fa
Feedback

فریب کلاهبرداران را نخورید! تل‌متریو این کانال‌ها را شناسایی و برچسب‌گذاری می‌کند 👉 برای مشاهده برچسب، اشتراک تهیه کنید

ISLAM WITH EMAN

ISLAM WITH EMAN

رفتن به کانال در Telegram

اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات... ایڈمن سے رابطہ کیلئے: @syedsajjadhamdani

نمایش بیشتر
1 279
مشترکین
اطلاعاتی وجود ندارد24 ساعت
-47 روز
-1330 روز
آرشیو پست ها
🔷 دل کے غریب لوگ 🔷 وہ گھر بے حد خوبصورت تھا۔ کالونی کے مین گیٹ سے اندر داخل ہوتے ہی بائیں جانب بنے ہوئے اس دو کنال کے گھر کی طرف نظر خودبخود اٹھتی تھی۔ پہلی بار جب نجمہ اپنی بارہ سالہ بیٹی اور شوہر کے ساتھ آئی تھی تو وہ بے حد خوش تھی کہ اتنے خوبصورت گھر میں میری بیٹی کا دل لگ جائے گا ۔ یہاں کام کرنے کے لئے ایک لڑکی کی ضرورت تھی ۔۔۔۔۔ ویسے تو اور بھی ملازمہ تھی گھر میں لیکن چھوٹے موٹے کاموں کے لئے ایک چھوٹی لڑکی کی ضرورت تھی۔ نجمہ کی برادری میں سب ایسا ہی کرتے تھے، بچی دس سال کی ہو جاتی تو اسے کسی کوٹھی میں کام پر لگوا دیتے جہاں وہ دن رات رہتی البتہ مہینے دو مہینے بعد ایک دو دن کے لئے ماں باپ کے گھر رہنے آ جاتی۔ دو مہینے بعد جب اسکی بیٹی شکیلہ گھر رہنے آئی تھی تو اس نے واپس جانے سے انکار کر دیا تھا کہ مالکن بہت ڈانٹتی ہے اور اس کے بچے بات بات پر اسے مارتے ہیں۔ نجمہ اسے واپس نہیں بھیجنا چاہ رہی تھی لیکن اس کے شوہر کو اسکی ماہانہ تنخواہ کا لالچ تھا جسے وہ اپنی مرضی سے اپنے اوپر خرچ کرتا تھا ۔۔۔۔ اپنے نشے اور جوئے کے لئے اسے اپنی تنخواہ کے علاوہ شکیلہ کی تنخواہ بھی چاہئیے ہوتی تھی اور مذید ستم یہ ہوا کہ وہ اسکی چھ مہینوں کی ایڈوانس تنخواہ لے آیا تھا۔ اس نے پیار سے سمجھا بجھا کر اسے واپس بھیج دیا تھا۔ پچھلے مہینے جب وہ اس سے ملنے گئی تو شکیلہ کو تیز بخار تھا ۔ مالکن اسے والدین سے ملنے کے لئے صرف دس منٹ دیتی تھی۔ " اماں ۔۔۔۔ ! مجھے یہاں سے لے جاؤ ۔۔۔۔۔" وہ روتے ہوئے کہہ رہی تھی ۔ پرسوں رات کو کھانا کھاتے ہوئے مجھ سے کچھ چاول قالین پر گر گئے تھے تو مالکن نے تھپڑ بھی مارا اور کہا کہ باقی کا کھانا باہر لان میں جا کر کھاؤ۔ میں دو دن سے اتنی سردی میں دھند میں بیٹھ کر کھانا کھا رہی ہوں ۔ ایک ہفتے کی سزا دی ہے اس نے مجھے۔" وہ ابھی بات کر ہی رہی تھی کہ وہ خاتون باہر برآمدے میں آ گئی اور کرختگی سے بولی۔ " چلو اب تم لوگ جاؤ ۔۔۔۔ " " لیکن میں اسے لے کر جاؤں گی۔" نجمہ نے غصے سے کہا۔ " ہم کل آ کر ایڈوانس میں لئے ہوئے پیسے واپس کر جائیں گے ۔۔۔۔آپ ظلم کرتی ہیں میری بچی کے ساتھ۔" " نہیں ۔۔۔۔ ابھی اس کے چار ماہ رہتے ہیں تو چار مہینے کام کرے۔" پھر وہ اس کے شوہر کی طرف مڑتے ہوئے بولی۔ " تمہیں جب بھی پیسوں کی ضرورت پڑے ، میرے پاس آ جانا ۔۔۔۔اپنی بیٹی کے کام کے ایڈوانس پیسے لے جانا اور اتنے ہی مہینے اسے یہاں پر چھوڑ جانا ۔" وہ اس بات سے خوش ہو گیا تھا جبکہ نجمہ رونے لگی تھی لیکن اسکا شوہر اسے ذبردستی وہاں سے لے آیا تھا۔ اب سزا کے طور پر مالکن اسے بیٹی سے ملنے بھی نہیں دیتی تھی اور اسے عید پر بھی گھر نہیں بھیجا گیا تھا ۔۔۔۔ اوپر سے دوسری جزوقتی ملازمہ کو نکال دیا گیا تھا اور گھر کے سارے کام اسکی بیٹی کو کرنا پڑتے۔ اب دو مہینے سے فون پر منت سماجت کرنے پر مالکن نے اسے اپنی بیٹی سے ملنے کی اجازت دی تھی۔ وہ بجھے دل سے اپنے شوہر کے ساتھ گیٹ تک پہنچی۔ " وہ صاحب اور مالکن گھر نہیں ہیں ۔" چوکیدار ان کو دیکھتے ہی بولا ۔ " شکیلہ تو گھر ہی ہو گی ، اس سے ملنے آئے ہیں کل باجی سے بات ہوئی تھی انہوں نے آج آنے کا کہا تھا ۔" " ہاں ۔۔۔۔ وہ سب ابھی ابھی کہیں گئے ہیں ، شکیلہ بھی ان کے ساتھ ہی ہے ۔اب تم لوگ جاؤ پھر آ جانا ۔" " دو مہینے سے میں نے اپنی بچی کو نہیں دیکھا ۔۔۔۔ وہ ٹھیک تو ہے نا بھائی ۔۔۔۔؟ یہ ہمارا چوتھا چکر ہے ۔۔۔۔ لیکن مالکن نے ملنے نہیں دیا ۔" وہ روہانسی ہو کر بولی تھی ۔ " ہاں ۔۔۔ ہاں ۔۔۔۔ بالکل ٹھیک ہے ، تم فکر نہ کرو ۔" چوکیدار نے جواب دیا وہ تھکے تھکے قدموں سے واپس مڑی ۔ " تمہیں کیا خبر بی بی ! کہ اپنی بچی کن ظالموں کے حوالے کر دی ہے ۔۔۔۔۔ میں یہاں گذشتہ پانچ سال سے چوکیدار ہوں ۔۔۔۔کوئی بھی لڑکی دو ماہ سے ذیادہ وقت نہیں گذارتی ادھر ۔۔۔۔ بات بات پر تھپڑ مارتی ہے مالکن ۔۔۔۔ اور سارا دن کام علیحدہ سے لیتی ہے ۔" چوکیدار انہیں کالونی کے گیٹ سے باہر جاتے دیکھ کر سوچ رہا تھا " کچھ لوگ سب کچھ ہوتے ہوئے بھی دل کے غریب ہوتے ہیں ۔۔۔۔ مجبور اور اپنے سے کمتر لوگوں پر ظلم کر کے ان کے نفس کی تسکین ہوتی ہے ۔۔۔۔ غریب کی آہ و بکا اور آنسو انہیں آسودگی بخشتے ہیں۔ اور اس گھر کے مالک انہی لوگوں میں سے تھے ۔ کیا نہیں تھا ان کے پاس ۔۔۔۔ اتنا بڑا گھر ، اتنی بڑی گاڑی ۔۔۔۔ اتنا قیمتی ساز و سامان ۔۔۔۔۔ جس سے سارا گھر بھرا ہوا تھا ۔۔۔۔ لیکن ایسے لوگوں کے پاس سوائے دولت کے کچھ بھی نہیں ہوتا ۔۔۔۔ نہ دل ، نہ احساس ، نہ رحم ، نہ محبت ۔۔۔۔۔ اور نہ ہی انسانیت ۔" چوکیدار نے اپنے آنسو صاف کرتے ہوئے سوچا ، جسے خود اپنے گاؤں گئے ہوئے کئی مہینے بیت چکے تھے۔ 🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

اگلے دن احمد صاحب بیٹی کے سسرال مٹھائی کا ڈبہ لے کر آئے جس پر ان کے جانے کے بعد حرا کی ساس نے فرمایا، ’’ہم کوئی مٹھائی کے بھوکے تھوڑی ہیں لیکن کوئی طور طریقے بھی ہوتے ہیں۔ ہم بھی بیٹی بہو والے ہیں۔ وہ کیا سوچیں گی ہمارے بارے میں؟‘‘ وقت پر لگا کر اڑتا رہا اور حرا کی شادی کی پہلی سالگرہ آگئی جس پر سعد نے اسے سونے کی انگوٹھی بھی تحفے میں دی۔ تب تک وہ دونوں ماشاء اللہ سے ایک بیٹی کے والدین بھی بن چکے تھے۔ شام میں حرا نے اپنے گھر والوں کو دعوت پر بلایا ہوا تھا۔ حرا اس دن بہت خوش تھی لیکن شاید اس کی خوشیوں کو ہر بار ہی کسی کی نظر لگ جاتی تھی۔ حرا کی ساس نے اکیلے میں سعد کو بلا کر خوب سنائیں، ’’تمہارے سسرال والوں نے ہمیں حرا کا سوا مہینہ مکمل ہونے پر دعوت نہیں دی تھی۔ وہ لوگ ہمیں عزت نہیں دیتے اور تم انہیں کھانے پر بلا رہے ہو۔ کس کی اجازت سے؟‘‘ سعد جو کہ ضرورت سے زیادہ ہی اپنی والدہ کا فرمانبردار تھا، آکر حرا سےکہنے لگا، ’’اپنے گھر والوں کو رات کی دعوت پر آنے سے منع کردو۔‘‘ حرا جو تھوڑی دیر پہلے تک بہت خوش تھی، پریشان ہو کر کہنے لگی، ’’لیکن سعد، امی ابو نے تو ساری تیاری مکمل کرلی ہیں۔ تحفے لے لیے ہیں۔ میں عین وقت پر کیسے منع کردوں؟‘‘ اس پر سعد نے جواب دیا، ’’جب وہ میرے گھر والوں کی عزت نہیں کرتے تو میں اُن کی عزت کیوں کروں؟‘‘ یہ سلسلہ تو شاید یوں ہی چلتا رہے گا، حرا کی زندگی یوں ہی گزر تی رہے گی اور شاید اسی طرح ہر بار اس کے والدین کو یہ احساس دلایا جاتا رہے گا کہ وہ ایک بیٹی کے ماں باپ ہیں لہٰذا جھک کر رہیں۔ اب احمد صاحب اس کشمکش میں ہیں کہ ابھی تو ایک بیٹی کی شادی کی ہے، باقی تین کی کرنی ہے۔ نہ جانے آگے اور کیا کیا برداشت کرنا پڑے گا؟ وہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ کیا بیٹیاں واقعی بوجھ ہوتی ہیں یا بنا دی جاتی ہیں؟ 🔘 ہمارے معاشرے کی فضول رسم و رواج نے بیٹی کو رحمت کے بجائے زحمت بنا دیا ہے… وہ رسمیں کہ جنہیں بنانے والے بھی ہم خود ہیں اور ان پر عمل کرنے والے بھی ہم خود! لیکن پھر بھی ہم بھول جاتے ہیں کہ رسم و رواج انسانوں کے لیے ہوتے ہیں، انسان رسم و رواج کے لیے نہیں ہوا کرتے۔ آپ سب سے گزارش ہے کہ ایک لمحے کےلیے ضرور سوچیئے گا کہ کیا بیٹیاں واقعی بوجھ ہوتی ہیں یا پھر ہمارے معاشرے میں رائج فرسودہ اور بے بنیاد رسوم و رواج کے ہاتھوں بوجھ بنادی جاتی ہیں۔ 🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman/5684 ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🔷 بیٹیوں کو زحمت نہ بنائیں 🔷 پیلے جوڑے میں گھر بیٹھی حرا شدت سے اپنے سسرال سے آنے والے کھانے کا انتظار کر رہی تھی جس کے بارے میں اس کی خالا اور پھوپھی وغیرہ نے اسے بتایا ہوا تھا کہ مایوں کی دلہن کا کھانا سسرال سے آتا ہے۔ اسے انتظار کھانے کا نہیں بلکہ اس مان کا تھا جو اسے اس کھانے کی صورت میں اس کے سسرال سے دیا جانا تھا۔ مہندی کی تقریب میں عموماً دیر ہو ہی جاتی ہے، اسی وجہ سے اس کی سہیلی نادیہ بار بار کہتی رہی، ’’حرا کچھ کھا لو، کب تک بھوکی رہوگی؟‘‘ لیکن وہ پگلی تو اسی کھانے کے انتظار میں بھوکی بیٹھی تھی جو اس کے سسرال سے آنا تھا۔ آخرکار رات کے ڈیڑھ بجے جب اس کے تمام اہل و عیال گھر واپس آئے تو اس کی نظریں کچھ تلاش کرنے لگیں۔ اس کی نظروں کو جانچتے ہوئے حرا کی امی نے کہا، ’’کھانا نہیں آیا وہاں سے! دراصل کھانا کم پڑ گیا تھا۔ تم نے کھانا نہیں کھایا کیا؟‘‘ اس پر نادیہ نے جواب دیا، ’’نہیں آنٹی، حرا نے کھانا نہیں کھایا ابھی تک۔‘‘ ایک دن کے وقفے کے بعد شادی تھی۔ اگلی صبح حرا کے سسرال سے اس کے سسر کی کال آئی اور انہوں نے احمد صاحب سے شکایت کرتے ہوئے کہا، ’’آپ کے مہمان عجیب و غریب باتیں کررہے تھے۔ آپ لوگ بیٹی والے ہوکر ایسی حرکتیں کررہے ہیں ہم نے بھی اپنی بیٹیوں کی شادیاں کی ہیں۔ کہیں ایسا نہیں دیکھا کہ بیٹی والے یوں چڑھیں۔‘‘ کال ختم ہونے کے بعد حرا کے والد کی آنکھیں نم ہوگئیں، اور ان نم آنکھوں کی وجہ شاید یہ تھی کہ وہ بیٹی جس پر انہیں ہمیشہ ناز رہا تھا، جس کے باعث ان کے کندھے فخر سے بلند رہے تھے، آج اسی بیٹی کی وجہ سے انہیں یہ احساس دلایا گیا تھا کہ آپ بیٹی کے والد ہیں تو جھک کر رہیے۔ احمد صاحب کو آج سے پہلے اس بات کا احساس ہی نہیں ہوا تھا کہ بیٹیوں کے باپ کو جھکنا پڑتا ہے۔ اور احمد صاحب تو ماشاء الله سے چار بیٹیوں کے باپ تھے۔ خیر، کال رکھنے کے بعد سب پوچھتے رہ گئے کہ کیا ہوا لیکن وہ حرا کی شکل دیکھ کر خاموش رہے اور بات ٹال دی۔ آخر وہ دن بھی آگیا جب حرا، سعد کی دلہن بن کر اس کے گھر آگئی۔ اگلی صبح حرا کی ساس اُس کے کمرے کے تین چکر لگا چکی تھیں، یہ پوچھنے کے لیے کہ تمہارے گھر والے ’’ناشتہ کب تک لائیں گے؟‘‘ یہاں حرا کی ساس اس سے سوال کر رہی تھیں، اور وہاں حرا اپنی امی کو بار بار کال کرکے پوچھ رہی تھی۔ آخرکار جب حرا کے گھر والے ناشتہ لائے تو اس کی ساس اور نندوں کے تیور چڑھ گئے اور کہنے لگیں، ’’اب تو گیارہ بج رہے ہیں۔ ہم نے تو ناشتہ کرلیا۔ دلہن اور دلہا کو ہی کروادیں۔‘‘ وقت گزرتا رہا اور کچھ مہینوں بعد حرا کی اس کے سسرال میں پہلی عید آن پہنچی۔ تب تک حرا امید سے بھی ہوچکی تھی۔ عید کا پہلا دن سسرال میں گزارنے کے بعد دوسرے دن جب حرا نے اپنی ساس سے میکے جانے کی اجازت مانگی تو انہوں نے میکے جانے سے منع کردیا اور وجہ یہ بتائی کہ تمہاری پہلی عید تھی، عید کے پہلے دن تو تمہارے میکے سے کسی کو مٹھائی لے کر آنا چاہیے تھا، جس پر حرا نے جواب دیا، ’’ہماری طرف تو ایسی کوئی رسم نہیں ہوتی۔‘‘ اس جواب پر حرا کی ساس مزید غصہ کرتی ہوئی کہنے لگیں، ’’تم اب ہمارے یہاں کے طور طریقوں پر اپنے میکے کے اصول مت ٹھونسو۔‘‘ پھر کیا ہونا تھا، حرا کی آنکھوں سے آنسوؤں کی لڑیاں گرنا شروع ہوگئیں۔ دوسری جانب اس کے والد احمد صاحب اپنی بیٹی کی شادی کے بعد پہلی عید کی دعوت کا بھرپور انتظام کرنے میں جُتے ہوئے تھے اور شدت سے حرا اور سعد کی راہ تک رہے تھے۔ لیکن ان دونوں کو نہ آنا تھا اور نہ ہی وہ آئے۔ جب احمد صاحب کے صبر کی انتہاء ہوگئی تب انہوں نے بالآخر حرا کو کال کردی۔ حرا: ’’ہیلو ابو۔‘‘ احمد صاحب: ’’سب خیریت تو ہے حرا؟ ہم کب سے تمہارا انتظار کررہے ہیں۔‘‘ حرا: ’’ابو میں آپ کو کال کرنے ہی والی تھی۔ دراصل میری طبیعت خراب ہے۔ میں نہیں آسکتی۔‘‘ احمد صاحب: ’’جھوٹ مت بولو! باپ ہوں میں تمہارا۔ مجھے بتاؤ کیا بات ہوئی ہے؟ اور آواز کیوں بیٹھی ہوئی ہے تمہاری؟‘‘ حرا جو بہت مشکل سے اپنے آنسوؤں کو قابو میں کئے ہوئی تھی، یہ الفاظ سن کر یکدم صبر کا دامن چھوڑ بیٹھی اور بے ساختہ رو پڑی جس پر احمد صاحب مزید پریشان ہو گئے، ’’کیا ہوا ہے حرا؟ مجھے بتاؤ، میرا دل بہت گھبرا رہا ہے۔‘‘ حرا: ’’کچھ نہیں ابو۔ دراصل میری ساس نے آنے سے منع کردیا ہے۔ وہ کہہ رہی ہیں کہ ہمارے یہاں رواج ہے کہ عید کے پہلے دن لڑکی کے میکے سے کوئی مٹھائی لے کر آتا ہے۔‘‘ احمد صاحب: ’’اگر ایسی بات تھی تو انہیں پہلے بتا دینا چاہیے تھا۔ خیر، یہ بتاؤ کہ سعد کہاں ہے؟ میری کال بھی نہیں اٹھا رہا۔‘‘ حرا: ’’وہ کہہ رہے ہیں کہ امی ٹھیک کہہ رہی ہیں اور مجھے اب تمہارے گھر نہیں جانا۔‘‘ اس پوری رات حرا روتی رہی جب کہ وہ امید سے بھی تھی؛ اور اُدھر احمد صاحب پریشان رہے۔

🌹 انس کی ماں 🌹 ایک استانی کہتی ہیں، "میں کلاس میں داخل ہوئی اور پیچھے سے دروازہ بند کر لیا۔ میں نے فیصلہ کیا کہ آج اپنا سارا غصہ بچوں پر نکالوں گی۔ واقعی، جس بچے نے ہوم ورک نہیں کیا تھا، اسے پکڑا اور مارا! ایک بچے کو میز پر سوئے ہوئے پایا، اس کا بازو پکڑا اور کہا: "تمہارا ہوم ورک کہاں ہے؟" وہ بچہ ڈر کے پیچھے ہٹ گیا اور لرزتے ہوئے بولا بھول گیا ہوں مجھے معاف کر دیں۔ میں نے اسے پکڑا اور اپنے سارے غصے اور وہ دباؤ، جو میرے شوہر کی وجہ سے تھا، اس پر نکال دیا۔ پھر میں نے ایک بچے کو کھڑا پایا، وہ میرے قریب آیا، میرا دامن کھینچتے ہوئے ہاتھ سے اشارہ کیا کہ جھک کر اس کی بات سنوں۔ میں غصے سے مڑی، جھکی، اور کہا: "ہاں، بولو، کیا ہے؟" وہ مسکرا کر بڑی معصومیت سے کہتا ہے: "کیا ہم کلاس سے باہر بات کر سکتے ہیں؟ یہ بہت ضروری ہے۔" کلاس سے باہر آ کر جب میں نے اس کی بات سنی تو میں اس کی ذہانت سے حیرت زدہ رہ گئی۔ اس کے پاس بے شمار تربیتی معلومات تھیں۔ وہ بولا: "دیکھیں، ٹیچر، آپ بہت اچھی ہیں، اور ہم سب آپ سے محبت کرتے ہیں۔ لیکن میرا وہ ساتھی، جسے آپ نے آخر میں مارا، وہ یتیم ہے۔ اور اس کی ماں اسے ہمیشہ مارتی ہے جب وہ کوئی غلطی کرتا ہے۔ وہ اسے غلط طریقے سے تربیت دیتی ہے، اسی لیے وہ اکثر چیزیں بھول جاتا ہے اور ہر چیز سے ڈرتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ ہمارے ساتھ کھیلنے سے بھی ڈرتا ہے، کیونکہ اسے ڈر ہوتا ہے کہ ہم اسے ماریں گے۔ میں اس کا دوست ہوں اور ہمیشہ اس کے ساتھ رہتا ہوں۔ اس نے مجھے بتایا کہ اسے مار کھانا بالکل پسند نہیں۔ اگر آپ اس کا جسم دیکھیں تو آپ کو اس پر مار کے نشانات ملیں گے، جو اس کی ماں نے کیے ہیں۔" "کیا آپ ہماری ماں اور مربی بن سکتی ہیں؟ اور براہِ کرم، جب آپ کلاس میں آئیں تو اپنا غصہ اور پریشانی باہر چھوڑ کر آئیں، کیونکہ ہم آپ سے محبت کرتے ہیں اور آپ سے بہت کچھ سیکھتے ہیں۔" میں حیرانی سے اسے دیکھتی ہوں اور کہتی ہوں: "تم اتنے بڑے لوگوں سے کیسے بات کر لیتے ہو؟" تو وہ جواب دیتا ہے: "میری ماں نے ہمیشہ مجھے اچھا گمان کرنا سکھایا ہے، اور یہ بھی کہا ہے: ‘تمہیں نہیں معلوم کہ سامنے والے کس حالت میں ہیں، اس لیے اپنا غصہ اور پریشانی ایک طرف رکھو اور ان کے ساتھ نرمی سے پیش آؤ۔ انہوں نے یہ بھی کہا: ‘اگر تم کسی کو پریشان دیکھو، تو اس سے معافی مانگو، خواہ تم اس کی تکلیف کے ذمہ دار نہ ہو۔’ پھر وہ مجھے کہتا ہے: ‘یقیناً آپ کسی وجہ سے ناراض ہیں، اسی لیے آج ہمیں مارا۔ ٹیچر، میں آپ سے معذرت خواہ ہوں، براہِ کرم ناراض نہ ہوں، کیونکہ آپ بہت اچھی ہیں۔’ میں حیرانی کے عالم میں کھڑی تھی، اور ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ میں بچی ہوں اور وہ میرا استاد اور مربی ہے۔ کیا آج بھی ایسی تربیت ہوتی ہے؟ اور کیا ایسی مائیں موجود ہیں جو اپنے بچوں کی اس قدر عمدہ تربیت کرتی ہیں؟" میں نے اس بچے سے کہا: "ٹھیک ہے، میں اسے کیسے مناؤں؟" تو وہ بولا: "یہ لیں، چاکلیٹ! وہ اسے پسند کرتا ہے۔ اگر وہ آپ کو معاف کر دے تو اپنے رب سے استغفار کریں اور ‘سبحان اللہ وبحمدہ’ کہیں تاکہ جنت میں آپ کے لیے ایک درخت اگے۔" میں نے کہا: "جیسے دنیا میں درخت ہیں؟" وہ بولا: "ٹیچر، جنت کے درخت دنیا کے درختوں جیسے نہیں ہوتے۔ میری ماں نے بتایا ہے کہ جنتی درخت کے پھل بہت نرم، بڑے اور شہد سے بھی زیادہ میٹھے ہوتے ہیں، اور ان میں کوئی بیج نہیں ہوتا۔" میں نے پوچھا: "انس، کیا میں تمہاری ماں کو کوئی تحفہ دے سکتی ہوں؟" وہ بولا: "ہاں، مگر وہ ہمیشہ کہتی ہیں کہ ‘انس میرا تحفہ ہے۔’" میں نے کہا: "واقعی، تم ایک بہت بڑا تحفہ ہو اور بہت پیارے بچے ہو۔" انس نے کہا: "چلیں، آئیں احمد کو منائیں۔ اور یہ چاکلیٹ احمد کو دیں، اور کہہ دیں کہ آپ نے اس کے لیے خریدی ہے۔" میں نے انس سے کہا: "تمہاری ماں واقعی ایک عظیم خاتون ہیں۔" وقت گزرتا گیا۔۔۔ "مس ریحام، آپ کیسی ہیں؟" میں نے مڑ کر دیکھا تو وہ انس تھا اور اس کی ماں اس کے ساتھ تھی۔ انس کی ماں نے مجھے ایک تحفہ دیا اور کہا: "آپ انس کی استاد تھیں، یہ تحفہ میری طرف سے قبول کریں۔ آپ نے جو اچھائی انس کو سکھائی، یقیناً اس میں آپ کا بھی حصہ ہے۔" میں نے حیرانی سے کہا: "کیسے؟" وہ بولیں: "الحمدللہ، میرا بیٹا اب ڈینٹل کالج میں لیکچرر ہے۔" میری آنکھوں میں آنسو تھے۔ میں نے کہا: "آپ کا شکریہ، یہ ہدیے تو آپ جیسے لوگوں کے لیے ہیں۔ آپ سمجھتی ہیں کہ آپ نے صرف انس کی تربیت کی؟ حقیقت میں آپ کی تربیت نے مجھے بھی سدھار دیا۔ آپ کے بیٹے نے مجھے سالوں پہلے ایک سبق دیا، جس نے میری زندگی بدل دی۔ اسی کے باعث میں نے اپنے بچوں کی اچھی تربیت کی، اور میرا ازدواجی رشتہ بھی بہتر ہو گیا۔" 🔘 نیک بیوی معاشرے کی جنت بنانے کے لیے ایک مضبوط بنیاد ہے۔ گھریلو عورت کے کردار کو معمولی نہ سمجھیں کیونکہ وہ ایک پوری نسل کی مربی ہوتی ہے۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🔷 ‏مائیکل جیکسن 🔷 مائیکل جیکسن ایک ایسا انسان تھا جو نظام فطرت کو شکست دینا چاہتا تھا۔ اسے چار چیزوں سے سخت نفرت تھی۔۔۔ اسے اپنے سیاہ رنگ سے نفرت تھی, وہ گوروں کی طرح دکھائی دینا چاہتا تھا۔ اسے گمنامی سے نفرت تھی, وہ دنیا کا مشہور ترین شخص بننا چاہتا تھا۔ اسے اپنے ماضی سے نفرت تھی وہ اپنے ماضی کو اپنے آپ سے کھرچ کر الگ کر دینا چاہتا تھا۔‏ اسے عام لوگوں کی طرح ستر، اسی برس میں مر جانے سے بھی نفرت تھی وہ ڈیڑھ سو سال تک زندہ رہنا چاہتا تھا۔ مائیکل جیکسن کی آنے والی زندگی ان چار خواہشوں کی تکمیل میں بسر ہوئی۔ اس نے 1982ء میں اپنا دوسرا البم ’’تھرلر‘‘ لانچ کیا یہ دنیا میں سب سے زیادہ بکنے والا البم تھا۔ ایک ماہ میں اس کی ساڑھے چھ کروڑ کاپیاں فروخت ہوئی تھیں اور یہ گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ کا حصہ بن گیا تھا۔ مائیکل جیکسن اب دنیا کا مشہور ترین گلوکار تھا، اس نے گمنامی کو شکست دے دی تھی۔ مائیکل نے اس کے بعد اپنی سیاہ جلد کو شکست دینے کا فیصلہ کیا اور پلاسٹک سرجری شروع کرا دی، امریکہ اور یورپ کے 55 چوٹی کے پلاسٹک سرجنز کی خدمات حاصل کیں، یہانتک کہ 1987ء تک مائیکل جیکسن کی ساری شکل وصورت، جلد، نقوش اور حرکات و سکنات تبدل ہو گئیں۔ ‏سیاہ فام مائیکل جیکسن کی جگہ گورا چٹا اور نسوانی نقوش کا مالک ایک خوبصورت مائیکل جیکسن دنیا کے سامنے آ گیا۔ ‏اس کے بعد ماضی کی باری آئی، مائیکل جیکسن نے اپنے ماضی سے بھاگنا شروع کر دیا اس نے اپنے خاندان سے قطع تعلق کر لیا۔ اس نے اپنے ایڈریسز تبدیل کر لئے، اس نے کرائے پر گورے ماں باپ حاصل کر لئے اور تمام پرانے دوستوں سے بھی جان چھڑا لی۔ اس نے خود کو مشہور کرنے کیلئے ایلوس پریسلے کی بیٹی لیزا میری پریسلے سے شادی کر لی۔ اس نے یورپ میں اپنے بڑے بڑے مجسمے بھی لگوا دئیے اور اس نے مصنوعی طریقہ تولید کے ذریعے ایک نرس ڈیبی رو سے اپنا پہلا بیٹا پرنس مائیکل بھی پیدا کرا لیا۔ ڈیبی رو کے بطن سے اسکی بیٹی پیرس مائیکل بھی پیدا ہوئی۔ ‏اس کی یہ کوشش بھی کامیاب ہو گئی، اس نے بڑی حد تک اپنے ماضی سے بھی جان چھڑا لی۔ اب اس کی آخری خواہش کی باری تھی۔ وہ ڈیڑھ سو سال تک زندہ رہنا چاہتا تھا مائیکل جیکسن طویل عمر پانے کیلئے دلچسپ حرکتیں کرتا تھا مثلاً وہ رات کو آکسیجن ٹینٹ میں سوتا تھا، وہ بیماریوں سے بچنے کیلئے دستانے پہن کر لوگوں سے ہاتھ ملاتا تھا۔ وہ لوگوں میں جانے سے پہلے منہ پر ماسک چڑھا لیتا تھا وہ مخصوص خوراک کھاتا تھا اور اس نے مستقل طور پر بارہ‏ ڈاکٹر ملازم رکھے ہوئے تھے۔ ‏یہ ڈاکٹر روزانہ اس کے جسم کے ایک ایک حصے کا معائنہ کرتے تھے، اس کی خوراک کا روزانہ لیبارٹری ٹیسٹ بھی ہوتا تھا اور اس کا سٹاف اسے روزانہ ورزش بھی کراتا تھا اس نے اپنے لئے فالتو پھیپھڑوں، گردوں، آنکھوں، دل اور جگر کا بندوبست بھی کر رکھا تھا۔ یہ وہ ڈونرز تھے، جن کے تمام اخراجات مائیکل اٹھا رہا تھا اور ان ڈونرز نے بوقت ضرورت اپنے اعضاء اسے عطیہ کر دینا تھے، چنانچہ اسے یقین تھا کہ وہ ڈیڑھ سو سال تک ضرور زندہ رہے گا۔۔۔ لیکن پھر 25 جون کی رات آئی، اسے سانس لینے میں دشواری پیش آئی، اس کے ڈاکٹرز نے ملک بھر کے سینئر ڈاکٹرز کو اس کی رہائش گاہ پرجمع کر لیا یہ ڈاکٹرز اسے موت سے بچانے کی کوشش کرتے رہے لیکن ناکام ہوئے تو ہسپتال لے گئے ‏وہ شخص جس نے ڈیڑھ سو سال کی منصوبہ بندی کر رکھی تھی، جس کے گھر میں روزانہ جراثیم کش ادویات چھڑکی جاتی تھیں اور جس نے 25 برس تک کوئی ایسی چیز نہیں کھائی تھی جس سے ڈاکٹروں نے اسے منع کیا ہو۔ وہ شخص صرف 50 سال کی عمر میں اور صرف تیس منٹ میں انتقال کر گیا۔ مائیکل جیکسن کے انتقال کی خبر گوگل پر دس منٹ میں آٹھ لاکھ لوگوں نے پڑھی، یہ گوگل کی تاریخ کا ریکارڈ تھا اور اس ہیوی ٹریفک کی وجہ سے گوگل کا سسٹم بیٹھ گیا اور کمپنی کو 25 منٹ تک اپنے صارفین سے معذرت کرنا پڑی۔ مائیکل جیکسن کا پوسٹ مارٹم ہوا تو پتہ چلا کہ بہت زیادہ احتیاط کی وجہ سے اس کا جسم ڈھانچہ بن چکا تھا، وہ سر سے گنجا ہو چکا تھا اس کی پسلیاں ٹوٹی ہوئی تھیں اس کے کولہے، کندھے، پسلیوں اور ٹانگوں پر سوئیوں کے بے تحاشا نشان تھے۔‏ وہ پلاسٹک سرجری کی وجہ سے ’’پین کلرز‘‘ کا محتاج ہو چکا تھا، چنانچہ وہ روزانہ درجنوں انجیکشن لگواتا تھا لیکن یہ سب اسے موت سے نہیں بچا سکے اور یوں اس کی آخری خواہش پوری نہ ہو سکی۔ 🔘 مائیکل جیکسن کی موت ایک اعلان ہے، انسان پوری دنیا کو فتح کر سکتا ہے لیکن وہ اپنے مقدر کو شکست نہیں دے سکتا۔ وہ موت اور اس موت کو لکھنے والے کا مقابلہ نہیں کر سکتا چنانچہ کوئی راک سٹار ہو یا فرعون ‏وہ دو ٹن مٹی کے بوجھ سے نہیں بچ سکتا۔ وہ موت کو شکست نہیں دے سکتا۔ 🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman/5681 ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

photo content

🎅 جیسی نیت ویسی مراد 🎅 ریلوے اسٹیشن پر ٹرین رکی. مسافر اترے اور کئی سوار ھوئے۔ جب بالکل ٹرین چلنے کا وقت ھوا ہلکی سی ٹرین کھسکنے لگی تو ٹرین میں بیٹھے ایک مسافر نے دوسرے سے کہا کہ دیکھو تماشہ.... اس نے جلدی سے چلتی ٹرین سے ھاتھ باھر نکال کر اخبار والے کو آواز دی کہ اخبار دیدو اور اپنا جعلی سکہ اسکو تھما دیا اور اس سے اخبار لے لیا... ٹرین تیزی سے پلیٹ فارم کراس کر گئی اس نے خوب قہقہے لگائے اور ساتھی سے کہا دیکھا میرا کمال..؟ کچھ منٹ بعد جب اخبار کھول کر پڑھنے لگا تو کچھ خبریں پرانی سی محسوس ھوئیں... غور سے دیکھا تو... اوہ یہ تو پچھلے ھفتہ کا اخبار ھے. اب کی دفعہ قہقہے لگانے کی باری ساتھی مسافر کی تھی اور مسافر بولا؛ واقعی آج تماشہ دیکھا. 😂🤡😂 جیسی نیت ویسی مراد . جو دو گے لوٹ کر آئیگا دھوکہ چاھے دیانت داری .. محبوب الرحمٰن https://t.me/muskuraahten 🎅 MUSKURAAHTEN 🎅

عورت نے کہا ٹھیک ہے۔ عورت ہار لے کر شہزادی کے پاس پہنچی اور ہار شہزادی کو دیئے. وزیر نے شہزادی سے کہا یہ ہار مجھے دے دیں، میں ان کی خود حضاظت کرونگا تاکہ یہ چوری نا ہو سکیں۔ شہزادی نے یقین کرنے کے لیے وہ ہار وزیر کو دے دیئے۔ وزیر کے دل میں لالچ آگیا اس نے ان ہاروں میں سے کچھ اپنے پاس چھپا لیے اور یہ یہی سوچنے لگا کہ شہزدای باقی خزانے کی طرح ان کو بھول جائے گی۔ لڑکے نے سوچا کیوں کچھ ایسا کیا جاے کے وزیر کو پتہ بھی نہ چلے اور میں حفاظت سے محل تک پہنچ جاؤں۔ لڑکے نے شہزادوں والا قیمتی لباس پہنا اور گھوڑے پر سوار ہو کر محل پہنچا تو محل کے سپاہیوں نے اس دیکھ کر سوچا کہ کوئی شہزادہ ہے۔ لڑکے نے کہا ہاں میں شہزادہ ہی ہوں اور میں محل کے بادشاہ سے ملنے آیا ہوں۔ سپاہیوں نے شہزادی سے کہا کہ کوئی شہزادہ آیا ہے اور آپ سے ملنا چاہتا ہے۔ شہزادی نے اسے ملنے کی اجازت دے دی تو بڑے ہی شان شوکت کے ساتھ لڑکا شہزادی تک پہنچا۔ لڑکے کے لیے شاندار کھانے کا انتظام کیا گیا۔ بعد میں لڑکے نے شہزادی کو بتایا کہ میں کوئی شہزادہ نہیں ہوں اور میں بھیس بدل کر آپ تک پہنچا ہوں۔ اپ کے محل میں جتنا خزانہ چوری ہوا ہے اس وقت وہ میرے پاس ہے اور کسی کو اس بات کا علم نہیں لہذا اپ بھی اس بات کو اپنے تک ہی راز رکھیں۔ اپ کا وزیر چوری کر کے سارا خزانہ ایک جگہ درخت کے نیچے چھپا دیتا تھا۔ اور وہ سارا خزانہ اس وقت میرے پاس ہے۔ شہزادی نے حکم دیا کہ وزیر کو گرفتار کر لو۔ اس کی خوب چھترول کرو۔ شہزادی کو لڑکے کی ایمانداری بہت پسند آئی۔ شہزادی نے اس لڑکے سے پوچھا لیکن تمھیں یہ سب کیسے معلوم ہوا۔؟ لڑکے نے شہزادی کو بتایا کہ بھیڑ بکریاں چراتا ہوں اور ایک درخت کے نیچے بیٹھا تھا تو درخت پر ایک طوطے کا گھونسلا تھا اس طوطے نے مجھے بتایا کہ اس درخت کے نیچیے ایک شخص خزانہ چوری کر کے چھپا دیتا ہے۔ جب میں نے زمین کھودی تو وہاں بہت سارا خزانہ تھا۔ کل جو عورت أپ کے پاس آئی تھی اس کو میں نے ہی اپ کے پاس چوری ہوے خزانے کی خبر دینے کے لیے بھیجا تھا۔ لیکن اب میں خود بھیس بدل کر آپ کے پاس آیا ہوں۔ شہزادی نے اس لڑکے کی ایماداری کی وجہ سے اس لڑکے سے شادی کر لی اور وہ لڑکا اب شہزادہ بن گیا اور اس خزانے کا مالک بن گیا۔ شہزادی نے وزیر کی چھترول اور سزا دلوانے کے بعد اسے چھوڑ دیا۔ اور اسے محل سے نکال دیا۔ وزیر بہت خوش ہوا کہ اب وہ سارے خزانے کا مالک بن جائے گا اور وہ اپنا خوبصورت محل بنائے گا اور اپنی حکومت بنائے گا۔ جب وزیر خزانہ نکالنے اس درخت کے پاس پہنچا تو دیکھا کہ وہاں خزانے کی بجائے پتھر ہیں۔ درخت پر بیٹھا طوطا وزیر پر بہت ہنسا اور بہت مذاق اڑایا۔ وزیر بہت شرمندہ ہوا۔ فقیر کی دعا سے لڑکا بادشادہ بن گیا اور اس فقیر کی بدعا سے وزیر اعلی شان زندگی سے فقیر بن گیا اور لوگوں سے بھیک مانگنے پر مجبور ہو گیا۔ پیارے بچو اس کہانی سے یہ سبق ملتا ہے کہ جیسی نیت ہوتی ہے ویسی مراد ملتی ہے۔ جیسا کہ لڑکا اچھی نیت اور ایمانداری کی وجہ سے بادشاہ بن گیا اور وزیر ظلم اور خیانت کی وجہ سے فقیر ہو گیا۔ 🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman/5678 ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🔷 جیسی نیت ویسی مراد 🔷 ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک ملک کی شہزادی بہت نیک اور انصاف پسند تھی وہ ہمیشہ انصاف کرتی اور غربیوں کی مدد کیا کرتی تھی۔ لیکن اس کا وزیر چور اور دھوکے باز تھا وہ ہمیشہ چوریاں کرتا اور غریبوں پر ظلم کرتا تھا۔ لوگ اس ظالم وزیر کے ڈر سے شہزادی کو شکایت نہیں کرتے تھے کہ کہیں وہ ان کو کوئی نقصان نہ پہچاے۔ وزیر محل کے شاہی خزانے سے چوری کرتا تھا۔ اس نے ویران جگہ پر گڑھا کھود رکھا تھا جس میں وہ چوری کیا ہوا خزانہ چھپا دیتا۔ آہستہ آہستہ شاہی خزانہ کم ہوتا گیا۔ سلطنت کے غریب لوگوں کے حالات بدترین ہو گئے۔ شہزادی اس خزانے میں غریبوں کی مدد کیا کرتی تھی۔ لیکن شاہی خزانے میں کمی کی وجہ سے اب شاہی نظام چلانا اور غریبوں کی امداد شہزادی کے لیے بہت مشکل ہو چکا تھا۔ شہزادی نے وزیر سے کہا کہ اب لوگوں کی امداد بہت مشکل ہے اچانک سارا خزانہ کیسے ختم ہو گیا؟ وزیر نے شہزادی سے کہا جب آپ غریبوں میں اس طرح بانٹین گی تو خزانہ تو خالی ہو گا۔ شہزادی نے کہا نہیں خدا کی راہ میں بانٹنے سے کبھی دولت کم نہیں ہوتی۔ شہزادی بہت پریشان تھی کیونکہ اگر ایسے ہی حالات رہے تو ایک دن اس کی بادشاہی ختم ہو جائے گی لیکن اس کا یقین اپنے خدا پر پختہ تھا کیونکہ اس کے ساتھ بہت سے غریبوں کی دعاییں تھیں۔ ایک دفعہ ایک فقیر محل میں آیا اور صدا لگائی کہ مجھ بھوکے کو کھانا کھلا دو تو وزیر نے اسے دھکے مار محل سے نکال دیا۔ فقیر نے اس کو بدعا دی اور وہاں سے چلا گیا۔ ایک دن دھوکے باز وزیر شاہی خزانے سے خزانہ چوری کر کے اس درخت کے پاس پہنچا جہاں وہ خزانہ چھپاتا تھا۔ وزیر وہاں خزانہ چھپا کر چلا گیا۔ پاس کچھ فاصلے پر ایک غریب لڑکا روزانہ بھیڑیں چرانے آیا کرتا تھا۔ وہ لڑکا آ کر اسی درخت کے نیچے آرام کرنے کے لیے بیٹھ گیا اور سوچ رہا تھا کہ اب اس کے علاقے کے لوگ غربت کی وجہ سے بہت پریشان ہیں۔ وہاں سے ایک فقیر گزر رہا تھا فقیر بھوکا تھا اس نے لڑکے سے کہا کہ اسے کچھ کھانے کو دے. لڑکے کے پاس اپنے کھانے کے لئے دو روٹیاں تھیں اس نے وہ فقیر کو دے دیں اور خود بھوکا رہا بلکہ لڑکے نے بھیڑ کا دودھ بھی دھو کر فقیر کو دیا۔ فقیر کھانا کھا کر اور دودھ پی کر سیر ہو گیا اور خدا کا شکر ادا کیا اور لڑکے کو دعا دی اور کہا کہ تم نے مجھے کھانا کھلایا ہے خدا تمھیں بادشاہ بنائے۔ یہ کہہ کر فقیر وہاں سے چلا گیا۔ لڑکا درخت کے نیچے آرام کرنے لگا۔ درخت پر ایک طوطے کا گھونسلا تھا طوطے نے لڑکے کو دیکھا کہ لڑکا بہت نیک اور رحم دل ہے تو طوطے نے سوچا کیوں نا اس کی مدد کی جائے۔ طوطے نے لڑکے کو بتایا کہ اس درخت کے نیچے بہت سی دولت اور قیمتی خزانہ چھپا ہے۔ لڑکے نے سمجھا شاید طوطا مذاق کر رہا ہے لیکن طوطے نے اسے بتایا کہ ایک شخص یہاں آتا ہے اور یہاں گڑھا کھود کر بہت سارا خزانہ چھپا کر چلا جاتا ہے۔ لڑکے نے درخت کے نیچے زمین کھودی تو اس میں بہت سا خزانہ نکلا۔ لڑکا بہت خوش ہوا۔ لڑکے نے وہ سارا خزانہ بوری میں بھر کر کہیں اور چھپا دیا۔ اور جس جگہ وزیر نے خزانہ چھپایا تھا اس جگہ پر پتھر پھینک کر اوپر مٹی ڈال دی۔ لڑکا اور طوطا بہت اچھے دوست بن گیے لڑکا وہاں روزانہ بھیڑیں چرانے آیا کرتا اور اس انتظار میں تھا کہ آخر یہ خزانہ کون یہاں چھپا کر جاتا ہے. ایک دن اس نے درختوں کے پیچھے چھپ کر دیکھا کہ شاہی لباس پہنے وہاں ایک شخص گڑھا کھود رہا ہے اور اس کے پاس ایک تھیلی ہے۔ لڑکے کو پتہ چل گیا کہ وزیر یہاں خزانہ چھپاتا ہے۔ لڑکا بہت ایماندار تھا اس نے سوچا کہ وہ شہزادی کو خزانے کے بارے بتائے جو کہ محل سے چوری ہوا ہے۔ وزیر کسی کو بھی شہزادی سے بات نہ کرنے دیتا تاکہ شہزادی اس کی مدد نہ کرے. لڑکے نے ایک غریب عورت کو بتایا کہ اس کے محل سے وزیر خزانہ چوری کرتا ہے۔ عورت جب محل میں پہنچی تو اس نے شہزادی سے ملنا چاہا وزیر نے اسے ملنے سے انکار کیا تو اس عورت نے وزیر کو بتایا کہ میں شہزادی کے لیے تحفہ لائی ہوں جو شہزادی کو مل کر شہزادی کو ہی دوں گی۔ وزیر بہت لالچی تھا اس نے کہا ٹھیک شہزادی سے مل لو اور تحفہ خزانے میں جمع کروا دینا۔ عورت جب شہزادی کے پاس گئی تو اس نے شہزادی کو بتایا کہ وزیر محل سے خزانہ چوری کرتا ہے اور سارا خزانہ اس نے محل سے بہت دور چھپا رکھا ہے۔ شہزادی نے کہا تمھارے پاس اس بات کا کیا ثبوت ہے۔؟ اس عورت نے شہزادی سے کہا کہ کل وہ اپ کو اس بات کا ثبوت دے گی۔ لہذا اپ کل تک کی مہلت دیں اور اس بات کو راز رکھیں۔ عورت لڑکے کے پاس آئی اور اسے بتایا کہ شہزادی نے ثبوت مانگا ہے۔ لڑکے نے خزانے سے بہت سے قیمتی ہار اس عورت کو دیئے اور اس سے کہا کہ شہزادی کو یہ ہار دینا اور اسے بتانا کہ باقی چوری کیا ہوا خزانہ بھی کسی کے پاس ہے لیکن اس کے لیے شہزادی ان کی حفاظت کا کوئی انتظام کرے تاکہ بعد میں خزانہ مل جائے پر وزیر اسے کوئی نقصان نہ پہچائے۔

■ ماہ رجب کے حوالے سے پوسٹس لنکس۔۔۔ https://t.me/islamwitheman/2943 🔷️ ماہ رجب المرجب https://t.me/islamwitheman/2945 🔷️ لیلةالرغائب کی فضیلت اور اعمال https://t.me/islamwitheman/2961 🌹 ولادت باسعادت امام محمد باقرؑ https://t.me/islamwitheman/2964 🌹 تعارف امام محمد باقرؑ https://t.me/islamwitheman/2965 🌹 شہادت حضرت امام علی النقیؑ https://t.me/islamwitheman/2968 🌹 امام ہادیؑ کی ہدایات https://t.me/islamwitheman/2969 🌹 ولادت باسعادت امام علی نقیؑ https://t.me/islamwitheman/2971 🌹 ولادت مبارک امام علی النقیؑ https://t.me/islamwitheman/2972 🌹 ولادت باسعادت شہزادہ علی اصغرؑ https://t.me/islamwitheman/2980 🌹 ولادت باسعادت امام محمد تقیؑ https://t.me/islamwitheman/2987 🌹 حضرت امام محمد تقیؑ https://t.me/islamwitheman/2989 🌹 امام جوادؑ کی تبلیغی روش https://t.me/islamwitheman/2990 🔷️ ایام البیض https://t.me/islamwitheman/2996 🔷️ 13 رجب رات و دن کے اعمال https://t.me/islamwitheman/2997 🌹 ولادت باسعادت حضرت علیؑ https://t.me/islamwitheman/3009 🌹 فضائل مولود کعبہ حضرت علیؑ https://t.me/islamwitheman/3010 🌹 بمناسبت یوم ولادت امام علیؑ https://t.me/islamwitheman/3011 🌹 حضرت علیؑ کا مقام و مرتبہ https://t.me/islamwitheman/3012 🌹 امت کا بہترین فرد https://t.me/islamwitheman/3013 🌹 یعسوب الدین مولا علیؑ https://t.me/islamwitheman/3014 🌹 حضرت علیؑ کی جسمانی قوت https://t.me/islamwitheman/3015 🌹 حضرت علیؑ سے سات سوال https://t.me/islamwitheman/3016 🔷️ وصیت مولا علیؑ موت کے متعلق https://t.me/islamwitheman/3017 🌹 مولا علیؑ کے متعلق ویڈیوز https://t.me/islamwitheman/3018 https://t.me/islamwitheman/3019 https://t.me/islamwitheman/3020 https://t.me/islamwitheman/3021 🌹 حضرت امام علی علیہ السلام https://t.me/islamwitheman/3027 🌹 لفظ مولا پر زبردست تحقیق https://t.me/islamwitheman/3029 🌹 شہادت جناب زینب عالیہؑ https://t.me/islamwitheman/3034 🌹 عقیلہ بنی ہاشمؑ https://t.me/islamwitheman/3035 🌹 جناب زینبؑ اور نماز شب https://t.me/islamwitheman/3036 🌹 حضرت ام البنینؑ https://t.me/islamwitheman/3041 🌹 زیارت ام البنین سلام اللہ علیھا https://t.me/islamwitheman/3042 🌹 ولادت باسعادت سکینہؑ بنت الحسینؑ https://t.me/islamwitheman/3046 🌹 ولادت باسعادت بیبی سکینہؑ https://t.me/islamwitheman/3047 🔷️ کونڈوں کی نیاز https://t.me/islamwitheman/3058 🔷️ نذر و نیاز امام جعفر صادقؑ https://t.me/islamwitheman/3059 🔷️ کونڈے اور لکڑہارے کا واقعہ https://t.me/islamwitheman/3060 🌸 نذر و منت https://t.me/islamwitheman/3061 🔷️ کونڈے https://t.me/islamwitheman/3062 🔷️ غزوہ خیبر https://t.me/islamwitheman/3082 🌹 حضرت امام موسٰی کاظمؑ https://t.me/islamwitheman/3093 🌹 شھادت امام کاظم علیہ السلام https://t.me/islamwitheman/3094 🌹 باب الحوائج امام موسٰی کاظمؑ https://t.me/islamwitheman/3095 🌹 امام موسٰی کاظمؑ https://t.me/islamwitheman/3096 🌹 امام موسٰیؑ ابن جعفر الکاظمؑ https://t.me/islamwitheman/3097 🌹 امام موسٰی کاظمؑ کی اولادیں https://t.me/islamwitheman/3098 🌹 حیاتنامہ حضرت ابوطالبؑ https://t.me/islamwitheman/3104 🌹 تاریخ حضرت ابوطالبؑ https://t.me/islamwitheman/3105 🌹 27 رجب معراج یا بعثت رسولؐ؟ https://t.me/islamwitheman/3120 🌹 بعثت پیغمبر اسلامؐ https://t.me/islamwitheman/3121 🌹 27 رجب المرجب https://t.me/islamwitheman/3122 🌹 اعمال شب و روز 27 رجب https://t.me/islamwitheman/3123 🌹 معراج https://t.me/islamwitheman/3124 🌹 ماہ رجب میں روزے کی اہمیت https://t.me/islamwitheman/3126 🌹 28 رجب المرجب https://t.me/islamwitheman/3129 🌹 امام حسینؑ کی مدینہ سے روانگی https://t.me/islamwitheman/3130 🌹 قبل از روانگی وصیت امام حسینؑ https://t.me/islamwitheman/3131 🌹 واقعہ معراج النبیؐ https://t.me/islamwitheman/3132 ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🔷 ایک ارب روپے 🔷 ایک ارب روپے کتنے ہوتے ہیں۔۔۔؟؟؟ پہلی مثال: اگر کسی کو ایک ارب روپے، ایک ایک روپیہ کی شکل میں دیئے جائیں اور کہا جائے کہ انہیں گنو۔۔۔ اور وہ شخص بغیر کسی وقفے کے دن رات بغیر کھائے، پیے، سوئے۔۔۔ گننا شروع کرے۔۔۔ اور فی سیکنڈ ایک روپیہ گنے۔۔۔تو یہ رقم گنتے گنتے تقریباً 32 سال لگ جائیں گے۔۔۔ 😮😮 دوسری مثال: فرض کیجیے۔۔۔ایک شخص یکم جنوری سن ایک عیسوی کو پیدا ہوا اور اس نے روزانہ ایک ہزار (1000) روپے خرچ کرنا شروع کیے تو وہ تقریباً 2740 سال تک روزانہ یہ رقم خرچ کر سکتا ہے۔۔۔۔۔ یعنی سن ایک عیسوی سے لیکر 31 دسمبر 2019 تک اس نے 726,840,000 روپے خرچ کیے۔۔۔ اور بقیہ رقم سے مزید 721 سال تک روزانہ ایک ہزار کے اخراجات کر سکتا ہے۔۔۔۔ 😲😲😲 اب تیسری مثال لیجیے۔۔۔۔ فرض کیجیے ایک 10 سال کی عمر کے بچے کے اکاونٹ میں ایک ارب روپے جمع کروا دیے جائیں۔۔۔ اور وہ بچہ روزانہ تیس ہزار روپے (30,000) روپے اکاونٹ سے نکلوا کر کھائے پیے، کھلونے خریدے، رشتہ داروں میں بانٹے یا ان نوٹوں سے چڑیاں طوطے بنا کر اڑا دے۔۔۔ پھر دوسرے دن تیس ہزار نکلوائے اور دل کھول کر خرچ کرے۔۔۔ اور پھر تیسرے۔۔۔ چوتھے۔۔۔ اسی طرح روزانہ تیس ہزار روپے خرچ کرنے کا عمل مسلسل جاری رکھے۔ حتی کہ جوان ہو، ادھیڑ عمری اور پھر بڑھاپے تک پہنچ جائے۔۔۔ اور پھر 100 سال کی عمر تک پہنچ کر دنیا سے رخصت ہوجائے۔ تب بھی اس کے اکاونٹ میں تقریباً، ڈیڑھ کروڑ روپے باقی بچ رہیں گے۔۔۔ 😲😲😲😲 اور اب ایک موٹی سی مثال حاضر ہے۔۔۔ ایک بندہ پیدا ہونے کے دن سے لے 55 سال تک روزانہ 50,000 روپے خرچ کرے تب بھی ایک ارب روپے میں سے ایک کروڑ روپے باقی بچ ہی جائیں گے۔ 50,000x30x12x55= 99,00,00,000 🔹 سمجھ میں آئی کوئی بات ؟؟؟ ذرا نہیں پورا سوچیے۔۔۔ یہ تو صرف ایک ارب روپے کی بات تھی۔۔۔ اب پاکستان میں کئی سو اربوں روپے کی کرپشن کرنے والوں کے بارے میں آپ خود سوچ لیں۔۔۔ ہے نا حیرانی اور پریشانی والی بات۔۔۔ کیا یہ اتنے روپے کفن میں ڈال کر قبروں میں ساتھ لے جائیں گے؟؟؟ غیر سیاسی پوسٹ. منقول 🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی معلومات کے لئے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman/5675 ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

photo content

🌹 عورت کی مثال __!! 🌹 ایک مرتبہ ایک بزرگ نے ایک محفل میں اپنی بند ہتھیلی کو سب کی طرف کر کے دریافت فرمایا میرے ہاتھ میں کیا ہے۔.!! کچھ نے جواب دیا شاید آپ کے ہاتھ میں ہیرے جواہیرات ہیں، پھر ایک صاحب سے پوچھا تو انہوں نے بھی کچھ سوچنے کے بعد جواب دیا شاید سونا ہے۔.!! پھر پوچھنے پر ایک نے جواب دیا کہ آپ کے ہاتھ میں اگر ہیرے جواہرات نہیں اور سونا بھی تو یقینا چاندی یا کوئی قیمتی چیز ہوگی۔ تب ان بزرگ نے اپنے ہاتھ کو کھولا تو ان کے ہاتھ پر چند کنکریاں تھیں۔ سب حیران رہ گئے۔!! وہ بزرگ کہنے لگے عورت کی مثال اس بند مٹھی کی طرح ہے اگر وہ بند (یعنی باپردہ) ہے تو ہیرے جواہرات، سونا چاندی اور اس کی بیش بہا قیمت ہے لیکن اگر وہ مٹھی کی طرح کھل جائے (بے پردہ ہوجائے) تو وہ بے وقعت پتھر اور کنکریوں کی مانند ہے جس کی کوئی عزت اور قیمت نہیں۔!! 🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman/4759 ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🌹 عورت کی مثال __!! 🌹 ایک مرتبہ ایک بزرگ نے ایک محفل میں اپنی بند ہتھیلی کو سب کی طرف کر کے دریافت فرمایا میرے ہاتھ میں کیا ہے۔.!! کچھ نے جواب دیا شاید آپ کے ہاتھ میں ہیرے جواہیرات ہیں، پھر ایک صاحب سے پوچھا تو انہوں نے بھی کچھ سوچنے کے بعد جواب دیا شاید سونا ہے۔.!! پھر پوچھنے پر ایک نے جواب دیا کہ آپ کے ہاتھ میں اگر ہیرے جواہرات نہیں اور سونا بھی تو یقینا چاندی یا کوئی قیمتی چیز ہوگی۔ تب ان بزرگ نے اپنے ہاتھ کو کھولا تو ان کے ہاتھ پر چند کنکریاں تھیں۔ سب حیران رہ گئے۔!! وہ بزرگ کہنے لگے عورت کی مثال اس بند مٹھی کی طرح ہے اگر وہ بند (یعنی باپردہ) ہے تو ہیرے جواہرات، سونا چاندی اور اس کی بیش بہا قیمت ہے لیکن اگر وہ مٹھی کی طرح کھل جائے (بے پردہ ہوجائے) تو وہ بے وقعت پتھر اور کنکریوں کی مانند ہے جس کی کوئی عزت اور قیمت نہیں۔!! 🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🔷 ڈاکٹر روتھ فاؤ 🔷 اس نے مرنے سے پہلے 3 خواہشات کا اظہار کیا تھا: 1- میرا علاج کسی صورت وینٹی لیٹر پر نہ کیا جاے۔ 2- میری میّت "لپریسی سینٹر" سے اٹھائی جاے۔ 3- میری تدفین عروسی لباس پہنا کر کی جاے۔ میت لپریسی سینٹر آئی تو سب کی ہچکیاں بندھ گئیں۔ ان کی تیسری خواہش کا بھی احترام کیا گیا سرخ جوڑا پہنا کر تابوت میں لٹایا گیا تو سکون ان کے چہرے پر تھا۔ روتھ فاؤ نے شادی نہیں کی تھی راہبہ تھیں اپنے عقیدے کے مطابق انہوں نے دنیا تیاگ دی تھی ۔ شائد وہ آخرت میں خداوند سے خوشیوں اور سرخ جوڑے کی تمنا رکھتی ہوں گی۔ 29 سالہ جرمن ڈاکٹر نے 1961ء میں کراچی کی ایک "کچی بستی" میں قیام کا فیصلہ کیا تو سب حیران رہ گئے۔ تب لوگ کوڑھ کے مریضوں کو لاعلاج سمجھ کر گھر سے باہر ڈال دیتے تھے تاکہ باقی افراد اس موذی مرض سے محفوظ رہ سکیں اور وہ مریض وہیں سسک سسک کر مرتے رہتے۔ وہ مریض جنہیں اپنے ہاتھ نہیں لگاتے تھے ڈاکٹر رتھ فاو نے ان کے علاج کا بیڑہ اٹھایا رتھ فاوُ نے ابتداء میں آئی آئی چندریگر سے متصل ریلوے کالونی میں ایک ہسپتال کی بنیاد رکھی اور کوڑھ کے مریضوں کا علاج شروع کر دیا۔ انہوں نے پاکستان میں جزام کے علاج کے لئیے 157 کلینک قائم کئیے جہاں تقریباً ستاون ہزار مریضوں کا علاج کیا گیا۔ عالمی ادارہ صحت نے 1996ء میں پاکستان کو لپریسی کنٹرول کرنے والا ملک قرار دے دیا 1988ء میں انہیں پاکستانی شہریت کا اعزاز دیا گیا یہ پاکستان میں اپنی زندگی کے 55 سے زائد برس ایک چھوٹے سے کمرے میں تنہا رہیں۔ چارپائی نما بستر سرہانے رکھا کولر میز پر چند کتابیں اور سائڈ میز پر رکھے کچھ ضرورت کے برتن۔ یہ ان کی کل کائنات تھی۔ روتھ فاؤ نے کبھی اپنی یا اپنے کام کی تشہیر نہیں چاہی خاموشی سے کام کرتی رہیں اور 87 سال کی عمر میں 10 اگست 2017ء کو خاموشی سے دنیا سے رخصت ہو گئیں۔ ان کی وفات کے بعد ان کی میت کو اسٹیٹ پروٹوکول دیا گیا اور وہ گورا قبرستان کراچی میں آسودہ خاک ہیں ۔ انہیں حکومت پاکستان نے ان کی گرانقدر خدمات کے عوض ہلال پاکستان، ہلال امتیاز، ستارہ قائد اعظم اور نشان قائداعظم جیسے اعلیٰ تریں ایوارڈز اور اعزازت سے نوازا۔ ایک اکیلی رتھ فاؤ نے خاموشی سے پاکستان سے کوڑھ جیسے موذی مرض کا خاتمہ کر دیا۔ 🔘 آج جب لوگ تمام تر وسائل کے باوجود کہتے ہیں کہ ہمیں کام نہیں کرنے دیا گیا ورنہ ہم پاکستان کو کیا بنادیتے تو ڈاکٹر رتھ فاوُ یاد آجاتی ہیں کہ کام کرنے کے لئیے کسی کی اجازت کی ضرورت نہیں ہوتی ۔ خدمت کے جذبے، عزم اور قربانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ 🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman/5671 ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

photo content

🔷 ذہنی مریض لوگ! 🔷 سونا پونے تین لاکھ روپے تولہ ہونے کی وجہ سے عوام کی پہنچ سے دور ہوتا جا رہا ہے اس سے بے وقوف مڈل کلاسیوں کی شادیاں بھی پہنچ سے دور ہو رہی ہیں، جہنوں نے گولڈ جیولری کا دکھاوا ضرور کرنا ہوتا ہے۔ زیادہ تر وہ گولڈ بعد میں سارا سال سنبھال کر رکھ دیا جاتا ہےاور فنکشنز پر بھی نہیں پہنا جاتا۔ مڈل کلاس یا لوئر مڈل کلاس کے لوگ اتنے بے وقوف ہوتے ہیں کہ لڑکا پوری عمر موٹر سائیکل چلاتا ہے لیکن بارات کے دن کئی عدد نئی کاریں کرائے پر لے کر دلہن کے گھر پہنچ جاتا ہے اور شادی سے اگلے دن وہی دولہا اور دلہن موٹر سائیکل پر رلتے ہوئے جاتے ہیں۔ شادی کے دن دونوں ہی فضول خرچی کر لیتے ہیں اگر بچت کی جائے تو چھوٹی موٹی گاڑی آسانی سے آ سکتی ہے۔ جہیز میں لڑکی کو درجنوں بستر، کمبل، رضائیاں، تکئے دیئے جاتے ہیں جو کسی پیٹی یا الماری میں دس یا بیس سال بند رہتے ہیں۔ اس سے بھی گھٹیا کام یہ ہے کہ لڑکی کے لئے دونوں طرف سے کئی عدد سوٹ اور جوتے اس لئے خریدے جاتے ہیں کہ آنے والے مہمانوں کو دکھائے جائیں جو بعد میں آؤٹ آف فیشن ہو جاتے ہیں۔ یہ بے وقوف لوگ ساری عمر دال روٹی کھاتے ہیں ایک ایک روپے کی بچت کرتے ہیں  لیکن شادی پر صرف دکھاوے کے لئے بریانی مٹن بیف اور پتہ نہیں کیا کیا انتظام کیا جاتا ہے وہ بھی ایک بار نہیں بلکہ مہندی بارات ولیمہ کے لئے لڑکے کی شادی پر دس سے پندرہ لاکھ روپے لگا دیں گے لیکن سادگی سے شادی کر کے باقی پیسے اس لڑکے کو نہیں دیں گے کہ وہ اپنا کوئی کام کاج کر لے۔ دلہن کا ایک فنکشن کا میک اپ ہزاروں سے شروع ہوکر لاکھوں تک جاتا ہے جو کہ پانچ سے سات گھنٹوں کے لئے ایک جعلی تصویر پیش کرتا ہے، اب تو فوٹو سیشن کے لئے لاکھوں لگا دئیے جاتے ہیں تاکہ یہ سب دکھاوا جسکو کرنے کے لئے لڑکی اور لڑکے دونوں گھر والوں کو اگلے ایک سال تک قرض اتارنا ہے، محفوظ بھی  رکھا جا سکے تاکہ زندگی میں آگے جا کر اسکو یاد کر کے رویا بھی جا سکے۔ اگر یہ سب کچھ نہ کیا ہوتا تو زندگی مختلف ہوتی اس سارے معاملات میں لڑکی لڑکے والے دونوں برابر کے حصہ دار ہوتے ہیں اور پریشانی سال ہا سال۔ تھوڑا نہیں پورا سوچنے ۔ ۔ 🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman/5669 ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

photo content

ایک خاتون کہتی ہیں۔۔۔ چند ماہ پہلے، میں نے ایک غریب محلے میں ایک کمرہ کرائے پر لیا۔ وہ کمرہ زیادہ برا نہیں تھا، کچھ حد تک آرام دہ تھا۔ اس کمرے میں ایک کھڑکی تھی جو ایک بڑے درخت کی طرف کھلتی تھی، جس پر کچھ پرندے بیٹھتے تھے۔ میں ہر صبح کھڑکی کھول کر ان کے لئے پانی کا ایک پیالہ اور دانوں یا کچھ دالوں کا ایک پیالہ رکھ دیتی۔ پھر وہ پرندے آتے اور کھڑکی کی طرف آ کر اپنے کھانے کا سامان لے جاتے۔ میں ہمیشہ یہ دعا کرتی کہ یہ میرا صدقہ ہو اور میرے حساب میں نیکیاں جمع ہوں۔ لیکن آج صبح ایک عجیب بات ہوئی۔ میں جیسے ہی اپنی پنشن لینے کے لئے بینک گئی تاکہ وقت پر پہنچ سکوں، جیسے میں ہر صبح جلدی کرتی تھی، اس دن شام کو بھی میں نے ان پرندوں کے لئے پیالے تیار کیے اور کھڑکی کے باہر رکھ دیئے۔ دوپہر کے قریب میں واپس آئی، اور جیسے ہی میں گلی میں آئی، وہ پرندے مجھے دیکھ کر اڑتے ہوئے میرے ارد گرد چکر لگانے لگے، یہاں تک کہ میں عمارت کے دروازے تک پہنچ گئی۔ پھر جب میں نے کمرے میں داخل ہو کر اپنا کوٹ اُتارا اور کھڑکی کھولنے کی کوشش کی، تو میں نے دیکھا کہ پیالے جیسے کے ویسے پڑے تھے، ان میں سے کچھ بھی کم نہیں ہوا تھا۔ جب میں نے سامنے درخت کی طرف دیکھا، تو وہ پرندے مجھے ہی دیکھ رہے تھے۔ جیسے ہی میں نے کھڑکی کھولی، وہ فوراً میری طرف دوڑتے ہوئے آئے تاکہ کھا دانہ کھا سکیں اور پانی پی سکیں۔ تب ہی مجھے یہ سمجھ آیا کہ ان پرندوں کے لئے میری قیمت کتنی بڑی ہے، جو میں نے انسانوں میں کبھی نہیں دیکھی۔ 🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman/5667 ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

photo content