fa
Feedback
اسلامی اشعار

اسلامی اشعار

رفتن به کانال در Telegram

اچھے اشعار کا مطالعہ کیا جائے تو وہ انسان کو بھلائی کے راستے پر لگاتے ہیں لیکن اس کے برعکس اگر لغویہ،محبتوں،محض ذکرِ بُتاں اور تذکرۂ شراب و کباب والے اشعار ہوں تو وہ انسان کو تباہی تک لے جاتے ہیں۔ اردو،عربی،فارسی،پشتو،سندھی اشعار کیلئے چینل سے منسلک ہوں ـ

نمایش بیشتر
8 519
مشترکین
اطلاعاتی وجود ندارد24 ساعت
+57 روز
-2930 روز
آرشیو پست ها
مریزید خون از پَیِ تاج و گنج که بر کس نمانَد سرایِ سِپَنج (فردوسی طوسی) تاج و خزانہ کے لیے خون مت بہائیے کہ [یہ] عارضی سرائے کسی کے لیے [باقی] نہیں رہے گی۔

یہ سہ بیتی بند سعدی شیرازی کی "مثلثات" میں موجود ہیں۔ان میں اولیں بیت عربی میں، دوئمین بیت فارسی میں اور سوئمین بیت شیرازی لہجے میں ہے۔ عربی اور شیرازی بیت کا ترجمہ منوچہر دانش پژوہ کے مقالے ملمات و مثلثات یا اشعاردو زبانه و سه زبانه سے لیا گیا ہے لیعف المهتدی عن سؤ من ضل ولا یستهزکم من قائم زل منم کافتادگان را بد نگفتم که ترسیدم که روزی خود بیفتم کمسسکی اوت اس بخت آو بهریت مخن هر دم برای چنداکی بگریت (سعدی شیرازی) جو کوئی راہ یافتہ ہوا (ہدایت یافتہ ہوا) اسے چاہیے کہ وہ گمراہ کی بدی سے گریز کرے اور اس کا استہزاء نہ کرے، کیونکہ بسیار دانا ایسے ہیں جو لغزش کرکے غلط راہ پر گرگئے۔ میں ہوں کہ افتادگانِ (راہِ خطا) کی بدی نہیں کرتا کہ مجھے خوف ہوتا ہے ایک روز میں بھی نہ گِر جاؤں۔ جب مسکین گرگیا اور قسمت نے اس کی آبرو تباہ کردی، ہردم اس پر مت ہنس خواہ کتنا بھی وہ گریہ و زاری کرے۔

آن دل که پریشان شود از ناله‌ی بلبل در دامنش آویز که با وی خبری هست (عرفی شیرازی) وہ دل، کہ جو بلبل کے نالے سے پریشان ہوتا ہے، اس کے دامن کے ساتھ آویزاں رہ کہ اس (دل) کے پاس کوئی خبر ہے۔

ای بی‌کسی به خاکِ لحد دررسیده‌ایم عُقبیٰ به ما رسید نه دنیا به ما رسید (غلام قادر گرامی) اے وائے بے کسی! ہم خاکِ لحد کے پاس تک پہنچ گئے ہیں، [لیکن نہ تو] آخرت ہم تک پہنچی اور نہ دنیا ہم تک پہنچی۔ (یعنی ہم دنیا و آخرت ہر دو سے بے بہرہ رہے۔)

. مرا درد یست اندر دل کہ اگر گوئم زبان سوزد وگر پنہاں کنم ترسم کہ مغز استخوان سوزد اگر بیرون کشم از دل ترسم کہ کُل جہان سوزد (سعدی شیرازی) _ اگر میں دل کے آشوب بیان کروں تو میری زبان جلتی ہے اگر سینے میں ہی رہنے دوں تو ڈر ہے کہ اندروں میرا سوختہ ہوجائے گا ڈر ہے کہ اگر دل کا غبار نکالوں تو سارا جہان ہی نہ جل جائے

"أحبيتك كأنك لن تغادرني ابداً ، وغادرتني كأنك لم تحبني يوماً" ترجمہ: کبھی یہ حال کہ دونوں میں یک دلی تھی بہت کبھی یہ مرحلہ جیسے کہ آشنائی نہ تھی شاعر: نصیر ترابی

" عابدین کی اس سے افضل عبادت کوئی نہیں کہ! جس چیز سے خدا نے انہیں منع کر رکھا ہے، وہ اس سے دستبردار ہوجائیں" حسن بصری رحمہ اللّٰہ [الورع لإبن أبي الدنيا(٨)]

کہ تو بھی ابھی شامل ہے انہیں کی صف میں حسن بے ایمانی اور نافرمانی کیا فائدے تیری اس تعلیم کے
کہ تو بھی ابھی شامل ہے انہیں کی صف میں حسن بے ایمانی اور نافرمانی کیا فائدے تیری اس تعلیم کے

اے فراق تیرا برا ہو۔اے ہجر تجھے موت آئے۔اے جدائی خدا تجھے معدوم کردے۔ اے فراق! کن کو کن سے جدا کر دیتا ہے۔کیسے کیسے دل پاش کر
اے فراق تیرا برا ہو۔اے ہجر تجھے موت آئے۔اے جدائی خدا تجھے معدوم کردے۔ اے فراق! کن کو کن سے جدا کر دیتا ہے۔کیسے کیسے دل پاش کر دیتا ہے۔کس طرح آنکھیں بہہ بہہ کر لہولہان کر دیتا ہے۔کیسے کیسے بامروت و باوقار نفوس کو رولا دیتا ہے۔کس کا جہان خاک بوس نہیں کیا تو نے؟ کس کا گھر نہیں اجھاڑا تو نے؟ کس کی روح نہیں کھینچ لی تو نے؟ کس کا سینہ دھکا نہیں دیا تو نے؟ خدا تجھے غرق کرے! (واعظ)

درخت کٹ گیا لیکن وہ رابطے ناصرؔ تمام رات پرندے زمیں پہ بیٹھے رہے (حسن ناصر)
درخت کٹ گیا لیکن وہ رابطے ناصرؔ تمام رات پرندے زمیں پہ بیٹھے رہے (حسن ناصر)

☆ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ☆ اردو اسلامی اشعار ☆ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ☆ قسط نمبر : 8 (✍) تجھ پہ تیغِ جہاد لازم تھی ! وہ جو دشمن ہے دین و ایماں کا تو نے اس کو امام سمجھا ہے ہے جہنم یہ طرز افرنگی جس کو عشرت کا جام سمجھا ہے یہ تو باطل کی ہی غلامی ہے تو جسے اپنا کام سمجھا ہے تو نے تقلید کفر کو اپنے روز و شب کا نظام سمجھا ہے تیری قرآں سے بد ظنی کیوں ہے؟ تو نے کب یہ کلام سمجھا ہے ! تجھ پہ تیغِ جہاد لازم تھی تو نے اس کو حرام سمجھا ہے دوست اس کو سمجھتے ہو انور جس نے تم کو غلام سمجھا ہے ☆ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ☆ کلام : پروفیسر انور جمیل صاحب طالب دعا : اللہ کا بندہ

☆ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ☆ اردو اسلامی اشعار ☆ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ☆ قسط نمبر : 7 (✍) ... دشمن کا سامنا ہے جس نے تجھے فریب دیئے ہر مقام پر اس بے وفا سے ترک محبت کی بات کر ہمت نہ ہار مصلحت کے دام میں نہ آ دشمن کا سامنا ہے شجاعت کی بات کر بے چارگی و بے بسی کے تذکرے نہ چھیڑ غیروں کی انجمن ہے، غیرت کی بات کر خود غرضیوں کی سوچ کے جالوں کو توڑ دے خود اپنی ذات نہیں، ملت کی بات کر اچھا نہیں کہ ہو تری گفتار بے اثر ہر لفظ معتبر ہو، ضرورت کی بات کر دشمن کو شیر مت بنا اظہار وہن سے میدان جنگ ہے یہاں جرأت کی بات کر باطل سے گفتگو ہے تو ہر لفظ تیر ہو اپنوں کے درمیاں ہے تو الفت کی بات کر مَادر پدر آذاد، نہ روشن خیال بن ماضی پہ اپنے ناز کر، نسبت کی بات کر ☆ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ☆ کلام : پروفیسر انور جمیل صاحب طالب دعا : اللہ کا بندہ

وددتُ بأنّ القلبَ شُقَّ بِمُديَةٍ وأُدخِلتِ فيه ثم أطبِقَ في صدري فأصبحتِ فيه لا تَحُلِّين غيرَه إلى مُقتَضى يومَ القيامة وال
وددتُ بأنّ القلبَ شُقَّ بِمُديَةٍ وأُدخِلتِ فيه ثم أطبِقَ في صدري فأصبحتِ فيه لا تَحُلِّين غيرَه إلى مُقتَضى يومَ القيامة والحشر تعِيشِينَ فيه ما حيِيتُ، فإن أمُت سكنتِ شِغافَ القلبِ في ظُلَمِ القبرِ.. ابن حزم رحمہ اللہ "چاہتا ہوں کہ میرا دل درد اور بے چینی کی شدت سے دو حصوں میں پھٹ جائے اور پھر آپ کو اندر رکھ کر آپنے سینے میں بند کر لوں ۔اور پھر یہاں رہ کر آپ مجھ سے کھبی جدا نہ ہو سوائے حشر کے دن ، اور اس وقت تک جب تک میں زندہ ہوں، اور اگر میں فوت ہو جاؤں تو آپ میرے دل کی گہرائیوں میں میرے میرے قبر کی تاریکی میں رہ جاؤ ایک اور جگہ کہتے ہیں ۔۔ تکلیف کا واضح ثبوت وہ آگ ہے جو دل میں دہکتی رہتی ہے اور وہ آنسو ہیں جو رخساروں پر بہتے ہیں۔ اگر ایک جذباتی عاشق اپنے سینے کا راز چھپائے رکھے تو اس کے پرنم مژگاں اس راز کو افشاں کرے گا۔ جب بھی آنکھوں نے اپنے چشمے جاری کر دیے تو واضح ہوگیا کہ دل کو عارضہ لاحق ہے اور دل کو کسی شدید خواہش سے ایذا پہنچ گئی ہے

درایں شبِ سیاہم گم گشتہ راہِ مقصود از گوشہ بروں آ اے کوکبِ ہدایت اس اندھیری رات میں میری راہِ مقصود گُم ہو گئی ہے اے ہدایت کے ستارے، گوشہ سے باہر نکل آ۔ حافظ شیرازی

من که باشم تا به ذکرِ حق زبانم وا شود نامِ بیدل هم ز خِجلت بر لبم کم رفته‌است (بیدل دهلوی) میں کون ہوں کہ میری زبان ذکرِ حق تعالیٰ کے لیے کُھلے؟۔۔۔ میرے لب پر تو شرمندگی کے باعث بیدل کا نام بھی کم آیا ہے۔

اٹھا میں مدرسہ و خانقاہ سے غم ناک نہ زندگی نہ محبت نہ معرفت نہ نگاہ إقبال

ہر جُستجو عبث جو تیری جُستجو نہ ہو دِل سَنگ و خِشت ہے جو تیری آرزو نہ ہو (مرزا اسدالله خان غالب)

الآ لَيْت الشَّبَابَ يَعُودُ يَوْمًا فَأخْبرَهُ بِمَا فَعَلَ الْمُشِيبُ اے کاش! کسی دن جوانی لوٹ آئے تو میں اس کو خبر دوں کہ بڑھاپے نے (میرے ساتھ) کَیا کچھ کِیا ہے.!

بے سبب زلزلہ عالم میں نہیں آتا ہے کوئی بیتاب تہِ خاک تڑپتا ہو گا۔۔۔! ~ امیرؔ مینائیؒ

☆ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ☆ اردو اسلامی اشعار ☆ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ☆ قسط نمبر : 6 (✍) .... بہہ گئے فیض نہ پایا وحی کی حکمتوں کے نور سے اہل دانش عقل کی نادانیوں میں بہہ گئے جب بھی جذبوں کے تموّج کو نہ راہیں دی گئیں کتنے دریائے حسیں، طغیانیوں میں بہہ گئے کتنے اسکندر دلوں کے حکمراں نہ بن سکے شوقِ سلطانی لیئے سلطانیوں میں بہہ گئے کتنے سہرابوں کو گہنایا زوال شوق نے کتنے رستم سرخ رنگ کے پانیوں میں بہہ گئے اہل ہمت نے لیا نہ کام تیغ و تیر سے صاحب فن بے سر و سامانیوں میں بہہ گئے یہ بھی ممکن تھا کہ بنتے عظمتوں کے پاسباں وہ جو حسن و عشق کی جولانیوں میں بہہ گئے کاش ملت کی حدی خوانی انہیں ہوتی نصیب وہ جو انور لغو قصہ خوانیوں میں بہہ گئے ☆ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ☆ کلام : پروفیسر انور جمیل صاحب طالب دعا : اللہ کا بندہ