𝐒𝐚𝐫𝐦𝐚𝐝
رفتن به کانال در Telegram
👉Hikayat (Video+Written) 👉Qurani Ayaat+Ahadees (Arabic+Urdu+English) 👉 WhatsApp Status (Short 30 seconds) 👉 Short texts (Wise words) 👉 Short Videos WhatsApp 👇 https://chat.whatsapp.com/EgIvFjmOtrT4ImbmRTfti3 Telegram 👇 http://T.me/SBLMEDIA
نمایش بیشتر282
مشترکین
اطلاعاتی وجود ندارد24 ساعت
اطلاعاتی وجود ندارد7 روز
+130 روز
آرشیو پست ها
282
*یہ جملہ ہمیشہ یاد رکھیں*
" آپ اس بندے کو کبھی نہیں ہرا سکتے جو یہ کہتا ہے کہ ہر آزمائش در حقیقت اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے"
You cannot defeat a person who thinks that every hardship is the Blessing of Allah.
🌹🌹🌹
282
تربیت ہو تو ایسی! ایک معصوم بچے کی بے لوث محبت نے سب کے دل جیت لیے،سوشل میڈیا پر وائرل اس ویڈیو میں ایک معصوم بچے کی جذباتی خواہش نے ہر آنکھ کو اشکبار کر دیا۔ بچے کا کہنا ہے:
’’جب میں مدینے جاؤں گا نا۔۔۔ آقاﷺ کے گیٹ کے پاس جیسے ہی میں پہنچ جاؤں گا، میں آہستہ سے پیارے آقاﷺ کو آواز لگاؤں گا: 'الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ'۔ پیارے آقا ﷺ جب مجھے دیکھیں گے تو کہیں گے کہ میرا حماد آیا ہے، اور میں رو پڑوں گا۔ جیسے ہی میں پیارے آقا ﷺ کو دیکھوں گا نا، میں رو ہی پڑوں گا۔
میں پیارے آقا ﷺ کے مبارک ہاتھوں کو چوموں گا، آپ ﷺ کے مبارک چہرے کو چوموں گا، اور آپ ﷺ کے مبارک قدموں کو بھی چوموں گا۔ پیارے آقا ﷺ مجھے دیکھ کر خوش ہو جائیں گے، اور مجھ سے بہت پیار کریں گے، بہت بہت پیار کریں گے۔
یہ الفاظ صرف ایک خواہش نہیں، بلکہ اس معصوم دل میں بسی سچی عقیدت اور والدین کی بہترین تربیت کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ بیشک، بچوں کے دلوں میں عشقِ رسول ﷺ کی شمع روشن کرنا ہی سب سے بڑی کامیابی ہے۔ 😍
@SBLMedia
282
1970 کی نایاب ویڈیو ۔۔ حکیم الامت مفسر قرآن علامہ مفتی احمد یار خان نعیمی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا دیدار کریں ۔۔۔💞🥰
حکیم الأمت کی تصانیف 👇❤️
تفسیر و قرآن
* تفسیر نعیمی: قرآن پاک کی ایک جامع اور مفصل اردو تفسیر۔
* تفسیر نور العرفان: قرآن مجید کے حاشیے پر لکھی گئی ایک مختصر مگر جامع تفسیر۔
* علم القرآن: اصطلاحات، قواعد اور مسائلِ قرآنیہ پر اہم کتاب۔
حدیث و شروحات
* مرآۃ المناجیح: مشکوٰۃ المصابیح کی 8 جلدوں پر مشتمل اردو شرح۔
* نعیم الباری: صحیح بخاری کی شرح۔
عقائد و کلام
* جاء الحق وزہق الباطل: اہل سنت کے عقائد اور مسلکی مسائل پر تحریر کردہ جامع کتاب۔
* شان حبیب الرحمن: قرآنی آیات کی روشنی میں فضائل و شانِ مصطفٰے کا بیان۔
* سلطنتِ مصطفٰے: آپ کی عالمگیر حاکمیت و اختيارات کا تحریری بیان۔
فقہ، سیرت و دیگر کتب
* فتاویٰ نعیمیہ: فقہی مسائل اور فتاویٰ کا مجموعہ۔
* اسرار الاحکام: احکامِ شرعیہ کی حکمتیں اور فقہی نکات۔
* اسلامی زندگی: معاشرتی آداب اور اسلامی ہدایات کا مجموعہ۔
* علم المیراث: وراثت کی تقسیم کے اسلامی قوانین پر رسالہ۔
* دیوانِ سالک: نعتیہ شاعری کا مجموعہ۔
@SBLMedia
282
*سبق آموز کہانی۔۔ مختصر وقت میں ایک بڑا اہم سبق*
@SBLMedia
ایک استاد بس میں سوار ہوئے تو دیکھا کہ کوئی سیٹ خالی نہیں تھی۔ ایک غریب بندہ اپنی سیٹ پر بیٹھا تھا۔ اس نے فوراً عزت سے کہا: "حضرت! آپ یہاں بیٹھ جائیں۔" یہ کہتے ہوئے اس نے اپنی سیٹ استاد کو دے دی اور خود کھڑا ہوگیا۔
استاد نے شکریہ ادا کیا اور کہا: "سچ میں، میری تو بہت بری حالت تھی۔ اللہ آپ کو خوش رکھے۔" غریب آدمی کے چہرے پر ایک خوبصورت مسکراہٹ پھیل گئی۔
کچھ دیر بعد پاس والی سیٹ خالی ہوئی، مگر اس آدمی نے خود بیٹھنے کے بجائے ایک ایسے آدمی کو بٹھا دیا جو اپنے چھوٹے بچے کو اٹھائے بڑی مشکل سے کھڑا تھا۔ وہ آدمی اگلے پڑاؤ پر اتر گیا تو سیٹ پھر خالی ہوگئی۔ اس بار بھی غریب آدمی نے بیٹھنے کی کوشش نہ کی بلکہ ایک کمزور بزرگ کو سہارا دے کر سیٹ پر بٹھا دیا۔
کچھ دیر بعد بزرگ بھی اتر گئے۔ بس میں اب چند ہی مسافر رہ گئے تھے۔ استاد نے اس نیک دل آدمی کو اپنے پاس بٹھایا اور حیرت سے پوچھا: "بھائی! میں نے دیکھا کہ کئی بار سیٹ خالی ہوئی، مگر آپ ہر بار کسی اور کو بٹھاتے رہے۔ خود کیوں نہیں بیٹھے؟"
آدمی نے مسکرا کر جواب دیا: "سر، میں مزدور ہوں۔ میرے پاس اتنے پیسے نہیں کہ صدقہ خیرات کر سکوں۔ اس لیے میں چھوٹی چھوٹی نیکیاں کرتا رہتا ہوں۔ کبھی سڑک پر پڑا پتھر ایک طرف کر دیتا ہوں، کبھی کسی ضرورت مند کو پانی پلا دیتا ہوں، کبھی بس میں کسی کے لیے اپنی سیٹ چھوڑ دیتا ہوں۔ جب سامنے والا مجھے دعا دیتا ہے تو میری غربت بھول جاتی ہے، دن بھر کی تھکن اتر جاتی ہے۔"
وہ ذرا رکا، پھر بولا: "اور جب میں باہر بیٹھ کر روٹی کھاتا ہوں تو پرندے میرے قریب آ جاتے ہیں۔ میں روٹی کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے انہیں ڈال دیتا ہوں۔ جب وہ خوشی سے چہچہاتے ہیں تو انہیں خوش دیکھ کر میرا دل بھر جاتا ہے۔ روپے پیسے نہ سہی، دعائیں تو مل ہی جاتی ہیں… وہ بھی مفت میں۔ فائدہ ہی ہے نا؟ آخر ہمیں ساتھ لے کر جانا ہی کیا ہے اس دنیا سے؟"
استاد خاموش رہ گئے۔ وہ ایک ایسے آدمی سے زندگی کا سبق سیکھ رہے تھے جو شاید کتابیں زیادہ نہ پڑھ سکا تھا، مگر انسانیت کا سب سے بڑا سبق جانتا تھا۔
282
"سیدہ آمنہ رضی اللّٰه تعالیٰ عنہا نے اپنے آخری وقت اپنے لخت جگرﷺ سے کہا : میں دنیا سے جارہی ہوں اور میرا ذکر خیر کے ساتھ رہے گا ، میں کیسی خیرِ عظیم چھوڑ چلی ہوں اور کیسا ستھرا پاکیزہﷺ مجھ سے پیدا ہوا۔"
( 📓المواہب للدنیه : ۱/۷۰ )
ہارون القادری
۱ ستمبر ۲۰۲۶
282
زیارتِ قبور سے فسق و فجور تک۔۔۔
@SBLMedia
تحریر: مفتی عاصم صدیقی نیروی (ابن امام)
زیارتِ قبور ایک ایسی اجازت تھی جسے نبی کریم صلی الله علیہ وآلہ وسلم نے اپنی امت کو عطا فرمایا اس کا مقصد انسان کو موت کی یاد دلاناآخرت کی فکر پیدا کرنا، دل میں عبرت پیدا کرنا اور اہلِ قبور کے لیے دعا و ایصالِ ثواب کی طرف متوجہ کرنا تھا۔
مگر افسوس کہ ہماری عقیدت اور محبت نے رفتہ رفتہ اس سادہ اور پاکیزہ عمل کے گرد رسومات کی ایک پوری دنیا آباد کر دی
معاملہ مزار پر چادر چڑھانے کے جواز سے شروع ہوا، مگر آج صورتِ حال یہ ہے کہ اکثر مزارات چادروں کے بوجھ تلے دبے دکھائی دیتے ہیں کسی جگہ مہنگی ترین خوشبوؤںاور عطر والے پانی سے مزار کو غسل دیا جا رہا ہے، کہیں صندل کی مالش اور لپائی ہو رہی ہے، کہیں مختلف نذرانوں اور رسومات کا ایک سلسلہ ہے، اور کہیں عقیدت کے نام پر ایسے ایسے اعمال رائج ہو چکے ہیں جن کے بارے میں شاید خود کرنے والے بھی یہ نہیں سوچتے کہ ان کی اصل کیا ہے؟
سوال یہ نہیں کہ کسی بزرگ سے محبت کیوں ہے۔
سوال یہ ہے کہ محبت کا اظہار کس حد تک شریعت کے دائرے میں رہ کر ہونا چاہیے
بزرگانِ دین سے محبت ہماری دینی اور روحانی روایت کا حصہ ہے۔ ان کی قبروں کی زیارت، اقتسابِ فیضان کے لیے دعائے مغفرت اور ان کی زندگیوں سے سبق حاصل کرنا یقیناً دل کو روشن کرنے والے اعمال ہیں۔ لیکن جب عقیدت رسم بن جائے، رسم روایت بن جائے، روایت کاروبار بن جائے اور کاروبار دین بن جائے تو پھر ہمیں رک کر اپنے راستے کا جائزہ لینا چاہیے۔
ہر وہ چیز جو نسلوں سے چلی آ رہی ہو، ضروری نہیں کہ دین بھی ہو اور ہر وہ عمل جسے محبت کا نام دے دیا جائے، ضروری نہیں کہ محبت کا درست طریقہ بھی ہو
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم مزارات اور اولیائے کرام کے احترام کے ساتھ ساتھ دین کی اصل روح کا بھی احترام کریں۔ ہم اپنے بچوں اور نوجوانوں کو یہ سکھائیں کہ اولیائے اللہ کی عزت ان کی تعلیمات پر عمل کرنے میں ہے، ان کی قبروں کو رسومات کا مرکز بنانے میں نہیں
ہماری ترجیح صاحبِ مزار کی تعلیمات ہیں یا گدی نشین کی رسومات ہمیں مزارات کی بے حرمتی نہیں، رسومات کی تطہیر چاہیے
ہمیں اولیائے کرام کی محبت سے دستبردار نہیں ہونا، بلکہ اس محبت کو شریعت، سنت، عقل اور اخلاص کے دائرے میں واپس لانا ہے۔
آئیے ذرا رک کر سوچیں!
ہم کہاں سے چلے تھے، کہاں پہنچ گئے ہیں، اور ہمیں کہاں جانا ہے؟
زیارتِ قبور ہمیں آخرت یاد دلانے آئی تھی؛ کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم نے آخرت کو بھلا کر خود زیارت ہی کو ایک دنیا بنا لیا ہے؟
یہ سوال کسی ایک مزار، کسی ایک طبقے یا کسی ایک شخص سے نہیں۔
یہ سوال ہم سب سے ہے۔
اور شاید وقت آ گیا ہے کہ ہم اس سوال کا جواب جذبات سے نہیں، دین کی اصل تعلیمات، علم، اخلاص اور احتساب کے ساتھ تلاش کریں۔
(اگر اپکو مفتی صاحب کی باتوں سے اختلاف ہو تو کمنٹ میں ضرور اگاہ کریں ہر سنجیدہ مشورہ بہترین رہنمائی ہے۔)
282
جس سرزمین کی مٹی مبارک کو حضور دو عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے جسم اقدس کے ساتھ لگنے کا شرف حاصل ہوا ہے لازم ہے کہ ان میدانوں کی بھی تعظیم کی جائے اور اس کی ہواؤں کو سونگھا جائے اور اس کے در و دیوار کو بوسہ دیا جائے۔
(شفا شریف : ۴۶/۲)
282
لیکن تمہارا باپ تمہیں دعا دینے کے لیے موجود نہ ہو…
تو کیا وہ دولت تمہیں سکون دے سکتی ہے؟
اور اگر آج تمہارے والدین زندہ ہیں…
تو پھر تم کس چیز کا انتظار کر رہے ہو؟
جاؤ۔
ان کے پاس بیٹھو۔
ان کا ہاتھ پکڑو۔
ان سے محبت کرو۔
ان کی خدمت کرو۔
ان سے معافی مانگو۔
اور ان کے لیے دعا کرو:
رَبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا
"اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما، جیسے انہوں نے بچپن میں مجھے پالا۔"
(سورۃ الإسراء: 24)
کیونکہ یاد رکھو…
ماں باپ کے جانے کے بعد انسان کے پاس صرف یادیں رہ جاتی ہیں، خدمت کا موقع نہیں۔
اور بعض پچھتاوے ایسے ہوتے ہیں…
جن پر پوری زندگی رویا جا سکتا ہے،
مگر انہیں بدلا نہیں جا سکتا۔
282
اولاد اللہ کی نعمت ہے، بیٹا ہو یا بیٹی۔
اصل سوال یہ نہیں کہ کتنے بچے ہیں؟
اصل سوال یہ ہے کہ:
جب ماں باپ بوڑھے ہوں گے تو ان کے پاس کون ہوگا؟
---
اے میرے بھائیو! ذرا ٹھہرو…
یہ تحریر کسی ایک بھائی کو شرمندہ کرنے کے لیے نہیں۔
یہ کسی کے گھر کا راز کھولنے کے لیے نہیں۔
یہ کسی کو برا ثابت کرنے کے لیے نہیں۔
یہ صرف ایک سوال ہے…
کیا ہم اپنے والدین کی قدر اُس وقت کریں گے جب وہ ہمارے پاس نہیں ہوں گے؟
قرآنِ کریم نے والدین کے بڑھاپے کو خاص طور پر ذکر کیا ہے:
«وَقَضَىٰ رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا ۚ إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِندَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُمَا أَوْ كِلَاهُمَا فَلَا تَقُل لَّهُمَا أُفٍّ وَلَا تَنْهَرْهُمَا وَقُل لَّهُمَا قَوْلًا كَرِيمًا»
ترجمہ:
اور تمہارے رب نے حکم فرمایا کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔ اگر ان میں سے ایک یا دونوں تمہارے سامنے بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو انہیں "اُف" تک نہ کہنا، نہ انہیں جھڑکنا، بلکہ ان سے عزت و احترام کے ساتھ بات کرنا۔
(سورۃ الإسراء: 23)
غور کیجیے!
اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ والدین جوان ہوں تو خدمت کرنا۔
بلکہ ان کے بڑھاپے کا خصوصی ذکر کیا۔
کیونکہ یہی وہ عمر ہوتی ہے جب والدین کو سب سے زیادہ اولاد کی ضرورت ہوتی ہے۔
---
رسول اللہ ﷺ نے بھی ہمیں خبردار فرمایا
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"اس شخص کی ناک خاک آلود ہو، پھر اس شخص کی ناک خاک آلود ہو، پھر اس شخص کی ناک خاک آلود ہو!"
عرض کیا گیا: یا رسول اللہ ﷺ! کون؟
فرمایا:
"وہ شخص جس نے اپنے والدین میں سے ایک یا دونوں کو بڑھاپے میں پایا، پھر بھی جنت میں داخل نہ ہوسکا۔"
(صحیح مسلم: 2551)
سوچئے…
جس عمر میں والدین ہمارے لیے اپنی نیندیں قربان کرتے تھے،
جس عمر میں ہماری ایک آواز پر دوڑتے تھے،
جس عمر میں ہمارے لیے اپنے پیٹ پر پتھر باندھ لیتے تھے…
اسی عمر میں اگر ہم ان کے لیے وقت نہ نکال سکے تو ہم نے کیا کمایا؟
---
والدین کی خدمت معمولی کام نہیں
ایک شخص نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور جہاد میں جانے کی اجازت مانگی۔
آپ ﷺ نے پوچھا:
"کیا تمہارے والدین زندہ ہیں؟"
اس نے عرض کیا: جی ہاں۔
آپ ﷺ نے فرمایا:
"پس انہی کی خدمت میں جہاد کرو۔"
(صحیح البخاری: 3004)
یعنی والدین کی خدمت اتنی عظیم ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اسے جہاد جیسی عظیم عبادت کے مقابلے میں اس شخص کے لیے ترجیح دی۔
---
میرے بھائیو!
آج اگر والدین زندہ ہیں…
تو یہ تمہاری زندگی کی سب سے بڑی دولت ہے۔
آج ان کے پاس بیٹھ جاؤ۔
ان کے ہاتھ چوم لو۔
ان سے پوچھ لو:
"امی! آپ کو کسی چیز کی ضرورت تو نہیں؟"
"ابو! طبیعت کیسی ہے؟"
ان کے لیے دوا لے آؤ۔
ان کے ساتھ ڈاکٹر کے پاس چلے جاؤ۔
کبھی ان کے پاؤں دبا دو۔
کبھی ان کے پاس خاموش بیٹھ جاؤ۔
کبھی ان کی پرانی باتیں سن لو۔
وہی باتیں جو تمہیں شاید سو مرتبہ سنائی جا چکی ہیں…
آج ایک سو پہلی مرتبہ بھی سن لو۔
کیونکہ کل شاید وہ بات سنانے والا ہی نہ ہو۔
---
اور ایک دن ایسا ضرور آئے گا…
گھر وہی ہوگا۔
کمرہ وہی ہوگا۔
چارپائی وہی ہوگی۔
دیواریں وہی ہوں گی۔
مگر ماں نہیں ہوگی۔
یا باپ نہیں ہوگا۔
پھر تم شاید ان کی پرانی چادر کو ہاتھ لگاؤ گے۔
ان کے کپڑوں کو سینے سے لگاؤ گے۔
ان کی تصویر دیکھ کر روؤ گے۔
ان کا نمبر موبائل میں دیکھو گے…
مگر فون نہیں کر سکو گے۔
تم چاہو گے کہ ایک بار پھر وہ آواز آئے:
"بیٹا!"
مگر اس بار خاموشی ہوگی۔
تم چاہو گے کہ ایک بار وہ تم سے ناراض ہوجائیں تاکہ تم انہیں منا سکو…
مگر وہ ناراض بھی نہیں ہوں گے۔
کیونکہ وہ دنیا سے جا چکے ہوں گے۔
پھر تمہارے آنسو شاید خون کے آنسو بن جائیں…
مگر وقت واپس نہیں آئے گا۔
---
اس لیے آج ہی فیصلہ کرلو
اپنے والدین کو صرف والدین نہ سمجھو۔
انہیں اللہ کی طرف سے دی ہوئی آخری بڑی نعمت سمجھو۔
ان کی خدمت کو احسان نہ سمجھو۔
یہ مت کہو:
"میں ان کے لیے اتنا کچھ کرتا ہوں۔"
یاد رکھو…
انہوں نے تمہیں اس وقت سنبھالا تھا جب تم کچھ بھی کرنے کے قابل نہیں تھے۔
تمہارا رونا انہیں جگاتا تھا۔
تمہاری بھوک انہیں بے چین کرتی تھی۔
تمہاری بیماری انہیں رات بھر سونے نہیں دیتی تھی۔
تمہارے مستقبل کے لیے انہوں نے اپنی جوانی قربان کردی۔
آج اگر وہ تمہیں اپنے بڑھاپے میں چند لمحے دے رہے ہیں تو اسے بوجھ نہ سمجھو۔
یہ اللہ کی طرف سے موقع ہے۔
موقع…
اپنی جنت خریدنے کا۔
موقع…
اپنی مغفرت کا۔
موقع…
اپنی ماں کی دعائیں لینے کا۔
موقع…
اپنے باپ کے دل سے نکلی ہوئی اس دعا کو حاصل کرنے کا جو شاید تمہاری پوری زندگی بدل دے۔
---
اور آخر میں صرف ایک سوال…
اگر تمہارے پاس دنیا کی ہر نعمت ہو…
لیکن تمہاری ماں نہ ہو…
تو کیا وہ دنیا مکمل ہے؟
اگر تمہارے پاس دولت کے ڈھیر ہوں…
282
وہ پانچ بیٹے… اور دو بوڑھے ہاتھ
کبھی کبھی زندگی ہمیں ایسے سوال کے سامنے لا کھڑا کرتی ہے جس کا جواب الفاظ میں دینا ممکن نہیں ہوتا۔
ایک گھر تھا…
اس گھر میں ایک ماں تھی، ایک باپ تھا، اور ان کے پانچ بیٹے تھے۔
بیٹی کوئی نہیں تھی۔
ماں باپ نے اپنی پوری زندگی انہی پانچ بیٹوں کے نام کر دی تھی۔
نہ دولت تھی، نہ جائیداد، نہ کوئی بڑا سہارا۔
بس دو ہاتھ تھے…
اور ان ہاتھوں میں محنت تھی۔
باپ نے لوگوں کے برتن دھوئے، کچن میں کام کیا، برسوں دوسروں کے لیے کھانا پکایا۔ تقریباً تیس سال تک ایک ہی گھر میں باورچی کی حیثیت سے کام کرتے رہے۔ صبح سے شام تک محنت، تھکن، پسینہ… مگر زبان پر شکوہ نہیں۔
ماں نے بھی اپنے حصے کی قربانیاں دیں۔
کبھی لوگوں کے گھروں میں صفائی کی، کبھی برتن دھوئے، کبھی دوسرے کام کیے۔ جب گھر کا خرچ پورا نہ ہوتا تو وہ بھی اپنے ہاتھوں کی محنت لے کر نکل پڑتیں۔
وہ دونوں اپنے لیے نہیں جیتے تھے۔
وہ اپنے پانچ بیٹوں کے لیے جیتے تھے۔
کبھی خود روکھی سوکھی کھا لیتے، مگر بچوں کو اچھا کھلاتے۔
کبھی اپنی خواہش مار دیتے، مگر بچوں کی ضرورت پوری کرتے۔
کبھی اپنے کپڑے پرانے کر لیتے، مگر بچوں کے لیے نئی چیز لے آتے۔
کبھی اپنی دوا مؤخر کر دیتے، مگر بچے بیمار ہوں تو ان کے علاج میں کوئی کمی نہ آنے دیتے۔
پھر وقت گزرتا گیا۔
دیکھتے ہی دیکھتے کئی دہائیاں گزر گئیں۔
وہ پانچوں بیٹے بڑے ہوگئے۔
وہ بچے جنہیں انگلی پکڑ کر چلنا سکھایا تھا، اب اپنے قدموں پر کھڑے ہونے لگے۔
اور پھر…
وہی ہوا جو اکثر گھروں میں ہوتا ہے۔
بچے بڑے ہوئے تو اپنے اپنے راستوں پر نکل گئے۔
کسی کا اپنا گھر بن گیا۔
کسی کی اپنی دنیا آباد ہوگئی۔
کسی کی اپنی مصروفیات ہوگئیں۔
کسی کے لیے والدین کی محبت ماضی کی ایک خوبصورت یاد بن گئی۔
اور دو چھوٹے بیٹوں نے اپنی پسند کی شادیاں کرلیں۔
زندگی کے نئے سفر میں ایسے آگے بڑھے کہ پھر اس گھر کی طرف مڑ کر دیکھنا بھی کم ہوتا گیا۔
ایک بیٹا کبھی آتا ہے…
مگر وہ بھی شاید صرف خبر ملنے پر۔
اور باقی؟
وہ اپنی اپنی زندگیوں میں مصروف ہیں۔
مگر اس گھر میں…
آج بھی دو بوڑھے لوگ موجود ہیں۔
وہی ماں…
جس نے کبھی اپنے بچوں کے کپڑے دھوئے تھے۔
وہی باپ…
جس نے کبھی اپنے بچوں کے لیے لوگوں کے برتن دھوئے تھے۔
آج ان کے اپنے ہاتھ کانپتے ہیں۔
جسم بیماریوں سے تھک چکا ہے۔
ضرورتیں بڑھ گئی ہیں۔
اور سہارا کم ہوگیا ہے۔
کبھی انہیں دوا چاہیے ہوتی ہے۔
کبھی ڈاکٹر کے پاس لے جانا ہوتا ہے۔
کبھی گھر کا کوئی کام ہوتا ہے۔
کبھی صرف کسی کے ساتھ بیٹھنے کو دل چاہتا ہے۔
اور ان سب کے درمیان…
ایک بیٹا ان کے پاس کھڑا ہے۔
وہی بیٹا جو کہتا ہے:
"والدین میرے ساتھ نہیں رہتے…
بلکہ میں یہ سمجھتا ہوں کہ اللہ نے مجھے اپنے والدین کے ساتھ رہنے کی سعادت دے رکھی ہے۔"
کیونکہ وہ جانتا ہے کہ دنیا میں بہت سی نعمتیں دوبارہ مل سکتی ہیں…
لیکن ماں باپ دوبارہ نہیں ملتے۔
دنیا کی دولت دوبارہ کمائی جا سکتی ہے۔
گھر دوبارہ بن سکتا ہے۔
کار دوبارہ خریدی جا سکتی ہے۔
کاروبار دوبارہ کھڑا کیا جا سکتا ہے۔
مگر…
ماں کی دعا دوبارہ نہیں ملتی۔
باپ کا سایہ دوبارہ نہیں ملتا۔
اور سب سے بڑھ کر…
جو وقت والدین کے ساتھ گزر گیا، وہ دوبارہ نہیں آتا۔
یہ بیٹا اپنے والدین کی خدمت کو بوجھ نہیں سمجھتا۔
وہ اسے اپنی خوش نصیبی سمجھتا ہے۔
کیونکہ اسے معلوم ہے کہ جس ماں نے کبھی اسے اپنے ہاتھوں سے کھانا کھلایا تھا، آج اگر وہ ماں چند لقموں کے لیے کسی کو آواز دے رہی ہے تو اس آواز کو سننا عبادت سے کم نہیں۔
جس باپ نے کبھی اسے اپنی انگلی پکڑ کر چلایا تھا، آج اگر وہ باپ چند قدم چلنے کے لیے سہارا مانگتا ہے تو اس سہارا بننے سے بڑی سعادت کیا ہوگی؟
اور ایک دن…
یہ دونوں ہاتھ خاموش ہوجائیں گے۔
وہ آواز جو روز کہتی ہے:
"بیٹا…"
وہ آواز ہمیشہ کے لیے بند ہوجائے گی۔
پھر انسان کے پاس گھر ہوگا، مال ہوگا، اولاد ہوگی، مصروفیات ہوں گی…
مگر وہ دو بوڑھے ہاتھ نہیں ہوں گے جنہوں نے اس کے لیے پوری زندگی دعائیں کی تھیں۔
---
ایک جملہ… جو دل میں تیر کی طرح اتر گیا
اس گھر کے بڑے بیٹے کی اپنی بیوی ہے۔
اس کی دو بیٹیاں ہیں، اور اب وہ دوبارہ امید سے ہے۔
گھر میں کبھی یہ بات ہوئی کہ اگر اس مرتبہ بیٹا ہوجائے تو اچھا ہوگا۔
مگر اس بیٹے نے ایک ایسا جملہ کہا جو شاید ساری عمر دل میں رہ جائے:
"بیٹا نہ ہی ہو تو اچھا ہے۔"
یہ بات بیٹے سے نفرت کی وجہ سے نہیں تھی۔
بلکہ اس نے اپنی آنکھوں سے ایک حقیقت دیکھی تھی۔
اس کے والدین کے پانچ بیٹے تھے۔
پانچ بیٹے جنہیں انہوں نے خون پسینہ ایک کرکے پالا۔
پانچ بیٹے جن کے لیے اپنی جوانی قربان کردی۔
پانچ بیٹے جن کے لیے اپنی خواہشیں دفن کردیں۔
اور آج…
وہی والدین بڑھاپے میں کس مپرسی کا شکار ہیں۔
تب دل نے شاید کہا:
"اگر بیٹا ہونا ہی والدین کی خدمت کی ضمانت نہیں، تو صرف بیٹے کی خواہش کیوں؟"
282
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلٰی اِبْرَاهِيْمَ وَعَلٰی اٰلِ اِبْرَاهِيْمَ اِنَّكَ حَمِيْدٌ مَّجِيْدٌ
اَللّٰهُمّ بَارِكْ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلٰی اِبْرَاهِيْمَ وَعَلٰی اٰلِ اِبْرَاهِيْمَ اِنَّكَ حَمِيْدٌ مَّجِيْدٌ
282
"آقا کی ولادت پر خوشی کے لیے دلیل چاہیے؟"
تعجب ہے ویسے !!! دلائل کے انبار ہیں لیکن ہم کہتے ہیں کہ
الحمدللہ میلاد منانا سنیوں کے مقدر میں لکھا ہے!
اور ہم تو اس بات پر حیران ہیں کہ مُحب کو اپنے محبوب کا تذکرہ کرنے
یا اُن کی آمد پر خوشی منانے کے لیے دلیل کی ضرورت کیوں ہے!!
بلکہ ہم مزید اس میں اِضافہ کریں گے!
حشر تک ڈالیں گے ہم پَیدائشِ مولیٰ کی دُھوم
مِثل فارِس نجد کے قلعے گراتے جائیں گے
ان شاءاللہ تعالیٰ
✍🏻 محمد سرمد لطیف
282
آنکھیں ٹھنڈی کیجیے اور غور کیجیے!
https://www.facebook.com/share/v/1D2Uq1Hqqz/
جانا تو ہر کسی نے ہے لیکن قسمت والی وہ ہستیاں ہیں جن کا کام عالمی سطح پر پھیل جاتا ہے
نعرہ تکبیر کے بعد اس وقت
لب. یک کے نعرے کو عالمی شہرت مل چکی ہے
اور ک. فر اور نجدیت دونوں کے مقاصد کو زمین بوس کرتا نظر آتا ہے
اور
جہاں نجد کے نجدی قرن شیطان ہونے کی وجہ سے میلاد ہضم نہیں کر پاتے..
وہیں یمن کے یمنی دعائےمصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم اللہم بارک لنا فی یمننا (اے اللہ ہمارے یمن میں برکت نازل فرما) کی جھلک دکھلاتے نظر آتے ہیں
رہے گا یونہی ان کا چرچا رہے گا
پڑے خاک ہو جائیں جل جانے والے
@SBLMedia
فرحان رفیق قادری عفی عنہ
282
أولُ منزعجٍ من مولد النبي هو إبليس وقد رنّ رنةً عظيمة عند ميلاد النبي أي صاح صيحةً عظيمة كما جاء في الأثر
وله أتباعٌ اليوم ينزعجون وتحترق قلوبهم من عمل المولد😍💚.
الاحتفال بالمولد النبوي بدعة سيئة لمن لا حظ له من محبة النبي ﷺ ، و بدعة حسنة طيبة مباركة لمن له حظ وافر من محبة النبي ﷺ .
✍️
یعنی
"نبی کریم ﷺ کی ولادتِ باسعادت سے سب سے پہلے جو شخص پریشان اور غمزدہ ہوا، وہ ابلیس تھا۔ نبی کریم ﷺ کی پیدائش کے وقت وہ بہت زور سے چلایا تھا (ایک دردناک چیخ ماری تھی)، جیسا کہ روایات میں آیا ہے۔
اور آج بھی اس کے کچھ ایسے پیروکار موجود ہیں جو محفلِ میلاد کے انعقاد سے نالاں ہوتے ہیں اور ان کے دل جلتے ہیں۔ 😍💚
نبی کریم ﷺ کے میلاد کا جشن منانا اس شخص کے لیے ایک 'بری بدعت' (ناپسندیدہ کام) ہے جس کا حصہ نبی اکرم ﷺ کی محبت سے خالی ہے، اور اس شخص کے لیے 'بدعتِ حسنہ' (ایک عمدہ، پاکیزہ اور بابرکت کام) ہے جو نبی کریم ﷺ کی محبت کا وافر حصہ رکھتا ہے۔"
@SBLMedia
