fa
Feedback

فریب کلاهبرداران را نخورید! تل‌متریو این کانال‌ها را شناسایی و برچسب‌گذاری می‌کند 👉 برای مشاهده برچسب، اشتراک تهیه کنید

ISLAM WITH EMAN

ISLAM WITH EMAN

رفتن به کانال در Telegram

اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات... ایڈمن سے رابطہ کیلئے: @syedsajjadhamdani

نمایش بیشتر
1 284
مشترکین
-124 ساعت
-37 روز
-730 روز
آرشیو پست ها
photo content

photo content

🔷 ھلاکو خان کی موت 🔷 ھلاکو خان کی موت کا عبرت انگیز واقعہ۔۔ دنیا کا ظالم و وحشی ترین انسان ہلاکو خان اپنے گھوڑے پہ شان سے بیٹھا ہوا تھا، چاروں طرف تاتاری افواج کی صفیں کھڑی تھی، سب سے آگے ہلاکو خان کا گھوڑا تھا، ہلاکو خان کے سامنے قیدی مسلمانوں کی تین صفیں کھڑی کی گئی تھیں، جنکو کو آج ہلاکو خان نے اپنے حکم پر قتل ہوتے دیکھنا تھا ، پھر وہ ظالم بولا، انکے سر قلم کردو! اور جلاد نے لوگوں کے سر کاٹنے شروع کردئیے، پہلی صف میں ایک کی گردن گئی دوسرے کی گردن گئی، تیسرے چوتھے کی، پہلی صف میں ایک بےقصور بوڑھا غریب قیدی جوکہ اپنے گھر کا واحد کفیل، بھی کھڑا تھا، وہ موت کے ڈر کی وجہ سے دوسری صف میں چلا گیا، پہلی صف کا مکمل صفایا ہوگیا ، ہلاکو خان کی نظروں نے اس بوڑھے کو دیکھ لیا تھا کہ وہ موت کے خوف سے اپنی پہلی صف چھوڑ کر دوسرے صف میں چلا گیا تھا، ہلاکو خان گھوڑے پہ بیٹھا ہوا ہاتھ میں طاقتور گرز لیے اچھال کر اس سے کھیل رہا تھا اور مسلمان عں کے قتل کا منظر دیکھ کر اس کھیل سے خود کو خوش کررہا تھا ، جلادوں نے دوسری صف پہ تلوار کے وار شروع کیے ، گردنیں آن کی آن میں گرنے لگیں ، جلاد تلوار چلا رہے تھے اور خون کے فوارے اچھل اچھل کر زمین پہ گررہے تھے، اس بوڑھے بابا نے جب دیکھا کہ دوسری صف کے لوگوں کی گردنیں کٹ کر اس کی باری بہت جلد آنے والی ہے تو وہ بھاگ کر تیسری صف میں کھڑا ہوگیا، ہلاکو خان کی نظریں بوڑھے پہ جمی ہوئی تھی کہ اب تو تیسری صف آخری ہے اسکے بعد یہ کہاں چھپنے کی کوشیش کرے گا ؟ اس بیوقوف بڈھے کو میری تلوار سے کون بچا سکتا ہے، میں نے لاکھوں انسان مار دیئے تو یہ کب تک بچے گا ؟ تیسری صف پہ جلادوں کی تلوار بجلی بن کر گر رہی تھی، ہلاکو خان کی نظریں مسلسل اس بوڑھے پہ تھی کہ کیسے وہ بے چین ہوکر موت کی وجہ سے بے قرار ہے، تیسری صف کے انسانوں کی گردنیں گررہی تھی، جلاد بجلی کی سی تیزی سے اس بوڑھے بابا کو پہنچا تو ہلاکو خان کی آواز گونجی ، رک جاو! اس کو ابھی کچھ نہ کہو ، بابا بتا پہلی صف سے تو دوسری صف میں بھاگ آیا، جب وہ ختم ہوئی تو تو تیسری صف میں بھاگ آیا، بابا اب بتا، پیچھے تو کوئی اور صف بھی نہیں اب تو بھاگ کی کہاں جائیگا، اب تجھے مجھ سے کون بچائے گا ؟ اس بوڑھے نے آسمان کی طرف دیکھا اور کہا، میں نے پہلی صف کو اسلیے چھوڑا کہ شاید میں دوسرے میں بچ جاو، لیکن موت وہاں بھی پہنچی، پھر میں دوسری صف کو چھوڑ دیا، کہ شاید تیسری میں بچ جاؤں ، ہلاکو نے گرز کو ہاتھ میں اچھالتے ہوے کہا بابا کیسی حام خیالی ہے یہ کیسی بہکی باتیں کررہے ہو بھلا تمہیں میری تلوار سے بھی کوئی بچا سکتا ہے؟ بوڑھے مسلمان نے زمین وآسمان کی ہر چیز کے مالک اس واحد لاشریک رب پر بےانتہا یقین کے ساتھ کہا، وہ اوپر والی ذات اگر چاہے تو کچھ بھی ہوسکتا ہے اور اگر وہ چاہے تو مجھے تجھ سے بچا سکتا ہے ، کیسے بچا سکتا ہے؟ ہلاکو خان نے اتنے تکبر میں آکر کہا کہ اسکے ہاتھ سے گرز گر پڑا ، ہلاکو خان چابک دست ہوشیار جنگجو اور چالاک انسان تھا، ہلاکو خان گھوڑے کے اوپر بیٹھے بیٹھے گرے ہوئے گرز کو اٹھانے کے لیے خود کو جھکایا کہ زمین پہ گرنے سے پہلے وہ اسے ہوا میں ہی پکڑ لے، اسی کوشیش میں ہلاکو خان کا ایک پاوں رکاب سے نکلا اور وہ اپنے گھوڑے سے نیچے آپڑا، جبکہ دوسرا پاؤں رکاب میں ہی پھنس کر رہ گیا ، ہلاکو خان کا گھوڑا اتنا ڈر گیا کہ بھاگ نکلا، ہلاکو نے خود کو بچانے کی بڑی کوشیش کی، لشکر بھی حرکت میں آگیا لیکن گھوڑا اتنا طاقتور تھا کہ کسی کے قابو میں نہ آیا، وہ ہلاکو کو پتھروں میں گھسیٹ گھسیٹ کر بھاگتا رہا، یہاں تک کہ ہلاکو کا سر پتھروں سے پٹخ پٹخ کر اسقدر لہولہان ہوگیا کہ اس کی روح چند ہی منٹوں میں اپنے اس تکبر بھرے وجود کو چھوڑ کر جہنم رسید ہوگئی ، لشکر نے جب بےانتہا کوششوں کے بعد ہلاکو خان کے طاقتور گھوڑے کو قابو کیا تو اس وقت تک اسکا سر برے طریقے سے کچلا جاچکا تھا ، ہلاکو کا لشکر اس بوڑھے بزرگ سے اتنا خوفزداہ ہوگیا کہ لشکر نے اسے جان بوجھ کر نظر انداز کردیا اور وہ بابا بڑے آرام وسکون سے پیدل ہی اپنے گھر کیطرف چل پڑا ٬ 🔘 مظلوم کی آہ سے ڈرو کیونکہ جب وہ اللہ سے رجوع کرتا ہے تو قبولیت بہت دور سے اسکا استقبال کرنے آتی ہے! 👈 یہ تحریر تمام اہل ایمان خصوصاً قانون و انصاف کے رکھوالوں کے لئے ہے.....!!! 🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

پانی کا صدقہ
پانی کا صدقہ

بہترین سخاوت
بہترین سخاوت

صدقہ پر پہلا حق
صدقہ پر پہلا حق

photo content

photo content

چار چیزیں جو مثبت ہیں مگر وہ ویلیو ڈاون کرتی ہیں 1. جب کوئی ہمارا شکریہ ادا کرئے اور ہم اسے وصول کرنے کے بجائے غیر ضروری عاجزی دیکھائیں کہ نہیں کوئی بات نہیں یہ کون سا بڑی بات ہے ایسا تو سب کرتے ہیں۔ Not a big deal اس سے لوگ واقعی یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ ہاں ایسی بھی کوئی بڑی بات نہیں۔ جب کوئی شکریہ کہے تو اسے کہیں So nice of you 🙂 2. جب کوئی ہماری یا ہماری کسی چیز کی تعریف کرئے اور ہم اسے سچ بتانا ضروری سمجھیں۔ جیسے ارے یہ تو چیز تو بہت سستی لی ہے پتہ ہے کتنے کی لی۔۔۔۔۔۔؟ ارے نہیں سمارٹ نہیں ہوئی آؤٹ فٹ ایسا ہے وغیرہ وغیرہ ہم ایسا انکساری میں کرتے ہیں مگر لوگ ہمیں ہلکا سمجھتے ہیں کیوںکہ ہم نے اپنا بھرم خود کھویا ہے 2. غیر ضروری معذرتیں کرنا بات بے بات سوری بولنا ویلیو ڈاون کرتا ہے۔ جہاں غلطی ہو وہاں ضرور معذرت کریں مگر ہر وقت ہر جگہ صرف معاملہ رفع دفع کروانے یا دوسرے کی انا کو تسکین دینے کے لیے معافی نا مانگیں۔ 3. ہر وقت دستیاب رہنا۔ جو شخص ہر وقت دستیاب رہتا ہے لوگ اسے فارغ سمجھتے ہیں اس کے وقت اور کام کی قدر نہیں کرتے۔ جب ہم خود اپنے وقت کی اہمیت کو نہیں سمجھیں گے اور دوسروں کو نہیں سمجھائیں گے کہ ہمارا وقت قیمتی ہے ایک پکار پہ بھاگے چلے آئیں گے اور یس سر ولا رویہ اپنائیں گے تو کچھ عرصے میں لوگ ہمیں for granted لینا شروع کر دیں گے۔ اس خوش فہمی میں مت رہیں کہ لوگوں نے ہمیں پکارا اسقابل سمجھا تو بلایا بعض مرتبہ لوگ اس لیے بھی فوری پکارتے ہیں کہ وہ سمجھتے ہیں ہم ہی فارغ ہیں باقی مصروف ہیں۔ قربانیاں اتنی دیں جتنی کی ضرورت ہو۔ 4. منع کرنا نا سیکھنا۔ لوگوں کے کام ضرور آئیں مگر ان کے ہاتھوں استعمال مت ہوں صاف صاف منع کرنا سیکھیں زبان سے، اگنورنس سے، باڈی لینگویج سے، چہرے کے تاثرات سے۔ جب لگے کہ بندے کے پاس اپنے لیے کافی ریسورسز موجود ہیں مگر وہ انہیں استعمال کرنے کے بجائے بار بار آپ کو کام کہہ رہا ہے۔ جیسے اکثر لوگ اپنے بچوں کو کام کہنے کے بجائے دوسروں کو گرمی سردی میں کام بتا کے دوڑاتے رہتے ہیں یا اپنے پاس سواری موجود ہوگی مگر دوسرے کی کندھوں پہ سوار رہیں گے جن کی اپنی اولادیں سکون کر رہی ہوں اور وہ دوسروں کو کام بتا رہے ہوں وغیرہ وغیرہ ایسوں کو منع کرنا سیکھیں۔ ان کو بتائیں آپ کا وقت بھی قیمتی ہے اور یہ کہ آپ استعمال کے لیے نہیں ہیں۔ لوگوں کو بندوق چلانے کے لیے اپنا کندھا ہرگز مہیا نا کریں۔ 🔷🔷🔷🔷🔷

ایسے پانچ لوگوں سے کبھی بحث نہ کریں — اپنا وقت اور سکون ضائع مت کریں: 1۔ ضدی شخص: جو صرف اپنی رائے کو درست سمجھتا ہے، دوسروں کی بات کو بغیر سمجھے رد کر دیتا ہے۔ نہ دلیل سنتا ہے، نہ کسی مشورے کو اہمیت دیتا ہے۔ 2۔ خود کو عقل کل سمجھنے والا: جو ہر وقت یہ تاثر دیتا ہے کہ اسے سب معلوم ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اس کے علم کی بنیاد کھوکھلی ہوتی ہے۔ 3۔ غصے میں رہنے والا: جو معمولی بات کو بھی اپنی انا کا مسئلہ بنا کر جھگڑے پر آمادہ ہو جاتا ہے۔ 4۔ نفرت کرنے والا: جو آپ کی سچائی کو بھی جھوٹ اور آپ کی نیت کو بھی شک کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ جس کے دل میں بغض ہو، اس سے کوئی دلیل کامیاب نہیں ہو سکتی۔ 5۔ مغرور انسان: جو نہ کسی کی بات سننے کو تیار ہوتا ہے، نہ سمجھنے کو۔ نہ مشورہ چاہیے ہوتا ہے نہ سچائی کی قدر۔ یاد رکھیں: ایسے لوگوں کے ساتھ بحث محض وقت اور توانائی کا زیاں ہے۔ خاموشی ہی ان کا سب سے بہترین جواب ہے۔ اﻟﻠَّﻬُﻢَّ ﺻَﻞِّ ﻋَﻠٰﻰ ﻣُﺤَﻤَّﺪٍ ﻭﺁﻝِ ﻣُﺤَﻤَّﺪٍ ﻭﻋَﺠِّﻞْ ﻓَﺮَﺟَﻬُﻢْ 🔷🔷🔷🔷🔷

دریائے سندھ دریائے سندھ جنوبی ایشیا کا سب سے بڑا دریا جو دنیا کے بڑے دریاؤں میں سے ایک ہے۔ اس کی لمبائی 2000 ہزار میل (3200 کلومیٹر) ہے۔ اس کا مجموعی نکاسی آب کا علاقہ 450,000 مربع میل (1,165,000 مربع کلومیٹر) ہے۔ جس میں سے یہ پہاڑی علاقہ ( قراقرم، ہمالیہ اور ہندوکش) میں 175,000 مربع میل (453,000 مربع کلومیٹر) بہتا ہے اور باقی پاکستان کے میدانوں میں بہتا ہے۔ چینی علاقے تبت میں ہمالیہ کا ایک ذیلی پہاڑی سلسلہ کیلاش ہے۔ کیلاش کے بیچوں بیچ کیلاش نام کا ایک پہاڑ بھی ہے جس کے کنارے پر جھیل مانسرور ہے۔ جسے دریائے سندھ کا منبع مانا جاتا ہے۔ اس جھیل میں سے دریائے سندھ سمیت برصغیر میں بہنے والے 4 اہم دریا نکلتے ہیں۔ ستلج ہاتھی کے منہ سے نکل کر مغربی سمت میں بہتا ہے۔ گنگا مور کی چونچ سے نکل کر جنوبی سمت میں بہتا ہے۔ برہم پتر گھوڑے کے منہ سے نکل کر مشرقی سمت میں بہتا ہے۔ اور دریائے سندھ شیر کے منہ سے نکل کر شمالی سمت میں بہتا ہے۔ دریائے سندھ ایک زمانے تک دریائے سندھ کی تحقیق جھیل مانسرور تک ہی سمجھی جاتی رہی۔ حتی کہ 1811 میں ولیم مور کرافٹ نے اس علاقے میں جا کر بتایا کہ سندھ کا نقطہ آغاز جھیل مانسرو نہیں بلکہ جھیل میں جنوب سے آ کر ملنے والی ندیاں ہیں۔ اسی نظریہ پر مزید تحقیق کرتے ہوئے سیون ہیڈن 1907ء میں جھیل سے 40 کلومیٹر اوپر سنگی کباب یا سینگے کباب کے علاقے میں جا پہنچا۔ جہاں بہنے والی ندی گارتنگ یا گارتانگ ہی جھیل مانسرو کو پانی مہیا کرتی ہے۔ اس لیے گارتنگ ندی دریائے سندھ کا نقطہ آغاز ہے۔ سنگی کباب کا مطلب ہے شیر کے منہ والا۔ اسی مناسبت سے دریائے سندھ کو شیر دریا کہا جاتا ہے۔ گارتنگ ندی شمال مغربی سمت سے آکر جھیل مانسرو میں ملتی ہے۔ یہاں سے دریا لداخ کی سمت اپنا سفر شروع کرتا ہے۔ دریا کے شمال میں قراقرم اور جنوب میں ہمالیہ کے سلسلے ہیں۔ وادی نیبرا کے مقام پر سیاچن گلیشیئر کے پانیوں سے بننے والا دریا نیبرا اس میں آکر ملتا ہے۔ یہاں تک دریا کی لمبائی تقریباً 450 کلومیٹر ہے۔ پھر دریائے سندھ پاکستانی علاقے بلتستان میں داخل ہوجاتا ہے۔ دریائے سندھ پاکستان میں داخل ہوتے ہی سب سے پہلے دریائے شیوک اس میں آ کر ملتا ہے پھر 30 کلومیٹر مزید آگے جا کر سکردو شہر کے قریب دریائے شیگر اس میں آ گرتا ہے۔ مزید آگے جا کر ہندوکش کے سائے میں دریائے گلگت اس میں ملتا ہے اور پھر نانگاپربت سے آنے والا استور دریا ملتا ہے۔ اونچے پہاڑیوں سے جیسے ہی دریائے سندھ نشیبی علاقے میں داخل ہوتا ہے۔ تربیلا کے مقام پر ایک بہت بڑی دیوار بنا کر اسے ڈیم میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ یہ ہے تربیلا ڈیم۔ تھوڑا سا آگے جا کر جرنیلی سڑک کے پاس آٹک کے مقام پر دریائے کابل اس میں آ ملتا ہے۔ دریائے سندھ کا سفر پوٹھوہاری پہاڑی علاقے سے چلتا ہوا کالا باغ تک جاتا ہے۔ کالاباغ وہ مقام ہے جہاں سے دریائے سندھ کا پہاڑی سفر ختم ہوکر میدانی سفر شروع ہوتا ہے۔ کالا باغ کے ہی مقام پر دریائے سواں سندھ میں ملتا ہے۔ تھوڑا سا آگے مغربی سمت سے آنے والا کرم دریا اس میں شامل ہوتا ہے۔ مزید آگے جاکر کوہ سلیمان سے آنے والا گومل دریا دریائے سندھ میں شامل ہوتا ہے۔ مظفرگڑھ سے تھوڑا آگے جا کر پنجند کا مقام آتا ہے جہاں پنجاب کے پانچوں دریا جہلم، چناب، راوی، ستلج، بیاس آپس میں مل کر دریائے سندھ میں سما جاتے ہیں۔ گڈو سے سندھ جنوبی سمت میں بہتا ہے۔ سکھر شہر کے بیچ سے اور لاڑکانہ اور موئن جو دڑو کے مشرق سے گزرتا ہوا سہون کی پہاڑیوں تک آتا ہے۔ حیدرآباد کے پہلو سے گذر کر ٹھٹھہ کے مشرق سے گذر کر کیٹی بندر میں چھوٹی چھوٹی بہت ساری شاخوں میں تقسیم ہو کر بحیرہ عرب میں شامل ہوجاتا ہے۔[2][3][4] اس دریا کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ اس کے نام پر سندھ اور ہندوستان یا کا نام انڈیا پکارا گیا ہے۔ خیبر پختون خواہ میں اس دریا کو ابا سین یعنی دریاؤں کا باپ کہتے ہیں جو ضلع صوابی کے تحصیل چھوٹا لاہور کے ایک گاؤں ہنڈ سے گذرا ہے۔ اسی دریا کے کنارے آریاؤں نے اپنی مقدس کتاب رگ وید لکھی تھی۔ رگ وید میں اس دریا کی تعریف میں بہت سارے اشلوک ہیں۔ یہ برصغیر کا واحد دریا ہے جس کی ہندو پوجا کرتے ہیں اور یہ اڈیرو لال اور جھولے لال بھی کہلاتا ہے۔ اس دریا کے کنارے دنیا کی ایک قدیم ترین تہذیبوں میں سے ایک منفرد تہذیب نے جنم لیا تھا۔ قدیم زمانے میں اس دریا کو عبور کرنے بعد ہی وسط ایشیا سے برصغیر میں داخل ہو سکتے تھے۔ یہ دریا اپنی تند خوئی اور خود سری کی وجہ سے بھی اسے شیر دریا بھی کہا جاتا ہے۔ 🔷🔷🔷🔷🔷

57 روپیہ تولہ سے 3 لاکھ 65 ہزار روپیہ تولہ تک سونے کی قدر کا سفر۔ جو اس پیلی دھات نے 1947 سے اب 2025 تک طے کیا۔ In 1947 ~ 1 Tola Gold = PKR 57 In 1952 ~ 1 Tola Gold = PKR 87 In 1953 ~ 1 Tola Gold = PKR 91 In 1954 ~ 1 Tola Gold = PKR 97 In 1955 ~ 1 Tola Gold = PKR 103 In 1956 ~ 1 Tola Gold = PKR 107 In 1957 ~ 1 Tola Gold = PKR 111 In 1958 ~ 1 Tola Gold = PKR 114 In 1959 ~ 1 Tola Gold = PKR 133 In 1960 ~ 1 Tola Gold = PKR 131 In 1961 ~ 1 Tola Gold = PKR 135 In 1962 ~ 1 Tola Gold = PKR 135 In 1963 ~ 1 Tola Gold = PKR 124 In 1964 ~ 1 Tola Gold = PKR 132 In 1965 ~ 1 Tola Gold = PKR 123 In 1966 ~ 1 Tola Gold = PKR 134 In 1967 ~ 1 Tola Gold = PKR 138 In 1968 ~ 1 Tola Gold = PKR 138 In 1969 ~ 1 Tola Gold = PKR 176 In 1970 ~ 1 Tola Gold = PKR 154 In 1971 ~ 1 Tola Gold = PKR 177 In 1972 ~ 1 Tola Gold = PKR 246 In 1973 ~ 1 Tola Gold = PKR 432 In 1974 ~ 1 Tola Gold = PKR 562 In 1975 ~ 1 Tola Gold = PKR 714 In 1976 ~ 1 Tola Gold = PKR 535 In 1977 ~ 1 Tola Gold = PKR 597 In 1978 ~ 1 Tola Gold = PKR 714 In 1979 ~ 1 Tola Gold = PKR 1,230 In 1980 ~ 1 Tola Gold = PKR 2,250 In 1981 ~ 1 Tola Gold = PKR 1,920 In 1982 ~ 1 Tola Gold = PKR 1,636 In 1983 ~ 1 Tola Gold = PKR 2,244 In 1984 ~ 1 Tola Gold = PKR 2,156 In 1985 ~ 1 Tola Gold = PKR 2,123 In 1986 ~ 1 Tola Gold = PKR 2,478 In 1987 ~ 1 Tola Gold = PKR 3,300 In 1988 ~ 1 Tola Gold = PKR 3,478 In 1989 ~ 1 Tola Gold = PKR 3,275 In 1990 ~ 1 Tola Gold = PKR 3,320 In 1991 ~ 1 Tola Gold = PKR 3,705 In 1992 ~ 1 Tola Gold = PKR 3,345 In 1993 ~ 1 Tola Gold = PKR 4,127 In 1994 ~ 1 Tola Gold = PKR 4,700 In 1995 ~ 1 Tola Gold = PKR 4,722 In 1996 ~ 1 Tola Gold = PKR 5,500 In 1997 ~ 1 Tola Gold = PKR 5,100 In 1998 ~ 1 Tola Gold = PKR 6,150 In 1999 ~ 1 Tola Gold = PKR 6,100 In 2000 ~ 1 Tola Gold = PKR 6,150 In 2001 ~ 1 Tola Gold = PKR 6,550 In 2002 ~ 1 Tola Gold = PKR 7,200 In 2003 ~ 1 Tola Gold = PKR 8,300 In 2004 ~ 1 Tola Gold = PKR 9,500 In 2005 ~ 1 Tola Gold = PKR 10,600 In 2006 ~ 1 Tola Gold = PKR 13,500 In 2007 ~ 1 Tola Gold = PKR 15,200 In 2008 ~ 1 Tola Gold = PKR 23,500 In 2009 ~ 1 Tola Gold = PKR 29,500 In 2010 ~ 1 Tola Gold = PKR 38,500 In 2011 ~ 1 Tola Gold = PKR 54,700 In 2012 ~ 1 Tola Gold = PKR 63,300 In 2013 ~ 1 Tola Gold = PKR 49,500 In 2014 ~ 1 Tola Gold = PKR 47,000 In 2015 ~ 1 Tola Gold = PKR 44,450 In 2016 ~ 1 Tola Gold = PKR 49,800 In 2017 ~ 1 Tola Gold = PKR 56,200 In 2018 ~ 1 Tola Gold = PKR 68,000 In 2019 ~ 1 Tola Gold = PKR 70,700 In 2020~ 1 Tola Gold = PKR 113,700 In 2021~ 1 Tola Gold = PKR 125,900 In 2022 ~ 1 Tola Gold = PKR 127,000 In 2023 ~ 1 Tola Gold = PKR 206,500 In 2024 ~ 1 Tola Gold = PKR 252,500 In 2025 as of 20 Feb - PKR 308,000 In 2025 as of 23 Apr - PKR 365,000 https://t.me/islamwitheman/6167

Gold
Gold

photo content

photo content

🔷 دعاؤں کا دیر سے قبول ہونا 🔷 کیا آپ جانتے ہیں کہ حضرت یوسفؑ نے پانچ مرتبہ دعا کی، مگر اللہ نے فوراً قبول نہ کی؟ اور کیا آپ جانتے ہیں کہ انہوں نے کتنی بار یہ محسوس کیا ہوگا کہ اللہ نے انہیں چھوڑ دیا؟ 1️⃣ انہوں نے دعا کی کہ اللہ انہیں کنویں سے نکالے، جب ان کے بھائیوں نے انہیں اس میں پھینک دیا اور وہ ان سے رحم کی بھیک مانگتے رہے، مگر کوئی فائدہ نہ ہوا۔ اگر اللہ انہیں فوراً نکال دیتا، تو ان کے بھائی واقعی انہیں قتل کر دیتے، جیسا کہ وہ چاہتے تھے۔ 2️⃣ انہوں نے دعا کی کہ اللہ انہیں اسماعیلی قبیلے کے قافلے سے بچا لے، جنہوں نے انہیں غلام بنا کر بیچ دیا۔ اگر اللہ انہیں بچا لیتا، تو وہ تنہا صحرا میں بھٹکتے رہتے، بے یار و مددگار۔ 3️⃣ انہوں نے دعا کی کہ اللہ ان پر لگے جھوٹے الزام سے فوراً بری کر دے، جو عزیز مصر کی بیوی نے ان پر لگایا تھا۔ اگر ایسا ہو جاتا، تو وہ ہمیشہ ایک غلام ہی رہتے اور قید خانے نہ جاتے، جہاں ان کی ملاقات فرعون کے ساقی سے ہوئی۔ 4️⃣ انہوں نے دعا کی کہ اللہ انہیں قید سے فوراً نجات دے۔ اگر ایسا ہو جاتا، تو وہ واپس عزیز مصر کے گھر ایک آزاد غلام کے طور پر چلے جاتے، مگر انہیں بادشاہ سے ملنے کا موقع نہ ملتا۔ 5️⃣ انہوں نے ساقی سے کہا کہ وہ فرعون کو ان کا ذکر کرے، تاکہ وہ رہا ہو سکیں۔ اگر ساقی فوراً بتا دیتا، تو بادشاہ شاید انہیں رہا کر دیتا اور وہ مصر میں ایک عام آدمی کی طرح روزگار کی تلاش میں گھومتے پھرتے، یا شاید اپنے والد کے پاس واپس جا کر ایک عام کسان بن جاتے۔ یہ وہ دعائیں تھیں جو فوراً قبول نہ ہوئیں، کیونکہ اللہ کے پاس ان کے لیے ایک بہتر منصوبہ تھا۔ تو کیا آپ اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں ان دعاؤں پر جو قبول نہیں ہوئیں، کیونکہ وہ آپ کے لیے کچھ بہتر تیار کر رہا ہے؟ شیطان کو اپنے دماغ سے یہ کھیل نہ کھیلنے دیں کہ "اللہ آپ کی نہیں سنتا، آپ سے بے پرواہ ہے، وہ آپ کو سکون نہیں دینا چاہتا اور آپ کو چھوڑ دیا ہے۔ "اللہ نے ہم میں سے کسی کو بھی نہیں چھوڑا، اگر آپ ہر لمحے میں اپنی حفاظت کے امکانات پر غور کریں، صبح اٹھنے سے لے کر رات سونے تک، تو آپ کو ہر لمحے اللہ کی رحمت نظر آئے گی، کہ وہ آپ کے ساتھ ہے، آپ کو سنبھال رہا ہے، اور آپ کو بہترین مقام پر لے جا رہا ہے... فارورڈڈ۔۔۔ 🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman/6113 ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

دعا مانگنے سے تھکو نہیں
دعا مانگنے سے تھکو نہیں

دعا مانگنے سے تنگ نہ آؤ
دعا مانگنے سے تنگ نہ آؤ

دعا رحمت کی کنجی
دعا رحمت کی کنجی

🔷 درست مقام 🔷 ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ، چڑیا گھر میں گھنے سایہ دار درخت کے نیچے لیٹے ہوئے اونٹ سے اس کے بچے نے پوچھا، ابا ہماری پشت پر کوہان کیوں ہے؟ اونٹ نے جواب دیا، بیٹا صحرا میں سفر کرتے ہوئے میلوں دور تک پانی کا نام و نشان تک نہیں ہوتا، ایسے میں قدرت نے ہمارے اندر ایک اضافی خانہ بنا دیا ہے، جس کے ذریعے ہم کئی روز تک صحرا کی بھوک اور پیاس کو برداشت کرسکتے ہیں. اونٹ کے بچے نے حیران ہوتے ہوئے چند لمحے کچھ سوچنے کے بعد کہا، ٹھیک ہے، اچھا ابا یہ بتاؤ کہ، ہمارے پاؤں گول اور ٹانگیں لمبی کیوں ہوتی ہیں؟ اونٹ نے بچے کو سمجھاتے ہوئے کہا، ہمیں لمبے عرصے تک صحرا میں سفر کرنا پڑتا ہے، جس کے لیے ہمارے پاؤں کی گول ساخت اور لمبی ٹانگیں ہماری مددگار ہوتی ہیں، وگرنہ ہم چلتے چلتے ریت میں دھنس جائیں تو نکلنا دشوار ہوجائے گا. اونٹ کا بچہ سمجھنے والے انداز میں گردن ہلاتے ہوئے کہنے لگا، ابا ہماری آنکھوں کے اوپر لمبی لمبی پلکیں کیوں ہیں؟ مجھے تو اکثر ان کی وجہ سے دیکھنے میں دشواری کا سامنا ہوتا ہے. اونٹ نے جواب دیا، بیٹا صحرا میں ہر وقت ریت اور مٹی سے بھری ہوئی ہوائیں چلتی ہیں، یہ لمبی پلکیں، ریت اور مٹی سے ہماری حفاظت کرتی ہیں. اونٹ کا بچہ یہ سب سن کر بڑا حیران ہوا، مزید سوچتے ہوئے کہنے لگا، اچھا ابا بتاؤ، ہمارے نتھنے اتنے بڑے کیوں ہیں؟ اونٹ نے جواب دیا کہ، صحرا کی گرمی میں جب ہمارے جسم کی چربی پگھلنے لگتی ہے اور جسم کے اندر کا درجہ حرارت بڑھنے لگتا ہے، تو بڑے نتھنوں کا یہ فائدہ ہوتا ہے کہ ان کے ذریعے ہم زیادہ مقدار میں حرارت خارج کرکے اپنے جسم کے درجہ حرارت کو معتدل رکھ سکتے ہیں. اونٹ کے بچے نے جب اپنے تمام سوالات کے جوابات جان لیے تو اپنے باپ سے کہنے لگا، جب ہماری جسمانی ساخت اور جسم کا ہر عضو صحرا میں رہنے کے لیے بنا ہوا ہے، تو مجھے یہ سمجھ نہیں آرہی کہ، پھر ہم یہاں چڑیا گھر میں کیا کر رہے ہیں؟ اس بات کا جواب اونٹ کے باپ کے پاس نہیں تھا. 🔘 آپ چاہے جتنے بڑے مہان اور مہا کیوں نہ ہوں، جب تک آپ اپنی قابلیت اور صلاحیت کے مطابق درست مقام پر نہ ہوں، تب تک علم، تجربہ، مہارت اور ہنر سب بیکار ہے. 📚 انٹرنیٹ سے لی گئی انگریزی کہانی کا اردو ترجمہ ( مصنف نامعلوم) 🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕