fa
Feedback

فریب کلاهبرداران را نخورید! تل‌متریو این کانال‌ها را شناسایی و برچسب‌گذاری می‌کند 👉 برای مشاهده برچسب، اشتراک تهیه کنید

ISLAM WITH EMAN

ISLAM WITH EMAN

رفتن به کانال در Telegram

اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات... ایڈمن سے رابطہ کیلئے: @syedsajjadhamdani

نمایش بیشتر
1 284
مشترکین
-124 ساعت
-37 روز
-730 روز
آرشیو پست ها
استغفار کا فائدہ
استغفار کا فائدہ

photo content

photo content

جنگ کے موجودہ حالات میں ہم شہریوں پر درج ذیل اہم ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں: 1. اتحاد و یکجہتی قائم رکھنا ہمیں مذہب، زبان، فرقہ یا علاقے کی بنیاد پر تقسیم ہونے کے بجائے ایک قوم کی حیثیت سے متحد رہنا چاہیے۔ 2. سچائی اور درست معلومات کو فروغ دینا افواہوں، جھوٹی خبروں اور پروپیگنڈہ سے اجتناب کریں۔ صرف مستند ذرائع سے حاصل شدہ معلومات کو آگے پہنچائیں۔ 3. قومی سلامتی کے لیے تعاون سیکیورٹی اداروں، حکومت اور امدادی تنظیموں کے ساتھ مکمل تعاون کریں، اور ان کی ہدایات پر عمل کریں۔ 4. ضروری وسائل کی بچت بجلی، پانی، خوراک اور ایندھن جیسی چیزوں کا محتاط استعمال کریں تاکہ ان کی قلت نہ ہو۔ 5. شہداء اور متاثرین کے لیے دعا و امداد جو لوگ جنگ میں متاثر ہو رہے ہیں، ان کے لیے دعا کریں اور اگر ممکن ہو تو مالی یا اخلاقی امداد بھی دیں۔ 6. حب الوطنی کا مظاہرہ اپنے عمل اور رویے سے یہ ثابت کریں کہ آپ ملک کے ساتھ مخلص ہیں۔ فتنہ و فساد سے دور رہیں اور منفی سوچ کو پھیلنے نہ دیں۔ 7. فوج اور قوم کا حوصلہ بلند رکھنا حوصلہ افزا باتیں کریں، اور سوشل میڈیا پر مثبت پیغامات پھیلائیں تاکہ فوج اور قوم کا مورال بلند ہو۔

بھارتی حملوں میں نیلم جہلم پاور پروجیکٹ کو نقصان، 26 شہری شہید اور 46 زخمی ہوئے، ترجمان پاک فوج بھارتی طیاروں کو تب نشانہ بنایا گیا جو وہ حملہ آور ہوئے اور انہوں نے اپنے ویپن فائر کئے، ترجمان پاک فوج پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بھارتی جارحیت اور پاکستان کی جوابی کارروائی کے بعد قوم کو تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ بھارتی کارروائی میں چھ مقامات پر حملے کئے گئے جن میں 26 افراد شہید اور 46 زخمی ہوئے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے بدھ کو پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے کہا کہ احمد پور شرقیہ میں مسجد سبحان اللہ کو نشانہ بنایا گیا جس میں 13 شہادتیں ہوئیں جن میں 3 سال کی 2 بچیاں بھی شامل ہیں، اس کے علاوہ شہدا میں 7 خواتین اور 4 مرد شامل ہیں جبکہ 9 خواتین سمیت 37 شہری زخمی ہوئے۔ ترجمان پاک فوج نے بتایا کہ مظفر آباد کے قریب مسجد بلال کو بھارتی جارحیت کا نشانہ بنایا گیا جس میں 3 شہری شہید ہوئے جبکہ ایک بچی اور ایک لڑکا زخمی ہوا۔ ترجمان پاک فوج نے بتایا کہ مریدکے میں مسجد ام القریٰ کو نشانہ بنایا گیا جس میں 3 شہری شہید اور ایک زخمی ہوا، سیالکوٹ میں کسی جانی اور مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی جبکہ شکر گڑھ میں بھی بھارتی حملے میں صرف ایک ڈسپنسری کو نقصان ہوا ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے مزید بتایا کہ بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات واضح کرنا ضروری ہے کہ بھارتی طیاروں کو تب نشانہ بنایا گیا جو وہ حملہ آور ہوئے اور انہوں نے اپنے ویپن فائر کئے۔ ترجمان پاک فوج نے کہا کہ پاکستان کے تمام طیارے محفوظ ہیں۔ پاکستان کا کوئی طیارہ بھارتی ایئراسپیس میں نہیں گیا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ دشمن نے ایل او سی پر بلااشتعال فائرنگ کی، جس کے جواب میں پاک فوج نے بھارت کی متعدد پوسٹیں تباہ کردیں۔ لائن آف کنٹرول پر رات سے جاری بلااشتعال بھارتی گولہ باری کے نتیجے میں پانچ معصوم شہری شہید ہوچکے ہیں جن میں ایک پانچ سال کا بچہ بھی شامل ہے۔ ترجمان پاک فوج کے مطابق پاکستان نے اب تک جوابی کارروائی میں بھارت کے پانچ طیارے، ایک کامپیکٹ ہیرون ڈرون کو مار گرایا ہے۔ گرائے جانے والے طیاروں میں تین رافیل، ایک مگ 21 اور ایک سخوئی شامل ہے۔ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ ہم پاکستان کی سالمیت اورخودمختاری پرحملے کی اجازت نہیں دیں گے، پاکستان نے صرف اپنا دفاع کیا ہے، بھارت معصوم شہریوں کو نشانہ بنارہا ہے، بھارت کو موت کا جتنا ڈر ہے، ہمیں شہادت کی اتنی آرزو ہے۔

*ایک انگریز نے مسلمان عالم دین سے پوچھا کہ تمہارے اسلام میں اتنی شدت کیوں ہے کہ ایک عورت اجنبی مرد سے مصافحہ تک نہیں کرسکتی ہ
*ایک انگریز نے مسلمان عالم دین سے پوچھا کہ تمہارے اسلام میں اتنی شدت کیوں ہے کہ ایک عورت اجنبی مرد سے مصافحہ تک نہیں کرسکتی ہے؟🫱🏻‍🫲🏻* عالم دین نے بہت تحمل سے خوبصورت جواب دیتے ہوئے پوچھا کہ کیا تمہارے ہاں ہر شخص ملکہ برطانیہ سے ہاتھ ملا سکتا ہے؟ مصافحہ کرسکتا ہے؟❣️ انگریز نے جواب دیا ہرگز نہیں ملکہ برطانیہ کے پروٹوکول میں قانون صرف سات قسم کے افراد کو یہ اجازت دیتا ہے کہ وہ ملکہ سے ہاتھ ملا سکتے ہیں.🕊️ عالم دین نے جواب دیا بعینہ ہماری شریعت میں 12 اصناف ہیں جنہیں شریعت ہاتھ ملانے کی اجازت دیتی ہے۔🙌🏻 باپ دادا شوہر سسر بیٹا بھائی چچا ماموں بھتیجا بھانجا پوتا نواسہ عالم دین نے فرمایا تمہارے نزدیک ملکہ کا یہ مقام اور احترام ہے کہ ہر کوئی ان سے ہاتھ نہیں ملا سکتا ہے اور تم نے یہ عزت صرف ملکہ کے لئے خاص کیا جب کہ ہمارے نزدیک تو ہر عورت ملکہ ہے۔۔🫅😌 عربی سے ترجمہ

🔷 اماں کس کے گھر جائیں گی 🔷 اماں کس کے گھر جائیں گی؟" تینوں بیٹوں اور دونوں بیٹیوں کے چہرے پر ایک ہی سوال تھا اور وہ سب کے سب گزشتہ ایک گھنٹے سے ہسپتال کے برآمدے میں ٹہل ٹہل کر اس سوال کا جواب سوچ رہے تھے. "میرا خیال ہے ..... اظفر بھائی سب سے بڑے ہیں ..... ان کا فرض ہے ... کہ وہ اماں کو .... اپنے گھر لے جائیں" صائمہ نے بڑی دیر کے بعد اٹکتے ہوئے کہا. اظفر نے اپنی بیوی کی طرف دیکھا جو مسلسل تسبیح کے دانے رول رہی تھی اور اماں کی سلامتی کی دعائیں مانگ رہی تھی. "میں اپنے فرض سے انکار نہیں کرتا ، لیکن تم سب جانتے ہو حرا سروس کرتی ہے اور اماں کیلئے اب فل ٹائم عورت کی ضرورت ہے. میرا خیال ہے تم گھر پر رہتی ہو. تم اماں کی دیکھ بھال اچھی طرح کر لو گی. خرچے کی فکر نہ کرنا، وہ میں دوں گا." اظفر نے خرچے پر زرو دے کر کہا. "میری تو بڑی خواہش ہے کہ میں اپنی اماں کی خدمت کروں، مگر آپ تو جانتے ہیں کہ میرے ساس سسر کس طرح کے ہیں اور میں یہ سب برداشت نہیں کر سکتی کہ میرے بھائیوں کو کوئی برا کہے." "پھر؟" ...... کچھ لمحوں کیلئے پھر سکوت چھا گیا. "میرا خیال ہے ، ظفر بھائی ..... کے پاس .... اماں ... زیادہ آرام سے .... رہ سکتی ہیں." سائرہ نے ہکلاتے ہوئے منجھلے بھائی ک طرف دیکھا. "میرا بھی یہی خیال ہے" اظفر نے فورا چھوٹی بہن کی تائید کی. ظفر اور اسکی بیوی نے آنکھوں میں ایک دوسرے سے کچھ کہا. "اصل میں .... اماں کا .... کبھی بھی ..... ہمارے گھر میں دل نہیں لگا. وہ تو ہمارے گھر دو دن سے زیادہ رہتی ہی نہیں ....." "بیماری میں تو ویسے بھی انسان تنہائی سے گھبراتا ہے." شاہینہ نے شوہر کے کچھ کہنے سے قبل ہی صفائی پیش کر دی. "پھر ..... اب..... کیا ہو گا؟" "میری تو مجبوری ہے ...... میری آمدنی بھی کم ہے ..... پھر میرے گھر ..... میں تو بالکل .... جگہ ہی نہیں ہے." اظہر نے منمنا کر کہا۔ "پھر ..... پھر .... اماں کس کے گھر جائیں گی؟" سب مجبور تھے اور سوچوں میں غرق تھے. "آپ سب وارڈ نمبر ۲ کی مریضہ کے رشتہ دار ہیں؟" نرس کی پھٹی ہوئی آواز پر ان سب نے گھبرا کر سر اٹھایا. "جی .... جی....." "آپ کو وارڈ میں ڈاکٹر بلا رہے ہیں" اس نے کہا اور تیزی سے پلٹ گئی. "خدا خیر کرے" وہ سب تیزی سے وارڈ میں داخل ہوئے. "آئی ایم سوری! شی از expired" ڈاکٹر نے اظفر کے کاندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا. سب نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا. سب کے چہروں پر ظاہری غم کے ساتھ ہی ایک کمینی سی مسرت کا عکس بھی تھا۔ اماں کی سانسوں کی ڈور کے ٹوٹتے ہی وہ سب ہر ذمہ داری سے آزاد ہو چکے تھے۔ 🔘 خدارا بوڑھے ماں باپ کی قدر کیجئے۔ 🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🔷 انوکھی امداد ایسی بھی! 🔷 "محلے میں بچوں کو عربی و ناظرہ قرآن پڑھانے والی باجی کے گھر آٹا اور سبزی نہیں ہے، مگر وہ باپردہ خاتون باہر آکر مفت راشن والی لائن میں لگنے سے گھبرا رہی ہیں." فری راشن تقسیم کرنے والے نوجوانوں کو جیسے ہی یہ بات پتا چلی، انہوں نے متاثرین میں فری سبزی و آٹا کی تقسیم فوراً روک دیا. پڑھے لکھے نوجوان تھے. آپس میں رائے مشورہ کرنے لگے. بات چیت میں طے ہوا کہ نہ جانے کتنے سفید پوش اپنی آنکھوں میں ضرورت کے پیالے لیے فری راشن کی لائنوں کو تکتے ہیں، مگر اپنی عزت نفس کا بھرم رکھنے کی خاطر قریب نہیں پھٹکتے. مشورے کے بعد نوجوانوں نے فری راشن کی تقسیم کا بورڈ بدل دیا اور دوسرا بورڈ آویزاں کر دیا. ہر طرح کی سبزی 15 روپے کلو، مسالہ فری، آٹا، چاول، دال 15 روپے کلو. خصوصی آفر. اعلان سنتے ہی مفت خور بھکاریوں نے اپنی راہ لی، سفید پوش اور لاچار طبقہ ہاتھوں میں دس بیس روپے کے ساتھ خریداری کے لئے آگیا. قطار میں کھڑا ہونے سے اسے گھبراہٹ نہ ہوئی، نہ ہلڑ بازی ہوئی. لائن میں ایک طرف بچوں کو قرآن پڑھانے والی باپردہ باجی بھی مٹھی میں معمولی سی رقم لیے اعتماد کے ساتھ نمناک آنکھوں کے ساتھ کھڑی تھیں. ان کی باری آئی پیسے دیئے، سامان لیا اور اطمینان سے گھر آگئیں. سامان کھولا، دیکھا ان کے ذریعہ ادا کی گئی پوری قیمت سنتِ یوسف کی طرح ان کے سامان میں موجود ہے، لیکن انہیں خبر تک نہ ہو سکی تھی کہ کس نے وہ پیسے کب ان کے سامان میں رکھے تھے۔ نوجوان ہر خریدار کے ساتھ یہی کر رہے تھے. یقیناً علم کو جہالت پر مرتبہ حاصل ہے. 🔘 مدد کیجیے، پر عزتِ نفس مجروح نہ کیجیے!! ضرورت مند سفید پوشوں کا خیال رکھئے، عزت دار مساکین کو عزت دیجیے. یقین رکھئے اللہ تعالیٰ آپ پر زیادہ بااختیار ہے. صرف آپ ہی پڑھ کر آگے نہ بڑھ جائیں بلکہ اوروں کو بھی شریک کریں, یہ صدقہ جاریہ ہوگا, ہو سکتا ہے اس آپ کی شیئر کردہ تحریر ہزاروں لوگوں کے لیے سبق آموز ثابت ہو .. جزاک اللہ خیرا کثیرا.۔۔!! 🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🔷 نصیب اپنا اپنا 🔷 میں کل فرنیچر والی دکان پر گیا کچھ صوفہ اور بیڈ سیٹ پسند آئے تو سوچا تصویر لے لیتا ھُوں گھر والوں کو دِکھانے کے واسطے تصویر لینے لگا تو دکاندار غصہ ھو گیا اور منع کر دیا، وہاں سے نکلا اور جس بھی فرنیچر والے کے پاس گیا اُس نے ایسا ھی کِیا میرے ساتھ ایسا ھی پہلے ایک دفعہ کپڑے کے بوتیک پر بھی ھُوا تھا کہ جس بھی بوتیک پر گیا اُنہوں نے کپڑوں کی تصاویر لینے سے منع کر دیا میں نے فرنیچر والے سے وجہ پوچھی تو کہنے لگا لوگ ڈیزائن چوری کر لیتے ہیں...کہنے لگا میں پہلے سنیار کا کام بھی کرتا رھا ھُوں اور جب کبھی ہم اپنے اُستاد سے مِلنے جاتے تھے تو وہ اپنا کام بند کر کے چُھپا لیتے تھے تا کہ ہم دیکھ کے اُس کا ڈیزائن چوری نہ کر لیں یہی دنیا کا دستور ھے جناب مجھے اِس پر ایک واقعہ یاد آ گیا اور میں نے فرنیچر والے کو سُنایا. میاں چنوں شہر میں خوشی برفی والا بہت مشہور ھے بہت دُور دُور سے لوگ اُس کی برفی لینے آتے ہیں کیونکہ اُس کی برفی میں ذائقہ ھی ایسا ھے کہ میٹھے سے نفرت کرنے والا بھی بہت شوق سے اُس کی برفی کھاتا ھے ایک دفعہ لاہور میں کسی شادی پر امریکہ سے کچھ لوگ آئے ھُوئے تھے وہ تھے تو پاکستانی لاہوری لیکن بعد میں امریکہ شفٹ ھو گئے تھے تو وہاں شادی پر کوئی بندہ خوشی کی برفی لے گیا. امریکی مہمانوں نے جب برفی کھائی تو حیران رہ گئے، کہتے ایسا ذائقہ ہم نے آج تک نہیں چکھا کسی مٹھائی کا.. وہ خوشی کی برفی کے ایسے دیوانے ھُوئے کہ مزید برفی لینے اس کے شہر پہنچ گئے لیکن معلوم پڑا کہ برفی ختم ھو گئی کیونکہ فجر کی نماز کے بعد سے صبح آٹھ نو بجے تک اُس کی جتنی بھی سات آٹھ من برفی ھوتی تھی ساری بِک جاتی تھی اور شام بھی عصر سے عشاء تک یہی حال ھوتا تھا...وہ امریکی اِتنی زیادہ آمدن دیکھ کر حیران ھو گئے اور خوشی سے کہنے لگے ہمیں اپنی برفی کی ریسیپی دے دو ہم بھی واپس امریکہ جا کے مٹھائی کا کاروبار کریں گے وہاں بہت چلے گی تمہاری برفی گورے بہت پسند کریں گے... خوشی نے ریسیپی لکھوائی اُنکو پکڑائی اور پھر بولا : *"دودھ_چینی_کھویا_اور_میرا_نصیب"* *آپ سب کچھ لے سکتے ہیں لیکن خوشی جیسا نصیب کہاں سے لیں گے ...؟* تو میں نے اُس فرنیچر والے کو سمجھایا : " میرے بھائی تصویر یا ڈیزائن لے جانے سے کوئی آپ کا نصیب ساتھ نہیں لے جائے گا ، ہر چیز کاپی ہو سکتی ہے لیکن آپ کا نصیب کاپی کرنے والا کیمرہ آج تک ایجاد ہی نہیں ہوا اور ناں ہی ہو گا۔ ہمیشہ خوش رہیں اور خوشیاں بانٹیں۔ کاپی۔۔۔ 🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🔷 فرسٹ کلاس والی باتیں 🔷 فرسٹ کلاس والی بات تھرڈ کلاس میں نہیں کرتے ! لیکن یہاں تھرڈ کلاس باتیں فرسٹ کلاس میں ہو رہی ہیں❗ کافی دن بیتے، میانوالی کے ایک بزرگ پیر سید فیروز شاہ صاحب نے خود پر بیتا ایک قصہ سنایا تھا واقعہ اتنا دلچسپ اور سبق آموز تھا کہ آپ بھی سن لیجیے 65 کی جنگ کے دنوں میں ہمارے والد صاحب بڑے بھائی کے لیے بہت پریشان تھے جو سندھ میں انسپکٹر پولیس تھے والد صاحب نے مجھے زاد راہ دے کر وہاں بھیجا کہ کم از کم بھائی کے بیوی بچوں کو میانوالی لے آو کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ میانوالی جنگی اثرات سے محفوظ رہے گا میں ان دنوں تعلیم سے فارغ التحصیل ہو کر فارغ تھا چنانچہ والد صاحب کے حکم پر روانہ ہوا وہاں پہنچ کر بھائی صاحب کو والد صاحب کے حکم سے آگاہ کیا بھائی صاحب کہنے لگے والد صاحب سے کہنا کہ فکر نہ کریں یہاں کوئی ایسی کیفیت نہیں ہے میں اور میرا خاندان پوری طرح محفوظ ہیں اگر ایسی کوئی صورت حال ہوئی تو میں ایسا ہی کروں گا جیسا وہ چاہتے ہیں اور تم اب آہی گئے ہو تو دو تین دن رکو اور پھر واپس چلے جانا واپسی پر بھائی صاحب مجھے چھوڑنے اسٹیشن آئے اور فرسٹ کلاس کا ٹکٹ میرے ہاتھ میں تھما کر واپس چلے گئے پلیٹ فارم پر پہنچا تو ٹرین وسل دے کر قدم بڑھا چکی تھی بھاگم بھاگ ایک ڈبے کا ڈنڈا پکڑ کر سوار ہوا کہ اگلے سٹیشن پر درست جگہ ڈھونڈھ لوں گا وہ ڈبہ تھرڈ کلاس کا اور کھچا کھچ بھرا ہوا تھا میرے ہاتھ میں ایک انگریزی رسالہ تھا ایک جگہ ٹک کر اسکی ورق گردانی کرنے لگا ساتھ ایک ریٹائرڈ فوجی جو ہنگامی بنیادوں پر بلاے گیے تھے بیٹھے تھے اور اوپر برتھ پر ایک صاحب لیٹے پان چبا رہے تھے موضوع گفتگو جنگ اور ہندوستان کو چھٹی کا دودھ دلانے کا عزم تھا ہر بندہ بڑھ چڑھ کر جوش و جذبے کا اظہار کر رہا تھا اتنے میں کسی نے مجھے مخاطب ہو کر کہا بابو صاحب یہ انگریزی اخبار والے کیا کہتے ہیں؟ میں نے کہا کہ اس اخبار کی رائے ہے کہ ہندوستان ہم سے دس گنا بڑا ملک ہے ہماری افواج بہت بے جگری سے لڑ رہی ہیں مگر جنگ نے طول کھینچا تو ہماری فتح کے سامنے مشکلات کھڑی ہو سکتی ہیں اتنا سننا تھا کہ برتھ پر بیٹھے ہوئے صاحب پیرا شوٹر کی طرح چھلانگ لگا کر نیچے اترے اور پان کی پیک میری قمیض پر تھوک کر میرے منہ پر تھپڑ جڑ دیا اور نعرہ مارا ہندو کی اتنی جرات جو ہمیں سبق سکھا سکے۔ میں اس اچانک حملے سے سنبھل نہیں پایا تھا کہ پاس بیٹھے فوجی بھی مجھ پر پل پڑے سب ہندوستانی جاسوس کے نعرے مار مار کر مجھے مارنے کے لیے ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کرنے لگے یہ دیکھ کر کسی اللہ کے بندے نے ہنگامی اسٹاپ کی زنجیر کھینچ دی ۔ گاڑی رکنے پر پولیس ڈبے میں آئی اور مجھے گرفتار کر کے پیچھے کسی جگہ لے گئی وہاں ایک ڈی ایس پی بیٹھا تھا ۔ بھلا آدمی تھا اس نے مجھے پانی پلانے کا حکم دیا اور کچھ وقت کے بعد جب میرے حواس بحال ہوے تو میں نے اپنے خاندان اور بھائی صاحب کے تعارف کے ساتھ سارا ماجرا کہہ سنایا اس نے مجھے ایک تولیہ دیا کہ لو چھوٹے شاہ جی اپنے سر منہ پر لپیٹ لو اچھی طرح اور جوں ہی گاڑی رکے چھلانگ مار کر بھاگ جانا ۔ تمہارے پاس چند لمحے ہوں گے ورنہ ہجوم اکٹھا ہو گیا تو ہم سے نہیں سنبھلے گا ۔ جب اگلا سٹیشن آیا گاڑی آہستہ ہونی شروع ہوئی تو ڈی ایس پی نے مجھے اشارہ کیا, میں نے قدم اٹھاتے ہوئے ممنونیت سے اسے دیکھا تو اس نے میری طرف انگلی اٹھا کر ایک بات کہی یاد رکھنا *جو باتیں فرسٹ کلاس میں کرنے والی ہوں* *انہیں تھرڈ کلاس میں نہیں کرتے* لیکن میں سوچ رہا تھا کہ آج کی بزعم خویش فرسٹ کلاس کے تو تمام کام ہی تھرڈ کلاس ہیں تو فرسٹ کلاس ہوتی کیا ہے اور کہاں پائی جاتی ہے؟ _(منقول)_ 🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

طبیعتیں نہیں بدلی جا سکتیں
طبیعتیں نہیں بدلی جا سکتیں

مرنے کے بعد پہلا تحفہ
مرنے کے بعد پہلا تحفہ

photo content

🔷 رومینٹک سکیم 🔷 کسی نے عورت بن کر ایک برطانوی بندے کو ٹھگ لیا ۔۔۔۔۔۔۔!!! اس 69 سالہ برطانوی آدمی کا نام راڈرک ہے سوشل میڈیا پر ایک دوست نے اس کا ایک عورت کے ساتھ تعارف کرایا عورت کا تعلق نیروبی (کینیا) سے تھا ایک دوسرے کو حقیقت میں دیکھے بغیر راڈرک اس عورت میں دلچسپی لینا شروع ہو گیا چونکہ اس کی بیوی فوت ہو چکی تھی وہ اکیلا محسوس کر رہا تھا اسے ایک ساتھی کی ضرورت تھی اس لئے اس نے اچھی نیت کے ساتھ دوستی کا ہاتھ بڑھایا عورت نے بھی اچھا رسپانس دیا اور دونوں کے درمیان گفتگو کا تبادلہ ہوتا رہا پھر عورت نے اسے کہا کہ شادی سے پہلے اسے اپنے گھر کیلئے جہیز چاہیے چنانچہ راڈرک نے اسے پیسے بھیجنے شروع کر دئیے وہ عورت اسے گھر کے مختلف حصوں کی تصاویر دکھاتی رہی کہ کیسے وہ گھر کو سامان کے ساتھ اپ گریڈ کر رہی ہے اور چند intimate pictures بھی بھیجتی رہی چنانچہ جب شادی کا وقت آیا تو راڈرک انگلینڈ سے نیروبی پہنچا جہاں ائیرپورٹ پر اس عورت کا موجود ہونا بنتا تھا لیکن وہاں کوئی بھی موجود نہیں تھا اس نے بہت کوشش کی کہ اس سے رابطہ کیا جائے لیکن تحقیق سے پتہ چلا کہ وہ ایک ایسی عورت تھی جس کا کوئی وجود نہیں تھا بلکہ یہ اس کا دوست ہی تھا جس نے اس عورت سے اس کا تعارف کرایا تھا اور وہی عورت بن کر اسے لوٹ رہا تھا یوں اس کی زندگی بھر کی جمع پونجی 85000£ وہ عورت مطلب اس کا سوشل میڈیا دوست لوٹ کر لے گیا اب وہ بے گھر افراد کیلئے قائم کردہ شیلٹر میں رہ رہا ہے اس کا سب کچھ چھن چکا ہے اندازہ لگائیں جس کی عمر بھر کی کمائی لوٹ لی گئی ہو اور ساتھ میں جذباتی طور پر بھی تباہ کیا گیا ہو اس کی کیا حالت ہو گی 🔘 اس واقعے سے پتہ چلتا ہے کہ سوشل میڈیا پر احتیاط لازمی ہے دنیا میں ایسے بہت سے واقعات روزانہ کی بنیاد پر ہو رہے ہیں ایسے واقعات کو Romantic Scam کہا جاتا ہے اور یہ ظالم قسم کا Scam ہوتا ہے جس میں صرف انسان کی دولت نہیں لوٹی جاتی بلکہ اس کے جذبات سے بھی کھیلا جاتا ہے۔ 🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🔷 پلاسٹک شاپر کی چوری 🔷 برطانیہ کے ایک سُپر سٹور (Sain’sbury) نے سٹور میں بیس سال سے کام کرنے والے ملازم (دافو) کو اپنے لیے شاپنگ کرتے وقت شاپر کی قیمت نہ ادا کرنے پر کام سے نکال دیا تو دافو کیس ٹریبیونل میں لے گیا، کل وہاں سے بھی اُس کے خلاف فیصلہ آ گیا، بات کچھ یوں ہوئی کہ مسٹر دافو جو نائٹ شفٹ میں کام کرتا تھا اپنی شفٹ کے بعد تیس پاؤنڈ کی شاپنگ خریدی اور یہاں چونکہ سیلف سروس مشینیں بھی ہوتی ہیں جہاں آپ اپنے فوڈ آئٹمز سکین کرتے ہیں اور کیش یا کارڈ کے ذریعے قیمت ادا کرتے ہیں، ان مشینوں کے ساتھ شاپنگ بیگز بھی ہوتے ہیں جن کو قیمت ادا کر کے حاصل کیا جا سکتا ہے، دافو نے اپنا سامان تو سکین کر لیا لیکن جہاں مشین میں آپشن آتا ہے کہ آپ نے کتنے شاپنگ بیگز لیے وہاں اُس نے جتنے بیگز استعمال کیے وہ تعداد ڈالنے کے بجائے صفر ڈال دیا اور یوں تیس پاؤنڈ کی شابنگ کی اور سوچا چلو دو تین بیگز ( جن کی قیمت پاؤنڈ سے کم بنتی ہے) مفت لے لیتے ہیں، اب یہاں چونکہ ہر آئیٹم پر بارر کوڈ ہوتا ہے اور اگر کوئی آئیٹم بغیر سکین کیے اور قیمت ادا کیے لے جانے کی کوشش کی جائے گی تو دروازوں پہ لگے سکینرز بول پڑیں گے، الارم بجنے پہ وہاں کھڑا سکیوریٹی گارڈ گاہک سے رسید طلب کرے گا اور آئیٹم چیک کرے گا، اگر کوئی آئیٹم بغیر قیمت ادا کیے گاہک لے جا رہا ہے تو وہ آئیٹم نکال کر عموماً گاہک کو جانے دیتے ہیں البتہ کوئی عادی چور ہو تو پولیس بلا لی جاتی ہے۔ یہاں دافو کے ساتھ بھی ایسا ہوا جب وہ سکینر میں سے گزرنے لگا تو وہ بول پڑا اور گارڈ نے اُس سے رسید طلب کی اور چیک کیا، تمام آئیٹم رسید میں موجود تھے سوا اُن تھیلوں کے جن میں وہ اپنی شاپنگ ڈال کے لے جا رہا تھا، اس پر سیکوریٹی گارڈ نے منیجر کو بلا لیا اور بات بڑے منیجروں تک گئی تو دافو کو نکالنے کا فیصلہ کیا گیا، دافو یہ کیس لے کر عدالت پہنچ گیا اور مؤقف اختیار کیا کہ مجھے غیر منصفانہ طریقہ سے نکالا گیا ہے، میں چونکہ شفٹ کے بعد تھکا ہوا تھا اور جہاں Till Machine پر بیگز کا آپشن تھا وہاں غلطی سے تعداد ڈالنے کے بجائے صفر ڈال دی جس کی بنا پر مجھے نکال دیا گیا، اب دیکھنے کو تو یہ کوئی بڑا جرم نہیں اور واقعی کسی سے آٹھ دس گھنٹے کی شفٹ کرنے کے بعد ایسی غلطی ہو سکتی ہے لیکن جن معاشروں نے ترقی کرنی ہوتی ہے یا جو ترقی کی منزل پر پہنچ چُکے ہوتے ہیں وہ ایسی غلطیوں کو بھی جانے نہیں دیتے ورنہ وہ جہاں ہیں وہاں نہ ہوتے، یہ تحریر لکھنے کا مقصد جج کے فیصلے میں لکھا ایک جملہ ہے کہ “ آپ نے بے ایمانی سے کام لیا اور آپ نے چوری کی” لہٰذا Sain’sbury آپ کو کام سے نکالنے میں حق بجانب ہے۔ 🔘 یہ ہے مغرب کی ترقی کا راز جہاں عدالتیں شواہد دیکھ کر انصاف کرتی ہیں، جہاں کوئی سفارش کام آتی ہے اور نہ کوئی سفارش کرتا ہے، حالانکہ سٹور کا سیکوریٹی گارڈ اور دافو ایک جگہ کام کرتے ہیں، روز ملتے اور ایک دوسرے سے بات کرتے اور جانتے بھی ہوں گے لیکن گارڈ نے صرف دو تین بیگز بھی نہیں جانے دیے اور دافو کو پکڑ کر منیجر کے پاس لے گیا۔ ہمارے ہاں لکڑ پتھر سب ہضم ہو جاتا ہے، ایک دوسرے کے جرائم چھپائے جاتے ہیں، قاتلوں تک کو سفارش کی سہولت میسر ہوتی ہے، قانون نافذ کرنے اور انصاف دینے والے ادارے مجرمان کو سہولت فراہم کرتے ہیں، سامنے سامنے کمزور کو مارا جاتا ہے اور لوگ تماشہ دیکھ رہے ہوتے ہیں، غرض ہر شعبے میں ایسا ہی ہوتا ہے۔ ایسے قومیں اور معاشرے کبھی ترقی نہیں کر پاتے۔معاشرے قانون کی حکمرانی اور عدل و انصاف سے قائم ہوتے ہیں ""جہاں چھوٹا بڑا جرم جرم ہی سمجھا جاتا ہے چاہے وہ دو تین پلاسٹک کے تھیلے ہی کیوں نہ ہوں۔"" 🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🔷 برے وقت سے اللہ بچائے رکھے 🔷 پرانے وقتوں کی بات ہے ایک گاؤں میں ایک آسودہ حال شخص رہا کرتا تھا اس کا جانوروں کا باڑہ تھا وہ جانوروں کا دودھ بیچتا، گھی، مکھن بیچتا۔ مال و دولت کی فراوانی تھی۔ پھر ایک دن اس کے جانوروں میں ایک ایسی بیماری آئی کہ ایک ایک کر کے سب جانور مر گئے وہ بہت پریشان ہوا وہ خوشحال تھا گھر میں کافی مال جمع تھا۔روزمرہ کے اخراجات کے لیے وہ مال استعمال ہونے لگا رفتہ رفتہ گھر کی تمام قیمتی اشیاء بک گئی اور بات فاقوں تک آگئی۔ وہ بہت پریشان تھا ایک دن اس کی بیوی نے اسے کہا کہ دوسرے گاوں کا سردار تمہارا دوست ہے تم اس کے پاس جاؤ اسے اپنی ہریشانی بتاو اور مدد کا کہو۔ یہ بات اس کے دل کو لگی اگلے ہی دن وہ صاف ستھرا لباس پہن کے دوسرے گاوں اپنے دوست سے ملنے چلا گیا اسکا دوست اسے دیکھ کے بہت خوش ہوا اس کی خوب آؤ بھگت کی اس شخص نے دوست سے کہا میں تمہارے پاس کسی کام سے آیا ہوں مجھے تمہاری مدد کی ضرورت ہے پھر اس نے اپنے تمام حالات کے بارے میں دوست کو بتایا۔ یہ سب سن کے دوست کہنے لگا کوئی مسئلہ نہیں میں تمہاری مدد ضرور کروں گا پھر اس نے اپنے ملازم کو آواز دی اور کہا میرے دوست کے لیے ایک بکری لے آو۔ اور اس شخص کو تاکید کی یہ بکری لے جاو اگر دوبارہ میری مدد کی ضرورت پڑے تو پھر میرے پاس چلے آنا۔ اس کے ساتھ اس نے اس شخص کے بیوی بچوں کے لیے کچھ تحائف بھی ساتھ کر دیے۔ وہ شخص کافی حیران ہوا کہ دوست علاقے کا سردار ہے اور مجھے صرف ایک بکری پہ ٹرخا رہا ہے۔خیر وہ بکری لے کے چپ چاپ گھر آ گیا اس کی بیوی بھی صرف ایک بکری دیکھ کے حیران ہوئی۔ وہ لوگ بکری کا دودھ نکال کے پیتے رہے کچھ دودھ بیچ دیتے کسی نا کسی حد تک بھوک مٹنے لگی ایک ماہ گزرا وہ بکری مر گئی دونوں میاں بیوی بہت پریشان ہوئے بیوی نے پھر یاد دلایا دوست نے کہا تھا ضرورت پڑے تو دوبارہ آ جانا۔ وہ پھر سے دوست کے پاس گیا دوست نے خوب آو بھگت کی مدعا پوچھا اس شخص نے بتایا کہ وہ بکری مر گئی دوست نے کہا کوئی مسئلہ نہیں ملازم کو بلایا ایک بکری اور منگوائی اور اس شخص کو باعزت طریقے سے اس تاکید کے ساتھ روانہ کیا کہ جب ضرورت پڑے میرے پاس چلے آنا۔ وہ شخص بکری لے کے گھر آیا بکری کا دودھ پیا اور بیچا کچھ عرصے بعد یہ بکری بھی مر گئی وہ پھر دوست کے پاس گیا مدعا بتایا دوست نے آو بھگت کی کھانا کھلایا ایک اور بکری اور تاکید کے ساتھ روانہ کیا۔ وہ گھر آیا بکری کا دودھ نکالا بیچا اس بار دودھ اتنا تھا کہ دودھ بیچ کے زیادہ اچھی رقم آنے لگی یہ شخص سمجھدار تھا اس نے بچت کر کے ایک اور بکری خرید لی اللہ نے اس کو برکت دی اس کے حالات بہتر ہونے لگے وہ جانور خریدنے لگا اس کے گھر خوشحالی پھر سے آنے لگی۔ ایک دن اس کی بیوی نے اسے یاد دلایا کہ یہ سب تمہارے دوست کی مدد کی وجہ سے ہوا ہے تم جاو اور اپنے دوست کا شکریہ ادا کر کے آو۔ اگلے دن وہ شخص تیار ہوا اور خوشی خوشی دوست کی طرف روانہ ہوگیا دوست اس کو دیکھ کے بہت خوش ہوا اس کی خوب آؤ بھگت کی اور آنے کا مدعا پوچھا اس نے دوست کا شکریہ ادا کیا اور اسے بتایا کہ اس کی مدد کی وجہ سے اس کے حالات پہلے سے بہت بہتر ہو گئے ہیں جس کے لیے وہ اسکا شکریہ ادا کرنے آیا ہے۔ یہ سن کے دوست بہت خوش ہوا اس نے اپنے ملازمین کو بلایا اور کہا کے باڑے سے 50 جانور کھولو اور اس شخص کے ساتھ جا کے اس کے گھر چھوڑ کے آؤ۔ وہ شخص بہت حیران ہوا کہ کہ جب شدید برا وقت تھا تو صرف ایک بکری اور جب حالات بہتر ہونے لگے ہیں تو 50 جانور اگر یہ پچاس جانور اس وقت دے دیتا تو وہ کب کا سنبھل چکا ہوتا اس سے رہا نہیں گیا دوست کے سامنے اس نے اہنے دل کی بات کر دی۔ یہ سن کے دوست مسکرایا اور کہنے لگا جب تم پہلی بار آئے تھے تو میں سمجھ گیا تھا تم پہ وقت برا ہے اس وقت میں تمہیں سو جانور بھی دیتا تو وہ سب بھی مر جاتے۔ اس لیے میں نے تمہیں ایک بکری دی تاکہ تمہارا گزارہ چلتا رہے۔ جب تک تمہارا برا وقت چلتا رہا میں تمہیں ایک بکری دیتا رہا۔ اب جب تمہارا برا وقت ٹل چکا ہے خوشحالی تمہارے دروازے پر پھر سے دستک دے رہی ہے تو میرا فرض ہے میں تماری مدد اپنی دوستی کے شایان شان کروں اب مجھے کوئی ڈر نہیں ہے یہ سب جانور تمہارے کام آئیں گے۔ یہ سن کے وہ شخص بہت خوش ہوا اور اپنے دوست کی حکمت کا قائل ہو گیا۔ منقول۔۔۔ 🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🔷 ابتدائی تعمیر روضہ امام حسینؑ 🔷 🔹پہلا مرحلہ سانحہ کربلا کے تین دن بعد تیرہ محرم 61 ہجری (13/10/680ء) کو امام سجاد علیہ السلام کے حکم اور دفن کی جگہوں کے ترتیب و تعین کے مطابق قبیلہ بنی اسد نے شہداء کربلا کی تدفین کا کام سرانجام دیا۔ قبیلہ بنی اسد کربلا کے اطراف میں ایک گاؤں میں آباد تھا۔ پہلی مرتبہ امام سجاد علیہ السلام کی زیر سرپرستی قبیلہ بنی اسد نے ان قبروں پر تعمیر کا کام کیا۔ اس قبیلے کے لوگوں نے کچھ جوڑ کے چار تنے امام حسین علیہ السلام کی قبر کے چاروں طرف گاڑ دیے اور ان کے اوپر کچھ پتوں سے بنی ہوئی چھت ڈال دی۔ 🔹 شہداء کربلا کی تدفین – پس منظر: 10 محرم 61 ہجری کو واقعۂ کربلا پیش آیا جس میں امام حسین علیہ السلام اور ان کے رفقاء کو شہید کر دیا گیا۔ دشمن کے لشکر نے ان کے جسموں کو دفن کرنے کی اجازت نہیں دی، بلکہ تین دن تک لاشیں بے گور و کفن میدان کربلا میں پڑی رہیں۔ 🔹 قبیلہ بنی اسد کا کردار: بنی اسد عرب کا ایک معروف قبیلہ تھا جو کربلا کے قریب سکونت پذیر تھا۔ 13 محرم کو جب دشمن کا لشکر چلا گیا تو امام زین العابدین علیہ السلام (جو بیماری کی وجہ سے کربلا کی جنگ میں شریک نہیں ہو سکے تھے) کربلا واپس آئے۔ امام سجاد علیہ السلام نے شہداء کی قبروں کی نشاندہی فرمائی اور تدفین کے انتظامات کی ہدایت دی۔ بنی اسد کے افراد نے امام کے ساتھ مل کر قبریں کھودیں اور ہر شہید کو الگ الگ دفن کیا۔ 🔹 امام حسینؑ کی قبر کو خاص انداز میں نمایاں کیا گیا: چار لکڑی کے ستون گاڑ کر اور ان پر پتوں کی چھت بنا کر قبر کی علامت رکھی گئی — یہ وہ منظر ہے جو تصویر میں دکھایا گیا ہے۔ 🔹 امام حسین علیہ السلام کی قبر کی نشاندہی: امام سجاد علیہ السلام نے اپنے والد گرامی کی قبر کو پہچاننے کے لیے خاص نشانیاں بتائیں، جیسے: نحر (گردن) کا نشان مخصوص جگہ جہاں امام کا جسم مبارک تھا اسی جگہ دفن کیا گیا اور قبر کی حفاظت کے لیے نشان لگائے گئے تاکہ لوگ اسے پہچان سکیں۔ 📚 حوالے: یہ واقعات شیعہ روایات میں معتبر کتب جیسے الارشاد (شیخ مفید)، نفس المهموم (شیخ عباس قمی) اور لُھوف (سید ابن طاؤس) میں تفصیل سے ملتے ہیں۔۔ 🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🔷 برے وقت سے اللہ بچائے رکھے 🔷 پرانے وقتوں کی بات ہے ایک گاؤں میں ایک آسودہ حال شخص رہا کرتا تھا اس کا جانوروں کا باڑہ تھا وہ جانوروں کا دودھ بیچتا، گھی، مکھن بیچتا۔ مال و دولت کی فراوانی تھی۔ پھر ایک دن اس کے جانوروں میں ایک ایسی بیماری آئی کہ ایک ایک کر کے سب جانور مر گئے وہ بہت پریشان ہوا وہ خوشحال تھا گھر میں کافی مال جمع تھا۔روزمرہ کے اخراجات کے لیے وہ مال استعمال ہونے لگا رفتہ رفتہ گھر کی تمام قیمتی اشیاء بک گئی اور بات فاقوں تک آگئی۔ وہ بہت پریشان تھا ایک دن اس کی بیوی نے اسے کہا کہ دوسرے گاوں کا سردار تمہارا دوست ہے تم اس کے پاس جاؤ اسے اپنی ہریشانی بتاو اور مدد کا کہو۔ یہ بات اس کے دل کو لگی اگلے ہی دن وہ صاف ستھرا لباس پہن کے دوسرے گاوں اپنے دوست سے ملنے چلا گیا اسکا دوست اسے دیکھ کے بہت خوش ہوا اس کی خوب آؤ بھگت کی اس شخص نے دوست سے کہا میں تمہارے پاس کسی کام سے آیا ہوں مجھے تمہاری مدد کی ضرورت ہے پھر اس نے اپنے تمام حالات کے بارے میں دوست کو بتایا۔ یہ سب سن کے دوست کہنے لگا کوئی مسئلہ نہیں میں تمہاری مدد ضرور کروں گا پھر اس نے اپنے ملازم کو آواز دی اور کہا میرے دوست کے لیے ایک بکری لے آو۔ اور اس شخص کو تاکید کی یہ بکری لے جاو اگر دوبارہ میری مدد کی ضرورت پڑے تو پھر میرے پاس چلے آنا۔ اس کے ساتھ اس نے اس شخص کے بیوی بچوں کے لیے کچھ تحائف بھی ساتھ کر دیے۔ وہ شخص کافی حیران ہوا کہ دوست علاقے کا سردار ہے اور مجھے صرف ایک بکری پہ ٹرخا رہا ہے۔خیر وہ بکری لے کے چپ چاپ گھر آ گیا اس کی بیوی بھی صرف ایک بکری دیکھ کے حیران ہوئی۔ وہ لوگ بکری کا دودھ نکال کے پیتے رہے کچھ دودھ بیچ دیتے کسی نا کسی حد تک بھوک مٹنے لگی ایک ماہ گزرا وہ بکری مر گئی دونوں میاں بیوی بہت پریشان ہوئے بیوی نے پھر یاد دلایا دوست نے کہا تھا ضرورت پڑے تو دوبارہ آ جانا۔ وہ پھر سے دوست کے پاس گیا دوست نے خوب آو بھگت کی مدعا پوچھا اس شخص نے بتایا کہ وہ بکری مر گئی دوست نے کہا کوئی مسئلہ نہیں ملازم کو بلایا ایک بکری اور منگوائی اور اس شخص کو باعزت طریقے سے اس تاکید کے ساتھ روانہ کیا کہ جب ضرورت پڑے میرے پاس چلے آنا۔ وہ شخص بکری لے کے گھر آیا بکری کا دودھ پیا اور بیچا کچھ عرصے بعد یہ بکری بھی مر گئی وہ پھر دوست کے پاس گیا مدعا بتایا دوست نے آو بھگت کی کھانا کھلایا ایک اور بکری اور تاکید کے ساتھ روانہ کیا۔ وہ گھر آیا بکری کا دودھ نکالا بیچا اس بار دودھ اتنا تھا کہ دودھ بیچ کے زیادہ اچھی رقم آنے لگی یہ شخص سمجھدار تھا اس نے بچت کر کے ایک اور بکری خرید لی اللہ نے اس کو برکت دی اس کے حالات بہتر ہونے لگے وہ جانور خریدنے لگا اس کے گھر خوشحالی پھر سے آنے لگی۔ ایک دن اس کی بیوی نے اسے یاد دلایا کہ یہ سب تمہارے دوست کی مدد کی وجہ سے ہوا ہے تم جاو اور اپنے دوست کا شکریہ ادا کر کے آو۔ اگلے دن وہ شخص تیار ہوا اور خوشی خوشی دوست کی طرف روانہ ہوگیا دوست اس کو دیکھ کے بہت خوش ہوا اس کی خوب آؤ بھگت کی اور آنے کا مدعا پوچھا اس نے دوست کا شکریہ ادا کیا اور اسے بتایا کہ اس کی مدد کی وجہ سے اس کے حالات پہلے سے بہت بہتر ہو گئے ہیں جس کے لیے وہ اسکا شکریہ ادا کرنے آیا ہے۔ یہ سن کے دوست بہت خوش ہوا اس نے اپنے ملازمین کو بلایا اور کہا کے باڑے سے 50 جانور کھولو اور اس شخص کے ساتھ جا کے اس کے گھر چھوڑ کے آؤ۔ وہ شخص بہت حیران ہوا کہ کہ جب شدید برا وقت تھا تو صرف ایک بکری اور جب حالات بہتر ہونے لگے ہیں تو 50 جانور اگر یہ پچاس جانور اس وقت دے دیتا تو وہ کب کا سنبھل چکا ہوتا اس سے رہا نہیں گیا دوست کے سامنے اس نے اہنے دل کی بات کر دی۔ یہ سن کے دوست مسکرایا اور کہنے لگا جب تم پہلی بار آئے تھے تو میں سمجھ گیا تھا تم پہ وقت برا ہے اس وقت میں تمہیں سو جانور بھی دیتا تو وہ سب بھی مر جاتے۔ اس لیے میں نے تمہیں ایک بکری دی تاکہ تمہارا گزارہ چلتا رہے۔ جب تک تمہارا برا وقت چلتا رہا میں تمہیں ایک بکری دیتا رہا۔ اب جب تمہارا برا وقت ٹل چکا ہے خوشحالی تمہارے دروازے پر پھر سے دستک دے رہی ہے تو میرا فرض ہے میں تماری مدد اپنی دوستی کے شایان شان کروں اب مجھے کوئی ڈر نہیں ہے یہ سب جانور تمہارے کام آئیں گے۔ یہ سن کے وہ شخص بہت خوش ہوا اور اپنے دوست کی حکمت کا قائل ہو گیا۔ منقول۔۔۔ 🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🔶 نامحرم سے شوخی کا انجام 🔶 مشہد کے ایک عالم دین فرماتے ہیں کہ ایک دن ہم مرحوم حجت الاسلام سید یونس اردبیلی کے محضر میں تشریف فرما تھے، ایک جوان آیا اور مسئلہ پوچھا کہ میں نے دو روز قبل اپنی ماں کو دفن کیا ہے، جس وقت میں نے انہیں دفن کیا اور چاہا کہ انکے چہرے کو خاک پر رکھوں میرا ایک چھوٹا بیگ جسمیں میرے ضروری کاغذات، پیسے اور چیک موجود تھے، وہ بیگ قبر میں گر گیا۔ کیا مجھے اجازت ہے کہ میں نبشِ قبر کے ذریعہ وہ بیگ لے سکوں۔ اور تقاضا کیا کہ قبرستان کے اِنچارج کو خط لکھ کر نبش قبر کی اجازت لی جائے۔ انہوں نے اجازت دی کہ صرف اس حصے کو کھودا جائے جہاں اس بیگ کے ہونے کا امکان ہے۔ چند روز بعد اس جوان کو دوبارہ آقا اردبیلی کے گھر پر دیکھا۔ آقا نے پوچھا کہ کیا تمہارا کام ہو گیا؟ کیا وہ بیگ مل گیا؟ وہ جوان غمگین اور پریشان ہوا اور جواب نہ دیا۔ کافی اصرار کے بعد اس نے کہا: جس وقت قبر کو کھولا، ایک سیاہ سانپ میری والدہ کے گردن میں لپٹا ہوا تھا اور اسکا منہ میری ماں کے منہ کے اندر تھا اور مسلسل انہیں ڈس رہا تھا۔ وہ منظر اس قدر وحشتناک تھا کہ میں نے فورا قبر کو بند کر دیا۔ سوال ہوا کہ تمہاری ماں سے کونسا برا کام سرزد ہوا؟ کہا: مجھے کچھ اندازہ نہیں ہے لیکن میرے والد ہمیشہ میری ماں کو سرزنش کرتے تھے کیونکہ وہ نامحرم سے کوئی لحاظ نہیں کرتی تھیں۔ کھلے سر و صورت کے ساتھ وہ نامحرم سے روبرو ہو جاتی تھیں اور بے پرواہی کے ساتھ ان سے بات کر لیتی تھیں اور شرعی حجاب کی رعایت نہیں کرتی تھیں۔ نامحرم سے شوخی اور مذاق کر لیتی تھیں۔ اسی وجہ سے میرے والد ہمیشہ انہیں سرزنش اور ملامت کرتے تھے۔ 🔘 حضرت رسول اکرم صلی الله علیه و آله وسلم فرماتے ہیں۔۔۔ ایک گروہ جو وارد جہنم ہوگا وہ، وہ بے پردہ اور بدحجاب عورتیں ہونگی جو دنیا میں مردوں کے فریب اور فتنہ کے لئے خود کو زینت دیتی تھیں۔ 📚 کنزالعمال، ج16، ص 383۔ 🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

گھٹیا لوگوں سے پرہیز کرو
گھٹیا لوگوں سے پرہیز کرو