نامہ جو وفات سے 8 مہینے پہلے یا اس سے بھی پہلے رجوع کرچکے تھے ۔
اب وہ لوگ ظالمین میں سے ہیں جو تحقیق کیا بغیر بکواس میں لگے ہیں ۔
2 756
Repost from Maktabus Suffah Ⓡ
#سلسلہ_خطاب_جمعہ نمبر 1
سلسلہ خطاب جمعہ : خطیب حضرات کے لئے تحفہ 📖
عنوان : حضرات حسنین کا کردار اور اسوہ ہمارے لئے نمونہ ہے
محرم الحرام
منجانب: مکتب الصفقه اچلپور کے مختلف شعبوں میں سے ایک شعبہ (خطیب حضرات کا معاون: خطاب جمعہ ) اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سےتشکیل دیا گیا ہے۔ ہر ہفتے سلسلہ وار خطاب جمعہ حاصل کرنے کے لیے مذکورہ گروپ سے جڑیں اور علماء کرام و خطیب حضرات کو بھی اس گروپ سے جڑنے کی دعوت دیں ۔
#ادارہ
▬▭▭▭▭▭▭▭▭▭▬
ناشر : مَکْتَبُ الصُّفَّهْ اچلپور
Maktabus Suffah Achalpur
👇🔻👇🔻👇🔻👇
https://t.me/MSuffah
▬▭▭▭▭▭▭▭▭▭▬
