📚الترغيب والترهيب📚
رفتن به کانال در Telegram
اس چینل میں شیخ طلحہ منیار حفظہ اللہ( تلميذ رشید شیخ عبد الفتاح ابو غدہ قدس سرہ) کی پیش کردہ *احادیث کی تحقیقات کی لنک* شائع کی جاتی ہے،جو *احادیث مشہورہ نامی بلاگ* میں اپلوڈ کی جاتی ہے، نیز اور تحقیقات حدیث و اہم نکات حدیث پیش کئے جاتے ہے_
نمایش بیشتر3 567
مشترکین
اطلاعاتی وجود ندارد24 ساعت
+27 روز
+830 روز
آرشیو پست ها
3 568
*علماء کی شہادت پر ایک مخصوص روایت کے بارے میں*
https://shorturl.at/wTF6u
بقلم الشیخ محمد طلحہ بلال احمد منیار حفظہ اللہ
3 568
علی العموم مظلوم کی نصرت کا وعدہ ہے، جو پورا ہوکر رہے گا، عاجلا او آجلا، واللہ الحفیظ ۔
ہذا ما بدا لی، والعلم عند اللہ، ان کان صوابا فمن اللہ، والا فمن رأیي الضعیف ۔
رقمه العاجز: محمد طلحہ بلال احمد منیار
9/5/2026
3 568
*علماء کی شہادت پر ایک مخصوص روایت کے بارے میں*
٧٣٧٤ - وَعَنْ عبد الله بن سلام أنه قال لهم إن الملائكة لم تَزَلْ مُحِيطَةً بِمَدِينَتِكُمْ هَذِهِ مُنْذُ قَدِمَهَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ إِلَى الْيَوْمِ، وَاللَّهِ لَئِنْ قَتَلْتُمُوهُ لَتَذْهَبَنَّ ثُمَّ لَا تَعُودُ إِلَيْكُمْ أَبَدًا، وَإِنَّ السَّيْفَ لَمْ يَزَلْ مَغْمُودًا فِيكُمْ، فَوَاللَّهِ لَئِنْ قَتَلْتُمُوهُ لَيُسِلَّنَّهُ اللَّهُ عَلَيْكُمْ ثُمَّ لَا يُغْمِدُهُ عَنْكُمْ أَبَدًا - أَوْ قَالَ: إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ - وَمَا قُتِلَ نَبِيٌّ إِلَّا قُتِلَ بِهِ سَبْعُونَ أَلْفًا، وَلَا قُتِلَ خَلِيفَةٌ إِلَّا قُتِلَ بِهِ خَمْسٌ وَثَلَاثُونَ أَلْفًا، وَذَكَرَ أَنَّهُ قُتِلَ عَلَى دَمِ يَحْيَى بْنِ زَكَرِيَّا سَبْعُونَ أَلْفًا.
رَوَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ رَاهَوَيْهِ بِسَنَدٍ صَحِيحٍ كما في اتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة ج ٨ ص ١٠، والمطالب العالية ج١٨ ص ٥٢
اس روایت کے بارے میں دریافت کیا گیا تھا کہ: کیا عالم کے قتل وشہادت پر مصداق یا احتمال کے طور پر یہ روایت بیان کی جاسکتی ہے؟
فالجواب بعون الملک الوہاب:
یہ حدیث موقوف ہے حضرت عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ پر(جو یھود کے بڑے علماء میں سے تھے) یعنی ان کا کلام ہے۔
اس روایت کے دیگر طرق جمع کرنے سے اندازہ ہوا کہ حضرت عبد اللہ بن سلام نے یہ بات حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پر فتن دور میں ان کی شہادت سے قبل ارشاد فرمائی تھی، جیساکہ (اتحاف الخيرة المهرة) میں مذکورہ بالا روایت کے بعد وارد روايت میں ہے۔
بلکہ جامع ترمذی میں ہے: 3256 - حدثنا علي بن سعيد الكندي، قال: حدثنا أبو محياة، عن عبد الملك بن عمير، عن ابن أخي عبد الله بن سلام، قال: لما أريد عثمان جاء عبد الله بن سلام، فقال له عثمان: ما جاء بك؟ قال: جئت في نصرتك، قال: اخرج إلى الناس فاطردهم عني فإنك خارج خير لي منك داخل، فخرج عبد الله، إلى الناس فقال:
أيها الناس إنه كان اسمي في الجاهلية فلان فسماني رسول الله صلى الله عليه وسلم عبد الله ونزلت في: {وَشَهِدَ شَاهِدٌ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ عَلَى مِثْلِهِ فَآمَنَ وَاسْتَكْبَرْتُمْ إِنَّ اللَّهَ لاَ يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ} ونزلت في {قُلْ كَفَى بِاللَّهِ شَهِيدًا بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ وَمَنْ عِنْدَهُ عِلْمُ الكِتَابِ} إن لله سيفا مغمودا عنكم، وإن الملائكة قد جاوَرَتْكم في بلدكم هذا الذي نزل فيه نبيكم، فاللهَ اللهَ في هذا الرجل أن تقتلوه، فوالله إن قتلتموه لتَطرُدُنّ جيرانَكم الملائكة، ولتَسُلُّنَّ سيفَ الله المَغمودَ عنكم فلا يُغمَد إلى يوم القيامة، قال: فقالوا: اقتلوا اليهودي واقتلوا عثمان.
قال الترمذی: هذا حديث غريب. وقد رواه شعيب بن صفوان، عن عبد الملك بن عمير، عن ابن محمد بن عبد الله بن سلام، عن جده عبد الله بن سلام.
اور طبرانی میں ہے: 366 - حدثنا محمد بن عبد الله الحضرمي، قال: حدثنا عمر بن محمد بن الحسن الأسدي، قال: حدثنا أبي، قال: حدثنا سليمان بن المغيرة، عن حميد بن هلال، عن عبد الله بن معقل، عن عبد الله بن سلام، أنه قال حين هاج الناس في أمر عثمان: «أيها الناس لا تقتلوا هذا الشيخ واستَعتِبوه، فإنه لن تَقتُل أمةٌ نبيَّها فيصلُحَ أمرُهم حتى يُراق دماءُ سبعين ألفا منهم، ولن تَقتُل أمةٌ خليفتَها فيصلحَ أمرُهم حتى يُراق دماءُ أربعين ألفا منهم»۔
تفسیر رازی میں (إِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِينَ آمَنُوا فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا) کے ذیل میں ہے:
وسابعها: أنه تعالى قد ينتقم للأنبياء والأولياء بعد موتهم، كما نصر يحيى بن زكريا فإنه لما قُتل قُتل به سبعون ألفا۔
تفسير البغوي - طيبة (7/ 152) میں ہے:
قوله عز وجل {إِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِينَ آمَنُوا فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا} قال ابن عباس: بالغلبة والقهر. وقال الضحاك: بالحجة، وفي الآخرة بالعذر. وقيل: بالانتقام من الأعداء في الدنيا والآخرة، وكلُّ ذلك قد كان للأنبياء والمؤمنين، فهم منصورون بالحُجة على من خالفهم، وقد نَصَرهم الله بالقهرعلى من ناوأهم وإهلاك أعدائهم، ونَصَرَهم بعد أن قُتلوا بالانتقام من أعدائهم، كما نَصَر يحيى بن زكريا لما قُتل، قتل به سبعون ألفا، فهم منصورون بأحد هذه الوجوه۔
مذکورہ شواہد سے یہ سمجھ میں آتا ہے کہ: حضرت عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کی مذکورہ روایت کسی عالم کی شہادت پر بطور تنبیہ وتحذیر بیان کی جا سکتی ہے، محدثین کی تبویب بھی مؤید ہے، البتہ مخصوص عدد (اربعون الفا) کا تحقق محتمل ہے، کیونکہ نصرت کی شکلیں مختلف ہوسکتی ہیں، جیساکہ بغوی میں ہے۔
یہ بھی احتمال ہے کہ: یہ مخصوص عدد حضرت عبد اللہ بن سلام نے بنی اسرائیل کے احوالِ سابقہ کے اعتبار سے بیان کی ہو، یا (تورات) میں اس سلسلے میں کوئی وعید مذکور ہو، تو اس کا بعینہ وقوع امتِ محمدیہ میں لازم نہیں ہے۔
3 568
*زمزم پینے کی دعا موقوف ہے*
آج فجر کی تعلیم میں (فضائل حج) چھٹی فصل کی حدیث نمبر ۹ کے فائدے میں زمزم پینے کی مشہور دعا (اللہم انی اسئلک علما نافعا ۔۔۔) گزری، مگر فضائل کی کتاب میں اس کو حضرت ابن عباس کی روایت سے مرفوع بتایا گیا، جو درست نہیں ہے، ٍصحیح یہ ہے کہ یہ دعا حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما پر موقوف ہے، حضور ﷺ سے منقول نہیں ہے۔
دیکھیے:
(١) مصنف عبد الرزاق 9112 (٢)سنن الدارقطني 2738 (٣)مستدرك حاكم 1739 (٤)الترغيب والترهيب 1816.
(١).....٩١١٢ - عَنِ الثَّوْرِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ مَنْ يَذْكُرُ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ، شَرِبَ مِنْ زَمْزَمَ ثُمَّ قَالَ: «أَسْأَلُكَ عِلْمًا نَافِعًا، وَرِزْقًا وَاسِعًا، وَشِفَاءً مِنْ كُلِّ دَاءٍ»
(المصنف لعبد الرزاق /ج ٥ ص ١١٣)
(٢)..... ٢٧٣٨ - نا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ، نا عَبَّاسٌ التَّرْقُفِيُّ، نا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الْعَدَنِيُّ، حَدَّثَنِي الْحَكَمُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ: ⦗٣٥٤⦘ كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ «إِذَا شَرِبَ مِنْ زَمْزَمَ، قَالَ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ عِلْمًا نَافِعًا وَرِزْقًا وَاسِعًا وَشِفَاءً مِنْ كُلِّ دَاءٍ»
(سنن الدار القطني/ج ٣ ص ٣٥٣)
(٣).... ١٧٣٩ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ هِشَامٍ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حَبِيبٍ الْجَارُودِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رضي الله عنهما، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: «مَاءُ زَمْزَمَ لِمَا شُرِبَ لَهُ، فَإِنْ شَرِبْتَهُ تَسْتَشْفِي بِهِ شَفَاكَ اللَّهُ، وَإِنْ شَرِبْتَهُ مُسْتَعِيذًا عَاذَكَ اللَّهُ، وَإِنْ شَرِبْتَهُ لِيَقْطَعَ ظَمَأَكَ قَطَعَهُ» قَالَ: وَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ إِذَا شَرِبَ مَاءَ زَمْزَمَ قَالَ: «اللَّهُمَّ أَسْأَلُكَ عِلْمًا نَافِعًا، وَرِزْقًا وَاسِعًا، وَشِفَاءً مِنْ كُلِّ دَاءٍ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ إِنْ سَلِمَ مِنَ الْجَارُودِيِّ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "
(المستدرك علي الصحيحين/ج ١ ص ٦٤٦)
(٤)...وعن ابن عباس قَالَ قَالَ رَسُول الله ﷺ مَاء زَمْزَم لما شرب لَهُ إِن شربته تستشفي شفاك الله وَإِن شربته لشبعك أشبعك الله وَإِن شربته لقطع ظمئك قطعه الله وَهِي هزمة جِبْرَائِيل وسقيا الله إِسْمَاعِيل
رَوَاهُ الدَّارَقُطْنِيّ وَالْحَاكِم
وَزَاد وَإِن شربته مستعيذا أَعَاذَك الله وَكَانَ ابْن عَبَّاس ﵁ إِذا شرب مَاء زَمْزَم قَالَ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسأَلك علما نَافِعًا وَرِزْقًا وَاسِعًا وشفاء من كل دَاء وَقَالَ صَحِيح الْإِسْنَاد إِن سلم من الْجَارُود يَعْنِي مُحَمَّد بن حبيب
قَالَ الْحَافِظ سلم مِنْهُ فَإِنَّهُ صَدُوق قَالَه الْخَطِيب الْبَغْدَادِيّ وَغَيره لَكِن الرَّاوِي عَنهُ مُحَمَّد بن هِشَام الْمروزِي لَا أعرفهُ وروى الدَّارَقُطْنِيّ دُعَاء ابْن عَبَّاس مُفردا من رِوَايَة حَفْص بن عمر الْعَدنِي
الهزمة بِفَتْح الْهَاء وَسُكُون الزَّاي هُوَ أَن تغمز موضعا بِيَدِك أَو رجلك فَتَصِير فِيهِ حُفْرَة
(الترغيب والترهيب للمنذري/ج ٢ ص ١٣٦)
شیخ طلحہ بلال احمد صاحب منیار
3 568
قرآنِ مجید کی آیات کی تعداد
آج امام صاحب رسالہ (فضائلِ قرآن) میں سے تعلیم پڑھ رہے تھے، حدیث نمبر (9) کے فائدے میں یہ مضمون آیا کہ جنت کے درجے بقدر قرآن کی آیات کے ہیں، اس سلسلے میں امام دانی رحمہ اللہ کا قول پیش کیا گیا کہ: اہلِ فن کا اس بات پر اتفاق ہے کہ قرآن شریف کی آیات چھ ہزار (6000) ہیں، لیکن اس کے بعد کی مقدار میں اختلاف ہے، اور اتنے اقوال نقل کئے ہیں: 204، 14، 19، 25، 36.
عاجز نے امام دانی کی کتاب (البیان في عد آي القرآن) کی مراجعت کی، تو اس میں یہ اقوال ہیں:
*عدد آي القرآن في كتاب الداني*
المدني الأول: 6217
المدني الأخير: 6214 / 6210
المكي: 6219 / 6210 / 6216
الكوفي: 6236
البصري: 6204 / 6216
الشامي: 6225 / 6226
*المصدر* : البيان في عد آي القرآن للإمام الداني، ص 79 - 82
اس سے معلوم ہوا کہ حضرت شیخ رحمہ اللہ نے امام دانی کا جو قول نقل کیا اس میں دو سو (200) کا عدد ساقط ہے، یعنی اہلِ فن کا اتفاق چھ ہزار دو سو (6200) کی عدد پر ہے، اور چھ ہزار دو سو کے بعد کی مقدار میں اختلاف ہے:
4 ، 10 ، 14 ، 16 ، 17 ، 19 ، 25 ، 26 ، 36
فلیحرر ولیصحح
✍ بقلم الشیخ محمد طلحہ بلال احمد منیار
حفظہ اللہ
3 568
*خلاصہ یہ ہے کہ :* اس وقت ایران والا جو واقعہ پیش آیا ہے ، اس کا تعلق مذکورہ روایت سے واضح نہیں ہے، نیز معاشی بحران کے اسباب بھی الگ ہیں، یعنی خصوصی طور پر آئل ڈیوٹ کے حادثے سے مربوط نہیں ہیں۔
بس اللہ تعالی سے حالات کی درستگی فتنوں سے نجات اور عافیت مانگتے رہیں، اللہ تعالی سب کو اپنے امان میں رکھے۔ آمین
هذا ما بدالى، فان كان صوابا فمن الله
📝📝 رقمه العاجز : شیخ محمد طلحہ بلال احمد منیار
الأحد ١٥ مارس ٢٢٠٦
* الترغیب والترہیب*
———————————
https://t.me/Attargib
3 568
*مشرق کی جانب آگ کا ستون*
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے : *إذا رأيتم عموداً أحمر من قِبل المشرق في شهر رمضانَ فَادَّخِرُ وا طَعامَ سَنَتِكُم* بعض روایتوں میں اس پر یہ اضافہ ہے : *«فَإِنَّهَا سَنَةُ جُوع»*
ترجمہ : جب تم رمضان کے مہینے میں مشرق کی جانب آگ کا ستون دیکھ لو، تو ایک سال کے خوراک کا ذخیرہ کرو، کیونکہ یہ بھوک کا سال ہے۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب ارشاد فرما رہے تھے تو آپ مدینے میں تشریف فرما تھے ۔ اور عرب کے مشرق میں ایران ہے۔ ایران کے آئل ڈیوٹ پر صہیونی حملے کے بعد آگ ستون بن کر بھڑک اٹھی۔
اگر اس حدیث پاک سے یہی مراد ہے تو نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے مطابق ایک سال کے لیے خوراک اور دیگر اخراجات کا ذخیرہ کیا جانا مناسب ہوگا۔ کیونکہ ہو سکتا ہے کہ اس کے بعد قحط پڑ جائے۔
یہ میسج آج کل سوشل میڈیا پر پھیلا یا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے لوگ تشویش کا شکار ہو رہے ہیں، اور ان کو ٹینشن ہو رہا ہے کہ معلوم نہیں آئندہ کن حالات سے دوچار ہونا پڑے گا، کیا اشیائے خوردنی کی قلت یا ناپیدی ہوگی ؟ کیا مہنگائی بڑھ کر آسمان کو چھوئے گی؟
متعدد حضرات اس روایت کی صحت سے متعلق سوال کر رہے ہیں ، ماشاء اللہ حضرت مفتی عارف محمود صاحب زیدت معالیم نے اس روایت کی سندی حیثیت کو واضح فرمادیا۔
البتہ متن کے متعلق چند باتیں عرض کرنا مناسب سمجھتا ہوں۔
*پہلی بات:* مذکورہ روایت کے ساتھ جو تصویر ایران کے آئل ڈیوٹ کی پیش کی جاتی ہے ، بعض حضرات نے اس کی تحقیق کی، تو معلوم ہوا کہ یہ تصویر لبنان پر اسرائیل کے اٹیک کے واقعے کی ہے، جو چند سالوں پہلے پیش آیا تھا، ایران کی نہیں ہے ، اگر یہ درست ہے تو پھر یا تو غلط بیانی سے کام لیا گیا، یا ایران کے واقعے کی صحیح صورت حال سامنے نہیں آئی، تو اس روایت کے ساتھ جوڑنا بے کار ہوگا۔
*دوسری بات:* اس روایت کی روافض کے یہاں زیادہ اہمیت ہے ، اس لیے کہ وہ اس واقعے کو ظہور مہدی کے ساتھ جوڑتے ہیں، چنانچہ ان کی بعض کتابوں میں اس روایت کے الفاظ یہ ہیں :
*عن الإمام الصادق (عليه السلام) قال: إذا رأيتم علامة في السماء ناراً عظيمة من قبل المشرق تطلع ليالى، فعندها فرج الناس. وهي قدام القائم (عليه السلام) بقليل الغيبة للشيخ النعماني: ص ١٢٧٦*
اور یہ بات تو مخفی نہیں ہے کہ جس مہدی (امام غائب) کے ظہور کا وہ لوگ انتظار کر رہے ہیں، وہ اہل سنت کے مہدی نہیں ہیں۔
*تیسری بات:* امام مناوی نے "فیض القدیر" میں اس روایت کے جو شواہد ذکر کئے، جو دراصل نعیم بن حماد کی کتاب «الفتن » سے ماخوذ ہیں ، ان شواہد کو دیکھ کر غالب رجحان یہی ہے کہ : ایران کے آئل ڈیوٹ کی آگ کو ( عمودا احمر) قرار دینا درست نہیں ہے، کیونکہ ان شواہد میں اس کے اوصاف میں ایک بات تو یہ بیان کی گئی کہ وہ سرخ ستون آسمان پر دکھائی دے گا، نہ کے زمین پر ہوگا، اور دوسری بات یہ بیان کی گئی *( یراہ أهل الأرض كلهم )* یعنی زمین پر بسنے والے تمام لوگوں کو وہ سرخ نشانی نظر آئے گی، یہ بات اس وقت متحقق ہو سکتی ہے جب یہ نشانی آسمان پر ہو۔
نیز بعض روایات میں اس علامت کے باقی رہنے کی مدت بھی بتائی گئی ہے، تین دن یا سات دن :
*عن الإمام الباقر (عليه السلام): إذا رأيتم ناراً من المشرق شبه الهردى العظيم تطلع ثلاثة أيام أو سبعة فتوقعوا فرج آل محمد (عليهم السلام ) إن شاء الله (عز وجل) إن الله عزيز حكيم. الغيبة للشيخ النعماني: ص ١٢٦٣*
*622 - حدثنا الوليد بن مسلم، حدثنا شيخ عن يزيد بن الوليد الخزاعي عن كعب، قال: علامة انقطاع ملك ولد العباس حمرة تظهر في جو السماء، وهذه تكون فيما بين العشر من رمضان إلى خمس عشرة، وواهية فيما بين العشرين إلى الرابع والعشرين من رمضان، ونجم يطلع من المشرق يضىء كما يضيء القمر ليلة البدر، ثم ينعقف الفتن لنعيم بن حماد ( 224/1).*
*چوتھی بات :* نعیم بن حماد کی کتاب الفتن ) کی روایات زیادہ تر خالد بن معدان یا کثیر بن مرة پر موقوف ہیں، یا مرسل ہیں، جس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف رفع کرنا راوی کی غلطی ہے، یعنی یہ حدیث مرفوع نہیں ہے، نیز اسانید بھی قابل اعتبار نہیں ہیں۔ واللہ اعلم
*پانچویں بات :* اس روایت کے بعض طرق میں متعدد حوادث کا تذکرہ ملتا ہے ، جو لگا تار پیش آئیں گے ، یہ روایت ملاحظہ فرمائیں :
الفتن لنعيم بن حماد (225/1)
628 - *حدثنا ابن وهب عن مسلمة بن على، عن قتادة عن سعيد بن المسيب، عن أبي هريرة. رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: تكون آية فى شهر رمضان، ثم تظهر عصابة في شوال، ثم تكون معمعة فى ذي القعدة، ثم يسلب الحاج فى ذى الحجة، ثم تنتهك المحارم في المحرم، ثم يكون صوت في صفر ، ثم تنازع القبائل فى شهرى ربيع، ثم العجب كل العجب بین جمادی و رجب، ثم ناقة مقتبة خير من دسكرة تغل مائة ألف. قال أبو عبد الله نعيم : لا*
*أعلم إلا أني سمعته من مسلمة بن على إن شاء الله، وبينه و بين قتادة رجل*
3 568
✦───────────
"مشرق کی جانب آگ کا ستون"
✍ بقلم الشیخ محمد طلحہ بلال احمد منیار حفظہ اللہ
✦───────────
👈 ❋ الترغیب والترھیب ❋
https://t.me/Attargib
3 568
✦───────────
اوذیت فی اللہ الخ اشکال و جواب
✍ بقلم الشیخ محمد طلحہ بلال احمد منیار حفظہ اللہ
✦───────────
👈 ❋ الترغیب والترھیب ❋
https://t.me/Attargib
3 568
باسمہ عزوجل
عزیزم مولوی محمد عبید منیار سلمہ نے دریافت کیا کہ: (تزینوا لنسائکم) کوئی حدیث ہے؟
میں نے کہا: دیکھ کر بتاتا ہوں، بعد میں تلاش کیا تو بعینہ ان الفاظ کی کوئی حدیث نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب دستیاب نہیں ہوئی۔
تاہم اس مفہوم کی بعض روایات ملیں، جو دو طرح کی ہے:
٭پہلی: تزین الرجال والی:٭
1- عن علي بن أبي طالب رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «اغسلوا ثيابكم، وخذوا من شعوركم، واستاكوا وتزينوا وتنظفوا، فإن بني إسرائيل لم يكونوا يفعلون ذلك، فزنت نساؤهم» أخرجه ابن عساكر في «تاريخ دمشق» 36/124 من طريق عبد اللَّه بن ميمون القداح عن جعفر بن محمد عن أبيه عن جده عن علي به.
في سنده: عبد الله بن ميمون القداح، قال فيه قال أبو حاتم: متروك. وقال البخاري: ذاهب الحديث. وقال ابن حبان: لا يجوز أن يحتج بما انفرد به. (انظر: ميزان الاعتدال 2/512).
وقال الذهبي في «تذكرة الحفاظ» 3/234 بعد ذكر الرواية: «هذا لا يصح وإسناده ظلمة».
وقال ابن الملقن في «البد المنير» 2/53: «حديث لا يصح».
وفي «المداوي لعلل المناوي» 2/40: «والواقع يدل على أنه كذب، فإن حال هذه الأمة على خلاف ذلك، فنساؤها تزني على نظافة الرجال وزينتهم، فالعفيفة الديِّنة لا يغرّها في دينها زينة، ولا يشينها في عرضها نظافة، والفاجرة بخلاف ذلك».
2- عن ابن عباس رضي الله عنهما قال: إني أحبُّ أن أتزين للمرأة، كما أحب أن تتزين لي; لأن الله تعالى ذكره يقول: (ولهن مثلُ الذي عليهن بالمعروف).
أخرجه الطبري في «التفسير» 4/532. وهو في «المصنف» لابن أبي شيبة 4/196 (19263) و«السنن الكبرى» للبيهقي 7/482. وهو حديث موقوف صحيح.
3- وعن أبي رافع مولى رسول الله صلى الله عليه وسلم: أن امرأة أتت عمر بن الخطاب رضي الله عنه بزوجٍ لها أشعث أغبر أصفر، فقالت له: يا أمير المؤمنين! لا أنا ولا هذا، خلصني منه!. فنظر عمر إليه، فعرف ما كَرِهَت منه، فأشار إلى رجلٍ وقال: اذهب به إلى الحمام، فجممه وخذ من شعره وقلم أظفاره، وألبسه حلةً معافريةً، ثم ائتني به!
فذهب به الرجل، ففعل ذلك به، ثم أتى به، فأومأ إليه عمر بيده أن خذ بيدها! فإذا هي لا تعرفه فقالت: يا عبد الله! سبحان الله! أبين يدي أمير المؤمنين تفعل مثل هذا؟ فلما عرفته مضت معه فقال عمر: (هكذا فاصنعوا بهن! فوالله إنهن ليحببن أن تتزينوا لهن كما تحبون أن يتزين لكم) (أدب النساء لابن حبيب 167).
4- وفي قوله تعالى: (وعاشروهن بالمعروف) [سورة النساء 19] قال بعضهم: هو أن يتصنَّع لها كما تتصنَّع له. وقال يحيى بن عبد الرحمن الحنظلي: أتيت محمد ابن الحنفية، فخرج إلي في مِلْحَفَة حمراء، ولحيته تقطر من الغالية، فقلت: ما هذا؟ قال: إن هذه الملحفة ألقتها عليَّ امرأتي ودهنتني بالطيب، وإنهن يشتهين منَّا ما نشتهيه منهن. (تفسير القرطبي 5/97).
٭دوسری: تزین النساء والی:٭
1- عن عائشة زوج النبي صلى الله عليه وسلم، قالت: دخل علي رسول الله صلى الله عليه وسلم فرأى في يدي فتخات من ورق، فقال: «ما هذا يا عائشة؟»، فقلت: صنعتهن أتزين لك يا رسول الله، قال: «أتؤدين زكاتهن؟»، قلت: لا، أو ما شاء الله، قال: «هو حسبك من النار». أخرجه أبو داود في «السنن» (1565) وهو صحيح.
2- عن معمر، والثوري، عن أبي إسحاق، عن امرأة ابن أبي الصقر، أنها كانت عند عائشة رضي الله عنها فسألتها امرأة؟ فقالت: يا أم المؤمنين، إن في وجهي شعرات أفأنتفهن أتزين بذلك لزوجي؟ فقالت عائشة: «أميطي عنك الأذى، وتصَنَّعي لزوجك كما تَصَنَّعين للزيارة، وإذا أمرك فلتطيعيه، وإذا أقسم عليك فأبريه، ولا تأذني في بيته لمن يكره».
أخرجه عبد الرزاق في «المصنف» 3/ 146 (5104).
خلاصہ: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد سے: (تزینوا لنسائکم) کے الفاظ سے کوئی روایت تلاش کرنے پر نہیں ملی۔ ہاں اس کا مفہوم بعض صحابہ رضی اللہ عنہم کے قول سے وارد ہے، تو اس کو مرفوع حدیث نہیں کہیں گے، اسی طرح حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نسبت کرکے مطلقا حدیث کہنا بھی درست نہیں ہوگا، البتہ حدیثِ موقوف کہہ سکتے ہیں۔
✍ بقلم الشیخ محمد طلحہ بلال احمد منیار حفظہ اللہ
تاریخ ٢٢-٩-٢٠٢٤
✦───────────
👈 ❋ الترغیب والترھیب ❋
https://t.me/Attargib
3 568
ہمارے ایک کرم فرما بزرگ نے عاجز سے فرمایا کہ: حدیث کی قدیم تشریح، اور شیخ ابو غدہ نے جو تشریح فرمائی، دونوں میں ترکیب کے اعتبار سے کیا فرق ہے، اس پر روشنی ڈالنے کی درخواست ہے
عاجز نے جواباً عرض کیا:
*وعلیکم السلام*
بدأ الاسلام غریبا
یہاں پر غریبا حال ہے، اور اسلام ذو الحال
بدأ: فعل
الاسلام: فاعل ذو الحال
غریبا: حال
مراد ہے کہ اس کی ابتدا ایسی حالت میں ہوئی تھی کہ وہ اجنبی تھا، نا مانوس تھا، کوئی جانتا نہیں تھا، اس کے ماننے والے اس کا علم رکھنے والے بہت قلیل تھے۔
وسیعود غریبا
آخری زمانے میں پھر وہ اجنبی ہوجائے گا، پردیسی شخص کی طرح، نا معلوم، نا مانوس، اس کے اپنانے والے اس کا علم رکھنے والے معدود۔
*یہ ترکیب تو مشہور تشریح کے مطابق ہے*
مگر شیخ ابو غدہ نے غریبا کو صفت قرار دیا، اور موصوف بدءا، جو بدأ کا مفعول مطلق ہے
بدأ : فعل
الاسلام: فاعل
بدءا: مفعول مطلق موصوف
غریبا: صفت
وسیعود: فعل
فاعل ھو ضمیر
عودا: مفعول مطلق موصوف
غریبا: صفت
یہاں پر غریبا کا ترجمہ اجنبی نا مانوس سے نہیں کریں گے
بلکہ ترجمہ ہوگا: عجیب، انوکھا، حیرت انگیز
عجیب وغریب طریقے سے ابتدا ہوئی، اور اخیر زمانے میں عجیب وغریب طریقے سے لوٹ کر آئے گا۔
وکتبہ محمد طلحہ بلال احمد منیار
===========
معاصر بعض اہل علم کی تشریحات میں یہ بات بھی ملی کہ
غریبا کے بعد ایک جملہ محذوف ہے : ثم ظہر وانتشر، واستغلظ واستوی علی سوقہ
یعنی ہر غربت کے دور کے بعد پھر دوبارہ وہ پھلا پھولا، مضبوط ہوا
اور یہ خود بخود نہیں ہوا بلکہ (غربا) کی سعی وکوششوں سے ہوا، جنہوں نے غربت کو دور کرنے میں اپنی جد وجہد جاری رکھی
اسی لئے فرمایا: فطوبی للغرباء ۔۔۔ الذین يصلحون ما أفسد الناس من سنتي
گویا کہ حدیث کا اصل مقصد ہے: دین کی اشاعت اور اصلاحی کاموں کی طرف متوجہ کرنا
نہ کہ غربت کو قضائے لازب سمجھ کر بیٹھ جانا
ھذا ما فہمتہ فان کا صوابا فمن اللہ
✍ بقلم الشیخ محمد طلحہ بلال احمد منیار حفظہ اللہ
✦───────────
👈 ❋ الترغیب والترھیب ❋
https://t.me/Attargib
3 568
*تعليق طفيف على بعض الألفاظ في مقدمة «حجة الله البالغة» للإمام الشاه ولي الله الدهلوي*
تعليق العاجز: محمد طلحة بلال أحمد منيار
قال الشاه ولي الله (1/38) وهو يبين صعوبة التصنيف في علم أسرار الشريعة:
ولكن قل من صنف فيه ، أو خاض في تأسيس مبانيه ، أو رتب منه الأصول والفروع ، أو أتى بما يُسْمِنُ أو يُغني من جوع ، وحُقَّ له ذلك ، *ومن المثل السائر في الورى: ومَنِ الرديفُ وقد ركبتَ غضنفراً؟*
كيف؟ ولا تتبين أسراره إلا لمن تمكن في العلوم الشرعية بأسرها ، واستبد في الفنون الإلهية عن آخرها ، ولا يصفو مَشْرَبُه إلا لمن شرح الله صدره لعلم لدني ، وملا قلبَهُ بِسِرٌ وَهْبِيٌّ ، وكان مع ذلك وقَّاد الطبيعة ، سَيَّالَ القريحة ، حاذقاً في التقرير والتحرير ، بارعاً في التوجيه والتحبير ، قد عرف كيف يُؤصِّلُ الأصول ، ويبني عليها الفروع ، وكيف يُمَهد القواعد ، ويأتي لها بشواهد المعقول والمسموع.
قال العاجز: قوله: *ومن المثل السائر في الورى: ومَنِ الرديفُ وقد ركبتَ غضنفراً؟*
هذا شطر بيت لأبي الطيب المتنبي، يمدح به ابن العميد الكاتب، وقبلَه: أنت الوحيدُ إذا ارتكبْتَ (أو ركبتَ) طَرِيقةً.
ومعنى البيت كما في «المآخذ على شراح ديوان أبي الطيب المتنبي » 1/ 118: يقول: قد ركبت من خلائقك وطرائقك أمرا لا يتبعك فيه أحد، مخافة الفضيحة، لتقصيره عن مداك، وتأخره عن مغزاك.
والأحسن في هذا تفسير الشيخ أبي الحسن الواحدي: قال: يقول: أنت فرد الطريقة في كل أمر تقصده، لا يقدر أحد أن يقتدي بك في طريقتك، كراكب الأسد لا يقدر أحد أن يكون رديفا له، وعلى هذا القول: «الغضنفر» مركوب. ويجوز أن يكون راكبا بأن يكون حالا لممدوح: يقول: لا يقدر أحد أن يكون رديفا لك وأنت غضنفر. اهـ
قال العاجز: ضبط لفظ «ركبت» في طبعة الشيخ سعيد البالنبوري (1/38) بضم التاء، والأحسن الفتح لأنه يخاطب به ممدوحه ابن العميد، كما هو في «ديوان المتنبي» وقد قالوا: إن المثل يحكى كما هو بدون تغيير.
وقال الشاه ولي الله (1/ 39-40) وهو يتحدث عن سبب تأليف الكتاب:
ثم ألهمني ربي بعد زمان أن مما كتبه علي بالقلم العلي ، أن أنتهض يوماً [مَّا] لهذا الأمر الجَلِي ، وأنه أشرقت الأرض بنور ربها ، وانعكست الأضواء عند مغربها ، *وأن الشريعة المصطفوية أشرفت في هذا الزمان ، على أن تَبْرُز فِي قُمُص سابغة من البرهان*.اهـ
قال العاجز: قوله: *وأن الشريعة المصطفوية أشرقت* .... ضبط لفظ «أشرفت» في طبعة الشيخ سعيد البالنبوري (1/39) بالقاف من الشروق وهو طلوع الشمس وسطوع ضوئها. لكن في النسخ الخطية بالفاء «أشرفت» أي أطلَّت ورفعت رأسها من علوّ، أي كأنها تنتظر من يبين أسرارها ببراهين ساطعة.
وقال الشاه ولي الله (1/41) وهو يتحدَّث عن جهود صديقه محمد عاشق في البحث عن عالم يكون أهلا للتصنيف في أسرار الشريعة:
فطاف ما قدر عليه من البلاد ، وبحث من تَوَسَّمَ فيه الخير من العباد، وتفحَّص سِينَهم وشِينَهم ، وسَبَرغّثَّهم وسَمِينَهم ، فلم يجد من يتكلم منه بنافعة ، أو يأتي منه بجذوة ساطعة. اهـ
قال العاجز: علَّق الشيخ البالنبوري موضحا معنى «سينهم وشينهم» بقوله: سينهم: لم أجد هذه الكلمة في المعاجم، والمراد: زَينَهم، والشَّيْن: العيب والقبح، خلاف الزَّين. كذا قال!
ويرى العاجز: أن المراد حرفا «السين والشين» ويقصد بهما الخامل من أهل العلم والمشهور، لأن السين الخالي من النقط يقال له: مهمل، ويقابله المعجَم، فكنى بالحرف المهمل عن الخمول، وبالمعجم عن الشهرة.
وقال الشاه ولي الله (1/43) يتحدث عن نفسه تواضعا وهضما لها:
وقدَّمتُ إليه أني سُكَيْتُ نادي البيان ، ضَالِعُ حَلْبة الرهان ، وأني مُتَعَرِّق مِرْمَاة ، وذو بضاعة مُزجاة ، وأنه لا يتأتَّى مني الإمعان في تصفُّح الأوراق ، لشغل قلبي بما ليس له فَواق ... ،
قال العاجز: قوله: «سُكَيْتُ» بالتصغير وقد تشدد الكاف: آخِر ما يجيء من الخيل في الحَلْبة، أو هو الذي يجيء عاشرا، يعني متأخرا. وأراد المصنف بذلك أنه ليس من الفصحاء البلغاء المبرِّزين، وإنما هو ممن قُدرته على البيان متواضعة.
لكن ضبط المعلقون على «حجة الله البالغة» هذه اللفظة بكسر السين وتشديد الكاف على صيغة المبالغة، وفسروها بالرجل الطويل السكوت، وأظن أنه ليس بصحيح، وطول الصمت لا يدل على أنه غير قادر على البيان.
✍ بقلم الشیخ محمد طلحہ بلال احمد منیار حفظہ اللہ
١٧-٧-٢٠٢٤
👈 ❋ الترغیب والترھیب ❋
https://t.me/Attargib
اکنون در دسترس! پژوهش تلگرام ۲۰۲۵ — مهمترین بینشهای سال 
